🕋 تفسير سورة الأنفال
(Al-Anfal) • المصدر: UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ ۖ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
📘 بخاری شریف میں ہے ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں سورة انفال غزوہ بدر کے بارے میں اتری ہے۔ فرماتے ہیں انفال سے مراد غنیمتیں ہیں جو صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے ہی تھیں ان میں سے کوئی چیز کسی اور کیلئے نہ تھی۔ آپ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا گھوڑا بھی انفال میں سے ہے اور سامان بھی۔ سائل نے پھر پوچھا آپ نے پھر یہی جواب دیا اس نے پھر پوچھا کہ جس انفال کا ذکر کتاب اللہ میں ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ غرض پوچھتے پوچھتے آپ کو تنگ کردیا تو آپ نے فرمایا اس کا یہ کرتوت اس سے کم نہیں جسے حضرت عمر نے مارا تھا۔ حضرت فاروق اعظم سے جب سوال ہوتا تو آپ فرماتے نہ تجھے حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں، ابن عباس فرماتے ہیں واللہ حق تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا حکم فرمانے والا حلال حرام کی وضاحت کرنے والا ہی بنا کر بھیجا ہے۔ آپ نے اس سائل کو جواب دیا کہ کسی کسی کو بطور نفل (مال غنیمت) گھوڑا بھی ملتا اور ہتھیار بھی۔ دو تین دفعہ اس نے یہی سوال کیا جس سے آپ غضبناک ہوگئے اور فرمانے لگے یہ تو ایسا ہی شخص ہے جسے حضرت عمر نے کوڑے لگائے تھے یہاں تک کہ اس کی ایڑیاں اور ٹخنے خون آلود ہوگئے تھے۔ اس پر سائل کہنے لگا کہ خیر آپ سے تو اللہ نے عمر کا بدلہ لے ہی لیا۔ الغرض ابن عباس کے نزدیک تو یہاں نفل سے مراد پانچویں حصے کے علاوہ وہ انعامی چیزیں ہیں جو امام اپنے سپاہیوں کو عطا فرمائے۔ واللہ اعلم۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس پانچویں حصے کا مسئلہ پوچھا جو چار ایسے ہی حصوں کے بعد رہ جائے۔ پس یہ آیت اتری۔ ابن مسعود وغیرہ فرماتے ہیں لڑائی والے دن اس سے زیادہ امام نہیں دے سکتا بلکہ لڑائی کے شروع سے پہلے اگر چاہے دے دے۔ عطا فرماتے ہیں کہ یہاں مراد مشرکوں کا وہ مال ہے جو بےلڑے بھڑے مل جائے خواہ جانور ہو خواہ لونڈی غلام یا اسباب ہو پس وہ آنحضرت ﷺ کے لئے ہی تھا آپ کو اختیار تھا کہ جس کام میں چاہیں لگا لیں تو گویا ان کے نزدیک مال فے انفال ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد لشکر کے کسی رسالے کو بعوض ان کی کارکردگی یا حوصلہ افزائی کے امام انہیں عام تقسیم سے کچھ زیادہ دے اسے انفال کہا جاتا ہے۔ مسند احمد میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ بدر والے دن جب میرے بھائی عمیر قتل کئے گئے میں نے سعید بن عاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی جسے ذوالکتیعہ کہا جاتا تھا سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا جاؤ اسے باقی مال کے ساتھ رکھ آؤ۔ میں نے حکم کی تعمیل تو کرلی لیکن اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس وقت میرے دل پر کیا گذری۔ ایک طرف بھائی کق قتل کا صدمہ دوسری طرف اپنا حاصل کردہ سامان واپس ہونے کا صدمہ۔ ابھی میں چند قدم ہی چلا ہوں گا جو سورة انفال نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور وہ تلوار جو تم ڈال آئے ہو لے جاؤ۔ مسند میں حضرت سعد بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ آج کے دن اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے بچا لیا اب آپ یہ تلوار مجھے دے دیجئے آپ نے فرمایا سنو نہ یہ تمہاری ہے نہ میری ہے۔ اسے بیت المال میں داخل کردو میں نے رکھ دی اور میرے دل میں خیال آیا کہ آج جس نے مجھ جیسی محنت نہیں کی اسے یہ انعام مل جائے گا یہ کہتا ہوا جا ہی رہا تھا جو آواز آئی کہ کوئی میرا نام لے کر میرے پیچھے سے مجھے پکار رہا ہے لوٹا اور پوچھا کہ حضور کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہیں اتری ؟ آپ نے فرمایا ہاں تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی اس وقت وہ میری نہ تھی اب وہ مجھے دے دی گئی اور میں تمہیں دے رہا ہوں، پس آیت (يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ) 8۔ الانفال :1) اس بارے میں اتری ہے جو ابو داؤد طیالسی میں انہی سے مروی ہے کہ میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ مجھے بدر والے دن ایک تلوار ملی میں اسے لے کر سرکار رسالت مآب میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ تلوار آپ مجھے عنایت فرمائیے آپ نے فرمایا جاؤ جہاں سے لی ہے وہیں رکھ دو۔ میں نے پھر طلب کی آپ نے پھر یہی جواب دیا۔ میں نے پھر مانگی آپ نے پھر یہی فرمایا۔ اسی وقت یہ آیت اتری۔ یہ پوری حدیث ہم نے آیت (وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْـنًا ۭ وَاِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۭ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 29۔ العنکبوت :8) کی تفسیر میں وارد کی ہے۔ پس ایک تو یہ آیت دوسری آیت (وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰي وَهْنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14) 31۔ لقمان :14) تیسری آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 90) 5۔ المآئدہ :90) ، چوتھی آیت وصیت (صحیح مسلم شریف) سیرت ابن اسحاق میں ہے حضرت ابو سعید مالک بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں مجھے سیف بن عاند کی تلوار ملی جسے مرزبان کہا جاتا تھا۔ جب نبی ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو وہ جمع کرا دے، میں بھی گیا اور وہ تلوار رکھ آیا۔ آنحضرت ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ اگر کوئی آپ سے کچھ مانگتا تو آپ انکار نہ کرتے۔ حضرت ارقم بن ارقم خزاعی ؓ نے اس تلوار کو دیکھ کر آپ سے اسی کا سوال کیا آپ نے انہیں عطا فرما دی۔ اس آیت کے نزول کا سبب مسند امام احمد میں ہے کہ حضرت ابو امامہ نے حضرت عبادہ سے انفال کی بابت سوال کیا تو آپ نے فرمایا ہم بدریوں کے بارے میں ہے جبکہ ہم مال کفار کے بارے میں باہم اختلاف کرنے لگے اور جھگڑے بڑھ گئے تو یہ آیت اتری اور یہ رسول اللہ ﷺ کے سپرد ہوگئی اور حضور نے اس مال کو برابری سے تقسیم فرمایا۔ مسند احمد میں ہے کہ ہم غزوہ بدر میں حضور ﷺ کے ساتھ نکلے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی ہماری ایک جماعت نے تو ان کا تعاقب کیا کہ پوری ہزیمت دے دے دوسری جماعت نے مال غنیمت میدان جنگ سے سمیٹنا شروع کیا اور ایک جماعت اللہ کے نبی ﷺ کے اردگرد کھڑی ہوگئی کہ کہیں کوئی دشمن آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچائے۔ رات کو سب لوگ جمع ہوئے اور ہر جماعت اپنا حق اس مال پر جتانے لگی۔ پہلی جماعت نے کہا دشمنوں کو ہم نے ہی ہر ایا ہے۔ دوسری جماعت نے کہا مال غنیمت ہمارا ہی سمیٹا ہوا ہے۔ تیسری جماعت نے کہا ہم نے حضور کی چوکیداری کی ہے پس یہ آیت اتری اور حضور نے خود اس مال کو ہم میں تقسیم فرمایا۔ آپ کی عادت مبارک تھی کہ حملے کی موجودگی میں چوتھائی بانٹتے اور لوٹتے وقت تہائی آپ انفال کو مکروہ سمجھتے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ بدر والے دن رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ جو ایسا کرے اسے یہ انعام اور جو ایسا کرے اسے یہ انعام۔ اب نوجوان تو دوڑ پڑے اور کار نمایاں انجام دیئے۔ بوڑھوں نے مورچے تھامے اور جھنڈوں تلے رہے۔ اب جوانوں کا مطالبہ تھا کہ کل مال ہمیں ملنا چاہئے بوڑھے کہتے تھے کہ لشکر گاہ کو ہم نے محفوظ رکھا تم اگر شکست اٹھاتے تو یہیں آتے۔ اسی جھگڑے کے فیصلے میں یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ حضور کا اعلان ہوگیا تھا کہ جو کسی کافر کو قتل کرے اسے اتنا ملے گا اور جو کسی کافر کو قید کرے اسے اتنا ملے گا۔ حضرت ابو الیسر ؓ دو قیدی پکڑ لائے اور حضرت کو وعدہ یاد دلایا اس پر حضرت سعد بن عبادہ نے کہا کہ پھر تو ہم سب یونہی رہ جائیں گے۔ بزدلی یا بےطاقتی کی وجہ سے ہم آگے نہ بڑھے ہوں یہ بات نہیں بلکہ اس لئے کہ پچھلی جانب سے کفار نہ آپڑیں، حضور کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اس لئے ہم آپ کے ارد گرد رہے، اسی جھگڑے کے فیصلے میں یہ آیت اتری اور آیت (وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 41) 8۔ الانفال :41) بھی اتری، امام ابو عبید اللہ قاسم بن سلام نے اپنی کتاب احوال الشرعیہ میں لکھا ہے کہ انفال غنیمت ہے اور حربی کافروں کے جو مال مسلمانوں کے قبضے میں آئیں وہ سب ہیں پس انفال آنحضرت ﷺ کی ملکیت میں تھے بدر والے دن بغیر پانچواں حصہ نکالے جس طرح اللہ نے آپ کو سمجھایا آپ نے مجادین میں تقسیم کیا اس کے بعد پانچواں حصہ نکالنے کے حکم کی آیت اتری اور یہ پہلا حکم منسوخ ہوگیا لیکن ابن زید وغیرہ اسے منسوخ نہیں بتلاتے بلکہ محکم کہتے ہیں۔ انفال غنیمت کی جمع ہے مگر اس میں سے پانجواں حصہ مخصوص ہے۔ اس کی اہل کیلئے جیسے کہ کتاب اللہ میں حکم ہے اور جیسے کہ سنت رسول اللہ جاری ہوئی ہے۔ انفال کے معنی کلام عرب میں ہر اس احسان کے ہیں جسے کوئی بغیر کسی پابندی یا وجہ کے دوسرے کے ساتھ کرے۔ پہلے کی تمام امتوں پر یہ مال حرام تھے اس امت پر اللہ نے رحم فرمایا اور مال غنیمت ان کے لئے حلال کیا۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے حضور فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں پھر ان کے ذکر میں ایک یہ ہے کہ آپ نے فرمایا میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں مجھ سے پہلے کسی کو حلال نہ تھیں۔ امام ابو عبید فرماتے ہیں کہ امام جن لشکریوں کو کوئی انعام دے جو اس کے مقررہ حصہ کے علاوہ ہو اسے نفل کہتے ہیں غنیمت کے انداز اور اس کے کار نامے کے صلے کے برابر یہ ملتا ہے۔ اس نفل کی چار صورتیں ہیں ایک تو مقتول کا مال اسباب وغیرہ جس میں سے پانچواں حصہ نہیں نکالا جاتا۔ دوسرے وہ نفل جو پانچواں حصہ علیحدہ کرنے کے بعد دیا جاتا ہے۔ مثلاً امام نے کوئی چھوٹا سا لشکر کسی دشمن پر بھیج دیا وہ غنیمت یا مال لے کر پلٹا تو امام اس میں سے اسے چوتھائی یا تہائی بانٹ دے تیسرے صورت یہ کہ جو پانچواں حصہ نکال کر باقی کا تقسیم ہوچکا ہے، اب امام بقدر خزانہ اور بقدر شخصی جرات کے اس میں سے جسے جتنا چاہے دے۔ چوتھی صورت یہ کہ امام پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے ہی کسی کو کچھ دے مثلاً چرواہوں کو، سائیسوں کو، بہشتیوں کو وغیرہ۔ پھر ہر صورت میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنے سے پہلے جو سامان اسباب مقتولین کا مجاہدین کو دیا جائے وہ انفال میں داخل ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اپنا حصہ پانچویں حصے میں سے پانچواں جو تھا اس میں سے آپ جسے چاہیں جتنا چاہیں عطا فرمائیں یہ نفل ہے۔ پس امام کو چاہئے کہ دشمنوں کی کثرت مسلمانوں کی قلت اور ایسے ہی ضروری وقتوں میں اس سنت کی تابعیداری کرے۔ ہاں جب ایسا موقع نہ ہو تو نفل ضروری نہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ امام ایک چھوٹی سی جماعت کہیں بھیجتا ہے اور ان سے کہہ دیتا ہے کہ جو شخص جو کچھ حاصل کرے پانچواں حصہ نکال کر باقی سب اسی کا ہے تو وہ سب انہی کا ہے کیونکہ انہوں نے اسی شرط پر غزوہ کیا ہے اور یہ رضامندی سے طے ہوچکی ہے۔ لیکن ان کے اس بیان میں جو کہا گیا ہے کہ بدر کی غنیمت کا پانچواں حصہ نہیں نکالا گیا۔ اس میں ذرا کلام ہے۔ حضرت علی نے فرمایا تھا کہ دو اونٹنیاں وہ ہیں جو انہیں بدر کے دن پانچویں حصے میں ملی تھیں میں نے اس کا پورا بیان کتاب السیرہ میں کردیا ہے۔ فالحمد للہ۔ تم اپنے کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو، آپس میں صلح و صفائی رکھو، ظلم، جھگڑے اور مخالفت سے باز آجاؤ۔ جو ہدایت و علم اللہ کی طرف سے تمہیں ملا ہے اس کی قدر کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے رہو، عدل و انصاف سے ان مالوں کو تقسیم کرو۔ پرہیزگاری اور صلاحیت اپنے اندر پیدا کرو۔ مسند ابو یعلی میں ہے کہ حضور بیٹھے بیٹھے ایک مرتبہ مسکرائے اور پھر ہنس دیئے۔ حضرت عمر نے دریافت کیا کہ آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، کیسے ہنس دیئے ؟ آپ نے فرمایا میری امت کے دو شخص اللہ رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوگئے ایک نے کہا اللہ میرے بھائی سے میرے ظلم کا بدلہ لے اللہ نے اس سے فرمایا ٹھیک ہے اسے بدلہ دے اس نے کہا اللہ میرے پاس تو نیکیاں اب باقی نہیں رہیں اس نے کہا پھر اللہ میری برائیاں اس پر لا دھ دے۔ اس وقت حضور کے آنسو نکل آئے اور فرمانے لگے وہ دن بڑا ہی سخت ہے لوگ چاہتے ہوں گے تلاش میں ہوں گے کہ کسی پر ان کا بوجھ لادھ دیا جائے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے طالب اپنی نگاہ اٹھا اور ان جنتیوں کو دیکھ وہ دیکھے گا اور کہے گا چاندی کے قلعے اور سونے کے محل میں دیکھ رہا ہوں جو لؤ لؤ اور موتیوں سے جڑاؤ کئے ہوئے ہیں پروردگار مجھے بتایا جائے کہ یہ مکانات اور یہ درجے کسی نبی کے ہیں یا کسی صدیق کے یا کسی شہید کے ؟ اللہ فرمائے گا یہ اس کے ہیں جو ان کی قیمت ادا کر دے۔ وہ کہے گا اللہ کس سے ان کی قیمت ادا ہو سکے گی ؟ فرمائے گا تیرے پاس تو اس کی قیمت ہے وہ خوش ہو کر پوچھے گا کہ پروردگار کیا ؟ اللہ فرمائے گا یہی کہ تیرا جو حق اس مسلمان پر ہے تو اسے معاف کر دے، بہت جلد کہے گا کہ اللہ میں نے معاف کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ اب اس کا ہاتھ تھام لے اور تم دونوں جنت میں چلے جاؤ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کا آخری حصہ تلاوت فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور آپس کی اصلاح کرو دیکھو اللہ تعالیٰ خود قیامت کے دن مومنوں میں صلح کرائے گا۔
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
📘 سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ مسند احمد میں ہے کہ بدر والے دن نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہوجائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہوگی یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ آگے بڑھے آپ کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (پیچھے سے آپ کو اپنی با ہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ اب بس کیجئے آپ نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری۔ اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہوگئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور نے ان قیدی کفار کے بارے میں حضرت ابوبکر حضرت عمر حضرت علی ؓ سے مشورہ کیا۔ صدیق اکبر ؓ نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں۔ آپ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دے دے اور یہ ہمارے قوت وبازو بن جائیں۔ اب آپ نے حضرت فاروق اعظم ؓ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں حضرت صدیق ؓ کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو حضرت علی کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حضرت حمزہ ؓ کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کردیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کردیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں۔ حضور ﷺ نے ابوبکر ؓ کا مشورہ قبول کیا اور حضرت عمر کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے ؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے اسی کا بیان آیت (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67) 8۔ الانفال :67) سے (فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 69) 8۔ الانفال :69) تک ہے ـ پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی آنحضرت ﷺ کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہوگیا۔ پس یہ آیت اتری (اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ01605) 3۔ آل عمران :165) ، یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پاچکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے۔ ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت انحضرت ﷺ کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضرت مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ آنحضرت ﷺ جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد حضور ﷺ یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے (نسائی وغیرہ) ارشاد ہوا کہ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تھی اور بائیں حصے پر حضرت میکائیل ؑ ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی ایک قرأت میں مردفین بھی ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰحی اترے تھے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہوگئی ہیں اس انصاری صحابی نے حضور سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے امام بخاری ؒ نے باب باندھا ہے کہ " بدر والے دن فرشتوں کا اترنا " پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل ؑ حضور کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ کا درجہ آپ میں کیسا سمجھا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اور مسلمانوں سے بہت افضل۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں۔ بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب حضرت عمر نے حضرت حاطب بن ابو بلتعہ ؓ کے قتل کا مشورہ رسول اللہ ﷺ کو دیا تو آپ نے فرمایا وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ پھر فرماتا ہے کہ فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لئے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی جا ہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے۔ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے جیسے فرمان ہے آیت (فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ڎ فَاِمَّا مَنًّـۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۗءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَاڃ ذٰ۩لِكَ ړ وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ) 47۔ محمد :4) ، کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہوجائے تو پھر قید کرنا ہے۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہوجائے یہ ظاہری صورت ہے اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا اور آیت میں ہے (وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ01400ۙ) 3۔ آل عمران :140) یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کرلے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہوجاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے۔ جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کردیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے، ثمودی چیخ سے غارت کردیئے گئے، قوم لوط پر پتھر بھی برسے، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہوگیا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 43) 28۔ القصص :43) پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔ پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کردیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہوجائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ 14 ۙ) 9۔ التوبہ :14) ، اے مومنو ! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا۔ اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا۔ ابو جہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہوجاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے۔ جیسے کہ ابو لہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے جیسے ارشاد ہے ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے۔
إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْأَقْدَامَ
📘 تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا ۭقُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ ۚ وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ01504) 3۔ آل عمران :154) ، یعنی پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آگئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی حضرت مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ ﷺ جاگ رہے تھے آپ ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔ یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہوگئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر کے ساتھ رسول کریم ﷺ ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر حضرت صدیق اکبر سے فرمایا خوش ہو یہ ہیں جبرائیل ؑ گرد آلود پھر آیت قرآنی (سیھزم الجمع ویولون الدبر) پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہوگئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہوگئی۔ مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کرلی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہوگیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہوگئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آگئی پانچ سو فرشتے تو حضرت جبرائیل ؑ کی ما تحتی میں اور پانچ سو حضرت میکائیل کی ما تحتی میں۔ مشہور یہ ہے کہ آپ جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حضرت حباب بن منذر ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کرلیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ نے یہی کیا بھی۔ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ نے اس وقت حضرت جبرائیل سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہوگئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہوگیا۔ کیچڑ اور پھسلن ہوگئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہوگیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہوگئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہوگئی تھی ثابت قدمی میسر ہوچکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہوگئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہوگئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کرلو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہوگئے دل مطمئن ہوگئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت (عالیھم ثیاب سندس خضر الخ) ، ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہوجائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہوجائے اور حملے میں استقامت پیدا ہوجائے واللہ اعلم۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔ کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بددلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کردیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو ، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کردو۔ ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے چناچہ اور جگہ ہے آیت (فضرب الرقاب) گردنین مارو۔ حضور فرماتے ہیں میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ امام ابن جرید فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہوسکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ ﷺ گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا آپ نے پڑھ دیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پورا شعر پڑھ دیا۔ آپ کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ کے لائق۔ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ بنان جمع ہے بنانتہ کی۔ عربی شعروں میں بنانہ کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو بنان کہتے ہیں۔ اوزاعی کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کرلو پھر نہ مارنا۔ ابو جہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کرلو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چناچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کردیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے ؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے ؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند وبالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ اے کافرو ! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔
إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلَائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ
📘 تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا ۭقُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ ۚ وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ01504) 3۔ آل عمران :154) ، یعنی پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آگئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی حضرت مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ ﷺ جاگ رہے تھے آپ ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔ یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہوگئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر کے ساتھ رسول کریم ﷺ ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر حضرت صدیق اکبر سے فرمایا خوش ہو یہ ہیں جبرائیل ؑ گرد آلود پھر آیت قرآنی (سیھزم الجمع ویولون الدبر) پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہوگئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہوگئی۔ مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کرلی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہوگیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہوگئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آگئی پانچ سو فرشتے تو حضرت جبرائیل ؑ کی ما تحتی میں اور پانچ سو حضرت میکائیل کی ما تحتی میں۔ مشہور یہ ہے کہ آپ جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حضرت حباب بن منذر ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کرلیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ نے یہی کیا بھی۔ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ نے اس وقت حضرت جبرائیل سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہوگئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہوگیا۔ کیچڑ اور پھسلن ہوگئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہوگیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہوگئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہوگئی تھی ثابت قدمی میسر ہوچکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہوگئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہوگئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کرلو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہوگئے دل مطمئن ہوگئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت (عالیھم ثیاب سندس خضر الخ) ، ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہوجائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہوجائے اور حملے میں استقامت پیدا ہوجائے واللہ اعلم۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔ کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بددلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کردیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو ، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کردو۔ ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے چناچہ اور جگہ ہے آیت (فضرب الرقاب) گردنین مارو۔ حضور فرماتے ہیں میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ امام ابن جرید فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہوسکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ ﷺ گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا آپ نے پڑھ دیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پورا شعر پڑھ دیا۔ آپ کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ کے لائق۔ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ بنان جمع ہے بنانتہ کی۔ عربی شعروں میں بنانہ کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو بنان کہتے ہیں۔ اوزاعی کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کرلو پھر نہ مارنا۔ ابو جہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کرلو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چناچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کردیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے ؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے ؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند وبالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ اے کافرو ! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَمَنْ يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
📘 تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا ۭقُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ ۚ وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ01504) 3۔ آل عمران :154) ، یعنی پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آگئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی حضرت مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ ﷺ جاگ رہے تھے آپ ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔ یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہوگئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر کے ساتھ رسول کریم ﷺ ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر حضرت صدیق اکبر سے فرمایا خوش ہو یہ ہیں جبرائیل ؑ گرد آلود پھر آیت قرآنی (سیھزم الجمع ویولون الدبر) پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہوگئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہوگئی۔ مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کرلی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہوگیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہوگئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آگئی پانچ سو فرشتے تو حضرت جبرائیل ؑ کی ما تحتی میں اور پانچ سو حضرت میکائیل کی ما تحتی میں۔ مشہور یہ ہے کہ آپ جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حضرت حباب بن منذر ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کرلیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ نے یہی کیا بھی۔ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ نے اس وقت حضرت جبرائیل سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہوگئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہوگیا۔ کیچڑ اور پھسلن ہوگئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہوگیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہوگئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہوگئی تھی ثابت قدمی میسر ہوچکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہوگئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہوگئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کرلو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہوگئے دل مطمئن ہوگئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت (عالیھم ثیاب سندس خضر الخ) ، ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہوجائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہوجائے اور حملے میں استقامت پیدا ہوجائے واللہ اعلم۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔ کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بددلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کردیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو ، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کردو۔ ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے چناچہ اور جگہ ہے آیت (فضرب الرقاب) گردنین مارو۔ حضور فرماتے ہیں میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ امام ابن جرید فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہوسکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ ﷺ گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا آپ نے پڑھ دیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پورا شعر پڑھ دیا۔ آپ کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ کے لائق۔ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ بنان جمع ہے بنانتہ کی۔ عربی شعروں میں بنانہ کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو بنان کہتے ہیں۔ اوزاعی کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کرلو پھر نہ مارنا۔ ابو جہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کرلو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چناچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کردیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے ؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے ؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند وبالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ اے کافرو ! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔
ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابَ النَّارِ
📘 تائید الٰہی کے بعد فتح و کامرانی۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات بیان فرماتا ہے کہ اس جنگ بدر میں جبکہ اپنی کمی اور کافروں کی زیادتی، اپنی بےسرو سامانی اور کافروں کے پرشوکت سروسامان دیکھ کر مسلمانوں کے دل پر برا اثر پڑ رہا تھا پروردگار نے ان کے دلوں کے اطمینان کیلئے ان پر اونگھ ڈال دی جنگ احد میں بھی یہی حال ہوا تھا جیسے فرمان ہے آیت (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَاۗىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَاۗىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ يَظُنُّوْنَ باللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ ھَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِھِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا ھٰهُنَا ۭقُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِھِمْ ۚ وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ01504) 3۔ آل عمران :154) ، یعنی پورے غم و رنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں امن دیا جو اونگھ کی صورت میں تمہیں ڈھانکے ہوئے تھا ایک جماعت اسی میں مشغول تھی۔ حضرت ابو طلحہ ؓ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن پر احد والے دن اونگھ غالب آگئی تھی اس وقت میں نیند میں جھوم رہا تھا میری تلوار میرے ہاتھ سے گر پڑتی تھی اور میں اٹھاتا تھا میں نے جب نظر ڈالی تو دیکھا کہ لوگ ڈھالیں سروں پر رکھے ہوئے نیند کے جھولے لے رہے ہیں۔ حضرت علی ؓ کا بیان ہے کہ بدر والے دن ہمارے پورے لشکر میں گھوڑ سوار صرف ایک ہی حضرت مقداد تھے میں نے نگاہ بھر کر دیکھا کہ سارا لشکر نیند میں مست ہے صرف رسول اللہ ﷺ جاگ رہے تھے آپ ایک درخت تلے نماز میں مشغول تھے روتے جاتے تھے اور نماز پڑھتے جاتے تھے صبح تک آپ اسی طرح مناجات میں مشغول رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی للہ عنہ فرماتے ہیں کہ میدان جنگ میں اونگھ کا آنا اللہ کی طرف سے امن کا ملنا ہے اور نماز میں اونگھ کا آنا شیطانی حرکت ہے، اونگھ صرف آنکھوں میں ہی ہوتی ہے اور نیند کا تعلق دل سے ہے۔ یہ یاد رہے کہ اونگھ آنے کا مشہور واقعہ تو جنگ احد کا ہے لیکن اس آیت میں جو بدر کے واقعہ کے قصے کے بیان میں اونگھ کا اترنا موجود ہے پس سخت لڑائی کے وقت یہ واقعہ ہوا اور مومنوں کے دل اللہ کے عطا کردہ امن سے مطمئن ہوگئے یہ بھی مومنوں پر اللہ کا فضل و کرم اور اس کا لطف و رحم تھا سچ ہے سختی کے بعد آسانی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر کے ساتھ رسول کریم ﷺ ایک چھپر تلے دعا میں مشغول تھے جو حضور اونگھنے لگے۔ تھوڑی دیر میں جاگے اور تبسم فرما کر حضرت صدیق اکبر سے فرمایا خوش ہو یہ ہیں جبرائیل ؑ گرد آلود پھر آیت قرآنی (سیھزم الجمع ویولون الدبر) پڑھتے ہوئے جھونپڑی کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ یعنی ابھی ابھی یہ لشکر شکست کھائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔ دوسرا احسان اس جنگ کے موقعہ پر یہ ہوا کہ بارش برس گئی ابن عباس فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے میدان بدر کے پانی پر قبضہ کرلیا تھا مسلمانوں کے اور پانی کے درمیان وہ حائل ہوگئے تھے مسلمان کمزوری کی حالت میں تھے شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالنا شروع کیا کہ تم تو اپنے تئیں اللہ والے سمجھتے ہو اور اللہ کے رسول کو اپنے میں موجود مانتے ہو اور حالت یہ ہے کہ پانی تک تمہارے قبضہ میں نہیں مشرکین کے ہاتھ میں پانی ہے تم نماز بھی جنبی ہونے کی حالت میں پڑھ رہے ہو ایسے وقت آسمان سے مینہ برسنا شروع ہوا اور پانی کی ریل پیل ہوگئی۔ مسلمانوں نے پانی پیا بھی، پلایا بھی، نہا دھو کر پاکی بھی حاصل کرلی اور پانی بھر بھی لیا اور شیطانی وسوسہ بھی زائل ہوگیا اور جو چکنی مٹی پانی کے راستے میں تھی دھل کر وہاں کی سخت زمین نکل آئی اور ریت جم گئی کہ اس پر آمد ورفت آسان ہوگئی اور فرشتوں کی امداد آسمان سے آگئی پانچ سو فرشتے تو حضرت جبرائیل ؑ کی ما تحتی میں اور پانچ سو حضرت میکائیل کی ما تحتی میں۔ مشہور یہ ہے کہ آپ جب بدر کی طرف تشریف لے چلے تو سب سے پہلے جو پانی تھا وہاں ٹھہرے حضرت حباب بن منذر ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ اگر آپ کو اللہ کا حکم یہاں پڑاؤ کرنے کا ہوا تب تو خیر اور اگر جنگی مصلحت کے ساتھ پڑاؤ یہاں کیا ہو تو آپ اور آگے چلئے آخری پانی پر قبضہ کیجئے وہیں حوض بنا کر یہاں کے سب پانی وہاں جمع کرلیں تو پانی پر ہمارا قبضہ رہے گا اور دشمن پانی بغیر رہ جائے گا اور آپ نے یہی کیا بھی۔ مغازی اموی میں ہے کہ اس رائے کے بعد جبرائیل کی موجودگی میں ایک فرشتے نے آ کر آپ کو سلام پہنچایا اور اللہ کا حکم بھی کہ یہی رائے ٹھیک ہے۔ آپ نے اس وقت حضرت جبرائیل سے پوچھا کہ آپ انہیں جانتے ہیں ؟ حضرت جبرائیل نے فرمایا میں آسمان کے تمام فرشتوں سے واقف نہیں ہوں ہاں ہیں یہ فرشتے شیطان نہیں۔ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ مشرکین ڈھلوان کی طرف تھے اور مسلمان اونچائی کی طرف تھے بارش ہونے سے مسلمانوں کی طرف تو زمین دھل کر صاف ہوگئی اور پانی سے انہیں نفع پہنچا لیکن مشرکین کی طرف پانی کھڑا ہوگیا۔ کیچڑ اور پھسلن ہوگئی کہ انہیں چلنا پھرنا دو بھر ہوگیا بارش اس سے پہلے ہوئی تھی غبار جم گیا تھا زمین سخت ہوگئی تھی دلوں میں خوشی پیدا ہوگئی تھی ثابت قدمی میسر ہوچکی تھی اب اونگھ آنے لگی اور مسلمان تازہ دم ہوگئے۔ صبح لڑائی ہونے والی ہے رات کو ہلکی سی بارش ہوگئی ہم درختوں تلے جاچھپے حضور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ تمہیں پاک کر دے وضو بھی کرلو اور غسل بھی اس ظاہری پاکی کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی حاصل ہوئی شیطانی وسوسے بھی دور ہوگئے دل مطمئن ہوگئے جیسے کہ جنتیوں کے بارے میں فرمان ہے کہ آیت (عالیھم ثیاب سندس خضر الخ) ، ان کے بدن پر نہیں اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنکھن پہنائے جائیں گے اور انہیں ان کا رب پاک اور پاک کرنے والا شربت پلائے گا پس لباس اور زیور تو ظاہری زینت کی چیز ہوئی اور پاک کرنے والا پانی جس سے دلوں کی پاکیزگی اور حسد و بغض کی دوری ہوجائے۔ یہ تھی باطنی زینت۔ پھر فرماتا ہے کہ اس سے مقصود دلوں کی مضبوطی بھی تھی کہ صبرو برداشت پیدا ہو شجاعت و بہادری ہو دل بڑھ جائے ثابت قدمی ظاہر ہوجائے اور حملے میں استقامت پیدا ہوجائے واللہ اعلم۔ پھر اپنی ایک باطنی نعمت کا اظہار فرما رہا ہے تاکہ مسلمان اس پر بھی اللہ کا شکر بجا لائیں کہ اللہ تعالیٰ تبارک و تقدس و تمجد نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم جاؤ مسلمانوں کی مدد و نصرت کرو، ان کے ساتھ مل کر ہمارے دشمنوں کو نیچا دکھاؤ۔ ان کی گنتی گھٹاؤ اور ہمارے دوستوں کی تعداد بڑھاؤ۔ کہا گیا ہے کہ فرشتہ کسی مسلمان کے پاس آتا اور کہتا کہ مشرکوں میں عجیب بددلی پھیلی ہوئی ہے۔ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے حملہ کردیا تو ہمارے قدم نہیں ٹک سکتے ہم تو بھاگ کھڑے ہوں گے۔ اب ہر ایک دوسرے سے کہتا دوسرا تیسرے سے پھر صحابہ کے دل بڑھ جاتے اور سمجھ لیتے کہ مشرکوں میں طاقت و قوت نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ تم اے فرشتوں اس کام میں لگو ادھر میں مشرکوں کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دوں گا میں ان کے دلوں میں ذلت اور حقارت ڈال دوں گا میرے حکم کے نہ ماننے والوں کا میرے رسول کے منکروں کا یہی حال ہوتا ہے۔ پھر تم ان کے سروں پر وار لگا کر دماغ نکال دو ، گردنوں پر تلوار مار کے سر اور دھڑ میں جدائی کردو۔ ہاتھ پاؤں اور جوڑ جوڑ پور پور کو تاک تاک کر زخم لگاؤ۔ پس گردنوں کے اوپر سے بعض کے نزدیک مراد تو سر ہیں اور بعض کے نزدیک خود گردن مراد ہے چناچہ اور جگہ ہے آیت (فضرب الرقاب) گردنین مارو۔ حضور فرماتے ہیں میں قدرتی عذابوں سے لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ گردن مارنے اور قید کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ امام ابن جرید فرماتے ہیں کہ گردن پر اور سر پر وار کرنے کا استدلال اس سے ہوسکتا ہے۔ مغازی اموی میں ہے کہ مقتولین بدر کے پاس سے جب رسول اللہ ﷺ گذرے تو ایک شعر کا ابتدائی ٹکڑا آپ نے پڑھ دیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے پورا شعر پڑھ دیا۔ آپ کو نہ شعر یاد تھے نہ آپ کے لائق۔ اس شعر کا مطلب یہی ہے کہ جو لوگ ظالم اور باغی تھے اور آج تک غلبے اور شوکت سے تھے آج ان کے سر ٹوٹے ہوئے اور ان کے دماغ بکھرے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جو مشرک لوگ فرشتوں کے ہاتھ قتل ہوئے تھے انہیں مسلمان اس طرح پہچان لیتے تھے کہ ان کی گردنوں کے اوپر اور ہاتھ پیروں کے جوڑ ایسے زخم زدہ تھے جیسے آگ سے جلے ہونے کے نشانات۔ بنان جمع ہے بنانتہ کی۔ عربی شعروں میں بنانہ کا استعمال موجود ہے پس ہر جوڑ اور ہر حصے کو بنان کہتے ہیں۔ اوزاعی کہتے ہیں منہ پر آنکھ پر آگ کے کوڑے برساؤ ہاں جب انہیں گرفتار کرلو پھر نہ مارنا۔ ابو جہل ملعون نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو زندہ گرفتار کرلو تاکہ ہم انہیں اس بات کا مزہ زیادہ دیر تک چکھائیں کہ وہ ہمارے دین کو برا کہتے تھے، ہمارے دین سے ہٹ گئے تھے، لات و عزی کی پرستش چھوڑ بیٹھے ٹھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور فرشتوں کو یہ حکم دیا۔ چناچہ جو ستر آدمی ان کافروں کے قتل ہوئے ان میں ایک یہ پاجی بھی تھا اور جو ستر آدمی قید ہوئے ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط بھی تھا لعنہ اللہ تعالیٰ ، اس کو قید میں ہی قتل کیا گیا اور اس سمیت مقتولین مشرکین کی تعداد ستر ہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ اور بدلہ یہ ہے۔ شقاق ماخوذ ہے شق سے۔ شق کہتے ہیں پھاڑنے چیرنے اور دو ٹکڑے کرنے کو۔ پس ان لوگوں نے گویا شریعت، ایمان اور فرماں برداری کو ایک طرف کیا اور دوسری جانب خود رہے۔ لکڑی کے پھاڑنے کو بھی عرب یہی کہتے ہیں جبکہ لکڑی کے دو ٹکڑے کردیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف چل کر کوئی بچ نہیں سکا۔ کون ہے جو اللہ سے چھپ جائے ؟ اور اس کے بےپناہ اور سخت عذابوں سے بچ جائے ؟ نہ کوئی اس کے مقابلے کا نہ کسی کو اس کے عذابوں کی طاقت نہ اس سے کوئی بچ نکلے۔ نہ اس کا غضب کوئی سہہ سکے۔ وہ بلند وبالا وہ غالب اور انتقام والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود اور رب نہیں۔ وہ اپنی ذات میں، اپنی صفتوں میں یکتا اور لا شریک ہے۔ اے کافرو ! دنیا کے یہ عذاب اٹھاؤ اور ابھی آخرت میں دوزخ کا عذاب باقی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ
