Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ ﴾
“Thereupon an earthquake overtook them: and then they lay lifeless, in their very homes, on the ground -”
حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔ کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