WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الكهف

(Al-Kahf) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَىٰ عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجًا ۜ

📘 قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔ خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔

إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا

📘 اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔ کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔ اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 139 )

وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا

📘 قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔ آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔

الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِي وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا

📘 قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔ آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔

أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِي مِنْ دُونِي أَوْلِيَاءَ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ نُزُلًا

📘 حق کو ماننا خدا کو ماننا ہے اور حق کو نہ ماننا خداکو نہ ماننا۔ جب بھی آدمی حق کو نہ مانے تو وہ کسی نہ کسی چیز یا شخصیت کے بل پر ایسا کرتا ہے ۔ ایسا ہر بھروسہ جھوٹا بھروسہ ہے۔ کیوںکہ اس دنیا میں خداکے سوا کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ فیصلہ کے دن ایسے لوگوں کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ کیوں کہ بچانے والا تو صرف خدا تھا اور اس کی حمایت کو انھوں نے پہلے ہی سرکشی کرکے کھودیا۔

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا

📘 آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔

الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا

📘 آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا

📘 آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔

ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَرُسُلِي هُزُوًا

📘 آدمی دنیا میں عمل کرتاہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ عزت اور دولت کی صورت میں اس کو مل رہا ہے۔ اپنا کوئی کام اس کو بگڑتا ہوا نظر نہیں آتا۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کامیاب ہوں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ خدا کے نقشہ میں زندگی کی کامیابی کا معیار آخرت ہے۔ ایسی حالت میں دنیا کی ترقی کو ترقی سمجھنا خدا کے نقشہ کے خلاف اپنا نقشہ بنانا ہے۔ یہ آخرت کو حذف کرکے زندگی کے مسئلہ کو دیکھنا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ خدا اپنی نشانیاں ظاہر کرتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے ذہن کو دنیا میں لگائے ہوئے ہوں وہ آخرت کی نشانیوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ خدا اپنے دلائل کھولتا ہے مگر جو لوگ دنیا کی باتوں میں گم ہوں ان کو آخرت کی دلیلیں اپیل نہیں کرتیں۔ ایسے لوگ ہدایت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی ہدایت کو قبول کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ انھوںنے خدا کی باتوں کو وزن نہیں دیا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو اپنے یہاں کسی وزن کا مستحق سمجھے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا

📘 موجودہ دنیا میں ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کرنا زبردست قربانی کا ثبوت دینا ہے۔ یہ چھپی ہوئی جنت کی خاطر نظر آنے والی جنت کو چھوڑنا ہے۔ یہ اس مشکل ترین امتحان میں پورا اترنا ہے جب کہ آدمی مجرد دلیل کی سطح پر حق کو پہچانتا ہے اور اپنی زندگی اس کے راستہ پر ڈال دیتا ہے، حالاں کہ ایسا کرنے کے لیے وہاں کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس معرفت اور اس کارکردگی کا ثبوت دیں ان کا انعام یہی ہے کہ ان کو ابدی راحت و آرام کے باغوں میں داخل کردیا جائے۔

خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا

📘 موجودہ دنیا میں ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کرنا زبردست قربانی کا ثبوت دینا ہے۔ یہ چھپی ہوئی جنت کی خاطر نظر آنے والی جنت کو چھوڑنا ہے۔ یہ اس مشکل ترین امتحان میں پورا اترنا ہے جب کہ آدمی مجرد دلیل کی سطح پر حق کو پہچانتا ہے اور اپنی زندگی اس کے راستہ پر ڈال دیتا ہے، حالاں کہ ایسا کرنے کے لیے وہاں کوئی دباؤ نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس معرفت اور اس کارکردگی کا ثبوت دیں ان کا انعام یہی ہے کہ ان کو ابدی راحت و آرام کے باغوں میں داخل کردیا جائے۔

قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا

📘 جو لوگ خدا کے پیغام کو نہیں مانتے وہ ایسی چیز کو نہیں مانتے جو تمام ثابت شدہ چیزوں سے زیادہ ثابت شدہ ہے۔ وہ اتنی مسلم ہے جس کو لکھنے کے لیے دنیا کے تمام درختوں کے قلم بھی ناکافی ثابت ہوں۔ تمام سمندروں کو روشنائی کی جگہ استعمال کیا جائےتوسمندر بھی خشک ہوجائے اس سے پہلے کہ کلماتِ رب ختم ہوں۔ مگر انسان کیسا ظالم ہے کہ اس کے باوجود وہ حق کو نہیں پہچانتا۔ اس کے باوجود وہ اپنی زندگی کو حق کے مطابق نہیں ڈھالتا۔

فَضَرَبْنَا عَلَىٰ آذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِينَ عَدَدًا

📘 اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔ کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔ اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 139 )

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا

📘 پیغمبر خدا یا فرشتہ نہیں ہوتا۔ وہ انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کی مزید خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ اس پر غیر مرئی ذریعہ سے خدا کی وحی آتی ہے۔ گویا پیغمبر ایک ایسی ہستی ہے جو اپنے ظاہر کے اعتبار سے ایک انسان ہے اور اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے نمائندہ خدا۔ یہی وجہ ہے کہ حق کو پانے کے لیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ حق کو پانا صرف اس شخص کے لیے ممکن ہوتا ہے جو حقیقت کو اس کے غیبی روپ میں دیکھ سکے، جو ’’انسان‘‘ کی سطح پر ’’پیغمبر‘‘ کو پہچاننے کا ثبوت دے۔

ثُمَّ بَعَثْنَاهُمْ لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَىٰ لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا

📘 اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔ کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔ اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 139 )

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ ۚ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى

📘 ’’یہ لوگ واضح دلیل کیوں نہیں لاتے‘‘ —اس جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان نوجوانوں اور قوم کے بڑے لوگوں کے درمیان ایک مدت تک بحث وگفتگو رہی۔ مگر اس درمیان میں ان بڑوںکی طرف سے جو باتیں کہی گئیں ان میں شرک کے حق میں کوئی واضح دلیل نہ تھی۔ اس تجربہ نے ان توحید پرست نوجوانوں کے یقین کواور زیادہ بڑھا دیا۔ ان کے لیے ناممکن ہوگیا کہ غیر ثابت شدہ چیز کی خاطر ثابت شدہ چیز کو ترک کردیں۔ مذکورہ مخالفت کے بعد اگر وہ بڑوں کی بڑائی کواہمیت دیتے تو وہ بے یقینی اور تذبذب کا شکار ہوجاتے۔ مگر جب انھوںنے دلیل اور برہان کو اہمیت دی تو اس نے ان کے یقین میں اور اضافہ کردیا۔ کیوں كه دلیل اور برہان کے اعتبار سے یہ بڑے انھیں بالکل چھوٹے نظر آئے۔ اپنی تمام ظاہری عظمتوں کے باوجود وہ لوگ جھوٹ کی زمین پر کھڑے ہوئے ملے، نہ کہ سچ کی زمین پر۔

وَرَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَدْعُوَ مِنْ دُونِهِ إِلَٰهًا ۖ لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا

📘 ’’یہ لوگ واضح دلیل کیوں نہیں لاتے‘‘ —اس جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان نوجوانوں اور قوم کے بڑے لوگوں کے درمیان ایک مدت تک بحث وگفتگو رہی۔ مگر اس درمیان میں ان بڑوںکی طرف سے جو باتیں کہی گئیں ان میں شرک کے حق میں کوئی واضح دلیل نہ تھی۔ اس تجربہ نے ان توحید پرست نوجوانوں کے یقین کواور زیادہ بڑھا دیا۔ ان کے لیے ناممکن ہوگیا کہ غیر ثابت شدہ چیز کی خاطر ثابت شدہ چیز کو ترک کردیں۔ مذکورہ مخالفت کے بعد اگر وہ بڑوں کی بڑائی کواہمیت دیتے تو وہ بے یقینی اور تذبذب کا شکار ہوجاتے۔ مگر جب انھوںنے دلیل اور برہان کو اہمیت دی تو اس نے ان کے یقین میں اور اضافہ کردیا۔ کیوں كه دلیل اور برہان کے اعتبار سے یہ بڑے انھیں بالکل چھوٹے نظر آئے۔ اپنی تمام ظاہری عظمتوں کے باوجود وہ لوگ جھوٹ کی زمین پر کھڑے ہوئے ملے، نہ کہ سچ کی زمین پر۔

هَٰؤُلَاءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً ۖ لَوْلَا يَأْتُونَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطَانٍ بَيِّنٍ ۖ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا

📘 ’’یہ لوگ واضح دلیل کیوں نہیں لاتے‘‘ —اس جملہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد ان نوجوانوں اور قوم کے بڑے لوگوں کے درمیان ایک مدت تک بحث وگفتگو رہی۔ مگر اس درمیان میں ان بڑوںکی طرف سے جو باتیں کہی گئیں ان میں شرک کے حق میں کوئی واضح دلیل نہ تھی۔ اس تجربہ نے ان توحید پرست نوجوانوں کے یقین کواور زیادہ بڑھا دیا۔ ان کے لیے ناممکن ہوگیا کہ غیر ثابت شدہ چیز کی خاطر ثابت شدہ چیز کو ترک کردیں۔ مذکورہ مخالفت کے بعد اگر وہ بڑوں کی بڑائی کواہمیت دیتے تو وہ بے یقینی اور تذبذب کا شکار ہوجاتے۔ مگر جب انھوںنے دلیل اور برہان کو اہمیت دی تو اس نے ان کے یقین میں اور اضافہ کردیا۔ کیوں كه دلیل اور برہان کے اعتبار سے یہ بڑے انھیں بالکل چھوٹے نظر آئے۔ اپنی تمام ظاہری عظمتوں کے باوجود وہ لوگ جھوٹ کی زمین پر کھڑے ہوئے ملے، نہ کہ سچ کی زمین پر۔

وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ فَأْوُوا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيُهَيِّئْ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ مِرْفَقًا

📘 بندہ جب حق کی خاطر انسانوں سے کٹتا ہے تو عین اسی وقت وہ خدا سے جڑ جاتاہے۔ حتی کہ وہ اپنے رب سے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنے رب سے کلام کرتاہے اور اس سے اس کا جواب پاتا ہے۔ اصحابِ کہف کا نومسلمانہ یقین، ان کی بے خوف تبلیغ، ان کا سب کچھ چھوڑنے پر راضی ہوجانا مگر حق کونہ چھوڑنا، ان چیزوں نے ان کو قربت خداوندی کا اعلیٰ مقام عطا کردیا تھا۔ وہ بظاہر جو کچھ کھورہے تھے، اس سے زیادہ بڑی چیز ان کے لیے وہ تھی جس کو انھوں نے پایا تھا۔ یہی یافت کا وہ احساس تھا جس نے انھیں آمادہ کیا کہ وہ ہر دوسری چیز کی محرومی گوارا کرلیں مگر حق سے محرومی کو گوارا نہ کریں۔ وہ اس پر راضی ہوگئے کہ وہ اپنے گھر اور شہر کو چھوڑ کر غار میں چلے جائیں اور پھر بھی ان کی یہ امید باقی رہے کہ ان کا خدا ضرور ان کی مدد کرے گا اور ان کے حالات کو درست کردے گا۔ ابنِ جریر نے عطا کے حوالے سے ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی۔ وہ غار میں داخل ہو کر عبادت کرتے رہتے اور روتے اور اللہ سے مدد مانگتے (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 148 )، یہاںتک کہ بالآخر خدانے ان پر لمبی نیند طاری کردی۔

۞ وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ۗ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا

📘 دعوتی دور میں جب اصحاب کہف اور ان کی قوم کے لوگوں کے درمیان کش مکش بڑھی، اسی دوران میں غالباً انھوںنے امکانی اندیشہ کے پیش نظر ایک مخصوص غار کا انتخاب کرلیا تھا۔ یہ غار اتنا وسیع تھا کہ سات آدمی بآسانی اس کے اندر قیام کرسکیں۔مزید یہ کہ غالباً وہ شمال رُویہ تھا۔ اس بنا پر سورج کی روشنی صبح یا شام کسی وقت بھی براہِ راست اس کے اندر نہیں پہنچتی تھی اور ادھر سے گزرنے والا کوئی شخص باہر سے دیکھ کر یہ نہیں جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کچھ انسان موجود ہیں۔ جب آدمی ایسا کرے کہ حق کے معاملے میں مصلحت کا رویہ نہ اختیار کرے۔ مشکل ترین حالات میں بھی وہ صبر وشکر کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ رہے تو خدا اس کو ایسے راستوں کی طرف رہنمائی فرماتا ہے جس میںاس کا ایمان بھی محفوظ رہے اور وہ اپنے دعوتی مشن کو بھی نہ کھوئے۔ یہ نصرت اصحابِ کہف کو ان کے مخصوص حالات کے اعتبار سے پوری طرح حاصل ہوئی۔ مزید یہ کہ خدا نے ان کو اپنے خاص کام کے لیے چن لیا۔ انھوںنے جس روحانی بلندی کا ثبوت دیا تھا اس کے بعد وہ خدا کی نظر میں اس قابل ہوگئے کہ ان کو زندگی بعد موت کا حسی ثبوت بنادیا جائے— اصحاب کہف کا دو سوسال (يا اس سے زياده مدّت) تک سوکر دوبارہ اٹھنا اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔

وَتَحْسَبُهُمْ أَيْقَاظًا وَهُمْ رُقُودٌ ۚ وَنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ۖ وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ ۚ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا

📘 اللہ تعالیٰ نے ایک طرف یہ کیا کہ اصحابِ کہف پر مسلسل نیند طاری کردی۔ اسی کے ساتھ ان کی حفاظت کے مختلف انتظامات فرما دیے۔ مثلاً وہ برابر کروٹیں لیتے رہتے تھے۔ کیوں کہ حضرت ابن عباس کے الفاظ میں، اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کا جسم زمین کھا جاتی(لَوْ أَنَّهُمْ لَا يُقَلَّبُونَ لَأَكَلَتْهُمُ الْأَرْضُ)تفسیر الطبری، جلد 15 ، صفحہ 191 ۔ ان کے غار کے دہانہ پر ایک کتا مسلسل بیٹھا رہا۔ یہ غالباً اس لیے تھا کہ کوئی انسان یا جانور اندر داخل نہ ہوسکے۔ مزید یہ کہ غار کے اندر خدا نے ایسا پُرہیبت ماحول بنا دیا تھا کہ کوئی شخص اگر جھانکنے کی کوشش کرے تو پہلی ہی نظر میں دہشت زدہ ہو کر بھاگ جائے۔

وَكَذَٰلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ ۚ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ ۖ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۚ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا

📘 اصحابِ کہف جب سوکر اٹھے تو قدرتی طورپر وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ وہ کتنی مدت تک سوئے ہوں گے۔ مگر زمانہ خدا کے حکم کے تحت ان کے لیے ٹھہر گیا تھا۔ اس لیے جو مدت دوسروں کے لیے صدیوں میں پھیلی ہوئی تھی وہ اصحابِ کہف کو بس ایک دن کے برابر معلوم ہوئی۔ سو کر اٹھنے کے بعد انھیں بھوک کا احساس ہوا۔ ان کے پاس کچھ چاندی کے سکے تھے۔ انھوںنے اپنے میں سے ایک شخص کو ایک سکّہ لے کر بھیجا۔ غالباً ان کا خیال ہوگا کہ شہر کے جن حصوں میں عیسائی بستے ہوں گے وہاں حلال کھانا مل سکے گا۔ اس لیے انھوںنے کہا کہ تلاش کرکے پاکیزہ کھانا لے آنا۔ نیز انھوںنے تاکید کی کہ سارا معاملہ نہایت خوش تدبیری سے انجام دینا۔ کیوں کہ سابقہ تجربہ کی بنا پر انھیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ ہم سے باخبر ہوجائیں گے تو وہ ہمیں دوبارہ بت پرست بنانے کی کوشش کریں گے۔اور جب ہم راضی نہ ہوں گے تو وہ ہم کو مار ڈالیں گے۔

قَيِّمًا لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِنْ لَدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا

📘 قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔ خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔

إِنَّهُمْ إِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوكُمْ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فِي مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا أَبَدًا

📘 اصحابِ کہف جب سوکر اٹھے تو قدرتی طورپر وہ آپس میں ذکر کرنے لگے کہ وہ کتنی مدت تک سوئے ہوں گے۔ مگر زمانہ خدا کے حکم کے تحت ان کے لیے ٹھہر گیا تھا۔ اس لیے جو مدت دوسروں کے لیے صدیوں میں پھیلی ہوئی تھی وہ اصحابِ کہف کو بس ایک دن کے برابر معلوم ہوئی۔ سو کر اٹھنے کے بعد انھیں بھوک کا احساس ہوا۔ ان کے پاس کچھ چاندی کے سکے تھے۔ انھوںنے اپنے میں سے ایک شخص کو ایک سکّہ لے کر بھیجا۔ غالباً ان کا خیال ہوگا کہ شہر کے جن حصوں میں عیسائی بستے ہوں گے وہاں حلال کھانا مل سکے گا۔ اس لیے انھوںنے کہا کہ تلاش کرکے پاکیزہ کھانا لے آنا۔ نیز انھوںنے تاکید کی کہ سارا معاملہ نہایت خوش تدبیری سے انجام دینا۔ کیوں کہ سابقہ تجربہ کی بنا پر انھیں اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ ہم سے باخبر ہوجائیں گے تو وہ ہمیں دوبارہ بت پرست بنانے کی کوشش کریں گے۔اور جب ہم راضی نہ ہوں گے تو وہ ہم کو مار ڈالیں گے۔

وَكَذَٰلِكَ أَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوا أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيهَا إِذْ يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ أَمْرَهُمْ ۖ فَقَالُوا ابْنُوا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۖ رَبُّهُمْ أَعْلَمُ بِهِمْ ۚ قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَىٰ أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِدًا

📘 انسان سو سال یا اس سے بھی کم مدّت موجودہ زمین پر زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مر کر باقی رہتا ہے اور دوبارہ ایک نئی دنیامیں اٹھتا ہے جہاں اس کے لیے یا ابدی راحت ہے یا ابدی عذاب۔ یہ انسان کا سب سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے اور اس پر لوگوں کے درمیان ہمیشہ بحث جاری رہی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر خدا نے ایسا کیا کہ عقلی دلیل کے ساتھ اس کے حق میں حسی دلیل کا بھی انتظام فرمایا، تاکہ ’’زندگی بعد موت‘‘ کے معاملہ میں کسی کے لیے اس کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مختلف زمانوں میں یہ حسی دلیل مختلف انداز سے دکھائی جاتی رہی ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں اصحاب کہف کا ’’موت‘‘ کے بعد دوبارہ غار سے نکلنا اسی قسم کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں ما فوق سائنس (meta science) کی تحقیقات بھی غالباً اُسی نوعیت کی مثاليں ہیں، جن سے زندگی بعد موت کا نظریہ حسی معیار استدلال پر ثابت ہوتاہے۔ اصحاب کہف دو سوسال ( یا اس سے زیادہ مدت کے بعد) جب غار سے نکلے تو ان کے شہر کی دنیا بالکل بدل چکی تھی۔ غالباً 250 ء میں وہ اپنے شہر افیسس سے نکل کر غار میں گئے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں بت پرست حکمراں ڈیسیس کی حکومت تھی۔ اس درمیان میں مسیحی مبلغین کی کوششوں سے رومی بادشاہ قسطنطین (272-337) عیسائی ہوگیا اور اس کے بعد سارے رومی علاقہ میں عیسائی مذہب پھیل گیا۔ 447 ء میں جب اصحاب کہف دوبارہ اپنے شہر میں واپس آئے تو ان کے شہر ميں عیسائیت کا غلبہ ہوچکا تھا۔ جب یہ ساتوں نوجوان غار سے باہر آئے اور شاہی خزانہ میں محفوظ ان کے نام کی تختی، نیز دوسرے قرائن سے تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو بت پرستی کے دور میں اپنے مسیحی عقائد کی خاطر شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ فوراً لوگوں کی عقیدت کا مرکز بن گئے۔ نیا رومی حکمراں تھیوڈوسیس خود ان سے ملنے او ر ان کی برکت لینے کے لیے پیدل چل کر ان کے پاس آیا،اور جب ان نوجوانوں کا انتقال ہوا تو ان کی یاد گار میں ان کے غار کے اوپر عبادت خانہ تعمیر کیاگیا۔

سَيَقُولُونَ ثَلَاثَةٌ رَابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ وَيَقُولُونَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًا بِالْغَيْبِ ۖ وَيَقُولُونَ سَبْعَةٌ وَثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ ۚ قُلْ رَبِّي أَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ ۗ فَلَا تُمَارِ فِيهِمْ إِلَّا مِرَاءً ظَاهِرًا وَلَا تَسْتَفْتِ فِيهِمْ مِنْهُمْ أَحَدًا

📘 اصحاب کہف کے بارہ میں کچھ لوگ غیر ضروری بحثوں میں مبتلا تھے۔ کسی نے کہا کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ مگر اس قسم کی بحثیں مزاج کی خرابی کی علامت ہیں۔ جب دینی روح زندہ ہو تو سارا زور اصل حقیقت پر دیا جاتا ہے۔ اور جب قوم پر زوال آتا ہے تو اصل روح پس پشت چلی جاتی ہے اور ظاہری تفصیلات بحث و مناظرہ کا موضوع بن جاتی ہیں۔ سچے خدا پرست کو چاہیے کہ وہ ان بحثوں میں نہ پڑے بلکہ اگر کوئی دوسرا شخص اس قسم کے سوالات کرے تو اس کو اجمالی جواب دے کر گزر جائے۔

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا

📘 قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ان سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھو۔ اگر وہ تم کو ان کی بابت بتا دیں تو وہ پیغمبر ہیں۔ ورنہ وہ متقول (باتیں بنانے والے ) ہیں۔ ان میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے نوجوانوں کے بارے میں تھا۔ دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں اور تیسرا روح کے بارے میں۔ پریس کے دور سے پہلے عام لوگوں کو اصحاب کہف کی بابت کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ قصہ بعض سریانی مخطوطات میں درج تھا جس کی خبر صرف چند خاص علماء کو تھی۔ آپ کے سامنے یہ سوال آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جو بات پوچھی ہے اس کا جواب میں کل دوں گا (أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ غَدًا)آپ کو امید تھی کہ کل تک جبریل آجائیں گے اور میں ان سے معلوم کرکے جواب دے دوں گا۔ مگر جبریل کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پندرہ دن کے بعد سورہ کہف لے کر آئے(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 301 )۔ وحی میں اس تاخیر سے مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا۔ انھوںنے اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو آپ سے بد ظن کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک معمولی بات کو شوشہ بنا کر جس شخص کی صداقت سے لوگوں کو مشتبہ کرنا چاہتے ہو اس کی صداقت پر اس سے زیادہ یقینی اور اس سے زیادہ بڑی دلیلیں جمع ہونے والی ہیں (ان الله سيؤتيه من الحجج على صحة نبوته ما هو ادلّ من قصة اصحاب الكهف )التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ 27 ۔ یہ بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔

إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ ۚ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلْ عَسَىٰ أَنْ يَهْدِيَنِ رَبِّي لِأَقْرَبَ مِنْ هَٰذَا رَشَدًا

📘 قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط کو مدینہ بھیجا کہ وہ یہود سے مل کر محمد کے بارے میں پوچھیں۔ کیوں کہ وہ لوگ نبیوں کا علم رکھتے ہیں۔ دونوں مدینہ آئے اور علماء یہود سے کہا کہ ہم کو ہمارے آدمی کے بارے میں بتاؤ۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ ان سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھو۔ اگر وہ تم کو ان کی بابت بتا دیں تو وہ پیغمبر ہیں۔ ورنہ وہ متقول (باتیں بنانے والے ) ہیں۔ ان میں سے ایک سوال اصحابِ کہف کے نوجوانوں کے بارے میں تھا۔ دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں اور تیسرا روح کے بارے میں۔ پریس کے دور سے پہلے عام لوگوں کو اصحاب کہف کی بابت کچھ معلوم نہ تھا۔ یہ قصہ بعض سریانی مخطوطات میں درج تھا جس کی خبر صرف چند خاص علماء کو تھی۔ آپ کے سامنے یہ سوال آیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے جو بات پوچھی ہے اس کا جواب میں کل دوں گا (أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ غَدًا)آپ کو امید تھی کہ کل تک جبریل آجائیں گے اور میں ان سے معلوم کرکے جواب دے دوں گا۔ مگر جبریل کے آنے میں تاخیر ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پندرہ دن کے بعد سورہ کہف لے کر آئے(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 301 )۔ وحی میں اس تاخیر سے مکہ کے مخالفین کو موقع مل گیا۔ انھوںنے اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کو آپ سے بد ظن کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک معمولی بات کو شوشہ بنا کر جس شخص کی صداقت سے لوگوں کو مشتبہ کرنا چاہتے ہو اس کی صداقت پر اس سے زیادہ یقینی اور اس سے زیادہ بڑی دلیلیں جمع ہونے والی ہیں (ان الله سيؤتيه من الحجج على صحة نبوته ما هو ادلّ من قصة اصحاب الكهف )التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ 27 ۔ یہ بات آج واقعہ بن چکی ہے ، آج پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ صداقت پر اتنے دلائل جمع ہوچکے ہیں کہ کوئی ہوش مند آدمی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا ۔ آپ کی نبوت آج ایک ثابت شدہ نبوت ہے، نہ کہ محض مدعیانہ نبوت۔

وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا

📘 قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا 309 سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ غار میںاصحاب کہف کے قیام کی مدت شمسي کیلنڈر کے لحاظ سے 300 سال ہے اور قمری کیلنڈر کے لحاظ سے 309 سال (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 151 ) قرآن نے لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا (کہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ غار میں کتناٹھہرے)۔ موجودہ زمانہ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے 196 سال تھی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے جو تمام اگلی پچھلی باتوں سے باخبر ہے۔ اور اسی علم کی بنا پر اس نے مذکورہ قول کو قبول نہیں کیا۔ قرآن اگر کوئی انسانی کلام ہوتا تو یقیناً وہ اپنے زمانہ کے مشہور قول کو لے لیتا جو بالآخر بعد کی تحقیق سے ٹکرا جاتا۔

قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا ۖ لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا

📘 قتادہ اور مطرف بن عبد اللہ کی تفسیر کے مطابق 300 سال یا 309 سال لوگوں کے قول کی حکایت ہے، نہ کہ خداکی طرف سے خبر۔ عبد اللہ بن مسعود کی قرأت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ اس زمانہ کے اہلِ کتاب غیر مستند قصوں کی بنیاد پر یہ سمجھتے تھے کہ غار میںاصحاب کہف کے قیام کی مدت شمسي کیلنڈر کے لحاظ سے 300 سال ہے اور قمری کیلنڈر کے لحاظ سے 309 سال (تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 151 ) قرآن نے لوگوں کے اس خیال کو نقل کیا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ کہہ کر اس کو بے بنیاد قرار دے دیا کہ قُلِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا (کہو کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ غار میں کتناٹھہرے)۔ موجودہ زمانہ کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ یہ مدت شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے 196 سال تھی۔ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے جو تمام اگلی پچھلی باتوں سے باخبر ہے۔ اور اسی علم کی بنا پر اس نے مذکورہ قول کو قبول نہیں کیا۔ قرآن اگر کوئی انسانی کلام ہوتا تو یقیناً وہ اپنے زمانہ کے مشہور قول کو لے لیتا جو بالآخر بعد کی تحقیق سے ٹکرا جاتا۔

وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ ۖ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا

📘 قدیم مکہ میں جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر بے آمیز دین کو اپنا دین بنایا تھا ان کے لیے یہ اقدام کوئی سادہ چیز نہ تھی۔ یہ مفادات سے وابستہ نظام کو چھوڑ کر ایک ایسے عقیدہ کا ساتھ دینا تھا جس سے بظاہر کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ پہلا گروہ نئے دین کو اختیار کرتے ہی وقت کے جمے ہوئے نظام سے کٹ گیا تھاجب کہ دوسرا گروہ پوری طرح وقت کے جمے ہوئے نظام کے زور پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلے گروہ کے پاس صرف خدا کی یاد کی باتیں تھیں جس کی اہمیت آخرت میں ظاہر ہوگی جب کہ دوسرا گروہ ان چیزوں کا مالک بنا ہوا تھا جس کی قیمت اسی دنیا کے بازار میں ہوتی ہے۔ یہ ظاہری فرق اگر داعی کو متاثر کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کی بے آمیز دعوت کی اہمیت اس کی نظرمیں کم ہوجائے گی۔ اور آمیزش والا دین اس کی نظر میں اہمیت اختیار کرلے گا جس کا علم بردار بن کر لوگ دنیا کی رونقیں حاصل کيے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بہت بڑی بھول ہے۔ کیوں کے یہ اس اصل مشن سے ہٹنا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ داعی اگر ایسا کرے تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائے گا۔ وہ خدا کی دنیا میں ایسا ہوجائے گا کہ کوئی درخت اس کو سایہ نہ دے اور کوئی پانی اس کی پیاس نہ بجھائے۔ چنانچہ ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد، اگر تم نے لوگوں کو قرآن نہ سنایا تو خداکے مقابلہ میں تمھارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (يَقُولُ إِنْ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ لَمْ تَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ، فَإِنَّهُ لَا مَلْجَأَ لَكَ مِنَ اللَّهِ كَمَا قَالَ تَعَالَىيَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [ 5:67 ]) تفسیر ابن کثیر، جلد 5 ، صفحہ 151 ۔

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا

📘 قدیم مکہ میں جن لوگوں نے پیغمبر کا ساتھ دے کر بے آمیز دین کو اپنا دین بنایا تھا ان کے لیے یہ اقدام کوئی سادہ چیز نہ تھی۔ یہ مفادات سے وابستہ نظام کو چھوڑ کر ایک ایسے عقیدہ کا ساتھ دینا تھا جس سے بظاہر کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔ پہلا گروہ نئے دین کو اختیار کرتے ہی وقت کے جمے ہوئے نظام سے کٹ گیا تھاجب کہ دوسرا گروہ پوری طرح وقت کے جمے ہوئے نظام کے زور پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلے گروہ کے پاس صرف خدا کی یاد کی باتیں تھیں جس کی اہمیت آخرت میں ظاہر ہوگی جب کہ دوسرا گروہ ان چیزوں کا مالک بنا ہوا تھا جس کی قیمت اسی دنیا کے بازار میں ہوتی ہے۔ یہ ظاہری فرق اگر داعی کو متاثر کردے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کی بے آمیز دعوت کی اہمیت اس کی نظرمیں کم ہوجائے گی۔ اور آمیزش والا دین اس کی نظر میں اہمیت اختیار کرلے گا جس کا علم بردار بن کر لوگ دنیا کی رونقیں حاصل کيے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بہت بڑی بھول ہے۔ کیوں کے یہ اس اصل مشن سے ہٹنا ہے جو خدا کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ داعی اگر ایسا کرے تو وہ خدا کی مدد سے محروم ہوجائے گا۔ وہ خدا کی دنیا میں ایسا ہوجائے گا کہ کوئی درخت اس کو سایہ نہ دے اور کوئی پانی اس کی پیاس نہ بجھائے۔ چنانچہ ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد، اگر تم نے لوگوں کو قرآن نہ سنایا تو خداکے مقابلہ میں تمھارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی (يَقُولُ إِنْ أَنْتَ يَا مُحَمَّدُ لَمْ تَتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ، فَإِنَّهُ لَا مَلْجَأَ لَكَ مِنَ اللَّهِ كَمَا قَالَ تَعَالَىيَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [ 5:67 ]) تفسیر ابن کثیر، جلد 5 ، صفحہ 151 ۔

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ۚ إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ۚ وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ ۚ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَاءَتْ مُرْتَفَقًا

📘 جو حق خدا کی طرف سے آتا ہے وہ آخری حد تک صداقت ہوتا ہے۔ اس لیے لوگوں کی رعایت سے اس میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ خدائی حق میں ترمیم کرنا گویا اس معیار کو تبدیل کرنا ہے۔جس پر جانچ کر ہر شخص کی حیثیت متعین کی جانے والی ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ خدائی حق میں ایسی ترمیم کی جائے کہ اس سے ان کی غلط روش کا جواز نکل آئے وہ گمراہی پر سرکشی کا اضافہ کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے لیے صرف سخت ترین سزا کا انتظار کرنا چاہيے۔

مَاكِثِينَ فِيهِ أَبَدًا

📘 قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔ خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا

📘 جو لوگ گھمنڈ، مصلحت اور ظاہر پرستی سے خالی ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدائی صداقت ان کے سامنے ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔ خواہ وہ صداقت ان کے جیسے ایک انسان کی زبان سے کیوں نہ ظاہر ہوئی ہو۔ وہ اپنے آپ کو حق کے آگے ڈال دیتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیتے ہیں، نہ کہ خود صداقت کو اپنی زندگی کے مطابق ڈھالنے لگیں۔ جو لوگ اس طرح حق پرستی کا ثبوت دیں وہ خدا کے محبوب بندے ہیں۔ان کو آخرت میں شاہانہ انعامات سے نوازا جائے گا۔

أُولَٰئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۚ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا

📘 جو لوگ گھمنڈ، مصلحت اور ظاہر پرستی سے خالی ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب خدائی صداقت ان کے سامنے ظاہر ہوتی ہے تو وہ اس کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔ خواہ وہ صداقت ان کے جیسے ایک انسان کی زبان سے کیوں نہ ظاہر ہوئی ہو۔ وہ اپنے آپ کو حق کے آگے ڈال دیتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیتے ہیں، نہ کہ خود صداقت کو اپنی زندگی کے مطابق ڈھالنے لگیں۔ جو لوگ اس طرح حق پرستی کا ثبوت دیں وہ خدا کے محبوب بندے ہیں۔ان کو آخرت میں شاہانہ انعامات سے نوازا جائے گا۔

۞ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا رَجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا

📘 ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔ یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔

كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا

📘 ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔ یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔

وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا

📘 ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔ یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔

وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا

📘 ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔ یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔

وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا

📘 ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔ یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔

قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا

📘 خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

لَٰكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا

📘 خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ إِنْ تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَوَلَدًا

📘 خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا

📘 قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔ خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔

فَعَسَىٰ رَبِّي أَنْ يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِنْ جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا

📘 خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

أَوْ يُصْبِحَ مَاؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِيعَ لَهُ طَلَبًا

📘 خدا کسی انسان کو دولت دے تو اس کو خدا کا شکرگزار بندہ بن کر رہنا چاہیے۔ لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو دولت مندی آدمی کے لیے سرکشی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذہن صحیح ہے تو مفلسی میں بھی آدمی خدا کو نہیں بھولتا۔ جو کچھ ملا ہے اس پر قانع رہ کر وہ امید رکھتا ہے کہ اس کا خدا اس کو مزید دے گا۔ آدمی اگر آنکھ کھول کر دنيا ميں رہے تو کبھی وہ سرکشی میں مبتلا نہ ہو۔ انسان ایک حقیر وجود کی حیثیت سے پرورش پاتا ہے۔ اس کو حادثات پیش آتے ہیں۔ اس کو بیماری اور بڑھاپا لاحق ہوتاہے۔ پانی اور دوسری چیزیں جن کے ذریعہ وہ اس دنیا میں اپنا ’’باغ‘‘ اگاتاہے ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے ذاتی قبضہ میں نہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ آدمی متواضع بن کر دنیا میں رہے۔ مگر ظالم انسان کسی چیز سے سبق نہیں لیتا۔ اس کو اس وقت تک ہوش نہیں آتا جب تک وہ ہر چیز سے محروم ہوکر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کے پاس عجز کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَىٰ مَا أَنْفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا

📘 آدمی ایک کام میں اپنی پونجی لگاتا ہے اور اپنی قابلیت صرف کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت اور میری پونجی کامیاب نتیجہ کے ساتھ میری طرف لوٹے گی۔ مگر مختلف قسم کے حادثات آتے ہیں اور اس کی امیدوں کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ آدمی کی کوئی بھی تدبیر یا اس کی کوئی بھی قابلیت اس کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔ خدا موجودہ دنیامیں بار بارا اس طرح کے نمونے دکھاتا ہے تاکہ انسان اس سے سبق لے۔ تاکہ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کو اہمیت دینے کی غلطی نہ کرے۔

وَلَمْ تَكُنْ لَهُ فِئَةٌ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مُنْتَصِرًا

