https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الذاريات

(Adh-Dhariyat) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ

📘 کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِلْمُوقِنِينَ

📘 اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔

وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ

📘 اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔

وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ

📘 اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔

فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنْطِقُونَ

📘 اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔

هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ

📘 ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ

📘 ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ

📘 ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ

📘 ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ

📘 ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ

📘 ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ

📘 ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

۞ قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ

📘 حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُجْرِمِينَ

📘 حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ طِينٍ

📘 حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ

📘 حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

فَأَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

📘 حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

📘 حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً لِلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ

📘 حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّىٰ حِينٍ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فَمَا اسْتَطَاعُوا مِنْ قِيَامٍ وَمَا كَانُوا مُنْتَصِرِينَ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ

📘 فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ

📘 ’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔

وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ

📘 ’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔

وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

📘 ’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ

📘 ’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔

وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُبِينٌ

📘 ’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔

كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ

📘 ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ

📘 ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ

📘 ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِينَ

📘 ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

📘 خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔

مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ

📘 خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔

إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ

📘 خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔

فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ

📘 خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔

وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ

📘 خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔

وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ

📘 یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