https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 37 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ ﴾

“And who could be more wicked than they who attribute their own lying inventions to God or give the lie to His messages? Whatever has been decreed to be their lot [in life] will be theirs -till there shall come _ unto them Our messengers to cause them to die, [and] shall say, "Where, now, are those beings whom you were wont to invoke beside God?" And [those sinners] will reply, "They have forsaken us!" -and [thus] they will bear witness against themselves that they had been denying the truth.”

📝 التفسير:

موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔ کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