🕋 تفسير سورة النور
(An-Nur) • المصدر: UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا وَأَنْزَلْنَا فِيهَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
📘 مسئلہ رجم اس بیان سے کہ ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔ فرضناھا کے معنی مجاہد و قتادہ ؒ نے یہ بیان کئے ہیں کہ حلال و حرام، امرو نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔ امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کردیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔ پھر زنا کاری کی شرعی سزا فرمائی۔ زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلاوطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلاوطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ دو اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ایک نے کہا یارسول اللہ ﷺ میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کر بیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلاوطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو ! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ یہ حضرت انیس ؓ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کردینا۔ چناچہ اس بیوی صاحبہ ؓ نے اقرار کیا اور انہیں رجم کردیا گیا ؓ۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنورے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلاوطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کردیا جائے گا۔ چناچہ موطا مالک میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ لوگو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ ﷺ پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں جرم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود حضور ﷺ کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہوجائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے۔ اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود حضور ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے۔ اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین حضرت عمر ؓ نے فرمایا، رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔ امام ترمذی ؒ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت زید بن ثابت ؓ نے فرمایا، میں تمہاری تشفی کردیتا ہوں۔ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے آپ ﷺ سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ رجم کی آیت لکھ لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا۔ یا اسی کے مثل۔ یہ روایت نسائی میں بھی ہے، پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہوگئی اور حکم باقی رہا۔ واللہ اعلم۔ خود آنحضرت ﷺ نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح حضور ﷺ نے ماعز ؓ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔ اسی لئے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ ؒ، مالک ؒ، شافعی رحمہم اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں۔ پھر رجم کرنا چاہئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہوجائے جیسے کہ حضرت امیرالمومنین علی ؓ سے منقول ہے کہ جب آپ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زنا کاری میں آئی تھی تو آپ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا۔ اور فرمایا کہ کتاب اللہ پر عمل کرکے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل کرکے سنگسار کرایا۔ مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کرلے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلاوطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم۔ پھر فرمایا اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہئے۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔ حدیث میں ہے آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی۔ اور حدیث میں ہے کہ حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ یہ بھی قول ہے کہ ترس کھاکر، مار کو نرم نہ کردو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حضرت حماد بن ابو سلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ نے یہی جملہ آیت (ولا تاخذ کم الخ) ، پڑھا تو حضرت سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے۔ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔ حضرت ابن عمر ؓ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو حضرت نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہئے تو آپ نے فرمایا کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے ؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔ پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں بکری کو ضبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا۔ پھر فرماتا ہے ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں۔ اسے علانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا ؒ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر ؒ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری ؒ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی ؒ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ ؒ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری ؒ کے نزدیک دس۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعاء مغفرت و رحمت کریں۔
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ
📘 لعان سے مراد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی ؒ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہوجائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لئے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لئے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں " اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔ " مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا انصاریو سنتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ حضرت ہلال بن امیہ ؓ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے ایک غیر مرد ہے خود آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ سے یہ ذکر کیا آپ کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔ سب انصار جمع ہوگئے اور کہنے لگے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ ﷺ ہلال بن امیہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کردے گا۔ کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرا۔ یارسول اللہ ﷺ مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کرسکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ آپ کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ ﷺ نے حضرت ہلال ؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا، اے ہلال ؓ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشادگی اور چھٹی نازل فرما دی۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے الحمدللہ مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ نے حضرت ہلال ؓ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے۔ ہلال فرمانے لگے یارسول اللہ ﷺ میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا حضور ﷺ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ حضرت ہلال ؓ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈر جا۔ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہوجائے گا تو آپ نے کہا یارسول اللہ ﷺ قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کردیئے۔ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح حضرت ہلال ؓ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کرلے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ حضرت ہلال ؓ کی طرف منسوب نہ کی جائے۔ نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ (ابوداؤد) اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ اور حضور ﷺ کے سامنے جب حضرت ہلال ؓ نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی۔ حضرت ہلال ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے ؟ لیکن آنحضرت ﷺ یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ ﷺ نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کردو پھر اسے نصیحت کی۔ اور فرمایا اللہ کی لعنت سے ہر چیز ہلکی ہے۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے ؟ یہ واقعہ ہے حضرت ابن زبیر ؓ کی امارت کے زمانہ کا۔ مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یارسول اللہ ﷺ کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بےشرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بےغیرتی کی خاموشی ہے۔ آپ سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا حضور ﷺ میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ ﷺ نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ ﷺ نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بےغیرتی اور بڑی بےحیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو آنحضرت ﷺ سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چناچہ اس نے انہی لفظوں میں حضور ﷺ سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت عویمر نے حضرت عاصم بن عدی سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ ﷺ سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے ؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا ؟ چناچہ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر ؓ عاصم سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ؟ اور آپ نے کیا جواب دیا ؟ عاصم نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ ﷺ نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر ؓ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کردیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لئے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔ ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے ؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کرسکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ ؓ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔
إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ
📘 ام المومنین عائشہ صدیقہ کی پاکیزگی کی شہادت اس آیت سے لے کر دسویں آیت تک ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جب کہ منافقین نے آپ پر بہتان باندھا تھا جس پر اللہ کو بہ سبب قرابت داری رسول اللہ ﷺ غیرت آئی اور یہ آیتیں نازل فرمائیں تاکہ رسول اللہ ﷺ کی آبرو پر حرف نہ آئے۔ ان بہتان بازوں کی ایک رٹی تھی۔ اس لعنی کام میں سب سے پیش پیش عبداللہ بن ابی بن سلول تھا جو تمام منافقوں کا گرو گھنٹال تھا۔ اس بےایمان نے ایک ایک کان میں بنابناکر اور مصالحہ چڑھ چڑھا کر یہ باتیں خوب گھڑ گھڑ کر پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض مسلمانوں کی زبان بھی کھلنے لگی تھی اور یہ چہ میگوئیاں قریب قریب مہینے بھر تک چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم کی یہ آیتیں نازل ہوئیں اس واقعے کا پورا بیان صحیح احادیث میں موجود ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ سفر میں جانے کے وقت آپ ﷺ اپنی بیویوں کے نام کا قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ چناچہ ایک غزوے کے موقعہ پر میرا نام نکلا۔ میں آپ کے ساتھ چلی، یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ میں اپنے ھودج میں بیٹھی رہتی اور جب قافلہ کہیں اترتا تو میرا ھودج اتار لیا جاتا۔ میں اسی میں بیٹھی رہتی جب قافلہ چلتا یونہی ھودج رکھ دیا جاتا۔ ہم لئے آنحضرت ﷺ کے غزوے سے فارغ ہوئے، واپس لوٹے، مدینے کے قریب آگئے رات کو چلنے کی آواز لگائی گئی میں قضاء حاجت کیلئے نکلی اور لشکر کے پڑاؤ سے دور جاکر میں نے قضاء حاجت کی۔ پھر واپس لوٹی، لشکر گاہ کے قریب آکر میں نے اپنے گلے کو ٹٹولا تو ہار نہ پایا۔ میں واپس اس کے ڈھونڈنے کیلئے چلی اور تلاش کرتی رہی۔ یہاں یہ ہوا کہ لشکر نے کوچ کردیا جو لوگ میرا ھودج اٹھاتے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ میں حسب عادت اندر ہی ہوں۔ ھودج اٹھا کر اوپر رکھ دیا اور چل پڑے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک عورتیں نہ کچھ ایسا کھاتی پیتی تھیں نہ وہ بھاری بدن کی بوجھل تھیں۔ تو میرے ھودج کے اٹھانے والوں کو میرے ہونے نہ ہونے کا مطلق پتہ نہ چلا۔ اور میں اس وقت اوائل عمر کی تو تھی ہی۔ الغرض بہت دیر کے بعد مجھے میرا ہار ملا جب میں یہاں پہنچی تو کسی آدمی کا نام و نشان بھی نہ تھا نہ کوئی پکارنے والا، نہ جواب دینے والا، میں اپنے نشان کے مطابق وہیں پہنچی، جہاں ہمارا اونٹ بٹھایا گیا تھا اور وہیں انتظار میں بیٹھ گئی تاکہ آپ ﷺ جب آگے چل کر میرے نہ ہونے کی خبر پائیں گے تو مجھے تلاش کرنے کیلئے یہیں آئیں گے۔ مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آگئی۔ اتفاق سے حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی ؓ جو لشکر کے پیچھے رہے تھے اور پچھلی رات کو چلے تھے، صبح کی روشنی میں یہاں پہنچ گئے۔ ایک سوتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر خیال آنا ہی تھا۔ غور سے دیکھا تو چونکہ پردے کے حکم سے پہلے مجھے انہوں نے دیکھا ہوا تھا۔ دیکھتے ہی پہچان گئے اور باآواز بلند ان کی زبان سے انا للہ وانا الیہ راجعون نکلا ان کی آواز سنتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور میں اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ کر سنبھل بیٹھی۔ انہوں نے جھٹ اپنے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے ہاتھ پر اپنا پاؤں رکھا میں اٹھی اور اونٹ پر سوار ہوگئی۔ انہوں نے اونٹ کو کھڑا کردیا اور بھگاتے ہوئے لے چلے۔ قسم اللہ کی نہ وہ مجھ سے کچھ بولے، نہ میں نے ان سے کوئی کلام کیا نہ سوائے اناللہ کے میں نے ان کے منہ سے کوئی کلمہ سنا۔ دوپہر کے قریب ہم اپنے قافلے سے مل گئے۔ پس اتنی سی بات کا ہلاک ہونے والوں نے بتنگڑ بنالیا۔ ان کا سب سے بڑا اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والا عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ مدینے آتے ہی میں بیمار پڑگئی اور مہینے بھر تک بیماری میں گھر ہی میں رہی، نہ میں نے کچھ سنا، نہ کسی نے مجھ سے کہا جو کچھ غل غپاڑہ لوگوں میں ہو رہا تھا، میں اس سے محض بیخبر تھی۔ البتہ میرے جی میں یہ خیال بسا اوقات گزرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی مہرو محبت میں کمی کی کیا وجہ ہے ؟ بیماری میں عام طور پر جو شفقت حضور ﷺ کو میرے ساتھ ہوتی تھی اس بیماری میں وہ بات نہ پاتی تھی۔ مجھے رنج تو بہت تھا مگر کوئی وجہ معلوم نہ تھی۔ پس آنحضرت ﷺ تشریف لاتے سلام کرتے اور دریافت فرماتے طبیعت کیسی ہے ! اور کوئی بات نہ کرتے اس سے مجھے بڑا صدمہ ہوتا مگر بہتان بازوں کی تہمت سے میں بالکل غافل تھی۔ اب سنئے اس وقت تک گھروں میں پاخانے نہیں ہوتے تھے اور عرب کی قدیم عادت کے مطابق ہم لوگ میدان میں قضاء حاجت کیلئے جایا کرتے تھے۔ عورتیں عموماً رات کو جایا کرتی تھیں۔ گھروں میں پاخانے بنانے سے عام طور پر نفرت تھی۔ حسب عادت میں، ام مسطح بنت ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبدالمناف کے ساتھ قضائے حاجت کیلئے چلی۔ اس وقت میں بہت ہی کمزور ہو رہی تھی یہ ام مسطح میرے والد صاحب ؓ کی خالہ تھیں ان کی والدہ صخر بن عامر کی لڑکی تھیں، ان کے لڑکے کا نام مسطح بن اثاثہ بن عباد بن عبدالمطلب تھا۔ جب ہم واپس آنے لگے تو حضرت ام مسطح کا پاؤں چادر کے دامن میں الجھا اور بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ مسطح غارت ہو۔ مجھے بہت برا لگا اور میں نے کہا کہ تم نے بہت برا کلمہ بولا، توبہ کرو، تم اسے گالی دیتی ہو، جس نے جنگ بدر میں شرکت کی۔ اس وقت ام مسطح ؓ نے کہا بھولی بیوی آپ کو کیا معلوم ؟ میں نے کہا کیا بات ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی ان لوگوں میں سے ہے جو آپ کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ مجھے سخت حیرت ہوئی میں ان کے سر ہوگئی کہ کم از کم مجھ سے سارا واقعہ تو کہو۔ اب انہوں نے بہتان باز لوگوں کی تمام کارستانیاں مجھے سنائیں۔ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، رنج و غم کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا، مارے صدمے کے میں تو اور بیمار ہوگئی۔ بیمار تو پہلے سے ہی تھی، اس خبر نے تو نڈھال کردیا، جوں توں کرکے گھر پہنچی۔ اب صرف یہ خیال تھا میں اپنے میکے جاکر اور اچھی طرح معلوم تو کرلوں کہ کیا واقعی میری نسبت ایسی افواہ پھیلائی گئی ہے ؟ اور کیا کیا مشہور کیا جا رہا ہے ؟ اتنے میں رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، سلام کیا اور دریافت فرمایا کہ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو اپنے والد صاحب کے ہاں ہو آؤں۔ آپ ﷺ نے اجازت دیدی، میں یہاں آئی، اپنی والدہ سے پوچھا کہ اماں جان لوگوں میں کیا باتیں پھیل رہی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا بیٹی یہ تو نہایت معمولی بات ہے تم اتنا اپنا دل بھاری نہ کرو، کسی شخص کی اچھی بیوی جو اسے محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں وہاں ایسی باتوں کا کھڑا ہونا تو لازمی امر ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ کیا واقعی لوگ میری نسبت ایسی افواہیں اڑا رہے ہیں ؟ اب تو مجھے غم و رنج نے اس قدر گھیرا کہ بیان سے باہر ہے۔ اس وقت سے جو رونا شروع ہوا واللہ ایک دم بھر کیلئے میرے آنسو نہیں تھمے، میں سر ڈال کر روتی رہتی۔ کس کا کھانا پینا، کس کا سونا بیٹھنا، کہاں کی بات چیت، غم و رنج اور رونا ہے اور میں ہوں۔ ساری رات اسی حالت میں گزری کہ آنسو کی لڑی نہ تھمی دن کو بھی یہی حال رہا۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اور حضرت اسامہ بن زید ؓ کو بلوایا، وحی میں دیر ہوئی، اللہ کی طرف سے آپ کو کوئی بات معلوم نہ ہوئی تھی، اس لئے آپ ﷺ نے ان دونوں حضرات سے مشورہ کیا کہ آپ مجھے الگ کردیں یا کیا ؟ حضرت اسامہ ؓ نے تو صاف کہا کہ یارسول اللہ ﷺ ہم آپ کی اہل پر کوئی برائی نہیں جانتے۔ ہمارے دل ان کی عفت، عزت اور شرافت کی گواہی دینے کیلئے حاضر ہیں۔ ہاں حضرت علی ؓ نے جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ اللہ کی طرف سے آپ پر کوئی تنگی نہیں، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں۔ اگر آپ گھر کی خادمہ سے پوچھیں تو آپ کو صحیح واقعہ معلوم ہوسکتا ہے۔ آپ ﷺ نے اسی وقت گھر کی خادمہ حضرت بریرہ ؓ کو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ عائشہ کی کوئی بات شک و شبہ والی کبھی بھی دیکھی ہو تو بتاؤ۔ بریرہ نے کہا اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے ان سے کوئی بات کبھی اس قسم کی نہیں دیکھی۔ ہاں صرف یہ بات ہے کہ کم عمری کی وجہ سے ایسا ہوجاتا ہے کہ کبھی کبھی گندھا ہوا آٹا یونہی رکھا رہتا ہے اور سو جاتی ہیں تو بکری آکر کھاجاتی ہے، اس کے سوا میں نے ان کا کوئی قصور کبھی نہیں دیکھا۔ چونکہ کوئی ثبوت اس واقعہ کا نہ ملا اس لئے اسی دن رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا کون ہے ؟ جو مجھے اس شخص کی ایذاؤں سے بچائے جس نے مجھے ایذائیں پہنچاتے پہنچاتے اب تو میری گھر والیوں میں بھی ایذائیں پہنچانا شروع کردی ہیں۔ واللہ میں جہاں تک جانتا ہوں مجھے اپنی گھر والیوں میں سوائے بھلائی کے کوئی چیز معلوم نہیں، جس شخص کا نام یہ لوگ لے رہے ہیں، میری دانست تو اس کے متعلق بھی سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں وہ میرے ساتھ ہی گھر میں آتا تھا۔ یہ سنتے ہی حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے یارسول اللہ ﷺ میں موجود ہوں اگر وہ قبیلہ اوس کا شخض ہے تو ابھی ہم اس کی گردن تن سے الگ کرتے ہیں اور اگر وہ ہمارے خزرج بھائیوں سے ہے تو بھی آپ ﷺ جو حکم دیں ہمیں اس کی تعمیل میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ ؓ کھڑے ہوگئے یہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ تھے تو یہ بڑے نیک بخت مگر حضرت سعد بن معاذ ؓ سے کہنے لگے نہ تو تو اسے قتل کرے گا نہ اس کے قتل پر تو قادر ہے اگر وہ تیرے قبیلے کا ہوتا تو تو اس کا قتل کیا جانا کبھی پسند نہ کرتا۔ یہ سن کر حضرت اسید بن حضیر ؓ کھڑے ہوگئے یہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے بھتیجے ہوتے تھے کہنے لگے اے سعد بن عبادہ تم جھوٹ کہتے ہو، ہم اسے ضرور مار ڈالیں گے آپ منافق آدمی ہیں کہ منافقوں کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اب ان کی طرف سے ان کا قبیلہ اور ان کی طرف سے ان کا قبیلہ ایک دوسرے کے مقابلے پر آگیا اور قریب تھا کہ اوس و خزرج کے یہ دونوں قبیلے آپس میں لڑپڑیں۔ حضور ﷺ نے منبر پر سے ہی انہیں سمجھانا اور چپ کرانا شروع کیا یہاں تک کہ دونوں طرف خاموشی ہوگئی۔ حضور ﷺ بھی چپکے ہو رہے یہ تو تھا وہاں کا واقعہ۔ میرا حال یہ تھا کہ یہ سارا دن بھی رونے میں ہی گزرا۔ میرے اس رونے نے میرے ماں باپ کے بھی ہوش گم کردیئے تھے، وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ رونا میرا کلیجہ پھاڑ دے گا۔ دونوں حیرت زدہ مغموم بیٹھے ہوئے تھے اور مجھے رونے کے سوا اور کوئی کام ہی نہ تھا اتنے میں انصار کی ایک عورت آئیں اور وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی ہم یونہی بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول کریم ﷺ تشیرف لائے اور سلام کرکے میرے پاس بیٹھ گئے۔ قسم اللہ کی جب سے یہ بہتان بازی ہوئی تھی آج تک رسول اللہ ﷺ میرے پاس کبھی نہیں بیٹھے تھے۔ مہینہ بھر گزر گیا تھا کہ حضور ﷺ کی یہی حالت تھی۔ کوئی وحی نہیں آئی تھی کہ فیصلہ ہوسکے۔ آپ نے بیٹھتے ہی اول تو تشہد پڑھا پھر اما بعد فرما کر فرمایا کہ اے عائشہ ! تیری نسبت مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ اگر تو واقعی پاک دامن ہے تو اللہ تعالیٰ تیری پاکیزگی ظاہر فرما دے گا اور اگر فی الحقیقت تو کسی گناہ میں آلودہ ہوگئی ہے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کر اور توبہ کر، بندہ جب گناہ کرکے اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے اور اس سے معافی طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ آپ اتنا فرما کر خاموش ہوگئے یہ سنتے ہی میرا رونا دھونا سب جاتا رہا۔ آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں آنسو کا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔ میں نے اول تو اپنے والد سے درخواست کی کہ میری طرف سے رسول اللہ ﷺ کو آپ ہی جواب دیجئے لیکن انہوں نے فرمایا کہ واللہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں حضور ﷺ کو کیا جواب دوں ؟ اب میں نے اپنی والدہ کی طرف دیکھا اور ان سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو جواب دیجئے لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں نہیں سمجھ سکتی کہ میں کیا جواب دوں ؟ آخر میں نے خود ہی جواب دینا شروع کیا۔ میری عمر کچھ ایسی بڑی تو نہ تھی اور نہ مجھے زیادہ قرآن حفظ تھا۔ میں نے کہا، آپ سب نے ایک بات سنی، اسے آپ نے دل میں بٹھا لیا اور گویا سچ سمجھ لیا۔ اب اگر میں کہوں گی کہ میں اس سے بالکل بری ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بالکل بےگناہ ہوں تو تم ابھی مان لو گے۔ میری اور تمہاری مثال تو بالکل حضرت ابو یوسف ؑ کا یہ قول ہے آیت (فصبر جمیل واللہ المستعان علی ماتصفون) پس صبر ہی اچھا ہے جس میں شکایت کا نام ہی نہ ہو اور تم جو باتیں بناتے ہو ان میں اللہ ہی میری مدد کرے، اتنا کہہ کر میں نے کروٹ پھیرلی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ کی قسم مجھے یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں اللہ تعالیٰ میری برات اپنے رسول ﷺ کو ضرور معلوم کرا دے گا لیکن یہ تو میرے شان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیتیں نازل ہوں۔ میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر جانتی تھی کہ میرے بارے میں کلام اللہ کی آیتیں اتریں۔ ہاں مجھے زیادہ سے زیادہ یہ خیال ہوتا تھا کہ ممکن ہے خواب میں اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو میری برات دکھا دے۔ واللہ ابھی تو نہ رسول ﷺ اپنی جگہ سے ہٹے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی گھر سے باہر نکلا تھا کہ حضور ﷺ پر وحی نازل ہونی شروع ہوگئی۔ اور چہرہ پر وہی آثار ظاہر ہوئے جو وحی کے وقت ہوتے تھے اور پیشانی سے پسینے کی پاک بوندیں ٹپکنے لگیں۔ سخت جاڑوں میں بھی وحی کے نزول کی یہی کیفیت ہوا کرتی تھی، جب وحی اتر چکی تو ہم نے دیکھا کہ حضور ﷺ کا چہرہ ہنسی سے شگفتہ ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا عائشہ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برات نازل فرما دی۔ اسی وقت میری والدہ نے فرمایا بچی حضور ﷺ کے سامنے کھڑی ہوجاؤ۔ میں نے جواب دیا کہ واللہ نہ تو میں آپ کے سامنے کھڑی ہوں گی اور نہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی تعریف کروں گی اسی نے میری برات اور پاکیزگی نازل فرمائی ہے۔ پس آیت (ان الذین جاء و بالافک) سے لے کر دس آیتوں تک نازل ہوئیں۔ ان آیتوں کے اترنے کے بعد اور میری پاک دامنی ثابت ہوچکنے کے بعد اس شر کے پھیلانے میں حضرت مسطح بن اثاثہ بھی شریک تھے اور انہیں میرے والد صاحب ان کی محتاجی اور ان کی قرابت داری کی وجہ سے ہمیشہ کچھ دیتے رہتے تھے۔ اب انہوں نے کہا جب اس شخص نے میری بیٹی پر تہمت باندھنے میں حصہ لیا تو اب میں اس کے ساتھ کچھ بھی سلوک نہ کروں گا۔ اس پر آیت (ولا یاتل اولوالفضل الخ) ، نازل ہوئی یعنی تم میں سے جو لوگ بزرگی اور وسعت والے ہیں، انہیں نہ چاہئے کہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ کے مہاجروں سے سلوک نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ بخشش والا اور مہربانی والا اللہ تمہیں بخش دے ؟ اسی وقت اس کے جواب میں صدیق اکبر ؓ نے فرمایا قسم اللہ کی میں تو اللہ کی بخشش کا خواہاں ہوں۔ چناچہ اسی وقت حضرت مسطح ؓ کا وظیفہ جاری کردیا اور فرما دیا کہ واللہ اب عمر بھر تک اس میں کمی یا کوتاہی نہ کروں گا۔ میرے اس واقعہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش ؓ سے بھی جو آپ کی بیوی صاحبہ تھیں دریافت فرمایا تھا۔ یہی بیوی صاحبہ تھیں جو حضور کی تمام بیویوں میں میرے مقابلے کی تھیں لیکن یہ اپنی پرہیزگاری اور دین داری کی وجہ سے صاف بچ گئیں اور جواب دیا کہ حضور ﷺ میں تو سوائے بہتری کے عائشہ ؓ کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔ میں اپنے کانوں کو اور اپنی نگاہ کو محفوظ رکھتی ہوں۔ گو انہیں ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے بہت کچھ بہلاوے بھی دیئے بلکہ لڑ پڑیں لیکن انہوں نے اپنی زبان سے میری برائی کا کوئی کلمہ نہیں نکالا۔ ہاں ان کی بہن نے تو زبان کھول دی اور میرے بارے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوگئی۔ یہ روایت بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ایک سند سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے اپنے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا تھا کہ جس شخص کی طرف منسوب کرتے ہیں، وہ سفر حضر میں میرے ساتھ رہا میری عدم موجودگی میں کبھی میرے گھر نہیں آیا اس میں ہے کہ سعد بن معاذ ؓ کے مقابلہ میں جو صاحب کھڑے ہوئے انہی کے قبیلے میں ام مسطح تھیں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ اسی خطبہ کے دن کے بعد رات کو میں ام مسطح کے ساتھ نکلی تھی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ یہ پھسلیں اور انہوں نے اپنے بیٹے مسطح کو کو سا، میں نے منع کیا پھر پھسلیں، پھر کو سا، میں نے پھر روکا۔ پھر الجھیں، پھر کو سا تو میں نے انہیں ڈانٹنا شروع کیا۔ اس میں ہے کہ اسی وقت سے مجھے بخار چڑھ آیا۔ اس میں ہے کہ میری والدہ کے گھر پہنچانے کیلئے میرے ساتھ حضور ﷺ نے ایک غلام کردیا تھا۔ میں جب وہاں پہنچی تو میرے والد اوپر کے گھر میں تھے۔ تلاوت قرآن میں مشغول تھے اور والدہ نیچے کے مکان میں تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میری والدہ نے دریافت فرمایا ! آج کیسے آنا ہوا ؟ تو میں نے تمام بپتا کہہ سنائی لیکن میں نے دیکھا کہ انہیں یہ بات نہ کوئی انوکھی بات معلوم ہوئی نہ اتنا صدمہ اور رنج ہوا جس کی توقع مجھے تھی۔ اس میں ہے کہ میں نے والدہ سے پوچھا کیا میرے والد صاحب کو بھی اس کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں میں نے کہا اور رسول اللہ ﷺ تک بھی یہ بات پہنچی ہے ؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب تو مجھے پھوٹ پھوٹ کر رونا آنے لگا یہاں تک کہ میری آواز اوپر میرے والد صاحب کے کان میں بھی پہنچی وہ جلدی سے نیچے آئے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ میری والدہ نے کہا کہ انہیں اس تہمت کا علم ہوگیا ہے جو ان پر لگائی گئی ہے، یہ سن کر اور میری حالت دیکھ کر میرے والد صاحب ؓ کی آنکھوں میں بھی آنسو بھر آئے اور مجھ سے کہنے لگے بیٹی میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ ابھی اپنے گھر لوٹ جاؤ۔ چناچہ میں واپس چلی گئی۔ یہاں میرے پیچھے گھر کی خادمہ سے بھی میری بابت رسول اللہ ﷺ نے اور لوگوں کی موجودگی میں دریافت فرمایا۔ جس پر اس نے جواب دیا کہ میں عائشہ میں کوئی برائی نہیں دیکھتی بجز اس کے کہ وہ آٹا گندھا ہوا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، بیخبر ی سے سو جاتی ہیں۔ بسا اوقات آٹا بکریاں کھا جاتی ہیں۔ بلکہ اسے بعض لوگوں نے بہت ڈانٹا ڈپٹا بھی کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ سچ بات جو ہو بتادے اس پر بہت سختی کی لیکن اس نے کہا واللہ ایک سنار خالص سونے میں جس طرح کوئی عیب کسی طرح تپا تپا کر بھی بتا نہیں سکتا۔ اسی طرح میں صدیقہ پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتی۔ جب اس شخص کو یہ اطلاع پہنچی جنہیں بدنام کیا جا رہا تھا تو اس نے کہا قسم اللہ کی میں نے تو آج تک کسی عورت کا بازو کبھی کھولا ہی نہیں۔ بالآخر یہ اللہ کی راہ میں شہید ہوئے ؓ۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس عصر کی نماز کے بعد تشریف لائے تھے۔ اس وقت میری ماں اور میرے باپ میرے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ انصاریہ عورت جو آئی تھیں وہ دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں اس میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے مجھے نصیحت شروع کی اور مجھ سے حقیقت حال دریافت کی تو میں نے کہا ہائے کیسی بےشرمی کی بات ہے ؟ اس عورت کا بھی تو خیال نہیں ؟ اس میں ہے کہ میں نے بھی اللہ کی حمد وثناء کے بعد جواب دیا تھا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ میں نے اس وقت ہرچند حضرت یعقوب ؑ کا نام تلاش کیا لیکن واللہ وہ زبان پر نہ چڑھا، اسلئے میں نے ابو یوسف کہہ دیا۔ اس میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے وحی کے اترنے کے بعد مجھے خوشخبری سنائی واللہ اس وقت میرا غم بھرا غصہ بہت ہی بڑھ گیا تھا۔ میں نے اپنے ماں باپ سے بھی کہا تھا کہ میں اس معاملے میں تمہاری بھی شکر گزار نہیں۔ تم سب نے ایک بات سنی لیکن نہ تم نے انکار کیا نہ تمہیں ذرا غیرت آئی۔ اس میں ہے کہ اس قصے کو زبان پر لانے والے حمنہ بنت حجش، مسطح، حسان بن ثبات اور عبداللہ بن ابی منافق تھے۔ یہ سب کا سرغنہ تھا اور یہی زیادہ تر لگاتا بجھاتا تھا اور حدیث میں ہے کہ میرے عذر کی یہ آیتیں اترنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دو مردوں اور ایک عورت کو تہمت کی حد لگائی یعنی حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت حجش کو۔ ایک روایت میں ہے کہ جب ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو اپنے اوپر تہمت لگنے کا علم ہوا اور یہ بھی پتہ چلا کہ اس کا علم آپ کے والد اور حضور ﷺ کو ہوچکا ہے تو آپ بیہوش ہو کر گرپڑیں۔ جب ذرا ہوش میں آئیں تو سارا جسم تپ رہا تھا اور زور کا بخار چڑھا ہوا تھا اور کانپ رہی تھیں۔ آپ کی والدہ نے اسی وقت لحاف اوڑھا دیا۔ اور رسول اللہ ﷺ آئے پوچھا یہ کیا حال ہے ؟ میں نے کہا جاڑے سے بخار چڑھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا شاید اس خبر کو سن کر یہ حال ہوگیا ہوگا ؟ جب آپ کے عذر کی آیتیں اتریں اور آپ نے انہیں سن کر فرمایا کہ یہ اللہ کے فضل سے ہے نہ کہ آپ کے فضل سے۔ تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا تم رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کہتی ہو ؟ صدیقہ ؓ نے فرمایا ہاں۔ اب آیتوں کا مطلب سنئے جو لوگ جھوٹ بہتان گھڑی ہوئی بات لے آئے اور وہ ہیں بھی زیادہ اسے تم اے آل ابی بکر ؓ اپنے لئے برا نہ سمجھو بلکہ انجام کے لحاظ سے دین و دنیا میں وہ تمہارے لئے بھلا ہے۔ دنیا میں تمہاری صداقت ثابت ہوگی، آخرت میں بلند مراتب ملیں گے۔ حضرت عائشہ کی برات قرآن کریم میں نازل ہوگی، جس کے آس پاس بھی باطل نہیں آسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب حضرت ابن عباس ؓ اماں صاحبہ ؓ کے پاس ان کے آخری وقت آئے تو فرمانے لگے ام المومنین آپ خوش ہوجائیے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ رہیں اور حضور ﷺ محبت سے پیش آتے رہے اور حضور ﷺ نے آپ کے سوا کسی اور باکرہ سے نکاح نہیں کیا اور آپ کی برات آسمان سے نازل ہوئی۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت زینب اپنے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرنے لگیں تو حضرت زینب ؓ نے فرمایا میرا نکاح آسمان سے اترا۔ اور حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا میری پاکیزگی کی شہادت قرآن میں آسمان سے اتری جب کہ صفوان بن معطل ؓ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لائے تھے۔ حضرت زینب نے پوچھا یہ تو بتاؤ جب تم اس اونٹ پر سوار ہوئی تھیں تو تم نے کیا کلمات کہے تھے ؟ آپ نے فرمایا حسبی اللہ ونعم الوکیل اس پر وہ بول اٹھیں کہ تم نے مومنوں کا کلمہ کہا تھا۔ پھر فرمایا جس جس نے پاک دامن صدیقہ پر تہمت لگائی ہے ہر ایک کو بڑا عذاب ہوگا۔ اور جس نے اس کی ابتدا اٹھائی ہے، جو اسے ادھر ادھر پھیلاتا رہا ہے اس کیلئے سخت تر عذاب ہیں۔ اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول ملعون ہے۔ ٹھیک قول یہی ہے گو کسی کسی نے کہا کہ مراد اس سے حسان ہیں لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ چونکہ یہ قول بھی ہے اس لئے ہم نے اسے یہاں بیان کردیا ورنہ اس کے بیان میں بھی چنداں نفع نہیں کیونکہ حضرت حسان ؓ بڑے بزرگ صحابہ میں سے ہیں۔ ان کی بہت سی فضیلتیں اور بزرگیاں احادیث میں موجود ہیں۔ یہی تھے جو کافر شاعروں کی ہجو کے شعروں کا اللہ کے نبی ﷺ کی طرف سے جواب دیتے تھے۔ انہی سے حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ " تم کفار کی مذمت بیان کرو جبرائیل ؑ تمہارے ساتھ ہیں۔ " حضرت مسروق ؓ کا بیان ہے کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس تھا کہ حضرت حسان بن ثابت ؓ آئے۔ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں عزت کے ساتھ بٹھایا۔ حکم دیا کہ ان کیلئے گدی بچھا دو ، جب وہ واپس چلے گئے تو میں نے کہا کہ آپ انہیں کیوں آنے دیتی ہیں ؟ ان کے آنے سے کیا فائدہ ؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ ان میں سے جو تہمت کا والی ہے اس کیلئے بڑا عذاب ہے تو ام المومنین نے فرمایا اندھا ہونے سے بڑا عذاب اور کیا ہوگا یہ نابینا ہوگئے تھے۔ تو فرمایا شاید یہی عذاب عظیم ہو۔ پھر فرمایا تمہیں نہیں خبر ؟ یہی تو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کافروں کے ہجو والے اشعار کا جواب دینے پر مقرر تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسان ؓ نے اس وقت حضرت عائشہ کی مدح میں شعر پڑھا تھا کہ آپ پاکدامن، بھولی، تمام اوچھے کاموں سے، غیبت اور برائی سے پرہیز کرنے والی ہیں، تو آپ نے فرمایا تم تو ایسے نہ تھے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں مجھے حضرت حسان ؓ کے شعروں سے زیادہ اچھے اشعار نظر نہیں آتے اور میں جب کبھی ان شعروں کو پڑھتی ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ حسان جنتی ہیں۔ وہ ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کو خطاب کرکے اپنے شعروں میں فرماتے ہیں تو نے محمد ﷺ کی ہجو کی ہے، جس کا میں جواب دیتا ہوں اور اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے پاؤں گا۔ میرے باپ دادا اور میری عزت آبرو سب محمد ﷺ پر قربان ہے، میں ان سب کو فنا کرکے بھی تمہاری بدزبانیوں کے مقابلے سے ہٹ نہیں سکتا۔ تجھ جیسا شخص جو میرے نبی ﷺ کے کف پا کی ہمسری بھی نہیں کرسکتا حضور ﷺ کی ہجو کرے ؟ یاد رکھو کہ تم جیسے بد حضور ﷺ جیسے نیک پر فدا ہیں۔ جب تم نے حضور ﷺ کی ہجو کی ہے تو اب میری زبان سے جو تیز دھار اور بےعیب تلوار سے بھی تیز ہے۔ بچ کر تم کہاں جاؤ گے ؟ ام المومنین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ لغو کلام نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں لغو کلام تو شاعروں کی وہ بکواس ہے جو عورتوں وغیرہ کے بارے میں ہوتی ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کیا قرآن میں نہیں کہ اس تہمت میں بڑا حصہ لینے والے کیلئے برا عذاب ہے ؟ فرمایا ہاں لیکن کیا جو عذاب انہیں ہوا بڑا نہیں ؟ آنکھیں ان کی جاتی رہیں، تلوار ان پر اٹھی، وہ تو کہئے حضرت صفوان رک گئے ورنہ عجب نہیں کہ ان کی نسبت یہ بات سن کر انہیں قتل ہی کر ڈالتے۔
لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَٰذَا إِفْكٌ مُبِينٌ
📘 اخلاق و آداب کی تعلیم ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المومنین کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔ ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا۔ حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب ؓ نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو حضرت عائشہ کی نسبت کہا جا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور یہ یقینا جھوٹ ہے۔ ام ایوب تم ہی بتاؤ کیا تم کبھی ایسا کرسکتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نعوذ باللہ ناممکن۔ آپ نے فرمایا پس حضرت عائشہ تو تم سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔ پس جب آیتیں اتریں تو پہلے تو بہتان بازوں کا ذکر ہوا۔ یعنی حضرت حسان ؓ اور ان کے ساتھیوں کا پھر ان آیتوں کا ذکر ہوا۔ حضرت ابو ایوب ؓ اور ان کی بیوی صاحبہ کی اس بات چیت کا جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ مقولہ حصرت ابی بن کعب ؓ کا تھا۔ الغرض مومنوں کو صاف باطن رہنا چاہئے اور اچھے خیال کرنے چاہئیں بلکہ زبان سے بھی ایسے واقعہ کی تردید اور تکذیب کردینی چاہئے۔ اس لئے کہ جو کچھ واقعہ گزرا اس میں شک شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی۔ ام المومنین ؓ کھلم کھلا سواری پر سوار دن دیہاڑے بھرے لشکر میں پہنچی ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ موجود ہیں اگر اللہ نہ کرے خاکم بدہن کوئی بھی ایسی بات ہوتی تو یہ اس طرح کھلے بندوں عام مجمع میں نہ آتے بلکہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر شامل ہوجاتے جو کسی کو کانوں کان خبر تک نہ پہنچے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بہتان بازوں کی زبان نے جو قصہ گھڑا وہ محض جھوٹ بہتان اور افترا ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے ایمان اور اپنی عزت کو غارت کیا۔ پھر فرمایا کہ ان بہتان بازوں نے جو کچھ کہا اپنی سچائی پر چار گواہ واقعہ کے کیوں پیش نہیں کئے ؟ اور جب کہ یہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو شرعاً اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں۔ فاسق و فاجر ہیں۔
لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ۚ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَٰئِكَ عِنْدَ اللَّهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ
📘 اخلاق و آداب کی تعلیم ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کی شان میں جو کلمات منہ سے نکالے وہ ان کی شایان شان نہ تھے بلکہ انہیں چاہئے تھا کہ یہ کلام سنتے ہی اپنی شرعی ماں کے ساتھ کم از کم وہ خیال کرتے جو اپنے نفسوں کے ساتھ کرتے، جب کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسے کام کے لائق نہ پاتے تو شان ام المومنین کو اس سے بہت اعلیٰ اور بالا جانتے۔ ایک واقعہ بھی بالکل اسی طرح کا ہوا تھا۔ حضرت ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ سے ان کی بیوی صاحبہ ام ایوب ؓ نے کہا کہ کیا آپ نے وہ بھی سنا جو حضرت عائشہ کی نسبت کہا جا رہا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور یہ یقینا جھوٹ ہے۔ ام ایوب تم ہی بتاؤ کیا تم کبھی ایسا کرسکتی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ نعوذ باللہ ناممکن۔ آپ نے فرمایا پس حضرت عائشہ تو تم سے کہیں افضل اور بہتر ہیں۔ پس جب آیتیں اتریں تو پہلے تو بہتان بازوں کا ذکر ہوا۔ یعنی حضرت حسان ؓ اور ان کے ساتھیوں کا پھر ان آیتوں کا ذکر ہوا۔ حضرت ابو ایوب ؓ اور ان کی بیوی صاحبہ کی اس بات چیت کا جو اوپر مذکور ہوئی۔ یہ بھی ایک قول ہے کہ یہ مقولہ حصرت ابی بن کعب ؓ کا تھا۔ الغرض مومنوں کو صاف باطن رہنا چاہئے اور اچھے خیال کرنے چاہئیں بلکہ زبان سے بھی ایسے واقعہ کی تردید اور تکذیب کردینی چاہئے۔ اس لئے کہ جو کچھ واقعہ گزرا اس میں شک شبہ کی گنجائش بھی نہ تھی۔ ام المومنین ؓ کھلم کھلا سواری پر سوار دن دیہاڑے بھرے لشکر میں پہنچی ہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ موجود ہیں اگر اللہ نہ کرے خاکم بدہن کوئی بھی ایسی بات ہوتی تو یہ اس طرح کھلے بندوں عام مجمع میں نہ آتے بلکہ خفیہ اور پوشیدہ طور پر شامل ہوجاتے جو کسی کو کانوں کان خبر تک نہ پہنچے۔ پس صاف ظاہر ہے کہ بہتان بازوں کی زبان نے جو قصہ گھڑا وہ محض جھوٹ بہتان اور افترا ہے۔ جس سے انہوں نے اپنے ایمان اور اپنی عزت کو غارت کیا۔ پھر فرمایا کہ ان بہتان بازوں نے جو کچھ کہا اپنی سچائی پر چار گواہ واقعہ کے کیوں پیش نہیں کئے ؟ اور جب کہ یہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو شرعاً اللہ کے نزدیک وہ جھوٹے ہیں۔ فاسق و فاجر ہیں۔
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
📘 فرمان ہے کہ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا۔ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے حضرت مسطع حضرت حسان، حضرت حمنہ ؓ۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے۔ کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یادر ہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ حضرت عائشہ کی قرأت میں اذا تلقونہ ہے یعنی جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے۔ پہلی قرأت جمہور کی ہے۔ اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا۔ اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا ؟ اسی لئے رب کی غیرت اپنے نبی ﷺ کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین ﷺ کی زوجہ مطہرہ ؓ کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔ ہر نبی ؑ کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بےحیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ حاشا وکلا۔ پس تم گو اس کلام کو بےوقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے۔
إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمٌ
📘 فرمان ہے کہ اے وہ لوگوں جنہوں نے صدیقہ کی بابت اپنی زبانوں کو بری حرکت دی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم تم پر نہ ہوتا کہ وہ دنیا میں تمہاری توبہ کو قبول کرلے اور آخرت میں تمہیں تمہارے ایمان کی وجہ سے معاف فرما دے تو جس بہتان میں تم نے اپنی زبانیں ہلائیں اس میں تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا۔ یہ آیت ان لوگوں کے حق میں ہے جن کے دلوں میں ایمان تھا لیکن رواداری میں کچھ کہہ گئے تھے جیسے حضرت مسطع حضرت حسان، حضرت حمنہ ؓ۔ لیکن جن کے دل ایمان سے خالی تھے جو اس طوفان کے اٹھانے والے تھے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ منافقین یہ لوگ اس حکم میں نہیں تھے۔ کیونکہ نہ اس کے پاس ایمان تھا نہ عمل صالح۔ یہ بھی یادر ہے کہ جس بدی پر جو وعید ہے وہ اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب توبہ نہ ہو اور اس کے مقابلہ میں اس جیسی یا اس سے بڑی نیکی نہ ہو۔ جب کہ تم اس بات کو پھیلا رہے تھے، اس سے سن کر اس سے کہی اور اس نے سن کر دوسرے سے کہی۔ حضرت عائشہ کی قرأت میں اذا تلقونہ ہے یعنی جب کہ تم اس جھوٹ کی اشاعت کر رہے تھے۔ پہلی قرأت جمہور کی ہے۔ اور یہ قرأت ان کی ہے جنہیں اس آیت کا زیادہ علم تھا۔ اور تم وہ بات زبان سے نکالتے تھے، جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ تم گو اس کلام کو ہلکا سمجھتے رہے، لیکن دراصل اللہ کے نزدیک وہ بڑا بھاری کلام تھا۔ کسی مسلمان عورت کی نسبت ایسی تہمت جرم عظیم ہے۔ پھر اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ کے اوپر ایسا کلمہ، سمجھ لو کہ کتنا بڑا کبیرا گناہ ہوا ؟ اسی لئے رب کی غیرت اپنے نبی ﷺ کی وجہ سے جوش میں آئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر خاتم الانبیاء سید المرسلین ﷺ کی زوجہ مطہرہ ؓ کی پاکیزگی ثابت فرمائی۔ ہر نبی ؑ کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اس بےحیائی سے دور رکھا ہے پس کیسے ممکن تھا کہ تمام نبیوں کی بیویوں سے افضل اور ان کی سردار۔ تمام نبیوں سے افضل اور تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بیوی اس میں آلودہ ہوں۔ حاشا وکلا۔ پس تم گو اس کلام کو بےوقعت سمجھو لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ انسان بعض مرتبہ اللہ کی ناراضگی کا کوئی کلمہ کہہ کر گزرتا ہے، جس کی کوئی وقعت اس کے نزدیک نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم کے اتنے نیچے طبقے میں پہنچ جاتا ہے کہ جتنی نیچی زمین آسمان سے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نیچا ہوتا ہے۔
وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَٰذَا سُبْحَانَكَ هَٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
📘 پہلے تحقیق کرو پھر بولو پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نلکالنا چاہئے۔ برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایساوسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرمالیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں (بخاری ومسلم) تمہیں چاہئے تھا کہ ایسے بےہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بےادبی نہیں ہوسکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول ﷺ کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کو را ہو تو وہ تو بےادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
📘 پہلے تحقیق کرو پھر بولو پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نلکالنا چاہئے۔ برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایساوسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرمالیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں (بخاری ومسلم) تمہیں چاہئے تھا کہ ایسے بےہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بےادبی نہیں ہوسکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول ﷺ کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کو را ہو تو وہ تو بےادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
📘 پہلے تحقیق کرو پھر بولو پہلے تو نیک گمانی کا حکم دیا۔ یہاں دوسرا حکم دے رہا ہے کہ بھلے لوگوں کی شان میں کوئی برائی کا کلمہ بغیر تحقیق ہرگز نہ نلکالنا چاہئے۔ برے خیالات، گندے الزامات اور شیطانی وسوسوں سے دور رہنا چاہئے۔ کبھی ایسے کلمات زبان سے نہ نکالنے چاہیں، گو دل میں کوئی ایساوسوسہ شیطانی پیدا بھی ہو تو زبان قابو میں رکھنی چاہئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں سے درگزر فرمالیا ہے، جب تک وہ زبان سے نہ کہیں یا عمل میں نہ لائیں (بخاری ومسلم) تمہیں چاہئے تھا کہ ایسے بےہودہ کلام کو سنتے ہی کہہ دیتے کہ ہم ایسی لغویات سے اپنی زبان نہیں بگاڑتے۔ ہم سے یہ بےادبی نہیں ہوسکتی کہ اللہ کے خلیل اور اس کے رسول ﷺ کی بیوی صاحبہ کی نسبت کوئی ایسی لغویات کہیں، اللہ کی ذات پاک ہے۔ دیکھو خبردار آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ ہو ورنہ ایمان کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ایمان سے ہی کو را ہو تو وہ تو بےادب، گستاخ اور بھلے لوگوں کی اہانت کرنے والا ہوتا ہی ہے۔ احکام شرعیہ کو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان فرما رہا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں سے واقف ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
📘 برائی کی تشہیر نہ کرو یہ تیسری تنبیہ ہے کہ جو شخص کوئی ایسی بات سنے، اسے اس کا پھیلانا حرام ہے جو ایسی بری خبروں کو اڑاتے پھیرتے ہیں۔ دنیوی سزا یعنی حد بھی لگے گی اور اخروی سزا یعنی عذاب جہنم بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ عالم ہے، تم بےعلم ہو، پس تمہیں اللہ کی طرف تمام امور لوٹانے چاہئیں۔ حدیث شریف میں ہے بندگان اللہ کو ایذاء نہ دو ، انہیں عار نہ دلاؤ۔ ان کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب ٹٹولے گا۔ اللہ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑجائے گا اور اسے یہاں تک رسوا کرے گا کہ اس کے گھر والے بھی اسے بری نظر سے دیکھنے لگیں گے۔
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
📘 مسئلہ رجم اس بیان سے کہ ہم نے اس سورت کو نازل فرمایا ہے اس سورت کی بزرگی اور ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس سے یہ مقصود نہیں کہ اور سورتیں ضروری اور بزرگی والی نہیں۔ فرضناھا کے معنی مجاہد و قتادہ ؒ نے یہ بیان کئے ہیں کہ حلال و حرام، امرو نہی اور حدود وغیرہ کا اس میں بیان ہے۔ امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اسے ہم نے تم پر اور تمہارے بعد والوں پر مقرر کردیا ہے۔ اس میں صاف صاف، کھلے کھلے، روشن احکام بیان فرمائے ہیں تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو، احکام الٰہی کو یاد رکھو اور پھر ان پر عمل کرو۔ پھر زنا کاری کی شرعی سزا فرمائی۔ زنا کار یا تو کنوارا ہوگا یا شادی شدہ ہوگا یعنی وہ جو حریت بلوغت اور عقل کی حالت میں نکاح شرعی کے ساتھ کسی عورت سے ملا ہو۔ اور جمہور علماء کے نزدیک اسے ایک سال کی جلاوطنی بھی دی جائے گی۔ ہاں امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ یہ جلاوطنی امام کی رائے پر ہے اگر وہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ جمہور کی دلیل تو بخاری مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ دو اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ایک نے کہا یارسول اللہ ﷺ میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا وہ اس کی بیوی سے زنا کر بیٹھا، میں نے اس کے فدیے میں ایک سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔ پھر میں نے علماء سے دریافت کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے پر شرعی سزا سو کوڑوں کی ہے اور ایک سال کی جلاوطنی اور اس کی بیوی پر رجم یعنی سنگ ساری ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو ! میں تم میں اللہ کی کتاب کا صحیح فیصلہ کرتا ہوں۔ لونڈی اور بکریاں تو تجھے واپس دلوا دی جائیں گی اور تیرے بچے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور اے انیس تو اس کی بیوی کا بیان لے۔ یہ حضرت انیس ؓ قبیلہ اسلم کے ایک شخص تھے۔ اگر وہ اپنی سیاہ کاری کا اقرار کرے تو تو اسے سنگسار کردینا۔ چناچہ اس بیوی صاحبہ ؓ نے اقرار کیا اور انہیں رجم کردیا گیا ؓ۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کنورے پر سو کوڑوں کے ساتھ ہی سال بھر تک کی جلاوطنی بھی ہے اور اگر شادی شدہ ہے تو وہ رجم کردیا جائے گا۔ چناچہ موطا مالک میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں حمد وثناء کے بعد فرمایا کہ لوگو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ ﷺ پر اپنی کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب اللہ میں جرم کرنے کے حکم کی آیت بھی تھی جسے ہم نے تلاوت کی، یاد کیا، اس پر عمل بھی کیا خود حضور ﷺ کے زمانے میں بھی رجم ہوا اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے بعد رجم کیا۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے اس فریضے کو جسے اللہ نے اپنی کتاب میں اتارا، چھوڑ کر گمراہ ہوجائیں۔ کتاب اللہ میں رجم کا حکم مطلق حق ہے۔ اس پر جو زنا کرے اور شادی شدہ ہو خواہ مرد ہو، خواہ عورت ہو۔ جب کہ اس کے زنا پر شرعی دلیل ہو یا حمل ہو یا اقرار ہو۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں اس سے ہی مطول ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگ کہتے ہیں کہ رجم یعنی سنگساری کا مسئلہ ہم قرآن میں نہیں پاتے، قرآن میں صرف کوڑے مارنے کا حکم ہے۔ یاد رکھو خود رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے بعد رجم کیا اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے، قرآن میں جو نہ تھا، عمر نے لکھ دیا تو میں آیت رجم کو اسی طرح لکھ دیتا، جس طرح نازل ہوئی تھی۔ یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے اپنے خطبے میں رجم کا ذکر کیا اور فرمایا رجم ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حدوں میں سے ایک حد ہے، خود حضور ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا۔ اگر لوگوں کے اس کہنے کا کھٹکا نہ ہوتا کہ عمر نے کتاب اللہ میں زیادتی کی جو اس میں نہ تھی تو میں کتاب اللہ کے ایک طرف آیت رجم لکھ دیتا۔ عمر بن خطاب عبداللہ بن عوف اور فلاں اور فلاں کی شہادت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ یاد رکھو تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو رجم کو اور شفاعت کو اور عذاب قبر کو جھٹلائیں گے۔ اور اس بات کو بھی کہ کچھ لوگ جہنم سے اس کے بعد نکالے جائیں گے کہ وہ کوئلے ہوں گے۔ مسند احمد میں ہے کہ امیرالمونین حضرت عمر ؓ نے فرمایا، رجم کے حکم کے انکار کرنے کی ہلاکت سے بچنا۔ امام ترمذی ؒ بھی اسے لائے ہیں اور اسے صحیح کہا ہے۔ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ لوگ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت زید بن ثابت ؓ نے فرمایا، میں تمہاری تشفی کردیتا ہوں۔ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے آپ ﷺ سے ہی ذکر کیا اور رجم کا بیان کیا۔ کسی نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ رجم کی آیت لکھ لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اب تو میں اسے لکھ نہیں سکتا۔ یا اسی کے مثل۔ یہ روایت نسائی میں بھی ہے، پس ان سب احادیث سے ثابت ہوا کہ رجم کی آیت پہلے لکھی ہوئی تھی پھر تلاوت میں منسوخ ہوگئی اور حکم باقی رہا۔ واللہ اعلم۔ خود آنحضرت ﷺ نے اس شخص کی بیوی کے رجم کا حکم دیا، جس نے اپنے ملازم سے بدکاری کرائی تھی۔ اسی طرح حضور ﷺ نے ماعز ؓ کو اور ایک غامدیہ عورت کو رجم کرایا۔ ان سب واقعات میں یہ مذکور نہیں کہ رجم سے پہلے آپ نے انہیں کوڑے بھی لگوائے ہوں۔ بلکہ ان سب صحیح اور صاف احادیث میں صرف رجم کا ذکر ہے کسی میں بھی کوڑوں کا بیان نہیں۔ اسی لئے جمہور علماء اسلام کا یہی مذہب ہے۔ ابوحنیفہ ؒ، مالک ؒ، شافعی رحمہم اللہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ امام احمد فرماتے ہیں پہلے اسے کوڑے مارنے چاہئیں۔ پھر رجم کرنا چاہئے تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر عمل ہوجائے جیسے کہ حضرت امیرالمومنین علی ؓ سے منقول ہے کہ جب آپ کے پاس سراجہ لائی گئی جو شادی شدہ عورت تھی اور زنا کاری میں آئی تھی تو آپ نے جمعرات کے دن تو اسے کوڑے لگوائے اور جمعہ کے دن سنگسار کرا دیا۔ اور فرمایا کہ کتاب اللہ پر عمل کرکے میں نے کوڑے پٹوائے اور سنت رسول اللہ ﷺ پر عمل کرکے سنگسار کرایا۔ مسند احمد، سنن اربعہ اور مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میری بات لے لو، میری بات لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے راستہ نکال دیا۔ کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کرلے تو سو کوڑے اور سال بھر کی جلاوطنی اور شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ کرے تو رجم۔ پھر فرمایا اللہ کے حکم کے ماتحت اس حد کے جاری کرنے میں تمہیں ان پر ترس اور رحم نہ کھانا چاہئے۔ دل کا رحم اور چیز ہے اور وہ تو ضرور ہوگا لیکن حد کے جاری کرنے میں امام کا سزا میں کمی کرنا اور سستی کرنا بری چیز ہے۔ جب امام یعنی سلطان کے پاس کوئی ایسا واقعہ جس میں حد ہو، پہنچ جائے، تو اسے چاہئے کہ حد جاری کرے اور اسے نہ چھوڑے۔ حدیث میں ہے آپس میں حدود سے درگزر کرو، جو بات مجھ تک پہنچی اور اس میں حد ہو تو وہ تو واجب اور ضروری ہوگئی۔ اور حدیث میں ہے کہ حد کا زمین میں قائم ہونا، زمین والوں کیلئے چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ یہ بھی قول ہے کہ ترس کھاکر، مار کو نرم نہ کردو بلکہ درمیانہ طور پر کوڑے لگاؤ، یہ بھی نہ ہو کہ ہڈی توڑ دو۔ تہمت لگانے والے کی حد کے جاری کرنے کے وقت اس کے جسم پر کپڑے ہونے چاہئیں۔ ہاں زانی پر حد کے جاری کرنے کے وقت کپڑے نہ ہوں۔ یہ قول حضرت حماد بن ابو سلیمان رحمتہ اللہ کا ہے۔ اسے بیان فرما کر آپ نے یہی جملہ آیت (ولا تاخذ کم الخ) ، پڑھا تو حضرت سعید بن ابی عروبہ نے پوچھا یہ حکم میں ہے۔ کہا ہاں حکم میں ہے اور کوڑوں میں یعنی حد کے قائم کرنے میں اور سخت چوٹ مارنے میں۔ حضرت ابن عمر ؓ کی لونڈی نے جب زنا کیا تو آپ نے اس کے پیروں پر اور کمر پر کوڑے مارے تو حضرت نافعہ نے اسی آیت کا یہ جملہ تلاوت کیا کہ اللہ کی حد کے جاری کرنے میں تمہیں ترس نہ آنا چاہئے تو آپ نے فرمایا کیا تیرے نزدیک میں نے اس پر کوئی ترس کھایا ہے ؟ سنو اللہ نے اس کے مار ڈالنے کا حکم نہیں دیا نہ یہ فرمایا ہے کہ اس کے سر پر کوڑے مارے جائیں۔ میں نے اسے طاقت سے کوڑے لگائے ہیں اور پوری سزا دی ہے۔ پھر فرمایا اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت پر ایمان ہے تو تمہیں اس حکم کی بجا آوری کرنی چاہئے اور زانیوں پر حدیں قائم کرنے میں پہلو تہی نہ کرنی چاہئے۔ اور انہیں ضرب بھی شدید مارنی چاہئے لیکن ہڈی توڑنے والی نہیں تاکہ وہ اپنے اس گناہ سے باز رہیں اور ان کی یہ سزا دوسروں کیلئے بھی عبرت بنے۔ رجم بری چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں بکری کو ضبح کرتا ہوں لیکن میرا دل دکھتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اس رحم پر بھی تجھے اجر ملے گا۔ پھر فرماتا ہے ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا مجمع ہونا چاہئے تاکہ سب کے دل میں ڈر بیٹھ جائے اور زانی کی رسوائی بھی ہو تاکہ اور لوگ اس سے رک جائیں۔ اسے علانیہ سزا دی جائے، مخفی طور پر مار پیٹ کر نہ چھوڑا جائے۔ ایک شخص اور اس سے زیادہ بھی ہوجائیں تو جماعت ہوگئی اور آیت پر عمل ہوگیا اسی کو لے کر امام محمد کا مذھب ہے کہ ایک شخص بھی طائفہ ہے۔ عطا ؒ کا قول ہے کہ دو ہونے چاہئیں۔ سعید بن جبیر ؒ کہتے ہیں چار ہوں۔ زہری ؒ کہتے ہیں تین یا تین سے زیادہ۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں چار اور اس سے زیادہ کیونکہ زنا میں چار سے کم گواہ نہیں ہیں، چار ہوں یا اس سے زیادہ۔ امام شافعی ؒ کا مذہب بھی یہی ہے۔ ربیعہ ؒ کہتے ہیں پانچ ہوں۔ حسن بصری ؒ کے نزدیک دس۔ قتادہ ؒ کہتے ہیں ایک جماعت ہو تاکہ نصیحت، عبرت اور سزا ہو۔ نصرت بن علقمہ رحمتہ اللہ کے نزدیک جماعت کی موجودگی کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جا رہی ہے دعاء مغفرت و رحمت کریں۔
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
📘 شیطانی راہوں پر مت چلو یعنی اگر اللہ کا فضل وکرم، لطف ورحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہوجاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابن مسعود ؓ سے کہا کہ میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھالو۔ ایک شخص نے حضرت شعبی سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔ ابو رافع ؓ کہتے ہیں ایک مرتبہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ وہ بگڑ کر کہنے لگیں کہ ایک دن وہ یہودیہ ہے اور ایک دن نصرانیہ ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں، اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ میں نے آکر عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا یہ شیطانی حرکت ہے۔ زینب بن ام سلمہ جو اس وقت سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والی عورت تھیں، انہوں نے بھی یہی فتوی دیا اور عاصم بن عمرو کی بیوی نے بھی یہی بتایا۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک وکفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بےپایاں حکمت ہے۔
۞ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَنْ يَتَّبِعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
📘 شیطانی راہوں پر مت چلو یعنی اگر اللہ کا فضل وکرم، لطف ورحم نہ ہوتا تو اس وقت کوئی اور ہی بات ہوجاتی مگر اس نے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرمالی۔ پاک ہونے والوں کو بذریعہ حد شرعی کے پاک کردیا۔ شیطانی طریقوں پر شیطانی راہوں میں نہ چلو، اس کی باتیں نہ مانو۔ وہ تو برائی کا، بدی کا، بدکاری کا، بےحیائی کا حکم دیتا ہے۔ پس تمہیں اس کی باتیں ماننے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے عمل سے بچنا چاہئے اس کے وسوسوں سے دور رہنا چاہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی میں قدم شیطان کی پیروی ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابن مسعود ؓ سے کہا کہ میں نے فلاں چیز کھانے کی قسم کھالی ہے۔ آپ نے فرمایا یہ شیطان کا بہکاوا ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اسے کھالو۔ ایک شخص نے حضرت شعبی سے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ شیطانی حرکت ہے، ایسا نہ کرو، اس کے بدلے ایک بھیڑ ذبح کرو۔ ابو رافع ؓ کہتے ہیں ایک مرتبہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ وہ بگڑ کر کہنے لگیں کہ ایک دن وہ یہودیہ ہے اور ایک دن نصرانیہ ہے اور اس کے تمام غلام آزاد ہیں، اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔ میں نے آکر عبداللہ بن عمر ؓ سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا یہ شیطانی حرکت ہے۔ زینب بن ام سلمہ جو اس وقت سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والی عورت تھیں، انہوں نے بھی یہی فتوی دیا اور عاصم بن عمرو کی بیوی نے بھی یہی بتایا۔ پھر فرماتا ہے اگر اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو تم میں سے ایک بھی اپنے آپ کو شرک وکفر، برائی اور بدی سے نہ بچا سکتا۔ یہ رب کا احسان ہے کہ وہ تمہیں توبہ کی توفیق دتیا ہے پھر تم پر مہربانی سے رجوع کرتا ہے اور تمہیں پاک صاف بنا دیتا ہے۔ اللہ جسے چاہے پاک کرتا ہے اور جسے چاہے ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سننے والا، ان کے احوال کو جاننے والا ہے۔ ہدایت یاب اور گمراہ سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس میں بھی اس حکیم مطلق کی بےپایاں حکمت ہے۔
وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 دولت مند افراد سے خطاب تم میں سے جو کشادہ روزی والے، صاحب مقدرت ہیں۔ صدقہ اور احسان کرنے والے ہیں انہیں اس بات کی قسم نہ کھانی چاہئے کہ وہ اپنے قرابت داروں، مسکینوں، مہاجروں کو کچھ دیں گے ہی نہیں۔ اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لئے فرمایا کہ ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کردینا چاہئے۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کرلینا چاہئے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم وکرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے۔ یہ آیت حضرت صدیق ؓ کے بارے میں اتری ہے جب کہ آپ نے حضرت مسطح بن اثاثہ ؓ کے ساتھ کسی قسم کا سلوک کرنے کی قسم کھالی تھی کیونکہ بہتان صدیقہ میں یہ بھی شامل تھے۔ جیسے کہ پہلے کی آیتوں کی تفسیر میں یہ واقعہ گزر چکا ہے تو جب حقیقت اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردی، ام المومنین بری ہوگئیں، مسلمانوں کے دل روشن ہوگئے، مومنوں کی توبہ قبول ہوگئی، تہمت رکھنے والوں میں سے بعض کو حد شرعی لگ چکی۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق کو حضرت مسطح کی طرف متوجہ فرمایا جو آپ کی خالہ صاحبہ کے فرزند تھے اور مسکین شخص تھے۔ حضرت صدیق ہی ان کی پرورش کرتے رہتے تھے، یہ مہاجر تھے لیکن اس بارے میں اتفاقیہ زبان کھل گئی تھی۔ انہیں تہمت کی حد لگائی گئی تھی۔ حضرت صدیق ؓ کی سخاوت مشہور تھی۔ کیا اپنے کیا غیر سب کے ساتھ آپ کا حسن سلوک عام تھا۔ آیت کے یہ خصوصی الفاظ حضرت صدیق ؓ کے کان میں پڑے کہ کیا تم بخشش الہی کے طالب نہیں ہو ؟ آپ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ ہاں قسم ہے اللہ کی ہماری تو عین چاہت ہے کہ اللہ ہمیں بخشے اور اسی وقت سے مسطح کو جو کچھ دیا کرتے تھے، جاری کردیا۔ گویا ان آیتوں میں ہمیں تلقین ہوئی کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقصیریں معاف ہوجائیں۔ ہمیں چاہئے کہ دوسروں کی تقصیروں سے بھی درگزر کرلیا کریں۔ یہ بھی خیال میں رہے کہ جس طرح آپ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ واللہ میں اس کے ساتھ کبھی بھی سلوک نہ کروں گا۔ اب عہد کیا کہ واللہ میں اس سے کبھی بھی اس کا مقررہ روزینہ نہ روکوں گا۔ سچ ہے صدیق صدیق ہی تھے ؓ۔
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
📘 ام المومنین عائشہ صدیقہ کے گستاخ پر اللہ کی لعنت جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی ؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو صدیق اکبر ؓ کی صاحبزادی تھیں ؓ۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المومنین کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ کی اور ازواج مطہرات کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ کے ہیں۔ واللہ اعلم۔ فرماتا ہے کہ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا 57) 33۔ الأحزاب :57) ، یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے رسوا کرنے والے عذاب تیار ہیں۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر ؓ نے بھی حضرت عائشہ سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ پر تہمت لگنے، حضور ﷺ پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے ابن عباس ؓ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ واللہ اعلم۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد حضور ﷺ کی بیویاں ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے۔ لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔ اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت (وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۙ) 24۔ النور :4) ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک مرتبہ سورة نور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آیت تو حضور ﷺ کی بیویوں کے بارے میں اتری ہے۔ ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے۔ اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے۔ اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ حضرت عبد الرحمن ؒ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن حضرت عائشہ بطور اولی ہیں۔ امام ابن جریر ؒ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا۔ (بخاری مسلم) اور حدیث میں ہے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں۔ اعضاء کی گواہی ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چناچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت انکے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بےگناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ ہنس دئے اور فرمانے لگے۔ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے آپ نے فرمایا بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ۔ اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہوجاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا (مسلم) قتادہ رحمۃ اللہ فرماتے تھے اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔ یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد ؒ نے حق پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ لغت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے۔
يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 ام المومنین عائشہ صدیقہ کے گستاخ پر اللہ کی لعنت جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی ؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو صدیق اکبر ؓ کی صاحبزادی تھیں ؓ۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المومنین کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ کی اور ازواج مطہرات کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ کے ہیں۔ واللہ اعلم۔ فرماتا ہے کہ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا 57) 33۔ الأحزاب :57) ، یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے رسوا کرنے والے عذاب تیار ہیں۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر ؓ نے بھی حضرت عائشہ سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ پر تہمت لگنے، حضور ﷺ پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے ابن عباس ؓ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ واللہ اعلم۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد حضور ﷺ کی بیویاں ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے۔ لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔ اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت (وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۙ) 24۔ النور :4) ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک مرتبہ سورة نور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آیت تو حضور ﷺ کی بیویوں کے بارے میں اتری ہے۔ ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے۔ اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے۔ اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ حضرت عبد الرحمن ؒ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن حضرت عائشہ بطور اولی ہیں۔ امام ابن جریر ؒ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا۔ (بخاری مسلم) اور حدیث میں ہے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں۔ اعضاء کی گواہی ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چناچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت انکے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بےگناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ ہنس دئے اور فرمانے لگے۔ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے آپ نے فرمایا بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ۔ اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہوجاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا (مسلم) قتادہ رحمۃ اللہ فرماتے تھے اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔ یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد ؒ نے حق پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ لغت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے۔
يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ
📘 ام المومنین عائشہ صدیقہ کے گستاخ پر اللہ کی لعنت جب کہ عام مسلمان عورتوں پر طوفان اٹھانے والوں کی سزا یہ ہے تو انبیاء کی بیویوں پر جو مسلمانوں کی مائیں ہیں، بہتان باندھنے والوں کی سزا کیا ہوگی ؟ اور خصوصا اس بیوی پر جو صدیق اکبر ؓ کی صاحبزادی تھیں ؓ۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ ان آیتوں کے نزول کے بعد بھی جو شخص ام المومنین کو اس الزام سے یاد کرے، وہ کافر ہے کیونکہ اس نے قرآن پاک کے خلاف کیا۔ آپ کی اور ازواج مطہرات کے بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ وہ بھی مثل صدیقہ کے ہیں۔ واللہ اعلم۔ فرماتا ہے کہ ایسے موذی بہتان پرداز دنیا اور آخرت میں لعنت اللہ کے مستحق ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے (اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا 57) 33۔ الأحزاب :57) ، یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لئے رسوا کرنے والے عذاب تیار ہیں۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ مخصوص ہے۔ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں۔ سعید بن جبیر، مقاتل بن حیان کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریر ؓ نے بھی حضرت عائشہ سے یہ نقل کیا ہے لیکن پھر جو تفصیل وار روایت لائے ہیں اس میں آپ پر تہمت لگنے، حضور ﷺ پر وحی آنے اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر ہے لیکن آپ کے ساتھ اس حکم کے مخصوص ہونے کا ذکر نہیں۔ پس سبب نزول گو خاص ہو لیکن حکم عام رہتا ہے۔ ممکن ہے ابن عباس ؓ وغیرہ کے قول کا بھی یہی مطلب ہو۔ واللہ اعلم۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ کل ازواج مطہرات کا تو یہ حکم ہے لیکن اور مومنہ عورتوں کا یہ حکم نہیں۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت سے تو مراد حضور ﷺ کی بیویاں ہیں کہ اہل نفاق جو اس تہمت میں تھے، سب راندہ درگاہ ہوئے۔ لعنتی ٹھہرے اور غضب اللہ کے مستحق بن گئے۔ اس کے بعد عام مومنہ عورتوں پر بدکاری کا بہتان باندھنے والوں کے حکم میں آیت (وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۙ) 24۔ النور :4) ، اتری پس انہیں کوڑے لگیں گے۔ اگر انہوں نے توبہ کی توبہ تو قبول ہے لیکن گواہی ان کی ہمیشہ تک غیر معبتر رہے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک مرتبہ سورة نور کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آیت تو حضور ﷺ کی بیویوں کے بارے میں اتری ہے۔ ان بہتان بازوں کی توبہ بھی قبول نہیں۔ اس آیت میں ابہام ہے۔ اور چار گواہ نہ لاسکنے کی آیت عام ایماندار عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے حق میں ہے، ان کی توبہ مقبول ہے، یہ سن کر اکثر لوگوں کا ارادہ ہوا کہ آپ کی پیشانی چوم لیں۔ کیونکہ آپ نے نہایت ہی عمدہ تفسیر کی تھی۔ ابہام سے مراد یہ ہے کہ ہر پاک دامن عورت کی شان میں حرمت تہمت عام ہے۔ اور ایسے سب لوگ ملعون ہیں۔ حضرت عبد الرحمن ؒ فرماتے ہیں ہر ایک بہتان باز اس حکم میں شامل ہے لیکن حضرت عائشہ بطور اولی ہیں۔ امام ابن جریر ؒ بھی عموم ہی کو پسند فرماتے ہیں اور یہی صحیح بھی ہے اور عموم کی تائید میں یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں سات گناہوں سے بچو جو مہلک ہیں۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد سے بھاگنا، پاک دامن بھولی مومنہ پر تہمت لگانا۔ (بخاری مسلم) اور حدیث میں ہے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والے کی سو سال کی نیکیاں غارت ہیں۔ اعضاء کی گواہی ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے آؤ ہم بھی انکار کردیں چناچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے۔ اسی وقت انکے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بےگناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے پڑوسی یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں۔ یہ کہیں گے یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا کہ اچھا خود تمہارے کنبے کے قبیلے کے لوگ موجود ہیں۔ یہ کہہ دیں گے یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا۔ اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسمیں کھا لیں گے پھر اللہ انہیں گونگا کر دے گا اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے۔ پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ ہنس دئے اور فرمانے لگے۔ جانتے ہو میں کیوں ہنسا ؟ ہم نے کہا اللہ ہی جانتا ہے آپ نے فرمایا بندہ قیامت کے دن اپنے رب سے جو حجت بازی کرے گا اس پر یہ کہے گا کہ اللہ کیا تو نے مجھے ظلم سے نہیں روکا تھا ؟ اللہ فرمائے گا ہاں۔ تو یہ کہے گا، بس آج جو گواہ میں سچا مانوں، اسی کی شہادت میرے بارے میں معتبر مانی جائے۔ اور وہ گواہ سوا میرے اور کوئی نہیں۔ اللہ فرمائے گا، اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ رہ۔ اب منہ پر مہر لگ جائے گی اور اعضاء سے سوال ہوگا تو وہ سارے عقدے کھول دیں گے۔ اس وقت بندہ کہے گا، تم غارت ہوجاؤ، تمہیں بربادی آئے تمہاری طرف سے ہی تو میں لڑ جھگڑ رہا تھا (مسلم) قتادہ رحمۃ اللہ فرماتے تھے اے ابن آدم تو خود اپنی بد اعمالیوں کا گواہ ہے، تیرے کل جسم کے اعضاء تیرے خلاف بولیں گے، ان کا خیال رکھ اللہ سے پوشیدگی اور ظاہری میں ڈرتا رہ۔ اس کے سامنے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اندھیرا اس کے سامنے روشنی کی مانند ہے۔ چھپا ہوا اس کے سامنے کھلا ہوا ہے۔ اللہ کے ساتھ نیک گمانی کی حالت میں مرو۔ اللہ ہی کے ساتھ ہماری قوتیں ہیں۔ یہاں دین سے مراد حساب ہے۔ جمہور کی قرأت میں حق کا زبر ہے کیونکہ وہ دین کی صفت ہے۔ مجاہد ؒ نے حق پڑھا ہے اس بنا پر کہ یہ لغت جان لیں گے کہ اللہ کے وعدے وعید حق ہیں۔ اس کا حساب عدل والا ہے ظلم سے دور ہے۔
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
📘 بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی بری بات برے لوگوں کے لئے ہے۔ بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی اہل نفاق نے صدیقہ پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لئے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ صدیقہ ؓ چونکہ پاک ہیں اس لئے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔ یہ آیت بھی حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لئے ہوتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔ انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج و ایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لئے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ حضور ﷺ کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ کے ساتھ ہی رہیں گی۔ ایک مرتبہ اسیر بن جابر حضرت عبداللہ کے پاس آکر کہنے لگے آج تو میں نے ولید بن عقبہ سے ایک نہایت ہی عمدہ بات سنی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ مومن کے دل میں پاک بات اترتی ہے اور وہ اس کے سینے میں آجاتی ہے پھر وہ اسے زبان سے بیان کرتا ہے، وہ بات چونکہ بھلی ہوتی ہے، بھلے سننے والے اسے اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں اور اسی طرح بری بات برے لوگوں کے دلوں سے سینوں تک اور وہاں سے زبانوں تک آتی ہے، برے لوگ اسے سنتے ہیں اور اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے جائے اور حدیث میں ہے حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
📘 بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی بری بات برے لوگوں کے لئے ہے۔ بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی اہل نفاق نے صدیقہ پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لئے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ صدیقہ ؓ چونکہ پاک ہیں اس لئے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔ یہ آیت بھی حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لئے ہوتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔ انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج و ایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لئے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ حضور ﷺ کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ کے ساتھ ہی رہیں گی۔ ایک مرتبہ اسیر بن جابر حضرت عبداللہ کے پاس آکر کہنے لگے آج تو میں نے ولید بن عقبہ سے ایک نہایت ہی عمدہ بات سنی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ مومن کے دل میں پاک بات اترتی ہے اور وہ اس کے سینے میں آجاتی ہے پھر وہ اسے زبان سے بیان کرتا ہے، وہ بات چونکہ بھلی ہوتی ہے، بھلے سننے والے اسے اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں اور اسی طرح بری بات برے لوگوں کے دلوں سے سینوں تک اور وہاں سے زبانوں تک آتی ہے، برے لوگ اسے سنتے ہیں اور اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے جائے اور حدیث میں ہے حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے۔
فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِنْ قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ
📘 بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی بری بات برے لوگوں کے لئے ہے۔ بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی اہل نفاق نے صدیقہ پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لئے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ صدیقہ ؓ چونکہ پاک ہیں اس لئے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔ یہ آیت بھی حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لئے ہوتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔ انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج و ایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لئے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ حضور ﷺ کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ کے ساتھ ہی رہیں گی۔ ایک مرتبہ اسیر بن جابر حضرت عبداللہ کے پاس آکر کہنے لگے آج تو میں نے ولید بن عقبہ سے ایک نہایت ہی عمدہ بات سنی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ مومن کے دل میں پاک بات اترتی ہے اور وہ اس کے سینے میں آجاتی ہے پھر وہ اسے زبان سے بیان کرتا ہے، وہ بات چونکہ بھلی ہوتی ہے، بھلے سننے والے اسے اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں اور اسی طرح بری بات برے لوگوں کے دلوں سے سینوں تک اور وہاں سے زبانوں تک آتی ہے، برے لوگ اسے سنتے ہیں اور اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے جائے اور حدیث میں ہے حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے۔
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ
📘 بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہی ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی بری بات برے لوگوں کے لئے ہے۔ بھلی بات کے حقدار بھلے لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی اہل نفاق نے صدیقہ پر جو تہمت باندھی اور ان کی شان میں جو بد الفاظی کی اس کے لائق وہی ہیں اس لئے کہ وہی بد ہیں اور خبیث ہیں۔ صدیقہ ؓ چونکہ پاک ہیں اس لئے وہ پاک کلموں کے لائق ہیں وہ ناپاک بہتان سے بری ہیں۔ یہ آیت بھی حضرت عائشہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جو ہر طرح سے طیب ہیں، ناممکن ہے کہ ان کے نکاح میں اللہ کسی ایسی عورت کو دے جو خبیثہ ہو۔ خبیثہ عورتیں تو خبیث مردوں کے لئے ہوتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ ان تمام تہمتوں سے پاک ہیں جو دشمنان اللہ باندھ رہے ہیں۔ انہیں ان کی بدکلامیوں سے جو رنج و ایذاء پہنچی وہ بھی ان کے لئے باعث مغفرت گناہ بن جائے گی۔ اور یہ چونکہ حضور ﷺ کی بیوی ہیں، جنت عدن میں بھی آپ کے ساتھ ہی رہیں گی۔ ایک مرتبہ اسیر بن جابر حضرت عبداللہ کے پاس آکر کہنے لگے آج تو میں نے ولید بن عقبہ سے ایک نہایت ہی عمدہ بات سنی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ مومن کے دل میں پاک بات اترتی ہے اور وہ اس کے سینے میں آجاتی ہے پھر وہ اسے زبان سے بیان کرتا ہے، وہ بات چونکہ بھلی ہوتی ہے، بھلے سننے والے اسے اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں اور اسی طرح بری بات برے لوگوں کے دلوں سے سینوں تک اور وہاں سے زبانوں تک آتی ہے، برے لوگ اسے سنتے ہیں اور اپنے دل میں بٹھالیتے ہیں۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ جو شخص بہت سی باتیں سنے، پھر ان میں جو سب سے خراب ہو اسے بیان کرے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی بکریوں والے سے ایک بکری مانگے وہ اسے کہے کہ جا اس ریوڑ میں سے تجھے جو پسند ہو لے لے۔ یہ جائے اور ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے جائے اور حدیث میں ہے حکمت کا کلمہ مومن کی گم گشتہ دولت ہے جہاں سے پائے لے لے۔
الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
📘 زانی اور زانیہ اور اخلاقی مجرم اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ زانی سے زنا کاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو بدکار ہو یا مشرکہ ہو کہ وہ اس برے کام کو عیب ہی نہیں سمجھتی۔ ایسی بدکار عورت سے وہی مرد ملتا ہے جو اسی جیسا بدچلن ہو یا مشرک ہو جو اس کی حرمت کا قائل ہی نہ ہو۔ ابن عباس ؓ سے بہ سند صحیح مروی ہے کہ یہاں نکاح سے مراد جماع ہے یعنی زانیہ عورت سے زنا کار یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے۔ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، عروہ بن زبر، ضحاک، مکحول، مقاتل بن حیان اور بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے۔ مومنوں پر یہ حرام ہے یعنی زناکاری کرنا اور زانیہ عورتوں سے نکاح کرنا یا عفیفہ اور پاک دامن عورتوں کو ایسے زانیوں کے نکاح میں دینا۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بدکار عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں پر حرام ہے جیسے اور آیت میں ہے (مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ 25) 4۔ النسآء :25) یعنی مسلمانوں کو جن عورتوں سے نکاح کرنا چاہئے ان میں یہ تینوں اوصاف ہونے چاہئیں وہ پاک دامن ہوں، وہ بدکار نہ ہوں، نہ چوری چھپے برے لوگوں سے میل ملاپ کرنے والی ہوں۔ یہی تینوں وصف مردوں میں بھی ہونے کا بیان کیا گیا ہے۔ اسی لئے امام احمد ؒ کا فرمان ہے کہ نیک اور پاک دامن مسلمان کا نکاح بدکار عورت سے صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ہاں بعد از توبہ عقد نکاح درست ہے۔ اسی طرح بھولی بھالی، پاک دامن، عفیفہ عورتوں کا نکاح زانی اور بدکار لوگوں سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔ جب تک وہ سچے دل سے اپنے اس ناپاک فعل سے توبہ نہ کرلے کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ یہ مومنوں پر حرام کردیا گیا ہے۔ ایک شخض نے ام مھزول نامی ایک بدکار عورت سے نکاح کرلینے کی اجازت آنحضرت ﷺ سے طلب کی تو آپ ﷺ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی طلب اجازت پر یہ آیت اتری۔ ترمذی شریف میں ہے کہ ایک صحابی جن کا نام مرثد بن ابو مرثد تھا، یہ مکہ سے مسلمان قیدیوں کو اٹھالایا کرتے تھے اور مدینے پہنچا دیا کرتے تھے۔ عناق نامی ایک بدکار عورت مکہ میں رہا کرتی تھی۔ جاہلیت کے زمانے میں ان کا اس عورت سے تعلق تھا۔ حضرت مرثد ؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں ایک قیدی کو لانے کیلئے مکہ شریف گیا۔ میں ایک باغ کی دیوار کے نیچے پہنچا رات کا وقت تھا چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ اتفاق سے عناق آپہنچی اور مجھے دیکھ لیا بلکہ پہچان بھی لیا اور آواز دے کر کہا کیا مرثد ہے ؟ میں نے کہا ہاں مرثد ہوں۔ اس نے بڑی خوشی ظاہر کی اور مجھ سے کہنے لگی چلو رات میرے ہاں گزارنا۔ میں نے کہا عناق اللہ تعالیٰ نے زناکاری حرام کردی ہے۔ جب وہ مایوس ہوگئی تو اس نے مجھے پکڑوانے کیلئے غل مچانا شروع کیا کہ اے خیمے والو ہوشیار ہوجاؤ دیکھو چور آگیا ہے۔ یہی ہے جو تمہارے قیدیوں کو چرا کرلے جایا کرتا ہے۔ لوگ جاگ اٹھے اور آٹھ آدمی مجھے پکڑنے کیلئے میرے پیچھے دوڑے۔ میں مٹھیاں بند کرکے خندق کے راستے بھاگا اور ایک غار میں جاچھپا۔ یہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے غار پر آپہنچے لیکن میں انہیں نہ ملا۔ یہ وہیں پیشاب کرنے کو بیٹھے واللہ ان کا پیشاب میرے سر پر آ رہا تھا لیکن اللہ نے انہیں اندھا کردیا۔ ان کی نگاہیں مجھ پر نہ پڑیں۔ ادھر ادھر ڈھونڈ بھال کر واپس چلے گئے۔ میں نے کچھ دیر گزار کر جب یہ یقین کرلیا کہ وہ پھر سوگئے ہوں گے تو یہاں سے نکلا، پھر مکہ کی راہ لی اور وہیں پہنچ کر اس مسلمان قیدی کو اپنی کمر پر چڑھایا اور وہاں سے لے بھاگا۔ چونکہ وہ بھاری بدن کے تھے۔ میں جب اذخر میں پہنچا تو تھک گیا میں نے انہیں کمر سے اتارا ان کے بندھن کھول دیئے اور آزاد کردیا۔ اب اٹھاتا چلاتا مدینے پہنچ گیا۔ چونکہ عناق کی محبت میرے دل میں تھی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی کہ میں اس سے نکاح کرلوں۔ آپ ﷺ خاموش ہو رہے۔ میں نے دوبارہ یہی سوال کیا پھر بھی آپ ﷺ خاموش رہے اور یہ آیت اتری۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا، اے مرثد زانیہ سے نکاح زانی یا مشرک ہی کرتا ہے تو اس سے نکاح کا ارادہ چھوڑ دے۔ امام ابو داؤد اور نسائی بھی اسے اپنی سنن کی کتاب النکاح میں لائے ہیں۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے زانی جس پر کوڑے لگ چکے ہوں وہ اپنے جیسے سے ہی نکاح کرسکتا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگ ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے اور جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ 001 ماں باپ کا نافرمان۔ 002 وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت کریں۔ 003 اور دیوث۔ اور تین قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے نہ دیکھے گا۔ 001 ماں باپ کا نافرمان 002 ہمیشہ کا نشے کا عادی 003 اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتانے والا۔ مسند میں ہے آپ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے 001 ہمیشہ کا شرابی۔ 002 ماں باپ کا نافرمان۔ 003 اور اپنے گھر والوں میں خباثت کو برقرار رکھنے والا۔ ابو داؤد طیالسی میں ہے جنت میں کوئی دیوث نہیں جائے گا۔ ابن ماجہ میں ہے جو شخص اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنا چاہتا ہے، اسے چاہئے کہ پاکدامن عورتوں سے نکاح کرے جو لونڈیاں نہ ہوں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ دیوث کہتے ہیں بےغیرت شخص کو۔ نسائی میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اپنی بیوی سے بہت ہی محبت ہے لیکن اس میں یہ عادت ہے کہ کسی ہاتھ کو واپس نہیں لوٹاتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا طلاق دیدے۔ اس نے کہا مجھے تو صبر نہیں آنے کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر جا اس سے فائدہ اٹھا۔ لیکن یہ حدیث ثابت نہیں اس کا راوی عبدالکریم قوی نہیں۔ دوسرا راوی اس کا ہارون ہے جو اس سے قوی ہے مگر ان کی روایت مرسل ہے اور یہی ٹھیک بھی ہے۔ یہی روایت مسند میں مروی ہے لیکن امام نسائی رحمتہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ مسند کرنا خطا ہے اور صواب یہی ہے کہ یہ مرسل ہے۔ یہ حدیث کی اور کتابوں میں ہے اور سندوں سے بھی مروی ہے۔ امام احمد ؒ تو اسے منکر کہتے ہیں۔ امام ابن قتیبہ ؒ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ یہ جو کہا ہے کہ وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ کو لوٹاتی نہیں اس سے مراد بیحد سخاوت ہے کہ وہ کسی سائل سے انکار ہی نہیں کرتی۔ لیکن اگر یہی مطلب ہوتا تو حدیث میں بجائے لامس کے لفظ کے ملتمس کا لفظ ہونا چاہئے تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی خصلت ایسی معلوم ہوتی تھی نہ یہ کہ وہ برائی کرتی تھی کیونکہ اگر یہی عیب اس میں ہوتا تو پھر آنحضرت ﷺ اس صحابی ؓ کو اس کے رکھنے کی اجازت نہ دیتے کیونکہ یہ تو دیوثی ہے۔ جس پر سخت وعید آئی ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ خاوند کو اس کی عادت ایسی لگی ہو اور اس کا اندیشہ ظاہر کیا ہو تو آپ ﷺ نے مشورہ دیا کہ پھر طلاق دیدو لیکن جب اس نے کہا کہ مجھے اس سے بہت ہی محبت ہے تو آپ ﷺ نے بسانے کی اجازت دیدی کیونکہ محبت تو موجود ہے۔ اسے ایک خطرے کے صرف وہم پر توڑ دینا ممکن ہے کوئی برائی پیدا کردے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔ الغرض زانیہ عورتوں سے پاک دامن مسلمانوں کو نکاح کرنا منع ہے ہاں جب وہ توبہ کرلیں تو نکاح حلال ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ ایک ایسی ہی واہی عورت سے میرا برا تعلق تھا۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں توبہ کی توفیق دی تو میں چاہتا ہوں کہ اس سے نکاح کرلوں لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ زانی ہی زانیہ اور مشرکہ سے نکاح کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس آیت کا یہ مطلب نہیں تم اس سے اب نکاح کرسکتے ہوجاؤ اگر کوئی گناہ ہو تو میرے ذمے۔ حضرت یحییٰ سے جب یہ ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ آیت منسوخ ہے اس کے بعد کی آیت (وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ 32) 24۔ النور :32) سے۔ امام ابو ابو عبداللہ محمد بن ادریس شافعی ؒ بھی یہی فرماتے ہیں۔
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
📘 حرام چیزوں پر نگاہ نہ ڈالو حکم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کا دیکھنا میں نے حرام کردیا ہے ان پر نگاہیں نہ ڈالو۔ حرام چیزوں سے آنکھیں نیچی کرلو۔ اگر بالفرض نظر پڑجائے تو بھی دوبارہ یا نظر بھر کر نہ دیکھو۔ صحیح مسلم میں ہے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ نے حضور ﷺ سے اچانک نگاہ پڑجانے کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا اپنی نگاہ فورا ہٹا لو۔ نیچی نگاہ کرنا یا ادھر ادھر دیکھنے لگ جانا اللہ کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا آیت کا مقصود ہے۔ حضرت علی ؓ سے آپ نے فرمایا۔ علی ؓ نظر پر نظر نہ جماؤ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے قصدا معاف نہیں۔ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا " راستوں پر بیٹھنے سے بچو "۔ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کام کاج کے لئے وہ تو ضروری ہے۔ " آپ نے فرمایا اچھا تو راستوں کا حق ادا کرتے رہو "۔ انہوں نے کہا وہ کیا ؟ فرمایا " نیچی نگاہ رکھنا " کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کی تعلیم کرنا، بری باتوں سے روکنا "۔ آپ فرماتے ہیں چھ چیزوں کے تم ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لئے جنت کا ضامن ہوتا ہوں۔ بات کرتے ہوئے جھوٹ نہ بولو۔ امانت میں خیانت نہ کرو۔ وعدہ خلافی نہ کرو۔ نظر نیچی رکھو۔ ہاتھوں کو ظلم سے بچائے رکھو۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ صحیح بخاری میں ہے جو شخص زبان اور شرمگاہ کو اللہ کے فرمان کے ماتحت رکھے۔ میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں، عبیدہ کا قول ہے کہ جس چیز کا نتیجہ نافرمانی رب ہو، وہ کبیرہ گناہ ہے چونکہ نگاہ پڑنے کے بعد دل میں فساد کھڑا ہوتا ہے، اس لئے شرمگاہ کو بچانے کے لئے نظریں نیچی رکھنے کا فرمان ہوا۔ نظر بھی ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ پس زنا سے بچنا بھی ضروری ہے اور نگاہ نیچی رکھنا بھی ضروری ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو مگر اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے "۔ محرمات کو نہ دیکھنے سے دل پاک ہوتا ہے اور دین صاف ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی نگاہ حرام چیزوں پر نہیں ڈالتے۔ اللہ ان کی آنکھوں میں نور بھر دیتا ہے۔ اور ان کے دل بھی نورانی کردیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں جس کی نظر کسی عورت کے حسن وجمال پر پڑجائے پھر وہ اپنی نگاہ ہٹالے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت اسے عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ اپنے دل میں پاتا ہے۔ اس حدیث کی سندیں تو ضعیف ہیں مگر یہ رغبت دلانے کے بارے میں ہے۔ اور ایسی احادیث میں سند کی اتنی زیادہ دیکھ بھال نہیں ہوتی۔ طبرانی میں ہے کہ یا تو تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کروگے اور اپنے منہ سیدھے رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دے گا (اعاذنا اللہ من کل عذابہ) فرماتے ہیں۔ نظر ابلیسی تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص اللہ کے خوف سے اپنی نگاہ روک رکھے، اللہ اس کے دل کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم کے ذمے اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ لا محالہ پالے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے۔ زبان کا زنا بولنا ہے۔ کانوں کا زنا سننا ہے۔ ہاتھوں کا زنا تھامنا ہے۔ پیروں کا زنا چلنا ہے۔ دل خواہش تمنا اور آرزو کرتا ہے۔ پھر شرمگاہ تو سب کو سچا کردیتی ہے یا سب کو جھوٹا بنا دیتی ہے۔ (رواہ البخاری تعلیقا) اکثر سلف لڑکوں کو گھورا گھاری سے بھی منع کرتے تھے۔ اکثر ائمہ صوفیہ نے اس بارے میں بہت کچھ سختی کی ہے۔ اہل علم کی جماعت نے اس کو مطلق حرام کہا ہے اور بعض نے اسے کبیرہ گناہ فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے رودے۔ گو اس میں سے آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو۔
وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
