🕋 تفسير سورة النبأ
(An-Naba) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
لِلطَّاغِينَ مَآبًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
جَزَاءً وِفَاقًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
وَكَأْسًا دِهَاقًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
جَزَاءً مِنْ رَبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
📘 جنت کا ماحول لغو اور جھوٹی باتوں سے پاک ہوگا۔ اس لیے جنت کی لطیف و نفیس دنیا میں بسانے کے لیے صرف وہی لوگ چنے جائیں گے جنہوں نے موجودہ دنیا میں اس اہلیت کا ثبوت دیا ہو کہ وہ لغو اور جھوٹ سے دور رہ کر زندگی گزارنے کا ذوق رکھتے ہیں۔
ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا
📘 دنیا میں سرکشی انسان کو بہت لذیذ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ اس کی انا کو تسکین دیتی ہے۔ مگر انسان کی سرکشی جب آخرت میں اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ظاہر ہوگی تو صورت حال بالکل مختلف ہوجائے گی۔ جس چیز سے آدمی دنیا میں لذت لیا کرتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک بھیانک عذاب بن جائے گي۔