🕋 تفسير سورة المائدة
(Al-Maidah) • المصدر: UR-TAFSEER-IBN-E-KASEER
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ
📘 ایک بےدلیل روایت اور وفائے عہد کی تاکید ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہا ! آپ مجھے خاص نصیحت کیجئے۔ آپ نے فرمایا " جب تو قرآن میں لفظ آیت (یا ایھا الذین امنوا) سن لے تو فوراً کان لگا کر دل سے متوجہ ہوجا، کیونکہ اس کے بعد کسی نہ کسی بھلائی کا حکم ہوگا یا کسی نہ کسی برائی سے ممانعت ہوگی۔ " حضرت زہری فرماتے ہیں " جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کوئی حکم دیا ہے اس حکم میں نبی ﷺ بھی شامل ہیں۔ " حضرت فیثمہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں بجائے (یا ایھا الذین امنوا) کے (یا ایھا المساکین) ہے۔ ایک روایت ابن عباس کے نام سے بیان کی جاتی ہے کہ جہاں کہیں لفظ آیت (یا ایھا الذین امنوا) ہے، ان تمام مواقع پر ان سب ایمان والوں کے سردار و شریف اور امیر حضرت علی ہیں، اصحاب رسول میں سے ہر ایک کو ڈانٹا گیا ہے بجز حضرت علی بن ابو طالب کے کہ انہیں کسی امر میں نہیں ڈانٹا گیا، یاد رہے کہ یہ اثر بالکل بےدلیل ہے۔ اس کے الفاظ منکر ہیں اور اس کی سند بھی صحیح نہیں۔ حضرت امام بخاری ؒ فرماتے ہیں اس کا راوی عیسیٰ بن راشد مجہول ہے، اس کی روایت منکر ہے۔ میں کہتا ہوں اسی طرح اس کا دوسرا راوی علی بن بذیمہ گو ثقہ ہے مگر اعلیٰ درجہ کا شیعہ ہے۔ پھر بھلا اس کی ایسی روایت جو اس کے اپنے خاص خیالات کی تائید میں ہو، کیسے قبول کی جاسکے گی ؟ یقینا وہ اس میں ناقابل قبول ٹھہرے گا، اس روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام صحابہ کو بجز حضرت علی کے ڈانٹا گیا، اس سے مراد ان کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نکالنے کا حکم دیا تھا، پس ایک سے زیادہ مفسرین نے کہا ہے کہ اس پر عمل صرف حضرت علی ہی نے کیا اور پھر یہ فرمان اترا کہ آیت (ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ) 58۔ المجادلہ :13) لیکن یہ غلط ہے کہ اس آیت میں صحابہ کو ڈانٹا گیا، بلکہ دراصل یہ حکم بطور واجب کے تھا ہی نہیں، اختیاری امر تھا۔ پھر اس پر عمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا۔ پس حقیقتاً کسی سے اس کے خلاف عمل سرزد ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ بات بھی غلط ہے کہ حضرت علی کو کسی بات میں ڈانٹا نہیں گیا۔ سورة انفال کی آیت ملاحظہ ہو جس میں ان تمام صحابہ کو ڈانٹا گیا ہے۔ جنہوں نے بدری قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا، دراصل سوائے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے باقی تمام صحابہ کا مشورہ یہی تھا پس یہ ڈانٹ بجز حضرت عمر کے باقی سب کو ہے، جن میں حضرت علی بھی شامل ہیں، پس یہ تمام باتیں اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ اثر بالکل ضعیف اور بودا ہے، واللہ اعلم۔ ابن جریر میں حضرت محمد بن سلمہ فرماتے ہیں جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن حزم کو لکھوا کردی تھی جبکہ انہیں نجران بھیجا تھا، اس کتاب کو میں نے ابوبکر بن حزم کے پاس دیکھا تھا اور اسے پڑھا تھا، اس میں اللہ اور رسول کے بہت سے احکام تھے، اس میں آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بالْعُقُوْدِ) 5۔ المائدہ :1) سے آیت (يَسْـــَٔلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ۭقُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ ۙوَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ) 5۔ المائدہ :4) تک بھی لکھا ہوا تھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عمرو بن حزم کے پوتے حضرت ابوبکر بن محمد نے فرمایا ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کی یہ کتاب ہے جسے آپ نے حضرت عمرو بن حزم کو لکھ کردی تھی جبکہ انہیں یمن والوں کو دینی سمجھ اور حدیث سکھانے کے لئے اور ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے یمن بھیجا تھا، اس وقت یہ کتاب لکھ کردی تھی، اس میں عہد و پیمان اور حکم احکام کا بیان یہ۔ اس میں آیت (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) کے بعد لکھا ہے یہ کتاب ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے، ایمان والو وعدوں کو اور عہد و پیمان کو پورا کرو، یہ عہد محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عمرو بن حزم کے لئے ہے جبکہ انہیں یمن بھیجا انہیں اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کا حکم ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے رہیں اور جو احسان خلوص اور نیکی کریں۔ حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں " عقود سے مراد عہد ہیں۔ " ابن جریر اس پر اجماع بتاتے ہیں۔ خواہ قسمیہ عہد و پیمان ہو یا اور وعدے ہوں، سب کو پورا کرنا فرض ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ " عہد کو پورا کرنے میں اللہ کے حلال کو حلال جاننا، اس کے حرام کو حرام جاننا، اس کے فرائض کی پابندی کرنا، اس کی حد بندی کی نگہداشت کرنا بھی ہے، کسی بات کا خلاف نہ کرو، حد کو نہ توڑو، کسی حرام کام کو نہ کرو، اس پر سختی بہت ہے۔ پڑھو آیت (وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ) 13۔ الرعد :25)۔ " حضرت ضحاک فرماتے ہیں " اس سے مراد یہ کہ اللہ کے حلال کو، اس کے حرام کو، اس کے وعدوں کو، جو ایمان کے بعد ہر مومن کے ذمہ آجاتے ہیں پورا کرنا اللہ کی طرف سے فرض ہے، فرائض کی پابندی، حلال حرام کی عقیدت مندی وغیرہ وغیرہ " حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں " یہ چھ عہد ہیں، اللہ کا عہد، آپس کی یگانگت کا قسمیہ عہد، شرکت کا عہد، تجارت کا عہد، نکاح کا عہد اور قسمیہ وعدہ " محمد بن کعب کہتے ہیں " پانچ ہیں، جن میں جاہلیت کے زمانہ کی قسمیں ہیں اور شرکت تجارت کے عہد و پیمان ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ خریدو فروخت پوری ہو چکنے کے بعد گو اب تک خریدا اور بیچنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں تاہم واپس لوٹانے کا اختیار نہیں وہ اپنی دلیل اس آیت کو بتلاتے ہیں۔ " امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا یہی مذہب ہے، لیکن امام شافعی اور امام احمد اس کے خلاف ہیں اور جمہور علماء کرام بھی اس کے مخالف ہیں، اور دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جو صحیح بخاری مسلم میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا " خریدو فروخت کرنے والوں کو سودے کے واپس لینے دینے کا اختیار ہے جب تک کہ جدا جدا نہ ہوجائیں " صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ " جب وہ شخصوں نے خریدو فروخت کرلی تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہے۔ یہ حدیث صاف اور صریح ہے کہ یہ اختیار خریدو فروخت پورے ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ ہاں اسے بیع کے لازم ہوجانے کے خلاف نہ سمجھا جائے بلکہ یہ شرعی طور پر اسی کا مقتضی ہے، پس اسے نبھانا بھی اسی آیت کے ماتحت ضروری ہے۔ پھر فرماتا ہے مویشی چوپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں یعنی اونٹ، گائے، بکری۔ ابو الحسن، قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے۔ ابن جریر فرماتے ہیں " عرب میں ان کے لغت کے مطابق بھی یہی ہے " حضرت ابن عمر حضرت ابن عباس وغیرہ بہت سے بزرگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ جس حلال مادہ کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکلے گو وہ مردہ ہو پھر بھی حلال ہے۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اونٹنی، گائے، بکری ذبح کی جاتی ہے، ان کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے تو ہم اسے کھا لیں یا پھینک دیں۔ آپ نے فرمایا " اگر چاہو کھالو، اس کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذیبحہ ہے۔ " امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں، ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں " پیٹ کے اندر والے بچے کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے۔ " پھر فرماتا ہے مگر وہ جن کا بیان تمہارے سامنے کیا جائے گا۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مطلب مردار، خون اور خنزیر کا گوشت ہے۔ " حضرت قتادہ فرماتے ہیں " مراد اس سے از خود مرا ہوا جانور اور وہ جانور ہوے جس کے ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو " پورا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے لیکن بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اللہ کا فرمان آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَ كَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ ۣ وَمَا ذُبِحَ عَلَي النُّصُبِ وَاَنْ تَسْـتَقْسِمُوْا بالْاَزْلَامِ ۭذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۭ اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۭ اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۭ فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 5۔ المائدہ :3) ہے یعنی تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جو اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر منسوب و مشہور کی جائے اور جو گلا گھونٹنے سے مرجائے، کسی ضرب سے مرجائے، اونچی جگہ سے گر کر مرجائے اور کسی ٹکر لگنے سے مرجائے، جسے درندہ کھانے لگے پس یہ بھی گو مویشیوں چوپایوں میں سے ہیں لیکن ان وجوہ سے وہ حرام ہوجاتے ہیں اسی لئے اس کے بعد فرمایا لیکن جس کو ذبح کر ڈالو۔ جو جانور پرستش گاہوں پر ذبح کیا جائے، وہ بھی حرام ہے اور ایسا حرام کہ اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں، اسی لئے اس سے استدراک نہیں کیا گیا اور حلال کے ساتھ اس کا کوئی فرد ملایا نہیں گیا، پس یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ چوپائے مویشی تم پر حلال ہیں لیکن وہ جن کا ذکر ابھی آئے گا۔ بعض احوال میں حرام ہیں، اس کے بعد کا جملہ حالیت کی بناء پر منصوب ہے۔ مراد انعام سے عام ہے بعض تو وہ جو انسانوں میں رہتے پلتے ہیں، جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بعض وہ جو جنگلی ہیں جیسے ہرن، نیل گائے اور جنگلی گدھے، پس پالتو جانوروں میں سے تو ان کو مخصوص کرلیا جو بیان ہوئے اور وحشی جانوروں میں سے احرام کی حالت میں کسی کو بھی شکار کرنا ممنوع قرار دیا، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے " ہم نے تمہارے لئے چوپائے جانور ہر حال میں حلال کئے ہیں پس تم احرام کی حالت میں شکار کھیلنے سے رک جاؤ اور اسے حرام جانو " کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے جس طرح اس کے تمام احکام سراسر حکمت سے پر ہیں، اسی طرح اس کی ہر ممانعت میں بھی حکمت ہے، اللہ وہ حکم فرماتا ہے جو ارادہ کرتا ہے۔ ایماندار ! رب کی نشانیوں کی توہین نہ کرو، یعنی مناسک حج، صفا، مروہ، قربانی کے جانور، اونٹ اور اللہ کی حرام کردہ ہر چیز، حرمت والے مہینوں سمیت کسی کی توہین نہ کرو، ان کا ادب کرو، ان کا لحاظ رکھو، ان کی عظمت کو مانو اور ان میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی نافرمانیوں سے بچو اور ان مبارک اور محترم مہینوں میں اپنے دشمنوں سے از خود لڑائی نہ چھیڑو۔ جیسے ارشاد ہے آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۭ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ۭ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌۢ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۭ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَھُوَ كَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) 2۔ البقرۃ :217) اے نبی لوگ تم سے حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنے کا حکم پوچھتے ہیں تم ان سے کہو کہ ان میں لڑائی کرنا گناہ ہے اور آیت میں ہے مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوبکر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الودع میں فرمایا " زمانہ گھوم گھام کر ٹھیک اسی طرز پر آگیا ہے جس پر وہ اس وقت تھا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ ماہ کا ہے، جن میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں۔ تین تو یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب، جسے قبیلہ مضر رجب کہتا ہے جو جمادی الاخر اور شعبان کے درمیان یہ۔ " اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان مہینوں کی حرمت تاقیامت ہے جیسے کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ان " مہینوں میں لڑائی کرنا حلال نہ کرلیا کرو۔ " لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے اور حرمت والے مہینوں میں بھی دشمنان اسلام سے جہاد کی ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔ ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے آیت (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 9۔ التوبہ :5) یعنی جب حرمت والے مہینے گذر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور مراد یہاں ان چار مہینوں کا گذر جانا ہے، جب وہ چار مہینے گذر چکے جو اس وقت تھے، تو اب ان کے بعد برابر جہاد جاری ہے اور قرآن نے پھر کوئی مہینہ خاص نہیں کیا، بلکہ امام ابو جعفر تو اس پر اجماع نقل کرتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جہاد کرنا، ہر وقت اور ہر مہینے میں جاری ہی رکھا ہے۔ " آپ فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اجماع ہے کہ " اگر کوئی کافر حرم کے تمام درختوں کی چھال اپنے اوپر لپیٹ لے تب بھی اس کے لئے امن وامان نہ سمجھی جائے گی۔ اگر مسلمانوں نے از خود اس سے پہلے اسے امن نہ دیا ہو۔ " اس مسئلہ کی پوری بحث یہاں نہیں ہوسکتی۔ پھر فرمایا کہ ھدی اور قلائد کی بےحرمتی بھی مت کرو۔ یعنی بیت اللہ شریف کی طرف قربانیاں بھیجنا بند نہ کرو، کیونکہ اس میں اللہ کی نشانوں کی تعظیم ہے اور قربانی کے لئے جو اونٹ بیت الحرام کی طرف بھیجو، ان کے گلے میں بطور نشان پٹا ڈالنے سے بھی نہ رکو۔ تاکہ اس نشان سے ہر کوئی پہچان لے کہ یہ جانور اللہ کے لئے اللہ کی راہ کے لئے وقف ہوچکا ہے اب اسے کوئی برائی سے ہاتھ نہ لگائے گا بلکہ اسے دیکھ کر دوسروں کو بھی شوق پیدا ہوگا کہ ہم بھی اس طرح اللہ کے نام جانور بھیجیں اور اس صورت میں تمہیں اس کی نیکی پر بھی اجر ملے گا کیونکہ جو شخص دوسروں کو ہدایت کی طرف بلائے اسے بھی وہ اجر ملے گا، جو اس کی بات مان کر اس پر عمل کرنے والوں کو ملتا ہے۔ یہ بھی خیال رہے اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو کم کر کے اسے نہیں دے گا بلکہ اسے اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔ آنحضرت ﷺ جب حج کے لئے نکلے تو آپ نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گذاری، صبح اپنی نو بیویوں کے پاس گئے، پھر غسل کر کے خوشبو ملی اور دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کوہان پر نشان کیا اور گلے میں پٹہ ڈالا اور حج اور عمرے کا احرام باندھا۔ قربانی کے لئے آپ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ ساٹھ سے اوپر اوپر اپنے ساتھ لئے تھے، جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے جو شخص اللہ کے احکام کی تعظیم کرے اس کا دل تقوے والا ہے۔ بعض سلف کا فرمان ہے کہ " تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔ " حضرت علی بن ابو طالب فرماتے ہیں " ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں " (رواہ اہل السنن) مقاتل بن حیان فرماتے ہیں " جاہلیت کے زمانے میں جب یہ لوگ اپنے وطن سے نکلتے تھے اور حرمت والے مہینے نہیں ہوتے تھے تو یہ اپنے اوپر بالوں اور اون کو لپیٹ لیتے تھے اور حرم میں رہنے والے مشرک لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں اپنے جسم پر باندھ لیتے تھے، اس سے عام لوگ انہیں امن دیتے تھے اور ان کو مارتے پیٹتے نہ تھے۔ " حضرت ابن عباس سے بروایت حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ اس سورت کی دو آیتیں منسوخ ہیں " آیت قلائد اور یہ آیت (فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا) 5۔ المائدہ :42) " لیکن حضرت حسن سے جب سوال ہوتا ہے کہ " کیا اس سورت میں سے کوئی آیت منسوخ ہوئی ہے ؟ " تو آپ فرماتے ہیں " نہیں " حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ " وہ لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں لٹکا لیا کرتے تھے اور اس سے انہیں امن ملتا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے حرم کے درختوں کو کاٹنا منع فرما دیا۔ " پھر فرماتا ہے " جو لوگ بیت اللہ کے ارادے سے نکلے ہوں، ان سے لڑائی مت لڑو۔ یہاں جو آئے وہ امن میں پہنچ گیا، پس جو اس کے قصد سے چلا ہے اس کی نیت اللہ کے فضل کی تلاش اور اس کی رضامندی کی جستجو ہے تو اب اسے ڈر خوف کے دباؤ میں نہ رکھو، اس کی عزت اور ادب کرو اور اسے بیت اللہ سے نہ روکو۔ " بعض کا قول ہے کہ " اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مراد تجارت ہے۔ " جیسے اس آیت میں ہے (لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ) 2۔ البقرۃ :198) یعنی زمانہ حج میں تجارت کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ رضوان سے مراد حج کرنے میں اللہ کی مرضی کو تلاش کرنا ہے۔ ابن جریر وغیرہ فرماتے ہیں " یہ آیت خطیم بن ہند، بکری کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس شخص نے مدینہ کی چراگاہ پر دھاوا ڈالا تھا پھر اگلے سال یہ عمرے کے ارادے سے آ رہا تھا تو بعض صحابہ کا ارادہ ہوا کہ اسے راستے میں روکیں، اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔ " امام ابن جرید نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے کہ " جو مشرک مسلمانوں کی امان لئے ہوئے نہ ہو تو چاہے وہ بیت اللہ شریف کے ارادے سے جا رہا ہو یا بیت المقدس کے ارادے سے، اسے قتل کرنا جائز ہے یہ حکم ان کے حق میں منسوخ ہے واللہ اعلم وہاں جو شخص وہاں الحاد پھیلانے کیلئے جا رہا ہے اور شرک و کفر کے ارادے کا قصد کرتا ہو تو اسے روکا جائے گا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں پہلے مومن و مشرک سب حج کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ممانعت تھی کہ کسی مومن کافر کو نہ روکو لیکن اس کے بعد یہ آیت اتری کہ (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ۚ وَاِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖٓ اِنْ شَاۗءَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ) 9۔ التوبہ :28) یعنی مشرکین سراسر نجس ہیں اور وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ آئیں گے اور فرمان ہے آیت (اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ) 9۔ التوبہ :18) یعنی مشرکین اللہ کی مسجد کو آباد رکھنے کے ہرگز اہل نہیں فرمان ہے آیت (اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَام الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ) 9۔ التوبہ :18) یعنی اللہ کی مسجد کو تو صرف وہی آباد رکھ سکتے ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں۔ پس مشرکین مسجدوں سے روک دیئے گئے، حضرت قتادہ فرماتے ہیں منسوخ ہے، جاہلیت کے زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلتا تو وہ درخت کی چھال وغیرہ باندھ لیتا تو راستے میں اسے کوئی نہ ستاتا، پھر لوٹتے وقت بالوں کا ہار ڈال لیتا اور محفوظ رہتا اس وقت تک مشرکین بیت اللہ سے روکے نہ جاتے تھے، اب مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ حرمت والے مہینوں میں نہ لڑیں اور نہ بیت اللہ کے پاس لڑیں، پھر اس حکم کو اس آیت نے منسوخ کردیا کہ مشرکین سے لڑو جہاں کہیں انہیں پاؤ۔ " ابن جریر کا قول ہے کہ " قلائد سے مراد یہی ہے جو ہار وہ حرم سے گلے میں ڈال لیتے تھے اور اس کی وجہ سے امن میں رہتے تھے، عرب میں اس کی تعظیم برابر چلی آرہی تھی اور جو اس کے خلاف کرتا تھا اسے بہت برا کہا جاتا تھا اور شاعر اس کو ہجو کرتے تھے " پھر فرماتا ہے " جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کرسکتے ہو " احرام میں شکار کی ممانعت تھی، اب احرام کے بعد پھر اس کی اباحت ہوگئی جو حکم ممانعت کے بعد ہو اس حکم سے وہی ثابت ہوتا ہے جو ممانعت سے پہلے اصل میں تھا۔ یعنی اگر وجوب اصلی تھا تو ممانعت کے بعد کا امر بھی وجوب کیلئے ہوگا۔ اور اسی طرح مستحب و مباح کے بارے میں۔ گو بعض نے کہا ہے کہ ایسا امر وجوب کیلئے ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے، صرف مباح ہونے کیلئے ہی ہوتا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے خلاف قرآن کی آیتیں موجود ہیں۔ پس صحیح مذہب جس سے تمام دلیلیں مل جائیں وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور بعض علماء اصول نے بھی اسے ہی اختیار کیا واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے جس قوم نے تمہیں حدیبیہ والے سال مسجد حرام سے روکا تھا تو تم ان سے دشمنی باندھ کر قصاص پر آمادہ ہو کر اللہ کے حکم سے آگے بڑھ کر ظلم و زیادتی پر نہ اتر آنا، بلکہ تمہیں کسی وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہئے۔ اسی طرح کی وہ آیت بھی ہے جس میں فرمایا ہے " تمہیں کسی قسم کی عداوت خلاف عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے۔ عدل کیا کرو، عدل ہی تقوے سے زیادہ قریب ہے۔ " بعض سلف کا قول ہے کہ " گو کوئی تجھ سے تیرے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے لیکن تجھے چاہئے کہ تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمانبرداری ہی کرے۔ عدل ہی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔ " حضور ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو جبکہ مشرکین نے بیت اللہ کی زیارت سے روکا اور حدیبیہ سے آگے بڑھنے ہی نہ دیا، اسی رنج و غم میں صحابہ واپس آ رہے تھے جو مشرقی مشرک مکہ جاتے ہوئے انہیں ملے تو ان کا ارادہ ہوا کہ جیسے ان کے گروہوں نے ہمیں روکا ہم بھی انہیں ان تک نہ جانے دیں۔ اس پر یہ آیت اتری (شنان) کے معنی بغض کے ہیں بعض عرب اسے شنان بھی کہتے ہیں لیکن کسی قاری کی یہ قرأت مروی نہیں، ہاں عربی شعروں میں شنتان بھی آیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے ایمان والے بندوں کو نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے کی تائید کرنے کو فرماتا ہے، بر " کہتے ہیں نیکیاں کرنے کو اور تقویٰ " کہتے ہیں برائیوں کے چھوڑنے کو اور انہیں منع فرماتا ہے گناہوں اور حرام کاموں پر کسی کی مدد کرنے کو ابن جریر فرماتے ہیں جس کام کے کرنے کا اللہ کا حکم ہو اور انسان اسے نہ کرے، یہ اثم " ہے اور دین میں جو حدیں اللہ نے مقرر کردی ہیں جو فرائض اپنی جان یا دوسروں کے بارے میں جناب باری نے مقرر فرمائے ہیں، ان سے آگے نکل جانا عدوان ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے " اپنے بھائی کی مدد کر، خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم ہو " تو حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ " یا رسول اللہ ﷺ مظلوم ہونے کی صورت میں مدد کرنا ٹھیک ہے لیکن ظالم ہونے کی صورت میں کیسے مدد کریں ؟ " فرمایا " اسے ظلم نہ کرنے دو ، ظلم سے روک لو، یہی اس وقت کی اس کی مدد ہے " یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے " جو مسلمان لوگوں سے ملے جلے اور دین کے حوالے سے ان کی ایذاؤں پر صبر کرے وہ ان مسلمانوں سے بڑے اجر والا ہے، جو نہ لوگوں سے ملے جلے، نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے " مسند بزار میں ہے " جو شخص کسی بھلی بات کی دوسرے کو ہدایت کرے وہ اس بھلائی کے کرنے والے جیسا ہی ہے " امام ابوبکر بزار اسے بیان فرما کر فرماتے ہیں کہ " یہ حدیث صرف اسی ایک سند سے مروی ہے۔ " لیکن میں کہتا ہوں اس کی شاہد یہ صحیح حدیث ہے کہ جو شخص ہدایت کی طرف لوگوں کو بلائے، اسے ان تمام کے بابر ثواب ملے گا جو قیامت تک آئیں گے اور اس کی تابعداری کریں گے۔ لیکن ان کے ثواب میں سے گھٹا کر نہیں اور جو شخص کسی کو برائی کی طرف چلائے تو قیامت تک جتنے لوگ اس برائی کو کریں گے۔ ان سب کا جتنا گناہ ہوگا، وہ سارا اس اکیلے کو ہوگا۔ لیکن ان کے گناہ گھٹا کر نہیں۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " جو شخص کسی ظالم کے ساتھ جائے تاکہ اس کی اعانت و امداد کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ ظالم ہے وہ یقینا دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ ،
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
📘 " اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔
قُلْ لَا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
📘 رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے، ابن حاطب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے، اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہوجاؤ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پرو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے، صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو، صحیح بخاری شریف میں حصرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بےمثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے، یہ سن کر اصحاب رسول منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثنا میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا فلاں، اس پر یہ آیت اتری بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور سے بہ کثرت سوالات شروع کردیئے چناچہ آپ منبر پر آگئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے، صحابہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دو سرے کی طرف نسبت کر کے بلاتے تھے اس نے کہا حضور میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا خزافہ، پھر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ نے فرمایا آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی، آپ نے فرمایا سنو ماں اگر رسول اللہ کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا، ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر جڑھ گئے آپ کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا جہنم میں دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا حذافہ، حضرت عمر نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد ﷺ کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں ؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری، ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب عمر نے حضور کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے، بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گم شدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری، مسند احمد میں ہے کہ جب آیت (وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ آل عمران :97) نازل ہوئی یعنی صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ نے فرمایا ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا اور تم ادا نہ کرسکتے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے حضرت علی سے ملاقات نہیں کی، ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقینات کافر ہوجاتے، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی تھے، دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لئے حلال کر دوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کر دوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے، اس کی سند بھی ضعیف ہے، ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولی یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کردیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے اپنے صحابہ سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں، پھر فرماتا ہے کہ جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آجائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہوجائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا۔ مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کردو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہوگئی، یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے، صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کردیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کردی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو، پھر فرماتا ہے ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے، ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کردیا ہے، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال ؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہوجاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، پاس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ بہ روایت مجاہد حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہوجائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ) 17۔ الاسراء :59) یعنی معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 6۔ الانعام :109) بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آگیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہوسکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بےعلم۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
📘 رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے، ابن حاطب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے، اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہوجاؤ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پرو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے، صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو، صحیح بخاری شریف میں حصرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بےمثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے، یہ سن کر اصحاب رسول منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثنا میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا فلاں، اس پر یہ آیت اتری بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور سے بہ کثرت سوالات شروع کردیئے چناچہ آپ منبر پر آگئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے، صحابہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دو سرے کی طرف نسبت کر کے بلاتے تھے اس نے کہا حضور میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا خزافہ، پھر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ نے فرمایا آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی، آپ نے فرمایا سنو ماں اگر رسول اللہ کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا، ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر جڑھ گئے آپ کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا جہنم میں دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا حذافہ، حضرت عمر نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد ﷺ کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں ؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری، ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب عمر نے حضور کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے، بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گم شدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری، مسند احمد میں ہے کہ جب آیت (وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ آل عمران :97) نازل ہوئی یعنی صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ نے فرمایا ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا اور تم ادا نہ کرسکتے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے حضرت علی سے ملاقات نہیں کی، ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقینات کافر ہوجاتے، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی تھے، دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لئے حلال کر دوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کر دوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے، اس کی سند بھی ضعیف ہے، ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولی یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کردیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے اپنے صحابہ سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں، پھر فرماتا ہے کہ جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آجائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہوجائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا۔ مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کردو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہوگئی، یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے، صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کردیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کردی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو، پھر فرماتا ہے ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے، ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کردیا ہے، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال ؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہوجاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، پاس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ بہ روایت مجاہد حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہوجائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ) 17۔ الاسراء :59) یعنی معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 6۔ الانعام :109) بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آگیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہوسکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بےعلم۔
قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ
📘 رزق حلال کم ہو تو برکت حرام زیادہ بھی ہو تو بےبرکت اور کثرت سوالات مقصد یہ ہے کہ حلال گو تھوڑا ہو وہ بہتر ہے حرام سے گو بہت سارا ہو جیسے وارد ہے کہ جو کم ہو اور کفایت کرے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے، ابن حاطب نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ یا رسول اللہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا کم مال جس کا شکریہ تو ادا کرے یہ بہتر ہے اس زیادہ سے جس کی تو طاقت نہ رکھے، اے عقلمند لوگو اللہ سے ڈرو حرام سے بچو حلال پر اکتفا کرو قناعت کیا کرو تاکہ دین و دنیا میں کامیاب ہوجاؤ، پھر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ادب سکھاتا ہے کہ بےفائدہ سوالات مت کیا کرو، کرید میں نہ پرو، ایسے نہ ہو کہ پھر ان کا جواب اور ان امور کا اظہار تم پر شاق گزرے، صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا مجھے کوئی کسی کی برائی کی بات نہ پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرف اس حالت میں آؤں کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے کوئی برائی نہ ہو، صحیح بخاری شریف میں حصرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے ہمیں خطبہ سنایا، ایسا بےمثل کہ ہم نے کبھی ایسا خطبہ نہ سنا تھا اسی میں فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے، یہ سن کر اصحاب رسول منہ ڈھانپ کر رونے لگے اسی اثنا میں ایک شخص آپ سے پوچھ بیٹھا کہ میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا فلاں، اس پر یہ آیت اتری بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے حضور سے بہ کثرت سوالات شروع کردیئے چناچہ آپ منبر پر آگئے اور فرمایا آؤ اب جس کسی کو جو کچھ پوچھنا ہو پوچھ لو جو پوچھو گے جواب پاؤ گے، صحابہ کانپ اٹھے کہ ایسا نہ ہو اس کے پیچھے کوئی اہم امر ظاہر ہو جتنے بھی تھے سب اپنے اپنے چہرے کپڑوں سے ڈھانپ کر رونے لگے، ایک شخص تھے جن سے مذاق کیا جاتا تھا اور جنہیں لوگ ان کے باپ کے سوا دو سرے کی طرف نسبت کر کے بلاتے تھے اس نے کہا حضور میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا خزافہ، پھر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ہم اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے سوال ہونے پر راضی ہوگئے ہم تمام فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، آپ نے فرمایا آج کی طرح میں نے بھلائی برائی کبھی نہیں دیکھی جنت دوزخ میرے سامنے اس دیوار کے پیچھے بطور نقشے کے پیش کردی گئی تھی اور روایت میں ہے یہ سوال کرنے والے حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ تھے۔ ان سے ان کی والدہ نے کہا تجھ سے بڑھ کر ماں باپ کا نافرمان میں نے نہیں دیکھا۔ تجھے کیا خبر تھی جاہلیت میں کس چیز کا پرہیز تھا۔ فرض کرو اگر میں بھی کسی معصیت میں اس وقت آلودہ ہوگئی ہوتی تو آج اللہ کے رسول کی زبانی میری رسوائی ہوتی اور سب کے سامنے بےآبروئی ہوتی، آپ نے فرمایا سنو ماں اگر رسول اللہ کی زبانی مجھے معلوم ہوتا کہ فلاں حبشی غلام کا میں بیٹا ہوں تو واللہ میں اسی سے مل جاتا، ابن جریر میں ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ سخت غصے کی حالت میں آئے منبر پر جڑھ گئے آپ کا چہرہ مبارک اس وقت سرخ ہو رہا تھا ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا میں کہاں جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا جہنم میں دوسرے نے پوچھا میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا حذافہ، حضرت عمر نے کھڑے ہو کر فرمایا ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر محمد ﷺ کے نبی ہونے پر، قرآن کے امام ہونے پر راضی ہیں یا رسول اللہ جاہلیت اور شرک میں ہم ابھی ابھی آپ کی طرف آئے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرے آباؤ اجداد کون ہیں ؟ اس سے آپ کا غصہ کم ہوا اور یہ آیت اتری، ایک مرسل حدیث میں ہے کہ اس دن حضور نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا جو چاہو پوچھو، جو پوچھو گے، بتاؤں گا، یہ شخص جس نے اپنے باپ کا نام پوچھا تھا یہ قریش کے قبیلے بنو سہم میں سے تھا، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جناب عمر نے حضور کے قدم چوم کر یہ عرض کیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ ہم سے درگزر فرمائیے اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے، اسی دن حضور نے یہ قاعدہ مقرر فرمایا تھا کہ اولاد اسے ملے گی جس کی بیوی یا لونڈی ہو اور زانی کو پتھر ملیں گے، بخاری شریف میں ہے کہ بعض لوگ از روئے مذاق حضور سے اپنے باپ کا نام اور اپنی گم شدہ اونٹینیوں کی جگہ وغیرہ دریافت کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری، مسند احمد میں ہے کہ جب آیت (وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا) 3۔ آل عمران :97) نازل ہوئی یعنی صاحب مقدور لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ خاموش ہو رہے انہوں نے پھر دوبارہ یہی سوال کیا آپ نے پھر سکوت فرمایا انہوں نے تیسری دفعہ پھر یہی پوچھا آپ نے فرمایا ہر سال نہیں اور اگر میں ہاں کہ دیتا تو ہر سال واجب ہوجاتا اور تم ادا نہ کرسکتے، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری، یہ حدیث ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی ہے، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت اس سند سے غریب ہے اور میں نے امام بخاری سے سنا ہے کہ اس کے راوی ابو الخجزی نے حضرت علی سے ملاقات نہیں کی، ابن جریر کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ میری ہاں کے بعد اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو یقینات کافر ہوجاتے، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ پوچھنے والے محصن اسدی تھے، دوسری روایت میں ان کا نام عکاشہ بن محصن مروی ہے، یہی زیادہ ٹھیک ہے اور روایت میں ہے کہ سائل ایک اعرابی تھے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تم سے اگلے لوگ ائمہ حرج کے ایسے ہی سوالوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے واللہ تمہاری حالت تو یہ ہے کہ اگر میں ساری زمین تمہارے لئے حلال کر دوں اور صرف ایک موزے کے برابر کی جگہ حرام کر دوں تو تم اسی حرمت والی زمین پر گرو گے، اس کی سند بھی ضعیف ہے، ظاہر آیت کے الفاظ کا مطلب تو صاف ہے یعنی ان باتوں کا پوچھنا منع ہے جن کا ظاہر ہونا برا ہو، پس اولی یہ ہے کہ ایسے سوالات ترک کردیئے جائیں اور ان سے اعراض کرلیا جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضور نے اپنے صحابہ سے فرما دیا دیکھو مجھے کسی کی کوئی برائی نہ پہنچائے میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ لے کر آؤں، پھر فرماتا ہے کہ جن چیزوں کے سوال سے تمہیں روکا جا رہا ہے اگر تم نے ان کی بابت پوچھ گچھ کی اور تم دیکھ رہے ہو کہ وحی نازل ہو رہی ہے تو تمہارے سوالات کا جواب آجائے گا اور جس چیز کا ظاہر ہونا تمہیں برا معلوم ہوتا تھا وہ ظاہر ہوجائے گی، اس سے پہلے کے ایسے سوالات سے تو اللہ تعالیٰ نے درگزر فرما لیا۔ اللہ ہے ہی بخشش والا اور حلم و بردباری والا۔ مطلب یہ ہے کہ سوالات ترک کردو ایسا نہ ہو کہ تمہارے سوال کی وجہ سے کوئی آسانی سختی میں بدل جائے۔ حدیث شریف میں ہے مسلمانوں میں سب سے بڑا گنہگار وہ ہے جس نے کسی چیز کی نسبت دریافت کیا جو حرام نہ تھی پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام ہوگئی، یہ بات اور ہے کہ قرآن شریف میں کوئی حکم آئے اس میں اجمال ہو اس کی تفصیل دریافت کی جائے، اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا ذکر اپنی پاک کتاب میں نہیں کیا اس سے خود اس نے درگزر فرما لیا ہے، پس تمہیں بھی اس سے خاموشی اختیار کرنی چاہیے جیسے کہ خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے، صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑ رکھو، یاد رکھو کہ تم سے اگلے لوگوں کی حالت کی وجہ صرف کثرت سوال اور انبیاء پر اختلاف ہی ہوئی ہے اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر کردیئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو حدیں باندھ دی ہیں انہیں نہ توڑو، جو چیزیں حرام کردی ہیں ان کی حرمت کو سنبھالو جن چیزوں سے خاموشی کی ہے صرف تم پر رحم کھا کر نہ کہ بھول کر تم بھی اس کو پوچھ گچھ نہ کرو، پھر فرماتا ہے ایسے ہی مسائل تم سے اگلے لوگوں نے بھی دریافت کئے انہیں بتائے گئے پھر وہ ان پر ایمان نہ لائے بلکہ ان کے باعث کافر بن گئے ان پر وہ باتیں بیان کی گئیں ان سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا کیونکہ ان کے سوال ہی سرکشی پر تھے نہ کہ سمجھنے اور ماننے کیلئے، ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں میں اعلان کیا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کردیا ہے، بنو اسد قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہر سال ؟ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا اور اگر ایسا ہوتا تو اس پر عمل تمہاری طاقت سے باہر تھا اور جب عمل نہ کرتے تو کافر ہوجاتے پس جب تک میں نہ کہوں تم بھی نہ پوچھو میں خود جب تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، پاس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ کو ممانعت کردی کہ کہیں وہ بھی نصرانیوں کی طرح آسمانی دستر خوان طلب نہ کریں جس کے طلب کرنے کے بعد اور آنے کے بعد پھر وہ کافر ہوگئے پس منع کردیا اور صاف فرما دیا کہ ایسی باتیں نہ پوچھو کہ اگر قرآن میں ان کی بابت سخت احکام نازل ہوں تو تمہیں برے لگیں بلکہ تم منتظر رہو قرآن اتر رہا ہے جو پوچھنا چاہتے ہو سب کا بیان اس میں پاؤ گے۔ بہ روایت مجاہد حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے وہ جانور ہیں جن کا ذکر اس آیت کے بعد ہی ہے، عکرمہ فرماتے ہیں مراد معجزات کی طلبی ہے جیسے کہ قریشیوں نے کہا تھا کہ عرب میں نہریں جاری ہوجائیں اور صفا پہاڑ سونے کا ہوجائے وغیرہ اور جیسے یہود نے کہا تھا کہ خود ان پر آسمان سے کتاب اترے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ) 17۔ الاسراء :59) یعنی معجزوں کے ظاہر کرنے سے مانع تو کچھ بھی نہیں مگر یہ کہ اگلے لوگوں نے بھی اسے جھٹلایا ہم نے ثمود کو اونٹنی کا نشان دیا تھا جس پر انہوں نے ظلم کیا ہم تو نشانات صرف دھمکانے کیلئے بھیجتے ہیں اور آیت میں ہے آیت (وَاَقْسَمُوْا باللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ لَّيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۭ قُلْ اِنَّمَا الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ) 6۔ الانعام :109) بڑی زور دار قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی معجزہ آگیا تو ضرور ایمان لائیں گے تو جواب دے کہ یہ تو اللہ کے قبضے کی چیز ہے ہوسکتا ہے کہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے جیسے کہ پہلی دفعہ قرآن پر ایمان نہیں لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں ہی پڑے رہنے دیں گے بھٹکتے پھریں اگر ہم ان پر آسمان سے فرشتے بھی اتارتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزیں یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے تب بھی تو اللہ کی چاہت کے بغیر انہیں ایمان نصیب نہ ہوتا۔ ان میں سے اکثر ہیں ہی بےعلم۔
مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ ۙ وَلَٰكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۖ وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
📘 بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام ؟ صحیح بخاری شریف میں حضرت سعید بن مسیب ؒ سے مروی ہے کہ بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کردیتے تھے اسے کوئی دوہتا نہ تھا سائبہ ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کردیتے تھے، حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ وصیلہ وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کردیتے تھے۔ حام اس نر اونٹ کا نام تھا جس کی نسل سے کئی بچے ہوگئے ہوں پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے، ایک حدیث میں ہے کہ میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو گویا کھائے جا رہا تھا اس میں میں نے عمرو کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹا پھرتا ہے اسی نے سائبہ کا رواج سب سے پہلے نکالا تھا ایک حدیث میں ہے حضور نے عمورو کا یہ ذکر حصرت اکتم بن جون ؓ سے کر کے فرمایا وہ صورت و شکل میں بالکل تیرے جسیا ہے اس پر حضرت اکتم نے فرمایا یا رسول اللہ کہیں یہ مشابہت مجھے نقصان نہ پہنچائے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بےفکر رہو وہ کافر تھا تم مسلمان ہو۔ اسی نے حضرت ابراہیم کے دین کو سب سے پہلے بدلا اسی نے بحیرہ، سائبہ اور حام کی رسم نکالی، اسی نے بت پرستی دین ابراہیمی میں ایجاد کی، ایک روایت میں ہے یہ بنو کعب میں سے ہے، جہنم میں اس کے جلنے کی بدبو سے دوسرے جہنمیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے، بحیرہ کی رسم کو ایجاد کرنے والا بنو مدلج کا ایک شخص تھا اس کی دو انٹنیاں تھیں جن کے کان کاٹ دیئے اور دودھ حرام کردیا پھر کچھ عرصہ کے بعد پینا شروع کردیا، میں نے اسے بھی دوزخ میں دیکھا دونوں اونٹنیاں اسے کاٹ رہی تھیں اور روند رہی تھیں یاد رہے کہ یہ عمر ولحی بن قمعہ کا لڑکا ہے جو خزاعہ کے سرداروں میں سے ایک تھا قبیلہ جرہم کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت انہی کے پاس تھی یہی شخص عرب میں بت لایا اور سفلے لوگوں میں ان کی عبادت جاری کی اور بہت سی بدعتیں ایجاد کیں جن میں سے چوپایوں کو الگ الگ طریقے سے بتوں کے نام کرنے کی رسم بھی تھی۔ جس کی طرف اشارہ آیت آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ) 6۔ الانعام :136) میں ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اونٹنی کے جب پانچ بچے ہوتے تو پانچواں اگر نر ہوتا تو اسے ذبح کر ڈالتے اور اس کا گوشت صرف مرد کھاتے عورتوں پر حرام جانتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے کان کاٹ کر اس کا نام بحیرہ رکھتے۔ سائبہ کی تفسیر میں مجاہد سے اسی کے قریب قریب بکریوں میں مروی ہے۔ محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ جس اونٹنی کے پے در پے دس اونٹنیاں پیدا ہوتیں اسے چھوڑ دیتے نہ سواری لیتے نہ بال کاٹتے نہ دودھ دوہتے اور اسی کا نام سائبہ ہے۔ صرف مہمان کے لئے تو دودھ نکال لیتے ورنہ اس کا دودھ یونہی رکا رہتا، ابو روق کہتے ہیں یہ نذر کا جانور ہوتا تھا جب کسی کی کوئی حاجت پوری ہوجاتی تو وہ اپنے بت اور بزرگ کے نام کوئی جانور آزاد کردیتا پھر اس کی نسل بھی آزاد سمجھی جاتی، سدی کہتے ہیں اگر کوئی شخص اس جانور کی بےحرمتی کرتا تو اسے یہ لوگ سزا دیتے، ابن عباس سے مروی ہے کہ وصیلہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک بکری کا ساتواں بچہ ہے اب اگر وہ نر ہے اور ہے مردہ تو اسے مرد عورت کھاتے اور اگر وہ مادہ ہے تو اسے زندہ باقی رہنے دیتے اور اگر نر مادہ دونوں ایک ساتھ ہوئے ہیں تو اس نر کو بھی زندہ رکھتے اور کہتے کہ اس کے ساتھ اس کی بہن ہے اس نے اسے ہم پر حرام کردیا۔ حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جس اونٹنی کے مادہ پیدا ہو پھر دوسرا بچہ بھی مادہ ہو تو اسے وصیلہ کہتے تھے، محمد بن اسحاق فرماتے ہیں جو بکری پانچ دفعہ دو دو مادہ بکریاں بچے دے اس کا نام وصیلہ تھا پھر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے بعد اس کا جو بچہ ہوتا اسے ذبح کر کے صرف مرد کھالیتے اور اگر مردہ پیدا ہوتا تو مرد عورت سب کا حصہ سمجھا جاتا، ابن عباس فرماتے ہیں حام اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہوجائیں یہ بھی مردوی ہے کہ جس کے بچے سے کوئی بچہ ہوجائے اسے وہ آزاد کردیتے نہ اس پر سواری لیتے نہ اس پر بوجھ لادتے، نہ اس کے بال کام میں لیتے نہ کسی کھیتی یا چارے یا حوض سے اسے روکتے، اوراقوال بھی ہیں، حضرت مالک بن نفلہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا تیرے پاس کچھ مال بھی ہے ؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا کس قسم کا کہا ہر قسم کا اونٹ بکریاں گھوڑے غلام وغیرہ آپ نے فرمایا پھر تو اللہ نے تجھے بہت کچھ دے رکھا ہے سن اونٹ کے جب بچہ ہوتا ہے تو صحیح سالم کان والا ہی ہوتا ہے ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا پھر تو استرالے کر ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور ان کا نام بحیرہ رکھ دیتا ہے ؟ اور بعض کے کان چیر کر انہیں حرام سمجھنے لگتا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا خبردار ایسا نہ کرنا اللہ نے تجھے جتنے جانور دے رکھے ہیں سب حلال ہیں۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی، بحیرہ وہ ہے جس کے کان کاٹ دیئے جاتے تھے پھر گھر والوں میں سے کوئی بھی اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ہاں جب وہ مرجاتا تو سب بیٹھ کر اس کا گوشت کھا جاتے، سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے اپنے معبودوں کے پاس لے جا کر ان کے نام کا کردیتے تھے۔ وصیلہ اس بکری کو کہتے تھے جس کے ہاں ساتویں دفعہ بچہ ہو اس کے کان اور سینگ کاٹ کر آزاد کردیتے، اس روایت کے مطابق تو حدیث ہی میں ان جانورون کی تفصیل ملی جلی ہے ایک روایت میں یہ بقول حضرت عوف بن مالک مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے پھر فرمان قرآن ہے کہ یہ نام اور چیزیں اللہ کی مقرر کردہ نہیں نہ اس کی شریعت میں داخل ہیں نہ ذریعہ ثواب ہیں یہ لوگ اللہ کی پاک صاف شریعت کی طرف دعوت دیئے جاتے ہیں تو اپنے باب دادوں کے طریقوں کو اس کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کے بڑے محض ناواقف اور بےراہ تھے ان کی تابعداری تو وہ کرے گا جو ان سے بھی زیادہ بہکا ہوا اور بےعقل ہو۔
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ
📘 بتوں کے نام کٹے ہوئے جانوروں کے نام ؟ صحیح بخاری شریف میں حضرت سعید بن مسیب ؒ سے مروی ہے کہ بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے بطن کا دودھ وہ لوگ اپنے بتوں کے نام کردیتے تھے اسے کوئی دوہتا نہ تھا سائبہ ان جانوروں کو کہتے تھے جنہیں وہ اپنے معبود باطل کے نام پر چھوڑ دیتے تھے سواری اور بوجھ سے آزاد کردیتے تھے، حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا ہے اس نے سب سے پہلے یہ رسم ایجاد کی تھی۔ وصیلہ وہ اونٹنی ہے جس کے پلوٹھے دو بچے اوپر تلے کے مادہ ہوں ان دونوں کے درمیان کوئی نر اونٹ پیدا نہ ہوا ہو اسے بھی وہ اپنے بتوں کے نام وقف کردیتے تھے۔ حام اس نر اونٹ کا نام تھا جس کی نسل سے کئی بچے ہوگئے ہوں پھر اسے بھی اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور کسی کام میں نہ لیتے تھے، ایک حدیث میں ہے کہ میں نے جہنم کو دیکھا اس کا ایک حصہ دوسرے کو گویا کھائے جا رہا تھا اس میں میں نے عمرو کو دیکھا کہ اپنی آنتیں گھسیٹا پھرتا ہے اسی نے سائبہ کا رواج سب سے پہلے نکالا تھا ایک حدیث میں ہے حضور نے عمورو کا یہ ذکر حصرت اکتم بن جون ؓ سے کر کے فرمایا وہ صورت و شکل میں بالکل تیرے جسیا ہے اس پر حضرت اکتم نے فرمایا یا رسول اللہ کہیں یہ مشابہت مجھے نقصان نہ پہنچائے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بےفکر رہو وہ کافر تھا تم مسلمان ہو۔ اسی نے حضرت ابراہیم کے دین کو سب سے پہلے بدلا اسی نے بحیرہ، سائبہ اور حام کی رسم نکالی، اسی نے بت پرستی دین ابراہیمی میں ایجاد کی، ایک روایت میں ہے یہ بنو کعب میں سے ہے، جہنم میں اس کے جلنے کی بدبو سے دوسرے جہنمیوں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے، بحیرہ کی رسم کو ایجاد کرنے والا بنو مدلج کا ایک شخص تھا اس کی دو انٹنیاں تھیں جن کے کان کاٹ دیئے اور دودھ حرام کردیا پھر کچھ عرصہ کے بعد پینا شروع کردیا، میں نے اسے بھی دوزخ میں دیکھا دونوں اونٹنیاں اسے کاٹ رہی تھیں اور روند رہی تھیں یاد رہے کہ یہ عمر ولحی بن قمعہ کا لڑکا ہے جو خزاعہ کے سرداروں میں سے ایک تھا قبیلہ جرہم کے بعد بیت اللہ شریف کی تولیت انہی کے پاس تھی یہی شخص عرب میں بت لایا اور سفلے لوگوں میں ان کی عبادت جاری کی اور بہت سی بدعتیں ایجاد کیں جن میں سے چوپایوں کو الگ الگ طریقے سے بتوں کے نام کرنے کی رسم بھی تھی۔ جس کی طرف اشارہ آیت آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ) 6۔ الانعام :136) میں ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اونٹنی کے جب پانچ بچے ہوتے تو پانچواں اگر نر ہوتا تو اسے ذبح کر ڈالتے اور اس کا گوشت صرف مرد کھاتے عورتوں پر حرام جانتے اور اگر مادہ ہوتی تو اس کے کان کاٹ کر اس کا نام بحیرہ رکھتے۔ سائبہ کی تفسیر میں مجاہد سے اسی کے قریب قریب بکریوں میں مروی ہے۔ محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ جس اونٹنی کے پے در پے دس اونٹنیاں پیدا ہوتیں اسے چھوڑ دیتے نہ سواری لیتے نہ بال کاٹتے نہ دودھ دوہتے اور اسی کا نام سائبہ ہے۔ صرف مہمان کے لئے تو دودھ نکال لیتے ورنہ اس کا دودھ یونہی رکا رہتا، ابو روق کہتے ہیں یہ نذر کا جانور ہوتا تھا جب کسی کی کوئی حاجت پوری ہوجاتی تو وہ اپنے بت اور بزرگ کے نام کوئی جانور آزاد کردیتا پھر اس کی نسل بھی آزاد سمجھی جاتی، سدی کہتے ہیں اگر کوئی شخص اس جانور کی بےحرمتی کرتا تو اسے یہ لوگ سزا دیتے، ابن عباس سے مروی ہے کہ وصیلہ اس جانور کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک بکری کا ساتواں بچہ ہے اب اگر وہ نر ہے اور ہے مردہ تو اسے مرد عورت کھاتے اور اگر وہ مادہ ہے تو اسے زندہ باقی رہنے دیتے اور اگر نر مادہ دونوں ایک ساتھ ہوئے ہیں تو اس نر کو بھی زندہ رکھتے اور کہتے کہ اس کے ساتھ اس کی بہن ہے اس نے اسے ہم پر حرام کردیا۔ حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جس اونٹنی کے مادہ پیدا ہو پھر دوسرا بچہ بھی مادہ ہو تو اسے وصیلہ کہتے تھے، محمد بن اسحاق فرماتے ہیں جو بکری پانچ دفعہ دو دو مادہ بکریاں بچے دے اس کا نام وصیلہ تھا پھر اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اس کے بعد اس کا جو بچہ ہوتا اسے ذبح کر کے صرف مرد کھالیتے اور اگر مردہ پیدا ہوتا تو مرد عورت سب کا حصہ سمجھا جاتا، ابن عباس فرماتے ہیں حام اس نر اونٹ کو کہتے ہیں جس کی نسل سے دس بچے پیدا ہوجائیں یہ بھی مردوی ہے کہ جس کے بچے سے کوئی بچہ ہوجائے اسے وہ آزاد کردیتے نہ اس پر سواری لیتے نہ اس پر بوجھ لادتے، نہ اس کے بال کام میں لیتے نہ کسی کھیتی یا چارے یا حوض سے اسے روکتے، اوراقوال بھی ہیں، حضرت مالک بن نفلہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں پھٹے پرانے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھا آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا تیرے پاس کچھ مال بھی ہے ؟ میں نے کہا ہاں، فرمایا کس قسم کا کہا ہر قسم کا اونٹ بکریاں گھوڑے غلام وغیرہ آپ نے فرمایا پھر تو اللہ نے تجھے بہت کچھ دے رکھا ہے سن اونٹ کے جب بچہ ہوتا ہے تو صحیح سالم کان والا ہی ہوتا ہے ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا پھر تو استرالے کر ان کے کان کاٹ دیتا ہے اور ان کا نام بحیرہ رکھ دیتا ہے ؟ اور بعض کے کان چیر کر انہیں حرام سمجھنے لگتا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا خبردار ایسا نہ کرنا اللہ نے تجھے جتنے جانور دے رکھے ہیں سب حلال ہیں۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی، بحیرہ وہ ہے جس کے کان کاٹ دیئے جاتے تھے پھر گھر والوں میں سے کوئی بھی اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ہاں جب وہ مرجاتا تو سب بیٹھ کر اس کا گوشت کھا جاتے، سائبہ اس جانور کو کہتے ہیں جسے اپنے معبودوں کے پاس لے جا کر ان کے نام کا کردیتے تھے۔ وصیلہ اس بکری کو کہتے تھے جس کے ہاں ساتویں دفعہ بچہ ہو اس کے کان اور سینگ کاٹ کر آزاد کردیتے، اس روایت کے مطابق تو حدیث ہی میں ان جانورون کی تفصیل ملی جلی ہے ایک روایت میں یہ بقول حضرت عوف بن مالک مروی ہے اور یہی زیادہ ٹھیک ہے پھر فرمان قرآن ہے کہ یہ نام اور چیزیں اللہ کی مقرر کردہ نہیں نہ اس کی شریعت میں داخل ہیں نہ ذریعہ ثواب ہیں یہ لوگ اللہ کی پاک صاف شریعت کی طرف دعوت دیئے جاتے ہیں تو اپنے باب دادوں کے طریقوں کو اس کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ان کے بڑے محض ناواقف اور بےراہ تھے ان کی تابعداری تو وہ کرے گا جو ان سے بھی زیادہ بہکا ہوا اور بےعقل ہو۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
📘 اپنی اصلاح آپ کرو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کریں اور اپنی طاقت کے مطابق نیکیوں میں مشغول رہیں، جب وہ خود ٹھیک ٹھاک ہوجائیں گے تو برے لوگوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا خواہ وہ رشتے دار اور قریبی ہوں خواہ اجنبی اور دور کے ہوں۔ حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عامل ہوجائے برائیوں سے بچ جائے تو اس پر گنہگار لوگوں کے گناہ کا کوئی بوجھ بار نہیں۔ مقاتل سے مروی ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ ملتا ہے بروں کو سزا اچھوں کو جزا، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اچھی بات کا حکم اور بری باتوں سے منع بھی نہ کرے، کیونکہ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے خطبے میں فرمایا لوگو تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو سنو ! میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ لوگ جب بری باتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نہیں روکیں گے تو بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی عام عذاب آجائے، امیر المومنین کا یہ فرمان بھی ہے کہ جھوٹ سے بچو جھوٹ ایمان کی ضد (سننن اربعہ) حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم بھلائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرتے رہو یہاں تک کہ بخیلی کی پیروی اور خواہش نفس کی اتباع اور دنیا کی پسندیدگی اور ہر شخص کا اپنی رائے پر پھولنا عام نہ ہوجائے اس وقت تم صرف اپنی اصلاح میں مشغول ہوجاؤ اور عام لوگوں کو چھوڑ دو ، یاد رکھو تمہارے پیچھے صبر کے دن آ رہے ہیں اس وقت دین اسلام پر جما رہنے والا ایسا ہوگا جیسے کوئی انگارے کو مٹھی میں لئے ہوئے ہو اس وقت عمل کرنے والے کو مثل پچاس شخصوں کے عمل کا اجر ملے گا جو بھی اچھے اعمال کرے گا ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ مثل پچاس شخصوں کے ان میں سے یا ہم میں سے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم میں سے (ترمذی) حضرت ابن مسعود سے بھی جب اس آیت کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ وقت نہیں آج تو تمہاری باتیں مان لی جاتی ہیں لیکن ہاں ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے کہ نیک باتیں کہنے اور بھلائی کا حکم کرنے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے گی اور اس کی بات قبول نہ کی جائے گی اس وقت تم صرف اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جانا، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے دو شخصوں میں کچھ جھگڑا ہوگیا اور وہ آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تو ایک نے کہا میں اٹھتا ہوں اور انہیں نیکی کا حکم کرتا ہوں اور برائی سے روکتا ہوں تو دوسرے نے کہا مجھے کیا پڑی ؟ تو اپنی اصلاح میں لگا رہ، پھر یہی آیت تلاوت کی اسے سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا چپ رہ اس آیت کے عمل کا یہ وقت نہیں قرآن میں کئی طرح کی آیتیں ہیں بعض تو وہ ہیں جن کے مضامین گزر چکے بعض وہ ہیں جن کے واقعات آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہوگئے، بعض کے واقعات حضور کے بعد ہوئے بعض قیامت کے دن ہوں گے مثلاً جنت دوزخ وغیرہ، سنو جب تک تمہارے دل نہ پھٹیں تمہارا مقصود ایک ہی ہو تم میں پھوٹ نہ پڑی ہو تم میں لڑائی دنگے شروع نہ ہوئے ہوں تم اچھی باتوں کی ہدایت کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو۔ ہاں جب دلوں میں جدائی ہوجائے۔ آپ میں اختلاف پڑجائیں لڑائیاں شروع ہوجائیں اس وقت صرف اپنے تیئس پابند شریعت رکھنا کافی ہے اور وہی وقت ہے اس آیت کے عمل کا (ابن جریر) حضرت ابن عمر ؓ سے کہا گیا کہ ان دنوں تو آپ اگر اپنی زبان روک لیں تو اچھا ہو آپ کو کیا پڑی کوئی کچھ ہی کرے آپ نہ کسی کو روکیں نہ کچھ کہیں دیکھئے قرآن میں بھی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنے تئیں سنبھا لو گمراہوں کی گمراہی کا وبال تم پر نہیں جبکہ تم خود راہ راست پر ہو۔ تو حضرت ابن عمر نے کہا یہ حکم میرے اور میرے ساتھیوں کیلئے نہیں اس لئے کہحضور ﷺ نے فرمایا ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود لوگوں کو پہنچا دے۔ پس ہم موجود تھے اور تم غیر موجود تھے۔ یہ آیت تو ان لوگوں کے حق میں ہے جو بعد میں آئیں گے وہ لوگوں کو نیک باتیں کہیں گے لیکن ان کی بات قبول نہ کی جائے گی (ابن جریر) حضرت ابن عمر کی مجلس میں ایک صاحب آئے بڑے غصیل اور تیز زبان، کہنے لگے سنیئے جناب چھ شخص ہیں سب قرآن پڑھے ہوئے جاننے بوجھنے والے مجہتد سمجھدار لیکن ہر ایک دوسرے کو مشرک بتلاتا ہے، اس نے کہا میں تم سے نہیں پوچھتا میں تو حضرت ابن عمر سے سوال کرتا ہوں اور پھر وہی بات دوہرا دی تو حضرت عبداللہ نے فرمایا شاید تو یہ چاہتا ہے کہ میں تجھے یہ کہہ دوں کہ جا انہی قتل کر ڈال نہیں میں کہتا ہوں جا انہیں نصیحت کر انہیں برائی سے روک نہ مانیں تو اپنی راہ لگ، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت کی، خلیفہ ثالث حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں حضرت ابن مازن مدینے میں آتے ہیں یہاں مسلمانوں کا ایک مجمع جمع تھا جس میں سے ایک شخص نے اسی آیت کی تلاوت کی تو اکثر لوگوں نے کہا اس کے عمل کا وقت ابھی تک نہیں آیا۔ حضرت جبیر بن نفیر کہتے ہیں میں ایک مجلس میں تھا جس میں بہت سے صحابہ کرام موجود تھے یہی ذکر ہو رہا تھا کہ اچھی باتوں کا حکم کرنا چاہیے اور بری باتوں سے روکنا چاہیے میں اس مجلس میں سب سے چھوٹی عمر کا تھا لیکن جرات کر کے یہ آیت پڑھ دی اور کہا کہ پھر اس کا کیا مطلب ہوگا ؟ تو سب نے ایک زبان ہو کر مجھے جواب دیا کہ اس کا صحیح مطلب تمہیں معلوم نہیں اور جو مطلب تم لے رہے ہو بالکل غلط ہے مجھے بڑا افسوس ہوا، پھر وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے جب اٹھنے کا وقت آیا تو مجھ سے فرمایا تم ابھی بچے ہو بےموقعہ آیت پڑھ دیتے ہو اصلی مطلب تک نہیں پہنچتے بہت ممکن ہے کہ تم اس آیت کے زمانے کو پالو یہ حکم اس وقت ہے جب بخیلی کا دور دورہ ہو خواہش پرستی عام ہو ہر شخص اپنی سمجھ پر نازاں ہو اس وقت انسان خود نیکیوں اور بھلائیوں میں مشغول رہے گمراہوں کی گمراہی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ حضرت حسن نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا اس پر بھی اللہ کا شکر ہے اگلے اور پچھلے مومنوں کے ساتھ منافق ضرور رہے جو ان کے اعمال سے بیزار ہی رہے، حضرت سعید بن مسیب ؒ فرماتے ہیں جب تم نے اچھی بات کی نصیحت کردی اور بری بات سے روک دیا پھر بھی کسی نے برائیاں کیں نیکیاں چھوڑیں تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔ حضرت حذیفہ بھی یہی فرمائے ہیں حضرت کعب فرماتے ہیں اس کا وقت وہ ہے جب مسجد دمشق کا کلیسا ڈھا دیا جائے اور تعصب بڑھ جائے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةُ الْمَوْتِ ۚ تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۙ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ
