WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 58 من سورة سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًۭا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَشْكُرُونَ ﴾

“As for the good land, its vegetation comes forth [in abundance] by its Sustainer's leave, whereas from the bad it comes forth but poorly. Thus do We give many facets to Our messages for [the benefit of] people who are grateful!”

📝 التفسير:

دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طورپر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بارش پاکر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے۔ وہاں جھاڑ جھنکاڑ کے سوا کچھ نہیں اگتا۔ یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتاہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالک اعلیٰ سے قائم ہوجاتاہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی كيفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھودیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتاہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ جھاڑ جھنکاڑ کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پاکر اس کے اندر سے حسد، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں، نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔ بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لیے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اسکے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی،وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کرکے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