Al-Jinn • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَٰعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ ٱلْءَانَ يَجِدْ لَهُۥ شِهَابًۭا رَّصَدًۭا ﴾
“notwithstanding that we were established in positions [which we had thought well-suited] to listening to [whatever secrets might be in] it: and anyone who now [or ever] tries to listen will [likewise] find a flame lying in wait for him!”
موجودہ دنیا کا نظام امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ اسی لیے سچائی یہاں صرف پیغام رسانی کی حد تک سامنے لائی جاتی ہے۔ اگر امتحان کی مصلحت نہ ہو اور غیب کا پردہ ہٹا دیا جائے تو لوگ دیکھیں گے کہ فرشتوں سے لے کر جنات کے صالحین تک سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہے ہیں اور ساری کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے۔