📘 معتبر گواہی کی شرائط بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں اثنان خبر ہے، اس کی تقدیر شھداۃ اثنین ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کردیا گیا ہے یعنی ان یشھد اثنان، ذواعدل صفت ہے، منکم سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، من غیر کم سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکم سے مراد قبیلہ میں اور من غیر کم سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، حضرت شریح سے یہی مروی ہے، امام احمد بھی یہی فرماتے ہیں اور تینوں امام خلاف ہیں، امام ابوحنیفہ ذمی کافروں کی گواہی آپس میں ایک دوسرے پر جائز مانتے ہیں، زہری کا قول ہے کہ سنت جاری ہوچکی ہے کہ کافر کی شہادت جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں۔ ابن زید کہتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری ہے جس کی موت کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان نہ تھا یہ ابتدائے اسلام کا وقت تھا جبکہ زمین کافروں سے بھری تھی اور وصیت سے ورثہ بٹتا تھا، ورثے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، پھر وصیت منسوخ ہوگئی ورثے کے احکام اترے اور لوگوں نے ان پر عمل درآمد شروع کردیا، پھر یہ بھی کہ ان دونوں غیر مسلموں کو وصی بنایا جائے گا یا گواہ ؟ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آجائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کرلے، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے امام ابن جریر نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے، نماز کے بعد ٹھہرا لو سے مطلب نماز عصر کے بعد ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے مراد مسلمانوں کی نماز ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے مذہب کی نماز، مقصود یہ ہے کہ انہیں نماز کے بعد لوگوں کی موجودگی میں کھڑا کیا جائے اور اگر خیانت کا شک ہو تو ان سے قسم اٹھوائی جائے وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم اپنی قسموں کو کسی قیمت بیچنا نہیں چاہتے۔ دنیوی مفاد کی بنا پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے، اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار، پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہوجائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔ اولیان کی دوسری قرأت اولان بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم، یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابو مریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کردیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لئے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا ؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر ؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔ حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تو نے لے لئے ہیں وہ بھی واپس کر آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن عاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے (ترمذی) ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکہ میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر حضرت ابو موسیٰ اشعری کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا آنحضرت ﷺ کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کردیا ہے آپ نے ان کی شہادت کو مان لیا، حضرت ابو موسیٰ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، حضرت تمیم بن داری ؓ کا اسلام سنہ009ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔ سدی فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہوجائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کردیا جائے، اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کردیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہوجائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہوجائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کردیا جائے گا پھر بیان ہوتا ہے کہ اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آجائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو ! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے۔
فَإِنْ عُثِرَ عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ
📘 معتبر گواہی کی شرائط بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں اثنان خبر ہے، اس کی تقدیر شھداۃ اثنین ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کردیا گیا ہے یعنی ان یشھد اثنان، ذواعدل صفت ہے، منکم سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، من غیر کم سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکم سے مراد قبیلہ میں اور من غیر کم سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، حضرت شریح سے یہی مروی ہے، امام احمد بھی یہی فرماتے ہیں اور تینوں امام خلاف ہیں، امام ابوحنیفہ ذمی کافروں کی گواہی آپس میں ایک دوسرے پر جائز مانتے ہیں، زہری کا قول ہے کہ سنت جاری ہوچکی ہے کہ کافر کی شہادت جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں۔ ابن زید کہتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری ہے جس کی موت کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان نہ تھا یہ ابتدائے اسلام کا وقت تھا جبکہ زمین کافروں سے بھری تھی اور وصیت سے ورثہ بٹتا تھا، ورثے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، پھر وصیت منسوخ ہوگئی ورثے کے احکام اترے اور لوگوں نے ان پر عمل درآمد شروع کردیا، پھر یہ بھی کہ ان دونوں غیر مسلموں کو وصی بنایا جائے گا یا گواہ ؟ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آجائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کرلے، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے امام ابن جریر نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے، نماز کے بعد ٹھہرا لو سے مطلب نماز عصر کے بعد ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے مراد مسلمانوں کی نماز ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے مذہب کی نماز، مقصود یہ ہے کہ انہیں نماز کے بعد لوگوں کی موجودگی میں کھڑا کیا جائے اور اگر خیانت کا شک ہو تو ان سے قسم اٹھوائی جائے وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم اپنی قسموں کو کسی قیمت بیچنا نہیں چاہتے۔ دنیوی مفاد کی بنا پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے، اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار، پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہوجائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔ اولیان کی دوسری قرأت اولان بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم، یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابو مریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کردیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لئے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا ؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر ؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔ حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تو نے لے لئے ہیں وہ بھی واپس کر آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن عاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے (ترمذی) ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکہ میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر حضرت ابو موسیٰ اشعری کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا آنحضرت ﷺ کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کردیا ہے آپ نے ان کی شہادت کو مان لیا، حضرت ابو موسیٰ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، حضرت تمیم بن داری ؓ کا اسلام سنہ009ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔ سدی فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہوجائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کردیا جائے، اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کردیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہوجائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہوجائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کردیا جائے گا پھر بیان ہوتا ہے کہ اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آجائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو ! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے۔
ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا أَوْ يَخَافُوا أَنْ تُرَدَّ أَيْمَانٌ بَعْدَ أَيْمَانِهِمْ ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاسْمَعُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
📘 معتبر گواہی کی شرائط بعض لوگوں نے اس آیت کے عزیز حکم کو منسوخ کہا ہے لیکن اکثر حضرات اس کے خلاف ہیں اثنان خبر ہے، اس کی تقدیر شھداۃ اثنین ہے مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ اس کے قائم مقام کردیا گیا ہے یا دلالت کلام کی بنا پر فعل محذوف کردیا گیا ہے یعنی ان یشھد اثنان، ذواعدل صفت ہے، منکم سے مراد مسلمانوں میں سے ہونا یا وصیت کرنے والے کے اہل میں سے ہونا ہے، من غیر کم سے مراد اہل کتاب ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکم سے مراد قبیلہ میں اور من غیر کم سے مراد اس کے قبیلے کے سوا، شرطیں دو ہیں ایک مسافر کے سفر میں ہونے کی صورت میں موت کے وقت وصیت کے لیے غیر مسلم کی گواہی چل سکتی ہے، حضرت شریح سے یہی مروی ہے، امام احمد بھی یہی فرماتے ہیں اور تینوں امام خلاف ہیں، امام ابوحنیفہ ذمی کافروں کی گواہی آپس میں ایک دوسرے پر جائز مانتے ہیں، زہری کا قول ہے کہ سنت جاری ہوچکی ہے کہ کافر کی شہادت جائز نہیں نہ سفر میں نہ حضر میں۔ ابن زید کہتے ہیں کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں اتری ہے جس کی موت کے وقت اس کے پاس کوئی مسلمان نہ تھا یہ ابتدائے اسلام کا وقت تھا جبکہ زمین کافروں سے بھری تھی اور وصیت سے ورثہ بٹتا تھا، ورثے کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، پھر وصیت منسوخ ہوگئی ورثے کے احکام اترے اور لوگوں نے ان پر عمل درآمد شروع کردیا، پھر یہ بھی کہ ان دونوں غیر مسلموں کو وصی بنایا جائے گا یا گواہ ؟ حضرت ابن مسعود کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آجائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کرلے، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے امام ابن جریر نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے، نماز کے بعد ٹھہرا لو سے مطلب نماز عصر کے بعد ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے مراد مسلمانوں کی نماز ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان کے مذہب کی نماز، مقصود یہ ہے کہ انہیں نماز کے بعد لوگوں کی موجودگی میں کھڑا کیا جائے اور اگر خیانت کا شک ہو تو ان سے قسم اٹھوائی جائے وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم اپنی قسموں کو کسی قیمت بیچنا نہیں چاہتے۔ دنیوی مفاد کی بنا پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے، اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار، پھر اگر یہ مشہور ہو یا ظاہر ہوجائے یا اطلاع مل جائے کہ ان دونوں نے مرنے والے کے مال میں سے کچھ چرا لیا یا کسی قسم کی خیانت کی۔ اولیان کی دوسری قرأت اولان بھی ہے مطلب یہ ہے کہ جب کسی خبر صحیح سے پتہ چلے کہ ان دونوں نے کوئی خیانت کی ہے تو میت کے وارثوں میں سے جو میت کے زیادہ نزدیک ہوں وہ دو شخص کھڑے ہوں اور حلیفہ بیان دیں کہ ہماری شہادت ہے کہ انہوں نے چرایا اور یہی زیادہ حق زیادہ صحیح اور پوری سچی بات ہے، ہم ان پر جھوٹ نہیں باندھتے اگر ہم ایسا کریں تو ہم ظالم، یہ مسئلہ اور قسامت کا مسئلہ اس بارے میں بہت ملتا جلتا ہے، اس میں بھی مقتول کے اولیاء قسمیں کھاتے ہیں، تمیم داری سے منقول ہے کہ اور لوگ اس سے بری ہیں صرف میں اور عدی بن بداء اس سے متعلق ہیں، یہ دونوں نصرانی تھے اسلام سے پہلے ملک شام میں بغرض تجارت آتے جاتے تھے ابن سہم کے مولی بدیل بن ابو مریم بھی مال تجارت لے کر شام کے ملک گئے ہوئے تھے ان کے ساتھ ایک چاندی کا جام تھا، جسے وہ خاص بادشاہ کے ہاتھ فروخت کرنے کیلئے لے جا رہے تھے۔ اتفاقاً وہ بیمار ہوگئے ان دونوں کو وصیت کی اور مال سونپ دیا کہ یہ میرے وارثوں کو دے دینا اس کے مرنے کے بعد ان دونوں نے وہ جام تو مال سے الگ کردیا اور ایک ہزار درہم میں بیچ کر آدھوں آدھ بانٹ لئے باقی مال واپس لا کر بدیل کے رشتہ داروں کو دے دیا، انہوں نے پوچھا کہ چاندی کا جام کیا ہوا ؟ دونوں نے جواب دیا ہمیں کیا خبر ؟ ہمیں تو جو دیا تھا وہ ہم نے تمہیں دے دیا۔ حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ مدینے میں آئے اور اسلام نے مجھ پر اثر کیا، میں مسلمان ہوگیا تو میرے دل میں خیال آیا کہ یہ انسانی حق مجھ پر رہ جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں میں پکڑا جاؤں گا تو میں بدیل کے وارثان کے پاس آیا اور اس سے کہا پانچ سو درہم جو تو نے لے لئے ہیں وہ بھی واپس کر آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے قسم لی جائے اس پر یہ آیت اتری اور عمرو بن عاص نے اور ان میں سے ایک اور شخص نے قسم کھائی عدی بن بداء کو پانچ سو درہم دینے پڑے (ترمذی) ایک روایت میں ہے کہ عدی جھوٹی قسم بھی کھا گیا تھا اور روایت میں ہے کہ اس وقت ارض شام کے اس حصے میں کوئی مسلمان نہ تھا، یہ جام چاندی کا تھا اور سونے سے منڈھا ہوا تھا اور مکہ میں سے جام خریدا گیا تھا جہاں سے ملا تھا انہوں نے بتایا تھا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اب میت کے دو وارث کھڑے ہوئے اور قسم کھائی، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے ایک روایت میں ہے کہ قسم عصر کی نماز کے بعد اٹھائی تھی ابن جریر میں ہے کہ ایک مسلمان کی وفات کا موقعہ سفر میں آیا، جہاں کوئی مسلمان اسے نہ ملا تو اس نے اپنی وصیت پر دو اہل کتاب گواہ رکھے، ان دونوں نے کوفے میں آ کر حضرت ابو موسیٰ اشعری کے سامنے شہادت دی وصیت بیان کی اور ترکہ پیش کیا حضرت ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا آنحضرت ﷺ کے بعد یہ واقعہ پہلا ہے پس عصر کی نماز کے بعد ان سے قسم لی کہ نہ انہوں نے خیانت کی ہے، نہ جھوٹ بولا ہے، نہ بدلا ہے، نہ چھپایا ہے، نہ الٹ پلٹ کیا ہے بلکہ سچ وصیت اور پورا ترکہ انہوں نے پیش کردیا ہے آپ نے ان کی شہادت کو مان لیا، حضرت ابو موسیٰ کے فرمان کا مطلب یہی ہے کہ ایسا واقعہ حضور کے زمانے میں تمیم اور عدی کا ہوا تھا اور اب یہ دوسرا اس قسم کا واقع ہے، حضرت تمیم بن داری ؓ کا اسلام سنہ009ہجری کا ہے اور یہ آخری زمانہ ہے۔ سدی فرماتے ہیں لازم ہے کہ موت کے وقت وصیت کرے اور دو گواہ رکھے اگر سفر میں ہے اور مسلمان نہیں ملتے تو خیر غیر مسلم ہی سہی۔ انہیں وصیت کرے اپنا مال سونپ دے، اگر میت کے وارثوں کو اطمینان ہوجائے تو خیر آئی گئی بات ہوئی ورنہ سلطان اسلام کے سامنے وہ مقدمہ پیش کردیا جائے، اوپر جو واقعہ بیان ہوا اس میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابو موسیٰ نے ان سے عصر کے بعد قسم لینی چاہی تو آپ سے کہا گیا کہ انہیں عصر کے بعد کی کیا پرواہ ؟ ان سے ان کی نماز کے وقت قسم لی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اگر تم نے کچھ چھپا یا یا خیانت کی تو ہم تمہیں تمہاری قوم میں رسوا کردیں گے اور تمہاری گواہی کبھی بھی قبول نہ کی جائے گی اور تمہیں سنگین سزا دی جائے گی، بہت ممکن ہے کہ اس طرح ان کی زبان سے حق بات معلوم ہوجائے پھر بھی اگر شک شبہ رہ جائے اور کسی اور طریق سے ان کی خیانت معلوم ہوجائے تو مرحوم کے دو مسلمان وارث قسمیں کھائیں کہ ان کافروں کی شہادت غلط ہے تو ان کی شہادت غلط مان لی جائے گی اور ان سے ثبوت لے کر فیصلہ کردیا جائے گا پھر بیان ہوتا ہے کہ اس صورت میں فائدہ یہ ہے کہ شہادت ٹھیک ٹھیک آجائے گی ایک تو اللہ کی قسم کا لحاظ ہوگا دوسرے لوگوں میں رسوا ہونے کا ڈر رہے گا، لوگو ! اللہ تعالیٰ سے اپنے سب کاموں میں ڈرتے رہو اس کی باتیں سنتے رہو اور مانتے چلے جاؤ، جو لوگ اس کے فرمان سے ہٹ جائیں اور اس کے احکام کے خلاف چلیں وہ راہ راست نہیں پاتے۔
۞ يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
📘 روز قیامت انبیاء سے سوال اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ رسولوں سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ تمہاری امتوں نے تمہیں مانا یا نہیں ؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ) 7۔ الاعراف :6) یعنی رسولوں سے بھی اور ان کی امتوں سے بھی یہ ضرور دریافت فرمائیں گے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ) 15۔ الحجر :92) تیرے رب کی قسم ہم سب سے ان کے اعمال کا سوال ضرور ضرور کریں گے، رسولوں کا یہ جواب کہ ہمیں مطلق علم نہیں اس دن کی ہول و دہشت کی وجہ سے ہوگا، گھبراہٹ کی وجہ سے کچھ جواب بن نہ پڑے گا، یہ وہ وقت ہوگا کہ عقل جاتی رہے گی پھر دوسری منزل میں ہر نبی اپنی اپنی امت پر گواہی دے گا۔ ایک مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سوال کی غرض یہ ہے کہ تمہاری امتوں نے تمہارے بعد کیا کیا عمل کئے اور کیا کیا نئی باتیں نکا لیں ؟ تو وہ ان سے اپنی لا علمی ظاہر کریں گے، یہ معنی بھی درست ہوسکتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا علم نہیں جو اے جناب باری تیرے علم میں نہ ہو، حقیقتاً یہ قول بہت ہی درست ہے کہ اللہ کے علم کے مقابلے میں بندے محض بےعلم ہیں تقاضائے ادب اور طریقہ گفتگو یہی مناسب مقام ہے، گو انبیاء جانتے تھے کہ کس کس نے ہماری نبوت کو ہمارے زمانے میں تسلیم کیا لیکن چونکہ وہ ظاہر کے دیکھنے والے تھے اور رب عالم باطن بین ہے اس لئے ان کا یہی جواب بالکل درست ہے کہ ہمیں حقیقی علم مطلقاً نہیں تیرے علم کی نسبت تو ہمارا علم محض لا علمی ہے حقیقی عالم تو صرف ایک تو ہی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
📘 " اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔
إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ ۖ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي ۖ وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي ۖ وَإِذْ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَنْكَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
📘 جناب مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ کو بنایا، پھر آپ کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت انکی طرف بیہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل ؑ کو اپنے نبی کی تائید پر مقرر کردیا، بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت کی طرف لوگوں کو بلایا، مراد کلام کرنے سے اللہ کی طرف بلانا ہے ورنہ بڑی عمر میں کلام کرنا کوئی خاص بات یا تعجب کی چیز نہیں۔ لکھنا اور سمجھنا آپ کو سکھایا۔ تورات جو کلیم اللہ پر اتری تھی اور انجیل جو آپ پر نازل ہوئی دونوں کا علم آپ کو سکھایا۔ آپ مٹی سے پرند کی صورت بناتے پھر اس میں دم کردیتے تو وہ اللہ کے حکم سے چڑیا بن کر اڑ جاتا، اندھوں اور کوڑھیوں کے بھلا چنگا کرنے کی پوری تفسیر سورة آل عمران میں گزر چکی ہے، مردوں کو آپ بلاتے تو وہ بحکم الہی زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کر آجاتے، ابو ہذیل فرماتے ہیں جب حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کسی مردے کے زندہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے پہلی میں سورة تبارک اور دوسری میں سورة الم تنزیل السجدہ پڑھتے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھتے اور اسکے سات نام اور لیتے یا حی یا قیوم، یا اللہ، یا رحمن، ، یا رحیم، یا ذوالجلال والاکرام، یا نور السموات والارض ثما بینھما ورب العرش العظیم، یہ اثر بڑا زبردست اور عظمت والا ہے اور میرے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم دلائل و براہیں لے کر اپنی امت کے پاس آئے اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے اسے جادو بتایا اور درپے آزار ہوئے تو انکے شر سے میں نے تمہیں بچا لیا، انہوں نے قتل کرنا چاہا، سولی دینا چاہی، لیکن میں ہمیشہ تیرا کفیل و حفیظ رہا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ احسان آپ کے آسمان پر چڑھا لینے کے بعد کے ہیں یا یہ کہ یہ خطاب آپ سے بروز قیامت ہوگا اور ماضی کے صیغہ سے اسکا بیان اس کے پختہ اور یقینی ہونے کے سبب ہے۔ یہ غیبی اسرار میں سے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کو مطلع فرما دیا، پھر اپنا ایک اور احسان بتایا کہ میں نے تیرے مددگار اور ساتھی بنا دیئے، ہواریوں کے دل میں الہام اور القا کیا۔ یہاں بھی لفظ وحی کا اطلاق ویسا ہی ہے جیسا ام موسیٰ کے بارے میں ہے اور شہد کی مکھی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے الہام رب پر عمل کیا، یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تیری زبانی ان تک اپنی وحی پہنچائی اور انہیں قبولیت کی توفیق دی، تو انہوں نے مان لیا اور کہہ دیا کہ ہم تو مسلمین یعنی تابع فرمان اور فرماں بردار ہیں۔
وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ
📘 جناب مسیح (علیہ الصلوۃ والسلام) پر جو احسانات تھے انکا اور آپکے معجزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ بغیر باپ کے صرف ماں سے آپ کو پیدا کیا اور اپنی کمال قدرت کا نشان آپ کو بنایا، پھر آپ کی والدہ پر احسان کیا کہ ان کی برأت اسی بچے کے منہ سے کرائی اور جس برائی کی نسبت انکی طرف بیہودہ لوگ کر رہے تھے اللہ نے آج کے پیدا شدہ بچے کی زبان سے ان کی پاک دامنی کی شہادت اپنی قدرت سے دلوائی، جبرائیل ؑ کو اپنے نبی کی تائید پر مقرر کردیا، بچپن میں اور بڑی عمر میں انہیں اپنی دعوت دینے والا بنایا گیا، گہوارے میں ہی بولنے کی طاقت عطا فرمائی، اپنی والدہ محترمہ کی برات ظاہر کر کے اللہ کی عبودیت کا اقرر کیا اور اپنی رسالت کی طرف لوگوں کو بلایا، مراد کلام کرنے سے اللہ کی طرف بلانا ہے ورنہ بڑی عمر میں کلام کرنا کوئی خاص بات یا تعجب کی چیز نہیں۔ لکھنا اور سمجھنا آپ کو سکھایا۔ تورات جو کلیم اللہ پر اتری تھی اور انجیل جو آپ پر نازل ہوئی دونوں کا علم آپ کو سکھایا۔ آپ مٹی سے پرند کی صورت بناتے پھر اس میں دم کردیتے تو وہ اللہ کے حکم سے چڑیا بن کر اڑ جاتا، اندھوں اور کوڑھیوں کے بھلا چنگا کرنے کی پوری تفسیر سورة آل عمران میں گزر چکی ہے، مردوں کو آپ بلاتے تو وہ بحکم الہی زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کر آجاتے، ابو ہذیل فرماتے ہیں جب حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کسی مردے کے زندہ کرنے کا ارادہ کرتے تو دو رکعت نماز ادا کرتے پہلی میں سورة تبارک اور دوسری میں سورة الم تنزیل السجدہ پڑھتے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھتے اور اسکے سات نام اور لیتے یا حی یا قیوم، یا اللہ، یا رحمن، ، یا رحیم، یا ذوالجلال والاکرام، یا نور السموات والارض ثما بینھما ورب العرش العظیم، یہ اثر بڑا زبردست اور عظمت والا ہے اور میرے اس احسان کو بھی یاد کرو کہ جب تم دلائل و براہیں لے کر اپنی امت کے پاس آئے اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے اسے جادو بتایا اور درپے آزار ہوئے تو انکے شر سے میں نے تمہیں بچا لیا، انہوں نے قتل کرنا چاہا، سولی دینا چاہی، لیکن میں ہمیشہ تیرا کفیل و حفیظ رہا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ احسان آپ کے آسمان پر چڑھا لینے کے بعد کے ہیں یا یہ کہ یہ خطاب آپ سے بروز قیامت ہوگا اور ماضی کے صیغہ سے اسکا بیان اس کے پختہ اور یقینی ہونے کے سبب ہے۔ یہ غیبی اسرار میں سے ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کو مطلع فرما دیا، پھر اپنا ایک اور احسان بتایا کہ میں نے تیرے مددگار اور ساتھی بنا دیئے، ہواریوں کے دل میں الہام اور القا کیا۔ یہاں بھی لفظ وحی کا اطلاق ویسا ہی ہے جیسا ام موسیٰ کے بارے میں ہے اور شہد کی مکھی کے بارے میں ہے۔ انہوں نے الہام رب پر عمل کیا، یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ میں نے تیری زبانی ان تک اپنی وحی پہنچائی اور انہیں قبولیت کی توفیق دی، تو انہوں نے مان لیا اور کہہ دیا کہ ہم تو مسلمین یعنی تابع فرمان اور فرماں بردار ہیں۔
إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ ۖ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
📘 نبی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورة مائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح ؑ کی نبوت کی ایک زبر دست دلیل اور آپ کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے، واللہ اعلم، حضرت عیسیٰ کے ماننے والے آپ سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت (هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) 5۔ المائدہ :112) یعنی کیا آپ سے یہ ہوسکتا ہے ؟ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ؟ مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح ؑ نے ان سے فرمایا کہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہوجائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہوگئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی، اب حضرت عیسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لئے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لئے کافی وافی ہونا ہے، حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تو نے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کرلیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے، اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تم سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب میں داخل ہوجاؤ، اور جیسے منافقوں کے لئے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہوگا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو، اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے نبی اسرائیل سے فرمایا کہ تم اللہ کے لئے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا انہوں نے تیس روزے پورے کر کے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے حضرت عیسیٰ نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے، ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لئے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ بندر بن گئے حضرت عمار فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو ! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑ تے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتادیا کہ عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہوجانا لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کردیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پرے، اسحاق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہوجائے اور کل کے لئے ہمارے پاس کچھ نہ رہے، مجاہدہ سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا، وہب بن منبہ فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اتر تے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہوجاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں، سعید بن جیبر فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، حضرت وہب فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر حضرت عیسیٰ بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی سے نشان طلب کیا تھا لیکن حواریوں نے حضرت عیسیٰ کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کر کے غسل کر کے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملا لیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کردی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی، اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اتر تے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں ما رہے تھے لیکن روح اللہ کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بےادبی ہوئی تو مارے گئے زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں تو فیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لئے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر، یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور حضرت عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آرہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، حضرت عیسیٰ اور آپ کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گرپڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے، حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اس دسترخوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح ؑ نے فرمایا کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے ؟ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے ؟ یہ سن کر حضرت عیسیٰ کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنادیا جائے، پھر واپس آئے اور بسم اللہ خیر الرازقین کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں، شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا ؟ آپ نے فرمایا ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے ؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے ؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو، حضرت شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے ! یقین ما نئے کہ میری نیت بد نہیں، آپ نے فرمایا نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کردیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے، شمعون نے کہا اے نبی اللہ ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں ؟ اچھا لو دیکھو یہ کہہ کر آپ نے اس مچھلی سے فرمایا اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہوجا، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہوگئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آگئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے، آپ نے فرمایا دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لئے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اسے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہوجا، چناچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہوگئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھا لیں گے، آپ نے فرمایا معاذ اللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑجائیں، حضرت عیسیٰ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم یا کہ تم کھانا شروع کردو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تماہرے نبی کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو اور الحمد اللہ پر ختم کرو، پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے، آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہوگئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔ اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے، خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک حضرت عیسیٰ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے ؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔ جناب مسیح ؑ سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی آہ اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہوجاؤ گے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت عیسیٰ ؑ پر وحی نازل فرمائی کہ جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو۔ دن غروب ہوا اور یہ بےادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن وامان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پا خانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کردیا ہے تاکہ سمجھ آجائے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اغلم۔ بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح ؑ کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔ چناچہ حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔ حسن کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حضرت حسن اور حضرت مجاہد کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے واللہ اعلم۔ لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت (اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ :115) میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔ تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المومنین ولید بن عبد الملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کا تھا واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے، آپ نے فرمایا بالکل سچا وعدہ ہے، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں۔ آپ نے فرمایا یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔
قَالُوا نُرِيدُ أَنْ نَأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّاهِدِينَ
📘 نبی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورة مائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح ؑ کی نبوت کی ایک زبر دست دلیل اور آپ کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے، واللہ اعلم، حضرت عیسیٰ کے ماننے والے آپ سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت (هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) 5۔ المائدہ :112) یعنی کیا آپ سے یہ ہوسکتا ہے ؟ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ؟ مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح ؑ نے ان سے فرمایا کہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہوجائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہوگئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی، اب حضرت عیسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لئے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لئے کافی وافی ہونا ہے، حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تو نے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کرلیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے، اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تم سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب میں داخل ہوجاؤ، اور جیسے منافقوں کے لئے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہوگا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو، اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے نبی اسرائیل سے فرمایا کہ تم اللہ کے لئے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا انہوں نے تیس روزے پورے کر کے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے حضرت عیسیٰ نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے، ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لئے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ بندر بن گئے حضرت عمار فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو ! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑ تے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتادیا کہ عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہوجانا لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کردیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پرے، اسحاق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہوجائے اور کل کے لئے ہمارے پاس کچھ نہ رہے، مجاہدہ سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا، وہب بن منبہ فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اتر تے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہوجاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں، سعید بن جیبر فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، حضرت وہب فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر حضرت عیسیٰ بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی سے نشان طلب کیا تھا لیکن حواریوں نے حضرت عیسیٰ کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کر کے غسل کر کے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملا لیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کردی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی، اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اتر تے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں ما رہے تھے لیکن روح اللہ کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بےادبی ہوئی تو مارے گئے زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں تو فیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لئے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر، یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور حضرت عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آرہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، حضرت عیسیٰ اور آپ کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گرپڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے، حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اس دسترخوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح ؑ نے فرمایا کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے ؟ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے ؟ یہ سن کر حضرت عیسیٰ کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنادیا جائے، پھر واپس آئے اور بسم اللہ خیر الرازقین کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں، شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا ؟ آپ نے فرمایا ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے ؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے ؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو، حضرت شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے ! یقین ما نئے کہ میری نیت بد نہیں، آپ نے فرمایا نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کردیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے، شمعون نے کہا اے نبی اللہ ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں ؟ اچھا لو دیکھو یہ کہہ کر آپ نے اس مچھلی سے فرمایا اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہوجا، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہوگئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آگئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے، آپ نے فرمایا دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لئے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اسے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہوجا، چناچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہوگئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھا لیں گے، آپ نے فرمایا معاذ اللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑجائیں، حضرت عیسیٰ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم یا کہ تم کھانا شروع کردو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تماہرے نبی کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو اور الحمد اللہ پر ختم کرو، پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے، آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہوگئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔ اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے، خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک حضرت عیسیٰ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے ؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔ جناب مسیح ؑ سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی آہ اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہوجاؤ گے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت عیسیٰ ؑ پر وحی نازل فرمائی کہ جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو۔ دن غروب ہوا اور یہ بےادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن وامان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پا خانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کردیا ہے تاکہ سمجھ آجائے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اغلم۔ بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح ؑ کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔ چناچہ حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔ حسن کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حضرت حسن اور حضرت مجاہد کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے واللہ اعلم۔ لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت (اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ :115) میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔ تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المومنین ولید بن عبد الملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کا تھا واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے، آپ نے فرمایا بالکل سچا وعدہ ہے، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں۔ آپ نے فرمایا یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔
قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِنْكَ ۖ وَارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
📘 نبی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورة مائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح ؑ کی نبوت کی ایک زبر دست دلیل اور آپ کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے، واللہ اعلم، حضرت عیسیٰ کے ماننے والے آپ سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت (هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) 5۔ المائدہ :112) یعنی کیا آپ سے یہ ہوسکتا ہے ؟ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ؟ مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح ؑ نے ان سے فرمایا کہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہوجائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہوگئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی، اب حضرت عیسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لئے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لئے کافی وافی ہونا ہے، حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تو نے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کرلیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے، اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تم سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب میں داخل ہوجاؤ، اور جیسے منافقوں کے لئے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہوگا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو، اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے نبی اسرائیل سے فرمایا کہ تم اللہ کے لئے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا انہوں نے تیس روزے پورے کر کے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے حضرت عیسیٰ نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے، ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لئے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ بندر بن گئے حضرت عمار فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو ! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑ تے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتادیا کہ عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہوجانا لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کردیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پرے، اسحاق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہوجائے اور کل کے لئے ہمارے پاس کچھ نہ رہے، مجاہدہ سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا، وہب بن منبہ فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اتر تے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہوجاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں، سعید بن جیبر فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، حضرت وہب فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر حضرت عیسیٰ بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی سے نشان طلب کیا تھا لیکن حواریوں نے حضرت عیسیٰ کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کر کے غسل کر کے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملا لیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کردی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی، اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اتر تے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں ما رہے تھے لیکن روح اللہ کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بےادبی ہوئی تو مارے گئے زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں تو فیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لئے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر، یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور حضرت عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آرہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، حضرت عیسیٰ اور آپ کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گرپڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے، حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اس دسترخوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح ؑ نے فرمایا کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے ؟ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے ؟ یہ سن کر حضرت عیسیٰ کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنادیا جائے، پھر واپس آئے اور بسم اللہ خیر الرازقین کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں، شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا ؟ آپ نے فرمایا ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے ؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے ؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو، حضرت شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے ! یقین ما نئے کہ میری نیت بد نہیں، آپ نے فرمایا نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کردیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے، شمعون نے کہا اے نبی اللہ ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں ؟ اچھا لو دیکھو یہ کہہ کر آپ نے اس مچھلی سے فرمایا اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہوجا، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہوگئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آگئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے، آپ نے فرمایا دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لئے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اسے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہوجا، چناچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہوگئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھا لیں گے، آپ نے فرمایا معاذ اللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑجائیں، حضرت عیسیٰ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم یا کہ تم کھانا شروع کردو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تماہرے نبی کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو اور الحمد اللہ پر ختم کرو، پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے، آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہوگئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔ اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے، خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک حضرت عیسیٰ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے ؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔ جناب مسیح ؑ سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی آہ اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہوجاؤ گے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت عیسیٰ ؑ پر وحی نازل فرمائی کہ جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو۔ دن غروب ہوا اور یہ بےادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن وامان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پا خانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کردیا ہے تاکہ سمجھ آجائے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اغلم۔ بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح ؑ کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔ چناچہ حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔ حسن کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حضرت حسن اور حضرت مجاہد کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے واللہ اعلم۔ لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت (اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ :115) میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔ تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المومنین ولید بن عبد الملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کا تھا واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے، آپ نے فرمایا بالکل سچا وعدہ ہے، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں۔ آپ نے فرمایا یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔
قَالَ اللَّهُ إِنِّي مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَنْ يَكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ
📘 نبی اسرائیل کی ناشکری اور عذاب الٰہی یہ مائدہ کا واقعہ ہے اور اسی کی وجہ سے اس سورت کا نام سورة مائدہ ہے یہ بھی جناب مسیح ؑ کی نبوت کی ایک زبر دست دلیل اور آپ کا ایک اعلی معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا سے آسمانی دستر خوان اتارا اور آپ کی سچائی ظاہر کی۔ بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ اس کا ذکر موجودہ انجیل میں نہیں عیسائیوں نے اسے مسلمانوں سے لیا ہے، واللہ اعلم، حضرت عیسیٰ کے ماننے والے آپ سے تمنا کرتے ہیں کہ اگر ہو سکے تو اللہ تعالیٰ سے ایک خوان کھانے سے بھرا ہوا طلب کیجئے ایک قرأت میں آیت (هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَاۗىِٕدَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ) 5۔ المائدہ :112) یعنی کیا آپ سے یہ ہوسکتا ہے ؟ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ؟ مائدہ کہتے ہیں اس دستر خوان کو جس پر کھانا رکھا ہوا ہو، بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انہوں نے بوجہ فقر و فاقہ، تنگی اور حاجت کے یہ سوال کیا تھا، جناب مسیح ؑ نے ان سے فرمایا کہ اللہ پر بھروسہ رکھو اور رزق کی تلاش کرو، ایسے انوکھے سوالات نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فتنہ ہوجائے اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ہم تو کھانے پینے سے تنگ ہو رہے ہیں محتاج ہوگئے ہیں اس سے ہمارے دل مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ ہم اپنی آنکھوں سے اپنی روزیاں آسمان سے اترتی خود دیکھ لیں گے، اسی طرح آپ پر جو ایمان ہے وہ بھی بڑھ جائے گا، آپ کی رسالت کو یوں تو ہم مانتے ہی ہیں لیکن یہ دیکھ کر ہمارا یقین اور بڑھ جائے گا اور اس پر خود ہم گواہ بن جائیں گے، اللہ کی قدرت اور آپ کے معجزہ کی یہ ایک روشن دلیل ہوگی جس کی شہادت ہم خود دیں گے اور یہ آپ کی نبوت کی کافی دلیل ہوگی، اب حضرت عیسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، عید ہونے سے مراد تو عید کا دن یا نماز گزار نے کا دن ہونا ہے یا اپنے بعد والوں کے لئے یادگار کا دن ہونا ہے یا اپنی اور اپنے بعد کی نسلوں کیلئے نصیحت و عبرت ہونا ہے یا اگلوں پچھلوں کے لئے کافی وافی ہونا ہے، حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں یا اللہ یہ تیری قدرت کی ایک نشانی ہوگی اور میری سچائی کی بھی کہ تو نے میری دعا قبول فرما لی، پس لوگوں تک ان باتوں کو جو تیرے نام سے ہیں انہیں پہنچاؤں گا یقین کرلیا کریں گے، یا اللہ تو ہمیں یہ روزی بغیر مشقت و تکلیف کے محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرما تو تو بہترین رازق ہے، اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اس کے اترنے کے بعد تم میں سے جو کوئی بھی جھٹلائے گا اور کفر کرے گا تو میں اسے وہ عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تم سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب دوں گا جو تمہارے زمانے میں کسی اور کو نہ دیا ہو، جیسے آل فرعون کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ تمہیں سخت تر عذاب میں داخل ہوجاؤ، اور جیسے منافقوں کے لئے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ قیامت کے دن بدترین عذاب تین قسم کے لوگوں کو ہوگا، منافقوں کو اور مائدہ آسمانی کے بعد انکار کرنے والوں کو اور فرعونیوں کو، اب ان روایات کو سنیئے جو اس بارے میں سلف سے مروی ہے، ابن عباس فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے نبی اسرائیل سے فرمایا کہ تم اللہ کے لئے ایک مہینے کے روزے رکھو پھر رب سے دعا کرو وہ قبول فرمائے گا انہوں نے تیس روزے پورے کر کے کہا اے بھلائیوں کے بتانے والے ہم اگر کسی کا کام ایک ماہ کامل کرتے تو وہ بعد فراغت ضرور ہماری دعوت کرتا تو آپ بھی اللہ سے بھرے ہوئے خوان کے آسمان سے اترنے کی دعا کیجئے حضرت عیسیٰ نے پہلے تو انہیں سمجھایا لیکن ان کی نیک نیتی کے اظہار پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ساتھ ہی دھمکا بھی دیا پھر فرشتوں کے ہاتھوں آسمان سے خوان نعمت اتارا، جس پر سات مچھلیاں تھیں سات روٹیاں تھیں، جہاں یہ تھے وہیں وہ ان کے کھانے کو رکھ گئے سب بیٹھ گئے اور شکم سیر ہو کر اٹھے، ابن ابی حاتم کی ایک مر فوع حدیث میں ہے کہ اس مائدہ آسمانی میں گوشت روٹی اترا تھا حکم تھا کہ خیانت نہ کریں کل کے لئے نہ لے جائیں لیکن انہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی، لے بھی گئے اور چرا بھی لیا، جس کی سزا میں وہ بندر بن گئے حضرت عمار فرماتے ہیں اس میں جنت کے میوے تھے، آپ فرماتے ہیں اگر وہ لوگ خیانت اور ذخیرہ نہ کرتے تو وہ خوان یوں ہی رہتا لیکن شام ہونے سے پہلے ہی انہوں نے چوریاں شروع کردیں، پھر سخت عذاب کئے گئے، اے عرب بھائیو ! یاد کرو تم اونٹوں اور بکریوں کی دمیں مروڑ تے تھے، اللہ نے تم پر احسان کیا خود تم ہی میں سے رسول کو بھیجا جن سے تم واقف تھے جن کے حسب و نسب سے تم آگاہ تھے، اس رسول علیہ سلام نے تمہیں بتادیا کہ عجمیوں کے ملک تمہارے ہاتھوں فتح ہوں گے لیکن خبردار تم سونے چاندی کے خزانوں کے درپے نہ ہوجانا لیکن واللہ دن رات وہی ہیں اور تم وہ نہ رہے، تم نے خزانے جمع کرنے شروع کردیئے، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب برس نہ پرے، اسحاق بن عبداللہ فرماتے ہیں جن لوگوں نے مائدہ آسمانی میں سے چرایا ان کا خیال ہے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ختم ہوجائے اور کل کے لئے ہمارے پاس کچھ نہ رہے، مجاہدہ سے مروی ہے کہ جب وہ اتر تے ان پر مائدہ اترتا عطیہ فرماتے ہیں گو وہ تھی تو مچھلی لیکن اس میں ذائقہ ہر چیز کا تھا، وہب بن منبہ فرماتے ہیں ہر دن اس مائدہ پر آسمان سے میوے اتر تے تھے قسم قسم کی روزیاں کھاتے تھے، چار ہزار آدمی ایک وقت اس پر بیٹھ جاتے پھر اللہ کی طرف سے غذا تبدیل ہوجاتی یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس پر روٹیاں جو کی تھیں، سعید بن جیبر فرماتے ہیں اس پر سوائے گوشت کے تمام چیزیں تھیں۔ عکرمہ فرماتے ہیں اس پر چاول کی روٹی تھی، حضرت وہب فرماتے ہیں کہ ان کے اس سوال پر حضرت عیسیٰ بہت رنجیدہ ہوئے تھے اور فرمایا تھا کہ زمین کے رزق پر قناعت کرو اور آسمانی دستر خوان نہ مانگو اگر وہ اترا تو چونکہ زبردست نشان ہوگا اگر ناقدری کی تو بری طرح پکڑے جاؤ گے۔ ثمودیوں کی ہلاکت کا باعث بھی یہی ہوا کہ انہوں نے اپنے نبی سے نشان طلب کیا تھا لیکن حواریوں نے حضرت عیسیٰ کی ایک نہ مانی اور اصرار کیا کہ نہیں آپ ضرور دعا کیجئے اب جناب عیسیٰ اٹھے، صوف کا جبہ اتار دیا، سیاہ بالوں کا لبادہ پہن لیا اور چادر بھی بالوں کی اوڑھ لی، وضو کر کے غسل کر کے، مسجد میں جا کر نماز پڑھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے، دونوں پیر ملائے، ایک پنڈلی دوسری پنڈالی سے لگا لی، انگلیاں بھی ملا لیں، اپنے سینے پر اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، نگاہیں زمین میں گاڑ لیں سر جھکا دیا اور نہایت خشوع و خضوع سے عاجزانہ طور پر گریہ وزاری شروع کردی، آنسو رخساروں سے بہ کر داڑھی کو تر کر کے زمین پر ٹپکنے لگے یہاں تک کہ زمین بھی تر ہوگئی، اب دعا کی جس کا بیان اس آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ایک سرخ رنگ کا خوان دو بادلوں کے درمیان آسمان سے اترا، جسے اتر تے ہوئے سب نے دیکھا، سب تو خوشیاں ما رہے تھے لیکن روح اللہ کانپ رہے تھے، رنگ اڑ گیا تھا اور زار و قطار رو رہے تھے کہ اللہ ہی خیر کرے، ذرا بےادبی ہوئی تو مارے گئے زبان مبارک سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ اسے تو رحمت کا سبب بنا عذاب کا سب نہ بنا، یا اللہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں میں نے تجھ سے طلب کیں اور تو نے عطا فرمائیں، باری تعالیٰ تو ان نعمتوں کے شکر کی ہمیں تو فیق عطا فرما، اے پروردگار تو اپنی اس نعمت کو ہمارے لئے سبب غضب نہ بنا، الٰہی تو اسے سلامتی اور عافیت کر، اسے فتنہ اور عذاب نہ کر، یہاں تک کہ وہ خوان زمین تک پہنچ گیا اور حضرت عیسیٰ حواری اور عیسائیوں کے سامنے رکھ دیا گیا، اس میں سے ایسی پاکیزہ خوشبوئیں آرہی تھیں کہ کسی دماغ میں ایسی خوشبو اس سے پہلے کبھی نہیں آئی تھی، حضرت عیسیٰ اور آپ کے اصحاب اسے دیکھ کر سجدے میں گرپڑے یہودی بھی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور جل بھن رہے تھے، حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اس دسترخوان کے اردگرد بیٹھ گئے دیکھا کہ اس پر ایک رومال ڈھکا ہوا ہے، مسیح ؑ نے فرمایا کون نیک بخت جرات و ہمت کر کے اسے کھولتا ہے ؟ حواریوں نے کہا اے کلمتہ اللہ آپ سے زیادہ حقدار اس کا کون ہے ؟ یہ سن کر حضرت عیسیٰ کھڑے ہوئے، نئے سرے سے وضو کیا، مسجد میں جا کر کئی رکعت نماز ادا کی دیر تک روتے رہے پھر دعا کی کہ یا اللہ اس کے کھولنے کی اجازت مرحمت ہو اور اسے برکت و رزق بنادیا جائے، پھر واپس آئے اور بسم اللہ خیر الرازقین کہہ کر رومال اٹھایا، تو سب نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی لمبی چوڑی اور موٹی بھنی ہوئی مچھلی ہے، جس کے اوپر چھلکا نہیں اور جس میں کانٹے نہیں، گھی اس میں سے بہ رہا ہے اسی میں ہر قسم کی سبزیاں بھی ہیں، سوائے گندنا اور مولی کے اس کے سر کے پاس سرکہ رکھا ہوا ہے اور دم کے پاس نمک ہے، سبزیوں کے پاس پانچ روٹیاں ہیں، ایک پر زیتون کا تیل ہے دوسری پر کھجوریں ہیں اور ایک پر پانچ انار ہیں، شمعون نے جو حواریوں کے سردار تھے کہا کہ اے روح اللہ یہ دنیا کا کھانا ہے یا جنت کا ؟ آپ نے فرمایا ابھی تک تمہارے سوال ختم نہیں ہوئے ؟ ابھی تک کریدنا باقی ہی ہے ؟ واللہ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں اس پر تمہیں کوئی عذاب نہ ہو، حضرت شمعون نے کہا اسرائیل کے معبود برحق کی قسم میں کسی سرکشی کی بنا پر نہیں پوچھ رہا، اے سچی ماں کے اچھے بیٹے ! یقین ما نئے کہ میری نیت بد نہیں، آپ نے فرمایا نہ یہ طعام دنیا ہے نہ طعام جنت بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص حکم سے اسے آسمان و زمین کے درمیان اسی طرح کا پیدا کردیا ہے اور تمہارے پاس بھیج دیا ہے، اب اللہ کا نام لے کر کھاؤ اور کھا کر اس کا شکر ادا کرو شکر گزاروں کو وہ زیادہ دیتا ہے اور وہ ابتداء پیدا کرنے والا قادر اور قدر دان ہے، شمعون نے کہا اے نبی اللہ ہم چاہتے ہیں کہ اس نشان قدرت میں ہی اور نشان قدرت دیکھیں۔ آپ نے فرمایا سبحان اللہ گویا ابھی تم نے کوئی نشان قدرت دیکھا ہی نہیں ؟ اچھا لو دیکھو یہ کہہ کر آپ نے اس مچھلی سے فرمایا اے مچھلی اللہ کے حکم سے جیسی تو زندہ تھی، زندہ ہوجا، اسی وقت اللہ کی قدرت سے وہ زندہ ہوگئی اور ہل جل کر چلنے پھرنے لگی، آنکھیں چمکنے لگیں، دیدے کھل گئے اور شیر کی طرح منہ پھاڑ نے لگی اور اس کے جسم پر کھپرے بھی آگئے، یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین ڈر گئے اور ادھر ادھر ہٹنے اور دبکنے لگے، آپ نے فرمایا دیکھو تو خود ہی نشان طلب کرتے ہو خود ہی اسے دیکھ کر گھبراتے ہو واللہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ یہ مائدہ آسمانی تمہارے لئے غضب اللہ کا نمونہ نہ بن جائے، اسے مچھلی تو بحکم الٰہی جیسی تھی، ویسی ہی ہوجا، چناچہ اسی وقت وہ ویسی ہی ہوگئی، اب سب نے کہا کہ اے نبی اللہ آپ اسے کھانا شروع کیجئے اگر آپ کو کوئی برائی نہ پہنچے تو ہم بھی کھا لیں گے، آپ نے فرمایا معاذ اللہ وہی پہلے کھائے جس نے مانگی ہے، اب تو سب کے دلوں میں دہشت بیٹھ گئی کہ کہیں اس کے کھانے سے کسی وبال میں نہ پڑجائیں، حضرت عیسیٰ السلام نے یہ دیکھ کر فقیروں کو مسکینوں کو اور بیماروں کو بلا لیا اور حکم یا کہ تم کھانا شروع کردو یہ تمہارے رب کی دی ہوئی روزی ہے جو تماہرے نبی کی دعا سے اتری ہے، اللہ کا شکر کر کے کھاؤ تہیں مبارک ہو اس کی پکڑ اوروں پر ہوگی تم بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو اور الحمد اللہ پر ختم کرو، پس تیرہ سو آدمیوں نے بیٹھ کر پیٹ بھر کر کھانا کھایا لیکن وہ کھانا مطلقاً کم نہیں ہوا تھا پھر سب نے دیکھا وہ دستر خوان آسمان پر چڑھ گیا وہ کل فقیر غنی ہوگئے وہ تمام بیمار تندرست ہوگئے اور ہمیشہ تک امیری اور صحت والے رہے، حواری اور صحابی سب کے سب بڑے ہی نادم ہوئے اور مرتے دم تک حسرت و افسوس کرتے رہے، آپ فرماتے ہیں اس کے بعد جب یہ دستر خوان اترتا تو بنی اسرائیل ادھر ادھر سے دوڑے بھاگے آتے کیا چھوٹا، کیا بڑا، کیا امیر، فقیر تندرست کیا مریض ایک بھیڑ لگ جاتی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے آتے، یہ دیکھ کر باری مقرر ہوگئی ایک دن اترتا ایک دن نہ اترتا، چالیس دن تک یہی کیفیت رہی کہ دن چڑھے اترتا اور ان کے سونے کے وقت چڑھ جاتا جس کا سایہ سب دیکھتے رہتے۔ اس کے بعد فرمان ہوا کہ اب اس میں صرف یتیم فقیر اور بیمار لوگ ہی کھائیں، مالداروں نے اس سے بہت برا مانا اور لگے باتیں بنانے، خود بھی شک میں پڑگئے اور لوگوں کے دلوں میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈالنے لگے یہاں تک حضرت عیسیٰ کے پاس آ کر کہنے لگے کہ آپ سچ سچ بتائیے کہ کیا واقعی یہ آسمان سے ہی اترتا ہے ؟ سنئے ہم میں سے بہت سے لوگ اس میں متردد ہیں۔ جناب مسیح ؑ سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے قسم ہے مسیح کے رب کی اب تمہاری ہلاکت کا وقت آگیا، تم نے خود طلب کیا، تمہارے نبی کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی آسمانی دستر خوان تم پر اترا، تم نے آنکھوں سے اسے اترتے دیکھا، رب کی رحمت و روزی اور برکت تم پر نازل ہوئی، بڑی عبرت و نصیحت کی نشانی تم نے دیکھ لی آہ اب تک تمہارے دلوں کی کمزوری نہ گئی اور تمہاری زبانیں نہ رکیں، مجھے تو ڈر ہے کہ اگر رب نے تم پر رحم نہ کیا تو عنقریب تم بدترین عذابوں کے شکار ہوجاؤ گے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور نبی حضرت عیسیٰ ؑ پر وحی نازل فرمائی کہ جس طرح میں نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ میں ان لوگوں کو وہ عبرتناک سزائیں دوں گا جو کسی کو نہ دی ہو۔ دن غروب ہوا اور یہ بےادب، گستاخ، جھٹلانے والے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے اپنے اپنے بستروں پر جا لیٹے نہایت امن وامان سے ہمیشہ کی طرح اپنے بال بچوں کے ساتھ میٹھی نیند میں تھے کہ پچھلی رات عذاب الٰہی آگیا اور جتنے بھی یہ لوگ تھے سب کے سب سور بنا دیئے گئے جو صبح کے وقت پا خانوں کی پلیدی کھا رہے تھے، یہ اثر بہت غریب ہے، ابن ابی حاتم میں قصہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے منقول ہے لیکن میں نے اسے پورا بیان کردیا ہے تاکہ سمجھ آجائے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اغلم۔ بہر صورت ان تمام آثار سے صاف ظاہر ہے کہ جناب مسیح ؑ کے زمانے میں بنو اسرائیل کی طلب پر آپ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے یہ دستر خوان نازل فرمایا۔ یہی قرآن عظیم کے الفاظ سے ظاہر ہے۔ بعض کا یہ بھی قول ہے کہ یہ مائدہ اترا ہی نہ تھا یہ صرف بطور مثال کے بیان فرما دیا ہے۔ چناچہ حضرت مجاہد سے منقول ہے کہ جب عذاب کی دھمکی سنی تو خاموش ہوگئے اور مطالبہ سے دستبردار ہوگئے۔ حسن کا قول بھی یہی ہے اس قول کی تائید اس سے بھی ہوسکتی ہے کہ نصرانیوں کی کتب میں اس کا ذکر نہیں۔ اتنے بڑے اہم واقع کا ان کی کتابوں میں مطلق نہ پایا جانا حضرت حسن اور حضرت مجاہد کے اس قول کو قوی بناتا ہے اور اس کی سند بھی ان دونوں بزرگوں تک صحت کے ساتھ پہنچتی ہے واللہ اعلم۔ لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا امام ابن جریر کا مختار مذہب بھی یہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ فرمان ربی آیت (اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ) 5۔ المائدہ :115) میں وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں صحیح اور حقیقی علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن زیادہ ٹھیک قول یہی ہے جیسے کہ سلف کے آثار و اقوال سے ظاہر ہے۔ تاریخ میں بھی اتنا تو ہے کہ بنی امیہ کے نائب موسیٰ بن نصیر نے مغربی شہروں کی فتح کے موقعہ پر وہیں یہ مائدہ پایا تھا اور اسے امیر المومنین ولید بن عبد الملک کی خدمت میں جو بانی جامع دمشق ہیں بھیجا تھا لیکن ابھی قاصد راستے ہی میں تھے کہ خلیفۃ المسلمین کا انتقال ہوگیا۔ آپ کے بعد آپ کے بھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ ہوئے اور ان کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا یہ ہر قسم کے جڑاؤ اور جواہر سے مرصع تھا جسے دیکھ کر بادشاہ اور درباری سب دنگ رہ گئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مائدہ حضرت سلیمان بن داؤد ؑ کا تھا واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے کہ قریشیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے، آپ نے فرمایا بالکل سچا وعدہ ہے، انہوں نے کہا نہایت پختہ اور بالکل سچا۔ آپ نے دعا کی اسی وقت حضرت جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو میں کوہ صفا کو سونے کا بنا دیتا ہوں لیکن اگر پھر ان لوگوں نے کفر کیا تو میں انہیں وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دیا ہو اس پر بھی اگر آپ کا ارادہ ہو تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دوں۔ آپ نے فرمایا یا اللہ معاف فرما، توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دے، یہ حدیث ابن مردویہ اور مستدرک حاکم میں بھی ہے۔
وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
📘 روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کرے گا کہ کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے ؟ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ) 5۔ المائدہ :119) سے استدلال کرتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر ؒ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان دنیا پر چڑھا لیا تھا، اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ کلام لفظ ماضی کے ساتھ ہے، دوسری دلیل آیت (ان تعذبھم) ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں ٹھیک نہیں، پہلی دلیل کا جواب تو یہ ہے کہ بہت سے امور جو قیامت کے دن ہونے والے ہیں ان کا ذکر قرآن کریم میں لفط ماضی کے ساتھ موجود ہے، اس سے مقصود صرف اسی قدر ہے کہ وقوع اور ثبوت بخوبی ثابت ہوجائے، دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس سے مقصود جناب مسیح ؑ کا یہ ہے کہ ان سے اپنی برات ظاہر کردیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں، اسے شرط کے ساتھ معلق رکھنے سے اس کا وقوع لازم نہیں جیسے کہ اسی جگہ اور آیتوں میں ہے، زیادہ ظاہر وہی تفسیر ہے جو حضرت قتادہ وغیرہ سے مروی ہے اور جو اوپر گزر چکی ہے یعنی یہ کہ یہ گفتگو اور یہ سوال جواب قیامت کے دن ہوں گے تاکہ سب کے سامنے نصرانیوں کی ذلت اور ان پر ڈانٹ ڈپٹ ہو چناچہ ایک مرفوع غریب و عزیز حدیث میں بھی مروی ہے، جسے حافظ ابن عساکر ؒ ابو عبداللہ مولی عمر بن عبدالعزیز کے حالات میں لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی امتوں سمیت اللہ کے سامنے بلوائے جائیں گے پھر حضرت عیسیٰ بلوائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے احسان انہیں جتلائے گا جن کا وہ اقرار کریں گے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ جو احسان میں نے تجھ پر اور تیری والدہ پر کئے، انہیں یاد کر، پھر فرمائے گا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو الہ سمجھنا، آپ اس کا بالکل انکار کریں گے، پھر نصرانیوں کو بلا کر ان سے دریافت فرمائے گا تو وہ کہیں گے، ہاں انہوں نے ہی ہمیں اس راہ پر ڈالا تھا اور ہمیں یہی حکم دیا تھا، اسی لیے حضرت عیسیٰ کے سارے بدن کے بال کھڑے ہوجائیں گے، جنہیں لے کر فرشتے اللہ کے سامنے جھکا دیں گے بہ مقدار ایک ہزار سال کے یہاں تک کہ عیسائیوں پر حجت قائم ہوجائے گی، اب ان کے سامنے صلیب کھڑی کی جائے گی اور انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچا دیا جائے گا، جناب عیسیٰ کے جواب کو دیکھئے کہ کس قدر باادب اور کامل ہے ؟ دراصل یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے، آپ کو اسی وقت یہ جواب سکھایا جائے گا جیسے کہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ آپ فرمائیں گے کہ باری تعالیٰ نے مجھے ایسی بات کہنے کا حق تھا نہ میں نے کہا، تجھ سے نہ میری کوئی بات پوشیدہ ہے نہ میرا کوئی ارادہ چھپا ہوا ہے، دلی راز تجھ پر ظاہر ہیں، ہاں تیرے بھید کسی نے نہیں پائے تمام ڈھکی چھپی باتیں تجھ پر کھلی ہوئی ہیں غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے، جس تبلیغ پر میں مامور اور مقرر تھا میں نے تو وہی تبیلغ کی تھی جو کچھ مجھ سے اے جناب باری تو نے ارشاد فرمایا تھا وہی بلا کم وکاست میں نے ان سے کہہ دیا تھا۔ جا کا ما حصل یہ ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، وہی میرا رب ہے اور وہی تم سب کا پالنہار ہے، جب میں ان میں موجود تھا ان کے اعمال دیھکتا بھالتا تھا لیکن جب تو نے مجھے بلا لیا پھر تو تو ہی دیکھتا بھالتا رہا اور تو تو ہر چیز پر شاہد ہے، ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا اے لوگو تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بےختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا، پس فرمایا جائیگا کہ آپ کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے۔ اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اسکی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے باز پرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلندو برتر ہے۔ اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی ﷺ اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے، چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے صبح کو حضرت ابوذر ؓ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی، آپ نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفات کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہوگی، انشاء اللہ تعالیٰ ، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے حضرت جرہ بنت دجاجہ عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتنی ہیں تو حضرت ابوذر ؓ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ نماز میں مشغول ہیں تو آپ اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ چلے گئے تو آپ واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہوگئے میں بھی آگیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا تو آپ نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آگیا، پھر حضرت ابن مسعود ؓ آئے اور وہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چناچہ وہ آ کر بائیں جانب کھڑے ہوگئے، اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کر رہے تھے اورحضور ﷺ کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، بار بار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے حضرت ابن مسعود سے کہا کہ ذرا حضور سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا اگر حضور خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھو گا، اب میں نے خود ہی جرات کر کے آپ سے دریافت کیا کہ حضور پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ پر اترا ہے اور آپ کے سینے میں ہے پھر آپ نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی ؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا، آپ نے فرمایا اپنی امت کے لئے دعا کر رہا تھا، میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا ؟ آپ نے فرمایا اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوش خبری پہنچا دوں ؟ آپ نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ اگر یہ خبر آپ نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بےپرواہ نہ ہوجائیں تو آپ نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت (ان تعذبھم) الخ، تھی ابن ابی حاتم میں ہے حضور نے حضرت عیسیٰ کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے میرے رب میری امت اور آپ رونے لگے، اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں ؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، حضرت جبرائیل ؑ آئے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اپنی امت کے لئے ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے، مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ فرماتے ہیں ایک روز رسول ﷺ ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ تسریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گرپڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ کی روح پرواز نہ کرگئی ہو ؟ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا اے نبی میں آپ کو آپ کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا، سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لئے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے، چناچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہوگی اور نہ سب کے سب مغلوب ہوجائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لئے غنیمت کا مال حلال طیب کردیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی۔
مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
📘 روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کرے گا کہ کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے ؟ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ) 5۔ المائدہ :119) سے استدلال کرتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر ؒ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان دنیا پر چڑھا لیا تھا، اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ کلام لفظ ماضی کے ساتھ ہے، دوسری دلیل آیت (ان تعذبھم) ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں ٹھیک نہیں، پہلی دلیل کا جواب تو یہ ہے کہ بہت سے امور جو قیامت کے دن ہونے والے ہیں ان کا ذکر قرآن کریم میں لفط ماضی کے ساتھ موجود ہے، اس سے مقصود صرف اسی قدر ہے کہ وقوع اور ثبوت بخوبی ثابت ہوجائے، دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس سے مقصود جناب مسیح ؑ کا یہ ہے کہ ان سے اپنی برات ظاہر کردیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں، اسے شرط کے ساتھ معلق رکھنے سے اس کا وقوع لازم نہیں جیسے کہ اسی جگہ اور آیتوں میں ہے، زیادہ ظاہر وہی تفسیر ہے جو حضرت قتادہ وغیرہ سے مروی ہے اور جو اوپر گزر چکی ہے یعنی یہ کہ یہ گفتگو اور یہ سوال جواب قیامت کے دن ہوں گے تاکہ سب کے سامنے نصرانیوں کی ذلت اور ان پر ڈانٹ ڈپٹ ہو چناچہ ایک مرفوع غریب و عزیز حدیث میں بھی مروی ہے، جسے حافظ ابن عساکر ؒ ابو عبداللہ مولی عمر بن عبدالعزیز کے حالات میں لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی امتوں سمیت اللہ کے سامنے بلوائے جائیں گے پھر حضرت عیسیٰ بلوائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے احسان انہیں جتلائے گا جن کا وہ اقرار کریں گے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ جو احسان میں نے تجھ پر اور تیری والدہ پر کئے، انہیں یاد کر، پھر فرمائے گا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو الہ سمجھنا، آپ اس کا بالکل انکار کریں گے، پھر نصرانیوں کو بلا کر ان سے دریافت فرمائے گا تو وہ کہیں گے، ہاں انہوں نے ہی ہمیں اس راہ پر ڈالا تھا اور ہمیں یہی حکم دیا تھا، اسی لیے حضرت عیسیٰ کے سارے بدن کے بال کھڑے ہوجائیں گے، جنہیں لے کر فرشتے اللہ کے سامنے جھکا دیں گے بہ مقدار ایک ہزار سال کے یہاں تک کہ عیسائیوں پر حجت قائم ہوجائے گی، اب ان کے سامنے صلیب کھڑی کی جائے گی اور انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچا دیا جائے گا، جناب عیسیٰ کے جواب کو دیکھئے کہ کس قدر باادب اور کامل ہے ؟ دراصل یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے، آپ کو اسی وقت یہ جواب سکھایا جائے گا جیسے کہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ آپ فرمائیں گے کہ باری تعالیٰ نے مجھے ایسی بات کہنے کا حق تھا نہ میں نے کہا، تجھ سے نہ میری کوئی بات پوشیدہ ہے نہ میرا کوئی ارادہ چھپا ہوا ہے، دلی راز تجھ پر ظاہر ہیں، ہاں تیرے بھید کسی نے نہیں پائے تمام ڈھکی چھپی باتیں تجھ پر کھلی ہوئی ہیں غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے، جس تبلیغ پر میں مامور اور مقرر تھا میں نے تو وہی تبیلغ کی تھی جو کچھ مجھ سے اے جناب باری تو نے ارشاد فرمایا تھا وہی بلا کم وکاست میں نے ان سے کہہ دیا تھا۔ جا کا ما حصل یہ ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، وہی میرا رب ہے اور وہی تم سب کا پالنہار ہے، جب میں ان میں موجود تھا ان کے اعمال دیھکتا بھالتا تھا لیکن جب تو نے مجھے بلا لیا پھر تو تو ہی دیکھتا بھالتا رہا اور تو تو ہر چیز پر شاہد ہے، ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا اے لوگو تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بےختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا، پس فرمایا جائیگا کہ آپ کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے۔ اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اسکی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے باز پرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلندو برتر ہے۔ اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی ﷺ اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے، چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے صبح کو حضرت ابوذر ؓ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی، آپ نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفات کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہوگی، انشاء اللہ تعالیٰ ، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے حضرت جرہ بنت دجاجہ عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتنی ہیں تو حضرت ابوذر ؓ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ نماز میں مشغول ہیں تو آپ اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ چلے گئے تو آپ واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہوگئے میں بھی آگیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا تو آپ نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آگیا، پھر حضرت ابن مسعود ؓ آئے اور وہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چناچہ وہ آ کر بائیں جانب کھڑے ہوگئے، اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کر رہے تھے اورحضور ﷺ کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، بار بار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے حضرت ابن مسعود سے کہا کہ ذرا حضور سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا اگر حضور خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھو گا، اب میں نے خود ہی جرات کر کے آپ سے دریافت کیا کہ حضور پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ پر اترا ہے اور آپ کے سینے میں ہے پھر آپ نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی ؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا، آپ نے فرمایا اپنی امت کے لئے دعا کر رہا تھا، میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا ؟ آپ نے فرمایا اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوش خبری پہنچا دوں ؟ آپ نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ اگر یہ خبر آپ نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بےپرواہ نہ ہوجائیں تو آپ نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت (ان تعذبھم) الخ، تھی ابن ابی حاتم میں ہے حضور نے حضرت عیسیٰ کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے میرے رب میری امت اور آپ رونے لگے، اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں ؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، حضرت جبرائیل ؑ آئے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اپنی امت کے لئے ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے، مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ فرماتے ہیں ایک روز رسول ﷺ ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ تسریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گرپڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ کی روح پرواز نہ کرگئی ہو ؟ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا اے نبی میں آپ کو آپ کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا، سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لئے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے، چناچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہوگی اور نہ سب کے سب مغلوب ہوجائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لئے غنیمت کا مال حلال طیب کردیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی۔
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
📘 روز قیامت نصاریٰ کی شرمندگی جن لوگوں نے مسیح پرستی یا مریم پرستی کی تھی، ان کی موجودگی میں قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ سے سوال کرے گا کہ کیا تم ان لوگوں سے اپنی اور اپنی والدہ کی پوجا پاٹ کرنے کو کہہ آئے تھے ؟ اس سوال سے مردود نصرانیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور ان پر غصے ہونا ہے تاکہ وہ تمام لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل و خوار ہوں۔ حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے اور اس پر وہ آیت (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ) 5۔ المائدہ :119) سے استدلال کرتے ہیں۔ سدی فرماتے ہیں یہ خطاب اور جواب دینا ہی کافی ہے، امام ابن جریر ؒ اس قول کو ٹھیک بتا کر فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان دنیا پر چڑھا لیا تھا، اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ کلام لفظ ماضی کے ساتھ ہے، دوسری دلیل آیت (ان تعذبھم) ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں ٹھیک نہیں، پہلی دلیل کا جواب تو یہ ہے کہ بہت سے امور جو قیامت کے دن ہونے والے ہیں ان کا ذکر قرآن کریم میں لفط ماضی کے ساتھ موجود ہے، اس سے مقصود صرف اسی قدر ہے کہ وقوع اور ثبوت بخوبی ثابت ہوجائے، دوسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس سے مقصود جناب مسیح ؑ کا یہ ہے کہ ان سے اپنی برات ظاہر کردیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں، اسے شرط کے ساتھ معلق رکھنے سے اس کا وقوع لازم نہیں جیسے کہ اسی جگہ اور آیتوں میں ہے، زیادہ ظاہر وہی تفسیر ہے جو حضرت قتادہ وغیرہ سے مروی ہے اور جو اوپر گزر چکی ہے یعنی یہ کہ یہ گفتگو اور یہ سوال جواب قیامت کے دن ہوں گے تاکہ سب کے سامنے نصرانیوں کی ذلت اور ان پر ڈانٹ ڈپٹ ہو چناچہ ایک مرفوع غریب و عزیز حدیث میں بھی مروی ہے، جسے حافظ ابن عساکر ؒ ابو عبداللہ مولی عمر بن عبدالعزیز کے حالات میں لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی امتوں سمیت اللہ کے سامنے بلوائے جائیں گے پھر حضرت عیسیٰ بلوائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے احسان انہیں جتلائے گا جن کا وہ اقرار کریں گے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ جو احسان میں نے تجھ پر اور تیری والدہ پر کئے، انہیں یاد کر، پھر فرمائے گا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو الہ سمجھنا، آپ اس کا بالکل انکار کریں گے، پھر نصرانیوں کو بلا کر ان سے دریافت فرمائے گا تو وہ کہیں گے، ہاں انہوں نے ہی ہمیں اس راہ پر ڈالا تھا اور ہمیں یہی حکم دیا تھا، اسی لیے حضرت عیسیٰ کے سارے بدن کے بال کھڑے ہوجائیں گے، جنہیں لے کر فرشتے اللہ کے سامنے جھکا دیں گے بہ مقدار ایک ہزار سال کے یہاں تک کہ عیسائیوں پر حجت قائم ہوجائے گی، اب ان کے سامنے صلیب کھڑی کی جائے گی اور انہیں دھکے دے کر جہنم میں پہنچا دیا جائے گا، جناب عیسیٰ کے جواب کو دیکھئے کہ کس قدر باادب اور کامل ہے ؟ دراصل یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے، آپ کو اسی وقت یہ جواب سکھایا جائے گا جیسے کہ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ آپ فرمائیں گے کہ باری تعالیٰ نے مجھے ایسی بات کہنے کا حق تھا نہ میں نے کہا، تجھ سے نہ میری کوئی بات پوشیدہ ہے نہ میرا کوئی ارادہ چھپا ہوا ہے، دلی راز تجھ پر ظاہر ہیں، ہاں تیرے بھید کسی نے نہیں پائے تمام ڈھکی چھپی باتیں تجھ پر کھلی ہوئی ہیں غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے، جس تبلیغ پر میں مامور اور مقرر تھا میں نے تو وہی تبیلغ کی تھی جو کچھ مجھ سے اے جناب باری تو نے ارشاد فرمایا تھا وہی بلا کم وکاست میں نے ان سے کہہ دیا تھا۔ جا کا ما حصل یہ ہے کہ صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرو، وہی میرا رب ہے اور وہی تم سب کا پالنہار ہے، جب میں ان میں موجود تھا ان کے اعمال دیھکتا بھالتا تھا لیکن جب تو نے مجھے بلا لیا پھر تو تو ہی دیکھتا بھالتا رہا اور تو تو ہر چیز پر شاہد ہے، ابو داؤد طیالسی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک واعظ میں فرمایا اے لوگو تم سب اللہ عز و جل کے سامنے ننگے پیر، ننگے بدن، بےختنہ جمع ہونے والے ہو، جیسے کہ ہم نے شروع پیدائش کی تھی ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے، سب سے پہلے خلیل اللہ حضرت ابراہیم ؑ کو کپڑے پہنائے جائیں گے سنو کچھ لوگ میری امت کے ایسے لائے جائیں گے جنہیں بائیں جانب گھسیٹ لیا جائے گا تو میں کہوں گا یہ تو میرے ہیں، کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا کیا گل کھلائے تھے، تو میں وہی کہوں گا جو اللہ کے صالح بندے کا قول ہے کہ جب تک میں ان میں رہا، ان کے اعمال پر شاہد تھا، پس فرمایا جائیگا کہ آپ کے بعد یہ تو دین سے مرتد ہی ہوتے رہے۔ اس کے بعد کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ کی چاہت اور اسکی مرضی کی طرف کاموں کو لوٹانا ہے، وہ جو کچھ چاہے کرتا ہے اس سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرسکتا اور وہ ہر ایک سے باز پرس کرتا ہے، ساتھ ہی اس مقولے میں جناب مسیح کی بیزاری ہے، ان نصرانیوں سے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر بہتان باندھتے تھے اور اللہ کا شریک ٹھہراے تھے اور اس کی اولاد اور بیوی بتاتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کی ان تہمتوں سے پاک ہے اور وہ بلندو برتر ہے۔ اس عظیم الشان آیت کی عظمت کا اظہار اس حدیث سے ہوتا ہے، جس میں ہے کہ پوری ایک رات اللہ کے نبی ﷺ اسی ایک آیت کی تلاوت فرماتے رہے، چناچہ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت فرماتے رہے، اسی کو رکوع میں اور اسی کو سجدے میں پڑھتے رہے، وہ آیت یہی ہے صبح کو حضرت ابوذر ؓ نے کہا یا رسول اللہ آج کی رات تو آپ نے اسی ایک آیت میں گزاری رکوع میں بھی اس کی تلاوت رہی اور سجدے میں بھی، آپ نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کی شفات کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرما لیا، پس میری یہ شفاعت ہر موحد شخص کیلئے ہوگی، انشاء اللہ تعالیٰ ، مسند احمد کی اور حدیث میں ہے حضرت جرہ بنت دجاجہ عمرے کے ارادے سے جاتی ہیں جب ربذہ میں پہنچتنی ہیں تو حضرت ابوذر ؓ سے حدیث سنتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھائی، فرضوں کے بعد دیکھا کہ صحابہ نماز میں مشغول ہیں تو آپ اپنے خیمے کی طرف تشریف لے گئے، جب جگہ خالی ہوگئی اور صحابہ چلے گئے تو آپ واپس تشریف لائے اور نماز میں کھڑے ہوگئے میں بھی آگیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا تو آپ نے اپنی دائیں طرف کھڑا ہونے کا مجھے اشارہ کیا، میں دائیں جانب آگیا، پھر حضرت ابن مسعود ؓ آئے اور وہ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے تو آپ نے اپنی بائیں طرف کھڑے ہونے کا اشارہ کیا چناچہ وہ آ کر بائیں جانب کھڑے ہوگئے، اب ہم تینوں نے اپنی اپنی نماز شروع کی الگ الگ تلاوت قرآن اپنی نماز میں کر رہے تھے اورحضور ﷺ کی زبان مبارک پر ایک ہی آیت تھی، بار بار اسی کو پڑھ رہے تھے، جب صبح ہوئی تو میں نے حضرت ابن مسعود سے کہا کہ ذرا حضور سے دریافت تو کرو کہ رات کو ایک ہی آیت کے پڑھنے کی کیا وجہ تھی ؟ انہوں نے کہا اگر حضور خود کچھ فرمائیں تو اور بات ہے ورنہ میں تو کچھ بھی نہ پوچھو گا، اب میں نے خود ہی جرات کر کے آپ سے دریافت کیا کہ حضور پر میرے ماں باپ فدا ہوں، سارا قرآن تو آپ پر اترا ہے اور آپ کے سینے میں ہے پھر آپ نے ایک ہی آیت میں ساری رات کیسے گزار دی ؟ اگر کوئی اور ایسا کرتا تو ہمیں تو بہت برا معلوم ہوتا، آپ نے فرمایا اپنی امت کے لئے دعا کر رہا تھا، میں نے پوچھا پھر کیا جواب ملا ؟ آپ نے فرمایا اتنا اچھا، ایسا پیارا، اس قدر آسانی والا کہ اگر عام لوگ سن لیں تو ڈر ہے کہ کہیں نماز بھی نہ چھوڑ بیٹھیں، میں نے کہا مجھے اجازت ہے کہ میں لوگوں میں یہ خوش خبری پہنچا دوں ؟ آپ نے اجازت دی، میں ابھی کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ اگر یہ خبر آپ نے عام طور پر کرا دی تو ڈر ہے کہ کہیں لوگ عبادت سے بےپرواہ نہ ہوجائیں تو آپ نے آواز دی کہ لوٹ آئے اور وہ آیت (ان تعذبھم) الخ، تھی ابن ابی حاتم میں ہے حضور نے حضرت عیسیٰ کے اس قول کی تلاوت کی پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے میرے رب میری امت اور آپ رونے لگے، اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جا کر پوچھو کہ کیوں رو رہے ہیں ؟ حالانکہ اللہ کو سب کچھ معلوم ہے، حضرت جبرائیل ؑ آئے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اپنی امت کے لئے ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا جاؤ کہہ دو کہ ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور آپ بالکل رنجیدہ نہ ہوں گے، مسند احمد میں ہے حضرت حذیفہ فرماتے ہیں ایک روز رسول ﷺ ہمارے پاس آئے ہی نہیں یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آج آپ آئیں گے ہی نہیں، پھر آپ تسریف لائے اور آتے ہی سجدے میں گرپڑے اتنی دیر لگ گئی کہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ کی روح پرواز نہ کرگئی ہو ؟ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھایا اور فرمانے لگے مجھ سے میرے رب عزوجل نے میری امت کے بارے میں دریافت فرمایا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کیا کہ باری تعالیٰ وہ تیری مخلوق ہے وہ سب تیرے بندے اور تیرے غلام ہیں تجھے اختیار ہے، پھر مجھ سے دوبارہ میرے اللہ نے دریافت فرمایا میں نے پھر بھی یہی جواب دیا تو مجھ سے اللہ عزوجل نے فرمایا اے نبی میں آپ کو آپ کی امت کے بارے میں کبھی شرمندہ نہ کروں گا، سنو مجھے میرے رب نے خوشخبری دی ہے کہ سب سے پہلے میری امت میں سے میرے ساتھ ستر ہزار شخص جنت میں جائیں گے، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے، ان سب پر حساب کتاب مطلقاً نہیں، پھر میری طرف پیغام بھیجا کہ میرے حبیب مجھ سے دعا کرو میں قبول فرماؤں گا مجھ سے مانگو میں دوں گا میں نے اس قاصد سے کہا کہ جو میں مانگوں مجھے ملے گا ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں اسی لئے تو مجھے اللہ نے بھیجا ہے، چناچہ میرے رب نے بہت کچھ عطا فرمایا، میں یہ سب کچھ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، مجھے میرے رب نے بالکل بخش دیا، اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے حالانکہ زندہ سلامت چل پھر رہا ہوں، مجھے میرے رب نے یہ بھی عطا فرمایا کہ میری تمام امت قحط سالی کی وجہ سے بھوک کے مارے ہلاک نہ ہوگی اور نہ سب کے سب مغلوب ہوجائیں گے، مجھے میرے رب نے حوص کوثر دیا ہے، وہ جنت کی ایک نہر ہے جو میرے حوض میں بہ رہی ہے، مجھے اس نے عزت، مدد اور رعب دیا ہے جو امتیوں کے آگے آگے مہینہ بھر کی راہ پر چلتا ہے، تمام نبیوں میں سب سے پہلے میں جنت ہی میں جاؤں گا، میرے اور میری امت کے لئے غنیمت کا مال حلال طیب کردیا گیا وہ سختیاں جو پہلوں پر تھیں ہم پر سے ہٹا دی گئیں اور ہمارے دین میں کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں رکھی گئی۔
قَالَ اللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
📘 موحدین کے لیے خوش خبریاں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہوگا، فی الواقع رب کی رضامندی زبر دست چیز ہے، ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضامندی کا اظہار کرے گا، پھر فرماتا ہے یہ ایسی بےمثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی، جیسے اور جگہ ہے اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیے اور آیت میں ہے رغبت کرنے والے اس کی رغبت کرلیں، پھر فرماتا ہے سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورة مائدہ اتری ہے۔ (الحمد اللہ سورة مائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)
۞ وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنْتُمْ بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
📘 عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کا جدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یا سخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشا بن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔ بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب آنحضرت ﷺ نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، حضرت سعد بنی خیشمہ اور حضرت رفاعہ بن عبد المنذر اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابو امامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی، حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے، آپ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے حضور ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا، بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی۔ یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں " میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہو لیں، پھر ایک لفظ حضور ﷺ نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے اب کونسا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے۔ " صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے درپے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔ پس چار خلفاء تو پے درپے حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں حضرت عمر بن عبد العزیز ہیں۔ بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے حضرت امام مہدی ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آچکی ہے ان کا نام حضور ﷺ کے نام پر ہوگا اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کا ہوگا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔ توراۃ میں حضرت اسمعیل کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔ اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا، لیکن اگر وہ اس عہد و پیما کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کردیا تو یقینا وہ حق سے دور ہوجائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چناچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی ﷺ اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔ پھر نبی ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے حضرت عمر فاروق سے مروی ہے کہ جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھچ آئیں، ہدایت نصیب ہوجائے اور حق کی طرف آجائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں " درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوب ہے۔ " پھر ارشاد ہوتا ہے کہ " ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ " لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بد عہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی۔ ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے " ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد واحد فرد و صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ہے۔
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 موحدین کے لیے خوش خبریاں حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہوگا، فی الواقع رب کی رضامندی زبر دست چیز ہے، ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضامندی کا اظہار کرے گا، پھر فرماتا ہے یہ ایسی بےمثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہوسکتی، جیسے اور جگہ ہے اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیے اور آیت میں ہے رغبت کرنے والے اس کی رغبت کرلیں، پھر فرماتا ہے سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورة مائدہ اتری ہے۔ (الحمد اللہ سورة مائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ ۙ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
📘 عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کا جدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یا سخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشا بن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔ بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب آنحضرت ﷺ نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، حضرت سعد بنی خیشمہ اور حضرت رفاعہ بن عبد المنذر اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابو امامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی، حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے، آپ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے حضور ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا، بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی۔ یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں " میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہو لیں، پھر ایک لفظ حضور ﷺ نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے اب کونسا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے۔ " صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے درپے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔ پس چار خلفاء تو پے درپے حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں حضرت عمر بن عبد العزیز ہیں۔ بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے حضرت امام مہدی ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آچکی ہے ان کا نام حضور ﷺ کے نام پر ہوگا اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کا ہوگا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔ توراۃ میں حضرت اسمعیل کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔ اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا، لیکن اگر وہ اس عہد و پیما کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کردیا تو یقینا وہ حق سے دور ہوجائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چناچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی ﷺ اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔ پھر نبی ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے حضرت عمر فاروق سے مروی ہے کہ جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھچ آئیں، ہدایت نصیب ہوجائے اور حق کی طرف آجائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں " درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوب ہے۔ " پھر ارشاد ہوتا ہے کہ " ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ " لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بد عہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی۔ ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے " ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد واحد فرد و صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ہے۔
وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
📘 عہد شکن لوگ ؟ اور امام مہدی کون ؟ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمانے کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔ ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کا جدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یا سخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشا بن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔ بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب آنحضرت ﷺ نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، حضرت سعد بنی خیشمہ اور حضرت رفاعہ بن عبد المنذر اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابو امامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان ﷺ سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی، حضرت مسروق فرماتے ہیں ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھے تھے، آپ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے حضور ﷺ سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے حضور ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ نے فرمایا، بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی۔ یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے، جابر بن سمرہ فرماتے ہیں " میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہو لیں، پھر ایک لفظ حضور ﷺ نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ حضور ﷺ نے اب کونسا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے۔ " صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے درپے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔ پس چار خلفاء تو پے درپے حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں حضرت عمر بن عبد العزیز ہیں۔ بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے حضرت امام مہدی ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آچکی ہے ان کا نام حضور ﷺ کے نام پر ہوگا اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے والد کا ہوگا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔ توراۃ میں حضرت اسمعیل کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔ اب اس عہد و پیمان کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے لیا تھا کہ وہ نمازیں پڑھتے رہیں، زکوٰۃ دیتے رہیں، اللہ کے رسولوں کی تصدیق کریں، ان کی نصرت و اعانت کریں اور اللہ کی مرضی کے کاموں میں اپنا مال خرچ کریں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ کی مدد و نصرت ان کے ساتھ رہے گی، ان کے گناہ معاف ہونگے اور یہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، مقصود حاصل ہوگا اور خوف زائل ہوگا، لیکن اگر وہ اس عہد و پیما کے بعد پھرگئے اور اسے غیر معروف کردیا تو یقینا وہ حق سے دور ہوجائیں گے، بھٹک اور بہک جائیں گے۔ چناچہ یہی ہوا کہ انہوں نے میثاق توڑ دیا، وعدہ خلافی کی تو ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی، ہدایت سے دور ہوگئے، ان کے دل سخت ہوگئے اور وعظ و پند سے مستفید نہ ہو سکے، سمجھ بگڑ گئی، اللہ کی باتوں میں ہیر پھیر کرنے لگے، باطل تاویلیں گھڑنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے، جو مراد حقیقی تھی، اس سے کلام اللہ کو پھیر کر اور ہی مطلب سمجھنے سمجھانے لگے، اللہ کا نام لے کر وہ مسائل بیان کرنے لگے جو اللہ کے بتائے ہوئے نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ کی کتاب ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی، وہ اس سے بےعمل چھوٹ جانے کی توجہ سے نہ تو دل ٹھیک رہے، نہ فطرت اچھی رہی۔ نہ خلوص و اخلاص رہا، غداری اور مکاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ نت نئے جال نبی ﷺ اصحاب نبی کے خلاف بنتے رہے۔ پھر نبی ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، یہی معاملہ ان کے ساتھ اچھا ہے، جیسے حضرت عمر فاروق سے مروی ہے کہ جو تجھ سے اللہ کے فرمان کے خلاف سلوک کرے تو اس سے حکم الٰہی کی بجا آوری کے ماتحت سلوک کر۔ اس میں ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے کہ ممکن ہے ان کے دل کھچ آئیں، ہدایت نصیب ہوجائے اور حق کی طرف آجائیں۔ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی دوسروں کی بدسلوکی سے چشم پوشی کر کے خود نیا سلوک کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں " درگزر کرنے کا حکم جہاد کی آیت سے منسوب ہے۔ " پھر ارشاد ہوتا ہے کہ " ان نصرانیوں سے بھی ہم نے وعدہ لیا تھا کہ جو رسول آئے گا، یہ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی مدد کرینگے اور اس کی باتیں مانیں گے۔ " لیکن انہوں نے بھی یہودیوں کی طرح بد عہدی کی، جس کی سزا میں ہم نے ان میں آپس میں عداوت ڈال دی جو قیامت تک جاری رہے گی۔ ان میں فرقے فرقے بن گئے جو ایک دوسرے کو کافر و ملعون کہتے ہیں اور اپنے عبادت خانوں میں بھی نہیں آنے دیتے " ملکیہ فرقہ یعقوبیہ فرقے کو، یعقوبیہ ملکیہ کو کھلے بندوں کافر کہتے ہیں، اسی طرح دوسرے تمام فرقے بھی، انہیں ان کے اعمال کی پوری تنبیہہ عنقریب ہوگی۔ انہوں نے بھی اللہ کی نصیحتوں کو بھلا دیا ہے اور اللہ پر تہمتیں لگائی ہیں اس پر بیوی اور اولاد والا ہونے کا بہتان باندھا ہے، یہ قیامت کے دن بری طرح پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ واحد واحد فرد و صمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد ہے۔
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ
📘 علمی بددیانت فرماتا ہے کہ رب العلی نے اپنے عالی قدر رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کر کے دوسرے مطلب بنا لئے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپالیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول ﷺ بےنقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے۔ مستدرک حاکم میں ہے " جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا " چناچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے، پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ " اسی نے اس نبی کریم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کرلینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہوگیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کردینے والی ہے۔ "
يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
📘 علمی بددیانت فرماتا ہے کہ رب العلی نے اپنے عالی قدر رسول حضرت محمد ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ تمام مخلوق کی طرف بھیج دیا ہے، معجزے اور روشن دلیلیں انہیں عطا فرمائی ہیں جو باتیں یہود و نصاریٰ نے بدل ڈالی تھیں، تاویلیں کر کے دوسرے مطلب بنا لئے تھے اور اللہ کی ذات پر بہتان باندھتے تھے، کتاب اللہ کے جو حصے اپنے نفس کے خلاف پاتے تھے، انہیں چھپالیتے تھے، ان سب علمی بد دیانتیوں کو یہ رسول ﷺ بےنقاب کرتے ہیں۔ ہاں جس کے بیان کی ضرورت ہی نہ ہو، بیان نہیں فرماتے۔ مستدرک حاکم میں ہے " جس نے رجم کے مسئلہ کا انکار کیا، اس نے بےعملی سے قرآن سے انکار کیا " چناچہ اس آیت میں اسی رجم کے چھپانے کا ذکر ہے، پھر قرآن عظیم کی بابت فرماتا ہے کہ " اسی نے اس نبی کریم پر اپنی یہ کتاب اتاری ہے، جو جویائے حق کو سلامتی کی راہ بتاتی ہے، لوگوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتی ہے اور راہ مستقیم کی رہبر ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے اللہ کے انعاموں کو حاصل کرلینا اور اس کی سزاؤں سے بچ جانا بالکل آسان ہوگیا ہے یہ ضلالت کو مٹا دینے والی اور ہدایت کو واضح کردینے والی ہے۔ "
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 اللہ وحدہ شریک ہے اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرسکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں۔ نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں، اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو کہا ہے (انت ابنی بکری) پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا (انی ذاھب الی ابی وابیکم) اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتارہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں حضرت عیسیٰ کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے ؟ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا ؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی، یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آرہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ نے کہا " حضور ﷺ یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی " آپ نے فرمایا " ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں لے جائیگا۔ " یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، " وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے " اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کریگا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا، نعمان بن آصا، بحربن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، حضور ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، حضرت آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کردی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلو نٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھاجائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا۔
وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ ۖ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
📘 اللہ وحدہ شریک ہے اللہ تبارک و تعالیٰ عیسائیوں کے کفر کو بیان فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کی مخلوق کو الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے، تمام چیزیں اس کی محکوم اور مقدور ہیں، ہر چیز پر اس کی حکومت اور ملکیت ہے۔ کوئی نہیں جو اسے کسی ارادے سے باز رکھ سکے، کوئی نہیں جو اس کی مرضی کے خلاف لب کشائی کی جرأت کرسکے۔ وہ اگر مسیح کو، ان کی والدہ کو اور روئے زمین کی تمام مخلوق کا موجد و خالق وہی ہے۔ سب کا مالک اور سب کا حکمراں وہی ہے۔ جو چاہے کر گزرے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں، اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا، اس کی سلطنت و مملکت بہت وسیع ہے، اس کی عظمت، عزت بہت بلند ہے، وہ عادل و غالب ہے۔ جسے جس طرح چاہتا ہے بناتا بگاڑتا ہے، اس کی قدرتوں کی کوئی انتہاء نہیں۔ نصرانیوں کی تردید کے بعد اب یہودیوں اور نصرانیوں دونوں کی تردید ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر ایک جھوٹ یہ باندھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، ہم انبیاء کی اولاد ہیں اور وہ اللہ کے لاڈلے فرزند ہیں، اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو کہا ہے (انت ابنی بکری) پھر تاویلیں کر کے مطلب الٹ پلٹ کر کے کہتے کہ جب وہ اللہ کے بیٹے ہوئے تو ہم بھی اللہ کے بیٹے اور عزیز ہوئے حالانکہ خود ان ہی میں سے جو عقلمند اور صاحب دین تھے وہ انہیں سمجھاتے تھے کہ ان لفظوں سے صرف بزرگی ثابت ہوتی ہے، قرابت داری نہیں۔ اسی معنی کی آیت نصرانی اپنی کتاب سے نقل کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا (انی ذاھب الی ابی وابیکم) اس سے مراد بھی سگا باپ نہ تھا بلکہ ان کے اپنے محاورے میں اللہ کیلئے یہ لفظ بھی آتا تھا پس مطلب اس کا یہ ہے کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی طرف جا رہا ہوں اور عبادت کا مفہوم واضح بتارہا ہے کہ یہاں اس آیت میں جو نسبت حضرت عیسیٰ کی طرف سے، وہی نسبت ان کی تمام امت کی طرف ہے لیکن وہ لوگ اپنے باطل عقیدے میں حضرت عیسیٰ کو اللہ سے جو نسبت دیتے ہیں، اس نسبت کا اپنے اپنے اوپر اطلاق نہیں مانتے۔ پس یہ لفظ صرف عزت و وقعت کیلئے تھا نہ کہ کچھ اور۔ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ اگر یہ صحیح ہے تو پھر تمہارے کفر و کذب، بہتان و افتراء پر اللہ تمہیں سزا کیوں کرتا ہے ؟ کسی صوفی نے کسی فقیہ سے دریافت فرمایا کہ کیا قرآن میں یہ بھی کہیں ہے کہ حبیب اپنے حبیب کو عذاب نہیں کرتا ؟ اس سے کوئی جواب بن نہ پڑا تو صوفی نے یہی آیت تلاوت فرما دی، یہ قول نہایت عمدہ ہے اور اسی کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ راہ سے گزر رہے تھے۔ ایک چھوٹا سا بچہ راستہ میں کھیل رہا تھا، اس کی ماں نے جب دیکھا کہ اسی جماعت کی جماعت اسی راہ آرہی ہے تو اسے ڈر لگا کہ بچہ روندا نہ جائے میرا بچہ میرا بچہ کہتی ہوئی دوڑی ہوئی آئی اور جھٹ سے بچے کو گود میں اٹھا لیا اس پر صحابہ نے کہا " حضور ﷺ یہ عورت تو اپنے پیارے بچے کو کبھی بھی آگ میں نہیں ڈال سکتی " آپ نے فرمایا " ٹھیک ہے، اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندوں کو ہرگز جہنم میں لے جائیگا۔ " یہودیوں کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم بھی منجملہ اور مخلوق کے ایک انسان ہو تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت و فضیلت نہیں، اللہ سبحان و تعالیٰ اپنے بندوں پر حاکم ہے اور وہی ان میں سچے فیصلے کرنے والا ہے، وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے پکڑے، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے، اس کا کوئی حاکم نہیں، اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، " وہ بہت جلد بندوں سے حساب لینے والا ہے۔ زمین و آسان اور ان کے درمیان کی مخلوق سب اس کی ملکیت ہے " اس کے زیر اثر ہے، اس کی بادشاہت تلے ہے، سب کا لوٹنا اس کی طرف ہے، وہی بندوں کے فیصلے کریگا، وہ ظالم نہیں عادل ہے، نیکوں کو نیکی اور بدوں کو بدی دے گا، نعمان بن آصا، بحربن عمرو، شاس بن عدی جو یہودیوں کے بڑے بھاری علماء تھے، حضور ﷺ کے پاس آئے آپ نے انہیں سمجھایا بجھایا، آخرت کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے سنئے، حضرت آپ ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم تو اللہ کے بچے اور اس کے پیارے ہیں، یہی نصرانی بھی کہتے تھے پس یہ آیت اتری۔ ان لوگوں نے ایک بات یہ بھی گھڑ کر مشہور کردی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسرائیل کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تیرا پہلو نٹھا بیٹا میری اولاد میں سے ہے۔ اس کی اولاد چالیس دن تک جہنم میں رہے گی، اس مدت میں آگ انہیں پاک کر دے گی اور ان کی خطاؤں کو کھاجائے گی، پھر ایک فرشتہ منادی کرے گا کہ اسرائیل کی اولاد میں سے جو بھی ختنہ شدہ ہوں، وہ نکل آئیں، یہی معنی ہیں ان کے اس قول کے جو قرآن میں مروی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں گنتی کے چند ہی دن جہنم میں رہنا پڑے گا۔
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ ۖ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 محمد ﷺ مطلقاً خاتم الانبیاء ہیں !اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ میں نے تم سب کی طرف اپنا رسول بھیج دیا ہے جو خاتم الانبیاء ہے، جس کے بعد کوئی نبی رسول آنے والا نہیں، یہ سب کے بعد ہیں، دیکھ لو حضرت عیسیٰ کے بعد سے لے کر اب تک کوئی رسول نہیں آیا، (فترۃ) کی اس لمبی مدت کے بعد یہ رسول آئے، بعض کہتے ہیں یہ مدت چھ سو سال کی تھی، بعض کہتے ہیں ساڑھے پانچ سو برس کی، بعض کہتے ہیں پانچ سو چالیس برس کی، کوئی کہتا ہے چار سو کچھ اوپر تیس برس کی۔ ابن عساکر میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور ہمارے نبی ﷺ کے ہجرت کرنے کے درمیان نو سو تینتیس سال کا فاصلہ تھا۔ لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے یعنی چھ سو سال کا، بعض کہتے ہیں چھ سو بیس سال کا فاصلہ تھا۔ ان دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہوسکتی ہے کہ پہلا قول شمسی حساب سے ہو اور دوسرا قمری حساب سے ہو اور اس گنتی میں ہر تین سو سال میں تقریباً آٹھ کا فرق پڑجاتا ہے۔ اسی لئے اہل کہف کے قصے میں ہے۔ ولبثوا فی کھفھم ثلاث مأتہ سنین وازدادو تسعا۔ وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو برس اور زیادہ کئے۔ پس شمسی حساب سے اہل کتاب کو جو مدت ان کی غار کی معلوم تھی، وہ تین سو سال کی تھی، نو بڑھا کر قمری حساب پورا ہوگیا، آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ سے لے کر جو بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے، حضرت محمد ﷺ تک جو علی الا طلاق خاتم الانبیاء تھے، فترۃ کا زمانہ تھا یعنی درمیان میں کوئی نبی نہیں ہوا۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے " حضور ﷺ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ سے یہ بہ نسبت اور لوگوں کے میں زیادہ اولیٰ ہوں، اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ " اس میں ان لوگوں کی بھی تردید ہے جو خیال کرتے ہیں کہ ان دونوں جلیل القدر پیغمبروں کے درمیان بھی ایک نبی گزرے ہیں، جن کا نام خالد بن سنان تھا۔ جیسے کہ قضاعی وغیرہ نے حکایت کی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ خاتم الانبیاء حبیب اللہ ﷺ دنیا میں اس وقت تشریف لاتے ہیں جبکہ رسولوں کی تعلیم مٹ چکی ہے، ان کی راہیں بےنشان ہوچکی ہیں، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، دنیا توحید کو بھلا چکی ہے، جگہ جگہ مخلوق پرستی ہو رہی ہے، سورج چاند بت آگ کی پوجا جا رہی ہے، اللہ کا دین بدل چکا ہے، کفر کی تاریکی نور دین پر چھا چکی ہے، دنیا کا چپہ چپہ سرکشی اور طغیانی سے بھر گیا ہے، عدل و انصاف بلکہ انسانیت بھی فنا ہوچکی ہے، جہالت و قساوت کا دور دورہ ہے، بجز چند نفوس کے اللہ کا نام لیوا زمین پر نہیں رہا، پس معلوم ہوا کہ آپ کی جلالت و عزت اللہ کے پاس بہت بڑی تھی اور آپ نے جو رسالت کی ذمہ داری ادا کی، وہ کوئی معمولی نہ تھی، ﷺ۔ مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا " مجھے میرے رب کا حکم ہے کہ میں تمہیں وہ باتیں سکھاؤں، جن سے تم ناواقف ہو اور اللہ تعالیٰ نے مجھے آج بھی بتائی ہیں، فرمایا ہے میں نے اپنے بندوں کو جو کچھ عنایت فرمایا ہے وہ ان کیلئے حلال ہے، میں نے اپنے سب بندوں کو موحد پیدا کیا ہے، لیکن پھر شیطان ان کے پاس آتا ہے اور انہیں بہکاتا ہے اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کرتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ باوجود دلیل نہ ہونے کے شرک کریں۔ سنو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کو دیکھا اور تمام عرب و عجم کو ناپسند فرمایا بجز ان چند بقایا بنی اسرائیل کے (جو توحید پر قائم ہیں) پھر (مجھ سے) فرمایا، میں نے تجھے اسی لئے اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ تیری آزمائش کروں اور تیری وجہ سے اوروں کی بھی آزمائش کرلوں۔ میں تجھ پر وہ کتاب نازل فرمائی ہے، جسے پانی دھو نہیں سکتا جسے تو سوتے جاگتے پڑھتا ہے، پھر مجھے میرے رب نے حکم دیا کہ قریشیوں میں پیغام الٰہی پہنچاؤں میں نے کہا یا رب یہ تو میرا سر کچل کر روٹی جیسا بنادیں گے، پروردگار نے فرمایا تو انہیں نکال، جیسے انہوں نے تجھے نکالا تو ان سے جہاد کر، تیری امداد کی جائے گی۔ تو ان پر خرچ کر، تجھ پر خرچ کیا جائے گا، تو ان کے مقابلے پر لشکر بھیج، ہم اس سے پانچ گنا لشکر اور بھیجیں گے اپنے فرمانبرداروں کو لے کر اپنے نافرمانوں سے جنگ کر، جنتی لوگ تین قسم کے ہیں، بادشاہ عادل، توفیق خیر والا، صدقہ خیرات کرنے والا اور باوجود مفلس ہونے کے حرام سے بچنے والا، حالانکہ اہل و عیال بھی ہے، اور جہنمی لوگ پانچ قسم کے ہیں وہ سفلے لوگ جو بےدین، خوشامد خورے اور ماتحت ہیں، جن کی آل اولاد دھن دولت ہے اور وہ حائن لوگ جن کے دانت چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی ہوتے ہیں اور حقیر چیزوں میں بھی خیانت سے نہیں چوکتے اور وہ لوگ جو صبح شام لوگوں کو ان کے اہل و مال میں دھوکہ دیتے پھرتے ہیں اور بخیل ہیں فرمایا کذاب اور شنطیر یعنی بدگو۔ " یہ حدیث مسلم اور نسائی میں ہے۔ مقصود یہ ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے وقت سچا دین دنیا میں نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی وجہ سے لوگوں کو اندھیروں سے اور گمراہیوں سے نکال کر اجالے میں اور راہ راست پر لاکھڑا کیا اور انہیں روشن و ظاہر شریعت عطا فرمائی۔ اس لئے کہ لوگوں کا عذر نہ رہے، انہیں یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا، ہمیں نہ تو کسی نے کوئی خوشخبری سنائی نہ دھمکایا ڈرایا۔ پس کامل قدرتوں والے اللہ نے اپنے برگزیدہ پیغمبروں کو ساری دنیا کی ہدایت کیلئے بھیج دیا، وہ اپنے فرمانبرداروں کو ثواب دینے پر اور نافرمانوں کو عذاب کرنے پر قادر ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ رَبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا ۘ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
📘 0
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ
📘 تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ
📘 تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ
📘 تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
📘 تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا أَبَدًا مَا دَامُوا فِيهَا ۖ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ
📘 تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
قَالَ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
📘 تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
