WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة النمل

(An-Naml) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ طس ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْقُرْآنِ وَكِتَابٍ مُبِينٍ

📘 آیت 1 طٰسۗ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ اگر ”و“ کو واؤ تفسیری مانا جائے تو پھر ترجمہ ہوگا : ”یہ قرآن یعنی کتاب مبین کی آیات ہیں۔“

وَأَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ

📘 فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”یعنی آپ علیہ السلام پر شدید خوف طاری ہوگیا۔

إِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 آیت 11 اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ”اس استثناء کو بعض مفسرین نے متصل مانا ہے اور بعض نے منقطع۔ متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو اس پر خوف طاری ہوسکتا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اس وقت خوف کا طاری ہوجانا اس خطا کے سبب تھا جو قتل اگرچہ وہ قتل عمد نہیں تھا ‘ قتل خطا تھا کی صورت میں ان سے سرزد ہوئی تھی۔ لیکن اس کے برعکس کچھ مفسرین کے نزدیک یہ استثناء منقطع ہے ‘ یعنی یہ الگ جملہ ہے اور اس کا پچھلے جملے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاءَ مِنْ غَيْرِ سُوءٍ ۖ فِي تِسْعِ آيَاتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ

📘 آیت 12 وَاَدْخِلْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍقف ”یعنی یہ سفیدی برص یا کسی اور بیماری کے باعث نہیں ہوگی۔فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہٖ ط ”یعنی فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجتے ہوئے ابھی آپ علیہ السلام کو صرف یہ دو نشانیاں دی جا رہی ہیں ‘ جبکہُ کل نو 9 نشانیاں دی جانی مقصود ہیں۔ باقی نشانیاں بعد میں موقع محل اور ضرورت کے مطابق دی جائیں گی۔

فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ آيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُبِينٌ

📘 آیت 13 فَلَمَّا جَآءَ تْہُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَۃً ”یعنی وہ کھلی کھلی نشانیاں جو ان کی آنکھیں کھولنے اور حقیقت کا مشاہدہ کرانے کے لیے کافی تھیں۔

وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ

📘 آیت 14 وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط ”اس فقرے میں ظُلْمًا وَّعُلُوًّا کا تعلق آغاز کے لفظ وَجَحَدُوْا کے ساتھ ہے۔ مضمون کے اعتبار سے یہ بہت اہم آیت ہے۔ اگرچہ انہوں نے بظاہر ان تمام نشانیوں کو جادو قرار دے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن ان کا یہ انکار سراسر ناانصافی اور سرکشی پر مبنی تھا ‘ کیونکہ ان کے دل یہ حقیقت تسلیم کرچکے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ تمام خرق عادت واقعات حقیقت میں معجزات ہیں۔ ممکن ہے ان کے عوام کو یہ شعور نہ ہو لیکن کم از کم فرعون اور قوم کے بڑے بڑے سرداروں کی اس وقت یہی کیفیت تھی۔فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ”اس رکوع میں اجمالاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ تھا ‘ اب اگلے رکوع سے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ

📘 وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ”وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مؤمنین کے درمیان ایک خاص مرتبہ عطا کیا تھا۔

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ

📘 وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ”وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مؤمنین کے درمیان ایک خاص مرتبہ عطا کیا تھا۔

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ

📘 آیت 17 وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ”ہر قسم اور ہر جنس کے لشکر کی علیحدہ علیحدہ جماعتیں battalians بنا کر انہیں ہر طرح سے منظم کیا گیا تھا۔

حَتَّىٰ إِذَا أَتَوْا عَلَىٰ وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

📘 آیت 18 حَتّٰٓی اِذَآ اَتَوْا عَلٰی وَاد النَّمْلِلا ”حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لشکروں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے علاقے سے گزرے جہاں چیونٹیاں کثرت سے پائی جاتی تھیں۔لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗلا وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ”انہیں احساس بھی نہیں ہوگا کہ ان کے قدموں اور گھوڑوں کے سموں تلے کتنی ننھی جانیں مسلی جا رہی ہیں۔

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِنْ قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

📘 آیت 19 فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا ”حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی اس بات کو سن بھی لیا اور سمجھ بھی لیا۔ چناچہ جذبات تشکرّ کے باعث آپ علیہ السلام کے چہرے پر بےاختیار تبسم آگیا اور زبان پر ترانۂ حمد جاری ہوگیا۔

هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 1 طٰسۗ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ اگر ”و“ کو واؤ تفسیری مانا جائے تو پھر ترجمہ ہوگا : ”یہ قرآن یعنی کتاب مبین کی آیات ہیں۔“

وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ الْغَائِبِينَ

📘 آیت 19 فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا ”حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی اس بات کو سن بھی لیا اور سمجھ بھی لیا۔ چناچہ جذبات تشکرّ کے باعث آپ علیہ السلام کے چہرے پر بےاختیار تبسم آگیا اور زبان پر ترانۂ حمد جاری ہوگیا۔

لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ

📘 آیت 21 لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّہٗٓ ”اس اجتماعی حاضری parade کے موقع سے غیر حاضر ہو کر اس نے بہت بڑا جرم کیا ہے اور اسے اس جرم کی سزا ضرور بھگتنا ہوگی۔اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ”ہاں اگر وہ کوئی ٹھوس عذر پیش کر کے اپنی اس غیر حاضری کا جواز ثابت کر دے تو سزا سے بچ سکتا ہے۔

فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطْتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ

📘 فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ وَجِءْتُکَ مِنْ سَبَاٍم بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ ” قوم سبا یمن کے علاقے میں آباد تھی اور اس وقت بلقیس نامی ایک ملکہ اس قوم پر حکمران تھی۔

إِنِّي وَجَدْتُ امْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ

📘 آیت 22 اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَۃً تَمْلِکُہُمْ وَاُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ”دنیا بھر کی نعمتیں اسے حاصل ہیں اور ہر طرح کا ساز و سامان اس کے پاس جمع ہے۔

وَجَدْتُهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ

📘 فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ ”شیطان نے انہیں گمراہ کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت کا شعور نہیں رہا۔

أَلَّا يَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ

📘 فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ ”شیطان نے انہیں گمراہ کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت کا شعور نہیں رہا۔