📘 مومنہ عورتوں کو تاکید یہاں اللہ تعالیٰ مومنہ عورتوں کو چند حکم دیتا ہے تاکہ ان کے باغیرت مردوں کو تسکین ہو اور جاہلیت کی بری رسمیں نکل جائیں۔ مروی ہے کہ اسماء بنت مرثد ؓ کا مکان بنوحارثہ کے محلے میں تھا۔ ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے زیور، سینے اور بال کھولے آیا کرتی تھیں۔ حضرت اسماء نے کہا یہ کیسی بری بات ہے ؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حکم ہوتا ہے کہ مسلمان عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہئیں۔ سوا اپنے خاوند کے کسی کو بہ نظر شہوت نہ دیکھنا چاہئے۔ اجنبی مردوں کی طرف تو دیکھنا ہی حرام ہے خواہ شہوت سے ہو خواہ بغیر شہوت کے۔ ابو داؤد اور ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ ؓ بیٹھی تھیں کہ ابن ام مکتوم ؓ تشریف لے آئے۔ یہ واقعہ پردے کی آیتیں اترنے کے بعد کا ہے۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ پردہ کرلو۔ انہوں نے کہا یارسول اللہ ! وہ تو نابینا ہیں، نہ ہمیں دیکھیں گے، نہ پہچانیں گے۔ آپ نے فرمایا تم تو نابینا نہیں ہو کہ اس کو نہ دیکھو ؟ ہاں بعض علماء نے بےشہوت نظر کرنا حرام نہیں کہا۔ ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ عید والے دن حبشی لوگوں نے مسجد میں ہتھیاروں کے کرتب شروع کئے اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کو آنحضرت ﷺ نے اپنے پیچھے کھڑا کرلیا آپ دیکھ ہی رہی تھیں یہاں تک کہ جی بھر گیا اور تھک کر چلی گئیں۔ عورتوں کو بھی اپنی عصمت کا بچاؤ چاہئے، بدکاری سے دور رہیں، اپنا آپ کسی کو نا دکھائیں۔ اجنبی غیر مردوں کے سامنے اپنی زینت کی کسی چیز کو ظاہر نہ کریں ہاں جس کا چھپانا ممکن ہی نہ ہو، اس کی اور بات ہے جیسے چادر اور اوپر کا کپڑا وغیرہ جنکا پوشیدہ رکھنا عورتوں کے لئے ناممکنات سے ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد چہرہ، پہنچوں تک کے ہاتھ اور انگوٹھی ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ یہی زینت کے وہ محل ہیں، جن کے ظاہر کرنے سے شریعت نے ممانعت کردی ہے۔ جب کہ حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں یعنی بالیاں ہار پاؤں کا زیور وغیرہ۔ فرماتے ہیں زینت دو طرح کی ہے ایک تو وہ جسے خاوند ہی دیکھے جیسے انگوٹھی اور کنگن اور دوسری زینت وہ جسے غیر بھی دیکھیں جیسے اوپر کا کپڑا۔ زہری ؒ فرماتے ہیں کہ اسی آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ان کے سامنے تو کنگن دوپٹہ بالیاں کھل جائیں تو حرج نہیں لیکن اور لوگوں کے سامنے صرف انگوٹھیاں ظاہر ہوجائیں تو پکڑ نہیں۔ اور روایت میں انگوٹھیوں کے ساتھ ہی پیر کے خلخال کا بھی ذکر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ما ظہر منہا کی تفیسر ابن عباس ؓ نے منہ اور پہنچوں سے کی ہو۔ جیسے ابو داؤد میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئیں کپڑے باریک پہنے ہوئے تھیں تو آپ نے منہ پھیرلیا اور فرمایا جب عورت بلوغت کو پہنچ جائے تو سوا اس کے اور اس کے یعنی چہرہ کے اور پہنچوں کے اس کا کوئی عضو دکھانا ٹھیک نہیں۔ لیکن یہ مرسل ہے۔ خالد بن دریک ؒ اسے حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں اور ان کا ام المومنین سے ملاقات کرنا ثابت نہیں۔ واللہ اعلم۔ عورتوں کو چاہئے کہ اپنے دوپٹوں سے یا اور کپڑے سے بکل مار لیں تاکہ سینہ اور گلے کا زیور چھپا رہے۔ جاہلیت میں اس کا بھی رواج نہ تھا۔ عورتیں اپنے سینوں پر کچھ نہیں ڈالتیں تھیں بسا اوقات گردن اور بال چوٹی بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔ ایک اور آیت میں ہے اے نبی ﷺ اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔ خمر خمار کی جمع ہے خمار کہتے ہیں ہر اس چیز کو جو ڈھانپ لے۔ چونکہ دوپٹہ سر کو ڈھانپ لیتا ہے اس لئے اسے بھی خمار کہتے ہیں۔ پس عورتوں کو چاہے کہ اپنی اوڑھنی سے یا کسی اور کپڑے سے اپنا گلا اور سینہ بھی چھپائے رکھیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر رحم فرمائے جنہوں نے شروع شروع ہجرت کی تھی کہ جب یہ آیت اتری انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر دوپٹے بنائے۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھک لیا۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس عورتوں نے قریش عورتوں کی فضیلت بیان کرنی شروع کی تو آپ نے فرمایا ان کی فضیلت کی قائل میں بھی ہوں لیکن واللہ میں نے انصار کی عورتوں سے افضل عورتیں نہیں دیکھیں، ان کے دلوں میں جو کتاب اللہ کی تصدیق اور اس پر کامل ایمان ہے، وہ بیشک قابل قدر ہے۔ سورة نور کی آیت (ولیضربن بخمرھن) جب نازل ہوئی اور ان کے مردوں نے گھر میں جاکر یہ آیت انہیں سنائی، اسی وقت ان عورتوں نے اس پر عمل کرلیا اور صبح کی نماز میں وہ آئیں تو سب کے سروں پر دوپٹے موجود تھے۔ گویا ڈول رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ان مردوں کا بیان فرمایا جن کے سامنے عورت ہوسکتی ہے اور بغیر بناؤ سنگھار کے ان کے سامنے شرم وحیا کے ساتھ آ جاسکتی ہے گو بعض ظاہری زینت کی چیزوں پر بھی ان کی نظر پڑجائے۔ سوائے خاوند کے کہ اس کے سامنے تو عورت اپنا پورا سنگھار زیب زینت کرے۔ گو چچا اور ماموں بھی ذی محرم ہیں لیکن ان کا نام یہاں اس لئے نہیں لیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے بیٹوں کے سامنے ان کے محاسن بیان کریں۔ اس لئے ان کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہ آنا چاہئے۔ پھر فرمایا تمہاری عورتیں یعنی مسلمان عورتوں کے سامنے بھی اس زینت کے اظہار میں کوئی حرج نہیں۔ اہل ذمہ کی عورتوں کے سامنے اس لئے رخصت نہیں دی گئی کہ بہت ممکن ہے وہ اپنے مردوں میں ان کی خوبصورتی اور زینت کا ذکر کریں۔ گو مومن عورتوں سے بھی یہ خوف ہے مگر شریعت نے چونکہ اسے حرام قرار دیا ہے اس لئے مسلمان عورتیں تو ایسا نہ کریں گی لیکن ذمی کافروں کی عورتوں کو اس سے کون سی چیز روک سکتی ہے ؟ بخاری مسلم میں ہے کہ کسی عورت کو جائز نہیں کہ دوسری عورت سے مل کر اس کے اوصاف اپنے خاوند کے سامنے اس طرح بیان کرے کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت ابو عبیدہ ؓ کو لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض مسلمان عورتیں حمام میں جاتی ہیں، ان کے ساتھ مشرکہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔ سنو کسی مسلمان عورت کو حلال نہیں کہ وہ اپناجسم کسی غیر مسلمہ عورت کو دکھائے۔ حضرت مجاہد ؒ بھی آیت (اونساءھن) کی تفسیر میں فرماتے ہیں مراد اس سے مسلمان عورتیں ہیں تو ان کے سامنے وہ زینت ظاہر کرسکتی ہے جو اپنے ذی محرم رشتے داروں کے سامنے ظاہر کرسکتی ہے۔ یعنی گلابالیاں اور ہار۔ پس مسلمان عورت کو ننگے سر کسی مشرکہ عورت کے سامنے ہونا جائز نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب صحابہ بیت المقدس پہنچے تو ان کی بیویوں کے لئے دایہ یہودیہ اور نصرانیہ عورتیں ہی تھیں۔ پس اگر یہ ثابت ہوجائے تو محمول ہوگا ضرورت پر یا ان عورتوں کی ذلت پر۔ پھر اس میں غیر ضروری جسم کا کھلنا بھی نہیں۔ واللہ اعلم۔ ہاں مشرکہ عورتوں میں جو لونڈیاں باندیاں ہوں وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ بعض کہتے ہیں غلاموں کا بھی یہی حکم ہے۔ ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ ؓ کے پاس انہیں دینے کے لیے ایک غلام لے کر آئے۔ حضرت فاطمہ اسے دیکھ کر اپنے آپ کو اپنے دو پٹے میں چھپانے لگیں۔ لیکن چونکہ کپڑا چھوٹا تھا، سر ڈھانپتی تھیں تو پیر کھل جاتے تھے اور پیر ڈھانپتی تھیں تو سرکھل جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا بیٹی کیوں تکلیف کرتی ہو میں تو تمہارا والد ہوں اور یہ تمہارا غلام ہے۔ ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ اس غلام کا نام عبداللہ بن مسعدہ تھا۔ یہ فزاری تھے۔ سخت سیاہ فام۔ حضرت فاطمۃ الزھرا ؓ نے انہیں پرورش کر کے آزاد کردیا تھا۔ صفین کی جنگ میں یہ حضرت معاویہ کے ساتھ تھے اور حضرت علی ؓ کے بہت مخالف تھے۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے فرمایا۔ تم میں سے جس کسی کا مکاتب غلام ہو جس سے یہ شرط ہوگئی ہو کہ اتنا روپیہ دے دے تو تو آزاد، پھر اس کے پاس اتنی رقم بھی جمع ہوگئی ہو تو چاہئے کہ اس سے پردہ کرے پھر بیان فرمایا کہ نوکر چاکر کام کاج کرنے والے ان مردوں کے سامنے جو مردانگی نہیں رکھتے عورتوں کی خواہش جنہیں نہیں۔ اس مطلب کے ہی وہ نہیں، ان کا حکم بھی ذی محرم مردوں کا ہے یعنی ان کے سامنے بھی اپنی زینت کے اظہار میں مضائقہ نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سست ہوگئے ہیں عورتوں کے کام کے ہی نہیں۔ لیکن وہ مخنث اور ہیجڑے جو بد زبان اور برائی کے پھیلانے والے ہوتے ہیں ان کا یہ حکم نہیں۔ جیسے کہ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک ایسا ہی شخص حضور ﷺ کے گھر آیا تھا چونکہ اسے اسی آیت کے ماتحت آپ کی ازواج مطہرات نے سمجھا اسے منع نہ کیا تھا۔ اتفاق سے اسی وقت رسول اللہ ﷺ آگئے، اس وقت وہ حضرت ام سلمہ کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ جب طائف کو فتح کرائے گا تو میں تجھے غیلان کی لڑائی دکھاؤں گا کہ آتے ہوئے اس کے پیٹ پر چار شکنیں پڑتی ہیں اور واپس جاتے ہوئے آٹھ نظر آتی ہیں۔ اسے سنتے ہی حضور ﷺ نے فرمایا خبردار ایسے لوگوں کو ہرگز نہ آنے دیا کرو۔ اس سے پردہ کرلو۔ چناچہ اسے مدینے سے نکال دیا گیا۔ بیداء میں یہ رہنے لگا وہاں سے جمعہ کے روز آجاتا اور لوگوں سے کھانے پینے کو کچھ لے جاتا۔ چھوٹے بچوں کے سامنے ہونے کی اجازت ہے جو اب تک عورتوں کے مخصوص اوصاف سے واقف نہ ہوں۔ عورتوں پر ان کی للچائی ہوئی نظریں نہ پڑتی ہوں۔ ہاں جب وہ اس عمر کو پہنچ جائیں کہ ان میں تمیز آجائے۔ عورتوں کی خوبیاں ان کی نگاہوں میں جچنے لگیں، خوبصورت بد صورت کا فرق معلوم کرلیں۔ پھر ان سے بھی پردہ ہے گو وہ پورے جوان نہ بھی ہوئے ہوں۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا لوگو ! عورتوں کے پاس جانے سے بچو پوچھا گیا کہ یارسول اللہ دیور جیٹھ ؟ آپ نے فرمایا وہ تو موت ہے۔ پھر فرمایا کہ عورتیں اپنے پیروں کو زمین پر زور زور سے مار مار کر نہ چلیں جاہلیت میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ زور سے پاؤں زمین پر رکھ کر چلتی تھیں تاکہ پیر کا زیور بجے۔ اسلام نے اس سے منع فرما دیا۔ پس عورت کو ہر ایک ایسی حرکت منع ہے جس سے اس کا کوئی چھپا ہوا سنگھار کھل سکے۔ پس اسے گھر سے عطر اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا بھی ممنوع ہے۔ ترمذی میں ہے کہ ہر آنکھ زانیہ ہے۔ ابو داؤد میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کو ایک عورت خوشبو سے مہکتی ہوئی ملی۔ آپ نے اس سے پوچھا کیا تو مسجد سے آرہی ہے ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا کیا تم نے خوشبو لگائی ہے ؟ اس نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا۔ میں نے اپنے حبیب ابو القاسم ﷺ سے سنا ہے کہ جو عورت اس مسجد میں آنے کے لئے خوشبو لگائے، اس کی نماز نا مقبول ہے جب کہ وہ لوٹ کر جنابت کی طرح غسل نہ کرلے۔ ترمذی میں ہے کہ اپنی زینت کو غیر جگہ ظاہر کرنے والی عورت کی مثال قیامت کے اس اندھیرے جیسی ہے جس میں نور نہ ہو۔ ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں عورتوں کو راستے میں ملے جلے چلتے ہوئے دیکھ کر فرمایا عورتو ! تم ادھر ادھر ہوجاؤ، تمہیں بیچ راہ میں نہ چلنا چاہئے۔ یہ سن کر عورتیں دیوار سے لگ کر چلنے لگیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے دیواروں سے رگڑتے تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے مومنو ! میری بات پر عمل کرو، ان نیک صفتوں کو لے لو، جاہلیت کی بدخصلتوں سے رک جاؤ۔ پوری فلاح اور نجات اور کامیابی اسی کے لئے ہے جو اللہ کا فرمانبردار ہو، اس کے منع کردہ کاموں سے رک جاتا ہو، اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔
وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
📘 نکاح اور شرم وحیا کی تعلیم اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولا نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتاہو، اسے نکاح کرلینا چاہئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے (بخاری مسلم) سنن میں ہے آپ فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی۔ ایامی جمع ہے ایم کی۔ جوہری کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بےبیوی کا مرد اور بےخاوند کی عورت کو " ایم " کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔ پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل وکرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں صدیق اکبر ؓ کا قول ہے تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں امیری کو نکاح میں طلب کرو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو۔ (ترمذی وغیر) اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ نے اس کا نکاح کردیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے۔ یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل وکرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔ ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لا پتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، فالحمد للہ۔ پھر حکم دیا کہ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے جوان لوگو ! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کرلیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کرلے یہی اس کے لئے خصی ہونا ہے۔ یہ آیت مطلق ہے اور سورة نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت (وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ 25) 4۔ النسآء :25) پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈال اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں۔ غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دے دے گا اور آزاد ہوجائے گا۔ اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کردو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کرلے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں، حضرت انس ؓ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ حضرت انس ؓ نے انکار کردیا، دربار فاروقی میں مقدمہ گیا، آپ نے حضرت انس ؓ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ (بخاری) عطاء ؒ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی ؒ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ؒ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر ؒ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے اس کے بعد فرمایا ہے کہ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو۔ یعنی جو رقم ٹھیر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کردو۔ چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہوجائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ حضرت عمر ؓ کے غلام ابو امیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لیکر آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیرالمؤمنین آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔ ابن عمر ؓ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آجائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کردیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ چوتھائی چھوڑ دو۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کا قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زنا کاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آکر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کردیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا۔ پس یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لئے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا۔ پس یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کردیا اور حضرت صدیق اکبر ؓ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ حضرت صدیق ؓ نے دربار محمدی میں یہ بات پہنچائی۔ آپ نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد ﷺ ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔ ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آکر حضور ﷺ سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لئے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرمادیا۔ ایک اور روایت میں ہے زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔ پھر فرماتا ہے جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا۔ اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے۔ بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرآت میں رحیم کے بعد آیت (واثمہن علی من اکرھھن) ہے۔ یعنی اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے۔ مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرمالیا ہے۔ ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا ؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لئے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے تھے، قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں۔ تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بےپرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا ۖ وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ ۚ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَمَنْ يُكْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 نکاح اور شرم وحیا کی تعلیم اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولا نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتاہو، اسے نکاح کرلینا چاہئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے (بخاری مسلم) سنن میں ہے آپ فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی۔ ایامی جمع ہے ایم کی۔ جوہری کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بےبیوی کا مرد اور بےخاوند کی عورت کو " ایم " کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔ پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل وکرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں صدیق اکبر ؓ کا قول ہے تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں امیری کو نکاح میں طلب کرو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو۔ (ترمذی وغیر) اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ نے اس کا نکاح کردیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے۔ یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل وکرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔ ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لا پتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، فالحمد للہ۔ پھر حکم دیا کہ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے جوان لوگو ! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کرلیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کرلے یہی اس کے لئے خصی ہونا ہے۔ یہ آیت مطلق ہے اور سورة نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت (وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ 25) 4۔ النسآء :25) پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈال اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں۔ غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دے دے گا اور آزاد ہوجائے گا۔ اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کردو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کرلے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں، حضرت انس ؓ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ حضرت انس ؓ نے انکار کردیا، دربار فاروقی میں مقدمہ گیا، آپ نے حضرت انس ؓ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ (بخاری) عطاء ؒ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی ؒ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ؒ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر ؒ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے اس کے بعد فرمایا ہے کہ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو۔ یعنی جو رقم ٹھیر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کردو۔ چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہوجائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ حضرت عمر ؓ کے غلام ابو امیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لیکر آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیرالمؤمنین آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔ ابن عمر ؓ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آجائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کردیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ چوتھائی چھوڑ دو۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کا قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زنا کاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آکر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کردیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا۔ پس یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لئے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا۔ پس یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کردیا اور حضرت صدیق اکبر ؓ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ حضرت صدیق ؓ نے دربار محمدی میں یہ بات پہنچائی۔ آپ نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد ﷺ ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔ ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آکر حضور ﷺ سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لئے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرمادیا۔ ایک اور روایت میں ہے زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔ پھر فرماتا ہے جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا۔ اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے۔ بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرآت میں رحیم کے بعد آیت (واثمہن علی من اکرھھن) ہے۔ یعنی اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے۔ مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرمالیا ہے۔ ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا ؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لئے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے تھے، قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں۔ تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بےپرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔
وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ وَمَثَلًا مِنَ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ
📘 نکاح اور شرم وحیا کی تعلیم اس میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام بیان فرما دئیے ہیں اولا نکاح کا۔ علماء کی جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص نکاح کی قدرت رکھتا ہو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت رکھتاہو، اسے نکاح کرلینا چاہئے۔ نکاح نظر کو نیچی رکھنے والا شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے طاقت نہ ہو وہ لازمی طور پر روزے رکھے، یہی اس کے لیے خصی ہونا ہے (بخاری مسلم) سنن میں ہے آپ فرماتے ہیں زیادہ اولاد جن سے ہونے کی امید ہو ان سے نکاح کرو تاکہ نسل بڑھے میں تمہارے ساتھ اور امتوں میں فخر کرنے والا ہوں۔ ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ کچے گرے ہوئے بچے کی گنتی کے ساتھ بھی۔ ایامی جمع ہے ایم کی۔ جوہری کہتے ہیں اہل لغت کے نزدیک بےبیوی کا مرد اور بےخاوند کی عورت کو " ایم " کہتے ہیں، خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو۔ پھر مزید رغبت دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر وہ مسکین بھی ہوں گے تو اللہ انہیں اپنے فضل وکرم سے مالدار بنا دے گا۔ خواہ وہ آزاد ہوں خواہ غلام ہوں صدیق اکبر ؓ کا قول ہے تم نکاح کے بارے میں اللہ کا حکم مانو، وہ تم سے اپناوعدہ پورا کرے گا۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں امیری کو نکاح میں طلب کرو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، تین قسم کے لوگوں کی مدد کا اللہ کے ذمے حق ہے۔ نکاح کرنے والا جو حرام کاری سے بچنے کی نیت سے نکاح کرے۔ وہ لکھت لکھ دینے والا غلام جس کا ارادہ ادائیگی کا ہو، وہ غازی جو اللہ کی راہ میں نکلا ہو۔ (ترمذی وغیر) اسی کی تایئد میں وہ روایت ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کا نکاح ایک عورت سے کرا دیا، جس کے پاس سوائے تہبند کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ لوہے کی انگوٹھی بھی اس کے پاس سے نہیں نکلی تھی اس فقیری اور مفلسی کے باوجود آپ نے اس کا نکاح کردیا اور مہر یہ ٹھہرایا کہ جو قرآن اسے یاد ہے، اپنی بیوی کو یاد کرا دے۔ یہ اسی بنا پر کہ نظریں اللہ کے فضل وکرم پر تھیں کہ وہ مالک انہیں وسعت دے گا اور اتنی روزی پہنچائے گا کہ اسے اور اس کی بیوی کو کفالت ہو۔ ایک حدیث اکثر لوگ وارد کیا کرتے ہیں کہ فقیری میں بھی نکاح کیا کرو اللہ تمہیں غنی کر دے گا میری نگاہ سے تو یہ حدیث نہیں گزری۔ نہ کسی قوی سند سے نہ ضعیف سند سے۔ اور نہ ہمیں ایسی لا پتہ روایت کے اس مضمون میں کوئی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کی اس آیت اور ان احادیث میں یہ چیز موجود ہے، فالحمد للہ۔ پھر حکم دیا کہ جنہیں نکاح کا مقدور نہیں وہ حرام کاری سے بچیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اے جوان لوگو ! تم میں سے جو نکاح کی وسعت رکھتے ہوں، وہ نکاح کرلیں یہ نگاہ نیچی کرنے والا، شرمگاہ کو بچانے والا ہے اور جسے اس کی طاقت نہ ہو وہ اپنے ذمے روزوں کا رکھنا ضروری کرلے یہی اس کے لئے خصی ہونا ہے۔ یہ آیت مطلق ہے اور سورة نساء کی آیت اس سے خاص ہے یعنی یہ فرمان آیت (وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ 25) 4۔ النسآء :25) پس لونڈیوں سے نکاح کرنے سے صبر کرنا بہتر ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں اولاد پر غلامی کا حرف آتا ہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ جو مرد کسی عورت کو دیکھے اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو اسے چاہئے کہ اگر اس کی بیوی موجود ہو تو اس کے پاس چلا جائے ورنہ اللہ کی مخلوق میں نظریں ڈال اور صبر کرے یہاں تک کہ اللہ اسے غنی کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے فرماتا ہے جو غلاموں کے مالک ہیں کہ اگر ان کے غلام ان سے اپنی آزادگی کی بابت کوئی تحریر کرنی چاہیں تو وہ انکار نہ کریں۔ غلام اپنی کمائی سے وہ مال جمع کر کے اپنے آقا کو دے دے گا اور آزاد ہوجائے گا۔ اکثر علماء فرماتے ہیں یہ حکم ضروری نہیں فرض و واجب نہیں بلکہ بطور استحباب کے اور خیر خواہی کے ہے۔ آقا کو اختیار ہے کہ غلام جب کوئی ہنر جانتا ہو اور وہ کہے کہ مجھ سے اسی قدر روپیہ لے لو اور مجھے آزاد کردو تو اسے اختیار ہے خواہ اس قسم کا غلام اس سے اپنی آزادگی کی بابت تحریر چاہے وہ اس کی بات کو قبول کرلے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں، حضرت انس ؓ کا غلام سیرین نے جو مالدار تھا ان سے درخواست کی کہ مجھ سے میری آزادی کی کتابت کرلو۔ حضرت انس ؓ نے انکار کردیا، دربار فاروقی میں مقدمہ گیا، آپ نے حضرت انس ؓ کو حکم دیا اور ان کے نہ ماننے پر کوڑے لگوائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ انہوں نے تحریر لکھوا دی۔ (بخاری) عطاء ؒ سے دونوں قول مروی ہیں۔ امام شافعی ؒ کا قول یہی تھا لیکن نیا قول یہ ہے کہ واجب نہیں۔ کیونکہ حدیث میں ہے مسلمان کا مال بغیر اس کی دلی خوشی کے حلال نہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں یہ واجب نہیں۔ میں نے نہیں سنا کہ کسی امام نے کسی آقا کو مجبور کیا ہو کہ وہ اپنے غلام کی آزادگی کی تحریر کر دے، اللہ کا یہ حکم بطور اجازت کے ہے نہ کہ بطور وجوب کے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ؒ وغیرہ کا ہے۔ امام ابن جریر ؒ کے نزدیک مختار قول وجوب کا ہے۔ خیر سے مراد امانت داری، سچائی، مال اور مال کے حاصل کرنے پر قدرت وغیرہ ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اگر تم اپنے غلاموں میں جو تم سے مکاتب کرنا چاہیں، مال کے کمانے کی صلاحیت دیکھو تو ان کی اس خواہش کو پوری کرو ورنہ نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالیں گے یعنی ان سے سوال کریں گے اور رقم پوری کرنا چاہیں گے اس کے بعد فرمایا ہے کہ انہیں اپنے مال میں سے کچھ دو۔ یعنی جو رقم ٹھیر چکی ہے، اس میں سے کچھ معاف کردو۔ چوتھائی یا تہائی یا آدھا یا کچھ حصہ۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال زکوٰۃ سے ان کی مدد کرو آقا بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے مال زکوٰۃ دیں تاکہ وہ مقرر رقم پوری کر کے آزاد ہوجائے۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ جن تین قسم کے لوگوں کی مدد اللہ پر برحق ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے۔ حضرت عمر ؓ کے غلام ابو امیہ نے مکاتبہ کیا تھا جب وہ اپنی رقم کی پہلی قسط لیکر آیا تو آپ نے فرمایا جاؤ اپنی اس رقم میں دوسروں سے بھی مدد طلب کرو اس نے جواب دیا کہ امیرالمؤمنین آپ آخری قسط تک تو مجھے ہی محنت کرنے دیجئے۔ فرمایا نہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ کے اس فرمان کو ہم چھوڑ نہ بیٹھیں کہ انہیں اللہ کا وہ مال دو جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ پس یہ پہلی قسطیں تھیں جو اسلام میں ادا کی گئیں۔ ابن عمر ؓ کی عادت تھی کہ شروع شروع میں آپ نہ کچھ دیتے تھے نہ معاف فرماتے تھے کیونکہ خیال ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو آخر میں یہ رقم پوری نہ کرسکے تو میرا دیا ہوا مجھے ہی واپس آجائے۔ ہاں آخری قسطیں ہوتیں تو جو چاہتے اپنی طرف سے معاف کردیتے۔ ایک غریب مرفوع حدیث میں ہے کہ چوتھائی چھوڑ دو۔ لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کا قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اپنی لونڈیوں سے زبردستی بدکاریاں نہ کراؤ۔ جاہلیت کے بدترین طریقوں میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ اپنی لونڈیوں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ زنا کاری کرائیں اور وہ رقم اپنے مالکوں کو دیں۔ اسلام نے آکر اس بد رسم کو توڑا۔ منقول ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کے بارے میں اتری ہے، وہ ایسا ہی کرتا تھا تاکہ روپیہ بھی ملے اور لونڈی زادوں سے شان ریاست بھی بڑھے۔ اس کی لونڈی کا نام معاذہ تھا۔ اور روایت میں ہے اس کا نام مسیکہ تھا۔ اور یہ بدکاری سے انکار کرتی تھی۔ جاہلیت میں تو یہ کام چلتا رہا یہاں تک اسے ناجائز اولاد بھی ہوئی لیکن اسلام لانے کے بعد اس نے انکار کردیا، اس پر اس منافق نے اسے زدوکوب کیا۔ پس یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ بدر کا ایک قریشی قیدی عبداللہ بن ابی کے پاس تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کی لونڈی سے ملے، لونڈی بوجہ اسلام کے حرام کاری سے بچتی تھی۔ عبداللہ کی خواہش تھی کہ یہ اس قریشی سے ملے، اس لئے اسے مجبور کرتا تھا اور مارتا پیٹتا تھا۔ پس یہ آیت اتری۔ اور روایت میں ہے کہ یہ سردار منافقین اپنی اس لونڈی کو اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے بھیج دیا کرتا تھا۔ اسلام کے بعد اس لونڈی سے جب یہ ارادہ کیا گیا تو اس نے انکار کردیا اور حضرت صدیق اکبر ؓ سے اپنی یہ مصیبت بیان کی۔ حضرت صدیق ؓ نے دربار محمدی میں یہ بات پہنچائی۔ آپ نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو اس کے ہاں نہ بھیجو۔ اس نے لوگوں میں غل مچانا شروع کیا کہ دیکھو محمد ﷺ ہماری لونڈیوں کو چھین لیتا ہے اس پر یہ آسمانی حکم اترا۔ ایک روایت میں ہے کہ مسیکہ اور معاذ دو لونڈیاں دو شخصوں کی تھیں، جو ان سے بدکاری کراتے تھے۔ اسلام کے بعد مسیکہ اور اس کی ماں نے آکر حضور ﷺ سے شکایت کی، اس پر یہ آیت اتری۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ لونڈیاں پاک دامنی کا ارادہ کریں اس سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اگر ان کا ارادہ یہ نہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں کیونکہ اس وقت واقعہ یہی تھا اس لئے یوں فرمایا گیا۔ پس اکثریت اور غلبہ کے طور پر یہ فرمایا گیا ہے کوئی قید اور شرط نہیں ہے۔ اس سے غرض ان کی یہ تھی کہ مال حاصل ہو، اولادیں ہوں جو لونڈیاں غلام بنیں۔ حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگانے کی اجرت، بدکاری کی اجرت، کاہن کی اجرت سے منع فرمادیا۔ ایک اور روایت میں ہے زنا کی خرچی اور پچھنے لگانے والی کی قیمت اور کتے کی قیمت خبیث ہے۔ پھر فرماتا ہے جو شخص ان لونڈیوں پر جبر کرے تو انہیں تو اللہ بوجہ ان کی مجبوری بخش دے گا اور ان مالکوں کو جنہوں نے ان پر دباؤ زور زبردستی ڈالی تھی انہیں پکڑ لے گا۔ اس صورت میں یہی گنہگار رہیں گے۔ بلکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرآت میں رحیم کے بعد آیت (واثمہن علی من اکرھھن) ہے۔ یعنی اس حالت میں جبر اور زبردستی کرنے والوں پر گناہ ہے۔ مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا سے، بھول سے اور جن کاموں پر وہ مجبور کر دئیے جائیں، ان پر زبردستی کی جائے ان سے درگزر فرمالیا ہے۔ ان احکام کو تفصیل وار بیان کرنے کے بعد بیان ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے کلام قرآن کریم کی یہ روشن و واضح آیات تمہارے سامنے بیان فرما دیں۔ اگلے لوگوں کے واقعات بھی تمہارے سامنے آچکے کہ ان کی مخالفت حق کا انجام کیا اور کیسا ہوا ؟ وہ ایک افسانہ بنا دئے گئے اور آنے والوں کے لئے عبرتناک واقعہ بنا دیئے گئے کہ متقی ان سے عبرت حاصل کریں اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے تھے، قرآن میں تمہارے اختلاف کے فیصلے موجود ہیں۔ تم سے پہلے زمانہ کے لوگوں کی خبریں موجود ہیں۔ بعد میں ہونے والے امور کے احوال کا بیان ہے۔ یہ مفصل ہے بکواس نہیں اسے جو بھی بےپرواہی سے چھوڑے گا، اسے اللہ برباد کر دے گا اور جو اس کے سوا دوسری کتاب میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔
۞ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
📘 مدبر کائنات نور ہی نور ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ اللہ ہادی ہے، آسمان والوں اور زمین والوں کا۔ وہی ان دونوں میں سورج چاند اور ستاروں کی تدبیر کرتا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں اللہ کا نور ہدایت ہے۔ ابن جریر اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس کے نور کی مثال یعنی اس کا نور رکھنے والے مومن کی مثال جن کے سینے میں ایمان و قرآن ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اولا اپنے نور کا ذکر کیا پھر مومن کی نورانیت کا کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے کے نور کی مثال بلکہ حضرت ابی اس کو اس طرح پڑھتے تھے آیت (مثل نور من امن بہ) ابن عباس کا اس طرح پڑھنا بھی مروی ہے آیت (کذالک نور من امن باللہ) بعض کی قرأت میں اللہ نور ہے یعنی اس نے آسمان و زمین کو نورانی بنادیا ہے۔ سدی ؒ فرماتے ہیں اسی کے نور سے آسمان و زمین روشن ہیں۔ سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ جس دن اہل طائف نے رسول اللہ ﷺ کو بہت ایذاء پہنچائی تھی آپ نے اپنی دعا میں فرمایا تھا دعا (اعوذ بنور وجہک الذی اشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ امر الدنیا والاخرۃ ان یحل بی غضبک او ینزل بی سخطک لک العتبی حتی ترضی ولا حول ولا قوۃ الا باللہ) اس دعا میں ہے کہ تیرے چہرے کے اس نور کی پناہ میں آرہا ہوں جو اندھیروں کو روشن کردیتا ہے اور جس پر دنیا آخرت کی صلاحیت موقوف ہے الخ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے حضور ﷺ رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تب یہ فرماتے کہ " اللہ تیرے ہی لئے ہے سب تعریف سزاوار ہے تو آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے " ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں تمہارے رب کے ہاں رات اور دن نہیں، اس کے چہرے کے نور کی وجہ سے اس کے عرش کا نور ہے۔ نورہ کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک تو لفظ اللہ ہی ہے یعنی اللہ کی ہدایت جو مومن کے دل میں ہے اس کی مثال یہ ہے اور بعض کے نزدیک مومن ہے جس پر سیاق کلام کی دلالت ہے یعنی مومن کے دل کے نور کی مثال مثل طاق کے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ایک شخص ہے جو اپنے رب کی دلیل اور ساتھ ہی شہادت لئے ہوئے ہے پس مومن کے دل کی صفائی کو بلور کے فانوس سے مشابہت دی اور پھر قرآن اور شریعت سے جو مدد اسے ملتی رہتی ہے اس کی زیتون کے اس تیل سے تشبیہ دی جو خود صاف شفاف چمکیلا اور روشن ہے۔ پس طاق اور طاق میں چراغ اور وہ بھی روشن چراغ۔ یہودیوں نے اعتراضا کہا تھا کہ اللہ کا نور آسمانوں کے پار کیسے ہوتا ہے ؟ تو مثال دے کر سمجھایا گیا کہ جیسے فانوس کے شیشے سے روشنی۔ پس فرمایا کہ اللہ آسمان زمین کا نور ہے۔ مشکۃ کے معنی گھر کے طاق کے ہیں یہ مثال اللہ نے اپنی فرمانبرداری کی دی ہے اور اپنی اطاعت کو نور فرمایا ہے پھر اس کے اور بھی بہت سے نام ہیں۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں۔ حبشہ کی لغت میں اسے طاق کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ایسا طاق جس میں کوئی اور سوراخ وغیرہ نہ ہو۔ فرماتے ہیں اسی میں قندیل رکھی جاتی ہے۔ پہلا قول زیادہ قوی ہے یعنی قندیل رکھنے کی جگہ۔ چناچہ قرآن میں بھی ہے کہ اس میں چراغ ہے۔ پس مصباح سے مراد نور ہے یعنی قرآن اور ایمان جو مسلمان کے دل میں ہوتا ہے۔ سدی ؒ کہتے ہیں چراغ مراد ہے پھر فرمایا یہ روشنی جس میں بہت ہی خوبصورتی ہے، یہ صاف قندیل میں ہے، یہ مومن کے دل کی مثال ہے۔ پھر وہ قندیل ایسی ہے جیسے موتی جیسا چمکیلا روشن ستارہ۔ اس کی دوسری قرأت درءی اور دراءی بھی ہے۔ یہ ماخوذ ہے در سے جس کے معنی دفع کے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ٹوٹتا ہے اس وقت وہ بہت روشن ہوتا ہے اور جو ستارے غیر معروف ہیں انہیں بھی عرب دراری کہتے ہیں۔ مطلب چمکدار اور روشن ستارہ ہے جو خوب ظاہر ہو اور بڑا ہو۔ پھر اس چراغ میں تیل بھی مبارک درخت زیتون کا ہو۔ زیتونتہ کا لفظ بدل ہے یا عطف بیان ہے۔ پھر وہ زیتون کا درخت بھی نہ مشرقی ہے کہ اول دن سے اس پر دھوپ آجائے۔ اور نہ مغربی ہے کہ غروب سورج سے پہلے اس پر سے سایہ ہٹ جائے بلکہ وسط جگہ میں ہے۔ صبح سے شام تک سورج کی صاف روشنی میں رہے۔ پس اس کا تیل بھی بہت صاف، چمکدار اور معتدل ہوتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ درخت میدان میں ہے کوئی درخت، پہاڑ، غار یا کوئی اور چیز اسے چھپائے ہوئے نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس درخت کا تیل بہت صاف ہوتا ہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں کہ صبح سے شام تک کھلی ہوا اور صاف دھوپ اسے پہنچتی رہتی ہے کیونکہ وہ کھلے میدان میں درمیان کی جگہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کا تیل بہت پاک صاف اور روشن چمک دار ہوتا ہے اور اسے نہ مشرقی کہہ سکتے ہیں نہ مغربی۔ ایسا درخت بہت سرسبز اور کھلا ہوتا ہے پس جیسے یہ درخت آفتوں سے بچا ہوا ہوتا ہے، اسی طرح مومن فتنوں سے محفوظ ہوتا ہے اگر کسی فتنے کی آزمائش میں پڑتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے۔ پس اسے چار صفتیں قدرت دے دیتی ہے 001 بات میں سچ 002 حکم میں عدل 003 بلا پر صبر 004 نعمت پر شکر پھر وہ اور تمام انسانوں میں ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی زندہ جو مردوں میں ہو۔ حسن بصری ؒ فرماتے ہیں اگر یہ درخت دنیا میں زمین پر ہوتا تو ضرور تھا کہ مشرقی ہوتا یا مغربی لیکن یہ تو نور الہٰی کی مثال ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے نیک مرد کی جو نہ یہودی ہے نہ نصرانی۔ ان سب اقول میں بہترین قول پہلا ہے کہ وہ درمیانہ زمین میں ہے کہ صبح سے شام تک بےروک ہوا اور دھوپ پہنچتی ہے کیونکہ چاروں طرف سے کوئی آڑ نہیں تو لامحالہ ایسے درخت کا تیل بہت زیادہ صاف ہوگا اور لطیف اور چمکدار ہوگا۔ اسی لئے فرمایا کہ خود وہ تیل اتنا لطیف ہے کہ گویا بغیر جلائے روشنی دے۔ نور پر نور ہے۔ یعنی ایمان کا نور پھر اس پر نیک اعمال کا نور۔ خود زیتون کا تیل روشن پھر وہ جل رہا ہے اور روشنی دے رہا ہے پس اسے پانچ نور حاصل ہوجاتے ہیں اس کا کلام نور ہے اس کا عمل نور ہے۔ اس کا آنا نور اس کا جانا نور ہے اور اس کا آخری ٹھکانا نور ہے یعنی جنت۔ کعب ؒ سے مروی ہے کہ یہ مثال ہے رسول اللہ ﷺ کی کہ آپ کی نبوت اس قدر ظاہر ہے کہ گو آپ زبانی نہ بھی فرمائیں تاہم لوگوں پر ظاہر ہوجائے۔ جیسے یہ زیتون کہ بغیر روشن کئے روشن ہے۔ تو دونوں یہاں جمع ہیں ایک زیتون کا ایک آگ کا۔ ان کے مجموعے سے روشنی حاصل ہوتی ہوئی۔ اسی طرح نور قرآن نور ایمان جمع ہوجاتے ہیں اور مومن کا دل روشن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے پسند فرمائے، اپنی ہدایت کی راہ لگا دیتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو ایک اندھیرے میں پیدا کیا پھر اس دن ان پر اپنا نور ڈالا جیسے وہ نور پہنچا اس نے راہ پائی اور جو محروم رہا وہ گمراہ ہوا۔ اس لئے کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم کے مطابق چل کر خشک ہوگیا۔ (مسند وغیرہ) اللہ تعالیٰ نے مومن کے دل کی ہدایت کی مثال نور سے دے کر پھر فرمایا کہ اللہ یہ مثالیں لوگوں کے سمجھنے لگ لئے بیان فرما رہا ہے، اسکے علم میں بھی کوئی اس جیسا نہیں، وہ ہدایت و ضلالت کے ہر مستحق کو بخوبی جانتا ہے۔ مسند کی ایک حدیث میں ہے دلوں کی چار قسمیں ہیں ایک تو صاف اور روشن، ایک غلاف دار اور بندھا ہوا، ایک یلٹا اور اور اوندھا، ایک پھرا ہوا الٹا سیدھا۔ پہلا دل تو مومن کا دل ہے جو نورانی ہوتا ہے۔ اور دوسرا دل کافر کا دل ہے اور تیسرا دل منافق کا دل ہے کہ اس نے جانا پھر انجان ہوگیا۔ پہچان لیا پھر منکر ہوگیا۔ چوتھا دل وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی ہے۔ ایمان کی مثال تو اس میں ترکاری کے درخت کی مانند ہے کہ اچھا پانی اسے بڑھا دیتا ہے اور اس میں نفاق کی مثال دمثل پھوڑے کے ہے کہ خون پیپ اسے ابھاردیتا ہے۔ اب ان میں سے جو غالب آگیا وہ اس دل پر چھا جاتا ہے۔
فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
📘 مومن کے دل سے مماثلت مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بیہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ان ترفع کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ کعب ؒ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لئے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لئے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے (تفسیر ابن ابی حاتم) مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے (بخاری ومسلم) فرماتے ہیں نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لئے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے۔ (ابن ماجہ) حضور ﷺ نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں (ترمذی شریف) حضرت عمر ؓ کا فرمان ہے لوگوں کے لئے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔ (بخاری شریف) ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش ونگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے (ابن ماجہ) اس کی سند ضعیف ہے۔ آپ فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند وبالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ابن عباس راوی حدیث فرماتے ہیں کہ تم یقینا مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کروگے جیسے کہ یہود و نصاری نے کیا (ابو داؤد) فرماتے ہیں قیامت قارئم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخروغرور نہ کرنے لگیں (ابوداؤد وغیرہ)ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ نے بددعا کی کہ اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لئے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لئے ہیں (مسلم) حضور ﷺ نے مسجدوں میں خریدوفروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرمادیا ہے (احمد وغیرہ) فرمان ہے کہ جسے مسجد میں خریدو فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گم شدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے۔ (ترمذی) بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے (ابن ماجہ) فرمان ہے کہ ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خیریدوفروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو (ابن ماجہ) اس کی سند ضعیف ہے۔ بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزر گاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لئے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا حکم ہے کہ تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے۔ کچا گوشت لانا اس لئے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کردی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لئے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کردے۔ بازار بنانا اس لئے منع ہے کہ وہ خریدوفروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کردیا تھا کہ مسجدیں اس لئے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا۔ دوسری حدیث میں ہے اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو اس لئے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔ چناچہ فاروق اعظم ؓ جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع وشرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتی مجلس منعقد کرنے سے اس لئے منع کردیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لئے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں " میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو ؟ یا پوچھا کہ " تم کہاں کے ہو "؟ انہوں نے کہ " ہم طائف کے رہنے والے ہیں "۔ آپ نے فرمایا " اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو " ؟ (بخاری) ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم ؓ نے فرمایا تھا۔ " جانتا بھی ہے تو کہاں ہے "۔ (نسائی) اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چناچہ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لئے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے "۔ دار قطنی میں ہے مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی۔ سنن میں ہے اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنادو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا۔ یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مسجد میں آتے یہ کہتے دعا (اعوذ باللہ العظیم وبوجہہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم) فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہوگیا۔ مسلم میں حضور ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے (اللہم افتح لی ابو ابک رحمتک) اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی ﷺ پر سلام بھیجے پھر دعا (اللہم افتح لی ابو اب رحمتک) پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیج کر دعا (اللم اعصمنی من الشیطان الرجیم) پڑھے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ جب آپ مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا (اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب رحمتک) پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا (اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب فضلک) پڑھتے۔ اس حدیث کی سند متصل نہیں۔ الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو۔ اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔ صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں آصال جمع ہے اصیل کی، شام کے وقت کو اصیل کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جہاں کہیں قرآن میں تسبیح کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔ ایک قرأت میں یسبح ہے اور اس قرأت پر آصال پر پورا وقف ہے اور رجال سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لئے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں ؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور یسبح کی قرأت پر رجال فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہئے۔ کہتے ہیں رجال اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ 23ۙ) 33۔ الأحزاب :23) ، یعنی مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا۔ ہاں عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو حمید ساعدی ؓ کی بیوی صاحبہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا حضور ﷺ میں آپ کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کرلیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں۔ ؓ۔ ہاں البتہ عورتوں کے لئے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو (بخاری مسلم وغیرہ) ابو داؤد میں ہے کہ عورتوں کے لئے ان کے گھر افضل ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ وہ خوشبو استعمال کر کے نہ نکلیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آپ نے عورتوں سے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے "۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ ﷺ ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔ (بخاری مسلم)ایسے لوگ جنہیں خریدو فروخت یاد الہٰی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے ایمان والو، مال واولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے۔ سورة جمعہ میں ہے کہ جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو۔ مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کرسکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لئے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔ ابن عمر ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ سالم بن عبداللہ نماز کے لئے جا رہے تھے۔ دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لئے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔ اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لئے کہ دلوں میں خوف الہٰی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بیحد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لئے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج وغم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت وآرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے۔ جیسے فرمان ہے اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا۔ اور آیت میں ہے نیکی دس گناہ کردی جاتی ہے۔ اور آیت میں ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کر کے دے گا۔ فرمان ہے آیت (يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ02601) 2۔ البقرة :261) وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لئے چاہے۔ یہاں فرمان ہے وہ جسے چاہے بےحساب دیتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لئے آپ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ نے یہی آیت یخافون سے پڑھی اور پی لیا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے ؟ پھر فرمائے گا وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا پس وہ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الہٰی یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہوجائے گا۔
رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ
📘 مومن کے دل سے مماثلت مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بیہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ان ترفع کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ کعب ؒ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لئے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لئے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے (تفسیر ابن ابی حاتم) مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے (بخاری ومسلم) فرماتے ہیں نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لئے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے۔ (ابن ماجہ) حضور ﷺ نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں (ترمذی شریف) حضرت عمر ؓ کا فرمان ہے لوگوں کے لئے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔ (بخاری شریف) ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش ونگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے (ابن ماجہ) اس کی سند ضعیف ہے۔ آپ فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند وبالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ابن عباس راوی حدیث فرماتے ہیں کہ تم یقینا مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کروگے جیسے کہ یہود و نصاری نے کیا (ابو داؤد) فرماتے ہیں قیامت قارئم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخروغرور نہ کرنے لگیں (ابوداؤد وغیرہ)ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ نے بددعا کی کہ اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لئے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لئے ہیں (مسلم) حضور ﷺ نے مسجدوں میں خریدوفروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرمادیا ہے (احمد وغیرہ) فرمان ہے کہ جسے مسجد میں خریدو فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گم شدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے۔ (ترمذی) بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے (ابن ماجہ) فرمان ہے کہ ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خیریدوفروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو (ابن ماجہ) اس کی سند ضعیف ہے۔ بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزر گاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لئے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا حکم ہے کہ تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے۔ کچا گوشت لانا اس لئے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کردی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لئے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کردے۔ بازار بنانا اس لئے منع ہے کہ وہ خریدوفروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کردیا تھا کہ مسجدیں اس لئے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا۔ دوسری حدیث میں ہے اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو اس لئے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔ چناچہ فاروق اعظم ؓ جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع وشرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتی مجلس منعقد کرنے سے اس لئے منع کردیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لئے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں " میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو ؟ یا پوچھا کہ " تم کہاں کے ہو "؟ انہوں نے کہ " ہم طائف کے رہنے والے ہیں "۔ آپ نے فرمایا " اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو " ؟ (بخاری) ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم ؓ نے فرمایا تھا۔ " جانتا بھی ہے تو کہاں ہے "۔ (نسائی) اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چناچہ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لئے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے "۔ دار قطنی میں ہے مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی۔ سنن میں ہے اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنادو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا۔ یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مسجد میں آتے یہ کہتے دعا (اعوذ باللہ العظیم وبوجہہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم) فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہوگیا۔ مسلم میں حضور ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے (اللہم افتح لی ابو ابک رحمتک) اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی ﷺ پر سلام بھیجے پھر دعا (اللہم افتح لی ابو اب رحمتک) پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیج کر دعا (اللم اعصمنی من الشیطان الرجیم) پڑھے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ جب آپ مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا (اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب رحمتک) پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا (اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب فضلک) پڑھتے۔ اس حدیث کی سند متصل نہیں۔ الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو۔ اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔ صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں آصال جمع ہے اصیل کی، شام کے وقت کو اصیل کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جہاں کہیں قرآن میں تسبیح کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔ ایک قرأت میں یسبح ہے اور اس قرأت پر آصال پر پورا وقف ہے اور رجال سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لئے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں ؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور یسبح کی قرأت پر رجال فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہئے۔ کہتے ہیں رجال اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ 23ۙ) 33۔ الأحزاب :23) ، یعنی مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا۔ ہاں عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو حمید ساعدی ؓ کی بیوی صاحبہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا حضور ﷺ میں آپ کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کرلیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں۔ ؓ۔ ہاں البتہ عورتوں کے لئے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو (بخاری مسلم وغیرہ) ابو داؤد میں ہے کہ عورتوں کے لئے ان کے گھر افضل ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ وہ خوشبو استعمال کر کے نہ نکلیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آپ نے عورتوں سے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے "۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ ﷺ ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔ (بخاری مسلم)ایسے لوگ جنہیں خریدو فروخت یاد الہٰی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے ایمان والو، مال واولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے۔ سورة جمعہ میں ہے کہ جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو۔ مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کرسکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لئے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔ ابن عمر ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ سالم بن عبداللہ نماز کے لئے جا رہے تھے۔ دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لئے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔ اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لئے کہ دلوں میں خوف الہٰی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بیحد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لئے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج وغم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت وآرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے۔ جیسے فرمان ہے اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا۔ اور آیت میں ہے نیکی دس گناہ کردی جاتی ہے۔ اور آیت میں ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کر کے دے گا۔ فرمان ہے آیت (يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ02601) 2۔ البقرة :261) وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لئے چاہے۔ یہاں فرمان ہے وہ جسے چاہے بےحساب دیتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لئے آپ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ نے یہی آیت یخافون سے پڑھی اور پی لیا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے ؟ پھر فرمائے گا وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا پس وہ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الہٰی یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہوجائے گا۔
لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
📘 مومن کے دل سے مماثلت مومن کے دل کی اور اس میں جو ہدایت وعلم ہے اس کی مثال اوپر والی آیت میں اس روشن چراغ سے دی تھی جو شیشہ کی ہانڈی میں ہو اور صاف زیتون کے روشن تیل سے جل رہا ہے۔ اس لیئے یہاں اس کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کی توحید بیان کی جاتی ہے۔ جن کی نگہبانی اور پاک صاف رکھنے کا اور بیہودہ اقوال و افعال سے بچانے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ان ترفع کے معنی اس میں بیہودگی نہ کرنے کے ہیں۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس سے یہی مسجدیں ہیں جن کی تعمیر، آبادی، ادب اور پاکیزگی کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ کعب ؒ کہا کرتے تھے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے کہ زمین پر مسجدیں میرا گھر ہیں، جو بھی باوضو میرے گھر پر میری ملاقات کے لئے آئے گا، میں اس کی عزت کرونگا ہر اس شخص پر جس سے ملنے کے لئے کوئی اس کے گھر آئے حق ہے کہ وہ اس کی تکریم کرے (تفسیر ابن ابی حاتم) مسجدوں کے بنانے اور ان کا ادب احترام کرنے انہیں خوشبودار اور پاک صاف رکھنے کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں جنہیں بحمد اللہ میں نے ایک مستقل کتاب میں لکھا ہے یہاں بھی ان میں سے تھوڑی بہت وارد کرتا ہوں، اللہ مدد کرے اسی پر بھروسہ اور توکل ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اسی جیسا گھر جنت میں بناتا ہے (بخاری ومسلم) فرماتے ہیں نام اللہ کے ذکر کئے جانے کے لئے جو شخص مسجد بنائے اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے۔ (ابن ماجہ) حضور ﷺ نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور پاک صاف اور خوشبودار رکھی جائیں (ترمذی شریف) حضرت عمر ؓ کا فرمان ہے لوگوں کے لئے مسجدیں بناؤ جہاں انہیں جگہ ملے لیکن سرخ یا زردرنگ سے بچو تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔ (بخاری شریف) ایک ضعیف سند سے مروی ہے کہ جب تک کسی قوم نے اپنی مسجدوں کو ٹیپ ٹاپ والا، نقش ونگار اور رنگ روغن والا نہ بنایا ان کے اعلام برے نہیں ہوئے (ابن ماجہ) اس کی سند ضعیف ہے۔ آپ فرماتے ہیں مجھے مسجدوں کو بلند وبالا اور پختہ بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ ابن عباس راوی حدیث فرماتے ہیں کہ تم یقینا مسجدوں کو مزین، منقش اور رنگ دار کروگے جیسے کہ یہود و نصاری نے کیا (ابو داؤد) فرماتے ہیں قیامت قارئم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے پر فخروغرور نہ کرنے لگیں (ابوداؤد وغیرہ)ایک شخص مسجد میں اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور کہنے لگا ہے کوئی جو مجھے میرے سرخ رنگ کے اونٹ کا پتہ دے۔ آپ نے بددعا کی کہ اللہ کرے تجھے نہ ملے۔ مسجدیں تو جس مطلب کے لئے بنائی گئی ہیں، اسی کام کے لئے ہیں (مسلم) حضور ﷺ نے مسجدوں میں خریدوفروخت، تجارت کرنے سے اور وہاں اشعار کے گائے جانے سے منع فرمادیا ہے (احمد وغیرہ) فرمان ہے کہ جسے مسجد میں خریدو فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے اور جب کسی کو گم شدہ جانور مسجد میں تلاش کرتا ہوا پاؤ تو کہو کہ اللہ کرے نہ ملے۔ (ترمذی) بہت سی باتیں مسجد کے لائق نہیں، مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے، نہ تیر پھیلائے جائیں نہ کچا گوشت لایا جائے، نہ یہاں حد ماری جائے، نہ یہاں باتیں اور قصے کہے جائیں نہ اسے بازار بنایا جائے (ابن ماجہ) فرمان ہے کہ ہماری مسجدوں سے اپنے بچوں کو، دیوانوں کو، خیریدوفروخت کو، لڑائی جھگڑے کو اور بلند آواز سے بولنے کو اور حد جاری کرنے کو اور تلواروں کے ننگی کرنے کو روکو۔ ان کے دروازوں پر وضو وغیرہ کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن انہیں خوشبو سے مہکا دو (ابن ماجہ) اس کی سند ضعیف ہے۔ بعض علماء نے بلا ضرورت کے مسجدوں کو گزر گاہ بنانا مکروہ کہا ہے۔ ایک اثر میں ہے کہ جو شخص بغیر نماز پڑھے مسجد سے گزر جائے، فرشتے اس پر تعجب کرتے ہیں۔ ہتھیاروں اور تیروں سے جو منع فرمایا یہ اس لئے کہ مسلمان وہاں بکثرت جمع ہوتے ہیں ایسان نہ ہو کہ کسی کے لگ جائے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا حکم ہے کہ تیر یا نیزہ لے کر گزرے تو اسے چاہئے کہ اس کا پھل اپنے ہاتھ میں رکھے تاکہ کسی کو ایذاء نہ پہنچے۔ کچا گوشت لانا اس لئے منع ہے کہ خوف ہے اس میں سے خون نہ ٹپکے جیسے کہ حائضہ عورت کو بھی اسی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت کردی گئی ہے۔ مسجد میں حد لگانا اور قصاص لینا اس لئے منع کیا گیا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مسجد کو نجس نہ کردے۔ بازار بنانا اس لئے منع ہے کہ وہ خریدوفروخت کی جگہ ہے اور مسجد میں یہ دونوں باتیں منع ہیں۔ کیونکہ مسجدیں ذکر اللہ اور نماز کی جگہ ہیں۔ جیسے کہ حضور ﷺ نے اس اعرابی سے فرمایا تھا، جس نے مسجد کے گوشے میں پیشاب کردیا تھا کہ مسجدیں اس لئے نہیں بنیں، بلکہ وہ اللہ کے ذکر اور نماز کی جگہ ہے۔ پھر اس کے پیشاب پر ایک بڑا ڈول پانی کا بہانے کا حکم دیا۔ دوسری حدیث میں ہے اپنے بچوں کو اپنی مسجدوں سے روکو اس لئے کہ کھیل کود ہی ان کا کام ہے اور مسجد میں یہ مناسب نہیں۔ چناچہ فاروق اعظم ؓ جب کسی بچے کو مسجد میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتے تو اسے کوڑے سے پیٹتے اور عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں کسی کو نہ رہنے دیتے۔ دیوانوں کو بھی مسجدوں سے روکا گیا کیونکہ وہ بےعقل ہوتے ہیں اور لوگوں کے مذاق کا ذریعہ ہوتے ہیں اور مسجد اس تماشے کے لائق نہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ ان کی نجاست وغیرہ کا خوف ہے۔ بیع وشرا سے روکا گیا کیونکہ وہ ذکر اللہ سے مانع ہے۔ جھگڑوں کی مصالحتی مجلس منعقد کرنے سے اس لئے منع کردیا گیا کہ اس میں آوازیں بلند ہوتی ہیں ایسے الفاظ بھی نکل جاتے ہیں جو آداب مسجد کے خلاف ہیں۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ فیصلے مسجد میں نہ کئے جائیں اسی لئے اس جملے کے بعد بلند آواز سے منع فرمایا۔ سائب بن یزید کندی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں " میں مسجد میں کھڑا تھا کہ اچانک مجھ پر کسی نے کنکر پھینکا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ تھے مجھ سے فرمانے لگے، جاؤ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لاؤ، جب میں آپ کے پاس انہیں لایا تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو ؟ یا پوچھا کہ " تم کہاں کے ہو "؟ انہوں نے کہ " ہم طائف کے رہنے والے ہیں "۔ آپ نے فرمایا " اگر تم یہاں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا تم مسجد نبوی میں اونچی اونچی آوازوں سے بول رہے ہو " ؟ (بخاری) ایک شخص کی اونچی آواز سن کر جناب فاروق اعظم ؓ نے فرمایا تھا۔ " جانتا بھی ہے تو کہاں ہے "۔ (نسائی) اور مسجد کے دروازوں پر وضو کرنے والے اور پاکیزگی حاصل کرنے کی جگہ بنانے کا حکم دیا۔ مسجد نبوی کے قریب ہی کنویں تھے جن میں سے پانی کھینچ کر پیتے تھے اور وضو اور پاکیزگی حصل کرتے تھے۔ اور جمعہ کے دن اسے خوشبودار کرنے کا حکم ہوا ہے کیونکہ اس دن لوگ بکثر جمع ہوتے ہیں۔ چناچہ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ہر جمعہ کے دن مسجد نبوی کو مہکایا کرتے تھے۔ بخاری ومسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جماعت کی نماز انسان کی اکیلی نماز پر جو گھر میں یا دکان پر پڑھی جائے، پچیس درجے زیادہ ثواب رکھتی ہے، یہ اس لئے کہ جب وہ اچھی طرح سے وضو کرکے صرف نماز کے ارادے سے چلتا ہے تو ہر ایک قدم کے اٹھانے پر اس کا ایک درجہ بڑھتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے اور جب نماز پڑھ چکتا ہے پھر جت تک وہ اپنی نماز کی جگہ رہے، فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرما اور اس پر رحم کر۔ اور جب تک جماعت کے انتظار میں رہے نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے "۔ دار قطنی میں ہے مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا نہیں ہوتی۔ سنن میں ہے اندھیروں میں مسجد جانے والوں کو خوشخبری سنادو کہ انہیں قیامت کے دن پورا پورا نور ملے گا۔ یہ بھی مستحب ہے کہ مسجد میں جانے والا پہلے اپنا داہنا قدم رکھے اور یہ دعا پڑھے۔ بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مسجد میں آتے یہ کہتے دعا (اعوذ باللہ العظیم وبوجہہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم) فرمان ہے کہ جب کوئی شخص یہ پڑھتا ہے شیطان کہتا ہے میرے شر سے یہ تمام دن محفوظ ہوگیا۔ مسلم میں حضور ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی مسجد میں جانا چاہے یہ دعا پڑھے (اللہم افتح لی ابو ابک رحمتک) اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں جائے تو اللہ کے نبی ﷺ پر سلام بھیجے پھر دعا (اللہم افتح لی ابو اب رحمتک) پڑھے اور جب مسجد سے نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیج کر دعا (اللم اعصمنی من الشیطان الرجیم) پڑھے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ جب آپ مسجد میں آتے تو درود پڑھ کر دعا (اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب رحمتک) پڑھتے اور جب مسجد سے نکلتے تو درود کے بعد دعا (اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابو اب فضلک) پڑھتے۔ اس حدیث کی سند متصل نہیں۔ الغرض یہ اور ان جیسی اور بہت سی حدیثیں اس آیت کے متعلق ہیں جو مسجد اور احکام مسجد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور آیت میں ہے تم ہر مسجد میں اپنا منہ سیدھا رکھو۔ اور خلوص کے ساتھ صرف اللہ کو پکارو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں۔ اس کا نام ان میں لیا جائے یعنی کتاب اللہ کی تلاوت کی جائے۔ صبح شام وہاں اس اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں آصال جمع ہے اصیل کی، شام کے وقت کو اصیل کہتے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جہاں کہیں قرآن میں تسبیح کا لفظ ہے وہاں مراد نماز ہے۔ پس یہاں مراد صبح کی اور عصر کی نماز ہے۔ پہلے پہلے یہی دو نمازیں فرض ہوئی تھیں پس وہی یاد دلائی گئیں۔ ایک قرأت میں یسبح ہے اور اس قرأت پر آصال پر پورا وقف ہے اور رجال سے پھر دوسری بات شروع ہے گویا کہ وہ مفسر ہے فاعل محذوف کے لئے۔ تو گویا کہا گیا کہ وہاں تسبیح کون کرتے ہیں ؟ تو جواب دیا گیا کہ ایسے لوگ اور یسبح کی قرأت پر رجال فاعل ہے تو وقف فاعل کے بیان کے بعد چاہئے۔ کہتے ہیں رجال اشارہ ہے ان کے بہترین مقاصد اور ان کی پاک نیتوں اور اعلی کاموں کی طرف یہ اللہ کے گھروں کے آباد رکھنے والے ہیں۔ اس کی عبادت کی جگہیں ان سے زینت پاتی ہیں، توحید اور شکر گزری کرنے والے ہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ 23ۙ) 33۔ الأحزاب :23) ، یعنی مومنوں میں ایسے بھی مرد ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کئے تھے انہیں پورے کر دکھایا۔ ہاں عورتوں کی بہترین مسجد گھر کے اندر کا کونا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو حمید ساعدی ؓ کی بیوی صاحبہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا حضور ﷺ میں آپ کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت پسند کرتی ہوں۔ آپ نے فرمایا یہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تیری اپنے گھر کی نماز صحن کی نماز سے اور حجرے کی نماز گھر کی نماز سے اور گھر کی کوٹھڑی کی نماز حجرے کی نماز سے افضل ہے۔ اور محلے کی مسجد سے افضل گھر کی نماز ہے اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد کی نماز سے افضل ہے۔ یہ سن کر مائی صاحبہ نے اپنے گھر کے بالکل انتہائی حصے میں ایک جگہ کو بطور مسجد کے مقرر کرلیا اور آخری گھڑی تک وہیں نماز پڑھتی رہیں۔ ؓ۔ ہاں البتہ عورتوں کے لئے بھی مسجد میں مردوں کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ضرور ہے۔ بشرطیکہ مردوں پر اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں اور نہ خوشبو لگا کر نکلیں۔ صحیح حدیث میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو (بخاری مسلم وغیرہ) ابو داؤد میں ہے کہ عورتوں کے لئے ان کے گھر افضل ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ وہ خوشبو استعمال کر کے نہ نکلیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آپ نے عورتوں سے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد آنا چاہے تو خوشبو کو ہاتھ بھی نہ لگائے "۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ مسلمان عورتیں صبح کی نماز میں آتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی چلی جاتی تھیں اور بوجہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ عورتوں نے یہ جو نئی نئی باتیں نکالیں ہیں اگر رسول اللہ ﷺ ان باتوں کو پالیتے تو انہیں مسجدوں میں آنے سے روک دیتے جیسے کہ بنو اسرائیل کی عورتیں روک دی گئیں۔ (بخاری مسلم)ایسے لوگ جنہیں خریدو فروخت یاد الہٰی سے نہیں روکتی۔ جیسے ارشاد ہے ایمان والو، مال واولاد تمہیں ذکر اللہ سے غافل نہ کر دے۔ سورة جمعہ میں ہے کہ جمعہ کی اذان سن کر ذکر اللہ کی طرف چل پڑو اور تجارت چھوڑ دو۔ مطلب یہ ہے کہ ان نیک لوگوں کو دنیا اور متاع آخرت اور ذکر اللہ سے غافل نہ کرسکتی، انہیں آخرت اور آخرت کی نعمتوں پر یقین کامل ہے اور انہیں ہمیشہ رہنے والا سمجھتے ہیں اور یہاں کی چیزوں کو فانی جانتے ہیں اس لئے انہیں چھوڑ کر اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو، اس کی محبت کو، اس کے احکام کو مقدم کرتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے ایک مرتبہ تجارت پیشہ حضرات کو اذان سن کر اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ لوگ انہی میں سے ہیں۔ ابن عمر ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں سوداگری یا تجارت کروں اگرچہ اس میں مجھے ہر دن تین سو اشرفیاں ملتی ہوں لیکن میں نمازوں کے وقت یہ سب چھوڑ کر ضرور چلا جاؤں گا۔ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تجارت کرنا حرام ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم میں یہ وصف ہونا چاہئے، جو اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ سالم بن عبداللہ نماز کے لئے جا رہے تھے۔ دیکھا کہ مدینہ شریف کے سوداگر اپنی اپنی دکانوں پر کپڑے ڈھک کر نماز کے لئے گئے ہوئے ہیں اور کوئی بھی دکان پر موجود نہیں تو یہی آیت پڑھی اور فرمایا یہ انہی میں سے ہیں جن کی تعریف جناب باری نے فرمائی ہے۔ اس بات کا سلف میں یہاں تک خیال تھا کہ ترازو اٹھائے تول رہے ہیں اور اذان کان میں پڑی تو ترازو رکھ دی اور مسجد کی طرف چل دئے فرض نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا انہیں عشق تھا۔ وہ نماز کے اوقات کی ارکان اور آداب کی حفاظت کے ساتھ نمازوں کے پابند تھے۔ یہ اس لئے کہ دلوں میں خوف الہٰی تھا قیامت کا آنا برحق جانتے تھے اس دن کی خوفناکی سے واقف تھے کہ سخت تر گھبراہٹ اور کامل پریشانی اور بیحد الجھن کی وجہ سے آنکھیں پتھرا جائیں گی، دل اڑ جائیں گے، کلیجے دہل جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ میرے نیک بندے میری محبت کی بنا پر مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں محض اللہ کی رضاجوئی کے لئے کھلا رہے ہیں، ہمارا مقصد تم سے شکریہ طلب کرنے یا بدلہ لینے کا نہیں۔ ہمیں تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جب کہ لوگ مارے رنج وغم کے منہ بسورے ہوئے اور تیوریاں بدلے ہوئے ہوں گے۔ پس اللہ ہی انہیں اس دن کی مصیبتوں سے نجات دے گا اور انہیں تروتازگی بشاشت، ہنسی خوشی اور راحت وآرام سے ملا دے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان کی نیکیاں مقبول ہیں، برائیاں معاف ہیں ان کے ایک ایک عمل کا بہترین بدلہ مع زیادتی اور اللہ کے فضل کے انہیں ضرور ملنا ہے۔ جیسے فرمان ہے اللہ تعالیٰ بقدر ایک ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا۔ اور آیت میں ہے نیکی دس گناہ کردی جاتی ہے۔ اور آیت میں ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے گا، اسے اللہ تعالیٰ بڑھا چڑھا کر زیادہ سے زیادہ کر کے دے گا۔ فرمان ہے آیت (يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ02601) 2۔ البقرة :261) وہ بڑھا دیتا ہے جس کے لئے چاہے۔ یہاں فرمان ہے وہ جسے چاہے بےحساب دیتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس ایک مرتبہ دودھ لایا گیا، آپ نے اپنی مجلس کے ساتھیوں میں سے ہر ایک کو پلانا چاہا مگر سب روزے سے تھے۔ اس لئے آپ ہی کے پاس پھر برتن آیا۔ آپ نے یہی آیت یخافون سے پڑھی اور پی لیا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن جب کہ اول آخر سب جمع ہونگے، اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا جو باآواز بلند ندا کرے گا جسے تمام اہل محشر سنیں گے کہ آج سب کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے ؟ پھر فرمائے گا وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے جنہیں لین دین اور تجارت ذکر اللہ سے روکتا نہ تھا پس وہ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ بہت ہی کم ہوں گے سب سے پہلے انہیں حساب سے فارغ کیا جائے گا۔ آپ فرماتے ہیں ان کی نیکیوں کا اجر یعنی جنت بھی انہیں ملے گی اور مزید فضل الہٰی یہ ہوگا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ احسان کئے ہوں گے اور وہ مستحق شفاعت ہونگے ان سب کی شفاعت کا منصب انہیں حاصل ہوجائے گا۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ ۗ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ
📘 دو قسم کے کافر یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورة بقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورة رعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ فالحمد للہ یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ قیعہ جمع ہے قاع کی جیسے جار کی جمع جیرہ اور قاع واحد بھی ہوتا ہے اور جمع قیعان ہوتی ہے جیسے جار کی جمع جیران ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کر کے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام ونشان بھی نہیں۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کرلی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہوچکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہوگئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہوچکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔ حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا۔ چناچہ بخاری ومسلم میں ہے کہ یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے ؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو ؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آرہا ہے ؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے ؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے۔ یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی۔ اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کر کے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے ؟ چناچہ مثالا کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جارہا ہے ؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں ؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے آیت (اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة 23) 45۔ الجاثية :23) ، تو نے انہیں دیکھا ؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ ابی بن کعب فرماتے ہیں ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں 001 کلام 002 عمل 003 جانا 004 آنا 005 اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑجاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01806) 7۔ الاعراف :186) جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتا۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے۔ اللہ تعالیٰ عظیم و کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کردے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
📘 تہمت لگانے والے مجرم جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں۔ تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کردیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کرسکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔ اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کردیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے۔ بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی ؒ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین حضرت سعید بن مسیب ؒ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہوجائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ واللہ اعلم۔
أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ۚ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا ۗ وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ
📘 دو قسم کے کافر یہ دو مثالیں ہیں اور دو قسم کے کافروں کی ہیں۔ جیسے سورة بقرہ کی شروع میں دو مثالیں دو قسم کی منافقوں کی بیان ہوئی ہیں۔ ایک آگ کی ایک پانی کی۔ اور جیسے کہ سورة رعد میں ہدایت وعلم کی جو انسان کے دل میں جگہ پکڑ جائے۔ ایسی ہی دو مثالیں ایک آگ کی ایک پانی کی بیان ہوئی ہیں۔ دونوں سورتوں میں ان آیتوں کی تفسیر کامل گزر چکی ہے۔ فالحمد للہ یہاں پہلی مثال تو ان کافروں کی ہے جو کفر کی طرف دوسروں کو بھی بلاتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ سخت گمراہ ہیں۔ ان کی تو ایسی مثال ہے جیسے کسی پیاسے کو جنگل میں دور سے ریت کا چمکتا ہوا تودہ دکھائی دیتا ہے اور وہ اسے پانی کا موج دریا سمجھ بیٹھتا ہے۔ قیعہ جمع ہے قاع کی جیسے جار کی جمع جیرہ اور قاع واحد بھی ہوتا ہے اور جمع قیعان ہوتی ہے جیسے جار کی جمع جیران ہے۔ معنی اس کے چٹیل وسیع پھیلے ہوئے میدان کے ہیں۔ ایسے ہی میدانوں میں سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ دوپہر کے وقت بالکل یہی معلوم ہوتا ہے کہ پانی کا وسیع دریا لہریں لے رہا ہے۔ جنگل میں جو پیاسا ہو، پانی کی تلاش میں اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور اسے پانی سمجھ کر جان توڑ کوشش کر کے وہاں تک پہنچتا ہے لیکن حیرت وحسرت سے اپنا منہ لپیٹ لیتا ہے۔ دیکھتا ہے کہ وہاں پانی کا قطرہ چھوڑ نام ونشان بھی نہیں۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ اپنے دل میں سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ اعمال کئے ہیں، بہت سی بھلائیاں جمع کرلی ہیں لیکن قیامت کے دن دیکھیں گے کہ ایک نیکی بھی ان کے پاس نہیں یا تو ان کی بدنیتی سے وہ غارت ہوچکی ہے یا شرع کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہوگئی ہے۔ غرض ان کے یہاں پہنچنے سے پہلے ان کے کام جہنم رسید ہوچکے ہیں، یہاں یہ بالکل خالی ہاتھ رہ گئے ہیں۔ حساب کے موقعہ پر اللہ خود موجود ہے اور ایک ایک عمل کا حساب لے رہا ہے اور کوئی عمل ان کا قابل ثواب نہیں نکلتا۔ چناچہ بخاری ومسلم میں ہے کہ یہودیوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے رہے ؟ وہ جواب دیں گے کہ اللہ کے بیٹے عزیر کی۔ کہا جائے گا کہ جھوٹے ہو اللہ کا کوئی بیٹا نہیں۔ اچھا بتاؤ اب کیا چاہتے ہو ؟ وہ کہیں گے اے اللہ ہم بہت پیاسے ہو رہے ہیں، ہمیں پانی پلوایا جائے تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو وہ کیا نظر آرہا ہے ؟ تم وہاں کیوں نہیں جاتے ؟ اب انہیں دور سے جہنم ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں سراب ہوتا ہے جس پر جاری پانی کا دھوکہ ہوتا ہے یہ وہاں جائیں گے اور دوزخ میں ڈال دئیے جائیں گے۔ یہ مثال تو تھی جہل مرکب والوں کی۔ اب جہل بسیط والوں کی مثال سنئے جو کورے مقلد تھے، اپنی گرہ کی عقل مطلق نہیں رکھتے تھے۔ مندرجہ بالا مثال والے ائمہ کفر کی تقلید کرتے تھے اور آنکھیں بند کر کے ان کی آواز پر لگے ہوئے تھے کہ ان کی مثال گہرے سمندر کی تہہ کے اندھیروں جیسی ہے جسے اوپر سے تہہ بہ تہہ موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو اور پھر اوپر سے ابر ڈھانکے ہوئے ہوں۔ یعنی اندھیرے پر اندھیرا ہو۔ یہاں تک کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ یہی حال ان سفلے جاہل کافروں کا ہے کہ نرے مقلد ہیں۔ یہاں تک کہ جس کی تقلید کر رہے ہیں لیکن معلوم نہیں کہ وہ انہیں کہاں لے جا رہا ہے ؟ چناچہ مثالا کہا جاتا ہے کہ کسی جاہل سے پوچھا گیا کہاں جارہا ہے ؟ اس نے کہا ان کے ساتھ جا رہا ہوں۔ پوچھنے والے نے پھر دریافت کیا کہ یہ کہاں جار ہے ہیں ؟ اس نے کہا مجھے تو معلوم نہیں۔ پس جیسے اس سمندر پر موجیں اٹھ رہی ہیں، اسی طرح کافر کے دل پر، اس کے کانوں پر، اس کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے آیت (اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَهٗ هَوٰىهُ وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِهٖ وَقَلْبِهٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِهٖ غِشٰوَة 23) 45۔ الجاثية :23) ، تو نے انہیں دیکھا ؟ جنہوں نے خواہش پرستی شروع کر رکھی ہے اور اللہ نے انہیں علم پر بہکا دیا ہے اور ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ ابی بن کعب فرماتے ہیں ایسے لوگ پانچ اندھیروں میں ہوتے ہیں 001 کلام 002 عمل 003 جانا 004 آنا 005 اور انجام سب اندھیروں میں ہیں۔ جسے اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت نہ کرے وہ نورانیت سے خالی رہ جاتا ہے۔ جہالت میں مبتلا رہ کر ہلاکت میں پڑجاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ ۭ وَيَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01806) 7۔ الاعراف :186) جسے اللہ گمراہ کرے اس کے لئے کوئی ہادی نہیں ہوتا۔ یہ اس کے مقابل ہے جو مومنوں کی مثال کے بیان میں فرمایا تھا کہ اللہ اپنے نور کی ہدایت کرتا ہے جسے چاہے۔ اللہ تعالیٰ عظیم و کریم سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نور پیدا کردے اور ہمارے دائیں بائیں بھی نور عطا فرمائے اور ہمارے نور کو بڑھا دے اور اسے بہت بڑا اور زیادہ کرے۔ آمین۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ ۖ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ
📘 ہر ایک تسبیح خوان ہے کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد وثنا ہے۔
وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ
📘 ہر ایک تسبیح خوان ہے کل کے کل انسان، جنات، فرشتے اور حیوان یہاں تک کہ جمادات بھی اللہ کی تسبیح کے بیان میں مشغول ہیں۔ ایک اور جگہ ہے کہ ساتوں آسمان اور سب زمینیں اور ان میں جو ہیں سب اللہ کی پاکیزگی کی بیان میں مشغول ہیں۔ اپنے پروں سے اڑنے والے پرند بھی اپنے رب کی عبادت اور پاکیزگی کے بیان میں مشغول ہیں۔ ان سب کو جو جو تسبیح لائق تھی اللہ نے انہیں سکھا دی ہے، سب کو اپنی عبادت کے مختلف جداگانہ طریقے سکھا دئے ہیں اور اللہ پر کوئی کام مخفی نہیں، وہ عالم کل ہے۔ حاکم، متصرف، مالک، مختار کل، معبود حقیقی، آسمان و زمین کا بادشاہ صرف وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس کے حکموں کو کوئی ٹالنے والا نہیں۔ قیامت کے دن سب کو اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے، وہ جو چاہے گا اپنی مخلوقات میں حکم فرمائے گا۔ برے لوگ برا بدلہ پائیں گے۔ نیک نیکیوں کا پھل حاصل کریں گے۔ خالق مالک وہی ہے، دنیا اور آخرت کا حاکم حقیقی وہی ہے اور اسی کی ذات لائق حمد وثنا ہے۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ
📘 بادل مرحلہ وار پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الہٰی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا من ابتداء غایت کا ہے۔ دوسرا تبعیض کا ہے۔ تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لئے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک من ثانیہ بھی ابتدا غایت کے لئے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے واللہ اعلم۔ اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کردیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کردیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آشکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
يُقَلِّبُ اللَّهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ
📘 بادل مرحلہ وار پتلے دھوئیں جیسے بادل اول اول تو قدرت الہٰی سے اٹھتے ہیں پھر مل جل کر وہ جسیم ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر جم جاتے ہیں پھر ان میں سے بارش برستی ہے۔ ہوائیں چلتی ہیں، زمین کو قابل بناتی ہیں، پھر ابر کو اٹھاتی ہیں، پھر انہیں ملاتی ہیں، پھر وہ پانی سے بھر جاتے ہیں، پھر برس پڑتے ہیں۔ پھر آسمان سے اولوں کو برسانے کا ذکر ہے اس جملے میں پہلا من ابتداء غایت کا ہے۔ دوسرا تبعیض کا ہے۔ تیسرا بیان جنس کا ہے۔ یہ اس تفسیر کی بنا پر ہے کہ آیت کے معنی یہ کئے جائیں کہ اولوں کے پہاڑ آسمان پر ہیں۔ اور جن کے نزدیک یہاں پہاڑ کا لفظ ابر کے لئے بطور کنایہ ہے ان کے نزدیک من ثانیہ بھی ابتدا غایت کے لئے ہے لیکن وہ پہلے کا بدل ہے واللہ اعلم۔ اس کے بعد کے جملے کا یہ مطلب ہے کہ بارش اور اولے جہاں اللہ برسانا چاہے، وہاں اس کی رحمت سے برستے ہیں اور جہاں نہ چاہے نہیں برستے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اولوں سے جن کی چاہے، کھیتیاں اور باغات خراب کردیتا ہے اور جن پر مہربانی فرمائے انہیں بچالیتا ہے۔ پھر بجلی کی چمک کی قوت بیان ہو رہی ہے کہ قریب ہے وہ آنکھوں کی روشنی کھودے۔ دن رات کا تصرف بھی اسی کے قبضے میں ہے، جب چاہتا ہے دن کو چھوٹا اور رات کو بڑی کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے رات کو بڑی کر کے دن کو چھوٹا کردیتا ہے۔ یہ تمام نشانیاں ہیں جو قدرت قادر کو ظاہر کرتی ہیں، اللہ کی عظمت کو آشکارا کرتی ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش، رات دن کے اختلاف میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔
وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَاءٍ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَىٰ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 ایک ہی پانی اور مختلف اجناس کی پیدائش اللہ تعالیٰ اپنی کامل قدرت اور زبردست سلطنت کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے ایک ہی پانی سے طرح طرح کی مخلوق پیدا کردی ہے۔ سانپ وغیرہ کو دیکھو جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ انسان اور پرند کو دیکھو ان کے دو پاؤں ہوتے ہیں۔ حیوانوں اور چوپاوں کو دیکھو وہ چار پاؤں پر چلتے ہیں، وہ بڑا قادر ہے جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوسکتا، وہ قادر کل ہے۔
لَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ مُبَيِّنَاتٍ ۚ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
📘 یہ حکمت بھرے احکام، یہ روشن، اس قرآن کریم میں اللہ ہی نے بیان فرمائی ہیں۔ عقلمندوں کو ان کے سمجھنے کی توفیق دی ہے، رب جسے چاہے اپنی سیدھی راہ پر لگائے۔
وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِنْهُمْ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ
📘 منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لئے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بےایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یا خوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔ دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد ﷺ میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو بدری صحابی ہیں۔ انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے ؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جارہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔ جو احادیث وآثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہوجائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لئے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ
📘 منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لئے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بےایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یا خوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔ دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد ﷺ میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو بدری صحابی ہیں۔ انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے ؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جارہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔ جو احادیث وآثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہوجائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لئے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ
📘 منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لئے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بےایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یا خوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔ دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد ﷺ میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو بدری صحابی ہیں۔ انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے ؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جارہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔ جو احادیث وآثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہوجائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لئے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 تہمت لگانے والے مجرم جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں۔ تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کردیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی۔ اگر شہادت نہ پیش کرسکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے۔ اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کردیا ہے تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے۔ بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی۔ ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی ؒ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین حضرت سعید بن مسیب ؒ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ ؒ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہوجائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی۔ بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ شعبی اور ضحاک کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے۔ واللہ اعلم۔
أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ ۚ بَلْ أُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
📘 منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لئے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بےایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یا خوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔ دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد ﷺ میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو بدری صحابی ہیں۔ انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے ؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جارہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔ جو احادیث وآثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہوجائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لئے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
📘 منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لئے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بےایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یا خوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔ دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد ﷺ میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو بدری صحابی ہیں۔ انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے ؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جارہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔ جو احادیث وآثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہوجائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لئے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ
📘 منافق کی زبان اور، دل منافقوں کا حل بیان ہو رہا ہے کہ زبان تو ایمان واطاعت کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل سے اس کے خلاف ہیں۔ عمل کچھ ہے قول کچھ ہے۔ اس لئے کہ دراصل ایماندار نہیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص بادشاہ کے سامنے بلوایا جائے اور وہ نہ جائے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ جب انہیں ہدایت کی طرف بلایا جاتا ہے، قرآن و حدیث کے ماننے کو کہا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر لیتے ہیں اور تکبر کرنے لگتے ہیں جیسے آیت (الم تر الی الذین یزعمون سے صدودا) تک کی آیتوں میں بیان گزر چکا ہے۔ ہاں اگر انہیں شرعی فیصلے میں اپنا نفع نظر آتا ہو تو لمبے لمبے کلمے پڑھتے ہوئے، گردن ہلاتے ہوئے ہنسی خوش چلے آئیں گے اور جب معلوم ہوجائے کہ شرعی فیصلہ ان کی طبعی خواہش کے خلاف ہے، دنیوں مفاد کے خلاف ہے تو حق کی طرف مڑ کر دیکھیں گے بھی نہیں۔ پس ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اس لئے کہ تین حال سے خالی نہیں یا تو یہ کہ ان کے دلوں میں ہی بےایمانی گھر کرگئی ہے یا انہیں اللہ کے دین کی حقانیت میں شکوک ہیں یا خوف ہے کہ کہیں اللہ اور رسول ان کا حق نہ مارلیں، ان پر ظلم وستم کریں گے اور یہ تینوں صورتیں کفر کی ہیں۔ اللہ ان میں سے ہر ایک کو جانتا ہے جو جیسا باطن میں ہے اس کے پاس وہ ظاہر ہے۔ دراصل یہی لوگ جابر ہیں، ظالم ہیں، اللہ اور رسول اللہ اس سے پاک ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایسے کافر جو ظاہر میں مسلمان تھے، بہت سے تھے، انہیں جب اپنا مطلب قرآن و حدیث میں نکلتا نظر آتا تو خدمت نبوی میں اپنے جھگڑے پیش کرتے اور جب انہیں دوسروں سے مطلب براری نظر آتی تو سرکار محمد ﷺ میں آنے سے صاف انکار کر جاتے۔ پس یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا جن دو شخصوں میں کوئی جھگڑا ہو اور وہ اسلامی حکم کے مطابق فیصلے کی طرف بلایا جائے اور وہ اس سے انکار کرے وہ ظالم ہے اور ناحق پر ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو بدری صحابی ہیں۔ انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے ؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جارہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔ ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی میں ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔ جو احادیث وآثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہوجائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لئے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔
۞ وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ ۖ قُلْ لَا تُقْسِمُوا ۖ طَاعَةٌ مَعْرُوفَةٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
📘 مکار منافق اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بےقرار ہیں، آپ کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھر بار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ہیں۔ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے۔ اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کا شیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا۔ تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کرلیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی ﷺ پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الہٰی پہنچانا اور ادائے امانت کردینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ۔ ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لئے کہ صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے۔ رسول ﷺ کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے۔ سب کا حساب ہمارے ذمے ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21ۭ) 88۔ الغاشية :21) ، تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کردیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں۔ وہب بن منبہ ؒ فرماتے ہیں کہ شعیاء کی طرف وحی الہٰی آئی کہ تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہوجا۔ میں تری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا، چناچہ آپ کھڑے ہوئے تو آپ کی زبان سے بہ حکم الہٰی یہ خطبہ بیان ہوا۔ اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے۔ ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہوگا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہوجائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو و درگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہوگی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہوگی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ ﷺ گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہوگی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جداجدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہوجائیں گی۔ بیشمار بند گان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کردوں گا جو لوگوں کے نفع کے لئے ہوگی، بیشمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دونگا جو لوگوں کے نفع کے لئے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔
قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۖ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا ۚ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
📘 مکار منافق اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بےقرار ہیں، آپ کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھر بار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ہیں۔ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے۔ اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کا شیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا۔ تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کرلیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی ﷺ پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الہٰی پہنچانا اور ادائے امانت کردینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ۔ ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لئے کہ صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے۔ رسول ﷺ کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے۔ سب کا حساب ہمارے ذمے ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21ۭ) 88۔ الغاشية :21) ، تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کردیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں۔ وہب بن منبہ ؒ فرماتے ہیں کہ شعیاء کی طرف وحی الہٰی آئی کہ تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہوجا۔ میں تری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا، چناچہ آپ کھڑے ہوئے تو آپ کی زبان سے بہ حکم الہٰی یہ خطبہ بیان ہوا۔ اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے۔ ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہوگا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہوجائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو و درگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہوگی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہوگی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہوگا۔ احمد اس کا نام ہوگا۔ ﷺ گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہوگی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جداجدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہوجائیں گی۔ بیشمار بند گان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کردوں گا جو لوگوں کے نفع کے لئے ہوگی، بیشمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دونگا جو لوگوں کے نفع کے لئے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
