Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَظْلِمُونَ ﴾
“whereas those whose weight is light in the balance - it is they who will have squandered their own selves by their wilful rejection of Our messages.”
خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لیے نصیحت بنتی ہے، جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ كيے ہوئے ہوں۔ بقیہ لوگوں کے ليے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرارہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کررہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے ليے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتی کہ وہ اس کو رد کرنے کے ليے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لوہے اور پـتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعیٔ حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔ دنیا میں جو چیزیںکسی کو باوزن بناتی ہیں وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہانے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو گئی ہو۔ چوں کہ حق کے داعی کے ساتھ عام طورپر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس ليے دنیاکے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پردوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