Al-Bayyina • UR-TAZKIRUL-QURAN
﴿ وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ ﴾
“And withal, they were not enjoined aught but that they should worship God, sincere in their faith in Him alone, turning away from all that is false; and that they should be constant in prayer; and that they should spend in charity: for this is a moral law endowed with ever-true soundness and clarity.”
عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔ خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