📘 تسلسل انبیاء نسل انسانی پہ اللہ کی رحمت حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو اللہ کی جو نعمتیں یاد دلا کر اس کی اطاعت کی طرف مائل کیا تھا، اس کا بیان ہو رہا ہے کہ فرمایا " لوگو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ایک کے بعد ایک نبی تم میں تمہیں میں سے بھیجا۔ " حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے بعد سے انہی کی نسل میں نبوت رہی۔ یہ سب انبیاء تمہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔ یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا، پھر خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد بن عبداللہ ﷺ کو نبوت کاملہ عطا ہوئی، آپ اسماعیل کے واسطہ سے حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، جو اپنے سے پہلے کے تمام رسولوں اور نبیوں سے افضل تھے۔ اللہ آپ پر درود وسلام نازل فرمائے اور تمہیں اس نے بادشاہ بنادیا یعنی خادم دیئے، بیویاں دیں، گھر بار دیا اور اس وقت جتنے لوگ تھے، ان سب سے زیادہ نعمتیں تمہیں عطا فرمائیں۔ یہ لوگ اتنا پانے کے بعد بادشاہ کہلانے لگتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا میں فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہوں ؟ آپ نے فرمایا تیری بیوی ہے ؟ اس نے کہا ہاں گھر بھی ہے ؟ کہا ہاں، کہا پھر تو تو غنی ہے، اس نے کہا یوں تو میرا خادم بھی ہے، آپ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " سواری اور خادم ملک ہے "۔ بنو اسرائیل ایسے لوگوں کو ملوک کہا کرتے تھے۔ بقول قتادہ خادموں کا اول رواج ان بنی اسرائیلیوں نے ہی دیا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ان لوگوں میں جس کے پاس خادم، سواری اور بیوی ہو وہ بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک اور مرفوع حدیث میں ہے " جس کا گھر ہو اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے "۔ یہ حدیث مرسل اور غریب ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے " جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ اس کا جسم صحیح سالم ہو، اس کا نفس امن وامان میں ہو، دن بھر کفایت کرے، اس کیلئے اتنا مال بھی ہو تو اس کیلئے گویا کل دنیا سمٹ کر آگئی "۔ اس وقت جو یونانی قبطی وغیرہ تھے ان سے یہ اشرف و افضل مانے گئے تھے اور آیت میں ہے ہم نے بنو اسرائیل کو کتاب، حکم، نبوت، پاکیزہ روزیاں اور سب پر فضیلت دی تھی۔ حضرت موسیٰ سے جب انہوں نے مشرکوں کی دیکھا دیکھی اللہ بنانے کو کہا اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اللہ کے فضل بیان کرتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اس نے تمہیں تمام جہان پر فضیلت دے رکھی ہے۔ مطلب سب جگہ یہی ہے کہ اس وقت کے تمام لوگوں پر کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہ امت ان سے افضل ہے، کیا شرعی حیثیت سے، کیا احامی حیثیت سے، کیا نبوت کی حیثیت سے، کیا بادشاہت، عزت، مملکت، دولت، حشمت مال، اولاد وغیرہ کی حیثیت سے، خود قرآن فرماتا ہے آیت (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ) 3۔ آل عمران :110) اور فرمایا آیت (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ :143) یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بنو اسرائیل کے ساتھ اس فضیلت میں امت محمدی ﷺ کو بھی شامل کر کے خطاب کیا گیا ہے " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ " بعض امور میں انہیں فی الواقع علی الاطلاق فضیلت دی گئی تھی جیسے من وسلویٰ کا اترنا، بادلوں سے سایہ مہیا کرنا وغیرہ جو خلاف عادت چیزیں تھیں "۔ یہ قول اکثر مفسرین کا ہے جیسا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مراد اس سے ان کے اپنے زمانے والوں پر انہیں فضیلت دیا جانا ہے واللہ اعلم۔ پھر بیان ہوتا ہے کہ " بیت المقدس دراصل ان کے دادا حضرت یعقوب کے زمانہ میں انہی کے قبضے میں تھا اور جب وہ مع اپنے اہل و عیال کے حضرت یوسف کے پاس مصر چلے گئے تو یہاں عمالقہ قوم اس پر قبضہ جما بیٹھی، وہ بڑے مضبوط ہاتھ پیروں کی تھی۔ اب حضرت موسیٰ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ تم ان سے جہاد کرو اللہ تمہیں ان پر غالب کرے گا اور یہاں کا قبضہ پھر تمہیں مل جائے گا لیکن یہ نامردی دکھاتے ہیں اور بزدلی سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کی سزا میں انہیں چالیس سال تک وادی تیہ میں حیران و سرگرداں خانہ بدوشی میں رہنا پڑتا ہے، مقدسہ سے مراد پاک ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ وادی طور اور اس کے پاس کی زمین کا ذکر ہے ایک روایت میں اریحاء کا ذکر ہے لیکن یہ ٹھیک نہیں، اس لئے کہ نہ تو اریحاء کا فتح کرنا مقصود تھا، نہ وہ ان کے راستے میں تھا، کیونکہ وہ فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر کے شہروں سے آ رہے تھے اور بیت المقدس جا رہے تھے، یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مشہور شہر جو طور کی طرف بیت المقدس کے مشرقی رخ پر تھا " " اللہ نے اسے تمہارے لئے لکھ دیا ہے " مطلب یہ ہے کہ تمہارے باپ اسرائیل سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تیری اولاد کے باایمان لوگوں کے ورثے میں آئے گا، تم اپنی پیٹھوں پر مرتد نہ ہوجاؤ۔ یعنی جہاد سے منہ پھیر کر تھک کر نہ بیٹھ جاؤ، ورنہ زبردست نقصان میں پڑجاؤ گے۔ جس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جس شہر میں جانے اور جن شہریوں سے جہاد کرنے کیلئے آپ فرما رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ وہ بڑے قوی طاقتور اور جنگجو ہیں، ہم ان سے مقابلہ نہیں کرسکتے، جب تک وہ وہاں موجود ہیں، ہم اس شہر میں نہیں جاسکتے، ہاں اگر وہ لوگ وہاں سے نکل جائیں تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ آپ کے حکم کی تعمیل ہماری طاقت سے باہر ہے، ابن عباس کا بیان ہے کہ " حضرت موسیٰ جب اریحاء کے قریب پہنچ گئے تو آپ نے بارہ جاسوس مقرر کئے، بنو اسرائیل کے ہر قبیلے میں سے ایک جاسوس لیا اور انہیں اریحاء میں بھیج کر صحیح خبریں لے آئیں۔ یہ لوگ جب گئے تو ان کی جسامت اور قوت سے خوف زدہ ہوگئے۔ ایک باغ میں یہ سب کے سب تھے، اتفاقاً باغ والا پھل توڑنے کیلئے آگیا، وہ پھل توڑتا ہوا ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا اور انہیں بھی پھلوں کے ساتھ ہی ساتھ اپنی گٹھڑی میں باندھ لیا اور جاکر بادشاہ کے سامنے باغ کے پھل کی گٹھڑی کھول کر ڈال دی، جس میں یہ سب کے سب تھے، بادشاہ نے انہیں کہا اب تو تمہیں ہماری قوت کا اندازہ ہوگیا ہے، تمہیں قتل نہیں کرتا جاؤ واپس جاؤ اور اپنے لوگوں سے ہماری قوت بیان کردو۔ چناچہ انہوں نے جاکر سب حال بیان کیا جس سے بنو اسرائیل رعب میں آگئے "۔ لیکن اس کی اسناد ٹھیک نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ ان بارہ لوگوں کو ایک شخص نے پکڑ لیا اور اپنی چادر میں گٹھڑی باندھ کر نہر میں لے گیا اور لوگوں کے سامنے انہیں ڈال دیا، انہوں نے پوچھا تم کون لوگ ہو ؟ جواب دیا کہ ہم موسیٰ کی قوم کے لوگ ہیں، ہم تمہاری خبریں لینے کیلئے بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے ایک انگور ان کو دیا جو ایک شخص کو کافی تھا اور کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ یہ ہمارے میوے ہیں۔ انہوں نے واپس جا کر قوم سے سب حال کہہ دیا، اب حضرت موسیٰ نے انہیں جہاد کا اور اس شہر میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جائیں اور لڑیں ہم تو یہاں سے ہلنے کے بھی نہیں۔ حضرت انس نے ایک بانس لے کر ناپا جو پچاس یا پچپن ہاتھ کا تھا، پھر اسے گاڑ کر فرمایا " ان عمالیق کے قد اس قدر لانبے تھے "۔ مفسرین نے یہاں پر اسرائیلی روایتیں بہت سی بیان کی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر قوی تھے، اتنے موٹے اور اتنے لمبے قد تھے، انہی میں عوج بن عنق بن حضرت آدم تھا، جس کا قد لمبائی میں (3333) تین ہزار تین سو تیتس گز کا تھا، اور چوڑائی اس کے جسم کی تین گرز کی تھی لیکن یہ سب باتیں واہی ہیں، ان کے تو ذکر سے بھی حیا مانع ہے، پھر یہ صحیح حدیث کے خلاف بھی ہیں، حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ساٹھ ہاتھ پیدا کیا تھا، پھر سے آج تک مخلوق کے قد گھٹتے ہی رہے، ان اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی ہے کہ عوج بن عنق کافر تھا اور ولد الزنا تھا یہ طوفان نوح میں تھے اور حضرت نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں نہ بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہ پہنچا تھا۔ یہ محض لغو اور بالکل جھوٹ ہے بلکہ قرآن کے خلاف ہے، قرآن کریم میں نوح کی دعا یہ مذکور ہے کہ زمین پر ایک کافر بھی نہ بچنا چاہئے، یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا بھی، قرآن فرماتا ہے " ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی کے سب کافروں کو غرق کردیا "۔ خود قرآن میں ہے کہ " آج کے دن بجز ان لوگوں کے جن پر رحمت حق ہے، کوئی بھی بچنے کا نہیں " تعجب سا تعجب ہے کہ نوح کا لڑکا بھی جو ایماندار نہ تھا بچ نہ سکے لیکن عوج بن عنق کافر ولد الزنا بچ رہے۔ یہ بالکل عقل و نقل کے خلاف ہے بلکہ ہم تو سرے سے اس کے بھی قائل نہیں کہ عوج بن عنق نامی کوئی شخص تھا واللہ اعلم۔ بنی اسرائیل جب اپنے نبی ﷺ کو نہیں مانتے بلکہ ان کے سامنے سخت کلامی اور بےادبی کرتے تو وہ شخص جن پر اللہ کا انعام و اکرام تھا، وہ انہیں سمجھاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف تھا، وہ ڈرتے تھے، کہ بنی اسرائیل کی اس سرکشی سے کہیں عذاب الٰہی نہ آجائے، ایک قرأت میں (یخافون) کے بدلے (یھابون) ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ " ان دونوں بزرگوں کی قوم میں عزت و عظمت تھی "۔ ایک کا نام حضرت یوشع بن نون تھا دوسرے کا نام کالب بن یوفا تھا "۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان دشمنوں پر غالب کر دے گا اور وہ تمہاری مدد کو تائید کرے گا اور تم اس شہر میں غلبے کے ساتھ پہنچ جاؤ گے، تم دروازے تک تو چلے چلو، یقین مانو کہ غلبہ تمہارا ہی ہے۔ لیکن ان نامرادوں نے اپنا پہلا جواب اور مضبوط کردیا اور کہا کہ اس جبار قوم کی موجودگی میں ہمارا ایک قدم بڑھانا بھی ناممکن ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے دیکھ کر بہت سمجھایا یہاں تک کہ ان کے سامنے بڑی عاجزی کی لیکن وہ نہ جانے۔ یہ حال دیکھ کر حضرت یوشع اور حضرت کالب نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور انہیں بہت کچھ ملامت کی۔ لیکن یہ بدنصیب اور اکڑ گئے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو انہوں نے پتھروں سے شہید کردیا، ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوگیا اور بےطرح مخالفت رسول پر تل گئے۔ ان کے اس حال کو سامنے رکھ کر پھر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حال کو دیکھئے کہ جب نو سو یا ایک ہزار کافر اپنے قافلے کو بچانے کیلئے چلے، قافلہ تو دوسرے راستے سے نکل گیا لیکن انہوں نے اپنی طاقت و قوت کے گھمنڈ پر رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچائے بغیر واپس جانا اپنی امیدوں پر پانی پھیرنا، سمجھ کر اسلام اور مسلمانوں کو کچل ڈالنے کے ارادے سے مدینہ کا رخ کیا، ادھر حضور ﷺ کو جب یہ حالات معلوم ہوئے تو آپ نے اپنے صحابہ سے کہا کہ بتاؤ اب کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ ان سب سے خوش رہے، انہوں نے حضور ﷺ کے مقابلہ میں اپنے مال اپنی جانیں اور اپنے اہل عیال سب کو ہیچ سمجھا نہ کفار کے غلبے کو دیکھا، نہ اسباب پر نظر ڈالی بلکہ حضور ﷺ کے فرمان پہ قربان ہیں۔ سب سے پہلے حضرت صدیق نے اس قسم کی گفتگو کی، پھر مہاجرین صحابہ میں سے کئی ایک نے اسی قسم کی تقریر کی۔ لیکن پھر بھی آپ نے فرمایا ؟ اور بھی کوئی شخص اپنا ارادہ ظاہر کرنا چاہے تو کرے، آپ کا مقصد اس سے یہ تھا کہ انصار کا دلی ارادہ معلوم کریں، اس لئے کہ یہ جگہ انہی کی تھی اور تعداد میں بھی یہ مہاجرین سے زیادہ تھے۔ اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری و انصار کھڑے ہوگئے اور فرمانے لگے شاید آپ کا ارادہ ہماری منشاء معلوم کرنے کا ہے " سنئے یا رسول اللہ ﷺ ! قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ سچا نبی بنا کر بھیجا ہے کہ اگر آپ ہمیں سمندر کے کنارے کھڑا کر کے فرمائیں کہ اس میں کود جاؤ تو بغیر کسی پس و پیش کے اس میں کود جائیں گے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم میں سے ایک بھی نہ ہوگا جو کنارے پر کھڑا رہ جائے، حضور ﷺ آپ اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ہمیں شوق سے لے چلئے۔ آپ دیکھ لیں گے کہ ہم لڑائی میں صبر اور ثابت قدمی دکھانے والے لوگ ہیں، آپ جان لیں گے کہ ہم اللہ کی ملاقات کو سچ جاننے والے لوگ ہیں، آپ اللہ کا نام لیجئے، کھڑے ہوجایئے ہمیں دیکھ کر ہماری بہادری اور استقلال کو دیکھ کر انشاء اللہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی " یہ سن کر اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے اور آپ کو انصار کی یہ باتیں بہت ہی بھلی معلوم ہوئیں ؓ۔ " ایک روایت میں ہے کہ بدر کی لڑائی کے موقعہ پر آپ نے مسلمانوں سے مشورہ لیا، حضرت عمر نے کچھ کہا پھر انصاریوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری سننا چاہتے ہیں، تو سنئے ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں، جو کہہ دیں کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں، بلکہ ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ اللہ کی مدد لے کر جہاد کیلئے چلئے، ہم جان و مال سے آپ کے ساتھ ہیں۔ حضرت مقداد انصاری نے بھی کھڑے ہو کر یہی فرمایا تھا۔ حضرت ابن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ حضرت مقداد کے اس قول سے اللہ کے رسول ﷺ خوش ہوگئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضور ﷺ لڑائی کے وقت دیکھ لیں گے کہ آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہم ہی ہم ہوں گے۔ کاش کہ کوئی ایسا موقع مجھے میسر آتا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر خوش کرسکتا۔ ایک روایت میں حضرت مقداد کا یہ قول حدیبیہ کے دن مروی ہے جبکہ مشرکین نے آپ کو عمرہ کیلئے بیت اللہ شریف جاتے ہوئے راستے میں روکا اور قربانی کے جانور بھی ذبح کی جگہ نہ پہنچ سکے تو آپ نے فرمایا میں تو اپنی قربانی کے جانور کو لے کر بین اللہ پہنچ کر قربان کرنا چاہتا ہوں تو حضرت مقداد بن اسود نے فرمایا ہم اصحاب موسیٰ کی طرح نہیں کہ انہوں نے اپنے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ اور آپ کا اللہ جا کر لڑ لو ہم تو یہاں بیھٹے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضور ﷺ آپ چلئے اللہ کی مدد آپ کے ساتھ ہو اور ہم سب کے سب آپ کے ساتھی ہیں، یہ سن کر اصحاب نے بھی اسی طرح جاں نثاروں کے وعدے کرنے شروع کردیئے۔ پس اگر اس روایت میں حدیبیہ کا ذکر محفوظ ہو تو ہوسکتا ہے کہ بدر والے دن بھی آپ نے یہ فرمایا ہو اور حدیبیہ والے دن بھی یہی فرمایا ہو واللہ اعلم۔ حضرت موسیٰ کو اپنی امت کا یہ جواب سن کر ان پر بہت غصہ آیا اور اللہ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا کہ " رب العالمین مجھے تو اپنی جان پر اور اپنے بھائی پر اختیار ہے، تو میرے اور میری قوم کے ان فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما "۔ جناب باری نے یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا کہ اب چالیس سال تک یہاں سے جا نہیں سکتے۔ وادی تیہ میں حیران و سرگرداں گھومتے پھرتے رہیں گے، کسی طرح اس کی حدود سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ یہاں انہوں نے عجیب و غریب خلاف عادت امور دیکھے مثلاً ابر کا سایہ ان پر ہونا، من وسلویٰ کا اترنا۔ ایک ٹھوس پتھر سے، جو ان کے ساتھ تھا، پانی کا نکلنا، حضرت موسیٰ نے اس پتھر پر ایک لکڑی ماری تو فوراً ہی اس سے بارہ چشمے پانی کے جاری ہوگئے اور ہر قبیلے کی طرف ایک چشمہ بہ نکلا، اس کے سوا اور بھی بہت سے معجزے بنو اسرائیل نے وہاں پر دیکھے، یہیں تورات اتری، یہیں احکام الٰہی نازل ہوئے وغیرہ وغیرہ، اسی میدان میں چالیس سال تک یہ گھومتے پھرتے رہے لیکن کوئی راہ وہاں سے گزر جانے کی انہیں نہ ملی۔ ہاں ابر کا سایہ ان پر کردیا گیا اور من وسلویٰ اتار دیا گیا۔ فتون کی مطول حدیث میں ابن عباس سے یہ سب مروی ہے۔ پھر حضرت ہارون کی وفات ہوگئی اور اس کے تین سال بعد کلیم اللہ حضرت موسیٰ بھی انتقال فرما گئے، پھر آپ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون نبی بنائے گئے۔ اسی اثناء میں بہت سے بنی اسرائیل مر مرا چکے تھے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف حضرت یوشع اور کالب ہی باقی رہے تھے۔ بعض مفسرین سنتہ پر وقف تام کرتے ہیں اور اربعین سنتہ کو نصب کی حالت میں مانتے ہیں اور اس کا عامل (یتبھون فی الارض) کو بتلاتے ہیں۔ اس سے بھی باقی بنو اسرائیل ان کے ساتھ ہو لئے اور آپ نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد جب کہ فتح کا وقت آپہنچا دشمنوں کے قدم اکھڑ گئے، اتنے میں سورج ڈوبنے لگا اور سورج ڈوبنے کے بعد ہفتے کی تعظیم کی وجہ سے لڑائی ہو نہیں سکتی تھی اس لئے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے سورج تو بھی اللہ کا غلام ہے اور میں بھی اللہ کا محکوم ہوں، اے اللہ اسے ذرا سی دیر روک دے۔ چناچہ اللہ کے حکم سے سورج رک گیا اور آپ نے دلجمعی کے ساتھ بیت المقدس کو فتح کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو کہہ دو اس شہر کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی یا اللہ ہماری گناہ معاف فرما۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم کو بدل دیا۔ رانوں پر گھسٹتے ہوئے ہوئے اور زبان سی (حبتہ فی شعرۃ) کہتے ہوئے شہر میں گئے، مزید تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے، دوسری روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ اس قدر مال غنیمت انہیں حاصل ہوا کہ اتنا مال کبھی انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔ فرمان رب کے مطابق اسے آگ میں جلانے کیلئے آگ کے پاس لے گئے لیکن آگ نے اسے جلایا نہیں اس پر ان کے نبی حضرت یوشع نے فرمایا " تم میں سے کسی نے اس میں سے کچھ چرا لیا ہے پس میرے پاس ہر قبیلے کا سردار آئے اور میرے ہاتھ پر بیعت کرے " چناچہ یونہی کیا گیا، ایک قبیلے کے سردار کا ہاتھ اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ سے چپک گیا، آپ نے فرمایا " تیرے پاس جو بھی خیانت کی چیز ہے، اسے لے آ "۔ اس نے ایک گائے کا سر سونے کا بنا ہوا پیش کیا، جس کی آنکھیں یاقوت کی تھیں اور دانت موتیوں کے تھے، جب وہ بھی دوسرے مال کے ساتھ ڈال دیا گیا، اب آگ نے اس سب مال کو جلا دیا۔ امام ابن جریر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے (اربعین سنتہ) میں (فانھا محرمتہ) عامل ہے، اور بنی اسرائیل کی یہ جماعت چالیس برس تک اسی میدان تیہ میں سرگرداں رہی پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ نکلے اور بیت المقدس کو فتح کیا اس کی دلیل اگلے علماء یہود کا اجماع ہے کہ عوج بن عنق کو حضرت کلیم اللہ نے ہی قتل کیا ہے۔ اگر اس کا قتل عمالیق کی اس جنگ سے پہلے کا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل جنگ عمالیق کا انکار کر بیٹھتے ؟ تو معلوم ہوا کہ یہ واقعہ تیہ سے چھوٹنے کے بعد کا ہے، علماء یہود کا اس پر بھی اجماع ہے کہ بلعام بن باعورا نے قوم عمالیق کے جباروں کی اعانت کی اور اس نے حضرت موسیٰ پر بددعا کی۔ یہ واقعہ بھی اس میدان کی قید سے چھوٹنے کے بعد کا ہے۔ اس لئے کہ اس سے پہلے تو جباروں کو موسیٰ اور ان کی قوم سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ابن جریر کی یہی دلیل ہے وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا عصا دس ہاتھ کا تھا اور آپ کا قد بھی دس ہاتھ کا تھا اور دس ہاتھ زمین سے اچھل کر آپ نے عوج بن عنق کو وہ عصا مارا تھا جو اس کے ٹخنے پر لگا اور وہ مرگیا، اس کے جثے سے نیل کا پل بنایا گیا تھا، جس پر سے سال بھر تک اہل نیل آتے جاتے رہے۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ اس کا تخت تین گز کا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو اپنی قوم بنی اسرائیل پر غم و رنج نہ کر، وہ اسی جیل خانے کے مستحق ہیں، اس واقعہ میں درحقیقت یہودیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا ذکر ہے اور ان کی مخالفتوں کا اور برائیوں کا بیان ہے یہ دشمنان رب سختی کے وقت اللہ کے دین پر قائم نہیں رہتے تھے، رسولوں کی پیروی سے انکار کر جاتے تھے، جہاد سے جی چراتے تھے، اللہ کے اس کلیم و بزرگ رسول ﷺ کی موجودگی کا، ان کے وعدے کا، ان کے حکم کا کوئی پاس انہوں نے نہیں کیا، دن رات معجزے دیکھتے تھے، فرعون کی بربادی اپنی آنکھوں دیکھ لی تھی اور اسے کچھ زمانہ بھی نہ گزرا تھا، اللہ کے بزرگ کلیم پیغمبر ساتھ ہیں، وہ نصرت و فتح کے وعدے کر رہے ہیں، مگر یہ ہیں کہ اپنی بزدلی میں مرے جا رہے ہیں اور نہ صرف انکار بلکہ ہولناکی کے ساتھ انکار کرتے ہیں، نبی اللہ کی بےادبی کرتے ہیں اور صاف جواب دیتے ہیں۔ اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں کہ فرعون جیسے با سامان بادشاہ کو اس کے سازو سامان اور لشکر و رعیت سمیت اس رب نے ڈبو دیا۔ لیکن پھر بھی اسی بستی والوں کی طرف اللہ کے بھروسے پر اس کے حکم کی ماتحتی میں نہیں بڑھتے حالانکہ یہ فرعون کے دسویں حصہ میں بھی نہ تھے۔ پس اللہ کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، ان کی بزدلی دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے اور آئے دن ان کی رسوائی اور ذلت بڑھتی جاتی ہے۔ گویہ لوگ اپنے تئیں اللہ کے محبوب جانتے تھے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ رب کی نظروں سے یہ گرگئے تھے، دنیا میں ان پر طرح طرح کے عذاب آئے، سور بندر بھی بنائے گئے، لعنت ابدی میں یہاں گرفتار ہو کر عذاب اخروی کے دائمی شکار بنائے گئے۔ پس تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس کی فرمانبرداری تمام بھلائیوں کی کنجی ہے۔
۞ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ
📘 حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)
لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ
📘 حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)
إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ
📘 حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 0
فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ
📘 حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)
فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ
📘 حسد و بغض سے ممانعت اس قصے میں حسد و بغض سرکشی اور تکبر کا بدانجام بیان ہو رہا ہے کہ کس طرح حضرت کے دو صلبی بیٹوں میں کشمکش ہوگئی اور ایک اللہ کا ہو کر مظلوم بنا اور مار ڈالا گیا اور اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا اور دوسرے نے اسے ظلم و زیادتی کے ساتھ بےوجہ قتل کیا اور دونوں جہان میں برباد ہوا۔ فرماتا ہے " اے نبی ﷺ انہیں حضرت آدم کے دونوں بیٹوں کا صحیح صحیح بےکم وکاست قصہ سنا دو۔ ان دونوں کا نام ہابیل و قابیل تھا۔ مروی ہے کہ چونکہ اس وقت دنیا کی ابتدائی حالت تھی، اس لئے یوں ہوتا تھا کہ حضرت آدم کے ہاں ایک حمل سے لڑکی لڑکا دو ہوتے تھے، پھر دوسرے حمل میں بھی اسی طرح تو اس حمل کا لڑکا اور دوسرے حمل کی لڑکی ان دونوں کا نکاح کرا دیا جاتا تھا، ہابیل کی بہن تو خوبصورت نہ تھی اور قابیل کی بہن خوبصورت تھی تو قابیل نے چاہا کہ اپنی ہی بہن سے اپنا نکاح کرلے، حضرت آدم نے اس سے منع کیا آخر یہ فیصلہ ہوا کہ تم دونوں اللہ کے نام پر کچھ نکالو، جس کی خیرات قبول ہوجائے اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا جائے گا۔ ہابیل کی خیرات قبول ہوگئی پھر وہ ہوا جس کا بیان قرآن کی ان آیات میں ہوا :" مفسرین کے اقوال سنئیے حضرت آدم کی صلبی اولاد کے نکاح کا قاعدہ جو اوپر مذکور ہوا بیان فرمانے کے بعد مروی ہے کہ بڑا بھائی قابیل کھیتی کرتا تھا اور ہابیل جانوروں والا تھا، قابیل کی بہن بہ نسبت ہابیل کی بہن کے خوب رو تھی۔ جب ہابیل کا پیغام اس سے ہوا تو قابیل نے انکار کردیا اور اپنا نکاح اس سے کرنا چاہا، حضرت آدم نے اس سے روکا۔ اب ان دونوں نے خیرات نکالی کہ جس کی قبول ہوجائے وہ نکاح کا زیادہ حقدار ہے حضرت آدم اس وقت مکہ چلے گئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا زمین پر جو میرا گھر ہے اسے جانتے ہو ؟ آپ نے کہا نہیں حکم ہوا مکہ میں ہے تم وہیں جاؤ، حضرت آدم نے آسمان سے کہا کہ میرے بچوں کی تو حفاظت کرے گا ؟ اس نے انکار کیا زمین سے کہا اس نے بھی انکار کردیا، پہاڑوں سے کہا انہوں نے بھی انکار کیا، قابیل سے کہا، اس نے کہا ہاں میں محافظ ہوں، آپ جایئے آکر ملاحظہ فرما لیں گے اور خوش ہوں گے۔ اب ہابیل نے ایک خوبصورت موٹا تازہ مینڈھا اللہ کے نام پر ذبح کیا اور بڑے بھائی نے اپنی کھیتی کا حصہ اللہ کیلئے نکالا۔ آگ آئی اور ہابیل کی نذر تو جلا گئی، جو اس زمانہ میں قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی نذر قبول نہ ہوئی، اس کی کھیتی یونہی رہ گئی، اس نے راہ اللہ کرنے کے بعد اس میں سے اچھی اچھی بالیں توڑ کر کھا لیں تھیں۔ چونکہ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اس کے نکاح میں اس کی بہن نہیں آسکتی، اس لئے اپنے بھائی کو قتل کی دھمکی دی تھی اس نے کہا کہ " اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کی قربانی قبول فرمایا کرتا ہے۔ اس میں میرا کیا قصور ؟ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مینڈھا جنت میں پلتا رہا اور یہی وہ مینڈھا ہے جسے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بچے کے بدلے ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے بہترین اور مرغوب و محبوب جانور اللہ کے نام اور خوشی کے ساتھ قربان کیا، برخلاف اس کے قابیل نے اپنی کھیتی میں سے نہایت ردی اور واہی چیز اور وہ بےدلی سے اللہ کے نام نکالی۔ ہابیل تنو مندی اور طاقتوری میں بھی قابیل سے زیادہ تھا تاہم اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کا ظلم و زیادتی سہ لی اور ہاتھ نہ اٹھایا۔ بڑے بھائی کی قربانی جب قبول نہ ہوئی اور حضرت آدم نے اس سے کہا تو اس نے کہا کہ چونکہ آپ ہابیل کو چاہتے ہیں اور آپ نے اس کیلئے دعا کی تو اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ اب اس نے ٹھان لی کہ میں اس کانٹے ہی کو اکھاڑ ڈالوں۔ موقع کا منتظر تھا ایک روز اتفاقاً حضرت ہابیل کے آنے میں دیر لگ گئی تو انہیں بلانے کیلئے حضرت آدم نے قابیل کو بھیجا۔ یہ ایک چھری اپنے ساتھ لے کر چلا، راستے میں ہی دونوں بھائیوں کی ملاقات ہوگئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوئی اور میری نہ ہوئی اس پر ہابیل نے کہا میں نے بہترین، عمدہ، محبوب اور مرغوب چیز اللہ کے نام نکالی اور تو نے بیکار بےجان چیز نکالی، اللہ تعالیٰ اپنے متقیوں ہی کی نیکی قبول کرتا ہے۔ اس پر وہ اور بگڑا اور چھری گھونپ دی، ہابیل کہتے رہ گئے کہ اللہ کو کیا جواب دے گا ؟ اللہ کے ہاں اس ظلم کا بدلہ تجھ سے بری طرح لیا جائیگا۔ اللہ کا خوف کر مجھے قتل نہ کر لیکن اس بےرحم نے اپنے بھائی کو مار ہی ڈالا۔ قابیل نے اپنی تو ام بہن سے اپنا ہی نکاح کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ ہم دونوں جنت میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ دونوں زمین میں پیدا ہوئے ہیں، اسی لئے میں اس کا حقدار ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ قابیل نے گیہوں نکالے تھے اور ہابیل نے گائے قربان کی تھی۔ چونکہ اس وقت کوئی مسکین تو تھا ہی نہیں جسے صدقہ دیا جائے، اس لئے یہی دستور تھا کہ صدقہ نکال دیتے آگ آسمان سے آتی اور اسے جلا جاتی یہ قبولیت کا نشان تھا۔ اس برتری سے جو چھوٹے بھائی کو حاصل ہوئی، بڑا بھائی حسد کی آگ میں بھڑکا اور اس کے قتل کے درپے ہوگیا، یونہی بیٹھے بیٹھے دونوں بھائیوں نے قربانی کی تھی۔ نکاح کے اختلاف کو مٹانے کی وجہ نہ تھی، قرآن کے ظاہری الفاظ کا اقتضا بھی یہی ہے کہ ناراضگی کا باعث عدم قبولیت قربانی تھی نہ کچھ اور۔ ایک روایت مندرجہ روایتوں کے خلاف یہ بھی ہے کہ قابیل نے کھیتی اللہ کے نام نذر دی تھی جو قبول ہوئی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس میں راوی کا حافظہ ٹھیک نہیں اور یہ مشہور امر کے بھی خلاف ہے واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ اس کا عمل قبول کرتا ہے جو اپنے فعل میں اس سے ڈرتا رہے۔ حضرت معاذ فرماتے ہیں لوگ میدان قیامت میں ہوں گے تو ایک منادی ندا کرے گا کہ پرہیزگار کہاں ہیں ؟ پس پروردگار سے ڈرنے والے کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ کے بازو کے نیچے جا ٹھہریں گے اللہ تعالیٰ نہ ان سے رخ پوشی کرے گا نہ پردہ۔ راوی حدیث ابو عفیف سے دریافت کیا گیا کہ متقی کون ہیں ؟ فرمایا وہ جو شرک اور بت پرستی سے بچے اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے پھر یہ سب لوگ جنت میں جائیں گے۔ جس نیک بخت کی قربانی قبول کی گئی تھی، وہ اپنے بھائی کے اس ارادہ کو سن کر اس سے کہتا ہے کہ تو جو چاہے کر، میں تو تیری طرح نہیں کروں گا بلکہ میں صبر و ضبط کروں گا، تھے تو زور و طاقت میں یہ اس سے زیادہ مگر اپنی بھلائی، نیک بختی اور تواضع و فروتنی اور پرہیزگاری کی وجہ سے یہ فرمایا کہ تو گناہ پر آمادہ ہوجائے لیکن مجھ سے اس جرم کا ارتکاب نہیں ہوسکتا، میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں وہ تمام جہان کا رب ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " جب دو مسلمان تلواریں لے کر بھڑ گئے تو قاتل مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ " صحابہ نے پوچھا قاتل تو خیر لیکن مقتول کیوں ہوا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔ حضرت سعد بن وقاص نے اس وقت جبکہ باغیوں نے حضرت عثمان ذوالنورین کو گھیر رکھا تھا کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " عنقریب فتنہ برپا ہوگا۔ بیٹھا رہنے والا اس وقت کھڑے رہنے والے سے اچھا ہوگا اور کھڑا رہنے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا "۔ کسی نے پوچھا " حضور ﷺ اگر کوئی میرے گھر میں بھی گھس آئے اور مجھے قتل کرنا چاہے "۔ آپ نے فرمایا پھر بھی تو حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجا۔ ایک روایت میں آپ کا اس کے بعد اس آیت کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے۔ حضرت ایوب سختیاتی فرماتے ہیں " اس امت میں سب سے پہلے جس نے اس آیت پر عمل کیا وہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ہیں "۔ ایک مرتبہ ایک جانور پر حضور ﷺ سوار تھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے پیچھے حضرت ابوذر تھے، آپ نے فرمایا ابوذر بتاؤ تو جب لوگوں پر ایسے فاقے آئیں گے کہ گھر سے مسجد تک نہ جاسکیں گے تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے کہا جو حکم رب اور رسول ﷺ ہو فرمایا صبر کرو۔ پھر فرمایا جبکہ آپس میں خونریزی ہوگی یہاں تک کہ ریت کے تھر بھی خون میں ڈوب جائیں تو تو کیا کرے گا ؟ میں نے وہی جواب دیا تو فرمایا کہ اپنے گھر میں بیٹھ جا اور دروازے بند کرلے کہا پھر اگرچہ میں نہ میدان میں اتروں ؟ فرمایا تو ان میں چلا جا، جن کا تو ہے اور وہیں رہ۔ عرض کیا کہ پھر میں اپنے ہتھیار ہی کیوں نہ لے لوں ؟ فرمایا پھر تو تو بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوجائے گا بلکہ اگر تجھے کسی کی تلوار کی شعائیں پریشان کرتی نظر آئیں تو بھی اپنے منہ پر کپڑا ڈال لے تاکہ تیرے اور خود اپنے گناہوں کو وہی لے جائے۔ حضرت ربعی فرماتے ہیں ہم حضرت حذیفہ کے جنازے میں تھے، ایک صاحب نے کہا میں نے مرحوم سے سنا ہے آپ رسول اللہ ﷺ کی سنی ہوئی حدیثیں بیان فرماتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر تم آپس میں لڑو گے تو میں اپنے سب سے دور دراز گھر میں چلا جاؤں گا اور اسے بند کر کے بیٹھ جاؤں گا، اگر وہاں بھی کوئی گھس آئے گا تو میں کہہ دوں گا کہ لے اپنا اور میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے، پس میں حضرت آدم کے ان دو بیٹوں میں سے جو بہتر تھا، اس کی طرح ہوجاؤں گا۔ میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا اور اپنا گناہ اپنے سر رکھ لے جائے۔ یعنی تیرے وہ گناہ جو اس سے پہلے کے ہیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ یہ مطلب بھی حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ میری خطائیں بھی مجھ پر آپڑیں اور میرے قتل کا گناہ بھی۔ لیکن انہی سے ایک قول پہلے جیسا بھی مروی ہے، ممکن ہے یہ دوسرا ثابت نہ ہو۔ اسی بنا پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ قاتل مقتول کے سب گناہ اپنے اوپر بار کرلیتا ہے اور اس معنی کی ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے لیکن اس کی کوئی اصل نہیں۔ بزار میں ایک حدیث ہے کہ " بےسبب کا قتل تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے "۔ گویہ حدیث اوپر والے معنی میں نہیں، تاہم یہ بھی صحیح نہیں اور اس روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ قتل کی ایذاء کے باعث اللہ تعالیٰ مقتول کے سب گناہ معاف کردیتا ہے۔ اب وہ قاتل پر آجاتے ہیں۔ یہ بات ثابت نہیں ممکن ہے بعض قاتل ویسے بھی ہوں، قاتل کو میدان قیامت میں مقتول ڈھونڈھتا پھرے گا اور اس کے ظلم کے مطابق اس کی نیکیاں لے جائے گا۔ اور سب نیکیاں لے لینے کے بعد بھی اس ظلم کی تلافی نہ ہوئی تو مقتول کے گناہ قاتل پر رکھ دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ بدلہ ہوجائے تو ممکن ہے کہ سارے ہی گناہ بعض قاتلوں کے سر پڑجائیں کیونکہ ظلم کے اس طرح کے بدلے لئے جانے احادیث سے ثابت ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ قتل سب سے بڑھ کر ظلم ہے اور سب سے بدتر۔ واللہ اعلم۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں مطلب اس جملے کا صحیح تر یہی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ اور میرے قتل کے گناہ سب ہی اپنے اوپر لے جائے، تیرے اور گناہوں کے ساتھ ایک گناہ یہ بھی بڑھ جائے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرے گناہ بھی تجھ پر آجائیں، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر عامل کو اس کے عمل کی جزا ملتی ہے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مقتول کے عمر بھر کے گناہ قاتل پر ڈال دیئے جائیں، اور اس کے گناہوں پر اس کی پکڑ ہو ؟ باقی رہی یہ بات کہ پھر ہابیل نے یہ بات اپنے بھائی سے کیوں کہی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ نصیحت کی اور ڈرایا اور خوف زدہ کیا کہ اس کام سے باز آ جا، ورنہ گہنگار ہو کر جہنم واصل ہوجائے گا کیونکہ میں تو تیرا مقابلہ کرنے ہی کا نہیں، سارا بوجھ تجھ ہی پر ہوگا اور تو ہی ظالم ٹھہرے گا اور ظالموں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس نصیحت کے باوجود اس کے نفس نے اسے دھوکا دیا اور غصے اور حسد اور تکبر میں آکر اپنے بھائی کو قتل کردیا، اسے شیطان نے قتل پر ابھار دیا اور اس نے اپنے نفس امارہ کی پیروی کرلی ہے اور لوہے سے اسے مار ڈالا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ اپنے جانوروں کو لے کر پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، یہ ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچا اور ایک بھاری پتھر اٹھا کر ان کے سر پردے مارا، یہ اس وقت سوئے ہوئے تھے۔ بعض کہتے ہیں مثل درندے کے کاٹ کاٹ کر، گلا دبا دبا کر ان کی جان لی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان نے جب دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا، یہ اس کی گردن مروڑ رہا ہے تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر اسے دوسرا پتھر زور سے دے مارا، جس سے وہ جانور اسی وقت مرگیا، یہ دیکھ اس نے بھی اپنے بھائی کے ساتھ یہی کیا یہ بھی مروی ہے کہ چونکہ اب تک زمین پر کوئی قتل نہیں ہوا تھا، اس لئے قابیل اپنے بھائی کو گرا کر کبھی اس کی آنکھیں بند کرتا، کبھی اسے تھپڑ اور گھونسے مارتا۔ یہ دیکھ کر ابلیس لعین اس کے پاس آیا اور اسے بتایا کہ پتھر لے کر اس کا سر کچل ڈال، جب اس نے کچل ڈالا تو لعین دوڑتا ہوا حضرت حوا کے پاس آیا اور کہا قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا، انہوں نے پوچھا قتل کیسا ہوتا ہے ؟ کہا اب نہ وہ کھاتا پیتا ہے نہ بولتا چالتا ہے، نہ ہلتا جلتا ہے کہا شاید موت آگئی اس نے کہا ہاں وہی موت۔ اب تو مائی صاحبہ چیخنے چلانے لگیں، اتنے میں حضرت آدم آئے پوچھا کیا بات ہے ؟ لیکن یہ جواب نہ دے سکیں، آپ نے دوبارہ دریافت فرمایا لیکن فرط غم و رنج کی وجہ سے ان کی زبان نہ چلی تو کہا اچھا تو اور تیری بیٹیاں ہائے وائے میں ہی رہیں گی اور میں اور میرے بیٹے اس سے بری ہیں۔ قابیل خسارے ٹوٹے اور نقصان والا ہوگیا، دنیا اور آخرت دونوں ہی بگڑیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں " جو انسان ظلم سے قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون کا بوجھ آدم کے اس لڑکے پر بھی پڑتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے زمین پر خون ناحق گرایا ہے "۔ مجاہد کا قول ہے کہ " قاتل کے ایک پیر کی پنڈلی کو ران سے اس دن سے لٹکا دیا گیا اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا، اس کے گھومنے کے ساتھ گھومتا رہتا ہے، جاڑوں اور گرمیوں میں آگ اور برف کے گڑھے میں وہ معذب ہے "۔ حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ " جہنم کا آدھوں آدھ عذاب صرف اس ایک کو ہو رہا ہے، سب سے بڑا معذب یہی ہے زمین کے ہر قتل کے گناہ کا حصہ اس کے ذمہ ہے "۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں " اس پر اور شیطان پر ہر خون ناحق کا بوجھ پڑتا ہے "۔ جب مار ڈالا تو اب یہ معلوم نہ تھا کہ کیا کرے، کس طرح اسے چھپائے ؟ تو اللہ نے دو کوے بھیجے، وہ دونوں بھی آپس میں بھائی بھائی تھے، یہ اس کے سامنے لڑنے لگے، یہاں تک کہ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا، پھر ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کی لاش کو رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی، یہ دیکھ کر قابیل کی سمجھ میں بھی یہ ترکیب آگئی اور اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ از خود مرے ہوئے ایک کوے کو دوسرے کوے نے اس طرح گڑھا کھود کر دفن کیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ سال بھر تک قابیل اپنے بھائی کی لاش اپنے کندھے پر لادے لادے پھرتا رہا، پھر کوے کو دیکھ کر اپنے نفس پر ملامت کرنے لگا کہ میں اتنا بھی نہ کرسکا، یہ بھی کہا گیا ہے مار ڈال کر پھر پچھتایا اور لاش کو گود میں رکھ کر بیٹھ گیا اور اس لئے بھی کہ سب سے پہلی میت اور سب سے پہلا قتل روئے زمین پر یہی تھا۔ اہل توراۃ کہتے ہیں کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تیرے بھائی ہابیل کو کیا ہوا ؟ اس نے کہا مجھے کیا خبر ؟ میں اس کا نگہبان تو تھا ہی نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا سن تیرے بھائی کا خون زمین میں سے مجھے پکار رہا ہے، تجھ پر میری لعنت ہے، اس زمین میں جس کا منہ کھول کر تو نے اسے اپنے بےگناہ بھائی کا خون پلایا ہے، اب تو زمین میں جو کچھ کام کرے گا وہ اپنی کھیتی میں سے تجھے کچھ نہیں دے گی، یہاں تک تم زمین پر عمر بھر بےچین پھٹکتے رہو گے پھر تو قابیل بڑا ہی نادم ہوا۔ نقصان کے ساتھ ہی پچھتاوا گویا عذاب پر عذاب تھا۔ اس قصہ میں مفسرین کے اقوال اس بات پر تو متفق ہیں کہ یہ تو دونوں حضرت آدم کے صلبی بیٹے تھے اور یہی قرآن کے الفاظ سے بظاہر معلوم ہوتا ہے اور یہی حدیث میں بھی ہے کہ روئے زمین پر جو قتل ناحق ہوتا ہے اس کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ کا حضرت آدم کے اس پہلے لڑکے پر ہوتا ہے، اس لئے کہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا ہے، لیکن حسن بصری کا قول ہے کہ " یہ دونوں بنی اسرائیل میں تھے، قربانی سب سے پہلے انہی میں آئی اور زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم کا انتقال ہوا ہے " لیکن یہ قول غور طلب ہے اور اس کی اسناد بھی ٹھیک نہیں۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ واقعہ بطور ایک مثال کے ہے " تم اس میں سے اچھائی لے لو اور برے کو چھوڑ دو "۔ یہ حدیث مرسل ہے کہتے ہیں کہ اس صدمے سے حضرت آدم بہت غمگین ہوئے اور سال بھر تک انہیں ہنسی نہ آئی، آخر فرشتوں نے ان کے غم کے دور ہونے اور انہیں ہنسی آنے کی دعا کی۔ حضرت آدم نے اس وقت اپنے رنج و غم میں یہ بھی کہا تھا کہ شہر اور شہر کی سب چیزیں متغیر ہوگئی۔ زمین کا رنگ بدل گیا اور وہ نہایت بدصورت ہوگئی، ہر ہر چیز کا رنگ و مزہ جاتا رہا اور کشش والے چہروں کی ملاحت بھی سلب ہوگئی۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اس مردے کے ساتھ اس زندے نے بھی گویا اپنے تئیں ہلاک کردیا اور جو برائی قاتل نے کی تھی، اس کا بوجھ اس پر آگیا، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قابیل کو اسی وقت سزا دی گئی چناچہ وارد ہوا ہے کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے لٹکا دی گئی اور اس کا منہ سورج کی طرف کردیا گیا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گھومتا رہتا تھا یعنی جدھر سورج ہوتا ادھر ہی اس کا منہ اٹھا رہتا۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جتنے گناہ اس لائق ہیں کہ بہت جلد ان کی سزا دنیا میں بھی دی جائے اور پھر آخرت کے زبردست عذاب باقی رہیں ان میں سب سے بڑھ کر گناہ سرکشی اور قطع رحمی ہے۔ تو قابیل میں یہ دونوں باتیں جمع ہوگئیں آتی (فانا للہ و انا الیہ راجعون) (یہ یاد رہے کہ اس قصہ کی تفصیلات جس قدر بیان ہوئی ہے، ان میں سے اکثر و بیشر حصہ اہل کتاب سے اخذ کیا ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ مترجم)
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ
📘 ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کردیا کہ " جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے "۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو حضرت ابوہریرہ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں آپ کی طرف داری میں آپ کے مخالفین سے لڑنے کیلئے آیا ہوں، آپ ملاحظہ فرمایئے کہ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے، یہ سن کر معصوم خلیفہ نے فرمایا، کیا تم اس بات پر آمادہ ہو کہ سب لوگوں کو قتل کردو، جن میں ایک میں بھی ہوں۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا نہیں نہیں، فرمایا سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے، یہ سن کر آپ واپس چلے گئے اور نہ لڑے۔ مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں " ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے "۔ ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " نبی ﷺ کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے " (ابن جریر) ایک اور روایت میں ہے کہ " ایک کو بےوجہ مار ڈالتے ہی جہنمی ہوجاتا ہے گویا سب کو مار ڈالا "۔ مجاہد فرماتے ہیں " مومن کو بےوجہ شرعی مار ڈالنے والا جہنمی دشمن رب، ملعون اور مستحق سزا ہوجاتا ہے، پھر اگر وہ سب لوگوں کو بھی مار ڈالتا تو اس سے زیادہ عذاب اسے اور کیا ہوتا ؟ جو قتل سے رک جائے گویا کہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے "۔ عبد الرحمن فرماتے ہیں " ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہوگیا، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی "۔ اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا، جلتے کو بچا لیا، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن وامان پر آمادہ کرنا ہے۔ حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ " کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے، ہم بھی ہیں، فرمایا ہاں یقینا اللہ کی قسم ! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ بوقعت نہ تھے، پس ایک شخص کا بےسبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے "۔ ایک مرتبہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ حضور ﷺ مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے۔ آپ نے فرمایا کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے ؟ جواب دیا بچا لینا، فرمایا " بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو "۔ پھر فرماتا ہے ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں اور روشن احکام اور کھلے معجزات لے کر آئے لیکن اس کے بعد بھی اکثر لوگ اپنی سرکشی اور دراز دستی سے باز نہ رہے۔ بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا، اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔ (محاربہ) کے معنی حکم کے خلاف کرنا، برعکس کرنا، مخالفت پر تل جانا ہیں۔ مراد اس سے کفر، ڈاکہ زنی، زمین میں شورش و فساد اور طرح طرح کی بدامنی پیدا کرنا ہے، یہاں تک کہ سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سکے کو توڑ دینا بھی زمین میں فساد مچانا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہوجاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کرلے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا۔ ابن عباس فرماتے ہیں " یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آجانے سے پہلے توبہ کرلے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہوچکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا "۔ فساد اور قتل و غارت حضرت ابی سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اختیار دیا کہ اگر آپ چاہیں تو انہیں قتل کردیں، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں۔ حضرت سعد فرماتے ہیں " یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے "۔ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔ چناچہ بخاری مسلم میں ہے کہ " قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا چناچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے، حضور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں، چناچہ یہ گرفتار کئے گئے اور حضور ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مرگئے "۔ مسلم میں ہے یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے۔ انہوں نے چوری بھی کی تھی، قتل بھی کیا تھا، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی، سرسام کی بیماری تھی، حضور ﷺ نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک مرتبہ حجاج نے حضرت انس سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو دی ہو، تم بیان کرو تو آپ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑگئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔ حضرت انس فرماتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی ؟ اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے، یہ سب تندرست ہوگئے تو یہ مرتد بن گئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کردیئے تھے اور زنا کار بھی تھے، جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ حضرت جریر فرماتے ہیں کہ یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور حضور ﷺ فرماتے تھے، اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کے سردار حضرت جریر تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ اس لئے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا واللہ اعلم۔ اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے، اس واقعہ کے بعد حضور ﷺ نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کا ایک غلام تھا، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے، اس لئے حضور ﷺ نے انہیں آزاد کردیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا، ان میں ایک شاہ زور حضرت کرز بن جابر فہری تھے۔ حافظ ابوبکر بن مردویہ نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کردیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابو حمزہ عبد الکریم سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور حضور ﷺ سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی، جب حضور ﷺ کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا، تو آپ نے منادی کرائی کہ اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو، یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہوگئے، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے، خود حضور ﷺ بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہوگئے، انہیں لے کر حضور ﷺ کے سامنے پیش کردیا اور یہ آیت اتری، ان کی جلاوطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کردیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں، اس کے بعد حضور ﷺ نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا، بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کردیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔ جیسے آیت (عفا اللہ عنک) میں اور بعض کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہوگئی لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے ؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس حدیث کے ایک راوی حضرت جریر بن عبداللہ ہیں اور ان کا اسلام سورة مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں حضور ﷺ نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ اپنے ارادے سے باز رہے، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لئے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ حضور ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں۔ محمد بن عجلان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جو سخت سزا انہیں دی، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چناچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں، لیکن " اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کے اس فعل پر آپ کو ڈانٹا گیا ہو، بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا، اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا "۔ اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ (ویسعون فی الارض فسادا) کے ہیں۔ مالک، اوزاعی، لیث، شافعی، ، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر، ان کی سزا یہی ہے کہ بلکہ امام مالک تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کردیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم، بےواسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔ امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ نہیں، وہ کہتے ہیں کہ " مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے " جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں " جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے، راستوں کو پُر خطر بنا دے، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے "۔ یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کرلینے کا اختیار ہے، اسی طرح ایسے محارب، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کردیئے ہوں، لوگوں کو خوف زدہ کردیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لئے جائیں تو صرف جلاوطنی ہے۔ اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مرجائے ؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کردیا جائے ؟ یا پہلے قتل کردیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تاکہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو ؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے ؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔ ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ حضور ﷺ نے جب ان محاربین کے بارے میں حضرت جبرائیل سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا " جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنادیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اسے سولی چڑھا دو۔ فرمان ہے کہ زمین سے الگ کردیئے جائیں یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کردیا جائے "۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں " ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے "۔ ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں " اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے "۔ ابن جریر کا مختار قول یہ ہے کہ " اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے "۔ " ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے "۔ آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے ہم سے ویسے ہی عہد لئے جیسے عورتوں سے لئے تھے کہ " ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہوجائے پھر اگر اسے سزا ہوگئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کرلی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے "۔ اور حدیث میں ہے " جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کرلی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند وبالا ہے، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی، اگر بےتوبہ مرگئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہوجائے تو اور بات ہے "۔ پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے " اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں، اس میں علماء کے دو قول ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے، صحابہ کا عمل بھی اسی پر ہے۔ چناچہ جاریہ بن بدر تیمی بصری نے زمین میں فساد کیا، مسلمانوں سے لڑا، اس بارے میں چند قریشیوں نے حضرت علی سے سفارش کی، جن میں حضرت حسن بن علی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن جعفر بھی تھے لیکن آپ نے اسے امن دینے سے انکار کردیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور حضرت علی کے پاس آئے اور کہا بتایئے تو جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے پھر ان آیتوں کی (قبل ان تقدروا علیھم) تک تلاوت کی تو آپ نے فرمایا میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا، حضرت سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے، چناچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔ قبیلہ مراد کا ایک شخص حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں، میں نے اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی لڑی، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں، اس سے پہلے میں تائب ہوگیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ کھڑے ہوگئے اور فرمایا اے لوگو ! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کردیں گے۔ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کردیا اور یہ مار ڈالا گیا۔ علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزر گاہوں میں دہشت پھیلا دی، لوگوں کو قتل کیا، مال لوٹا، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہرچند اسے گرفتار کرنا چاہا، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا آتی (قل یا عبادی الذین اسرفوا) الخ، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر وہ فرماتا ہے اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں۔ اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کرلی، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور حضرت ابوہریرہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔ جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کرلیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو ! تم مجھے گرفتار نہیں کرسکتے، اس لئے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کرچکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آگیا ہوں، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا ! یہ سچ کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے، یہ اس وقت حضرت معاویہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ یہ علی اسدی ہیں، یہ توبہ کرچکے ہیں، اس لئے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چناچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لئے، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آگئیں، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لاسکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہوگیا، اس لئے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہوگئے اور حضرت علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گے (اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے)
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
📘 ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کردیا کہ " جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے "۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو حضرت ابوہریرہ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں آپ کی طرف داری میں آپ کے مخالفین سے لڑنے کیلئے آیا ہوں، آپ ملاحظہ فرمایئے کہ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے، یہ سن کر معصوم خلیفہ نے فرمایا، کیا تم اس بات پر آمادہ ہو کہ سب لوگوں کو قتل کردو، جن میں ایک میں بھی ہوں۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا نہیں نہیں، فرمایا سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے، یہ سن کر آپ واپس چلے گئے اور نہ لڑے۔ مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں " ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے "۔ ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " نبی ﷺ کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے " (ابن جریر) ایک اور روایت میں ہے کہ " ایک کو بےوجہ مار ڈالتے ہی جہنمی ہوجاتا ہے گویا سب کو مار ڈالا "۔ مجاہد فرماتے ہیں " مومن کو بےوجہ شرعی مار ڈالنے والا جہنمی دشمن رب، ملعون اور مستحق سزا ہوجاتا ہے، پھر اگر وہ سب لوگوں کو بھی مار ڈالتا تو اس سے زیادہ عذاب اسے اور کیا ہوتا ؟ جو قتل سے رک جائے گویا کہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے "۔ عبد الرحمن فرماتے ہیں " ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہوگیا، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی "۔ اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا، جلتے کو بچا لیا، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن وامان پر آمادہ کرنا ہے۔ حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ " کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے، ہم بھی ہیں، فرمایا ہاں یقینا اللہ کی قسم ! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ بوقعت نہ تھے، پس ایک شخص کا بےسبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے "۔ ایک مرتبہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ حضور ﷺ مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے۔ آپ نے فرمایا کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے ؟ جواب دیا بچا لینا، فرمایا " بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو "۔ پھر فرماتا ہے ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں اور روشن احکام اور کھلے معجزات لے کر آئے لیکن اس کے بعد بھی اکثر لوگ اپنی سرکشی اور دراز دستی سے باز نہ رہے۔ بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا، اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔ (محاربہ) کے معنی حکم کے خلاف کرنا، برعکس کرنا، مخالفت پر تل جانا ہیں۔ مراد اس سے کفر، ڈاکہ زنی، زمین میں شورش و فساد اور طرح طرح کی بدامنی پیدا کرنا ہے، یہاں تک کہ سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سکے کو توڑ دینا بھی زمین میں فساد مچانا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہوجاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کرلے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا۔ ابن عباس فرماتے ہیں " یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آجانے سے پہلے توبہ کرلے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہوچکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا "۔ فساد اور قتل و غارت حضرت ابی سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اختیار دیا کہ اگر آپ چاہیں تو انہیں قتل کردیں، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں۔ حضرت سعد فرماتے ہیں " یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے "۔ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔ چناچہ بخاری مسلم میں ہے کہ " قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا چناچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے، حضور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں، چناچہ یہ گرفتار کئے گئے اور حضور ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مرگئے "۔ مسلم میں ہے یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے۔ انہوں نے چوری بھی کی تھی، قتل بھی کیا تھا، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی، سرسام کی بیماری تھی، حضور ﷺ نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک مرتبہ حجاج نے حضرت انس سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو دی ہو، تم بیان کرو تو آپ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑگئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔ حضرت انس فرماتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی ؟ اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے، یہ سب تندرست ہوگئے تو یہ مرتد بن گئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کردیئے تھے اور زنا کار بھی تھے، جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ حضرت جریر فرماتے ہیں کہ یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور حضور ﷺ فرماتے تھے، اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کے سردار حضرت جریر تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ اس لئے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا واللہ اعلم۔ اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے، اس واقعہ کے بعد حضور ﷺ نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کا ایک غلام تھا، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے، اس لئے حضور ﷺ نے انہیں آزاد کردیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا، ان میں ایک شاہ زور حضرت کرز بن جابر فہری تھے۔ حافظ ابوبکر بن مردویہ نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کردیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابو حمزہ عبد الکریم سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور حضور ﷺ سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی، جب حضور ﷺ کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا، تو آپ نے منادی کرائی کہ اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو، یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہوگئے، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے، خود حضور ﷺ بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہوگئے، انہیں لے کر حضور ﷺ کے سامنے پیش کردیا اور یہ آیت اتری، ان کی جلاوطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کردیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں، اس کے بعد حضور ﷺ نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا، بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کردیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔ جیسے آیت (عفا اللہ عنک) میں اور بعض کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہوگئی لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے ؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس حدیث کے ایک راوی حضرت جریر بن عبداللہ ہیں اور ان کا اسلام سورة مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں حضور ﷺ نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ اپنے ارادے سے باز رہے، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لئے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ حضور ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں۔ محمد بن عجلان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جو سخت سزا انہیں دی، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چناچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں، لیکن " اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کے اس فعل پر آپ کو ڈانٹا گیا ہو، بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا، اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا "۔ اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ (ویسعون فی الارض فسادا) کے ہیں۔ مالک، اوزاعی، لیث، شافعی، ، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر، ان کی سزا یہی ہے کہ بلکہ امام مالک تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کردیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم، بےواسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔ امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ نہیں، وہ کہتے ہیں کہ " مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے " جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں " جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے، راستوں کو پُر خطر بنا دے، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے "۔ یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کرلینے کا اختیار ہے، اسی طرح ایسے محارب، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کردیئے ہوں، لوگوں کو خوف زدہ کردیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لئے جائیں تو صرف جلاوطنی ہے۔ اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مرجائے ؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کردیا جائے ؟ یا پہلے قتل کردیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تاکہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو ؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے ؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔ ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ حضور ﷺ نے جب ان محاربین کے بارے میں حضرت جبرائیل سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا " جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنادیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اسے سولی چڑھا دو۔ فرمان ہے کہ زمین سے الگ کردیئے جائیں یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کردیا جائے "۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں " ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے "۔ ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں " اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے "۔ ابن جریر کا مختار قول یہ ہے کہ " اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے "۔ " ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے "۔ آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے ہم سے ویسے ہی عہد لئے جیسے عورتوں سے لئے تھے کہ " ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہوجائے پھر اگر اسے سزا ہوگئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کرلی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے "۔ اور حدیث میں ہے " جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کرلی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند وبالا ہے، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی، اگر بےتوبہ مرگئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہوجائے تو اور بات ہے "۔ پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے " اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں، اس میں علماء کے دو قول ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے، صحابہ کا عمل بھی اسی پر ہے۔ چناچہ جاریہ بن بدر تیمی بصری نے زمین میں فساد کیا، مسلمانوں سے لڑا، اس بارے میں چند قریشیوں نے حضرت علی سے سفارش کی، جن میں حضرت حسن بن علی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن جعفر بھی تھے لیکن آپ نے اسے امن دینے سے انکار کردیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور حضرت علی کے پاس آئے اور کہا بتایئے تو جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے پھر ان آیتوں کی (قبل ان تقدروا علیھم) تک تلاوت کی تو آپ نے فرمایا میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا، حضرت سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے، چناچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔ قبیلہ مراد کا ایک شخص حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں، میں نے اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی لڑی، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں، اس سے پہلے میں تائب ہوگیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ کھڑے ہوگئے اور فرمایا اے لوگو ! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کردیں گے۔ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کردیا اور یہ مار ڈالا گیا۔ علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزر گاہوں میں دہشت پھیلا دی، لوگوں کو قتل کیا، مال لوٹا، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہرچند اسے گرفتار کرنا چاہا، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا آتی (قل یا عبادی الذین اسرفوا) الخ، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر وہ فرماتا ہے اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں۔ اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کرلی، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور حضرت ابوہریرہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔ جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کرلیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو ! تم مجھے گرفتار نہیں کرسکتے، اس لئے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کرچکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آگیا ہوں، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا ! یہ سچ کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے، یہ اس وقت حضرت معاویہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ یہ علی اسدی ہیں، یہ توبہ کرچکے ہیں، اس لئے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چناچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لئے، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آگئیں، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لاسکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہوگیا، اس لئے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہوگئے اور حضرت علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گے (اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے)
