https://nabtah.net/ https://devrumaroof.techarea.co.id/ https://siami.uki.ac.id/ https://www.ir-webdesign.com/ https://matedu.matabacus.ac.ug/ https://www.banglatutorials.com/products https://www.kingdom-theology.id/ https://apdesign.cz/aktuality https://www.ir-webdesign.com/kontakt
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الشعراء

(Ash-Shuara) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ طسم

📘 آیت 77 قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ ج ”بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھانے اور اس سلسلے میں ان پر اتمام حجت کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس قانون کی وضاحت سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کے درمیان رسول مبعوث نہ کردیں۔ اسی حوالے سے یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور حق کی دعوت دینا مشیت الٰہی کے تحت ضروری نہ ہوتا تو میرے رب کو تم لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت اور قانون کے تحت تمہاری طرف مبعوث فرما کر مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ میں اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچاؤں۔ اس کے لیے میں سالہا سال سے تمہارے پیچھے خود کو ہلکان کر رہا ہوں۔ گلیوں اور بازاروں میں تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا ہوں ‘ تمہارے گھروں میں جا کر تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے تم لوگوں کو سمجھاتا ہوں۔ تم لوگ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ اس میں میری کوئی ذاتی غرض ہے یا تمہارے بغیر میرے رب کا کوئی کام ادھورا پڑا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے رب کے حضور تمہاری حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ اگر اللہ کو تمہیں راہ ہدایت دکھا کر اتمام حجت کرنا منظور نہ ہوتا ‘ اور اس کے لیے میرا تمہیں مخاطب کرنا نا گزیر نہ ہوتا تو میں ہرگز تمہارے پیچھے پیچھے نہ پھرتا۔فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا ”یعنی تمہارے اس انکار کی پاداش میں تم لوگوں کو سزا مل کر رہے گی۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

📘 آیت 9 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ”العزیز“ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت 4 میں فرمایا گیا ہے : اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں“۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی حسیّ معجزہ دکھا کر ان لوگوں کی مدت مہلت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس دودھ کو کچھ دیر اور بلو لیا جائے ‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ شاید ان میں بھلائی کی استعداد رکھنے والے مزید کچھ لوگ موجود ہوں اور اس طرح انہیں بھی راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔ بہر حال اس وجہ سے ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی انہیں معجزہ نہیں دکھا یا جا رہا تھا ‘ مگر وہ نادان اپنے اس مطالبے کے پورا نہ ہونے کو آپ ﷺ کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ

📘 آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔

وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ

📘 آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔

فَلَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ

📘 اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ نُوحٌ أَلَا تَتَّقُونَ

📘 اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

📘 آیت 107 اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ”مجھے اللہ کی طرف سے تمہاری طرف جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ میں بلاکم وکاست تم لوگوں تک پہنچارہا ہوں۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 108 فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ”واضح رہی کہ رسول علیہ السلام کی دعوت کے ہمیشہ دو حصے رہے ہیں۔ اس کا پہلا حصہ ہے : فَاتَّقُوا اللّٰہَ یا اعْبُدُوا اللّٰہَ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یا اللہ کی بندگی کرو ! اور دوسرا حصہ ہے : وَاَطِیْعُوْنِکہ میرا حکم مانو ‘ میری اطاعت کرو ! اس لیے کہ رسول علیہ السلام کی شخصی اطاعت لازم ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سورة النساء آیت 64 میں فرمایا گیا : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول علیہ السلام کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے“۔ اس سورة مبارکہ میں یہ نکتہ ہر رسول کے حوالے سے بار بار دہرایا گیا ہے۔

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 108 فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ”واضح رہی کہ رسول علیہ السلام کی دعوت کے ہمیشہ دو حصے رہے ہیں۔ اس کا پہلا حصہ ہے : فَاتَّقُوا اللّٰہَ یا اعْبُدُوا اللّٰہَ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یا اللہ کی بندگی کرو ! اور دوسرا حصہ ہے : وَاَطِیْعُوْنِکہ میرا حکم مانو ‘ میری اطاعت کرو ! اس لیے کہ رسول علیہ السلام کی شخصی اطاعت لازم ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سورة النساء آیت 64 میں فرمایا گیا : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول علیہ السلام کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے“۔ اس سورة مبارکہ میں یہ نکتہ ہر رسول کے حوالے سے بار بار دہرایا گیا ہے۔

قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۚ أَلَا يَتَّقُونَ

📘 آیت 9 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ”العزیز“ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت 4 میں فرمایا گیا ہے : اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں“۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی حسیّ معجزہ دکھا کر ان لوگوں کی مدت مہلت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس دودھ کو کچھ دیر اور بلو لیا جائے ‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ شاید ان میں بھلائی کی استعداد رکھنے والے مزید کچھ لوگ موجود ہوں اور اس طرح انہیں بھی راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔ بہر حال اس وجہ سے ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی انہیں معجزہ نہیں دکھا یا جا رہا تھا ‘ مگر وہ نادان اپنے اس مطالبے کے پورا نہ ہونے کو آپ ﷺ کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 108 فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ”واضح رہی کہ رسول علیہ السلام کی دعوت کے ہمیشہ دو حصے رہے ہیں۔ اس کا پہلا حصہ ہے : فَاتَّقُوا اللّٰہَ یا اعْبُدُوا اللّٰہَ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یا اللہ کی بندگی کرو ! اور دوسرا حصہ ہے : وَاَطِیْعُوْنِکہ میرا حکم مانو ‘ میری اطاعت کرو ! اس لیے کہ رسول علیہ السلام کی شخصی اطاعت لازم ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سورة النساء آیت 64 میں فرمایا گیا : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول علیہ السلام کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے“۔ اس سورة مبارکہ میں یہ نکتہ ہر رسول کے حوالے سے بار بار دہرایا گیا ہے۔

۞ قَالُوا أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ

📘 آیت 111 قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ ”حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سردار اور اشراف آپ علیہ السلام کی دعوت حق کے جواب میں کہتے تھے کہ ہم آپ کو کیسے مان لیں جبکہ آپ کی پیروی اختیار کرنے والے تو ہمارے کمیّ کمین ہیں ‘ ہمارے معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لوگ ہیں جنہیں حقیر اور رذیل سمجھا جاتا ہے !

قَالَ وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

📘 آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔

إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّي ۖ لَوْ تَشْعُرُونَ

📘 آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔

وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔

إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ

📘 آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔

قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ

📘 آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔

قَالَ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ

📘 آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔

فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَنَجِّنِي وَمَنْ مَعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 118 فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا ”یعنی ایسا کھلا فیصلہ جس کے بعد حق کے احقاق اور باطل کے ابطال میں کوئی شک یا ابہام نہ رہ جائے۔ وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”اہل ایمان میں سے۔“

فَأَنْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ

📘 آیت 9 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ”العزیز“ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت 4 میں فرمایا گیا ہے : اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں“۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی حسیّ معجزہ دکھا کر ان لوگوں کی مدت مہلت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس دودھ کو کچھ دیر اور بلو لیا جائے ‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ شاید ان میں بھلائی کی استعداد رکھنے والے مزید کچھ لوگ موجود ہوں اور اس طرح انہیں بھی راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔ بہر حال اس وجہ سے ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی انہیں معجزہ نہیں دکھا یا جا رہا تھا ‘ مگر وہ نادان اپنے اس مطالبے کے پورا نہ ہونے کو آپ ﷺ کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

ثُمَّ أَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبَاقِينَ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

كَذَّبَتْ عَادٌ الْمُرْسَلِينَ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ”یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔

أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ آيَةً تَعْبَثُونَ

📘 آیت 128 اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ رِیْعٍ اٰیَۃً تَعْبَثُوْنَ ”تم لوگ بغیر کسی مقصد اور افادیت کے جگہ جگہ بڑی بڑی عمارتیں محض اپنی یادگاروں کے طور پر تعمیر کردیتے ہو۔ یہ فضول ریت ہر تمدن اور ہر قوم میں رہی ہے۔ ہر دور کے امراء اور حکمران زرکثیر خرچ کر کے بڑی بڑی عمارتیں محض اس لیے تعمیر کرتے رہے ہیں کہ وہ دنیا میں ان کی یادگاروں کے طور پر قائم رہیں۔ اہرام مصر اور تاج محل ان یادگاروں کی مثالیں ہیں جن پر اپنے اپنے زمانے میں کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا گیا مگر انسانیت کے لیے ان کی افادیت کچھ بھی نہیں ہے۔ قوم عاد کے امراء بھی ایسی یادگاریں بنانے کے شوقین تھے۔

وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ

📘 آیت 129 وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ ”ایسی یادگاریں اور ایسے محلات تو بعد میں بھی قائم رہتے ہیں مگر انہیں بنانے والے باقی نہیں رہتے۔ جیسے غرناطہ اور قرطبہ کے محلاتّ تو اب بھی موجود ہیں مگر ان کے مکینوں کا آج کہیں نام و نشان نہیں۔ بہر حال ان محلات کو تعمیر کروانے والوں نے تو انہیں ایسے ہی بنایا تھا جیسے انہیں ہمیشہ ان میں رہنا ہے۔

وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ

📘 آیت 13 وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ہٰرُوْنَ ” تاکہ اس عظیم مشن میں وہ میرے دست وبازو بنیں اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں۔

وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ

📘 آیت 130 وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ”جب تم کسی قوم پر حملہ آور ہوتے ہو تو ظلم و جبر کی انتہا کردیتے ہو۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 130 وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ ”جب تم کسی قوم پر حملہ آور ہوتے ہو تو ظلم و جبر کی انتہا کردیتے ہو۔

وَاتَّقُوا الَّذِي أَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُونَ

📘 آیت 132 وَاتَّقُوا الَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اولاد عطا کی ہے ‘ مال و اسباب سے نوازا ہے ‘ خوشحالی اور فارغ البالی دی ہے ‘ وسیع خطۂ زمین بخشا ہے اور تمہاری اس زمین کو خصوصی طور پر زرخیز بنایا ہے۔ اور تم لوگ اس اللہ کو خوب پہچانتے ہو جس کی طرف سے تمہیں یہ تمام نعمتیں ملی ہیں۔