📘 شہیدان وفا کے قصے جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لئے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لئے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چناچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور آئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا بھاگنے والے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور کے ہاتھ چوم لئے۔ ابو داؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضور کے اس فرمان کے بعد آپ کا اس آیت کا تلاوت کرنا بھی مذکور ہے۔ حضرت ابو عبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لئے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب حضرت عمر ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لئے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لئے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ ﷺ تھے میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔ ضحاک فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس پناہ لے اس کے لئے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔ ہاں اس صورت کے سوا نامردی اور بزدلی کے طور پر لشکر گاہ سے جو بھاگ کھڑا ہو لڑائی میں پشت دکھائے وہ جہنمی ہے اور اس پر اللہ کا غضب ہے وہ حرمت کے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سات گناہوں سے جو مہلک ہیں بچتے رہو پوچھا گیا کہ وہ کیا کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، کسی کو ناحق مار ڈالنا، سود خوری، یتیم کا مال کھانا، میدان جہاد سے پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑا ہونا، ایماندر پاک دامن بےعیب عورتوں پر تہمت لگانا۔ فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کا غضب و غصہ لے کر لوٹتا ہے اس کی لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ جہنم ہے جو بہت ہی بدتر ہے۔ بشیر بن معبد کہتے ہیں میں حضور کے ہاتھ پر بیعت کرنے آیا تو آپ نے شرط بیان کی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، شہادت اور محمد ﷺ کی عبدیت و رسالت کی شہادت دوں پانچوں وقت کی نماز قائم رکھوں اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں اور حج مطابق اسلام بجا لاؤں اور رمضان المبارک کے مہی نے کے روزے رکھوں اور اللہ کی راہ میں جہاد کروں۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اس میں سے دو کام میرے بس کے نہیں ایک تو جہاد دوسرے زکوٰۃ میں نے تو سنا ہے کہ جہاد میں پیٹھ دکھانے والا اللہ کے غضب میں آجاتا ہے مجھے تو ڈر ہے کہ موت کا بھیانک سماں کہیں کسی وقت میرا منہ نہ پھیر دے اور مال غنیمت اور عشر ہی میرے پاس ہوتا ہے وہ ہی میرے بچوں اور گھر والوں کا اثاثہ ہے سواری لیں اور دودھ پئیں اسے میں کسی کو کیسے دے دوں ؟ آپ نے اپنا ہاتھ ہلا کر فرمایا جب جہاد بھی نہ ہو اور صدقہ بھی نہ ہو تو جنت کیسے مل جائے ؟ میں نے کہا اچھا یا رسول اللہ سب شرطیں منظور ہیں چناچہ میں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں مسند احمد میں ہے اور اس سند سے غریب ہے۔ طبرانی میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ تین گناہوں کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اللہ کے ساتھ شرک، ماں باپ کی نافرمانی لڑائی سے بھاگنا، یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ اسی طبرانی میں ہے آپ فرماتے ہیں جس نے دعا (استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو واتوب الیہ) پڑھ لیا اس کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں گو وہ لڑائی سے بھاگا ہو۔ ابو داؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں اور آنحضرت کے مولیٰ زید اس کے راوی ہیں۔ ان سے اس کے سوا کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ کے ساتھ مخصوص تھا اس لئے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بدری صحابہ کے ساتھ یہ خاص تھا کیونکہ ان کی کوئی جماعت تھی ہی نہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ اے اللہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ حضرت حسن فرماتے ہیں یو مئذ سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آجائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں (اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰن01505) 3۔ آل عمران :155) سے عفا اللہ عنھم تک۔ اس کے ساتھ سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت (ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ 25ۚ) 9۔ التوبہ :25) پھر اللہ نے جس کی جاہی توبہ قبول فرمائی۔ ابو داؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابو سعید فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے واللہ اعلم۔
وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
📘 شہیدان وفا کے قصے جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہوجائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لئے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لئے بھاگے یا اس طرح لشکر پیچھے ہٹے اور دشمن کو گھات میں لے کر پھر ان پر اچانک چھاپہ مار دے تو بیشک اس کیلئے پیٹھ پھیرنا جائز ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں جانا ہو جہاں چھوٹے سے لشکر سے بڑے لشکر کا ٹکراؤ ہو یا امام اعظم سے ملنا ہو تو وہ بھی اس میں داخل ہے۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور نے ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا میں بھی اس میں ہی تھا لوگوں میں بھگدڑ مچی میں بھی بھاگا ہم لوگ بہت ہی نادم ہوئے کہ ہم اللہ کی راہ سے بھاگے ہیں اللہ کا غضب ہم پر ہے ہم اب مدینے جائیں اور وہاں رات گذار کر آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش ہوں اگر ہماری توبہ کی کوئی صورت نکل آئے تو خیر ورنہ ہم جنگوں میں نکل جائیں۔ چناچہ نماز فجر سے پہلے ہم جا کر بیٹھ گئے جب حضور آئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تم کون لوگ ہو ؟ ہم نے کہا بھاگنے والے آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم لوٹنے والے ہو میں تمہاری جماعت ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں ہم نے بےساختہ آگے بڑھ کر حضور کے ہاتھ چوم لئے۔ ابو داؤد و ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ امام ترمذی اسے حسن کہہ کر فرماتے ہیں ہم اسے ابن ابی زیاد کے علاوہ کسی کی حدیث سے پہچانتے نہیں۔ ابن ابی حاتم میں حضور کے اس فرمان کے بعد آپ کا اس آیت کا تلاوت کرنا بھی مذکور ہے۔ حضرت ابو عبیدہ جنگ فارس میں ایک پل پر گھیر لئے گئے مجوسیوں کے ٹڈی دل لشکروں نے چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیا موقعہ تھا کہ آپ ان میں سے بچ کر نکل آتے لیکن آپ نے مردانہ وار اللہ کی راہ میں جام شہادت نوش فرمایا جب حضرت عمر ؓ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر وہ وہاں سے میرے پاس چلے آتے تو ان کے لئے جائز تھا کیونکہ میں مسلمانوں کی جماعت ہوں مجھ سے مل جانے میں کوئی حرج نہیں اور روایت میں ہے میں تمام مسلمانوں کی جماعت ہوں۔ اور روایت میں ہے کہ تم اس آیت کا غلط مطلب نہ لینا یہ واقعہ بدر کے متعلق ہے۔ اب تمام مسلمانوں کیلئے وہ فعتہ جس کی طرف پناہ لینے کے لئے واپس مڑنا جائز ہے، میں ہوں۔ ابن عمر سے نافع نے سوال کیا کہ ہم لوگ دشمن کی لڑائی کے وقت ثابت قدم نہیں رہ سکتے اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ فئتہ سے مراد امام لشکر ہے یا مسلمانوں کو جنگی مرکز آپ نے فرمایا فئتہ رسول اللہ ﷺ تھے میں نے اس آیت کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا یہ آیت بدر کے دن اتری ہے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔ ضحاک فرماتے ہیں لشکر کفار سے بھاگ کر آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس پناہ لے اس کے لئے جائز ہے۔ آج بھی امیر اور سالار لشکر کے پاس یا اپنے مرکز میں جو بھی آئے اس کیلئے یہی حکم ہے۔ ہاں اس صورت کے سوا نامردی اور بزدلی کے طور پر لشکر گاہ سے جو بھاگ کھڑا ہو لڑائی میں پشت دکھائے وہ جہنمی ہے اور اس پر اللہ کا غضب ہے وہ حرمت کے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے بخاری مسلم کی حدیث میں ہے سات گناہوں سے جو مہلک ہیں بچتے رہو پوچھا گیا کہ وہ کیا کیا ہیں ؟ فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، کسی کو ناحق مار ڈالنا، سود خوری، یتیم کا مال کھانا، میدان جہاد سے پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑا ہونا، ایماندر پاک دامن بےعیب عورتوں پر تہمت لگانا۔ فرمان ہے کہ ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کا غضب و غصہ لے کر لوٹتا ہے اس کی لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ جہنم ہے جو بہت ہی بدتر ہے۔ بشیر بن معبد کہتے ہیں میں حضور کے ہاتھ پر بیعت کرنے آیا تو آپ نے شرط بیان کی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، شہادت اور محمد ﷺ کی عبدیت و رسالت کی شہادت دوں پانچوں وقت کی نماز قائم رکھوں اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں اور حج مطابق اسلام بجا لاؤں اور رمضان المبارک کے مہی نے کے روزے رکھوں اور اللہ کی راہ میں جہاد کروں۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اس میں سے دو کام میرے بس کے نہیں ایک تو جہاد دوسرے زکوٰۃ میں نے تو سنا ہے کہ جہاد میں پیٹھ دکھانے والا اللہ کے غضب میں آجاتا ہے مجھے تو ڈر ہے کہ موت کا بھیانک سماں کہیں کسی وقت میرا منہ نہ پھیر دے اور مال غنیمت اور عشر ہی میرے پاس ہوتا ہے وہ ہی میرے بچوں اور گھر والوں کا اثاثہ ہے سواری لیں اور دودھ پئیں اسے میں کسی کو کیسے دے دوں ؟ آپ نے اپنا ہاتھ ہلا کر فرمایا جب جہاد بھی نہ ہو اور صدقہ بھی نہ ہو تو جنت کیسے مل جائے ؟ میں نے کہا اچھا یا رسول اللہ سب شرطیں منظور ہیں چناچہ میں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں مسند احمد میں ہے اور اس سند سے غریب ہے۔ طبرانی میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ تین گناہوں کے ساتھ کوئی نیکی نفع نہیں دیتی اللہ کے ساتھ شرک، ماں باپ کی نافرمانی لڑائی سے بھاگنا، یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ اسی طبرانی میں ہے آپ فرماتے ہیں جس نے دعا (استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو واتوب الیہ) پڑھ لیا اس کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں گو وہ لڑائی سے بھاگا ہو۔ ابو داؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں اور آنحضرت کے مولیٰ زید اس کے راوی ہیں۔ ان سے اس کے سوا کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ بھاگنے کی حرمت کا یہ حکم صحابہ کے ساتھ مخصوص تھا اس لئے کہ ان پر جہاد فرض عین تھا اور کہا گیا ہے کہ انصار کے ساتھ ہی مخصوص تھا اسلئے کہ ان کی بیعت سننے اور ماننے کی تھی خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ بدری صحابہ کے ساتھ یہ خاص تھا کیونکہ ان کی کوئی جماعت تھی ہی نہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ اے اللہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر زمین میں تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ حضرت حسن فرماتے ہیں یو مئذ سے مراد بدر کا دن ہے اب اگر کوئی اپنی بری جماعت کی طرف آجائے یا کسی قلعے میں پناہ لے تو میرے خیال میں تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ بدر والے دن جو بھاگے اس کیلئے دوزخ واجب تھی اس کے بعد جنگ احد ہوئی اس وقت یہ آیتیں اتریں (اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰن01505) 3۔ آل عمران :155) سے عفا اللہ عنھم تک۔ اس کے ساتھ سال بعد جنگ حنین ہوئی جس کے بارے میں قرانی ذکر ہے آیت (ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ 25ۚ) 9۔ التوبہ :25) پھر اللہ نے جس کی جاہی توبہ قبول فرمائی۔ ابو داؤد نسائی مستدرک حاکم وغیرہ میں ہے کہ ابو سعید فرماتے ہیں یہ آیت بدریوں کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ یاد رہے کہ گویہ مان لیا جائے کہ سبب نزول اس آیت کا بدری لوگ ہیں مگر لڑائی سے منہ پھیرنا تو حرام ہے جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گذرا کہ سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں ایک یہ بھی ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے واللہ اعلم۔
فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
📘 اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لئے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لئے فرماتا ہے کہ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بےکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا، جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ01203) 3۔ آل عمران :123) اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی اور آیت میں ہے آیت (لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ 25ۚ) 9۔ التوبہ :25) ، بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بےکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہوگئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت (کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ واللہ مع الصابرین) یعنی بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کرلیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے جو حضور ﷺ نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ روئے، گڑگڑائے اور منجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھرجائیں ساتھ ہی صحابہ کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کردو۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہ تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ حضور ﷺ۔ ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا یارسول اللہ آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ سدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر میں حضرت علی سے فرمایا کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو حضرت علی نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔ ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کردیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کردیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ ﷺ کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔ یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ ﷺ نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہوگیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورة انفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کردیا۔ حدیث میں ہے ہر ایک امتحان ہمارا امتحان ہے اور ہم پر اللہ کا احسان ہے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے ؟ پھر فرماتا ہے اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا اور یہی ہوا بھی۔
ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ
📘 اللہ کی مدد ہی وجہ کامرانی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بندوں کے کل کاموں کا خالق وہی ہے ان سے جو بھی اچھائیاں سرزد ہوں اس پر قابل تعریف وہی ہے اس لئے کہ توفیق اسی کی طرف سے ہے اور اعانت و مدد بھی اسی کی جانب سے ہے اسی لئے فرماتا ہے کہ اے مسلمانوں تم نے آپ اپنی طاقت و قوت سے اپنے دشمنوں کو قتل نہیں کیا تم تو مٹی بھر تھے اور دشمن بہت زیادہ تھے تم بےکس اور کمزور تھے دشمن کس بل والے قوت طاقت والے تھے۔ یہ اللہ ہی کی مدد تھی کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا، جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ01203) 3۔ آل عمران :123) اللہ نے بدر کے دن تمہاری مدد کی اور آیت میں ہے آیت (لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ 25ۚ) 9۔ التوبہ :25) ، بہت سی جگہ اللہ جل شانہ نے تمہاری امداد فرمائی ہے، حنین کے دن بھی جبکہ تمہیں اپنی زیادتی پر گھمنڈ ہوا لیکن وہ بےکارثابت ہوئی اور یہ وسیع زمین تم پر تنگ ہوگئی اور آخر منہ موڑ کر تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ پس ثابت ہے کہ گنتی کی زیادتی، ہتھیاروں کی عمدگی اور سازو سامان کی فروانی پر غلبہ موقوف نہیں وہ تو اللہ کی مدد پر موقوف ہے۔ جیسے ارشاد الٰہی ہے آیت (کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ واللہ مع الصابرین) یعنی بسا اوقات چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے بڑے بڑے لشکروں کے منہ پھیر دیئے ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کرلیا ہے یہ سب اللہ کے حکم اور اس کی مدد سے ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ پھر مٹی کی اس مٹھی کا ذکر ہو رہا ہے جو حضور ﷺ نے بدر کی لڑائی میں کافروں کی طرف پھینکی تھی پہلے تو آپ نے اپنی جھونپڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ روئے، گڑگڑائے اور منجات کر کے باہر نکلے اور کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی اور فرمایا ان کے چہرے بگڑ جائیں، ان کے منہ پھرجائیں ساتھ ہی صحابہ کو حکم دیا کہ فوراً عام حملہ کردو۔ ادھر حملہ ہوا ادھر سے وہ کنکریاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے کافروں کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ وہ سب اپنی آنکھیں مل ہی رہ تھے جو لشکر اسلام ان کے کلے پر پہنچ گیا۔ پس فرماتا ہے کہ وہ مٹھی تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی یعنی پھینکی تو حضور نے لیکن ان کی آنکھوں تک پہنچا کر انہیں شکست دینے والا اللہ تعالیٰ ہی تھا نہ کہ حضور ﷺ۔ ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی جس میں یہ بھی کہا کہ اے میرے پروردگار اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا تو پھر کبھی بھی تیری عبادت زمین پر نہ کی جائے گی اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا یارسول اللہ آپ ایک مٹھی زمین سے مٹی کی بھرلیں اور ان کے منہ کی طرف پھینک دیں آپ نے یہی کیا پس مشرکین کے سارے لشکر کے منہ اور آنکھ اور نتھنوں میں وہ مٹی گھس گئی اور انہیں پیٹھ پھیرتے ہی بنی۔ سدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر میں حضرت علی سے فرمایا کنکریوں کی ایک مٹھی زمین سے بھر کر مجھے دو حضرت علی نے مٹھی بھردی جس میں کنکریاں تھیں اور مٹی بھی۔ آپ نے مشرکوں کی طرف وہ مٹھی پھینکی جس سے ان کی آنکھیں بھر گئیں۔ ادھر سے مسلمانوں نے ان پر حملہ کردیا اور قتل کرنا اور قیمہ کرنا شروع کردیا اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ یہ تیرے بس کی بات نہ تھی بلکہ یہ اللہ کے بس کی چیز تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ تین کنکر لے کر آپ نے پھینکے تھے ایک دائیں ایک بائیں ایک بیچ میں۔ گو حنین والے دن بھی آپ نے کنکریاں مشرکوں کی طرف پھینکی تھیں لیکن یہاں ذکر جنگ بدر کے دن کا ہے۔ حکیم بن حزام کا بیان ہے کہ جنگ بدر کے دن ہم نے ایک آواز سنی کہ گویا آسمان سے کوئی کنکر کسی طشت میں گرا اسی وقت رسول اللہ ﷺ کی پھینکی ہوئی کنکریاں ہم میں پہنچیں اور ہمیں شکست ہوئی۔ یہ روایت اس سند سے بہت غریب ہے۔ یہاں دو قول اور بھی ہیں لیکن بالکل غریب ہیں۔ ایک تو یہ کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر یوم ابن ابی حقیق میں رسول اللہ ﷺ نے ایک کمان منگائی لوگوں نے بہت لمبی کمان لا کر آپ کو دی آپ نے اس سے قلعے کی طرف تیر پھینکا وہ گھومتا ہوا چلا اور سردار قلعہ الوالحقیق کو اس کے گھر میں اس کے بسترے پر جا کر لگا اور اسی سے وہ مرا اس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ وہ تیر تو نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکا تھا۔ یہ روایت غریب ہے ممکن ہے راوی کو شبہ ہوگیا ہو یا مراد ان کی یہ ہو کہ یہ آیت عام ہے یہ واقعہ بھی اسی میں شامل ہے۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ سورة انفال کی اس آیت میں جنگ بدر کے بیان کا ذکر ہے۔ تو یہ واقعہ اسی جنگ بدر کا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے تاکہ مومنوں کو اپنی نعمت کا اقرار کرا دے کہ باوجود ان کی کثرت ان کی قلت، ان کے سازو سامان ان کی بےسرو سامانی کے رب العالمین نے انہیں ان پر غالب کردیا۔ حدیث میں ہے ہر ایک امتحان ہمارا امتحان ہے اور ہم پر اللہ کا احسان ہے۔ اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ مدد اور غلبے کا مستحق کون ہے ؟ پھر فرماتا ہے اس فتح کے ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی سن لو کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے حیلے حوالے کمزور کر دے گا ان کی شان گھٹا دے گا ان کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا اور یہی ہوا بھی۔
إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ ۖ وَإِنْ تَنْتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۖ وَإِنْ تَعُودُوا نَعُدْ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ
📘 ایمان والوں کا متعین و مددگار اللہ عز اسمہ اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہا ہے کہ تم یہ دعائیں کرتے تھے کہ ہم میں اور مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے جو حق پر ہوا سے غالب کر دے اور اس کی مد فرمائے تو اب تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہوگئی مسلمان بحکم الٰہی اپنے دشمنوں پر غالب آگئے۔ ابو جہل نے بدر والے دن کہا تھا کہ اے اللہ ہم میں سے جو رشتوں ناتوں کا توڑنے والا ہو اور غیر معروف چیز لے کر آیا ہو اسے توکل کی لڑائی میں شکست دے پس اللہ تعالیٰ نے یہی کیا اور یہ اور اس کا لشکر ہار گئے، مکہ سے نکلنے سے پہلے ان مشرکوں نے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ الٰہی دونوں لشکروں میں سے تیرے نزدیک جو اعلیٰ ہو اور زیادہ بزرگ ہو اور زیادہ بہتری والا ہو تو اس کی مدد کر۔ پس اس آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ لو اللہ کی مدد آگئی تمہارا کہا ہوا پورا ہوگیا۔ ہم نے اپنے نبی کو جو ہمارے نزدیک بزرگ، بہتر اور اعلیٰ تھے غالب کردیا۔ خود قرآن نے ان کی دعا نقل کی ہے کہ یہ کہتے تھے دعا (وَاِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 32) 8۔ الانفال :32) ، الٰہی اگر یہ تیری جانب سے راست ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر لا۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر اب بھی تم اپنے کفر سے باز آجاؤ تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اللہ جل جلالہ اور اس کے رسول کو نہ جھٹلاؤ تو دونوں جہان میں بھلائی پاؤ گے اور اگر پھر تم نے یہی کفر و گمراہی کو تو ہم بھی اسی طرح مسلمانوں کے ہاتھوں تمہیں پست کریں گے۔ اگر تم نے پھر اسی طرح فتح مانگی تو ہم پھر اپنے نیک بندوں پر اپنی مدد اتاریں گے لیکن اول قول قوی ہے۔ یاد رکھو گو تم سب کے سب مل کر چڑھائی کرو تمہاری تعداد کتنی ہی بڑھ جائے اپنے تمام لشکر جمع کرلو لیکن سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے کہ خالق کائنات مومنوں کے ساتھ ہے اس لئے کہ وہ اس کے رسول کے ساتھ ہیں۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
📘 ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ابن عباس فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ اور آیتوں میں ہے آیت (واما من خاف مقام ربہ الخ) ، جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام درداء فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا ؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہوجاتے ہیں، اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے حضرت امام الائمہ امام بخاری ؒ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابو عبیدہ وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کردیا ہے۔ والحمد اللہ۔ ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لئے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو، پھر فرماتا ہے کہ جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری ؓ نبی ﷺ کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہاری صبح کس حال میں ہوئی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ نے فرمایا کہ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو ؟ ہر چیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے ؟ جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کرلیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ تین مرتبہ یہی فرمایا پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے۔ فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔ ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہوگا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہوگا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے ؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔ اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً ابوبکر اور عمر انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنْتُمْ تَسْمَعُونَ
📘 اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لئے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لئے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چناچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت (وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ01701) 2۔ البقرة :171) کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں اور آیت میں ہے کہ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل سانہ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
📘 اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لئے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لئے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چناچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت (وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ01701) 2۔ البقرة :171) کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں اور آیت میں ہے کہ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل سانہ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
۞ إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
📘 اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لئے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لئے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چناچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت (وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ01701) 2۔ البقرة :171) کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں اور آیت میں ہے کہ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل سانہ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ
📘 اللہ کی نگاہ میں بدترین مخلوق اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنی اور اپنے رسول کی فرمانبرداری کا حکم دیتا ہے اور مخالفت سے اور کافروں جیسا ہونے سے منع فرماتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اطاعت کو نہ چھوڑو، تابع داری سے منہ نہ موڑو۔ جن کاموں سے اللہ اور اسکا رسول روک دے رک جایا کرو، سن کر ان سنی نہ کردیا کرو، مشرکوں کی طرح نہ بن جاؤ کہ سنا نہیں اور کہہ دیا کہ سن لیا، نہ منافقوں کی طرح بنو کہ بظاہر ماننے والا ظاہر کردیا اور درحقیقت یہ بات نہیں۔ بدترین مخلوق جانوروں، کیڑے مکوڑوں سے بھی برے اللہ کے نزدیک ایسے ہی لوگ ہیں جو حق باتوں سے اپنے کان بہرے کرلیں اور حق کے سمجھنے سے گونگے بن جائیں، بےعقلی سے کام لیں۔ اس لئے کہ تمام جانور بھی اللہ قادر کل کے زیر فرمان ہیں جو جس کام کیلئے بنایا گیا ہے اس میں مشغول ہے مگر یہ ہیں کہ پیدا کئے گئے عبادت کے لئے لیکن کفر کرتے ہیں۔ چناچہ اور آیت میں انہیں جانوروں سے تشبیہ دی گئی۔ فرمان ہے آیت (وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ۭ ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ01701) 2۔ البقرة :171) کافروں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی انہیں آواز دے تو سوائے پکارا اور ندا کے کچھ نہ سنیں اور آیت میں ہے کہ یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہکے ہوئے اور غافل۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اس سے بنا عبدالدار کے قریشی ہیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں مراد اس سے منافق ہیں۔ بات یہ ہے کہ مشرک منافق دونوں ہی مراد ہیں دونوں ہی مراد ہیں دونوں میں صحیح فہم اور سلامتی والی عقل نہیں ہوتی نہ ہی عمل صالح کی انہیں توفیق ہوتی ہے۔ اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ انہیں سنا دیتا لیکن نہ ان میں بھلائی نہ توفیق الہٰ۔ اللہ جل سانہ کو علم ہے کہ انہیں سنایا بھی سمجھایا بھی تو بھی یہ اپنی سرکشی سے باز نہیں آئیں گے بلکہ اور اکڑ کر بھاگ جائیں گے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
📘 دل رب کی انگلیوں میں ہیں صحیح بخاری شریف میں ہے استجیبوا معنی میں اجیبوا کے ہے لما بحییکم معنی بما بصلحکم کے ہے یعنی اللہ اور اس کا رسول تمہیں جب آواز دے تم جواب دو اور مان لو کیونکہ اس کے فرمان کے ماننے میں ہی تمہاری مصلحت ہے۔ حضرت ابو سعید بن معلی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نماز میں تھا آنحضرت ﷺ میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کرلیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے سے پہلے ہی میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورت سکھاؤں گا۔ جب آنحضرت ﷺ نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلایا اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کا ہے اور آپ نے وہ سورت فاتحہ بتلائی اور فرمایا سات آیتیں دوہرائی ہوئی یہی ہیں۔ اس حدیث کا پورا پورا بیان سورة فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔ زندگی، آخرت میں جات، عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا قرآن کی تعلیم، حق کو تسلیم کرنے اور اسلام لانے اور جہاد میں ہے۔ ان ہی چیزوں کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے۔ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے۔ یعنی مومن میں اور کفر میں کافر میں اور ایمان میں۔ یہ معنی ایک مرفوع حدیث میں بھی ہیں لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ قول ابن عباس کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔ مجاہد کہتے ہیں یعنی اسے اس حال میں چھوڑنا ہے کہ وہ کسی چیز کو سمجھتا نہیں۔ سدی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر نہ ایمان لاسکے نہ کفر کرسکے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ آیت مثل آیت (وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ 16) 50۔ ق :16) کے ہے یعنی بندے کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہم ہیں۔ اس آیت کے مناسب حدیثیں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے آنحضرت ﷺ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ تو ہم نے عرض کی یارسول اللہ ہم آپ پر اور آپ پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لا چکے ہیں کیا پھر بھی آپ کو ہماری نسبت خطرہ ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان دل ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کا تغیر و تبدل کرتا رہتا ہے۔ ترمذی میں بھی یہ روایت کتاب القدر میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور یہ دعا پڑھا کرتے تھے دعا (با مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک) اے دلوں کے پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھ۔ مسند احمد میں ہے آپ فرماتے ہیں ہر دل اللہ تعالیٰ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب سیدھا کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے اور جب ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے، آپ کی دعا تھی کہ اے مقلب القلوب اللہ میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، فرماتے ہیں میزان رب رحمان کے ہاتھ میں ہے، جھکاتا ہے اور اونچی کرتا ہے، مسند کی اور حدیث میں ہے کہ آپ کی اس دعا کو اکثر سن کر حضرت مائی عائشہ ؓ نے آپ سے پوچھا کہ بکثرت اس دعا کے کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا انسان کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے ٹیڑھا کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے سیدھا کردیتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ کی اس دعا کو بکثرت سن کر حضرت ام سلمہ ؓ نے آپ سے پوچھا کہ کیا دل پلٹ جاتے ہیں ؟ آپ نے یہی جواب دیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا پروردگار ہے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہدایت کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت و نعمت عطا فرمائے وہ بڑی ہی بخشش کرنے والا اور بہت انعاموں والا یہ۔ حضرت ام سلمہ کہتی ہیں میں نے حضور سے پھر درخواست کی کہ کیا آپ مجھے میرے لئے بھی کوئی دعا سکھائیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ دعا مانگا کرو دعا (اللھم رب النبی محمد اغفرلی ذنبی و اذھب غیظ قلبی و اجرنی من مضلات الفتن ما احییتنی) یعنی اے اللہ اسے محمد نبی ﷺ کے پروردگار میرے گناہ معاف فرما میرے دل کی سختی دور کر دے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بجا لے جب تک بھی تو مجھے زندہ رکھ۔ مسند احمد میں ہے کہ تمام انسانوں کے دل ایک ہی دل کی طرح اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے پھر آپ نے دعا کی کہ اے دلوں کے پھیر نے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے۔
وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
📘 برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان اور اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو گنہگاروں بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا بلکہ اس بلاء کی وبا عام ہوگی۔ حضرت زبیر سے لوگوں نے کہا کہ اے ابو عبداللہ تمہیں کونسی چیز لائی ہے ؟ تم نے مقتول خلیفہ کو دھوکہ دیا پھر اس کے خون کے بدلے کی جستجو میں تم آئے اس پر حضرت زبیر ؓ نے فرمایا ہم آنحضرت ﷺ اور حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں اس آیت (واتقوا الخ) ، کو پڑھتے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے اہل ہیں یہاں تک کہ یہ واقعات رونما ہوئے اور روایت میں ہے کہ عہد نبوی میں ہی ہم اس آیت سے ڈرا دئے گئے تھے لیکن یہ خیال بھی نہ تھا کہ ہم ہی اس کے ساتھ مخصوص کردیئے گئے ہیں۔ سدی کہتے ہیں یہ آیت خاصتاً اہل بدر کے بارے میں اتری ہے کہ وہ جنگ جمل میں آپس میں خوب لڑے بھڑے۔ ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے خاص اصحاب رسول ہیں۔ فرماتے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو حکم فرما رہا کہ وہ آپس میں کسی خلاف شرع کام کو باقی اور جاری نہ رہنے دیں۔ ورنہ اللہ کے عام عذاب میں سب پکڑ لئے جائیں گے۔ یہ تفسیر نہایت عمدہ ہے مجاہد کہتے ہیں یہ حکم تمہارے لئے بھی ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں تم میں سے ہر شخص فتنے میں مشغول ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں فتنہ ہیں پس تم میں سے جو بھی پناہ مانگے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگے ہر گمراہ کن فتنے سے پناہ طلب کرلیا کرے۔ صحیح بات یہی ہے کہ اس فرمان میں صحابہ اور غری صحابہ سب کو تنبیہ ہے گو خطاب انہی سے ہے اسی پر دلالت ان احادیث کی ہے جو فتنے سے ڈرانے کیلئے ہیں گو ان کے بیان میں ائمہ کرام کی مستقل تصانیف ہیں لیکن بعض مخصوص حدیثیں ہم یہاں بھی وارد کرتے ہیں اللہ ہماری مدد فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو اللہ عزوجل عذاب نہیں کرتا ہاں اگر وہ کوئی برائی دیکھیں اور اس کے مٹانے پر قادر ہوں پھر بھی اس خلاف شرع کام کو نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ سب کو عذاب کرتا ہے (مسند احمد) اس کی اسناد میں ایک راوی مبہم ہے۔ اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یا تو تم اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے پاس سے کوئی عام عذاب نازل فرمائے گا۔ (مسند احمد) حضرت حذیفہ ؓ کا فرمان ہے کہ ایک آدمی ایک بات زبان سے نکالتا تھا اور منافق ہوجاتا تھا لیکن اب تو تم ایک ہی مجلس میں نہایت بےپرواہی سے چار چار دفعہ ایسے کلمات اپنی زبان سے نکال دیا کرتے ہو واللہ یا تو تم نیک باتوں کا حکم بری باتوں سے روکو اور نیکیوں کی رغبت دلاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو تہس نہس کر دے گا یا تم پر برے لوگوں کو مسلط کر دے گا پھر نیک لوگ دعائیں کریں گے لیکن وہ قبول نہ فرمائے گا (مسند) حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے اپنے خطبے میں اپنے کانوں کی طرف اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا اللہ کی حدوں پر قائم رہنے والے، ان میں واقع ہونے والے اور ان کے بارے میں سستی کرنے والوں کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ایک کشتی میں سوار ہوئے کوئی نیچے تھا کوئی اوپر تھا۔ نیچے والے پانی لینے کے لئے اوپر آتے تھے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی آخر انہوں نے کہا آؤ یہیں سے نیچے سے ہی کشتی کا ایک تختہ توڑ لیں حسب ضرورت پانی یہیں سے لے لیا کریں گے تاکہ نہ اوپر جانا پڑے نہ انہیں تکلیف پہنچے پس اگر اوپر والے ان کے کام اپنے ذمہ لے لیں اور انہیں کشی کے نیچے کا تختہ اکھاڑ نے سے روک دیں تو وہ بھی بچیں اور یہ بھی ورنہ وہ بھی ڈوبیں گے اور یہ بھی (بخاری) ایک اور حدیث میں رسول ﷺ فرماتے ہیں جب میری امت میں گناہ ظاہر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے عام عذاب آب پر بھیجے گا۔ حضرت ام سلمہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ان میں تو نیک لوگ بھی ہوں گے آپ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ پوچھا پھر وہ لوگ کیا کریں گے ؟ آپ نے فرمایا انہیں بھی وہی پہنچے گا جو اوروں کو پہنچا اور پھر انہیں اللہ کی مغفرت اور رضامندی ملے گی (مسند احمد) ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو لوگ برے کام کرنے لگیں اور ان میں کوئی ذی عزت ذی اثر شخص ہو اور وہ منع نہ کرے روکے نہیں تو ان سب کو اللہ کا عذاب ہوگا سزا میں سب شامل رہیں گے (مسند و ابو داؤد وغیرہ) اور روایت میں ہے کہ کرنے والے تھوڑے ہوں نہ کرنے والے زیادہ اور ذی اثر ہوں پھر بھی وہ اس بڑائی کو نہ روکیں تو اللہ ان سب کو اجتماعی سزا دے گا۔ مسند کی اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا جب زمین والوں میں بدی ظاہر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب اتارتا ہے حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا کہ ان ہی میں اللہ کے اطاعت گذار بندے بھی ہوں گے آپ نے فرمایا عذاب عام ہوگا پھر وہ اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ جائیں گے۔
وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
📘 اہل ایمان پر اللہ کے احسانات مومنوں کو پروردگار عالم اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے کہ ان کی گنتی اس نے بڑھا دی، ان کی کمزوری کو زور سے بدل دیا، ان کے خوف کو امن سے بدل دیا، ان کی ناتوانی کو طاقت سے بدل دیا، ان کی فقیری کو امیری سے بدل دیا، انہوں نے جیسے جسیے اللہ کے فرمان کی بجا آوری کی ویسے ویسے یہ تری پا گئے۔ مومن صحابہ مکہ کے قیام کی حالت میں تعداد میں بہت تھوڑے تھے، چھپے پھرتے تھے، بےقرار رہتے تھے، ہر وقت دشمنوں کا خطرہ لگا رہتا تھا، مجوسی ان کے دشمن تھے، یہودی ان کی جان کے پیچھے، بت پرست ان کے خون کے پیاسے، نصرانی ان کی فکر میں۔ دشمنوں کی یہ حالت تھی تو ان کی اپنی یہ حالت کہ تعداد میں انگلیوں پر گن لو۔ بغیر طاقت شان شوکت مطلقاً نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں مدینے کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے یہ مان لیتے ہیں وہاں پہنچتے ہی اللہ ان کے قدم جما دیتا ہے وہاں مدینہ والوں کو ان کا ساتھی بلکہ پشت پناہ بنا دیتا ہے وہ ان کی مدد پر اور ساتھ دینے پر تیار ہوجاتے ہیں بدر والے دن اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں، اپنے مال پانی کی طرح راہ حق میں بہاتے ہیں اور دوسرے موقعوں پر بھی نہ اطاعت چھوڑتے ہیں نہ ساتھ نہ سخاوت۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چاند کی طرح چمکنے لگتے ہیں اور سورج کی طرح دمکنے لگتے ہیں۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی ؒ فرماتے ہیں کہ عرب کے یہ لوگ سب سے زیادہ گرے ہوئے، سب سے زیادہ تنگ حال، سب سے زیادہ بھوکے ننگے، سب سے زیادہ گمراہ اور بےدین و مذہب تھے۔ جیتے تو ذلت کی حالت میں، مرتے تو جہنمی ہو کر، ہر ایک ان کے سر کچلتا لیکن یہ آپ میں الجھے رہتے۔ واللہ روئے زمین پر ان سے زیادہ گمراہ کوئی نہ تھا۔ اب یہ اسلام لائے اللہ کے رسول کے اطاعت گذار بنے تو ادھر سے ادھر تک شہروں بلکہ ملکوں پر ان کا قبضہ ہوگیا دنیا کی دولت ان کے قدموں پر بکھرنے لگی لوگوں کی گردنوں کے مالک اور دنیا کے بادشاہ بن گئے یاد رکھو یہ سب کچھ سچے دین اور اللہ کے رسول کی تعلیم پر عمل کے نتائج تھے پس تم اپنے پروردگار کے شکر میں لگے رہو اور اس کے بڑے بڑے احسان تم پر ہیں وہ شکر کو اور شکر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے سنو شکر گذار نعمتوں کی زیادتی میں ہی رہتے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
