Abasa • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ ﴾
“[Does man ever consider] out of what substance [God] creates him?”
انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