🕋 تفسير سورة عبس
(Abasa) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
بِأَيْدِي سَفَرَةٍ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
كِرَامٍ بَرَرَةٍ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنْشَرَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَعِنَبًا وَقَضْبًا
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَحَدَائِقَ غُلْبًا
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَفَاكِهَةً وَأَبًّا
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ
📘 سچائی کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں سرکشی دکھانا سب سے بڑا جرم ہے، ایسے لوگ آخرت میں بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائیں گے۔ اور جو لوگ سچائی کا اعتراف کریں اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں وہی آخرت میں با قیمت انسان ٹھہریں گے۔ آخرت کی عزتیں اور کامیابیاں صرف ایسے ہی لوگوں کا حصہ ہوں گی۔
أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔
وَهُوَ يَخْشَىٰ
📘 انسان سے جو خدا پرستی مطلوب ہے، اس کا محرک اصلاً شکر ہے۔ انسان اپنی تخلیق کو سوچے اور اپنے گردوپیش کے قدرتی انتظامات پر غور کرے تو لازماً اس کے اندر اپنے رب کے بارے میں شکر کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اس شکر اور احسان مندی کے جذبہ کے تحت جس عمل کا ظہور ہوتا ہے اسی کا نام خدا پرستی ہے۔