📘 اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں آنحضرت ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کردیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتادیا کہ حضور کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب حضرت ابو لبابہ ؓ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آگئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گرپڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کرلی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول کریم ﷺ اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں چناچہ آپ خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کرلے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ نے ارشاد فرمایا نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ابو سفیان مکہ سے چلا جبر ئیل ؑ نے آ کر حضور ﷺ کو خبر دی کہ ابو سفیان فلاں جگہ ہے آپ نے صحابہ سے ذکر کیا اور فرمادیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حضرت حاطب بن ابو بلتعہ ؓ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں آنحضرت ﷺ کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خبر کردی آپ نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حضرت حاطب نے اپنے قصور کا اقرار کیا حضرت عمر نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔ سدی فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا ایک صورت اس کی حضور کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو ؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو ؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بےنفع ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف ومالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہوجانا تمام چیزوں کا فوت ہوجانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، جو محض اللہ کے لئے دوستی رکھتا ہو اور جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنا معلوم ہوتا ہو۔ بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ
📘 اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں آنحضرت ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کردیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتادیا کہ حضور کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب حضرت ابو لبابہ ؓ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آگئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گرپڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کرلی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول کریم ﷺ اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں چناچہ آپ خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کرلے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ نے ارشاد فرمایا نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ابو سفیان مکہ سے چلا جبر ئیل ؑ نے آ کر حضور ﷺ کو خبر دی کہ ابو سفیان فلاں جگہ ہے آپ نے صحابہ سے ذکر کیا اور فرمادیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حضرت حاطب بن ابو بلتعہ ؓ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں آنحضرت ﷺ کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خبر کردی آپ نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حضرت حاطب نے اپنے قصور کا اقرار کیا حضرت عمر نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔ سدی فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا ایک صورت اس کی حضور کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو ؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو ؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بےنفع ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف ومالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہوجانا تمام چیزوں کا فوت ہوجانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، جو محض اللہ کے لئے دوستی رکھتا ہو اور جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنا معلوم ہوتا ہو۔ بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
📘 دنیا و آخرت کی سعادت مندی فرقان سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہوجائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کرلیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کرلیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر وثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے فرمان عالی شان ہے یایھا الزین امنو اتقواللہ وامنو ابر سولہ یوتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور الرحیم یعنی اے مسلمانو ! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دوہرے حصے دے گا اور تمہارے لئے ایک نور مہیا کر دے گا جس کے ساتھ تم چلتے پھرتے رہو گے اور تمہیں بخش بھی دے گا، اللہ غفورو رحیم ہے۔
الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
📘 ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ابن عباس فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ اور آیتوں میں ہے آیت (واما من خاف مقام ربہ الخ) ، جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام درداء فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا ؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہوجاتے ہیں، اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے حضرت امام الائمہ امام بخاری ؒ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابو عبیدہ وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کردیا ہے۔ والحمد اللہ۔ ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لئے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو، پھر فرماتا ہے کہ جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری ؓ نبی ﷺ کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہاری صبح کس حال میں ہوئی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ نے فرمایا کہ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو ؟ ہر چیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے ؟ جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کرلیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ تین مرتبہ یہی فرمایا پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے۔ فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔ ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہوگا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہوگا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے ؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔ اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً ابوبکر اور عمر انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ
📘 رسول اللہ ﷺ کے قتل کی ناپاک سازش کافروں نے یہی تین ارادے کئے تھے جب ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو کفار کے راز اور ان کے پوشیدہ چالیں معلوم بھی ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ تین شور یکر رہے ہیں۔ اس نے تعجب ہو کر پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی ؟ آپ نے فرمایا میرے پروردگر نے، اس نے کہا آپ کا پروردگار بہترین پروردگار ہے، تم اس کی خیر خواہی میں ہی رہنا۔ آپ نے فرمایا میں اس کی خیر خواہی کیا کرتا وہ خو دمیری حفاظت اور بھلائی کرتا ہے۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے لیکن اس واقعہ میں ابو طالب کا ذکر بہت غریب بلکہ منکر ہے اس لئے کہ آیت تو مدینے میں اتری ہے اور کافروں کا یہ مشورہ ہجرت کی رات تھا اور یہ واقعہ ابو طالب کی موت کے تقریباً تین سال کے بعد کا ہے۔ اسی کی موت نے ان کی جراتیں دوبالا کردی تھیں، اس ہمت اور نصرت کے بعد ہی تو کافروں نے آپ کی ایذاء دہی پر کمر باندھی تھی۔ چناچہ مسند احمد میں ہے کہ قریش کے تمام قبیلوں کے سرداروں نے دارالندوہ میں جمع ہونے کا ارادہ کیا۔ ملعون ابلیس انہیں ایک بہت بڑے مقطع بزرگ کی صورت میں ملا۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں ؟ اس نے کہا اہل نجد کا شیخ ہوں۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ لوگ آج ایک مشورے کی غرض سے جمع ہونے والے ہیں، میں بھی حاضر ہوا کہ اس مجلس میں شامل ہوجاؤں اور رائے میں اور خیر خواہی میں کوئی کمی نہ کروں۔ آخرمجلس جمع ہوئی تو اس نے کہا اس شخص کے بارے میں پورے غور و خوض سے کوئی صحیہ رائے قائم کرلو۔ واللہ اس نے تو سب کا ناک میں دم کردیا ہے۔ وہ دلوں پر کیسے قبضہ کرلیتا ہے ؟ کوئی نہیں جو اس کی باتوں کا بھوکوں کی طرح مشتاق نہ رہت اہو۔ واللہ اگر تم نے اسے یہاں سے نکالا تو وہ اپنی شیریں زبانی اور آتش بیانی سے ہزارہا ساتھی پیدا کرلے گا اور پھر جو ادھر کا رخ کرے گا تو تمہیں چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا پھر تو تمہارے شریفوں کو تہ تیغ کر کے تم سب کو یہاں سے بیک بینی و دوگوش نکال باہر کرے گا۔ سب نے کہا شیخ جی سچ فرماتے ہیں اور کوئی رائے پیش کرو اس پر ابو جہل ملعون نے کہا ایک رائے میری سن لو۔ میرا خیال ہے کہ تم سب کے ذہن میں بھی یہ بات نہ آئی ہوگی، بس یہی رائے ٹھیک ہے، تم اس پر بےکھٹکے عمل کرو۔ سب نے کہا چچا بیان فرما ئیے ! اس نے کہا ہر قبیلے سے ایک نوجوان جری بہادر شریف مانا ہوا شخص چن لو یہ سب نوجوان ایک ساتھ اس پر حملہ کریں اور اپنی تلواروں سے اس کے ٹکڑے اڑا دیں پھر تو اس کے قبیلے کے لوگ یعنی بنی ہاشم کو یہ تو ہمت نہ ہوگی قریش کے تمام قبیلوں سے لڑیں کیونکہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان اس کے قتل میں شریک ہوگا۔ اس کا خون تمام قبائل قریش میں بٹا ہوا ہوگا ناچار وہ دیت لینے پر آمادہ ہوجائیں گے، ہم اس بلا سے چھوٹ جائیں گے اور اس شخص کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب تو شیخ تندی اجھل پڑا اور کہنے لگا اللہ جانتا ہے واللہ بس یہی ایک رائے بالکل ٹھیک ہے اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی بس یہی کرو اور اس قصے کو ختم کرو اس سے بہتر کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔ چناچہ یہ پختہ فیصلہ کر کے یہ مجلس برخاست ہوئی۔ وہیں حضرت جبرائیل آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے فرمایا آج کی رات آپ اپنے گھر میں اپنے بسترے پر نہ سوئیں کافروں نے آپ کے خلاف آج میٹنگ میں یہ تجویز طے کی ہے۔ چناچہ آپ نے یہی کیا اس رات آپ اپنے گھر اپنے بستر پر نہ لیٹے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی اور آپ کے مدینے پہنچ جانے کے بعد اس آیت میں اپنے اس احسان کا زکر فرمایا اور ان کے اس فریب کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ام یقولون شاعر الخ، اس دن کا نام ہی یوم الزحمہ ہوگیا۔ ان کے انہی ارادوں کا ذکر آیت وان کا دو الیستفزونک میں ہے۔ آنحضرت ﷺ مکہ شریف میں اللہ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ قریشیوں نے جمع ہو کر مکر کا ارادہ کیا۔ جبرائیل علیہ اسللام نے آپ کو خبر کردی اور کہا کہ آج آپ اس مکان میں نہ سوئیں جہاں سویا کرتے تھے۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو بلا کر اپنے بسترے پر اپنی سبز چادر اوڑھا کر لیٹنے کو فرمایا اور آپ باہر آئے۔ قریش کے مختلف قبیلوں کا مقررہ جتھا آپ کے دراوزے کو گھیرے کھڑا تھا۔ آپ نے زمین سے ایک مٹھی مٹی اور کنکر بھر کر ان کے سروں اور آنکھوں میں ڈال کر سورة یاسین کی فھم لا یبصرون تک کی تلاوت کرتے ہوئے نکل گئے۔ صحیح ابن حبان اور مستدرک ہاکم میں ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس روتی ہوئی آئیں آپ نے دریافت فرمایا کہ پیاری بیٹی کیوں رو رہی ہو ؟ عرض کیا کہ ابا جی کیسے نہ روؤں یہ قریش خانہ کعبہ میں جمع ہیں لات و عزیٰ کی قسمیں کھا کر یہ طے کیا ہے کہ ہر قبیلے کے لوگ آپ کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوں اور ایک ساتھ حملہ کر کے قتل کردیں تاکہ الزام سب پر آئے اور ایک بلوہ قرارپائے کوئی خاص شخص قاتل نہ ٹھہرے آپ نے فرمایا بیٹی پانی لاؤ پانی آیا رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور مسجد حرام کی طرف چلے انہوں نے آپ کو دیکھا اور دیکھتے ہی غل مچایا کہ لو وہ آگیا اٹھو اسی وقت ان کے سر جھک گئے ٹھوڑیاں سینے سے لگ گئیں نگاہ اونچی نہ کرسکے آنحضرت ﷺ نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا یہ منہالٹے ہوجائیں گے یہ چہرے برباد ہوجائیں جس شخص پر ان کنکرکیوں میں سے کوئی کنکر پڑا وہ ہی بدر والے دن کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رات کو مشرکوں کا مشورہ ہوا۔ کسی نے کہا صبح کو اسے قید کردو، کسی نے کہا مار ڈالو، کسی نے کہا دیس نکالا دے دو ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو اس پر مطلع فرما دیا۔ اس رات حضرت علی آپ کے بسترے پر سوئے اور آپ مکہ سے نکل کھڑے ہوئے۔ غار میں جا کر بیٹھے رہے۔ مشرکین یہ سمجھ کر کہ خود رسول اکرم ﷺ اپنے بسترے پر لیٹے ہوئے ہیں سار رات پہرہ دیتے رہے صبح سب کود کر اندر پہنچے دیکھا تو حضرت علی ہیں ساری تدبیر چوپٹ ہوگئی پوچھا کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں ؟ آپ نے اپنی لا علمی ظاہر کی۔ یہ لوگ قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے اس پہاڑ تک پہنچ گئے۔ وہاں سے پھر کوئی پتہ نہ چلا سکا۔ پہاڑ پر چڑھ گئے، اس غار کے پاس سے گذرے لیکن دیکھا کہ وہاں مکڑی کا جالا تنا ہوا ہے کہنے لگے اگر اس میں جاتے تو یہ جالا کیسے ثابت رہ جاتا ؟ حضور ﷺ نے تین راتین اسی غار میں گذاریں۔ پس فرماتا ہے کہ انہوں نے مکر کیا میں بھی ان سے ایسی مضبوط چال چلا کہ آج تجھے ان سے بجا کرلے ہی آیا۔
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا قَالُوا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَا ۙ إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
📘 عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور وتکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہہ دیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہوگئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا ؟ ﷺ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لا یا گیا اور حضور کے فرمان سے آپ کے سامنے اس کی گردن ماری گئی فالحمدللہ اسے قید کرنے والے حضرت مقداد بن اسود ؓ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ حضرت مقداد بنے کہا بھی کہ یا رسول اللہ میرا قیدی ؟ آپ نے فرمایا یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔ انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور میں جسے باندھ کر لایا ہوں ؟ آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔ آپ خوش ہوگئے اور عرض کیا کہ حضور یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ حضور کا فرمان مروی ہے کہ اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ اس لئے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لئے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ہر چیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آجاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبر ی میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔ یہ تو کہا کرتے تھے کہ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہوجائے گا بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخوات کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولاا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، جو اس اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سجا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابو جہل وعیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ رسول اللہ کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر سال سائل میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت وقالو ربنا عجل لنا الخ، میں ہے اور آیت ولقد جئتمونا فرادی الخ، میں ہے اور آیت سال سائل الخ، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ عمرو بن عاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد ﷺ کا لا یا ہوا دین حق ہے تو مجھے مریے گھورے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بع وقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔ ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک اسی وقت رسول اللہ ﷺ فرماتے بس بس لیکن وہ پھر کہتے الا شریک ھو لک تملیکہ و ما ملک یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے غفوانک غفوانک اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔ اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی ﷺ دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا قرشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر بڑا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لئے باعث امن وامان تھا۔ ان دو وجہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤ گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا (مستدرک حاکم) مسند احمد میں ہی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔
وَإِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
📘 عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور وتکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہہ دیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہوگئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا ؟ ﷺ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لا یا گیا اور حضور کے فرمان سے آپ کے سامنے اس کی گردن ماری گئی فالحمدللہ اسے قید کرنے والے حضرت مقداد بن اسود ؓ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ حضرت مقداد بنے کہا بھی کہ یا رسول اللہ میرا قیدی ؟ آپ نے فرمایا یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔ انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور میں جسے باندھ کر لایا ہوں ؟ آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔ آپ خوش ہوگئے اور عرض کیا کہ حضور یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ حضور کا فرمان مروی ہے کہ اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ اس لئے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لئے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ہر چیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آجاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبر ی میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔ یہ تو کہا کرتے تھے کہ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہوجائے گا بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخوات کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولاا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، جو اس اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سجا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابو جہل وعیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ رسول اللہ کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر سال سائل میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت وقالو ربنا عجل لنا الخ، میں ہے اور آیت ولقد جئتمونا فرادی الخ، میں ہے اور آیت سال سائل الخ، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ عمرو بن عاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد ﷺ کا لا یا ہوا دین حق ہے تو مجھے مریے گھورے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بع وقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔ ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک اسی وقت رسول اللہ ﷺ فرماتے بس بس لیکن وہ پھر کہتے الا شریک ھو لک تملیکہ و ما ملک یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے غفوانک غفوانک اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔ اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی ﷺ دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا قرشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر بڑا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لئے باعث امن وامان تھا۔ ان دو وجہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤ گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا (مستدرک حاکم) مسند احمد میں ہی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔
وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
📘 عذاب الٰہی نہ آنے کا سبب : اللہ کے رسول اور استغفار اللہ تعالیٰ مشرکوں کے غرور وتکبر، ان کی سرکشی اور ناحق شناسی کی، ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی حالت بیان کرتا ہے کہ جھوٹ موت بک دیتے ہیں کہ ہاں بھئی ہم نے قرآن سن لیا، اس میں رکھا کیا ہے۔ ہم خود قدر ہیں، اگر چاہیں تو اسی جیسا کلام کہہ دیں۔ حالانکہ وہ کہہ نہیں سکتے۔ اپنی عاجزی اور تہی دستی کو خوب جانتے، لیکن زبان سے شیخی بگھارتے تھے۔ جہاں قرآن سنا تو اس کی قدر گھٹانے کیلئے بک دیا جب کہ ان سے زبردست دعوے کے ساتھ کہا گیا کہ لاؤ اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر لاؤ تو سب عاجز ہوگئے۔ پس یہ قول صرف جاہلوں کی خوش طبعی کیلئے کہتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ یہ کہنے والا نصر بن حارث ملعون تھا۔ یہ خبیث فارس کے ملک گیا تو تھا اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر آیا تھا۔ یہاں حضور کو نبوت مل چکی تھی آپ لوگوں کو کلام اللہ شریف سنا رہے ہوتے جب آپ فارغ ہوتے تو یہ اپنی مجلس جماتا اور فارس کے قصے سناتا، پھر فخراً کہتا کہو میرا بیان اچھا ہے یا محمد کا ؟ ﷺ۔ یہ بدر کے دن قید ہو کر لا یا گیا اور حضور کے فرمان سے آپ کے سامنے اس کی گردن ماری گئی فالحمدللہ اسے قید کرنے والے حضرت مقداد بن اسود ؓ تھے۔ قبہ بن ابی معیط، طعیمہ بن عدی، نصر بن حارث، یہ تینوں اسی قید میں قتل کئے گئے۔ حضرت مقداد بنے کہا بھی کہ یا رسول اللہ میرا قیدی ؟ آپ نے فرمایا یہ اللہ عزوجل کی کتاب کے بارے میں زبان درازی کرتا تھا۔ انہوں نے بعد از قتل پھر کہا کہ حضور میں جسے باندھ کر لایا ہوں ؟ آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اپنے فضل سے مقداد کو غنی کر دے۔ آپ خوش ہوگئے اور عرض کیا کہ حضور یہی میرا مقصد اور مقصود تھا۔ اسی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام ہے لیکن یہ غلط ہے بدر والے دن وہ تو زندہ ہی نہ تھا بلکہ حضور کا فرمان مروی ہے کہ اگر آج یہ زندہ ہوتا اور مجھ سے ان قیدیوں کو طلب کرتا تو میں اسے دے دیتا۔ اس لئے کہ طائف سے لوٹتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو وہی اپنی پناہ میں مکہ میں لے گیا تھا۔ یہ کفار کہتے تھے کہ قرآن میں سوائے پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کہانیوں کے کیا دھرا ہے انہیں کو پڑھ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ حالانکہ یہ محض جھوت بات تھی جو انہوں نے گھڑ لی تھی اسی لئے ان کے اس قول کو نقل کر کے جناب باری نے فرمایا ہے کہ انہیں جواب دے کہ اسے تو آسمان و زمین کی تمام غائب باتوں کے جاننے والے نے اتارا ہے جو غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ توبہ کرنے والوں کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اپنے سامنے جھکنے والوں پر بڑے کرم کرتا ہے۔ پھر ان کی جہالت کا کرشمہ بیان ہو رہا ہے کہ چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ یا اللہ اگر یہ حق ہے تو ہمیں اس کی ہدایت دے اور اس کی اتباع کی توفیق نصیب فرما لیکن بجائے اس کے یہ دعا کرنے لگے کہ ہمیں جلد عذاب کر۔ بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ہر چیز کا وقت مقرر ہے ورنہ اس پر بھی عذاب آجاتا لیکن اگر تمہارا یہی حال رہا تو پھر بھی وہ دن دور نہیں اچانک ان کی بیخبر ی میں اپنے وقت پر آ ہی جائے گا۔ یہ تو کہا کرتے تھے کہ ہمارا فیصلہ فیصلے کے دن سے پہلے ہی ہوجائے گا بطور مذاق عذاب کے واقع ہونے کی درخوات کرتے تھے جو کافروں پر آنے ولاا ہے، جسے کوئی روک نہیں سکتا، جو اس اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ اگلی امتوں کے جاہلوں کا بھی یہی وطیرہ رہا۔ قوم شعیب نے کہا تھا کہ اے مدعی نبوت اگر تو سجا ہے تو ہم پر آسمان کو گرا دے۔ اسی طرح ان لوگوں نے کہا۔ ابو جہل وعیرہ نے یہ دعا کی تھی جس کے جواب میں فرمایا گیا کہ رسول اللہ کی موجودگی اور انہی میں سے بعض کا استغفار اللہ کے عذاب کی ڈھال ہے۔ نصر بن حارث بن کلدہ نے بھی یہی دعا کی تھی جس کا ذکر سال سائل میں ہے ان کے اسی قول کا ذکر آیت وقالو ربنا عجل لنا الخ، میں ہے اور آیت ولقد جئتمونا فرادی الخ، میں ہے اور آیت سال سائل الخ، میں ہے۔ غرض دس سے اوپر اوپر آیتیں اس بیان میں ہیں۔ عمرو بن عاص جنگ احد میں اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ اگر محمد ﷺ کا لا یا ہوا دین حق ہے تو مجھے مریے گھورے سمیت زمین میں دھنسا دے گو اس امت کے بع وقوفوں نے یہ تمنا کی لیکن اللہ نے اس امت پر رحم فرمایا اور جواب دیا کہ ایک تو پیغمبر کی موجودگی عام عذاب سے مانع ہے دوسرے تم لوگوں کا استغفار۔ ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ مشرک حج میں طواف کے وقت کہتے تھے لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک اسی وقت رسول اللہ ﷺ فرماتے بس بس لیکن وہ پھر کہتے الا شریک ھو لک تملیکہ و ما ملک یعنی ہم حاضر ہیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ پھر کہتے ہاں وہ شریک جو خود بھی تیری ملکیت میں ہیں اور جن چیزوں کو وہ مالک ہیں ان کا بھی اصل مالک تو ہی ہے اور کہتے غفوانک غفوانک اے اللہ ہم تجھ سے استغفار کرتے ہیں اے اللہ تو ہمیں معاف فرما۔ اسی طلب بخشش کو عذاب کے جلد نہ آنے کا سبب بتایا گیا ہے۔ فرماتے ہیں ان میں دو سبب تھے ایک تو نبی ﷺ دوسرے استغفار پس آپ تو چل دیئے اور استغفار باقی رہ گیا قرشی آپس میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ کو اللہ نے ہم میں سے ہم پر بزرگ بنایا اے اللہ اگر یہ سچا ہے تو تو ہمیں عذاب کر۔ جب ایمان لائے تو اپنے اس قول پر بڑا ہی نادم ہوئے اور استغفار کیا اسی کا بیان دوسری آیت میں ہے۔ پس انبیاء کی موجودگی میں قوموں پر عذاب نہیں آتا ہاں وہ نکل جائیں پھر عذاب برس پڑتے ہیں اور چونکہ ان کی قسمت میں ایمان تھا اور بعد از ایمان وہ استغفار اہل مکہ کے لئے باعث امن وامان تھا۔ ان دو وجہ امن میں سے ایک تو اب نہ رہا دوسرا اب بھی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھ پر دو امن میری امت کیلئے اترے ہیں ایک میری موجودگی دوسرے ان کا استغفار پس جب میں چلا جاؤ گا تو استغفار قیامت تک کیلئے ان میں چھوڑ جاؤں گا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ شیطان نے کہا اے اللہ مجھے تیری عزت کی قسم میں تو جب تک تیرے بندوں کے جسم میں روح ہے انہیں بہکاتا رہوں گا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی میری جلالت اور میری بزرگی کی قسم جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا (مستدرک حاکم) مسند احمد میں ہی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بندہ اللہ کے عذابوں سے امن میں رہتا ہے جب تک وہ اللہ عزوجل سے استغفار کرتا ہے۔
وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ ۚ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
📘 ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چناچہ آپ کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کردیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چناچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے ھم الذین کفروا الخ، یعنی یہ مکہ والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلالا ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لئے ہے کہ اللہ جسے جا ہے اپنی رحمت میں لے لے۔ اگر مکہ میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقینا ان کافروں کو درد ناک مار مری جاتی۔ پس آنحضرت ﷺ کی موجودگی اہل مکہ کے لئے باعث امن رہی پھر حضور کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکہ سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکہ پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔ چناچہ حسن بصری وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کرلیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں ؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ الخ، مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔ مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں اور آیت میں ہے کہ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام کی بےحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔ آنحضرت ﷺ سے سوال کیا گیا کہ آپ کے دوست کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ نے پڑھا ان اولیاء الا المتقون مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں ؟ انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں پس اللہ کے اولیاء محمد ﷺ ہیں اور آپ کے اصحاب ؓ اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔ پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں ؟ یا تو جانروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیتیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہوگئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔ یہ بھی مقصود تھا کہ حضور کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھر پور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تلوار چلی، چیخ اور زلزلے آئے۔
وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً ۚ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
📘 ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن آنحضرت ﷺ کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چناچہ آپ کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کردیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چناچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے ھم الذین کفروا الخ، یعنی یہ مکہ والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلالا ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لئے ہے کہ اللہ جسے جا ہے اپنی رحمت میں لے لے۔ اگر مکہ میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقینا ان کافروں کو درد ناک مار مری جاتی۔ پس آنحضرت ﷺ کی موجودگی اہل مکہ کے لئے باعث امن رہی پھر حضور کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکہ سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکہ پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔ چناچہ حسن بصری وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کرلیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں ؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ الخ، مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔ مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں اور آیت میں ہے کہ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد حرام کی بےحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔ آنحضرت ﷺ سے سوال کیا گیا کہ آپ کے دوست کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ نے پڑھا ان اولیاء الا المتقون مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں ؟ انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں پس اللہ کے اولیاء محمد ﷺ ہیں اور آپ کے اصحاب ؓ اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔ پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں ؟ یا تو جانروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیتیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہوگئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔ یہ بھی مقصود تھا کہ حضور کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھر پور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تلوار چلی، چیخ اور زلزلے آئے۔
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ
📘 شکست خوردہ کفار کی سازشیں قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو افیسان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی ؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چناچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ، اسی پر یہ آیت اتری کہ خرچ کرو ورنہ یہ بھی غارت جائے گا اور دوبارہ منہ کی کھاؤ گے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لئے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نامرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہوگا، اس کا بول بالا ہوگا، اس کا دین غالب ہوگا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہوگی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہوگی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہوگی اور دنیا میں بھی۔ فرمان ہے ثم نقول للذین اشر کو الخ، قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو اور آیت میں ہے قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہوجائیں گے اور آیت میں ہے اس دن یہ ممتاز ہوجائیں گے اور آیت میں ہے وامتازو الیوم ایھا المجرمون اے گنہگارو تم آج نیک کاروں سے الگ ہوجاؤ۔ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ لام لام تو لیل ہوسکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہوجائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے ؟ چناچہ فرمان ہے وما اصابکم یوم التقی الجمعان الخ، یعنی دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہوجائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے اور آیت میں ہے ماکان اللہ لیذر المومنین علی ماانتم علیہ الخ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔ یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے ام جسبتم ان تدخلوا الجنتہ الخ، کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ سورة برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لئے مبتلا کیا ہے اور اس لئے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہوجائے۔ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دے۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔
لِيَمِيزَ اللَّهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
📘 شکست خوردہ کفار کی سازشیں قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو افیسان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی ؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چناچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ، اسی پر یہ آیت اتری کہ خرچ کرو ورنہ یہ بھی غارت جائے گا اور دوبارہ منہ کی کھاؤ گے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لئے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا۔ اس خواہش کا انجام نامرادی ہی ہے۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے۔ اس کا کلمہ بلند ہوگا، اس کا بول بالا ہوگا، اس کا دین غالب ہوگا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہوگی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہوگی۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہوگی اور دنیا میں بھی۔ فرمان ہے ثم نقول للذین اشر کو الخ، قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو اور آیت میں ہے قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہوجائیں گے اور آیت میں ہے اس دن یہ ممتاز ہوجائیں گے اور آیت میں ہے وامتازو الیوم ایھا المجرمون اے گنہگارو تم آج نیک کاروں سے الگ ہوجاؤ۔ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ لام لام تو لیل ہوسکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہوجائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے ؟ چناچہ فرمان ہے وما اصابکم یوم التقی الجمعان الخ، یعنی دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہوجائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے اور آیت میں ہے ماکان اللہ لیذر المومنین علی ماانتم علیہ الخ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے۔ یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے۔ فرمان ہے ام جسبتم ان تدخلوا الجنتہ الخ، کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا۔ سورة برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لئے مبتلا کیا ہے اور اس لئے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہوجائے۔ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دے۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں۔
قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ
📘 فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو کافروں سے کہہ دے کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائین، اسلام اور اطاعت قبول کر لین، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہوچکا ہے سب معاف کردیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔ حدیث میں ہے جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو الگی پجھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہوگی اور حدیث میں ہے اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ نہ مانین اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی ہالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا ؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ آیت (وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 49۔ الحجرات :9) ، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے ومن یقتل مومنا متعمدا الخ، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔ آپ نے فرمایا یہی ہم نے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کرلیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کرلیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔ اس نے جب دیکھا کہ آپ مانتے نہیں تو کہا اچھا حضرت علی اور حضرت عثمان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا حضرت عثمان کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ حضرت علی آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔ ابن عمر ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے ؟ آنحضرت ﷺ کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں اور روایت میں ہے کہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں دو شخص حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ حضرت عمر کے صاحبزادے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے ؟ فرمایا اس لئے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کردیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہوگیا اور دین سب اللہ ہی کا ہوگیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لئے ہوجانا جاہتے ہو۔ ذوالسطبین حضرت اسامہ بن زید ؓ کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو لا الہ الہ اللہ کا قائل ہو۔ حضرت سعد بن مالک ؓ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔ بقول ابن عباس وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہوجائے یعنی توحید نکھر جائے لا الہ الا اللہ کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے۔ تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الہ اللہ کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آجائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کردو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کردو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے (فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 9۔ التوبہ :5) ، یعنی اگر یہ توبہ کرلیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ، ان کے راستے نہ روکو، اور آیت میں ہے کہ اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھأای ہیں اور آیت میں ہے کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لئے ہی ہے۔ ایک صحیح رویت میں ہے کہ حضرت اسامہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آگیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاہتی ہے تو اس نے جلدی سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑگئی اور وہ قتل ہوگیا۔ جب حضور ﷺ سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ نے حضرت اسامہ ؓ سے فرمایا کیا تو نے اسے اس کے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ؟ تو لا الہ الا اللہ کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا ؟ حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا ؟ بتا کون ہوگا جو قیامت کے دن لا الہ الا اللہ کا مقابلہ کرے۔ بار بار آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا ؟ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا موالا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔ ابن جریری ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت عروہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کیس امنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ ﷺ کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔ جب آپ نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہی معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ کی باتین سننے لگیں مگر جب ان کے معوبد ان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ پر سختی کرنے لگے، اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہوگئے، اب آپ کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔ پھر سرداران کفر نے آپ میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اکرم ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کردیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگین تو رسول مقبول ﷺ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔ یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بےخوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آگئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود حضور ﷺ یہیں ٹھہرے رہے۔ اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہوگئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آگئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکہ شریف واپس چلے آئیں۔ چناچہ وہ بھی تھوڑے بہت آگئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار ملسمان ہوگئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کرلیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چناچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبش پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سردار ان مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر آنحضرت رسول مقبول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ کا آدمی ہمارے ہاں آجائے تو ہم اس کے امن وامان کے ذمے دار ہیں خود آپ اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کردیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام ؓ کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول ﷺ بھی مکہ کو خالی کر گئے۔ یہی ہے وہ جسے اللہ فرماتا ہے ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہوجائے۔ الحمد اللہ نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
