WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 38 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ ﴾

“[And God] will say: "Join those hosts of invisible beings and humans who have gone before you into the fire!" [And] every time a host enters [the fire], it will curse its fellow-host -so much so that, when they all shall have passed into it, one after another, the last of them will speak [thus] of the first of them: "O our Sustainer! It is they who have led us astray: give, them, therefore, double suffering through fire!" He, will reply: "Every one of you deserves double suffering -but you know it not."”

📝 التفسير:

اس آیت میں ’’ اُمت ‘‘ سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور ’’اُخت‘‘ سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دو ر کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیامیں تووہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور فدا کار بنے ہوئے تھے۔ قائدین اپنے عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو ۔ تمہاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اوراس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیرؤوں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسا دین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کےسچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی، مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ اس ليے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے ليے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔ پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس ليے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہاہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اس کو اتنا زیادہ سخت ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔ دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلناچاہے گا۔