📘 آدمی ایک کام میں اپنی پونجی لگاتا ہے اور اپنی قابلیت صرف کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت اور میری پونجی کامیاب نتیجہ کے ساتھ میری طرف لوٹے گی۔ مگر مختلف قسم کے حادثات آتے ہیں اور اس کی امیدوں کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ آدمی کی کوئی بھی تدبیر یا اس کی کوئی بھی قابلیت اس کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔ خدا موجودہ دنیامیں بار بارا اس طرح کے نمونے دکھاتا ہے تاکہ انسان اس سے سبق لے۔ تاکہ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کو اہمیت دینے کی غلطی نہ کرے۔

هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ ۚ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا

📘 آدمی ایک کام میں اپنی پونجی لگاتا ہے اور اپنی قابلیت صرف کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت اور میری پونجی کامیاب نتیجہ کے ساتھ میری طرف لوٹے گی۔ مگر مختلف قسم کے حادثات آتے ہیں اور اس کی امیدوں کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ آدمی کی کوئی بھی تدبیر یا اس کی کوئی بھی قابلیت اس کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔ خدا موجودہ دنیامیں بار بارا اس طرح کے نمونے دکھاتا ہے تاکہ انسان اس سے سبق لے۔ تاکہ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کو اہمیت دینے کی غلطی نہ کرے۔

وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُقْتَدِرًا

📘 دنیا آخرت کی تمثیل ہے۔ پانی پاکر زمین جب سر سبز ہوجاتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی، مگر اس کے بعد موسم بدلتا ہے اور سارا سبزہ سوکھ کر ختم ہو جاتاہے۔ یہی حال دنیا کی رونق کا ہے۔ موجودہ دنیا کی رونقیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ مگر یہ تمام رونقیں انتہائی عارضی ہیں۔ قیامت بہت جلد ان کو اس طرح ختم کردے گی کہ ایسا معلوم ہوگا جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ دنیا کی رونقیں باقی نہیں رہتیں مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اور وہ انسان کے نیک اعمال ہیں۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالنے سے باغ اگتا ہے اسی طرح اللہ کی یاد اور اللہ کی فرماں برداری سے بھی ایک باغ اگتاہے۔ اس باغ پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ مگر دنیوی باغ کے برعکس یہ دوسرا باغ آخرت میں اگتا ہے اور وہیں وہ اپنے اگانے والے کو ملے گا۔

الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا

📘 دنیا آخرت کی تمثیل ہے۔ پانی پاکر زمین جب سر سبز ہوجاتی ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح رہے گی، مگر اس کے بعد موسم بدلتا ہے اور سارا سبزہ سوکھ کر ختم ہو جاتاہے۔ یہی حال دنیا کی رونق کا ہے۔ موجودہ دنیا کی رونقیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ مگر یہ تمام رونقیں انتہائی عارضی ہیں۔ قیامت بہت جلد ان کو اس طرح ختم کردے گی کہ ایسا معلوم ہوگا جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ دنیا کی رونقیں باقی نہیں رہتیں مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اور وہ انسان کے نیک اعمال ہیں۔ جس طرح زمین میں بیج ڈالنے سے باغ اگتا ہے اسی طرح اللہ کی یاد اور اللہ کی فرماں برداری سے بھی ایک باغ اگتاہے۔ اس باغ پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ مگر دنیوی باغ کے برعکس یہ دوسرا باغ آخرت میں اگتا ہے اور وہیں وہ اپنے اگانے والے کو ملے گا۔

وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا

📘 موجودہ دنیا میں جو حالات جمع کيے گئے ہیں وہ محض امتحان کے لیے ہیں۔ امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد یہ حالات باقی نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد زمین کی ساری زندگی بخش خصوصیات ختم کردی جائیں گی۔ وہ ایسی خالی جگہ ہوجائے گی جہاں نہ کسی کے لیے اکڑنے کا سامان ہوگا اور نہ فخر کرنے کا۔ دنیا میں امتحان کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو اختیار کی فضا میں پارہا ہے۔ مگر قیامت اس فضاکو یکسر ختم کردے گی۔ اس دن لوگ بے یارومدد گار فضا میں اپنے رب کے پاس جمع کيے جائیں گے۔ تمام لوگ اپنے مالک کے سامنے اس کا فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ خدا کے پاس ہر شخص کی زندگی کا انتہائی مکمل ریکارڈ ہوگا۔ اس کے مطابق وہ کسی کو انعام دے گا اور کسی کے لیے سزا کا حکم سنائے گا۔ موجودہ دنیا میں انسان کی بیک وقت دو حالتیں ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ عاجز ہے اور دوسرے اعتبار سے آزاد۔ آدمی اگر اپنے عجز کو دیکھے تو اس کے اندر خدا کی طرف رجوع کا جذبہ پیدا ہوگا۔ مگر انسان صرف اپنی آزادی کی حالت کو دیکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غافل اور سرکش بن کر رہ جاتا ہے۔

وَعُرِضُوا عَلَىٰ رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّنْ نَجْعَلَ لَكُمْ مَوْعِدًا

📘 موجودہ دنیا میں جو حالات جمع کيے گئے ہیں وہ محض امتحان کے لیے ہیں۔ امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد یہ حالات باقی نہیں رہیں گے۔ اس کے بعد زمین کی ساری زندگی بخش خصوصیات ختم کردی جائیں گی۔ وہ ایسی خالی جگہ ہوجائے گی جہاں نہ کسی کے لیے اکڑنے کا سامان ہوگا اور نہ فخر کرنے کا۔ دنیا میں امتحان کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو اختیار کی فضا میں پارہا ہے۔ مگر قیامت اس فضاکو یکسر ختم کردے گی۔ اس دن لوگ بے یارومدد گار فضا میں اپنے رب کے پاس جمع کيے جائیں گے۔ تمام لوگ اپنے مالک کے سامنے اس کا فیصلہ سننے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ خدا کے پاس ہر شخص کی زندگی کا انتہائی مکمل ریکارڈ ہوگا۔ اس کے مطابق وہ کسی کو انعام دے گا اور کسی کے لیے سزا کا حکم سنائے گا۔ موجودہ دنیا میں انسان کی بیک وقت دو حالتیں ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ عاجز ہے اور دوسرے اعتبار سے آزاد۔ آدمی اگر اپنے عجز کو دیکھے تو اس کے اندر خدا کی طرف رجوع کا جذبہ پیدا ہوگا۔ مگر انسان صرف اپنی آزادی کی حالت کو دیکھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غافل اور سرکش بن کر رہ جاتا ہے۔

وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَٰذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا

📘 انسان جو کچھ کرتا ہے وہ سب خداکے انتظام کے تحت ریکارڈ ہو رہا ہے۔ آدمی کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کائناتی پردہ پر نقش ہورہے ہیں۔ تاہم یہ انتظام آج دکھائی نہیں دیتا۔ قیامت میں یہ اوٹ ہٹا دی جائے گی۔ اس وقت انسان یہ دیکھ کر دہشت زدہ رہ جائے گا کہ دنیا میں جو کچھ وہ یہ سمجھ کر کر رہا تھا کہ کوئی اس کو جاننے والا نہیں، وہ اتنے کامل طورپر یہاں مندرج ہے کہ اس کی فہرست سے نہ کوئی چھوٹی چیز بچی ہے اور نہ کوئی بڑی چیز۔ قیامت کے دن انسان کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا اس کی ہرچیز اتنی ثابت شدہ ہوگی کہ آدمی جب اپنے عمل کابدلہ پائے گا تو اس کو یقین ہوگا کہ اس کے ساتھ وہی کیا جارہا ہے جس کاوہ فی الواقع مستحق تھا، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔

مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ ۚ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۚ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا

📘 قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کا تصحیح شدہ اڈیشن(corrected version)ہے۔ پچھلی کتابوں میںیہ ہوا کہ بعد کے لوگوں نے موشگافیاں کرکے خدائی تعلیمات کو پُر پیچ بنا دیا۔ دوسرے یہ کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ ابتدائی تعلیم میں انحراف پیدا کیا گیا اور اس طرح اس کے رخ کو بدل دیاگیا۔ قرآن ان دونوں قسم کی انسانی آمیزشوں سے پاک ہے۔ اس میں ایک طرف اصل دین اپنی فطری سادگی کے ساتھ موجود ہے۔ دوسری طرف اس کا رخ سیدھا خدا کی طرف ہے، جیسا کہ باعتبار واقعہ ہونا چاہیے۔ خدا نے یہ اہتمام کیوں کیا کہ وہ دنیا والوں کے پاس اپنی کتاب بھیجے۔ اس کا مقصد لوگوں کو خدا کی اسکیم سے آگاہ کرنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس دنیا میں امتحان کی غرض سے آباد کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ہر ایک کا حساب لے گا۔ اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو جہنم میں ڈالے گا یا جنت کے ابدی باغوں میں بسائے گا۔ خدا چاہتاہے کہ ہرآدمی مو ت سے پہلے اس مسئلہ سے باخبر ہوجائے تاکہ کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ دنیا میں انسان کی گمراہی کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا بنا لیتاہے۔ اسی کی ایک قبیح صورت کسی کو خدا کا بیٹا فرض کرلینا ہے۔ مگر اس قسم کا ہر عقیدہ صرف ایک جھوٹ ہے کیوں کہ زمین وآسمان میں خدا کے سوا کوئی نہیں جس کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل ہو۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ ۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ ۚ بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا

📘 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس ایک عبادت گزار جن تھا۔ وہ بظاہر عابد وزاہد بنا ہوا تھا۔ مگر جب خدا نے آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا تووہ گھمنڈ کی بنا پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اب جو لوگ گھمنڈ کے جذبہ کے تحت حق کے سامنے جھکنے سے انکار کریں وہ سب ابلیس کی ذرّیت ہیں۔ خواہ وہ بظاہر عبادت گزارہی کیوں نہ دکھائی دیتے ہوں۔ خدا کے سامنے جھکنا دراصل خداکے مقابلہ میںاپنے عجز کا اقرار کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کے سامنے جھکنے والا ہو تو جہاں کہیں بھی اس کا سامنا حق سے ہوگا وہ فوراً جھک جائے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص ظاہری طورپر سجدہ گزار ہو مگر اپنے اندر گھمنڈ کی نفسیات لیے ہوئے ہو وہ ایسے موقع پر بآسانی سجدہ کر لے گا جہاں اس کی اَنا (ego)کو ٹھیس نہ لگتی ہو۔ مگر جہاں اَناکو جھکانے کی قیمت پر اپنے آپ کو جھکانا پڑے وہاں اچانک وہ سرکش بن جائے گا اور جھکنے سے انکار کردے گا۔ جب حق کی پکار اٹھے اور کچھ لوگ ابلیس اور اس کی ذریت کے اثر میں آکر اس کو قبول نہ کریں تو گویا وہ ابلیس اور اس کی ذرّیت کو خدا کا بدل بنا رہے ہیں۔ جہاں انھیں خدا کے ڈر سے حق کے آگے جھک جانا چاہیے تھا وہاں وہ جھوٹے معبودوں کے ڈر سے اس کے آگے جھکنے سے انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ بدترین ظالم ہیں۔ بہت جلد انھیں معلوم ہوجائے گا کہ خدا کو چھوڑ کر انھوںنے جن کے اوپر بھروسہ کیا تھا وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں۔

۞ مَا أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنْفُسِهِمْ وَمَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّينَ عَضُدًا

📘 لوگ اپنے جن بڑوں کو دنیا کی زندگی میں قابل بھروسہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اس قدر کمزور ہیں کہ نہ کائنات کے وجود میں ان کا کوئی دخل ہے، اور نہ خود اپنے وجود میں ۔ مزید یہ لوگ حق کی دعوت کے مقابلہ میں مضل (گمراہ کرنے والے) کا کردار ادا کرکے ثابت کررہے ہیں کہ وہ قطعاً قابل بھروسہ نہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر طرف حق کی کارفرمائی ہو، وہاں ایسی شخصیتیں کس طرح دخیل ہوسکتی ہیں جن کا واحد سرمایہ لوگوں کو حق سے دور کرنا ہے۔

وَيَوْمَ يَقُولُ نَادُوا شُرَكَائِيَ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَوْبِقًا

📘 دنیا میں جن شخصیتوں کے بل پر آدمی حق کا انکار کرتاہے، قیامت میں وہ اس کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ آج وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں مگر جب حقائق کھلیں گے تو دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ ایسا معلوم ہوگا گویا دونوں کے درمیان ہلاکت خیز رکاوٹ قائم ہوگئی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر قیامت میں ان کا انجام صرف یہ ہونے والا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا پائیں اور اس سے بھاگنے کی کوئی تدبیر نہ کرسکیں۔

وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُمْ مُوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُوا عَنْهَا مَصْرِفًا

📘 دنیا میں جن شخصیتوں کے بل پر آدمی حق کا انکار کرتاہے، قیامت میں وہ اس کے کچھ کام نہ آئیں گی۔ آج وہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں مگر جب حقائق کھلیں گے تو دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔ ایسا معلوم ہوگا گویا دونوں کے درمیان ہلاکت خیز رکاوٹ قائم ہوگئی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر قیامت میں ان کا انجام صرف یہ ہونے والا ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا پائیں اور اس سے بھاگنے کی کوئی تدبیر نہ کرسکیں۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا

📘 موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس بنا پر یہاں آدمی حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر پالیتاہے۔ ہر بات کو رد کرنے کے لیے اس کو کچھ نہ کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلی ہوئی دلیل کو بے معنی بحثوں سے کاٹنے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی وہ ایسا کرتاہے کہ جو دلیل دی گئی ہے اس کو نظر انداز کرکے ایک اور چیز کا تقاضا کرتاہے جو کسی وجہ سے ابھی پیش نہیں کی گئی۔ اس آخری صورت کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر نے اپنے مخاطبین کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ اپنا پیغام پیش کیا تو انھوںنے اس پر دھیان نہیں دیا بلکہ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہا کہ انکار کی صورت میں تم ہم کو جس عذاب کی خبر دے رہے ہو وہ کہاں ہے، اس کو لا کر ہمیں دکھاؤ۔

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ وَيَسْتَغْفِرُوا رَبَّهُمْ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا

📘 موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس بنا پر یہاں آدمی حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر پالیتاہے۔ ہر بات کو رد کرنے کے لیے اس کو کچھ نہ کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلی ہوئی دلیل کو بے معنی بحثوں سے کاٹنے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی وہ ایسا کرتاہے کہ جو دلیل دی گئی ہے اس کو نظر انداز کرکے ایک اور چیز کا تقاضا کرتاہے جو کسی وجہ سے ابھی پیش نہیں کی گئی۔ اس آخری صورت کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر نے اپنے مخاطبین کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ اپنا پیغام پیش کیا تو انھوںنے اس پر دھیان نہیں دیا بلکہ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہا کہ انکار کی صورت میں تم ہم کو جس عذاب کی خبر دے رہے ہو وہ کہاں ہے، اس کو لا کر ہمیں دکھاؤ۔

وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ۚ وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ ۖ وَاتَّخَذُوا آيَاتِي وَمَا أُنْذِرُوا هُزُوًا

📘 خدا کی بات سب سے زیادہ سچی بات ہے۔ تمام بہترین دلائل اس کی موافقت کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ کوئی حقیقی دلیل نہیں پاتے جس کے ذریعہ وہ اسے رد کرسکیں۔ ان کے پاس ہمیشہ صرف بے اصل باتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔وہ ٹھوس دلائل کا مقابلہ جھوٹے اعتراضات سے کرتے ہیں۔ وہ سنجیدہ کام کو مذاق میں گم کردینا چاہتے ہیں۔ یہ سب وہ اس لیے کرتے ہیں کہ داعی کو عوام کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرسکیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کررہے ہیں۔ آدمی کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ مگر جب وہ اپنی سوجھ بوجھ کو غلط رخ پر استعمال کرتاہے تو اس کا ذہن اسی غلط رخ پر چل پڑتاہے جس رخ پر اس نے اس کو چلایا ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھے۔ اور اس کی واقعی اہمیت کو سمجھ سکے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بے آنکھ ہوجاتاہے۔ وہ کان رکھتے ہوئے بے کان ہوجاتاہے۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ فَأَعْرَضَ عَنْهَا وَنَسِيَ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ ۚ إِنَّا جَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۖ وَإِنْ تَدْعُهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ فَلَنْ يَهْتَدُوا إِذًا أَبَدًا

📘 خدا کی بات سب سے زیادہ سچی بات ہے۔ تمام بہترین دلائل اس کی موافقت کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ کوئی حقیقی دلیل نہیں پاتے جس کے ذریعہ وہ اسے رد کرسکیں۔ ان کے پاس ہمیشہ صرف بے اصل باتیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اس کو زیر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔وہ ٹھوس دلائل کا مقابلہ جھوٹے اعتراضات سے کرتے ہیں۔ وہ سنجیدہ کام کو مذاق میں گم کردینا چاہتے ہیں۔ یہ سب وہ اس لیے کرتے ہیں کہ داعی کو عوام کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرسکیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کررہے ہیں۔ آدمی کو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ مگر جب وہ اپنی سوجھ بوجھ کو غلط رخ پر استعمال کرتاہے تو اس کا ذہن اسی غلط رخ پر چل پڑتاہے جس رخ پر اس نے اس کو چلایا ہے۔ اس کے بعد اس کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھے۔ اور اس کی واقعی اہمیت کو سمجھ سکے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بے آنکھ ہوجاتاہے۔ وہ کان رکھتے ہوئے بے کان ہوجاتاہے۔

وَرَبُّكَ الْغَفُورُ ذُو الرَّحْمَةِ ۖ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ ۚ بَلْ لَهُمْ مَوْعِدٌ لَنْ يَجِدُوا مِنْ دُونِهِ مَوْئِلًا

📘 آدمی حق کے مقابلہ میں سرکشی کرتاہے تو اس کو فوراً اس کی سزا نہیں ملتی۔ اس سے غلط فہمی میں پڑ کر وہ اپنے کو آزاد سمجھ لیتاہے اور مزید سرکشی کرنے لگتا ہے۔ حالاں کہ یہ نہ پکڑا جانا، امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے، نہ کہ آزادی اور خود مختاری کی بنا پر۔ آدمی سبق لینا چاہے تو ماضی کا انجام اس کے سامنے موجود ہے جس سے وہ حال کے لیے سبق لے سکتاہے۔ سطح زمین پر بار بار مختلف قومیں اور تہذیبیں ابھر ی ہیں اور تباہ کردی گئی ہیں۔ جب پچھلی نسلوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ انھیں ان کی سرکشی کی سزا ملی تو اگلی نسلوں کے ساتھ یہی واقعہ کیوں نہیں ہوگا۔

