WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 26 من سورة سُورَةُ عَبَسَ

Abasa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّۭا ﴾

“and then We cleave the earth [with new growth], cleaving it asunder,”

📝 التفسير:

انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