🕋 تفسير سورة الطلاق
(At-Talaq) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا
📘 اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا
📘 وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ قَدْ أَحْسَنَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا
📘 وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا
📘 وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
📘 اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
📘 اسلام میں استثنائی طور پر طلاق کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کا ایک طریقِ کار مقرر کیا گیا ہے جو خاص وقفہ کے درمیان پورا ہوتا ہے۔ اس طرح طلاق کے عمل کو کچھ حدود کا پابند کردیا گیا ہے۔ ان حدود کا مقصد یہ ہے کہ فریقین کے درمیان آخروقت تک واپسی کا موقع باقی رہے۔ اور طلاق کا واقعہ کسی قسم کے خاندانی یا سماجی فساد کا ذریعہ نہ بنے— وہی طلاق اسلامی طلاق ہے جس کے پورے عمل کے دوران خدا کے خوف کی روح جاری و ساری رہے۔
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا
📘 شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔
ذَٰلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنْزَلَهُ إِلَيْكُمْ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا
📘 شریعت نے طلاق اور دوسرے معاملات میں انسان کو کچھ ضوابط کا پابند کیا ہے۔ یہ ضوابط بظاہر انسان کی آزادانہ طبیعت کے لیے رکاوٹ ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ نعمت ہیں۔ ان ضوابط کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی بہت سے غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر نقصان کی تلافی کسی نہ کسی طرح کی جاتی ہے۔ تاہم یہ تلافی صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جو فطرت کے دائرہ سے باہر نہ جائے۔
أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوفٍ ۖ وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ
📘 اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔
لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ ۖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
📘 اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔
وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُكْرًا
📘 وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔
فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا
📘 وَمِنَ ٱلْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ سے مراد اگر سات زمینیں ہیں تو علم الافلاک (Astronomy)ابھی تک اس تعداد کو دریافت نہیں کرسکا ہے۔ انسانی معلومات کے مطابق، تادم تحریر، موجودہ زمین ساری کائنات میں ایک استثناء ہے۔ اس لیے یہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس آیت کا واقعی مطلب کیا ہے۔
’’تاکہ تم جانو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘—اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ کو انسان سے اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ ’’علم‘‘ ہے، یعنی ذات خداوندی کا شعور۔ کائنات کا عظیم کارخانہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اس کے ذریعہ خالق کو پہچانے وہ اس کے ذریعہ خدا کی بے پایاں قدرت کی معرفت حاصل کرے ۔