وَتِلْكَ الْقُرَىٰ أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَوْعِدًا

📘 آدمی حق کے مقابلہ میں سرکشی کرتاہے تو اس کو فوراً اس کی سزا نہیں ملتی۔ اس سے غلط فہمی میں پڑ کر وہ اپنے کو آزاد سمجھ لیتاہے اور مزید سرکشی کرنے لگتا ہے۔ حالاں کہ یہ نہ پکڑا جانا، امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے، نہ کہ آزادی اور خود مختاری کی بنا پر۔ آدمی سبق لینا چاہے تو ماضی کا انجام اس کے سامنے موجود ہے جس سے وہ حال کے لیے سبق لے سکتاہے۔ سطح زمین پر بار بار مختلف قومیں اور تہذیبیں ابھر ی ہیں اور تباہ کردی گئی ہیں۔ جب پچھلی نسلوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ انھیں ان کی سرکشی کی سزا ملی تو اگلی نسلوں کے ساتھ یہی واقعہ کیوں نہیں ہوگا۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِنْ لَمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا

📘 شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے— یہ جملہ بتاتا ہے کہ داعی اگر دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتو شدت احساس سے اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ حق کا اتمام اس انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے جب یہ کہا جانے لگے کہ داعی شاید اس غم میں اپنے کو ہلاک کرلے گا کہ لوگ حق کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ ایک دعوت جو دلیل کے اعتبار سے انتہائی واضح ہو، جس کو پیش کرنے والا درد مندی کی آخری حد پر پہنچ کر اس کو لوگوں کے لیے سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنا دے، اس کے باوجود لوگ اسے نہ مانیں تو اس نہ ماننے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ دنیا کی دل فریبیاں ہیں۔ موجودہ دنیا اتني پُر کشش ہے کہ آدمی اس سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ اس لیے وہ ایسی دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا جو اس کی توجہات کو سامنے کی دنیا سے ہٹا کر اس دنیا کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔ مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَاهُ لَا أَبْرَحُ حَتَّىٰ أَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِيَ حُقُبًا

📘 خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔ حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا

📘 خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔ حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَٰذَا نَصَبًا

📘 خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔ حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔

قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا

📘 حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔

قَالَ ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَارْتَدَّا عَلَىٰ آثَارِهِمَا قَصَصًا

📘 حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا

📘 حضرت موسیٰکو مزید علامت یہ بتائی گئی تھی کہ تم جب مطلوبہ مقام پر پہنچوگے تو تمھارے ناشتہ کی مچھلی عجیب طریقہ سے پانی میں چلی جائے گی۔ یہ واقعہ ایک مقام پر ہوا۔ مگر مچھلی شاگرد کے ساتھ تھی اور شاگرد کسی وجہ سے حضرت موسیٰ کو بتا نہ سکا کہ ایسا واقعہ ہواہے۔ کچھ آگے بڑھنے کے بعد جب موسیٰکو معلوم ہوا تو وہ فوراً واپس ہوئے اور مذکورہ مقام پر اس بندہ (خضر) کو پالیا جس سے ملنے کے لیے انھوں نے یہ لمبا سفر کیا تھا۔

قَالَ لَهُ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا

📘 اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔

قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا

📘 اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔

وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا

📘 اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔

قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا

📘 اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔

إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا

📘 شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے— یہ جملہ بتاتا ہے کہ داعی اگر دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتو شدت احساس سے اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ حق کا اتمام اس انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے جب یہ کہا جانے لگے کہ داعی شاید اس غم میں اپنے کو ہلاک کرلے گا کہ لوگ حق کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ ایک دعوت جو دلیل کے اعتبار سے انتہائی واضح ہو، جس کو پیش کرنے والا درد مندی کی آخری حد پر پہنچ کر اس کو لوگوں کے لیے سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنا دے، اس کے باوجود لوگ اسے نہ مانیں تو اس نہ ماننے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ دنیا کی دل فریبیاں ہیں۔ موجودہ دنیا اتني پُر کشش ہے کہ آدمی اس سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ اس لیے وہ ایسی دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا جو اس کی توجہات کو سامنے کی دنیا سے ہٹا کر اس دنیا کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔ مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔

قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا

📘 اس بندہ (خضر) کو خدا نے خصوصی علم اور طاقت عطا کی تھی تاکہ اس کے مطابق وہ دنیا کے معاملات میں غیرمعمولی تصرف کرسکیں۔ اس علم کے تحت وہ اکثر اوقات عام ضابطہ کے خلاف عمل کرتے تھے۔ اس لیے حضرت موسیٰ کی فرمائش پر انھوںنے کہا کہ تم اس کی برداشت نہیں لاسکتے۔

فَانْطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا ۖ قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا

📘 اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔ اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔

قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا

📘 اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔ اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا

📘 اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔ اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔

فَانْطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا

📘 اچھی کشتی کو عیب دار بنانا اور چھوٹے بچہ کو ہلاک کرنا بظاہر ایسے کام ہیں جو صحیح نہیں۔ مگر جیسا کہ آگے کی آیات بتاتی ہیں، اس میں نہایت گہری مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہ بظاہر غلط کام حقیقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور مفید کام تھے۔ اس میں اس مسئلہ کا بھی ایک جواب ہے جس کو عام طورپر خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہاجاتاہے۔ انسانی دنیا کی بہت سی چیزیں جن کو دیکھ کر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ دنیا کے نظام میں خرابیاں ہیں، وہ گہری مصلحت پر مبنی ہوتی ہیں۔ موجودہ زندگی میں یقیناً اس مصلحت پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں یہ پردہ باقی نہ رہے گا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا بھی چاہیے تھا۔

۞ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا

📘 حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔ اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔

قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا

📘 حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔ اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔

فَانْطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا

📘 حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔ اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔

قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا

📘 حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔ اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔

أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا

📘 حضرت خضر نے کشتی کو بیکار نہیں کیا تھا بلکہ وقتی طورپر اس کو عیب دار بنا دیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ کشتی جس طرف جارہی تھی اس طرف آگے ایک بادشاہ تھا جو غالباً اپنی کسی جنگی مہم کے لیے اچھی کشتیوں کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے رہا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو ایسا بنا دیا کہ بادشاہ کے کارندے اس کو دیکھیں تو اس کو ناقابلِ توجہ سمجھ کر اسے چھوڑ دیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ بددل نہ ہو۔ وہ یہ سوچ کر اس پر راضی ہوجائے کہ خدا نے جو کچھ کیا ہے اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ چھپا ہوگا، اگر چہ وہ ابھی اس سے پوری طرح باخبر نہیں۔

وَإِنَّا لَجَاعِلُونَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا

📘 شاید تم اپنے کو ہلاک کرڈالو گے— یہ جملہ بتاتا ہے کہ داعی اگر دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتو شدت احساس سے اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوتِ حق کا اتمام اس انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے جب یہ کہا جانے لگے کہ داعی شاید اس غم میں اپنے کو ہلاک کرلے گا کہ لوگ حق کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ ایک دعوت جو دلیل کے اعتبار سے انتہائی واضح ہو، جس کو پیش کرنے والا درد مندی کی آخری حد پر پہنچ کر اس کو لوگوں کے لیے سنجیدہ غور وفکر کا موضوع بنا دے، اس کے باوجود لوگ اسے نہ مانیں تو اس نہ ماننے کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ دنیا کی دل فریبیاں ہیں۔ موجودہ دنیا اتني پُر کشش ہے کہ آدمی اس سے اوپر اٹھ نہیں پاتا۔ اس لیے وہ ایسی دعوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا جو اس کی توجہات کو سامنے کی دنیا سے ہٹا کر اس دنیا کی طرف لے جار ہی ہے جس کی رونقیں بظاہر دکھائی نہیں دیتیں۔ مگر زمین کی دل فریبیاں انتہائی عارضی ہیں۔ وہ امتحان کی ایک مقرر مدت تک ہیں۔ اس کے بعد زمین کی یہ حیثیت ختم کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ صحراکی طرح بس ایک خشک میدان ہو کر رہ جائے گی۔

وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا

📘 لڑکے کی یہ مثال بتاتی ہے کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کہاں کہاں کرتا ہے۔ حتی کہ وہ ایسے معاملہ میں بھی ان کی مدد کرتاہے جس کا انھیںعلم تک نہیں ہوتا کہ وہ ا س کے لیے اپنے رب سے درخواست کرسکیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ صبر شکر کارویہ اختیار کرے۔ وہ ہر حال میں خدا سے خیر کی امید رکھے۔ خدا کلی علم رکھتا ہے، اس لیے وہ کسی بندے کی بھلائی کو اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا انسان جزئی علم کی بنا پر نہیں جان سکتا۔