📘 فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو کافروں سے کہہ دے کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائین، اسلام اور اطاعت قبول کر لین، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہوچکا ہے سب معاف کردیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔ حدیث میں ہے جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو الگی پجھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہوگی اور حدیث میں ہے اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ نہ مانین اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی ہالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا ؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ آیت (وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 49۔ الحجرات :9) ، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے ومن یقتل مومنا متعمدا الخ، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔ آپ نے فرمایا یہی ہم نے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کرلیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کرلیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔ اس نے جب دیکھا کہ آپ مانتے نہیں تو کہا اچھا حضرت علی اور حضرت عثمان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا حضرت عثمان کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ حضرت علی آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔ ابن عمر ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے ؟ آنحضرت ﷺ کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں اور روایت میں ہے کہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں دو شخص حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ حضرت عمر کے صاحبزادے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے ؟ فرمایا اس لئے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کردیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہوگیا اور دین سب اللہ ہی کا ہوگیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لئے ہوجانا جاہتے ہو۔ ذوالسطبین حضرت اسامہ بن زید ؓ کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو لا الہ الہ اللہ کا قائل ہو۔ حضرت سعد بن مالک ؓ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔ بقول ابن عباس وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہوجائے یعنی توحید نکھر جائے لا الہ الا اللہ کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے۔ تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الہ اللہ کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آجائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کردو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کردو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے (فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 9۔ التوبہ :5) ، یعنی اگر یہ توبہ کرلیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ، ان کے راستے نہ روکو، اور آیت میں ہے کہ اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھأای ہیں اور آیت میں ہے کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لئے ہی ہے۔ ایک صحیح رویت میں ہے کہ حضرت اسامہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آگیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاہتی ہے تو اس نے جلدی سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑگئی اور وہ قتل ہوگیا۔ جب حضور ﷺ سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ نے حضرت اسامہ ؓ سے فرمایا کیا تو نے اسے اس کے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ؟ تو لا الہ الا اللہ کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا ؟ حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا ؟ بتا کون ہوگا جو قیامت کے دن لا الہ الا اللہ کا مقابلہ کرے۔ بار بار آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا ؟ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا موالا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔ ابن جریری ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت عروہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کیس امنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ ﷺ کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔ جب آپ نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہی معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ کی باتین سننے لگیں مگر جب ان کے معوبد ان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ پر سختی کرنے لگے، اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہوگئے، اب آپ کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔ پھر سرداران کفر نے آپ میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اکرم ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کردیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگین تو رسول مقبول ﷺ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔ یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بےخوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آگئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود حضور ﷺ یہیں ٹھہرے رہے۔ اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہوگئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آگئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکہ شریف واپس چلے آئیں۔ چناچہ وہ بھی تھوڑے بہت آگئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار ملسمان ہوگئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کرلیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چناچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبش پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سردار ان مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر آنحضرت رسول مقبول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ کا آدمی ہمارے ہاں آجائے تو ہم اس کے امن وامان کے ذمے دار ہیں خود آپ اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کردیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام ؓ کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول ﷺ بھی مکہ کو خالی کر گئے۔ یہی ہے وہ جسے اللہ فرماتا ہے ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہوجائے۔ الحمد اللہ نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
📘 ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ابن عباس فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے خالی ہوتے ہیں، لیکن ایماندار ان کے برعکس ہوتے ہیں۔ ان کے دل یاد خالق سے کپکپاتے رہتے ہیں فرائض ادا کرتے ہیں آیات الٰہی سن کر ایمان چمک اٹھتے ہیں تصدیق میں بڑھ جاتے ہیں رب کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اللہ کی یاد سے تھر تھراتے رہتے ہیں اللہ کا ڈر ان میں سمایا ہوا ہوتا ہے اسی وجہ سے نہ تو حکم کا خلاف کرتے ہیں نہ منع کئے ہوئے کام کو کرتے ہیں۔ جیسے فرمان ہے کہ ان سے اگر کوئی برائی سرزد ہو بھی جاتی ہے تو یاد اللہ کرتے ہیں پھر اپنے گناہ سے استغفار کرتے ہیں حقیقت میں سوائے اللہ کے کوئی گناہوں کا بخشنے والا بھی نہیں۔ یہ لوگ باوجود علم کے کسی گناہ پر اصرار نہیں کرتے۔ اور آیتوں میں ہے آیت (واما من خاف مقام ربہ الخ) ، جو شخص اپنے رب کے پاس کھڑا ہونے سے ڈرا اور اپنے نفس کو خواہشوں سے روکا اس کا ٹھکانا جنت ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے جی میں ظلم کرنے کی یا گناہ کرنے کی آتی ہے لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر جا وہیں ان کا دل کانپنے لگتا ہے، ام درداء فرماتی ہیں کہ دل اللہ کے خوف سے حرکت کرنے لگتے ہیں ایسے وقت انسان کو اللہ عزوجل سے دعا مانگنی چاہئے۔ ایمانی حالت بھی ان کی روز بروز زیادتی میں رہتی ہے ادھر قرآنی آیات سنیں اور ایمان بڑھا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ جب کوئی سورت اترتی ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا ؟ بات یہ ہے کہ ایمان والوں کے ایمان بڑھ جاتے ہیں اور وہ خوش ہوجاتے ہیں، اس آیت سے اور اس جیسی اور آیتوں سے حضرت امام الائمہ امام بخاری ؒ وغیرہ ائمہ کرام نے استدلال کیا ہے کہ ایمان کی زیادتی سے مراد ہے کہ دلوں میں ایمان کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے یہی مذہب جمہور امت کا ہے بلکہ کئی ایک نے اس پر اجماع نقل کیا ہے جیسے شافعی، احمد بن حنبل، ابو عبیدہ وغیرہ جیسے کہ ہم نے شرح بخاری کے شروع میں پوری طرح بیان کردیا ہے۔ والحمد اللہ۔ ان کا بھروسہ صرف اپنے رب پر ہوتا ہے نہ اس کے سوا کسی سے وہ امید رکھیں نہ اس کے سوا کوئی ان کا مقصود، نہ اس کے سوا کسی سے وہ پناہ چاہیں نہ اس کے سوا کسی سے مرادیں مانگیں نہ کسی اور کی طرف جھکیں وہ جانتے ہیں کہ قدرتوں والا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا تمام ملک میں اسی کا حکم چلتا ہے ملک صرف وہی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس کے کسی حکم کو کوئی ٹال سکے وہ جلد ہی حساب لینے والا ہے، حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ہی پورا ایمان ہے۔ ان مومنوں کے ایمان اور اعتقاد کی حالت بیان فرما کر اب ان کے اعمال کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نمازوں کے پابند ہوتے ہیں۔ وقت کی، وضو کی، رکوع کی، سجدے کی، کامل پاکیزگی کی، قرآن کی تلاوت، تشہد، درود، سب چیزوں کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کے اس حق کی ادائیگی کے ساتھ ہی بندوں کے حق بھی نہیں بھولتے۔ واجب خرچ یعنی زکوٰۃ مستحب خرچ یعنی للہ فی اللہ خیرات برابر دیتے ہیں چونکہ تمام مخلوق اللہ کی عیال ہے اس لئے اللہ کو سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جو اس کی مخلوق کی سب سے زیادہ خدمت کرے اللہ کے دیئے ہوئے کو اللہ کی راہ میں دیتے رہو یہ مال تمہارے پاس اللہ کی امانت ہے بہت جلد تم اسے چھوڑ کر رخصت ہونے والے ہو، پھر فرماتا ہے کہ جن میں یہ اوصاف ہوں وہ سچے مومن ہیں طبرانی میں ہے کہ حارث بن مالک انصاری ؓ نبی ﷺ کے پاس سے گذرے تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہاری صبح کس حال میں ہوئی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ سچے مومن ہونے کی حالت میں۔ آپ نے فرمایا کہ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو ؟ ہر چیز کی حقیقت ہوا کرتی ہے۔ جانتے ہو حقیقت ایمان کیا ہے ؟ جواب دیا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے اپنی خواہشیں دنیا سے الگ کرلیں راتیں یاد اللہ میں جاگ کر دن اللہ کی راہ میں بھوکے پیاسے رہ کر گذراتا ہوں۔ گویا میں اللہ کے عرش کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا رہتا ہوں اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آپس میں ہنسی خوشی ایک دوسرے سے مل جل رہے ہیں اور گویا کہ میں اہل دوزخ کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ دوزخ میں جل بھن رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا حارثہ تو نے حقیقت جان لی پس اس حال پر ہمیشہ قائم رہنا۔ تین مرتبہ یہی فرمایا پس آیت میں بالکل محاورہ عرب کے مطابق ہے جیسے وہ کہا کرتے ہیں کہ گو فلاں قوم میں سردار بہت سے ہیں لیکن صحیح معنی میں سردار فلاں ہے یا فلاں قبیلے میں تاجر بہت ہیں لیکن صحیح طور پر تاجر فلاں ہے۔ فلاں لوگوں میں شاعر ہیں لیکن سچا شاعر فلاں ہے۔ ان کے مرتبے اللہ کے ہاں بڑے بڑے ہیں اللہ ان کے اعمال دیکھ رہا ہے وہ ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے گا ان کی نیکیوں کی قدردانی کرے گا۔ گویہ درجے اونچے نیچے ہوں گے لیکن کسی بلند مرتبہ شخص کے دل میں یہ خیال نہ ہوگا کہ میں فلاں سے اعلیٰ ہوں اور نہ کسی ادنیٰ درجے والوں کو یہ خیال ہوگا کہ میں فلاں سے کم ہوں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ علیین والوں کو نیچے کے درجے کے لوگ اس طرح دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ صحابہ نے پوچھا یہ مرتبے تو انبیاء کے ہونگے ؟ کوئی اور تو اس مرتبے پر نہ پہنچ سکے گا ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ؟ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ لوگ بھی جو اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں کو سچ جانیں۔ اہل سنن کی حدیث میں ہے کہ اہل جنت بلند درجہ جنتیوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے کناروں کے چمکیلے ستاروں کو دیکھا کرتے ہو یقیناً ابوبکر اور عمر انہی میں ہیں اور بہت اچھے ہیں۔
وَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَوْلَاكُمْ ۚ نِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ
📘 فتنے کے اختتام تک جہاد جاری رکھو کافروں سے کہہ دے کہ اگر وہ اپنے کفر سے اور ضد سے باز آ جائین، اسلام اور اطاعت قبول کر لین، رب کی طرف جھک جائیں تو ان سے جو ہوچکا ہے سب معاف کردیا جائے گا، کفر بھی، خطا بھی گناہ بھی۔ حدیث میں ہے جو شخص اسلام لا کر نیکیاں کرے وہ اپنے جاہلیت کے اعمال پر پکڑا نہ جائے گا اور اسلام میں بھی پھر برائیاں کرے تو الگی پجھلی تمام خطاؤں پر اس کی پکڑ ہوگی اور حدیث میں ہے اسلام سے پہلے کے سب گناہ معاف ہیں توبہ بھی اپنے سے پہلے کے گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ نہ مانین اور اپنے کفر پر قائم رہیں تو وہ اگلوں کی ہالت دیکھ لیں کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے کیسا غارت کیا ؟ ابھی بدری کفار کا حشر بھی ان کے سامنے ہے۔ جب تک فتنہ باقی ہے تم جنگ جاری رکھو۔ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ آیت (وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 49۔ الحجرات :9) ، کو پیش نظر رکھ کر آپ اس وقت کی باہمی جنگ میں شرکت کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا تم لوگوں کا یہ طعنہ اس سے بہت ہلکا ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کر کے جہنمی بن جاؤں جیسے فرمان الٰہی ہے ومن یقتل مومنا متعمدا الخ، اس نے کہا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ فتنہ باقی ہو تب تک لڑائی جاری رکھو۔ آپ نے فرمایا یہی ہم نے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں کیا۔ اس وقت مسلمان کم تھے، انہیں کافر گرفتار کرلیتے تھے اور دین میں فتنے ڈالتے تھے یا تو قتل کر ڈالتے تھے یا قید کرلیتے تھے۔ جب مسلمان بڑھ گئے وہ فتنہ جاتا رہا۔ اس نے جب دیکھا کہ آپ مانتے نہیں تو کہا اچھا حضرت علی اور حضرت عثمان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا حضرت عثمان کو اللہ نے معاف فرمایا لیکن تمہیں اللہ کی وہ معافی بری معلوم ہوتی ہے۔ حضرت علی آنحضرت ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے داماد تھے، یہ ہیں آپ کی صاحبزادی، یہ کہتے ہوئے ان کے مکان کی طرف اشارہ کیا۔ ابن عمر ایک مرتبہ لوگوں کے پاس آئے تو کسی نے کہا کہ اس فتنے کے وقت کی لڑائی کی نسبت جناب کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا جانتے بھی ہو فتنے سے کیا مراد ہے ؟ آنحضرت ﷺ کافروں سے جنگ کرتے تھے، اس وقت ان کا زور تھا، ان میں جانا فتنہ تھا، تمہاری تو یہ ملکی لڑائیاں ہیں اور روایت میں ہے کہ حضرت ابن زبیر کے زمانے میں دو شخص حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے آپ حضرت عمر کے صاحبزادے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ کیوں میدان جنگ میں نہیں اترے ؟ فرمایا اس لئے کہ اللہ نے ہر مومن کا خون حرام کردیا ہے انہوں نے کہا کیا فتنے کے باقی رہنے تک لڑنا اللہ کا حکم نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہے اور ہم نے اسے نبھایا بھی یہاں تک کہ فتنہ دور ہوگیا اور دین سب اللہ ہی کا ہوگیا، اب تم اپنی اس باہمی جنگ سے فتنہ کھڑا کرنا اور غیر اللہ کے دین کے لئے ہوجانا جاہتے ہو۔ ذوالسطبین حضرت اسامہ بن زید ؓ کا فرمان ہے میں ہرگز اس شخص سے جنگ نہ کروں گا جو لا الہ الہ اللہ کا قائل ہو۔ حضرت سعد بن مالک ؓ نے یہ سن کر اس کی تائید کی اور فرمایا میں بھی یہی کہتا ہوں تو ان پر بھی یہی آیت پیش کی گئی اور یہی جواب آپ نے بھی دیا۔ بقول ابن عباس وعیرہ فتنہ سے مراد شرک ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کی کمزوری ایسی نہ رہے کہ کوئی انہیں ان کے سچے دین سے مرتد کرنے کی طاقت رکھے۔ دین سب اللہ کا ہوجائے یعنی توحید نکھر جائے لا الہ الا اللہ کا کلمہ زبانوں پر چڑھ جائے شرک اور معبود ان باطل کی پرستش اٹھ جائے۔ تمہارے دین کے ساتھ کفر باقی نہ رہے۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ لا الہ اللہ کہہ لیں جب وہ اسے کہہ لیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے مال بچا لیں گے ہاں حق اسلام کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے بخاری مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ رسول مقبول ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کیلئے، ایک شخص غیرت کیلئے، ایک شخص ریا کاری کیلئے لڑائی کر رہا ہے تو اللہ کی راہ میں ان میں سے کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کی غرض سے جہاد کرے وہ اللہ کی راہ میں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہارے جہاد کی وجہ سے یہ اپنے کفر سے باز آجائیں تو تم ان سے لڑائی موقوف کردو ان کے دلوں کا حال سپرد رب کردو۔ اللہ ان کے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے (فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 9۔ التوبہ :5) ، یعنی اگر یہ توبہ کرلیں اور نمازی اور زکوٰۃ دیین والے بن جائیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ، ان کے راستے نہ روکو، اور آیت میں ہے کہ اس صورت میں وہ تمہارے دینی بھأای ہیں اور آیت میں ہے کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو زیادتی کا بدلہ تو صرف ظالموں کے لئے ہی ہے۔ ایک صحیح رویت میں ہے کہ حضرت اسامہ ایک شخص پر تلوار لے کر چڑھ گئے جب وہ زد میں آگیا اور دیکھا کہ تلوار چلا جاہتی ہے تو اس نے جلدی سے لا الہ الا اللہ کہہ دیا لیکن اس کے سر پر تلوار پڑگئی اور وہ قتل ہوگیا۔ جب حضور ﷺ سے اس واقعہ کا بیان ہوا تو آپ نے حضرت اسامہ ؓ سے فرمایا کیا تو نے اسے اس کے لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کیا ؟ تو لا الہ الا اللہ کے ساتھ قیامت کے دن کیا کرے گا ؟ حضرت اسامہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ تو اس نے صرف اپنے بچاؤ کیلئے کہا تھا۔ آپ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا ؟ بتا کون ہوگا جو قیامت کے دن لا الہ الا اللہ کا مقابلہ کرے۔ بار بار آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ حضرت اسامہ ؓ فرماتے ہیں میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میں آج کے دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا ؟ پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی باز نہ رہیں تمہاری مخالفت اور تم سے لڑائی نہ چھوڑیں تو تم یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا موالا، تمہارا مالک، تمہارا مددگار اور ناصر ہے۔ وہ تمہیں ان پر غالب کرے گا۔ وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے۔ ابن جریری ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت عروہ سے کچھ باتیں دریافت کی تھیں جس کے جواب میں آپ نے انہیں لکھا سلام علیک کے بعد میں آپ کیس امنے اس اللہ کی تعریفیں کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ بعد حمد و صلوۃ کے آپ کا خط ملا آپ نے ہجرت رسول اللہ ﷺ کی بابت مجھ سے سوال کیا ہے میں آپ کو اس واقعہ کی خبر لکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی مدد پر خیر کرنا اور شر سے روکنا موقوف ہے مکہ شریف سے آپ کے تشریف لے جانے کا واقعہ یوں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ کو نبوت دی، سبحان اللہ کیسے اچھے پیشوا بہترین رہنما تھے، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ہمیں جنت میں آپ کی زیارت نصیب فرمائے ہمیں آپ ہی کے دین پر زندہ رکھے اسی پر موت دے اور اسی پر قیامت کے دن کھڑا کرے، آمین۔ جب آپ نے اپنی قوم کو ہدایت اور نور کی طرف دعوت دی جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا تو شروع شروع تو انہیں کچھ زیادہ برا نہی معلوم ہوا بلکہ قریب تھا کہ آپ کی باتین سننے لگیں مگر جب ان کے معوبد ان باطل کا ذکر آیا اس وقت وہ بگڑے بیٹھے، آپ کی باتوں کا برا ماننے لگے، آپ پر سختی کرنے لگے، اسی زمانے میں طائف کے چند قریشی مال لے کر پہنچے وہ بھی ان کے شریک حال ہوگئے، اب آپ کی باتوں کے ماننے والے مسلمانوں کو طرح طرح سے ستانے لگے جس کی وجہ سے عام لوگ آپ کے اس آنے جانے سے ہٹ گئے بجز ان چند ہستیوں کے جو اللہ کی حفاظت میں تھیں یہی حالت ایک عرصے تک رہی جب تک کہ مسلمانوں کی تعداد کی کمی زیادتی کی حد تک نہیں پہنچی تھی۔ پھر سرداران کفر نے آپ میں مشورہ کیا کہ جتنے لوگ ایمان لا چکے ہیں ان پر اور زیادہ سختی کی جائے جو جس کا رشتہ دار اور قریبی ہو وہ اسے ہر طرح تنگ کرے تاکہ وہ رسول اکرم ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیں اب فتنہ بڑھ گیا اور بعض لوگ ان کی سزاؤں کی تاب نہ لا کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ کھرے اور ثابت قدم لوگ دین حق پر اس مصیبت کے زمانے میں بھی جمے رہے اور اللہ نے انہیں مضبوط کردیا اور محفوظ رکھ لیا۔ آخر جب تکلیفیں حد سے گذر نے لگین تو رسول مقبول ﷺ نے انہیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ حبشہ کا بادشاہ نجاشی ایک نیک آدمی تھا اس کی سلطنت ظلم و زیادتی سے خالی تھی ہر طرف اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔ یہ جگہ قریش کی تجارتی منڈی تھی جہاں ان کے تاجر رہا کرتے تھے اور بےخوف و خطر بڑی بڑی تجارتیں کیا کرتے تھے۔ پس جو لوگ یہاں مکہ شریف میں کافروں کے ہاتھوں بہت تنگ آگئے تھے اور اب مصیبت جھیلنے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہر وقت انہیں اپنے دین کے اپنے ہاتھ سے چھوٹ جانے کا خطرہ لگا رہتا تھا وہ سب حبشہ چلے گئے۔ لیکن خود حضور ﷺ یہیں ٹھہرے رہے۔ اس پر بھی جب کئی سال گذر گئے تو یہاں اللہ کے فضل سے مسلمانوں کی تعداد خاصی ہوگئی اسلام پھیل گیا اور شریف اور سردار لوگ بھی اسلامی جھنڈے تلے آگئے یہ دیکھ کر کفر کو اپنی دشمنی کا جوش ٹھنڈا کرنا پڑا۔ وہ ظلم و زیادتی سے بالکل تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ رک گئے۔ پس وہ فتنہ جس کے زلزلوں نے صحابہ کو وطن چھوڑ نے اور حبشہ جانے پر مجبور کیا تھا اس کے کچھ دب جانے کی خبروں نے مہاجرین حبشہ کو پھر آمادہ کیا کہ وہ مکہ شریف واپس چلے آئیں۔ چناچہ وہ بھی تھوڑے بہت آگئے اسی اثناء میں مدینہ شریف کے چند انصار ملسمان ہوگئے۔ ان کی وجہ سے مدینہ شریف میں بھی اشاعت اسلام ہونے لگی۔ ان کا مکہ شریف آنا جانا شروع ہوا اس سے مکہ والے کچھ بگڑے اور بپھر کر ارادہ کرلیا کہ دوبارہ سخت سختی کریں چناچہ دوسری مرتبہ پھر فتنہ شروع ہوا۔ ہجرت حبش پر پہلے فتنے نے آمادہ کیا واپسی پر پھر فتنہ پھیلا۔ اب ستر بزرگ سردار ان مدینہ یہاں آئے اور مسلمان ہو کر آنحضرت رسول مقبول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ موسم حج کے موقعہ پر یہ آئے تھے۔ قبہ میں انہوں نے بیعت کی، عہدو پیمان، قول و قرر ہوئے کہ ہم آپ کے اور آپ ہمارے۔ اگر کوئی بھی آپ کا آدمی ہمارے ہاں آجائے تو ہم اس کے امن وامان کے ذمے دار ہیں خود آپ اگر تشریف لائیں تو ہم جان مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ اس چیز نے قریش کو اور بھڑکا دیا اور انہوں نے ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو اور ستانا شروع کردیا۔ ان کی سزائیں بڑھا دیں اور خون کے پیاسے ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی کہ وہ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر جائیں یہ تھا آخری اور انتہائی فتنہ جس نے نہ صرف صحابہ کرام ؓ کو ہی نکالا بلکہ خود اللہ کے محترم رسول ﷺ بھی مکہ کو خالی کر گئے۔ یہی ہے وہ جسے اللہ فرماتا ہے ان سے جہاد جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور سارا دین اللہ کا ہی ہوجائے۔ الحمد اللہ نویں پارے کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔
۞ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ إِنْ كُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 مال غنیمت کی تقسیم کا بیان تمام اگلی امتوں پر مال غنیمت حرام ہے۔ لیکن اس امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اسے حلال کردیا۔ اس کی تقسیم کی تفصیل یہاں بیان ہو رہی ہے۔ مال غنیمت وہ ہے جو مسلمانوں کو جہاد کے بعد کافروں سے ہاتھ لگے اور جو مال بغیر لڑے جنگ کے ہاتھ آئے مثلاً صلح ہوگئی اور مقررہ تاوان جنگ ان سے وصول کیا یا کوئی مرگیا اور لاوارث تھا یا جزئیے اور خراج کی رقم وغیرہ وہ فے ہے۔ سلف و خلف کی ایک جماعت کا اور حضرت امام شافعی ؒ کا یہی خیال ہے۔ بعض لوگ غنیمت کا اطلاق فے پر اور فے کا اطلاق غنیمت پر بھی کرتے ہیں۔ اسی لئے قتادہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت سورة حشر کی (آیت ما افاء اللہ الخ،) کی ناسخ ہے۔ اب مال غنیمت میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ آیت تو فے کے بارے میں ہے اور یہ غنیمت کے بارے میں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ ان دونوں قسم کے مال کی تقسیم امام کی رائے پر ہے۔ پس مقررہ حشر کی آیت اور اس آیت میں کوئی اختلاف نہیں جبکہ امام کی مرضی ہو واللہ اعلم۔ آیت میں بیان ہے کہ خمس یعنی پانچواں حصہ مال غنیمت میں سے نکال دینا چاہئے۔ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ ہو۔ گو سوئی ہو یا دھاگہ ہو۔ پروردگار عالم فرماتا ہے جو خیانت کرے گا وہ اسے لے کر قیامت کے دن پیش ہوگا اور ہر ایک کو اس عمل کا پورا بدلہ ملے گا کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا کہتے ہیں کہ خمس میں سے اللہ کے لئے مقرر شدہ حصہ کعبے میں داخل کیا جائے گا۔ حضرت ابو العالیہ رباحی کہتے ہیں کہ غنیمت کے مال کے رسول اللہ ﷺ پانچ حصے کرتے تھے۔ چار مجاہدین میں تقسیم ہوتے پانچویں میں سے آپ مٹھی بھر کر نکال لیتے اسے کنبے میں داخل کردیتے پھر جو بچا اس کے پانچ حصے کر ڈالتے ایک رسول اللہ کا ایک قرابت داروں کا۔ ایک یتیموں کا ایک مسکینوں کا ایک مسافروں کا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں اللہ کا نام صرف بطور تبرک ہے گویا رسول اللہ ﷺ کے حصے کے بیان کا وہ شروع ہے۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ جب حضور کوئی لشکر بھیجتے اور مال غنیمت کا مال ملتا تو آپ اس کے پانچ حصے کرتے اور پھر پانچویں حصے کے پانچ حصے کر ڈالتے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس یہ فرمان کہ ان للہ خمسہ یہ صرف کلام کے شروع کیلئے ہے۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ پانچویں حصے میں سے پانچواں حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہے بہت سے بزرگوں کا قول یہی ہے کہ اللہ رسول کا ایک ہی حصہ ہے۔ اسی کی تائید بہیقی کی اس صحیح سند والی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے وادی القریٰ میں آ کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ غنیمت کے بارے میں آپ کیا ارشآد فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کا ہے باقی کے چار حصے لشکریوں کے۔ اس نے پوچھا تو اس میں کسی کو کسی پر زیادہ حق نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں یہاں تک کہ تو اپنے کسی دوست کے جسم سے تیر نکالے تو اس تیر کا بھی تو اس سے زیادہ مستحق نہیں حضرت حسن نے اپنے مال کے پانجویں حصے کی وصیت کی اور فرمایا کیا میں اپنے لئے اس حصے پر رضامند نہ ہوجاؤ ؟ جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنا رکھا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ مال غنیمت کے پانچ حصے برابر کئے جاتے تھے چار تو ان لشکریوں کو ملتے تھے جو اس جنگ میں شامل تھے پھر پانچویں حصے کے جار حصے کئے جاتے تھے ایک چوتھائی اللہ کا اور اس کے رسول کا پھر یہ حصہ آنحضرت ﷺ لیتے تھے یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ آپ اور آپ کے بعد جو بھی آپ کا نائب ہو اس کا ہے۔ حضرت عبداللہ بن بریدہ فرماتے ہیں اللہ کا حصہ اللہ کے نبی کا ہے اور جو آپ کا حصہ تھا وہ آپ کی بیویوں کا ہے عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کا جو حصہ ہے وہ صرف رسول اللہ ﷺ ہی کا ہے اختیار ہے جس کام میں آپ چاہیں لگائیں مقدام بن معدی کرب حضرت عبادہ بن صامت حضرت ابو درداء اور حضرت حارث بن معاویہ کندی ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا ذکر ہونے لگا تو ابو داؤد نے عبادہ بن صامت سے کہا فلاں فلاں غزوے میں رسول اللہ ﷺ نے خمس کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ حضور نے ایک جہاد میں خمس کے ایک اونٹ کے پیچھے صحابہ کو نماز پڑھائی سلام کے بعد کھڑے ہوگئے اور چند بال چٹکی میں لے کر فرمایا کہ مال غنیمت کے اونٹ کے یہ بال بھی مال غنیمت میں سے ہی ہیں اور میرے نہیں ہیں میرا حصہ تو تمہارے ساتھ صرف پانچواں ہے اور پھر وہ بھی تم ہی کو واپس دے دیا جاتا ہے پس سوئی دھاگے تک ہر چھوٹی بڑی چیز پہنچا دیا کرو، خیانت نہ کرو، خیانت عار ہے اور خیانت کرنے والے کیلئے دونوں جہان میں آگ ہے۔ قریب والوں سے دور والوں سے راہ حق میں جہاد جاری رکھو۔ شرعی کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال تک نہ کرو۔ وطن میں اور سفر میں اللہ کی مقرر کردہ حدیں جاری کرتے رہو اللہ کے لئے جہاد کرتے رہو جہاد جنت کے بہت بڑے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اسی جہاد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ غم و رنج سے نجات دیتا ہے (مسند امام احمد) یہ حدیث حسن ہے اور بہت ہی اعلیٰ ہے۔ صحاح ستہ میں اس سند سے مروی نہیں لیکن مسند ہی کی دوسری روایت میں دوسری سند سے خمس کا اور خیانت کا ذکر مروی ہے۔ ابو داؤد اور نسائی میں بھی مختصراً یہ حدیث مروی ہے اس حصے میں سے آنحضرت رسول مقبول ﷺ بعض چیزیں اپنی ذات کے لئے بھی مخصوص فرما لیا کرتے تھے لونڈی غلام تلوار گھوڑا وغیرہ۔ جیسا کہ محمد بن سیرین اور عامر شعبی اور اکثر علماء نے فرمایا ہے ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ذوالفقار نامی تلوار بدر کے دن کے مال غنیمت میں سے تھی جو حضور کے پاس تھی اسی کے بارے میں احد والے دن خواب دیکھا تھا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت صفیہ ؓ بھی اسی طرح آئیں تھیں۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے حضرت یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے جو ایک صاحب تشریف لائے ان کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ یہ محمد رسول اللہ کی طرف سے زہیر بن اقیش کی طرف ہے کہ اگر تم اللہ کی وحدت کی اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی دو اور نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور غنیمت کے مال سے خمس ادا کرتے رہو اور نبی ﷺ کا حصہ اور خالص حصہ ادا کرتے رہو تو تم اللہ اور اس کے رسول کی امن میں ہو۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ تجھے یہ کس نے لکھ دیا ہے اس نے کہا رسول اللہ ﷺ نے، پس ان صحیح احادیث کی دلالت اور ثبوت اس بات پر ہے اسی لئے اکثر بزرگوں نے اسے حضور کے خواص میں سے شمار کیا ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور لوگ کہتے ہیں کہ خمس میں امام وقت مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق جو چاہے کرسکتا ہے۔ جیسے کہ مال فے میں اسے اختیار ہے۔ ہمارے شیخ علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ یہی قول حضرت امام مالک کا ہے اور اکثر سلف کا ہے اور یہی سب سے زیادہ صحیح قول ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا اور معلوم ہوگیا تو یہ بھی خیال رہے کہ خمس جو حضور کا حصہ تھا اسے اب آپ کے بعد کیا کیا جائے بعض تو کہتے ہیں کہ اب یہ حصہ امام وقت یعنی خلیفتہ المسلمین کا ہوگا۔ حضرت ابوبکر حضرت علی حضرت قتادہ اور ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ اور اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی آئی ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مصلحت میں صرف ہوگا ایک قول ہے کہ یہ بھی اہل حاجت کی بقایا قسموں پر خرچ ہوگا یعنی قرابت دار یتیم مسکین اور مسافر۔ امام ابن جریر کا مختار مذہب یہی ہے اور بزرگوں کا فرمان ہے کہ حضور کا اور آپ کے قرابت داروں کا حصہ یتیموں مسکینوں اور مسافروں کو دے دیا جائے۔ عراق والوں کی ایک جماعت کا یہی قول ہے اور کہا گیا ہے خمس کا یہ پانچواں حصہ سب کا سب قرابت داروں کا ہے۔ چناچہ عبداللہ بن محمد بن علی اور علی بن حسین کا قول ہے کہ یہ ہمارا حق ہے پوچھا گیا کہ آیت میں یتیموں اور مسکینوں کا بھی ذکر ہے تو امام علی نے فرمایا اس سے مراد بھی ہمارے یتیم اور مسکین ہیں۔ امام حسن بن محمد بن حنفیہ ؒ تعالیٰ سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں کہ کلام کا شروع اس طرح ہوا ہے ورنہ دنیا آخرت کا سب کچھ اللہ ہی کا ہے حضور کے بعد ان دونوں حصوں کے بارے میں کیا ہوا اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں حضرت کا حصہ آپ کے خلیفہ کو ملے گے۔ بعض کہتے ہیں آپ کے قرابت داروں کو۔ بعض کہتے ہیں خلیفہ کے قرابت داروں کو ان کی رائے میں ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور ہتھیاروں کے کام میں لگایا جائے اسی طرح خلافت صدیقی و فاروقی میں ہوتا بھی رہا ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں حضرت صدیق اکبر اور حضرت فاروق اعظم حضور کے اس حصے کو جہاد کے کام میں خرچ کرتے تھے۔ پوچھا گیا کہ حضرت علی اس بارے میں کیا کرتے تھے ؟ فرمایا وہ اس بارے میں ان سے سخت تھے۔ اکثر علماء رحہم اللہ کا یہی قول ہے۔ ہاں ذوی القربیٰ کا جو حصہ ہے وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا ہے۔ اس لئے کہ اولاد عبدالمطلب نے اولاد ہاشم کی جاہلیت میں اور اول اسلام میں موافقت کی اور انہی کے ساتھ انہوں نے گھاٹی میں قید ہونا بھی منظور کرلیا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ستائے جانے کی وجہ سے یہ لوگ بگڑ بیٹھے تھے اور آپ کی حمایت میں تھے، ان میں سے مسلمان تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وجہ سے۔ کافر خاندانی طرف داری اور رشتوں ناتوں کی حمایت کی وجہ سے اور رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب کی فرمانبرداری کی وجہ سے ستائے گئے ہاں بنو عبدشمس اور بنو نوفل گویہ بھی آپ کے چچازاد بھائی تھے۔ لیکن وہ ان کی موافقت میں نہ تھے بلکہ ان کے خلاف تھے انہیں الگ کرچکے تھے اور ان سے لڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ قریش کے تمام قبائل ان کے مخالف ہیں اسی لئے ابو طالب نے اپنے قصیدہ لامیہ میں ان کی بہت ہی مذمت کی ہے کیونکہ یہ قریبی قرابت دار تھے اس قصیدے میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں بہت جلد اللہ کی طرف سے ان کی اس شرارت کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ ان بیوقوفوں نے اپنے ہو کر ایک خاندان اور ایک خون کے ہو کر ہم سے آنکھیں پھیرلی ہیں وغیرہ۔ ایک موقعہ پر ابن جبیر بن معطم بن عدی بن نوفل اور حضرت عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور شکایت کی کہ آپ نے خیبر کے خمس میں سے بنو عبدالملطب کو تو دیا لیکن ہمیں چھوڑ دیا حالانکہ آپ کی قرابت داری کے لحاظ سے وہ اور ہم بالکل یکساں اور برابر ہیں آپ نے فرمایا سنو بنو ہاشم ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ اللہ کو علم تھا کہ بنو ہاشم میں فقراء ہیں پس صدقے کی جگہ ان کا حصہ مال غنیمت میں مقرر کردیا۔ یہی رسول اللہ ﷺ کے وہ قرابت دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ علی بن حسین سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ سب قریش ہیں۔ ابن عباس سے استغفار کیا گیا کہ ذوی القربیٰ کون ہیں ؟ آپ نے جواب تحریر فرمایا کہ ہم تو کہتے تھے ہم ہیں لیکن ہماری قوم نہیں مانتی وہ سب کہتے ہیں کہ سارے ہی قریش ہیں (مسلم وغیرہ) بعض روایتوں میں صرف پہلا جملہ ہی ہے۔ دوسرے جملے کی روایت کے راوی ابو معشر نجیح بن عبدالرحمن مدنی کی روایت میں ہی یہ جملہ ہے کہ سب کہتے ہیں کہ سارے قریش ہیں۔ اس میں ضعف بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے لوگوں کے میل کچیل سے تو میں نے منہ پھیرلیا خمس کا پانچواں حصہ تمہیں کافی ہے یہ حدیث حسن ہے اس کے راوی ابراہیم بن مہدی کو امام ابو حاتم ثقہ بتاتے ہیں لیکن یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ منکر روایتیں لاتے ہیں واللہ اعلم۔ آیت میں یتیموں کا ذکر ہے یعنی مسلمانوں کے وہ بچے جن کا باپ فوت ہوچکا ہو۔ پھر بعض تو کہتے ہیں کہ یتیمی کے ساتھ فقیری بھی ہو تو وہ مستحق ہیں اور بعض کہتے ہیں ہر امیر فقیر یتیم کو یہ الفاظ شامل ہیں۔ مساکین سے مراد وہ محتاج ہیں جن کے پاس اتنا نہیں کہ ان کی فقیری اور ان کی حاجت پوری ہوجائے اور انہیں کافی ہوجائے۔ ابن السبیل وہ مسافر ہے جو اتنی حد تک وطن سے نکل چکا ہو یا جا رہا ہو کہ جہاں پہنچ کر اسے نماز کو قصر پڑھنا جائز ہو اور سفر خرچ کافی اس کے پاس نہ رہا ہو۔ اس کی تفسیر سورة برات کی (آیت انما الصدقات الخ،) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ ہمارا اللہ پر بھروسہ ہے اور اسی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہارا اللہ پر اور اس کی اتاری ہوئی وحی پر ایمان ہے تو جو وہ فرما رہا ہے لاؤ یعنی مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ الگ کردیا کرو۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ وفد عبدالقیس کو رسول ﷺ نے فرمایا میں تمہیں چار باتوں کا حکم کرتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں۔ جانتے بھی ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز کو پابندی سے ادا کرنا زکوٰۃ دینا اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنا۔ پس خمس کا دینا بھی ایمان میں داخل ہے۔ حضرت امام بخاری ؒ نے اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں باب باندھا ہے کہ خمس کا ادا کرنا ایمان میں ہے پھر اس حدیث کو وارد فرمایا ہے اور ہم نے شرح صحیح بخاری میں اس کا پورا مطلب واضح بھی کردیا ہے واللہ الحمد والمنہ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنا ایک احسان و انعام بیان فرماتا ہے کہ اس نے حق و باطل میں فرق کردیا۔ اپنے دین کو غالب کیا اپنے نبی کی اور آپ کے لشکریوں کی مدد فرمائی اور جنگ بدر میں انہیں غلبہ دیا۔ کلمہ ایمان کلمہ کفر پر چھا گیا پس یوم الفرقان سے مراد بدر کا دن ہے جس میں حق و باطل کی تمیز ہوگی۔ بہت سے بزرگوں سے یہی تفسیر مروی ہے۔ یہی سب سے پہلا غزوہ تھا۔ مشرک لوگ عتبہ بن ربیعہ کی ماتحتی میں تھے جمعہ کے دن انیس یا سترہ رمضان کو یہ لڑائی ہوئی تھی اصحاب رسول تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور مشرکوں کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تھی۔ باوجود اس کے اللہ تبارک و تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی ستر سے زائد تو کافر مارے گئے اور اتنے ہی قید کر لئے گئے۔ مستدرک حاکم میں ہے ابن مسعود فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کو گیارہویں رات میں ہی یقین کے ساتھ تلاش کرو اس لئے کہ اس کی صبح کو بدر کی لڑائی کا دن تھا۔ حسن بن علی فرماتے ہیں کہ لیلتہ الفرقان جس دن دونوں جماعتوں میں گھمسان کی لڑائی ہوئی رمضان شریف کی سترہویں تھی یہ رات بھی جمعہ کی رات تھی۔ غزوے اور سیرت کے مرتب کرنے والے کے نزدیک یہی صحیح ہے۔ ہاں یزید بن ابو جعد جو اپنے زمانے کے مصری علاقے کے امام تھے فرماتے ہیں کہ بدر کا دن پیر کا دن تھا لیکن کسی اور نے ان کی متابعت نہیں کی اور جمہور کا قول یقینا ان کے قول پر مقدم ہے واللہ اعلم۔
إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوَىٰ وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنْكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدْتُمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيعَادِ ۙ وَلَٰكِنْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ
📘 اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے ذریعے ایمان کو کفر سے ممتاز کر دیا فرماتا ہے کہ اس دن تم وادی الدینا میں تھے جو مدینے شریف سے قریب ہے اور مشرک لوگ مکہ کی جانب مدینے کی دور کی وادی میں تھے اور ابو سفیان اور اس کا قافلہ تجارتی اسباب سمیت نیچے کی جانب دریا کی طرف تھا اگر تم کفار قریش سے جنگ کا ارادہ پہلے سے کرتے تو یقینا تم میں اختلاف پڑتا کہ لڑائی کہاں ہو ؟ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ اگر تم لوگ آپس میں طے کر کے جنگ کے لئے تیار ہوتے اور پھر تمہیں ان کی کثرت تعداد اور کثرت اسباب معلوم ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ ارادے پست ہوجاتے۔ اس لئے قدرت نے پہلے سے طے کئے بغیر دونوں جماعتوں کو اچانک ملا دیا کہ اللہ کا یہ ارادہ پورا ہوجائے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بلندی حاصل ہو اور شرک اور مشرکوں کو پستی ملے پس جو کرنا تھا اللہ پاک کر گذرا۔ چناچہ کعب کی حدیث میں ہے کہ حضور اور مسلمان تو صرف قافلے کے ارادے سے ہی نکلے تھے اللہ نے دشمن سے مڈبھیڑ کرادی بغیر کسی تقرر کے اور بغیر کسی جنگی تیاری کے۔ ابو سفیان ملک شام سے قافلہ لے کر چلا ابو جہل اسے مسلمانوں سے بچانے کیلئے مکہ سے نکلا۔ قافلہ دوسرے راستے سے نکل گیا اور مسلمانوں اور کافروں کی جنگ ہوگئی اس سے پہلے دونوں ایک دوسرے سے بیخبر تھے ایک دوسرے کو خصوصاً پانی لانے والوں کو دیکھ کر انہیں ان کا اور انہیں ان کا علم ہوا۔ سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ حضور برابر اپنے ارادے سے جا رہے تھے صفراء کے قریب پہنچ کر سیس بن عمرو اور عدی بن ابو الزعباء جہنی کو ابو سفیان کا پتہ چلانے کیلئے بھیجا ان دونوں نے بدر کے میدان میں پہنچ کر بطحا کے ایک ٹیلے پر اپنی سواریاں بٹھائیں اور پانی کے لئے نکلے۔ راستے میں دو لڑکیوں کو آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھا ایک دوسری سے کہتی ہے تو میرا قرضہ کیوں ادا نہیں کرتی ؟ اس نے کہا جلدی نہ کر کل یا پرسوں یہاں قافلہ آنے والا ہے میں تجھے تیرا حق دے دوں گی۔ مجدیٰ بن عمرو بیچ میں بول اٹھا اور کہا یہ سچ کہتی ہے اسے ان دونوں صحابیوں نے سن لیا اپنے اونٹ کسے اور فوراً خدمت نبوی میں جا کر آپ کو خبر دی۔ ادھر ابو سفیان اپنے قافلے سے پہلے یہاں اکیلا پہنچا اور مجدی بن عمرو سے کہا کہ اس کنویں پر تم نے کسی کو دیکھا ؟ اس نے کہا نہیں البتہ دو سوار آئے تھے اپنے اونٹ اور ٹیلے پر بٹھائے اپنی مشک میں پانی بھر اور چل دئیے۔ یہ سن کر یہ اس جگہ پہنچا مینگنیاں لیں اور انہیں توڑا اور کھجوروں کی گھٹلیاں ان میں پا کر کہنے لگا واللہ یہ مدنی لوگ ہیں وہیں سے واپس اپنے قافلے میں پہنچا اور راستہ بدل کر سمندر کے کنارے چل دیا جب اسے اس طرف سے اطمینان ہوگیا تو اس نے اپنا قاصد قریشیوں کو بھیجا کہ اللہ نے تمہارے قافلے مال اور آدمیوں کو بچا لیا تم لوٹ جاؤ یہ سن کر ابو جہل نے کہا نہیں جب یہاں تک ہم آ چکے ہیں تو ہم بدر تک ضرور جائیں گے یہاں ایک بازار لگا کرتا تھا۔ وہاں ہم تین روز ٹھہریں گے وہاں اونٹ ذبح کریں گے۔ شرابیں پئیں گے کباب بنائیں گے تاکہ عرب میں ہماری دھوم مچ جائے اور ہر ایک کو ہماری بہادری اور بےجگری معلوم ہو اور وہ ہمیشہ ہم سے خوف زدہ رہیں۔ لیکن اخنس بن شریق نے کہا کہ بنو زہرہ کے لوگو اللہ تعالیٰ نے تمہارے مال محفوظ کردیئے تم کو چاہئے کہ اب واپس چلے جاؤ۔ اس کے قبیلے نے اس کی مان لی یہ لوگ اور بنو عدی لوٹ گئے۔ بدر کے قریب پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب، حضرت سعد بن وقاص اور حضرت زبیر بن عوام کو خبر لانے کے لئے بھیجا چند اور صحابہ کو بھی ان کے ساتھ کردیا انہیں بنوسعید بن عاص کا اور بنو حجاج کا غلام کنویں پر مل گیا دونوں کو گرفتار کرلیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اس وقت آپ نماز میں تھے صحابہ نے ان سے سوال کرنا شروع کیا کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا قریش کے سقے ہیں انہوں نے ہمیں پانی لانے کیلئے بھیجا تھا۔ صحابہ کا خیال تھا کہ یہ ابو سفیان کے آدمی ہیں اس لئے انہوں نے ان پر سختی شروع کی آخر گھبرا کر انہوں نے کہہ دیا کہ ہم ابو سفیان کے قافلے کے ہیں تب انہیں چھوڑا۔ حضور ﷺ نے ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ سچ بولتے رہے تم انہیں مارتے پیٹتے رہے اور جب انہوں نے جھوٹ کہا تم نے چھوڑ دیا واللہ یہ سچے ہیں یہ قریش کے غلام ہیں ہاں جی بتاؤ قریش کا لشکر کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا وادی قصویٰ کے اس طرف ٹیلے کے پیچھے۔ آپ نے فرمایا وہ تعداد میں کتنے ہیں ؟ انہوں نے کہا بہت ہیں آپ نے فرمایا آخر کتنے ایک ؟ انہوں نے کہا تعداد تو ہمیں معلوم نہیں آپ نے فرمایا اچھا یہ بتاسکتے ہو ہر روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ایک دن نو ایک دن دس۔ آپ نے فرمایا پھر وہ نو سو سے ایک ہزار تک ہیں۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ ان میں سرداران قریش میں سے کون کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو البختری بن ہشام، حکیم بن حزام، نوفل، طعیمہ بن عدی، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود، ابو جہل، امیہ بن خلف، منبہ بن حجاج، سہیل بن عمرو، عمرو بن عبدود۔ یہ سن کر آپ نے صحابہ سے فرمایا لو مکہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہاری طرف ڈال دیئے ہیں۔ بدر کے دن جب دونوں جماعتوں کا مقابلہ شروع ہونے لگا تو حضرت سعد بن معاذ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم آپ کے لئے ایک جھونپڑی بنادیں آپ وہاں رہیں ہم اپنے جانوروں کو یہیں بٹھا کر میدان میں جا کو دیں اگر فتح ہوئی تو الحمد اللہ یہی مطلوب ہے ورنہ آپ ہمارے جانوروں پر سوار ہو کر انہیں اپنے ساتھ لے کر ہماری قوم کے ان حضرات کے پاس چلے جائیں جو مدینہ شریف میں ہیں وہ ہم سے زیادہ آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ کوئی جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ ہرگز آپ کا ساتھ نہ چھوڑتے آپ کی مدد کے لئے آپ کے ہم رکاب نکل کھڑے ہوتے۔ حضور نے ان کے اس مشورے کی قدر کی انہیں دعا دی اور اس ڈیرے میں آپ ٹھہر گئے آپ کے ساتھ صرف حضرت ابوبکر تھے اور کوئی نہ تھا۔ صبح ہوتے ہی قریشیوں کے لشکر ٹیلے کے پیچھے سے آتے ہوئے نمودار ہوئے انہیں دیکھ کر آپ نے جناب باری میں دعا کی کہ باری تعالیٰ یہ فخر و غرور کے ساتھ تجھ سے لڑانے اور تیرے رسول کو جھٹلانے کیلئے آ رہے ہیں۔ باری تعالیٰ تو انہیں پست و ذلیل کر۔ اس آیت کے آخری جملے کی تفسیر سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ یہ اس لئے کہ کفر کرنے والے دلیل ربانی دیکھ لیں گو کفر ہی پر رہیں اور ایمان والے بھی دلیل کے ساتھ ایمان لائیں۔ یعنی آمادگی اور بغیر شرط وقرار داد کے اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور مشرکوں کا یہاں اچانک آمنا سامنا کرا دیا کہ حقانیت کو باطل پر غلبہ دے کر حق کو مکمل طور پر ظاہر کر دے اس طرح کہ کسی کو شک شبہ باقی نہ رہے۔ اب جو کفر پر رہے وہ بھی کفر کو کفر سمجھ کے رہے اور جو ایمان والا ہوجائے وہ دلیل دیکھ کر ایمان دار بنے ایمان ہی دلوں کی زندگی ہے اور کفر ہی اصلی ہلاکت ہے۔ جیسے فرمان قرآن ہے (آیت اومن کان میتا فاحییناہ الخ،) یعنی وہ جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے جلا دیا اور اس کے لئے نور بنادیا کہ اس کی روشنی میں وہ لوگوں میں چل پھر رہا ہے۔ تہمت کے قصہ میں حضرت عائشہ کے الفاظ ہیں کہ پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوگیا یعنی بہتان میں حصہ لیا اللہ تعالیٰ تمہارے تضرع وزاری اور تمہاری دعا و استغفار اور فریاد و مناجات کا سننے والا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم اہل حق ہو تم مستحق امداد ہو تم اس قابل ہو کر تمہیں کافروں اور مشرکوں پر غلبہ دیا جائے۔
إِذْ يُرِيكَهُمُ اللَّهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلًا ۖ وَلَوْ أَرَاكَهُمْ كَثِيرًا لَفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
📘 لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ نے اپنے اصحاب سے ذکر کیا یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔ بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ کو آپ کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں منام کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہوجائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کرکے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہوجائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں نے اندازہ کرکے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر کے قریب ہوں گے اس نے پورا اندازہ کر کے کہا نہیں کوئی ایک ہزار کا یہ لشکر ہے۔ پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کرچکا تھا پورا ہوجائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔ جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چناچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔ جیسے کہ (قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ فِيْ فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۭ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ ۭ وَاللّٰهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ 13) 3۔ آل عمران :13) میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔
وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا ۗ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
📘 لڑائی میں مومن کم اور کفار زیادہ دکھائی دئیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خواب میں مشرکوں کی تعداد بہت کم دکھائی آپ نے اپنے اصحاب سے ذکر کیا یہ چیز ان کی ثابت قدمی کا باعث بن گئی۔ بعض بزرگ کہتے ہیں کہ آپ کو آپ کی آنکھوں سے ان کی تعداد کم دکھائی۔ جن آنکھوں سے آپ سوتے تھے۔ لیکن یہ قول غریب ہے جب قرآن میں منام کے لفظ ہیں تو اس کی تاویل بلا دلیل کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ممکن تھا کہ ان کی تعداد کی زیادتی میں رعب بٹھا دے اور آپس میں اختلاف شروع ہوجائے کہ آیا ان سے لڑیں یا نہ لڑیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے ہی بچا لیا اور ان کی تعداد کم کرکے دکھائی۔ اللہ پاک دلوں کے بھید سے سینے کے راز سے واقف ہے آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔ خواب میں تعداد میں کم دکھا کر پھر یہ بھی مہربانی فرمائی کہ بوقت جنگ بھی مسلمانوں کی نگاہوں اور ان کی جانچ میں وہ بہت ہی کم آئے تاکہ مسلمان دلیر ہوجائیں اور انہیں کوئی چیز نہ سمجھیں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں میں نے اندازہ کرکے اپنے ساتھی سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر کے قریب ہوں گے اس نے پورا اندازہ کر کے کہا نہیں کوئی ایک ہزار کا یہ لشکر ہے۔ پھر اسی طرح کافروں کی نظروں میں بھی اللہ حکیم نے مسلمانوں کی تعداد کم دکھائی اب تو وہ ان پر اور یہ ان پر ٹوٹ پڑے۔ تاکہ رب کا کام جس کا کرنا وہ اپنے علم میں مقرر کرچکا تھا پورا ہوجائے کافروں پر اپنی پکڑ اور مومنوں پر اپنی رحمت نازل فرما دے۔ جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی یہی کیفیت دونوں جانب رہی لڑائی شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار فرشتوں سے اپنے بندوں کی مدد فرمائی مسلمانوں کا لشکر بڑھ گیا اور کافروں کا زور ٹوٹ گیا۔ چناچہ اب تو کافروں کو مسلمان اپنے سے دگنے نظر آنے لگے اور اللہ نے موحدوں کی مدد کی اور آنکھوں والوں کیلئے عبرت کا خزانہ کھول دیا۔ جیسے کہ (قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰيَةٌ فِيْ فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۭ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ ۭ وَاللّٰهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ 13) 3۔ آل عمران :13) میں بیان ہوا ہے۔ پس دونوں آیتیں ایک سی ہیں مسلمان تب تک کم نظر آتے رہے جب تک لڑائی شروع نہیں ہوئی۔ شروع ہوتے ہیں مسلمان دگنے دکھائی دینے لگے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
📘 جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول ﷺ نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا ! لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما (بخاری مسلم) عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ گو وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو۔ طبرانی میں ہے تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے 001 تلاوت قرآن کے وقت 002 جہاد کے وقت اور 003 جنازے کے وقت۔ ایک اور حدیث میں ہے کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے۔ حضرت عطا ؒ کا قول ہے کہ چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ تو جریج نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد بلند آواز سے کریں ؟ آپ نے فرمایا ہاں کعب احبار فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر اللہ سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز نہیں۔ اس میں بھی اولیٰ وہ ہے جس کا حکم لوگوں کو نماز میں کیا گیا ہے اور جہاد میں کیا تم نہیں دیکھتے ؟ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بوقت جہاد بھی اپنے ذکر کا حکم فرمایا ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ شاعر کہتا ہے کہ عین جنگ وجدال کے وقت بھی میرے دل میں تیری یاد ہوتی ہے۔ عنترہ کہتا ہے نیزوں اور تلواروں کے شپاشپ چلتے ہوئے بھی میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں۔ پس آیت میں جناب باری نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور صبر و استقامت کا حکم دیا کہ نامرد، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو اللہ کو یاد کرو اسے نہ بھولو۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو۔ یہی کامیابی کے گر ہیں۔ اس وقت بھی اللہ رسول ﷺ کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دو وہ جو فرمائیں بجا لاؤ جن سے روکیں رک جاؤ آپس میں جھگڑے اور اختلاف نہ پھیلاؤ ورنہ ذلیل ہوجاؤ گے بزدلی جم جائے گی ہوا اکھڑ جائے گی۔ قوت اور تیزی جاتی رہے گی اقبال اور ترقی رک جائے گی۔ دیکھو صبر کا دامن نہ چھوڑو اور یقین رکھو کہ صابروں کے ساتھ خود اللہ ہوتا ہے۔ صحابہ کرام ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں پیچھے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے ؟ یہی شجاعت یہی اطاعت رسول ﷺ یہی صبر و استقلال تھا جس کے باعث مدد ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کرلیا نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا۔ رومیوں اور فارسیوں کو ترکوں اور صقلیہ کو بربریوں اور حبشیوں کو سوڈانیوں اور قبطیوں کو غرض دنیا کے گوروں کالوں کو مغلوب کرلیا اللہ کے کلمہ کو بلند کیا دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا اللہ ان سے خوش رہے اور انہیں بھی خوش رکھے۔ خیال تو کرو کہ تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تاریخ کا ورق پلٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے وہ کریم و وھاب ہے۔
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
📘 جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول ﷺ نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا ! لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما (بخاری مسلم) عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ گو وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو۔ طبرانی میں ہے تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے 001 تلاوت قرآن کے وقت 002 جہاد کے وقت اور 003 جنازے کے وقت۔ ایک اور حدیث میں ہے کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے۔ حضرت عطا ؒ کا قول ہے کہ چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ تو جریج نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد بلند آواز سے کریں ؟ آپ نے فرمایا ہاں کعب احبار فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر اللہ سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز نہیں۔ اس میں بھی اولیٰ وہ ہے جس کا حکم لوگوں کو نماز میں کیا گیا ہے اور جہاد میں کیا تم نہیں دیکھتے ؟ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بوقت جہاد بھی اپنے ذکر کا حکم فرمایا ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ شاعر کہتا ہے کہ عین جنگ وجدال کے وقت بھی میرے دل میں تیری یاد ہوتی ہے۔ عنترہ کہتا ہے نیزوں اور تلواروں کے شپاشپ چلتے ہوئے بھی میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں۔ پس آیت میں جناب باری نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور صبر و استقامت کا حکم دیا کہ نامرد، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو اللہ کو یاد کرو اسے نہ بھولو۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو۔ یہی کامیابی کے گر ہیں۔ اس وقت بھی اللہ رسول ﷺ کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دو وہ جو فرمائیں بجا لاؤ جن سے روکیں رک جاؤ آپس میں جھگڑے اور اختلاف نہ پھیلاؤ ورنہ ذلیل ہوجاؤ گے بزدلی جم جائے گی ہوا اکھڑ جائے گی۔ قوت اور تیزی جاتی رہے گی اقبال اور ترقی رک جائے گی۔ دیکھو صبر کا دامن نہ چھوڑو اور یقین رکھو کہ صابروں کے ساتھ خود اللہ ہوتا ہے۔ صحابہ کرام ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں پیچھے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے ؟ یہی شجاعت یہی اطاعت رسول ﷺ یہی صبر و استقلال تھا جس کے باعث مدد ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کرلیا نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا۔ رومیوں اور فارسیوں کو ترکوں اور صقلیہ کو بربریوں اور حبشیوں کو سوڈانیوں اور قبطیوں کو غرض دنیا کے گوروں کالوں کو مغلوب کرلیا اللہ کے کلمہ کو بلند کیا دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا اللہ ان سے خوش رہے اور انہیں بھی خوش رکھے۔ خیال تو کرو کہ تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تاریخ کا ورق پلٹ دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے وہ کریم و وھاب ہے۔
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
📘 میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لئے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ابو جہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہوجائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لئے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول ﷺ رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے ؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بےفکر رہو۔ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے دے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔ لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ حضرت جبرائیل ؑ شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو ؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گرپڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے ؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بےتعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ پر تھوڑی سی دیر کے لئے ایک طرح کی بےخودی سی طاری ہوگئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے صحابیو خوش ہوجاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب حضرت جبرائیل ؑ اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل ؑ اور یہ ہیں حضرت اسرافیل ؑ تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آموجود ہوئے ہیں۔ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بےفکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لئے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گرپڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں حضرت رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آگئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کردیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہوجائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بےخطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔ خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہوگئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے ؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہوگیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لئے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہہ دیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔ اس نے جبرائیل ؑ کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کردیتا ہے پھر روپوش ہوجاتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور آیت میں ہے کہ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔ حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہوجاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بےخوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کردو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابو جہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہوجاؤ، وہ تو محمد ﷺ کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمہیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم ! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی سمیت گرفتار کرلیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔ یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔ اس نے بھی کہا تھا کہ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہوجاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آرہی ہیں۔ جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آگئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں ؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہوجائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔ رب العالمین فرماتا ہے انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔ دشمن الٰہی ابو جہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابو قیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بےرسد اور بےہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہوجاتے ؟ حسن فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آکر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کردیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام حکمت سے ہوتے ہیں وہ ہر چیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔
وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكُمْ إِنِّي أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ۚ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ
📘 میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لئے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ابو جہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہوجائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لئے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول ﷺ رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے ؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بےفکر رہو۔ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے دے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔ لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ حضرت جبرائیل ؑ شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو ؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گرپڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے ؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بےتعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ پر تھوڑی سی دیر کے لئے ایک طرح کی بےخودی سی طاری ہوگئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے صحابیو خوش ہوجاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب حضرت جبرائیل ؑ اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل ؑ اور یہ ہیں حضرت اسرافیل ؑ تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آموجود ہوئے ہیں۔ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بےفکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لئے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گرپڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں حضرت رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آگئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کردیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہوجائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بےخطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔ خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہوگئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے ؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہوگیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لئے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہہ دیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔ اس نے جبرائیل ؑ کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کردیتا ہے پھر روپوش ہوجاتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور آیت میں ہے کہ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔ حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہوجاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بےخوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کردو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابو جہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہوجاؤ، وہ تو محمد ﷺ کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمہیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم ! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی سمیت گرفتار کرلیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔ یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔ اس نے بھی کہا تھا کہ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہوجاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آرہی ہیں۔ جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آگئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں ؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہوجائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔ رب العالمین فرماتا ہے انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔ دشمن الٰہی ابو جہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابو قیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بےرسد اور بےہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہوجاتے ؟ حسن فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آکر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کردیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام حکمت سے ہوتے ہیں وہ ہر چیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔
إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هَٰؤُلَاءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
📘 میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لئے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ چناچہ ابو جہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ گیا اب لوٹ کر واپس چلنا چاہئے تو اس ملعون نے جواب دیا کہ واہ کس کا لوٹنا بدر کے پانی پر جا کر پڑاؤ کریں گے۔ وہاں شرابیں اڑائیں گے کباب کھائیں گے گانا سنیں گے تاکہ لوگوں میں شہرت ہوجائے۔ اللہ کی شان کے قربان جائیے ان کے ارمان قدرت نے پلٹ دیئے یہیں ان کی لاشیں گریں اور یہیں کے گڑھوں میں ذلت کے ساتھ ٹھونس دیئے گئے۔ اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے ان کے ارادے اس پر کھلے ہیں اسی لئے انہیں برے وقت سے پالا پڑا۔ پس یہ مشرکین کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول ﷺ رسولوں کے سرتاج سے بدر میں لڑنے چلے تھے ان کے ساتھ گانے والیاں بھی تھیں باجے گاجے بھی تھے۔ شیطان لعین ان کا پشت پناہ بنا ہوا تھا انہیں پھسلا رہا تھا۔ ان کے کام کو خوبصورت بھلا دکھا رہا تھا ان کے کانوں میں پھونک رہا تھا کہ بھلا تمہیں کون ہرا سکتا ہے ؟ ان کے دل سے بنوبکر کا مکہ پر چڑھائی کرنے کا خوف نکال رہا تھا اور سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا کہ میں تو اس علاقے کا سردار ہوں بنو مدلج سب میرے تابع ہیں میں تمہارا حمایتی ہوں بےفکر رہو۔ شیطان کا کام بھی یہی ہے کہ جھوٹے وعدے دے، نہ پورا ہونے والی امیدوں کے سبز باغ دکھائے اور دھوکے کے جال میں پھنسائے۔ بدر والے دن یہ اپنے جھنڈے اور لشکر کو ساتھ لے کر مشکوں کی حمایت میں نکلا ان کے دلوں میں ڈالتا رہا کہ بس تم بازی لے گئے میں تمہارا مددگار ہوں۔ لیکن جب مسلمانوں سے مقابلہ شروع ہوا اور اس خبیث کی نظریں فرشتوں پر پڑیں تو پچھلے پیروں بھاگا اور کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جس سے تمہاری آنکھیں اندھی ہیں۔ ابن عباس کہتے ہیں بدر والے دن ابلیس اپنا جھنڈا بلند کئے مدلجی شخص کی صورت میں اپنے لشکر سمیت پہنچا اور شیطان سراقہ بن مالک بن جعشم کی صورت میں نمودار ہوا اور مشرکین کے دل بڑھائے ہمت دلائی جب میدان جنگ میں صف بندی ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی مٹھی بھر کر مشرکوں کے منہ پر ماری اس سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ حضرت جبرائیل ؑ شیطان کی طرف چلے اس وقت یہ ایک مشرک کے ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے تھا آپ کو دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر اپنے لشکروں سمیت بھاگ کھڑا ہوا اس شخص نے کہا سراقہ تم تو کہہ رہے تھے کہ تم ہمارے حمایتی ہو پھر یہ کیا کر رہے ہو ؟ یہ ملعون چونکہ فرشتوں کو دیکھ رہا تھا کہنے لگا میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے میں تو اللہ سے ڈرنے والا آدمی ہوں اللہ کے عذاب بڑے بھاری ہیں اور روایت میں ہے کہ اسے پیٹھ پھیرتا دیکھ کر حارث بن ہشام نے پکڑ لیا۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا جس سے یہ بیہوش ہو کر گرپڑا دوسرے لوگوں نے کہا سراقہ تو اس حال میں ہمیں ذلیل کرتا ہے ؟ اور ایسے وقت ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ کہنے لگا ہاں ہاں میں تم سے بری الذمہ اور بےتعلق ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ پر تھوڑی سی دیر کے لئے ایک طرح کی بےخودی سی طاری ہوگئی پھر ہوشیار ہو کر فرمانے لگے صحابیو خوش ہوجاؤ یہ ہیں تمہاری دائیں جانب حضرت جبرائیل ؑ اور یہ ہیں تمہاری بائیں طرف میکائیل ؑ اور یہ ہیں حضرت اسرافیل ؑ تینوں مع اپنی اپنی فوجوں کے آموجود ہوئے ہیں۔ ابلیس سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی صورت میں مشرکوں میں تھا ان کے دل بڑھا رہا تھا اور ان میں پشین گوئیاں کر رہا تھا کہ بےفکر رہو آج تمہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ لیکن فرشتوں کے لشکر کو دیکھتے ہی اس نے تو منہ موڑا اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ میں تم سے بری ہوں میں انہیں دیکھ رہا ہوں جو تمہاری نگاہ میں نہیں آتے۔ حارث بن ہشام چونکہ اسے سراقہ ہی سمجھے ہوئے تھا اس لئے اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا اس نے اس کے سینے میں اس زور سے گھونسہ مارا کہ یہ منہ کے بل گرپڑا اور شیطان بھاگ گیا سمندر میں کود پڑا اور اپنا کپڑا اونچا کر کے کہنے لگایا اللہ میں تجھے تیرا وہ وعدہ یاد دلاتا ہوں جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ طبرانی میں حضرت رفاعہ بن رافع سے بھی اسی کے قریب قریب مروی ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر کہتے ہیں جب قریشیوں نے مکہ سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہیں بنی بکر کی جنگ یاد آگئی اور خیال کیا کہ ایسا نہ ہو ہماری عدم موجودگی میں یہاں چڑھائی کردیں قریب تھا کہ وہ اپنے ارادے سے دست بردار ہوجائیں اسی وقت ابلیس لعین سراقہ کی صورت میں ان کے پاس آیا جو بنو کنانہ کے سرداروں میں سے تھا کہنے لگا اپنی قوم کا میں ذمہ دار ہوں تم ان کا بےخطر ساتھ دو اور مسلمانوں کے مقابلے کے لئے مکمل تیار ہو کر جاؤ۔ خود بھی ان کے ساتھ چلا ہر منزل میں یہ اسے دیکھتے تھے سب کو یقین تھا کہ سراقہ خود ہمارے ساتھ ہے یہاں تک کہ لڑائی شروع ہوگئی اس وقت یہ مردود دم دبا کر بھاگا۔ حارث بن ہشام یا عمیر بن وہب نے اسے جاتے دیکھ لیا اس نے شور مچا دیا کہ سراقہ کہاں بھاگا جا رہا ہے ؟ شیطان انہیں موت اور دوزخ کے منہ میں دھکیل کر خود فرار ہوگیا۔ کیونکہ اس نے اللہ کے لشکروں کو مسلمانوں کی امداد کے لئے آتے ہوئے دیکھ لیا تھا صاف کہہ دیا کہ میں تم سے بری ہوں میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اس بات میں وہ سچا بھی تھا۔ پھر کہتا ہے میں اللہ کے خوف سے ڈرتا ہوں۔ اللہ کے عذاب سخت اور بھاری ہیں۔ اس نے جبرائیل ؑ کو فرشتوں کے ساتھ اترتے دیکھ لیا تھا سمجھ گیا تھا کہ ان کے مقابلے کی مجھ میں یا مشرکوں میں طاقت نہیں وہ اپنے اس قول میں تو جھوٹا تھا کہ میں خوف الٰہی کرتا ہوں یہ تو صرف اس کی زبانی بات تھی دراصل وہ اپنے میں طاقت ہی نہیں پاتا تھا۔ یہی اس دشمن رب کی عادت ہے کہ بھڑکاتا اور بہکاتا ہے حق کے مقابلے میں لاکھڑا کردیتا ہے پھر روپوش ہوجاتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے شیطان انسان کو کفر کا حکم دیتا ہے پھر جب وہ کفر کر چکتا ہے تو یہ کہنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور آیت میں ہے کہ جب حق واضح جاتا ہے تو یہ کہتا ہے اللہ کے وعدے سچے ہیں میں خود جھوٹا میرے وعدے بھی سراسر جھوٹے میرا تم پر کوئی زور دعویٰ تو تھا ہی نہیں تم نے تو آپ میری آرزو پر گردن جھکا دی اب مھے سرزنش نہ کرو خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمہیں بچا سکوں گا نہ تم میرے کام آسکو گے۔ اس سے پہلے جو تم مجھے شریک رب بنا رہے تھے میں تو آج اس کا بھی انکاری ہوں۔ یقین مانو کہ ظالموں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔ حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں اگر میری آنکھیں آج بھی ہوتیں تو میں تمہیں بدر کے میدان میں وہ گھاٹی دکھا دیتا جہاں سے فرشتے آتے تھے بیشک و شبہ مجھے وہ معلوم ہے انہیں ابلیس نے دیکھ لیا اور اللہ نے انہیں حکم دیا کہ مومنوں کو ثابت قدم رکھو یہ لوگوں کے پاس ان کے جان پہچان کے آدمیوں کی شکل میں آتے اور کہتے خوش ہوجاؤ یہ کافر بھی کوئی چیز ہیں اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے بےخوفی کے ساتھ شیر کا سا حملہ کردو۔ ابلیس یہ دیکھ کر بھاگ کھڑا ہوا اب تک وہ سراقہ کی شکل میں کفار میں موجود تھا۔ ابو جہل نے یہ حال دیکھ کر اپنے لشکروں میں گشت شروع کیا کہہ رہا تھا کہ گھبراؤ نہیں اس کے بھاگ کھڑے ہونے سے دل تنگ نہ ہوجاؤ، وہ تو محمد ﷺ کی طرف سے سیکھا پڑھا آیا تھا کہ تمہیں عین موقعہ پر بزدل کر دے کوئی گھبرانے کی بات نہیں لات و عزیٰ کی قسم ! آج ان مسلمانوں کو ان کے نبی سمیت گرفتار کرلیں گے نامردی نہ کرو دل بڑھاؤ اور سخت حملہ کرو۔ دیکھو خبردار انہیں قتل نہ کرنا زندہ پکڑنا تاکہ انہیں دل کھول کر سزا دیں۔ یہ بھی اپنے زمانے کا فرعون ہی تھا اس نے بھی جادوگروں کے ایمان لانے کو کہا تھا کہ یہ تو صرف تمہارا ایک مکر ہے کہ یہاں سے تم ہمیں نکال دو۔ اس نے بھی کہا تھا کہ جادوگرو یہ موسیٰ تمہارا استاد ہے حالانکہ یہ محض اس کا فریب تھا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں عرفے کے دن جس قدر ابلیس حقیر و ذلیل رسوا اور درماندہ ہوتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عام معافی اور عام رحمت اتری ہے ہر ایک کے گناہ عموماً معاف ہوجاتے ہیں ہاں بدر کے دن اس کی ذلت و رسوائی کا کچھ مت پوچھو جب اس نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوجیں جبرائیل کی ماتحتی میں آرہی ہیں۔ جب دونوں فوجیں صف بندی کر کے آمنے سامنے آگئیں تو اللہ کی قدرت و حکمت سے مسلمان کافروں کو بہت کم نظر آنے لگے اور کافر مسلمانوں کی نگاہ میں کم جچنے لگے۔ اس پر کافروں نے قہقہہ لگایا کہ دیکھو مسلمان کیسے مذہبی دیوانے ہیں ؟ مٹھی بھر آدمی ہم ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا رہے ہیں ابھی کوئی دم میں ان کا چورا ہوجائے گا پہلے ہی حملے میں وہ چوٹ کھائیں گے کہ سر ہلاتے رہ جائیں۔ رب العالمین فرماتا ہے انہیں نہیں معلوم کہ یہ متوکلین کا گروہ ہے ان کا بھروسہ اس پر ہے جو غلبہ کا مالک ہے، حکمت کا مالک ہے اللہ کے دین کی سختی مسلمانوں میں محسوس کر کے ان کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ انہیں ذہبی دیوانگی ہے۔ دشمن الٰہی ابو جہل ملعون ٹیلے کے اوپر سے جھانک کر اللہ والوں کی کمی اور بےسروسامانی دیکھ کر گدھے کی طرح پھول گیا اور کہنے لگا لو پالا مار لیا ہے، بس آج سے اللہ کی عبادت کرنے والوں سے زمین خالی نظر آئے گی، ابھی ہم ان میں سے ایک ایک کے دو دو کر کے رکھ دیں گے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین میں طعنہ دینے والے مکہ کے منافق تھے۔ عامر کہتے ہیں یہ چند لوگ تھے جو زبانی مسلمان ہوئے تھے لیکن آج بدر کے میدان میں مشرکوں کے ساتھ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی کمی اور کمزوری دیکھ کر تعجب معلوم ہوا اور کہا کہ یہ لوگ تو مذہبی فریب خوردہ ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں یہ قریش کی ایک جماعت تھی قیس بن ولید بن مغیرہ، ابو قیس بن فاکہ بن مغیرہ، حارث بن زمعہ بن اسود بن عبدالمطلب اور علی بن امیہ بن خلف اور عاص بن منبہ بن حجاج یہ قریش کے ساتھ تھے لیکن یہ متردد تھے اور اسی میں رکے ہوئے تھے یہاں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہنے لگے یہ لوگ تو صرف مذہبی مجنوں ہیں ورنہ مٹھی بھر بےرسد اور بےہتھیار آدمی اتنی ٹڈی دل شوکت و شان والی فوجوں کے سامنے کیوں کھڑے ہوجاتے ؟ حسن فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بدر کی لڑائی میں نہیں آئے تھے ان کا نام منافق رکھ دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ یہ قوم اسلام کا اقرار کرتی تھی لیکن مشرکوں کی رو میں بہہ کر یہاں چلی آئی یہاں آکر مسلمانوں کا قلیل سا لشکر دیکھ کر انہوں نے یہ کہا جناب باری جل شانہ ارشاد فرماتا ہے کہ جو اس مالک الملک پر بھروسہ کرے اسے وہ ذی عزت کردیتا ہے کیونکہ عزت اس کی لونڈی ہے، غلبہ اس کا غلام ہے وہ بلند جناب ہے وہ بڑا ذی شان ہے وہ سچا سلطان ہے۔ وہ حکیم ہے اس کے سب کام حکمت سے ہوتے ہیں وہ ہر چیز کو اس کی ٹھیک جگہ رکھتا ہے۔ مستحقین امداد کی وہ مدد فرماتا ہے اور مستحقین ذلت کو وہ ذلیل کرتا ہے وہ سب کو خوب جانتا ہے۔
كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ
📘 شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لئے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کردیا کہ اللہ کی بات بلند ہوجائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم الخ) ، تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بدتر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابو سفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔ حضور نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابو سفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکہ دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کرلو ہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکہ سے آرہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈ بھیڑ ہوجائے اور حق وباطل کی تمیز ہوجائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابو سفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لئے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں ؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہوگیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔ ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب حضرت مقداد بن عمر ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ کی قوم نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اکرم ﷺ روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ حضرت عمر فاروق نے یہی جواب دیا آپ نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر حضرت سعد بن معاذ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ہم سے دریافت فرما رہے ہیں ؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو عزت و بزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک الغماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ کی رکاب تھامے آپ کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہہ دیا تھا کہ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ ﷺ آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لئے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو بسم اللہ کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس حضرت سعد کے اس فرمان پر قرآن کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ سے مشورہ کیا اور حضرت سعد بن عباد ؓ نے جواب دیا اور حضور نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈ بھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لئے واضح ہوگیا یعنی یہ امر کہ حضور بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔ دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید ؒ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بےمعنی ہے اس لئے کہ اس سے پہلے کا قول آیت (يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۭ) 8۔ الانفال :6) اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ ابن عباس اور ابن اسحاق ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ (واللہ اعلم)۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ نے حضور سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالین اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت عباس بن عبدالمطلب کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور ایسا نہ کیجئے۔ آپ نے دریافت فرمایا کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ کو مل گئی۔ مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈ بھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سنئے۔ جب رسول کریم ﷺ نے سنا کہ ابو سفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا۔ اس لئے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہوگیا کہ حضور اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔ اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور مع اپنے اصحاب کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کرلی اور نکل کھڑے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہوگیا۔ آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کردی۔ حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر حضرت مقداد کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئے ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی سے کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے آپ نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو اس سے مراد آپ کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لئے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔ دوسرے اس لئے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ مکہ سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے اس لئے آپ چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کرلیں۔ یہ سمجھ کر حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ شاید آپ ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی بات ہے تو حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا آپ پر ایمان ہے ہم آپ کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کرچکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ ہمارے کام دیکھ کر انشاء اللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہوجاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کرچکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ
📘 کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے۔ کاش کہ تو اے پیغمبر دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے کہا میں نے ابو جہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں آپ نے فرمایا ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا یہی حال ہوتا ہے۔ سورة قتال میں بھی اس بات کا بیان ہوا ہے اور سورة انعام کی (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ 93) 6۔ الانعام :93) میں بھی اس کا بیان مع تفسیر گذر چکا ہے۔ چونکہ یہ نافرمان لوگ تھے ان کی موت سے بدن میں چھپتی پھرتی ہیں جنہیں فرشتے جبراً گھسیٹا جاتا ہے جس طرح کسی زندہ شخص کی کھال کو اتارا جائے اسی کے ساتھ رگیں اور پٹھے بھی آجاتے ہیں۔ فرشتے اس سے کہتے ہیں اب جلنے کا مزہ چکھوں۔ یہ تمہاری دینوی بد اعمالی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ ظالم نہیں وہ تو عادل حاکم ہے۔ برکت و بلندی، غنا، پاکیزگی والا بزرگ اور تعریفوں والا ہے۔ چناچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے کہ میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کرلیا ہے اور تم پر بھی حرام کردیا ہے پس آپس میں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے میرے غلاموں میں تو صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال ہی کو گھرے ہوئے ہوں بھلائی پاکر میری تعریفیں کرو اور اس کے سوا کچھ اور دیکھو تو اپنے تئیں ہی ملامت کرو۔
ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ
📘 کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے۔ کاش کہ تو اے پیغمبر دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے کہا میں نے ابو جہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں آپ نے فرمایا ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا یہی حال ہوتا ہے۔ سورة قتال میں بھی اس بات کا بیان ہوا ہے اور سورة انعام کی (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ 93) 6۔ الانعام :93) میں بھی اس کا بیان مع تفسیر گذر چکا ہے۔ چونکہ یہ نافرمان لوگ تھے ان کی موت سے بدن میں چھپتی پھرتی ہیں جنہیں فرشتے جبراً گھسیٹا جاتا ہے جس طرح کسی زندہ شخص کی کھال کو اتارا جائے اسی کے ساتھ رگیں اور پٹھے بھی آجاتے ہیں۔ فرشتے اس سے کہتے ہیں اب جلنے کا مزہ چکھوں۔ یہ تمہاری دینوی بد اعمالی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ ظالم نہیں وہ تو عادل حاکم ہے۔ برکت و بلندی، غنا، پاکیزگی والا بزرگ اور تعریفوں والا ہے۔ چناچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے کہ میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کرلیا ہے اور تم پر بھی حرام کردیا ہے پس آپس میں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے میرے غلاموں میں تو صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال ہی کو گھرے ہوئے ہوں بھلائی پاکر میری تعریفیں کرو اور اس کے سوا کچھ اور دیکھو تو اپنے تئیں ہی ملامت کرو۔
كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ
📘 کفار اللہ کے ازلی دشمن ہیں ان کافروں نے بھی تیرے ساتھ وہی کیا جو ان سے پہلے کافروں نے اپنے نبیوں کے ساتھ کیا تھا پس ہم نے بھی ان کے ساتھ وہی کیا جو ہم نے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ کیا تھا جو ان ہی جیسے تھے۔ مثلا فرعونی اور ان سے پہلے کے لوگ جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو نہ مانا جس کے باعث اللہ کی پکڑ ان پر آئی۔ تمام قوتیں اللہ ہی کی ہیں اور اس کے عذاب بھی بڑے بھاری ہیں کوئی نہیں جو اس پر غالب آسکے کوئی نہیں جو اس سے بھاگ سکے۔
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
📘 اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہوسکتا ہے۔ تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔
كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَذَّبُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ ۚ وَكُلٌّ كَانُوا ظَالِمِينَ
📘 اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہوسکتا ہے۔ تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گذشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔
إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الَّذِينَ كَفَرُوا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
📘 زمین کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بدتر اللہ کے نزدیک بےایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول وقرار کیا ادھر پھرگئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آجائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہوجائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔
الَّذِينَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ
📘 زمین کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بدتر اللہ کے نزدیک بےایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول وقرار کیا ادھر پھرگئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آجائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہوجائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔
فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
📘 زمین کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بدتر اللہ کے نزدیک بےایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول وقرار کیا ادھر پھرگئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آجائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہوجائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ
📘 اللہ خائنوں کو پسند نہیں فرماتا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی اگر کسی سے تمہارا عہد و پیمان ہو اور تمہیں خوف ہو کہ یہ بدعہدی اور وعدہ خلافی کریں گے تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ برابری کی حالت میں عہد نامہ توڑ دو اور انہیں اطلاع کردو تاکہ وہ بھی صلح کے خیال میں نہ رہیں۔ کچھ دن پہلے ہی سے انہیں خبر دو۔ اللہ خیانت کو ناپسند فرماتا ہے کافروں سے بھی تم خیانت نہ کرو۔ مسند احمد میں ہے کہ امیر معاویہ نے لشکریوں کی روم کی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی کہ مدت صلح ختم ہوتے ہی ان پر اچانک حملہ کردیں تو ایک شیخ اپنی سواری پر سوار یہ کہتے ہوئے آئے کہ وعدہ وفائی کرو، عذر درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب کسی قوم سے عہد و پیمان ہوجائیں تو نہ کوئی گرہ کھولو نہ باندھو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ جوئے یا انہیں اطلاع دے کر عہد نامہ چاک نہ ہوجائے۔ جب یہ بات حضرت معاویہ کو پہنچی تو آپ نے اسی وقت فوج کو واپسی کا حکم دے دیا۔ یہ شیخ حضرت عمرو بن عنبسہ تھے۔ حضرت سلمان فارسی نے ایک شہر کے قلعے کے پاس پہنچ کر اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم مجھے بلاؤ میں تمہیں بلاؤں گا جیسے کہ میں رسول اللہ ﷺ کو انہیں بلاتے دیکھا ہے۔ پھر فرمایا میں بھی انہیں میں سے ایک شخص تھا پس مجھے اللہ عزوجل نے اسلام کی ہدایت کی اگر تم بھی مسلمان ہوجاؤ تو جو ہمارا حق ہے وہی تمہارا حق ہوگا اور جو ہم پر ہے تم پر بھی وہی ہوگا اور اگر تم اس نہیں مانتے تو ذلت کے ساتھ تمہیں جزیہ دینا ہوگا اسے بھی قبول نہ کرو تو ہم تمہیں ابھی سے مطلع کرتے ہیں جب کہ ہم تم برابری کی حالت میں ہیں اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں رکھتا۔ تین دن تک انہیں اسی طرح دعوت دی آخر چوتھے روز صبح ہی حملہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فتح دی اور مدد فرمائی۔
وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَبَقُوا ۚ إِنَّهُمْ لَا يُعْجِزُونَ
📘 کفار کے مقابلہ کے ہر وقت تیار رہو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے بھاگ نکلے ہم ان کی پکڑ پر قادر نہیں بلکہ وہ ہر وقت ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے اور آیت میں ہے برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ فرماتا ہے کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے اور فرمان ہے کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔ پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر رکھ سکتے ہیں موجود رکھو۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی اور دو مرتبہ یہی فرمایا تیر اندازی کیا کرو سواری کیا کرو اور تیر اندازی گھوڑ سواری سے بہتر ہے۔ فرماتے ہیں گھوڑوں کے پالنے والے تین قسم کے ہیں ایک تو اجر وثواب پانے والے، ایک نہ تو ثواب نہ عذاب پانے والے ایک عذاب بگھتنے والے۔ جو جہاد کے ارادے سے پالے اس کے گھوڑے کا چلنا پھرنا تیرنا، چگنا باعث ثواب ہے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر کہیں چڑھ جائے تو بھی اس کے نشانات قدم اور اس کی لید پر اسے نیکیاں ملتی ہیں کسی نہر پر گذارتے ہوئے وہ پانی پی لے اگرچہ مجاہد نے پلانے کا ارادہ نہ بھی کیا ہو تاہم اسے نیکیاں ملتی ہیں۔ پس یہ گھوڑا تو اس کے پالنے والے کے لیے بڑے اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔ اور جس شخص نے گھوڑا اس نیت سے پالا کہ وہ دوسروں سے بےنیاز ہوجائے پھر اللہ کا حق بھی اس کی گردن اور اس کی سواری میں نہیں بھولا یہ اس کے لیے جائز ہے یعنی نہ اسے اجر نہ اسے گناہ۔ تیسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا کے طور پر پالا اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے وہ اس کے ذمے و بال ہے اور اس کی گردن پر بوجھ ہے آپ سے دریافت کیا گیا کہ اچھاگدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس کے بارے میں کوئی آیت تو اتری نہیں ہاں یہ جامع عام آیت موجود ہے کہ جو شخص ایک ذرے کے برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک ذرے کے برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں گھوڑے تین طرح کے ہیں۔ رحمان کے شیطان کے اور انسان کے۔ اس میں ہے کی شیطانی گھوڑے وہ ہیں جو گھوڑ دوڑ کی شرطیں لگانے اور جوئے بازی کرنے کے لیے ہوں۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ تیر اندازی گھوڑ سواری سے افضل ہے۔ امام مالک اس کے خلاف ہیں لیکن جمہور کا قول قوی ہے کہ کیونکہ حدیث میں آچکا ہے۔ حضرت معاویہ بن خدیج حضرت ابوذر کے پاس گئے اس وقت وہ اپنے گھوڑے کی خدمت کر رہے تھے پوچھا تمہیں یہ گھوڑا کیا کام آتا ہے ؟ فرمایا میرا خیال ہے کہ اس جانور کی دعا میرے حق میں قبول ہوگی۔ کہا جانور اور دعا ؟ فرمایا ہاں اللہ کی قسم ہر گھوڑا ہر صبح دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو نے مجھے اپنے بندوں میں سے ایک کے حوالے کیا ہے تو مجھے اس کی تمام اہل سے اور مال سے اور اولاد سے زیادہ محبوب بنا کر اس کے پاس رکھ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر عربی گھوڑے کو ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے گھوڑوں والے اللہ کی مدد میں ہیں اسے نیک نیتی سے جہاد کے ارادے سے پالنے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت ہاتھ بڑھاکر خیرات کرتا ہے۔ اور بھی حدیثیں اس بارے میں بہت سی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں بھلائی کی تفصیل ہے کہ اجر اور غنیمت۔ فرماتا ہے اس سے تمہارے دشمن خوف زدہ اور ہیبت خوردہ رہیں گے ان ظاہری مقابلے کے دشمنوں کے علاوہ اور دشمن بھی ہیں یعنی بنو قریظہ، فارس اور محلوں کے شیاطین۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ اس سے مراد جنات ہیں۔ ایک منکر حدیث میں ہے جس گھر میں کوئی آزاد گھوڑا ہو وہ گھر کبھی بدنصیب نہیں ہوگا لیکن اس روایت کی تو سند ٹھیک ہے نہ یہ صحیح ہے۔ اور اس سے مراد منافق بھی لی گئی ہے۔ اور یہی قول زیادہ مناسب بھی ہے جیسے فرمان الٰہی ہے (وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ01001ۚ) 9۔ التوبہ :101) تمہارے چاروں طرف دیہاتی اور شہری منافق ہیں جنہیں تم نہیں جانتے لیکن ہم ان سے خوب واقف ہیں۔ پھر ارشاد ہے کہ جہاد میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ پاؤ گے۔ ابو داؤد میں ہے کہ ایک درہم کا ثواب سات سو گنا کر کے ملے گا جیسے کہ (مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ02601) 2۔ البقرة :261) اتری تو آپ نے فرمایا کہ وہ بھی جو سوال کرے چاہے وہ کسی دین کا ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم نے اسے روایت کیا ہے۔
يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ
📘 شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لئے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کردیا کہ اللہ کی بات بلند ہوجائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم الخ) ، تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بدتر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابو سفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔ حضور نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابو سفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکہ دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کرلو ہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکہ سے آرہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈ بھیڑ ہوجائے اور حق وباطل کی تمیز ہوجائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابو سفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لئے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں ؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہوگیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔ ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب حضرت مقداد بن عمر ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ کی قوم نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اکرم ﷺ روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ حضرت عمر فاروق نے یہی جواب دیا آپ نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر حضرت سعد بن معاذ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ہم سے دریافت فرما رہے ہیں ؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو عزت و بزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک الغماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ کی رکاب تھامے آپ کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہہ دیا تھا کہ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ ﷺ آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لئے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو بسم اللہ کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس حضرت سعد کے اس فرمان پر قرآن کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ سے مشورہ کیا اور حضرت سعد بن عباد ؓ نے جواب دیا اور حضور نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈ بھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لئے واضح ہوگیا یعنی یہ امر کہ حضور بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔ دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید ؒ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بےمعنی ہے اس لئے کہ اس سے پہلے کا قول آیت (يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۭ) 8۔ الانفال :6) اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ ابن عباس اور ابن اسحاق ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ (واللہ اعلم)۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ نے حضور سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالین اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت عباس بن عبدالمطلب کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور ایسا نہ کیجئے۔ آپ نے دریافت فرمایا کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ کو مل گئی۔ مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈ بھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سنئے۔ جب رسول کریم ﷺ نے سنا کہ ابو سفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا۔ اس لئے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہوگیا کہ حضور اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔ اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور مع اپنے اصحاب کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کرلی اور نکل کھڑے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہوگیا۔ آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کردی۔ حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر حضرت مقداد کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئے ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی سے کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے آپ نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو اس سے مراد آپ کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لئے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔ دوسرے اس لئے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ مکہ سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے اس لئے آپ چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کرلیں۔ یہ سمجھ کر حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ شاید آپ ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی بات ہے تو حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا آپ پر ایمان ہے ہم آپ کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کرچکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ ہمارے کام دیکھ کر انشاء اللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہوجاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کرچکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ
📘 کفار کے مقابلہ کے ہر وقت تیار رہو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافر لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہم سے بھاگ نکلے ہم ان کی پکڑ پر قادر نہیں بلکہ وہ ہر وقت ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہمیں ہرا نہیں سکتے اور آیت میں ہے برائیاں کرنے والے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ فرماتا ہے کافر ہمیں یہاں ہرا نہیں سکتے وہاں کا ٹھکانا آگ ہے جو بدترین جگہ ہے اور فرمان ہے کافروں کا شہروں میں آنا جانا چلنا پھرنا کہیں تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ تو سب آنی جانی چیزیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بدترین گود ہے۔ پھر مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی طاقت و امکان کے مطابق ان کفار کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہو جو قوت طاقت گھوڑے، لشکر رکھ سکتے ہیں موجود رکھو۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے منبر پر قوت کی تفسیر تیر اندازی سے کی اور دو مرتبہ یہی فرمایا تیر اندازی کیا کرو سواری کیا کرو اور تیر اندازی گھوڑ سواری سے بہتر ہے۔ فرماتے ہیں گھوڑوں کے پالنے والے تین قسم کے ہیں ایک تو اجر وثواب پانے والے، ایک نہ تو ثواب نہ عذاب پانے والے ایک عذاب بگھتنے والے۔ جو جہاد کے ارادے سے پالے اس کے گھوڑے کا چلنا پھرنا تیرنا، چگنا باعث ثواب ہے یہاں تک کہ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر کہیں چڑھ جائے تو بھی اس کے نشانات قدم اور اس کی لید پر اسے نیکیاں ملتی ہیں کسی نہر پر گذارتے ہوئے وہ پانی پی لے اگرچہ مجاہد نے پلانے کا ارادہ نہ بھی کیا ہو تاہم اسے نیکیاں ملتی ہیں۔ پس یہ گھوڑا تو اس کے پالنے والے کے لیے بڑے اجرو ثواب کا ذریعہ ہے۔ اور جس شخص نے گھوڑا اس نیت سے پالا کہ وہ دوسروں سے بےنیاز ہوجائے پھر اللہ کا حق بھی اس کی گردن اور اس کی سواری میں نہیں بھولا یہ اس کے لیے جائز ہے یعنی نہ اسے اجر نہ اسے گناہ۔ تیسرا وہ شخص جس نے فخر و ریا کے طور پر پالا اور مسلمانوں کے مقابلے کے لیے وہ اس کے ذمے و بال ہے اور اس کی گردن پر بوجھ ہے آپ سے دریافت کیا گیا کہ اچھاگدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس کے بارے میں کوئی آیت تو اتری نہیں ہاں یہ جامع عام آیت موجود ہے کہ جو شخص ایک ذرے کے برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ایک ذرے کے برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں گھوڑے تین طرح کے ہیں۔ رحمان کے شیطان کے اور انسان کے۔ اس میں ہے کی شیطانی گھوڑے وہ ہیں جو گھوڑ دوڑ کی شرطیں لگانے اور جوئے بازی کرنے کے لیے ہوں۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ تیر اندازی گھوڑ سواری سے افضل ہے۔ امام مالک اس کے خلاف ہیں لیکن جمہور کا قول قوی ہے کہ کیونکہ حدیث میں آچکا ہے۔ حضرت معاویہ بن خدیج حضرت ابوذر کے پاس گئے اس وقت وہ اپنے گھوڑے کی خدمت کر رہے تھے پوچھا تمہیں یہ گھوڑا کیا کام آتا ہے ؟ فرمایا میرا خیال ہے کہ اس جانور کی دعا میرے حق میں قبول ہوگی۔ کہا جانور اور دعا ؟ فرمایا ہاں اللہ کی قسم ہر گھوڑا ہر صبح دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تو نے مجھے اپنے بندوں میں سے ایک کے حوالے کیا ہے تو مجھے اس کی تمام اہل سے اور مال سے اور اولاد سے زیادہ محبوب بنا کر اس کے پاس رکھ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر عربی گھوڑے کو ہر صبح دو دعائیں کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں گھوڑوں کی پیشانیوں میں بھلائی بندھی ہوئی ہے گھوڑوں والے اللہ کی مدد میں ہیں اسے نیک نیتی سے جہاد کے ارادے سے پالنے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت ہاتھ بڑھاکر خیرات کرتا ہے۔ اور بھی حدیثیں اس بارے میں بہت سی ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں بھلائی کی تفصیل ہے کہ اجر اور غنیمت۔ فرماتا ہے اس سے تمہارے دشمن خوف زدہ اور ہیبت خوردہ رہیں گے ان ظاہری مقابلے کے دشمنوں کے علاوہ اور دشمن بھی ہیں یعنی بنو قریظہ، فارس اور محلوں کے شیاطین۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ اس سے مراد جنات ہیں۔ ایک منکر حدیث میں ہے جس گھر میں کوئی آزاد گھوڑا ہو وہ گھر کبھی بدنصیب نہیں ہوگا لیکن اس روایت کی تو سند ٹھیک ہے نہ یہ صحیح ہے۔ اور اس سے مراد منافق بھی لی گئی ہے۔ اور یہی قول زیادہ مناسب بھی ہے جیسے فرمان الٰہی ہے (وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ01001ۚ) 9۔ التوبہ :101) تمہارے چاروں طرف دیہاتی اور شہری منافق ہیں جنہیں تم نہیں جانتے لیکن ہم ان سے خوب واقف ہیں۔ پھر ارشاد ہے کہ جہاد میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا بدلہ پاؤ گے۔ ابو داؤد میں ہے کہ ایک درہم کا ثواب سات سو گنا کر کے ملے گا جیسے کہ (مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ02601) 2۔ البقرة :261) اتری تو آپ نے فرمایا کہ وہ بھی جو سوال کرے چاہے وہ کسی دین کا ہو اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم نے اسے روایت کیا ہے۔
۞ وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
📘 جس قوم سے بد عہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو فرمان ہے کہ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کردو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کردو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہوجائیں تو تم پھر صلح و صفائی کرلو۔ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول کریم ﷺ نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کرلی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب اختلاف ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کرلینا (مسند امام احمد) مجاہد کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورة براۃ کی آیت سے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ 29) 9۔ التوبہ :29) سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کرلینا بلاشک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے کی۔ پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بےفکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی۔ انہیں تجھ پر ایمان لانے تیری اطاعت کرنے کی توفیق دی۔ تیری مدد اور تیری نصرت پر انہیں آمادہ کیا۔ اگرچہ آپ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کر ڈالتا لیکن ان میں وہ الفت وہ محبت پیدا نہ کرسکتا جو اللہ نے خود کردی۔ ان کی صدیوں پرانی عداوتیں دور کردیں اور اوس و خزرج انصار کے دونوں قبیلوں میں جاہلیت میں آپس میں خوب تلوار چلا کرتی تھی۔ نور ایمان نے اس عداوت کو محبت سے بدل دیا۔ جیسے قرآن کا بیان ہے کہ اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنادیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچالیا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی ؟ کیا تم فقیر نہ تھے ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کردیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے۔ آپ کی ہر بات پر انصاف کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے۔ الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ وہ بلند جناب ہے اس سے امید رکھنے والا ناامید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے قرابت داری کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے۔ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے بھی ختم کردیتا تو تیرے بس میں نہ تھا کہ ان کے دل ملا دے۔ شاعر کہتا ہے تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے۔ اور شاعر کہتا ہے میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول ابن عباس کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کردی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائیں۔ عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری حضرت مجاہد ؒ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت و محبت پیدا کردے۔ ان کے اس فرمان سے مجھے یقین ہوگیا کہ یہ مجھ سے بہت زیادہ سمجھ دار ہیں۔ ولید بن ابی مغیث کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد سے سنا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں میں نے پوچھا صرف مصافحہ سے ہی ؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت کی۔ تو حضرت ولید نے فرمایا تم مجھ سے بہت بڑے عالم ہو۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں سب سے پہلے چیز جو لوگوں میں سے اٹھ جائے گی و الفت و محبت ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے۔ ان کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔
وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ ۚ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ
📘 جس قوم سے بد عہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو فرمان ہے کہ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کردو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کردو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہوجائیں تو تم پھر صلح و صفائی کرلو۔ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول کریم ﷺ نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کرلی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب اختلاف ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کرلینا (مسند امام احمد) مجاہد کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورة براۃ کی آیت سے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ 29) 9۔ التوبہ :29) سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کرلینا بلاشک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے کی۔ پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بےفکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی۔ انہیں تجھ پر ایمان لانے تیری اطاعت کرنے کی توفیق دی۔ تیری مدد اور تیری نصرت پر انہیں آمادہ کیا۔ اگرچہ آپ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کر ڈالتا لیکن ان میں وہ الفت وہ محبت پیدا نہ کرسکتا جو اللہ نے خود کردی۔ ان کی صدیوں پرانی عداوتیں دور کردیں اور اوس و خزرج انصار کے دونوں قبیلوں میں جاہلیت میں آپس میں خوب تلوار چلا کرتی تھی۔ نور ایمان نے اس عداوت کو محبت سے بدل دیا۔ جیسے قرآن کا بیان ہے کہ اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنادیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچالیا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی ؟ کیا تم فقیر نہ تھے ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کردیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے۔ آپ کی ہر بات پر انصاف کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے۔ الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ وہ بلند جناب ہے اس سے امید رکھنے والا ناامید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے قرابت داری کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے۔ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے بھی ختم کردیتا تو تیرے بس میں نہ تھا کہ ان کے دل ملا دے۔ شاعر کہتا ہے تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے۔ اور شاعر کہتا ہے میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول ابن عباس کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کردی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائیں۔ عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری حضرت مجاہد ؒ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت و محبت پیدا کردے۔ ان کے اس فرمان سے مجھے یقین ہوگیا کہ یہ مجھ سے بہت زیادہ سمجھ دار ہیں۔ ولید بن ابی مغیث کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد سے سنا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں میں نے پوچھا صرف مصافحہ سے ہی ؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت کی۔ تو حضرت ولید نے فرمایا تم مجھ سے بہت بڑے عالم ہو۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں سب سے پہلے چیز جو لوگوں میں سے اٹھ جائے گی و الفت و محبت ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے۔ ان کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔
وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
📘 جس قوم سے بد عہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو فرمان ہے کہ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو، لڑائی کی اطلاع کردو۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کردو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہوجائیں تو تم پھر صلح و صفائی کرلو۔ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول کریم ﷺ نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کرلی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب اختلاف ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کرلینا (مسند امام احمد) مجاہد کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورة براۃ کی آیت سے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ 29) 9۔ التوبہ :29) سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کرلینا بلاشک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے کی۔ پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بےفکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی۔ انہیں تجھ پر ایمان لانے تیری اطاعت کرنے کی توفیق دی۔ تیری مدد اور تیری نصرت پر انہیں آمادہ کیا۔ اگرچہ آپ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کر ڈالتا لیکن ان میں وہ الفت وہ محبت پیدا نہ کرسکتا جو اللہ نے خود کردی۔ ان کی صدیوں پرانی عداوتیں دور کردیں اور اوس و خزرج انصار کے دونوں قبیلوں میں جاہلیت میں آپس میں خوب تلوار چلا کرتی تھی۔ نور ایمان نے اس عداوت کو محبت سے بدل دیا۔ جیسے قرآن کا بیان ہے کہ اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنادیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچالیا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ ﷺ نے انصار سے فرمایا کہ اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی ؟ کیا تم فقیر نہ تھے ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کردیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے۔ آپ کی ہر بات پر انصاف کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے۔ الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ وہ بلند جناب ہے اس سے امید رکھنے والا ناامید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے قرابت داری کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے۔ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے بھی ختم کردیتا تو تیرے بس میں نہ تھا کہ ان کے دل ملا دے۔ شاعر کہتا ہے تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے۔ اور شاعر کہتا ہے میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول ابن عباس کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی۔ ابن عباس فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کردی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کرسکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائیں۔ عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری حضرت مجاہد ؒ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت و محبت پیدا کردے۔ ان کے اس فرمان سے مجھے یقین ہوگیا کہ یہ مجھ سے بہت زیادہ سمجھ دار ہیں۔ ولید بن ابی مغیث کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد سے سنا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں میں نے پوچھا صرف مصافحہ سے ہی ؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت کی۔ تو حضرت ولید نے فرمایا تم مجھ سے بہت بڑے عالم ہو۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں سب سے پہلے چیز جو لوگوں میں سے اٹھ جائے گی و الفت و محبت ہے۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے۔ ان کے سب گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
📘 ایک غازی دس کفار پہ بھاری اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور ﷺ صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی ؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے کہا واہ واہ آپ نے فرمایا یہ کس ارادے سے کہا ؟ کہا اس امید پر کہ اللہ مجھے بھی جنتی کر دے۔ آپ نے فرمایا میری پیشگوئی ہے کہ تو جنتی ہے وہ اٹھتے ہیں دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اپنی تلوار کا میان توڑ دیتے ہیں کچھ کھجوریں جو پاس ہیں کھانی شروع کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں جتنی دیر میں انہیں کھاؤں اتنی دیر تک بھی اب یہاں ٹھہرنا مجھ پر شاق ہے انہیں ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اور حملہ کر کے شیر کی طرح دشمن کے بیچ میں گھس جاتے ہیں اور جوہر تلوار دکھاتے ہوئے کافروں کی گردنیں مارتے ہیں اور حملہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے ہیں ؓ ورجاء۔ ابن المسیب اور سعد بن جیر فرماتے ہیں یہ آیت حضرت عمر کے اسلام کے وقت اتری جب کہ مسلمانوں کی تعداد پوری چالیس کی ہوئی۔ لیکن اس میں ذرا نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت مدنی ہے حضرت عمر کے اسلام کا واقعہ مکہ شریف کا ہے۔ حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ کی ہجرت سے پہلے کا۔ واللہ اعلم۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بشارت دیتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ تم میں سے بیس ان کافروں میں سے دو سو پر غالب آئیں گے۔ ایک سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے غرض ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے کا ہے۔ پھر حکم منسوخ ہوگیا لیکن بشارت باقی ہے جب یہ حکم مسلمانوں پر گراں گذرا۔ ایک دس کے مقابلے سے ذرا جھجھکا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور فرمایا۔ اب اللہ نے بوجھ ہلکا کردیا۔ لیکن جتنی تعداد کم ہوئی اتنا ہی صبر ناقص ہوگیا پہلے حکم تھا کہ بیس مسلمان دو سو کافروں سے پیچھے نہ ہٹیں اب یہ ہوا کہ اپنے سے دگنی تعداد یعنی سو دو سو سے نہ بھاگیں۔ پس گرانی گذر نے پر ضعیفی اور ناتوانی کو قبول فرما کر اللہ نے تخفیف کردی۔ پس دگنی تعداد کے کافروں سے تو لڑائی میں پیچھے ہٹنا لائق نہیں ہاں اس سے زیادتی کے وقت طرح دے جانا جرم نہیں۔ ابن عمر فرماتے ہیں یہ آیت ہم صحابیوں کے بارے میں اتری ہے حضور ﷺ نے آیت پڑھ کر فرمایا پہلا حکم اٹھ گیا۔ (مستدرک حاکم)
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ
📘 ایک غازی دس کفار پہ بھاری اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور ﷺ صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی ؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے کہا واہ واہ آپ نے فرمایا یہ کس ارادے سے کہا ؟ کہا اس امید پر کہ اللہ مجھے بھی جنتی کر دے۔ آپ نے فرمایا میری پیشگوئی ہے کہ تو جنتی ہے وہ اٹھتے ہیں دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اپنی تلوار کا میان توڑ دیتے ہیں کچھ کھجوریں جو پاس ہیں کھانی شروع کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں جتنی دیر میں انہیں کھاؤں اتنی دیر تک بھی اب یہاں ٹھہرنا مجھ پر شاق ہے انہیں ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اور حملہ کر کے شیر کی طرح دشمن کے بیچ میں گھس جاتے ہیں اور جوہر تلوار دکھاتے ہوئے کافروں کی گردنیں مارتے ہیں اور حملہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے ہیں ؓ ورجاء۔ ابن المسیب اور سعد بن جیر فرماتے ہیں یہ آیت حضرت عمر کے اسلام کے وقت اتری جب کہ مسلمانوں کی تعداد پوری چالیس کی ہوئی۔ لیکن اس میں ذرا نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت مدنی ہے حضرت عمر کے اسلام کا واقعہ مکہ شریف کا ہے۔ حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ کی ہجرت سے پہلے کا۔ واللہ اعلم۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بشارت دیتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ تم میں سے بیس ان کافروں میں سے دو سو پر غالب آئیں گے۔ ایک سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے غرض ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے کا ہے۔ پھر حکم منسوخ ہوگیا لیکن بشارت باقی ہے جب یہ حکم مسلمانوں پر گراں گذرا۔ ایک دس کے مقابلے سے ذرا جھجھکا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور فرمایا۔ اب اللہ نے بوجھ ہلکا کردیا۔ لیکن جتنی تعداد کم ہوئی اتنا ہی صبر ناقص ہوگیا پہلے حکم تھا کہ بیس مسلمان دو سو کافروں سے پیچھے نہ ہٹیں اب یہ ہوا کہ اپنے سے دگنی تعداد یعنی سو دو سو سے نہ بھاگیں۔ پس گرانی گذر نے پر ضعیفی اور ناتوانی کو قبول فرما کر اللہ نے تخفیف کردی۔ پس دگنی تعداد کے کافروں سے تو لڑائی میں پیچھے ہٹنا لائق نہیں ہاں اس سے زیادتی کے وقت طرح دے جانا جرم نہیں۔ ابن عمر فرماتے ہیں یہ آیت ہم صحابیوں کے بارے میں اتری ہے حضور ﷺ نے آیت پڑھ کر فرمایا پہلا حکم اٹھ گیا۔ (مستدرک حاکم)
الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ
