Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ ﴾
“But those who attain to faith and do righteous deeds - [and] We do not burden any human being with more than he is well able to bear - they are destined for paradise, therein to abide,”
خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر ۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوںسے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس ليے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعے ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا مگر انھوںنے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدائی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پاسکتے ہیں۔ دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں ايك دوسرے كے دشمن بن جائيں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں سب کے دل ایک دوسرے کے ليے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے ليے محبت اور خیرخواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔ برے لوگوں کے ليے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لیے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طورپر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خبر کو عین سچا پاکر خوش ہورہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیان حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