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ۩

📘 فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَہُمْ لَا یَہْتَدُوْنَ ”شیطان نے انہیں گمراہ کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت کا شعور نہیں رہا۔

۞ قَالَ سَنَنْظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِينَ

📘 آیت 27 قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ ”ہم معلوم کرلیں گے کہ واقعی تم ایک سچی خبر لے کر آئے ہو یا اپنی غیر حاضری کی سزا سے بچنے کے لیے جھوٹا بہانہ بنا رہے ہو۔

اذْهَبْ بِكِتَابِي هَٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ

📘 آیت 28 اِذْہَبْ بِّکِتٰبِیْ ہٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَیْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ ”چنانچہ وہ ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط لے گیا اور جا کر ملکہ کے آس پاس یا شاید اس کی خواب گاہ میں پھینک دیا۔ ملکہ نے یہ غیر معمولی خط پڑھا تو فوری طور پر قوم کے بڑے بڑے سرداروں کو مشورے کے لیے دربار میں طلب کرلیا۔

قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ

📘 آیت 28 اِذْہَبْ بِّکِتٰبِیْ ہٰذَا فَاَلْقِہْ اِلَیْہِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْہُمْ فَانْظُرْ مَاذَا یَرْجِعُوْنَ ”چنانچہ وہ ہدہد حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط لے گیا اور جا کر ملکہ کے آس پاس یا شاید اس کی خواب گاہ میں پھینک دیا۔ ملکہ نے یہ غیر معمولی خط پڑھا تو فوری طور پر قوم کے بڑے بڑے سرداروں کو مشورے کے لیے دربار میں طلب کرلیا۔

الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ

📘 آیت 3 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ ”یعنی آخرت پر ان کا پورا یقین ہے۔ سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی متقین کی صفات کے ضمن میں عقیدۂ آخرت پر ایمان کے لیے لفظ ”یُوْقِنُوْنَ“ ہی استعمال ہوا ہے۔ دراصل انسان کے عمل اور کردار کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق براہ راست عقیدۂ آخرت کے ساتھ ہے۔ آخرت پر اگر یقین کامل نہیں ہے تو انسان کا عمل اور کردار بھی درست نہیں ہوسکتا۔

إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

📘 آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔

أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ

📘 آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔

قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي أَمْرِي مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ

📘 آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔

قَالُوا نَحْنُ أُولُو قُوَّةٍ وَأُولُو بَأْسٍ شَدِيدٍ وَالْأَمْرُ إِلَيْكِ فَانْظُرِي مَاذَا تَأْمُرِينَ

📘 آیت 30 اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ”یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ سورت کے اندر اس کے متن میں شامل ہے۔ باقی ہر جگہ یہ سورتوں کے آغاز میں لکھی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ سورتوں کے آغاز میں جہاں جہاں بھی بسم اللہ لکھی گئی ہے کیا اسے ایک آیت مانا جائے گا یا جتنی مرتبہ لکھی گئی ہے اتنی آیات شمار ہوں گی۔

قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ

📘 آیت 34 قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً اَفْسَدُوْہَا ”اس نازک موقع پر ملکہ نے بڑی دانش مندانہ بات کی کہ بادشاہوں کا ہمیشہ سے ہی دستوررہا ہے کہ وہ جس شہر یا علاقے کو فتح کرتے ہیں اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَآ اَذِلَّۃًج وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ”ملکہ کی یہ بات بھی بہت اہم اور حقیقت پر مبنی ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اپنی نظم ”خضر راہ“ کے ذیلی عنوان ”سلطنت“ کے تحت جو فلسفہ بیان کیا ہے اس کا مرکزی خیال انہوں نے اسی آیت سے اخذ کیا ہے اور پہلے شعر میں اس آیت سے تلمیح بھی استعمال کی ہے۔ نظم کا آغاز یوں ہوتا ہے : ؂آ بتاؤں تجھ کو رمز آیۂ اِنَّ الْمُلُوْک سلطنت اقوام غالب کی ہے اک جادوگری خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری !برعظیم پاک وہند میں مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ یہاں مسلمان حکمران تھے جبکہ ہندو ان کے محکوم تھے۔ انگریزوں کے اقتدار پر قبضہ کرنے سے ہندوؤں کو تو کچھ خاص فرق نہ پڑا ‘ ان کے تو صرف حکمران تبدیل ہوئے ‘ پہلے وہ مسلمانوں کے غلام تھے ‘ اب انگریزوں کے غلام بن گئے ‘ لیکن مسلمان تو گویا آسمان سے زمین پر پٹخ دیے گئے۔ وہ حاکم سے محکوم بن گئے۔ اب اگر انگریزوں کو کچھ خطرہ تھا تو مسلمانوں سے تھا۔ انہیں خدشہ تھا کہ مسلمان اپنا کھویا ہوا اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضرور کوشش کریں گے۔ چناچہ انہوں نے مسلمانوں کی ممکنہ بغاوت کی پیش بندی کے لیے انہیں ہر طرح سے دبانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے یہ طریقہ اپنایا کہ معاشرے کے گھٹیا لوگوں کو تو خطابات اور جاگیروں سے نواز کر اعلیٰ مناصب پر بٹھا دیا اور ان کے مقابلے میں معززین اور شرفاء کو ہر طرح سے ذلیل و رسوا کیا۔ ایسے تمام جاگیردار انگریزوں کا حق نمک ادا کرتے ہوئے اپنی قوم کے مفادات کے خلاف اپنے آقاؤں کی معاونت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔یہی حکمت عملی مصر میں فرعون نے بھی اپنا رکھی تھی۔ اس نے بھی بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو اپنے دربار میں جگہ دے رکھی تھی۔ یہ مراعات یافتہ لوگ فرعون کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی قوم کی مخبری کرتے اور اپنے ہی بھائی بندوں کے خلاف فرعون کے معاون و مدد گار بنتے۔ سورة یونس کی آیت 83 میں اس صورت حال کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓی الاَّ ذُرِّیَّۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ ط ”پس نہیں ایمان لائے موسیٰ پر مگر کچھ نوجوان اس کی قوم میں سے ‘ فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف کی وجہ سے کہ وہ انہیں کسی مصیبت میں مبتلا نہ کردیں“۔ گویا بنی اسرائیل کے عام لوگوں پر اپنے ان سرداروں کا خوف طاری تھا جو فرعون کی وفاداری میں اپنی ہی قوم پر ظلم و ستم روا رکھتے تھے۔

وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ

📘 آیت 35 وَاِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ اِلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌم بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیج کر وہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ آیا دنیوی مال و دولت کا حصول ہی ان کا مقصد و مدعا ہے یا اس سے آگے بڑھ کر وہ کچھ اور چاہتے ہیں۔

فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَا آتَانِيَ اللَّهُ خَيْرٌ مِمَّا آتَاكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ

📘 آیت 35 وَاِنِّیْ مُرْسِلَۃٌ اِلَیْہِمْ بِہَدِیَّۃٍ فَنٰظِرَۃٌم بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیج کر وہ معلوم کرنا چاہتی تھی کہ آیا دنیوی مال و دولت کا حصول ہی ان کا مقصد و مدعا ہے یا اس سے آگے بڑھ کر وہ کچھ اور چاہتے ہیں۔

ارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِنْهَا أَذِلَّةً وَهُمْ صَاغِرُونَ

📘 آیت 37 اِرْجِعْ اِلَیْہِمْ فَلَنَاْتِیَنَّہُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَہُمْ بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُمْ مِّنْہَآ اَذِلَّۃً وَّہُمْ صَاغِرُوْنَ ”یعنی انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننا پڑے گی کہ وہ مسلم مطیع ہو کر ہمارے پاس حاضر ہوجائیں ‘ ورنہ ہم ان پر لشکر کشی کریں گے۔

قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَنْ يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ

📘 آیت 38 قَالَ یٰٓاَیُّہَا الْمَلَؤُا اَیُّکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِہَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ”یعنی آپ علیہ السلام کو یقین تھا کہ ملکہ سبا اظہار اطاعت کے لیے ضرور حاضر ہوگی۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے چاہا کہ اس کے آنے سے پہلے اس کا تخت یہاں پہنچ جائے اور اس میں تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اس کی آزمائش کی جائے کہ وہ اپنے تخت کو پہچان پاتی ہے یا نہیں۔

قَالَ عِفْرِيتٌ مِنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ تَقُومَ مِنْ مَقَامِكَ ۖ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ

📘 آیت 39 قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِکَج وَاِنِّیْ عَلَیْہِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ ”جس طرح انسانوں میں کوئی کمزور ہوتا ہے اور کوئی طاقتور ‘ اسی طرح جنوں میں بھی چھوٹے بڑے ِ جن ہوتے ہیں۔ چناچہ ایک طاقتور قوی ہیکل دیو نے دعویٰ کیا کہ آپ علیہ السلام کے دربار برخواست کرنے سے پہلے میں وہ تخت لا کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کیے دیتا ہوں۔

إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ

📘 آیت 4 اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ ”ایسے لوگوں کو اپنے غلط کام بھی اچھے لگتے ہیں اور اپنا کلچر ہی مثالی نظر آتا ہے۔فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ ”ع م ی کے مادہ میں بصارت ظاہری کے اندھے پن کا مفہوم ہے ‘ جبکہ ع م ہ کے مادہ میں بصیرت باطنی کے اندھے پن کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بصارت تو چاہے درست ہو مگر بصیرت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ انسان کی اس کیفیت کو سورة الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔“

قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ

📘 آیت 40 قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ ط ”یعنی میں آپ علیہ السلام کے پلک جھپکنے سے پہلے اس کو حاضر کیے دیتا ہوں۔ یہ جس شخص کا ذکر ہے اس کے بارے میں مفسرین کہتے ہیں کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وزیر آصف بن برخیاہ تھے ‘ اور یہ کہ ان کے پاس کتب سماویہ اور اللہ تعالیٰ کے ناموں سے متعلق ایک خاص علم تھا جس کی تاثیر سے انہوں نے اس کام کو ممکن کر دکھایا۔ ہمارے پاس اس موضوع پر نہ تو کوئی مرفوع حدیث ہے اور نہ ہی ان اسمائے الہٰیہ میں ایسی کوئی تاثیر ثابت ہوتی ہے جو ہمیں حضور ﷺ کی طرف سے بتائے گئے ہیں۔ لہٰذا ہمارا ایمان ہے کہ قرآن میں یہ واقعہ جس طرح مذکور ہے بالکل ویسے ہی وقوع پذیر ہوا ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر اس کی تفصیلات میں دلچسپی لینا ہمارے لیے مفید ہوتا تو حضور ﷺ لازماً وضاحت فرما دیتے کہ اس شخصیت کے پاس کس کتاب کا کون سا علم تھا۔ اور اگر آپ ﷺ کی طرف سے ایسی کچھ ہدایات نہیں دی گئیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہمیں اس بارے میں مزید کسی کھوج کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ چناچہ اس اعتبار سے یہ آیت متشابہات میں سے ہے۔البتہ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ کے الفاظ میں سائنسی اور ٹیکنیکل علم کی طرف بھی اشارہ موجود ہے۔ ہوسکتا ہے انہیں کوئی ایسی ترکیب معلوم ہو جس کے ذریعے سے سائنسی طور پر ایسا کرنا ممکن ہوا ہو۔ بہر حال سائنسی نقطہ نظر سے ایسا ہونا کوئی ناممکن بات بھی نہیں ہے۔ آج سائنس جس انداز اور جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے اس کے نتیجے میں ممکن ہے بہت جلد ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرلی جائے جس کے ذریعے سے کسی مادی چیز کو atoms میں تحلیل کرنا اور پھر ان atoms کو چشم زدن میں دوسری جگہ منتقل کر کے ان سے اس چیز کو اسی حالت میں دوبارہ ٹھوس شکل دے دینا ممکن ہوجائے۔فَلَمَّا رَاٰہُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَہٗ ”یعنی وہ صاحب اپنے دعوے کے مطابق اس تخت کو واقعی پلک جھپکنے سے پہلے لے آئے اور جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اپنے سامنے دیکھا تو بےاختیار آپ اللہ کی حمد و ثنا کرنے لگے۔قَالَ ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْقف ”کوئی دنیا دار بادشاہ ہوتا تو اپنے وزیر کے کمال کو بھی اپنا ہی کمال قرار دیتا ‘ لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اللہ کا فضل قرار دیا اور اس کا شکر ادا کیا۔ بندگی کا کامل نمونہ بھی یہی ہے کہ انسان بڑی سے بڑی کامیابی کو اپنا کمال سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا انعام جانے اور اس پر اس کا شکر ادا کرے۔