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 ایک بےگناہ شخص کا قتل تمام انسانوں کا قتل فرمان ہے کہ حضرت آدم کے اس لڑکے کے قتل بیجا کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل سے صاف فرما دیا ان کی کتاب میں لکھ دیا اور ان کیلئے اس حکم کو حکم شرعی کردیا کہ " جو شخص کسی ایک کو بلا وجہ مار ڈالے نہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا نہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک ساری مخلوق یکساں ہے اور جو کسی بےقصور شخص کے قتل سے باز رہے اسے حرام جانے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندگی، اس لئے کہ یہ سب لوگ اس طرح سلامتی کے ساتھ رہیں گے "۔ امیر المومنین حضرت عثمان کو جب باغی گھیر لیتے ہیں، تو حضرت ابوہریرہ ان کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں آپ کی طرف داری میں آپ کے مخالفین سے لڑنے کیلئے آیا ہوں، آپ ملاحظہ فرمایئے کہ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے، یہ سن کر معصوم خلیفہ نے فرمایا، کیا تم اس بات پر آمادہ ہو کہ سب لوگوں کو قتل کردو، جن میں ایک میں بھی ہوں۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا نہیں نہیں، فرمایا سنو ایک کو قتل کرنا ایسا برا ہے جیسے سب کو قتل کرنا۔ جاؤ واپس لوٹ جاؤ، میری یہی خواہش ہے اللہ تمہیں اجر دے اور گناہ نہ دے، یہ سن کر آپ واپس چلے گئے اور نہ لڑے۔ مطلب یہ ہے کہ قتل کا اجر دنیا کی بربادی کا باعث ہے اور اس کی روک لوگوں کی زندگی کا سبب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں " ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے "۔ ایک مسلمان کا خون حلال کرنے والا تمام لوگوں کا قاتل ہے اور ایک مسلم کے خون کو بچانے والا تمام لوگوں کے خون کو گویا بچا رہا ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " نبی ﷺ کو اور عادل مسلم بادشاہ کو قتل کرنے والے پر ساری دنیا کے انسانوں کے قتل کا گناہ ہے اور نبی اور امام عادل کے بازو کو مضبوط کرنا دنیا کو زندگی دینے کے مترادف ہے " (ابن جریر) ایک اور روایت میں ہے کہ " ایک کو بےوجہ مار ڈالتے ہی جہنمی ہوجاتا ہے گویا سب کو مار ڈالا "۔ مجاہد فرماتے ہیں " مومن کو بےوجہ شرعی مار ڈالنے والا جہنمی دشمن رب، ملعون اور مستحق سزا ہوجاتا ہے، پھر اگر وہ سب لوگوں کو بھی مار ڈالتا تو اس سے زیادہ عذاب اسے اور کیا ہوتا ؟ جو قتل سے رک جائے گویا کہ اس کی طرف سے سب کی زندگی محفوظ ہے "۔ عبد الرحمن فرماتے ہیں " ایک قتل کے بدلے ہی اس کا خون حلال ہوگیا، یہ نہیں کہ کئی ایک کو قتل کرے، جب ہی وہ قصاص کے قابل ہو، اور جو اسے زندگی دے یعنی قاتل کے ولی سے درگزر کرے اور اس نے گویا لوگوں کو زندگی دی "۔ اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ جس نے انسان کی جان بچا لی مثلاً ڈوبتے کو نکال لیا، جلتے کو بچا لیا، کسی کو ہلاکت سے ہٹا لیا۔ مقصد لوگوں کو خون ناحق سے روکنا اور لوگوں کی خیر خواہی اور امن وامان پر آمادہ کرنا ہے۔ حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ " کیا بنی اسرائیل جس طرح اس حکم کے مکلف تھے، ہم بھی ہیں، فرمایا ہاں یقینا اللہ کی قسم ! بنو اسرائیل کے خون اللہ کے نزدیک ہمارے خون سے زیادہ بوقعت نہ تھے، پس ایک شخص کا بےسبب قتل سب کے قتل کا بوجھ ہے اور ایک کی جان کے بچاؤ کا ثواب سب کو بچا لینے کے برابر ہے "۔ ایک مرتبہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ حضور ﷺ مجھے کوئی ایسی بات بتائیں کہ میری زندگی با آرام گزرے۔ آپ نے فرمایا کیا کسی کو مار ڈالنا تمہیں پسند ہے یا کسی کو بچا لینا تمہیں محبوب ہے ؟ جواب دیا بچا لینا، فرمایا " بس اب اپنی اصلاح میں لگے رہو "۔ پھر فرماتا ہے ان کے پاس ہمارے رسول واضح دلیلیں اور روشن احکام اور کھلے معجزات لے کر آئے لیکن اس کے بعد بھی اکثر لوگ اپنی سرکشی اور دراز دستی سے باز نہ رہے۔ بنو قینقاع کے یہود و بنو قریظہ اور بنو نضیر وغیرہ کو دیکھ لیجئے کہ اوس اور خزرج کے ساتھ مل کر آپس میں ایک دوسرے سے لڑتے تھے اور لڑائی کے بعد پھر قیدیوں کے فدیئے دے کر چھڑاتے تھے اور مقتول کی دیت ادا کرتے تھے۔ جس پر انہیں قرآن میں سمجھایا گیا کہ تم سے عہد یہ لیا گیا تھا کہ نہ تو اپنے والوں کے خون بہاؤ، نہ انہیں دیس سے نکالو لیکن تم نے باوجود پختہ اقرار اور مضبوط عہد پیمان کے اس کے خلاف گو فدیئے ادا کئے لیکن نکالنا بھی تو حرام تھا، اس کے کیا معنی کہ کسی حکم کو مانو اور کسی سے انکار کر، ایسے لوگوں کو سزا یہی ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت تر عذابوں کا شکار ہوں، اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔ (محاربہ) کے معنی حکم کے خلاف کرنا، برعکس کرنا، مخالفت پر تل جانا ہیں۔ مراد اس سے کفر، ڈاکہ زنی، زمین میں شورش و فساد اور طرح طرح کی بدامنی پیدا کرنا ہے، یہاں تک کہ سلف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ سکے کو توڑ دینا بھی زمین میں فساد مچانا ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت میں ہے جب وہ کسی اقتدار کے مالک ہوجاتے ہیں تو فساد پھیلا دیتے ہیں اور کھیت اور نسل کو ہلاک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ جب ایسا شخص ان کاموں کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ تلا کرلے تو پھر اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، برخلاف اس کے اگر مسلمان ان کاموں کو کرے اور بھاگ کر کفار میں جا ملے تو حد شرعی سے آزاد نہیں ہوتا۔ ابن عباس فرماتے ہیں " یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے، پھر ان میں سے جو کئی مسلمان کے ہاتھ آجانے سے پہلے توبہ کرلے تو جو حکم اس پر اس کے فعل کے باعث ثابت ہوچکا ہے وہ ٹل نہیں سکتا "۔ فساد اور قتل و غارت حضرت ابی سے مروی ہے کہ اہل کتاب کے ایک گروہ سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا اور فساد مچا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اختیار دیا کہ اگر آپ چاہیں تو انہیں قتل کردیں، چاہیں تو الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں کٹوا دیں۔ حضرت سعد فرماتے ہیں " یہ حروریہ خوارج کے بارے میں نازل ہوئی ہے "۔ صحیح یہ ہے کہ جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو اس کیلئے یہ حکم ہے۔ چناچہ بخاری مسلم میں ہے کہ " قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ان سے فرمایا اگر تم چاہو تو ہمارے چرواہوں کے ساتھ چلے جاؤ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب تمہیں ملے گا چناچہ یہ گئے اور جب ان کی بیماری جاتی رہی تو انہوں نے ان چرواہوں کو مار ڈالا اور اونٹ لے کر چلتے بنے، حضور ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ انہیں پکڑ لائیں، چناچہ یہ گرفتار کئے گئے اور حضور ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے۔ پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور دھوپ میں پڑے ہوئے تڑپ تڑپ کر مرگئے "۔ مسلم میں ہے یا تو یہ لوگ عکل کے تھے یا عرینہ کے۔ یہ پانی مانگتے تھے مگر انہیں پانی نہ دیا گیا نہ ان کے زخم دھوئے گئے۔ انہوں نے چوری بھی کی تھی، قتل بھی کیا تھا، ایمان کے بعد کفر بھی کیا تھا اور اللہ رسول سے لڑتے بھی تھے۔ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں بھی پھیری تھیں، مدینے کی آب و ہوا اس وقت درست نہ تھی، سرسام کی بیماری تھی، حضور ﷺ نے ان کے پیچھے بیس انصاری گھوڑ سوار بھیجے تھے اور ایک کھوجی تھا، جو نشان قدم دیکھ کر رہبری کرتا جاتا تھا۔ موت کے وقت ان کی پیاس کے مارے یہ حالت تھی کہ زمین چاٹ رہے تھے، انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ایک مرتبہ حجاج نے حضرت انس سے سوال کیا کہ سب سے بڑی اور سب سے سخت سزا جو رسول اللہ ﷺ نے کسی کو دی ہو، تم بیان کرو تو آپ نے یہ واقعہ بیان فرمایا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بحرین سے آئے تھے، بیماری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑگئے تھے اور پیٹ بڑھ گئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ جاؤ اونٹوں میں رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔ حضرت انس فرماتے ہیں پھر میں نے دیکھا کہ حجاج نے تو اس روایت کو اپنے مظالم کی دلیل بنا لی تب تو مجھے سخت ندامت ہوئی کہ میں نے اس سے یہ حدیث کیوں بیان کی ؟ اور روایت میں ہے کہ ان میں سے چار شخص تو عرینہ قبیلے کے تھے اور تین عکل کے تھے، یہ سب تندرست ہوگئے تو یہ مرتد بن گئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ راستے بھی انہوں نے بند کردیئے تھے اور زنا کار بھی تھے، جب یہ آئے تو اب سب کے پاس بوجہ فقیری پہننے کے کپڑے تک نہ تھے، یہ قتل و غارت کر کے بھاگ کر اپنے شہر کو جا رہے تھے۔ حضرت جریر فرماتے ہیں کہ یہ اپنی قوم کے پاس پہنچنے والے تھے جو ہم نے انہیں جا لیا۔ وہ پانی مانگتے تھے اور حضور ﷺ فرماتے تھے، اب تو پانی کے بدلے جہنم کی آگ ملے گی۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا اللہ کو ناپسند آیا، یہ حدیث ضعیف اور غریب ہے لیکن اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو لشکر ان مرتدوں کے گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا، ان کے سردار حضرت جریر تھے۔ ہاں اس روایت میں یہ فقرہ بالکل منکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنا مکروہ رکھا۔ اس لئے کہ صحیح مسلم میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے چرواہوں کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، پس یہ اس کا بدلہ اور ان کا قصاص تھا جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا وہی ان کے ساتھ کیا گیا واللہ اعلم۔ اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ بنو فزارہ کے تھے، اس واقعہ کے بعد حضور ﷺ نے یہ سزا کسی کو نہیں دی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کا ایک غلام تھا، جس کا نام یسار تھا چونکہ یہ بڑے اچھے نمازی تھے، اس لئے حضور ﷺ نے انہیں آزاد کردیا تھا اور اپنے اونٹوں میں انہیں بھیج دیا تھا کہ یہ ان کی نگرانی رکھیں، انہی کو ان مرتدوں نے قتل کیا اور ان کی آنکھوں میں کانٹے گاڑ کر اونٹ لے کر بھاگ گئے، جو لشکر انہیں گرفتار کر کے لایا تھا، ان میں ایک شاہ زور حضرت کرز بن جابر فہری تھے۔ حافظ ابوبکر بن مردویہ نے اس روایت کے تمام طریقوں کو جمع کردیا اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ابو حمزہ عبد الکریم سے اونٹوں کے پیشاب کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ ان محاربین کا قصہ بیان فرماتے ہیں اس میں یہ بھی ہے کہ یہ لوگ منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے اور حضور ﷺ سے مدینے کی آب و ہوا کی ناموافقت کی شکایت کی تھی، جب حضور ﷺ کو ان کی دغا بازی اور قتل و غارت اور ارتداد کا علم ہوا، تو آپ نے منادی کرائی کہ اللہ کے لشکریو اٹھ کھڑے ہو، یہ آواز سنتے ہی مجاہدین کھڑے ہوگئے، بغیر اس کے کہ کوئی کسی کا انتظار کرے ان مرتد ڈاکوؤں اور باغیوں کے پیچھے دوڑے، خود حضور ﷺ بھی ان کو روانہ کر کے ان کے پیچھے چلے، وہ لوگ اپنی جائے امن میں پہنچنے ہی کو تھے کہ صحابہ نے انہیں گھیر لیا اور ان میں سے جتنے گرفتار ہوگئے، انہیں لے کر حضور ﷺ کے سامنے پیش کردیا اور یہ آیت اتری، ان کی جلاوطنی یہی تھی کہ انہیں حکومت اسلام کی حدود سے خارج کردیا گیا۔ پھر ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں، اس کے بعد حضور ﷺ نے کسی کے بھی اعضاء بدن سے جدا نہیں کرائے بلکہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے، جانوروں کو بھی اس طرح کرنا منع ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ قتل کے بعد انہیں جلا دیا گیا، بعض کہتے ہیں یہ بنو سلیم کے لوگ تھے۔ بعض بزرگوں کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے جو سزا انہیں دی وہ اللہ کو پسند نہ آئیں اور اس آیت سے اسے منسوخ کردیا۔ ان کے نزدیک گویا اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو اس سزا سے روکا گیا ہے۔ جیسے آیت (عفا اللہ عنک) میں اور بعض کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مثلہ کرنے سے یعنی ہاتھ پاؤں کان ناک کاٹنے سے جو ممانعت فرمائی ہے، اس حدیث سے یہ سزا منسوخ ہوگئی لیکن یہ ذرا غور طلب ہے پھر یہ بھی سوال طلب امر ہے کہ ناسخ کی تاخیر کی دلیل کیا ہے ؟ بعض کہتے ہیں حدود اسلام مقرر ہوں اس سے پہلے کا یہ واقعہ ہے لیکن یہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، بلکہ حدود کے تقرر کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس حدیث کے ایک راوی حضرت جریر بن عبداللہ ہیں اور ان کا اسلام سورة مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ بعض کہتے ہیں حضور ﷺ نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنی چاہی تھیں لیکن یہ آیت اتری اور آپ اپنے ارادے سے باز رہے، لیکن یہ بھی درست نہیں۔ اس لئے کہ بخاری و مسلم میں یہ لفظ ہیں کہ حضور ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیں پھروائیں۔ محمد بن عجلان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جو سخت سزا انہیں دی، اس کے انکار میں یہ آیتیں اتری ہیں اور ان میں صحیح سزا بیان کی گئی ہے جو قتل کرنے اور ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹنے اور وطن سے نکال دینے کے حکم پر شامل ہے چناچہ دیکھ لیجئے کہ اس کے بعد پھر کسی کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنی ثابت نہیں، لیکن " اوزاعی کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کے اس فعل پر آپ کو ڈانٹا گیا ہو، بات یہ ہے کہ انہوں نے جو کیا تھا اس کا وہی بدلہ مل گیا، اب آیت نازل ہوئی جس نے ایک خاص حکم ایسے لوگوں کا بیان فرمایا اور اس میں آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم نہیں دیا "۔ اس آیت سے جمہور علماء نے دلیل پکڑی ہے کہ راستوں کی بندش کر کے لڑنا اور شہروں میں لڑنا دونوں برابر ہے کیونکہ لفظ (ویسعون فی الارض فسادا) کے ہیں۔ مالک، اوزاعی، لیث، شافعی، ، احمد رحمہم اللہ اجمعین کا یہی مذہب ہے کہ باغی لوگ خواہ شہر میں ایسا فتنہ مچائیں یا بیرون شہر، ان کی سزا یہی ہے کہ بلکہ امام مالک تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو اس کے گھر میں اس طرح دھوکہ دہی سے مار ڈالے تو اسے پکڑ لیا جائے اور اسے قتل کردیا جائے اور خود امام وقت ان کاموں کو از خود کرے گا، نہ کہ مقتول کے اولیاء کے ہاتھ میں یہ کام ہوں بلکہ اگر وہ درگزر کرنا چاہیں تو بھی ان کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ جرم، بےواسطہ حکومت اسلامیہ کا ہے۔ امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ نہیں، وہ کہتے ہیں کہ " مجاربہ اسی وقت مانا جائے گا جبکہ شہر کے باہر ایسے فساد کوئی کرے، کیونکہ شہر میں تو امداد کا پہنچنا ممکن ہے، راستوں میں یہ بات ناممکن سی ہے " جو سزا ان محاربین کی بیان ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں " جو شخص مسلمانوں پر تلوار اٹھائے، راستوں کو پُر خطر بنا دے، امام المسلمین کو ان تینوں سزاؤں میں سے جو سزا دینا چاہے اس کا اختیار ہے "۔ یہی قول اور بھی بہت سوں کا ہے اور اس طرح کا اختیار ایسی ہی اور آیتوں کے احکام میں بھی موجود ہے جیسے محرم اگر شکار کھیلے تو اس کا بدلہ شکار کے برابر کی قربانی یا مساکین کا کھانا ہے یا اس کے برابر روزے رکھنا ہے، بیماری یا سر کی تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں سر منڈوانے اور خلاف احرام کام کرنے والے کے فدیئے میں بھی روزے یا صدقہ یا قربانی کا حکم ہے۔ قسم کے کفارے میں درمیانی درجہ کا کھانا دیں مسکینوں کا یا ان کا کپڑا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ تو جس طرح یہاں ان صورتوں میں سے کسی ایک کے پسند کرلینے کا اختیار ہے، اسی طرح ایسے محارب، مرتد لوگوں کی سزا بھی یا تو قتل ہے یا ہاتھ پاؤں الٹی طرح سے کاٹنا ہے یا جلا وطن کرنا۔ اور جمہور کا قول ہے کہ یہ آیت کئی احوال میں ہے، جب ڈاکو قتل و غارت دونوں کے مرتکب ہوتے ہوں تو قابل دار اور گردن وزنی ہیں اور جب صرف قتل سرزد ہوا ہو تو قتل کا بدلہ صرف قتل ہے اور اگر فقط مال لیا ہو تو ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر راستے پُر خطر کردیئے ہوں، لوگوں کو خوف زدہ کردیا ہو اور کسی گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں اور گرفتار کر لئے جائیں تو صرف جلاوطنی ہے۔ اکثر سلف اور ائمہ کا یہی مذہب ہے پھر بزرگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ہے کہ آیا سولی پر لٹکا کر یونہی چھوڑ دیا جائے کہ بھوکا پیاسا مرجائے ؟ یا نیزے وغیرہ سے قتل کردیا جائے ؟ یا پہلے قتل کردیا جائے پھر سولی پر لٹکایا جائے تاکہ اور لوگوں کو عبرت حاصل ہو ؟ اور کیا تین دن تک سولی پر رہنے دے کر پھر اتار لیا جائے ؟ یا یونہی چھوڑ دیا جائے لیکن تفسیر کا یہ موضوع نہیں کہ ہم ایسے جزئی اختلافات میں پڑیں اور ہر ایک کی دلیلیں وغیرہ وارد کریں۔ ہاں ایک حدیث میں کچھ تفصیل سزا ہے، اگر اس کی سند صحیح ہو تو وہ یہ کہ حضور ﷺ نے جب ان محاربین کے بارے میں حضرت جبرائیل سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا " جنہوں نے مال چرایا اور راستوں کو خطرناک بنادیا ان کے ہاتھ تو چوری کے بدلے کاٹ دیجئے اور جس نے قتل اور دہشت گردی پھیلائی اور بدکاری کا ارتکاب کیا ہے، اسے سولی چڑھا دو۔ فرمان ہے کہ زمین سے الگ کردیئے جائیں یعنی انہیں تلاش کر کے ان پر حد قائم کی جائے یا وہ دار الاسلام سے بھاگ کر کہیں چلے جائیں یا یہ کہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور دوسرے سے تیسرے شہر انہیں بھیج دیا جاتا رہے یا یہ کہ اسلامی سلطنت سے بالکل ہی خارج کردیا جائے "۔ شعبی تو نکال ہی دیتے تھے اور عطا خراسانی کہتے ہیں " ایک لشکر میں سے دوسرے لشکر میں پہنچا دیا جائے یونہی کئی سال تک مارا مارا پھرایا جائے لیکن دار الاسلام سے باہر نہ کیا جائے "۔ ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں " اسے جیل خانے میں ڈال دیا جائے "۔ ابن جریر کا مختار قول یہ ہے کہ " اسے اس کے شہر سے نکال کر کسی دوسرے شہر کے جیل خانے میں ڈال دیا جائے "۔ " ایسے لوگ دنیا میں ذلیل و رذیل اور آخرت میں بڑے بھاری عذابوں میں گرفتار ہوں گے "۔ آیت کا یہ ٹکڑا تو ان لوگوں کی تائید کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ یہ آیت مشرکوں کے بارے میں اتری ہے اور مسلمانوں کے بارے وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے ہم سے ویسے ہی عہد لئے جیسے عورتوں سے لئے تھے کہ " ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولادوں کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے کی نافرمانی نہ کریں جو اس وعدے کو نبھائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کے ساتھ آلودہ ہوجائے پھر اگر اسے سزا ہوگئی تو وہ سزا کفارہ بن جائے گی اور اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ پوشی کرلی تو اس امر کا اللہ ہی مختار ہے اگر چاہے عذاب کرے، اگر چاہے چھوڑ دے "۔ اور حدیث میں ہے " جس کسی نے کوئی گناہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ لیا اور اس سے چشم پوشی کرلی تو اللہ کی ذات اور اس کا رحم و کرم اس سے بہت بلند وبالا ہے، معاف کئے ہوئے جرائم کو دوبارہ کرنے پہ اسے دنیوی سزا ملے گی، اگر بےتوبہ مرگئے تو آخرت کی وہ سزائیں باقی ہیں جن کا اس وقت صحیح تصور بھی محال ہے ہاں توبہ نصیب ہوجائے تو اور بات ہے "۔ پھر توبہ کرنے والوں کی نسبت جو فرمایا ہے " اس کا اظہار اس صورت میں تو صاف ہے کہ اس آیت کو مشرکوں کے بارے میں نازل شدہ مانا جائے۔ لیکن جو مسلمان مغرور ہوں اور وہ قبضے میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں تو ان سے قتل اور سولی اور پاؤں کاٹنا تو ہٹ جاتا ہے لیکن ہاتھ کا کٹنا بھی ہٹ جاتا ہے یا نہیں، اس میں علماء کے دو قول ہیں، آیت کے ظاہری الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہٹ جائے، صحابہ کا عمل بھی اسی پر ہے۔ چناچہ جاریہ بن بدر تیمی بصری نے زمین میں فساد کیا، مسلمانوں سے لڑا، اس بارے میں چند قریشیوں نے حضرت علی سے سفارش کی، جن میں حضرت حسن بن علی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن جعفر بھی تھے لیکن آپ نے اسے امن دینے سے انکار کردیا۔ وہ سعید بن قیس ہمدانی کے پاس آیا، آپ نے اپنے گھر میں اسے ٹھہرایا اور حضرت علی کے پاس آئے اور کہا بتایئے تو جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے لڑے اور زمین میں فساد کی سعی کرے پھر ان آیتوں کی (قبل ان تقدروا علیھم) تک تلاوت کی تو آپ نے فرمایا میں تو ایسے شخص کو امن لکھ دوں گا، حضرت سعید نے فرمایا یہ جاریہ بن بدر ہے، چناچہ جاریہ نے اس کے بعد ان کی مدح میں اشعار بھی کہے ہیں۔ قبیلہ مراد کا ایک شخص حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس کوفہ کی مسجد میں جہاں کے یہ گورنر تھے، ایک فرض نماز کے بعد آیا اور کہنے لگا اے امیر کوفہ فلاں بن فلاں مرادی قبیلے کا ہوں، میں نے اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی لڑی، زمین میں فساد کی کوشش کی لیکن آپ لوگ مجھ پر قدرت پائیں، اس سے پہلے میں تائب ہوگیا اب میں آپ سے پناہ حاصل کرنے والے کی جگہ پر کھڑا ہوں۔ اس پر حضرت ابو موسیٰ کھڑے ہوگئے اور فرمایا اے لوگو ! تم میں سے کوئی اب اس توبہ کے بعد اس سے کسی طرح کی لڑائی نہ کرے، اگر یہ سچا ہے تو الحمدللہ اور یہ جھوٹا ہے تو اس کے گناہ ہی اسے ہلاک کردیں گے۔ یہ شخص ایک مدت تک تو ٹھیک ٹھیک رہا لیکن پھر بغاوت کر گیا، اللہ نے بھی اس کے گناہوں کے بدلے اسے غارت کردیا اور یہ مار ڈالا گیا۔ علی نامی ایک اسدی شخص نے بھی گزر گاہوں میں دہشت پھیلا دی، لوگوں کو قتل کیا، مال لوٹا، بادشاہ لشکر اور رعایا نے ہرچند اسے گرفتار کرنا چاہا، لیکن یہ ہاتھ نہ لگا۔ ایک مرتبہ یہ جنگل میں تھا، ایک شخص کو قرآن پڑھتے سنا اور وہ اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہا تھا آتی (قل یا عبادی الذین اسرفوا) الخ، یہ اسے سن کر رک گیا اور اس سے کہا اے اللہ کے بندے یہ آیت مجھے دوبارہ سنا، اس نے پھر پڑھی اللہ کی اس آواز کو سن کر وہ فرماتا ہے اے میرے گنہگار بندو تم میری رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، میں سب گناہوں کو بخشنے پر قادر ہوں میں غفور و رحیم ہوں۔ اس شخص نے جھٹ سے اپنی تلوار میان میں کرلی، اسی وقت سچے دل سے توبہ کی اور صبح کی نماز سے پہلے مدینے پہنچ گیا، غسل کیا اور مسجد نبوی میں نماز صبح جماعت کے ساتھ ادا کی اور حضرت ابوہریرہ کے پاس جو لوگ بیٹھے تھے، ان ہی میں ایک طرف یہ بھی بیٹھ گیا۔ جب دن کا اجالا ہوا تو لوگوں نے اسے دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو سلطنت کا باغی، بہت بڑا مجرم اور مفرور شخص علی اسدی ہے، سب نے چاہا کہ اسے گرفتار کرلیں۔ اس نے کہا سنو بھائیو ! تم مجھے گرفتار نہیں کرسکتے، اس لئے کہ مجھ پر تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی میں تو توبہ کرچکا ہوں بلکہ توبہ کے بعد خود تمہارے پاس آگیا ہوں، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا ! یہ سچ کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مروان بن حکم کے پاس لے چلے، یہ اس وقت حضرت معاویہ کی طرف سے مدینے کے گورنر تھے، وہاں پہنچ کر فرمایا کہ یہ علی اسدی ہیں، یہ توبہ کرچکے ہیں، اس لئے اب تم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چناچہ کسی نے اس کے ساتھ کچھ نہ کیا، جب مجاہدین کی ایک جماعت رومیوں سے لڑنے کیلئے چلی تو ان مجاہدوں کے ساتھ یہ بھی ہو لئے، سمندر میں ان کی کشتی جا رہی تھی کہ سامنے سے چند کشتیاں رومیوں کی آگئیں، یہ اپنی کشتی میں سے رومیوں کی گردنیں مارنے کیلئے ان کی کشتی میں کود گئے، ان کی آبدار خارا شگاف تلوار کی چمک کی تاب رومی نہ لاسکے اور نامردی سے ایک طرف کو بھاگے، یہ بھی ان کے پیچھے اسی طرف چلے چونکہ سارا بوجھ ایک طرف ہوگیا، اس لئے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سارے رومی کفار ہلاک ہوگئے اور حضرت علی اسدی بھی ڈوب کر شہید ہو گے (اللہ ان پر اپنی رحمتیں ناز فرمائے)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
📘 تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی حضرت ابن عباس سے منقول ہیں۔ حضرت مجاہد، حضرت وائل، حضرت حسن، حضرت ابن زید اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا) 17۔ الاسراء :57) جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول کریم ﷺ کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے " جو شخص اذان سن کر دعا (اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامتہ) الخ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوجاتی ہے "۔ مسلم کی حدیث میں ہے " جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لئے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوگئی "۔ مسند احمد میں ہے " جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لئے وسیلہ مانگو، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں "۔ طبرانی میں ہے " تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لئے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا "۔ اور حدیث میں ہے " وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں۔ لہذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو "۔ ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ کے ساتھ اور کون ہوں گے ؟ تو آپ نے حضرت فاطمہ اور حسن حسین کا نام لیا۔ ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ حضرت علی نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالا خانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد ﷺ اور آپ کی اہل بیت کیلئے ہے۔ تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ " اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالا خانے اور اللہ کی بیشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے "۔ اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ " ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہک اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں "۔ جیسے اور جگہ ہے کہ " جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آجائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے "۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے ؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کردینے پر راضی ہے ؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا " (مسلم) ایک مرتبہ حضرت جابر نے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا کہ ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی۔ اس پر ان کے شاگرد حضرت یزید فقیر نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے ؟ کہ آت (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ) 5۔ المائدہ :37) یعنی وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں تو آپ نے فرمایا اس سے پہلے کی آیت (ان الذین کفروا) الخ، پڑھو جس سے صاف ہوجاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے (مسند وغیرہ) دوسری روایت میں ہے کہ یزید کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لئے یہ سن کر انہوں نے حضرت جابر سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن حضرت جابر بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور سمجھے سمجھایا کہ قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے ؟ کہاں پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے ؟ آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) 17۔ الاسراء :79) اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ حضرت طلق بن حبیب کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ حضرت جابر سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ نے سن کر فرمایا ! اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو ؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔ حضرت جابر نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ دونوں بہرے ہوجائیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہو کہ جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کردیئے جائیں گے قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
📘 تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی حضرت ابن عباس سے منقول ہیں۔ حضرت مجاہد، حضرت وائل، حضرت حسن، حضرت ابن زید اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا) 17۔ الاسراء :57) جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول کریم ﷺ کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے " جو شخص اذان سن کر دعا (اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامتہ) الخ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوجاتی ہے "۔ مسلم کی حدیث میں ہے " جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لئے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوگئی "۔ مسند احمد میں ہے " جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لئے وسیلہ مانگو، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں "۔ طبرانی میں ہے " تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لئے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا "۔ اور حدیث میں ہے " وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں۔ لہذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو "۔ ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ کے ساتھ اور کون ہوں گے ؟ تو آپ نے حضرت فاطمہ اور حسن حسین کا نام لیا۔ ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ حضرت علی نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالا خانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد ﷺ اور آپ کی اہل بیت کیلئے ہے۔ تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ " اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالا خانے اور اللہ کی بیشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے "۔ اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ " ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہک اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں "۔ جیسے اور جگہ ہے کہ " جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آجائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے "۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے ؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کردینے پر راضی ہے ؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا " (مسلم) ایک مرتبہ حضرت جابر نے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا کہ ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی۔ اس پر ان کے شاگرد حضرت یزید فقیر نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے ؟ کہ آت (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ) 5۔ المائدہ :37) یعنی وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں تو آپ نے فرمایا اس سے پہلے کی آیت (ان الذین کفروا) الخ، پڑھو جس سے صاف ہوجاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے (مسند وغیرہ) دوسری روایت میں ہے کہ یزید کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لئے یہ سن کر انہوں نے حضرت جابر سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن حضرت جابر بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور سمجھے سمجھایا کہ قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے ؟ کہاں پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے ؟ آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) 17۔ الاسراء :79) اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ حضرت طلق بن حبیب کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ حضرت جابر سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ نے سن کر فرمایا ! اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو ؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔ حضرت جابر نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ دونوں بہرے ہوجائیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہو کہ جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کردیئے جائیں گے قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔
يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِيمٌ
📘 تقویٰ قربت الٰہی کی بنیاد ہے تقوے کا حکم ہو رہا ہے اور وہ بھی اطاعت سے ملا ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے منع کردہ کاموں سے جو شخص رکا رہے، اس کی طرف قربت یعنی نزدیکی تلاش کرے۔ وسیلے کے یہی معنی حضرت ابن عباس سے منقول ہیں۔ حضرت مجاہد، حضرت وائل، حضرت حسن، حضرت ابن زید اور بہت سے مفسرین سے بھی مروی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال کرنے سے اس سے قریب ہوتے جاؤ۔ ابن زید نے یہ آیت بھی پڑھی (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا) 17۔ الاسراء :57) جنہیں یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کی نزدیکی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ ان ائمہ نے وسیلے کے جو معنی اس آیت میں کئے ہیں اس پر سب مفسرین کا اجماع ہے، اس میں کسی ایک کو بھی اختلاف نہیں۔ امام جریر نے اس پر ایک عربی شعر بھی وارد کیا ہے، جس میں وسیلہ معنی قربت اور نزدیک کے مستعمل ہوا ہے۔ وسیلے کے معنی اس چیز کے ہیں جس سے مقصود کے حاصل کرنے کی طرف پہنچا جائے اور وسیلہ جنت کی اس اعلیٰ اور بہترین منزل کا نام ہے جو رسول کریم ﷺ کی جگہ ہے۔ عرش سے بہت زیادہ قریب یہی درجہ ہے۔ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے " جو شخص اذان سن کر دعا (اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامتہ) الخ، پڑھے اس کیلئے میری شفاعت حلال ہوجاتی ہے "۔ مسلم کی حدیث میں ہے " جب تم اذان سنو تو جو مؤذن کہہ رہا ہو، وہی تم بھی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، ایک درود کے بدلے تم پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، وہ جنت کا ایک درجہ ہے، جسے صرف ایک ہی بندہ پائے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جس نے میرے لئے وسیلہ طلب کیا، اس کیلئے میری شفاعت واجب ہوگئی "۔ مسند احمد میں ہے " جب تم مجھ پر درود پڑھو تو میرے لئے وسیلہ مانگو، پوچھا گیا کہ وسیلہ کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا سب سے بلند درجہ جسے صرف ایک شخص ہی پائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں "۔ طبرانی میں ہے " تم اللہ سے دعا کرو کہ اللہ مجھے وسیلہ عطا فرمائے جو شخص دنیا میں میرے لئے یہ دعا کرے گا، میں اس پر گواہ یا اس کا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا "۔ اور حدیث میں ہے " وسیلے سے بڑا درجہ جنت میں کوئی نہیں۔ لہذا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلے کے ملنے کی دعا کرو "۔ ایک غریب اور منکر حدیث میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ وسیلے میں آپ کے ساتھ اور کون ہوں گے ؟ تو آپ نے حضرت فاطمہ اور حسن حسین کا نام لیا۔ ایک اور بہت غریب روایت میں ہے کہ حضرت علی نے کوفہ کے منبر پر فرمایا کہ جنت میں دو موتی ہیں، ایک سفید ایک زرد، زرد تو عرش تلے ہے اور مقام محمود سفید موتی کا ہے، جس میں ستر ہزار بالا خانے ہیں، جن میں سے ہر ہر گھر تین میل کا ہے۔ اس کے دریچے دروازہ تخت وغیرہ سب کے سب گویا ایک ہی جڑ سے ہیں۔ اسی کا نام وسیلہ ہے، یہ محمد ﷺ اور آپ کی اہل بیت کیلئے ہے۔ تقویٰ کا یعنی ممنوعات سے رکنے کا اور حکم احکام کے بجا لانے کا حکم دے کر پھر فرمایا کہ " اس کی راہ میں جہاد کرو، مشرکین و کفار کو جو اس کے دشمن ہیں اس کے دین سے الگ ہیں، اس کی سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں، انہیں قتل کرو۔ ایسے مجاہدین بامراد ہیں، فلاح و صلاح سعادت و شرافت انہی کیلئے ہیں، جنت کے بلند بالا خانے اور اللہ کی بیشمار نعمتیں انہی کیلئے ہیں، یہ اس جنت میں پہنچائے جائیں گے، جہاں موت و فوت نہیں، جہاں کمی اور نقصان نہیں، جہاں ہمیشگی کی جوانی اور ابدی صحت اور دوامی عیش و عشرت ہے "۔ اپنے دوستوں کا نیک انجام بیان فرما کر اب اپنے دشمنوں کا برا نتیجہ ظاہر فرماتا ہے کہ " ایسے سخت اور بڑے عذاب انہیں ہو رہے ہوں گے کہک اگر اس وقت روئے زمین کے مالک ہوں بلکہ اتنا ہی اور بھی ہو تو ان عذابوں سے بچنے کیلئے بطور بدلے کے سب دے ڈالیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی ان سے اب فدیہ قبول نہیں بلکہ جو عذاب ان پر ہیں، وہ دائمی اور ابدی اور دوامی ہیں "۔ جیسے اور جگہ ہے کہ " جہنمی جب جہنم میں سے نکلنا چاہئیں گے تو پھر دوبارہ اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں کے ساتھ اوپر آجائیں گے کہ داروغے انہیں لوہے کے ہتھوڑے مار مار کر پھر قعر جہنم میں گرا دیں گے۔ غرض ان دائمی عذابوں سے چھٹکارا محال ہے "۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " ایک جہنمی کو لایا جائے گا پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے ابن آدم کہو تمہاری جگہ کیسی ہے ؟ وہ کہے گا بدترین اور سخت ترین۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے چھوٹنے کیلئے تو کیا کچھ خرچ کردینے پر راضی ہے ؟ وہ کہے گا ساری زمین بھر کا سونا دے کر بھی میں یہاں سے چھوٹوں تو بھی سستا چھوٹا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھوٹا ہے میں نے تو تجھ سے اس سے بہت ہی کم مانگا تھا لیکن تو نے کچھ بھی نہ کیا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا " (مسلم) ایک مرتبہ حضرت جابر نے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا کہ ایک قوم جہنم میں سے نکال کر جنت میں پہنچائی جائے گی۔ اس پر ان کے شاگرد حضرت یزید فقیر نے پوچھا کہ پھر اس آیت قرآنی کا کیا مطلب ہے ؟ کہ آت (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ) 5۔ المائدہ :37) یعنی وہ جہنم سے آزاد ہونا چاہیں گے لیکن وہ آزاد ہونے والے نہیں تو آپ نے فرمایا اس سے پہلے کی آیت (ان الذین کفروا) الخ، پڑھو جس سے صاف ہوجاتا ہے کہ یہ کافر لوگ ہیں یہ کبھی نہ نکلیں گے (مسند وغیرہ) دوسری روایت میں ہے کہ یزید کا خیال یہی تھا کہ جہنم میں سے کوئی بھی نہ نکلے گا اس لئے یہ سن کر انہوں نے حضرت جابر سے کہا کہ مجھے اور لوگوں پر تو افسوس نہیں ہاں آپ صحابیوں پر افسوس ہے کہ آپ بھی قرآن کے الٹ کہتے ہیں اس وقت مجھے بھی غصہ آگیا تھا اس پر ان کے ساتھیوں نے مجھے ڈانٹا لیکن حضرت جابر بہت ہی حلیم الطبع تھے انہوں نے سب کو روک دیا اور سمجھے سمجھایا کہ قرآن میں جن کا جہنم سے نہ نکلنے کا ذکر ہے وہ کفار ہیں۔ تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا ہاں مجھے سارا قرآن یاد ہے ؟ کہاں پھر کیا یہ آیت قرآن میں نہیں ہے ؟ آیت (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) 17۔ الاسراء :79) اس میں مقام محمود کا ذکر ہے یہی مقام شفاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم میں ان کی خطاؤں کی وجہ سے ڈالے گا اور جب تک چاہے انہیں جہنم میں ہی رکھے گا پھر جب چاہے گا انہیں اس سے آزاد کر دے گا۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرا خیال ٹھیک ہوگیا۔ حضرت طلق بن حبیب کہتے ہیں میں بھی منکر شفاعت تھا یہاں تک کہ حضرت جابر سے ملا اور اپنے دعوے کے ثبوت میں جن جن آیتوں میں جہنم کے ہمیشہ رہنے والوں کا ذکر ہے سب پڑھ ڈالیں تو آپ نے سن کر فرمایا ! اے طلق کیا تم اپنے تئیں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے علم میں مجھ سے افضل جانتے ہو ؟ سنو جتنی آیتیں تم نے پڑھی ہیں وہ سب اہل جہنم کے بارے میں ہیں یعنی مشرکوں کیلئے۔ لیکن وہ لوگ نکلیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک نہ تھے لیکن گہنگار تھے گناہوں کے بدلے سزا بھگت لی پھر جہنم سے نکال دیئے گئے۔ حضرت جابر نے یہ سب فرما کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ دونوں بہرے ہوجائیں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہو کہ جہنم میں داخل ہونے بعد بھی لوگ اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ جہنم سے آزاد کردیئے جائیں گے قرآن کی یہ آیتیں جس طرح تم پڑھتے ہو ہم بھی پڑھتے ہی ہیں۔
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
📘 احکام جرم و سزا حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کردیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے، جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز چناچہ صحیح بخاری مسلم میں حضور ﷺ کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی۔ حضرت عثمان نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ حضرت عثمان کا فعل گویا صحابہ کا جماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہئے مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں۔ پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کردیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں حضور ﷺ سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لئے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ حضرت عمر بن خطاب حضرت عثمان بن عفان حضرت علی بن ابی طالب بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابو ثور داؤد بن علی ظاہری کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحاق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے ؟ فرمایا پاؤ دینار۔ پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے واللہ اعلم۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں حضور ﷺ کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چناچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے اور عبداللہ بن عمر سے۔ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرو مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لئے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے علی ابن مسعود ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر سے یہی مروی ہے۔ سعید بن جیر فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لئے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بےخوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہوسکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کردیئے گئے۔ قاضی عبد الوہاب نے جواب دیا تھا کہ جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن وامان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بےوجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہوجائے۔ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہوجائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ " جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہوچکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں "۔ دار قطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ " ایک چور حضور ﷺ کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ نے اس سے فرمایا، میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی، انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے چوری کی ہے تو آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا توبہ کرو، انہوں نے توبہ کی، آپ نے فرمایا اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی " ؓ ابن ماجہ میں ہے کہ " حضرت عمر بن سمرہ حضور ﷺ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہوگئی ہے تو آپ مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کردیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا " ؓ ابن جریر میں ہے کہ " ایک عورت نے کچھ زیور چرا لئے، ان لوگوں نے حضور ﷺ کے پاس اسے پیش کیا، آپ نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میری توبہ بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی "۔ اس پر آیت (فمن تاب) نازل ہوئی۔ مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ حضرت اسامہ بن زید جو رسول اللہ ﷺ کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے سفارش کریں، حضرت اسامہ نے جب اس کی سفارش کی تو حضور ﷺ کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا ! اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے ؟ اب تو حضرت اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لئے آپ استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہوگئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت صدیقہ فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت آنحضرت ﷺ سے بیان کردیا کرتی تھی۔ ؓ " مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، حضور ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا " اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم حضرت بلال کو ہوا تھا۔ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ فالحمد للہ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔
فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 احکام جرم و سزا حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کردیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے، جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز چناچہ صحیح بخاری مسلم میں حضور ﷺ کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی۔ حضرت عثمان نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ حضرت عثمان کا فعل گویا صحابہ کا جماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہئے مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں۔ پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کردیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں حضور ﷺ سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لئے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ حضرت عمر بن خطاب حضرت عثمان بن عفان حضرت علی بن ابی طالب بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابو ثور داؤد بن علی ظاہری کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحاق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے ؟ فرمایا پاؤ دینار۔ پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے واللہ اعلم۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں حضور ﷺ کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چناچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے اور عبداللہ بن عمر سے۔ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرو مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لئے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے علی ابن مسعود ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر سے یہی مروی ہے۔ سعید بن جیر فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لئے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بےخوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہوسکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کردیئے گئے۔ قاضی عبد الوہاب نے جواب دیا تھا کہ جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن وامان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بےوجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہوجائے۔ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہوجائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ " جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہوچکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں "۔ دار قطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ " ایک چور حضور ﷺ کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ نے اس سے فرمایا، میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی، انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے چوری کی ہے تو آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا توبہ کرو، انہوں نے توبہ کی، آپ نے فرمایا اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی " ؓ ابن ماجہ میں ہے کہ " حضرت عمر بن سمرہ حضور ﷺ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہوگئی ہے تو آپ مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کردیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا " ؓ ابن جریر میں ہے کہ " ایک عورت نے کچھ زیور چرا لئے، ان لوگوں نے حضور ﷺ کے پاس اسے پیش کیا، آپ نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میری توبہ بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی "۔ اس پر آیت (فمن تاب) نازل ہوئی۔ مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ حضرت اسامہ بن زید جو رسول اللہ ﷺ کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے سفارش کریں، حضرت اسامہ نے جب اس کی سفارش کی تو حضور ﷺ کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا ! اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے ؟ اب تو حضرت اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لئے آپ استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہوگئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت صدیقہ فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت آنحضرت ﷺ سے بیان کردیا کرتی تھی۔ ؓ " مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، حضور ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا " اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم حضرت بلال کو ہوا تھا۔ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ فالحمد للہ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ ۖ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
📘 شکاری کتے اور شکار چونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نقصان پہنچانے والی خبیث چیزوں کی حرمت کا بیان فرمایا خواہ نقصان جسمانی ہو یا دینی یا دونوں، پھر ضرورت کی حالت کے احکامات مخصوص کرائے گئے جیسے فرمان ہے آیت (وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ) 6۔ الانعام :119) یعنی تمام حرام جانوروں کا بیان تفصیل سے تمہارے سامنے آچکا ہے یہ اور بات ہے کہ تم حالات کی بناء پر بےبس اور بےقرار ہوجاؤ۔ تو اس کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ حلال چیزوں کے دریافت کرنیوالوں سے کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تم پر حلال ہیں، سورة اعراف میں آنحضرت ﷺ کی یہ صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ قبیلہ طلائی کے دو شخصوں حضرت عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ مردہ جانور تو حرام ہوچکا اب حلال کیا ہے ؟ اس پر یہ آیت اتری۔ حضرت سعید فرماتے ہیں یعنی ذبح کئے ہوئے جانور حلال طیب ہیں۔ مقاتل فرماتے ہیں ہر حلال رزق طیبات میں داخل ہے۔ امام زہری سے سوال کیا گیا کہ دوا کے طور پر پیشاب کا پینا کیسا ہے ؟ جواب دیا کہ وہ طیبات میں داخل نہیں۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ اس مٹی کا بیچنا کیسا ہے جسے لوگ کھاتے ہیں فرمایا و طیبات میں داخل نہیں اور تمہارے لئے شکاری جانوروں کے ذریعہ کھیلا ہوا شکار بھی حلال کیا جاتا ہے مثلاً سدھائے ہوئے کتے اور شکرے وغیرہ کے ذریعے۔ یہی مذہب ہے جمہور صحابہ تابعین ائمہ وغیرہ کا۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ شکاری سدھائے ہوئے کتے، باز، چیتے، شکرے وغیرہ ہر وہ پرندہ جو شکار کرنے کی تعلیم دیا جاسکتا ہو اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہی مروی ہے کہ پھاڑنے والے جانوروں اور ایسے ہی پرندوں میں سے جو بھی تعلیم حاصل کرلے، ان کے ذریعہ شکار کھیلنا حلال ہے، لیکن حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے تمام شکاری پرندوں کا کیا ہوا شکار مکروہ کہا ہے اور دلیل میں آیت (ۙوَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ ۡ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهِ ۠ وَاتَّقُوا اللّٰهَ) 5۔ المائدہ :4) پڑھا ہے سعید بن جبیر سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ ضحاک اور سدی کا بھی یہی قول ابن جریر میں مروی ہے۔ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں باز وغیرہ پرند جو شکار پکڑیں اگر وہ تمہیں زندہ مل جائے تو تم ذبح کر کے کھالو ورنہ نہ کھاؤ، لیکن جمہور علماء اسلام کا فتویٰ یہ ہے کہ شکاری پرندوں کے ذریعہ جو شکار ہو، اس کا اور شکاری کتوں کے کئے ہوئے شکار کا ایک ہی حکم ہے، ان میں تفریق کرنے کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ چاروں اماموں وغیرہ کا مذہب بھی یہی ہے، امام ابن جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اس کی دلیل میں اس حدیث کو لاتے ہیں کہ حضرت عدی بن حاتم نے رسول مقبول ﷺ سے باز کے کئے ہوئے شکار کا مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا " جس جانور کو وہ تیرے لئے روک رکھے تو اسے کھالے " امام احمد نے سیاہ کتے کا کیا ہوا شکار بھی مستثنیٰ کرلیا ہے، اس لئے کہ ان کے نزدیک اس کا قتل کرنا واجب ہے اور پالنا حرام ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " نماز کو تین چیزیں توڑ دیتی ہیں، گدھا، عورت اور سیاہ کتا۔ اس پر حضرت ابی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ سیاہ کتے کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا " شیطان ہے۔ " دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا پھر فرمایا انہیں کتوں سے کیا واسطہ ؟ ان کتوں میں سے سخت سیاہ کتوں کو مار ڈالا کرو۔ شکاری حیوانات کو جوارح اس لئے کہا گیا کہ جرح کہتے ہیں کسب اور کمائی کو، جیسے عرب کہتے ہیں (فلان جرح اہلہ خیرا) یعنی فلاں شحص نے اپنی اہل کیلئے بھلائی حاصل کرلی اور عرب کہتے ہیں (فلان لا جارح لہ فلاں) شخص کا کوئی کماؤ نہیں، قرآن میں بھی لفظ جرح کسب اور کمائی اور حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے فرمان ہے آیت (وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ) 6۔ الانعام :60) یعنی دن کو جو بھلائی برائی تم حاصل کرتے ہو اور اسے بھی اللہ جانتا ہے۔ اس آیت کریمہ کے اترنے کی وجہ ابن ابی حاتم میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل کئے جانے لگے تو لوگوں نے آکر آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ جس امت کے قتل کا حکم آپ نے دیا ان سے ہمارے لئے کیا فائدہ حلال ہے ؟ آپ خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری۔ پس آپ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار کے پیچھے چھوڑے اور بسم اللہ بھی کہے پھر وہ شکار پکڑ لے اور روک رکھے تو جب تک وہ نہ کھائے یہ کھالے۔ ابن جریر میں ہے " جبرائیل نے حضور سے اندر آنے کی اجازت چاہی، آپ نے اجازت دی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ آئے تو آپ نے فرمایا اے قاصد رب ہم تو تمہیں اجازت دے چکے پھر کیوں نہیں آتے ؟ اس پر فرشتے نے کہا ! ہم اس گھر میں نہیں جاتے، جس میں کتا ہو، اس پر آپ نے حضرت رافع کو حکم دیا کہ مدینے کے کل کتے مار ڈالے جائیں، ابو رافع فرماتے ہیں، میں گیا اور سب کتوں کو قتل کرنے لگا، ایک بڑھیا کے پاس کتا تھا، جو اس کے دامن میں لپٹنے لگا اور بطور فریاد اس کے سامنے بھونکنے لگا، مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور آکر حضور ﷺ کو خبر دی آپ نے حکم دیا کہ اسے بھی باقی نہ چھوڑو، میں پھر واپس گیا اور اسے بھی قتل کردیا، اب لوگوں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ جس امت کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے، ان سے کوئی فائدہ ہمارے لئے حلال بھی ہے یا نہیں ؟ اس پر آیت (یسألونک) الخ، نازل ہوئی۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مدینے کے کتوں کو قتل کر کے پھر ابو رافع آس پاس کی بستیوں میں پہنچے اور مسئلہ دریافت کرنیوالوں کے نام بھی اس میں ہیں یعنی حضرت عاصم بن عذی حضرت سعید بن خیثمہ حضرت عمویمر بن ساعدرہ۔ محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ آیت کا شان نزول کتوں کا قتل ہے (مکلبین) کا لفظ ممکن ہے کہ (علمتم) کی ضمیر یعنی فاعل کا حال ہو اور ممکن ہے کہ جوارح یعنی مقتول کا حاصل ہو۔ یعنی جن شکار حاصل کرنے والے جانوروں کو تم نے سدھایا ہو اور حالانکہ وہ شکار کو اپنے پنجوں اور ناخنوں سے شکار کرتے ہوں، اس سے بھی یہ استدلال ہوسکتا ہے کہ شکاری جانور جب شکار کو اپنے صدمے سے ہی دبوچ کر مار ڈالے تو وہ حلال نہ ہوگا جیسے کہ امام شافعی کے دونوں قولوں میں سے ایک قول ہے اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے۔ اسی لئے فرمایا تم نے انہیں اس سے کچھ سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں لکھا رکھا ہے " یعنی جب تم چھوڑو، جائے، جب تم روک لو رک جائے اور شکار پکڑ کر تمہارے لئے روک رکھے۔ تاکہ تم جا کر اسے لے لو، اس نے خود اپنے لئے اسے شکار نہ کیا ہو، اس لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ جب شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے اپنے چھوڑنے والے کیلئے شکار کیا ہو اور اس نے بھی اس کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو وہ شکار مسلمانوں کیلئے حلال ہے گو وہ شکار مر بھی گیا ہو، اس پر اجماع ہے۔ اس آیت کے مسئلہ کے مطابق ہی بخاری و مسلم کی یہ حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں اللہ کا نام لے کر اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں تو آپ نے فرمایا جس جانور کو وہ پکڑ رکھے تو اسے کھالے اگرچہ کتے نے اسے مار بھی ڈالا ہو، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے ساتھ شکار کرنے میں دوسرا کتا نہ ملا ہو اس لئے کہ تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہے دوسرے کو بسم اللہ پڑھ کر نہیں چھوڑا میں نے کہا کہ میں نوکدار لکڑی سے شکار کھیلتا ہوں فرمایا اگر وہ اپنی تیزی کی طرف سے زخمی کرے تو کھالے اور اگر اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہو تو نہ کھا کیونکہ وہ لٹھ مارا ہوا ہے، دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں کہ جب تو اپنے کتے کو چھوڑے تو اللہ کا نام پڑھ لیا کر پھر وہ شکار کو تیرے لئے پکڑ رکھے اور تیرے پہنچ جانے پر شکار زندہ مل جائے تو تو اسے ذبح کر ڈال اور اگر کتے نے ہی اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تو اسے بھی کھا سکتا ہے اس لئے کہ کتے کا اسے شکار کرلینا ہی اس کا ذبیحہ ہے اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ " اگر اس نے کھالیا ہو تو پھر اسے نہ کھا، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اس نے اپنے کھانے کیلئے شکار نہ پکڑا ہو ؟ " یہی دلیل جمہور کی ہے اور حقیقتاً امام شافعی کا صحیح مذہب بھی یہی ہے کہ جب کتا شکار کو کھالے تو وہ مطلق حرام ہوجاتا ہے اس میں کوئی گنجاش نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ہاں سلف کی ایک جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ مطلقاً حلال ہے۔ ان کے دلائل یہ ہیں۔ سلمان فارسی فرماتے ہیں تو کھا سکتا ہے اگرچہ کتے نے تہائی حصہ کھالیا ہو، حضرت سعید بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ گو ایک ٹکڑا ہی باقی رہ گیا ہو پھر بھی کھا سکتے ہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاض فرماتے ہیں گو دو تہائیاں کتا کھا گیا ہو پھر بھی تو کھا سکتا ہے، حضرت ابوہریرہ کا بھی یہی فرمان ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں جب بسم اللہ کہہ کر تو نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑا ہو تو جس جانور کو اس نے تیرے لئے پکڑ رکھا ہے تو اسے کھالے کتے نے اس میں سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو، یہی مروی ہے حضرت علی اور حضرت ابن عباس سے۔ حضرت عطاء اور حضرت حسن بصری سے اس میں مختلف اقوال مروی ہیں، زہری ربیعہ اور مالک سے بھی یہی روایت کی گئی ہے، اسی کی طرف امام شافعی اپنے پہلے قول میں گئے ہیں اور نئے قول میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حضرت سلمان فارسی سے ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار پر چھوڑے پھر شکار کو اس حالت میں پائے کہ کتے نے اسے کھالیا ہو تو جو باقی ہو اسے وہ کھا سکتا ہے۔ اس حدیث کی سند میں بقول ابن جریر نظر ہے اور سعید راوی کا حضرت سلمان سے سننا معلوم نہیں ہوا اور دوسرے ثقہ راوی اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ حضرت سلمان کا قول نقل کرتے ہیں یہ قول ہے تو صحیح لیکن اسی معنی کی اور مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں، ابو داؤد میں ہے حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی ابو ثعلبہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ حضور ﷺ میرے پاس شکاری کتے سدھائے ہوئے ہیں ان کے شکار کی نسبت کیا فتویٰ ہے ؟ آپ نے فرمایا جو جانور وہ تیرے لئے پکڑیں وہ تجھ پر حلال ہے، اس نے کہا ذبح کرسکوں جب بھی اور ذبح نہ کرسکوں تو بھی ؟ اور اگرچہ کتے نے کھالیا ہو تو بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں گو کھا بھی لیا ہو، انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ میں اپنے تیر کمان سے جو شکار کروں اس کا کیا فتویٰ ہے ؟ فرمایا اسے بھی تو کھا سکتا ہے، پوچھا اگر وہ زندہ ملے اور میں اسے ذبح کرسکوں تو بھی اور تیر لگتے ہی مرجائے تو بھی ؟ فرمایا بلکہ گو وہ تجھے نظر نہ پڑے اور ڈھونڈنے سے مل جائے تو بھی۔ بشرطیکہ اس میں کسی دوسرے شخص کے تیر کا نشان نہ ہو، انہوں نے تیسرا سوال کیا کہ بوقت ضرورت مجوسیوں کے برتنوں کا استعمال کرنا ہمارے لئے کیسا ہے ؟ فرمایا تم انہیں دھو ڈالو پھر ان میں کھا پی سکتے ہو۔ یہ حدیث نسائی میں بھی ہے ابو داؤد کی دوسری حدیث میں ہے جب تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو تو اس کے شکار کو کھا سکتا ہے گو اس نے اس میں سے کھا بھی لیا ہو اور تیرا ہاتھ جس شکار کو تیرے لئے لایا ہو اسے بھی تو کھا سکتا ہے۔ ان دونوں احادیث کی سندیں بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہیں اور حدیث میں ہے کہ تیرا سدھایا ہوا کتا جو شکار تیرے لئے کھیلے تو اسے کھالے، حضرت عدی نے پوچھا اگرچہ اس نے اس میں سے کھالیا ہو فرمایا ہاں پھر بھی، ان آثار اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتے نے شکار کو گو کھالیا ہو تاہم بقیہ شکار شکاری کھا سکتا ہے۔ کتے وغیرہ کے کھائے ہوئے شکار کو حرام نہ کہنے والوں کے یہ دلائل ہیں۔ ایک اور جماعت ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہے وہ کہتی ہے کہ اگر شکار پکڑتے ہی کھانے بیٹھ گیا تو بقیہ حرام اور اگر شکار پکڑ کر اپنے مالک کا انتظار کیا اور باوجود خاصی دیر گزر جانے کے اپنے مالک کو نہ پایا اور بھوک کی وجہ سے اسے کھالیا تو بقیہ حلال۔ پہلی بات پر محمول ہے حضرت عدی والی حدیث اور دوسری پر محمول ہے ابو ثعلبہ والی حدیث میں۔ یہ فرق بھی بہت اچھا ہے اور اس سے دو صحیح حدیثیں بھی جمع ہوجاتی ہیں۔ استاذ ابو المعالی جوینی نے اپنی کتاب نہایہ میں یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ کاش کوئی اس بارے میں یہ وضاحت کرے تو الحمد اللہ یہ وضاحت لوگوں نے کرلی۔ اس مسئلہ میں ایک چوتھا قول بھی ہے وہ یہ کہ کتے کا کھایا ہوا شکار تو حرام ہے جیسا کہ حضرت عدی کی حدیث میں ہے، اور شکرے وغیرہ کا کھایا ہوا شکار حرام نہیں اس لئے کہ وہ تو کھانے سے ہی تعلیم قبول کرتا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر پرند اپنے مالک کے پاس لوٹ آیا اور مار سے نہیں پھر وہ پر نوچے اور گوشت کھائے تو کھالے۔ ابراہیم نخعی، شعبی، حماد بن سلیمان یہی کہتے ہیں ان کی دلیل ابن ابی حاتم کی یہ روایت ہے کہ حضرت عدی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم لوگ کتوں اور باز سے شکار کھیلا کرتے ہیں تو ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ آپ نے فرمایا جو شکاری جانور یا شکار حاصل کرنے والے خود شکار کرنے والے اور سدھائے ہوئے تمہارے لئے شکار روک رکھیں اور تم نے ان پر اللہ کا نام لے لیا ہو اسے تم کھالو۔ پھر فرمایا جسے کتے کو تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو وہ جس جانور کو روک رکھے تو اسے کھالے میں نے کہا گو اسے مار ڈالا ہو فرمایا گو مار ڈالا ہو لیکن یہ شرط ہے کہ کھایا نہ ہو میں نے کہا اگر اس کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں ؟ تو ؟ فرمایا پھر نہ کھا جب تک کہ تجھے اس بات کا پورا اطمینان نہ ہو کہ تیرے ہی کتے نے شکار کیا ہے۔ میں نے کہا ہم لوگ تیر سے بھی شکار کیا کرتے ہیں اس میں سے کونسا حلال ہے ؟ فرمایا جو تیر زخمی کرے اور تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو اسے کھالے، وجہ دلالت یہ ہے کہ کتے میں نہ کھانے کی شرط آپ نے بتائی اور باز میں نہیں بتائی، پس ان دونوں میں فرق ثابت ہوگیا واللہ اعلم۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ تم کھالو جن حلال جانوروں کو تمہارے یہ شکاری جانور پکڑ لیں اور تم نے ان کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لے لیا ہو۔ جیسے کہ حضرت عدی اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیث میں ہے اسی لئے حضرت امام احمد وغیرہ اماموں نے یہ شرط ضروری بتلائی ہے کہ شکار کیلئے جانور کو چھوڑتے وقت اور تیر چلاتے وقت بسم اللہ پڑھنا شرط ہے۔ جمہوری کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس آیت اور اس حدیث سے مراد جانور کے چھوڑنے کا وقت ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ اپنے شکاری جانور کو بھیجتے وقت بسم اللہ کہہ لے ہاں اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مراد کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا ہے۔ جیسے کہ بخاری و مسلم میں عمر بن ابو سلمہ کے ربیبہ کو حضور ﷺ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ اللہ کا نام لے اور اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھا۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے حضور ﷺ سے پوچھا لوگ ہمارے پاس جو لوگ گوشت لاتے ہیں وہ نو مسلم ہیں ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا بھی ہے یا نہیں ؟ تو کیا ہم اسے کھا لیں آپ نے فرمایا تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھالو۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ چھ صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی نے آ کردو لقمے اس میں سے اٹھائے آپ نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ کہہ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کافی ہوجاتا تم میں سے جب کوئی کھانے بیٹھے تو بسم اللہ پڑھ لیا کرے اگر اول میں بھول گیا تو جب یاد آجائے کہہ دے دعا (بسم اللہ اولہ و اخرہ) یہی حدیث منقطع سند کے ساتھ ابن ماجہ میں بھی ہے۔ دوسری سند سے یہ حدیث ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور مسند احمد میں ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔ جابربن صبیح فرماتے ہیں۔ حضرت مثنی بن عبدالرحمن خزاعی کے ساتھ میں نے واسط کا سفر کیا ان کی عادت یہ تھی کہ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہہ لیتے اور آخری لقمہ کے وقت دعا (بسم اللہ اولہ اخرہ) کہہ لیا کرتے اور مجھ سے انہوں نے فرمایا کہ خالد بن امیہ بن مخشی صحابی کا فرمان ہے کہ شیطان اس شخص کے ساتھ کھانا کھاتا رہتا ہے جس نے اللہ کا نام نہ لیا ہو جب کھانے والا اللہ کا نام یاد کرتا ہے تو اسے قے ہوجاتی ہے اور جتنا اس نے کھایا ہے سب نکل جاتا ہے (مسند احمد وغیرہ) اس کے راوی کو ابن معین اور نسائی تو ثقہ کہتے ہیں لیکن ابو الفتح ازوی فرماتے ہیں یہ دلیل لینے کے قابل راوی نہیں۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں ہم نبی ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک لڑکی گرتی پڑتی آئی، جیسے کوئی اسے دھکے دے رہا ہو اور آتے ہی اس نے لقمہ اٹھانا چاہا حضور ﷺ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور ایک اعرابی بھی اسی طرح آیا اور پیالے میں ہاتھ ڈالا آپ نے اس کا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور فرمایا جب کسی کھانے پر بسم اللہ نہ کہی جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال کرلیتا ہے وہ پہلے تو اس لڑکی کے ساتھ آیا تاکہ ہمارا کھانا کھائے تو میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا پھر وہ اعرابی کے ساتھ میں نے اس کا بھی ہاتھ تھام لیا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے (مسند، مسلم، ابو داؤد، نسائی) مسلم، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں ہے کہ جب انسان اپنے گھر میں جاتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ کا نام یاد کرلیا کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اسے شیطانو نہ تو تمہارے لئے رات گزارنے کی جگہ ہے نہ اس کا کھانا اور جب وہ گھر میں جاتے ہوئے کھاتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ پکار دیتا ہے کہ تم نے شب باشی کی اور کھانا کھانے کی جگہ پالی۔ مسند، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ ہم کھاتے ہیں اور ہمارا پیٹ نہیں بھرتا تو آپ نے فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے کھانا سب مل کر کھاؤ اور بسم اللہ کہہ لیا کرو اس میں اللہ کی طرف سے برکت دی جائے گی۔
