🕋 تفسير سورة النجم
(An-Najm) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
أَمْ لِلْإِنْسَانِ مَا تَمَنَّىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
۞ وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ
📘 پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَىٰ
📘 پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا
📘 پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
فَأَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّىٰ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
📘 پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ
📘 پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔
جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى
📘 کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ
📘 کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔
أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ
📘 بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔
پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔
وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ
📘 دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
📘 دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ
📘 دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
مِنْ نُطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ
📘 دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ
📘 دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ
📘 دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ
📘 دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔
عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ
📘 ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ
📘 ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ
📘 ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ
📘 ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ
📘 ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ
📘 ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔
هَٰذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ
📘 پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
أَزِفَتِ الْآزِفَةُ
📘 پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ
📘 پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
أَفَمِنْ هَٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ
📘 پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ
📘 پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ
📘 پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ۩
📘 پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔
وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ
📘 لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔
’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