WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 17 من سورة سُورَةُ الأَنفَالِ

Al-Anfaal • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ ﴾

“And yet, [O believers,] it was not you who slew the enemy, but it was God who slew them; and it was not thou who cast [terror into them, O Prophet], when thou didst cast it, but it was God who cast it: and [He did all this] in order that He might test the believers by a goodly test of His Own or daining. Verily, God is all-hearing, all-knowing!”

📝 التفسير:

ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا پورا حق وصول کرے۔ مگر اعلی انسانی کردار یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو بھی ان کا پورا پورا حق ادا کرے۔ وہ دوسروں کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کر رہا ہے، جو لوگ خود پورا لیں اور دوسروں کو کم دیں وہ آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہاں وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ جو اپنے لیے پورا وصول کر رہا ہے وہ گویا اس بات کو جانتا ہے کہ آدمی کو اس کا پورا حق ملنا چاہیے۔ ایسی حالت میں جب وہ دوسروں کو دینے کے وقت انہیں کم دیتا ہے تو وہ دوسروں کے حقوق کے بارے میںاپنی حساسیت کو گھٹاتا ہے ۔ جو شخص بار بار اس طرح کا عمل کرے اس پر بالآخر وہ وقت آئے گا جب کہ دوسروں کے حقوق کے بارے میں اس کی حساسیت بالکل ختم ہوجائے۔ اس کے دل کے اوپر پوری طرح اس کے برے عمل کا زنگ لگ جائے۔