🕋 تفسير سورة الرعد
(Ar-Rad) • المصدر: UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ المر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ ۗ وَالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
📘 سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات آتے ہیں ان کی پوری تشریح سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں لکھ آئے ہیں۔ اور یہ بھی ہم کہہ آئے ہیں کہ جس سورت کے اول میں یہ حروف آئے ہیں وہاں عموما یہی بیان ہوتا ہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اس میں کوئی شک و شبہ نیہں۔ چناچہ یہاں بھی ان حروف کے بعد فرمایا یہ کتاب کی یعنی قرآن کی آیتیں ہیں۔ بعض نے کہا مراد کتاب سے توراۃ انجیل ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں۔ پہر اسی پر عطف ڈال کر اور صفتیں اس پاک کتاب کی بیان فرمائیں کہ یہ سراسر حق ہے اور اللہ کی طرف سے تجھ پر اتارا گیا ہے۔ الحق خبر ہے اس کا مبتدا پہلے بیان ہوا ہے یعنی الذی انزل الیک لیکن ابن جریر ؒ کا پسندیدہ قول لائے ہیں۔ پھر فرمایا کہ باوجود حق ہونے کے پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس سے پہلے گزرا ہے کہ گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان قبول کرنے والے نہیں۔ یعنی اس کی حقانیت واضح ہے لیکن ان کی ضد، ہٹ دھری اور سرکشی انہیں ایمان کی طرف متوجہ نہ ہونے دے گی۔
سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ
📘 سب پہ محیط علم اللہ کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، پست اور بلند ہر آواز وہ سنتا ہے چھپا کھلا سب جانتا ہے۔ تم چھپاؤ یا کھولو اس سے مخفی نہیں۔ حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں (قد سمع اللہ) الخ اتاریں یعنی اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا۔ وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو وہ اور جو دن کے وقت کھلم کھلا آباد راستوں میں چلا جا رہا ہو وہ علم اللہ میں برابر ہیں۔ جیسے آیت (اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ ۭ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) میں فرمایا ہے اور آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ) 61) 10۔ یونس :61) میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارے کسی کام کے وقت ہم ادھر ادھر نہیں ہوتے، کوئی ذرہ ہماری معلومات سے خارج نہیں۔ اللہ کے فرشتے بطور نگہبان اور چوکیدار کے بندوں کے ارد گرد مقرر ہیں، جو انہیں آفتوں سے اور تکلیفوں سے بچاتے رہتے ہیں جیسے کہ اعمال پر نگہبان فرشتوں کی اور جماعت ہے، جو باری باری پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے الگ دن کے الگ۔ اور جیسے کہ دو فرشتے انسان کے دائیں بائیں اعمال لکھنے پر مقرر ہیں، داہنے والا نیکیاں لکھتا ہے بائیں جانب والا بدیاں لکھتا ہے۔ اسی طرح دو فرشتے اس کے آگے پیچھے ہیں جو اس کی حفاظت و حراست کرتے رہتے ہیں۔ پس ہر انسان ہر وقت چار فرشتوں میں رہتا ہے، دو کاتب اعمال دائیں بائیں دو نگہبانی کرنے والے آگے پیچھے، پھر رات کے الگ دن کے الگ۔ چناچہ حدیث میں ہے تم میں فرشتے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے اور دن کے ان کا میل صبح اور عصر کی نماز میں ہوتا ہے رات گزارنے والے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ باوجود علم کے اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم گئے تو انہیں نماز میں پایا اور آئے تو نماز میں چھوڑ آئے۔ اور حدیث میں ہے تمہارے ساتھ وہ ہیں جو سوا پاخانے اور جماع کے وقت کے تم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پس تمہیں ان کا لحاظ، ان کی شرم، ان کا اکرام اور ان کی عزت کرنی چاہئے۔ پس جب اللہ کو کوئی نقصان بندے کو پہنچانا منظور ہوتا ہے۔ بقول ابن عباس محافظ فرشتے اس کام کو ہوجانے دیتے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں ہر بندے کے ساتھ اللہ کی طرف سے موکل ہے جو اسے سوتے جاگتے جنات سے انسان سے زہریلے جانوروں اور تمام آفتوں سے بچاتا رہتا ہے ہر چیز کو روک دیتا ہے مگر وہ جسے اللہ پہنچانا چاہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ دنیا کے بادشاہوں امیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو پہرے چوکی میں رہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں کہ سلطان اللہ کی نگہبانی میں ہوتا ہے امر اللہ سے یعنی مشرکین اور ظاہرین سے۔ واللہ اعلم۔ ممکن ہے غرض اس قول سے یہ ہو کہ جیسے بادشاہوں امیروں کی چوکیداری سپاہی کرتے ہیں اسی طرح بندے کے چوکیدار اللہ کی طرف سے مقرر شدہ فرشتے ہوتے ہیں۔ ایک غریب روایت میں تفسیر ابن جریر میں وارد ہوا ہے کہ حضرت عثمان ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا کہ فرمائیے بندے کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ایک تو دائیں جانب نیکیوں کا لکھنے والا جو بائیں جانب والے پر امیر ہے جب تو کوئی نیکی کرتا ہے وہ ایک کی بجائے دس لکھ لی جاتی ہیں جب تو کوئی برائی کرے تو بائیں جانب والا دائیں والے سے اس کے لکھنے کی اجازت طلب کرتا ہے وہ کہتا ہے ذرا ٹھر جاؤ شاید یہ توبہ واستغفار کرلے تین مرتبہ وہ اجازت مانگتا ہے تب تک بھی اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ نیکی کا فرشتہ اس سے کہتا ہے اب لکھ لے اللہ ہمیں اس سے بچائے یہ تو بڑا برا ساتھی ہے۔ اسے اللہ کا لحاظ نہیں یہ اس سے نہیں شرماتا۔ اللہ کا فرمان ہے کہ انسان جو بات زبان پر لاتا ہے اس پر نگہبان متعین اور مہیا ہیں۔ اور دو فرشتے تیرے آگے پیچھے ہیں فرمان الہٰی ہے لہ معقبات الخ اور ایک فرشتہ تیرے ماتھے کا بال تھامے ہوئے ہے جب تو اللہ کے لئے تواضع اور فروتنی کرتا ہے وہ تجھے پست اور عاجز کردیتا ہے اور دو فرشتے تیرے ہونٹوں پر ہیں، جو درود تو مجھ پر پڑھتا ہے اس کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ ایک فرشتہ تیرے منہ پر کھڑا ہے کہ کوئی سانپ وعیر جیسی چیز تیرے حلق میں نہ چلی جائے اور دو فرشتے تیری آنکھوں پر ہیں، پس یہ دس فرشتے ہر بنی آدم کے ساتھ ہیں پھر دن کے الگ ہیں۔ اور رات کے الگ ہیں یوں ہر شخص کے ساتھ بیس فرشتے منجانب اللہ موکل ہیں۔ ادھر بہکانے کے لئے دن بھر تو ابلیس کی ڈیوٹی رہتی ہے اور رات کو اس کی اولاد کی۔ مسند احمد میں ہے تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جن ساتھی ہے اور فرشتہ ساتھی ہے لوگوں نے کہا آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں لیکن اللہ نے اس پر میری مدد کی ہے، وہ مجھے بھلائی کے سوا کچھ نہیں کہتا (مسلم) یہ فرشتے بحکم رب اس کی نگہبانی رکھتے ہیں۔ بعض قرأتوں میں من امر اللہ کے بدلے بامر اللہ ہے کعب کہتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے لئے ہر نرم وسخت کھل جائے تو البتہ ہر چیز اسے خود نظر آنے لگے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے یہ محافظ فرشتے مقرر نہ ہوں جو کھانے پینے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں تو واللہ تم تو اچک لئے جاؤ۔ ابو امامہ فرماتے ہیں ہر آدمی کے ساتھ محافظ فرشتہ ہے، جو تقدیری امور کے سوا اور تمام بلاؤں کو اس سے دفعہ کرتا رہتا ہے۔ ایک شخص قبیلہ مراد کا حضرت علی ؓ کے پاس آیا انہیں نماز میں مشغول دیکھا تو کہا کہ قبیلہ مراد کے آدمی آپ کے قتل کا ارادہ کرچکے ہیں آپ پہرہ چوکی مقرر کرلیجئے آپ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے اس کے محافظ مقرر ہیں بغیر تقدیر کے لکھے کے کسی برائی کو انسان تک پہنچنے نہیں دیتے سنو اجل ایک مضبوط قلعہ ہے اور عمدہ ڈھال ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ جیسے حدیث شریف میں ہے لوگوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ جھاڑ پھونک جو ہم کرتے ہیں کیا اس سے اللہ کی مقرر کی ہوئی تقدیر ٹل جاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ خود اللہ کی مقرر کردہ ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک کی طرف وحی الہٰی ہوئی کہ اپنی قوم سے کہہ دے کہ جس بستی والے اور جس گھر والے اللہ کی اطاعت گزاری کرتے کرتے اللہ کی معصیت کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی راحت کی چیزوں کو ان سے دور کر کے انہیں وہ چیزیں پہنچاتا ہے جو انہیں تکلیف دینے والی ہوں۔ اس کی تصدیق قرآن کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ 11) 13۔ الرعد :11) سے بھی ہوتی ہے۔ امام ابن ابی شیبہ کی کتاب صفۃ العرش میں یہ روایت مرفوعا بھی آئی ہے۔ عمیر بن عبد الملک کہتے ہیں کہ کوفے کے منبر پر حضرت علی ؓ نے ہمیں خطبہ سنایا جس میں فرمایا کہ اگر میں چپ رہتا تو حضور ﷺ بات شروع کرتے اور جب میں پوچھتا تو آپ مجھے جواب دیتے۔ ایک دن آپ نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے قسم ہے اپنی عزت وجلال کی اپنی بلندی کی جو عرش پر ہے کہ جس بستی کے جس گھر کے لوگ میری نافرمانیوں میں مبتلا ہوں پھر انہیں چھوڑ کر میرے فرمانبرداری میں لگ جائیں تو میں بھی اپنے عذاب اور دکھ ان سے ہٹا کر اپنی رحمت اور سکھ انہیں عطا فرماتا ہوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے۔
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ
📘 سب پہ محیط علم اللہ کا علم تمام مخلوق کو گھیرے ہوئے ہے۔ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں، پست اور بلند ہر آواز وہ سنتا ہے چھپا کھلا سب جانتا ہے۔ تم چھپاؤ یا کھولو اس سے مخفی نہیں۔ حضرت صدیقہ ؓ فرماتی ہیں وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں (قد سمع اللہ) الخ اتاریں یعنی اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا۔ وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو وہ اور جو دن کے وقت کھلم کھلا آباد راستوں میں چلا جا رہا ہو وہ علم اللہ میں برابر ہیں۔ جیسے آیت (اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ ۭ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ) 11۔ ھود :5) میں فرمایا ہے اور آیت (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ) 61) 10۔ یونس :61) میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارے کسی کام کے وقت ہم ادھر ادھر نہیں ہوتے، کوئی ذرہ ہماری معلومات سے خارج نہیں۔ اللہ کے فرشتے بطور نگہبان اور چوکیدار کے بندوں کے ارد گرد مقرر ہیں، جو انہیں آفتوں سے اور تکلیفوں سے بچاتے رہتے ہیں جیسے کہ اعمال پر نگہبان فرشتوں کی اور جماعت ہے، جو باری باری پے درپے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے الگ دن کے الگ۔ اور جیسے کہ دو فرشتے انسان کے دائیں بائیں اعمال لکھنے پر مقرر ہیں، داہنے والا نیکیاں لکھتا ہے بائیں جانب والا بدیاں لکھتا ہے۔ اسی طرح دو فرشتے اس کے آگے پیچھے ہیں جو اس کی حفاظت و حراست کرتے رہتے ہیں۔ پس ہر انسان ہر وقت چار فرشتوں میں رہتا ہے، دو کاتب اعمال دائیں بائیں دو نگہبانی کرنے والے آگے پیچھے، پھر رات کے الگ دن کے الگ۔ چناچہ حدیث میں ہے تم میں فرشتے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے اور دن کے ان کا میل صبح اور عصر کی نماز میں ہوتا ہے رات گزارنے والے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ باوجود علم کے اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم گئے تو انہیں نماز میں پایا اور آئے تو نماز میں چھوڑ آئے۔ اور حدیث میں ہے تمہارے ساتھ وہ ہیں جو سوا پاخانے اور جماع کے وقت کے تم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پس تمہیں ان کا لحاظ، ان کی شرم، ان کا اکرام اور ان کی عزت کرنی چاہئے۔ پس جب اللہ کو کوئی نقصان بندے کو پہنچانا منظور ہوتا ہے۔ بقول ابن عباس محافظ فرشتے اس کام کو ہوجانے دیتے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں ہر بندے کے ساتھ اللہ کی طرف سے موکل ہے جو اسے سوتے جاگتے جنات سے انسان سے زہریلے جانوروں اور تمام آفتوں سے بچاتا رہتا ہے ہر چیز کو روک دیتا ہے مگر وہ جسے اللہ پہنچانا چاہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ دنیا کے بادشاہوں امیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو پہرے چوکی میں رہتے ہیں۔ ضحاک فرماتے ہیں کہ سلطان اللہ کی نگہبانی میں ہوتا ہے امر اللہ سے یعنی مشرکین اور ظاہرین سے۔ واللہ اعلم۔ ممکن ہے غرض اس قول سے یہ ہو کہ جیسے بادشاہوں امیروں کی چوکیداری سپاہی کرتے ہیں اسی طرح بندے کے چوکیدار اللہ کی طرف سے مقرر شدہ فرشتے ہوتے ہیں۔ ایک غریب روایت میں تفسیر ابن جریر میں وارد ہوا ہے کہ حضرت عثمان ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا کہ فرمائیے بندے کے ساتھ کتنے فرشتے ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ایک تو دائیں جانب نیکیوں کا لکھنے والا جو بائیں جانب والے پر امیر ہے جب تو کوئی نیکی کرتا ہے وہ ایک کی بجائے دس لکھ لی جاتی ہیں جب تو کوئی برائی کرے تو بائیں جانب والا دائیں والے سے اس کے لکھنے کی اجازت طلب کرتا ہے وہ کہتا ہے ذرا ٹھر جاؤ شاید یہ توبہ واستغفار کرلے تین مرتبہ وہ اجازت مانگتا ہے تب تک بھی اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ نیکی کا فرشتہ اس سے کہتا ہے اب لکھ لے اللہ ہمیں اس سے بچائے یہ تو بڑا برا ساتھی ہے۔ اسے اللہ کا لحاظ نہیں یہ اس سے نہیں شرماتا۔ اللہ کا فرمان ہے کہ انسان جو بات زبان پر لاتا ہے اس پر نگہبان متعین اور مہیا ہیں۔ اور دو فرشتے تیرے آگے پیچھے ہیں فرمان الہٰی ہے لہ معقبات الخ اور ایک فرشتہ تیرے ماتھے کا بال تھامے ہوئے ہے جب تو اللہ کے لئے تواضع اور فروتنی کرتا ہے وہ تجھے پست اور عاجز کردیتا ہے اور دو فرشتے تیرے ہونٹوں پر ہیں، جو درود تو مجھ پر پڑھتا ہے اس کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ ایک فرشتہ تیرے منہ پر کھڑا ہے کہ کوئی سانپ وعیر جیسی چیز تیرے حلق میں نہ چلی جائے اور دو فرشتے تیری آنکھوں پر ہیں، پس یہ دس فرشتے ہر بنی آدم کے ساتھ ہیں پھر دن کے الگ ہیں۔ اور رات کے الگ ہیں یوں ہر شخص کے ساتھ بیس فرشتے منجانب اللہ موکل ہیں۔ ادھر بہکانے کے لئے دن بھر تو ابلیس کی ڈیوٹی رہتی ہے اور رات کو اس کی اولاد کی۔ مسند احمد میں ہے تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جن ساتھی ہے اور فرشتہ ساتھی ہے لوگوں نے کہا آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں لیکن اللہ نے اس پر میری مدد کی ہے، وہ مجھے بھلائی کے سوا کچھ نہیں کہتا (مسلم) یہ فرشتے بحکم رب اس کی نگہبانی رکھتے ہیں۔ بعض قرأتوں میں من امر اللہ کے بدلے بامر اللہ ہے کعب کہتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے لئے ہر نرم وسخت کھل جائے تو البتہ ہر چیز اسے خود نظر آنے لگے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے یہ محافظ فرشتے مقرر نہ ہوں جو کھانے پینے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں تو واللہ تم تو اچک لئے جاؤ۔ ابو امامہ فرماتے ہیں ہر آدمی کے ساتھ محافظ فرشتہ ہے، جو تقدیری امور کے سوا اور تمام بلاؤں کو اس سے دفعہ کرتا رہتا ہے۔ ایک شخص قبیلہ مراد کا حضرت علی ؓ کے پاس آیا انہیں نماز میں مشغول دیکھا تو کہا کہ قبیلہ مراد کے آدمی آپ کے قتل کا ارادہ کرچکے ہیں آپ پہرہ چوکی مقرر کرلیجئے آپ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے اس کے محافظ مقرر ہیں بغیر تقدیر کے لکھے کے کسی برائی کو انسان تک پہنچنے نہیں دیتے سنو اجل ایک مضبوط قلعہ ہے اور عمدہ ڈھال ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ جیسے حدیث شریف میں ہے لوگوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یہ جھاڑ پھونک جو ہم کرتے ہیں کیا اس سے اللہ کی مقرر کی ہوئی تقدیر ٹل جاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ خود اللہ کی مقرر کردہ ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک کی طرف وحی الہٰی ہوئی کہ اپنی قوم سے کہہ دے کہ جس بستی والے اور جس گھر والے اللہ کی اطاعت گزاری کرتے کرتے اللہ کی معصیت کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی راحت کی چیزوں کو ان سے دور کر کے انہیں وہ چیزیں پہنچاتا ہے جو انہیں تکلیف دینے والی ہوں۔ اس کی تصدیق قرآن کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ 11) 13۔ الرعد :11) سے بھی ہوتی ہے۔ امام ابن ابی شیبہ کی کتاب صفۃ العرش میں یہ روایت مرفوعا بھی آئی ہے۔ عمیر بن عبد الملک کہتے ہیں کہ کوفے کے منبر پر حضرت علی ؓ نے ہمیں خطبہ سنایا جس میں فرمایا کہ اگر میں چپ رہتا تو حضور ﷺ بات شروع کرتے اور جب میں پوچھتا تو آپ مجھے جواب دیتے۔ ایک دن آپ نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے قسم ہے اپنی عزت وجلال کی اپنی بلندی کی جو عرش پر ہے کہ جس بستی کے جس گھر کے لوگ میری نافرمانیوں میں مبتلا ہوں پھر انہیں چھوڑ کر میرے فرمانبرداری میں لگ جائیں تو میں بھی اپنے عذاب اور دکھ ان سے ہٹا کر اپنی رحمت اور سکھ انہیں عطا فرماتا ہوں۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے۔
هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ
📘 بجلی کر گرج بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس ؓ نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قریب آجاتے ہیں۔ پس ان میں بوجھ پانی کا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ کڑک بھی اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح وحمد کرتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتا ہے جو اچھی طرح بولتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ ممکن ہے بولنے سے مراد گرجنا اور ہنسنے سے مراد بجلی کا ظاہر ہونا ہے۔ سعد بن ابراہیم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے اس سے اچھی بولی اور اس سے اچھی ہنسی والا کوئی اور نہیں۔ اس کی ہنسی بجلی ہے اور اس کی گفتگو گرج ہے۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ برق ایک فرشتہ ہے جس کے چار منہ ہیں ایک انسان جیسا ایک بیل جیسا ایک گدھے جیسا، ایک شیر جیسا، وہ جب دم ہلاتا ہے تو بجلی ظاہر ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ گرج کڑک کو سن کر یہ دعا پڑھتے دعا (اللہم لا تقتلنا بغضبک ولا تہلکنا بعذابک وعافنا قیل ذالک)(ترمذی) اور روایت میں یہ دعا ہے (سبحان من سبح الرعد بحمدہ) حضرت علی گرج سن کر پڑھتے سبحان من سبحت لہ ابن ابی زکریا فرماتے ہیں جو شخص گرج کڑک سن کر کہے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ) اس پر بجلی نہیں گرے گی۔ عبداللہ بن زبیر ؓ گرج کڑک کی آواز سن کر باتیں چھوڑ دیتے اور فرماتے دعا (سبحان اللہ الذی یسبح الرعد بحمدہ والملائکتہ من خیفتہ) اور فرماتے کہ اس آیت میں اور اس آواز میں زمین والوں کے لئے بہت تنزیر وعبرت ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ تمہارا رب العزت فرماتا ہے اگر میرے بندے میری پوری اطاعت کرتے تو راتوں کو بارشیں برساتا اور دن کو سورج چڑھاتا اور انہیں گرج کی آواز تک نہ سناتا۔ طبرانی میں ہے آپ فرماتے ہیں گرج سن کر اللہ کا ذکر کرو۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں پر کڑا کا نہیں گرتا۔ وہ بجلی بھیجتا ہے جس پر چاہے اس پر گراتا ہے۔ اسی لئے آخر زمانے میں بکثرت بجلیاں گریں گی۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ قیامت کے قریب بجلی بکثرت گرے گی یہاں تک کہ ایک شخص اپنی قوم سے آ کر پوچھے گا کہ صبح کس پر بجلی گری ؟ وہ کہیں گے فلاں فلاں پر۔ ابو یعلی راوی ہیں آنحضرت رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایک مغرور سردار کے بلانے کو بھیجا اس نے کہا کون رسول اللہ ؟ اللہ سونے کا ہے یا چاندی کا ؟ یا پیتل کا ؟ قاصد واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا کہ دیکھئے میں نے تو آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ متکبر، مغرور شخص ہے۔ آپ اسے نہ بلوائیں آپ نے فرمایا دوبارہ جاؤ اور اس سے یہی کہو اس نے جا کر پھر بلایا لیکن اس ملعون نے یہی جواب اس مرتبہ بھی دیا۔ قاصد نے واپس آ کر پھر حضور ﷺ سے عرض کیا آپ نے تیسری مرتبہ بھیجا اب کی مرتبہ بھی اس نے پیغام سن کر وہی جواب دینا شروع کیا کہ ایک بادل اس کے سر پر آگیا کڑکا اور اس میں سے بجلی گری اور اس کے سر سے کھوپڑی اڑا لی گئی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی حضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تانبے کا ہے یا موتی کا یا یاقوت کا ابھی اس کا سوال پورا نہ ہوا تھا جو بجلی گری اور وہ تباہ ہوگیا اور یہ آیت اتری۔ قتادہ کہتے ہیں مذکور ہے کہ ایک شخص نے قرآن کو جھٹلایا اور آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی وقت آسمان سے بجلی گری اور وہ ہلاک ہوگیا اور یہ آیت اتری۔ اس آیت کے شان نزول میں عامر بن طفیل اور ازبد بن ربیعہ کا قصہ بھی بیان ہوتا ہے۔ یہ دونوں سرداران عرب مدینے میں حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کو مان لیں گے لیکن اس شرط پر کہ ہمیں آدھوں آدھ کا شریک کرلیں۔ آپ نے انہیں اس سے مایوس کردیا تو عامر ملعون نے کہا واللہ میں سارے عرب کے میدان کو لشکروں سے بھر دوں گا آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے، اللہ تجھے یہ وقت ہی نہیں دے گا پھر یہ دونوں مدینے میں ٹھرے رہے کہ موقعہ پا کر حضور ﷺ کو غفلت میں قتل کردیں چناچہ ایک دن انہیں موقع مل گیا ایک نے تو آپ کو سامنے سے باتوں میں لگا لیا دوسرا تلوار تو لے پیچھے سے آگیا لیکن اس حافظ حقیقی نے آپ کو ان کی شرارت سے بچا لیا۔ اب یہاں سے نامراد ہو کر چلے اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لئے عرب کو آپ کے خلاف ابھارنے لگے اسی حال میں اربد پر آسمان سے بجلی گری اور اس کا کام تو تمام ہوگیا عامر طاعون کی گلٹی سے پکڑا گیا اور اسی میں بلک بلک کر جان دی اور اسی جیسوں کے بارے میں یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے بجلی گراتا ہے۔ اربد کے بھائی لیبد نے اپنے بھائی کے اس واقعہ کو اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ عامر نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جو سب مسلمانوں کا حال وہی تیرا حال۔ اس نے کہا پھر تو میں مسلمان نہیں ہوتا۔ اگر آپ کے بعد اس امر کا والی میں بنوں تو میں دین قبول کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یہ امر خلافت نہ تیرے لئے ہے نہ تیری قوم کے لئے ہاں ہمارا لشکر تیری مدد پر ہوگا۔ اس نے کہا اس کی مجھے ضرورت نہیں اب بھی نجدی لشکر میری پشت پناہی پر ہے مجھے تو کچے پکے کا مالک کردیں تو میں دین اسلام قبول کرلوں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ عامر کہنے لگا واللہ میں مدینے کو چاروں طرف لشکروں سے محصور کرلوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تیرا یہ ارادہ پورا نہیں ہونے دے گا۔ اب ان دونوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایک تو حضرت ﷺ کو باتوں میں لگائے دوسرا تلوار سے آپ کا کام تمام کر دے۔ پھر ان میں سے لڑے گا کون ؟ زیادہ سے زیادہ دیت دے کر پیچھا چھٹ جائے گا۔ اب یہ دونوں پھر آپ کے پاس آئے۔ عامر نے کہا ذرا آپ اٹھ کر یہاں آئیے۔ میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اٹھے، اس کے ساتھ چلے، ایک دیوار تلے وہ باتیں کرنے لگا۔ حضور ﷺ کی نظر پشت کی جانب پڑی تو آپ نے یہ حالت دیکھی اور وہاں سے لوٹ کر چلے آئے۔ اب یہ دونوں مدینے سے چلے حرہ راقم میں آ کر ٹھرے لیکن حضرت سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر ؓ وہاں پہنچے اور انہیں وہاں سے نکالا، راقم میں پہنچے ہی تھے جو اربد پر بجلی گری اس کا تو وہیں ڈھیر ہوگیا۔ عامر یہاں سے بھاگ چلا لیکن دریح میں پہنچا تھا جو اسے طاعون کی گلٹی نکلی۔ بنو سلول قبیلے کی ایک عورت کے ہاں یہ ٹھرا۔ وہ کبھی کبھی اپنی گردن کی گلٹی کو دباتا اور تعجب سے کہتا یہ تو ایسی ہے جیسے اونٹ کی گلٹی ہوتی ہے، افسوس میں سلولیہ عورت کے گھر پر مروں گا۔ کیا اچھا ہوتا کہ میں اپنے گھر ہوتا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا، گھوڑا منگوایا، سوار ہوا اور چل دیا لیکن راستے ہی میں ہلاک ہوگیا پس ان کے بارے میں یہ آیتیں (اللہ یعلم سے من وال) تک نازل ہوئیں ان سے آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا ذکر بھی ہے پھر اربد پر بجلی گرنے کا ذکر ہے اور فرمایا ہے کہ یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اس کی عظمت و توحید کو نہیں مانتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخالفوں اور منکروں کو سخت سزا اور ناقابل برداشت عذاب کرنے والا ہے۔ پس یہ آیت مثل آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50) 27۔ النمل :50) کے ہے یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح کہ انہیں معلوم نہ ہوسکا۔ اب تو خود دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا ؟ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو غارت کردیا۔ اللہ سخت پکڑ کرنے والا ہے۔ بہت قوی ہے، پوری قوت وطاقت والا ہے۔
وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ
📘 بجلی کر گرج بجلی بھی اس کے حکم میں ہے۔ ابن عباس ؓ نے ایک سائل کے جواب میں کہا تھا کہ برق پانی ہے۔ مسافر اسے دیکھ کر اپنی ایذاء اور مشقت کے خوف سے گھبراتا ہے اور مقیم برکت ونفع کی امید پر رزق کی زیادتی کا لالچ کرتا ہے، وہی بوجھل بادوں کو پیدا کرتا ہے جو بوجہ پانی کے بوجھ کے زمین کے قریب آجاتے ہیں۔ پس ان میں بوجھ پانی کا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ کڑک بھی اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح وحمد کرتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بادل پیدا کرتا ہے جو اچھی طرح بولتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ ممکن ہے بولنے سے مراد گرجنا اور ہنسنے سے مراد بجلی کا ظاہر ہونا ہے۔ سعد بن ابراہیم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ بارش بھیجتا ہے اس سے اچھی بولی اور اس سے اچھی ہنسی والا کوئی اور نہیں۔ اس کی ہنسی بجلی ہے اور اس کی گفتگو گرج ہے۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ برق ایک فرشتہ ہے جس کے چار منہ ہیں ایک انسان جیسا ایک بیل جیسا ایک گدھے جیسا، ایک شیر جیسا، وہ جب دم ہلاتا ہے تو بجلی ظاہر ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ گرج کڑک کو سن کر یہ دعا پڑھتے دعا (اللہم لا تقتلنا بغضبک ولا تہلکنا بعذابک وعافنا قیل ذالک)(ترمذی) اور روایت میں یہ دعا ہے (سبحان من سبح الرعد بحمدہ) حضرت علی گرج سن کر پڑھتے سبحان من سبحت لہ ابن ابی زکریا فرماتے ہیں جو شخص گرج کڑک سن کر کہے دعا (سبحان اللہ وبحمدہ) اس پر بجلی نہیں گرے گی۔ عبداللہ بن زبیر ؓ گرج کڑک کی آواز سن کر باتیں چھوڑ دیتے اور فرماتے دعا (سبحان اللہ الذی یسبح الرعد بحمدہ والملائکتہ من خیفتہ) اور فرماتے کہ اس آیت میں اور اس آواز میں زمین والوں کے لئے بہت تنزیر وعبرت ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ تمہارا رب العزت فرماتا ہے اگر میرے بندے میری پوری اطاعت کرتے تو راتوں کو بارشیں برساتا اور دن کو سورج چڑھاتا اور انہیں گرج کی آواز تک نہ سناتا۔ طبرانی میں ہے آپ فرماتے ہیں گرج سن کر اللہ کا ذکر کرو۔ کیونکہ ذکر کرنے والوں پر کڑا کا نہیں گرتا۔ وہ بجلی بھیجتا ہے جس پر چاہے اس پر گراتا ہے۔ اسی لئے آخر زمانے میں بکثرت بجلیاں گریں گی۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ قیامت کے قریب بجلی بکثرت گرے گی یہاں تک کہ ایک شخص اپنی قوم سے آ کر پوچھے گا کہ صبح کس پر بجلی گری ؟ وہ کہیں گے فلاں فلاں پر۔ ابو یعلی راوی ہیں آنحضرت رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو ایک مغرور سردار کے بلانے کو بھیجا اس نے کہا کون رسول اللہ ؟ اللہ سونے کا ہے یا چاندی کا ؟ یا پیتل کا ؟ قاصد واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا کہ دیکھئے میں نے تو آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ متکبر، مغرور شخص ہے۔ آپ اسے نہ بلوائیں آپ نے فرمایا دوبارہ جاؤ اور اس سے یہی کہو اس نے جا کر پھر بلایا لیکن اس ملعون نے یہی جواب اس مرتبہ بھی دیا۔ قاصد نے واپس آ کر پھر حضور ﷺ سے عرض کیا آپ نے تیسری مرتبہ بھیجا اب کی مرتبہ بھی اس نے پیغام سن کر وہی جواب دینا شروع کیا کہ ایک بادل اس کے سر پر آگیا کڑکا اور اس میں سے بجلی گری اور اس کے سر سے کھوپڑی اڑا لی گئی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی حضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ تانبے کا ہے یا موتی کا یا یاقوت کا ابھی اس کا سوال پورا نہ ہوا تھا جو بجلی گری اور وہ تباہ ہوگیا اور یہ آیت اتری۔ قتادہ کہتے ہیں مذکور ہے کہ ایک شخص نے قرآن کو جھٹلایا اور آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کیا اسی وقت آسمان سے بجلی گری اور وہ ہلاک ہوگیا اور یہ آیت اتری۔ اس آیت کے شان نزول میں عامر بن طفیل اور ازبد بن ربیعہ کا قصہ بھی بیان ہوتا ہے۔ یہ دونوں سرداران عرب مدینے میں حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کو مان لیں گے لیکن اس شرط پر کہ ہمیں آدھوں آدھ کا شریک کرلیں۔ آپ نے انہیں اس سے مایوس کردیا تو عامر ملعون نے کہا واللہ میں سارے عرب کے میدان کو لشکروں سے بھر دوں گا آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے، اللہ تجھے یہ وقت ہی نہیں دے گا پھر یہ دونوں مدینے میں ٹھرے رہے کہ موقعہ پا کر حضور ﷺ کو غفلت میں قتل کردیں چناچہ ایک دن انہیں موقع مل گیا ایک نے تو آپ کو سامنے سے باتوں میں لگا لیا دوسرا تلوار تو لے پیچھے سے آگیا لیکن اس حافظ حقیقی نے آپ کو ان کی شرارت سے بچا لیا۔ اب یہاں سے نامراد ہو کر چلے اور اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لئے عرب کو آپ کے خلاف ابھارنے لگے اسی حال میں اربد پر آسمان سے بجلی گری اور اس کا کام تو تمام ہوگیا عامر طاعون کی گلٹی سے پکڑا گیا اور اسی میں بلک بلک کر جان دی اور اسی جیسوں کے بارے میں یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے بجلی گراتا ہے۔ اربد کے بھائی لیبد نے اپنے بھائی کے اس واقعہ کو اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔ اور روایت میں ہے کہ عامر نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جو سب مسلمانوں کا حال وہی تیرا حال۔ اس نے کہا پھر تو میں مسلمان نہیں ہوتا۔ اگر آپ کے بعد اس امر کا والی میں بنوں تو میں دین قبول کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا یہ امر خلافت نہ تیرے لئے ہے نہ تیری قوم کے لئے ہاں ہمارا لشکر تیری مدد پر ہوگا۔ اس نے کہا اس کی مجھے ضرورت نہیں اب بھی نجدی لشکر میری پشت پناہی پر ہے مجھے تو کچے پکے کا مالک کردیں تو میں دین اسلام قبول کرلوں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ یہ دونوں آپ کے پاس سے چلے گئے۔ عامر کہنے لگا واللہ میں مدینے کو چاروں طرف لشکروں سے محصور کرلوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تیرا یہ ارادہ پورا نہیں ہونے دے گا۔ اب ان دونوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ایک تو حضرت ﷺ کو باتوں میں لگائے دوسرا تلوار سے آپ کا کام تمام کر دے۔ پھر ان میں سے لڑے گا کون ؟ زیادہ سے زیادہ دیت دے کر پیچھا چھٹ جائے گا۔ اب یہ دونوں پھر آپ کے پاس آئے۔ عامر نے کہا ذرا آپ اٹھ کر یہاں آئیے۔ میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اٹھے، اس کے ساتھ چلے، ایک دیوار تلے وہ باتیں کرنے لگا۔ حضور ﷺ کی نظر پشت کی جانب پڑی تو آپ نے یہ حالت دیکھی اور وہاں سے لوٹ کر چلے آئے۔ اب یہ دونوں مدینے سے چلے حرہ راقم میں آ کر ٹھرے لیکن حضرت سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر ؓ وہاں پہنچے اور انہیں وہاں سے نکالا، راقم میں پہنچے ہی تھے جو اربد پر بجلی گری اس کا تو وہیں ڈھیر ہوگیا۔ عامر یہاں سے بھاگ چلا لیکن دریح میں پہنچا تھا جو اسے طاعون کی گلٹی نکلی۔ بنو سلول قبیلے کی ایک عورت کے ہاں یہ ٹھرا۔ وہ کبھی کبھی اپنی گردن کی گلٹی کو دباتا اور تعجب سے کہتا یہ تو ایسی ہے جیسے اونٹ کی گلٹی ہوتی ہے، افسوس میں سلولیہ عورت کے گھر پر مروں گا۔ کیا اچھا ہوتا کہ میں اپنے گھر ہوتا۔ آخر اس سے نہ رہا گیا، گھوڑا منگوایا، سوار ہوا اور چل دیا لیکن راستے ہی میں ہلاک ہوگیا پس ان کے بارے میں یہ آیتیں (اللہ یعلم سے من وال) تک نازل ہوئیں ان سے آنحضرت ﷺ کی حفاظت کا ذکر بھی ہے پھر اربد پر بجلی گرنے کا ذکر ہے اور فرمایا ہے کہ یہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اس کی عظمت و توحید کو نہیں مانتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے مخالفوں اور منکروں کو سخت سزا اور ناقابل برداشت عذاب کرنے والا ہے۔ پس یہ آیت مثل آیت (وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 50) 27۔ النمل :50) کے ہے یعنی انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح کہ انہیں معلوم نہ ہوسکا۔ اب تو خود دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا ؟ ہم نے انہیں اور ان کی قوم کو غارت کردیا۔ اللہ سخت پکڑ کرنے والا ہے۔ بہت قوی ہے، پوری قوت وطاقت والا ہے۔
لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۚ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ
📘 دعوت حق حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں اللہ کے لئے دعوت حق ہے، اس سے مراد توحید ہے۔ محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خود بخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔ عربی شعر میں بھی قابض ماء آیا ہے پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا۔ ان کی پکار بےسود ہے۔
وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۩
📘 عظمت وسطوت الہٰی اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و سلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے۔ اصال جمع ہے اصیل کی۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔ فرمان ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48) 16۔ النحل :48) یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔
قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
📘 اندھیرا اور روشنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ یہ مشرکین بھی اس کے قائل ہیں کہ زمین و آسمان کا رب اور مدبر اللہ ہی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے اولیا کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ وہ سب عاجز بندے ہیں۔ ان کے تو کیا خود اپنے بھی نفع نقصان کا انہیں کوئی اختیار نہیں پس یہ اور اللہ کے عابد یکساں نہیں ہوسکتے۔ یہ تو اندھیروں میں ہیں اور بندہ رب نور میں ہے۔ جتنا فرق اندھے میں اور دیکھنے والے میں ہے، جتنا فرق اندھیروں اور روشنی میں ہے اتنا ہی فرق ان دونوں میں ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ کیا ان مشرکین کے مقرر کردہ شریک اللہ ان کے نزدیک کسی چیز کے خالق ہیں ؟ کہ ان پر تمیز مشکل ہوگئی کہ کسی چیز کا خالق اللہ ہے ؟ اور کس چیز کے خالق ان کے معبود ہیں ؟ حالانکہ ایسا نہیں اللہ کے مشابہ اس جیسا اس کے برابر کا اور اس کی مثل کا کوئی نہیں۔ وہ وزیر سے، شریک سے، اولاد سے، بیوی سے، پاک ہے اور ان سب سے اس کی ذات بلند وبالا ہے۔ یہ تو مشرکین کی پوری بیوقوفی ہے کہ اپنے چھوٹے معبودوں کو اللہ کا پیدا کیا ہوا، اس کی مملوک سمجھتے ہوئے پھر بھی ان کی پوجا پاٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ لبیک پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ یا اللہ ہم حاضر ہوئے تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک کہ وہ خود تیری ملکیت میں ہے اور جس چیز کا وہ مالک ہے، وہ بھی دراصل تیری ہی ملکیت ہے۔ قرآن نے اور جگہ ان کا مقولہ بیان فرمایا ہے کہ آیت (مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى) 39۔ الزمر :3) یعنی ہم تو ان کی عبادت صرف اس لالچ میں کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔ ان کے اس اعتقاد کی رگ گردن توڑتے ہوئے ارشاد ربانی ہوا کہ اس کے پاس کوئی بھی اس کی اجازت بغیر لب نہیں ہلا سکتا۔ آسمانوں کے فرشتے بھی شفاعت اس کی اجازت بغیر کر نہیں سکتے۔ سورة مریم میں فرمایا زمین و آسمان کی تمام مخلوق اللہ کے سامنے غلام بن کر آنے والی ہے، سب اس کی نگاہ میں اور اس کی گنتی میں ہیں اور ہر ایک تنہا تنہا اس کے سامنے قیامت کے دن حاضری دینے والا ہے۔ پس جبکہ سب کے سب بندے اور غلام ہونے کی حیثیت میں یکساں ہیں پھر ایک کا دوسرے کی عبادت کرنا بڑی حماقت اور کھلی بےانصافی نہیں تو اور کیا ہے ؟ پھر اس نے رسولوں کا سلسلہ شروع دنیا سے جاری رکھا۔ ہر ایک نے لوگوں کو سبق یہ دیا کہ اللہ ایک ہی عبادت کے لائق ہے۔ اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں لیکن انہوں نے نہ اپنے اقرار کا پاس کیا نہ رسولوں کی متفقہ تعلیم کا لحاظ کیا، بلکہ مخالفت کی، رسولوں کو جھٹلایا تو کلمہ عذاب ان پر صادق آگیا۔ یہ رب کا ظلم نہیں۔
أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ
📘 باطل بےثبات ہے حق وباطل کے فرق، حق کی پائیداری اور باطل کی بےثباتی کی یہ دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں سے مینہ برساتا ہے، چشموں دریاؤں نالیوں وغیرہ کے ذریعے برسات کا پانی بہنے لگتا ہے۔ کسی میں کم، کسی میں زیادہ، کوئی چھوٹی، کوئی بڑی۔ یہ دلوں کی مثال ہے اور ان کے تفاوت کی۔ کوئی آسمانی علم بہت زیادہ حاصل کرتا ہے کوئی کم۔ پھر پانی کی اس رو پر جھاگ تیرنے لگتا ہے۔ ایک مثال تو یہ ہوئی۔ دوسری مثال سونے چاندی لوہے تانبے کی ہے کہ اسے آگ میں تپایا جاتا ہے سونے چاندی زیور کے لئے لوہا تانبا برتن بھانڈے وغیرہ کے لئے ان میں بھی جھاگ ہوتے ہیں تو جیسے ان دونوں چیزوں کے جھاگ مٹ جاتے ہیں، اسی طرح باطل جو کبھی حق پر چھا جاتا ہے، آخر چھٹ جاتا ہے اور حق نتھر آتا ہے جیسے پانی نتھر کر صاف ہو کر رہ جاتا ہے اور جیسے چاندی سونا وغیرہ تپا کر کھوٹ سے الگ کر لئے جاتے ہیں۔ اب سونے چاندی پانی وغیرہ سے تو دنیا نفع اٹھاتی رہتی ہے اور ان پر جو کھوٹ اور جھاگ آگیا تھا، اس کا نام ونشان بھی نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کے لئے کتنی صاف صاف مثالیں بیان فرما رہا ہے۔ کہ سوچیں سمجھیں۔ جیسے فرمایا ہے کہ ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے بیان فرماتے ہیں لیکن اسے علماء خوب سمجھتے ہیں۔ بعض سلف کی سمجھ میں جو کوئی مثال نہیں آتی تھی تو وہ رونے لگتے تھے کیونکہ انہیں نہ سمجھنا علم سے خالی لوگوں کا وصف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں پہلی مثال میں بیان ہے ان لوگوں کا جن کے دل یقین کے ساتھ علم الہٰی کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دل وہ بھی ہیں، جن میں رشک باقی رہ جاتا ہے پس شک کے ساتھ کا علم بےسود ہوتا ہے۔ یقین پورا فائدہ دیتا ہے۔ ابد سے مراد شک ہے جو کمتر چیز ہے، یقین کار آمد چیز ہے، جو باقی رہنے والی ہے۔ جیسے زیور جو آگ میں تپایا جاتا ہے تو کھوٹ جل جاتا ہے اور کھری چیز رہ جاتی ہے، اسی طرح اللہ کے ہاں یقین مقبول ہے شک مردود ہے۔ پس جس طرح پانی رہ گیا اور پینے وغیرہ کا کام آیا اور جس طرح سونا چاندی اصلی رہ گیا اور اس کے سازو سامان بنے، اسی طرح نیک اور خالص اعمال عامل کو نفع دیتے ہیں اور باقی رہتے ہیں۔ ہدایت وحق پر جو عامل رہے، وہ نفع پاتا ہے جیسے لوہے کی چھری تلوار بغیر تپائے بن نہیں سکتی۔ اسی طرح باطل، شک اور ریاکاری والے اعمال اللہ کے ہاں کار آمد نہیں ہوسکتے۔ قیامت کے دن باطل ضائع ہوجائے گا۔ اور اہل حق کو حق نفع دے گا۔ سورة بقرہ کے شروع میں منافقوں کی دو مثالیں اللہ رب العزت نے بیان فرمائیں۔ ایک پانی کی ایک آگ کی۔ سورة نور میں کافروں کی دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ایک سراب یعنی ریت کی دوسری سمندر کی تہ کے اندھیروں کی۔ ریت کا میدان موسم گرما میں دور سے بالکل لہریں لیتا ہوا دریا کا پانی معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن یہودیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا مانگتے ہو ؟ کہیں گے پیاسے ہو رہے ہیں، پانی چاہئے تو ان سے کہا جائے گا کہ پھرجاتے کیوں نہیں ہو ؟ چناچہ جہنم انہیں ایسی نظر آئے گی جیسے دنیا میں ریتلے میدان۔ دوسری آیت میں فرمایا آیت (او کظلمات فی البحر لجی) الخ بخری ومسلم میں فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ جس ہدایت وعلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی۔ زمین کے ایک حصہ نے تو پانی کو قبول کیا، گھاس چارہ بکثرت آگیا۔ بعض زمین جاذب تھی، اس نے پانی کو روک لیا پس اللہ نے اس سے بھی لوگوں کو نفع پہنچایا۔ پانی ان کے پینے کے، پلانے کے، کھیت کے کام آیا اور جو ٹکڑا زمین کا سنگلاخ اور سخت تھا نہ اس میں پانی ٹھیرا نہ وہاں کچھ بیداوار ہوئی۔ پس یہ اس کی مثال ہے جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور میری بعثت سے اللہ نے اسے فائدہ پہنچایا اس نے خود علم سیکھا دوسروں کو سکھایا اور مثال ہے اس کی جس نے اس کے لئے سر بھی نہ اٹھایا اور نہ اللہ کی وہ ہدایت قبول کی جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ پس وہ سنگلاخ زمین کی مثل ہے ایک اور حدیث میں ہے میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے اپنے آس پاس کی جیزیں روشن کردیں تو پتنگے اور پروانے وغیرہ کیڑے اس میں گر گر کر جان دینے لگے وہ انہیں ہرچند روکتا ہے لیکن بس پھر بھی وہ برابر گر رہے ہیں بالکل یہی مثال میری اور تمہاری ہے کہ میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں روکتا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ آگ سے پرے ہٹو لیکن تم میری نہیں سنتے، نہیں مانتے، مجھ سے چھوٹ چھوٹ کر آگ میں گرے چلے جاتے ہو۔ پس حدیث میں بھی پانی اور آگ کی دونوں مثالیں آچکی ہیں۔
لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَالَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
