Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴾
“AND UNTO [the people of] Madyan [We sent] their brother Shu'ayb. He said: "O my people! Worship God alone: you have no deity other than Him. Clear evidence of the truth has now come unto you from your Sustainer. Give, therefore, full measure and weight [in all your dealings], and do not deprive people of what is rightfully theirs; and do not spread corruption on earth after it has be, en so well ordered: [all] this is for your own good, 'if you would but believe.”
حضرت ابراہیم کے ایک صاحب زادہ مدیان تھے جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوئے۔ اہل مدین انھیں کی نسل سے تھے۔ یہ قوم بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھی۔ یہ لوگ خدا کو ماننے والے تھے اور اپنے کو دین ابراہیمی کا حامل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے پانچ سو سال بعد ان کے اندر بگاڑ آگیا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اظہار اسی پہلو سے ہوا۔ وہ ناپ تول اور لین دین میں دیانت داری کے اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہے۔ دوسرے سے معاملہ کرنے میں بے انصافی خداکے قائم کردہ نظام اصلاح کے خلاف ہے۔ خدانے اپنی دنیا کا نظام کامل انصاف پر قائم کیاہے۔ یہاںکوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لیتے وقت دوسرے سے زیادہ لے اوردیتے وقت دوسرے کو کم دے۔ یہاںہرچیز حسابی صحت کی حد تک انصاف کے اصول پر قائم ہے۔ ایسی حالت میںانسان کو بھی وہی کرنا چاہیے جو اس کے گرد وپیش کی ساری کائنات کررہی ہے۔ ایسا نہ کرنا خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرنا ہے۔ اہلِ مدین کا معاملاتی بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو خدا نے حضرت شعیب کو ان کی طرف اپنا پیغام لے کر بھیجا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ معاملات میں راستی اور دیانت داری کا طریقہ اختیار کرو۔ آپ نے کھلے کھلے دلائل کے ذریعے ان کو آخری حد تک باخبر کردیا۔ مگر وہ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ حتی کہ ان کا حال یہ ہوا کہ خود حضرت شعیب کی دعوت کو مٹانے پر تل گئے۔ وہ آپ کی باتوں میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو آپ کے بارے میں غلط فہمی میں ڈالتے۔ وہ جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے کوشش کرتے کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ دیں۔ بالآخر ان پر خدائی عذاب آیا اور وہ تباہ کرديے گئے۔ بندوں کے حقوق کی رعایت اور باہمی معاملات کی درستگی خدا کی نظر میں اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کی مخالفت پر ایک قوم، ایمان کے دعوے دار ہونے کے باوجود تباہ کردی گئی۔ خدا بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور بہتر فیصلہ جانب داری کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا بے کلمہ والوں کو ان کی بے انصافی پر پکڑے اور کلمہ والوں کو ٹھیک اسی بے انصافی پر چھوڑدے۔