قَالَ نَكِّرُوا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ أَتَهْتَدِي أَمْ تَكُونُ مِنَ الَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ

📘 آیت 41 قَالَ نَکِّرُوْا لَہَا عَرْشَہَا ”کہ ملکہ کو آزمانے کے لیے تخت کی ظاہری ہیئت میں تھوڑی بہت تبدیلی کر دو۔

فَلَمَّا جَاءَتْ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَأَنَّهُ هُوَ ۚ وَأُوتِينَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ

📘 آیت 42 فَلَمَّا جَآءَ تْ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِط قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ ج ”چنانچہ اس نے اپنے تخت کو پہچان لیا۔ یعنی وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھ دار عورت تھی۔ اس سے پہلے آیت 43 میں فاتح بادشاہوں کے بارے میں اس کا تبصرہ بھی اس کی ذہانت اور دانش مندی کا ثبوت ہے۔وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ”یعنی میرے تخت کا یہاں پہنچ جانا اب میرے لیے کوئی بہت بڑی حیرت کی بات نہیں۔ آپ علیہ السلام کا اللہ کے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے بارے میں مجھے بہت پہلے ہی علم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے ہم مسلمان ہو کر آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔

وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَافِرِينَ

📘 آیت 42 فَلَمَّا جَآءَ تْ قِیْلَ اَہٰکَذَا عَرْشُکِط قَالَتْ کَاَنَّہٗ ہُوَ ج ”چنانچہ اس نے اپنے تخت کو پہچان لیا۔ یعنی وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھ دار عورت تھی۔ اس سے پہلے آیت 43 میں فاتح بادشاہوں کے بارے میں اس کا تبصرہ بھی اس کی ذہانت اور دانش مندی کا ثبوت ہے۔وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ ”یعنی میرے تخت کا یہاں پہنچ جانا اب میرے لیے کوئی بہت بڑی حیرت کی بات نہیں۔ آپ علیہ السلام کا اللہ کے ہاں جو مقام و مرتبہ ہے اس کے بارے میں مجھے بہت پہلے ہی علم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے ہم مسلمان ہو کر آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرچکے ہیں۔

قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا ۚ قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ

📘 قَالَ اِنَّہٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ ط ”یعنی وہ شیشے کا چکنا فرش تھا اور ملکہ نے جب اس میں اپنا عکس دیکھاتو اسے پانی سمجھ کر پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا کہ شاید آگے جانے کے لیے اس پانی سے ہو کر گزرنا ہے۔ بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے اصل حقیقت سے آگاہ کیا۔ اس سے دراصل اسے احساس دلانا مقصود تھا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دے رکھی ہیں ‘ وہ تمہارے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہیں۔قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ”حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ یہاں پر اختتام پذیر ہوا۔ سورت کا یہ حصہ قصص النبییّن کے انداز میں ہے۔ اس کے بعد حضرت صالح اور حضرت لوط علیہ السلام کے واقعات میں انباء الرسل کا انداز پایا جاتا ہے۔

قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ ۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

📘 آیت 46 قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بالسَّیِّءَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ ج ”تم لوگ اللہ سے خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی مچا رہے ہو ؟ سورة الاعراف میں ان کا یہ قول نقل ہوچکا ہے : یٰصٰلِحُ اءْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ”اے صالح ! لے آؤ ہم پر وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اگر تم واقعی رسولوں میں سے ہو !“

قَالُوا اطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَعَكَ ۚ قَالَ طَائِرُكُمْ عِنْدَ اللَّهِ ۖ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ

📘 آیت 47 قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ ط ”ہمیں خدشہ ہے کہ آپ لوگوں کی نحوست کی وجہ سے ہم کسی آفت میں گرفتار نہ ہوجائیں۔

وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ

📘 آیت 47 قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِکَ وَبِمَنْ مَّعَکَ ط ”ہمیں خدشہ ہے کہ آپ لوگوں کی نحوست کی وجہ سے ہم کسی آفت میں گرفتار نہ ہوجائیں۔

قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ

📘 آیت 49 قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ”ان سب سرداروں نے مل کر حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی۔ ان میں سے کوئی اکیلا یہ اقدام کر کے حضرت صالح علیہ السلام کے قبیلے کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا ‘ اس لیے انہوں نے حلف اٹھوا کر سب کو اس پر آمادہ کیا۔ سب کو اس طرح اس مہم میں شامل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان میں سے کوئی شخص راز فاش نہ کرسکے۔ قبائلی روایات و قوانین کے تحت پورا قبیلہ بحیثیت مجموعی اپنے تمام افراد کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے کسی فرد کو کوئی گزند پہنچنے کی صورت میں پورا قبیلہ یک جان ہو کر اس کے بدلے کا اہتمام کرتا ہے۔ سورة ہود علیہ السلام میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگ بھی آپ علیہ السلام کے خلاف ایسا ہی اقدام کرنا چاہتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے قبیلے کے ڈر کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ اپنی اس مجبوری کا اقرار انہوں نے ان الفاظ میں کیا تھا : وَلَوْلاَ رَہْطُکَ لَرَجَمْنٰکَز آیت 91 ”اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے۔“ خود محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف بھی مکہ میں ایک وقت ایسا آیا کہ سب مشرکین آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے ‘ مگر اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ڈرتے تھے کہ ان کا یہ اقدام ان کے قبائل کے درمیان کہیں خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے۔ چناچہ انہوں نے بھی بعینہٖ وہی منصوبہ بنایا جو حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بنایا تھا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان اس عمل میں شریک ہو اور سب مل کر آپ ﷺ پر حملہ کریں۔ اس طرح نہ تو یہ پتا چل سکے گا کہ اصل قاتل کون ہے اور نہ ہی بنو ہاشم سب قبائل سے بدلہ لینے کی جرأت کرسکیں گے۔بہر حال حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے ان نو سرداروں نے باہم حلف اٹھا کر منصوبہ بنایا کہ وہ سب مل کر رات کو آپ علیہ السلام کے گھر پر دھاوا بول دیں گے اور :