أَمَدَّكُمْ بِأَنْعَامٍ وَبَنِينَ

📘 آیت 132 وَاتَّقُوا الَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اولاد عطا کی ہے ‘ مال و اسباب سے نوازا ہے ‘ خوشحالی اور فارغ البالی دی ہے ‘ وسیع خطۂ زمین بخشا ہے اور تمہاری اس زمین کو خصوصی طور پر زرخیز بنایا ہے۔ اور تم لوگ اس اللہ کو خوب پہچانتے ہو جس کی طرف سے تمہیں یہ تمام نعمتیں ملی ہیں۔

وَجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

📘 آیت 132 وَاتَّقُوا الَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اولاد عطا کی ہے ‘ مال و اسباب سے نوازا ہے ‘ خوشحالی اور فارغ البالی دی ہے ‘ وسیع خطۂ زمین بخشا ہے اور تمہاری اس زمین کو خصوصی طور پر زرخیز بنایا ہے۔ اور تم لوگ اس اللہ کو خوب پہچانتے ہو جس کی طرف سے تمہیں یہ تمام نعمتیں ملی ہیں۔

إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

📘 آیت 132 وَاتَّقُوا الَّذِیْٓ اَمَدَّکُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَ ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اولاد عطا کی ہے ‘ مال و اسباب سے نوازا ہے ‘ خوشحالی اور فارغ البالی دی ہے ‘ وسیع خطۂ زمین بخشا ہے اور تمہاری اس زمین کو خصوصی طور پر زرخیز بنایا ہے۔ اور تم لوگ اس اللہ کو خوب پہچانتے ہو جس کی طرف سے تمہیں یہ تمام نعمتیں ملی ہیں۔

قَالُوا سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَوَعَظْتَ أَمْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْوَاعِظِينَ

📘 آیت 136 قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَکُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَ ”آپ علیہ السلام کے اس وعظ کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوگا ‘ ہم آپ کے کہنے پر اپنے عقائد اور اپنے باپ دادا کے طریقوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔

إِنْ هَٰذَا إِلَّا خُلُقُ الْأَوَّلِينَ

📘 آیت 137 اِنْ ہٰذَآ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَ ”آپ علیہ السلام ہمارے سامنے پرانے زمانے کی باتوں اور فرسودہ روایات کو دہرا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ باتیں تو بس یوں ہی چلی آئی ہیں۔

وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَاهُمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْبٌ فَأَخَافُ أَنْ يَقْتُلُونِ

📘 آیت 14 وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَالِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 138 وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ ”یہ آپ علیہ السلام خواہ مخواہ ہم پر دھونس جما رہے ہیں ‘ ہم پر کوئی عذاب وغیرہ آنے والا نہیں ہے۔

أَتُتْرَكُونَ فِي مَا هَاهُنَا آمِنِينَ

📘 آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

📘 آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ

📘 آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا فَارِهِينَ

📘 آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

قَالَ كَلَّا ۖ فَاذْهَبَا بِآيَاتِنَا ۖ إِنَّا مَعَكُمْ مُسْتَمِعُونَ

📘 آیت 14 وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

وَلَا تُطِيعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِينَ

📘 آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ

📘 آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ

📘 آیت 153 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”یعنی آپ علیہ السلام پر یقیناً جادو یا آسیب کے اثرات ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔

مَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا فَأْتِ بِآيَةٍ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

📘 آیت 153 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”یعنی آپ علیہ السلام پر یقیناً جادو یا آسیب کے اثرات ہیں جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔

قَالَ هَٰذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا نَادِمِينَ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 14 وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُونَ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 155 قَالَ ہٰذِہٖ نَاقَۃٌ لَّہَا شِرْبٌ وَّلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ”حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے معجزے کے مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی بھیجی ہے ‘ لیکن اب تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک دن یہ اکیلی پانی پئے گی اور ایک دن تمہارے تمام جانور پئیں گے۔ اس اونٹنی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اپنی باری کے دن چشمے کا پورا پانی پی جاتی تھی اور اس دن ان کے جانوروں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اگلے دن اونٹنی ناغہ کرتی تھی اور باقی سب جانور پانی پیتے تھے۔ مجھے ”مدائنِ صالح“ میں وہ چشمہ دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

أَتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 165 اَتَاْتُوْنَ الذُّکْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَ ”دنیا جہان میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کی غرض سے َ مردوں کے پاس جاتے ہو۔ ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم یہ حرکت نہیں کرتی ‘ بلکہ یہ کام تو جانور بھی نہیں کرتے۔

وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ

📘 آیت 166 وَتَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَکُمْ رَبُّکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ ط ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے جوڑوں کے لیے عورتیں پیدا کی ہیں۔ انہیں چھوڑ کر تم اپنی شہوت کا تقاضا مردوں سے پورا کرتے ہو۔

قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا لُوطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِينَ

📘 آیت 167 قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ”اگر آپ علیہ السلام اپنی اس وعظ و نصیحت سے اور ہم پر تنقید کرنے سے باز نہ آئے تو ہم آپ علیہ السلام کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔

قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ

📘 آیت 167 قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ”اگر آپ علیہ السلام اپنی اس وعظ و نصیحت سے اور ہم پر تنقید کرنے سے باز نہ آئے تو ہم آپ علیہ السلام کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔

رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ

📘 آیت 167 قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ”اگر آپ علیہ السلام اپنی اس وعظ و نصیحت سے اور ہم پر تنقید کرنے سے باز نہ آئے تو ہم آپ علیہ السلام کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔

أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ

📘 آیت 17 اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”کہ اب تم بنی اسرائیل کو مزید تنگ نہ کرو اور انہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔

فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ

📘 آیت 167 قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰلُوْطُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ ”اگر آپ علیہ السلام اپنی اس وعظ و نصیحت سے اور ہم پر تنقید کرنے سے باز نہ آئے تو ہم آپ علیہ السلام کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔

إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ

📘 آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ”یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ

📘 آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ”یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ

📘 آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ”یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ”یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 171 اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ ”یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی جو آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لائی تھی ‘ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

كَذَّبَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ الْمُرْسَلِينَ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

قَالَ أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينَا وَلِيدًا وَلَبِثْتَ فِينَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِينَ

📘 آیت 18 قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ ”یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے کہ کوئی واقعہ بیان کرتے ہوئے اس کی غیر ضروری تفاصیل چھوڑ دی جاتی ہیں۔ چناچہ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر پہنچنے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے دربار میں جا کر اسے دعوت دینے سے متعلق تمام تفصیلات کو چھوڑ کر فرعون کے جواب کو نقل کیا گیا ہے کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کو ہم نے دریائے نیل میں بہتے ہوئے صندوق سے نکالا تھا اور پھر پال پوس کر بڑا کیا تھا ؟ آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے الفاظ کا امکانی حد تک مناسب انداز میں ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن جس ماحول اور جس انداز میں فرعون نے یہ جملے کہے ہوں گے ان کا تصور کریں تو مفہوم کچھ یوں ہوگا کہ تم ہمارے ٹکڑوں پر پلے ہو اور آج اللہ کے رسول بن کر ہمارے ہی سامنے آ کھڑے ہوئے ہو۔ ہماری بلیّ اور ہمیں کو میاؤں ![ سورة الاعراف کی آیات 104 ‘ 105 کے ذیل میں یہ وضاحت آچکی ہے کہ یہ وہ فرعون نہ تھا جس کے گھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی تھی ‘ بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا۔ زیر مطالعہ آیت کے اسلوب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر یہ وہی فرعون ہوتا تو کہتا کہ میں نے تجھے پالا پوسا ‘ لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ تو ہمارے ہاں رہا ہے اور ہم نے تیری پرورش کی ہے۔ ]

وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

۞ أَوْفُوا الْكَيْلَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُخْسِرِينَ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ

📘 آیت 176 کَذَّبَ اَصْحٰبُ لْءَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ ””ایکہ“ کے معنی جنگل یاَ بن کے ہیں۔ یہ لفظ اس سے پہلے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لیے سورة الحجر کی آیت 78 میں بھی آچکا ہے۔

قَالُوا إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ

📘 آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔

وَمَا أَنْتَ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا وَإِنْ نَظُنُّكَ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ

📘 آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔

فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

📘 آیت 185 قَالُوْٓا اِنَّمَآ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَ ”ہم تمہارے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ تم محض ایک سحر زدہ شخص ہو۔ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کے زیر اثر ہمیں نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔

قَالَ رَبِّي أَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُونَ

📘 آیت 188 قَالَ رَبِّیْٓ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ”میری دعوت پر تمہارے ایک ایک ردِّ عمل سمیت تمہارے طرز عمل اور تمہارے تمام کرتوتوں سے میرا پروردگار خوب واقف ہے۔

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

📘 آیت 189 فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَہُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ط ”یوں لگتا ہے جیسے اس قوم پر پہلے اوپر سے کوئی عذاب آیا تھا اور ان پر سائبان کی طرح چھا گیا تھا۔

وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَافِرِينَ

📘 آیت 19 وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ”فرعون نے اپنے مزعومہ احسانات جتلانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بھی یادد لا دیا کہ تم نے ہمارے ایک آدمی کو بھی قتل کیا ہوا ہے۔ اور آخر میں بڑی رعونت سے کہا کہ تم کتنے ناشکر گزار اور احسان فراموش ہو !