فَأَرَدْنَا أَنْ يُبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا

📘 لڑکے کی یہ مثال بتاتی ہے کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کہاں کہاں کرتا ہے۔ حتی کہ وہ ایسے معاملہ میں بھی ان کی مدد کرتاہے جس کا انھیںعلم تک نہیں ہوتا کہ وہ ا س کے لیے اپنے رب سے درخواست کرسکیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ صبر شکر کارویہ اختیار کرے۔ وہ ہر حال میں خدا سے خیر کی امید رکھے۔ خدا کلی علم رکھتا ہے، اس لیے وہ کسی بندے کی بھلائی کو اس سے زیادہ جانتا ہے جتنا انسان جزئی علم کی بنا پر نہیں جان سکتا۔

وَأَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَنْ يَبْلُغَا أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرِي ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا

📘 ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا ہر وقت موجودہ دنیا کي نگرانی کررہا ہے۔ اس نے اگرچہ امتحان کی مصلحت کی بناپر اس دنیا کا نظام اسباب وعلل کے تحت قائم کررکھا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ اس نظام میں بار بار مداخلت کرتا رہتا ہے۔ خدا کہیں تعمیر کا طریقہ اختیار کرتاہے اور کہیں بظاہر تخریب کا۔ مگر وسیع تر مصلحت کے اعتبار سے سب اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور اس بات کا تیقن حاصل کرنا ہوتاہے کہ اسباب کی آزادانہ گردش میں تخلیق کے اصل مقاصد فوت نہ ہونے پائیں۔

وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ ۖ قُلْ سَأَتْلُو عَلَيْكُمْ مِنْهُ ذِكْرًا

📘 ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا۔ یعنی وہ بادشاہ جس کی فتوحات کا سلسلہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق ومغرب) تک پہنچا ہوا تھا۔ یہاں ذوالقرنین سے مراد غالباً قدیم ایرانی بادشاہ خسرو (Cyrus) ہے۔ اس کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس نے قدیم آباد دنیا کا بڑا حصہ فتح کرڈالا تھا۔ اور بالآخر ایک جنگ میں مارا گیا۔ وہ نہایت منصف اور عادل بادشاہ تھا۔

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَاهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا

📘 ذوالقرنین کے لفظی معنی ہیں دو سینگوں والا۔ یعنی وہ بادشاہ جس کی فتوحات کا سلسلہ دنیا کے دونوں کناروں (مشرق ومغرب) تک پہنچا ہوا تھا۔ یہاں ذوالقرنین سے مراد غالباً قدیم ایرانی بادشاہ خسرو (Cyrus) ہے۔ اس کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس نے قدیم آباد دنیا کا بڑا حصہ فتح کرڈالا تھا۔ اور بالآخر ایک جنگ میں مارا گیا۔ وہ نہایت منصف اور عادل بادشاہ تھا۔

فَأَتْبَعَ سَبَبًا

📘 ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔ ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَوَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا ۗ قُلْنَا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا

📘 ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔ ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُكْرًا

📘 ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔ ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءً الْحُسْنَىٰ ۖ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا

📘 ذوالقرنین غالباً ایران کے مغرب میں فتوحات کرتا ہوا ایشیا مائنر تک پہنچ گیا جہاں ایجین سمندر (Aegean Sea) کا’’سیاہ پانی‘‘ خشکی کی حد بندی کررہا ہے۔ یہاں ایک شخص ساحل کے کنارے کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھے تو شام کے وقت اس کو نظر آئے گا گویا کہ سورج کا گولا پانی میں داخل ہوکر اس کے اندر ڈوب رہاہے۔ یہ تمثيلي زبان (metaphorical language)میں اس حد کا بیان ہے جہاں تک ذوالقرنین پہنچا تھا۔ ذوالقرنین سمندر کے اس کنارے تک بطور سیاح نہیں آیا تھا بلکہ بطور فاتح آیا تھا۔ یہاں اس وقت جو قوم آباد تھی اس کے اوپر اس کو پورا اختیار مل گیا۔ اس کے اوپر اس کی حکومت قائم ہوگئی۔ بحیثیت حکمراں اس کو کامل اختیار حاصل تھا کہ اس کے ساتھ جو چاہے کرے۔ تاہم ذو القرنین ایک عادل بادشاہ تھا۔ اس نے کسی پر کوئی ظلم نہیںکیا۔ اس نے عام اعلان کردیا کہ ہم صرف اس شخص کے ساتھ سختی کریں گے جو برائی کرتا ہوا پایا جائے۔ جو لوگ امن ونظم کے ساتھ رہیں گے ان کے اوپر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا

📘 ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور تعمیر شدہ مکانات میں رہنے کے بجائے کھلے میدانوں میں زندگی گزارتے تھے۔

أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا

📘 اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔ کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔ اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 139 )

حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَىٰ قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا

📘 ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور تعمیر شدہ مکانات میں رہنے کے بجائے کھلے میدانوں میں زندگی گزارتے تھے۔

كَذَٰلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا

📘 ذوالقرنین کی دوسری مہم ایران کے مشرق کی طرف تھی۔ وہ فتوحات کرتا ہوا آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاںبالکل غیر متمدن لوگ بستے تھے۔ ’’ان کے اور آفتاب کے درمیان آڑ نہیں تھی‘‘ کا مطلب غالباً یہ ہے وہ خانہ بدوش تھے اور تعمیر شدہ مکانات میں رہنے کے بجائے کھلے میدانوں میں زندگی گزارتے تھے۔

ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا

📘 ذوالقرنین کی تیسری مہم غالباً ایران کے شمال مشرق کی جانب تھی۔ وہ ایسے علاقہ میں پہنچا جہاں بالکل وحشی قسم کے لوگ آباد تھے۔ دوسری قوموں سے ان کا میل جول نہیں ہوسکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی اور زبان مشکل ہی سے سمجھ پاتے تھے۔ یہ غالباً بحر کیسپین اور بحر اسود کے درمیان کے پہاڑ تھے۔ یہاں وحشی قبائل دوسری طرف سے آکر غارت گری کرتے اور پھر پہاڑی درہ کے راستے سے بھاگ جاتے۔ ذوالقرنین نے یہاں دونوں پہاڑوں کے درمیان آہنی دیوار کھڑی کردی۔

حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا

📘 ذوالقرنین کی تیسری مہم غالباً ایران کے شمال مشرق کی جانب تھی۔ وہ ایسے علاقہ میں پہنچا جہاں بالکل وحشی قسم کے لوگ آباد تھے۔ دوسری قوموں سے ان کا میل جول نہیں ہوسکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی اور زبان مشکل ہی سے سمجھ پاتے تھے۔ یہ غالباً بحر کیسپین اور بحر اسود کے درمیان کے پہاڑ تھے۔ یہاں وحشی قبائل دوسری طرف سے آکر غارت گری کرتے اور پھر پہاڑی درہ کے راستے سے بھاگ جاتے۔ ذوالقرنین نے یہاں دونوں پہاڑوں کے درمیان آہنی دیوار کھڑی کردی۔

قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَىٰ أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا

📘 ذوالقرنین کی تیسری مہم غالباً ایران کے شمال مشرق کی جانب تھی۔ وہ ایسے علاقہ میں پہنچا جہاں بالکل وحشی قسم کے لوگ آباد تھے۔ دوسری قوموں سے ان کا میل جول نہیں ہوسکا تھا۔ چنانچہ وہ کوئی اور زبان مشکل ہی سے سمجھ پاتے تھے۔ یہ غالباً بحر کیسپین اور بحر اسود کے درمیان کے پہاڑ تھے۔ یہاں وحشی قبائل دوسری طرف سے آکر غارت گری کرتے اور پھر پہاڑی درہ کے راستے سے بھاگ جاتے۔ ذوالقرنین نے یہاں دونوں پہاڑوں کے درمیان آہنی دیوار کھڑی کردی۔

قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا

📘 موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔ دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔

آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا سَاوَىٰ بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا

📘 موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔ دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔

فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا

📘 موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔ دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔

قَالَ هَٰذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي ۖ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا

📘 موجودہ اشتراکی روس کے علاقہ میں قفقاز پہاڑ (Caucasus Mountains) واقع ہیں۔ ان کا سلسلہ کیسپین سمندر اور بلیک سمندر کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ہیں جو یورپ اور ایشیا کے درمیان قدرتی دیوار کا کام دیتے ہیں۔ اس کوہستانی سلسلہ میں بعض مقامات پر درے تھے جن سے جنوب کے علاقہ سے یاجوج ماجوج کے وحشی قبائل شمال کی طرف آجاتے اور ایرانی مملکت کے حصہ میں غارت گری کرتے۔ یہاں پر آج بھی ایک قدیم دیوار کے آثار موجود ہیں۔ اغلب ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو ذوالقرنین نے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کی تھی۔ دشمن کے مقابلہ میں ’’لوہے کی دیوار‘‘ کھڑی کرنا ایک ایسا کارنامہ ہے جس پر عام طورپر لوگوں میں فخر اور گھمنڈ کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ مگر ذوالقرنین نے ایسی ناقابل تسخیر دیوار کھڑی کرنے کے بعد بھی اپنی تواضع نہیں کھوئی اس کی نظر اپنی مصنوعات پر نہیں تھی بلکہ خدا کے اختیارات پر تھی اور خدا کے مقابلہ میں کسی انسان کو کوئی زور حاصل نہیں۔

۞ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ ۖ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا

📘 قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔ آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