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَهُمْ سُوءُ الْعَذَابِ وَهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ

📘 آیت 4 اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ ”ایسے لوگوں کو اپنے غلط کام بھی اچھے لگتے ہیں اور اپنا کلچر ہی مثالی نظر آتا ہے۔فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ ”ع م ی کے مادہ میں بصارت ظاہری کے اندھے پن کا مفہوم ہے ‘ جبکہ ع م ہ کے مادہ میں بصیرت باطنی کے اندھے پن کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بصارت تو چاہے درست ہو مگر بصیرت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ انسان کی اس کیفیت کو سورة الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔“

وَمَكَرُوا مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

📘 آیت 49 قَالُوْا تَقَاسَمُوْا باللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَاَہْلَہٗ ”ان سب سرداروں نے مل کر حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی۔ ان میں سے کوئی اکیلا یہ اقدام کر کے حضرت صالح علیہ السلام کے قبیلے کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا ‘ اس لیے انہوں نے حلف اٹھوا کر سب کو اس پر آمادہ کیا۔ سب کو اس طرح اس مہم میں شامل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ ان میں سے کوئی شخص راز فاش نہ کرسکے۔ قبائلی روایات و قوانین کے تحت پورا قبیلہ بحیثیت مجموعی اپنے تمام افراد کے جان و مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے کسی فرد کو کوئی گزند پہنچنے کی صورت میں پورا قبیلہ یک جان ہو کر اس کے بدلے کا اہتمام کرتا ہے۔ سورة ہود علیہ السلام میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگ بھی آپ علیہ السلام کے خلاف ایسا ہی اقدام کرنا چاہتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے قبیلے کے ڈر کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ اپنی اس مجبوری کا اقرار انہوں نے ان الفاظ میں کیا تھا : وَلَوْلاَ رَہْطُکَ لَرَجَمْنٰکَز آیت 91 ”اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے۔“ خود محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف بھی مکہ میں ایک وقت ایسا آیا کہ سب مشرکین آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہوگئے ‘ مگر اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ڈرتے تھے کہ ان کا یہ اقدام ان کے قبائل کے درمیان کہیں خانہ جنگی کا باعث نہ بن جائے۔ چناچہ انہوں نے بھی بعینہٖ وہی منصوبہ بنایا جو حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بنایا تھا کہ ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان اس عمل میں شریک ہو اور سب مل کر آپ ﷺ پر حملہ کریں۔ اس طرح نہ تو یہ پتا چل سکے گا کہ اصل قاتل کون ہے اور نہ ہی بنو ہاشم سب قبائل سے بدلہ لینے کی جرأت کرسکیں گے۔بہر حال حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے ان نو سرداروں نے باہم حلف اٹھا کر منصوبہ بنایا کہ وہ سب مل کر رات کو آپ علیہ السلام کے گھر پر دھاوا بول دیں گے اور :

فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَاهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ

📘 آیت 51 فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْلا اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یعنی اس قوم پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان نو سرداروں سمیت تمام منکرین ہلاک ہوگئے۔

فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

📘 آیت 51 فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْلا اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یعنی اس قوم پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان نو سرداروں سمیت تمام منکرین ہلاک ہوگئے۔

وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

📘 آیت 51 فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ مَکْرِہِمْلا اَنَّا دَمَّرْنٰہُمْ وَقَوْمَہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یعنی اس قوم پر عذاب الٰہی ٹوٹ پڑا اور ان نو سرداروں سمیت تمام منکرین ہلاک ہوگئے۔

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ

📘 آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔

أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ

📘 آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔

۞ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِنْ قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ

📘 آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔

فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَاهَا مِنَ الْغَابِرِينَ

📘 آیت 54 وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ علی الاعلان اپنی مجالس کے اندر ایسی فحش حرکات کا ارتکاب کرتے تھے۔

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِينَ

📘 آیت 58 وَاَمْطَرْنَا عَلَیْہِمْ مَّطَرًاج فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ ”یہاں پر اس سورت کا انباء الرسل کا حصہ بھی اختتام پذیر ہوا۔ اب اس کے بعد کچھ حصہ التذکیر بآلاء اللہ پر مشتمل ہے اور یہ اس سورت کا بالکل منفرد انداز ہے۔

قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ ۗ آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ

📘 آیت 59 قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ط ”یعنی تمام انبیاء ورسل علیہ السلام اللہ کے چنے ہوئے لوگ تھے ‘ جیسا کہ سورة آل عمران میں بھی فرمایا گیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ءٰٓ اللّٰہُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”ذرا سوچو کہ اللہ کے مقابلے میں تمہارے ان معبودوں کی کیا حیثیت ہے ؟ تم لوگ خود تسلیم کرتے ہو کہ تمام اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے۔ تو پھر ان بےاختیار معبودوں کو تم کس حیثیت سے پوجتے ہو ؟

وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ

📘 آیت 4 اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ ”ایسے لوگوں کو اپنے غلط کام بھی اچھے لگتے ہیں اور اپنا کلچر ہی مثالی نظر آتا ہے۔فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ ”ع م ی کے مادہ میں بصارت ظاہری کے اندھے پن کا مفہوم ہے ‘ جبکہ ع م ہ کے مادہ میں بصیرت باطنی کے اندھے پن کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بصارت تو چاہے درست ہو مگر بصیرت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ انسان کی اس کیفیت کو سورة الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔“

أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ

📘 مَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَا ط ”rّ متجسسانہ سوالات searching questions کا یہ انداز بہت مؤثر ہے۔ علامہ اقبالؔ ؔ نے اپنے ان اشعار میں یہی مضمون بالکل اسی انداز میں پیش کیا ہے : پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟کہ اللہ ہی ہواؤں کو چلاتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ موسموں کو سازگار بناتا ہے ‘ اناج اگاتا ہے ‘ غرض تمام امور اسی کے حکم اور اسی کی قدرت سے انجام پاتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کاملہ کے بیان کا یہی انداز سورة الواقعہ میں بھی ملتا ہے۔ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”کیا ان سارے کاموں میں اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ بھی شریک ہے ؟