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 189 فَکَذَّبُوْہُ فَاَخَذَہُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ط ”یوں لگتا ہے جیسے اس قوم پر پہلے اوپر سے کوئی عذاب آیا تھا اور ان پر سائبان کی طرح چھا گیا تھا۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 191 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ مشرکین مکہ کو ابھی مزید مہلت دی جائے۔ اسی لیے حسی معجزے کے بارے میں ان کا مطالبہ ابھی پورا نہیں کیا جا رہا۔ یہاں انبیاء الرسل علیہ السلام کا بیان ختم ہوا۔ اس کے بعد اب ایک طویل رکوع آ رہا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب ہے۔

وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 191 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ مشرکین مکہ کو ابھی مزید مہلت دی جائے۔ اسی لیے حسی معجزے کے بارے میں ان کا مطالبہ ابھی پورا نہیں کیا جا رہا۔ یہاں انبیاء الرسل علیہ السلام کا بیان ختم ہوا۔ اس کے بعد اب ایک طویل رکوع آ رہا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب ہے۔

نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ

📘 آیت 193 نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ””الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ“ امانت دار روح سے مراد جبریل امین علیہ السلام ہیں۔

عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ

📘 آیت 194 عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ”میں نے قبل ازیں بھی بار ہا یہ ذکر کیا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات میں اصل مہبط وحی آپ ﷺ کا قلب مبارک تھا اور قلب مبارک کے اندر آپ ﷺ کی روح وحی کو قبول receive کرتی تھی۔ انسانی علم کے حوالے سے یہ بات بھی گزشتہ سطور میں کئی دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ بنیادی طور پر انسانی علم کی دو اقسام ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو انسان کو اس کے حواس خمسہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہ اکتسابی علم Acquired knowledge ہے جس کے لیے ہر انسان کوشش اور محنت کرتا ہے۔ اس علم کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ انسان حواس خمسہ سے معلومات حاصل کرکے انہیں process کرنیکے لیے دماغ یا عقل قرآن میں انسان کی اس صلاحیت کے لیے ”فواد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے کے حوالے کرتا ہے۔ شخصی اور اجتماعی سطح پر یہ علم مسلسل ارتقاء پذیر ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست انسانی قلب یا روح پر نازل ہوتا ہے۔ اس Revealed knowledge کی سب سے محفوظ اور مصدقہّ صورت وحی کی ہے جو فرشتے کے ذریعے صرف انبیاء کرام علیہ السلام پر نازل ہوتی تھی اور اسے شیاطین کی دخل اندازی سے مکمل طور پر محفوظ رکھا جاتا تھا۔ البتہ وحی کا دروازہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے۔ اس قسم کے براہ راست علم وہبی علم کی جو صورتیں عام انسانوں کے لیے ممکن ہوسکتی ہیں ان میں الہام ‘ القاء ‘ کشف ‘ رؤیائے صادقہ سچے خواب وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی ذریعے سے حاصل ہونے والا علم دین اور شریعت میں حجت نہیں بن سکتا۔ دین اور شریعت میں حجت صرف قرآن اور سنت ہی ہیں۔ البتہ کسی کے ذاتی کشف کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات یا ہدایات اگر شریعت کے خلاف نہ ہوں تو خود اس شخص کے لیے حجت بن سکتی ہیں ‘ کسی دوسرے کے لیے نہیں۔

بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ

📘 آیت 194 عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ”میں نے قبل ازیں بھی بار ہا یہ ذکر کیا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات میں اصل مہبط وحی آپ ﷺ کا قلب مبارک تھا اور قلب مبارک کے اندر آپ ﷺ کی روح وحی کو قبول receive کرتی تھی۔ انسانی علم کے حوالے سے یہ بات بھی گزشتہ سطور میں کئی دفعہ دہرائی جا چکی ہے کہ بنیادی طور پر انسانی علم کی دو اقسام ہیں۔ ایک علم تو وہ ہے جو انسان کو اس کے حواس خمسہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہ اکتسابی علم Acquired knowledge ہے جس کے لیے ہر انسان کوشش اور محنت کرتا ہے۔ اس علم کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ انسان حواس خمسہ سے معلومات حاصل کرکے انہیں process کرنیکے لیے دماغ یا عقل قرآن میں انسان کی اس صلاحیت کے لیے ”فواد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے کے حوالے کرتا ہے۔ شخصی اور اجتماعی سطح پر یہ علم مسلسل ارتقاء پذیر ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست انسانی قلب یا روح پر نازل ہوتا ہے۔ اس Revealed knowledge کی سب سے محفوظ اور مصدقہّ صورت وحی کی ہے جو فرشتے کے ذریعے صرف انبیاء کرام علیہ السلام پر نازل ہوتی تھی اور اسے شیاطین کی دخل اندازی سے مکمل طور پر محفوظ رکھا جاتا تھا۔ البتہ وحی کا دروازہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے۔ اس قسم کے براہ راست علم وہبی علم کی جو صورتیں عام انسانوں کے لیے ممکن ہوسکتی ہیں ان میں الہام ‘ القاء ‘ کشف ‘ رؤیائے صادقہ سچے خواب وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی ذریعے سے حاصل ہونے والا علم دین اور شریعت میں حجت نہیں بن سکتا۔ دین اور شریعت میں حجت صرف قرآن اور سنت ہی ہیں۔ البتہ کسی کے ذاتی کشف کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات یا ہدایات اگر شریعت کے خلاف نہ ہوں تو خود اس شخص کے لیے حجت بن سکتی ہیں ‘ کسی دوسرے کے لیے نہیں۔

وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ

📘 آیت 196 وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ ”اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس کا ذکر اور اس کے بارے میں پیشین گوئیاں سابقہ آسمانی کتب میں پائی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ اس کے بنیادی مضامین پہلی کتب اور صحیفوں میں بھی موجود ہیں۔ ان صحیفوں اور تورات و انجیل کی بنیادی تعلیمات وہی تھیں جو قرآن کی تعلیمات ہیں۔ اگر کوئی فرق یا اختلاف تھا تو صرف مختلف شریعتوں کے جزئیاتی احکام میں تھا۔ اس لحاظ سے قرآن ان تمام صحائف و کتب کا مُتَمِّم یعنی تکمیلی ایڈیشن ہے۔

أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ

📘 آیت 197 اَوَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ اٰیَۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”علمائے بنی اسرائیل بخوبی جانتے تھے کہ قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ کی طرف سے ہے۔

وَلَوْ نَزَّلْنَاهُ عَلَىٰ بَعْضِ الْأَعْجَمِينَ

📘 آیت 197 اَوَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ اٰیَۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”علمائے بنی اسرائیل بخوبی جانتے تھے کہ قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ کی طرف سے ہے۔

فَقَرَأَهُ عَلَيْهِمْ مَا كَانُوا بِهِ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 199 فَقَرَاَہٗ عَلَیْہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ”ہم یہ بھی کرسکتے تھے کہ قرآن کسی ایسے شخص پر نازل کردیتے جس کی مادری زبان عربی نہ ہوتی ‘ پھر اگر ایسا شخص انہیں عربی قرآن پڑھ کر سناتا تو یہ گویا ایک کھلا معجزہ ہوتا ‘ لیکن یہ لوگ پھر بھی اسے ماننے والے نہیں تھے۔

تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ

📘 آیت 77 قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ ج ”بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھانے اور اس سلسلے میں ان پر اتمام حجت کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس قانون کی وضاحت سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کے درمیان رسول مبعوث نہ کردیں۔ اسی حوالے سے یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور حق کی دعوت دینا مشیت الٰہی کے تحت ضروری نہ ہوتا تو میرے رب کو تم لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت اور قانون کے تحت تمہاری طرف مبعوث فرما کر مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ میں اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچاؤں۔ اس کے لیے میں سالہا سال سے تمہارے پیچھے خود کو ہلکان کر رہا ہوں۔ گلیوں اور بازاروں میں تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا ہوں ‘ تمہارے گھروں میں جا کر تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے تم لوگوں کو سمجھاتا ہوں۔ تم لوگ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ اس میں میری کوئی ذاتی غرض ہے یا تمہارے بغیر میرے رب کا کوئی کام ادھورا پڑا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے رب کے حضور تمہاری حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ اگر اللہ کو تمہیں راہ ہدایت دکھا کر اتمام حجت کرنا منظور نہ ہوتا ‘ اور اس کے لیے میرا تمہیں مخاطب کرنا نا گزیر نہ ہوتا تو میں ہرگز تمہارے پیچھے پیچھے نہ پھرتا۔فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا ”یعنی تمہارے اس انکار کی پاداش میں تم لوگوں کو سزا مل کر رہے گی۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

قَالَ فَعَلْتُهَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ

📘 آیت 20 قَالَ فَعَلْتُہَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ”یعنی یہ فعل مجھ سے نادانستگی میں ہوا تھا اور اس وقت میں ابھی حقیقت سے ناآشنا بھی تھا۔ ابھی رسالت اور نبوت مجھے نہیں ملی تھی اور میں خود تلاش حقیقت میں سرگرداں تھا۔ لفظ ”الضّال“ کے دو مفاہیم کے بارے میں سورة الفاتحہ کے مطالعے کے دوران وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس لفظ کے ایک معنی تو راستے سے بھٹک جانے والے اور غلط فہمی کی بنا پر کوئی غلط راستہ اختیار کرلینے والے کے ہیں ‘ لیکن اس کے علاوہ جو شخص ابھی درست راستے کی تلاش میں سرگرداں ہو اس پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور اسی مفہوم میں یہ لفظ سورة الضحیٰ کی اس آیت میں حضور ﷺ کے لیے استعمال ہوا ہے : وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی کہ ہم نے آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو راہنمائی فرما دی !

كَذَٰلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ

📘 آیت 200 کَذٰلِکَ سَلَکْنٰہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ”قرآن کا انکار ان لوگوں کے دلوں میں اب ڈیرے جما چکا ہے۔ اب انہیں لاکھ معجزے دکھا دیے جائیں یہ ماننے والے نہیں ہیں۔

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ

📘 آیت 200 کَذٰلِکَ سَلَکْنٰہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ”قرآن کا انکار ان لوگوں کے دلوں میں اب ڈیرے جما چکا ہے۔ اب انہیں لاکھ معجزے دکھا دیے جائیں یہ ماننے والے نہیں ہیں۔

فَيَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

📘 آیت 200 کَذٰلِکَ سَلَکْنٰہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ”قرآن کا انکار ان لوگوں کے دلوں میں اب ڈیرے جما چکا ہے۔ اب انہیں لاکھ معجزے دکھا دیے جائیں یہ ماننے والے نہیں ہیں۔

فَيَقُولُوا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُونَ

📘 آیت 203 فَیَقُوْلُوْا ہَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ”اس وقت یہ دہائی دیں گے کہ کسی طریقے سے وہ عذاب ٹل جائے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے دی جائے۔

أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ

📘 آیت 204 اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ”اِس وقت تو یہ لوگ آپ ﷺ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ لے آئیں ہم پر وہ عذاب جس سے ہمیں آپ ﷺ ڈراتے ہیں۔ ہم تو آپ کی روز روز کی تنبیہات سے تنگ آگئے ہیں۔

أَفَرَأَيْتَ إِنْ مَتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ

📘 آیت 204 اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ”اِس وقت تو یہ لوگ آپ ﷺ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ لے آئیں ہم پر وہ عذاب جس سے ہمیں آپ ﷺ ڈراتے ہیں۔ ہم تو آپ کی روز روز کی تنبیہات سے تنگ آگئے ہیں۔

ثُمَّ جَاءَهُمْ مَا كَانُوا يُوعَدُونَ

📘 آیت 204 اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ”اِس وقت تو یہ لوگ آپ ﷺ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ لے آئیں ہم پر وہ عذاب جس سے ہمیں آپ ﷺ ڈراتے ہیں۔ ہم تو آپ کی روز روز کی تنبیہات سے تنگ آگئے ہیں۔

مَا أَغْنَىٰ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يُمَتَّعُونَ

📘 آیت 207 مَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ”دنیا کا مال و متاع جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں وہ انہیں اس عذاب سے بچا نہیں سکے گا۔

وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنْذِرُونَ

📘 آیت 207 مَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ”دنیا کا مال و متاع جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں وہ انہیں اس عذاب سے بچا نہیں سکے گا۔

ذِكْرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَالِمِينَ

📘 آیت 209 ذِکْرٰیقف وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ”گویا اس سلسلے میں یہ اللہ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں اس طرح آیا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول علیہ السلام نہ بھیج دیں“۔ یعنی کسی قوم پر اس وقت تک کبھی عذاب استیصال نہیں آیا جب تک انہیں خبردار کرنے کے لیے کوئی رسول علیہ السلام مبعوث نہیں کردیا گیا۔ لیکن رسول علیہ السلام کے اتمام حجت کرنے کے بعد بھی اگر متعلقہ قوم ایمان نہ لائی تو پھر ایسا عذاب آیا کہ صفحہ ہستی سے اس کا نام و نشان مٹا دیا گیا : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط الانعام : 45 ”پھر ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔“

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ

📘 آیت 21 فَفَرَرْتُ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ ”اس واقعہ کے بعد میں تم لوگوں سے ڈر کر تمہارا یہ علاقہ چھوڑ کر چلا گیا۔فَوَہَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا وَّجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ”اب اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور حکمت اور قوت فیصلہ کی دولت بھی عطا کی ہے۔

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَاطِينُ

📘 آیت 210 وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ”عربوں کے ہاں عام لوگ شاعروں کے بارے میں یہ خیال رکھتے تھے کہ ان کے قابو میں جن ہوتے ہیں جو ان کو نئی نئی اور اچھی اچھی باتیں اشعار کی شکل میں جوڑ جوڑ کردیتے رہتے ہیں۔ چناچہ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو بعض مشرکین نے اس کے بارے میں بھی کہنا شروع کردیا کہ اسے شیاطینِ جن نازل کر رہے ہیں۔

وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ

📘 آیت 210 وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ”عربوں کے ہاں عام لوگ شاعروں کے بارے میں یہ خیال رکھتے تھے کہ ان کے قابو میں جن ہوتے ہیں جو ان کو نئی نئی اور اچھی اچھی باتیں اشعار کی شکل میں جوڑ جوڑ کردیتے رہتے ہیں۔ چناچہ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو بعض مشرکین نے اس کے بارے میں بھی کہنا شروع کردیا کہ اسے شیاطینِ جن نازل کر رہے ہیں۔

إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ

📘 آیت 212 اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ”یہ بہت اہم مضمون ہے جو یہاں پہلی دفعہ آیا ہے ‘ لیکن آئندہ سورتوں میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر آئے گا۔ اس موضوع پر قرآن سے ہمیں جو معلومات ملتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے نوری مخلوق ہیں اور جن آگ سے بنائے گئے ہیں : وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ الرحمٰن ”اور پیدا کیا اس نے جناتّ کو آگ کی لپٹ سے“۔ چونکہ فرشتوں کی طرح جنات کا مادۂ تخلیق بھی بہت لطیف ہے اس وجہ سے ان کے لیے فرشتوں کا قرب حاصل کرلینا اور ان سے کچھ معلومات حاصل کرلینا ممکن ہے۔ چناچہ عام طور پر شیاطینِ جن کسی نہ کسی حد تک فرشتوں سے عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے ‘ لیکن جب بھی کسی رسول کی بعثت ہوتی تو عالم بالا میں خصوصی پہرے بٹھا دیے جاتے تاکہ فرشتوں کے ذریعے وحی کی ترسیل کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اسی اصول کے تحت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد عالم بالا کی خاص حدود سے آگے ِ جنوں کا داخلہ مستقل طور پر بند کردیا گیا اور وہاں سے وہ کسی قسم کی سن گن لینے کے اہل نہیں رہے۔ یہی وہ کیفیت اور صورت حال ہے جس کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں کیا گیا ہے کہ وہ تو اب سننے سے بھی معزول کردیے گئے ہیں اور عالم بالا سے ان کے سن گن لینے کا بھی کوئی امکان نہیں رہا۔ سورة الجن میں یہ مضمون قدرے زیادہ وضاحت سے آئے گا۔

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ

📘 آیت 212 اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ”یہ بہت اہم مضمون ہے جو یہاں پہلی دفعہ آیا ہے ‘ لیکن آئندہ سورتوں میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر آئے گا۔ اس موضوع پر قرآن سے ہمیں جو معلومات ملتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے نوری مخلوق ہیں اور جن آگ سے بنائے گئے ہیں : وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ الرحمٰن ”اور پیدا کیا اس نے جناتّ کو آگ کی لپٹ سے“۔ چونکہ فرشتوں کی طرح جنات کا مادۂ تخلیق بھی بہت لطیف ہے اس وجہ سے ان کے لیے فرشتوں کا قرب حاصل کرلینا اور ان سے کچھ معلومات حاصل کرلینا ممکن ہے۔ چناچہ عام طور پر شیاطینِ جن کسی نہ کسی حد تک فرشتوں سے عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے ‘ لیکن جب بھی کسی رسول کی بعثت ہوتی تو عالم بالا میں خصوصی پہرے بٹھا دیے جاتے تاکہ فرشتوں کے ذریعے وحی کی ترسیل کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اسی اصول کے تحت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد عالم بالا کی خاص حدود سے آگے ِ جنوں کا داخلہ مستقل طور پر بند کردیا گیا اور وہاں سے وہ کسی قسم کی سن گن لینے کے اہل نہیں رہے۔ یہی وہ کیفیت اور صورت حال ہے جس کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں کیا گیا ہے کہ وہ تو اب سننے سے بھی معزول کردیے گئے ہیں اور عالم بالا سے ان کے سن گن لینے کا بھی کوئی امکان نہیں رہا۔ سورة الجن میں یہ مضمون قدرے زیادہ وضاحت سے آئے گا۔

وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ

📘 آیت 214 وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ”اس آیت کے بارے میں تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ تقریباً 3 نبوی ﷺ میں نازل ہوئی تھی۔ چناچہ اس تاریخی ثبوت سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ سورة الشعراء بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے۔ یہ سورت اپنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز آہنگ کے ساتھ شروع سے آخرتک ایک مربوط اور مسلسل خطبے کی صورت میں ہے اور یہ آیت بھی اپنے انداز کے اعتبار سے ما قبل اور مابعد کی آیات سے مختلف نہیں۔ یعنی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ یہ آیت تو پہلے نازل ہوئی ہو مگر بعد میں نازل ہونے والی سورت میں شامل کردی گئی ہو۔ بہر حال سورة الشعراء نازل تو ابتدائی دور میں ہوئی تھی مگر حکمت خداوندی کے تحت اسے ابتدائی زمانے کی سورتوں قرآن کی آخری منزل میں شامل کیے جانے کے بجائے اس کی موجودہ جگہ پر رکھا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے سورة الحجر کو پچھلے گروپ کی سورتوں میں شامل کیا گیا ہے ‘ حالانکہ وہ بھی بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رض کو ایک دعوت کا اہتمام کرنے کے لیے فرمایا۔ حضرت علی رض آپ ﷺ ہی کے زیر کفالت تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے تمام بنو ہاشم کو کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کے بعد آپ ﷺ انہیں دعوت دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے شور و غل مچانا شروع کردیا اور آپ ﷺ کی بات سنے بغیر چلے گئے۔ کچھ روز کے بعد آپ ﷺ نے دوبارہ انہیں مدعو فرمایا۔ اس دفعہ کھانے کے بعد چارو نا چا روہ بیٹھے رہے اور آپ ﷺ نے ان کے سامنے ایک دعوتی خطبہ دیا۔ یہ خطبہ مختصر ہے مگر آپ ﷺ کے عظیم خطبات میں سے ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں احادیث کی کتب میں یہ خطبہ اپنے علم کی حد تک مجھے وثوق ہے موجود نہیں ہے ‘ البتہ اہل تشیعّ کی مشہور کتاب ”نہج البلاغہ“ میں یہ خطبہ شامل ہے۔ ”نہج البلاغہ“ بنیادی طور پر حضرت علی رض کے خطبات اور خطوط پر مشتمل ہے ‘ لیکن اس کا ایک حصہ حضور ﷺ کے خطبات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اگرچہ ”نہج البلاغہ“ میں خطبہ کے متن کے ساتھ کسی قسم کی صراحت موجود نہیں کہ یہ خطبہ کس موقع پر ارشاد فرمایا گیا مگر خطبے کے متن اور اسلوب کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ یہ وہی خطبہ ہے جو آپ ﷺ نے بنو ہاشم کی مذکورہ ضیافت کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ میرے کتابچے ”دعوت الی اللہ“ اور اس کتابچے کے انگلش ترجمے ”Calling People unto Allah“ میں اس خطبے کا پورا متن موجود ہے۔ بہر حال ”دعوت حق“ کے حوالے سے یہ بہت اہم خطبہ ہے۔

وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 215 وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”حضور ﷺ سے فرمایا جا ریا ہے کہ آپ ﷺ مؤمنین کے ساتھ تواضع سے پیش آئیں اور ہمیشہ ان کی دلجوئی فرمائیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة الشعراء اور سورة الحجر کا زمانۂ نزول ایک ہی ہے اور اسی لحاظ سے ان دونوں سورتوں میں گہری مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ چناچہ اس آیت سے ملتے جلتے الفاظ سورة الحجر کے آخر میں بھی آئے ہیں : وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ”اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں۔“

فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ

📘 آیت 216 فَاِنْ عَصَوْکَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ”سورۃ الکافرون میں بھی اسی طرح دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے : قُلْ یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآاَعْبُدُ ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اے کافرو ! میں عبادت نہیں کرتا اس کی جس کی تم لوگ عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں“۔ اور پھر آخر میں بہت واضح طور پر اعلان براءت کردیا گیا : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ”تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔“

وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ

📘 آیت 216 فَاِنْ عَصَوْکَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ”سورۃ الکافرون میں بھی اسی طرح دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے : قُلْ یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآاَعْبُدُ ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اے کافرو ! میں عبادت نہیں کرتا اس کی جس کی تم لوگ عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں“۔ اور پھر آخر میں بہت واضح طور پر اعلان براءت کردیا گیا : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ”تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔“

الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ

📘 آیت 218 الَّذِیْ یَرٰٹکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ”اس سے آپ ﷺ کا تہجد کے لیے کھڑے ہونا مراد ہے۔ واضح رہے کہ تہجد کا حکم آپ ﷺ کو بالکل ابتدائی دور میں ہی دے دیا گیا تھا : یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا المزمل ”اے چادر میں لپٹنے والے ! قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا“۔ تو گویا یہاں اسی حوالے سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ تہجد کے لیے ہمارے حضور کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم بیشک آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر آپ ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں : لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الانعام ”اسے نگاہیں نہیں پا سکتیں جبکہ وہ تمہاری نگاہوں کو پا لیتا ہے ‘ اور وہ لطیف بھی ہے اور ہرچیز سے باخبر بھی۔“

وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ

📘 آیت 219 وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ”حضور ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھنے والے مسلمانوں کے گھروں کے پاس سے رات کو گزرتے اور ان کو دیکھتے تھے۔ آپ ﷺ کے اسی معمول کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔

وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ

📘 آیت 22 وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”ان الفاظ کے تیور بتا رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کو ترکی بہ ترکی جواب دے رہے تھے کہ اپنے محل میں ایک اسرائیلی بچے کی پرورش کرنے کا تمہارا احسان کیا تمہیں یہ جواز فراہم کرتا ہے کہ تم پوری بنی اسرائیل قوم کو اپنا غلام بنائے رکھو ؟ میری پرورش کرنے کا کارنامہ تو تمہیں بر وقت یاد آگیا لیکن میری قوم کو جو تم نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑرکھا ہے ‘ اس کا کوئی تذکرہ تم نے نہیں کیا۔ یہاں عَبَّدْتَّٰکا لفظ لائق توجہ ہے۔ ”تَعْبِید“ کے معنی کسی کو غلام اور فرمانبردار بنا لینے کے ہیں۔ اسی سیاق وسباق میں ایک دوسری جگہ فرعون کا یہ فقرہ اس لفظ ‘ کے مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے : وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ المؤمنون ”اور ان دونوں کی قوم تو ہماری غلام ہے !“

إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

📘 آیت 219 وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ”حضور ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھنے والے مسلمانوں کے گھروں کے پاس سے رات کو گزرتے اور ان کو دیکھتے تھے۔ آپ ﷺ کے اسی معمول کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ

📘 آیت 221 ہَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ”اے وہ لوگو ! جو سمجھتے ہو کہ یہ قرآن جناتّ اور خبیث روحوں کا بنایا ہوا ہے ‘ آؤ ! میں تمہیں بتاؤں کہ یہ شیاطین جو ہیں وہ کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔

تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ

📘 آیت 222 تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ”یہ تو گویا ”کند ہم جنس باہم جنس پرواز“ والا معاملہ ہے۔ یعنی گندے اور خبیث کردار ‘ دوستی اور قرب کے لیے اپنے جیسے کرداروں ہی کو ڈھونڈتے ہیں۔ چناچہ شیاطین بھی اپنے التفات کے لیے انسانوں میں سے انہی لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھیں گے جو گناہ اور بدکرداری میں اپنی مثال آپ ہوں۔

يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ

📘 آیت 222 تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ”یہ تو گویا ”کند ہم جنس باہم جنس پرواز“ والا معاملہ ہے۔ یعنی گندے اور خبیث کردار ‘ دوستی اور قرب کے لیے اپنے جیسے کرداروں ہی کو ڈھونڈتے ہیں۔ چناچہ شیاطین بھی اپنے التفات کے لیے انسانوں میں سے انہی لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھیں گے جو گناہ اور بدکرداری میں اپنی مثال آپ ہوں۔

وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ

📘 آیت 224 وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ” مشرکین مکہّ میں سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ محمد ﷺ نے شاعری سیکھ لی ہے اور یہ کہ قرآن دراصل ان کا شاعرانہ کلام ہے۔ اس حوالے سے یہاں دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ شاعروں کے کردار کو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو۔ تم خود سوچو کہ ایسے کردار کو ہمارے رسول ﷺ کے کردار سے کیا نسبت ؟ اس آیت میں شعراء کے پیروکاروں کے بارے میں جو بنیادی اصول بتایا گیا ہے اس میں مجھے کوئی استثناء exception نظر نہیں آتا۔ اگرچہ علامہ اقبال کا معاملہ بہت سے اعتبارات سے مختلف ہے مگر ان کے پیروکاروں پر بھی قرآن کا یہ قانون سو فیصد منطبق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو اس پہلو سے دیکھنا چاہیے کہ علامہ اقبالؔ کے حاشیہ نشینوں میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا سامنے نہیں آسکا جس نے ان کے نظریات کی روشنی سے اپنی عملی زندگی کا کوئی گوشہ روشن کیا ہو اور اپنی شخصیت میں بندۂ مؤمن کے اس کردار کی کوئی رمق پیدا کرنے کی کوشش کی ہو جس کا نقشہ علامہ اقبالؔ نے اپنے کلام میں پیش کیا ہے۔ بلکہ علامہ اقبالؔ تو خود اپنے بارے میں بھی اعتراف کرتے ہیں کہ محض گفتار کے غازی تھے : ؂اقبال ؔ بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتار کا یہ غازی تو بنا ‘ کردار کا غازی بن نہ سکا !اس حوالے سے سورة یٰسین کی آیت 69 میں حضور ﷺ کے بارے میں بہت واضح طور پر فرمادیا گیا ہے : وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ط ”ہم نے آپ ﷺ کو شعر کہنا سکھایا ہی نہیں اور یہ آپ ﷺ کی شایان شان ہی نہیں۔“

أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ

📘 آیت 225 اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ ”غزل کے ایک شعر میں شاعر لوگ مشرق کی بات کرتے ہیں تو دوسرے میں مغرب کی۔ ایک مصرعے میں اپنی آسمان کی سیر کا ذکر کرتے ہیں تو دوسرے میں زمین پر آکر صحرا نوردی کرتے نظر آتے ہیں۔

وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ

📘 آیت 226 وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ ”شعراء کے بارے میں سب سے بڑی بات یہاں یہ بتائی گئی کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے اور یہ عادت بہت گھٹیا کردار کی مظہر ہے۔

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ

📘 آیت 227 اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا ”یہ البتہ استثنائی حکم ہے۔ کوئی شاعر اگر حقیقی مؤمن ہو اور اعمال صالحہ پر کاربند ہونے کے ساتھ ساتھ کثرت ذکر اللہ پر بھی مداومت کرے تو وہ یقیناً مذکورہ بالا مذمت سے مستثنیٰ ہوگا اور اس کا کلام بھی خیر اور بھلائی کا باعث بنے گا۔ اس سلسلے میں حضرت حسانّ بن ثابت رض کی مثال دی جاسکتی ہے جو دربار نبوی ﷺ کے شاعر تھے۔ عرب میں اس وقت شاعری کا بہت رواج تھا اور مشرکین کے شعراء ہجویہ اشعار کے ذریعے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ چناچہ اس میدان میں ان کے جواب کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ فریضہ حضرت حسانّ بن ثابت رض نے انجام دیا۔ اس لحاظ سے آپ رض سب سے پہلے نعت گو شاعر بھی ہیں۔ البتہ شعراء کے بارے میں قرآن کا یہ تبصرہ اس قدر جامع اور مبنی بر حقیقت ہے کہ استثنائی صورتوں میں بھی کہیں نہ کہیں ‘ کوئی نہ کوئی کسر رہ ہی جاتی ہے۔ چناچہ حضرت حسانّ بن ثابت رض کو اگرچہ دربار نبوی ﷺ کا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور بطور صحابی بھی ان کا درجہ بہت بلند ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ آپ رض مرد میدان نہیں تھے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر حضور ﷺ نے ان کو اس مکان پر بطور پہرے دارمتعین فرمایا تھا جہاں پر مسلمان خواتین کو رکھا گیا تھا۔ حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رض نے ایک یہودی کو مشکوک انداز میں اس مکان کے آس پاس پھرتے دیکھا تو انہوں نے حضرت حسان رض سے کہا کہ آپ جا کر اس شخص کو قتل کردیں۔ یہ سن کر حضرت حسان رض نے صاف معذرت کردی کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا۔ اس پر حضرت صفیہ رض ایک لکڑی ہاتھ میں لے کر گئیں اور اس لکڑی سے یہودی کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا کام تمام کردیا۔ واپس آکر انہوں نے حضرت حسان رض ّ سے کہا کہ اب آپ جا کر اس یہودی کے ہتھیار وغیرہ اتار کرلے آئیں۔ اس پر انہوں رض نے جواب دیا کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ وَّانْتَصَرُوْا مِنْم بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ط ”یہ ان مستثنیٰ قسم کے شاعروں کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ ضرورت پیش آنے پر ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے اپنی زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیر و شمشیر سے لیتا ہے۔ جیسے حضرت حسان بن ثابت رض کفار کی طرف سے حضور ﷺ کے خلاف کہے گئے ہجویہ اشعار کا جواب دیا کرتے تھے اور حضور ﷺ کی طرف سے مدافعت کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے ان رض کے بارے میں فرمایا تھا کہ حسانّ کے اشعار کفار کے خلاف مسلمانوں کے تیروں سے بھی زیادہ مؤثر ہیں۔ بہر حال ہرچیز کی اپنی جگہ پر اہمیت مسلم ہے۔وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ”ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا محاورہ ہے جیسے ہمارے ہاں اردو میں کہا جاتا ہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یعنی ابھی ان لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ‘ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب قرآن کا بیان کردہ بھیانک انجام ان لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہوگا۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 23 قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ”تم نے دعویٰ کیا ہے کہ تم رب العالمین کے رسول ہو اور اس کی طرف سے بھیجے گئے ہو ‘ تو یہ رب العالمین کون ہے ؟

قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ مُوقِنِينَ

📘 آیت 23 قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ”تم نے دعویٰ کیا ہے کہ تم رب العالمین کے رسول ہو اور اس کی طرف سے بھیجے گئے ہو ‘ تو یہ رب العالمین کون ہے ؟

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ

📘 آیت 25 قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ”اس فقرے کے صحیح مفہوم اور موقع و محل کو سمجھنے کے لیے فرعون کے دربار کا تصور ذہن میں لانا ضروری ہے۔ تصور کیجیے ! دربار سجا ہے ‘ تمام اعیان سلطنت اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔ اس بھرے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام براہ راست فرعون سے مخاطب ہیں اور اس گفتگو کو تمام درباری روبرو سن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ترکی بہ ترکی گفتگو اور بےباک لہجے کے سامنے فرعون کھسیانا ہوچکا ہے۔ اپنی اس خفت کو چھپانے کے لیے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جواب دینے کے بجائے پلٹ کر اپنے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ لوگوں نے سنا ‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے اس انداز کو خاطر میں لائے بغیر اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں :

قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ

📘 آیت 25 قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ”اس فقرے کے صحیح مفہوم اور موقع و محل کو سمجھنے کے لیے فرعون کے دربار کا تصور ذہن میں لانا ضروری ہے۔ تصور کیجیے ! دربار سجا ہے ‘ تمام اعیان سلطنت اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔ اس بھرے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام براہ راست فرعون سے مخاطب ہیں اور اس گفتگو کو تمام درباری روبرو سن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ترکی بہ ترکی گفتگو اور بےباک لہجے کے سامنے فرعون کھسیانا ہوچکا ہے۔ اپنی اس خفت کو چھپانے کے لیے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جواب دینے کے بجائے پلٹ کر اپنے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ لوگوں نے سنا ‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے اس انداز کو خاطر میں لائے بغیر اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں :

قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ

📘 آیت 27 قَالَ اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ”گویافرعون مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آنکھیں چرا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کے بجائے وہ پھر اپنے درباریوں سے ہی مخاطب ہوا ہے۔ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اب اس نے طنزیہ انداز اختیار کیا ہے کہ مجھے تو یہ صاحب جو تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں مجنون لگتے ہیں ‘ ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بات کو بھی نظر انداز کر کے اپنی گفتگو اسی جوش اور بےباکی کے ساتھ جاری رکھتے ہیں :

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ

📘 آیت 28 قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَہُمَاط اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ”گویا اب حضرت موسیٰ علیہ السلام پورے طور پر دربار پر چھائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف فرعون کے مکالمات اور انداز سے اس کی بےبسی صاف نظر آرہی ہے۔ آیات میں درج مکالمات کی مدد سے اس پورے منظر کو اگر ڈرامائی انداز میں پیش کیا جائے تو بہت دلچسپ اور عبرت انگیز صورت حال کی تصویر سامنے آسکتی ہے۔ میں نے میڈیکل کالج میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران ان آیات کے ترجمے سے ڈرامے کا ایک سکرپٹ تیار کیا تھا : ”ایک رسول ‘ بادشاہ کے دربار میں !“

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَٰهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ

📘 آیت 29 قَالَ لَءِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰہًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ”صورت حال فرعون کی برداشت سے باہر ہوگئی تو اس کا غصہ اور مطلق العنانیت کا جلال اس کیّ خفت پر غالب آگیا۔ اس کیفیت میں اس نے گرجتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی دی ‘ مگر یہ قتل کے بجائے صرف جیل میں ڈالنے کی دھمکی تھی۔ اس سے یوں لگتا ہے جیسے ابھی تک فرعون کے دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کوئی نرم گوشہ موجود تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی ‘ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بچپن کا ساتھی تھا۔ دونوں اکٹھے کھیلے اور ایک ساتھ پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے اس کے بڑے بھائی کی طرح تھے۔

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 77 قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَآؤُکُمْ ج ”بنی نوع انسان کو راہ ہدایت دکھانے اور اس سلسلے میں ان پر اتمام حجت کرنے کا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ اس قانون کی وضاحت سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً کہ ہم کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان کے درمیان رسول مبعوث نہ کردیں۔ اسی حوالے سے یہاں حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور حق کی دعوت دینا مشیت الٰہی کے تحت ضروری نہ ہوتا تو میرے رب کو تم لوگوں کی کچھ بھی پروا نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت اور قانون کے تحت تمہاری طرف مبعوث فرما کر مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ میں اس کا پیغام تم لوگوں تک پہنچاؤں۔ اس کے لیے میں سالہا سال سے تمہارے پیچھے خود کو ہلکان کر رہا ہوں۔ گلیوں اور بازاروں میں تمہارے پیچھے پیچھے پھرتا ہوں ‘ تمہارے گھروں میں جا کر تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں۔ خفیہ اور علانیہ ہر طرح سے تم لوگوں کو سمجھاتا ہوں۔ تم لوگ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ اس میں میری کوئی ذاتی غرض ہے یا تمہارے بغیر میرے رب کا کوئی کام ادھورا پڑا ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے رب کے حضور تمہاری حیثیت پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ اگر اللہ کو تمہیں راہ ہدایت دکھا کر اتمام حجت کرنا منظور نہ ہوتا ‘ اور اس کے لیے میرا تمہیں مخاطب کرنا نا گزیر نہ ہوتا تو میں ہرگز تمہارے پیچھے پیچھے نہ پھرتا۔فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا ”یعنی تمہارے اس انکار کی پاداش میں تم لوگوں کو سزا مل کر رہے گی۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُبِينٍ

📘 آیت 29 قَالَ لَءِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰہًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ”صورت حال فرعون کی برداشت سے باہر ہوگئی تو اس کا غصہ اور مطلق العنانیت کا جلال اس کیّ خفت پر غالب آگیا۔ اس کیفیت میں اس نے گرجتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی دی ‘ مگر یہ قتل کے بجائے صرف جیل میں ڈالنے کی دھمکی تھی۔ اس سے یوں لگتا ہے جیسے ابھی تک فرعون کے دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کوئی نرم گوشہ موجود تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی ‘ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بچپن کا ساتھی تھا۔ دونوں اکٹھے کھیلے اور ایک ساتھ پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے اس کے بڑے بھائی کی طرح تھے۔

قَالَ فَأْتِ بِهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

📘 آیت 29 قَالَ لَءِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰہًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ”صورت حال فرعون کی برداشت سے باہر ہوگئی تو اس کا غصہ اور مطلق العنانیت کا جلال اس کیّ خفت پر غالب آگیا۔ اس کیفیت میں اس نے گرجتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی دی ‘ مگر یہ قتل کے بجائے صرف جیل میں ڈالنے کی دھمکی تھی۔ اس سے یوں لگتا ہے جیسے ابھی تک فرعون کے دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کوئی نرم گوشہ موجود تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی ‘ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بچپن کا ساتھی تھا۔ دونوں اکٹھے کھیلے اور ایک ساتھ پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے اس کے بڑے بھائی کی طرح تھے۔

فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ

📘 آیت 32 فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ ”واضح رہے کہ سورة طٰہٰ کی آیت 20 میں عصا کی تبدیلۂ یئت کے لیے ”حَیَّۃٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی عام سانپ کے ہیں اور یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادئ طویٰ میں پہلی بار اس کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ جبکہ فرعون کے دربار میں وہ ”ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ“ یعنی واضح طور پر ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا تھا۔

وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ

📘 آیت 32 فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ ”واضح رہے کہ سورة طٰہٰ کی آیت 20 میں عصا کی تبدیلۂ یئت کے لیے ”حَیَّۃٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی عام سانپ کے ہیں اور یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادئ طویٰ میں پہلی بار اس کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ جبکہ فرعون کے دربار میں وہ ”ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ“ یعنی واضح طور پر ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا تھا۔

قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ

📘 آیت 34 قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَہٓٗ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ ”کہ یہ اتنا عرصہ جہاں کہیں بھی رہا ہے ‘ جادو سیکھتا رہا ہے اور لگتا ہے کہ اس فن میں اس نے خوب مہارت حاصل کرلی ہے۔۔ اور اب :

يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ

📘 آیت 35 یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہٖق فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ”لغوی اعتبار سے ”امر“ کے معنی حکم کے بھی ہیں اور مشورہ کے بھی ‘ مگر یہاں یہ لفظ مشورہ کے معنی دے رہا ہے۔ فرعون کے اس فقرے سے اس کی تشویش صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گویا صورت حال اس کے اندازے سے کہیں بڑھ کر پیچیدہ اور گھمبیر تھی۔

قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ

📘 آیت 35 یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہٖق فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ”لغوی اعتبار سے ”امر“ کے معنی حکم کے بھی ہیں اور مشورہ کے بھی ‘ مگر یہاں یہ لفظ مشورہ کے معنی دے رہا ہے۔ فرعون کے اس فقرے سے اس کی تشویش صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گویا صورت حال اس کے اندازے سے کہیں بڑھ کر پیچیدہ اور گھمبیر تھی۔

يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ

📘 آیت 37 یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ ”ہرکارے شاہی پیغام لے کر پورے ملک میں پھیل جائیں ‘ ہر جگہ ڈھنڈورا پیٹیں اور جہاں جہاں سے کوئی ماہر جادو گر ملے سب کو اکٹھا کر کے دربار شاہی میں پیش کردیں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ

📘 آیت 37 یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ ”ہرکارے شاہی پیغام لے کر پورے ملک میں پھیل جائیں ‘ ہر جگہ ڈھنڈورا پیٹیں اور جہاں جہاں سے کوئی ماہر جادو گر ملے سب کو اکٹھا کر کے دربار شاہی میں پیش کردیں۔

وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنْتُمْ مُجْتَمِعُونَ

📘 آیت 39 وَّقِیْلَ للنَّاسِ ہَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ ”اس کے بعد عوام میں بھی منادی کرائی گئی کہ وہ بھی طے شدہ وقت کے مطابق مقررہ جگہ پر پہنچ جائیں۔

إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ

📘 آیت 4 اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”انہیں ایسی کوئی نشانی دکھا دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں ‘ لیکن اپنی خاص حکمت اور مشیت کے تحت ہم ایسا نہیں کر رہے۔ آگے چل کر اسی سورت میں اس حکمت کا ذکر بھی آئے گا۔

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ إِنْ كَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ

📘 آیت 40 لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنْ کَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ ”کہ موسیٰ علیہ السلام اگر اپنے جادو کے زور سے ہمیں مرعوب و مغلوب کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں کیوں نہ ہم اپنی قوم کے جادوگروں کی سرداری قبول کر کے ان کی پیروی کریں اور موسیٰ علیہ السلام کے بجائے ان کی پناہ میں آجائیں !

فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالُوا لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ

📘 آیت 40 لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنْ کَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ ”کہ موسیٰ علیہ السلام اگر اپنے جادو کے زور سے ہمیں مرعوب و مغلوب کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں کیوں نہ ہم اپنی قوم کے جادوگروں کی سرداری قبول کر کے ان کی پیروی کریں اور موسیٰ علیہ السلام کے بجائے ان کی پناہ میں آجائیں !

قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ إِذًا لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ

📘 آیت 42 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ”خلعتیں اور انعامات بھی ملیں گے اور اس کے علاوہ تم لوگوں کو دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کر کے میں اپنے مقرب مصاحبین میں بھی شامل کرلوں گا۔

قَالَ لَهُمْ مُوسَىٰ أَلْقُوا مَا أَنْتُمْ مُلْقُونَ

📘 آیت 42 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ”خلعتیں اور انعامات بھی ملیں گے اور اس کے علاوہ تم لوگوں کو دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کر کے میں اپنے مقرب مصاحبین میں بھی شامل کرلوں گا۔

فَأَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ وَقَالُوا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ إِنَّا لَنَحْنُ الْغَالِبُونَ

📘 آیت 42 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ”خلعتیں اور انعامات بھی ملیں گے اور اس کے علاوہ تم لوگوں کو دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کر کے میں اپنے مقرب مصاحبین میں بھی شامل کرلوں گا۔

فَأَلْقَىٰ مُوسَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ

📘 آیت 45 فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ”ان کیّ رسیاں اور لاٹھیاں جو بظاہر سانپ دکھائی دے رہی تھیں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصانے اژدھا بن کر انہیں نگلنا شروع کردیا۔

فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ

📘 آیت 46 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ”اُلْقِیَصیغۂ مجہول ہے ‘ یعنی وہ سجدے میں خود نہیں گرے بلکہ گرا دیے گئے۔ مطلب یہ کہ اپنے جادو کے زائل ہونے کا منظر دیکھ کر وہ لوگ اس طرح بےاختیار سجدوں میں گرگئے جیسے کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہو۔

قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 46 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ”اُلْقِیَصیغۂ مجہول ہے ‘ یعنی وہ سجدے میں خود نہیں گرے بلکہ گرا دیے گئے۔ مطلب یہ کہ اپنے جادو کے زائل ہونے کا منظر دیکھ کر وہ لوگ اس طرح بےاختیار سجدوں میں گرگئے جیسے کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہو۔

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ

📘 آیت 46 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ”اُلْقِیَصیغۂ مجہول ہے ‘ یعنی وہ سجدے میں خود نہیں گرے بلکہ گرا دیے گئے۔ مطلب یہ کہ اپنے جادو کے زائل ہونے کا منظر دیکھ کر وہ لوگ اس طرح بےاختیار سجدوں میں گرگئے جیسے کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہو۔

قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

📘 آیت 49 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج ”فرعونُ پر جلال انداز میں گرجا کہ تمہاری یہ جرأت کہ مابدولت کی اجازت کے بغیر تم لوگوں نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لانے کا اعلان کردیا !اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ”کہ مجھے تمہاری سازش کا پتا چل گیا ہے۔ یقیناً یہ تمہارا استاد اور گرو گھنٹال ہے جس سے تم جادو سیکھتے رہے ہو۔ تمہارا یہاں آنا اور مقابلہ کرنا محض ایک ڈھونگ تھا اور اب اس سے یوں تمہارا ہار مان لینا تمہاری باہمی ملی بھگت اور نورا کشتی کا نتیجہ ہے۔

وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنَ الرَّحْمَٰنِ مُحْدَثٍ إِلَّا كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِينَ

📘 آیت 5 وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا کَانُوْا عَنْہُ مُعْرِضِیْنَ ”انہیں مختلف انداز سے سمجھا یا جا رہا ہے ‘ انداز بدل بدل کر آیات نازل کی جا رہی ہیں ‘ مگر یہ لوگ ہیں کہ کسی نصیحت اور کسی یاد دہانی سے اثر لینے کو تیار ہی نہیں۔

قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ

📘 آیت 49 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج ”فرعونُ پر جلال انداز میں گرجا کہ تمہاری یہ جرأت کہ مابدولت کی اجازت کے بغیر تم لوگوں نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لانے کا اعلان کردیا !اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ”کہ مجھے تمہاری سازش کا پتا چل گیا ہے۔ یقیناً یہ تمہارا استاد اور گرو گھنٹال ہے جس سے تم جادو سیکھتے رہے ہو۔ تمہارا یہاں آنا اور مقابلہ کرنا محض ایک ڈھونگ تھا اور اب اس سے یوں تمہارا ہار مان لینا تمہاری باہمی ملی بھگت اور نورا کشتی کا نتیجہ ہے۔

إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 51 اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَآ ”اب ہمیں اگر کچھ طمع ہے ‘ تو بس یہی ہے اور ہمارے دل میں اگر کوئی خواہش ‘ کوئی آرزو اور تمنا ہے تو ایک ہی ہے ‘ کہ ہمارا رب ہماری پچھلی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔اَنْ کُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”کہ ہم نے سب سے پہلے اللہ کے رسول علیہ السلام کی تصدیق کی ہے اور کوئی دوسرا اس معاملے میں ہم پر سبقت نہیں لے جاسکا۔

۞ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ

📘 آیت 51 اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَآ ”اب ہمیں اگر کچھ طمع ہے ‘ تو بس یہی ہے اور ہمارے دل میں اگر کوئی خواہش ‘ کوئی آرزو اور تمنا ہے تو ایک ہی ہے ‘ کہ ہمارا رب ہماری پچھلی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔اَنْ کُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”کہ ہم نے سب سے پہلے اللہ کے رسول علیہ السلام کی تصدیق کی ہے اور کوئی دوسرا اس معاملے میں ہم پر سبقت نہیں لے جاسکا۔

فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ

📘 آیت 53 فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْْمَدَآءِنِ حٰشِرِیْنَ ”بنی اسرائیل کے تعاقب کی غرض سے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پورے ملک میں پھر ڈھنڈورچی اور ہر کارے بھیج دیے گئے ‘ یہ کہہ کر کہ :

إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ

📘 آیت 53 فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْْمَدَآءِنِ حٰشِرِیْنَ ”بنی اسرائیل کے تعاقب کی غرض سے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پورے ملک میں پھر ڈھنڈورچی اور ہر کارے بھیج دیے گئے ‘ یہ کہہ کر کہ :

وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ

📘 آیت 55 وَاِنَّہُمْ لَنَا لَغَآءِظُوْنَ ”بنی اسرائیل کے مصر سے نکل بھاگنے کی حرکت نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ اب ہم انہیں عبرتناک سزا دیں گے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ”ان کے اندر ہماری وجہ سے غصہ ہے“۔ یعنی اگرچہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں لیکن ہم انہیں جو تکالیف پہنچا تے رہے ہیں اس وجہ سے وہ ہم پر بھرے بیٹھے ہیں۔ چناچہ یہ دل جلے لوگ ہمارے خلاف کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ

📘 آیت 56 وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ ”ہمیں ان کی طرف سے کسی بڑے اقدام کا اندیشہ ہے۔ چناچہ ہمیں اپنی پوری قوت کو مجتمع کر کے ان کا پیچھا کرنا چاہیے۔

فَأَخْرَجْنَاهُمْ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

📘 آیت 56 وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ ”ہمیں ان کی طرف سے کسی بڑے اقدام کا اندیشہ ہے۔ چناچہ ہمیں اپنی پوری قوت کو مجتمع کر کے ان کا پیچھا کرنا چاہیے۔

وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ

📘 آیت 58 وَّکُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ”اس صورت حال میں انہیں اپنے باغات ‘ چشمے ‘ گھر بار ‘ جاگیریں وغیرہ جن میں وہ خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگیاں بسر کر رہے تھے ‘ سب کچھ چھوڑ کر نکلنا پڑا۔

كَذَٰلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا بَنِي إِسْرَائِيلَ

📘 آیت 59 کَذٰلِکَط وَاَوْرَثْنٰہَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ بنی اسرائیل نے بعد میں واپس آکر ان سب چیزوں پر قبضہ کرلیا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بعد میں بنی اسرائیل کو ہم نے دنیوی مال و دولت اور اقتدار سے نوازا اور ایک وقت آیا کہ یہی تمام چیزیں انہیں مل گئیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوا فَسَيَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

📘 آیت 6 قَدْ کَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ ” یعنی عذاب الٰہی کے ذریعے عنقریب ان کی پکڑ ہونے والی ہے۔

فَأَتْبَعُوهُمْ مُشْرِقِينَ

📘 آیت 60 فَاَتْبَعُوْہُمْ مُّشْرِقِیْنَ ”صبح کی روشنی ہوتے ہی فرعون اور اس کے لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔

فَلَمَّا تَرَاءَى الْجَمْعَانِ قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَكُونَ

📘 آیت 61 فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ”جب فرعونی لشکر تعاقب کرتے ہوئے ان کے قریب پہنچ گیا تو بنی اسرائیل کو اپنے پکڑے جانے کا یقین ہوگیا۔

قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ

📘 آیت 62 قَالَ کَلَّاج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ”اس آیت کے یہ الفاظ سورة التوبہ کی آیت 40 کے ان الفاظ سے ملتے جلتے ہیں جو حضور ﷺ نے غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رض کو مخاطب کر کے فرمائے تھے : لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج ” اے ابوبکر رض آپ پریشان نہ ہوں ‘ یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“

فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ

📘 فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ”اپنے مفہوم کے اعتبار سے آیت کے الفاظ بہت واضح ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان الفاظ کی لایعنی تاویل کرکے اس واقعہ کو مدوجزر قرار دے تو اسے صرف ڈھٹائی ہی کہا جاسکتا ہے۔ فَلَقَکے معنی پھٹنے کے ہیں اور یہ مادہ اس مفہوم کے ساتھ قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ جیسے : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج الانعام : 96 ”چاک کرنے والا صبح کی سفیدی کو“۔ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ الفلق ”کہیے میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی“۔ چناچہ اس آیت میں بھی لفظ فلق کے لغوی معنی ہی مراد ہیں ‘ یعنی سمندر پھٹ گیا اور اس کے دونوں حصے پہاڑ کی طرح کھڑے ہوگئے۔ کون نہیں جانتا کہّ مدوجزر کی کیفیت میں نہ تو سمندر پھٹتا ہے اور نہ ہی اس کا پانی چٹان یا پہاڑ کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے۔ چناچہ اس تاویل کے مقابلے میں آیت کے الفاظ کا لغوی اعتبار سے تجزیہ کیا جائے تو قرآن کے اس فرمان کی حقانیت بھی ثابت ہوجاتی ہے : لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ ط ” حمٰ السجدۃ : 42 کہ باطل اس کتاب پر حملہ نہیں کرسکتا ‘ نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے۔ یعنی قرآن اپنے مفاہیم و معانی کی حفاظت بھی خود کرتا ہے۔

وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْآخَرِينَ

📘 آیت 64 وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ ”جب سمندر پھٹ گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر اس راستے سے نکل گئے۔ عین اس وقت ان کے پیچھے فرعون بھی آپہنچا اور اس نے بھی اپنا لشکر اسی راستے پر ڈال دیا۔

وَأَنْجَيْنَا مُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ أَجْمَعِينَ

📘 آیت 64 وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ ”جب سمندر پھٹ گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر اس راستے سے نکل گئے۔ عین اس وقت ان کے پیچھے فرعون بھی آپہنچا اور اس نے بھی اپنا لشکر اسی راستے پر ڈال دیا۔

ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ

📘 آیت 64 وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ ”جب سمندر پھٹ گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر اس راستے سے نکل گئے۔ عین اس وقت ان کے پیچھے فرعون بھی آپہنچا اور اس نے بھی اپنا لشکر اسی راستے پر ڈال دیا۔

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 67 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ”اس آیت میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر مشرکین مکہّ کو کوئی نشانی چاہیے تو وہ اس واقعہ کو دیکھ لیں۔ اور اگر انہیں اس میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی تو پھر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکے گا۔ چناچہ آپ ﷺ خواہ کتنی ہی کوشش کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 68 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے حکم کرے ‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم بھی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرکین کو ایسا کوئی حسی معجزہ نہ دکھایا جائے جس سے ان کی مہلت ختم ہوجائے۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ

📘 آیت 68 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے حکم کرے ‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم بھی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرکین کو ایسا کوئی حسی معجزہ نہ دکھایا جائے جس سے ان کی مہلت ختم ہوجائے۔

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ

📘 آیت 6 قَدْ کَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ ” یعنی عذاب الٰہی کے ذریعے عنقریب ان کی پکڑ ہونے والی ہے۔

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ

📘 آیت 68 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے حکم کرے ‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم بھی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرکین کو ایسا کوئی حسی معجزہ نہ دکھایا جائے جس سے ان کی مہلت ختم ہوجائے۔

قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ

📘 آیت 68 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے حکم کرے ‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم بھی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرکین کو ایسا کوئی حسی معجزہ نہ دکھایا جائے جس سے ان کی مہلت ختم ہوجائے۔

قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ

📘 آیت 72 قَالَ ہَلْ یَسْمَعُوْنَکُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ ”جب تم ان سے دعا کرتے ہو اور ان کے سامنے گڑ گڑاتے ہو تو کیا وہ تمہاری دعائیں اور تمہاری باتیں سنتے ہیں ؟

أَوْ يَنْفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ

📘 آیت 73 اَوْ یَنْفَعُوْنَکُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ ”وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان منطقی سوالات کا اس کے علاوہ کوئی جواب نہ دے سکے :

قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ

📘 آیت 74 قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ”ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا ہے ‘ چناچہ ہم نے بھی ان کی پیروی میں وہی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔

قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ

📘 آیت 74 قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ”ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا ہے ‘ چناچہ ہم نے بھی ان کی پیروی میں وہی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔

أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ

📘 آیت 74 قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ”ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا ہے ‘ چناچہ ہم نے بھی ان کی پیروی میں وہی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔

فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 77 فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گویا علی الاعلان کہہ دیا کہ تمہارے اور تمہارے آباء و اَجداد کے ان معبودوں سے میری دشمنی ہے۔ میرا معبود اور مدد گار صرف وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میرا تکیہ اورّ توکل بس اسی کی ذات پر ہے۔

الَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ

📘 آیت 77 فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گویا علی الاعلان کہہ دیا کہ تمہارے اور تمہارے آباء و اَجداد کے ان معبودوں سے میری دشمنی ہے۔ میرا معبود اور مدد گار صرف وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میرا تکیہ اورّ توکل بس اسی کی ذات پر ہے۔

وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ

📘 آیت 77 فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گویا علی الاعلان کہہ دیا کہ تمہارے اور تمہارے آباء و اَجداد کے ان معبودوں سے میری دشمنی ہے۔ میرا معبود اور مدد گار صرف وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میرا تکیہ اورّ توکل بس اسی کی ذات پر ہے۔

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 آیت 8 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ”اگر یہ لوگ معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دیکھ لیں ‘ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ پوری کائنات ہی معجزہ ہے۔ کائنات میں ہر جگہ ان کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں :اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ البقرۃ”یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘ رات اور دن کے الٹ پھیر میں ‘ اور کشتیوں جہازوں میں جو سمندروں یا دریاؤں میں لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں ‘ اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے ‘ پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اور ہر قسم کے حیوانات اس کے اندر پھیلا دیے ‘ اور ہواؤں کی گردش میں ‘ اور ان بادلوں میں جو معلق کردیے گئے ہیں آسمانوں اور زمین کے درمیان ‘ یقیناً نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔“

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ

📘 آیت 80 وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ”یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔

وَالَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحْيِينِ

📘 آیت 80 وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ”یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔

وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ

📘 آیت 82 وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِٓیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ”ابھی تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد اور اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب تھے۔ اب براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں :

رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

📘 آیت 82 وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِٓیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ”ابھی تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد اور اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب تھے۔ اب براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں :

وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ

📘 آیت 84 وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ”یعنی بعد میں آنے والی نسلیں میرا ذکر اچھے انداز میں کریں اور میرا نام عزت سے لیں۔

وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ

📘 آیت 84 وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ”یعنی بعد میں آنے والی نسلیں میرا ذکر اچھے انداز میں کریں اور میرا نام عزت سے لیں۔

وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ

📘 آیت 84 وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ”یعنی بعد میں آنے والی نسلیں میرا ذکر اچھے انداز میں کریں اور میرا نام عزت سے لیں۔

وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ

📘 آیت 84 وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ”یعنی بعد میں آنے والی نسلیں میرا ذکر اچھے انداز میں کریں اور میرا نام عزت سے لیں۔

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ

📘 آیت 88 یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ”جس دن اللہ کی پکڑ سے نہ دولت بچا سکے گی اور نہ اولاد۔

إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 9 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ”العزیز“ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت 4 میں فرمایا گیا ہے : اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں“۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی حسیّ معجزہ دکھا کر ان لوگوں کی مدت مہلت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس دودھ کو کچھ دیر اور بلو لیا جائے ‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ شاید ان میں بھلائی کی استعداد رکھنے والے مزید کچھ لوگ موجود ہوں اور اس طرح انہیں بھی راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔ بہر حال اس وجہ سے ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی انہیں معجزہ نہیں دکھا یا جا رہا تھا ‘ مگر وہ نادان اپنے اس مطالبے کے پورا نہ ہونے کو آپ ﷺ کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

مِنْ دُونِ اللَّهِ هَلْ يَنْصُرُونَكُمْ أَوْ يَنْتَصِرُونَ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

فَكُبْكِبُوا فِيهَا هُمْ وَالْغَاوُونَ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

وَجُنُودُ إِبْلِيسَ أَجْمَعُونَ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ

📘 آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ”سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔

إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔

وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ

📘 آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ”جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