📘 عروج اسلام لازم ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے وعدہ فرما رہا ہے کہ آپ کی امت کو زمین کا مالک بنا دے گا، لوگوں کا سردار بنا دے گا، ملک ان کی وجہ سے آباد ہوگا، بندگان رب ان سے دل شاد ہوں گے۔ آج یہ لوگوں سے لرزاں وترساں ہیں کل یہ باامن واطمینان ہوں گے، حکومت ان کی ہوگی، سلطنت ان کے ہاتھوں میں ہوگی۔ الحمد للہ یہی ہوا بھی۔ مکہ، خیبر، بحرین، جزیرہ عرب اور یمن تو خود حضرت محمد ﷺ کی موجودگی میں فتح ہوگیا۔ حجر کے مجوسیوں نے جزیہ دے کر ماتحتی قبول کرلی، شام کے بعض حصوں کا بھی یہی حال ہوا۔ شاہ روم ہرقل نے تحفے تحائف روانہ کئے۔ مصر کے والی نے بھی خدمت اقدس میں تحفے بھیجے، اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس نے، عمان کے شاہوں نے بھی یہی کیا اور اس طرح اپنی اطاعت گزاری کا ثبوت دیا۔ حبشہ کے بادشاہ اصحمہ ؒ تو مسلمان ہی ہوگئے اور ان کے بعد جو والی حبشہ ہوا۔ اس نے بھی سرکار محمد ﷺ میں عقیدت مندی کے ساتھ تحائف روانہ کئے۔ پھر جب کہ اللہ تعالیٰ رب العزت نے اپنے محترم رسول اللہ ﷺ کو اپنی مہمانداری میں بلوالیا، آپ کی خلافت صدیق اکبر ؓ نے سنبھالی، جزیرہ عرب کی حکومت کو مضبوط اور مستقل بنایا اور ساتھ ہی ایک جرار لشکر سیف اللہ خالد بن ولید ؓ کی سپہ سالاری میں بلاد فارس کی طرف بھیجا جس نے وہاں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا، کفر کے درختوں کو چھانٹ دیا اور اسلامی پودے ہر طرف لگادئیے۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ وغیرہ امراء کے ماتحت شام کے ملکوں کی طرف لشکر اسلام کے جاں بازوں کو روانہ فرمایا۔ انہوں نے بھی یہاں محمدی جھنڈا بلند کیا اور صلیبی نشان اوندھے منہ گرائے، پھر مصر کی طرف مجاہدین کا لشکر حضرت عمرو بن عاص ؓ کی سرداری میں روانہ فرمایا۔ بصری، دمشق، حران وغیرہ کی فتوحات کے بعد آپ بھی راہی ملک بقا ہوئے اور بہ الہام الہٰی حضرت عمر ؓ جیسے فاروق کے زبردست زورآور ہاتھوں میں سلطنت اسلام کی باگیں دے گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ آسمان تلے کسی نبی کے بعد ایسے پاک خلیفوں کا دور نہیں ہوا۔ آپ کی قوت، طبیعت، آپ کی نیکی، سیرت، آپ کے عدل کا کمال، آپ کی ترسی کی مثال دنیا میں آپ کے بعد تلاش کرنا محض بےسود اور بالکل لا حاصل ہے۔ تمام ملک شام، پورا علاقہ مصر، اکثر حصہ فارس آپ کی خلافت کے زمانے میں فتح ہوا۔ سلطنت کسری کے ٹکڑے اڑگئے، خود کسری کو منہ چھپانے کے لئے کوئی جگہ نہ ملی۔ کامل ذلت واہانت کے ساتھ بھاگتا پھرا۔ قیصر کو فنا کردیا۔ مٹا دیا۔ شام کی سلطنت سے دست بردار ہونا پڑا۔ قسطنطنیہ میں جاکر منہ چھپایا ان سلطنتوں کی صدیوں کی دولت اور جمع کئے ہوئے بیشمار خزانے ان بندگان رب نے اللہ کے نیک نفس اور مسکین خصلت بندوں پر خرچ کئے اور اللہ کے وعدے پورے ہوئے جو اس نے حبیب اکرم ﷺ کی زبان سے کہلوائے تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ پھر حضرت عثمان بن عفان ؓ کی خلافت کا دور آتا ہے اور مشرق ومغرب کی انتہا تک اللہ کا دین پھیل جاتا ہے۔ اللہ کا لشکر ایک طرف اقصی مشرق تک اور دوسری طرف انتہاء مغرب تک پہنچ کر دم لیتے ہیں۔ اور مجاہدین کی آب دار تلواریں اللہ کی توحید کو دنیا کے گوشے گوشے اور چپے چپے میں پہنچا دیتی ہیں۔ اندلس، قبرص، قیروان وسبتہ یہاں تک کہ چین تک آپ کے زمانے میں فتح ہوئے۔ کسری قتل کردیا گیا اس کا ملک تو ایک طرف نام و نشان تک کھود کر پھینک دیا گیا اور ہزارہا برس کے آتش کدے بجھا دئیے گئے اور ہر اونچے ٹیلے سے صدائے اللہ اکبر آنے لگی۔ دوسری جانب مدائن، عراق، خراسان، اھواز سب فتح ہوگئے ترکوں سے جنگ عظیم ہوئی آخر ان کا بڑا بادشاہ خاقان خاک میں ملا ذلیل وخوار ہوا اور زمین کے مشرقی اور مغربی کونوں نے اپنے خراج بارگاہ خلافت عثمانی میں پہنچوائے۔ حق تو یہ ہے کہ مجاہدین کی ان جانبازیوں میں جان ڈالنے والی چیز حضرت عثمان ؓ کی تلاوت قرآن کی برکت تھی۔ آپ کو قرآن سے کچھ ایساشغف تھا جو بیان سے باہر ہے۔ قرآن کے جمع کرنے، اس کے حفظ کرنے، اس کی اشاعت کرنے، اس کے سنبھالنے میں جو نمایاں خدمتیں خلیفہ ثالث نے انجام دیں وہ یقینا عدیم المثال ہیں۔ آپ کے زمانے کو دیکھو اور اللہ کے رسول ﷺ کی اس پیش گوئی کو دیکھو کہ آپ نے فرمایا تھا کہ میرے لئے زمین سمیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے مشرق ومغرب دیکھ لی عنقریب میری امت کی سلطنت وہاں تک پہنچ جائے گی جہاں تک اس وقت مجھے دکھائی گئی ہے۔ (مسلمانو ! رب کے اس وعدے کو پیغمبر کی اس پیش گوئی کو دیکھو پھر تاریخ کے اوراق پلٹو اور اپنی گزشتہ عظمت وشان کو دیکھو آؤ نظریں ڈالو کہ آج تک اسلام کا پرچم بحمد اللہ بلند ہے اور مسلمان ان مجاہدین کرام کی مفتوح زمینوں میں شاہانہ حیثیت سے چل پھر رہے ہیں اللہ اور اس کے رسول سچے ہیں مسلمانو حیف اور صد حیف اس پر جو قرآن حدیث کے دائرے سے باہر نکلے حسرت اور صد حسرت اس پر جو اپنے آبائی ذخیرے کو غیر کے حوالے کرے۔ اپنے آباؤ اجداد کے خون کے قطروں سے خریدی ہوئی چیز کو اپنی نالائقیوں اور بےدینیوں سے غیر کی بھینٹ چڑھاوے اور سکھ سے بیٹھا، لیٹا رہے۔ اللہ ہمیں اپنا لشکری بنالے آمین آمین)حضور ﷺ فرماتے ہیں لوگوں کا کام بھلائی سے جاری رہے گا یہاں تک کہ ان میں بارہ خلفاء ہوں گے پھر آپ نے ایک جملہ آہسۃ بولا جو راوی حدیث حضرت جابر بن سمرہ ؓ سن نہ سکے تو انہوں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے کیا فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ یہ فرمایا ہے یہ سب کے سب قریشی ہوں گے (مسلم)آپ نے یہ بات اس شام کو بیان فرمائی تھی جس دن حضرت ماعز بن مالک ؓ کو رجم کیا گیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ ان بارہ خلیفوں کا ہونا ضروری ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ وہ خلفاء نہیں جو شیعوں نے سمجھ رکھے ہیں کیونکہ شیعوں کے اماموں میں بہت سے وہ بھی ہیں جنہیں خلافت و سلطنت کا کوئی حصہ بھی پوری عمر میں نہیں ملا تھا اور یہ بارہ خلفاء ہوں گے۔ سب کے سب قریشی ہوں گے، حکم میں عدل کرنے والے ہوں گے، ان کی بشارت اگلی کتابوں میں بھی ہے اور یہ شرط نہیں ہے کہ یہ سب یکے بعد دیگرے ہوں گے بلکہ ان کا ہونا یقینی ہے خواہ پے درپے کچھ ہوں خواہ متفرق زمانوں میں کچھ ہوں۔ چناچہ چاروں خلیفے تو بالترتیب ہوئے اول ابوبکر ؓ پھر حضرت عمر ؓ پھر حضرت عثمان ؓ پھر حضرت علی ؓ ان کے بعد پھر سلسلہ ٹوٹ گیا پھر بھی ایسے خلیفہ ہوئے اور ممکن ہے آگے چل کر بھی ہوں۔ ان کے صحیح زمانوں کا علم اللہ ہی کو ہے ہاں اتنا یقینی ہے کہ امام مہدی ؑ بھی انہی بارہ میں سے ہوں گے جن کا نام حضور ﷺ کے نام سے جن کی کنیت حضور ﷺ کی کنیت سے مطابق ہوگی تمام زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے جیسے کہ وہ ظلم وناانصافی سے بھر گئی ہوگئی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی پھر کاٹ کھانے والا ملک ہوجائے گا۔ ابو العالیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں حضور ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ بیس سال تک مکہ میں رہے اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف دنیا کو دعوت دیتے رہے لیکن یہ زمانہ پوشیدگی کا، ڈر خوف کا اور بےاطمینانی کا تھا، جہاد کا حکم نہیں آیا تھا۔ مسلمان بیحد کمزور تھے اس کے بعد ہجرت کا حکم ہوا۔ مدینے پہنچے اب جہاد کا حکم ملا جہاد شروع ہوا دشمنوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا۔ اہل اسلام بہت خائف تھے۔ خطرے سے کوئی وقت خالی نہیں جاتا تھا صبح شام صحابہ ہتھیاروں سے آراستہ رہتے تھے۔ ایک صحابی ؓ نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے کہا یارسول اللہ ﷺ کیا ہم اسی طرح خوف زدہ ہی رہیں گے ؟ یا رسول اللہ ﷺ کیا ہماری زندگی کی کوئی گھڑی بھی اطمینان سے نہیں گزرے گی ؟ یا رسول اللہ ﷺ کیا ہتھیار اتار کر بھی ہمیں کبھی آسودگی کا سانس لینا میسر آئے گا ؟ آپ نے پورے سکون سے فرمایا کچھ دن اور صبر کرلو پھر تو اس قدر امن واطمینان ہوجائے گا کہ پوری مجلس میں، بھرے دربار میں چوکڑی بھر کر آرام سے بیٹھے ہوئے رہو گے۔ ایک کے پاس کیا کسی کے پاس بھی کوئی ہتھیار نہ ہوگا کیونکہ کامل امن وامان پورا اطمینان ہوگا۔ اسی وقت یہ آیت اتری۔ پھر تو اللہ کے نبی جزیرہ عرب پر غالب آگئے عرب میں بھی کوئی کافر نہ رہا مسلمانوں کے دل خوف سے خالی ہوگئے اور ہتھیار ہر وقت لگائے رہنے ضروری نہ رہے۔ پھر یہی امن وراحت کا دور دورہ حضور ﷺ کے زمانے کے بعد بھی تین خلافتوں تک رہا یعنی ابوبکر وعمر و عثمان ؓ کے زمانے تک۔ پھر مسلمان ان جھگڑوں میں پڑگئے جو رونما ہوئے پھر خوف زدہ رہنے لگے اور پہرے دار اور چوکیدار داروغے وغیرہ مقرر کئے اپنی حالتوں کو متغیر کیا تو متغیر ہوگئے۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر وعمر ؓ کی خلافت کی حقانیت کے بارے میں اس آیت کو پیش کیا۔ براء بن عازب کہتے ہیں جس وقت یہ آیت اتری ہے اس وقت ہم انتہائی خوف اور اضطراب کی حالت میں تھے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 26) 8۔ الانفال :26) ، یعنی یہ وہ وقت بھی تھا کہ تم بیحد کمزور اور تھوڑے تھے اور قدم قدم اور دم دم پر خوف زدہ رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعداد بڑھا دی تمہیں قوت وطاقت عنایت فرمائی اور امن وامان دیا۔ پھر فرمایا کہ جیسے ان سے پہلے کے لوگوں کو اس نے زمین کا مالک کردیا تھا جیسے کہ کلیم اللہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا آیت (عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ01209) 7۔ الاعراف :129) ، بہت ممکن ہے بلکہ بہت ہی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے اور تمہیں ان کا جانشین بنا دے۔ اور آیت میں ہے (وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ ۙ) 28۔ القصص :5) یعنی ہم نے ان پر احسان کرنا چاہا جو زمین بھر میں سب سے زیادہ ضعیف اور ناتواں تھے۔ پھر فرمایا کہ ان کے دین کو جو اللہ کا پسندیدہ ہے جما دے گا اور اسے قوت وطاقت دے گا۔ حضرت عدی بن حاتم ؓ جب بطور وفد آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تو نے حیرہ دیکھا ہے اس نے جواب دیا کہ میں حیرہ کو نہیں جانتا ہاں اس کا نام سنا ہے آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ میرے اس دین کو کامل طور پر پھیلائے گا یہاں تک کہ امن وامان قائم ہوجائے گا کہ حیرہ سے ایک سانڈنی سوار عورت تنہانکلے گی اور وہ بیت اللہ تک پہنچ کر طواف سے فارغ ہو کر واپس ہوگی نہ خوف زدہ ہوگی نہ ہی اس کے ساتھ محافظ ہوگا۔ یقین مان کہ کسری بن ھرمز کے خزانے مسلمانوں کی فتوحات میں آئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اسی کسری بن ھرمز کے۔ سنو اس قدر مال بڑھ جائے گا کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا۔ حضرت عدی بن حاتم ؓ فرماتے ہیں اب تم دیکھ لو کہ فی الواقع حیرہ سے عورتیں بغیر کسی کی پناہ کی آتی جاتی ہیں۔ اس پیشن گوئی کو پورا ہوتے ہوئے ہم نے دیکھ لیا دوسری پیشین گوئی تو میری نگاہوں کے سامنے پوری ہوئی کسری کے خزانے فتح کرنے والوں نے بتایا خود میں موجود تھا اور تیسری پیشین گوئی یقینا پوری ہو کر رہ گئی کیونکہ وہ بھی رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ مسند احمد میں حضور ﷺ کا فرمان ہے اس امت کو ترقی اور بڑھوتری کی مدد اور دین کی اشاعت کی بشارت دو۔ ہاں جو شخص آخرت کا عمل دنیا کے حاصل کرنے کے لیے کرے وہ جان لے کہ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ملے گا۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ مسند میں ہے حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ ایک گدھے پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور آپ کے درمیان صرف پالان کی لکڑی تھی آپ نے میرے نام سے مجھے آواز دی میں نے لبیک وسعدیک کہا پھر تھوڑی سی دیر کے بعد چلنے کے بعد اسی طرح مجھے پکارا اور میں نے بھی اسی طرح جواب دیا۔ آپ نے فرمایا جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اسکا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر تھوڑی سی دیر چلنے کے بعد مجھے پکارا اور میں جواب دیا تو آپنے فرمایا جانتے ہو جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو اللہ کے ذمے بندوں کا حق کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو ہی پورا علم ہے۔ آپ نے فرمایا یہ کہ انہیں عذاب نہ کرے۔ (بخاری ومسلم) پھر فرمایا اس کے بعد جو منکر ہوجائے وہ یقینا فاسق ہے۔ یعنی اس کے بعد بھی جو میری فرمانبرداری چھوڑ دے اس نے میری حکم عدولی کی اور یہ گناہ سخت اور بہت بڑا ہے۔ شان الہٰی دیکھو جتنا جس زمانے میں اسلام کا زور رہا اتنی ہی مدد اللہ کی ہوئی۔ صحابہ اپنے ایمان میں بڑھے ہوئے تھے فتوحات میں بھی سب سے آگے نکل گئے جوں جوں ایمان کمزور ہوتا گیا دنیوی حالت سلطنت وشوکت بھی گرتی گئی۔ بخاری ومسلم میں ہے میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ برسرحق رہے گی اور وہ غالب اور نڈر رہے گی ان کی مخالفت ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے قیامت تک یہ اسی طرح رہے گی اور روایت میں ہے یہاں تک اللہ کا وعدہ آجائے گا ایک اور روایت میں ہے یہاں تک کہ یہی جماعت سب سے آخر دجال سے جہاد کرے گی اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے اترنے تک یہ لوگ کافروں پر غالب رہیں گے یہ سب روایتیں صحیح ہیں اور ایک ہی مطلب سب کا ہے۔
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
📘 صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ اسی کے لئے نمازیں پڑھتے رہو۔ اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ ضعیفوں، مسکینوں، فقیروں کی خبر گیری کرتے رہو۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ۔ یقین مانو کہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 71) 9۔ التوبہ :71) اللہ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اے نبی ﷺ یہ گمان نہ کرنا کہ آپ کو جھٹلانے والے اور آپ کی نہ ماننے والے ہم پر غالب آجائیں گے یا ادھر ادھر بھاگ کر ہمارے بےپناہ عذابوں سے بچ جائیں گے۔ ہم تو ان کا اصلی ٹھکانہ جہنم میں مقرر کرچکے ہیں جو نہایت بری جگہ ہے۔ قرار گاہ کے اعتبار اور بازگشت کے اعتبار سے بھی۔
لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ وَلَبِئْسَ الْمَصِيرُ
📘 صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات اللہ تعالیٰ اپنے باایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ اسی کے لئے نمازیں پڑھتے رہو۔ اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ ضعیفوں، مسکینوں، فقیروں کی خبر گیری کرتے رہو۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے رہو۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ۔ یقین مانو کہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے (اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 71) 9۔ التوبہ :71) اللہ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اے نبی ﷺ یہ گمان نہ کرنا کہ آپ کو جھٹلانے والے اور آپ کی نہ ماننے والے ہم پر غالب آجائیں گے یا ادھر ادھر بھاگ کر ہمارے بےپناہ عذابوں سے بچ جائیں گے۔ ہم تو ان کا اصلی ٹھکانہ جہنم میں مقرر کرچکے ہیں جو نہایت بری جگہ ہے۔ قرار گاہ کے اعتبار اور بازگشت کے اعتبار سے بھی۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِنْ قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ ۚ طَوَّافُونَ عَلَيْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
📘 گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لئے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لئے عموما اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔ پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بےفکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے ؟ اس لئے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بےاطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے بار بار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لئے اور نیز تمہارے لئے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے۔ حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تین آیتوں پر عموما لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورة نساء کی آیت (وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا) 4۔ النسآء :8) اور ایک سورة حجرات کی آیت (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13) 49۔ الحجرات :13) شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کردیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بےاجازت ہرگز نہ آئے۔ پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الہٰی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الہٰی کے ہونے کا ذکر ہے۔ حضرت شعبی ؒ سے کسی نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں۔ اس نے کہا پھر لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟ فرمایا اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بیخبر ی میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑگئے تو محفوظ ہوگئے۔ حکم الہٰی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لئے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کردی۔ سدی ؒ فرماتے ہیں یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لئے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کردیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموما لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک انصاری ؓ نے حضور ﷺ کے لئے کچھ کھانا پکایا جائے لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ حضرت اسماء ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بےاجازت گھر میں آجائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری۔ اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے۔ جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔ جو بڑھیا عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نہ اب انہیں مرد کی خواہش رہے نہ نکاح کی توقع حیض بند ہوجائے عمر سے اتر جائیں تو ان پر پردے کی وہ پابندیاں نہیں جو اور عورتوں پر ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی عورتوں کو اجازت ہے کہ وہ برقعہ اور چادر اتار دیا کریں صرف دوپٹے میں اور کرتے پاجامے میں رہیں۔ آپ کی قرأت بھی آیت (اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۢ بِزِيْنَةٍ ۭوَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 60) 24۔ النور :60) ہے۔ مراد اس سے دوپٹے کے اوپر کی جادر ڈالنا ضروری نہیں۔ لیکن مقصود اس سے بھی اظہار زینت نہ ہو۔ حضرت عائشہ سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے بناؤ سنگھار بیشک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہوگئیں تو آپ نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔ آخر میں فرمایا گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لئے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے۔
وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
📘 گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لئے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لئے عموما اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔ پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بےفکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے ؟ اس لئے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بےاطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے بار بار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لئے اور نیز تمہارے لئے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے۔ حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تین آیتوں پر عموما لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورة نساء کی آیت (وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا) 4۔ النسآء :8) اور ایک سورة حجرات کی آیت (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13) 49۔ الحجرات :13) شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کردیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بےاجازت ہرگز نہ آئے۔ پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الہٰی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الہٰی کے ہونے کا ذکر ہے۔ حضرت شعبی ؒ سے کسی نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں۔ اس نے کہا پھر لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟ فرمایا اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بیخبر ی میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑگئے تو محفوظ ہوگئے۔ حکم الہٰی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لئے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کردی۔ سدی ؒ فرماتے ہیں یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لئے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کردیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموما لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک انصاری ؓ نے حضور ﷺ کے لئے کچھ کھانا پکایا جائے لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ حضرت اسماء ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بےاجازت گھر میں آجائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری۔ اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے۔ جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔ جو بڑھیا عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نہ اب انہیں مرد کی خواہش رہے نہ نکاح کی توقع حیض بند ہوجائے عمر سے اتر جائیں تو ان پر پردے کی وہ پابندیاں نہیں جو اور عورتوں پر ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی عورتوں کو اجازت ہے کہ وہ برقعہ اور چادر اتار دیا کریں صرف دوپٹے میں اور کرتے پاجامے میں رہیں۔ آپ کی قرأت بھی آیت (اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۢ بِزِيْنَةٍ ۭوَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 60) 24۔ النور :60) ہے۔ مراد اس سے دوپٹے کے اوپر کی جادر ڈالنا ضروری نہیں۔ لیکن مقصود اس سے بھی اظہار زینت نہ ہو۔ حضرت عائشہ سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے بناؤ سنگھار بیشک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہوگئیں تو آپ نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔ آخر میں فرمایا گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لئے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے۔
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
📘 لعان سے مراد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی ؒ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہوجائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لئے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لئے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں " اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔ " مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا انصاریو سنتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ حضرت ہلال بن امیہ ؓ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے ایک غیر مرد ہے خود آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ سے یہ ذکر کیا آپ کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔ سب انصار جمع ہوگئے اور کہنے لگے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ ﷺ ہلال بن امیہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کردے گا۔ کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرا۔ یارسول اللہ ﷺ مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کرسکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ آپ کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ ﷺ نے حضرت ہلال ؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا، اے ہلال ؓ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشادگی اور چھٹی نازل فرما دی۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے الحمدللہ مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ نے حضرت ہلال ؓ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے۔ ہلال فرمانے لگے یارسول اللہ ﷺ میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا حضور ﷺ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ حضرت ہلال ؓ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈر جا۔ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہوجائے گا تو آپ نے کہا یارسول اللہ ﷺ قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کردیئے۔ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح حضرت ہلال ؓ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کرلے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ حضرت ہلال ؓ کی طرف منسوب نہ کی جائے۔ نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ (ابوداؤد) اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ اور حضور ﷺ کے سامنے جب حضرت ہلال ؓ نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی۔ حضرت ہلال ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے ؟ لیکن آنحضرت ﷺ یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ ﷺ نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کردو پھر اسے نصیحت کی۔ اور فرمایا اللہ کی لعنت سے ہر چیز ہلکی ہے۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے ؟ یہ واقعہ ہے حضرت ابن زبیر ؓ کی امارت کے زمانہ کا۔ مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یارسول اللہ ﷺ کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بےشرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بےغیرتی کی خاموشی ہے۔ آپ سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا حضور ﷺ میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ ﷺ نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ ﷺ نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بےغیرتی اور بڑی بےحیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو آنحضرت ﷺ سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چناچہ اس نے انہی لفظوں میں حضور ﷺ سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت عویمر نے حضرت عاصم بن عدی سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ ﷺ سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے ؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا ؟ چناچہ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر ؓ عاصم سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ؟ اور آپ نے کیا جواب دیا ؟ عاصم نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ ﷺ نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر ؓ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کردیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لئے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔ ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے ؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کرسکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ ؓ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔
وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَنْ يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
📘 گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں اس آیت میں قریب رشتے داروں کو بھی حکم ہو رہا ہے کہ وہ اجازت حاصل کر کے آیا کریں۔ اس سے پہلے کہ اس سورت کی شروع کی آیت میں جو حکم تھا وہ اجنبیوں کے لئے تھا۔ پس فرماتا ہے کہ تین وقتوں میں غلاموں کو نابالغ بچوں کو بھی اجازت مانگنی چاہے۔ صبح کی نماز سے پہلے کیونکہ وہ وقت سونے کا ہوتا ہے۔ اور دوپہر کو جب انسان دو گھڑی راحت حاصل کرنے کے لئے عموما اپنے گھر میں بالائی کپڑے اتار کر سوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد کیونکہ وہ بھی بال بچوں کے ساتھ سونے کا وقت ہے۔ پس تین وقتوں میں نہ جائیں انسان بےفکری سے اپنے گھر میں کس حالت میں ہوتا ہے ؟ اس لئے گھر کے لونڈی غلام اور چھوٹے بچے بھی بےاطلاع ان وقتوں میں چپ چاپ نہ گھس آئیں۔ ہاں ان خاص وقتوں کے علاوہ انہیں آنے کی اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کا آنا جانا تو ضروری ہے بار بار کے آنے جانے والے ہیں ہر وقت کی اجازت طلبی ان کے لئے اور نیز تمہارے لئے بھی بڑی حرج کی چیز ہوگی۔ ایک حدیث میں ہے کہ بلی نجس نہیں وہ تو تمہارے گھروں میں تمہارے آس پاس گھومنے پھرنے والی ہے۔ حکم تو یہی ہے اور عمل اس پر بہت کم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تین آیتوں پر عموما لوگوں نے عمل چھوڑ رکھا ہے۔ ایک تو یہی آیت اور ایک سورة نساء کی آیت (وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا) 4۔ النسآء :8) اور ایک سورة حجرات کی آیت (اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ 13) 49۔ الحجرات :13) شیطان لوگوں پر چھا گیا اور انہیں ان آیتوں پر عمل کرنے سے غافل کردیا گویا ان پر ایمان ہی نہیں میں نے تو اپنی اس لونڈی سے بھی کہہ رکھا ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بےاجازت ہرگز نہ آئے۔ پہلی آیت میں تو ان تین وقتوں میں لونڈی غلاموں اور نابالغ بچوں کو بھی اجازت لینے کا حکم ہے دوسری آیت میں ورثے کی تقسیم کے وقت جو قرابت دار اور یتیم مسکین آجائیں انہیں بنام الہٰی کچھ دے دینے اور ان سے نرمی سے بات کرنے کا حکم ہے اور تیسری آیت میں حسب ونسب پر فخر کرنے بلکہ قابل اکرام خوف الہٰی کے ہونے کا ذکر ہے۔ حضرت شعبی ؒ سے کسی نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں۔ اس نے کہا پھر لوگوں نے اس پر عمل کیوں چھوڑ رکھا ہے ؟ فرمایا اللہ سے توفیق طلب کرنی چاہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اس آیت پر عمل کے ترک کی وجہ مالداری اور فراخ دلی ہے۔ پہلے تو لوگوں کے پاس اتنا بھی نہ تھا کہ اپنے دروازوں پر پردے لٹکا لیتے یا کشادہ گھر کئی کئی الگ الگ کمروں والے ہوتے ہیں تو بسا اوقات لونڈی غلام بیخبر ی میں چلے آتے اور میاں بیوی مشغول ہوتے تو آنے والے بھی شرما جاتے اور گھر والوں پر بھی شاق گزرتا اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کشادگی دی، کمرے جداگانہ بن گئے، دروازے باقاعدہ لگ گئے، دروازوں پر پردے پڑگئے تو محفوظ ہوگئے۔ حکم الہٰی کی مصلحت پوری ہوگئی اس لئے اجازت کی پابندی اٹھ گئی اور لوگوں نے اس میں سستی اور غفلت شروع کردی۔ سدی ؒ فرماتے ہیں یہی تین وقت ایسے ہیں کہ انسان کو ذرا فرصت ہوتی ہے گھر میں ہوتا ہے اللہ جانے کس حالت میں ہو اس لئے لونڈی غلاموں کو بھی اجازت کا پابند کردیا ہے کیونکہ اسی وقت میں عموما لوگ اپنی گھر والیوں سے ملتے ہیں تاکہ نہا دھو کر بہ آرام گھر سے نکلیں اور نمازوں میں شامل ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک انصاری ؓ نے حضور ﷺ کے لئے کچھ کھانا پکایا جائے لوگ بلا اجازت ان کے گھر میں جانے لگے۔ حضرت اسماء ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ غلام بےاجازت گھر میں آجائے ممکن ہے میاں بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوں۔ پس یہ آیت اتری۔ اس آیت کے منسوخ نہ ہونے پر اس آیت کے خاتمے کے الفاظ بھی دلالت کرتے ہیں کہ اسی طرح تین وقتوں میں جن کا بیان اوپر گزرا اجازت مانگنی ضروری ہے لیکن بعد بلوغت تو ہر وقت اطلاع کر کے ہی جانا چاہے۔ جیسے کہ اور بڑے لوگ اجازت مانگ کر آتے ہیں خواہ اپنے ہوں یا پرائے۔ جو بڑھیا عورتیں اس عمر کو پہنچ جائیں کہ نہ اب انہیں مرد کی خواہش رہے نہ نکاح کی توقع حیض بند ہوجائے عمر سے اتر جائیں تو ان پر پردے کی وہ پابندیاں نہیں جو اور عورتوں پر ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایسی عورتوں کو اجازت ہے کہ وہ برقعہ اور چادر اتار دیا کریں صرف دوپٹے میں اور کرتے پاجامے میں رہیں۔ آپ کی قرأت بھی آیت (اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۢ بِزِيْنَةٍ ۭوَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 60) 24۔ النور :60) ہے۔ مراد اس سے دوپٹے کے اوپر کی جادر ڈالنا ضروری نہیں۔ لیکن مقصود اس سے بھی اظہار زینت نہ ہو۔ حضرت عائشہ سے جب اس قسم کے سوالات عورتوں نے کئے تو آپ نے فرمایا تمہارے لئے بناؤ سنگھار بیشک حلال اور طیب ہے لیکن غیر مردوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے نہیں۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کی بیوی صاحبہ جب بالکل بڑھیا پھوس ہوگئیں تو آپ نے اپنے غلام کے ہاتھوں اپنے سر کے بالوں میں مہندی لگوائی جب ان سے سوال کیا گیا تو فرمایا میں ان عمر رسیدہ عورتوں میں ہوں جنہیں خواہش نہیں رہی۔ آخر میں فرمایا گو چادر کا نہ لینا ان بڑی عورتوں کے لئے جائز تو ہے مگر تاہم افضل یہی ہے کہ چادروں اور برقعوں میں ہی رہیں۔ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے۔
لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ ۚ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ۚ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