📘 ایک غازی دس کفار پہ بھاری اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور ﷺ صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی ؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے کہا واہ واہ آپ نے فرمایا یہ کس ارادے سے کہا ؟ کہا اس امید پر کہ اللہ مجھے بھی جنتی کر دے۔ آپ نے فرمایا میری پیشگوئی ہے کہ تو جنتی ہے وہ اٹھتے ہیں دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اپنی تلوار کا میان توڑ دیتے ہیں کچھ کھجوریں جو پاس ہیں کھانی شروع کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں جتنی دیر میں انہیں کھاؤں اتنی دیر تک بھی اب یہاں ٹھہرنا مجھ پر شاق ہے انہیں ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اور حملہ کر کے شیر کی طرح دشمن کے بیچ میں گھس جاتے ہیں اور جوہر تلوار دکھاتے ہوئے کافروں کی گردنیں مارتے ہیں اور حملہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے ہیں ؓ ورجاء۔ ابن المسیب اور سعد بن جیر فرماتے ہیں یہ آیت حضرت عمر کے اسلام کے وقت اتری جب کہ مسلمانوں کی تعداد پوری چالیس کی ہوئی۔ لیکن اس میں ذرا نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت مدنی ہے حضرت عمر کے اسلام کا واقعہ مکہ شریف کا ہے۔ حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ کی ہجرت سے پہلے کا۔ واللہ اعلم۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بشارت دیتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ تم میں سے بیس ان کافروں میں سے دو سو پر غالب آئیں گے۔ ایک سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے غرض ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے کا ہے۔ پھر حکم منسوخ ہوگیا لیکن بشارت باقی ہے جب یہ حکم مسلمانوں پر گراں گذرا۔ ایک دس کے مقابلے سے ذرا جھجھکا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور فرمایا۔ اب اللہ نے بوجھ ہلکا کردیا۔ لیکن جتنی تعداد کم ہوئی اتنا ہی صبر ناقص ہوگیا پہلے حکم تھا کہ بیس مسلمان دو سو کافروں سے پیچھے نہ ہٹیں اب یہ ہوا کہ اپنے سے دگنی تعداد یعنی سو دو سو سے نہ بھاگیں۔ پس گرانی گذر نے پر ضعیفی اور ناتوانی کو قبول فرما کر اللہ نے تخفیف کردی۔ پس دگنی تعداد کے کافروں سے تو لڑائی میں پیچھے ہٹنا لائق نہیں ہاں اس سے زیادتی کے وقت طرح دے جانا جرم نہیں۔ ابن عمر فرماتے ہیں یہ آیت ہم صحابیوں کے بارے میں اتری ہے حضور ﷺ نے آیت پڑھ کر فرمایا پہلا حکم اٹھ گیا۔ (مستدرک حاکم)
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ ۚ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
📘 اسیران بدر اور مشورہ مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے ؟ حضرت عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ نے ان سے منہ پھیرلیا پھر فرمایا اللہ نے تمہارے بس میں کردیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔ پھر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ نے پھر منہ پھیرلیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ہماری رائے میں تو آپ ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد کیجئے اب آپ کے چہرے سے غم کے آثار جاتے رہے عفو عام کردیا اور فدیہ لے کر سب کو آزاد کردیا اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ اسی صورت کے شروع میں ابن عباس کی روایت گذر چکی ہے صحیح مسلم میں بھی اسی جیسی حدیث ہے کہ بدر کے دن آپ نے دریافت فرمایا کہ ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ ﷺ کی قوم کے ہیں، آپ والے ہیں انہیں زندہ چھوڑا جائے ان سے توبہ کرالی جائے گی عجب کہ کل اللہ کی ان پر مہربانی ہوجائے لیکن حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ ﷺ کو جھٹلانے والے آپ ﷺ کو نکال دینے والے ہیں حکم دیجئے کہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ اسی میدان میں درخت بکثرت ہیں آگ لگوا دیجئے اور انہیں جلا دیجئے آپ خاموش ہو رہے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر تشریف لے گئے لوگوں میں بھی ان تینوں بزرگوں کی رائے کا ساتھ دینے والے ہوگئے اتنے میں آپ ﷺ پھر تشریف لائے اور فرمانے لگے بعض دل نرم ہوتے ہوتے دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوجاتے ہیں اور بعض دل سخت ہوتے ہوتے پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر تمہاری مثال آنحضرت ابراہیم ؑ جیسی ہے کہ اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ میرے تابعدار تو میرے ہیں ہی لیکن مخالف بھی تیری معافی اور بخشش کے ماتحت ہیں اور تمہاری مثال حضرت عیسیٰ ؑ جیسی ہے جو کہیں گے یا اللہ اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے اور اے عمر تمہاری مثال حضرت نوح ؑ جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بددعا کی کہ یا اللہ زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا باقی نہ رکھ۔ سنو تمہیں اس وقت احتیاج ہے ان قیدیوں میں سے کوئی بھی بغیر فدیئے کے رہا نہ ہو ورنہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔ اس پر ابن مسعود ؓ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ سہیل بن بیضا کو اس سے مخصوص کرلیا جائے اس لیے وہ اسلام کا ذکر کیا کرتا تھا اس پر حضور ﷺ خاموش ہوگئے واللہ میں سارا دن خوف زدہ رہا کہ کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برسائے جائیں یہاں تک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مگر سہیل بن بیضا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے یہ حدیث ترمذی مسند احمد وغیرہ میں ہے۔ ان قیدیوں میں عباس بھی تھے انہیں ایک انصاری نے گرفتار کیا تھا انصار کا خیال تھا کہ اسے قتل کردیں آپ کو بھی یہ حال معلوم تھا آپ ﷺ نے فرمایا رات کو مجھے اس خیال سے نیند نہیں آئی۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا اگر آپ ﷺ اجازت دیں تو میں انصار کے پاس جاؤں آپ ﷺ نے اجازت دی حضرت عمر انصار کے پاس آئے اور کہا عباس کو چھوڑ دو انہوں نے جواب دیا واللہ ہم اسے نہ چھوریں آپ نے فرمایا گو رسول اللہ ﷺ کی رضامندی اسی میں ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ اب انہیں لے جائیں ہم نے بخوشی چھوڑا۔ اب حضرت عمر نے ان سے کہا کہ عباس اب ملسمان ہوجاؤ واللہ تمہارے اسلام لانے سے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے بھی زیادہ خوشی ہوگی اس لیے کہ رسول للہ ﷺ تمہارے اسلام لانے سے خوش ہوجائیں گے ان قیدیوں کے بارے میں حضور ﷺ نے ابوبکر سے مشورہ لیا تو آپ نے تو فرمایا یہ سب ہمارے ہی کنبے قبیلے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجئے حضرت عمر سے جب مشورہ لیا تو آپ نے جواب دیا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے۔ آخر آپ نے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا۔ حضرت علی فرماتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ اپنے صحابہ کو اختیار دیجئے کہ وہ ان دو باتوں میں سے ایک کو پسند کرلیں اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں اور اگر چاہیں تو ان قیدیوں کو قتل کردیں لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ لینے کی صورت میں اگلے سال ان میں اتنے ہی شہید ہوں گے۔ صحابہ نے کہا ہمیں یہ منطور ہے اور ہم فدیہ لے کر چھوڑیں گے (ترمذی نسائی وغیرہ) لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ ان بدری قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے صحابیو اگر چاہو تو انہیں قتل کردو اور اگر چاہو ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں رہا کردو لیکن اس صورت میں اتنے ہی آدمی تمہارے شہید کئے جائیں گے۔ پس ان ستر شہیدوں میں سب سے آخر حضرت ثاب بین قیس ؓ تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ؓ یہ روایت حضرت عبیدہ سے مرسلا بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اگر پہلے ہی سے اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت سے حلال نہ لکھا ہوا ہوتا اور جب تک ہم بیان نہ فرما دیں تب تک عذاب نہیں کیا کرتے ایسا دستور ہمارا نہ ہوتا تو جو مال فدیہ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا اسی طرح پہلے سے اللہ طے کرچکا ہے کہ کسی بدری صحابی کو وہ عذاب نہیں کرے گا۔ ان کے لیے مغفرت کی تحریر ہوچکی ہے۔ ام الکتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت کی حلت لکھی جا چکی ہے۔ پس مال غنیمت تمہارے لیے حلال طیب ہے شوق سے کھاؤ پیو اور اپنے کام میں لاؤ۔ پہلے لکھا جا چکا تھا کہ اس امت کے لیے یہ حلال ہے یہی قول امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے اور اسی کی شہادت بخاری مسلم کی حدیث سے ملتی ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مہینے بھر کے فاصلے تک میری مدد رعب سے کی گئی۔ میرے لیے پوری زمین مسجد پاکی اور نماز کی جگہ بنادی گئی مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں، مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی ہر نبی خاصتہ اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا لیکن میں عام لوگوں کی طرف پیغمبر ﷺ بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کسی سیاہ سر والے انسان کے لیے میرے سوا غنیمت حلال نہیں کی گئی۔ پس صحابہ نے ان بدری قیدیوں سے فدیہ لیا اور ابو داؤد میں ہے ہر ایک سے چار سو کی رقم بطور تاوان جنگ کے وصول کی گئی۔ پس جمہور علماء کرام کا مذہب یہ ہے کہ امام وقت کو اختیار ہے کہ اگر چاہے قیدی کفار کو قتل کر دے، جیسے بنو قریضہ کے قدیوں کے ساتھ حضور ﷺ نے کیا۔ اگر چاہے بدلے کا مال لے کر انہیں چھوڑ دے جیسے کہ بدری قیدیوں کے ساتھ حضور ﷺ نے کیا یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے جیسے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ سلمہ بن اکوع کی ایک عورت اس کی لڑکی مشرکوں کے پاس جو مسلمان قیدی تھے ان کے بدلے میں دیا اور اگر چاہے انہیں غلام بنا کر رکھے۔ یہی مذہب امام شافعی کا اور علماء کرام کی ایک جماعت کا ہے۔ گو اوروں نے اس کا خلاف بھی کیا ہے یہاں اسکی تفصیل کی جگہ نہیں۔
لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
📘 اسیران بدر اور مشورہ مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے ؟ حضرت عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ نے ان سے منہ پھیرلیا پھر فرمایا اللہ نے تمہارے بس میں کردیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔ پھر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ نے پھر منہ پھیرلیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ہماری رائے میں تو آپ ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد کیجئے اب آپ کے چہرے سے غم کے آثار جاتے رہے عفو عام کردیا اور فدیہ لے کر سب کو آزاد کردیا اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ اسی صورت کے شروع میں ابن عباس کی روایت گذر چکی ہے صحیح مسلم میں بھی اسی جیسی حدیث ہے کہ بدر کے دن آپ نے دریافت فرمایا کہ ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ ﷺ کی قوم کے ہیں، آپ والے ہیں انہیں زندہ چھوڑا جائے ان سے توبہ کرالی جائے گی عجب کہ کل اللہ کی ان پر مہربانی ہوجائے لیکن حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ ﷺ کو جھٹلانے والے آپ ﷺ کو نکال دینے والے ہیں حکم دیجئے کہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ اسی میدان میں درخت بکثرت ہیں آگ لگوا دیجئے اور انہیں جلا دیجئے آپ خاموش ہو رہے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر تشریف لے گئے لوگوں میں بھی ان تینوں بزرگوں کی رائے کا ساتھ دینے والے ہوگئے اتنے میں آپ ﷺ پھر تشریف لائے اور فرمانے لگے بعض دل نرم ہوتے ہوتے دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوجاتے ہیں اور بعض دل سخت ہوتے ہوتے پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر تمہاری مثال آنحضرت ابراہیم ؑ جیسی ہے کہ اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ میرے تابعدار تو میرے ہیں ہی لیکن مخالف بھی تیری معافی اور بخشش کے ماتحت ہیں اور تمہاری مثال حضرت عیسیٰ ؑ جیسی ہے جو کہیں گے یا اللہ اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے اور اے عمر تمہاری مثال حضرت نوح ؑ جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بددعا کی کہ یا اللہ زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا باقی نہ رکھ۔ سنو تمہیں اس وقت احتیاج ہے ان قیدیوں میں سے کوئی بھی بغیر فدیئے کے رہا نہ ہو ورنہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔ اس پر ابن مسعود ؓ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ سہیل بن بیضا کو اس سے مخصوص کرلیا جائے اس لیے وہ اسلام کا ذکر کیا کرتا تھا اس پر حضور ﷺ خاموش ہوگئے واللہ میں سارا دن خوف زدہ رہا کہ کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برسائے جائیں یہاں تک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مگر سہیل بن بیضا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے یہ حدیث ترمذی مسند احمد وغیرہ میں ہے۔ ان قیدیوں میں عباس بھی تھے انہیں ایک انصاری نے گرفتار کیا تھا انصار کا خیال تھا کہ اسے قتل کردیں آپ کو بھی یہ حال معلوم تھا آپ ﷺ نے فرمایا رات کو مجھے اس خیال سے نیند نہیں آئی۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا اگر آپ ﷺ اجازت دیں تو میں انصار کے پاس جاؤں آپ ﷺ نے اجازت دی حضرت عمر انصار کے پاس آئے اور کہا عباس کو چھوڑ دو انہوں نے جواب دیا واللہ ہم اسے نہ چھوریں آپ نے فرمایا گو رسول اللہ ﷺ کی رضامندی اسی میں ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ اب انہیں لے جائیں ہم نے بخوشی چھوڑا۔ اب حضرت عمر نے ان سے کہا کہ عباس اب ملسمان ہوجاؤ واللہ تمہارے اسلام لانے سے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے بھی زیادہ خوشی ہوگی اس لیے کہ رسول للہ ﷺ تمہارے اسلام لانے سے خوش ہوجائیں گے ان قیدیوں کے بارے میں حضور ﷺ نے ابوبکر سے مشورہ لیا تو آپ نے تو فرمایا یہ سب ہمارے ہی کنبے قبیلے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجئے حضرت عمر سے جب مشورہ لیا تو آپ نے جواب دیا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے۔ آخر آپ نے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا۔ حضرت علی فرماتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ اپنے صحابہ کو اختیار دیجئے کہ وہ ان دو باتوں میں سے ایک کو پسند کرلیں اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں اور اگر چاہیں تو ان قیدیوں کو قتل کردیں لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ لینے کی صورت میں اگلے سال ان میں اتنے ہی شہید ہوں گے۔ صحابہ نے کہا ہمیں یہ منطور ہے اور ہم فدیہ لے کر چھوڑیں گے (ترمذی نسائی وغیرہ) لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ ان بدری قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے صحابیو اگر چاہو تو انہیں قتل کردو اور اگر چاہو ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں رہا کردو لیکن اس صورت میں اتنے ہی آدمی تمہارے شہید کئے جائیں گے۔ پس ان ستر شہیدوں میں سب سے آخر حضرت ثاب بین قیس ؓ تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ؓ یہ روایت حضرت عبیدہ سے مرسلا بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اگر پہلے ہی سے اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت سے حلال نہ لکھا ہوا ہوتا اور جب تک ہم بیان نہ فرما دیں تب تک عذاب نہیں کیا کرتے ایسا دستور ہمارا نہ ہوتا تو جو مال فدیہ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا اسی طرح پہلے سے اللہ طے کرچکا ہے کہ کسی بدری صحابی کو وہ عذاب نہیں کرے گا۔ ان کے لیے مغفرت کی تحریر ہوچکی ہے۔ ام الکتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت کی حلت لکھی جا چکی ہے۔ پس مال غنیمت تمہارے لیے حلال طیب ہے شوق سے کھاؤ پیو اور اپنے کام میں لاؤ۔ پہلے لکھا جا چکا تھا کہ اس امت کے لیے یہ حلال ہے یہی قول امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے اور اسی کی شہادت بخاری مسلم کی حدیث سے ملتی ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مہینے بھر کے فاصلے تک میری مدد رعب سے کی گئی۔ میرے لیے پوری زمین مسجد پاکی اور نماز کی جگہ بنادی گئی مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں، مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی ہر نبی خاصتہ اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا لیکن میں عام لوگوں کی طرف پیغمبر ﷺ بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کسی سیاہ سر والے انسان کے لیے میرے سوا غنیمت حلال نہیں کی گئی۔ پس صحابہ نے ان بدری قیدیوں سے فدیہ لیا اور ابو داؤد میں ہے ہر ایک سے چار سو کی رقم بطور تاوان جنگ کے وصول کی گئی۔ پس جمہور علماء کرام کا مذہب یہ ہے کہ امام وقت کو اختیار ہے کہ اگر چاہے قیدی کفار کو قتل کر دے، جیسے بنو قریضہ کے قدیوں کے ساتھ حضور ﷺ نے کیا۔ اگر چاہے بدلے کا مال لے کر انہیں چھوڑ دے جیسے کہ بدری قیدیوں کے ساتھ حضور ﷺ نے کیا یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے جیسے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ سلمہ بن اکوع کی ایک عورت اس کی لڑکی مشرکوں کے پاس جو مسلمان قیدی تھے ان کے بدلے میں دیا اور اگر چاہے انہیں غلام بنا کر رکھے۔ یہی مذہب امام شافعی کا اور علماء کرام کی ایک جماعت کا ہے۔ گو اوروں نے اس کا خلاف بھی کیا ہے یہاں اسکی تفصیل کی جگہ نہیں۔
فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 اسیران بدر اور مشورہ مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے ؟ حضرت عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ نے ان سے منہ پھیرلیا پھر فرمایا اللہ نے تمہارے بس میں کردیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔ پھر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ نے پھر منہ پھیرلیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ہماری رائے میں تو آپ ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد کیجئے اب آپ کے چہرے سے غم کے آثار جاتے رہے عفو عام کردیا اور فدیہ لے کر سب کو آزاد کردیا اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔ اسی صورت کے شروع میں ابن عباس کی روایت گذر چکی ہے صحیح مسلم میں بھی اسی جیسی حدیث ہے کہ بدر کے دن آپ نے دریافت فرمایا کہ ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ ﷺ کی قوم کے ہیں، آپ والے ہیں انہیں زندہ چھوڑا جائے ان سے توبہ کرالی جائے گی عجب کہ کل اللہ کی ان پر مہربانی ہوجائے لیکن حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ ﷺ کو جھٹلانے والے آپ ﷺ کو نکال دینے والے ہیں حکم دیجئے کہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا یارسول اللہ ﷺ اسی میدان میں درخت بکثرت ہیں آگ لگوا دیجئے اور انہیں جلا دیجئے آپ خاموش ہو رہے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر تشریف لے گئے لوگوں میں بھی ان تینوں بزرگوں کی رائے کا ساتھ دینے والے ہوگئے اتنے میں آپ ﷺ پھر تشریف لائے اور فرمانے لگے بعض دل نرم ہوتے ہوتے دودھ سے بھی زیادہ نرم ہوجاتے ہیں اور بعض دل سخت ہوتے ہوتے پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر تمہاری مثال آنحضرت ابراہیم ؑ جیسی ہے کہ اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ میرے تابعدار تو میرے ہیں ہی لیکن مخالف بھی تیری معافی اور بخشش کے ماتحت ہیں اور تمہاری مثال حضرت عیسیٰ ؑ جیسی ہے جو کہیں گے یا اللہ اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے اور اے عمر تمہاری مثال حضرت نوح ؑ جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بددعا کی کہ یا اللہ زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا باقی نہ رکھ۔ سنو تمہیں اس وقت احتیاج ہے ان قیدیوں میں سے کوئی بھی بغیر فدیئے کے رہا نہ ہو ورنہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔ اس پر ابن مسعود ؓ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ ﷺ سہیل بن بیضا کو اس سے مخصوص کرلیا جائے اس لیے وہ اسلام کا ذکر کیا کرتا تھا اس پر حضور ﷺ خاموش ہوگئے واللہ میں سارا دن خوف زدہ رہا کہ کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برسائے جائیں یہاں تک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مگر سہیل بن بیضا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے یہ حدیث ترمذی مسند احمد وغیرہ میں ہے۔ ان قیدیوں میں عباس بھی تھے انہیں ایک انصاری نے گرفتار کیا تھا انصار کا خیال تھا کہ اسے قتل کردیں آپ کو بھی یہ حال معلوم تھا آپ ﷺ نے فرمایا رات کو مجھے اس خیال سے نیند نہیں آئی۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا اگر آپ ﷺ اجازت دیں تو میں انصار کے پاس جاؤں آپ ﷺ نے اجازت دی حضرت عمر انصار کے پاس آئے اور کہا عباس کو چھوڑ دو انہوں نے جواب دیا واللہ ہم اسے نہ چھوریں آپ نے فرمایا گو رسول اللہ ﷺ کی رضامندی اسی میں ہو ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ اب انہیں لے جائیں ہم نے بخوشی چھوڑا۔ اب حضرت عمر نے ان سے کہا کہ عباس اب ملسمان ہوجاؤ واللہ تمہارے اسلام لانے سے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے بھی زیادہ خوشی ہوگی اس لیے کہ رسول للہ ﷺ تمہارے اسلام لانے سے خوش ہوجائیں گے ان قیدیوں کے بارے میں حضور ﷺ نے ابوبکر سے مشورہ لیا تو آپ نے تو فرمایا یہ سب ہمارے ہی کنبے قبیلے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجئے حضرت عمر سے جب مشورہ لیا تو آپ نے جواب دیا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے۔ آخر آپ نے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا۔ حضرت علی فرماتے ہیں حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا کہ اپنے صحابہ کو اختیار دیجئے کہ وہ ان دو باتوں میں سے ایک کو پسند کرلیں اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں اور اگر چاہیں تو ان قیدیوں کو قتل کردیں لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ لینے کی صورت میں اگلے سال ان میں اتنے ہی شہید ہوں گے۔ صحابہ نے کہا ہمیں یہ منطور ہے اور ہم فدیہ لے کر چھوڑیں گے (ترمذی نسائی وغیرہ) لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ ان بدری قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے صحابیو اگر چاہو تو انہیں قتل کردو اور اگر چاہو ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں رہا کردو لیکن اس صورت میں اتنے ہی آدمی تمہارے شہید کئے جائیں گے۔ پس ان ستر شہیدوں میں سب سے آخر حضرت ثاب بین قیس ؓ تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ؓ یہ روایت حضرت عبیدہ سے مرسلا بھی مروی ہے واللہ اعلم۔ اگر پہلے ہی سے اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت سے حلال نہ لکھا ہوا ہوتا اور جب تک ہم بیان نہ فرما دیں تب تک عذاب نہیں کیا کرتے ایسا دستور ہمارا نہ ہوتا تو جو مال فدیہ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا اسی طرح پہلے سے اللہ طے کرچکا ہے کہ کسی بدری صحابی کو وہ عذاب نہیں کرے گا۔ ان کے لیے مغفرت کی تحریر ہوچکی ہے۔ ام الکتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت کی حلت لکھی جا چکی ہے۔ پس مال غنیمت تمہارے لیے حلال طیب ہے شوق سے کھاؤ پیو اور اپنے کام میں لاؤ۔ پہلے لکھا جا چکا تھا کہ اس امت کے لیے یہ حلال ہے یہی قول امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے اور اسی کی شہادت بخاری مسلم کی حدیث سے ملتی ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مہینے بھر کے فاصلے تک میری مدد رعب سے کی گئی۔ میرے لیے پوری زمین مسجد پاکی اور نماز کی جگہ بنادی گئی مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں، مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی ہر نبی خاصتہ اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا لیکن میں عام لوگوں کی طرف پیغمبر ﷺ بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کسی سیاہ سر والے انسان کے لیے میرے سوا غنیمت حلال نہیں کی گئی۔ پس صحابہ نے ان بدری قیدیوں سے فدیہ لیا اور ابو داؤد میں ہے ہر ایک سے چار سو کی رقم بطور تاوان جنگ کے وصول کی گئی۔ پس جمہور علماء کرام کا مذہب یہ ہے کہ امام وقت کو اختیار ہے کہ اگر چاہے قیدی کفار کو قتل کر دے، جیسے بنو قریضہ کے قدیوں کے ساتھ حضور ﷺ نے کیا۔ اگر چاہے بدلے کا مال لے کر انہیں چھوڑ دے جیسے کہ بدری قیدیوں کے ساتھ حضور ﷺ نے کیا یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے جیسے کہ حضور ﷺ نے قبیلہ سلمہ بن اکوع کی ایک عورت اس کی لڑکی مشرکوں کے پاس جو مسلمان قیدی تھے ان کے بدلے میں دیا اور اگر چاہے انہیں غلام بنا کر رکھے۔ یہی مذہب امام شافعی کا اور علماء کرام کی ایک جماعت کا ہے۔ گو اوروں نے اس کا خلاف بھی کیا ہے یہاں اسکی تفصیل کی جگہ نہیں۔
وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ
📘 شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لئے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کردیا کہ اللہ کی بات بلند ہوجائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم الخ) ، تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بدتر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابو سفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔ حضور نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابو سفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکہ دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کرلو ہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکہ سے آرہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈ بھیڑ ہوجائے اور حق وباطل کی تمیز ہوجائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابو سفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لئے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں ؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہوگیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔ ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب حضرت مقداد بن عمر ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ کی قوم نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اکرم ﷺ روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ حضرت عمر فاروق نے یہی جواب دیا آپ نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر حضرت سعد بن معاذ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ہم سے دریافت فرما رہے ہیں ؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو عزت و بزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک الغماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ کی رکاب تھامے آپ کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہہ دیا تھا کہ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ ﷺ آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لئے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو بسم اللہ کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس حضرت سعد کے اس فرمان پر قرآن کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ سے مشورہ کیا اور حضرت سعد بن عباد ؓ نے جواب دیا اور حضور نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈ بھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لئے واضح ہوگیا یعنی یہ امر کہ حضور بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔ دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید ؒ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بےمعنی ہے اس لئے کہ اس سے پہلے کا قول آیت (يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۭ) 8۔ الانفال :6) اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ ابن عباس اور ابن اسحاق ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ (واللہ اعلم)۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ نے حضور سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالین اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت عباس بن عبدالمطلب کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور ایسا نہ کیجئے۔ آپ نے دریافت فرمایا کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ کو مل گئی۔ مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈ بھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سنئے۔ جب رسول کریم ﷺ نے سنا کہ ابو سفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا۔ اس لئے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہوگیا کہ حضور اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔ اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور مع اپنے اصحاب کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کرلی اور نکل کھڑے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہوگیا۔ آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کردی۔ حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر حضرت مقداد کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئے ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی سے کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے آپ نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو اس سے مراد آپ کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لئے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔ دوسرے اس لئے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ مکہ سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے اس لئے آپ چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کرلیں۔ یہ سمجھ کر حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ شاید آپ ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی بات ہے تو حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا آپ پر ایمان ہے ہم آپ کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کرچکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ ہمارے کام دیکھ کر انشاء اللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہوجاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کرچکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَىٰ إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 فدیہ طے ہو گیا بدر والے دن آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے یقیناً معلوم ہے کہ بعض بنو ہاشم وغیرہ زبردستی اس لڑائی میں نکالے گئے ہیں انہیں ہم سے لڑائی کرنے کی خواہش نہ تھی۔ پس بنو ہاشم کو قتل نہ کرنا۔ ابو البختری بن ہشام کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ عباس بن عبدالمطلب کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ اسے بھی بادل ناخواستہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ کھینچا ہے۔ اس پر ابو حذیفہ بن عتبہ نے کہا کہ کیا ہم اپنے باپ دادوں کو اپنے بچوں کو اپنے بھائیوں کو اور اپنے قبیلے کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں ؟ واللہ اگر وہ مجھے مل گیا تو میں اس کی گردن ماروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اے ابو حفصہ کیا رسول اللہ ﷺ کے چچا کے منہ پر تلوار ماری جائے گی ؟ حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں یہ پہلا موقع تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت سے مجھے یاد فرمایا حضرت عمر نے فرمایا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں ابو حذیفہ کی گردن اڑادوں واللہ وہ تو منافق ہوگیا۔ حضرت ابو حذیفہ ؓ فرماتے ہیں واللہ مجھے اپنے اس دن کے قول کا کھٹکا آج تک ہے میں اس سے ابھی تک ڈر ہی رہا ہوں تو میں اس دن چین پاؤں گا جس دن اس کا کفارہ ہوجائے اور وہ یہ ہے کہ میں راہ حق میں شہید کردیا جاؤں چناچہ جنگ یمامہ میں آپ شہید ہوئے ؓ و رضا۔ ابن عباس کہتے ہیں جس دن بدری قیدی گرفتار ہو کر آئے رسول اللہ ﷺ کو اس رات نیند نہ آئی صحابہ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میرے چچا کی آہ و بکا کی آواز میرے کانوں میں ان قیدیوں میں سے آرہی ہے صحابہ نے اس وقت ان کی قید کھول دی تب آپ کو نیند آئی۔ انہیں ایک انصاری صحابی نے گرفتار کیا تھا۔ یہ بہت مالدار تھے انہوں نے سو اوقیہ سونا اپنے فدئیے میں دیا۔ بعض انصاریوں نے سرکار نبوت میں گذارش بھی کی کہ ہم چاہتے ہیں اپنے بھانجے عباس کو بغیر کوئی زر فدیہ لیے آزاد کردیں لیکن مساوات کے علم بردار ﷺ نے فرمایا ایک چونی بھی کم نہ لینا پورا فدیہ لو۔ قریش نے فدئیے کی رقمیں دے کر اپنے آدمیوں کو بھیجا تھا ہر ایک نے اپنے اپنے قیدی کی من مانی رقم وصول کی۔ عباس ؓ نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میں تو مسلمان ہی تھا آپ نے فرمایا مجھے تمہارے اسلام کا علم ہے اگر یہ تمہارا قول صحیح ہے تو اللہ تمہیں اسکا بدلہ دے گا لیکن چونکہ احکام ظاہر پر ہیں اس لیئے آپ اپنا فدیہ ادا کیجئے بلکہ اپنے دونوں بھتیجوں کا بھی۔ نوفل بن حارث بن عبد المطلب کا اور عقیل بن ابی طالب بن عبد المطلب کا اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو کا جو بنو حارث بن فہر کے قبیلے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ میرے پاس تو اتنا مال نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ مال کہاں گیا جو تم نے اور ام الفضل نے زمین میں دفنایا ہے اور تم نے کہا ہے کہ اگر اپنے اس سفر میں کامیاب رہا تو یہ مال بنو الفضل اور عبداللہ اور قشم کا ہے ؟ اب تو حضرت عباس ؓ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ واللہ میرے علم ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ﷺ ہیں اس مال کو بجز میرے اور ام الفضل کے کوئی نہیں جانتا۔ اچھایوں کیجئے کہ میرے پاس سے بیس اوقیہ سونا آپ کے لشکریوں کو ملا ہے اسی کو میرا زر فدیہ سمجھ لیا جائے۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں وہ مال تو ہمیں اللہ نے اپنے فضل سے دلوا ہی دیا۔ چناچہ اب آپ نے اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا اور اپنے حلیف کا فدیہ اپنے پاس سے ادا کیا اور اس بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ اگر تم میں بھلائی ہے تو اللہ اس سے بہتر بدلہ دے گا۔ حضرت عباس کا بیان ہے کہ اللہ کا یہ فرمان پورا اترا اور ان بیس اوقیہ کے بدلے مجھے اسلام میں اللہ نے بیس غلام دلوائے جو سب کے سب مالدار تھے ساتھ ہی مجھے اللہ عزوجل کی مغفرت کی بھی امید ہے۔ آپ فرماتے ہیں میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے میں نے اپنے اسلام کی خبر حضور ﷺ کو دی اور کہا کہ میرے بیس اوقیہ کا بدلہ مجھے دلوائے جو مجھ سے لیے گئے ہیں۔ آپ نے انکار کیا الحمد اللہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اور آپ کے ساتھیوں نے حضور سے کہا تھا کہ ہم تو آپ کی وحی پر ایمان لا چکے ہیں آپ کی رسالت کے گواہ ہیں ہم اپنی قوم میں آپ کی خیر خواہی کرتے رہے اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ دلوں کے حال سے واقف ہے جس کے دل میں نیکی ہوگی اس سے جو لیا گیا ہے اس سے بہت زیادہ دے دیا جائے گا اور پھر اگلا شرک بھی معاف کردیا جائے گا۔ فرماتے ہیں کہ ساری دنیا مل جانے سے بھی زیادہ خوشی مجھے اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے مجھ سے جو لیا گیا واللہ اس سے سو حصے زیادہ مجھے ملا۔ اور مجھے امید ہے کہ میرے گناہ بھی دھل گئے۔ مذکور ہے کہ جب بحرین کا خزانہ سرکار رسالت مآب ﷺ میں پہنچا وہ اسی ہزار کا تھا آپ نماز ظہر کے لیے وضو کرچکے تھے پس آپ نے ہر ایک شکایت کرنے والے کی اور ہر ایک سوال کرنے والے کی داد رسی اور نماز سے پہلے ہی سارا خزانہ راہ اللہ لٹا دیا۔ حضرت عباس کو حکم دیا کہ لے اس میں سے لے اور گٹھڑی باندھ کرلے جاؤ پس یہ ان کے لیے بہت بہتر تھا۔ اور اللہ تعالیٰ گناہ بھی معاف فرمائے گا۔ یہ خزانہ ابن الحضرمی نے بھیجا تھا اتنا مال حضور ﷺ کے پاس اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی نہیں آیا۔ سب کا سب بوریوں پر پھیلادیا گیا اور نماز کی اذان ہوئی۔ آپ تشریف لائے اور مال کے پاس کھڑے ہوگئے مسجد کے نمازی بھی آگئے پھر حضور ﷺ نے ہر ایک کو دینا شروع کیا نہ تو اس دن ناپ تول تھی نہ گنتی اور شمار تھا، پس جو آیا وہ لے گیا اور دل کھول کرلے گیا۔ حضرت ابن عباس نے تو اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ لی لیکن اٹھا نہ سکے تو حضور ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ذرا اونچا کر دیجئے آپ کو بےساختہ ہنسی آگئی اتنی کہ دانت چمکنے لگے۔ فرمایا کچھ کم کردو جتنا اٹھے اتنا ہی لو۔ چناچہ کچھ کم لیا اور اٹھا کر یہ کہتے ہوئے چلے کہ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے ایک بات تو پوری ہوتی دکھا دی اور دوسرا وعدہ بھی انشاء اللہ پورا ہو کر ہی رہے گا۔ اس سے بہتر ہے جو ہم سے لیا گیا۔ حضور ﷺ برابر اس مال کا تقسیم فرماتے رہے یہاں تک کہ اس میں سے ایک پائی بھی نہ بچی آپ ﷺ نے اپنے اہل کو اس میں سے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی۔ پھر نماز کے لیے آگے بڑھے اور نماز پڑھائی دوسری حدیث۔ حضور ﷺ کے پاس بحرین سے مال آیا اتنا کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد اتنا مال کبھی نہیں آیا۔ حکم دیا کہ مسجد میں پھیلا دو پھر نماز کے لیے آئے کسی کی طرف سے التفات نہ کیا نماز پڑھا کر بیٹھ گئے پھر تو جسے دیکھتے دیتے اتنے میں حضرت عباس ؓ آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ مجھے دلوائیے میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا ہے آپ نے فرمایا اپنے ہاتھ سے لے لو۔ انہوں نے چادر میں گٹھڑی باندھی لیکن وزنی ہونے کے باعث اٹھا نہ سکے تو کہا یا رسول اللہ کسی کو حکم دیجئے کہ میرے کاندھے پر چڑھا دے آپ نے فرمایا میں تو کسی سے نہیں کہتا، کہا اچھا آپ ہی ذرا اٹھوا دیجئے آپ نے اس کا بھی انکار کیا اب تو بادل ناخواستہ اس میں کچھ کم کرنا پڑا پھر اٹھا کر کندھے پر رکھ کر چل دیجئے۔ ان کے اس لالچ کی وجہ سے حضور ﷺ کی نگاہیں جب تک یہ آپ کی نگاہ سے اوجھل نہ ہوگئے انہیں پر رہیں پس جب کل مال بانٹ چکے ایک کوڑی بھی باقی نہ بچی تب آپ وہاں سے اٹھے امام بخاری شریف میں تعلیقاً جزم کے صیغہ کے ساتھ وارد کی ہے۔ اگر یہ لوگ خیانت کرنا چاہیں گے تو یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے وہ خود اللہ کی خیانت بھی کرچکے ہیں۔ تو ان سے یہ بھی ممکن ہے کہ اب جو ظاہر کریں اس کے خلاف اپنے دل میں رکھیں۔ اس سے تو نہ گھبرا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس وقت انہیں تیرے قابو میں کردیا ہے۔ ایسے ہی وہ ہمیشہ قادر ہے۔ اللہ کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں۔ ان کے اور تمام مخلوق کے ساتھ جو کچھ وہ کرتا ہے اپنے ازلی ابدی پورے علم اور کامل حکمت کے ساتھ حضرت قتادہ کہتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کاتب کے بارے میں اتری ہے جو مرتد ہو کر مشرکوں میں جا ملا تھا۔ عطاء خراسانی کا قول ہے کہ حضرت عباس اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم آپ ﷺ کی خیر خواہی کرتے رہیں گے۔ سدی نے اسے عام اور سب کو شامل کہی یہی ٹھیک بھی ہے واللہ اعلم۔
وَإِنْ يُرِيدُوا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
