Al-A'raaf • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ﴾
“Yet if the people of those communities had but attained to faith and been conscious of Us, We would indeed have opened up for them blessings out of heaven and earth: but they gave the lie to the truth - and so We took them to task through what they [themselves] had been doing.”
حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