📘 جہاد میں شمولیت کی شرائط اس آیت میں جس حرج کے نہ ہونے کا ذکر ہے اس کی بابت حضرت عطاء وغیرہ تو فرماتے ہیں مراد اس سے اندھے لولے لنگڑے کا جہاد میں نہ آنا ہے۔ جیسے کہ سورة فتح میں ہے تو یہ لوگ اگر جہاد میں شامل نہ ہوں تو ان پر بوجہ ان کے معقول شرعی عذر کے کوئی حرج نہیں۔ سورة براۃ میں ہے آیت (لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 91 ۙ) 9۔ التوبہ :91) بوڑھے بڑوں پر اور بیماروں پر اور مفلسوں پر جب کہ وہ تہ دل سے دین حق کے اور رسول اللہ ﷺ کے خیر خواہ ہوں کوئی حرج نہیں، بھلے لوگوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ بھلے لوگوں پر کوئی سرزنش نہیں، اللہ غفور ورحیم ہے۔ ان پر بھی اسی طرح کوئی حرج نہیں جو سواری نہیں پاتے اور تیرے پاس آتے ہیں تو تیرے پاس سے بھی انہیں سواری نہیں مل سکتی حضرت سعید ؒ وغیرہ فرماتے ہیں لوگ اندھوں، لولوں، لنگڑوں اور بیماروں کے ساتھ کھانا کھانے میں حرج جانتے تھے کہ ایسا نہ ہو وہ کھا نہ سکیں اور ہم زیادہ کھالیں یا اچھا اچھا کھالیں تو اس آیت میں انہیں اجازت ملی کہ اس میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ کراہت کر کے بھی ان کے ساتھ کھانے کو نہیں بیٹھتے تھے، یہ جاہلانہ عادتیں شریعت نے اٹھا دیں۔ مجاہد ؒ سے مروی ہے کہ لوگ ایسے لوگوں کو اپنے باپ بھائی بہن وغیرہ قریب رشتہ داروں کے ہاں پہنچا آتے تھے کہ وہ وہاں کھالیں یہ لوگ اس عار سے کرتے کہ ہمیں اوروں کے گھر لے جاتے ہیں اس پر یہ آیت اتری۔ سدی رحمۃ اللہ کا قول ہے کہ انسان جب اپنے بہن بھائی وغیرہ کے گھر جاتا ہے وہ نہ ہوتے اور عورتیں کوئی کھانا انہیں پیش کرتیں تو یہ اسے نہیں کھاتے تھے کہ مرد تو ہیں نہیں نہ ان کی اجازت ہے۔ تو جناب باری تعالیٰ نے اس کے کھالینے کی رخصت عطا فرمائی۔ یہ جو فرمایا کہ خود تم پر بھی حرج نہیں یہ تو ظاہر ہی تھا۔ اس کا بیان اس لئے کیا گیا کہ اور چیز کا اس پر عطف ہو اور اس کے بعد کا بیان اس حکم میں برابر ہو۔ بیٹوں کے گھروں کا بھی یہی حکم ہے گو لفظوں میں بیان نہیں آیا لیکن ضمنا ہے۔ بلکہ اسی آیت کے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ بیٹے کا مال بمنزلہ باپ کے مال کے ہے۔ مسند اور سنن میں کئی سندوں سے حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ اور جن لوگوں کے نام آئے ان سے استدلال کر کے بعض نے کہا ہے کہ قرابت داروں کا نان ونفقہ بعض کا بعض پر واجب ہے جیسے کہ امام ابوحنیفہ ؒ کا اور امام احمد ؒ کے مذہب کا مشہور مقولہ ہے جس کی کنجیاں تمہاری ملکیت میں ہیں اس سے مراد غلام اور داروغے ہیں کہ وہ اپنے آقا کے مال سے حسب ضرورت و دستور کھاپی سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ جنگ میں جاتے تو ہر ایک کی چاہت یہی ہوتی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ جائیں۔ جاتے ہوئے اپنے خاص دوستوں کو اپنی کنجیاں دے جاتے اور ان سے کہہ دیتے کہ جس چیز کے کھانے کی تمہیں ضرورت ہو ہم تمہیں رخصت دیتے ہیں لیکن تاہم یہ لوگ اپنے آپ کو امین سمجھ کر اور اس خیال سے کہ مبادا ان لوگوں نے بادل ناخواستہ اجازت دی ہو، کسی کھانے پینے کی چیز کو نہ چھوتے اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ پھر فرمایا کہ تمہارے دوستوں کے گھروں سے بھی کھالینے میں تم پر کوئی پکڑ نہیں جب کہ تمہیں علم ہو کہ وہ اس سے برا نہ مانے گے اور ان پر یہ شاق نہ گزرے گا۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں تو جب اپنے دوست کے ہاں جائے تو بلا اجازت اس کے کھانے کو کھالینے کی رخصت ہے۔ پھر فرمایا تم پر ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں اور جدا جدا ہو کر کھانے میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ 29) 4۔ النسآء :29) اتری یعنی ایمان والو ایک دوسرے کے ساتھ کھائیں چناچہ وہ اس سے بھی رک گئے اس پر یہ آیت اتری اسی طرح سے تنہاخوری سے بھی کراہت کرتے تھے جب تک کوئی ساتھی نہ ہو کھاتے نہیں تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں دونوں باتوں کی اجازت دی یعنی دوسروں کے ساتھ کھانے کی اور تنہا کھانے کی۔ قبیلہ بنو کنانہ کے لوگ خصوصیت سے اس مرض میں مبتلا تھے بھوکے ہوتے تھے لیکن جب تک ساتھ کھانے والا کوئی نہ ہو کھاتے نہ تھے سواری پر سوار ہو کر ساتھ کھانے والے کی تلاش میں نکلتے تھے پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تنہا کھانے کر رخصت نازل فرما کر جاہلیت کی اس سخت رسم کو مٹا دیا۔ اس آیت میں گو تنہا کھانے کی رخصت ہے لیکن یہ یاد رہے کہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا افضل ہے اور زیادہ برکت بھی اسی میں ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے آکر کہا یارسول اللہ ﷺ کھاتے تو ہیں لیکن آسودگی حاصل نہیں ہوتی آپ نے فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہوگے ؟ جمع ہو کر ایک ساتھ بیٹھ کر اللہ کا نام لے کر کھاؤ تو تمہیں برکت دی جائے گی۔ ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مل کر کھاؤ، تنہا نہ کھاؤ، برکت مل بیٹھنے میں ہے۔ پھر تعلیم ہوئی کہ گھروں میں سلام کرکے جایا کرو۔ حضرت جابر ؓ کا فرمان ہے کہ جب تم گھر میں جاؤ تو اللہ کا سکھایا ہوا بابرکت بھلا سلام کہا کرو۔ میں نے تو آزمایا ہے کہ یہ سراسر برکت ہے۔ ابن طاؤس ؒ فرماتے ہیں تم میں سے جو گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہے۔ حضرت عطاء ؒ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ واجب ہے ؟ فرمایا مجھے تو یاد نہیں کہ اس کے وجوب کا قائل کوئی ہو لیکن ہاں مجھے تو یہ بہت ہی پسند ہے کہ جب بھی گھر میں جاؤ سلام کرکے جاؤ۔ میں تو اسے کبھی نہیں چھوڑتا ہاں یہ اور بات ہے کہ میں بھول جاؤ۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں جب مسجد میں جاؤ تو کہو السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین یہ بھی مروی ہے کہ یوں کہو بسم اللہ والحمد للہ السلام علینا من ربنا السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین یہی حکم دیا جا رہا ہے ایسے وقتوں میں تمہارے سلام کا جواب اللہ کے فرشتے دیتے ہیں۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں مجھے نبی ﷺ نے پانچ باتوں کی وصیت کی ہے فرمایا ہے اے انس ! کامل وضو کرو تمہاری عمر بڑھے گی۔ جو میرا امتی ملے سلام کرو نیکیاں بڑھیں گی، گھر میں سلام کر کے جایا کرو گھر کی خیریت بڑھے گی۔ ضحی کی نماز پڑھتے رہو تم سے اگلے لوگ جو اللہ والے بن گئے تھے ان کا یہی طریقہ تھا۔ اے انس ! چھوٹوں پر رحم کر بڑوں کی عزت و توقیر کر تو قیامت کے دن میرا ساتھی ہوگا۔ پھر فرماتا ہے یہ دعائے خیر ہے جو اللہ کی طرف سے تمہیں تعلیم کی گئی ہے برکت والی اور عمدہ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں میں نے تو التحیات قرآن سے ہی سیکھی ہے نماز کی التحیات یوں ہے التحیات المبارکات الصلوات الطیبات للہ اشہدان لا الہ الا اللہ واشہدان محمدا عبدہ و رسولہ السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اسے پڑھ کر نمازی کو اپنے لئے دعا کرنی چاہئے پھر سلام پھیر دے۔ انہی حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعا صحیح مسلم شریف میں اس کے سوا بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اس سورت کے احکام کا ذکر کر کے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے سامنے اپنے واضح احکام مفید فرمان کھول کھول کر اسی طرح بیان فرمایا کرتا ہے تاکہ وہ غور وفکر کریں، سوچیں سمجھیں اور عقل مندی حاصل کریں۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَىٰ أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّىٰ يَسْتَأْذِنُوهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 رخصت پر بھی اجازت مانگو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ادب اور بھی سکھاتا ہے کہ جیسے آتے ہوئے اجازت مانگ کر آتے ہو ایسے جانے کے وقت بھی میرے نبی سے اجازت مانگ کر جاؤ۔ خصوصا ایسے وقت جب کہ مجمع ہو اور کسی ضروری امر پر مجلس ہوئی ہو مثلا نماز جمعہ ہے یا نماز عید ہے یا جماعت ہے یا کوئی مجلس شوری ہم تو ایسے موقعوں پر جب تک حضور ﷺ سے اجازت نہ لے لو ہرگز ادھر ادھر نہ جاؤ مومن کامل کی ایک نشانی یہ بھی ہے۔ پھر اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لئے آپ سے اجازت چاہیں تو آپ ان میں سے جسم چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لئے طلب بخشش کی دعائیں بھی کرتے رہیں۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں جائے تو اہل مجلس کو سلام کرلیا کرے اور جب وہاں سے آنا چاہے تو بھی سلام کر لیاکرے آخری دفعہ کا سلام پہلی مرتبہ کے سلام سے کچھ کم نہیں ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام صاحب نے اسے حسن فرمایا ہے۔
لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
📘 آپ ﷺ کو پکارنے کے آداب لوگ حضور ﷺ کو جب بلاتے تو آپ کے نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں آپ کو بھی پکار لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ یارسول اللہ کہہ کر پکارو۔ تاکہ آپ کی بزرگی اور عزت وادب کا پاس رہے۔ اسی کے مثل آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ01004) 2۔ البقرة :104) ہے اور اسی جیسی آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ) 49۔ الحجرات :2) ہے یعنی ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر بلند نہ کرو۔ آپ کے سامنے اونچی اونچی آوازوں سے نہ بولو جیسے کہ بےتکلفی سے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اگر ایسا کیا تو سب اعمال غارت ہوجائیں گے اور پتہ بھی نہ چلے۔ یہاں تک کہ فرمایا جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس آجاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ پس یہ سب آداب سکھائے گئے کہ آپ سے خطاب کس طرح کریں، آپ سے بات چیت کس طرح کریں، آپ کے سامنے کس طرح بولیں چالیں بلکہ پہلے تو آپ سے سرگوشیاں کرنے کے لئے صدقہ کرنے کا بھی حکم تھا۔ ایک مطلب تو اس آیت کا یہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا کو تم اپنی دعاؤں کی طرح سمجھو، آپ کی دعا مقبول ومستجاب ہے۔ خبردار کبھی ہمارے نبی کو تکلیف نہ دینا کہیں ایسانہ ہو کہ ان کے منہ سے کوئی کلمہ نکل جائے تو تہس نہس ہوجاؤ۔ اس سے اگلے جملے کی تفسیر میں مقاتل بن حیان ؒ فرماتے ہیں جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پر بہت بھاری پڑتا تھا جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ سے اجازت چاہتا اور آپ اجازت دے دیتے اس لئے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہوجاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے سدی ؒ فرماتے جماعت میں جب منافق ہوتے تو ایک دوسرے کی آڑ لے کر بھاگ جاتے۔ اللہ کے پیغمبر سے اور اللہ کی کتاب سے ہٹ جاتے، صف سے نکل جاتے، مخالفت پر آمادہ ہوجاتے۔ جو لوگ امر رسول، سنت رسول، فرمان رسول، طریقہ رسول اور شرع رسول کے خلاف کریں وہ سزا یاب ہونگے۔ انسان کو اپنے اقوال و افعال رسول اللہ ﷺ کی سنتوں اور احادیث سے ملانے چاہئیں جو موافق ہوں اچھے ہیں جو موافق نہ ہوں مردود ہے۔ ظاہر یا باطن میں جو بھی ہے شریعت محمدیہ ﷺ کے خلاف کرے اس کے دل میں کفر ونفاق، بدعت و برائی کا بیج بودیا جاتا ہے یا اسے سخت عذاب ہوتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی قتل قید حد وغیر جیسی سزائیں ملتی ہیں یا آخرت میں عذاب اخروی ملے گا۔ مسند احمد میں حدیث ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب وہ روشن ہوئی تو پتنگوں اور پروانوں کا اجتماع ہوگیا اور وہ دھڑا دھڑ اس میں گرنے لگے۔ اب یہ انہیں ہرچند روک رہا ہے لیکن وہ ہیں شوق سے اس میں گرے جاتے ہیں اور اس شخص کے روکنے سے نہیں روکتے۔ یہی حالت میری اور تمہاری ہے کہ تم آگ میں گرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں اپنی با ہوں میں لپیٹ لپیٹ کر اس سے روک رہا ہوں کہ آگ میں نہ گھسو، آگ سے بچو لیکن تم میری مانتے اور اس آگ میں گھسے چلے جا رہے ہو۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔
أَلَا إِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
📘 ہر ایک اس کے علم میں ہے مالک زمین و آسمان عالم غیب وحاضر بندوں کے چھپے کھلے اعمال کا جاننے والا ہی ہے۔ قد یعلم میں قد تحقیق کے لئے ہے جیسے اس سے پہلے کی آیت (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا 63) 24۔ النور :63) میں۔ اور جیسے آیت (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَاۗىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا ۚ وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا 18 ۙ) 33۔ الأحزاب :18) میں۔ اور جیسے آیت (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ) 58۔ المجادلة :1) میں اور جیسے آیت (قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ 33) 6۔ الانعام :33) میں اور جیسے قدنری میں۔ اور جیسے موذن کہتا ہے قدقامت الصلوۃ تو فرماتا ہے کہ جس حال پر تم جن اعمال و عقائد کے تم ہو اللہ پر خوب روشن ہے۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ بھی اللہ پر پوشیدہ نہیں۔ جو عمل تم کرو جو حالت تمہاری ہو اس اللہ پر عیاں ہے۔ کوئی ذرہ اس سے چھپا ہوا نہیں۔ ہر چھوٹی بڑی چیز کتاب مبین میں محفوظ ہے۔ بندوں کے تمام خیروشر کا وہ عالم ہے کپڑوں میں ڈھک جاؤ چھپ لک کر کچھ کرو ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر اس پر یکساں ہے۔ سرگوشیاں اور بلند آواز کی باتیں اس کے کانوں میں ہیں تمام جانداروں کا روزی رساں وہی ہے ہر ایک جاندار کے ہر حال کو جاننے والا وہی ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں پہلے سے درج ہے۔ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جہنیں اس کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ خشکی تری کی ہر ہر چیز کو وہ جانتا ہے۔ کسی پتے کا جھڑنا اس کے علم سے باہر نہیں زمین کی اندھیریوں کے اندر کا دانہ اور کوئی تر وخشک چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں۔ جب مخلوق اللہ کی طرف لوٹائی جائے گی اس وقت ان کے سامنے ان کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور بدی پیش کردی جائے گی۔ تمام اگلے پچھلے اعمال دیکھ لے گا۔ اعمال نامہ کو ڈرتا ہوا دیکھے گا اور اپنی پوری سوانح عمری اس میں پاکر حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ یہ کیسی کتاب ہے جس نے بڑی تو بڑی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہیں چھوڑی جو جس نے کیا تھا وہ وہاں پائے گا۔ تیرے رب کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ آخر میں فرمایا اللہ بڑا ہی دانا ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے۔
وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ
📘 لعان سے مراد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی ؒ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہوجائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لئے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لئے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں " اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔ " مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا انصاریو سنتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ حضرت ہلال بن امیہ ؓ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے ایک غیر مرد ہے خود آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ سے یہ ذکر کیا آپ کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔ سب انصار جمع ہوگئے اور کہنے لگے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ ﷺ ہلال بن امیہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کردے گا۔ کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرا۔ یارسول اللہ ﷺ مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کرسکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ آپ کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ ﷺ نے حضرت ہلال ؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا، اے ہلال ؓ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشادگی اور چھٹی نازل فرما دی۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے الحمدللہ مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ نے حضرت ہلال ؓ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے۔ ہلال فرمانے لگے یارسول اللہ ﷺ میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا حضور ﷺ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ حضرت ہلال ؓ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈر جا۔ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہوجائے گا تو آپ نے کہا یارسول اللہ ﷺ قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کردیئے۔ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح حضرت ہلال ؓ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کرلے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ حضرت ہلال ؓ کی طرف منسوب نہ کی جائے۔ نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ (ابوداؤد) اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ اور حضور ﷺ کے سامنے جب حضرت ہلال ؓ نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی۔ حضرت ہلال ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے ؟ لیکن آنحضرت ﷺ یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ ﷺ نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کردو پھر اسے نصیحت کی۔ اور فرمایا اللہ کی لعنت سے ہر چیز ہلکی ہے۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے ؟ یہ واقعہ ہے حضرت ابن زبیر ؓ کی امارت کے زمانہ کا۔ مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یارسول اللہ ﷺ کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بےشرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بےغیرتی کی خاموشی ہے۔ آپ سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا حضور ﷺ میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ ﷺ نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ ﷺ نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بےغیرتی اور بڑی بےحیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو آنحضرت ﷺ سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چناچہ اس نے انہی لفظوں میں حضور ﷺ سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت عویمر نے حضرت عاصم بن عدی سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ ﷺ سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے ؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا ؟ چناچہ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر ؓ عاصم سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ؟ اور آپ نے کیا جواب دیا ؟ عاصم نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ ﷺ نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر ؓ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کردیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لئے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔ ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے ؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کرسکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ ؓ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔
وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ
📘 لعان سے مراد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی ؒ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہوجائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لئے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لئے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں " اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔ " مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا انصاریو سنتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ حضرت ہلال بن امیہ ؓ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے ایک غیر مرد ہے خود آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ سے یہ ذکر کیا آپ کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔ سب انصار جمع ہوگئے اور کہنے لگے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ ﷺ ہلال بن امیہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کردے گا۔ کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرا۔ یارسول اللہ ﷺ مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کرسکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ آپ کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ ﷺ نے حضرت ہلال ؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا، اے ہلال ؓ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشادگی اور چھٹی نازل فرما دی۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے الحمدللہ مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ نے حضرت ہلال ؓ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے۔ ہلال فرمانے لگے یارسول اللہ ﷺ میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا حضور ﷺ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ حضرت ہلال ؓ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈر جا۔ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہوجائے گا تو آپ نے کہا یارسول اللہ ﷺ قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کردیئے۔ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح حضرت ہلال ؓ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کرلے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ حضرت ہلال ؓ کی طرف منسوب نہ کی جائے۔ نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ (ابوداؤد) اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ اور حضور ﷺ کے سامنے جب حضرت ہلال ؓ نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی۔ حضرت ہلال ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے ؟ لیکن آنحضرت ﷺ یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ ﷺ نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کردو پھر اسے نصیحت کی۔ اور فرمایا اللہ کی لعنت سے ہر چیز ہلکی ہے۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے ؟ یہ واقعہ ہے حضرت ابن زبیر ؓ کی امارت کے زمانہ کا۔ مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یارسول اللہ ﷺ کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بےشرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بےغیرتی کی خاموشی ہے۔ آپ سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا حضور ﷺ میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ ﷺ نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ ﷺ نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بےغیرتی اور بڑی بےحیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو آنحضرت ﷺ سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چناچہ اس نے انہی لفظوں میں حضور ﷺ سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت عویمر نے حضرت عاصم بن عدی سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ ﷺ سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے ؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا ؟ چناچہ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر ؓ عاصم سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ؟ اور آپ نے کیا جواب دیا ؟ عاصم نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ ﷺ نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر ؓ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کردیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لئے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔ ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے ؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کرسکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ ؓ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔
وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ
📘 لعان سے مراد ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ رب العالمین نے ان خاوندوں کیلئے جو اپنی بیویوں کی نسبت ایسی بات کہہ دیں چھٹکارے کی صورت بیان فرمائی ہے کہ جب وہ گواہ پیش نہ کرسکیں تو لعان کرلیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ امام کے سامنے آکر وہ اپنا بیان دے جب شہادت نہ پیش کرسکے تو حاکم اسے چار گواہوں کے قائم مقام چار قسمیں دے گا اور یہ قسم کھاکر کہے گا کہ وہ سچا ہے جو بات کہتا ہے وہ حق ہے۔ پانچویں دفعہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ اتنا کہتے ہی امام شافعی ؒ وغیرہ کے نزدیک اس کی عورت اس سے بائن ہوجائے گی اور ہمیشہ کیلئے حرام ہوجائے گی۔ یہ مہر ادا کر دے گا اور اس عورت پر زنا ثابت ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ عورت بھی سامنے ملاعنہ کرے تو حد اس پر سے ہٹ جائے گی۔ یہ بھی چار مرتبہ حلفیہ بیان دے گی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے۔ اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر وہ سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس نکتہ کو بھی خیال میں رکھئے کہ عورت کیلئے غضب کا لفظ کہا گیا اس لئے کہ عموماً کوئی مرد نہیں چاہتا کہ وہ اپنی بیوی کو خواہ مخواہ تہمت لگائے اور اپنے آپ کو بلکہ اپنے کنبے کو بھی بدنام کرے عموماً وہ سچا ہی ہوتا ہے اور اپنے صدق کی بنا پر ہی وہ معذور سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لئے پانچویں مرتبہ میں اس سے یہ کہلوایا گیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب آئے۔ پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو پھر غضب والے وہ ہوتے ہیں جو حق کو جان کر پھر اس سے روگردانی کریں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اللہ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو ایسی آسانیاں تم پر نہ ہوتیں بلکہ تم پر مشقت اترتی۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرمایا کرتا ہے گو کیسے ہی گناہ ہوں اور گو کسی وقت بھی توبہ ہو وہ حکیم ہے، اپنی شرع میں، اپنے حکموں میں، اپنی ممانعت میں " اس آیت کے بارے میں جو روایتیں ہیں وہ بھی سن لیجئے۔ " مسند احمد میں ہے جب یہ آیت اتری تو حضرت سعد بن عبادہ ؓ جو انصار کے سردار ہیں کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا انصاریو سنتے نہیں ہو ؟ یہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ درگزر فرمائیے یہ صرف ان کی بڑھی چڑھی غیرت کا باعث ہے اور کچھ نہیں۔ ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہیں کوئی بیٹی دینے کی جرأت نہیں کرتا۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ یہ تو میرا ایمان ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر میں کسی کو اس کے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھ لوں تو بھی میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا یہاں تک کہ میں چار گواہ لاؤں تب تک تو وہ اپنا کام پورا کرلے گا۔ اس بات کو ذرا سی ہی دیر ہوئی ہوگی کہ حضرت ہلال بن امیہ ؓ آئے یہ ان تین شخصوں میں سے ایک غیر مرد ہے خود آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں۔ صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ سے یہ ذکر کیا آپ کو بہت برا معلوم ہوا اور طبیعت پر نہایت ہی شاق گزرا۔ سب انصار جمع ہوگئے اور کہنے لگے حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے قول کی وجہ سے ہم اس آفت میں مبتلا کئے گئے مگر اس صورت میں کہ رسول اللہ ﷺ ہلال بن امیہ کو تہمت کی حد لگائیں اور اس کی شہادت کو مردود ٹھہرائیں۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے واللہ میں سچا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا چھٹکارا کردے گا۔ کہنے لگے یارسول اللہ ﷺ میں دیکھتا ہوں کہ میرا کلام آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرا۔ یارسول اللہ ﷺ مجھے اللہ کی قسم ہے میں سچا ہوں، اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ گواہ پیش نہیں کرسکتے تھے قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ انہیں حد مارنے کو فرماتے اتنے میں وحی اترنا شروع ہوئی۔ صحابہ آپ کے چہرے کو دیکھ کر علامت سے پہچان گئے کہ اس وقت وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب اترچکی تو آپ ﷺ نے حضرت ہلال ؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا، اے ہلال ؓ خوش ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کشادگی اور چھٹی نازل فرما دی۔ حضرت ہلال ؓ کہنے لگے الحمدللہ مجھے اللہ رحیم کی ذات سے یہی امید تھی۔ پھر آپ نے حضرت ہلال ؓ کی بیوی کو بلوایا اور ان دونوں کے سامنے آیت ملاعنہ پڑھ کر سنائی اور فرمایا دیکھو آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے۔ ہلال فرمانے لگے یارسول اللہ ﷺ میں بالکل سچا ہوں۔ اس عورت نے کہا حضور ﷺ یہ جھوٹ کہہ رہا ہے آپ نے حکم دیا کہ اچھا لعان کرو۔ تو ہلال کو کہا گیا کہ اس طرح چار قسمیں کھاؤ اور پانچویں دفعہ یوں کہو۔ حضرت ہلال ؓ جب چار بار کہہ چکے اور پانچویں بار کی نوبت آئی تو آپ سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈر جا۔ دنیا کی سزا آخرت کے عذابوں سے بہت ہلکی ہے یہ پانچویں بار تیری زبان سے نکلتے ہی تجھ پر عذاب واجب ہوجائے گا تو آپ نے کہا یارسول اللہ ﷺ قسم اللہ کی جس طرح اللہ نے مجھے دنیا کی سزا سے میری صداقت کی وجہ سے بچایا، اسی طرح آخرت کے عذاب سے بھی میری سچائی کی وجہ سے میرا رب مجھے محفوظ رکھے گا۔ پھر پانچویں دفعہ کے الفاظ بھی زبان سے ادا کردیئے۔ اب اس عورت سے کہا گیا کہ تو چار دفعہ قسمیں کھا کہ یہ جھوٹا ہے۔ جب وہ چاروں قسمیں کھاچکی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پانچویں دفعہ کے اس کلمہ کے کہنے سے روکا اور جس طرح حضرت ہلال ؓ کو سمجھایا گیا تھا اس سے بھی فرمایا تو اسے کچھ خیال پیدا ہوگیا۔ رکی، جھجکی، زبان کو سنبھالا، قریب تھا کہ اپنے قصور کا اقرار کرلے لیکن پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کیلئے اپنی قوم کو رسوا نہیں کرنے کی۔ پھر کہہ دیا کہ اگر اس کا خاوند سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پس آنحضرت ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور حکم دیدیا کہ اس سے جو اولاد ہو وہ حضرت ہلال ؓ کی طرف منسوب نہ کی جائے۔ نہ اسے حرام کی اولاد کہا جائے۔ جو اس بچے کو حرامی کہے یا اس عورت پر تہمت رکھے، وہ حد لگایا جائے گا، یہ بھی فیصلہ دیا کہ اس کا کوئی نان نفقہ اس کے خاوند پر نہیں کیونکہ جدائی کردی گئی ہے۔ نہ طلاق ہوئی ہے نہ خاوند کا انتقال ہوا ہے اور فرمایا دیکھو اگر یہ بچہ سرخ سفید رنگ موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہو تو تو اسے ہلال کا سمجھنا اور اگر وہ پتلی پنڈلیوں والا سیاہی مائل رنگ کا پیدا ہو تو اس شخص کا سمجھنا جس کے ساتھ اس پر الزام قائم کیا گیا ہے۔ جب بچہ ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ اس بری صفت پر تھا جو الزام کی حقانیت کی نشانی تھی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ مسئلہ قسموں پر طے شدہ نہ ہوتا تو میں اس عورت کو قطعاً حد لگاتا۔ یہ صاحبزادے بڑے ہو کر مصر کے والی بنے اور ان کی نسبت ان کی ماں کی طرف تھی۔ (ابوداؤد) اس حدیث کے اور بھی بہت سے شاہد ہیں۔ بخاری شریف میں بھی یہ حدیث ہے۔ اس میں ہے کہ شریک بن عماء کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ اور حضور ﷺ کے سامنے جب حضرت ہلال ؓ نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگے گی۔ حضرت ہلال ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ ایک شخص اپنی بیوی کو برے کام پر دیکھ کر گواہ ڈھونڈنے جائے ؟ لیکن آنحضرت ﷺ یہی فرماتے رہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ دونوں کے سامنے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی توبہ کرکے اپنے جھوٹ سے ہٹتا ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ پانچویں دفعہ آپ ﷺ نے کسی سے کہا کہ اس کا منہ بند کردو پھر اسے نصیحت کی۔ اور فرمایا اللہ کی لعنت سے ہر چیز ہلکی ہے۔ اسی طرح اس عورت کے ساتھ کیا گیا۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں کہ لعان کرنے والے مرد و عورت کی نسبت مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان میں جدائی کرا دی جائے ؟ یہ واقعہ ہے حضرت ابن زبیر ؓ کی امارت کے زمانہ کا۔ مجھ سے تو اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا تو میں اپنے مکان سے چل کر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی منزل پر آیا اور ان سے یہی مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ سب سے پہلے یہ بات فلاں بن فلاں نے دریافت کی تھی کہ یارسول اللہ ﷺ کوئی شخص اپنی عورت کو کسی برے کام پر پائے تو اگر زبان سے نکالے تو بھی بڑی بےشرمی کی بات ہے اور اگر خاموش رہے تو بھی بڑی بےغیرتی کی خاموشی ہے۔ آپ سن کر خاموش ہو رہے۔ پھر وہ آیا اور کہنے لگا حضور ﷺ میں نے جو سوال جناب سے کیا تھا افسوس وہی واقعہ میرے ہاں پیش آیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں آپ ﷺ نے دونوں کو پاس بلا کر ایک ایک کو الگ الگ نصیحت کی۔ بہت کچھ سمجھایا لیکن ہر ایک نے اپنا سچا ہونا ظاہر کیا پھر دونوں نے آیت کے مطابق قسمیں کھائیں اور آپ ﷺ نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ کا ایک مجمع شام کے وقت جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری نے کہا جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم اسے مار ڈالو گے اور اگر زبان سے نکالے گا تو تم شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسی کو کوڑے لگاؤ گے اور اگر یہ اندھیر دیکھ کر خاموش ہو کر بیٹھا رہے تو یہ بڑی بےغیرتی اور بڑی بےحیائی ہے۔ واللہ اگر میں صبح تک زندہ رہا تو آنحضرت ﷺ سے اس کی بابت دریافت کروں گا۔ چناچہ اس نے انہی لفظوں میں حضور ﷺ سے پوچھا اور دعا کی کہ یا اللہ اس کا فیصلہ نازل فرما۔ پس آیت لعان اتری اور سب سے پہلے یہی شخص اس میں مبتلا ہوا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت عویمر نے حضرت عاصم بن عدی سے کہا کہ ذرا جاؤ رسول اللہ ﷺ سے دریافت تو کرو کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پائے تو کیا کرے ؟ ایسا تو نہیں کہ وہ قتل کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے گا ؟ چناچہ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ اس سوال سے بہت ناراض ہوئے۔ جب عویمر ؓ عاصم سے ملے تو پوچھا کہ کہو تم نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ؟ اور آپ نے کیا جواب دیا ؟ عاصم نے کہا تم نے مجھ سے کوئی اچھی خدمت نہیں لی افسوس میرے اس سوال پر رسول اللہ ﷺ نے عیب پکڑا اور برا مانا۔ عویمر ؓ نے کہا اب اگر میں اسے اپنے گھر لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ تہمت باندھی تھی۔ پس آپ کے حکم سے پہلے ہی اس عورت کو جدا کردیا۔ پھر تو لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ مقرر ہوگیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ عورت حاملہ تھی اور ان کے خاوند نے اس سے انکار کیا کہ یہ حمل ان سے ہوا۔ اس لئے یہ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوتا رہا پھر منسون طریقہ یوں جاری ہوا کہ یہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اور ماں اس کی وارث ہوگی۔ ایک مرسل اور غریب حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ سے پوچھا کہ اگر تمہارے ہاں ایسی واردات ہو تو کیا کرو گے ؟ دونوں نے کہا گردن اڑا دیں گے۔ ایسے وقت چشم پوشی وہی کرسکتے ہیں جو دیوث ہوں، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلا لعان مسلمانوں میں ہلال بن امیہ ؓ اور ان کی بیوی کے درمیان ہوا تھا۔