📘 فدیہ طے ہو گیا بدر والے دن آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے یقیناً معلوم ہے کہ بعض بنو ہاشم وغیرہ زبردستی اس لڑائی میں نکالے گئے ہیں انہیں ہم سے لڑائی کرنے کی خواہش نہ تھی۔ پس بنو ہاشم کو قتل نہ کرنا۔ ابو البختری بن ہشام کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ عباس بن عبدالمطلب کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ اسے بھی بادل ناخواستہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ کھینچا ہے۔ اس پر ابو حذیفہ بن عتبہ نے کہا کہ کیا ہم اپنے باپ دادوں کو اپنے بچوں کو اپنے بھائیوں کو اور اپنے قبیلے کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں ؟ واللہ اگر وہ مجھے مل گیا تو میں اس کی گردن ماروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اے ابو حفصہ کیا رسول اللہ ﷺ کے چچا کے منہ پر تلوار ماری جائے گی ؟ حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں یہ پہلا موقع تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت سے مجھے یاد فرمایا حضرت عمر نے فرمایا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیجئے کہ میں ابو حذیفہ کی گردن اڑادوں واللہ وہ تو منافق ہوگیا۔ حضرت ابو حذیفہ ؓ فرماتے ہیں واللہ مجھے اپنے اس دن کے قول کا کھٹکا آج تک ہے میں اس سے ابھی تک ڈر ہی رہا ہوں تو میں اس دن چین پاؤں گا جس دن اس کا کفارہ ہوجائے اور وہ یہ ہے کہ میں راہ حق میں شہید کردیا جاؤں چناچہ جنگ یمامہ میں آپ شہید ہوئے ؓ و رضا۔ ابن عباس کہتے ہیں جس دن بدری قیدی گرفتار ہو کر آئے رسول اللہ ﷺ کو اس رات نیند نہ آئی صحابہ نے سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا میرے چچا کی آہ و بکا کی آواز میرے کانوں میں ان قیدیوں میں سے آرہی ہے صحابہ نے اس وقت ان کی قید کھول دی تب آپ کو نیند آئی۔ انہیں ایک انصاری صحابی نے گرفتار کیا تھا۔ یہ بہت مالدار تھے انہوں نے سو اوقیہ سونا اپنے فدئیے میں دیا۔ بعض انصاریوں نے سرکار نبوت میں گذارش بھی کی کہ ہم چاہتے ہیں اپنے بھانجے عباس کو بغیر کوئی زر فدیہ لیے آزاد کردیں لیکن مساوات کے علم بردار ﷺ نے فرمایا ایک چونی بھی کم نہ لینا پورا فدیہ لو۔ قریش نے فدئیے کی رقمیں دے کر اپنے آدمیوں کو بھیجا تھا ہر ایک نے اپنے اپنے قیدی کی من مانی رقم وصول کی۔ عباس ؓ نے کہا بھی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میں تو مسلمان ہی تھا آپ نے فرمایا مجھے تمہارے اسلام کا علم ہے اگر یہ تمہارا قول صحیح ہے تو اللہ تمہیں اسکا بدلہ دے گا لیکن چونکہ احکام ظاہر پر ہیں اس لیئے آپ اپنا فدیہ ادا کیجئے بلکہ اپنے دونوں بھتیجوں کا بھی۔ نوفل بن حارث بن عبد المطلب کا اور عقیل بن ابی طالب بن عبد المطلب کا اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو کا جو بنو حارث بن فہر کے قبیلے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ میرے پاس تو اتنا مال نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ مال کہاں گیا جو تم نے اور ام الفضل نے زمین میں دفنایا ہے اور تم نے کہا ہے کہ اگر اپنے اس سفر میں کامیاب رہا تو یہ مال بنو الفضل اور عبداللہ اور قشم کا ہے ؟ اب تو حضرت عباس ؓ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ واللہ میرے علم ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ﷺ ہیں اس مال کو بجز میرے اور ام الفضل کے کوئی نہیں جانتا۔ اچھایوں کیجئے کہ میرے پاس سے بیس اوقیہ سونا آپ کے لشکریوں کو ملا ہے اسی کو میرا زر فدیہ سمجھ لیا جائے۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں وہ مال تو ہمیں اللہ نے اپنے فضل سے دلوا ہی دیا۔ چناچہ اب آپ نے اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا اور اپنے حلیف کا فدیہ اپنے پاس سے ادا کیا اور اس بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ اگر تم میں بھلائی ہے تو اللہ اس سے بہتر بدلہ دے گا۔ حضرت عباس کا بیان ہے کہ اللہ کا یہ فرمان پورا اترا اور ان بیس اوقیہ کے بدلے مجھے اسلام میں اللہ نے بیس غلام دلوائے جو سب کے سب مالدار تھے ساتھ ہی مجھے اللہ عزوجل کی مغفرت کی بھی امید ہے۔ آپ فرماتے ہیں میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے میں نے اپنے اسلام کی خبر حضور ﷺ کو دی اور کہا کہ میرے بیس اوقیہ کا بدلہ مجھے دلوائے جو مجھ سے لیے گئے ہیں۔ آپ نے انکار کیا الحمد اللہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اور آپ کے ساتھیوں نے حضور سے کہا تھا کہ ہم تو آپ کی وحی پر ایمان لا چکے ہیں آپ کی رسالت کے گواہ ہیں ہم اپنی قوم میں آپ کی خیر خواہی کرتے رہے اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ دلوں کے حال سے واقف ہے جس کے دل میں نیکی ہوگی اس سے جو لیا گیا ہے اس سے بہت زیادہ دے دیا جائے گا اور پھر اگلا شرک بھی معاف کردیا جائے گا۔ فرماتے ہیں کہ ساری دنیا مل جانے سے بھی زیادہ خوشی مجھے اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے مجھ سے جو لیا گیا واللہ اس سے سو حصے زیادہ مجھے ملا۔ اور مجھے امید ہے کہ میرے گناہ بھی دھل گئے۔ مذکور ہے کہ جب بحرین کا خزانہ سرکار رسالت مآب ﷺ میں پہنچا وہ اسی ہزار کا تھا آپ نماز ظہر کے لیے وضو کرچکے تھے پس آپ نے ہر ایک شکایت کرنے والے کی اور ہر ایک سوال کرنے والے کی داد رسی اور نماز سے پہلے ہی سارا خزانہ راہ اللہ لٹا دیا۔ حضرت عباس کو حکم دیا کہ لے اس میں سے لے اور گٹھڑی باندھ کرلے جاؤ پس یہ ان کے لیے بہت بہتر تھا۔ اور اللہ تعالیٰ گناہ بھی معاف فرمائے گا۔ یہ خزانہ ابن الحضرمی نے بھیجا تھا اتنا مال حضور ﷺ کے پاس اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی نہیں آیا۔ سب کا سب بوریوں پر پھیلادیا گیا اور نماز کی اذان ہوئی۔ آپ تشریف لائے اور مال کے پاس کھڑے ہوگئے مسجد کے نمازی بھی آگئے پھر حضور ﷺ نے ہر ایک کو دینا شروع کیا نہ تو اس دن ناپ تول تھی نہ گنتی اور شمار تھا، پس جو آیا وہ لے گیا اور دل کھول کرلے گیا۔ حضرت ابن عباس نے تو اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ لی لیکن اٹھا نہ سکے تو حضور ﷺ سے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ذرا اونچا کر دیجئے آپ کو بےساختہ ہنسی آگئی اتنی کہ دانت چمکنے لگے۔ فرمایا کچھ کم کردو جتنا اٹھے اتنا ہی لو۔ چناچہ کچھ کم لیا اور اٹھا کر یہ کہتے ہوئے چلے کہ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے ایک بات تو پوری ہوتی دکھا دی اور دوسرا وعدہ بھی انشاء اللہ پورا ہو کر ہی رہے گا۔ اس سے بہتر ہے جو ہم سے لیا گیا۔ حضور ﷺ برابر اس مال کا تقسیم فرماتے رہے یہاں تک کہ اس میں سے ایک پائی بھی نہ بچی آپ ﷺ نے اپنے اہل کو اس میں سے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی۔ پھر نماز کے لیے آگے بڑھے اور نماز پڑھائی دوسری حدیث۔ حضور ﷺ کے پاس بحرین سے مال آیا اتنا کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد اتنا مال کبھی نہیں آیا۔ حکم دیا کہ مسجد میں پھیلا دو پھر نماز کے لیے آئے کسی کی طرف سے التفات نہ کیا نماز پڑھا کر بیٹھ گئے پھر تو جسے دیکھتے دیتے اتنے میں حضرت عباس ؓ آگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ مجھے دلوائیے میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا ہے آپ نے فرمایا اپنے ہاتھ سے لے لو۔ انہوں نے چادر میں گٹھڑی باندھی لیکن وزنی ہونے کے باعث اٹھا نہ سکے تو کہا یا رسول اللہ کسی کو حکم دیجئے کہ میرے کاندھے پر چڑھا دے آپ نے فرمایا میں تو کسی سے نہیں کہتا، کہا اچھا آپ ہی ذرا اٹھوا دیجئے آپ نے اس کا بھی انکار کیا اب تو بادل ناخواستہ اس میں کچھ کم کرنا پڑا پھر اٹھا کر کندھے پر رکھ کر چل دیجئے۔ ان کے اس لالچ کی وجہ سے حضور ﷺ کی نگاہیں جب تک یہ آپ کی نگاہ سے اوجھل نہ ہوگئے انہیں پر رہیں پس جب کل مال بانٹ چکے ایک کوڑی بھی باقی نہ بچی تب آپ وہاں سے اٹھے امام بخاری شریف میں تعلیقاً جزم کے صیغہ کے ساتھ وارد کی ہے۔ اگر یہ لوگ خیانت کرنا چاہیں گے تو یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے وہ خود اللہ کی خیانت بھی کرچکے ہیں۔ تو ان سے یہ بھی ممکن ہے کہ اب جو ظاہر کریں اس کے خلاف اپنے دل میں رکھیں۔ اس سے تو نہ گھبرا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس وقت انہیں تیرے قابو میں کردیا ہے۔ ایسے ہی وہ ہمیشہ قادر ہے۔ اللہ کا کوئی کام علم و حکمت سے خالی نہیں۔ ان کے اور تمام مخلوق کے ساتھ جو کچھ وہ کرتا ہے اپنے ازلی ابدی پورے علم اور کامل حکمت کے ساتھ حضرت قتادہ کہتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کاتب کے بارے میں اتری ہے جو مرتد ہو کر مشرکوں میں جا ملا تھا۔ عطاء خراسانی کا قول ہے کہ حضرت عباس اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے جبکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم آپ ﷺ کی خیر خواہی کرتے رہیں گے۔ سدی نے اسے عام اور سب کو شامل کہی یہی ٹھیک بھی ہے واللہ اعلم۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُمْ مِنْ وَلَايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا ۚ وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
📘 مجاہدین بدر کی شان مسلمانوں کی قسمیں بیان ہو رہی ہیں ایک تو مہاجر جنہوں نے اللہ کے نام پر وطن ترک کیا اپنے گھر بار، مال، تجارت، کنبہ، قبیلہ، دوست احباب چھوڑے، اللہ کے دین پر قائم رہنے کے لیے نہ جان کو جان سمجھا نہ مال کو مال۔ دوسرے انصار، مدنی جنہوں نے ان مہاجروں کو اپنے ہاں ٹھہرایا اپنے مالوں میں ان کا حصہ لگا دیا ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمنوں سے لڑائی کی یہ سب آپس میں ایک ہی ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان میں بھائی چارہ کرا دیا ایک انصاری ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنادیا۔ یہ بھائی بندی قرابت داری سے بھی مقدم تھی ایک دوسرے کا وارث بنتا تھا آخر میں یہ منسوخ ہوگئی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مہاجرین اور انصار سب آپس میں ایک دوسرے کے والی وارث ہیں اور فتح مکہ کے بعد کے آزاد کردہ مسلمان لوگ قریشی اور آزاد شدہ ثقیف آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں قیامت تک۔ اور روایت میں ہے دنیا اور آخرت میں مہاجر و انصار کی تعریف میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں فرمان ہے۔ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ01000) 9۔ التوبہ :100) پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے احسان کے تابعدار وہ ہیں جن سے اللہ خوش ہے اور وہ اس سے خوش ہیں اس نے ان کے لیے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے درختوں کے نیچے چشمے بہ رہے ہیں۔ اور آیت میں ہے (لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ01107ۙ) 9۔ التوبہ :117) نبی ﷺ پر اور ان مہاجرین و انصار پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کی توجہ فرمائی جنہوں نے سختی کے وقت بھی آپ کی اتباع نہ چھوڑی۔ اور آیت میں ہے (لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ ۚ) 59۔ الحشر :8) ان مہاجر محتاجوں کے لیے جو اپنے مالوں سے اور اپنے شہروں سے نکال دئیے گئے جو اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کی جستجو میں ہیں جو اللہ کی اور رسول کی مدد میں لگے ہوئے ہیں یہی سچے لوگ ہیں۔ اور جنہوں نے ان کو جگہ دی ان سے محبت رکھی انہیں کشادہ دلی کے ساتھ دیا بلکہ اپنی ضرورت پر ان کی حاجت کو مقدم رکھا۔ یعنی جو ہجرت کی فضیلت اللہ نے مہاجرین کو دی ہے ان پر وہ ان کا حسد نہیں کرتے۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاجر انصار پر مقدم ہیں۔ علماء کا اس میں اتفاق ہے۔ مسند بزار میں ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ کو ہجرت اور نصرت میں اختیار دیا تو آپ نے ہجرت کو پسند فرمایا۔ پھر فرماتے ہیں ہے جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ترک وطن نہیں کیا تھا انہیں ان کی رفاقت حاصل نہیں۔ یہ مومنوں کی تیسری قسم ہے جو اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ان کا مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ تھا نہ خمس میں ہاں کسی لڑائی میں شرکت کریں تو اور بات ہے۔ مسند احمد میں ہے۔ حضور ﷺ جب کسی کو کسی فوجی دستے کا سپہ سالار بنا کر بھیجتے تو اسے نصیحت فرماتے کہ دیکھو اپنے دل میں اللہ کا ڈر رکھنا، مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ خیر خواہانہ برتاؤ کرنا۔ جاؤ اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے لڑو، اپنے دشمن مشرکوں کے سامنے تین باتیں پیش کرو، ان میں سے جو بھی وہ منظور کرلیں انہیں اختیار ہے۔ ان سے کہو کہ اسلام قبول کریں، اگر مان لیں تو پھر ان سے رک جاؤ اور ان میں سے جو اس پر قائم ہوجائیں گے اور جو مہاجروں پر ہے ان پر بھی ہوگا۔ ورنہ یہ دیہات کے اور مسلمانوں کی طرح ہوں گے ایمان کے احکام ان پر جاری رہیں گے۔ فے اور غینمت کے مال میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کسی فوج میں شرکت کریں اور کوئی معرکہ سر کریں۔ یہ نہ مانیں تو انہیں کہو کہ جزیہ دیں اگر یہ قبول کرلیں تو تم لڑائی سے رک جاؤ اور ان سے جزیہ لے لیا کرو۔ اگر ان دونوں باتوں کا انکار کریں تو اللہ کی مدد کے بھروسے پر اللہ سے نصرت طلب کر کے ان سے جہاد کرو۔ جو دیہاتی مسلمان وہیں مقیم ہیں ہجرت نہیں کی یہ اگر کسی وقت تم سے مدد کی خواہش کریں، دشمنان دین کے مقابلے میں تمہیں بلائیں تو ان کی مدد تم پر واجب ہے لیکن اگر مقابلے پر کوئی ایسا قبیلہ ہو کہ تم میں اور ان میں صلح کا معاہدہ ہے تو خبردار تم عہد شکنی نہ کرنا۔ قسمیں نہ توڑنا۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ
📘 دو مختلف مذاہب والے آپس میں دوست نہیں ہوسکتے۔ اوپر مومنوں کے کارنامے اور رفاقت و ولایت کا ذکر ہوا اب یہاں کافروں کی نسبت بھی بیان فرما کر کافروں اور مومنوں میں سے دوستانہ کاٹ دیا۔ مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری و مسلم میں بھی ہے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ سنن وغیرہ میں ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں۔ اسے امام ترمذی ؒ حسن کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک نئے مسلمان سے آپ نے عہد لیا کہ نماز قائم رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور جب اور جہاں شرک کی آگ بھڑک اٹھے تو اپنے آپ کو ان کا مقابل اور ان سے برسر جنگ سمجھنا۔ یہ روایت مرسل ہے اور مفصل روایت میں ہے آپ فرماتے ہیں میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین میں ٹھہرا رہے۔ کیا وہ دونوں جگہ لگی ہوئی آگ نہیں دیکھتا ؟ ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جو مشرکوں سے خلا ملا رکھے اور ان میں ٹھہرا رہے وہ انہی جیسا ہے۔ ابن مردویہ میں ہے اللہ کے رسول رسولوں کے سرتاج حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ فرماتے ہیں جب تمہارے پاس وہ آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم رضامند ہو تو اس کے نکاح میں دے دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں زبردست فتنہ فساد برپا ہوگا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول ﷺ اللہ چاہے وہ انہیں میں رہتا ہو آپ نے پھر فرمایا جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کی طرف سے پیغام نکاح آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم خوش ہو تو اس کا نکاح کردو تین بار یہی فرمایا۔ آیت کے ان الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے مشرکوں سے علیحدگی اختیار نہ کی اور ایمان داروں سے دوستیاں نہ رکھیں تو ایک فتنہ برپا ہوجائے گا۔ یہ اختلاط برے نتیجے دکھائے گا لوگوں میں زبردست فساد برپا ہوجائے گا۔
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
📘 مہاجر اور انصار میں وحدت مومنوں کا دنیوی حکم ذکر فرما کر اب آخرت کا حال بیان فرما رہا ہے ان کے ایمان کی سچائی ظاہر کر رہا ہے جیسے کہ سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے انہیں بخشش ملے گی ان کے گناہ معاف ہوں گے انہیں عزت کی پاک روزی ملے گی جو برکت والی ہمیشگی والی طیب و طاہر ہوگی قسم قسم کی لذیذ عمدہ اور نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ ان کی اتباع کرنے والے ایمان و عمل صالح میں ان کا ساتھ دینے والے آخرت میں بھی درجوں میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ01000) 9۔ التوبہ :100) اور (وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 10ۧ) 59۔ الحشر :10) میں ہے۔ متفق علیہ بلکہ متواتر حدیث میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے جو کسی قوم سے محبت رکھے وہ ان میں سے ہی ہے۔ ایک روایت میں ہے اس کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا۔ مسند احمد کی حدیث گذر چکی ہے کہ مہاجر و انصار آپس میں ایک دوسری کے ولی ہیں فتح مکہ کے بعد مسلمان قریشی اور ثقیف کے آزاد شدہ آپس میں ایک ہیں، قیامت تک یہ سب آپس میں ولی ہیں۔ پھر اولو الارحام کا بیان ہوا یہاں ان سے مراد وہی قرابت دار نہیں جو علماء فرائض کے نزدیک اس نام سے یاد کئے جاتے ہیں یعنی جن کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور جو عصبہ بھی ہوں جیسے خالہ ماموں پھوپھی تو اسے نواسیاں بھانجے بھانجیاں وغیرہ۔ بعض کا یہی خیال ہے آیت سے حجت پکڑتے ہیں اور اسے اس بارے میں صراحت والی بتاتے ہیں۔ یہ نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے تمام قرابت داروں کو شامل ہے جیسے کہ ابن عباس مجاہد عکرمہ حسن قتادہ وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ ناسخ ہے آپس کی قسموں پر وارث بننے کی اور بھائی چارے پر وارث بننے کی جو پہلے دستور تھا پس یہ علماء فرائض کے ذوی الارحام کو شامل ہوگی خاص نام کے ساتھ۔ اور جو انہیں وارث نہیں بناتے ان کے پاس کئی دلیلیں ہیں سب سے قوی یہ حدیث ہے کہ اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دلوادیا ہے پس کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بھی حقدار ہوتے تو ان کے بھی حصے مقرر ہوجاتے جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں واللہ اعلم۔
وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَٰئِكَ مِنْكُمْ ۚ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
📘 مہاجر اور انصار میں وحدت مومنوں کا دنیوی حکم ذکر فرما کر اب آخرت کا حال بیان فرما رہا ہے ان کے ایمان کی سچائی ظاہر کر رہا ہے جیسے کہ سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے انہیں بخشش ملے گی ان کے گناہ معاف ہوں گے انہیں عزت کی پاک روزی ملے گی جو برکت والی ہمیشگی والی طیب و طاہر ہوگی قسم قسم کی لذیذ عمدہ اور نہ ختم ہونے والی ہوگی۔ ان کی اتباع کرنے والے ایمان و عمل صالح میں ان کا ساتھ دینے والے آخرت میں بھی درجوں میں ان کے ساتھ ہی ہوں گے۔ (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ01000) 9۔ التوبہ :100) اور (وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 10ۧ) 59۔ الحشر :10) میں ہے۔ متفق علیہ بلکہ متواتر حدیث میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے جو کسی قوم سے محبت رکھے وہ ان میں سے ہی ہے۔ ایک روایت میں ہے اس کا حشر بھی انہیں کے ساتھ ہوگا۔ مسند احمد کی حدیث گذر چکی ہے کہ مہاجر و انصار آپس میں ایک دوسری کے ولی ہیں فتح مکہ کے بعد مسلمان قریشی اور ثقیف کے آزاد شدہ آپس میں ایک ہیں، قیامت تک یہ سب آپس میں ولی ہیں۔ پھر اولو الارحام کا بیان ہوا یہاں ان سے مراد وہی قرابت دار نہیں جو علماء فرائض کے نزدیک اس نام سے یاد کئے جاتے ہیں یعنی جن کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور جو عصبہ بھی ہوں جیسے خالہ ماموں پھوپھی تو اسے نواسیاں بھانجے بھانجیاں وغیرہ۔ بعض کا یہی خیال ہے آیت سے حجت پکڑتے ہیں اور اسے اس بارے میں صراحت والی بتاتے ہیں۔ یہ نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے تمام قرابت داروں کو شامل ہے جیسے کہ ابن عباس مجاہد عکرمہ حسن قتادہ وغیرہ کہتے ہیں کہ یہ ناسخ ہے آپس کی قسموں پر وارث بننے کی اور بھائی چارے پر وارث بننے کی جو پہلے دستور تھا پس یہ علماء فرائض کے ذوی الارحام کو شامل ہوگی خاص نام کے ساتھ۔ اور جو انہیں وارث نہیں بناتے ان کے پاس کئی دلیلیں ہیں سب سے قوی یہ حدیث ہے کہ اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دلوادیا ہے پس کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بھی حقدار ہوتے تو ان کے بھی حصے مقرر ہوجاتے جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں واللہ اعلم۔
لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ
📘 شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا آخر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے نبی کو اس کی تقسیم کا اختیار دے دیا اور اپنے عدل و انصاف کے ساتھ اسے تم میں بانٹ دیا درحقیقت تمہارے لئے اسی میں بھلائی تھی اسی طرح اس نے باوجود تمہاری اس چاہت کے کہ قریش کا تجارتی قافلہ تمہیں مل جائے اور جنگی جماعت سے مقابلہ نہ ہو اس نے تمہارا مقابلہ بغیر کسی وعدے کے ایک پر شکوہ جماعت سے کرا دیا اور تمہیں اس پر غالب کردیا کہ اللہ کی بات بلند ہوجائے اور تمہیں فتح، نصرت، غلبہ اور شان شوکت عطا ہو۔ جیسے فرمان ہے آیت (کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم الخ) ، تم پر جہاد فرض کیا گیا حالانکہ تم اسے برا جانتے ہو بہت ممکن ہے کہ ایک چیز کو اپنے حق میں اچھی نہ جانو اور درحقیقت وہی تمہارے حق میں بہتر ہو اور حق میں وہ بدتر ہو۔ دراصل حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے تم محض بےعلم ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جیسے مومنوں کے ایک گروہ کی چاہت کے خلاف تجھے تیرے رب نے شہر سے باہر لڑائی کیلئے نکالا اور نتیجہ اسی کا اچھا ہوا ایسے ہی جو لوگ جہاد کیلئے نکلنا بوجھ سمجھ رہے ہیں دراصل یہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں ان کا اختلاف بالکل بدر والے دن کے اختلاف کے مشابہ تھا۔ کہنے لگے تھے آپ نے ہمیں قافلے کا فرمایا تھا لشکر کا نہیں ہم جنگی تیاری کر کے نکلے ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ مدینے سے اسی ارادے سے نکلے تھے کہ ابو سفیان کے اس قافلے کو روکیں جو شام سے مدینہ کو قریشیوں کے بہت سے مال اسباب لے کر آ رہا تھا۔ حضور نے لوگوں کو تیار کیا اور تین سو دس سے کچھ اوپر لوگوں کو لے کر آپ مدینے سے چلے اور سمندر کے کنارے کے راستے کی طرف سے بدر کے مقام سے چلے۔ ابو سفیان کو چونکہ آپ کے نکلنے کی خبر پہنچ چکی تھی اس نے اپنا راستہ بدل دیا اور ایک تیز رو قاصد کو مکہ دوڑایا۔ وہاں سے قریش قریب ایک ہزار کے لشکر جرار لے کرلو ہے میں ڈوبے ہوئے بدر کے میدان میں پہنچ گئے پس یہ دونوں جماعتیں ٹکرا گئیں ایک گھمسان کی لڑائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حق کو فتح دلوائی اپنا دین بلند کیا اور اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو کفر پر غالب کیا جیسے کہ اب بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہاں مقصد بیان صرف اتنا ہی ہے کہ جب حضور کو یہ پتہ چلا کہ مشرکین کی جنگی مہم مکہ سے آرہی ہے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ سے بذریعہ وحی کے وعدہ کیا کہ یا تو قافلہ آپ کو ملے گا یا لشکر کفار۔ اکثر مسلمان جی سے چاہتے تھے کہ قافلہ مل جائے کیونکہ یہ نسبتاً ہلکی چیز تھی لیکن اللہ کا ارادہ تھا کہ اسی وقت بغیر زیادہ تیاری اور اہتمام کے اور آپس کے قول قرار کے مڈ بھیڑ ہوجائے اور حق وباطل کی تمیز ہوجائے کفار کی ہمت ٹوٹ جائے اور دین حق نکھر آئے۔ تفسیر ابن مردویہ میں ہے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ مدینے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ابو سفیان کا قافلہ لوٹ رہا ہے تو کیا تم اس کے لئے تیار ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف بڑھیں ؟ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال غنیمت دلوا دے۔ ہم سب نے تیاری ظاہر کی آپ ہمیں لے کر چلے ایک دن یا دو دن کا سفر کر کے آپ نے ہم سے فرمایا کہ قریشیوں سے جہاد کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہیں تمہارے چلنے کا علم ہوگیا ہے اور وہ تم سے لڑنے کیلئے چل پڑے ہیں۔ ہم نے جواب دیا کہ واللہ ہم میں ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہم تو صرف قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔ آپ نے پھر یہی سوال کیا اور ہم نے پھر یہی جواب دیا۔ اب حضرت مقداد بن عمر ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ ہم اس وقت آپ کو وہ نہ کہیں گے جو موسیٰ کی قوم نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ تو اور تیرا رب جا کر کافروں سے لڑے، ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑا ہی رنج ہونے لگا کہ کاش یہی جواب ہم بھی دیتے تو ہمیں مال کے ملنے سے اچھا تھا، پس یہ آیت اتری۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بدر کی جانب چلتے ہوئے رسول اکرم ﷺ روحا میں پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ہاں ہمیں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ لوگ فلاں فلاں جگہ ہیں۔ آپ نے پھر خطبہ دیا اور یہی فرمایا اب کی مرتبہ حضرت عمر فاروق نے یہی جواب دیا آپ نے پھر تیسرے خطبے میں یہی فرمایا اس پر حضرت سعد بن معاذ نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ہم سے دریافت فرما رہے ہیں ؟ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو عزت و بزرگی عنایت فرمائی ہے اور آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی ہے نہ میں ان راستوں میں کبھی چلا ہوں اور نہ مجھے اس لشکر کا علم ہے ہاں اتنا میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ برک الغماد تک بھی چڑھائی کریں تو واللہ ہم آپ کی رکاب تھامے آپ کے پیچھے ہوں گے ہم ان کی طرح نہیں جنہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہہ دیا تھا کہ تو اپنے ساتھ اپنے پروردگار کو لے کر چلا جا اور تم دونوں ان سے لڑ لو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں نہیں بلکہ اے رسول اللہ ﷺ آپ چلئے اللہ آپ کا ساتھ دے ہم تو آپ کے زیر حکم کفار سے جہاد کے لئے صدق دل سے تیار ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ گو آپ کسی کام کو زیر نظر رکھ رکھ نکلے ہوں لیکن اس وقت کوئی اور نیا کام پیش نگاہ ہو تو بسم اللہ کیجئے، ہم تابعداری سے منہ پھیرنے والے نہیں۔ آپ جس سے چاہیں ناطہ توڑ لیجئے اور جس سے چاہیں جوڑ لیجئے جس سے چاہیں عداوت کیجئے اور جس سے چاہیں محبت کیجئے ہم اسی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ یا رسول اللہ ہماری جانوں کے ساتھ ہمارے مال بھی حاضر ہیں، آپ کو جس قدر ضرورت ہو لیجئے اور کام میں لگائیے۔ پس حضرت سعد کے اس فرمان پر قرآن کی یہ آیتیں اتری ہیں۔ ابن عباس فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے دشمن سے بدر میں جنگ کرنے کی بابت صحابہ سے مشورہ کیا اور حضرت سعد بن عباد ؓ نے جواب دیا اور حضور نے مجاہدین کو کمر بندی کا حکم دے دیا اس وقت بعض مسلمانوں کو یہ ذرا گراں گذرا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ پس حق میں جھگڑنے سے مراد جہاد میں اختلاف کرنا ہے اور مشرکوں کے لشکر سے مڈ بھیڑ ہونے اور ان کی طرف چلنے کو ناپسند کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے لئے واضح ہوگیا یعنی یہ امر کہ حضور بغیر حکم رب العزت کے کوئی حکم نہیں دیتے۔ دوسری تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد مشرک لوگ ہیں جو حق میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ اسلام کا ماننا ان کے نزدیک ایسا ہے جیسے دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں کودنا۔ یہ وصف مشرکوں کے سوا اور کسی کا نہیں اہل کفر کی پہلی علامت یہی ہے ابن زید کا یہ قول وارد کر کے امام ابن جرید ؒ فرماتے ہیں کہ یہ قول بالکل بےمعنی ہے اس لئے کہ اس سے پہلے کا قول آیت (يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۭ) 8۔ الانفال :6) اہل ایمان کی خبر ہے تو اس سے متصل خبر بھی انہی کی ہے۔ ابن عباس اور ابن اسحاق ہی کا قول اس بارے میں ٹھیک ہے کہ یہ خبر مومنوں کی ہے نہ کہ کافروں کی۔ حق بات یہی ہے جو امام صاحب نے کہی۔ سیاق کلام کی دلالت بھی اسی پر ہے ـ (واللہ اعلم)۔ مسند احمد میں ہے کہ بدر کی لڑائی کی فتح کے بعد بعض صحابہ نے حضور سے عرض کیا کہ اب چلئے قافلے کو بھی دبالین اب کوئی روک نہیں ہے۔ اس وقت عباس بن عبدالمطلب کفار سے قید ہو کر آئے ہوئے زنجیروں سے جکڑے ہوئے تھے اونچی آواز سے کہنے لگے کہ حضور ایسا نہ کیجئے۔ آپ نے دریافت فرمایا کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا وہ اللہ نے پورا کیا ایک جماعت آپ کو مل گئی۔ مسلمانوں کی چاہت تھی کہ لڑائی والے گروہ سے تو مڈ بھیڑ نہ ہو البتہ قافلے والے مل جائیں اور اللہ کی چاہت تھی کہ شوکت و شان والی قوت و گھمنڈوالی لڑائی بھڑائی والی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر تمہیں غالب کر کے تمہاری مدد کرے، اپنے دین کو ظاہر کر دے اور اپنے کلمے کو بلند کر دے اور اپنے دین کو دوسرے تمام دینوں پر اونچا کر دے پس انجام کی بھلائی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ اپنی عمدہ تدبیر سے تمہیں سنبھال رہا ہے تمہاری مرضی کے خلاف کرتا ہے اور اسی میں تمہاری مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے جیسے فرمایا کہ جہاد تم پر لکھا گیا اور وہ تمہیں ناپسند ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ تمہاری ناپسندیدگی کی چیز میں ہی انجام کے لحاظ سے تمہارے لیے بہتری ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ درحقیقت تمہارے حق میں بری ہو۔ اب جنگ بدر کا مختصر سا واقعہ بزبان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سنئے۔ جب رسول کریم ﷺ نے سنا کہ ابو سفیان شام سے مع قافلے کے اور مع اسباب کے آ رہا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ چلو ان کا راستہ روکو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہ اسباب تمہیں دلوا دے چونکہ کسی لڑانے والی جماعت سے لڑائی کرنے کا خیال بھی نہ تھا۔ اس لئے لوگ بغیر کسی خاص تیاری کے جیسے تھے ویسے ہی ہلکے پھلکے نکل کھڑے ہوئے۔ ابو سفیان بھی غافل نہ تھا اس نے جاسوس چھوڑ رکھے تھے اور آتے جاتوں سے بھی دریافت حال کر رہا تھا ایک قافلے سے اسے معلوم ہوگیا کہ حضور اپنے ساتھیوں کو لے کر تیرے اور تیرے قافلے کی طرف چل پڑے ہیں۔ اس نے ضیغم بن عمرو غفاری کو انعام دے دلا کر اسی وقت قریش مکہ کے پاس یہ پیغام دے کر روانہ کیا کہ تمہارے مال خطرے میں ہیں۔ حضور مع اپنے اصحاب کے اس طرف آ رہے ہیں تمہیں چاہئے کہ پوری تیاری سے فوراً ہماری مدد کو آؤ اس نے بہت جلد وہاں پہنچ کر خبر دی تو قریشیوں نے زبردست حملے کی تیار کرلی اور نکل کھڑے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ جب ذفران وادی میں پہنچے تو آپ کو قریش کے لشکروں کا سازو سامان سے نکلنا معلوم ہوگیا۔ آپ نے صحابہ سے مشورہ لیا اور یہ خبر بھی کردی۔ حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر جواب دیا اور بہت اچھا کہا۔ پھر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور آپ نے بھی معقول جواب دیا۔ پھر حضرت مقداد کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہو اسے انجام دیجئے ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں اور ہر طرح فرمانبردار ہیں ہم بنو اسرائیل کی طرح نہیں کہ اپنے نبی سے کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑ لو ہم تماشا دیکھتے ہیں نہیں بلکہ ہمارا یہ قول ہے کہ اللہ کی مدد کے ساتھ چلئے جنگ کیجئے ہم آپکے ساتھ ہیں اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ برک غماد تک یعنی حبشہ کے ملک تک بھی چلیں تو ہم ساتھ سے منہ نہ موڑیں گے اور وہاں پہنچائے اور پہنچے بغیر کسی طرح نہ رہیں گے آپ نے انہیں بہت اچھا کہا اور ان کو بڑی دعائیں دیں لیکن پھر بھی یہی فرماتے رہے کہ لوگو مجھے مشورہ دو میری بات کا جواب دو اس سے مراد آپ کی انصاریوں کے گروہ سے تھی ایک تو اس لئے کہ گنتی میں یہی زیادہ تھے۔ دوسرے اس لئے بھی کہ عقبہ میں جب انصار نے بیعت کی تھی تو اس بات پر کی تھی کہ جب آپ مکہ سے نکل کر مدینے میں پہنچ جائیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں جو بھی دشمن آپ پر چڑھائی کر کے آئے ہم اس کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجائیں گے اس میں چونکہ یہ وعدہ نہ تھا کہ خود آپ اگر کسی پر چڑھ کر جائیں تو بھی ہم آپ کا ساتھ دیں گے اس لئے آپ چاہتے تھے کہ اب ان کا ارادہ معلوم کرلیں۔ یہ سمجھ کر حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ شاید آپ ہم سے جواب طلب فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی بات ہے تو حضرت سعد نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا آپ پر ایمان ہے ہم آپ کو سچا جانتے ہیں اور جو کچھ آپ لائے ہیں اسے بھی حق مانتے ہیں ہم آپ کا فرمان سننے اور اس پر عمل کرنے کی بیعت کرچکے ہیں۔ اے اللہ کے رسول جو حکم اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہوا ہے اسے پورا کیجئے، ہم آپ کی ہمرکابی سے نہ ہٹیں گے۔ اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو اپنا سچا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اگر سمندر کے کنارے پر کھڑے ہو کر آپ اس میں گھوڑا ڈال دیں تو ہم بھی بلا تامل اس میں کود پڑیں گے ہم میں سے ایک کو بھی آپ ایسا نہ پائیں گے جسے ذرا سا بھی تامل ہو ہم اس پر بخوشی رضامند ہیں کہ آپ ہمیں دشمنوں کے مقابلے پر چھوڑ دیں۔ ہم لڑائیوں میں بہادری کرنے والے مصیبت کے جھیلنے والے اور دشمن کے دل پر سکہ جما دینے والے ہیں آپ ہمارے کام دیکھ کر انشاء اللہ خوش ہوں گے چلئے اللہ کا نام لے کر چڑھائی کیجئے اللہ برکت دے۔ ان کے اس جواب سے آپ بہت ہی مسرور ہوئے اسی وقت کوچ کا حکم دیا کہ چلو اللہ کی برکت پر خوش ہوجاؤ۔ رب مجھ سے وعدہ کرچکا ہے کہ دو جماعتوں میں سے ایک جماعت ہمارے ہاتھ لگے گی واللہ میں تو ان لوگوں کے گرنے کی جگہ ابھی یہیں سے گویا اپنی آنکھوں دیکھ رہا ہوں۔
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ
📘 سب سے پہلا غزوہ بدر بنیاد لا الہ الا اللہ مسند احمد میں ہے کہ بدر والے دن نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کی طرف نظر ڈالی وہ تین سو سے کچھ اوپر تھے پھر مشرکین کو دیکھا ان کی تعدد ایک ہزار سے زیادہ تھی۔ اسی وقت آپ قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے چادر اوڑھے ہوئے تھے اور تہبند باندھے ہوئے تھے آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا شروع کی کہ الٰہی جو تیرا وعدہ ہے اسے اب پورا فرما الٰہی جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے وہی کر اے اللہ اہل اسلام کی یہ تھوڑی سی جماعت اگر ہلاک ہوجائے گی تو پھر کبھی بھی تیری توحید کے ساتھ زمین پر عبادت نہ ہوگی یونہی آپ دعا اور فریاد میں لگے رہے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں پر سے اتر گئی اسی وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ آگے بڑھے آپ کی چادر اٹھا کر آپ کے جسم مبارک پر ڈال کر (پیچھے سے آپ کو اپنی با ہوں میں لے کر) کو آپ کو وہاں سے ہٹانے لگے اور عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ اب بس کیجئے آپ نے اپنے رب سے جی بھر کر دعا مانگ لی وہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا اسی وقت یہ آیت اتری۔ اس کے بعد مشرک اور مسلمان آپس میں لڑائی میں گتھم گتھا ہوگئے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو شکست دی ان میں سے ستر شخص تو قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے حضور نے ان قیدی کفار کے بارے میں حضرت ابوبکر حضرت عمر حضرت علی ؓ سے مشورہ کیا۔ صدیق اکبر ؓ نے تو فرمایا رسول اللہ آخر یہ ہمارے کنبے برادری کے خویش و اقارب ہیں۔ آپ ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے مال ہمیں کام آئے گا اور کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ کل انہیں ہدایت دے دے اور یہ ہمارے قوت وبازو بن جائیں۔ اب آپ نے حضرت فاروق اعظم ؓ سے دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا میری رائے تو اس بارے میں حضرت صدیق ؓ کی رائے کے خلاف ہے میرے نزدیک تو ان میں سے فلاں جو میرا قریشی رشتہ دار ہے مجھے سونپ دیجئے کہ میں اس کی گردن ماروں اور عقیل کو حضرت علی کے سپرد کیجئے کہ وہ اس کا کام تمام کریں اور حضرت حمزہ ؓ کے سپرد ان کا فلاں بھائی کیجئے کہ وہ اسے صاف کردیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ ظاہر کردیں کہ ہمارے دل ان مشرکوں کی محبت سے خالی ہیں، اللہ رب العزت کے نام پر انہیں چھوڑ چکے ہیں اور رشتہ داریاں ان سے توڑ چکے ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ سرداران کفر ہیں اور کافروں کے گروہ ہیں۔ انہیں زندہ چھوڑنا مناسب نہیں۔ حضور ﷺ نے ابوبکر ؓ کا مشورہ قبول کیا اور حضرت عمر کی بات کی طرف مائل نہ ہوئے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن صبح ہی سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر اس رونے کا کیا سبب ہے ؟ اگر کوئی ایسا ہی باعث ہو تو میں بھی ساتھ دوں ورنہ تکلف سے ہی رونے لگوں کیونکہ آپ دونوں بزرگوں کو روتا دیکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یہ رونا بوجہ اس عذاب کے ہے جو تیرے ساتھیوں پر فدیہ لے لینے کے باعث پیش ہوا۔ آپ نے اپنے پاس کے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو اللہ کا عذاب اس درخت تک پہنچ چکا ہے اسی کا بیان آیت (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67) 8۔ الانفال :67) سے (فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 69) 8۔ الانفال :69) تک ہے ـ پس اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت حلال فرمایا پھر اگلے سال جنگ احد کے موقعہ پر فدیہ لینے کے بدلے ان کی سزا طے ہوئی ستر مسلمان صحابہ شہید ہوئے لشکر اسلام میں بھگدڑ مچ گئی آنحضرت ﷺ کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے آپ کے سر پر جو خود تھا وہ ٹوٹ گیا چہرہ خون آلودہ ہوگیا۔ پس یہ آیت اتری (اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْھَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ01605) 3۔ آل عمران :165) ، یعنی جب تمہیں مصیبت پہنچی تو کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی ؟ جواب دے کہ یہ خود تمہاری اپنی طرف سے ہے۔ تم اس سے پہلے اس سے دگنی راحت بھی تو پاچکے ہو یقین مانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے مطلب یہ ہے کہ یہ فدیہ لینے کا بدل ہے یہ حدیث مسلم شریف وغیرہ میں بھی ہے۔ ابن عباس وغیرہ کا فرمان ہے کہ یہ آیت انحضرت ﷺ کی دعا کے بارے میں ہے اور روایت میں ہے کہ جب حضور نے دعا میں اپنا پورا مبالغہ کیا تو حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ اب مناجات ختم کیجئے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ آپ سے کیا ہے وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضرت مقداد بن اسود نے ایک ایسا کام کیا کہ اگر میں کرتا تو مجھے اپنے اور تمام اعمال سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ آنحضرت ﷺ جب مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے تو آپ آئے اور کہنے لگے ہم آپ سے وہ نہیں کہیں گے جو قوم موسیٰ نے کہا تھا کہ خود اپنے رب کو ساتھ لے کر جا اور لڑ بھڑ لو بلکہ ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے چلئے ہم آپ کے دائیں بائیں برابر کفار سے جہاد کریں گے آگے پیچھے بھی ہم ہی ہم نظر آئیں گے میں نے دیکھا کہ ان کے اس قول سے رسول اللہ ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس دعا کے بعد حضور ﷺ یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ عنقریب مشرکین شکست کھائیں گے اور پیٹھ دکھائیں گے (نسائی وغیرہ) ارشاد ہوا کہ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کی جائے گی جو برابر ایک دوسرے کے پیچھے سلسلہ وار آئیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ایک کے بعد ایک آتا رہے گا۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل ؑ ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے لشکر کے دائیں حصے میں آئے تھے جس پر کمان حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تھی اور بائیں حصے پر حضرت میکائیل ؑ ایک ہزار فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے تھے۔ اس طرف میری کمان تھی ایک قرأت میں مردفین بھی ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے ساتھ پانچ پانچ سو فرشتے تھے جو بطور امداد آسمان سے بحکم الٰحی اترے تھے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ ایک مسلمان ایک کافر پر حملہ کرنے کیلئے اس کا تعاقت کر رہا تھا کہ اچانک ایک کوڑا مانگنے کی آواز اور ساتھ ہی ایک گھوڑ سوار کی آواز آئی کہ اے خیروم آگے بڑھ وہیں دیکھا کہ وہ مشرک چت گرا ہوا ہے اس کا منہ کوڑے کے لگنے سے بگڑ گیا ہے اور ہڈیاں پسلیاں چور چور ہوگئی ہیں اس انصاری صحابی نے حضور سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تو سچا ہے یہ تیری آسمانی مدد تھی پس اس دن ستر کافر قتل ہوئے اور ستر قید ہوئے امام بخاری ؒ نے باب باندھا ہے کہ " بدر والے دن فرشتوں کا اترنا " پھر حدیث لائے ہیں کہ جبرائیل ؑ حضور کے پاس آئے اور پوچھا کہ بدری صحابہ کا درجہ آپ میں کیسا سمجھا جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اور مسلمانوں سے بہت افضل۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا اس طرح بدر میں آنے والے فرشتے بھی اور فرشتوں میں افضل گنے جاتے ہیں۔ بخاری اور مسلم میں ہے کہ جب حضرت عمر نے حضرت حاطب بن ابو بلتعہ ؓ کے قتل کا مشورہ رسول اللہ ﷺ کو دیا تو آپ نے فرمایا وہ تو بدری صحابی ہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ نے بدریوں پر نظر ڈالی اور فرمایا تم جو چاہے کرو میں نے تمہیں بخش دیا۔ پھر فرماتا ہے کہ فرشتوں کا بھیجنا اور تمہیں اس کی خوشخبری دینا صرف تمہاری خوشی اور اطمینان دل کے لئے تھا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو بھیجے بغیر بھی اس پر قادر ہے جس کی جا ہے مدد کرے اور اسے غالب کر دے۔ بغیر نصرت پروردگار کے کوئی فتح پا نہیں سکتا اللہ ہی کی طرف سے مدد ہوتی ہے جیسے فرمان ہے آیت (فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ڎ فَاِمَّا مَنًّـۢا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاۗءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَاڃ ذٰ۩لِكَ ړ وَلَوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَانْتَـصَرَ مِنْهُمْ وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَا۟ بَعْضَكُمْ بِبَعْـضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَنْ يُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ) 47۔ محمد :4) ، کافروں سے جب میدان ہو تو گردن مارنا ہے جب اس میں کامیابی ہوجائے تو پھر قید کرنا ہے۔ اس کے بعد یا احسان کے طور پر چھوڑ دینا یا فدیہ لے لینا ہے یہاں تک کہ لڑائی موقوف ہوجائے یہ ظاہری صورت ہے اگر رب چاہے تو آپ ہی ان سے بدلے لے لے لیکن وہ ایک سے ایک کو آزما رہا ہے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے اعمال اکارت نہیں جائیں گے۔ انہیں اللہ تعالیٰ راہ رکھائے گا اور انہیں خوشحال کر دے گا اور جان پہچان کی جنت میں لے جائے گا اور آیت میں ہے (وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ01400ۙ) 3۔ آل عمران :140) یہ دن ہم لوگوں میں گھماتے رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ جانچ لے اور شہیدوں کو الگ کرلے ظالموں سے اللہ ناخوش رہتا ہے اس میں ایمانداروں کا امتیاز ہوجاتا ہے اور یہ کفار کے مٹانے کی صورت ہے۔ جہاد کا شرعی فلسفہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موحدوں کے ہاتھوں سزا دیتا ہے۔ اس سے پہلے عام آسمانی عذابوں سے وہ ہلاک کردیئے جاتے تھے جیسے قوم نوح پر طوفان آیا، عاد والے آندھی میں تباہ ہوئے، ثمودی چیخ سے غارت کردیئے گئے، قوم لوط پر پتھر بھی برسے، زمین میں بھی دھنسائے گئے اور ان کی بستیاں الٹ دی گئیں، قوم شعیب پر ابر کا عذاب آیا۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ کے زمانے میں دشمنان دین مع فرعون اور اس کی قوم اور اس کے لشکروں کے ڈبو دیئے گئے۔ اللہ نے توراۃ اتاری اور اس کے بعد سے اللہ کا حکم جاری ہوگیا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ للنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 43) 28۔ القصص :43) پہلی بستیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جو سوچنے سمجھنے کی بات تھی۔ پھر سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو سزا دینا شروع کردیا تاکہ مسلمانوں کے دل صاف ہوجائیں اور کافروں کی ذلت اور بڑھ جائے جیسے اس امت کو اللہ جل شانہ کا حکم ہے آیت (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ 14 ۙ) 9۔ التوبہ :14) ، اے مومنو ! ان سے جہاد کرو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا انہیں ذلیل کرے گا اور تمہیں ان پر مدد عطا فرما کر مومنوں کے سینے صاف کر دے گا۔ اسی میدان بدر میں گھمنڈ و نخوت کے پتلوں کا، کفر کے سرداروں کا ان مسلمانوں کے ہاتھ قتل ہونا جن پر ہمیشہ ان کی نظریں ذلت و حقارت کے ساتھ پڑتی رہیں کچھ کم نہ تھا۔ ابو جہل اگر اپنے گھر میں اللہ کے کسی عذاب سے ہلاک ہوجاتا تو اس میں وہ شان نہ تھی جو معرکہ قتال میں مسلمانوں کے ہاتھوں ٹکڑے ہونے میں ہے۔ جیسے کہ ابو لہب کی موت اسی طرح کی واقع ہوئی تھی کہ اللہ کے عذاب میں ایسا سڑا کہ موت کے بعد کسی نے نہ تو اسے نہلایا نہ دفنایا بلکہ دور سے پانی ڈال کر لوگوں نے پتھر پھینکنے شروع کئے اور انہیں میں وہ دب گیا۔ اللہ عزت والا ہے پھر اس کا رسول اور ایماندار۔ دنیا آخرت میں عزت اور بھلائی ان ہی کے حصے کی چیز ہے جیسے ارشاد ہے ہے آیت (اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ 51ۙ) 40۔ غافر :51) ، ہم ضرور بضرور اپنے رسولوں کی، ایماندار بندوں کی اس جہان میں اور اس جہان میں مدد فرمائیں گے۔ اللہ حکیم ہے گو وہ قادر تھا کہ بغیر تمہارے لڑے بھڑے کفار کو ملیامیٹ کر دے لیکن اس میں بھی اس کی حکمت ہے جو وہ تمہارے ہاتھوں انہیں ڈھیر کر رہا ہے۔