أَمَّنْ جَعَلَ الْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَالَهَا أَنْهَارًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

📘 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ط ”کیا کوئی ایسی دوسری ہستی تمہاری نظر میں ہے جو ان کاموں میں اللہ کے ساتھ شریک ہو ؟بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ”تاویل خاص کے اعتبار سے ان آیات کے مخاطبینِ اوّلین مشرکین مکہّ تھے اور ان کے پاس ان پے در پے سوالات کا ایک ہی جواب تھا ‘ اور وہ یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ! اس حوالے سے ان کے خیالات ‘ نظریات اور عقائد کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان کے شرک کی صورت اور نوعیت کیا تھی ؟ چناچہ اس سلسلے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو معبود بھی مانتے تھے اور اس کو اس کائنات کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ البتہ کچھ شخصیات جن کے ُ بت انہوں نے بنا رکھے تھے کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کے لاڈلے ‘ چہیتے اور مقربین ہیں اور وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے : ھٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18۔ بس ان کا شرک اس سے زائد کچھ نہیں تھا۔

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

📘 وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ط کہ تمہاری ایک نسل کے بعد دوسری نسل اس کی جانشین بنتی ہے اور یہ سلسلہ غیر منقطع طریقے سے اللہ تعالیٰ قائم رکھے ہوئے ہے۔

أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

📘 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو بادلوں کے آگے آگے باران رحمت کی نوید بن کر چلتے ہیں ‘ کیا انہیں چلانے اور بحر و بر کی تاریکیوں میں تم لوگوں کو درست راستے سجھانے میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا بھی کوئی حصہ ہے ؟

أَمَّنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

📘 ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط تَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جو بادلوں کے آگے آگے باران رحمت کی نوید بن کر چلتے ہیں ‘ کیا انہیں چلانے اور بحر و بر کی تاریکیوں میں تم لوگوں کو درست راستے سجھانے میں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا بھی کوئی حصہ ہے ؟

قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ

📘 وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ ”یعنی وہ لوگ جو فوت ہوچکے ہیں ‘ چاہے وہ اولیاء اللہ ہوں یا کوئی اور ‘ اس دنیا سے جانے کے بعد وہ عالم برزخ میں ہیں اور وہاں انہیں کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔

بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا ۖ بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ

📘 آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ”یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ”اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو اس کے لیے وہ لازماً فکر مند بھی ہوگا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن کسی انسان کو عملاً اگر اس کی فکر نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے۔

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا وَآبَاؤُنَا أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ

📘 آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ”یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ”اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو اس کے لیے وہ لازماً فکر مند بھی ہوگا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن کسی انسان کو عملاً اگر اس کی فکر نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے۔

لَقَدْ وُعِدْنَا هَٰذَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ

📘 آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ”یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ”اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو اس کے لیے وہ لازماً فکر مند بھی ہوگا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن کسی انسان کو عملاً اگر اس کی فکر نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے۔

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ

📘 آیت 66 بَلِ ادّٰرَکَ عِلْمُہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِقف ”یعنی یہ لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے۔بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْہَاقف بَلْ ہُمْ مِّنْہَا عَمُوْنَ ”اگرچہ یہ لوگ زبانی طور پر آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر بظاہر ایمان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن عملاً وہ اس کے منکر ہیں۔ عملاً انہیں آخرت کی زندگی کو سنوارنے یا قیامت کے احتساب سے بچنے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ اس دنیا میں اپنے کل کی فکر انسان کو ہر وقت دامن گیر رہتی ہے ‘ کہ کل کیا کھانا ہے اور باقی ضروریات کیسے پوری کرنی ہیں۔ اس لیے کہ اسے کل کے آنے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اسے واقعی یقین ہو کہ مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ کہ آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے تو اس کے لیے وہ لازماً فکر مند بھی ہوگا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن کسی انسان کو عملاً اگر اس کی فکر نہیں ہے اور وہ اس کے لیے کوشش بھی نہیں کر رہا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسے اس کے بارے میں یقین نہیں ہے۔

إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِ إِنِّي آنَسْتُ نَارًا سَآتِيكُمْ مِنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ آتِيكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ

📘 سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ”عبارت کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت تھا ‘ سردی کا موسم تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ واقفیت نہ تھی۔

وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُنْ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ

📘 آیت 70 وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَلَا تَکُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْکُرُوْنَ ”مکہ کے ماحول میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کو شدید مخالفت اور دباؤ کا سامنا تھا ‘ اس لیے مکی سورتوں میں یہ مضمون بار بار دہرایا گیا ہے۔ سورة النحل کی آیت 127 میں یہ مضمون بالکل انہی الفاظ میں آیا ہے ‘ جبکہ سورة الشعراء میں اس حوالے سے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے یوں فرمایا گیا ہے : لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ”اے نبی ﷺ ! شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے“۔ بہر حال مشرکین مکہ کے مخالفانہ رویے ّ کے باعث حضور ﷺ کو بار بار تسلی دی جاتی تھی کہ آپ ﷺ نے ان تک ہمارا پیغام پہنچا کر ان پر حجت قائم کردی ہے اور یوں آپ ﷺ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اب آپ ﷺ ان کی پروا نہ کریں اور نہ ہی ان کے بارے میں رنجیدہ ہوں۔ یہ لوگ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ ہماری تدابیر ان کی چالوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ ہماری قدرت کے سامنے ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔

وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

📘 آیت 71 وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ”یعنی آپ ہمیں مسلسل دھمکیاں دیے جا رہے ہیں کہ اگر ہم آپ کی اطاعت نہیں کریں گے تو ہم پر عذاب آجائے گا۔ چناچہ اگر آپ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو ذرا یہ بھی بتادیں کہ وہ عذاب کب آئے گا ؟

قُلْ عَسَىٰ أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِي تَسْتَعْجِلُونَ