📘 ذوالقرنین نیکوں بدوں کا انجام بیان ہو رہا ہے۔ اللہ رسول کو ماننے والے، احکام کے پابند، خبروں پر یقین رکھنے والے تو نیک بدلہ پائیں گے۔ ذوالقرنین ؒ نے فرمایا تھا کہ ظلم کرنے والے کو ہم بھی سزا دیں گے اور اللہ کے ہاں بھی سخت عذاب دیا جائے گا اور ایماندار اور نیک اعمال لوگ بہترین بدلہ پائیں گے اور ہم بھی ان سے نرمی کی باتیں کریں گے۔ اور آیت میں فرمان ربی ہے نیکوں کے لئے نیک بدلہ ہے اور زیادتی بھی۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ اللہ کی باتیں نہیں مانتے یہ قیامت کے دن ایسے عذابوں کو دیکھیں گے کہ اگر ان کے پاس ساری زمین بھر کر سونا ہو تو وہ اپنے فدیے میں دینے کے لئے تیار ہوجائیں بلکہ اس جتنا اور بھی۔ مگر قیامت کے روز نہ فدیہ ہوگا، نہ بدلہ، نہ عوض، نہ معاوضہ۔ ان سے سخت باز پرس ہوگی ایک ایک چھلکے اور ایک ایک دانے کا حساب لیا جائے گا حساب میں پورے نہ اتریں کم تو عذاب ہوگا۔ جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا جو بدترین جگہ ہوگی۔
۞ أَفَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
📘 ایک موازنہ ارشاد ہوتا ہے کہ ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ کی سچائی کا قائل ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسے فرمان ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی خوش نصیب ہیں، یہی فرمان یہاں ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں۔ باب یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھ داروں کی ہی ہوتی ہے۔
اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ
📘 کمال قدرت اور عظمت سلطنت ربانی دیکھو کہ بغیر ستونوں کے آسمان کو اس نے بلند بالا اور قائم کر رکھا ہے۔ زمین سے آسمان کو اللہ نے کیسا اونچا کیا اور صرف اپنے حکم سے اسے ٹھرایا۔ جس کی انتہا کوئی نہیں پاتا۔ آسمان دنیا ساری زمین کو اور جو اس کے ارد گرد ہے پانی ہوا وغیرہ سب کو احاطہ کئے ہوے ہے اور ہر طرف سے برابر اونچا ہے، زمین سے پانچ سو سال کی راہ پر ہے، ہر جگہ سے اتنا ہی اونچا ہے۔ پھر اس کی اپنی موٹائی اور دل بھی پانچ سو سال کے فاصلے کا ہے، پھر دوسرا آسمان اس آسمان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور پہلے سے دوسرے تک کا فاصلہ وہی پانچ سو سال کا ہے۔ اسی طرح تیسرا پھر چوتھا پھر پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں جیسے فرمان الٰہی ہے آیت (اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ 12ۧ) 65۔ الطلاق :12) یعنی اللہ نے سات آسمان بیدا کئے ہیں اور اسی کے مثل زمین۔ حدیث شریف میں ہے ساتوں آسمان اور ان میں اور ان کے درمیان میں جو کچھ ہے وہ کرسی کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے کہ چٹیل میدان میں کوئی حلقہ ہو اور کرسی عرش کے مقابلے پر بھی ایسی ہی ہے۔ عرش کی قدر اللہ عزوجل کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ بعض سلف کا بیان ہے کہ عرش سے زمین تک کا فاصلہ پچاس ہزار سال کا ہے۔ عرش سرخ یاقوت کا ہے۔ بعض مفسر کہتے ہیں آسمان کے ستون تو ہیں لیکن دیکھے نہیں جاتے۔ لیکن ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں آسمان زمین پر مثل قصبے کے ہے یعنی بغیر ستون کے ہے۔ قرآن کے طرز عبارت کے لائق بھی یہی بات ہے اور آیت (ویمسک السماء ان تقع علی الارض) سے بھی ظاہر ہے پس ترونھا اس نفی کی تاکید ہوگی یعنی آسمان بلا ستون اس قد بلند ہے اور تم آپ دیکھ رہے ہو، یہ ہے کمال قدرت۔ امیہ بن ابو الصلت کے اشعار میں ہے، جس کے اشعار کی بابت حدیث میں ہے کہ اس کے اشعار ایمان لائے ہیں اور اس کا دل کفر کرتا ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ یہ اشعار حضرت زید بن عمرو بن نفیل ؓ کے ہے جن میں ہے وانت الذی من فصل من ورحمتہ بعثت الی موی رسولا منادیا فقلت لہ فاذہب و ہارون فادعوا الی اللہ فرعون الذی کان طاغیا وقولا لہ ہل انت سویت ہذہ بلا عمدا وثوق ذالک بانیا ولوالا لہ ہل انت سویت وسطہا منیرا انا جنک الیل ہادیا وقولا لنا من انبت الحب فی الثری فیصبح منہ العشب یفتر دابیا ویخرج منہ حبہ فی روسہ ففی ذالک ایات لمن کان واعیا یعنی تو وہ اللہ ہے جس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے نبی موسیٰ ؑ کو مع ہارون ؑ کے فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور ان سے فرما دیا کہ اس سرکش کو قائل کرنے کے لئے اس سے کہیں کہ اس بلند وبالا بےستون آسمان کو کیا تو نے بنایا ہے ؟ اور اس میں سورج چاند ستارے تو نے پیدا کئے ہیں ؟ اور مٹی سے دانوں کو اگانے والا پھر ان درختوں میں بالیں پیدا کر کے ان میں دانے پکانے والا کیا تو ہے ؟ کیا قدرت کی یہ زبردست نشانیاں ایک گہرے انسان کے لئے اللہ کی ہستی کی دلیل نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہوا۔ اس کی تفسیر سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔ اور یہ بیان کردیا گیا ہے کہ جس طرح ہے اسی طرح چھوڑ دی جائے۔ کیفیت، تشبیہ، تعطیل، تمثلیل سے اللہ کی ذات پاک ہے اور برتر وبالا ہے۔ سورج چاند اس کے حکم کے مطابق گردش میں ہیں اور وقت موزوں یعنی قیامت تک برابر اسی طرح لگے رہیں گے۔ جیسے فرمان ہے کہ سورج اپنی جگہ برابر چل رہا ہے اس کی جگہ سے مراد عرش کے نیچے ہے جو زمین کے تلے سے دوسری طرف سے ملحق ہے یہ اور تمام ستارے یہاں تک پہنچ کر عرش سے اور دور ہوجاتے ہیں کیونکہ صحیح بات جس پر بہت سی دلیلیں ہیں یہی ہے کہ وہ قبہ ہے متصل عالم باقی آسمانوں کی طرح وہ محیط نہیں اس لئے کہ اس کے پائے ہیں اور اس کے اٹھانے والے ہیں اور یہ بات آسمان مستدیر گھومے ہوئے آسمان میں تصور میں نہیں آسکتی جو بھی غور کرے گا اسے سچ مانے گا۔ آیات و احادیث کا جانچنے والا اسی نتیجے پر پہنچے گا۔ وللہ الحمد والمنہ صرف سورج چاند کا ہی ذکر یہاں اس لیے ہے کہ ساتوں سیاروں میں بڑے اور روشن یہی دو ہیں پس جب کہ یہ دونوں مسخر ہیں تو اور تو بطور اولیٰ مسخر ہوئے۔ جیسے کہ سورج چاند کو سجدہ نہ کرو سے مراد اور ستاروں کو بھی سجدہ نہ کرنا ہے۔ پھر اور آیت میں تصریح بھی موجود ہے فرمان ہے آیت (وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِهٖ ۭاَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۭ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 54) 7۔ الاعراف :54) یعنی سورج چاند اور ستارے اس کے حکم سے مسخر ہیں، وہی خلق و امر والا ہے، وہی برکتوں والا ہے وہی رب العالمین ہے۔ وہ اپنی آیتوں کو اپنی وحدانیت کی دلیلوں کو بالتفصیل بیان فرما رہا ہے کہ تم اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور اسے مان لو کہ وہ تمہیں فنا کر کے پھر زندہ کر دے گا۔
الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَلَا يَنْقُضُونَ الْمِيثَاقَ
📘 منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الہٰی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقرا، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بےوقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96) 23۔ المؤمنون :96) بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اچھا انجام ہے۔ بروج وبالا خانے وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالا خانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لئے۔ ضحاک ؒ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیا ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے ارد گرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے۔ ان کے بڑے باپ دادے، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے آیت (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لئے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں۔ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں کا پڑوس، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام۔ مسند کی حدیث میں ہے جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے ؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضا آگئی۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الہٰی ہوگا کہ جاؤ انہیں مبارک باد دو فرشتے کہیں گے اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں جناب باری جواب دے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے طبرانی میں ہے کہ سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہوگی اس وقت ندا ہوگی کہ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے، میری راہ میں ستائے جاتے تھے، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح و تقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی ؟ اللہ رب العزت فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا۔ حضرت ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہوگا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ انحضرت ﷺ ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے آیت (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 24ۭ) 13۔ الرعد :24) اور اسی طرح ابوبکر عمر عثمان بھی ؓ (اس کی سند ٹھیک نہیں)
وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ
📘 منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الہٰی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقرا، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بےوقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96) 23۔ المؤمنون :96) بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اچھا انجام ہے۔ بروج وبالا خانے وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالا خانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لئے۔ ضحاک ؒ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیا ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے ارد گرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے۔ ان کے بڑے باپ دادے، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے آیت (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لئے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں۔ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں کا پڑوس، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام۔ مسند کی حدیث میں ہے جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے ؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضا آگئی۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الہٰی ہوگا کہ جاؤ انہیں مبارک باد دو فرشتے کہیں گے اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں جناب باری جواب دے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے طبرانی میں ہے کہ سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہوگی اس وقت ندا ہوگی کہ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے، میری راہ میں ستائے جاتے تھے، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح و تقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی ؟ اللہ رب العزت فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا۔ حضرت ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہوگا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ انحضرت ﷺ ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے آیت (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 24ۭ) 13۔ الرعد :24) اور اسی طرح ابوبکر عمر عثمان بھی ؓ (اس کی سند ٹھیک نہیں)
وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ
📘 منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الہٰی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقرا، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بےوقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96) 23۔ المؤمنون :96) بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اچھا انجام ہے۔ بروج وبالا خانے وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالا خانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لئے۔ ضحاک ؒ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیا ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے ارد گرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے۔ ان کے بڑے باپ دادے، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے آیت (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لئے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں۔ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں کا پڑوس، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام۔ مسند کی حدیث میں ہے جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے ؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضا آگئی۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الہٰی ہوگا کہ جاؤ انہیں مبارک باد دو فرشتے کہیں گے اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں جناب باری جواب دے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے طبرانی میں ہے کہ سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہوگی اس وقت ندا ہوگی کہ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے، میری راہ میں ستائے جاتے تھے، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح و تقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی ؟ اللہ رب العزت فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا۔ حضرت ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہوگا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ انحضرت ﷺ ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے آیت (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 24ۭ) 13۔ الرعد :24) اور اسی طرح ابوبکر عمر عثمان بھی ؓ (اس کی سند ٹھیک نہیں)
جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ
📘 منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الہٰی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقرا، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بےوقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96) 23۔ المؤمنون :96) بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اچھا انجام ہے۔ بروج وبالا خانے وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالا خانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لئے۔ ضحاک ؒ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیا ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے ارد گرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے۔ ان کے بڑے باپ دادے، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے آیت (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لئے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں۔ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں کا پڑوس، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام۔ مسند کی حدیث میں ہے جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے ؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضا آگئی۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الہٰی ہوگا کہ جاؤ انہیں مبارک باد دو فرشتے کہیں گے اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں جناب باری جواب دے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے طبرانی میں ہے کہ سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہوگی اس وقت ندا ہوگی کہ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے، میری راہ میں ستائے جاتے تھے، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح و تقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی ؟ اللہ رب العزت فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا۔ حضرت ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہوگا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ انحضرت ﷺ ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے آیت (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 24ۭ) 13۔ الرعد :24) اور اسی طرح ابوبکر عمر عثمان بھی ؓ (اس کی سند ٹھیک نہیں)
سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ
📘 منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے ہیں، نیکیوں کی رغبت کرتے ہیں۔ اعتدال کا راستہ نہیں چھوڑتے۔ ہر حال میں فرمان الہٰی کا لحاظ رکھتے ہیں۔ گو نفس حرام کاموں اور اللہ کی نافرمانیوں کی طرف جانا چاہے لیکن یہ اسے روک لیتے ہیں اور ثواب آخرت یاد دلا کر مرضی مولا رضائے رب کے طالب ہو کر نافرمانیوں سے باز رہتے ہیں۔ نماز کی پوری حفاظت کرتے ہیں۔ رکوع، سجدہ، قعدہ، خشوع خضوع شرعی طور بجا لاتے ہیں۔ جنہیں دینا اللہ نے فرمایا ہے انہیں اللہ کی دی ہوئی چیزیں دیتے رہتے ہیں۔ فقرا، محتاج، مساکین اپنے ہوں یا غیر ہوں۔ ان کی برکتوں سے محروم نہیں رہتے۔ چھپے کھلے، دن رات، وقت بےوقت، برابر راہ للہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔ قباحت کو احسان سے، برائی کو بھلائی سے، دشمنی کو دوستی سے ٹال دیتے ہیں۔ دوسرا سرکشی کرے یہ نرمی کرتے ہیں۔ دوسرا سر چڑھے یہ سر جھکا دیتے ہے۔ دوسروں کے ظلم سہ لیتے ہیں اور خود نیک سلوک کرتے ہیں۔ تعلیم قرآن ہے آیت (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 96) 23۔ المؤمنون :96) بہت اچھے طریقے سے ٹال دو تو دشمن بھی گاڑھا دوست بن جائے گا۔ صبر کرنے والے، صاحب نصیب ہی اس مرتبے کو پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے اچھا انجام ہے۔ بروج وبالا خانے وہ اچھا انجام اور بہترین گھر جنت ہے جو ہمیشگی والی اور پائیدار ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں جنت کے ایک محل کا نام عدن ہے جس میں بروج اور بالا خانے ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں، ہر دروازے پر پانچ ہزار فرشتے ہیں۔ وہ محل مخصوص ہے نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے لئے۔ ضحاک ؒ کہتے ہیں یہ جنت کا شہر ہے جس میں انبیا ہوں گے شہداء ہوں گے اور ہدایت کے ائمہ ہوں گے۔ ان کے آس پاس اور لوگ ہوں گے اور ان کے ارد گرد اور جنتیں ہیں وہاں یہ اپنے اور چہیتوں کو بھی اپنے ساتھ دیکھیں گے۔ ان کے بڑے باپ دادے، ان کے چھوٹے بیٹے پوتے، ان کے جوڑے جو بھی ایماندار اور نیکو کار تھے ان کے پاس ہوں گے اور راحتوں سے مسرور ہوں گے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے عمل اس درجہ بلند تک پہنچنے کے قابل نہ بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درجے بڑھا دے گا جیسے آیت (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21) 52۔ الطور :21) جن ایمانداروں کی اولاد ان کی پیروی ایمان میں کرتی ہے ہم انہیں بھی ان کے ساتھ ملا دیتے ہیں ان کے پاس مبارک باد اور سلام کے لئے ہر ہر دروازے سے ہر وقت فرشتے آتے رہتے ہیں یہ بھی اللہ کا انعام ہے تاکہ یہ ہر وقت خوش رہیں اور بشارتیں سنتے رہیں۔ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں کا پڑوس، فرشتوں کا سلام اور جنت الفردوس مقام۔ مسند کی حدیث میں ہے جانتے بھی ہو کہ سب سے پہلے جنت میں کون جائیں گے ؟ لوگوں نے کہا اللہ کو علم ہے اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا سب سے پہلے جنتی مساکین مہاجرین ہیں جو دنیا کی لذتوں سے دور تھے جو تکلیفوں میں مبتلا تھے جن کی امنگیں دلوں میں ہی رہ گئیں اور قضا آگئی۔ رحمت کے فرشتوں کو حکم الہٰی ہوگا کہ جاؤ انہیں مبارک باد دو فرشتے کہیں گے اللہ ہم تیرے آسمانوں کے رہنے والے تیری بہترین مخلوق ہیں کیا تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم جا کر انہیں سلام کریں اور انہیں مبارک باد پیش کریں جناب باری جواب دے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے صرف میری عبادت کی میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا دنیوی راحتوں سے محروم رہے مصیبتوں میں مبتلا رہے کوئی مراد پوری ہونے نہ پائی اور یہ صابر و شاکر رہے اب تو فرشتے جلدی جلدی بصد شوق ان کی طرف دوڑیں گے ادھر ادھر کے ہر ایک دروازے سے گھسیں گے اور سلام کر کے مبارک پیش کریں گے طبرانی میں ہے کہ سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں فقراء مہاجرین جو مصیبتوں میں مبتلا رہے، جب انہیں حکم ملا بجا لاتے رہے، انہیں ضرورتیں بادشاہوں سے ہوتی تھیں لیکن مرتے دم تک پوری نہ ہوئیں۔ جنت کو بروز قیامت اللہ تعالیٰ اپنے سامنے بلائے گا وہ بنی سنوری اپنی تمام نعمتوں اور تازگیوں کے ساتھ حاضر ہوگی اس وقت ندا ہوگی کہ میرے وہ بندے جو میری راہ میں جہاد کرتے تھے، میری راہ میں ستائے جاتے تھے، میری راہ میں لڑتے بھڑتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ آؤ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں چلے جاؤ۔ اس وقت فرشتے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑیں گے اور عرض کریں گے کہ پروردگار ہم تو صبح شام تیری تسبیح و تقدیس میں لگے رہے یہ کون ہیں جنہیں ہم پر بھی تو نے فضیلت عطا فرمائی ؟ اللہ رب العزت فرمائے گا یہ میرے وہ بندے ہیں جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا میری راہ میں تکلیفیں برداشت کیں۔ اب تو فرشتے جلدی کر کے ان کے پاس ہر ایک دروازے سے جا پہنچیں گے سلام کریں گے اور مبارک بادیاں پیش کریں گے کہ تمہیں تمہارے صبر کا بدلہ کتنا اچھا ملا۔ حضرت ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ مومن جنت میں اپنے تخت پر با آرام نہایت شان سے تکیہ لگائے بیٹھا ہوا ہوگا خادموں کی قطاریں ادھر ادھر کھڑی ہوں گی جو دروازے والے خادم سے فرشتہ اجازت مانگے گا وہ یکے بعد دیگرے پوچھے گا یہاں تک کہ مومن سے پوچھا جائے گا۔ مومن اجازت دے گا کہ اسے آنے دو یونہی ایک دوسرے کو پیغام پہنچائے گا اور آخری خادم فرشتے کو اجازت دے گا اور دروازہ کھول دے گا۔ وہ آئے گا اور سلام کرے گا اور چلا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ انحضرت ﷺ ہر سال کے آخر پر شہداء کی قبروں پر آتے اور کہتے آیت (سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 24ۭ) 13۔ الرعد :24) اور اسی طرح ابوبکر عمر عثمان بھی ؓ (اس کی سند ٹھیک نہیں)
وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۙ أُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ
📘 مومنین کی صفات مومنوں کی صفتیں اوپر بیان ہوئیں کہ وہ وعدے کے پورے، رشتوں ناتوں کے ملانے والے ہوتے ہیں۔ پھر ان کا اجر بیان ہوا کہ وہ جنتوں کے مالک بنیں گے۔ اب یہاں ان بدنصیبوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ان کے خلاف خصائل رکھتے تھے نہ اللہ کے وعدوں کا لحاظ کرتے تھے نہ صلہ رحمی اور احکام الہٰی کی پابندی کا خیال رکھتے تھے یہ لعنتی گروہ ہے اور برے انجام والا ہے۔ حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ بولنا، وعدوں کا خلاف کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔ ایک حدیث میں ہے جھگڑوں میں گالیاں بکنا اس قسم کے لوگ رحمت الہٰی سے دور ہیں ان کا انجام برا ہے یہ جہنمی گروہ ہے۔ یہ چھ خصلتیں ہوئیں جو منافقین سے اپنے غلبہ کے وقت ظاہر ہوتی ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت، اللہ کے عہد کو توڑ دینا اللہ کے ملانے کے حکم کی چیزوں کو نہ ملانا۔ ملک میں فساد پھیلانا۔ اور یہ دبے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی جھوٹ وعدہ خلافی اور خیانت کرتے ہیں۔
اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ
📘 مسئلہ رزق اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہوگئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کوئی تمیز نہیں۔ مومنوں کو جو آخرت ملنے والی ہے اس کے مقابل تو یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں یہ نہایت ناپائیدار اور حقیر چیز ہے آخرت بہت بڑی اور بہتر چیز۔ لیکن عموما لوگ دینا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ اسے کوئی سمندر میں ڈبو لے اور دیکھے کہ اس میں کتنا پانی آتا ہے ؟ جتنا یہ پانی سمندر کے مقابلے پر ہے اتنی ہی دنیا آخرت کے مقابلے میں ہے (مسلم) ایک چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے مرے ہوئے بچے کو راستے میں پڑا ہوا دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا جیسا یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جن کا یہ تھا اس سے بھی زیادہ بیکار اور ناچیز اللہ کے سامنے ساری دنیا ہے۔
وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۗ قُلْ إِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ
📘 مشرکین کے اعتراض مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا ؟ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر وحی آئی کہ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کردیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کردیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رہنے دوں تو آپ نے دوسری صورت پسند فرمائی۔ سچ ہے ہدایت ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے وہ کسی معجزے کے دیکھنے پر موقوف نہیں بےایمانوں کے لئے نشانات اور ڈراوے سب بےسود ہیں جن پر کلمہ عذاب صادق ہوچکا ہے وہ تمام تر نشانات دیکھ کر بھی مان کر نہ دیں گے ہاں عذابوں کو دیکھ تو پورے ایماندار بن جائیں گے لیکن وہ محض بیکار چیز ہے فرماتا ہے ولو اننا الخ، یعنی اگر ہم ان پر فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہر چھپی چیز ان کے سامنے ظاہر کردیتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں۔ جو اللہ کی طرف جھکے اس سے مدد چاہے اس کی طرف عاجزی کرے وہ راہ یافتہ ہوجاتا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان جم گیا ہے جن کے دل اللہ کی طرف جھکتے ہیں، اس کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، راضی خوشی ہوجاتے ہیں اور فی الواقع ذکر اللہ اطمینان دل کی چیز بھی ہے۔ ایمانداروں اور نیک کاروں کے لئے خوشی، نیک فالی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ان کا انجام اچھا ہے، یہ مستحق مبارک باد ہیں یہ بھلائی کو سمیٹنے والے ہیں ان کا لوٹنا بہتر ہے، ان کا مال نیک ہے۔ مروی ہے کہ طوبی سے مراد ملک حبش ہے اور نام ہے جنت کا اور اس سے مراد جنت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جنت کی جب پیدائش ہوچکی اس وقت جناب باری نے یہی فرمایا تھا۔ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت کا نام بھی طوبی ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے، لولو کے دانے سے پیدا کیا ہے اور بحکم الہٰی یہ بڑھا اور پھیلا ہے۔ اس کی جڑوں سے جنتی شہد، شراب، پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے طوبی نامی جنت کا ایک درخت ہے سوا سال کے راستے کا۔ اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جس نے آپ کو دیکھ لیا اور آپ پر ایمان لایا اسے مبارک ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اسے بھی مبارک ہو۔ اور اسے دوگنا مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ ایک شخص نے پوچھا طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جنتی درخت ہے جو سو سال کی راہ تک پھیلا ہوا ہے جنتیوں کے لباس اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے کہ سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہوگا اور روایت میں ہے کہ چال بھی تیز اور سواری بھی تیز چلنے والی۔ صحیح بخاری شریف میں آیت (وظل ممدود) کی تفسیر میں بھی یہی ہے۔ اور حدیث میں ہے ستر یا سو سال اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ سدرۃ المنتہی کے ذکر میں آپ نے فرمایا ہے اس کی شاخ کے سائے تلے ایک سو سال تک سوار چلتا رہے گا اور سو سو سوار اس کی ایک ایک شاخ تلے ٹھیر سکتے ہیں۔ اس میں سونے کی ٹڈیاں ہیں، اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہیں (ترمذی) آپ فرماتے ہیں ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے۔ سفید، سرخ، زرد سیاہ جو نہایت خوبصورت نرم اور اچھی ہوں گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں طوبٰی کو حکم ہوگا کہ میرے بندوں کے لئے بہترین لباس وغیرہ۔ ابن جریر ؒ نے اس جگہ ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ رہب رحمۃ اللہ عیہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن راستہ ختم نہ ہوگا۔ اس کی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں اس کے خوشے عنبریں ہیں اس کے کنکر یاقوت ہیں اس کی مٹی کافور ہے اس کا گارا مشک ہے اس کی جڑ سے شراب، دودھ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہوں گی، یہ بیٹھے ہوئے ہوں گے جو ان کے پاس فرشتے اونٹنیاں لے کر آئیں گے۔ جن کی زنجریں سونے کی ہوں گی، جن پر یاقوت کے پالان ہوں گے جن پر سونا جڑاؤ ہو رہا ہوگا جن پر ریشمی جھولیں ہوں گی۔ وہ انٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سواریاں تمہیں بھجوائی گئی ہیں اور دربار الہٰی میں تمہارا بلاوا ہے، یہ ان پر سوار ہوں گے، وہ پرندوں کی پرواز سے بھی تیز رفتار ہوں گی۔ جنتی ایک دوسرے سے مل کر چلیں گے وہ خود بخود ہٹ جائیں گے کہ کسی کو اپنے ساتھی سے الگ نہ ہونا پڑے یونہی رحمن و رحیم رب کے پاس پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردے ہٹا دے گا یہ اپنے رب کے چہرہ کو دیکھیں گے اور کہیں گے دعا (اللہم انت السلام والیک السلام وحق لک الجلال والاکرام) ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ رب العزت فرمائے گا دعا (انا السلام ومنی السلام) تم پر میری رحمت ثابت ہوچکی اور محبت بھی۔ میرے ان بندوں کو مرحبا ہو جو بن دیکھے مجھ سے ڈرتے رہے میری فرماں برداری کرتے رہے جنتی کہیں گے باری تعالیٰ نہ تو ہم سے تیری عبادت کا حق ادا ہوا نہ تیری پوری قدر ہوئی ہمیں اجازت دے کہ تیرے سامنے سجدہ کریں اللہ فرمائے گا یہ محنت کی جگہ نہیں نہ عبادت کی یہ تو نعمتوں راحتوں اور مالا مال ہونے کی جگہ ہے۔ عبادتوں کی تکلیف جاتی رہی مزے لوٹنے کے دن آگئے جو چاہو مانگو، پاؤ گے۔ تم میں سے جو شخص جو مانگے میں اسے دوں گا۔ پس یہ مانگیں گے کم سے کم سوال والا کہے گا کہ اللہ تو نے دنیا میں جو پیدا کیا تھا جس میں تیرے بندے ہائے وائے کر رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ شروع دنیا سے ختم دنیا تک دنیا میں جتنا کچھ تھا مجھے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے تو کچھ نہ مانگا اپنے مرتبے سے بہت کم چیز مانگی، اچھا ہم نے دی۔ میری بخشش اور دین میں کیا کمی ہے ؟ پھر فرمائے گا جن چیزوں تک میرے ان بندوں کے خیالات کی رسائی بھی نہیں وہ انہیں دو چناچہ دی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی خواہشیں پوری ہوجائیں گی ان چیزوں میں جو انہیں یہاں ملیں گی تیز رو گھوڑے ہوں گے ہر چار پر یاقوتی تخت ہوگا ہر تخت پر سونے کا ایک ڈیرا ہوگا ہر ڈیرے میں جنتی فرش ہوگا جن پر بڑی بڑی آنکھوں والی دو دو حوریں ہوں گی جو دو دو حلے پہنے ہوئے ہوں گی جن میں جنت کے تمام رنگ ہوں گے اور تمام خشبوئیں۔ ان خیموں کے باہر سے ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے گو یا وہ باہر بیٹھی ہیں ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا باہر سے نظر آ رہا ہوگا جیسے سرخ یاقوت میں ڈورا پرویا ہوا ہو اور وہ اوپر سے نظر آ رہا ہو۔ ہر ایک دوسری پر اپنی فضیلت ایسی جانتی ہوگی جیسی فضیلت سورج کی پتھر پر اس طرح جنتی کی نگاہ میں بھی دونوں ایسی ہی ہوں گی۔ یہ ان کے پاس جائے گا اور ان سے بوس وکنار میں مشغول ہوجائے گا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کہیں گی واللہ ہمارے تو خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تم جیسا خاوند ہمیں دے گا۔ اب بحکم الہٰی اسی طرح صف بندی کے ساتھ سواریوں پر یہ واپس ہوں گے اور اپنی منزلوں میں پہنچیں گے۔ دیکھو تو سہی کہ رب وہاب نے انہیں کیا کیا نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں ؟ وہاں بلند درجہ لوگوں میں اونچے اونچے بالا خانوں میں جو نرے موتی کے بنے ہوئے ہوں گے جن کے دروازے سونے کے ہوں گے، جن کے منبر نور کے ہوں گے جن کی چمک سورج سے بالا تر ہوگی۔ اعلیٰ علیین میں ان کے محل ہوں گے۔ یاقوت کے بنے ہوئے۔ نورانی۔ جن کے نور سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں ایسی نہ کر دے گا۔ جو محلات یاقوت سرخ کے ہوں گے ان میں سبز ریشمی فرش ہوں گے اور جو زمرد و یاقوت کے ہوں گے ان کے فرش سرخ مخمل کے ہوں گے۔ جو زمرد اور سونے کے جڑاؤ کے ہوں گے ان تختوں کے پائے جواہر کے ہوں گے، ان پر چھتیں لولو کی ہوں گی، ان کے برج مرجان کے ہوں گے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رحمانی تحفے وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سفید یاقوتی گھوڑے غلمان لئے کھڑے ہوں گے جن کا سامان چاندی کا جڑاؤ ہوگا۔ ان کے تخت پر اعلیٰ ریشمی نرم و دبیز فرش بچھے ہوئے ہوں گے یہ ان سواریوں پر سوار ہو کر بےتکلف جنت میں جائیں گے دیکھیں گے کہ ان کے گھروں کے پاس نورانی ممبروں پر فرشتے ان کے استقبال کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔ ، مبارک باد دیں گے، مصافحہ کریں گے، پھر یہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انعامات الہٰی وہاں موجود پائیں گے، اپنے محلات کے پاس وہ جنتیں ہری بھری پائیں گے اور جو پھلی پھولی جن میں دو چشمے پوری روانی سے جاری ہوں گے اور ہر قسم کے جوڑ دار میوے ہوں گے اور خیموں میں پاک دامن بھولی بھالی پردہ نشین حوریں ہوں گی۔ جب یہ یہاں پہنچ کر راحت وآرام میں ہوں گے اس وقت اللہ رب العزت فرمائے گا میرے پیارے بندو تم نے میرے وعدے سچے پائے ؟ کیا تم میرے ثوابوں سے خوش ہوگئے ؟ وہ کہیں گے اللہ ہم خوب خوش ہوگئے ؟ بہت ہی راضی رضامند ہیں دل سے راضی ہیں کلی کلی کھلی ہوئی ہے تو بھی ہم سے خوش رہ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میری رضامندی نہ ہوتی تو میں اپنے اس مہمان خانے میں تمہیں کیسے داخل ہونے دیتا ؟ اپنا دیدار کیسے کراتا ؟ میرے فرشتے تم سے مصافحہ کیوں کرتے ؟ تم خوش رہو باآرام رہو تمہیں مبارک ہو تم پھلو پھولو اور سکھ چین اٹھاؤ میرے یہ انعامات گھٹنے اور ختم ہونے والے نہیں۔ اس وقت وہ کہیں گے اللہ ہی کی ذات سزا وار تعریف ہے جس نے ہم سے غم و رنج کو دور کردیا اور ایسے مقام پر پہنچایا کہ جہاں ہمیں کوئی تکلیف کوئی مشقت نہیں یہ اسی کا فضل ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا اور قدر دان ہے۔ یہ سیاق غریب ہے اور یہ اثر عجیب ہے ہاں اس کے بعض شواہد بھی موجود ہیں۔ چناچہ صحیین میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا فرمائے گا مانگ جو مانگتا جائے گا اور اللہ کریم دیتا جائے گا یہاں تک کہ اس کا سوال پوار ہوجائے گا اور پائے گا۔ اب اس کے سامنے کوئی خواہش باقی نہیں رہے گی تو اب اللہ تعالیٰ خود اسے یاد دلائے گا کہ یہ مانگ یہ مانگ یہ مانگے گا اور پائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب میں نے تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی دس مرتبہ عطا فرمایا۔ صحیح مسلم شریف کی قدسی حدیث میں ہے کہ اے میرے بندو تمہارے اگلے پچھلے انسان جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں اور مجھ سے دعائیں کریں اور مانگیں میں ہر ایک کے تمام سوالات پورے کروں گا لیکن میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہ آئے گی جتنی کسی سوئی کو سمندر میں ڈوبونے سے سمندر کے پانی میں آئے، الخ۔ خالد بن معدان کہتے ہیں جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے اس میں تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
📘 مشرکین کے اعتراض مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا ؟ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر وحی آئی کہ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کردیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کردیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رہنے دوں تو آپ نے دوسری صورت پسند فرمائی۔ سچ ہے ہدایت ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے وہ کسی معجزے کے دیکھنے پر موقوف نہیں بےایمانوں کے لئے نشانات اور ڈراوے سب بےسود ہیں جن پر کلمہ عذاب صادق ہوچکا ہے وہ تمام تر نشانات دیکھ کر بھی مان کر نہ دیں گے ہاں عذابوں کو دیکھ تو پورے ایماندار بن جائیں گے لیکن وہ محض بیکار چیز ہے فرماتا ہے ولو اننا الخ، یعنی اگر ہم ان پر فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہر چھپی چیز ان کے سامنے ظاہر کردیتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں۔ جو اللہ کی طرف جھکے اس سے مدد چاہے اس کی طرف عاجزی کرے وہ راہ یافتہ ہوجاتا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان جم گیا ہے جن کے دل اللہ کی طرف جھکتے ہیں، اس کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، راضی خوشی ہوجاتے ہیں اور فی الواقع ذکر اللہ اطمینان دل کی چیز بھی ہے۔ ایمانداروں اور نیک کاروں کے لئے خوشی، نیک فالی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ان کا انجام اچھا ہے، یہ مستحق مبارک باد ہیں یہ بھلائی کو سمیٹنے والے ہیں ان کا لوٹنا بہتر ہے، ان کا مال نیک ہے۔ مروی ہے کہ طوبی سے مراد ملک حبش ہے اور نام ہے جنت کا اور اس سے مراد جنت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جنت کی جب پیدائش ہوچکی اس وقت جناب باری نے یہی فرمایا تھا۔ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت کا نام بھی طوبی ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے، لولو کے دانے سے پیدا کیا ہے اور بحکم الہٰی یہ بڑھا اور پھیلا ہے۔ اس کی جڑوں سے جنتی شہد، شراب، پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے طوبی نامی جنت کا ایک درخت ہے سوا سال کے راستے کا۔ اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جس نے آپ کو دیکھ لیا اور آپ پر ایمان لایا اسے مبارک ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اسے بھی مبارک ہو۔ اور اسے دوگنا مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ ایک شخص نے پوچھا طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جنتی درخت ہے جو سو سال کی راہ تک پھیلا ہوا ہے جنتیوں کے لباس اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے کہ سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہوگا اور روایت میں ہے کہ چال بھی تیز اور سواری بھی تیز چلنے والی۔ صحیح بخاری شریف میں آیت (وظل ممدود) کی تفسیر میں بھی یہی ہے۔ اور حدیث میں ہے ستر یا سو سال اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ سدرۃ المنتہی کے ذکر میں آپ نے فرمایا ہے اس کی شاخ کے سائے تلے ایک سو سال تک سوار چلتا رہے گا اور سو سو سوار اس کی ایک ایک شاخ تلے ٹھیر سکتے ہیں۔ اس میں سونے کی ٹڈیاں ہیں، اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہیں (ترمذی) آپ فرماتے ہیں ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے۔ سفید، سرخ، زرد سیاہ جو نہایت خوبصورت نرم اور اچھی ہوں گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں طوبٰی کو حکم ہوگا کہ میرے بندوں کے لئے بہترین لباس وغیرہ۔ ابن جریر ؒ نے اس جگہ ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ رہب رحمۃ اللہ عیہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن راستہ ختم نہ ہوگا۔ اس کی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں اس کے خوشے عنبریں ہیں اس کے کنکر یاقوت ہیں اس کی مٹی کافور ہے اس کا گارا مشک ہے اس کی جڑ سے شراب، دودھ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہوں گی، یہ بیٹھے ہوئے ہوں گے جو ان کے پاس فرشتے اونٹنیاں لے کر آئیں گے۔ جن کی زنجریں سونے کی ہوں گی، جن پر یاقوت کے پالان ہوں گے جن پر سونا جڑاؤ ہو رہا ہوگا جن پر ریشمی جھولیں ہوں گی۔ وہ انٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سواریاں تمہیں بھجوائی گئی ہیں اور دربار الہٰی میں تمہارا بلاوا ہے، یہ ان پر سوار ہوں گے، وہ پرندوں کی پرواز سے بھی تیز رفتار ہوں گی۔ جنتی ایک دوسرے سے مل کر چلیں گے وہ خود بخود ہٹ جائیں گے کہ کسی کو اپنے ساتھی سے الگ نہ ہونا پڑے یونہی رحمن و رحیم رب کے پاس پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردے ہٹا دے گا یہ اپنے رب کے چہرہ کو دیکھیں گے اور کہیں گے دعا (اللہم انت السلام والیک السلام وحق لک الجلال والاکرام) ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ رب العزت فرمائے گا دعا (انا السلام ومنی السلام) تم پر میری رحمت ثابت ہوچکی اور محبت بھی۔ میرے ان بندوں کو مرحبا ہو جو بن دیکھے مجھ سے ڈرتے رہے میری فرماں برداری کرتے رہے جنتی کہیں گے باری تعالیٰ نہ تو ہم سے تیری عبادت کا حق ادا ہوا نہ تیری پوری قدر ہوئی ہمیں اجازت دے کہ تیرے سامنے سجدہ کریں اللہ فرمائے گا یہ محنت کی جگہ نہیں نہ عبادت کی یہ تو نعمتوں راحتوں اور مالا مال ہونے کی جگہ ہے۔ عبادتوں کی تکلیف جاتی رہی مزے لوٹنے کے دن آگئے جو چاہو مانگو، پاؤ گے۔ تم میں سے جو شخص جو مانگے میں اسے دوں گا۔ پس یہ مانگیں گے کم سے کم سوال والا کہے گا کہ اللہ تو نے دنیا میں جو پیدا کیا تھا جس میں تیرے بندے ہائے وائے کر رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ شروع دنیا سے ختم دنیا تک دنیا میں جتنا کچھ تھا مجھے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے تو کچھ نہ مانگا اپنے مرتبے سے بہت کم چیز مانگی، اچھا ہم نے دی۔ میری بخشش اور دین میں کیا کمی ہے ؟ پھر فرمائے گا جن چیزوں تک میرے ان بندوں کے خیالات کی رسائی بھی نہیں وہ انہیں دو چناچہ دی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی خواہشیں پوری ہوجائیں گی ان چیزوں میں جو انہیں یہاں ملیں گی تیز رو گھوڑے ہوں گے ہر چار پر یاقوتی تخت ہوگا ہر تخت پر سونے کا ایک ڈیرا ہوگا ہر ڈیرے میں جنتی فرش ہوگا جن پر بڑی بڑی آنکھوں والی دو دو حوریں ہوں گی جو دو دو حلے پہنے ہوئے ہوں گی جن میں جنت کے تمام رنگ ہوں گے اور تمام خشبوئیں۔ ان خیموں کے باہر سے ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے گو یا وہ باہر بیٹھی ہیں ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا باہر سے نظر آ رہا ہوگا جیسے سرخ یاقوت میں ڈورا پرویا ہوا ہو اور وہ اوپر سے نظر آ رہا ہو۔ ہر ایک دوسری پر اپنی فضیلت ایسی جانتی ہوگی جیسی فضیلت سورج کی پتھر پر اس طرح جنتی کی نگاہ میں بھی دونوں ایسی ہی ہوں گی۔ یہ ان کے پاس جائے گا اور ان سے بوس وکنار میں مشغول ہوجائے گا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کہیں گی واللہ ہمارے تو خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تم جیسا خاوند ہمیں دے گا۔ اب بحکم الہٰی اسی طرح صف بندی کے ساتھ سواریوں پر یہ واپس ہوں گے اور اپنی منزلوں میں پہنچیں گے۔ دیکھو تو سہی کہ رب وہاب نے انہیں کیا کیا نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں ؟ وہاں بلند درجہ لوگوں میں اونچے اونچے بالا خانوں میں جو نرے موتی کے بنے ہوئے ہوں گے جن کے دروازے سونے کے ہوں گے، جن کے منبر نور کے ہوں گے جن کی چمک سورج سے بالا تر ہوگی۔ اعلیٰ علیین میں ان کے محل ہوں گے۔ یاقوت کے بنے ہوئے۔ نورانی۔ جن کے نور سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں ایسی نہ کر دے گا۔ جو محلات یاقوت سرخ کے ہوں گے ان میں سبز ریشمی فرش ہوں گے اور جو زمرد و یاقوت کے ہوں گے ان کے فرش سرخ مخمل کے ہوں گے۔ جو زمرد اور سونے کے جڑاؤ کے ہوں گے ان تختوں کے پائے جواہر کے ہوں گے، ان پر چھتیں لولو کی ہوں گی، ان کے برج مرجان کے ہوں گے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رحمانی تحفے وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سفید یاقوتی گھوڑے غلمان لئے کھڑے ہوں گے جن کا سامان چاندی کا جڑاؤ ہوگا۔ ان کے تخت پر اعلیٰ ریشمی نرم و دبیز فرش بچھے ہوئے ہوں گے یہ ان سواریوں پر سوار ہو کر بےتکلف جنت میں جائیں گے دیکھیں گے کہ ان کے گھروں کے پاس نورانی ممبروں پر فرشتے ان کے استقبال کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔ ، مبارک باد دیں گے، مصافحہ کریں گے، پھر یہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انعامات الہٰی وہاں موجود پائیں گے، اپنے محلات کے پاس وہ جنتیں ہری بھری پائیں گے اور جو پھلی پھولی جن میں دو چشمے پوری روانی سے جاری ہوں گے اور ہر قسم کے جوڑ دار میوے ہوں گے اور خیموں میں پاک دامن بھولی بھالی پردہ نشین حوریں ہوں گی۔ جب یہ یہاں پہنچ کر راحت وآرام میں ہوں گے اس وقت اللہ رب العزت فرمائے گا میرے پیارے بندو تم نے میرے وعدے سچے پائے ؟ کیا تم میرے ثوابوں سے خوش ہوگئے ؟ وہ کہیں گے اللہ ہم خوب خوش ہوگئے ؟ بہت ہی راضی رضامند ہیں دل سے راضی ہیں کلی کلی کھلی ہوئی ہے تو بھی ہم سے خوش رہ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میری رضامندی نہ ہوتی تو میں اپنے اس مہمان خانے میں تمہیں کیسے داخل ہونے دیتا ؟ اپنا دیدار کیسے کراتا ؟ میرے فرشتے تم سے مصافحہ کیوں کرتے ؟ تم خوش رہو باآرام رہو تمہیں مبارک ہو تم پھلو پھولو اور سکھ چین اٹھاؤ میرے یہ انعامات گھٹنے اور ختم ہونے والے نہیں۔ اس وقت وہ کہیں گے اللہ ہی کی ذات سزا وار تعریف ہے جس نے ہم سے غم و رنج کو دور کردیا اور ایسے مقام پر پہنچایا کہ جہاں ہمیں کوئی تکلیف کوئی مشقت نہیں یہ اسی کا فضل ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا اور قدر دان ہے۔ یہ سیاق غریب ہے اور یہ اثر عجیب ہے ہاں اس کے بعض شواہد بھی موجود ہیں۔ چناچہ صحیین میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا فرمائے گا مانگ جو مانگتا جائے گا اور اللہ کریم دیتا جائے گا یہاں تک کہ اس کا سوال پوار ہوجائے گا اور پائے گا۔ اب اس کے سامنے کوئی خواہش باقی نہیں رہے گی تو اب اللہ تعالیٰ خود اسے یاد دلائے گا کہ یہ مانگ یہ مانگ یہ مانگے گا اور پائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب میں نے تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی دس مرتبہ عطا فرمایا۔ صحیح مسلم شریف کی قدسی حدیث میں ہے کہ اے میرے بندو تمہارے اگلے پچھلے انسان جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں اور مجھ سے دعائیں کریں اور مانگیں میں ہر ایک کے تمام سوالات پورے کروں گا لیکن میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہ آئے گی جتنی کسی سوئی کو سمندر میں ڈوبونے سے سمندر کے پانی میں آئے، الخ۔ خالد بن معدان کہتے ہیں جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے اس میں تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔
الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ
📘 مشرکین کے اعتراض مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا ؟ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر وحی آئی کہ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کردیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کردیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھلا رہنے دوں تو آپ نے دوسری صورت پسند فرمائی۔ سچ ہے ہدایت ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے وہ کسی معجزے کے دیکھنے پر موقوف نہیں بےایمانوں کے لئے نشانات اور ڈراوے سب بےسود ہیں جن پر کلمہ عذاب صادق ہوچکا ہے وہ تمام تر نشانات دیکھ کر بھی مان کر نہ دیں گے ہاں عذابوں کو دیکھ تو پورے ایماندار بن جائیں گے لیکن وہ محض بیکار چیز ہے فرماتا ہے ولو اننا الخ، یعنی اگر ہم ان پر فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہر چھپی چیز ان کے سامنے ظاہر کردیتے تب بھی انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں اکثر جاہل ہیں۔ جو اللہ کی طرف جھکے اس سے مدد چاہے اس کی طرف عاجزی کرے وہ راہ یافتہ ہوجاتا ہے۔ جن کے دلوں میں ایمان جم گیا ہے جن کے دل اللہ کی طرف جھکتے ہیں، اس کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، راضی خوشی ہوجاتے ہیں اور فی الواقع ذکر اللہ اطمینان دل کی چیز بھی ہے۔ ایمانداروں اور نیک کاروں کے لئے خوشی، نیک فالی اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ ان کا انجام اچھا ہے، یہ مستحق مبارک باد ہیں یہ بھلائی کو سمیٹنے والے ہیں ان کا لوٹنا بہتر ہے، ان کا مال نیک ہے۔ مروی ہے کہ طوبی سے مراد ملک حبش ہے اور نام ہے جنت کا اور اس سے مراد جنت ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جنت کی جب پیدائش ہوچکی اس وقت جناب باری نے یہی فرمایا تھا۔ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت کا نام بھی طوبی ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے، لولو کے دانے سے پیدا کیا ہے اور بحکم الہٰی یہ بڑھا اور پھیلا ہے۔ اس کی جڑوں سے جنتی شہد، شراب، پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے طوبی نامی جنت کا ایک درخت ہے سوا سال کے راستے کا۔ اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ جس نے آپ کو دیکھ لیا اور آپ پر ایمان لایا اسے مبارک ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں اسے بھی مبارک ہو۔ اور اسے دوگنا مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ ایک شخص نے پوچھا طوبیٰ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا جنتی درخت ہے جو سو سال کی راہ تک پھیلا ہوا ہے جنتیوں کے لباس اس کی شاخوں سے نکلتے ہیں۔ بخاری مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایک درخت ہے کہ سوار ایک سو سال تک اس کے سائے میں چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہوگا اور روایت میں ہے کہ چال بھی تیز اور سواری بھی تیز چلنے والی۔ صحیح بخاری شریف میں آیت (وظل ممدود) کی تفسیر میں بھی یہی ہے۔ اور حدیث میں ہے ستر یا سو سال اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ سدرۃ المنتہی کے ذکر میں آپ نے فرمایا ہے اس کی شاخ کے سائے تلے ایک سو سال تک سوار چلتا رہے گا اور سو سو سوار اس کی ایک ایک شاخ تلے ٹھیر سکتے ہیں۔ اس میں سونے کی ٹڈیاں ہیں، اس کے پھل بڑے بڑے مٹکوں کے برابر ہیں (ترمذی) آپ فرماتے ہیں ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے۔ سفید، سرخ، زرد سیاہ جو نہایت خوبصورت نرم اور اچھی ہوں گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں طوبٰی کو حکم ہوگا کہ میرے بندوں کے لئے بہترین لباس وغیرہ۔ ابن جریر ؒ نے اس جگہ ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے۔ رہب رحمۃ اللہ عیہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام طوبیٰ ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلتا رہے گا لیکن راستہ ختم نہ ہوگا۔ اس کی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں اس کے خوشے عنبریں ہیں اس کے کنکر یاقوت ہیں اس کی مٹی کافور ہے اس کا گارا مشک ہے اس کی جڑ سے شراب، دودھ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہوں گی، یہ بیٹھے ہوئے ہوں گے جو ان کے پاس فرشتے اونٹنیاں لے کر آئیں گے۔ جن کی زنجریں سونے کی ہوں گی، جن پر یاقوت کے پالان ہوں گے جن پر سونا جڑاؤ ہو رہا ہوگا جن پر ریشمی جھولیں ہوں گی۔ وہ انٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے کہ یہ سواریاں تمہیں بھجوائی گئی ہیں اور دربار الہٰی میں تمہارا بلاوا ہے، یہ ان پر سوار ہوں گے، وہ پرندوں کی پرواز سے بھی تیز رفتار ہوں گی۔ جنتی ایک دوسرے سے مل کر چلیں گے وہ خود بخود ہٹ جائیں گے کہ کسی کو اپنے ساتھی سے الگ نہ ہونا پڑے یونہی رحمن و رحیم رب کے پاس پہنچیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردے ہٹا دے گا یہ اپنے رب کے چہرہ کو دیکھیں گے اور کہیں گے دعا (اللہم انت السلام والیک السلام وحق لک الجلال والاکرام) ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ رب العزت فرمائے گا دعا (انا السلام ومنی السلام) تم پر میری رحمت ثابت ہوچکی اور محبت بھی۔ میرے ان بندوں کو مرحبا ہو جو بن دیکھے مجھ سے ڈرتے رہے میری فرماں برداری کرتے رہے جنتی کہیں گے باری تعالیٰ نہ تو ہم سے تیری عبادت کا حق ادا ہوا نہ تیری پوری قدر ہوئی ہمیں اجازت دے کہ تیرے سامنے سجدہ کریں اللہ فرمائے گا یہ محنت کی جگہ نہیں نہ عبادت کی یہ تو نعمتوں راحتوں اور مالا مال ہونے کی جگہ ہے۔ عبادتوں کی تکلیف جاتی رہی مزے لوٹنے کے دن آگئے جو چاہو مانگو، پاؤ گے۔ تم میں سے جو شخص جو مانگے میں اسے دوں گا۔ پس یہ مانگیں گے کم سے کم سوال والا کہے گا کہ اللہ تو نے دنیا میں جو پیدا کیا تھا جس میں تیرے بندے ہائے وائے کر رہے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ شروع دنیا سے ختم دنیا تک دنیا میں جتنا کچھ تھا مجھے عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے تو کچھ نہ مانگا اپنے مرتبے سے بہت کم چیز مانگی، اچھا ہم نے دی۔ میری بخشش اور دین میں کیا کمی ہے ؟ پھر فرمائے گا جن چیزوں تک میرے ان بندوں کے خیالات کی رسائی بھی نہیں وہ انہیں دو چناچہ دی جائیں گی یہاں تک کہ ان کی خواہشیں پوری ہوجائیں گی ان چیزوں میں جو انہیں یہاں ملیں گی تیز رو گھوڑے ہوں گے ہر چار پر یاقوتی تخت ہوگا ہر تخت پر سونے کا ایک ڈیرا ہوگا ہر ڈیرے میں جنتی فرش ہوگا جن پر بڑی بڑی آنکھوں والی دو دو حوریں ہوں گی جو دو دو حلے پہنے ہوئے ہوں گی جن میں جنت کے تمام رنگ ہوں گے اور تمام خشبوئیں۔ ان خیموں کے باہر سے ان کے چہرے ایسے چمکتے ہوں گے گو یا وہ باہر بیٹھی ہیں ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا باہر سے نظر آ رہا ہوگا جیسے سرخ یاقوت میں ڈورا پرویا ہوا ہو اور وہ اوپر سے نظر آ رہا ہو۔ ہر ایک دوسری پر اپنی فضیلت ایسی جانتی ہوگی جیسی فضیلت سورج کی پتھر پر اس طرح جنتی کی نگاہ میں بھی دونوں ایسی ہی ہوں گی۔ یہ ان کے پاس جائے گا اور ان سے بوس وکنار میں مشغول ہوجائے گا۔ وہ دونوں اسے دیکھ کر کہیں گی واللہ ہمارے تو خیال میں بھی نہ تھا کہ اللہ تم جیسا خاوند ہمیں دے گا۔ اب بحکم الہٰی اسی طرح صف بندی کے ساتھ سواریوں پر یہ واپس ہوں گے اور اپنی منزلوں میں پہنچیں گے۔ دیکھو تو سہی کہ رب وہاب نے انہیں کیا کیا نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں ؟ وہاں بلند درجہ لوگوں میں اونچے اونچے بالا خانوں میں جو نرے موتی کے بنے ہوئے ہوں گے جن کے دروازے سونے کے ہوں گے، جن کے منبر نور کے ہوں گے جن کی چمک سورج سے بالا تر ہوگی۔ اعلیٰ علیین میں ان کے محل ہوں گے۔ یاقوت کے بنے ہوئے۔ نورانی۔ جن کے نور سے آنکھوں کی روشنی جاتی رہے لیکن اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں ایسی نہ کر دے گا۔ جو محلات یاقوت سرخ کے ہوں گے ان میں سبز ریشمی فرش ہوں گے اور جو زمرد و یاقوت کے ہوں گے ان کے فرش سرخ مخمل کے ہوں گے۔ جو زمرد اور سونے کے جڑاؤ کے ہوں گے ان تختوں کے پائے جواہر کے ہوں گے، ان پر چھتیں لولو کی ہوں گی، ان کے برج مرجان کے ہوں گے۔ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رحمانی تحفے وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ سفید یاقوتی گھوڑے غلمان لئے کھڑے ہوں گے جن کا سامان چاندی کا جڑاؤ ہوگا۔ ان کے تخت پر اعلیٰ ریشمی نرم و دبیز فرش بچھے ہوئے ہوں گے یہ ان سواریوں پر سوار ہو کر بےتکلف جنت میں جائیں گے دیکھیں گے کہ ان کے گھروں کے پاس نورانی ممبروں پر فرشتے ان کے استقبال کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کا شاندار استقبال کریں گے۔ ، مبارک باد دیں گے، مصافحہ کریں گے، پھر یہ اپنے گھروں میں داخل ہوں گے۔ انعامات الہٰی وہاں موجود پائیں گے، اپنے محلات کے پاس وہ جنتیں ہری بھری پائیں گے اور جو پھلی پھولی جن میں دو چشمے پوری روانی سے جاری ہوں گے اور ہر قسم کے جوڑ دار میوے ہوں گے اور خیموں میں پاک دامن بھولی بھالی پردہ نشین حوریں ہوں گی۔ جب یہ یہاں پہنچ کر راحت وآرام میں ہوں گے اس وقت اللہ رب العزت فرمائے گا میرے پیارے بندو تم نے میرے وعدے سچے پائے ؟ کیا تم میرے ثوابوں سے خوش ہوگئے ؟ وہ کہیں گے اللہ ہم خوب خوش ہوگئے ؟ بہت ہی راضی رضامند ہیں دل سے راضی ہیں کلی کلی کھلی ہوئی ہے تو بھی ہم سے خوش رہ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میری رضامندی نہ ہوتی تو میں اپنے اس مہمان خانے میں تمہیں کیسے داخل ہونے دیتا ؟ اپنا دیدار کیسے کراتا ؟ میرے فرشتے تم سے مصافحہ کیوں کرتے ؟ تم خوش رہو باآرام رہو تمہیں مبارک ہو تم پھلو پھولو اور سکھ چین اٹھاؤ میرے یہ انعامات گھٹنے اور ختم ہونے والے نہیں۔ اس وقت وہ کہیں گے اللہ ہی کی ذات سزا وار تعریف ہے جس نے ہم سے غم و رنج کو دور کردیا اور ایسے مقام پر پہنچایا کہ جہاں ہمیں کوئی تکلیف کوئی مشقت نہیں یہ اسی کا فضل ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا اور قدر دان ہے۔ یہ سیاق غریب ہے اور یہ اثر عجیب ہے ہاں اس کے بعض شواہد بھی موجود ہیں۔ چناچہ صحیین میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے جو سب سے اخیر میں جنت میں جائے گا فرمائے گا مانگ جو مانگتا جائے گا اور اللہ کریم دیتا جائے گا یہاں تک کہ اس کا سوال پوار ہوجائے گا اور پائے گا۔ اب اس کے سامنے کوئی خواہش باقی نہیں رہے گی تو اب اللہ تعالیٰ خود اسے یاد دلائے گا کہ یہ مانگ یہ مانگ یہ مانگے گا اور پائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب میں نے تجھے دیا اور اتنا ہی اور بھی دس مرتبہ عطا فرمایا۔ صحیح مسلم شریف کی قدسی حدیث میں ہے کہ اے میرے بندو تمہارے اگلے پچھلے انسان جنات سب ایک میدان میں کھڑے ہوجائیں اور مجھ سے دعائیں کریں اور مانگیں میں ہر ایک کے تمام سوالات پورے کروں گا لیکن میرے ملک میں اتنی بھی کمی نہ آئے گی جتنی کسی سوئی کو سمندر میں ڈوبونے سے سمندر کے پانی میں آئے، الخ۔ خالد بن معدان کہتے ہیں جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے اس میں تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔
وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
📘 عالم سفلی کے انواع واقسام اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل وصورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل پھول کے درخت اس سے سیراب ہوں۔ جوڑا جوڑا میوے اس نے پیدا کئے، کھٹے میٹھے وغیرہ۔ رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہوسکتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے ملے جلے ہوئے ہیں، پھر قدرت کو دیکھے کہ ایک ٹکڑے سے تو پیداوار ہو اور دوسرے سے کچھ نہ ہو۔ ایک کی مٹی سرخ، دوسرے کی سفید، زرد، وہ سیاہ، یہ پتھریلی، وہ نرم، یہ میٹھی، وہ شور۔ ایک ریتلی، ایک صاف، غرض یہ بھی خالق کی قدرت کی نشانی ہے اور بتاتی ہے کہ فاعل، خود مختار، مالک الملک، لا شریک ایک وہی اللہ خالق کل ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی معبود، نہ پالنے والا۔ زرع ونحیل کو اگر جنات پر عطف ڈالیں تو پیش سے مرفوع پڑھنا چاہئے اور اعناب پر عطف ڈالیں تو زیر سے مضاف الیہ مان کر مجرور پڑھنا چاہئے۔ ائمہ کی جماعت کی دونوں قرأتیں ہیں۔ صنوان کہتے ہیں ایک درخت جو کئی تنوں اور شاخوں والا ہو جیسے انار اور انجیر اور بعض کھجوریاں۔ غیر صنوان جو اس طرح نہ ہو ایک ہی تنا ہو جیسے اور درخت ہوتے ہیں۔ اسی سے انسان کے چچا کو صنوالاب کہتے ہیں حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انسان کا چچا مثل باپ کے ہوتا ہے۔ برا ؓ فرماتے ہیں ایک جڑ یعنی ایک تنے میں کئی ایک شاخدار درخت کھجور ہوتے ہیں اور ایک تنے پر ایک ہی ہوتا ہے یہی صنوان اور غیر صنوان ہے یہی قول اور بزرگوں کا بھی ہے۔ سب کے لئے پانی ایک ہی ہے یعنی بارش کا لیکن ہر مزے اور پھل میں کمی بیشی میں بےانتہا فرق ہے، کوئی میٹھا ہے، کوئی کھٹا ہے۔ حدیث میں بھی یہ تفسیر ہے ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ الغرض قمسوں اور جنسوں کا اختلاف، شکل صورت کا اختلاف، رنگ کا اختلاف، بو کا اختلاف، مزے کا اختلاف، پتوں کا اختلاف، تروتازگی کا اختلاف، ایک بہت ہی میٹھا، ایک سخت کڑوا، ایک نہایت خوش ذائقہ، ایک بیحد بدمزہ، رنگ کسی کا زرد، کسی کا سرخ، کسی کا سفید، کسی کا سیاہ۔ اسی طرح تازگی اور پھل میں بھی اختلاف، حالانکہ غذا کے اعتبار سے سب یکساں ہیں۔ یہ قدرت کی نیرنگیاں ایک ہوشیار شخص کے لئے عبرت ہیں۔ اور فاعل مختار اللہ کی قدرت کا بڑا زبردست پتہ دیتی ہیں کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے۔ عقل مندوں کے لئے یہ آیتیں اور یہ نشانیاں کافی وافی ہیں۔
كَذَٰلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا أُمَمٌ لِتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَٰنِ ۚ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ
📘 رسول اللہ ﷺ کی حوصلہ افزائی ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے اس امت کی طرف ہم نے تجھے بھیجا کہ تو انہیں کلام الہٰی پڑھ کر سنائے، اسی طرح تجھ سے پہلے اور رسولوں کو ان اگلی امتوں کی طرف بھیجا تھا انہوں نے بھی پیغام الہٰی اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا مگر انہوں نے جھٹلایا اسی طرح تو بھی جھٹلایا گیا تو تجھے تنگ دل نہ ہونا چاہئے۔ ہاں ان جھٹلانے والوں کو ان کا انجام دیکھنا چاہئے جو ان سے پہلے تھے کہ عذاب الہٰی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا پس تیری تکذیب تو ان کی تکذیب سے بھی ہمارے نزدیک زیادہ ناپسند ہے۔ اب یہ دیکھ لیں کہ ان پر کیسے عذاب برستے ہیں ؟ یہی فرمان آیت (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63) 16۔ النحل :63) میں اور آیت (وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰي مَا كُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَكَ مِنْ نَّبَاِى الْمُرْسَلِيْنَ 34) 6۔ الانعام :34) میں ہے کہ دیکھ لے ہم نے اپنے والوں کی کس طرح امداد فرمائی ؟ اور انہیں کیسے غالب کیا ؟ تیری قوم کو دیکھ کر رحمن سے کفر کر رہی ہے۔ وہ اللہ کے وصف اور نام کو مانتی ہی نہیں۔ حدیبیہ کا صلح نامہ لکھتے وقت اس پر بضد ہوگئے کہ ہم آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نہیں لکھنے دیں گے۔ ہم نہیں جانتے کہ رحمن اور رحیم کیا ہے ؟ پوری حدیث بخاری میں موجود ہے۔ قرآن میں ہے آیت (قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا01100) 17۔ الإسراء :110) ، اللہ کہہ کر اسے پکارو یا رحمن کہہ کر جس نام سے پکارو وہ تمام بہترین ناموں والا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن نہایت پیارے نام ہیں۔ فرمایا جس سے تم کفر کر رہے ہو میں تو اسے مانتا ہوں وہی میرا پروردگار ہے میرے بھروسے اسی کے ساتھ ہیں اسی کی جانب میری تمام تر توجہ اور رجوع اور دل کا میل اس کے سوا کوئی ان باتوں کا مستحق نہیں۔
وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ ۗ بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا ۗ أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا ۗ وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّىٰ يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ
📘 قرآن حکیم کی صفات جلیلہ اللہ تعالیٰ اس پاک کتاب قرآن کریم کی تعریفیں بیان فرما رہا ہے اگر سابقہ کتابوں میں کسی کتاب کے ساتھ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جانے والے اور زمین پھٹ جانے والی اور مردے جی اٹھنے والے ہوتے تو یہ قرآن جو تمام سابقہ کتابوں سے بڑھ چڑھ کر ہے ان سب سے زیادہ اس بات کا اہل تھا اس میں تو وہ معجز بیانی ہے کہ سارے جنات وانسان مل کر بھی اس جیسی ایک سورت نہ بنا کر لاسکے۔ یہ مشرکین اس کے بھی منکر ہیں تو معاملہ سپرد رب کرو۔ وہ مالک کل کہ، تمام کاموں کا مرجع وہی ہے، وہ جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کے بھٹکائے ہوئے کی رہبری اور اس کے راہ دکھائے ہوئے کی گمراہی کسی کے بس میں نہیں۔ یہ یاد رہے کہ قرآن کا اطلاق اگلی الہامی کتابوں پر بھی ہوتا ہے اس لئے کہ وہ سب سے مشتق ہے۔ مسند میں ہے حضرت داؤد پر قرآن اس قد رآسان کردیا گیا تھا کہ ان کے حکم سے سواری کسی جاتی اس کے تیار ہونے سے پہلے ہی وہ قرآن کو ختم کرلیتے، سوا اپنے ہاتھ کی کمائی کے وہ اور کچھ نہ کھاتے تھے۔ پس مراد یہاں قرآن سے زبور ہے۔ کیا ایماندار اب تک اس سے مایوس نہیں ہوئے کہ تمام مخلوق ایمان نہیں لائے گی۔ کیا وہ مشیت الہٰی کے خلاف کچھ کرسکتے ہیں۔ رب کی یہ منشاہی نہیں اگر ہوتی تو روئے زمین کے لوگ مسلمان ہوجاتے۔ بھلا اس قرآن کے بعد کس معجزے کی ضرورت دنیا کو رہ گئی ؟ اس سے بہتر واضح، اس سے صاف، اس سے زیادہ دلوں میں گھر کرنے والا اور کون سا کلام ہوگا ؟ اسے تو اگر بڑے سے بڑے پہاڑ پر اتارا جاتا تو وہ بھی خشیت الہٰی سے چکنا چور ہوجاتا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز ملی کہ لوگ اس پر ایمان لائیں۔ میری ایسی چیز اللہ کی یہ وحی ہے پس مجھے امید ہے کہ سب نبیوں سے زیادہ تابعداروں والا میں ہوجاؤں گا۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے معجزے ان کے ساتھ ہی چلے گئے اور میرا یہ معجزہ جیتا جاگتا رہتی دنیا تک رہے گا، نہ اس کے عجائبات ختم ہوں نہ یہ کثرت تلاوت سے پرانا ہو نہ اس سے علماء کا پیٹ بہر جائے۔ یہ فضل ہے دل لگی نہیں۔ جو سرکش اسے چھوڑ دے گا اللہ اسے توڑ دے گا جو اس کے سوا اور میں ہدایت تلاش کرے گا اسے اللہ گمراہ کر دے گا۔ ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ کافروں نے آنحضرت محمد ﷺ سے کہا اگر آپ یہاں کے پہاڑ یہاں سے ہٹوا دیں اور یہاں کی زمین زراعت کے قابل ہوجائے اور جس طرح سیلمان ؑ زمین کی کھدائی ہوا سے کراتے تھے آپ بھی کرا دیجئے یا جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ مردوں کو زندہ کردیتے تھے آپ بھی کر دیجئے اس پر یہ آیت اتری قتادہ ؒ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر کسی قرآن کے ساتھ یہ امور ظاہر ہوتے تو اس تمہارے قرآن کے ساتھ بھی ہوتے سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تاکہ تم سب کو آزما لے اپنے اختیار سے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ کیا ایمان والے نہیں جانتے ؟ یا لیئس کے بدلے دوسری جگہ یتبیتن بھی ہے ایمان دار ان کی ہدایت سے مایوس ہوچکے تھے۔ ہاں اللہ کے اختیار میں کسی کا بس نہیں وہ اگر چاہے تمام مخلوق کو ہدایت پر کھڑا کر دے۔ یہ کفار برابر دیکھ رہے ہیں کہ ان کے جھٹلانے کی وجہ سے اللہ کے عذاب برابر ان پر برستے رہتے ہیں یا ان کے آس پاس آجاتے ہیں پھر بھی یہ نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 46۔ الاحقاف :27) یعنی ہم نے تمہارے آس پاس کی بہت سی بستیوں کو ان کی بد کرداریوں کی وجہ سے غارت و برباد کردیا اور طرح طرح سے اپنی نشانیاں ظاہر فرمائیں کہ لوگ برائیوں سے باز رہیں۔ اور آیت میں ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ۭوَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ) 13۔ الرعد :41) کیا وہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں کیا اب بھی اپنا ہی غلبہ مانتے چلے جائیں گے ؟ تحل کا فاعل قارعہ ہے یہی ظاہر اور مطابق روانی عبارت ہے لیکن ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قارعہ پہنچے یعنی چھوٹا سا لشکر اسلامی یا تو خود ان کے شہر کے قریب اتر پڑے یعنی محمد ﷺ یہاں تک کہ وعدہ ربانی آپہنچے اس سے مراد فتح مکہ ہے۔ آپ سے ہی مروی ہے کہ قارعہ سے مراد آسمانی عذاب ہے اور آس پاس اترنے سے مراد انحضرت ﷺ کا اپنے لشکروں سمیت ان کی حدود میں پہنچ جانا ہے اور ان سے جہاد کرنا ہے۔ ان سب کا قول ہے کہ یہاں وعدہ الہٰی سے مراد فتح مکہ ہے۔ لیکن حسن بصری رحمتۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں کی نصرت و امداد کا ہے وہ کبھی ٹلنے والا نہیں انہیں اور ان کے تابعداروں کو ضرور بلندی نصیب ہوگی۔ جیسے فرمان ہے آیت (ولا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ ان اللہ عزیز ذو انتقام) یہ غلظ گمان ہرگز نہ کرو کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے۔ اللہ غلب ہے اور بدلہ لینے والا۔
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
📘 سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے غلظ رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخرش بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام ونشان تک مٹا دیا تھا۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے ؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا ؟ جیسے فرمان ہے بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لئے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں۔ بخاری ومسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے پھر آپ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) 11۔ ہود :102) ، کی تلاوت کی۔
أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۗ وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ ۚ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ ۗ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
📘 عالم خیر و شر اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کا محافظ ہے ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے، ہر نفس پر نگہبان ہے، ہر عامل کے خیر و شر کے علم سے باخبر ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی کام اس کی بیخبر ی میں نہیں ہوتا۔ ہر حالت کا اسے علم ہے ہر عمل پر وہ موجود ہے ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمے ہے ہر ایک کے ٹھکانے کا اسے علم ہے ہر بات اس کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے ظاہر وباطن ہر بات کو وہ جانتا ہے تم جہاں ہو وہاں اللہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے ان صفتوں والا اللہ کیا تمہارے ان جھوٹے معبودوں جیسا ہے ؟ جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ اپنے لئے کسی چیز کے مالک، نہ کسی اور کے نفع نقصان کا انہیں اختیار۔ اس جواب کو حذف کردیا کیونکہ دلالت کلام موجود ہے۔ اور وہ فرمان الہٰی آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَبَنٰتٍۢ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭسُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوْنَ) 6۔ الانعام :100) ہے انہوں نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھیرایا اور ان کی عبادت کرنے لگے تم ذرا ان کے نام تو بتاؤ ان کے حالات تو بیان کرو تاکہ دنیا جان لے کہ وہ محض بےحقیقت ہیں کیا تم زمین کی جن چیزوں کی خبر اللہ کو دے رہے ہو جنہیں وہ نہیں جانتا یعنی جن کا وجود ہی نہیں۔ اس لئے کہ اگر وجود ہوتا تو علم الہٰی سے باہر نہ ہوتا کیونکہ اس پر کوئی مخفی سے مخفی چیز بھی حقیقتا مخفی نہیں یا صرف اٹکل پچو باتیں بنا رہے ہو ؟ فضول گپ مار رہے ہو تم نے آپ ان کے نام گھڑ لئے، تم نے ہی انہیں نفع نقصان کا مالک قرار دیا اور تم نے ہی ان کی پوجا پاٹ شروع کردی۔ یہی تمہارے بڑے کرتے رہے۔ نہ تو تمہارے ہاتھ میں کوئی ربانی دلیل ہے نہ اور کوئی ٹھوس دلیل یہ تو صرف وہم پرستی اور خواہش پروری ہے۔ عدایت اللہ کی طرف سے نازل ہوچکی ہے۔ کفار کا مکر انہیں بھلے رنگ میں دکھائی دے رہا ہے وہ اپنے کفر پر اور اپنے شرک پر ہی ناز کر رہے ہیں دن رات اسی میں مشغول ہیں اور اسی کی طرف اوروں کو بلا رہے ہیں جیسے فرمایا آیت (وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَاۗءَ فَزَيَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِيْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِيْنَ) 41۔ فصلت :25) ، ان کے شیطانوں نے ان کی بےڈھنگیاں ان کے سامنے دلکش بنادی ہیں یہ راہ اللہ سے طریقہ ہدی سے روک دیئے گئے ہیں ایک قرأت اس کی صدوا بھی ہے یعنی انہوں نے اسے اچھا جان کر پھر اوروں کو اس میں پھانسنا شروع کردیا اور راہ رسول سے لوگوں کو روکنے لگے رب کے گمراہ کئے ہوئے لوگوں کو کون راہ دکھا سکے ؟ جیسے فرمایا آیت (ومن یرد اللہ فتنۃ فلن تملک لہ من اللہ شیئا) جسے اللہ فتنے میں ڈالنا چاہے تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کچھ بھی تو اختیار نہیں۔ اور آیت میں ہے گو تو ان کی ہدایت کا لالچی ہو لیکن اللہ ان گمراہوں کو راہ دکھانا نہیں چاہتا پھر کون ہے جو ان کی مدد کرے۔
لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ
📘 کافر موت مانگیں گے کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے۔ یہاں کا عذاب فانی وہاں کا باقی اور اس آگ کا عذاب جو یہاں کی آگ سے ستر حصے زیامدہ تیز ہے پھر قید وہ جو تصور میں بھی نہ آسکے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗٓ اَحَدٌ) 89۔ الفجر :25) ، آج اس عذاب جیسے نہ کسی کے عذاب نہ اس جیسی کسی کی قید و بند۔ فرمان ہے آیت (واعتدنا لمن کذب بالساعۃ سعیرا) الخ، قیامت کے منکروں کے لئے ہم نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے دور سے ہی انہیں دیکھتے ہی شور و غل شروع کر دے گی وہاں کے تنگ و تاریک مکانات میں جب یہ جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو ہائے وائے کرتے ہوئے موت مانگنے لگیں گے۔ ایک ہی موت کیا مانگتے ہو بہت سے موتیں مانگو۔ اب بتاؤ کہ یہ ٹھیک ہے یا جنت خلد ٹھیک ہے جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے کہ وہ ان کا بدلہ ہے اور ان کا ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا۔ پھر نیکوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ ان سے جن جنتوں کا وعدہ ہے اس کی ایک صفت تو یہ ہے کہ اس کے چاروں طرف نہریں جاری ہیں جہاں چاہیں پانی لے جائیں پانی نہ بگڑنے والا پھر دودھ کی نہریں ہیں اور دودھ بہی ایسا جس کا مزہ کبھی نہ بگڑے اور شراب کی نہریں ہیں جس میں صرف لذت ہے۔ نہ بدمزگی، نہ بےہودہ نشہ، اور صاف شہد کی نہریں ہیں اور ہر قسم کے پھل ہیں اور ساتھ ہی رب کی رحمت مالک معرفت اس کے پھل ہمیشگی والے اس کی کھانے پینے کی چیزیں کبھی فنا ہونے والی نہیں۔ جب انحضرت ﷺ نے کسوف کی نماز پڑھی تھی تو صحابہ ؓ نے پوچھا کہ حضور ﷺ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ پچھلے پاؤں پیچھے کو ہٹنے لگے۔ آپ نے فرمایا ہاں میں نے جنت کو دیکھا تھا اور چاہا تھا کہ ایک خوشہ توڑ لوں اگر لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے۔ ابو یعلی میں ہے کہ ایک دن ظہر کی نماز میں ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ناگاہ آگے بڑھے اور ہم بھی بڑھے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ نے گویا کوئی چیز لینے کا ارادہ کیا پھر آپ پیچھے ہٹ آئے۔ نماز کے خاتمہ کے بعد حضرت ابی بن کعب ؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آج تو ہم نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا آپ نے فرمایا ہاں میرے سامنے جنت پیش کی گئی جو تروتازگی سے مہک رہی تھی میں نے چاہا کہ اس میں سے ایک خوشہ انگور کا توڑ لاؤں لیکن میرے اور اس کے درمیان آڑ کردی گئی اگر میں اسے توڑ لاتا تو تمام دنیا پوری دنیا تک اسے کھاتی رہتی اور پھر بھی ذار سا بھی کم نہ ہوتا۔ ایک دیہاتی نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا کتنے بڑے خوشے ہوں گئے ؟ فرمایا اتنے بڑے کا اگر کوئی کالا کوا مہینہ بھر اڑتا رہے تو بھی اس خوشے سے آگے نہ نکل سکے۔ اور حدیث میں ہے کہ جنتی جب کوئی پھل توڑیں گے اسی وقت اس کی جگہ دوسرا لگ جائے گا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جنتی خوب کھائیں پئیں گے لیکن نہ تھوک آئے گی نہ ناک آئے گی نہ پیشاب نہ پاخانہ مشک جیسی خوشبو والا پسینہ آئے گا اور اسی سے کھانا ہضم ہوجائے گا۔ جیسے سانس بےتکلف چلتا ہے اس طرح تسبیح و تقدیس الہام کی جائے گی (مسلم وغیرہ) ایک اہل کتاب نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں جنتی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ ہر شخص کو کھانے پینے، جماع اور شہوت کی اتنی قوت دی جائے گی جتنی یہاں سو آدمیوں کو مل کر ہو۔ اس نے کہا اچھا تو جو کھائے گا پئے گا اسے پیشاب پاخانے کی بھی حاجت لگے گی پھر جنت میں گندگی کیسی ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ پسینے کے راستے سب ہضم ہوجائے گا اور وہ پسینہ مشک بو ہوگا۔ (مسند و نسائی) فرماتے ہیں کہ جس پرندے کی طرف کھانے کے ارادے سے جنتی نظر ڈالے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا اس کے سامنے گرپڑے گا بعض روایتوں میں ہے کہ پھر وہ اسی طرح بحکم الہٰی زندہ ہو کر اڑ جائے گا، قرآن میں ہے وہاں بکثرت مویوے ہوں گے کہ نہ کٹیں نہ، ٹوٹیں نہ ختم ہوں نہ گھٹیں سایے جھکے ہوئے شاخین نیچی۔ سائے بھی دائمی ہوں گے جیسے فرمان ہے ایماندار نیک کر دار بہتی نہروں والی جنتوں میں جائیں گے وہاں ان کے لئے پاگ بیویاں ہوں گی اور بہترین لمبے چوڑے سائے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت کے ایک درخت کے سائے تلے تیز سواری والا سوار سو سال تک تیز دوڑتا ہوا جائے لیکن پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔ قرآن میں ہے سائے ہیں پھیلے اور بڑھے ہوئے۔ عموما قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے تاکہ لوگوں کو جنت کا شوق ہو اور دوزخ سے ڈر لگے یہاں بھی جنت کا اور وہاں کی چند نعمتوں کا ذکر فرما کر فرمایا کہ یہ ہے انجام پرہیزگار اور تقوی شعار لوگوں کا اور کافروں کا انجام جہنم ہے جیسے فرمان ہے کہ جہنمی اور جنتی برابر نہیں جنتی با مراد ہیں۔ خطیب دمشق حضرت بلال بن سعد ؒ فرماتے ہیں کہ اے بندگان رب کیا تمہارے کسی عمل کی قبولیت کا یا کسی گناہ کی معافی کا کوئی پروانہ تم میں سے کسی کو ملا ؟ کیا تم سے کسی کو ملا ؟ کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم بیکار پیدا کئے گئے ہو ؟ اور تم اللہ کے بس میں آنے والے نہیں ہو ؟ واللہ اگر اطاعت ربانی کا بدلہ دنیا میں ہی ملتا تو تم تمام نیکیوں پر جم جاتے۔ کیا تم دنیا پر ہی فریفتہ ہوگئے ہو ؟ کیا اسی کے پیچھے مر مٹو گے ؟ کیا تمہیں جنت کی رغبت نہیں جس کے پھل اور جس کے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں (ابن ابی حاتم)
۞ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ
📘 کافر موت مانگیں گے کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے۔ یہاں کا عذاب فانی وہاں کا باقی اور اس آگ کا عذاب جو یہاں کی آگ سے ستر حصے زیامدہ تیز ہے پھر قید وہ جو تصور میں بھی نہ آسکے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗٓ اَحَدٌ) 89۔ الفجر :25) ، آج اس عذاب جیسے نہ کسی کے عذاب نہ اس جیسی کسی کی قید و بند۔ فرمان ہے آیت (واعتدنا لمن کذب بالساعۃ سعیرا) الخ، قیامت کے منکروں کے لئے ہم نے آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے دور سے ہی انہیں دیکھتے ہی شور و غل شروع کر دے گی وہاں کے تنگ و تاریک مکانات میں جب یہ جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو ہائے وائے کرتے ہوئے موت مانگنے لگیں گے۔ ایک ہی موت کیا مانگتے ہو بہت سے موتیں مانگو۔ اب بتاؤ کہ یہ ٹھیک ہے یا جنت خلد ٹھیک ہے جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے کہ وہ ان کا بدلہ ہے اور ان کا ہمیشہ رہنے کا ٹھکانا۔ پھر نیکوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ ان سے جن جنتوں کا وعدہ ہے اس کی ایک صفت تو یہ ہے کہ اس کے چاروں طرف نہریں جاری ہیں جہاں چاہیں پانی لے جائیں پانی نہ بگڑنے والا پھر دودھ کی نہریں ہیں اور دودھ بہی ایسا جس کا مزہ کبھی نہ بگڑے اور شراب کی نہریں ہیں جس میں صرف لذت ہے۔ نہ بدمزگی، نہ بےہودہ نشہ، اور صاف شہد کی نہریں ہیں اور ہر قسم کے پھل ہیں اور ساتھ ہی رب کی رحمت مالک معرفت اس کے پھل ہمیشگی والے اس کی کھانے پینے کی چیزیں کبھی فنا ہونے والی نہیں۔ جب انحضرت ﷺ نے کسوف کی نماز پڑھی تھی تو صحابہ ؓ نے پوچھا کہ حضور ﷺ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ پچھلے پاؤں پیچھے کو ہٹنے لگے۔ آپ نے فرمایا ہاں میں نے جنت کو دیکھا تھا اور چاہا تھا کہ ایک خوشہ توڑ لوں اگر لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے۔ ابو یعلی میں ہے کہ ایک دن ظہر کی نماز میں ہم آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ناگاہ آگے بڑھے اور ہم بھی بڑھے پھر ہم نے دیکھا کہ آپ نے گویا کوئی چیز لینے کا ارادہ کیا پھر آپ پیچھے ہٹ آئے۔ نماز کے خاتمہ کے بعد حضرت ابی بن کعب ؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آج تو ہم نے آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا کہ آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا آپ نے فرمایا ہاں میرے سامنے جنت پیش کی گئی جو تروتازگی سے مہک رہی تھی میں نے چاہا کہ اس میں سے ایک خوشہ انگور کا توڑ لاؤں لیکن میرے اور اس کے درمیان آڑ کردی گئی اگر میں اسے توڑ لاتا تو تمام دنیا پوری دنیا تک اسے کھاتی رہتی اور پھر بھی ذار سا بھی کم نہ ہوتا۔ ایک دیہاتی نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ کیا جنت میں انگور ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس نے کہا کتنے بڑے خوشے ہوں گئے ؟ فرمایا اتنے بڑے کا اگر کوئی کالا کوا مہینہ بھر اڑتا رہے تو بھی اس خوشے سے آگے نہ نکل سکے۔ اور حدیث میں ہے کہ جنتی جب کوئی پھل توڑیں گے اسی وقت اس کی جگہ دوسرا لگ جائے گا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جنتی خوب کھائیں پئیں گے لیکن نہ تھوک آئے گی نہ ناک آئے گی نہ پیشاب نہ پاخانہ مشک جیسی خوشبو والا پسینہ آئے گا اور اسی سے کھانا ہضم ہوجائے گا۔ جیسے سانس بےتکلف چلتا ہے اس طرح تسبیح و تقدیس الہام کی جائے گی (مسلم وغیرہ) ایک اہل کتاب نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ فرماتے ہیں جنتی کھائیں پئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ ہر شخص کو کھانے پینے، جماع اور شہوت کی اتنی قوت دی جائے گی جتنی یہاں سو آدمیوں کو مل کر ہو۔ اس نے کہا اچھا تو جو کھائے گا پئے گا اسے پیشاب پاخانے کی بھی حاجت لگے گی پھر جنت میں گندگی کیسی ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ پسینے کے راستے سب ہضم ہوجائے گا اور وہ پسینہ مشک بو ہوگا۔ (مسند و نسائی) فرماتے ہیں کہ جس پرندے کی طرف کھانے کے ارادے سے جنتی نظر ڈالے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا اس کے سامنے گرپڑے گا بعض روایتوں میں ہے کہ پھر وہ اسی طرح بحکم الہٰی زندہ ہو کر اڑ جائے گا، قرآن میں ہے وہاں بکثرت مویوے ہوں گے کہ نہ کٹیں نہ، ٹوٹیں نہ ختم ہوں نہ گھٹیں سایے جھکے ہوئے شاخین نیچی۔ سائے بھی دائمی ہوں گے جیسے فرمان ہے ایماندار نیک کر دار بہتی نہروں والی جنتوں میں جائیں گے وہاں ان کے لئے پاگ بیویاں ہوں گی اور بہترین لمبے چوڑے سائے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت کے ایک درخت کے سائے تلے تیز سواری والا سوار سو سال تک تیز دوڑتا ہوا جائے لیکن پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔ قرآن میں ہے سائے ہیں پھیلے اور بڑھے ہوئے۔ عموما قرآن کریم میں جنت اور دوزخ کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے تاکہ لوگوں کو جنت کا شوق ہو اور دوزخ سے ڈر لگے یہاں بھی جنت کا اور وہاں کی چند نعمتوں کا ذکر فرما کر فرمایا کہ یہ ہے انجام پرہیزگار اور تقوی شعار لوگوں کا اور کافروں کا انجام جہنم ہے جیسے فرمان ہے کہ جہنمی اور جنتی برابر نہیں جنتی با مراد ہیں۔ خطیب دمشق حضرت بلال بن سعد ؒ فرماتے ہیں کہ اے بندگان رب کیا تمہارے کسی عمل کی قبولیت کا یا کسی گناہ کی معافی کا کوئی پروانہ تم میں سے کسی کو ملا ؟ کیا تم سے کسی کو ملا ؟ کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم بیکار پیدا کئے گئے ہو ؟ اور تم اللہ کے بس میں آنے والے نہیں ہو ؟ واللہ اگر اطاعت ربانی کا بدلہ دنیا میں ہی ملتا تو تم تمام نیکیوں پر جم جاتے۔ کیا تم دنیا پر ہی فریفتہ ہوگئے ہو ؟ کیا اسی کے پیچھے مر مٹو گے ؟ کیا تمہیں جنت کی رغبت نہیں جس کے پھل اور جس کے سائے ہمیشہ رہنے والے ہیں (ابن ابی حاتم)
وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ الْأَحْزَابِ مَنْ يُنْكِرُ بَعْضَهُ ۚ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا أُشْرِكَ بِهِ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ
📘 شاداں وفرحاں لوگ جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں وفرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے۔ جیسے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ) 2۔ البقرۃ :121) میں ہے کہ اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑتے ہیں۔ ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، تو اے نبی اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الہٰی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آسکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے۔ اے نبی ﷺ تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آچکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا۔ سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لئے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔
وَكَذَٰلِكَ أَنْزَلْنَاهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَمَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا وَاقٍ
📘 شاداں وفرحاں لوگ جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں وفرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے۔ جیسے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ) 2۔ البقرۃ :121) میں ہے کہ اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑتے ہیں۔ ہاں ان جماعتوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے، غرض بعض اہل کتاب مسلمان ہیں بعض نہیں، تو اے نبی اعلان کر دے کہ مجھے صرف اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہوا ہے کہ دوسرے کی شرکت کے بغیر صرف اسی کی عبادت اس کی ہی توحید کے ساتھ کروں یہی حکم مجھ سے پہلے کے تمام نبیوں اور رسولوں کو ملا تھا، اسی راہ کی طرف اسی الہٰی عبادت کی طرف میں تمام دنیا کو دعوت دیتا ہوں۔ اسی اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہوں اور اسی اللہ کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ جس طرح ہم نے تم سے پہلے نبی بھیجے ان پر اپنی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح یہ قرآن جو محکم اور مضبوط ہے عربی زبان میں جو تیری اور تیری قوم کی زبان ہے اس قرآن کو ہم نے تجھ پر نازل فرمایا۔ یہ بھی تجھ پر خاص احسان ہے کہ اس واضح اظہار مفصل اور محکم کتاب کے ساتھ تجھے ہم نے نوازا کہ نہ اس کے آگے سے باطل آسکے نہ اس کے پیچھے سے آ کر اس میں مل سکے یہ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے۔ اے نبی ﷺ تیرے پاس الہامی علم آسمانی وحی آچکی ہے اب بھی اگر تو نے ان کی خواہش کی ماتحتی کی تو یاد رکھ کہ اللہ کے عذابوں سے تجھے کوئی بھی نہ بچا سکے گا۔ نہ کوئی تیری حمایت پر کھڑا ہوگا۔ سنت نبویہ اور طریقہ محمدیہ کے علم کے بعد جو گمراہی والوں کے راستوں کو اختیار کریں ان علماء کے لئے اس آیت میں زبردست وعید ہے۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً ۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ
📘 ہر کام کا وقت مقرر ہے ارشاد ہے کہ جیسے آپ باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ آیت (انما انا بشر مثلکم یوحی الی) میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الہٰی کی جاتی ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں۔ مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء کا دریقہ رہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور مہندی، پھر فرماتا ہے کہ معجزے ظاہر کرنا کسی نبی کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے۔ ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کردیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا۔ سوائے شقاوت، سعادت، حیات و ممات کے۔ کہ ان سے فراغت حاصل کرلی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا۔ منصور کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد ؒ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الہٰی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے۔ آپ نے فرمایا یہ تو اچھی دعا ہے سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ نے آیت (انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ) سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں، تکلیفیں مقرر ہوجاتی ہیں۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم موخر کرتا ہے، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی۔ حضرت شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹار دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے۔ حضرت ابن مسعود ؓ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے۔ کعب ؒ نے امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے کہا کہ اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ کو بتادیتا پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے۔ چناچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کردیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ دعا اور قضا دونوں کی مڈ بھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے۔ کلبی فرماتے ہیں روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی ؟ فرمایا ابو صالح نے ان سے حضرت جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی ﷺ نے۔ پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا میں نے پیا میں آیا میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے فرماتے ہیں مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہوجاتی ہے اور جس کے لئے ثابت رہتی ہے۔ یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے، اس کے لئے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہوچکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الہٰی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لئے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہوچکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الہٰی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لئے ثابت رہتی ہے۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے۔ ابن عباس کا قول ہے جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی۔ بقول قتادہ یہ آیت مثل آیت (ما ننسخ الخ، کے ہے یعنی جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد ﷺ بالکل بےبس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہوچکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لئے یہ آیت اتری کہ ہم جو چاہیں تجدید کردیں ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی۔ حسن بصری فرماتے ہیں جس کی اجل آجائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کرلے۔ ابن جریر ؒ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العلمین کے پاس ہی ہے۔ ابن عباس ؓ نے کعب سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا۔ پھر کہا کہ کتاب کی صورت میں ہوجائے ہوگیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ام الکتاب سے مراد ذکر ہے۔
يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ
📘 ہر کام کا وقت مقرر ہے ارشاد ہے کہ جیسے آپ باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ آیت (انما انا بشر مثلکم یوحی الی) میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الہٰی کی جاتی ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں۔ مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ چار چیزیں تمام انبیاء کا دریقہ رہیں خوشبو لگانا، نکاح کرنا، مسواک کرنا اور مہندی، پھر فرماتا ہے کہ معجزے ظاہر کرنا کسی نبی کے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ عزوجل کے قبضے کی چیز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو ارادہ کرتا ہے حکم دیتا ہے ہر ایک بات مقررہ وقت اور معلوم مدت کتاب میں لکھی ہوئی ہے، ہر شے کی ایک مقدار معین ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا اللہ کو علم ہے سب کچھ کتاب میں لکھا موجود ہے یہ تو اللہ پر بہت ہی آسان ہے۔ ہر کتاب کی جو آسمان سے اتری ہے اس کی ایک اجل ہے اور ایک مدت مقرر ہے ان میں سے جسے چاہتا ہے منسوخ کردیتا ہے جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے پس اس قرآن سے جو اس نے اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ پر نازل فرمایا ہے تمام اگلی کتابیں منسوخ ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے سال بھر کے امور مقرر کر دئے لیکن اختیار سے باہر نہیں جو چاہا باقی رکھا جو چاہا بدل دیا۔ سوائے شقاوت، سعادت، حیات و ممات کے۔ کہ ان سے فراغت حاصل کرلی گئی ہے ان میں تغیر نہیں ہونا۔ منصور کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد ؒ سے پوچھا کہ ہم میں سے کسی کا یہ دعا کرنا کیسا ہے کہ الہٰی اگر میرا نام نیکوں میں ہے تو باقی رکھ اور اگر بدوں میں ہے تو اسے ہٹا دے اور نیکوں میں کر دے۔ آپ نے فرمایا یہ تو اچھی دعا ہے سال بھر کے بعد پھر ملاقات ہوئی یا کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا تھا تو میں نے ان سے یہی بات دریافت کی آپ نے آیت (انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ) سے دو آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا لیلۃ القدر میں سال بھر کی روزیاں، تکلیفیں مقرر ہوجاتی ہیں۔ پھر جو اللہ چاہے مقدم موخر کرتا ہے، ہاں سعادت شقاوت کی کتاب نہیں بدلتی۔ حضرت شفیق بن سلمہ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ اگر تو نے ہمیں بدبختوں میں لکھا ہے تو اسے مٹار دے اور ہماری گنتی نیکوں میں لکھ لے اور اگر تو نے ہمیں نیک لوگوں میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھ تو جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے باقی رکھے اصل کتاب تیرے ہی پاس ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے روتے روتے یہ دعا پڑھا کرتے تھے اے اللہ اگر تو نے مجھ پر برائی اور گناہ لکھ رکھے ہیں تو انہیں مٹا دے تو جسے چاہے مٹاتا ہے اور باقی رکھتا ہے ام الکتاب تیرے پاس ہی ہے تو اسے سعادت اور رحمت کر دے۔ حضرت ابن مسعود ؓ بھی یہی دعا کیا کرتے تھے۔ کعب ؒ نے امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے کہا کہ اگر ایک آیت کتاب اللہ میں نہ ہوتی تو میں قیامت تک جو امور ہونے والے ہیں سب آپ کو بتادیتا پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ان تمام اقوال کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ کے اختیار کی چیز ہے۔ چناچہ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم کردیا جاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز بدل نہیں سکتی اور عمر کی زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں۔ نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ دعا اور قضا دونوں کی مڈ بھیڑ آسمان و زمین کے درمیان ہوتی ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ عزوجل کے پاس لوح محفوظ ہے جو پانچ سو سال کے راستے کی چیز ہے سفید موتی کی ہے یاقوت کے دو پٹھوں کے درمیان۔ تریسٹھ بار اللہ تعالیٰ اس پر توجہ فرماتا ہے۔ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ام الکتاب اسی کے پاس ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ رات کی تین ساعتیں باقی رہنے پر دفتر کھولا جاتا ہے پہلی ساعت میں اس دفتر پر نظر ڈالی جاتی ہے جسے اس کے سوا کوئی اور نہیں دیکھتا پس جو چاہتا ہے مٹاتا ہے جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے۔ کلبی فرماتے ہیں روزی کو بڑھانا گھٹانا عمر کو بڑھانا گھٹانا اس سے مراد ہے ان سے پوچھا گیا کہ آپ سے یہ بات کس نے بیان کی ؟ فرمایا ابو صالح نے ان سے حضرت جابر بن عبداللہ بن رباب نے ان سے نبی ﷺ نے۔ پھر ان سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو جواب دیا کہ جمعرات کے دن سب باتیں لکھی جاتی ہیں ان میں سے جو باتیں جزا سزا سے خالی ہوں نکال دی جاتی ہیں جیسے تیرا یہ قول کہ میں نے کھایا میں نے پیا میں آیا میں گیا وغیرہ جو سچی باتیں ہیں اور ثواب عذاب کی چیزیں نہیں اور باقی جو ثواب عذاب کی چیزیں ہیں وہ رکھ لی جاتی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو کتابیں ہیں ایک میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور اللہ کے پاس ہے اصل کتاب وہی ہے فرماتے ہیں مراد اس سے وہ شخص ہے جو ایک زمانے تک تو اللہ کی اطاعت میں لگا رہتا ہے پھر معصیت میں لگ جاتا ہے اور اسی پر مرتا ہے پس اس کی نیکی محو ہوجاتی ہے اور جس کے لئے ثابت رہتی ہے۔ یہ وہ ہے جو اس وقت تو نافرمانیوں میں مشغول ہے لیکن اللہ کی طرف سے، اس کے لئے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہوچکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الہٰی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لئے فرمانبرداری پہلے سے مقرر ہوچکی ہے۔ پس آخری وقت وہ خیر پر لگ جاتا ہے اور طاعت الہٰی میں مرتا ہے۔ یہ ہے جس کے لئے ثابت رہتی ہے۔ سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے نہ بخشے۔ ابن عباس کا قول ہے جو چاہتا ہے منسوخ کرتا ہے جو چاہتا ہے تبدیل نہیں کرتا ناسخ کا اختیار اسی کے پاس ہے اور اول بدل بھی۔ بقول قتادہ یہ آیت مثل آیت (ما ننسخ الخ، کے ہے یعنی جو چاہے منسوخ کر دے جو چاہے باقی اور جاری رکھے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں جب اس سے پہلے کی آیت اتری کہ کوئی رسول بغیر اللہ کے فرمان کے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتا تو قریش کے کافروں نے کہا پھر محمد ﷺ بالکل بےبس ہیں کام سے تو فراغت حاصل ہوچکی ہے پس انہیں ڈرانے کے لئے یہ آیت اتری کہ ہم جو چاہیں تجدید کردیں ہر رمضان میں تجدید ہوتی ہے پھر اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے روزی بھی تکلیف بھی دیتا ہے اور تقسیم بھی۔ حسن بصری فرماتے ہیں جس کی اجل آجائے چل بستا ہے نہ آئی ہو رہ جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے دن پورے کرلے۔ ابن جریر ؒ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ حلال حرام اس کے پاس ہے کتاب کا خلاصہ اور جڑ اسی کے ہاتھ ہے کتاب خود رب العلمین کے پاس ہی ہے۔ ابن عباس ؓ نے کعب سے ام الکتاب کی بابت دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے مخلوق کو اور مخلوق کے اعمال کو جان لیا۔ پھر کہا کہ کتاب کی صورت میں ہوجائے ہوگیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ام الکتاب سے مراد ذکر ہے۔
وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
📘 عالم سفلی کے انواع واقسام اوپر کی آیت میں عالم علوی کا بیان تھا، یہاں علم سفلی کا ذکر ہو رہا ہے، زمین کو طول عرض میں پھیلا کر اللہ ہی نے بچھایا ہے۔ اس میں مضبوط پہاڑ بھی اسی کے گاڑے ہوئے ہیں، اس میں دریاؤں اور چشموں کو بھی اسی نے جاری کیا ہے۔ تاکہ مختلف شکل وصورت، مختلف رنگ، مختلف ذائقوں کے پھل پھول کے درخت اس سے سیراب ہوں۔ جوڑا جوڑا میوے اس نے پیدا کئے، کھٹے میٹھے وغیرہ۔ رات دن ایک دوسرے کے پے در پے برابر آتے جاتے رہتے ہیں، ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے پس مکان سکان اور زمان سب میں تصرف اسی قادر مطلق کا ہے۔ اللہ کی ان نشانیوں، حکمتوں، اور دلائل کو جو غور سے دیکھے وہ ہدایت یافتہ ہوسکتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے ملے جلے ہوئے ہیں، پھر قدرت کو دیکھے کہ ایک ٹکڑے سے تو پیداوار ہو اور دوسرے سے کچھ نہ ہو۔ ایک کی مٹی سرخ، دوسرے کی سفید، زرد، وہ سیاہ، یہ پتھریلی، وہ نرم، یہ میٹھی، وہ شور۔ ایک ریتلی، ایک صاف، غرض یہ بھی خالق کی قدرت کی نشانی ہے اور بتاتی ہے کہ فاعل، خود مختار، مالک الملک، لا شریک ایک وہی اللہ خالق کل ہے۔ نہ اس کے سوا کوئی معبود، نہ پالنے والا۔ زرع ونحیل کو اگر جنات پر عطف ڈالیں تو پیش سے مرفوع پڑھنا چاہئے اور اعناب پر عطف ڈالیں تو زیر سے مضاف الیہ مان کر مجرور پڑھنا چاہئے۔ ائمہ کی جماعت کی دونوں قرأتیں ہیں۔ صنوان کہتے ہیں ایک درخت جو کئی تنوں اور شاخوں والا ہو جیسے انار اور انجیر اور بعض کھجوریاں۔ غیر صنوان جو اس طرح نہ ہو ایک ہی تنا ہو جیسے اور درخت ہوتے ہیں۔ اسی سے انسان کے چچا کو صنوالاب کہتے ہیں حدیث میں بھی یہ آیا ہے۔ کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انسان کا چچا مثل باپ کے ہوتا ہے۔ برا ؓ فرماتے ہیں ایک جڑ یعنی ایک تنے میں کئی ایک شاخدار درخت کھجور ہوتے ہیں اور ایک تنے پر ایک ہی ہوتا ہے یہی صنوان اور غیر صنوان ہے یہی قول اور بزرگوں کا بھی ہے۔ سب کے لئے پانی ایک ہی ہے یعنی بارش کا لیکن ہر مزے اور پھل میں کمی بیشی میں بےانتہا فرق ہے، کوئی میٹھا ہے، کوئی کھٹا ہے۔ حدیث میں بھی یہ تفسیر ہے ملاحظہ ہو ترمذی شریف۔ الغرض قمسوں اور جنسوں کا اختلاف، شکل صورت کا اختلاف، رنگ کا اختلاف، بو کا اختلاف، مزے کا اختلاف، پتوں کا اختلاف، تروتازگی کا اختلاف، ایک بہت ہی میٹھا، ایک سخت کڑوا، ایک نہایت خوش ذائقہ، ایک بیحد بدمزہ، رنگ کسی کا زرد، کسی کا سرخ، کسی کا سفید، کسی کا سیاہ۔ اسی طرح تازگی اور پھل میں بھی اختلاف، حالانکہ غذا کے اعتبار سے سب یکساں ہیں۔ یہ قدرت کی نیرنگیاں ایک ہوشیار شخص کے لئے عبرت ہیں۔ اور فاعل مختار اللہ کی قدرت کا بڑا زبردست پتہ دیتی ہیں کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے۔ عقل مندوں کے لئے یہ آیتیں اور یہ نشانیاں کافی وافی ہیں۔
وَإِنْ مَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
📘 آپ کے انتقال کے بعد تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا ؟ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کرچکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی جاروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے " کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں ؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے ؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہوجاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہا اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔ عرب شاعر کہتا ہے الارض تحیا اذا ما عاش عالمہا متی یمت عالم منہا یمت طرف کالارض تحیا اذا ما الغیث حل بہا وان ابی عارفی اکنا فہا التلف یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔ جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (ولقد اھلکنا ما حولکم من القری،) الخ، یہی قول امام ابن جریر ؒ کا بھی پسندیدہ ہے۔
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ ۚ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
📘 آپ کے انتقال کے بعد تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا ؟ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کرچکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی جاروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان کافروں کو دباتے چلے آ رہے " کیا وہ نہیں دیکھتے کہ برکتیں اٹھتی جا رہی ہیں خرابیاں آتی جا رہی ہیں ؟ لوگ مرتے جا رہے ہیں زمین اجڑتی جا رہی ہے ؟ خود زمین ہی اگر تنگ ہوتی جاتی تو تو انسان کو چھپڑ ڈالنا بھی محال ہوجاتا مقصد انسان کا اور درختوں کا کم ہوتے رہنا ہے۔ مراد اس سے زمین کی تنگی نہیں بلکہ لوگوں کی موت ہے علماء فقہا اور بھلے لوگوں کی موت بھی زمین کی بربادی ہے۔ عرب شاعر کہتا ہے الارض تحیا اذا ما عاش عالمہا متی یمت عالم منہا یمت طرف کالارض تحیا اذا ما الغیث حل بہا وان ابی عارفی اکنا فہا التلف یعنی جہاں کہیں جو عالم دین ہے وہاں کی زمین کی زندگی اسی سے ہے۔ اس کی موت اس زمین کی ویرانی اور خرابی ہے۔ جیسے کہ بارش جس زمین پر برسے لہلہانے لگتی ہے اور اگر نہ برسے تو سوکھنے اور بنجر ہونے لگتی ہے۔ پس آیت میں مراد اسلام کا شرک پر غالب آنا ہے، ایک کے بعد ایک بستی کو تابع کرنا ہے۔ جیسے فرمایا آیت (ولقد اھلکنا ما حولکم من القری،) الخ، یہی قول امام ابن جریر ؒ کا بھی پسندیدہ ہے۔
وَقَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ الْمَكْرُ جَمِيعًا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۗ وَسَيَعْلَمُ الْكُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ
📘 کافروں کے شرمناک کارنامے اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساٹھ مکر کیا، انہیں نکالنا چاہا، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا۔ انجام کار پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہوا۔ اس سے پہلے آپ کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہوچکی ہے کہ وہ آپ کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہوسکتی ہے ؟ ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بیخبر رہے۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا ؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کردیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کردیا انکے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے کھنڈرات ابھی موجود ہیں۔ ہر ایک کے ہر ایک عمل سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے پوشیدہ عمل دل کے خوف اس پر ظاہر ہیں ہر عامل کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا الکفار کی دوسری قرأت الکافر بھی ہے۔ ان کافروں کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کا اچھا رہتا ہے، ان کا یا مسلمانوں کا ؟ الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حق والوں کو ہی غالب رکھا ہے انجام کے اعتبار سے یہی اچھے رہتے ہیں دنیا آخرت انہی کی سنورتی ہے۔
وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ
📘 رسالت کے منکر کافر تجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تیری رسالت کے منکر ہیں۔ تو غم نہ کر کہہ دیا کر کہ اللہ کی شہادت کافی ہے۔ تیری نبوت کا وہ خود گواہ ہے، میری تبلیغ پر، تمہاری تکذیب پر، وہ شاہد ہے۔ میری سچائی، تمہاری تکذیب کو وہ دیکھ رہا ہے۔ علم کتاب جس کے پاس ہے اس سے مراد عبداللہ بن سلام ہیں ؓ۔ یہ قول حضرت مجاہد ؒ وغیرہ کا ہے لیکن بہت غریب قول ہے اس لئے کہ یہ آیت مکہ شریف میں اتری ہے اور حضرت عبداللہ بن سلام ؓ تو ہجرت کے بعد مدینے میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ ظاہر ابن عباس کا قول ہے کہ یہود و نصاری کے حق گو عالم مراد ہیں ہاں ان میں حضرت عبداللہ بن سلام بھی ہیں، حضرت سلمان اور حضرت تمیم داری وغیرہ ؓ بھی۔ حضرت مجاہد ؒ سے ایک روایت میں مروی ہے کہ اس سے مراد بھی خود اللہ تعالیٰ ہے۔ حضرت سعید ؒ اس سے انکاری تھے کہ اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام لئے جائیں کیونکہ یہ آیت مکیہ ہے اور آیت کو من عندہ پڑھتے تھے۔ یہی قرأت مجاہد اور حسن بصری سے بھی مروی ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی قرأت ہے لیکن وہ حدیث ثابت نہیں۔ صحیح بات یہی ہے کہ یہ اسم جنس ہے ہر وہ عالم جو اگلی کتاب کا علم ہے اس میں داخل ہے ان کی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی صفت اور آپ کی بشارت موجود تھی۔ ان کے نبیوں نے آپ کی بابت پیش گوئی کردی تھی۔ جیسے فرمان رب ذی شان ہے آیت (ورحمتی وسعت کل شیئی) یعنی میری رحمت نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے میں اسے ان لوگوں کے نام لکھ دوں گا جو متقی ہیں، زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں، ہماری آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہیں، رسول نبی ﷺ کی اطاعت کرنے والے ہیں، جس کا ذکر اپنی کتاب تورات و انجیل میں موجود پاتے ہیں اور آیت میں ہے کہ کیا یہ بات بھی ان کے لئے کافی نہیں کہ اس کے حق ہونے کا علم علماء بنی اسرائیل کو بھی ہے۔ ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے علمائے یہود سے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ اپنے باپ ابراہیم و اسماعیل کی مسجد میں جا کر عید منائیں مکہ پہنچے آنحضرت ﷺ یہیں تھے یہ لوگ جب حج سے لوٹے تو آپ سے ملاقات ہوئی اس وقت آپ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ کے پاس تھے یہ بھی مع اپنے ساتھیوں کے کھڑے ہوگئے آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھ کر پوچھا کہ آپ ہی عبداللہ بن سلام ہیں کہا ہاں فرمایا قریب آؤ جب قریب گئے تو آپ نے فرمایا کیا تم میرا ذکر تورات میں نہیں پاتے ؟ انہوں نے کہا آپ اللہ تعالیٰ کے اوصاف میرے سامنے بیان فرمائیے اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور حکم دیا کہ کہو آیت (قل ھو اللہ احد) آپ نے پوری سورت پڑھ سنائی۔ ابن سلام نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا، مسلمان ہوگئے، مدینے واپس چلے آئے لیکن اپنے اسلام کو چھپائے رہے۔ جب حضور ﷺ ہجرت کر کے مدینے پہنچے اس وقت آپ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے ہوئے کھجوریں اتار رہے تھے جو آپ کو خبر پہنچی اسی وقت درخت سے کود پڑے۔ ماں کہنے لگیں کہ اگر حضرت موسیٰ ؑ بھی آجاتے تو تم درخت سے نہ کودتے۔ کیا بات ہے ؟ جواب دیا کہ اماں جی حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت سے بھی زیادہ خوشی مجھے ختم المرسلین ﷺ کی یہاں تشریف آوری سے ہوئی ہے۔
۞ وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
📘 عقل کے اندھے ضدی لوگ اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہوتے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر روز مرہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کردیتا ہے۔ ہر عاقل جان سکتا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ اور دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے بہت آسان ہے۔ جیسے فرمان ربانی ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33) 46۔ الأحقاف :33)یعنی جس نے آسمان و زمین تھکے پیدا کردیا، کیا وہ مردوں کو جلانے پر قادر نہیں ؟ بیشک ہے بلکہ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ اصل یہ کفار ہیں، ان کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلَاتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ
📘 منکرین قیامت یہ منکرین قیامت کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب جلد ہی کیوں نہیں لاتے ؟ کہتے تھے کہ اے اپنے آپ پر اللہ کی وحی نازل ہونے کا دعویٰ کرنے والے، ہمارے نزدیک تو تو پاگل ہے۔ اگر بالفرض سچا ہے تو عذاب کے فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا ؟ اس کے جواب میں ان سے کہا گیا کہ فرشتے حق کے اور فیصلے کے ساتھ ہی آیا کرتے ہیں، جب وہ وقت آئے گا اس وقت ایمان لانے یا توبہ کرنے یا نیک عمل کرنے کی فرصت ومہلت نہیں ملے گی۔ اسی طرح اور آیت میں ہے آیت (ویستعجونک دو آیتوں تک۔ اور جگہ ہے سال سائل الخ اور آیت میں ہے کہ بےایمان اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور ایماندار اس سے خوف کھا رہے ہیں اور اسے برحق جان رہے ہیں۔ اسی طرح اور آیت میں فرمان ہے کہ وہ کہتے تھے کہ اے اللہ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور المناک عذاب نازل فرما۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے کفر وانکار کی وجہ سے اللہ کے عذاب کا آنا محال جان کر اس قدر نڈر اور بےخوف ہوگئے تھے کہ عذاب کے اترنے کی آرزو اور طلب کیا کرتے تھے۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے کے ایسے لوگوں کی مثالیں ان کے سامنے ہیں کہ کس طرح وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے۔ کہہ دو کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حلم وکرم ہے کہ گناہ دیکھتا ہے اور فورا نہیں پکڑتا ورنہ روئے زمین پر کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑے، دن رات خطائیں دیکھتا ہے اور درگزر فرماتا ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ عذاب پر قدرت نہیں رکھتا۔ اس کے عذاب بھی بڑے خطرناک نہایت سخت اور بہت درد دکھ دینے والے ہیں۔ چناچہ فرمان ہے آیت (فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ ۚ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ01407) 6۔ الانعام :147) اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ تمہارا رب وسیع رحمتوں والا ہے لیکن اس کے آئے ہوئے عذاب گنہگاروں پر سے نہیں ہٹائے جاسکتے۔ اور فرمان ہے کہ تیرا پروردگار جلد عذاب کرنے والا، بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے اور آیت میں ہے آیت (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49ۙ) 15۔ الحجر :49) میرے بندوں کو خبر کر دے کہ میں غفور رحیم ہوں اور میرے عذاب بھی بڑے دردناک ہیں۔ اسی قسم کی اور بھی بہت سے آیتیں ہیں جن میں امید وبیم، خوف و لالچ ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے اس میں ہے اس آیت کے اترنے پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کا معاف فرمانا اور درگزر فرمانا نہ ہوتا تو کسی کی زندگی کا لطف باقی نہ رہتا اور اگر اس کا دھمکانا ڈرانا اور سما کرنا نہ ہوتا تو ہر شخص بےپرواہی سے ظلم و زیادتی میں مشغول ہوجاتا۔ ابن عساکر میں ہے کہ حسن بن عثمان ابو حسان راوی ؒ نے خواب میں اللہ تعالیٰ عزوجل کا دیدار کیا دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اللہ کے سامنے کھڑے اپنے ایک امتی کی شفاعت کر رہے ہیں جس پر فرمان باری ہوا کہ کیا تجھے اتنا کافی نہیں کہ میں نے سورة رعد میں تجھ پر آیت (وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ) 13۔ الرعد :6) نازل فرمائی ہے۔ ابو حسان ؒ فرماتے ہیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔
وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۗ إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
📘 اعتراض برائے اعتراض کافر لوگ ازروئے اعتراض کہا کرتے تھے کہ جس طرح اگلے پیغمبر معجزے لے کر آئے، یہ پیغمبر کیوں نہیں لائے ؟ مثلا صفا پہاڑ سونے کا بنا دیتے یا مثلا عرب کے پہاڑ یہاں سے ہٹ جاتے اور یہاں سبزہ اور نہریں ہوجاتیں۔ پس ان کے جواب میں اور جگہ ہے کہ ہم یہ معجزے بھی دکھا دیتے مگر اگلوں کی طرح ان کی جھٹلانے پر پھر اگلوں جیسے ہی عذاب ان پر آجاتے۔ تو ان کی باتوں سے مغموم و متفکر نہ ہوجایا کر، تیرے ذمے تو صرف تبلیغ ہی ہے تو ہادی نہیں، ان کے نہ ماننے سے تیری پکڑ نہ ہوگی۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، یہ تیرے بس کی بات نہیں۔ ہر قوم کے لئے رہبر اور داعی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہادی میں ہوں تو تو ڈرانے والا ہے۔ اور آیت میں (وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ) 35۔ فاطر :24) وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ 24 ) 35۔ فاطر :24) ہر امت میں ڈرانے والا گزرا ہے اور مراد یہاں ہادی سے پیغمبر ہے۔ پس پیشوا رہبر ہر گروہ میں ہوتا ہے، جس کے علم وعمل سے دوسرے راہ پاسکیں، اس امت کے پیشوا آنحضرت محمد ﷺ ہیں۔ ایک نہایت ہی منکر واہی روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے وقت آپ نے اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کے فرمایا منذر تو میں ہوں اور حضرت علی ؓ کے کندھے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اے علی تو ہادی ہے، میرے بعد ہدایات پانے والے تجھ سے ہدایت پائیں گے۔ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ اس جگہ ہادی سے مراد قریش کا ایک شخص ہے۔ جنید کہتے ہیں وہ حضرت علی ؓ خود ہیں۔ ابن جریر ؒ نے حضرت علی ؓ کے ہادی ہونے کی روایت کی ہے لیکن اس میں سخت نکارت ہے۔
اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ
📘 علم الہٰی اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ تمام جاندار مادہ حیوان ہوں یا انسان، ان کے پیٹ کے بچوں کا، ان کے حمل کا، اللہ کو علم ہے کہ پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے اللہ بخوبی جانتا ہے یعنی مرد ہے یا عورت ؟ اچھا ہے یا برا ؟ نیک ہے یا بد ؟ عمر والا ہے یا بےعمر کا ؟ چناچہ ارشاد ہے آیت (ھو اعلم بکم) الخ وہ بخوبی جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کرتا ہے اور جب کہ تم ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہو، الخ اور فرمان ہے آیت (يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث) 39۔ الزمر :6) وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ایک کے بعد دوسری پیدائش میں تین تین اندھیروں میں۔ ارشاد ہے آیت (ولقد خلقنا الانسان من سلالتہ) الخ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے نطفے کو خون بستہ کیا، خون بستہ کو لوتھڑا گوشت کا کیا۔ لوتھڑے کو ہڈی کی شکل میں کردیا۔ پھر ہڈی کو گوشت چڑھایا، پھر آخری اور پیدائش میں پیدا کیا پس بہترین خالق بابرکت ہے۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی رہتی ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ خالق کا ایک فرشے کو بھیجتا ہے، جسے چار باتوں کے لکھ لینے کا حکم ہوتا ہے، اس کا رزق عمر عمل اور نیک بد ہونا لکھ لیتا ہے۔ اور حدیث میں ہے وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مرد ہوگا یا عورت ؟ شق ہوگا یا سعید ؟ روزی کیا ہے ؟ عمر کتنی ہے ؟ اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے اور وہ لکھ لیتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں بجز اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کے اور کوئی نہیں جانتا کل کی بات اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پیٹ میں کیا بڑھتا ہے اور کیا گھٹتا ہے کوئی نہیں جانتا۔ بارش کب برسے گی اس کا علم بہی کسی کو نہیں کون شخص کہاں مرے گا اسے بھی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کب قائم ہوگی اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے۔ پیٹ میں کیا گھٹتا ہے اس سے مراد حمل کا ساقط ہوجانا ہے اور رحم میں کیا بڑھ رہا ہے کیسے پورا ہو رہا ہے۔ یہ بھی اللہ کو بخوبی علم رہتا ہے۔ دیکھ لو کوئی عورت دس مہینے لیتی ہے کوئی نو۔ کسی کا حمل گھٹتا ہے، کسی کا بڑھتا ہے۔ نو ماہ سے گھٹنا، نو سے بڑھ جانا اللہ کے علم میں ہے۔ حضرت ضحاک کا بیان ہے کہ میں دو سال ماں کے پیٹ میں رہا جب پیدا ہوا تو میرے اگلے دو دانت نکل آئے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ حمل کی انتہائی مدت دو سال کی ہوتی ہے۔ کمی سے مراد بعض کے نزدیک ایام حمل میں خون کا آنا اور زیادتی سے مراد نو ماہ سے زیادہ حمل کا ٹھرا رہنا ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں نو سے پہلے جب عورت خون کو دیکھے تو نو سے زیادہ ہوجاتے ہیں مثل ایام حیض کے۔ خون کے گرنے سے بچہ اچھا ہوجاتا ہے اور نہ گرے تو بچہ پورا پاٹھا اور بڑا ہوتا ہے۔ حضرت مکحول ؒ فرماتے ہیں بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں بالکل بےغم، بےکھٹکے اور باآرام ہوتا ہے۔ اس کی ماں کے حیض کا خون اس کی غذا ہوتا ہے، جو بےطلب آرام اسے پہنچتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماں کو ان دنوں حیض نہیں آتا۔ پھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے زمین پر آتے ہی روتا چلاتا ہے، اس انجان جگہ سے اسے وحشت ہوتی ہے، جب اس کی نال کٹ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روزی ماں کے سینے میں پہنچا دیتا ہے اور اب بھی بےطلب، بےجستجو، بےرنج وغم، بےفکری کے ساتھ اسے روزی ملتی رہتی ہے۔ پھر ذرا بڑا ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کھانے پینے لگتا ہے۔ لیکن بالغ ہوتے ہی روزی کے لئے ہائے ہائے کرنے لگتا ہے۔ موت اور قتل تک سے روزی حاصل ہونے کا امکان ہو تو پس وپیش نہیں کرتا۔ افسوس اے ابن آدم تجھ پر حیرت ہے جس نے تجھے تیری ماں کے پیٹ میں روزی دی، جس نے تجھے تیری ماں کی گود میں روزی دی جس نے تجھے بچے سے بالغ بنانے تک روزی دی۔ اب تو بالغ اور عقل مند ہو کر یہ کہنے لگا کہ ہائے کہاں سے کھاوں گا ؟ موت ہو یا قتل ہو ؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ہر چیز اس کے پاس اندازے کے ساتھ موجود ہے رزق اجل سب مقرر شدہ ہے۔ حضور ﷺ کی ایک صاحبزادی صاحبہ نے آپ کے پاس آدمی بھیجا کہ میرا بچہ آخری حالت میں ہے، آپ کا تشریف لانا میرے لئے خوشی کا باعث ہے۔ آپ نے فرمایا جاؤ ان سے کہہ دو کہ جو اللہ سے ثواب کی امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو بھی جانتا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہے اور اسے بھی جو بندوں پر ظاہر ہے، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ وہ سب سے بڑا۔ وہ ہر ایک سے بلند ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز ہے، تمام سر اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں تمام بندے اس کے سامنے عاجز لا چار اور محض بےبس ہیں۔
عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ
📘 علم الہٰی اللہ کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ تمام جاندار مادہ حیوان ہوں یا انسان، ان کے پیٹ کے بچوں کا، ان کے حمل کا، اللہ کو علم ہے کہ پیٹ میں کیا ہے ؟ اسے اللہ بخوبی جانتا ہے یعنی مرد ہے یا عورت ؟ اچھا ہے یا برا ؟ نیک ہے یا بد ؟ عمر والا ہے یا بےعمر کا ؟ چناچہ ارشاد ہے آیت (ھو اعلم بکم) الخ وہ بخوبی جانتا ہے جب کہ تمہیں زمین سے پیدا کرتا ہے اور جب کہ تم ماں کے پیٹ میں چھپے ہوئے ہوتے ہو، الخ اور فرمان ہے آیت (يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰث) 39۔ الزمر :6) وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں پیدا کرتا ہے ایک کے بعد دوسری پیدائش میں تین تین اندھیروں میں۔ ارشاد ہے آیت (ولقد خلقنا الانسان من سلالتہ) الخ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے نطفے کو خون بستہ کیا، خون بستہ کو لوتھڑا گوشت کا کیا۔ لوتھڑے کو ہڈی کی شکل میں کردیا۔ پھر ہڈی کو گوشت چڑھایا، پھر آخری اور پیدائش میں پیدا کیا پس بہترین خالق بابرکت ہے۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع ہوتی رہتی ہے، پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ بصورت خون بستہ رہتا ہے پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ خالق کا ایک فرشے کو بھیجتا ہے، جسے چار باتوں کے لکھ لینے کا حکم ہوتا ہے، اس کا رزق عمر عمل اور نیک بد ہونا لکھ لیتا ہے۔ اور حدیث میں ہے وہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ مرد ہوگا یا عورت ؟ شق ہوگا یا سعید ؟ روزی کیا ہے ؟ عمر کتنی ہے ؟ اللہ تعالیٰ بتلاتا ہے اور وہ لکھ لیتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں بجز اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کے اور کوئی نہیں جانتا کل کی بات اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پیٹ میں کیا بڑھتا ہے اور کیا گھٹتا ہے کوئی نہیں جانتا۔ بارش کب برسے گی اس کا علم بہی کسی کو نہیں کون شخص کہاں مرے گا اسے بھی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کب قائم ہوگی اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے۔ پیٹ میں کیا گھٹتا ہے اس سے مراد حمل کا ساقط ہوجانا ہے اور رحم میں کیا بڑھ رہا ہے کیسے پورا ہو رہا ہے۔ یہ بھی اللہ کو بخوبی علم رہتا ہے۔ دیکھ لو کوئی عورت دس مہینے لیتی ہے کوئی نو۔ کسی کا حمل گھٹتا ہے، کسی کا بڑھتا ہے۔ نو ماہ سے گھٹنا، نو سے بڑھ جانا اللہ کے علم میں ہے۔ حضرت ضحاک کا بیان ہے کہ میں دو سال ماں کے پیٹ میں رہا جب پیدا ہوا تو میرے اگلے دو دانت نکل آئے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ حمل کی انتہائی مدت دو سال کی ہوتی ہے۔ کمی سے مراد بعض کے نزدیک ایام حمل میں خون کا آنا اور زیادتی سے مراد نو ماہ سے زیادہ حمل کا ٹھرا رہنا ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں نو سے پہلے جب عورت خون کو دیکھے تو نو سے زیادہ ہوجاتے ہیں مثل ایام حیض کے۔ خون کے گرنے سے بچہ اچھا ہوجاتا ہے اور نہ گرے تو بچہ پورا پاٹھا اور بڑا ہوتا ہے۔ حضرت مکحول ؒ فرماتے ہیں بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں بالکل بےغم، بےکھٹکے اور باآرام ہوتا ہے۔ اس کی ماں کے حیض کا خون اس کی غذا ہوتا ہے، جو بےطلب آرام اسے پہنچتا رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ ماں کو ان دنوں حیض نہیں آتا۔ پھر جب بچہ پیدا ہوتا ہے زمین پر آتے ہی روتا چلاتا ہے، اس انجان جگہ سے اسے وحشت ہوتی ہے، جب اس کی نال کٹ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روزی ماں کے سینے میں پہنچا دیتا ہے اور اب بھی بےطلب، بےجستجو، بےرنج وغم، بےفکری کے ساتھ اسے روزی ملتی رہتی ہے۔ پھر ذرا بڑا ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کھانے پینے لگتا ہے۔ لیکن بالغ ہوتے ہی روزی کے لئے ہائے ہائے کرنے لگتا ہے۔ موت اور قتل تک سے روزی حاصل ہونے کا امکان ہو تو پس وپیش نہیں کرتا۔ افسوس اے ابن آدم تجھ پر حیرت ہے جس نے تجھے تیری ماں کے پیٹ میں روزی دی، جس نے تجھے تیری ماں کی گود میں روزی دی جس نے تجھے بچے سے بالغ بنانے تک روزی دی۔ اب تو بالغ اور عقل مند ہو کر یہ کہنے لگا کہ ہائے کہاں سے کھاوں گا ؟ موت ہو یا قتل ہو ؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ہر چیز اس کے پاس اندازے کے ساتھ موجود ہے رزق اجل سب مقرر شدہ ہے۔ حضور ﷺ کی ایک صاحبزادی صاحبہ نے آپ کے پاس آدمی بھیجا کہ میرا بچہ آخری حالت میں ہے، آپ کا تشریف لانا میرے لئے خوشی کا باعث ہے۔ آپ نے فرمایا جاؤ ان سے کہہ دو کہ جو اللہ سے ثواب کی امید رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو بھی جانتا ہے جو بندوں سے پوشیدہ ہے اور اسے بھی جو بندوں پر ظاہر ہے، اس سے کچھ بھی مخفی نہیں۔ وہ سب سے بڑا۔ وہ ہر ایک سے بلند ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز ہے، تمام سر اس کے سامنے جھکے ہوئے ہیں تمام بندے اس کے سامنے عاجز لا چار اور محض بےبس ہیں۔