📘 آیت 72 قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ رَدِفَ لَکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ””رَدِفَ“ کے معنی گھوڑے پر دوسری سواری کے طور پر سوار ہونے کے ہیں۔ اس طرح پچھلا سوار اپنے آگے والے کی پیٹھ کے ساتھ جڑ کر بیٹھنے کی وجہ سے ”ردیف“ کہلاتا ہے۔ اس اعتبار سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم جس عذاب کے بارے میں بےصبری سے بار بار پوچھ رہے ہو وہ اب تمہاری پیٹھ کے ساتھ آ لگا ہے ‘ بس اب تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔ ان الفاظ میں غالباً غزوۂ بدر کی طرف اشارہ ہے جس میں مشرکین مکہ کو عذاب الٰہی کی پہلی قسط ملنے والی تھی۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ

📘 آیت 73 وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ ”یعنی ابھی تک اگر تم لوگوں پر عذاب نہیں آیا تو یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا مظہر ہے۔ اس لیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ بہت فضل اور کرم کا معاملہ کرتا ہے۔

وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ

📘 آیت 74 وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ”اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ وہ اپنی زبانوں سے کیا کہتے ہیں اور ان کے دلوں میں کیا جذبات ہیں۔ ان کے دل تو گواہی دے چکے تھے کہ محمد ﷺ سچے ہیں اور قرآن بھی برحق ہے ‘ لیکن وہ محض حسد ‘ ّ تکبر اور تعصب کے باعث انکار پر اڑے ہوئے تھے۔ اس حوالے سے ان کی کیفیت فرعون اور قوم فرعون کی کیفیت سے مشابہ تھی جس کا حال اسی سورت کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط ”اور انہوں نے ان آیاتِ الٰہی کا انکار کیا ظلم اور تکبر کے ساتھ جبکہ ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا“۔ سورة البقرۃ کی آیت 146 اور سورة الانعام کی آیت 20 میں علماء اہل کتاب کی بالکل یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ یعنی وہ اللہ کے رسول ﷺ اور قرآن کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔

وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ

📘 آیت 75 وَمَا مِنْ غَآءِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ”گویا اللہ تعالیٰ کے علم قدیم ہی کو یہاں کتاب مبین کہا گیا ہے۔

إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ

📘 آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ”تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔

وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ”تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔

إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ بِحُكْمِهِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ

📘 آیت 76 اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ”تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ”یہ امتّ روایات میں کھو گئی !“ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۖ إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ

📘 آیت 79 فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ” آپ ﷺ کی دعوت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔ آپ ﷺ کا موقف حق و صداقت پر مبنی ہے۔

فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ”عبارت کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت تھا ‘ سردی کا موسم تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ واقفیت نہ تھی۔

إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ

📘 آیت 80 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی ”یعنی آپ ﷺ کے ان مخاطبین میں سے اکثر لوگوں کے دل مردہ ہیں ‘ ان کی روحیں ان کے دلوں کے اندر دفن ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ صرف حیوانی طور پر زندہ ہیں جبکہ روحانی طور پر ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔ چناچہ ابو جہل اور ابولہب کو آپ زندہ مت سمجھیں ‘ یہ تو محض چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ اس کیفیت میں وہ آپ ﷺ کی ان باتوں کو کیسے سن سکتے ہیں ! میر درد نے اپنے اس شعر میں انسان کی اسی روحانی زندگی کا ذکر کیا ہے : ؂مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے !وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ”یعنی ایک بہرا شخص آپ کے رو برو ہو ‘ آپ کی طرف متوجہ ہو تو پھر بھی امکان ہے کہ آپ اشارے کنائے سے اپنی کوئی بات اسے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں ‘ لیکن جب وہ پلٹ کر دوسری طرف چل پڑے تو اسے کوئی بات سمجھانا یا سنانا ممکن نہیں رہتا۔

وَمَا أَنْتَ بِهَادِي الْعُمْيِ عَنْ ضَلَالَتِهِمْ ۖ إِنْ تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ

📘 آیت 80 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی ”یعنی آپ ﷺ کے ان مخاطبین میں سے اکثر لوگوں کے دل مردہ ہیں ‘ ان کی روحیں ان کے دلوں کے اندر دفن ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ صرف حیوانی طور پر زندہ ہیں جبکہ روحانی طور پر ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔ چناچہ ابو جہل اور ابولہب کو آپ زندہ مت سمجھیں ‘ یہ تو محض چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ اس کیفیت میں وہ آپ ﷺ کی ان باتوں کو کیسے سن سکتے ہیں ! میر درد نے اپنے اس شعر میں انسان کی اسی روحانی زندگی کا ذکر کیا ہے : ؂مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے !وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ”یعنی ایک بہرا شخص آپ کے رو برو ہو ‘ آپ کی طرف متوجہ ہو تو پھر بھی امکان ہے کہ آپ اشارے کنائے سے اپنی کوئی بات اسے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں ‘ لیکن جب وہ پلٹ کر دوسری طرف چل پڑے تو اسے کوئی بات سمجھانا یا سنانا ممکن نہیں رہتا۔

۞ وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ

📘 اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ ””دابّۃ الارض“ کا ظہور قیامت کی آخری علامات میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد کوہ صفا پھٹے گا اور اس میں سے یہ جانور برآمد ہوگا۔ واللہ اعلم !

وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِمَّنْ يُكَذِّبُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ

📘 آیت 83 وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ”گویا ان مجرموں کے جرائم مختلف درجوں میں ہوں گے۔ ان میں سے کوئی انکار میں بہت زیادہ سخت تھا ‘ کسی کی طبیعت میں کچھ نرمی کا پہلو تھا ‘ کوئی تکذیب کے ساتھ ساتھ استہزاء کرنے کا مجرم بھی تھا۔ چناچہ ان کے جرائم کی نوعیت اور کیفیت کے مطابق ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔ یہ طریقہ انسانی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہوگا کیونکہ سب انسان برابر نہیں۔ نہ تو اہل ایمان سب کے سب برابر ہیں اور نہ کفار و مشرکین سب ایک جیسے ہیں۔ ؂نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد !

حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوا قَالَ أَكَذَّبْتُمْ بِآيَاتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

📘 آیت 44 حتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْ قَالَ اَکَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”یعنی کیا تم لوگ واقعتا میری آیات کو سمجھ نہیں سکے تھے یا پھر سمجھنے کے بعد تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا انکار کرتے رہے تھے ؟

وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُونَ

📘 آیت 85 وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ”جب حقیقت ان پر واضح کردی جائے گی تو وہ بول نہیں سکیں گے ‘ اس لیے کہ ان کے دل تو دعوت حق کی حقانیت پر گواہی دے چکے تھے ‘ لیکن اپنی ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر انہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔ قبل ازیں اسی سورت کی آیت 14 میں ایسے منکرین کے انکار کی کیفیت پریوں تبصرہ کیا گیا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط کہ ان کے دلوں نے آیات الہیہ کا یقین کرلیا تھا مگر وہ محض ضد ‘ ظلم اور سرکشی کی بنا پر نہیں مانے تھے۔

أَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا اللَّيْلَ لِيَسْكُنُوا فِيهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

📘 آیت 86 اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا ط ”اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کے تحت رات کو سکون کے لیے جبکہ دن کو معاشی جدوجہد کے لیے سازگار بنایا ہے۔

وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ

📘 آیت 87 وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ ط ”نفخ صور سے ایک عمومی گھبراہٹ آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات پر طاری ہوجائے گی ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ خود اس سے محفوظ رکھنا چاہے۔ جیسے آسمانوں پر فرشتے۔وَکُلٌّ اَتَوْہُ دَاخِرِیْنَ ”اس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکائے مؤدّب کھڑے ہوں گے۔

وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ۚ صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ۚ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ

📘 آیت 88 وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِط ”پہاڑ اس دن بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ ہوائی سفر کے دوران ہم میں سے اکثرنے بادلوں کی ماہیت کا قریب سے مشاہدہ کیا ہوگا۔ یہ بظاہر دیکھنے میں ٹھوس نظر آتے ہیں لیکن جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے انہیں چیرتے ہوئے آگے گزر جاتا ہے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کی ٹھوس حیثیت کو ختم کردیا جائے گا اور وہ ذرّات کے غبار میں تبدیل ہو کر بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ ط ”یہ اللہ کیّ صناعی کا کرشمہ ہے کہ اس نے اس وقت پہاڑوں کو ایسی محکم اور ٹھوس شکل دے رکھی ہے ‘ لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے انہیں دھنکی ہوئی روئی کے گالوں اور بادلوں کی طرح بےوزن اور نرم کردے گا۔

مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ مِنْ فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ

📘 آیت 89 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا ج ”ایک نیکی کا اجر دس گنا بھی ہوسکتا ہے ‘ سات سو گنا بھی اور اس سے بھی زیادہ۔ بہر حال نیکی کا بدلہ بڑھا چڑھا کردیا جائے گا۔وَہُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَءِذٍ اٰمِنُوْنَ ”اس سے قیامت کے دن کی گھبراہٹ مراد ہے جسے سورة الحج کی پہلی آیت میں اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ کہا گیا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ قیام قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ مؤمنین صادقین کو سکون کی موت عطا کر کے اس دن کی گھبراہٹ سے بچا لے گا۔ اس کے علاوہ ان الفاظ میں اس مفہوم کی گنجائش بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو بعث الموت کے بعد میدان حشر کی گھبراہٹ سے بھی محفوظ رکھے گا۔

يَا مُوسَىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

📘 آیت 9 یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ”میں اللہ ہوں اور میں ہی آپ علیہ السلام سے اس وقت خطاب کر رہا ہوں۔

وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

📘 آیت 90 وَمَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَکُبَّتْ وُجُوْہُہُمْ فِی النَّارِ ط ”یعنی ان لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیاجائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !ہَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”یعنی اس سزا کی صورت میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو رہی ‘ بلکہ تمہارے اعمال کے عین مطابق ہی تمہیں بدلہ مل رہا ہے۔

إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

📘 آیت 91 اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَہَا ”ان آخری آیات کا انداز ایک اعلان کا سا ہے۔ اگرچہ اس اعلان کا آغاز لفظ ”قُلْ“ سے نہیں ہو رہا لیکن انداز یہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کردیجیے۔ آپ ان پر واضح کردیجیے کہ میں کسی بت ‘ کسی دیوی یا کسی دیوتا کی پرستش کی بجائے صرف اس رب کی بندگی کرتا ہوں اور اسی کی بندگی کرتا رہوں گا جس نے بیت اللہ کو حرم ٹھہرایا ہے اور اس شہر کی سر زمین کو محترم قرار دیا ہے۔

وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ ۖ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ

📘 آیت 92 وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج ”مجھے تیسرا حکم یہ ملا ہے کہ میں قرآن پڑھوں ‘ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہوں اور اس کی تبلیغ کرتا رہوں۔ سورة المائدۃ کی آیت 67 میں بھی آپ ﷺ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ط کہ اے نبی ﷺ ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ وہ لوگوں تک پہنچادیجیے اور اگر بالفرض آپ نے ایسانہ کیا تو یہ گویا رسالت کے فرائض میں کوتاہی شمار ہوگی۔فَمَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج ”اس ہدایت کے بدلے میں اگر وہ آخرت میں کامیاب قرار پاتا ہے اور اسے فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعۃ سے نوازا جاتا ہے تو اس میں اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ”جیسے کسی خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ کہے جاتے ہیں : وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ بالکل اسی انداز میں اب اس سورت کا اختتام ہو رہا ہے :

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

📘 آیت 92 وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج ”مجھے تیسرا حکم یہ ملا ہے کہ میں قرآن پڑھوں ‘ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہوں اور اس کی تبلیغ کرتا رہوں۔ سورة المائدۃ کی آیت 67 میں بھی آپ ﷺ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ط کہ اے نبی ﷺ ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ وہ لوگوں تک پہنچادیجیے اور اگر بالفرض آپ نے ایسانہ کیا تو یہ گویا رسالت کے فرائض میں کوتاہی شمار ہوگی۔فَمَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج ”اس ہدایت کے بدلے میں اگر وہ آخرت میں کامیاب قرار پاتا ہے اور اسے فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعۃ سے نوازا جاتا ہے تو اس میں اس کا اپنا ہی بھلا ہے۔وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ”جیسے کسی خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ کہے جاتے ہیں : وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ بالکل اسی انداز میں اب اس سورت کا اختتام ہو رہا ہے :