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 احکام جرم و سزا حضرت ابن مسعود کی قرأت میں (فاقطعوا ایمانھما) ہے لیکن یہ قرأت شاذ ہے گو عمل اسی پر ہے لیکن وہ عمل اس قرأت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسرے دلائل کی بناء پر ہے۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا طریقہ اسلام سے پہلے بھی تھا اسلام نے اسے تفصیل وار اور منظم کردیا اسی طرح قسامت دیت فرائض کے مسائل بھی پہلے تھے لیکن غیر منظم اور ادھورے۔ اسلام نے انہیں ٹھیک ٹھاک کردیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے دو یک نامی ایک خزاعی شخص کے ہاتھ چوری کے الزام میں قریش نے کاٹے تھے اس نے کعبے کا غلام چرایا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چوروں نے اس کے پاس رکھ دیا تھا۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ چوری کی چیز کی کوئی حد نہیں تھوڑی ہو یا بہت محفوظ جگہ سے لی ہو یا غیر محفوظ جگہ سے بہر صورت ہاتھ کاٹا جائے گا۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت عام ہے تو ممکن ہے اس قول کا یہی مطلب ہو اور دوسرے مطالب بھی ممکن ہیں۔ ایک دلیل ان حضرات کی یہ حدیث بھی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے کہ انڈا چراتا ہے اور ہاتھ کٹواتا ہے رسی چرائی ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے، جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ چوری کے مال کی حد مقرر ہے۔ گو اس کے تقرر میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں تین درہم سکے والے خالص یا ان کی قیمت یا زیادہ کی کوئی چیز چناچہ صحیح بخاری مسلم میں حضور ﷺ کا ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹنا مروی ہے اور اس کی قیمت اتنی ہی تھی۔ حضرت عثمان نے اترنج کے چور کے ہاتھ کاٹے تھے جبکہ وہ تین درہم کی قیمت کا تھا۔ حضرت عثمان کا فعل گویا صحابہ کا جماع سکوتی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پھل کے چور کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حنفیہ اسے نہیں مانتے اور ان کے نزدیک چوری کے مال کا دس درہم کی قیمت کا ہونا ضروری ہے۔ اس میں شافعیہ کا اختلاف ہے پاؤ یا دینار کے تقرر میں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ پاؤ دینار کی قیمت کی چیز ہو یا اس سے زیادہ۔ ان کی دلیل بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ پاؤ دینار میں پھر جو اس سے اوپر ہو اس میں کاٹنا چاہئے مسلم کی ایک حدیث میں ہے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر پاؤ دینار پھر اس سے اوپر میں۔ پس یہ حدیث اس مسئلے کا صاف فیصلہ کردیتی ہے اور جس حدیث میں تین درہم میں حضور ﷺ سے ہاتھ کاٹنے کو فرمانا مروی ہے وہ اس کے خلاف نہیں اس لئے کہ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا۔ پس اصل چوتھائی دینار ہے نہ کہ تین درہم۔ حضرت عمر بن خطاب حضرت عثمان بن عفان حضرت علی بن ابی طالب بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز لیث بن سعد اوزاعی شافعی اسحاق بن راہویہ ابو ثور داؤد بن علی ظاہری کا بھی یہی قول ہے۔ ایک روایت میں امام اسحاق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ خواہ ربع دینار ہو خواہ تین درہم دونوں ہی ہاتھ کاٹنے کا نصاب ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹ دو اس سے کم میں نہیں۔ اس وقت دینار بارہ درہم کا تھا تو چوتھائی دینار تین درہم کا ہوا۔ نسائی میں ہے چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہ کاٹا جائے۔ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا ڈھال کی قیمت کیا ہے ؟ فرمایا پاؤ دینار۔ پس ان تمام احادیث سے صاف صاف ثابت ہو رہا ہے کہ دس درہم شرط لگانی کھلی غلطی ہے واللہ اعلم۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ جس ڈھال کے بارے میں حضور ﷺ کے زمانے میں چور کا ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت نو درہم تھی چناچہ ابوبکر بن شیبہ میں یہ موجود ہے اور عبداللہ بن عمر سے۔ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمرو مخالفت کرتے رہے ہیں اور حدود کے بارے میں اختیار پر عمل کرنا چاہئے اور احتیاط زیادتی میں ہے اس لئے دس درہم نصاب ہم نے مقرر کیا ہے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ دس درہم یا ایک دینار حد ہے علی ابن مسعود ابراہیم نخعی ابو جعفر باقر سے یہی مروی ہے۔ سعید بن جیر فرماتے ہیں پانچوں نہ کاٹی جائیں مگر پانچ دینار پچاس درہم کی قیمت کے برابر کے مال کی چوری میں۔ ظاہریہ کا مذہب ہے کہ ہر تھوڑی بہت چیز کی چوری پر ہاتھ کٹے گا انہیں جمہور نے یہ جواب دیا ہے کہ اولاً تو یہ اطلاق منسوخ ہے لیکن یہ جواب ٹھیک نہیں اس لئے تاریخ نسخ کا کوئی یقینی عمل نہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد کشتیوں کے قیمتی رسے ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ فرمان باعتبار نتیجے کے ہے یعنی ان چھوٹی چھوٹی معمولی سی چیزوں سے چوری شروع کرتا ہے آخر قیمتی چیزیں چرانے لگتا ہے اور ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ بطور افسوس کے اوپر چور کو نادم کرنے کے فرما رہے ہیں کہ کیسا رذیل اور بےخوف انسان ہے کہ معمولی چیز کیلئے ہاتھ جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ مذکور ہے کہ ابو العلام معری جب بغداد میں آیا تو اس نے اس بارے میں بڑے اعتراض شروع کئے اور اس کے جی میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ میرے اس اعتراض کا جواب کسی سے نہیں ہوسکتا تو اس نے ایک شعر کہا کہ اگر ہاتھ کاٹ ڈالا جائے تو دیت میں پانچ سو دلوائیں اور پھر اسی ہاتھ کو پاؤ دینار کی چوری پر کٹوا دیں یہ ایسا تناقض ہے کہ ہماری سمجھ میں تو آتا ہی نہیں خاموش ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مولا ہمیں جہنم سے بچائے۔ لیکن جب اس کی یہ بکواس مشہور ہوئی تو علماء کرام نے اسے جواب دینا چاہا تو یہ بھاگ گیا پھر جواب بھی مشہور کردیئے گئے۔ قاضی عبد الوہاب نے جواب دیا تھا کہ جب تک ہاتھ امین تھا تب تک ثمین یعنی قیمتی تھا اور جب یہ خائن ہوگیا اس نے چوری کرلی تو اس کی قیمت گھٹ گئی۔ بعض بزرگوں نے اسے قدرے تفصیل سے جواب دیا تھا کہ اس سے شریعت کی کامل حکمت ظاہر ہوتی ہے اور دنیا کا امن وامان قائم ہوتا ہے، جو کسی کا ہاتھ بےوجہ کاٹ دینے کا حکم دیا تاکہ چوری کا دروازہ اس خوف سے بند ہوجائے۔ پس یہ تو عین حکمت ہے اگر چوری میں بھی اتنی رقم کی قید لگائی جاتی تو چوریوں کا انسداد نہ ہوتا۔ یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا۔ مناسب مقام یہی ہے کہ جس عضو سے اس نے دوسرے کو نقصان پہنچایا ہے، اسی عضو پر سزا ہو۔ تاکہ انہیں کافی عبرت حاصل ہو اور دوسروں کو بھی تنبیہہ ہوجائے۔ اللہ اپنے انتقام میں غالب ہے اور اپنے احکام میں حکیم ہے۔ جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کرلے اور اللہ کی طرف جھک جائے، اللہ اسے اپنا گناہ معاف فرما دیا کرتا ہے۔ ہاں جو مال چوری میں کسی کا لے لیا ہے چونکہ وہ اس شخص کا حق ہے، لہذا صرف توبہ کرنے سے وہ معاف نہیں ہوتا تاوقتیکہ وہ مال جس کا ہے اسے نہ پہنچائے یا اس کے بدلے پوری پوری قیمت ادا کرے۔ جمہور ائمہ کا یہی قول ہے، صرف امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ " جب چوری پر ہاتھ کٹ گیا اور مال تلف ہوچکا ہے تو اس کا بدلہ دینا اس پر ضروری نہیں "۔ دار قطنی وغیرہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے کہ " ایک چور حضور ﷺ کے سامنے لایا گیا، جس نے چادر چرائی تھی، آپ نے اس سے فرمایا، میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی، انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ میں نے چوری کی ہے تو آپ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو جب ہاتھ کٹ چکا اور آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا توبہ کرو، انہوں نے توبہ کی، آپ نے فرمایا اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی " ؓ ابن ماجہ میں ہے کہ " حضرت عمر بن سمرہ حضور ﷺ کے پاس آکر کہتے ہیں کہ مجھ سے چوری ہوگئی ہے تو آپ مجھے پاک کیجئے، فلاں قبیلے والوں کا اونٹ میں نے چرا لیا ہے۔ آپ نے اس قبیلے والوں کے پاس آدمی بھیج کر دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا اونٹ تو ضرور گم ہوگیا ہے۔ آپ نے حکم دیا اور ان کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا وہ ہاتھ کٹنے پر کہنے لگے، اللہ کا شکر ہے جس نے تجھے میرے جسم سے الگ کردیا، تو نے میرے سارے جسم کو جہنم میں لے جانا چاہا تھا " ؓ ابن جریر میں ہے کہ " ایک عورت نے کچھ زیور چرا لئے، ان لوگوں نے حضور ﷺ کے پاس اسے پیش کیا، آپ نے اس کا داہنا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، جب کٹ چکا تو اس عورت نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا میری توبہ بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا تم تو ایسی پاک صاف ہوگئیں کہ گویا آج ہی پیدا ہوئی "۔ اس پر آیت (فمن تاب) نازل ہوئی۔ مسند میں اتنا اور بھی ہے کہ اس وقت اس عورت والوں نے کہا ہم اس کا فدیہ دینے کو تیار ہے لیکن آپ نے اسے قبول نہ فرمایا اور ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ یہ عورت مخزوم قبیلے کی تھی اور اس کا یہ واقعہ بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ چونکہ یہ بڑی گھرانے کی عورت تھی، لوگوں میں بڑی تشویش پھیلی اور ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں کچھ کہیں سنیں، یہ واقعہ غزوہ فتح میں ہوا تھا، بالاخر یہ طے ہوا کہ حضرت اسامہ بن زید جو رسول اللہ ﷺ کے بہت پیارے ہیں، وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے سفارش کریں، حضرت اسامہ نے جب اس کی سفارش کی تو حضور ﷺ کو سخت ناگوار گزرا اور غصے سے فرمایا ! اسامہ تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہا ہے ؟ اب تو حضرت اسامہ بہت گھبرائے اور کہنے لگے مجھ سے بڑی خطا ہوئی، میرے لئے آپ استفغار کیجئے۔ شام کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ایک خطبہ سنایا جس میں اللہ تعالیٰ کی پوری حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اسی خصلت پر تباہ و برباد ہوگئے کہ ان میں سے جب کوئی شریف شخص بڑا آدمی چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کریں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹ دوں۔ پھر حکم دیا اور اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ حضرت صدیقہ فرماتی ہیں پھر اس بیوی صاحبہ نے توبہ کی اور پوری اور پختہ توبہ کی اور نکاح کرلیا، پھر وہ میرے پاس اپنے کسی کام کاج کیلئے آتی تھیں اور میں اس کی حاجت آنحضرت ﷺ سے بیان کردیا کرتی تھی۔ ؓ " مسلم میں ہے ایک عورت لوگوں سے اسباب ادھار لیتی تھی، پھر انکار کر جایا کرتی تھی، حضور ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا " اور روایت میں ہے یہ زیور ادھار لیتی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم حضرت بلال کو ہوا تھا۔ کتاب الاحکام میں ایسی بہت سی حدیثیں وارد ہیں جو چوری سے تعلق رکھتی ہیں۔ فالحمد للہ۔ جمیع مملوک کا مالک ساری کائنات کا حقیقی بادشاہ، سچا حاکم، اللہ ہی ہے۔ جس کے کسی حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔ جس کے کسی ارادے کو کوئی بدل نہیں سکتا، جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ ہر ہر چیز پر وہ قادر ہے اس کی قدرت کامل اور اس کا قبضہ سچا ہے۔
۞ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا ۛ سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا ۚ وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
📘 جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کردیا تھا، اب کہنے لگے چلو حضور ﷺ کے پاس چلیں اگر آپ دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کرلیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔ لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زنا کاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ حضور ﷺ کے پاس چلیں اور آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہوجائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چناچہ یہ آئے اور حضور ﷺ سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ لاؤ تورات پیش کرو، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ سمجھ گئے اور آپ نے فرمایا اپنے ہاتھ کو تو ہٹا، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر حضور ﷺ کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کردیا گیا، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں " میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا " (بخاری مسلم) اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا " ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں "۔ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑگئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو ؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا ؟ اس نے کہا حضرت ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زنا کاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کردی جائے۔ چناچہ حضور ﷺ نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت (انا انزلنا) الخ، اتری۔ پس آنحضرت ﷺ بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں (احمد ابو داؤد) مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے ؟ کہا ہاں۔ آپ نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زنا کاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لئے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لئے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چناچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کردیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چناچہ انہیں رجم کردیا گیا اور آپ نے فرمایا اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا۔ اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ) 5۔ المائدہ :41) سے (ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ) 5۔ المائدہ :44) تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں۔ اور آیت میں ہے کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں اور آیت میں ہے (فاسق ہیں (مسلم وغیرہ اور روایت میں ہے " واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر حضور ﷺ سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور ﷺ نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قول دیا تھا، آپ نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کردی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من وسلویٰ اتارا تھا۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا حضور ﷺ تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہوجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا "۔ اس پر آیت (فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 5۔ المائدہ :42) ، اتری (ابو داؤد وغیرہ) ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لئے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ ﷺ کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو حضور ﷺ کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کرلیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہوگیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں اور اس لئے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے حضور ﷺ کے پاس اس لئے نہیں آئے تھے کہ آپ کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لئے آئے تھے کہ اگر آپ کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کرلیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے، اسی لئے فرمان ہے کہ " جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خواہ ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے ؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا ؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے "۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے (وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) 5۔ المائدہ :49) پھر فرمایا " اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گویہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔ پھر انی کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ " ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے "۔ یہ فرمایا کہ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے ؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار نہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بےایمانی کر کے اس سے پھرجاتے ہیں۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ اب تمہیں چاہئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے انشاء اللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب حضور ﷺ مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔ یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ حضرت محمد ﷺ جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت محمد ﷺ کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ حضور ﷺ کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے آنحضرت ﷺ کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقینا تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو حضور ﷺ کے پاس چپکے سے بھیج دو ، وہ معلوم کر آئے کہ آپ فیصلہ کیا کریں گے ؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چناچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر حضرت ﷺ کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول ﷺ کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلوع فرما دیا (ابو داؤد) ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ حضور ﷺ نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں واللہ اعلم۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت (وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ۭ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 5۔ المائدہ :45) یعنی ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کردیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ۔ واللہ اعلم۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔ سدی فرماتے ہیں جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور شعبی فرماتے ہیں " مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے "۔ طاؤس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو "۔ عطا فرماتے ہیں " کتم (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھرجانے والا جاتا ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو "۔
سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
📘 جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کردیا تھا، اب کہنے لگے چلو حضور ﷺ کے پاس چلیں اگر آپ دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کرلیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔ لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زنا کاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ حضور ﷺ کے پاس چلیں اور آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہوجائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چناچہ یہ آئے اور حضور ﷺ سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ لاؤ تورات پیش کرو، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ سمجھ گئے اور آپ نے فرمایا اپنے ہاتھ کو تو ہٹا، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر حضور ﷺ کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کردیا گیا، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں " میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا " (بخاری مسلم) اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا " ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں "۔ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑگئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو ؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا ؟ اس نے کہا حضرت ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زنا کاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کردی جائے۔ چناچہ حضور ﷺ نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت (انا انزلنا) الخ، اتری۔ پس آنحضرت ﷺ بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں (احمد ابو داؤد) مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے ؟ کہا ہاں۔ آپ نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زنا کاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لئے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لئے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چناچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کردیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چناچہ انہیں رجم کردیا گیا اور آپ نے فرمایا اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا۔ اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ) 5۔ المائدہ :41) سے (ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ) 5۔ المائدہ :44) تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں۔ اور آیت میں ہے کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں اور آیت میں ہے (فاسق ہیں (مسلم وغیرہ اور روایت میں ہے " واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر حضور ﷺ سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور ﷺ نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قول دیا تھا، آپ نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کردی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من وسلویٰ اتارا تھا۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا حضور ﷺ تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہوجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا "۔ اس پر آیت (فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 5۔ المائدہ :42) ، اتری (ابو داؤد وغیرہ) ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لئے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ ﷺ کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو حضور ﷺ کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کرلیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہوگیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں اور اس لئے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے حضور ﷺ کے پاس اس لئے نہیں آئے تھے کہ آپ کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لئے آئے تھے کہ اگر آپ کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کرلیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے، اسی لئے فرمان ہے کہ " جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خواہ ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے ؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا ؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے "۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے (وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) 5۔ المائدہ :49) پھر فرمایا " اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گویہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔ پھر انی کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ " ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے "۔ یہ فرمایا کہ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے ؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار نہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بےایمانی کر کے اس سے پھرجاتے ہیں۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ اب تمہیں چاہئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے انشاء اللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب حضور ﷺ مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔ یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ حضرت محمد ﷺ جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت محمد ﷺ کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ حضور ﷺ کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے آنحضرت ﷺ کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقینا تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو حضور ﷺ کے پاس چپکے سے بھیج دو ، وہ معلوم کر آئے کہ آپ فیصلہ کیا کریں گے ؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چناچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر حضرت ﷺ کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول ﷺ کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلوع فرما دیا (ابو داؤد) ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ حضور ﷺ نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں واللہ اعلم۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت (وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ۭ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 5۔ المائدہ :45) یعنی ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کردیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ۔ واللہ اعلم۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔ سدی فرماتے ہیں جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور شعبی فرماتے ہیں " مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے "۔ طاؤس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو "۔ عطا فرماتے ہیں " کتم (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھرجانے والا جاتا ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو "۔
وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِنْدَهُمُ التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا أُولَٰئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ
📘 جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کردیا تھا، اب کہنے لگے چلو حضور ﷺ کے پاس چلیں اگر آپ دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کرلیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔ لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زنا کاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ حضور ﷺ کے پاس چلیں اور آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہوجائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چناچہ یہ آئے اور حضور ﷺ سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ لاؤ تورات پیش کرو، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ سمجھ گئے اور آپ نے فرمایا اپنے ہاتھ کو تو ہٹا، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر حضور ﷺ کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کردیا گیا، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں " میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا " (بخاری مسلم) اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا " ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں "۔ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑگئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو ؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا ؟ اس نے کہا حضرت ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زنا کاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کردی جائے۔ چناچہ حضور ﷺ نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت (انا انزلنا) الخ، اتری۔ پس آنحضرت ﷺ بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں (احمد ابو داؤد) مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے ؟ کہا ہاں۔ آپ نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زنا کاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لئے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لئے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چناچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کردیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چناچہ انہیں رجم کردیا گیا اور آپ نے فرمایا اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا۔ اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ) 5۔ المائدہ :41) سے (ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ) 5۔ المائدہ :44) تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں۔ اور آیت میں ہے کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں اور آیت میں ہے (فاسق ہیں (مسلم وغیرہ اور روایت میں ہے " واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر حضور ﷺ سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور ﷺ نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قول دیا تھا، آپ نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کردی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من وسلویٰ اتارا تھا۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا حضور ﷺ تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہوجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا "۔ اس پر آیت (فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 5۔ المائدہ :42) ، اتری (ابو داؤد وغیرہ) ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لئے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ ﷺ کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو حضور ﷺ کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کرلیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہوگیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں اور اس لئے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے حضور ﷺ کے پاس اس لئے نہیں آئے تھے کہ آپ کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لئے آئے تھے کہ اگر آپ کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کرلیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے، اسی لئے فرمان ہے کہ " جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خواہ ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے ؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا ؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے "۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے (وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) 5۔ المائدہ :49) پھر فرمایا " اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گویہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔ پھر انی کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ " ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے "۔ یہ فرمایا کہ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے ؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار نہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بےایمانی کر کے اس سے پھرجاتے ہیں۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ اب تمہیں چاہئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے انشاء اللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب حضور ﷺ مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔ یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ حضرت محمد ﷺ جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت محمد ﷺ کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ حضور ﷺ کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے آنحضرت ﷺ کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقینا تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو حضور ﷺ کے پاس چپکے سے بھیج دو ، وہ معلوم کر آئے کہ آپ فیصلہ کیا کریں گے ؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چناچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر حضرت ﷺ کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول ﷺ کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلوع فرما دیا (ابو داؤد) ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ حضور ﷺ نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں واللہ اعلم۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت (وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ۭ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 5۔ المائدہ :45) یعنی ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کردیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ۔ واللہ اعلم۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔ سدی فرماتے ہیں جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور شعبی فرماتے ہیں " مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے "۔ طاؤس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو "۔ عطا فرماتے ہیں " کتم (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھرجانے والا جاتا ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو "۔
إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ
📘 جھوٹ سننے اور کہنے کے عادی لوگ ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، جو رائے، قیاس اور خواہش نفسانی کو اللہ کی شریعت پر مقدم رکھتے ہیں۔ اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت سے نکل کر کفر کی طرف دوڑتے بھاگتے رہتے ہیں۔ گویہ لوگ زبانی ایمان کے دعوے کریں لیکن ان کا دل ایمان سے خالی ہے۔ منافقوں کی یہی حالت ہے کہ زبان کے کھرے، دل کے کھوٹے اور یہی خصلت یہودیوں کی ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں۔ یہ جھوٹ کو مزے مزے سے سنتے ہیں اور دل کھول کر قبول کرتے ہیں۔ لیکن سچ سے بھاگتے ہیں، بلکہ نفرت کرتے ہیں اور جو لوگ آپ کی مجلس میں نہیں آتے یہ یہاں کی وہاں پہنچاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جاسوسی کرنے کو آتے ہیں۔ پھر نالائقی یہ کرتے ہیں کہ یہ بات کو بدل ڈالا کرتے ہیں مطلب کچھ ہو، لے کر کچھ اڑتے ہیں، ارادے یہی ہیں کہ اگر تمہاری خواہش کے مطابق کہے تو مان لو، طبیعت کے خلاف ہو تو دور رہو۔ کہا کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں اتری تھی جن میں ایک کو دوسرے نے قتل کردیا تھا، اب کہنے لگے چلو حضور ﷺ کے پاس چلیں اگر آپ دیت جرمانے کا حکم دیں تو منظور کرلیں گے اور اگر قصاص بدلے کو فرمائیں تو نہیں مانیں گے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک زنا کار کو لے کر آئے تھے۔ ان کی کتاب توراۃ میں دراصل حکم تو یہ تھا کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا جائے۔ لیکن انہوں نے اسے بدل ڈالا تھا اور سو کوڑے مار کر، منہ کالا کر کے، الٹا گدھا سوار کر کے رسوائی کر کے چھوڑ دیتے تھے۔ جب ہجرت کے بعد ان میں سے کوئی زنا کاری کے جرم میں پکڑا گیا تو یہ کہنے لگے آؤ حضور ﷺ کے پاس چلیں اور آپ سے اس کے بارے میں سوال کریں، اگر آپ بھی وہی فرمائیں جو ہم کرتے ہیں تو اسے قبول کریں گے اور اللہ کے ہاں بھی یہ ہماری سند ہوجائے گی اور اگر رجم کو فرمائیں گے تو نہیں مانیں گے۔ چناچہ یہ آئے اور حضور ﷺ سے ذکر کیا کہ ہمارے ایک مرد عورت نے بدکاری کی ہے، ان کے بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہارے ہاں توراۃ میں کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا ہم تو اسے رسوا کرتے ہیں اور کوڑے مار کر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا، جھوٹ کہتے ہیں، تورات میں سنگسار کا حکم ہے۔ لاؤ تورات پیش کرو، انہوں نے تورات کھولی لیکن آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی سب عبارت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ سمجھ گئے اور آپ نے فرمایا اپنے ہاتھ کو تو ہٹا، ہاتھ ہٹایا تو سنگسار کرنے کی آیت موجود تھی، اب تو انہیں بھی اقرار کرنا پڑا۔ پھر حضور ﷺ کے حکم سے زانیوں کو سنگسار کردیا گیا، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں " میں نے دیکھا کہ وہ زانی اس عورت کو پتھروں سے بچانے کیلئے اس کے آڑے آجاتا تھا " (بخاری مسلم) اور سند سے مروی ہے کہ یہودیوں نے کہا " ہم تو اسے کالا منہ کر کے کچھ مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں "۔ اور آیت کے ظاہر ہونے کے بعد انہوں نے کہا، ہے تو یہی حکم لیکن ہم نے تو اسے چھپایا تھا، جو پڑھ رہا تھا اسی نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا، جب اس کا ہاتھ اٹھوایا تو آیت پر اچٹتی ہوئی نظر پڑگئی۔ ان دونوں کے رجم کرنے والوں میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی موجود تھے، ایک اور روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے اپنے آدمی بھیج کر آپ کو بلوایا تھا، اپنے مدرسے میں گدی پر آپ کو بٹھایا تھا اور جو اب تورات آپ کے سامنے پڑھ رہا تھا، وہ ان کا بہت بڑا عالم تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ان سے قسم دے کر پوچھا تھا کہ تم تورات میں شادی شدہ زانی کی کیا سزا پاتے ہو ؟ تو انہوں نے یہی جواب دیا تھا لیکن ایک نوجوان کچھ نہ بولا، خاموش ہی کھڑا رہا، آپ نے اس کی طرف دیکھ کر خاص اسے دوبارہ قسم دی اور جواب مانگا، اس نے کہا جب آپ ایسی قسمیں دے رہے ہیں تو میں جھوٹ نہ بولوں گا، واقعی تورات میں ان لوگوں کی سزا سنگساری ہے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر یہ بھی سچ سچ بتاؤ کہ پہلے پہل اس رجم کو تم نے کیوں اور کس پر سے اڑایا ؟ اس نے کہا حضرت ہمارے کسی بادشاہ کے رشتے دار، بڑے آدمی نے زنا کاری کی۔ اس کی عظمت اور بادشاہ کی ہیبت کے مارے اسے رجم کرو ورنہ اسے بھی چھوڑو۔ آخر ہم نے مل ملا کر یہ طے کیا کہ بجائے رجم کے اس قسم کی کوئی سزا مقرر کردی جائے۔ چناچہ حضور ﷺ نے توراۃ کے حکم کو جاری کیا اور اسی بارے میں آیت (انا انزلنا) الخ، اتری۔ پس آنحضرت ﷺ بھی ان احکام کے جاری کرنے والوں میں سے ہیں (احمد ابو داؤد) مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص کو یہودی کالا منہ کئے لے جا رہے تھے اور اسے کوڑے بھی مار رکھے تھے، تو آپ نے بلا کر ان سے ماجرا پوچھا انہوں نے کہا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا زانی کی یہی سزا تمہارے ہاں ہے ؟ کہا ہاں۔ آپ نے ان کے ایک عالم کو بلا کر اسے سخت قسم دے کر پوچھا تو اس نے کہا کہ اگر آپ ایسی قسم نہ دیتے تو میں ہرگز نہ بتاتا، بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں دراصل زنا کاری کی سزا سنگساری ہے لیکن چونکہ امیر امراء اور شرفاء لوگوں میں یہ بدکاری بڑھ گئی تھی اور انہیں اس قسم کی سزا دینی ہم نے مناسب نہ جانی، اس لئے انہیں تو چھوڑ دیتے تھے اور اللہ کا حکم مارا نہ جائے اس لئے غریب غرباء، کم حیثیت لوگوں کو رجم کرا دیتے تھے پھر ہم نے رائے زنی کی کہ آؤ کوئی ایسی سزا تجویز کرو کہ شریف و غیر شریف، امیر غریب پر سب پر یکساں جاری ہو سکے چناچہ ہمارا سب کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ منہ کالے کردیں اور کوڑے لگائیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ان دونوں کو سنگسار کرو چناچہ انہیں رجم کردیا گیا اور آپ نے فرمایا اے اللہ میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے ایک مردہ حکم کو زندہ کیا۔ اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ) 5۔ المائدہ :41) سے (ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ) 5۔ المائدہ :44) تک نازل ہوئی۔ انہی یہودیوں کے بارے میں۔ اور آیت میں ہے کہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے ظالم ہیں اور آیت میں ہے (فاسق ہیں (مسلم وغیرہ اور روایت میں ہے " واقعہ زنا فدک میں ہوا تھا اور وہاں کے یہودیوں نے مدینے شریف کے یہودیوں کو لکھ کر حضور ﷺ سے پچھوایا تھا جو عالم ان کا آیا اس کا نام ابن صوریا تھا، یہ آنکھ کا بھینگا تھا، اور اس کے ساتھ دوسرا عالم بھی تھا۔ حضور ﷺ نے جب انہیں قسم دی تو دونوں نے قول دیا تھا، آپ نے انہیں کہا تھا، تمہیں اس اللہ کی قسم جس نے بنو اسرائیل کیلئے پانی میں راہ کردی تھی اور ابر کا سایہ ان پر کیا تھا اور فرعونیوں سے بچا لیا تھا اور من وسلویٰ اتارا تھا۔ اس قسم سے وہ چونک گئے اور آپس میں کہنے لگے بڑی زبردست قسم ہے، اس موقع پر جھوٹ بولنا ٹھیک نہیں تو کہا حضور ﷺ تورات میں یہ ہے کہ بری نظر سے دیکھنا بھی مثل زنا کے ہے اور گلے لگانا بھی اور بوسہ لینا بھی، پھر اگر چار گواہ اس بات کے ہوں کہ انہوں نے دخول خروج دیکھا ہے جیسا کہ سلائی سرمہ دانی میں جاتی آتی ہے تو رجم واجب ہوجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا یہی مسئلہ ہے پھر حکم دیا اور انہیں رجم کرا دیا گیا "۔ اس پر آیت (فَاِنْ جَاۗءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ۚ وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَـيْـــًٔـا ۭوَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بالْقِسْطِ ۭاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ) 5۔ المائدہ :42) ، اتری (ابو داؤد وغیرہ) ایک روایت میں جو دو عالم سامنے لائے گئے تھے، یہ دونوں صوریا کے لڑکے تھے۔ ترک حد کا سبب اس روایت میں یہودیوں کی طرف سے یہ بیان ہوا ہے کہ جب ہم میں سلطنت نہ رہی تو ہم نے اپنے آدمیوں کی جان لینی مناسب نہ سمجھی پھر آپ نے گواہوں کو بلوا کر گواہی لی جنہوں نے بیان دیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے انہیں اس برائی میں دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی میں سلائی ہوتی ہے۔ دراصل توراۃ وغیرہ کا منگوانا ان کے عالموں کو بلوانا، یہ سب انہیں الزام دینے کیلئے نہ تھا، نہ اس لئے تھا کہ وہ اسی کے ماننے کے مکلف ہیں، نہیں بلکہ خود رسول اللہ ﷺ کا فرمان واجب العمل ہے، اس سے مقصد ایک تو حضور ﷺ کی سچائی کا اظہار تھا کہ اللہ کی وحی سے آپ نے یہ معلوم کرلیا کہ ان کی تورات میں بھی حکم رجم موجود ہے اور یہی نکلا، دوسرے ان کی رسوائی کہ انہیں پہلے کے انکار کے بعد اقرار کرنا پڑا اور دنیا پر ظاہر ہوگیا کہ یہ لوگ فرمان الٰہی کو چھپا لینے والے اور اپنی رائے قیاس پر عمل کرنے والے ہیں اور اس لئے بھی کہ یہ لوگ سچے دل سے حضور ﷺ کے پاس اس لئے نہیں آئے تھے کہ آپ کی فرماں برداری کریں بلکہ محض اس لئے آئے تھے کہ اگر آپ کو بھی اپنے اجماع کے موافق پائیں گے تو اتحاد کرلیں گے ورنہ ہرگز قبول نہ کریں گے، اسی لئے فرمان ہے کہ " جنہیں اللہ گمراہ کر دے تو ان کو کسی قسم سے راہ راست آنے کا اختیار نہیں ہے ان کے گندے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ کا ارادہ نہیں، یہ دنیا میں ذلیل و خواہ ہوں گے اور آخرت میں داخل نار ہوں گے۔ یہ باطل کو کان لگا کر مزے لے کر سننے والے ہیں اور رشوت جیسی حرام چیز کو دن دہاڑے کھانے والے ہیں، بھلا ان کے نجس دل کیسے پاک ہوں گے ؟ اور ان کی دعائیں اللہ کیسے سنے گا ؟ اگر یہ تیرے پاس آئیں تو تجھے اختیار ہے کہ ان کے فیصلے کر یا نہ کر اگر تو ان سے منہ پھیر لے جب بھی یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ ان کا قصد اتباع حق نہیں بلکہ اپنی خواہشوں کی پیروی ہے "۔ بعض بزرگ کہتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے اس آیت سے (وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ) 5۔ المائدہ :49) پھر فرمایا " اگر تو ان میں فیصلے کرے تو عدل و انصاف کے ساتھ کر، گویہ خود ظالم ہیں اور عدل سے ہٹے ہوئے ہیں اور مان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔ پھر انی کی خباثت بدباطنی اور سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ " ایک طرف تو اس کتاب اللہ کو چھوڑ رکھا ہے، جس کی تابعداری اور حقانیت کے خود قائل ہیں، دوسری طرف اس جانب جھک رہے ہیں، جسے نہیں مانتے اور جسے جھوٹ مشہور کر رکھا ہے، پھر اس میں بھی نیت بد ہے کہ اگر وہاں سے ہماری خواہش ہے مطابق حکم ملے گا تو لے لیں گے، ورنہ چھوڑ چھاڑ دیں گے "۔ یہ فرمایا کہ یہ کیسے تیری فرماں برداری کریں گے ؟ انہوں نے تو تورات کو بھی چھوڑ رکھا ہے، جس میں اللہ کے احکامات ہونے کا اقرار نہیں بھی ہے لیکن پھر بھی بےایمانی کر کے اس سے پھرجاتے ہیں۔ پھر اس تورات کی مدحت و تعریف بیان فرمائی جو اس نے اپنے برگزیدہ رسول حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل فرمائی تھی کہ اس میں ہدایت و نورانیت تھی۔ انبیاء جو اللہ کے زیر فرمان تھے، اسی پر فیصلے کرتے رہے، یہودیوں میں اسی کے احکام جاری کرتے رہے، تبدیلی اور تحریف سے بچے رہے، ربانی یعنی عابد، علماء اور احبار یعنی ذی علم لوگ بھی اسی روش پر رہے۔ کیونکہ انہیں یہ پاک کتاب سونپی گئی تھی اور اس کے اظہار کا اور اس پر عمل کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ و شاہد تھے۔ اب تمہیں چاہئے کہ بجز اللہ کے کسی اور سے نہ ڈرو۔ ہاں قدم قدم اور لمحہ لمحہ پر خوف رکھو اور میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول فروخت نہ کیا کرو۔ جان لو کہ اللہ کی وحی کا حکم جو نہ مانے وہ کافر ہے۔ اس میں دو قول ہیں جو ابھی بیان ہوں گے انشاء اللہ۔ ان آیتوں کا ایک شان نزول بھی سن لیجئے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ ایسے لوگوں کو اس آیت میں تو کافر کہا دوسری میں ظالم تیسری میں فاسق۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں کے دو گروہ تھے، ایک غالب تھا، دوسرا مغلوب۔ ان کی آپس میں اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ غالب، ذی عزت فرقے کا کوئی شخص اگر مغلوب ذلیل فرقے کے کسی شخص کو قتل کر ڈالے تو پچاس وسق دیت دے اور ذلیل لوگوں میں سے کوئی عزیز کو قتل کر دے تو ایک سو وسق دیت دے۔ یہی رواج ان میں چلا آ رہا تھا۔ جب حضور ﷺ مدینے میں آئے، اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان نیچے والے یہودیوں میں سے کسی نے کسی اونچے یہودی کو مار ڈالا۔ یہاں سے آدمی گیا کہ لاؤ سو وسق دلاؤ دلواؤ، وہاں سے جواب ملا کہ یہ صریح ناانصافی ہے کہ ہم دونوں ایک ہی قبیلے کے، ایک ہی دین کے، ایک ہی نسب کے، ایک ہی شہر کے پھر ہماری دیت کم اور تمہارا زیادہ ؟ ہم چونکہ اب تک تمہارے دبے ہوئے تھے، اس ناانصافی کو بادل ناخواستہ برداشت کرتے رہے لیکن اب جب کہ حضرت محمد ﷺ جیسے عادل بادشاہ یہاں آگئے ہیں ہم تمہیں اتنی ہی دیت دیں گے جتنی تم ہمیں دو۔ اس بات پر ادھر ادھر سے آستینیں چڑھ گئیں، پھر آپس میں یہ بات طے ہوئی کہ اچھا اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت محمد ﷺ کریں گے۔ لیکن اونچی قوم کے لوگوں نے آپس میں جب مشورہ کیا تو ان کے سمجھداروں نے کہا دیکھو اس سے ہاتھ دھو رکھو کہ حضور ﷺ کوئی ناانصافی پہ مبنی حکم کریں۔ یہ تو صریح زیادتی ہے کہ ہم آدھی دیں اور پوری لیں اور فی الواقع ان لوگوں نے دب کر اسے منظور کیا تھا جو تم نے آنحضرت ﷺ کو حکم اور ثالث مقرر کیا ہے تو یقینا تمہارا یہ حق مارا جائے گا کسی نے رائے دی کہ اچھا یوں کرو، کسی کو حضور ﷺ کے پاس چپکے سے بھیج دو ، وہ معلوم کر آئے کہ آپ فیصلہ کیا کریں گے ؟ اگر ہماری حمایت میں ہوا تب تو بہت اچھا چلو اور ان سے حق حاصل کر آؤ اور اگر خلاف ہوا تو پھر الگ تھلگ ہی اچھے ہیں۔ چناچہ مدینہ کے چند منافقوں کو انہوں نے جاسوس بنا کر حضرت ﷺ کے پاس بھیجا۔ اس سے پہلے کہ وہ یہاں پہنچیں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتار کر اپنے رسول ﷺ کو ان دونوں فرقوں کے بد ارادوں سے مطلوع فرما دیا (ابو داؤد) ایک روایت میں ہے کہ یہ دونوں قبیلے بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ بنو نضیر کی پوری دیت تھی اور بنو قریظہ کی آدھی۔ حضور ﷺ نے دونوں کی دیت یکساں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ ایک روایت ہے کہ قرظی اگر کسی نضری کو قتل کر ڈالے تو اس سے قصاص لیتے تھے لیکن اس کے خلاف میں قصاص تھا ہی نہیں سو وسق دیت تھی۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ادھر یہ واقعہ ہوا، ادھر زنا کا قصہ واقع ہوا، جس کا تفصیلی بیان گزر چکا ہے ان دونوں پر یہ آیتیں نازل ہوئیں واللہ اعلم۔ ہاں ایک بات اور ہے جس سے اس دوسری شان نزول کی تقویت ہوتی ہے وہ یہ کہ اس کے بعد ہی فرمایا ہے آیت (وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيْهَآ اَنَّ النَّفْسَ بالنَّفْسِ ۙوَالْعَيْنَ بالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بالسِّنِّ ۙ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ۭ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ۭ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 5۔ المائدہ :45) یعنی ہم نے یہودیوں پر تورات میں یہ حکم فرض کردیا تھا کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ۔ واللہ اعلم۔ پھر انہیں کافی کہا گیا جو اللہ کی شریعت اور اس کی اتاری ہوئی وحی کے مطابق فیصلے اور حکم نہ کریں گو یہ آیت شان نزول کے اعتبار سے بقول مفسرین اہل کتاب کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے ہر شخص کو شامل ہے۔ بنو اسرائیل کے بارے میں اتری اور اس امت کا بھی یہی حکم ہے۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رشوت حرام ہے اور رشوت ستانی کے بعد کسی شرعی مسئلہ کے خلاف فتویٰ دینا کفر ہے۔ سدی فرماتے ہیں جس نے وحی الٰہی کے خلاف عمداً فتویٰ دیا جاننے کے باوجود اس کے خلاف کیا وہ کافر ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں جس نے اللہ کے فرمان سے انکار کیا، اس کا یہ حکم ہے اور جس نے انکار تو نہ کیا لیکن اس کے مطابق نہ کہا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ خواہ اہل کتاب ہو خواہ کوئی اور شعبی فرماتے ہیں " مسلمانوں میں جس نے کتاب کے خلاف فتویٰ دیا وہ کافر ہے اور یہودیوں میں دیا ہو تو ظالم ہے اور نصرانیوں میں دیا ہو تو فاسق ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس آیت کے ساتھ ہے "۔ طاؤس فرماتے ہیں " اس کا کفر اس کے کفر جیسا نہیں جو سرے سے اللہ کے رسول قرآن اور فرشتوں کا منکر ہو "۔ عطا فرماتے ہیں " کتم (چھپانا) کفر سے کم ہے اسی طرح ظلم و فسق کے بھی ادنیٰ اعلیٰ درجے ہیں۔ اس کفر سے وہ ملت اسلام سے پھرجانے والا جاتا ہے "۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مراد وہ کفر نہیں جس کی طرف تم جا رہے ہو "۔
وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
📘 قتل کے بدلے تقاضائے عدل ہے یہودیوں کو اور سرزنش کی جا رہی ہے کہ ان کی کتاب میں صاف لفظوں میں جو حکم تھا یہ کھلم کھلا اس کا بھی خلاف کر رہے ہیں اور سرکشی اور بےپرواہی سے اسے بھی چھوڑ رہے ہیں۔ نضری یہودیوں کو تو قرظی یہودیوں کے بدلے قتل کرتے ہیں لیکن قریظہ کے یہود کو بنو نضیر کے یہود کے عوض قتل نہیں کرتے بلکہ دیت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے شادی شدہ زانی کی سنگساری کے حکم کو بدل دیا ہے اور صرف کالا منہ کر کے رسوا کر کے مار پیٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لئے وہاں تو انہیں کافر کہا یہاں انصاف نہ کرنے کی وجہ سے انہیں ظالم کہا۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کا (والعین) پڑھنا بھی مروی ہے (ابو داؤد وغیرہ) علماء کرام کا قول ہے کہ اگلی شریعت چاہے ہمارے سامنے بطور تقرر بیان کی جائے اور منسوخ نہ ہو تو وہ ہمارے لئے بھی شریعت ہے۔ جیسے یہ احکام سب کے سب ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہیں۔ امام نووی فرماتے ہیں اس مسئلے میں تین مسلک ہیں ایک تو وہی جو بیان ہوا، ایک اس کے بالکل برعکس ایک یہ کہ صرف ابراہیمی شریعت جاری اور باقی ہے اور کوئی نہیں۔ اس آیت کے عموم سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مرد عورت کے بدلے بھی قتل کیا جائے گا کیونکہ یہاں لفظ نفس ہے جو مرد عورت دونوں کو شامل ہے۔ چناچہ حدیث شریف میں بھی ہے کہ مرد عورت کے خون کے بدلے قتل کیا جائے گا اور حدیث میں ہے کہ مسلمانوں کے خون آپس میں مساوی ہیں۔ بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ " مرد جب کسی عورت کو قتل کر دے تو اسے اس کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا بلکہ صرف دیت لی جائے گی " لیکن یہ قول جمہور کے خلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ تو فرماتے ہیں کہ " ذمی کافر کے قتل کے بدلے بھی مسلمان قتل کردیا جائے گا اور غلام کے قتل کے بدلے آزاد بھی قتل کردیا جائے گا۔ لیکن یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔ بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں " مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا نہ کیا جائے گا اور سلف کے بہت سے آثار اس بارے میں موجود ہیں کہ وہ غلام کا قصاص آزاد سے نہیں لیتے تھے اور آزاد غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔ حدیثیں بھی اس بارے میں مروی ہیں لیکن صحت کو نہیں پہنچیں۔ امام شافعی تو فرماتے ہیں اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کے خلاف اجماع ہے لیکن ان باتوں سے اس قول کا بطلان لازم نہیں آتا تاوقتیکہ آیت کے عموم کو خاص کرنے والی کوئی زبردست صاف ثابت دلیل نہ ہو۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ " حضرت انس بن نضر کی پھوپھی ربیع نے ایک لونڈی کے دانت توڑ دیئے، اب لوگوں نے اس سے معافی چاہی لیکن وہ نہ مانی۔ حضور ﷺ کے پاس معاملہ آیا آپ نے بدلہ لینے کا حکم دے دیا، اس پر حضرت انس بن نضر نے فرمایا کیا اس عورت کے سامنے کے دانت توڑ دیئے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں اے انس اللہ کی کتاب میں قصاص کا حکم موجود ہے۔ یہ سن کر فرمایا نہیں نہیں یا رسول اللہ ﷺ قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کے دانت ہرگز نہ توڑے جائیں گے، چناچہ ہوا بھی یہی کہ لوگ راضی رضامند ہوگئے اور قصاص چھوڑ دیا بلکہ معاف کردیا۔ اس وقت آپ نے فرمایا بعض بندگان رب ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پر کوئی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ اسے پوری ہی کر دے "۔ دوسری روایت میں ہے کہ " پہلے انہوں نے نہ تو معافی دی نہ دیت لینی منظور کی۔ " نسائی وغیرہ میں ہے، ایک غریب جماعت کے غلام نے کسی مالدار جماعت کے غلام کے کان کاٹ دیئے، ان لوگوں نے حضور ﷺ سے آکر عرض کیا کہ ہم لوگ فقیر مسکین ہیں، مال ہمارے پاس نہیں تو حضور ﷺ نے ان پر کوئی جرمانہ نہ رکھا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ غلام بالغ نہ ہو اور ہوسکتا ہے کہ آپ نے دیت اپنے پاس سے دے دی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان سے سفارش کر کے معاف کرا لیا ہو۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جان جان کے بدلے ماری جائے گی، آنکھ پھوڑ دینے والے کی آنکھ پھوڑ دی جائے گی، ناک کاٹنے والے کا ناک کاٹ دیا جائے گا، دانت توڑنے والے کا دانت توڑ دیا جائے گا اور زخم کا بھی بدلہ لیا جائے گا۔ اس میں آزاد مسلمان سب کے سب برابر ہیں۔ مرد عورت ایک ہی حکم میں۔ جبکہ یہ کام قصداً کئے گئے ہوں۔ اس میں غلام بھی آپس میں برابر ہیں، ان کے مرد بھی اور عورتیں بھی۔ قاعدہ اعضا کا کٹنا تو جوڑ سے ہوتا ہے اس میں تو قصاص واجب ہے۔ جیسے ہاتھ، پیر، قدم، ہتھیلی وغیرہ۔ لیکن جو زخم جوڑ پر نہ ہوں بلکہ ہڈی پر آئے ہوں، ان کی بابت حضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ " ان میں بھی قصاص ہے مگر ران میں اور اس جیسے اعضاء میں اس لئے کہ وہ خوف و خطر کی جگہ ہے "۔ ان کے برخلاف ابوحنیفہ اور ان کے دونوں ساتھیوں کا مذہب ہے کہ کسی ہڈی میں قصاص نہیں، بجز دانت کے اور امام شافعی کے نزدیک مطلق کسی ہڈی کا قصاص نہیں۔ یہی مروی ہے حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابن عباس سے بھی اور یہی کہتے ہیں عطاء، شبعی، حسن بصری، زہری، ابراہیم، نخعی اور عمر بن عبد العزیز بھی اور اسی کی طرف گئے ہیں سفیان ثوری اور لیث بن سعد بھی۔ امام احمد سے بھی یہی قول زیادہ مشہور ہے۔ امام ابوحنیفہ کی دلیل وہی حضرت انس والی روایت ہے جس میں ربیع سے دانت کا قصاص دلوانے کا حکم حضور ﷺ کا فرمودہ ہے۔ لیکن دراصل اس روایت سے یہ مذہب ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس میں یہ لفظ ہیں کہ اس کے سامنے کے دانت اس نے توڑ دیئے تھے اور ہوسکتا ہے کہ بغیر ٹوٹنے کے جھڑ گئے ہوں۔ اس حالت میں قصاص اجماع سے واجب ہے۔ ان کی دلیل کا پورا حصہ وہ ہے جو ابن ماجہ میں ہے کہ " ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کہنی سے نیچے نیچے ایک تلوار مار دی، جس سے اس کی کلائی کٹ گئی، حضرت ﷺ کے پاس مقدمہ آیا، آپ نے حکم دیا کہ دیت ادا کرو اس نے کہا میں قصاص چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا اسی کو لے لے اللہ تجھے اسی میں برکت دے گا اور آپ نے قصاص کو نہیں فرمایا "۔ لیکن یہ حدیث بالکل ضعیف اور گری ہوئی ہے، اس کے ایک راوی ہشم بن عکلی اعرابی ضعیف ہیں، ان کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی، دوسرے راوی غران بن جاریہ اعرابی بھی ضعیف ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ زخموں کا قصاص ان کے درست ہوجانے اور بھر جانے سے پہلے لینا جائز نہیں اور اگر پہلے لے لیا گیا پھر زخم بڑھ گیا تو کوئی بدلہ دلوایا نہ جائے گا۔ اس کی دلیل مسند احمد کی یہ حدیث ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں چوٹ مار دی، وہ آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور کہا مجھے بدلہ دلوایئے، آپ نے دلوا دیا، اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میں تو لنگڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا میں نے تجھے منع کیا تھا لیکن تو نہ مانا، اب تیرے اس لنگڑے پن کا بدلہ کچھ نہیں۔ پھر حضور ﷺ نے زخموں کے بھر جانے سے پہلے بدلہ لینے کو منع فرما دیا۔ مسئلہ اگر کسی نے دوسرے کو زخمی کیا اور بدلہ اس سے لے لیا گیا، اس میں یہ مرگیا تو اس پر کچھ نہیں۔ مالک، شافعی، احمد اور جمہوری صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے۔ ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اس پر دیت واجب ہے، اسی کے مال میں سے۔ بعض اور بزرگ فرماتے ہیں " اس کے ماں باپ کی طرف کے رشتہ داروں کے مال پر وہ دیت واجب ہے "۔ بعض اور حضرات کہتے ہیں " بقدر اس کے بدلے کے تو ساقط ہے باقی اسی کے مال میں سے واجب ہے "۔ پھر فرماتا ہے " جو شخص قصاص سے درگزر کرے اور بطور صدقے کے اپنے بدلے کو معاف کر دے تو زخمی کرنے والے کا کفارہ ہوگیا اور جو زخمی ہوا ہے، اسے ثواب ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے "۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ " وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے "۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ " وہ زخمی کیلئے کفارہ ہے یعنی اس کے گناہ اسی زخم کی مقدار سے اللہ تعالیٰ بخش دیتا ہے "۔ ایک مرفوع حدیث میں یہ آیا ہے کہ " اگر چوتھائی دیت کے برابر کی چیز ہے اور اس نے درگزر کرلیا تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ثلث ہے تو تہائی گناہ، آدھی ہے تو آدھے گناہ اور پوری ہے تو پورے گناہ "۔ ایک قریشی نے ایک انصاری کو زور سے دھکا دے دیا جس سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے۔ حضرت معاویہ کے پاس مقدمہ گیا اور جب وہ بہت سر ہوگیا تو آپ نے فرمایا، اچھا جا تجھے اختیار ہے۔ حضرت ابو درداء وہیں تھے فرمانے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ " جس مسلمان کے جسم میں کوئی ایذاء پہنچائی جائے اور وہ صبر کرلے، بدلہ نہ لے تو اللہ اس کے درجے بڑھاتا ہے اور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے، اس انصاری نے یہ سن کر کہا، کیا سچ مچ آپ نے خود ہی اسے حضور ﷺ کی زبانی سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، اس نے کہا پھر گواہ رہو کہ میں نے اپنے مجرم کو معاف کردیا۔ حضرت معاویہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اسے انعام دیا " (ابن جریر) ترمذی میں بھی یہ روایت ہے لیکن امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ ابو سفر راوی کا ابو درداء سے سننا ثابت نہیں اور روایت میں ہے کہ تین گنی دیت وہ دینا چاہتا تھا لیکن یہ راضی نہیں ہوا تھا، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ " جو شخص خون یا اس سے کم کو معاف کر دے، وہ اس کی پیدائش سے لے کر موت تک کا کفارہ ہے "۔ مسند میں ہے کہ " جس کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے اتنے ہی گناہ معاف فرما دیتا ہے "۔ مسند میں یہ بھی حدیث ہے " اللہ کے حکم کے مطابق حکم نہ کرنے والے ظالم ہیں "۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کفر کفر سے کم ہے، ظلم میں بھی تفاوت ہے اور فسق بھی درجے ہیں۔
وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ
📘 باطل کے غلام لوگ انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ " حضرت عیسیٰ نے فرمایا، میں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں "۔ اسی لئے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کردیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ وپند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ اھل الانجیل بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں (والیحکم) میں لام کے معنی میں ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو انجیل اس لئے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ (ولیحکم) پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ انہیں چاہئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ) 5۔ المائدہ :68) یعنی اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ) 7۔ الاعراف :157) جو لوگ اس رسول نبی ﷺ کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں، یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔
وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
📘 باطل کے غلام لوگ انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسیٰ نبی کو لائے جو توراۃ پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے، ہم نے انہیں بھی اپنی کتاب انجیل دی، جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی، ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے، ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے۔ جیسے قرآن میں اور جگہ ہے کہ " حضرت عیسیٰ نے فرمایا، میں تمہارے لئے بعض وہ چیزیں حلال کروں گا جو تم پر حرام کردی گئی ہیں "۔ اسی لئے علماء کا مشہور مقولہ ہے کہ انجیل نے تورات کے بعض احکام منسوخ کردیئے ہیں۔ انجیل سے پارسا لوگوں کی رہنمائی اور وعظ وپند ہوتی تھی کہ وہ نیکی کی طرف رغبت کریں اور برائی سے بچیں۔ اھل الانجیل بھی پڑھا گیا ہے اس صورت میں (والیحکم) میں لام کے معنی میں ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو انجیل اس لئے دی تھی کہ وہ اپنے زمانے کے اپنے ماننے والوں کو اسی کے مطابق چلائیں اور اس لام کو امر کا لام سمجھا جائے اور مشہور قراۃ (ولیحکم) پڑھی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ انہیں چاہئے کہ انجیل کے کل احکام پر ایمان لائیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰي شَيْءٍ حَتّٰي تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ) 5۔ المائدہ :68) یعنی اے اہل کتاب جب تک تم تورات و انجیل پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے اترا ہے، اگر اس پر قائم ہو تو تم کسی چیز پر نہیں ہوا۔ اور آیت میں ہے آیت (اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ) 7۔ الاعراف :157) جو لوگ اس رسول نبی ﷺ کی تابعداری کرتے ہیں، جس کی صفت اپنے ہاں توراۃ میں لکھی ہوئی پاتے ہیں وہ لوگ جو کتاب اللہ اور اپنے نبی کے فرمان کے مطابق حکم نہ کریں وہ اللہ کی اطاعت سے خارج، حق کے تارک اور باطل کے عامل ہیں، یہ آیت نصرانیوں کے حق میں ہے۔ روش آیت سے بھی یہ ظاہر ہے اور پہلے بیان بھی گزر چکا ہے۔
وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
📘 قرآن ایک مستقل شریعت ہے تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ " ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول ﷺ پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسراء :107) جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہوچکا، اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لئے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) 15۔ الحجر :9) بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضور ﷺ اس کتاب پر امین ہیں۔ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔ امام ابن جریر نے بھی حضرت مجاہد سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے " یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لئے مھیمن کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا "۔ اگر حضرت مجاہد کے معنی صحیح مان لئے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہئے تھی خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں۔ اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے تو آپ کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں، ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لئے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی ﷺ تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنادیا ہے۔ کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو شرعۃ کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے " ہم سب انبیاء علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے، ہر نبی توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی "۔ جیسے قرآن فرماتا ہے کہ " تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ﷺ ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو "۔ اور آیت میں (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوا دیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوال دوسروں کی عبادت سے بچو۔ احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہوجایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ اے امت محمد ﷺ ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدار اور تابعداری کرنی چاہئے۔ اس صورت میں جعلنا کے بعد ضمیر ہ کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کردیتا۔ پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کردیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔ لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔ یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر ﷺ کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہئے۔ لوگو ! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتادے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مراد امت محمد ﷺ ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ " دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہوجانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے رو گردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لئے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں۔ " جیسے فرمایا آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) یعنی گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں۔ اور فرمایا آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام :116) اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے۔ یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں اگر ہم آپ کو مان لیں تو تمام یہود آپ کی نبوت کا اقرار کرلیں گے اور ہم آپ کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئے، آپ نے انکار کردیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لئے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کرلیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔ یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی طرف آجائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں ؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا ؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے ؟ ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں " اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے "۔ ایک شخص نے حضرت طاؤس سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بےوجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہوجائے۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔
وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَنْ يَفْتِنُوكَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُصِيبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ لَفَاسِقُونَ
📘 قرآن ایک مستقل شریعت ہے تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ " ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول ﷺ پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسراء :107) جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہوچکا، اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لئے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) 15۔ الحجر :9) بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضور ﷺ اس کتاب پر امین ہیں۔ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔ امام ابن جریر نے بھی حضرت مجاہد سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے " یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لئے مھیمن کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا "۔ اگر حضرت مجاہد کے معنی صحیح مان لئے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہئے تھی خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں۔ اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے تو آپ کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں، ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لئے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی ﷺ تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنادیا ہے۔ کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو شرعۃ کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے " ہم سب انبیاء علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے، ہر نبی توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی "۔ جیسے قرآن فرماتا ہے کہ " تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ﷺ ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو "۔ اور آیت میں (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوا دیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوال دوسروں کی عبادت سے بچو۔ احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہوجایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ اے امت محمد ﷺ ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدار اور تابعداری کرنی چاہئے۔ اس صورت میں جعلنا کے بعد ضمیر ہ کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کردیتا۔ پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کردیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔ لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔ یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر ﷺ کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہئے۔ لوگو ! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتادے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مراد امت محمد ﷺ ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ " دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہوجانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے رو گردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لئے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں۔ " جیسے فرمایا آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) یعنی گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں۔ اور فرمایا آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام :116) اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے۔ یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں اگر ہم آپ کو مان لیں تو تمام یہود آپ کی نبوت کا اقرار کرلیں گے اور ہم آپ کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئے، آپ نے انکار کردیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لئے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کرلیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔ یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی طرف آجائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں ؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا ؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے ؟ ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں " اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے "۔ ایک شخص نے حضرت طاؤس سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بےوجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہوجائے۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔
الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
📘 ذبیحہ کس نام اور کن ہاتھوں کا حلال ہے ؟ حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ کل ستھری چیزیں حلال ہیں، پھر یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کی حلت بیان فرمائی۔ حضرت ابن عباس، ابو امامہ، مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ، عطاء، حسن، مکحول، ابراہیم، نخعی، سدی، مقاتل بن حیان یہ سب یہی کہتے ہیں کہ طعام سے مراد ان کا اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور ہے، جس کا کھانا مسلمانوں کو حلال ہے، علماء اسلام کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا ذبیحہ ہمارے لئے حلال ہے، کیونکہ وہ بھی غیر اللہ کیلئے ذبح کرنا ناجائز جانتے ہیں اور ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام نہیں لیتے گو ان کے عقیدے ذات باری کی نسبت یکسر اور سراسر باطل ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ بلند وبالا اور پاک و منزہ ہے۔ صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان ہے کہ جنگ خیبر میں مجھے چربی کی بھری ہوئی ایک مشک مل گئی، میں نے اسے قبضہ میں کیا اور کہا اس میں سے تو آج میں کسی کو بھی حصہ نہ دونگا، اب جو ادھر ادھر نگاہ پھرائی تو دیکھتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ میرے پاس ہی کھڑے ہوئے تبسم فرما رہے ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مال غنیمت میں سے کھانے پینے کی ضروری چیزیں تقسیم سے پہلے بھی لے لینی جائز ہیں اور یہ استدلال اس حدیث سے صاف ظاہر ہے، تینوں مذہب کے فقہاء نے مالکیوں پر اپنی سند پیش کی ہے اور کہا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ اہل کتاب کا وہی کھانا ہم پر حلال ہے جو خود ان کے ہاں بھی حلال ہو یہ غلط ہے کیونکہ چربی کو یہودی حرام جانتے ہیں لیکن مسلمان کیلئے حلال ہے لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی واقعہ ہے۔ البتہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ وہ چربی ہو جسے خود یہودی بھی حلال جانتے تھے یعنی پشت کی چربی انتڑیوں سے لگی ہوئی چربی اور ہڈی سے ملی ہوئی چربی، اس سے بھی زیادہ دلالت والی تو وہ روایت ہے جس میں ہے کہ خیبر والوں نے سالم بھنی ہوئی ایک بکری حضور ﷺ کو تحفہ میں دی جس کے شانے کے گوشت کو انہوں نے زہر آلود کر رکھا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ حضور ﷺ کو شانے کا گوشت پسند ہے، چناچہ آپ نے اس کا یہی گوشت لے کر منہ میں رکھ کر دانتوں سے توڑا تو فرمان باری سے اس شانے نے کہا، مجھ میں زہر ملا ہوا ہے، آپ نے اسی وقت اسے تھوک دیا اور اس کا اثر آپ کے سامنے کے دانتوں وغیرہ میں رہ گیا، آپ کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرور بھی تھے، جو اسی کے اثر سے راہی بقاء ہوئے، جن کے قصاص میں زہر ملانے والی عورت کو بھی قتل کیا گیا، جس کا نام زینب تھا، وجہ دلالت یہ ہے کہ خود حضور ﷺ نے مع اپنے ساتھیوں کے اس گوشت کے کھانے کا پختہ ارادہ کرلیا اور یہ نہ پوچھا کہ اس کی جس چربی کو تم حلال جانتے ہو اسے نکال بھی ڈالا ہے یا نہیں ؟ اور حدیث میں ہے کہ ایک یہودی نے آپ کی دعوت میں جو کی روٹی اور پرانی سوکھی چربی پیش کی تھی، حضرت مکحول فرماتے ہیں جس چیز پر نام رب نہ لیا جائے اس کا کھانا حرام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرما کر منسوخ کر کے اہل کتاب کے ذبح کئے جانور حلال کر دئے یہ یاد رہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس جانور پر بھی نام الٰہی نہ لیا جائے وہ حلال ہو ؟ اس لئے کہ وہ اپنے ذبیحوں پر اللہ کا نام لیتے تھے بلکہ جس گوشت کو کھاتے تھے اسے ذبیحہ پر موقوف نہ رکھتے تھے بلکہ مردہ جانور بھی کھالیتے تھے لیکن سامرہ اور صائبہ اور ابراہیم وشیث وغیرہ پیغمبروں کے دین کے مدعی اس سے مستثنیٰ تھے، جیسے کہ علماء کے دو اقوال میں سے ایک قول ہے اور عرب کے نصرانی جیسے بنو تغلب، تنوخ بہرا، جذام لحم، عاملہ کے ایسے اور بھی ہیں کہ جمہور کے نزدیک ان کے ہاتھ کا کیا ہوا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔ حضرت علی فرماتے ہیں قبیلہ بنو تغلب کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور نہ کھاؤ، اس لئے کہ انہوں نے تو نصرانیت سے سوائے شراب نوشی کے اور کوئی چیز نہیں لی، ہاں سعید بن مسیب اور حسن بنو تغلب کے نصاریٰ کے ہاتھوں ذبح کئے ہوئے جانور کے کھا لینے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے، باقی رہے مجوسی ان سے گو جزیہ لیا گیا ہے کیونکہ انہیں اس مسئلہ میں یہود و نصاریٰ میں ملا دیا گیا ہے اور ان کا ہی تابع کردیا گیا ہے، لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کرنا اور ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا کھانا ممنوع ہے۔ ہاں ابو ثور ابراہیم بن خالد کلبی جو شافعی اور احمد کے ساتھیوں میں سے تھے، اس کے خلاف ہیں، جب انہوں نے اسے جائز کہا اور لوگوں میں اس کی شہرت ہوئی تو فقہاء نے اس قول کی زبردست تردید کی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت امام احمد بن حنبل نے تو فرمایا کہ ابو ثور اس مسئلہ میں اپنے نام کی طرح ہی ہے یعنی بیل کا باپ، ممکن ہے ابو ثور نے ایک حدیث کے عموم کو سامنے رکھ کر یہ فتویٰ دیا ہو جس میں حکم ہے کہ مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا طریقہ برتو لیکن اولاً تو یہ روایت ان الفاظ سے ثابت ہی نہیں دوسرے یہ روایت مرسل ہے، ہاں البتہ صحیح بخاری شریف میں صرف اتنا تو ہے کہ ہجر کے مجوسیوں سے رسول اللہ ﷺ نے جزیہ لیا۔ علاوہ ان سب کے ہم کہتے ہیں کہ ابو ثور کی پیش کردہ حدیث کو اگر ہم صحیح مان لیں، تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے عموم سے بھی اس آیت میں حکم امتناعی کو دلیل بنا کر اہل کتاب کے سوا اور دین والوں کا ذبیحہ بھی ہمارے لئے حرام ثابت ہوتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ تمہارا ذبیحہ بھی ہمارے لئے حرام ثابت ہوسکتا ہے، پھر فرماتا ہے کہ تمہارا ذبیحہ ان کیلئے حلال ہے یعنی تم انہیں اپنا ذبیحہ کھلا سکتے ہو۔ یہ اس امر کی خبر نہیں کہ ان کے دین میں ان کیلئے تمہارا ذبیحہ حلال ہے ہاں زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ انہیں بھی ان کی کتاب میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس جانور کا ذبیحہ اللہ کے نام پر ہوا ہو اسے وہ کھا سکتا ہے بلحاظ اس سے کہ ذبح کرنے والا انہیں میں سے ہو یا ان کے سوا کوئی اور ہو، لیکن زیادہ باوزن بات پہلی ہی ہے۔ یعنی یہ کہ تمہیں اجازت ہے کہ انہیں اپنا ذبیحہ کھلاؤ جیسے کہ ان کے ذبح کئے ہوئے جانور تم کھالیتے ہو۔ یہ گویا اول بدل کے طور پر ہے، جس طرح حضور ﷺ نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو اپنے خاص کرتے ہیں کفن دیا جس کی وجہ سے بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے آپ کے چچا حضرت عباس کو اپنا کرتا دیا تھا جب وہ مدینے میں آئے تھے تو آپ نے اس کا بدلہ چکا دیا۔ ہاں ایک حدیث میں ہے کہ مومن کے سوا کسی اور کی ہم نشینی نہ کر اور اپنا کھانا بجز پرہیزگاروں کے اور کسی کو نہ کھلا اسے اس بدلے کے خلاف نہ سمجھنا چاہئے، ہوسکتا ہے کہ حدیث کا یہ حکم بطور پسندیدگی اور افضلیت کے ہو، واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پاک دامن مومن عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے یہ بطور تمہید کے ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی ہے ان کی عفیفہ عورتوں سے بھی نکاح تمہیں حلال ہے۔ یہ قول بھی ہے کہ مراد محصنات سے آزاد عورتیں ہیں یعنی لونڈیاں نہ ہوں۔ یہ قول حضرت مجاہد کی طرف منسوب ہے اور حضرت مجاہد کے الفاظ یہ ہیں کہ محصنات سے آزاد مراد ہیں اور جب یہ ہے تو جہاں اس قول کا وہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ لونڈیاں اس سے خارج ہیں وہاں یہ معنی بھی لئے جاسکتے ہیں کہ پاک دامن عفت شعار، جیسے کہ انہی سے دوسری روایت ان ہی لفظوں میں موجود ہے، جمہور بھی کہتے ہیں اور یہ زیادہ ٹھیک بھی ہے۔ تاکہ ذمیہ ہونے کے ساتھ ہی غیر عفیفہ ہونا شامل ہو کر بالکل ہی باعث فساد نہ بن جائے اور اس کا خاوند صرف فضول بھرتی کے طور پر بری رائے پر نہ چل پڑے پس بظاہر یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ محصنات سے مراد عفت مآب اور بدکاری سے بچاؤ والیاں ہی لی جائیں، جیسے دوسری آیت میں محصنات کے ساتھ ہی آیت (غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ) 5۔ المائدہ :5) آیا ہے۔ علماء اور مفسرین کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کیا آیت ہر کتابیہ عفیفہ عورت پر مشتمل ہے ؟ خواہ وہ آزاد ہو خواہ لونڈی ہو ؟ ابن جریر میں سلف کی ایک جماعت سے اسے نقل کیا ہے جو کہتے ہیں کہ محصنات سے مراد پاک دامن ہے، ایک قول یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں مراد اہل کتاب سے اسرائیلی عورتیں ہیں، امام شافعی کا یہی مذہب ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ذمیہ عورتیں ہیں سوائے آزاد عورتوں کے اور دلیل یہ آیت ہے (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَلَا بالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ) 9۔ التوبہ :29) یعنی ان سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے، چناچہ حضرت عبداللہ بن عمر نصرانیہ عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں جانتے تھے اور فرماتے تھے اس سے بڑا شرک کیا ہوگا ؟ کہ وہ کہتی ہو کہ اس کا رب عیسیٰ ہے اور جب یہ مشرک ٹھہریں تو نص قرآنی موجود ہے کہ آیت (وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ ۭوَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ ۚ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا) 2۔ البقرۃ :221) یعنی مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں، ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہ ان سے رک گئے یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے کی رخصت نازل ہوئی تو صحابہ نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کئے اور صحابہ کی ایک جماعت سے ایسے نکاح اسی آیت کو دلیل بنا کر کرنے ثابت ہیں تو گویا پہلے سورة بقرہ کی آیت کی ممانعت میں یہ داخل تھیں لیکن دوسری آیت نے انہیں مخصوص کردیا۔ یہ اس وقت جب یہ مان لیا جائے کہ ممانعت والی آیت کے حکم میں یہ بھی داخل تھیں ورنہ ان دونوں آیتوں میں کوئی معارض نہیں، اس لئے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں عام مشرکین سے انہیں الگ بیان کیا گیا ہے جیسے آیت لم یکن الذین کفروا۔ (وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ) 3۔ آل عمران :20) پھر فرماتا ہے جب تم انہیں ان کے مقررہ مہر دے دو وہ اپنے نفس کو بچانے والیاں ہوں اور تم ان کے مہر ادا کرنے والے ہو، حضرت جابر بن عبداللہ عامر شعبی ابراہیم نخعی حسن بصری کا فتویٰ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور دخول سے پہلے اس نے بدکاری کی تو میاں بیوی میں تفریق کرا دی جائے گی اور جو مہر خاوند نے عورت کو دیا ہے اسے واپس دلوایا جائے گا (ابن جریر) پھر فرماتا ہے تم بھی پاک دامن عفت مآب ہو اور علانیہ یا پوشیدہ بدکار نہ ہوؤ۔ پس عورتوں میں جس طرح پاک دامن اور عفیفہ ہونے کی شرط لگائی تھی مردوں میں بھی یہی شرط لگائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ وہ کھلے بدکار نہ ہوں کہ ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہوں اور نہ ایسے ہوں کہ خاص تعلق سے حرام کاری کرتے ہوں۔ سورة نساء میں بھی اسی کے تماثل حکم گزر چکا ہے۔ حضرت امام احمد اسی طرف گئے ہیں کہ زانیہ عورتوں سے توبہ سے پہلے ہرگز کسی بھلے آدمی کو نکاح کرنا جائز نہیں، اور یہی حکم ان کے نزدیک مردوں کا بھی ہے کہ بدکار مردوں کا نکاح نیک کار عفت شعار عورتوں سے بھی ناجائز ہے جب تک وہ سچی توبہ نہ کریں اور اس رذیل فعل سے باز نہ آجائیں۔ ان کی دلیل ایک حدیث بھی ہے جس میں ہے کوڑے لگایا ہوا زانی اپنے جیسی سے ہی نکاح کرسکتا ہے۔ خلیفتہ المومنین حضرت عمر فاروق نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں ارادہ کر رہا ہوں کہ جو مسلمان کوئی بدکاری کرے میں اسے ہرگز کسی مسلمان پاک دامن عورت سے نکاح نہ کرنے دوں۔ اس پر حضرت ابی بن کعب نے عرض کی کہ اے امیر المومنین شرک اس سے بہت بڑا ہے اس کے باوجود بھی اس کی توبہ قبول ہے۔ اس مسئلے کو ہم آیت (اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً ۡ وَّالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ) 24۔ النور :3) کی تفسیر میں پوری طرح بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ آیت کے خاتمہ پر ارشاد ہوتا ہے کہ کفار کے اعمال اکارت ہیں اور وہ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں۔
أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ
📘 قرآن ایک مستقل شریعت ہے تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ " ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول ﷺ پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا) 17۔ الاسراء :107) جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہوچکا، اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لئے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسے فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ) 15۔ الحجر :9) بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ حضور ﷺ اس کتاب پر امین ہیں۔ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔ امام ابن جریر نے بھی حضرت مجاہد سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے " یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لئے مھیمن کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا "۔ اگر حضرت مجاہد کے معنی صحیح مان لئے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہئے تھی خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں۔ اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے تو آپ کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں، ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لئے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی ﷺ تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنادیا ہے۔ کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو شرعۃ کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔ جیسے حدیث شریف میں ہے " ہم سب انبیاء علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے، ہر نبی توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی "۔ جیسے قرآن فرماتا ہے کہ " تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ﷺ ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو "۔ اور آیت میں (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ) 16۔ النحل :36) ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوا دیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوال دوسروں کی عبادت سے بچو۔ احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہوجایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ اے امت محمد ﷺ ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدار اور تابعداری کرنی چاہئے۔ اس صورت میں جعلنا کے بعد ضمیر ہ کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کردیتا۔ پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کردیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔ لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔ یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر ﷺ کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہئے۔ لوگو ! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتادے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ ضحاک کہتے ہیں مراد امت محمد ﷺ ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ " دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہوجانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے رو گردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لئے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں۔ " جیسے فرمایا آیت (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ) 12۔ یوسف :103) یعنی گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں۔ اور فرمایا آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 6۔ الانعام :116) اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے۔ یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں اگر ہم آپ کو مان لیں تو تمام یہود آپ کی نبوت کا اقرار کرلیں گے اور ہم آپ کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئے، آپ نے انکار کردیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لئے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کرلیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔ یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی طرف آجائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں ؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا ؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے ؟ ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہوسکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں " اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے "۔ ایک شخص نے حضرت طاؤس سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں ؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بےوجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہوجائے۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔
۞ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
📘 دشمن اسلام سے دوستی منع ہے دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ " وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے "۔ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ بن عتبہ نے فرمایا لوگو ! تمہیں اس سے بچنا چاہئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔ ابن عباس سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لئے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہوجائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دے دے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہوگئے۔ (ویقول) تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ یقول تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی (یقول) ہے تو یہ (فعسی) پر عطف ہوگا گویا (وان یقول) ہے۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ فرماتے ہیں " لبابہ بن عبد المنذر کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ حضور ﷺ نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور ﷺ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ تو آپ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے "۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت ﷺ سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول ﷺ کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑجائے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ " جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کرلو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بےبہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہوجانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتادیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہوچکا ہے۔ جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ سے کہنے لگا، حضور ﷺ میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، حضور ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ نے منہ موڑ لیا، یہ آپ کے دامن سے چپک گیا، آپ نے غصہ سے فرمایا کہ چھوڑ دے، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر حضور ﷺ نے فرمایا، جا وہ سب تیرے لئے ہیں "۔ ایک روایت میں ہے کہ " جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے حضور ﷺ سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت حضور ﷺ کے سامنے کرنے لگا اور حضرت عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی "۔ اس پر یہ آیتیں (ہم الغالبون) تک اتریں۔ مسند احمد میں ہے کہ " اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے حضور ﷺ تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا، میں نے تو تجھے بار ہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مرگیا "۔
فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ ۚ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ
📘 دشمن اسلام سے دوستی منع ہے دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ " وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے "۔ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ بن عتبہ نے فرمایا لوگو ! تمہیں اس سے بچنا چاہئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔ ابن عباس سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لئے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہوجائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دے دے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہوگئے۔ (ویقول) تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ یقول تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی (یقول) ہے تو یہ (فعسی) پر عطف ہوگا گویا (وان یقول) ہے۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ فرماتے ہیں " لبابہ بن عبد المنذر کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ حضور ﷺ نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور ﷺ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ تو آپ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے "۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت ﷺ سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول ﷺ کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑجائے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ " جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کرلو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بےبہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہوجانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتادیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہوچکا ہے۔ جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ سے کہنے لگا، حضور ﷺ میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، حضور ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ نے منہ موڑ لیا، یہ آپ کے دامن سے چپک گیا، آپ نے غصہ سے فرمایا کہ چھوڑ دے، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر حضور ﷺ نے فرمایا، جا وہ سب تیرے لئے ہیں "۔ ایک روایت میں ہے کہ " جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے حضور ﷺ سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت حضور ﷺ کے سامنے کرنے لگا اور حضرت عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی "۔ اس پر یہ آیتیں (ہم الغالبون) تک اتریں۔ مسند احمد میں ہے کہ " اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے حضور ﷺ تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا، میں نے تو تجھے بار ہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مرگیا "۔
وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ
📘 دشمن اسلام سے دوستی منع ہے دشمنان اسلام یہود و نصاریٰ سے دوستیاں کرنے کی اللہ تبارک و تعالیٰ ممانعت فرما رہا ہے اور فرماتا ہے کہ " وہ تمہارے دوست ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ تمہارے دین سے انہیں بغض و عداوت ہے۔ ہاں اپنے والوں سے ان کی دوستیاں اور محبتیں ہیں۔ میرے نزدیک تو جو بھی ان سے دلی محبت رکھے وہ ان ہی میں سے ہے "۔ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو اس بات پر پوری تنبیہہ کی اور یہ آیت پڑھ سنائی۔ حضرت عبداللہ بن عتبہ نے فرمایا لوگو ! تمہیں اس سے بچنا چاہئے کہ تمہیں خود تو معلوم نہ ہو اور تم اللہ کے نزدیک یہود و نصرانی بن جاؤ، ہم سمجھ گئے کہ آپ کی مراد اسی آیت کے مضمون سے ہے۔ ابن عباس سے عرب نصرانیوں کے ذبیحہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے یہی آیت تلاوت کی۔ جس کے دل میں کھوٹ ہے وہ تو لپک لپک کر پوشیدہ طور پر ان سے ساز باز اور محبت و مودت کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے اگر مسلمانوں پر یہ لوگ غالب آگئے تو پھر ہماری تباہی کردیں گے، اس لئے ہم ان سے بھی میل ملاپ رکھتے ہیں، ہم کیوں کسی سے بگاڑیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ممکن ہے اللہ مسلمانوں کو صاف طور پر غالب کر دے، مکہ بھی ان کے ہاتھوں فتح ہوجائے، فیصلے اور حکم ان ہی کے چلنے لگیں، حکومت ان کے قدموں میں سر ڈال دے۔ یا اللہ تعالیٰ اور کوئی چیز اپنے پاس سے لائے یعنی یہود نصاریٰ کو مغلوب کر کے انہیں ذلیل کر کے ان سے جزیہ لینے کا حکم مسلمانوں کو دے دے پھر تو یہ منافقین جو آج لپک لپک کر ان سے گہری دوستی کرتے پھرتے ہیں، بڑے بھنانے لگیں گے اور اپنی اس چالاکی پر خون کے آنسو بہانے لگیں گے۔ ان کے پردے کھل جائیں گے اور یہ جیسے اندر تھے ویسے ہی باہر سے نظر آئیں گے۔ اس وقت مسلمان ان کی مکاریوں پر تعجب کریں گے اور کہیں گے اے لو یہی وہ لوگ ہیں، جو بڑی بڑی قسمیں کھا کھا کر ہمیں یقین دلاتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ انہوں نے جو پایا تھا وہ کھو دیا تھا اور برباد ہوگئے۔ (ویقول) تو جمہور کی قرأت ہے۔ ایک قرأت بغیر واؤ کے بھی ہے اہل مدینہ کی یہی قرأت ہے۔ یقول تو مبتداء اور دوسری قرأت اس کی (یقول) ہے تو یہ (فعسی) پر عطف ہوگا گویا (وان یقول) ہے۔ ان آیتوں کا شان نزول یہ ہے کہ جنگ احد کے بعد ایک شخص نے کہا کہ میں اس یہودی سے دوستی کرتا ہوں تاکہ موقع پر مجھے نفع پہنچے، دوسرے نے کہا، میں فلاں نصرانی کے پاس جاتا ہوں، اس سے دوستی کر کے اس کی مدد کروں گا۔ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ عکرمہ فرماتے ہیں " لبابہ بن عبد المنذر کے بارے میں یہ آیتیں اتریں جبکہ حضور ﷺ نے انہیں بنو قریظہ کی طرف بھیجا تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ حضور ﷺ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے ؟ تو آپ نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کرا دیں گے "۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ آیتیں عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتری ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت نے حضرت ﷺ سے کہا کہ بہت سے یہودیوں سے میری دوستی ہے مگر میں ان سب کی دوستیاں توڑتا ہوں، مجھے اللہ رسول ﷺ کی دوستی کافی ہے۔ اس پر اس منافق نے کہا میں دور اندیش ہوں، دور کی سوچنے کا عادی ہوں، مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا، نہ جانے کس وقت کیا موقعہ پڑجائے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ تو عبادہ کے مقابلے میں بہت ہی گھاٹے میں رہا، اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ " جب بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو بعض مسلمانوں نے اپنے ملنے والے یہودیوں سے کہا کہ یہی تمہاری حالت ہو، اس سے پہلے ہی تم اس دین برحق کو قبول کرلو انہوں نے جواب دیا کہ چند قریشیوں پر جو لڑائی کے فنون سے بےبہرہ ہیں، فتح مندی حاصل کر کے کہیں تم مغرور نہ ہوجانا، ہم سے اگر پالا پڑا تو ہم تو تمہیں بتادیں گے کہ لڑائی اسے کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عبادہ اور عبداللہ بن ابی کا وہ مکالمہ ہوا جو اوپر بیان ہوچکا ہے۔ جب یہودیوں کے اس قبیلہ سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور بفضل رب یہ غالب آگئے تو اب عبداللہ بن ابی آپ سے کہنے لگا، حضور ﷺ میرے دوستوں کے معاملے میں مجھ پر احسان کیجئے، یہ لوگ خزرج کے ساتھی تھے، حضور ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر کہا، آپ نے منہ موڑ لیا، یہ آپ کے دامن سے چپک گیا، آپ نے غصہ سے فرمایا کہ چھوڑ دے، اس نے کہا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! میں نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ آپ ان کے بارے میں احسان کریں، ان کی بڑی پوری جماعت ہے اور آج تک یہ لوگ میرے طرفدار رہے اور ایک ہی دن میں یہ سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ مجھے تو آنے والی مصیبتوں کا کھٹکا ہے۔ آخر حضور ﷺ نے فرمایا، جا وہ سب تیرے لئے ہیں "۔ ایک روایت میں ہے کہ " جب بنو قینقاع کے یہودیوں نے حضور ﷺ سے جنگ کی اور اللہ نے انہیں نیچا دکھایا تو عبداللہ بن ابی ان کی حمایت حضور ﷺ کے سامنے کرنے لگا اور حضرت عبادہ بن صامت نے باوجودیکہ یہ بھی ان کے حلیف تھے لیکن انہوں نے ان سے صاف برأت ظاہر کی "۔ اس پر یہ آیتیں (ہم الغالبون) تک اتریں۔ مسند احمد میں ہے کہ " اس منافق عبداللہ بن ابی کی عیادت کیلئے حضور ﷺ تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا، میں نے تو تجھے بار ہا ان یہودیوں کی محبت سے روکا تو اس نے کہا سعد بن زرارہ تو ان سے دشمنی رکھتا تھا وہ بھی مرگیا "۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
📘 قوت اسلام اور مرتدین اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہوجائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وان تتلوا) اور آیت میں ہے (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ) 4۔ النسآء :133) اور جگہ فرمایا (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ) 35۔ فاطر :16) ، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھرجانے کو۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " خلافت صدیق میں جو لوگ اسلام سے پھرگئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدے دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں "۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ اس کی قوم ہے۔ اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ " یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں "۔ جیسے فرمایا آیت (اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) 48۔ الفتح :29) حضور ﷺ کی صفتوں میں ہے کہ آپ خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو، سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں " مجھے میرے خلیل ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے "۔ (مسند احمد) ایک روایت میں ہے " میں نے حضور ﷺ سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپ نے مجھے یاد دہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا ؟ میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا اگرچہ کوڑا بھی ہو۔ یعنی اگر وہ گڑ پڑے تو خود سواری سے اتر کرلے لینا " (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں " لوگوں کی ہیبت میں آکر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کرسکتا ہے، نہ رزق کو دور کرسکتا ہے "۔ ملاحظہ ہو امام احمد کی مسند۔ " فرماتے ہیں خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہوجانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی باز پرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہوگیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا "۔ (مسند احمد) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہہ گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا (ابن ماجہ) ایک اور صحیح حدیث میں ہے " مومن کو نہ چاہئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے صحابہ نے پوچھا، یہ کس طرح ؟ فرمایا ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ پھر فرمایا اللہ کا فضل ہے جے چاہے دے۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے ؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول ﷺ اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے " اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہوگیا ہے کہ یہ (یؤتون الزکوۃ) سے حال واقع یعنی رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہوجائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آگیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، (والذین امنوا) سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور حضرت علی ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ ٹھیک رہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ یہ سب آیتیں حضرت عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول اور باایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) 58۔ المجادلہ :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ﷺ ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہوجائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لئے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ
📘 قوت اسلام اور مرتدین اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہوجائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وان تتلوا) اور آیت میں ہے (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ) 4۔ النسآء :133) اور جگہ فرمایا (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ) 35۔ فاطر :16) ، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھرجانے کو۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " خلافت صدیق میں جو لوگ اسلام سے پھرگئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدے دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں "۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ اس کی قوم ہے۔ اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ " یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں "۔ جیسے فرمایا آیت (اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) 48۔ الفتح :29) حضور ﷺ کی صفتوں میں ہے کہ آپ خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو، سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں " مجھے میرے خلیل ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے "۔ (مسند احمد) ایک روایت میں ہے " میں نے حضور ﷺ سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپ نے مجھے یاد دہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا ؟ میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا اگرچہ کوڑا بھی ہو۔ یعنی اگر وہ گڑ پڑے تو خود سواری سے اتر کرلے لینا " (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں " لوگوں کی ہیبت میں آکر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کرسکتا ہے، نہ رزق کو دور کرسکتا ہے "۔ ملاحظہ ہو امام احمد کی مسند۔ " فرماتے ہیں خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہوجانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی باز پرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہوگیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا "۔ (مسند احمد) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہہ گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا (ابن ماجہ) ایک اور صحیح حدیث میں ہے " مومن کو نہ چاہئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے صحابہ نے پوچھا، یہ کس طرح ؟ فرمایا ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ پھر فرمایا اللہ کا فضل ہے جے چاہے دے۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے ؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول ﷺ اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے " اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہوگیا ہے کہ یہ (یؤتون الزکوۃ) سے حال واقع یعنی رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہوجائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آگیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، (والذین امنوا) سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور حضرت علی ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ ٹھیک رہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ یہ سب آیتیں حضرت عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول اور باایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) 58۔ المجادلہ :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ﷺ ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہوجائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لئے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔
وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ
📘 قوت اسلام اور مرتدین اللہ رب العزت جو قادر و غالب ہے خبر دیتا ہے کہ اگر کوئی اس پاک دین سے مرتد ہوجائے تو وہ اسلام کی قوت گھٹا نہیں دے گا، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے بدلے ان لوگوں کو اس سچے دین کی خدمت پر مامور کرے گا، جو ان سے ہر حیثیت میں اچھے ہوں گے۔ جیسے اور آیت میں ہے (وان تتلوا) اور آیت میں ہے (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ اَيُّھَا النَّاسُ وَيَاْتِ بِاٰخَرِيْنَ) 4۔ النسآء :133) اور جگہ فرمایا (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ) 35۔ فاطر :16) ، مطلب ان سب آیتوں کا وہی ہے جو بیان ہوا۔ ارتداد کہتے ہیں، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف پھرجانے کو۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں یہ آیت سرداران قریش کے بارے میں اتری ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں " خلافت صدیق میں جو لوگ اسلام سے پھرگئے تھے، ان کا حکم اس آیت میں ہے۔ جس قوم کو ان کے بدلے لانے کا وعدے دے رہا ہے وہ اہل قادسیہ ہیں یا قوم سبا ہے۔ یا اہل یمن ہیں جو کندہ اور سکون بیلہ کے ہیں "۔ ایک بہت ہی غریب مرفوع حدیث میں بھی یہ پچھلی بات بیان ہوئی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی طرف اشارہ کر کے فرمایا وہ اس کی قوم ہے۔ اب ان کامل ایمان والوں کی صفت بیان ہو رہی ہے کہ " یہ اپنے دوستوں یعنی مسلمانوں کے سامنے تو بچھ جانے والے، جھک جانے والے ہوتے ہیں اور کفار کے مقابلہ میں تن جانے والے، ان پر بھاری پڑنے والے اور ان پر تیز ہونے والے ہوتے ہیں "۔ جیسے فرمایا آیت (اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ) 48۔ الفتح :29) حضور ﷺ کی صفتوں میں ہے کہ آپ خندہ مزاج بھی تھے اور قتال بھی یعنی دوستوں کے سامنے ہنس مکھ خندہ رو اور دشمنان دین کے مقابلہ میں سخت اور جنگجو، سچے مسلمان راہ حق کے جہاد سے نہ منہ موڑتے ہیں، نہ پیٹھ دکھاتے ہیں، نہ تھکتے ہیں، نہ بزدلی اور آرام طلبی کرتے ہیں، نہ کسی کی مروت میں آتے ہیں، نہ کسی کی ملامت کا خوف کرتے ہیں، وہ برابر اطاعت الٰہی میں اس کے دشمنوں سے جنگ کرنے میں بھلائی کا حکم کرنے میں اور برائیوں سے روکنے میں مشغول رہتے ہیں۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں " مجھے میرے خلیل ﷺ نے سات باتوں کا حکم دیا ہے۔ مسکینوں سے محبت رکھنے، ان کے ساتھ بیٹھنے اٹھنے اور دنیوی امور میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کو دیکھنے اور اپنے سے بڑھے ہوؤں کو نہ دیکھنے، صلہ رحمی کرتے رہنے، گو دوسرے نہ کرتے ہوں اور کسی سے کچھ بھی نہ مانگنے، حق بات بیان کرنے کا گو وہ سب کو کڑوی لگے اور دین کے معاملات میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا اور بہ کثرت لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے کا، کیونکہ یہ کلمہ عرش کے نیچے کا خزانہ ہے "۔ (مسند احمد) ایک روایت میں ہے " میں نے حضور ﷺ سے پانچ مرتبہ بیعت کی ہے اور سات باتوں کی آپ نے مجھے یاد دہانی کی ہے اور سات مرتبہ اپنے اوپر اللہ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دین کے بارے میں کسی بدگو کی بدگوئی کی مطلق پرواہ نہیں کرتا۔ مجھے بلا کر حضور ﷺ نے فرمایا کیا مجھ سے جنت کے بدلے میں بیعت کرے گا ؟ میں نے منظور کر کے ہاتھ بڑھایا تو آپ نے شرط کی کہ کسی سے کچھ بھی نہ مانگنا۔ میں نے کہا بہت اچھا، فرمایا اگرچہ کوڑا بھی ہو۔ یعنی اگر وہ گڑ پڑے تو خود سواری سے اتر کرلے لینا " (مسند احمد) حضور ﷺ فرماتے ہیں " لوگوں کی ہیبت میں آکر حق گوئی سے نہ رکنا، یاد رکھو نہ تو کوئی موت کو قریب کرسکتا ہے، نہ رزق کو دور کرسکتا ہے "۔ ملاحظہ ہو امام احمد کی مسند۔ " فرماتے ہیں خلاف شرع امر دیکھ کر، سن کر اپنے تئیں کمزور جان کر، خاموش نہ ہوجانا۔ ورنہ اللہ کے ہاں اس کی باز پرس ہوگی، اس وقت انسان جواب دے گا کہ میں لوگوں کے ڈر سے چپکا ہوگیا تو جناب باری تعالیٰ فرمائے گا، میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا "۔ (مسند احمد) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے قیامت کے دن ایک سوال یہ بھی کرے گا کہ تو نے لوگوں کو خلاف شرع کام کرتے دیکھ کر اس سے روکا کیوں نہیں ؟ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی اسے جواب سمجھائے گا اور یہ کہہ گا پروردگار میں نے تجھ پر بھروسہ کیا اور لوگوں سے ڈرا (ابن ماجہ) ایک اور صحیح حدیث میں ہے " مومن کو نہ چاہئے کہ اپنے تئیں ذلت میں ڈالے صحابہ نے پوچھا، یہ کس طرح ؟ فرمایا ان بلاؤں کو اپنے اوپر لے لے، جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ پھر فرمایا اللہ کا فضل ہے جے چاہے دے۔ یعنی کمال ایمان کی یہ صفتیں خاص اللہ کا عطیہ ہیں، اسی کی طرف سے ان کی توفیق ہوتی ہے، اس کا فضل بہت ہی وسیع ہے اور وہ کامل علم والا ہے، خوب جانتا ہے کہ اس بہت بڑی نعمت کا مستحق کون ہے ؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تمہارے دوست کفار نہیں بلکہ حقیقتاً تمہیں اللہ سے اس کے رسول ﷺ اور مومنوں سے دوستیاں رکھنی چاہئیں۔ مومن بھی وہ جن میں یہ صفتیں ہوں کہ وہ نماز کے پورے پابند ہوں، جو اسلام کا اعلیٰ اور بہترین رکن ہے اور صرف اللہ کا حق ہے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو اللہ کے ضعیف مسکین بندوں کا حق ہے " اور آخری جملہ جو ہے اس کی نسبت بعض لوگوں کو وہم سا ہوگیا ہے کہ یہ (یؤتون الزکوۃ) سے حال واقع یعنی رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اگر اسے مان لیا جائے تو یہ تو نمایاں طور پر ثابت ہوجائے گا کہ رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا افضل ہے حالانکہ کوئی عالم اس کا قائل ہی نہیں، ان وہمیوں نے یہاں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب نماز کے رکوع میں تھے جو ایک سائل آگیا تو آپ نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسے دے دی، (والذین امنوا) سے مراد بقول عتبہ جملہ مسلمان اور حضرت علی ہیں۔ اس پر یہ آیت اتری ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی انگوٹھی کا قصہ ہے اور بعض دیگر مفسرین نے بھی یہ تفسیر کی ہے لیکن سند ایک کی بھی صحیح نہیں، رجال ایک کے بھی ثقہ اور ثابت نہیں، پس یہ واقعہ بالکل غیر ثابت شدہ ہے اور صحیح نہیں۔ ٹھیک رہی ہے جو ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ یہ سب آیتیں حضرت عبادہ بن صامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جبکہ انہوں نے کھلے لفظوں میں یہود کی دوستی توڑی اور اللہ اور اس کے رسول اور باایمان لوگوں کی دوستی رکھے وہ اللہ کے لشکر میں داخل ہے اور یہی اللہ کا لشکر غالب ہے۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ) 58۔ المجادلہ :21) ، یعنی اللہ تعالیٰ یہ دیکھ چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ﷺ ہی غالب رہیں گے اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو تو اللہ اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پسند نہ آئے گا چاہے وہ باپ بیٹے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگوں میں سے ہی کیوں نہ ہو، یہی ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی روح سے ان کی تائید کی ہے، انہیں اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، رب ان سے راضی ہے، یہ اللہ سے خوش ہیں، یہی اللہ کے لشکر ہیں اور اللہ ہی کا لشکر فلاح پانے والا ہے۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کی دوستیوں پر راضی اور رضامند ہوجائے، وہ دنیا میں فاتح ہے اور آخرت میں فلاح پانے والا ہے۔ اسی لئے اس آیت کو بھی اس جملے پر ختم کیا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
📘 اذان اور دشمنان دین اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ " کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں "۔ من بیان جنس کیلئے جیسے (من الاوثان) میں۔ بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور (لاتتخذوا) کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت (والا الکفار اولیاء) ہوگی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (و من الذین اشرکوا) ہے۔ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ) 3۔ آل عمران :28) مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لئے کہ یہ متبع شیطان ہیں، اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آجاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آکر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں ؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کرلے۔ (متفق علیہ) امام زہری فرماتے ہیں " اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی "۔ ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب اشہد ان محمد الرسول اللہ سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھر بار سب جل کر ختم ہوگیا۔ فتح مکہ والے سال حضور ﷺ نے حضرت بلال کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابو سفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابو سفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کردیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ حضور ﷺ آگئے اور فرمانے لگے اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ﷺ ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کرسکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ سے کہہ دیا ہوگا (سیرۃ محمد بن اسحاق) حضرت عبداللہ بن جبیر جب شام کے سفر کو جانے لگے تو حضرت محذورہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئے۔ فرمایا ہاں سنو جب رسول اللہ ﷺ حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت حضور ﷺ کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ کے کان میں بھی آوازیں پڑگئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ کے پاس لے گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی ؟ سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا " اٹھو اذان کہو " واللہ اس وقت حضور ﷺ کی ذات سے اور آپ کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بےبس تھا، کھڑا ہوگیا، اب خود آپ نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے۔ اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول ﷺ کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت حضور ﷺ کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکہ کا مؤذن حضور ﷺ مجھ کو بنادیں۔ آپ نے میری یہ درخواست منظور فرما لی اور میں مکہ میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر حضرت عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا۔ حضرت ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، حضور ﷺ کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ ؓ وارضاہ۔
وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ
📘 اذان اور دشمنان دین اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی محبت سے نفرت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ " کیا تم ان سے دوستیاں کرو گے جو تمہارے طاہر و مطہر دین کی ہنسی اڑاتے ہیں اور اسے ایک بازیچہ اطفال بنائے ہوئے ہیں "۔ من بیان جنس کیلئے جیسے (من الاوثان) میں۔ بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور عطف ڈالا ہے اور بعض نے (والکفار) پڑھا ہے اور (لاتتخذوا) کا نیا معمول بنایا ہے تو تقدیر عبارت (والا الکفار اولیاء) ہوگی، کفار سے مراد مشرکین ہیں، ابن مسعود کی قرأت میں (و من الذین اشرکوا) ہے۔ اللہ سے ڈرو اور ان سے دوستیاں نہ کرو اگر تم سچے مومن ہو۔ یہ تو تمہارے دین کے، اللہ کی شریعت کے دشمن ہیں۔ جیسے فرمایا آیت (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ) 3۔ آل عمران :28) مومن مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستیاں نہ کریں اور جو ایسا کرے وہ اللہ کے ہاں کسی بھلائی میں نہیں ہاں ان سے بچاؤ مقصود ہو تو اور بات ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اسی طرح یہ کفار اہل کتاب اور مشرک اس وقت بھی مذاق اڑاتے ہیں جب تم نمازوں کیلئے لوگوں کو پکارتے ہو حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے پیاری عبادت ہے، لیکن یہ بیوقوف اتنا بھی نہیں جانتے، اس لئے کہ یہ متبع شیطان ہیں، اس کی یہ حالت ہے کہ اذان سنتے ہی بدبو چھوڑ کر دم دبائے بھاگتا ہے اور وہاں جا کر ٹھہرتا ہے، جہاں اذان کی آواز نہ سن پائے۔ اس کے بعد آجاتا ہے پھر تکبیر سن کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی آکر اپنے بہکاوے میں لگ جاتا ہے، انسان کو ادھر ادھر کی بھولی بسری باتیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ نماز کی کتنی رکعت پڑھیں ؟ جب ایسا ہو تو وہ سجدہ سہو کرلے۔ (متفق علیہ) امام زہری فرماتے ہیں " اذان کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے پھر یہی آیت تلاوت کی "۔ ایک نصرانی مدینے میں تھا، اذان میں جب اشہد ان محمد الرسول اللہ سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ گھر میں آگ لائی، کوئی پتنگا اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی، وہ شخص اس کا گھر بار سب جل کر ختم ہوگیا۔ فتح مکہ والے سال حضور ﷺ نے حضرت بلال کو کعبے میں اذان کہنے کا حکم دیا، قریب ہی ابو سفیان بن حرب، عتاب بن اسید، حارث بن ہشام بیٹھے ہوئے تھے، عتاب نے تو اذان سن کر کہا میرے باپ پر تو اللہ کا فضل ہوا کہ وہ اس غصہ دلانے والی آواز کے سننے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسا۔ حارث کہنے لگا اگر میں اسے سچا جانتا تو مان ہی نہ لیتا۔ ابو سفیان نے کہا بھئی میں تو کچھ بھی زبان سے نہیں نکالتا، ڈر ہے کہ کہیں یہ کنکریاں اسے خبر نہ کردیں انہوں نے باتیں ختم کی ہی تھیں کہ حضور ﷺ آگئے اور فرمانے لگے اس وقت تم نے یہ یہ باتیں کیں ہیں، یہ سنتے ہی عتاب اور حارث تو بول پڑے کہ ہماری گواہی ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ﷺ ہیں، یہاں تو کوئی چوتھا تھا ہی نہیں، ورنہ گمان کرسکتے تھے کہ اس نے جا کر آپ سے کہہ دیا ہوگا (سیرۃ محمد بن اسحاق) حضرت عبداللہ بن جبیر جب شام کے سفر کو جانے لگے تو حضرت محذورہ سے جن کی گود میں انہوں نے ایام یتیمی بسر کئے تھے، کہا آپ کی اذان کے بارے میں مجھ سے وہاں کے لوگ ضرور سوال کریں گے تو آپ اپنے واقعات تو مجھے بتا دیجئے۔ فرمایا ہاں سنو جب رسول اللہ ﷺ حنین سے واپس آ رہے تھے، راستے میں ہم لوگ ایک جگہ رکے، تو نماز کے وقت حضور ﷺ کے مؤذن نے اذان کہی، ہم نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا، کہیں آپ کے کان میں بھی آوازیں پڑگئیں۔ سپاہی آیا اور ہمیں آپ کے پاس لے گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تم سب میں زیادہ اونچی آواز کس کی تھی ؟ سب نے میری طرف اشارہ کیا تو آپ نے اور سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا اور فرمایا " اٹھو اذان کہو " واللہ اس وقت حضور ﷺ کی ذات سے اور آپ کی فرماں برداری سے زیادہ بری چیز میرے نزدیک کوئی نہ تھی لیکن بےبس تھا، کھڑا ہوگیا، اب خود آپ نے مجھے اذان سکھائی اور جو سکھاتے رہے، میں کہتا رہا، پھر اذان پوری بیان کی، جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ نے مجھے ایک تھیلی دے، جس میں چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پیٹھ تک لائے، پھر فرمایا اللہ تجھ میں اور تجھ پر اپنی برکت نازل کرے۔ اب تو اللہ کی قسم میرے دل سے رسول ﷺ کی عداوت بالکل جاتی رہی، ایسی محبت حضور ﷺ کی دل میں پیدا ہوگئی، میں نے آرزو کی کہ مکہ کا مؤذن حضور ﷺ مجھ کو بنادیں۔ آپ نے میری یہ درخواست منظور فرما لی اور میں مکہ میں چلا گیا اور وہاں کے گورنر حضرت عتاب بن اسید سے مل کر اذان پر مامور ہوگیا۔ حضرت ابو مخدورہ کا نام سمرہ بن مغیرہ بن لوذان تھا، حضور ﷺ کے چار مؤذنوں میں سے ایک آپ تھے اور لمبی مدت تک آپ اہل مکہ کے مؤذن رہے۔ ؓ وارضاہ۔
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَاسِقُونَ
📘 بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَٰكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
📘 وضو اور غسل کے احکامات اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بےوضو ہو۔ ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بےوضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو باوضو ہو اس پر استحباباً۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلوۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے، فتح مکہ والے دن آپ نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں، یہ دیکھ کر حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آج آپ نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے، ابن ماجہ وغیرہ میں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کرلیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کرلیا کرتے۔ یہ دیکھ کر حضرت فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں ؟ فرمایا نہیں بلکہ میں نے نبی ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرتے دیکھ کر خواہ وضو ٹوٹا ہو یا نہ ٹوٹا ہو ان کے صاحبزادے عبید اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کی کیا سند ہے ؟ فرمایا اس سے حضرت اسماء بنت زید بن خطاب نے کہا ہے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے جو فرشتوں کے غسل دئیے ہوئے کے صاحبزادے تھے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حالت میں وضو باقی ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی، لیکن اس میں قدرے مشقت معلوم ہوئی تو وضو کے حکم کے بدلے مسواک کا حکم رکھا گیا ہاں جب وضو ٹوٹے تو نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہے اسے سامنے رکھ کر حضرت عبداللہ کا خیال ہے کہ چونکہ انہیں قوت ہے اس لئے وہ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہیں۔ آخری دم تک آپ کا یہی حال رہا، ؓ وعن والدہ۔ اس کے ایک راوی حضرت محمد بن اسحاق ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ حدثنا کہا ہے اس لئے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں اللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ خلفاء ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرتے تھے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ یوم القیامہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے اور دلیل میں یہ آیت تلاوت فرما دیتے ایک مرتبہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما تھے پھر پانی لایا گیا اور آپ نے منہ دھویا ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پھر پیر کا۔ اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو، ایک مرتبہ آپ نے خفیف وضو کر کے بھی یہی فرمایا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ ابو داؤد طیالسی میں حضرت سعید بن مسیب کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔ اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے، بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے کہ حضور ﷺ ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے، ایک انصاری نے حضرت انس سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے ؟ فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں، ابن جریر حضور ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لئے ہے کہ حضور ﷺ کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کرلیں، ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے کہ حضور ﷺ جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ سے بولتے لیکن آپ جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری۔ ابو داؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ پاخانے سے نکلے اور کھانا آپ کے سامنے لایا گیا تو ہم نے کہا اگر فرمائیں تو وضو کا پانی کا حاضر کریں فرمایا وضو کا حکم تو مجھے صرف نماز کیلئے کھڑا ہونے کے وقت ہی کیا گیا ہے۔ امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں۔ آیت کے ان الفاظ سے کہ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کرلیا کرو علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کرلیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہوجا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہوجا۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں بسم اللہ نہ کہے (حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح بسم اللہ کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں واللہ اعلم۔ مترجم) یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان مروی ہے کہ تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں ؟ منہ کی حد فقہاء کے نزدیک لمبائی میں سر کے بالوں کی اگنے کی جو جگہ عموماً ہے وہاں سے داڑھی کی ہڈی اور تھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ اس میں اختلاف ہے کہ دونوں جانب کی پیشانی کے اڑے ہوئے بالوں کی جگہ سر کے حکم میں ہے یا منہ کے ؟ اور داڑھی کے لکٹتے ہوئے بالوں کا دھونا منہ کے دھونے کی فرضیت میں داخل ہے یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں، ایک تو یہ کہ ان پر پانی کا بہانا واجب ہے اس لئے کہ منہ سامنے کرنے کے وقت اس کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں طلع وجھہ پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ وجہہ میں داخل ہے۔ داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔ حضرت عثمان کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے (ترمذی وغیرہ) اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی حسن بتاتے ہیں ابو داؤد میں ہے کہ حضور ﷺ وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔ حضرت امام بیہقی فرماتے ہیں داڑھی کا خلال کرنا حضرت عمار حضرت عائشہ حضرت ام سلمہ حضرت علی سے مروی ہے، اور اس کے ترک کی رخصت ابن عمر حسن بن علی اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے صحاح وغیرہ میں مروی ہے کہ حضور ﷺ جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی دیئے۔ ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب ؟ امام احمد بن حنبل کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے حضور ﷺ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے، امام حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں، ایک روایت امام احمد سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب، کیونکہ بخاری و مسلم میں حضور ﷺ کا فرمان ہے جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے اور روایت میں ہے تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے۔ مسند احمد اور بخاری میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس وضو کرنے بیٹھے تو منہ دھویا ایک چلو پانی کا لے کر کلی کی اور ناک کو صاف کیا پھر ایک چلو لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو لے کر اسی سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لے کر اپنے داہنے پاؤں پر ڈال کر اسے دھویا پھر ایک چلو سے بایاں پاؤں دھویا۔ پھر فرمایا میں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ (الی المرافق) سے مراد (مع المرافق) ہے، جیسے فرمان ہے آیت (وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلٰٓى اَمْوَالِكُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا) 4۔ النسآء :2) یعنی یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہئے۔ دار قطنی وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے، لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ واللہ اعلم۔ وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میری امت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے صحیح مسلم میں ہے مومن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا۔ (برؤسکم) میں جواب ہے اس کا الحاق یعنی ملا دینے کیلئے ہونا تو زیادہ غالب ہے اور تبعیض یعنی کچھ حصے کیلئے ہونا تامل طلب ہے۔ بعض اصولی حضرات فرماتے ہیں چونکہ آیت میں اجمال ہے اس لئے سنت نے جو اس کی تفصیل کی ہے وہی معتبر ہے اور اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا، حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی سے ایک شخص نے کہا " آپ وضو کر کے ہمیں بتلایئے۔ آپ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے (بخاری و مسلم) حضرت علی سے بھی آنحضرت ﷺ کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔ ابو داؤد میں حضرت معاویہ اور حضرت مقداد سے بھی اسی طرح مروی ہے، یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔ یہی مذہب حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا ہے اور یہی مذہب ان تمام حضرات کا ہے جو آیت کو مجمل مانتے ہیں اور حدیث کو اس کی وضاحت جانتے ہیں حنیفوں کا خیال ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے جو سر کا ابتدائی حصہ ہے اور ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ فرض صرف اتنا ہے جتنے پر مسح کا اطلاق ہوجائے، اس کی کوئی حد نہیں۔ سر کے چند بالوں پر بھی مسح ہوگیا تو فرضیت پوری ہوگئی، ان دونوں جماعتوں کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے کہ نبی ﷺ پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ قضائے حاجت کرچکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کرلیا اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں۔ آپ صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے، پس یہی اولی ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کرلے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ واللہ اعلم۔ پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ سر کا مسح بھی تین بار ہو یا ایک ہی بار ؟ امام شافعی کا مشہور مذہب اول ہے اور امام احمد اور ان کے متبعین کا دوم۔ دلائل یہ ہیں حضرت عثمان بن عفان وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں، پھر تین تین بار دونوں ہاتھو کہنیوں سمیت دھوتے ہیں، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔ پھر آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا اور وضو کے بعد آپ نے فرمایا جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں (بخاری و مسلم) سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ سر کا مسح ایک مرتبہ کیا، حضرت علی سے بھی اسی طرح مروی ہے اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ حضور ﷺ نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا۔ حضرت عثمان سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔ پھر فرمایا میں نے حضور ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے۔ لیکن حضرت عثمان سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے (ارجلکم) لام کی زبر سے عطف ہے جو (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا) 5۔ المائدہ :6) پر ماتحت ہے دھونے کے حکم کے۔ ابن عباس یونہی پڑھتے تھے اور یہی فرماتے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عروہ، حضرت عطاء، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت مجاہد، حضرت ابراہیم، حضرت ضحاک، حضرت سدی، حضرت مقاتل بن حیان، حضرت زہری، حضرت ابراہیم تیمی وغیرہ کا یہی قول اور یہی قرأت ہے، اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے، صرف ابوحنیفہ اس کے خلاف ہیں، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لئے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی، اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں، ایک تو یہ کہ "" ترتیب پر دلالت کرتی ہے، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ (فاغسلوا) سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہوگیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔ پھر جبکہ "" جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہوچکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقینا حجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہوتا ہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہوسکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے، چناچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت اللہ شریف کا طواف کر کے باب صفا سے نکلے تو آپ آیت (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ۭ وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ) 2۔ البقرۃ :158) کی تلاوت کر رہے تھے اور فرمایا میں اسی سے شروع کروں گا جسے اللہ نے پہلے بیان فرمایا، چناچہ صفا سے سعی شروع کی، نسائی میں رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم دینا بھی مروی ہے کہ اس سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا۔ اس کی اسناد بھی صحیح ہے اور اس میں امر ہے پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہوگیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ واللہ اعلم، تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔ ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابو داؤد وغیرہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا۔ اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی ؟ اگر کہا جائے کہ حضور ﷺ کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بےترتیب تھا، پیر دھو لئے پھر کلی کرلی پھر مسح کرلیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہوجائے گی حالانکہ اس کا قائل امت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہوگیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے، آیت کے اس جملے کی ایک قرأت اور بھی ہے یعنی (وارجلکم) لام کے زیر سے اور اسی سے شیعہ نے اپنے اس قول کی دلیل لی ہے کہ پیروں پر مسح کرنا واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عطف سر کے مسح کرنے پر ہے۔ بعض سلف سے بھی کچھ ایسے اقوال مروی ہیں جن سے مسح کے قول کا وہم پڑتا ہے، چناچہ ابن جریر میں ہے کہ موسیٰ بن انس نے حضرت انس سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔ حضرت انس نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج چھوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا) 5۔ المائدہ :6) اور حضرت انس کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے، آپ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے، ہاں حضور ﷺ کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔ حضرت قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ ابن عمر، علقمہ، ابو جعفر، محمد بن علی اور ایک روایت میں حضرت حسن اور جابر بن زید اور ایک روایت میں مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ حضرت عکرمہ اپنے پیروں پر مسح کرلیا کرتے تھے شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل کی معرفت مسح کا حکم نازل ہوا ہے، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن چیزوں کے دھونے کا حکم تھا ان پر تو تیمم کے وقت مسح کا حکم رہا اور جن چیزوں پر مسح کا حکم تھا تیمم کے وقت انہیں چھوڑ دیا گیا عامر سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں حضرت جبرائیل پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں آپ نے فرمایا جبرائیل مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔ پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے، یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام حجر ضب خرب میں اور اللہ کے کلام آیت (عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ ۚ وَسَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا) 76۔ الدہر :21) میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔ حضرت امام شافعی نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے جیسے کہ بعض روایتوں میں سنت سے ثابت ہے۔ الغرض پیروں کا دھونا فرض ہے جس کے بغیر وضو نہ ہوگا۔ آیت بھی یہی ہے اور احادیث میں بھی یہی ہے جیسے کہ اب ہم انہیں وارد کریں گے، انشاء اللہ تعالیٰ بیہقی میں ہے حضرت علی بن ابو طالب ظہر کی نماز کے بعد بیٹھک میں بیٹھے رہے پھر پانی منگوایا اور ایک چلو سے منہ کا، دونوں ہاتھوں سر کا اور دونوں پیروں کا مسح کیا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا پھر فرمانے لگے کہ لوگ کھڑے کھڑے پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں اور میں نے جو کیا یہی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو (بخاری) شعیوں میں سے جن لوگوں نے پیروں کو مسح اسی طرح قرار دیا جس طرح جرابوں پر مسح کرتے ہیں ان لوگوں نے یقینا غلطی کی اور لوگوں کو گمراہی میں ڈالا۔ اسی طرح وہ لوگ بھی خطا کار ہیں جو مسح اور دھونا دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور جن لوگوں نے امام ابن جریر کی نسبت یہ خیال کیا ہے کہ انہوں نے احادیث کی بنا پر پیروں کے دھونے کو اور آیت قرآنی کی بنا پر پیروں کے مسح کو فرض قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق بھی صحیح نہیں، تفسیر ابن جریر ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ پیروں کو رگڑنا واجب ہے اور اعضاء میں یہ واجب نہیں کیونکہ پیر زمین کی مٹی وغیرہ سے رگڑتے رہتے ہیں تو ان کو دھونا ضروری ہے تاکہ جو کچھ لگا ہو ہٹ جائے لیکن اس رگڑنے کیلئے مسح کا لفظ لائے ہیں اور اسی سے بعض لوگوں کو شبہ ہوگیا ہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مسح اور غسل جمع کردیا ہے حالانکہ دراصل اس کے کچھ معنی ہی نہیں ہوتے مسح تو غسل میں داخل ہے چاہے مقدم ہو چاہے مؤخر ہو پس حقیقتاً امام صاحب کا ارادہ یہی ہے جو میں نے ذکر کیا اور اس کو نہ سمجھ کر اکثر فقہاء نے اسے مشکل جان لیا، میں نے مکرر غورو فکر کیا تو مجھ پر صاف طور سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ امام صاحب دونوں قرأتوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں پس زیر کی قرأت یعنی مسح کو تو وہ محمول کرتے ہیں دلک پر یعنی اچھی طرح مل رگڑ کر صاف کرنے پر اور زبر کی قرأت کو غسل پر یعنی دھونے پر دلیل ہے ہی پس وہ دھونے اور ملنے دونوں کو واجب کہتے ہیں تاکہ زیر اور زبر کی دونوں قرأتوں پر ایک ساتھ ہوجائے " اب ان احادیث کو سنئے جن میں پیروں کے دھونے کا اور پیروں کے دھونے کے ضروری ہونے کا ذکر ہے " امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان امیر المومنین حضرت علی بن ابو طالب حضرت ابن عباس حضرت معاویہ حضرت عبداللہ بن زید عاصم حضرت مقداد بن معدی کرب کی روایات پہلے بیان ہوچکی ہیں کہ حضور ﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے پیروں کو دھویا، ایک بار یا دو بار یا تین بار، عمرو بن شعیب کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے وضو کیا اور اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا یہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے تھے جب آپ آئے تو ہم جلدی جلدی وضو کر رہے تھے کیونکہ عصر کی نماز کا وقت کافی دیر سے ہوچکا تھا ہم نے جلدی جلدی اپنے پیروں پر چھوا چھوئی شروع کردی تو آپ نے بہت بلند آواز سے فرمایا وضو کو کامل اور پورا کرو ایڑیوں کو خرابی سے آگ کے لگنے سے، ایک اور حدیث میں ہے ویل ہے ایڑیوں کیلئے اور تلوں کیلئے آگ سے (بیہقی و حاکم) اور روایت میں ہے ٹخنوں کو ویل ہے آگ سے (مسند امام احمد) ایک شخص کے پیر میں ایک درہم کے برابر جگہ بےدھلی دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا خرابی ہے ایڑیوں کیلئے آگ سے (مسند) ابن ماجہ وغیرہ میں ہے کہ کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھ کر جن کی ایڑیوں پر اچھی طرح پانی نہیں پہنچا تھا اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان ایڑیوں کو آگ سے خرابی ہوگی، مسند احمد میں بھی حضور ﷺ کے یہ الفاظ وارد ہیں۔ ابن جریر میں دو مرتبہ حضور ﷺ کا ان الفاظ کو کہنا وارد ہے راوی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں پھر تو مسجد میں ایک بھی شریف و وضیع ایسا نہ رہا جو اپنی ایڑیوں کو بار بار دھو کر نہ دیکھتا ہو اور روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس کی اڑی یا ٹخنے میں بقدر نیم درہم کے چمڑی خشک رہ گئی تھی تو یہی فرمایا پھر تو یہ حالت تھی کہ اگر ذرا سی جگہ پیر کی کسی خشک رہ جاتی تو وہ پورا وضو پھر سے کرتا، پس ان احادیث سے کھلم کھلا ظاہر ہے کہ پیرو کا دھونا فرض ہے، اگر ان کا مسح فرض ہوتا تو ذرا سی جگہ کے خشک رہ جانے پر اللہ کے نبی ﷺ وعید سے اور وہ بھی جہنم کی آگ کی وعید سے نہ ڈراتے، اس لئے کہ مسح میں ذرا ذرا اسی جگہ پر ہاتھ کا پہنچانا داخل ہی نہیں۔ بلکہ پھر تو پیر کے مسح کی وہی صورت ہوتی ہے جو پیر کے اوپر جراب ہونے کی صورت میں مسح کی صورت ہے۔ یہی چیز امام ابن جریر نے شیعوں کے مقابلہ میں پیش کی ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اس کا پیر کسی جگہ سے ناخن کے برابر دھلا نہیں خشک رہ گیا تو آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ بیہقی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، مسند میں ہے کہ ایک نمازی کو آپ نے نماز میں دیکھا کہ اس کے پیر میں بقدر درہم کے جگہ خشک رہ گئی ہے تو اسے وضو لوٹانے کا حکم کیا۔ حضرت عثمان سے حضور ﷺ کے وضو کا وضو کا طریقہ جو مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے انگلیوں کے درمیان خلال بھی کیا۔ سنن میں ہے حضرت صبرہ نے رسول اللہ ﷺ سے وضو کی نسبت دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وضو کامل اور اچھا کرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح دھو ہاں روزے کی حالت میں ہو تو اور بات ہے، مسند و مسلم وغیرہ میں ہے حضرت عمرو بن عنبسہ کہتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ مجھے وضو کی بابت خبر دیجئے آپ نے فرمایا جو شخص وضو کا پانی لے کر کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی دیتا ہے اس کے منہ سے نتھنوں سے پانی کے ساتھ ہی خطائیں جھڑ جاتی ہیں جبکہ وہ ناک جھاڑتا ہے پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے تو اس کے منہ کی خطائیں داڑھی اور داڑھی کے بالوں سے پانی کے گرنے کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے کہنیوں سمیت تو اس کے ہاتھوں کو گناہ اس کی پوریوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں، پھر وہ مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی خطائیں اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت حکم الٰہی کے مطابق دھوتا ہے تو انگلیوں سے پانی ٹپکنے کے ساتھ ہی اس کے پیروں کے گناہ بھی دور ہوجاتے ہیں، پھر وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کے لائق جو حمد وثنا ہے اسے بیان کر کے دو رکعت نماز جب ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے وہ تولد ہوا ہو۔ یہ سن کر حضرت ابو امامہ نے حضرت عمرو بن عنبسہ سے کہا خوب غور کیجئے کہ آپ کیا فرما رہے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ سے آپ نے اسی طرح سنا ہے ؟ کیا یہ سب کچھ ایک ہی مقام میں انسان حاصل کرلیتا ہے ؟ حضرت عمرو نے جواب دیا کہ ابو امامہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں، میری ہڈیاں ضعیف ہوچکی ہیں، میری موت قریب آپہنچی ہے، مجھے کیا فائدہ جو میں اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولوں، ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں، میں نے تو اسے حضور ﷺ کی زبانی سات بار بلکہ اس سے بھی زیادہ سنا ہے، اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔ صحیح مسلم کی دوسری سند والی حدیث میں ہے پھر وہ اپنے دونوں پاؤں کو دھوتا ہے جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے۔ پس صاف ثابت ہوا کہ قرآن حکیم کا حکم پیروں کے دھونے کا ہے۔ ابو اسحاق سبیعی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ فی الجنہ سے بواسطہ حضرت حارث روایت میں حضرت علی سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے دونوں قدم جوتی میں ہی بھگو لئے اس سے مراد جوتیوں میں ہی ہلکا دھونا ہے اور چپل جوتی پیر میں ہوتے ہوئے پیر دھل سکتا ہے غرض یہ حدیث بھی دھونے کی دلیل ہے البتہ اس سے ان وسواسی اور وہمی لوگوں کی تردید ہے جو حد سے گزر جاتے ہیں، اسی طرح وہ دوسری حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے ایک قوم کے کوڑا ڈالنے کی جگہ پر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کرلیا، لیکن یہی حدیث دوسری سندوں سے مروی ہے اور ان میں سے کہ آپ نے اپنی جرابوں پر مسح کیا اور ان میں مطابقت کی صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جرابیں پیروں میں تھیں اور ان پر نعلین تھے اور ان دونوں پر آپ نے مسح کرلیا۔ یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے، مسند احمد میں اوس ابو اوس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے میرے دیکھتے ہوئے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہوگئے، یہی روایت دوسری سند سے مروی ہے اس میں آپ کا کوڑے پر پیشاب کرنا پھر وضو کرنا اور اس میں نعلین اور دونوں قدموں پر مسح کرنا مذکور ہے، امام ابن جریر اسے بیان کرتے ہیں، پھر فرمایا ہے کہ یہ محمول اس پر ہے کہ اس وقت آپ کا پہلا وضو تھا (یا یہ محمول ہے اس پر کہ نعلین جرابوں کے اوپر تھے۔ مترجم) بھلا کوئی مسلمان یہ کیسے قبول کرسکتا ہے کہ اللہ کے فریضے میں اور پیغمبر کی سنت میں تعارض ہو اللہ کچھ فرمائے اور پیغمبر کچھ اور ہی کریں ؟ پس حضور ﷺ کے ہمیشہ کے فعل سے وضو میں پیروں کے دھونے کی فرضیت ثابت ہے اور آیت کا صحیح مطلب بھی یہ ہے جس کے کانوں تک یہ دلیلیں پہنچ جائیں اس پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی۔ چونکہ زیر کی قرأت سے پیروں کا دھونا اور زیر کی قرأت کا بھی اسی پر محمول ہونا فرضیت کا قطعی ثبوت ہے اس سے بعض سلف تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اس آیت سے جرابوں کا مسح ہی منسوخ ہے، گو ایک روایت حضرت علی سے بھی ایسی مروی ہے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں بلکہ خود آپ سے صحت کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور جن کا بھی یہ قول ہے ان کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ حضور ﷺ سے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔ مسند احمد میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کا قول ہے کہ سورة مائدہ کے نازل ہونے کے بعد ہی میں مسلمان ہوا اور اپنے اسلام کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کو جرابوں پر مسح کرتے دیکھا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت جریر نے پیشاب کیا پھر وضو کرتے ہوئے اپنی جرابوں پر مسح کیا ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کرتے ہیں ؟ تو فرمایا یہی کرتے ہوئے میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو دیکھا ہے۔ راوی حدیث حضرت ابراہیم فرماتے ہیں لوگوں کو یہ حدیث بہت اچھی لگتی تھی اس لئے کہ حضرت جریر کا اسلام لانا سورة مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا تھا۔ احکام کی بڑی بڑی کتابوں میں تواتر کے ساتھ حضور ﷺ کے قول و فعل سے جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔ اب مسح کی مدت ہے یا نہیں ؟ اس کے ذکر کی یہ جگہ نہیں احکام کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، رافضیوں نے اس میں بھی گمراہی اختیار کی ہے۔ خود حضرت علی کی روایت سے صحیح مسلم میں یہ ثابت ہے، لیکن روافض اسے نہیں مانتے، جیسے کہ حضرت علی کی ہی روایت سے بخاری مسلم میں نکاح متعہ کی ممانعت ثابت ہے لیکن تاہم شیعہ اسے مباح قرار دیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ آیہ کریمہ دونوں پیروں کے دھونے پر صاف دلالت کرتی ہے اور یہی امر حضور ﷺ کا متواتر احادیث سے ثابت ہے لیکن شیعہ جماعت اس کی بھی مخالف ہے۔ فی واقع ان مسائل میں ان کے ہاتھ دلیل سے بالکل خالی ہیں۔ وللہ الحمد۔ اسی طرح ان لوگوں نے آیت کا اور سلف صالحین کا مسح کے بارے میں بھی الٹ مفہوم لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ قدم کی پشت ابھار کعبین ہے پس ان کے نزدیک ہر قدم میں ایک ہی کعب یعنی ٹخنہ ہے اور جمہور کے نزدیک ٹخنے کی وہ ہڈیاں جو پنڈلی اور قدم کے درمیان ابھری ہوئی ہیں اور وہ کعبین ہیں۔ امام شافعی کا فرمان ہے کہ جن کعبین کا یہاں ذکر ہے یہ ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں جو ادھر ادھر قدرے ظاہر دونوں طرف ہیں، ایک ہی قدم میں کعبین ہیں لوگوں کے عرض میں بھی یہی ہے اور حدیث کی دلالت بھی اسی پر ہے۔ بخاری مسلم میں ہے کہ حضرت عثمان نے وضو کرتے ہوئے اپنے داہنے پاؤں کو کعبین سمیت دھویا پھر بائیں کو بھی اسی طرح۔ بخاری میں تعلیقاً بصیغہ جزم اور صحیح ابن خزیمہ میں اور سنن ابی داؤد میں ہے کہ ہماری طرف متوجہ ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا " اپنی صفیں ٹھیک ٹھیک درست کرلو " تین بار یہ فرما کر فرمایا قسم اللہ کی یا تو تم اپنی صفوں کو پوری طرح درست کرو گے یا اللہ تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا۔ حضرت نعمان بن بشیر راوی حدیث فرماتے ہیں پھر تو یہ ہوگیا کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ اور گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا ملا لیا کرتا تھا۔ اس روایت سے صاف معلوم ہوگیا کہ کعبین اس ہڈی کا نام نہیں جو قدم کی پشت کی طرف ہے کیونکہ اس کا ملانا دو پاس پاس کے شخصوں میں ممکن نہیں بلکہ وہی دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو پنڈلی کے خاتمے پر ہیں اور یہی مذہب اہلسنت کا ہے۔ ابن ابی حاتم میں یحییٰ بن حارث تیمی سے منقول ہے کہ زید کے جو ساتھی شیعہ قتل کئے گئے تھے انہیں میں نے دیکھا تو ان کا ٹخنہ قدم کی پشت پر پایا انہیں قدرتی سزا تھی جو ان کی موت کے بعد ظاہر کی گئی اور مخالفت حق اور کتمان حق کا بدلہ دیا گیا۔ اس کے بعد تیمم کی صورتیں اور تیمم کا طریقہ بیان ہوا ہے اس کی پوری تفسیر سورة نساء میں گزر چکی ہے لہذا یہاں بیان نہیں کی جاتی۔ آیت تیمم کا شان نزول بھی وہیں بیان کردیا گیا ہے۔ لیکن امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری نے اس آیت کے متعلق خاصتًا ایک حدیث وارد کی ہے اسے سن لیجئے حضرت عائشہ صدیقہ ام المومنین کا بیان ہے کہ میرے گلے کا ہار بیداء میں گرگیا ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے حضور ﷺ نے سواری روکی اور میری گود میں سر رکھ کر سو گئے اتنے میں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق میرے پاس تشریف لائے اور مجھ پر بگڑنے لگے کہ تو نے ہار کھو کر لوگوں کو روک دیا اور مجھے کچو کے مارنے لگے۔ جس سے مجھے تکلیف ہوئی لیکن حضور ﷺ کی نیند میں خلل اندازی نہ ہو، اس خیال سے میں ہلی جلی نہیں، حضور ﷺ جب جاگے اور صبح کی نماز کا وقت ہوگیا اور پانی کی تلاش کی گئی تو پانی نہ ملا، اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی۔ حضرت اسید بن حفیر کہنے لگے اے آل ابوبکر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کیلئے تمہیں بابرکت بنادیا ہے تم ان کیلئے سرتاپا برکت ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں تم پر حرج ڈالنا نہیں چاہتا اسی لئے اپنے دین کو سہل آسان اور ہلکا کردیا ہے۔ بوجھل سخت اور مشکل نہیں۔ حکم تو اس کا یہ تھا کہ پانی سے وضو کرو لیکن جب میسر نہ ہو یا بیماری ہو تو تمہیں تیمم کرنے کی رخصت عطا فرماتا ہے، باقی احکام احکام کی کتابوں میں ملاحظہ ہوں۔ بلکہ اللہ کی چاہت یہ ہے کہ تمہیں پاک صاف کر دے اور تمہیں پوری پوری نعمتیں عطا فرمائے تاکہ تم اس کی رحمتوں پر اس کی شکر گزاری کرو اس کی توسیع احکام اور رأفت و رحمت آسانی اور رخصت پر اس کا احسان مانو۔ وضو کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے جو گویا اس آیت کے ماتحت ہے۔ مسند، سنن اور صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ ہم باری باری اونٹوں کو چرایا کرتے تھے میں اپنی باری والی رات عشاء کے وقت چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے لوگوں سے کچھ فرما رہے ہیں میں بھی پہنچ گیا اس وقت میں نے آپ سے یہ سنا کہ جو مسلمان اچھی طرح وضو کر کے دلی توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کرے اس کیلئے جنت واجب ہے۔ میں نے کہا واہ واہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میری یہ بات سن کر ایک صاحب نے جو میرے آگے ہی بیٹھے تھے فرمایا اس سے پہلے جو بات حضور ﷺ نے فرمائی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ میں نے جو غور سے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے آپ مجھ سے فرمانے لگے تم ابھی آئے ہو، تمہارے آنے سے پہلے حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص عمدگی اور اچھائی سے وضو کرے پھر کہے دعا (اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ)۔ اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے چاہے داخل ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب ایمان و اسلام والا وضو کرنے بیٹھتا ہے اس کے منہ دھوتے ہوئے اس کی آنکھوں کی تمام خطائیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتی ہے ہیں اسی طرح ہاتھوں کے دھونے کے وقت ہاتھوں کی تمام خطائیں اور اسی طرح پیروں کے دھونے کے وقت پیروں کی تمام خطائیں دھل جاتی ہیں وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے۔ ابن جریر میں ہے جو شخص وضو کرتے ہوئے جب اپنے ہاتھ یا بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان سے ان کے گناہ دور ہوجاتے ہیں، منہ کو دھوتے وقت منہ کے گناہ الگ ہوجاتے ہیں، سر کا مسح سر کے گناہ جھاڑ دیتا ہے پیر کا دھونا ان کے گناہ دھو دیتا ہے۔ دوسری سند میں سر کے مسح کا ذکر نہیں۔ ابن جریر میں ہے جو شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے اس کے کانوں سے آنکوں سے ہاتھوں سے پاؤ سے سب گناہ الگ ہوجاتے ہیں۔ صحیح مسلم شریف میں ہے وضو آدھا ایمان ہے، الحمد للہ کہنے سے نیکی کا پلڑا بھر جاتا ہے۔ قرآن یا تو تیری موافقت میں دلیل ہے یا تیرے خلاف دلیل ہے، ہر شخص صبح ہی صبح اپنے نفس کی فروخت کرتا ہے پس یا تو اپنے تئیں آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کرلیتا ہے اور حدیث میں ہے " مال حرام کا صدقہ اللہ قبول نہیں فرماتا اور بےوضو کی نماز بھی غیر مقبول ہے " (صحیح مسلم) یہ روایت ابو داؤد، طیالسی، مسند احمد، ابو داؤد نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّهِ ۚ مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۚ أُولَٰئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ
📘 بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
وَإِذَا جَاءُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ
📘 بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
وَتَرَىٰ كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
📘 بدترین گروہ اور اس کا انجام حکم ہوتا ہے کہ جو اہل کتاب تمہارے دین پر مذاق اڑاتے ہیں، ان سے کہو کہ تم نے جو دشمنی ہم سے کر رکھی ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس دراصل نہ تو یہ کوئی وجہ بغض ہے، نہ سبب مذمت بہ استثناء منقطع ہے۔ اور آیت میں ہے (وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا باللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ) 85۔ البروج :8) یعنی فقط اس وجہ سے انہوں نے ان سے دشمنی کی تھی کہ وہ اللہ عزیز وحمید کو مانتے تھے۔ اور جیسے اور آیت میں وما نقموا الا ان اغناھم اللہ و رسولہ من فضلہ۔ یعنی انہوں نے صرف اس کا انتقام لیا ہے کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور رسول ﷺ نے مال دے کر غنی کردیا ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے " ابن جمیل اسی کا بدلہ لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ نے اسے غنی کردیا اور یہ کہ تم میں سے اکثر صراط مستقیم سے الگ اور خارج ہوچکے ہیں۔ تم جو ہماری نسبت گمان رکھتے ہو آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں سے بدلہ پانے میں کون بدتر ہے ؟ اور وہ تم ہو کہ کیونکہ یہ خصلتیں تم میں ہی پائی جاتی ہیں۔ یعنی جسے اللہ نے لعنت کی ہو، اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہو، اس پر غصبناک ہوا ہو، ایسا جس کے بعد رضامند نہیں ہوگا اور جن میں سے بعض کی صورتیں بگاڑ دی ہوں، بندر اور سور بنا دیئے ہوں "۔ اس کا پورا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ حضور ﷺ سے سوال ہوا کہ یہ بندر و سور وہی ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا، جس قوم پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہوتا ہے، ان کی نسل ہی نہیں ہوتی، ان سے پہلے بھی سور اور بندر تھے۔ روایت مختلف الفاظ میں صحیح مسلم اور نسائی میں بھی ہے۔ مسند میں ہے کہ " جنوں کی ایک قوم سانپ بنادی گئی تھی۔ جیسے کہ بندر اور سور بنا دیئے گئے "۔ یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔ انہی میں سے بعض کو غیر اللہ کے پرستار بنا دیئے۔ ایک قرأت میں اضافت کے ساتھ طاغوت کی زیر سے بھی ہے۔ یعنی انہیں بتوں کا غلام بنادیا۔ حضرت برید اسلمی اسے (عابد الطاغوت) پڑھتے تھے۔ حضرت ابو جعفر قاری سے (وعبد الطاغوت) بھی منقول ہے جو بعید از معنی ہوجاتا ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا مطلب یہ ہے کہ تم ہی وہ ہو، جنہوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ الغرض اہل کتاب کو الزام دیا جاتا ہے کہ ہم پر تو عیب گیری کرتے ہو، حالانکہ ہم موحد ہیں، صرف ایک اللہ برحق کے ماننے والے ہیں اور تم تو وہ ہو کہ مذکورہ سب برائیاں تم میں پائی گئیں۔ اسی لئے خاتم پر فرمایا کہ یہی لوگ باعتبار قدر و منزلت کے بہت برے ہیں اور باعتبار گمراہی کے انتہائی غلط راہ پر پڑے ہوئے ہیں۔ اس افعل التفصیل میں دوسری جانب کچھ مشارکت نہیں اور یہاں تو سرے سے ہے ہی نہیں۔ جیسے اس آیت میں (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) پھر منافقوں کی ایک اور بدخصلت بیان کی جا رہی ہے کہ " ظاہر میں تو وہ مومنوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے باطن کفر سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ تیرے کفر کی حالت میں پاس آتے ہیں اور اسی حالت میں تیرے پاس سے جاتے ہیں تو تیری باتیں، تیری نصیحتیں ان پر کچھ اثر نہیں کرتیں۔ بھلا یہ پردہ داری انہیں کیا کام آئے گی، جس سے ان کا معاملہ ہے، وہ تو عالم الغیب ہے، دلوں کے بھید اس پر روشن ہیں۔ وہاں جا کر پورا پورا بدلہ بھگتنا پڑے گا۔ تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ گناہوں پر، حرام پر اور باطل کے ساتھ لوگوں کے مال پر کس طرح چڑھ دوڑتے ہیں ؟ ان کے اعمال نہایت ہی خراب ہوچکے ہیں۔ ان کے اولیاء اللہ یعنی عابد و عالم اور ان کے علماء انہیں ان باتوں سے کیوں نہیں روکتے ؟ دراصل ان کے علماء اور پیروں کے اعمال بدترین ہوگئے ہیں "۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ " علماء اور فقراء کی ڈانٹ کیلئے اس سے زیادہ سخت آیت کوئی نہیں "۔ حضرت ضحاک سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ حضرت علی نے ایک خطبے میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا " لوگو تم سے اگلے لوگ اسی بناء پر ہلاک کردیئے گئے کہ وہ برائیاں کرتے تھے تو ان کے عالم اور اللہ والے خاموش رہتے تھے، جب یہ عادت ان میں پختہ ہوگئی تو اللہ نے انہیں قسم قسم کی سزائیں دیں۔ پس تمہیں چاہئے کہ بھلائی کا حکم کرو، برائی سے روکو، اس سے پہلے کہ تم پر بھی وہی عذاب آجائیں جو تم سے پہلے والوں پر آئے، یقین رکھو کہ اچھائی کا حکم برائی سے ممانعت نہ تو تمہارے روزی گھٹائے گا، نہ تمہارے موت قریب کر دے گا "۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ " جس قوم میں کوئی اللہ کی نافرمانی کرے اور وہ لوگ باوجود روکنے کی قدرت اور غلبے کے اسے نہ مٹائیں تو اللہ تعالیٰ سب پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا " (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ " یہ عذاب ان کی موت سے پہلے ہی آئے گا "۔ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے۔
وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۚ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ كُلَّمَا أَوْقَدُوا نَارًا لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا ۚ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
📘 بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے، پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ جس پر حضرت صدیق اکبر نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14۔ ابراہیم :34)۔ " تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے، یقینا انسان بڑا ہی ظالم بیحد ناشکرا ہے "۔ مسند میں حدیث ہے کہ " اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے "۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ پھر فرمایا " اے نبی ﷺ ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44)۔ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفا ہے اور بےایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا۔ اگر یہ باایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کردیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو آنحضرت ﷺ بتاتے ہیں۔ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی۔ " جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 7۔ الاعراف :96) یعنی اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے۔ اور آیت میں (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 30۔ الروم :41)۔ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے، اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں، بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہوجاتے۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ اب ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی "۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور ﷺ نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر حضرت ابن لبید نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے۔ جیسے فرمان آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا۔ اور قوم عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے۔ آیت (فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ) 57۔ الحدید :27) ان میں سے باایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے، یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ) 35۔ فاطر :32)۔ یعنی پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ کے سامنے حضور ﷺ نے فرمایا " موسیٰ کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا جماعتیں جماعتیں "۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں جب حضرت علی بن ابو طالب یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ) 5۔ المائدہ :65) اور (وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :181) بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے۔ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بیحد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کردیا ہے فالحمدللہ
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ
📘 بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے، پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ جس پر حضرت صدیق اکبر نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14۔ ابراہیم :34)۔ " تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے، یقینا انسان بڑا ہی ظالم بیحد ناشکرا ہے "۔ مسند میں حدیث ہے کہ " اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے "۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ پھر فرمایا " اے نبی ﷺ ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44)۔ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفا ہے اور بےایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا۔ اگر یہ باایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کردیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو آنحضرت ﷺ بتاتے ہیں۔ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی۔ " جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 7۔ الاعراف :96) یعنی اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے۔ اور آیت میں (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 30۔ الروم :41)۔ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے، اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں، بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہوجاتے۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ اب ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی "۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور ﷺ نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر حضرت ابن لبید نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے۔ جیسے فرمان آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا۔ اور قوم عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے۔ آیت (فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ) 57۔ الحدید :27) ان میں سے باایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے، یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ) 35۔ فاطر :32)۔ یعنی پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ کے سامنے حضور ﷺ نے فرمایا " موسیٰ کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا جماعتیں جماعتیں "۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں جب حضرت علی بن ابو طالب یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ) 5۔ المائدہ :65) اور (وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :181) بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے۔ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بیحد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کردیا ہے فالحمدللہ
وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ ۚ مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ
📘 بخل سے بچو اور فضول خرچی سے ہاتھ روکو اللہ تعالیٰ ملعون یہودیوں کا ایک خبیث قول بیان فرما رہا ہے کہ یہ اللہ کو بخیل کہتے تھے، یہی لوگ اللہ کو فقیر بھی کہتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کے اس ناپاک مقولے سے بہت بلند وبالا ہے۔ پس اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، مطلب ان کا یہ نہ تھا کہ ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں بلکہ مراد اس سے بخل تھا۔ یہی محاورہ قرآن میں اور جگہ بھی ہے فرماتا ہے آیت (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17۔ الاسراء :29) یعنی اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ بھی نہ لے اور نہ حد سے زیادہ پھیلا دے کہ پھر تھکان اور ندامت کے ساتھ بیٹھے رہنا پڑے، پس بخل سے اور اسراف سے اللہ نے اس آیت میں روکا۔ پس ملعون یہودیوں کی بھی ہاتھ باندھا ہوا ہونے سے یہی مراد تھی۔ فخاص نامی یہودی نے یہ کہا تھا اور اسی ملعون کا وہ دوسرا قول بھی تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ جس پر حضرت صدیق اکبر نے اسے پیٹا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ شماس بن قیس نے یہی کہا تھا جس پر یہ آیت اتری۔ اور ارشاد ہوا کہ بخیل اور کنجوس ذلیل اور بزدل یہ لوگ خود ہیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اگر یہ بادشاہ بن جائیں تو کسی کو کچھ بھی نہ دیں۔ بلکہ یہ تو اوروں کی نعمتیں دیکھ کر جلتے ہیں۔ یہ ذلیل تر لوگ ہیں۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں وہ سب کچھ خرچ کرتا رہتا ہے اس کا فضل وسیع ہے، اس کی بخشش عام ہے، ہر چیز کے خزانے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ہر نعمت اس کی طرف سے ہے۔ ساری مخلوق دن رات ہر وقت ہر جگہ اسی کی محتاج ہے۔ فرماتا ہے آیت (وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ) 14۔ ابراہیم :34)۔ " تم نے جو مانگا، اللہ نے دیا، اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے، یقینا انسان بڑا ہی ظالم بیحد ناشکرا ہے "۔ مسند میں حدیث ہے کہ " اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ اوپر ہے، دن رات کا خرچ اس کے خزانے کو گھٹاتا نہیں، شروع سے لے کر آج تک جو کچھ بھی اس نے اپنی مخلوق کو عطا فرمایا، اس نے اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس کا عرش پہلے پانی پر تھا، اسی کے ہاتھ میں فیض ہی فیض ہے، وہی بلند اور پست کرتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ لوگو تم میری راہ میں خرچ کرو گے تم تو دیئے جاؤں گے "۔ بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث ہے۔ پھر فرمایا " اے نبی ﷺ ! جس قدر اللہ کی نعمتیں تم پر زیادہ ہوں گی، اتنا ہی ان شیاطین کا کفر حسد اور جلاپا بڑھے گا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مومنوں کا ایمان اور ان کی تسلیم و اطاعت بڑھتی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے۔ (قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ) 41۔ فصلت :44)۔ ایمان والوں کیلئے تو یہ ہدایت و شفا ہے اور بےایمان اس سے اندھے بہرے ہوتے ہیں۔ یہی ہیں جو دروازے سے پکارے جاتے ہیں۔ اور آیت میں ہے (وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا) 17۔ الاسراء :82) ہم نے وہ قرآن اتارا ہے جو مومنوں کیلئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کا تو نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے۔ پھر ارشاد ہوا کہ ان کے دلوں میں سے خود آپس کا بغض و بیر بھی قیامت تک نہیں مٹے گا، ایک دوسرے کا آپس میں ہی خون پینے والے لوگ ہیں۔ ناممکن ہے کہ یہ حق پر جم جائیں، یہ اپنے ہی دین میں فرقہ فرقہ ہو رہے ہیں، ان کے جھگڑے اور عداوتیں آپس میں جاری ہیں اور جاری رہیں گی۔ یہ لوگ بسا اوقات لڑائی کے سامان کرتے ہیں، تیرے خلاف چاروں طرف ایک آگ بھڑکانا چاہتے ہیں لیکن ہر مرتبہ منہ کی کھاتے ہیں، ان کا مکر انہی پر لوٹ جاتا ہے، یہ مفسد لوگ ہیں اور اللہ کے دشمن ہیں، کسی مفسد کو اللہ اپنا دوست نہیں بناتا۔ اگر یہ باایمان اور پرہیزگار بن جائیں تو ہم ان سے تمام ڈر دور کردیں اور اصل مقصد حیات سے انہیں ملا دیں۔ اگر یہ تورات و انجیل اور اس قرآن کو مان لیں کیونکہ توراۃ و انجیل کا ماننا، قرآن کے ماننے کو لازم کر دے گا، ان کتابوں کی صحیح تعلیم یہی ہے کہ یہ قرآن سچا ہے اس کی اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق پہلے کی کتابوں میں موجود ہے تو اگر یہ اپنی ان کتابوں کو بغیر تحریف و تبدیل اور تاویل و تفسیر کے مانیں تو وہ انہیں اسی اسلام کی ہدایت دیں گی، جو آنحضرت ﷺ بتاتے ہیں۔ اس صورت میں اللہ انہیں دنیا کے کئی فائدے دے گا، آسمان سے پانی برسائے گا، زمین سے پیداوار اگائے گا، نیچے اوپر کی یعنی زمین و آسمان کی برکتیں انہیں مل جائیں گی۔ " جیسے اور آیت میں ہے آیت (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 7۔ الاعراف :96) یعنی اگر بستیوں والے ایمان لاتے ہیں اور پرہیزگاری کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین سے برکتیں نازل فرماتے۔ اور آیت میں (ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ) 30۔ الروم :41)۔ لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیا ہے، اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ بغیر مشقت و مشکل کے ہم انہیں بکثرت بابرکت روزیاں دیتے ہیں، بعض نے اس جملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ لوگ ایسا کرتے تو بھلائیوں سے مستفید ہوجاتے۔ لیکن یہ قول اقوال سلف کے خلاف ہے۔ اب ابی حاتم نے اس جگہ ایک اثر وارد کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ علم اٹھا لیا جائے۔ یہ سن کر حضرت زیاد بن لبید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ علم اٹھ جائے، ہم نے قرآن سیکھا، اپنی اولادوں کو سکھایا۔ آپ نے فرمایا افسوس میں تو تمام مدینے والوں سے زیادہ تم کو سمجھدار جانتا تھا لیکن کیا تو نہیں دیکھتا کہ یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں بھی تورات و انجیل ہے۔ لیکن کس کام کی ؟ جبکہ انہوں نے اللہ کے احکام چھوڑ دیئے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی "۔ یہ حدیث مسند میں بھی ہے کہ حضور ﷺ نے کسی چیز کا بیان فرمایا کہ یہ بات علم کے جاتے رہنے کے وقت ہوگی، اس پر حضرت ابن لبید نے کہا علم کیسے جاتا رہے گا ؟ ہم قرآن پڑھے ہوئے ہیں اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، اس پر آپ نے یہ فرمایا جو اوپر بیان ہوا۔ پھر فرمایا ان میں ایک جماعت میانہ رو بھی ہے مگر اکثر بداعمال ہے۔ جیسے فرمان آیت (وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :159) موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ حق کی ہدایت کرنے والا اور اسی کے ساتھ عدل انصاف کرنے والا بھی تھا۔ اور قوم عیسیٰ کے بارے میں فرمان ہے۔ آیت (فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ) 57۔ الحدید :27) ان میں سے باایمان لوگوں کو ہم نے ان کے ثواب عنایت فرمائے، یہ نکتہ خیال میں رہے کہ ان کا بہترین درجہ بیچ کا درجہ بیان فرمایا اور اس امت کا یہ درجہ دوسرا درجہ ہے، جس پر ایک تیسرا اونچا درجہ بھی ہے۔ جیسے فرمایا۔ آیت (ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ) 35۔ فاطر :32)۔ یعنی پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چیدہ بندوں کو بنایا، ان میں سے بعض تو اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں، بعض میانہ رو ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ تینوں قسمیں اس امت کی داخل جنت ہونے والی ہیں۔ ابن مردویہ میں ہے کہ صحابہ کے سامنے حضور ﷺ نے فرمایا " موسیٰ کی امت کے اکہتر گروہ ہوگئے، جن میں سے ایک تو جنتی ہے، باقی ستر دوزخی۔ میری یہ امت دونوں سے بڑھ جائے گی۔ ان کا بھی ایک گروہ تو جنت میں جائے گا، باقی بہتر گروہ جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا، وہ کون ہیں ؟ فرمایا جماعتیں جماعتیں "۔ یعقوب بن یزید کہتے ہیں جب حضرت علی بن ابو طالب یہ حدیث بیان کرتے تو قرآن کی آیت۔ (وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّاٰتِهِمْ وَلَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ) 5۔ المائدہ :65) اور (وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ) 7۔ الاعراف :181) بھی پڑھتے اور فرماتے ہیں اس سے مراد امت محمد ﷺ ہے۔ لیکن یہ حدیث ان لفظوں اور اس سند سے بیحد غریب ہے اور ستر سے اوپر اوپر فرقوں کی حدیث بہت سی سندوں سے مروی ہے، جسے ہم نے اور جگہ بیان کردیا ہے فالحمدللہ
۞ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
📘 نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو چھپایا نہیں اپنے نبی ﷺ کو رسول کے پیارے خطاب سے آواز دے کر اللہ تعالیٰ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل احکام لوگوں کو پہنچا دو۔ حضور ﷺ نے بھی ایسا ہی کیا۔ صحیح بخاری میں ہے " حضرت عائشہ فرماتی ہیں جو تجھ سے کہے کہ حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کسی حکم کو چھپالیا تو جان لو کہ وہ جھوٹا ہے، اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ حکم دیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت آپ نے کی "۔ یہ حدیث یہاں مختصر ہے اور جگہ پر مطول بھی ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے " اگر حضور ﷺ اللہ کے کسی فرمان کو چھپانے والے ہوتے تو اس آیت کو چھپالیتے۔ آیت (وَتُخْــفِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ ۚ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰـىهُ) 33۔ الاحزاب :37)۔ یعنی تو اپنے دل میں وہ چھپاتا تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور لوگوں سے جھینپ رہا تھا حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے "۔ ابن عباس سے کسی نے کہا کہ لوگوں میں یہ چرچا ہو رہا ہے کہ تمہیں کچھ باتیں حضور ﷺ نے ایسی بتائی ہیں جو اور لوگوں سے چھپائی جاتی تھیں تو آپ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا قسم اللہ کی ہمیں حضور ﷺ نے کسی ایسی مخصوص چیز کا وارث نہیں بنایا (ابن ابی حاتم) صحیح بخاری شریف میں ہے کہ " حضرت علی سے ایک شخص نے پوچھا کیا تمہارے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے دانے کو اگایا ہے اور جانوروں کو پیدا کیا ہے کہ کچ نہیں بجز اس فہم و روایت کے جو اللہ کسی شخص کو دے اور جو کچھ اس صحیفے میں ہے، اس نے پوچھا صحیفے میں کیا ہے ؟ فرمایا دیت کے مسائل ہیں، قیدیوں کو چھوڑ دینے کے احکام ہیں اور یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ کیا جائے "۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت زہری کا فرمان ہے کہ اللہ کی طرف سے رسالت ہے اور پیغمبر کے ذمے تبلیغ ہے اور ہمارے ذمہ قبول کرنا اور تابع فرمان ہونا ہے۔ حضور ﷺ نے اللہ کی سب باتیں پہنچا دیں، اس کی گواہ آپ کی تمام امت ہے کہ فی الواقع آپ نے امانت کی پوری ادائیگی کی اور سب سے بڑی مجلس جو تھی، اس میں سب نے اس کا اقرار کیا یعنی حجتہ الوداع خطبے میں، جس وقت آپ کے سامنے چالیس ہزار صحابہ کا گروہ عظیم تھا "۔ صحیح مسلم میں ہے کہ " آپ نے اس خطبے میں لوگوں سے فرمایا تم میرے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے ؟ سب نے کہا ہماری گواہی ہے کہ آپ نے تبلیغ کردی اور حق رسالت ادا کردیا اور ہماری پوری خیر خواہی کی، آپ نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے تیرے تمام احکامات کو پہنچا دیا، اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا ؟ " مسند احمد میں یہ بھی ہے کہ آپ نے اس خطبے میں پوچھا کہ لوگو یہ کونسا دن ہے ؟ سب نے کہا حرمت والا، پوچھا یہ کونسا شہر ہے، جواب دیا، حرمت والا۔ فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ جواب ملا، حرمت والا، فرمایا پس تمہارے مال اور خون و آبرو آپس میں ایک دوسرے پر ایسی ہی حرمت والے ہیں جیسے اس دن کی اس شہر میں اور اس مہینے میں حرمت ہے۔ پھر بار بار اسی کو دوہرایا۔ پھر اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے پہنچا دیا "۔ ابن عباس فرماتے ہیں اللہ کی قسم یہ آپ کے رب کی طرف آپ کی وصیت تھی۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا دیکھو ہر حاضر شخص غیر حاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ دیکھو میرے فرمان میرے بندوں تک نہ پہنچائے تو تو نے حق رسالت ادا نہیں کیا، پھر اس کی جو سزا ہے وہ ظاہر ہے، اگر ایک آیت بھی چھپالی تو حق رسالت ادا نہ ہوا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں جب یہ حکم نازل ہوا کہ جو کچھ اترا ہے سب پہنچا دو تو حضور ﷺ نے فرمایا اللہ میں اکیلا ہوں اور یہ سب مل کر مجھ پر چڑھ دوڑتے ہیں، میں کس طرح کروں تو دوسرا جملہ اترا کہ اگر تو نے نہ کیا تو تو نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ پھر فرمایا تجھے لوگوں سے بچا لینا میرے ذمہ ہے۔ تیرا حافظ و ناصر میں ہوں، بےخطر رہئیے وہ کوئی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس آیت سے پہلے حضور ﷺ چوکنے رہتے تھے، لوگ نگہبانی پر مقرر رہتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک رات کو حضور بیدار تھے انہیں نیند نہیں آرہی تھی میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آج کیا بات ہے ؟ فرمایا کاش کہ میرا کوئی نیک بخت صحابی آج پہرہ دیتا، یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ میرے کانوں میں ہتھیار کی آواز آئی آپ نے فرمایا کون ہے ؟ جواب ملا کہ میں سعد بن مالک ہوں، فرمایا کیسے آئے ؟ جواب دیا اس لئے کہ رات بھر حضور ﷺ کی چوکیداری کروں۔ اس کے بعد حضور ﷺ باآرام سو گئے، یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی (بخاری و مسلم) ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سنہ002ھ کا ہے۔ اس آیت کے نازل ہوتے ہی آپ نے خیمے سے سر نکال کر چوکیداروں سے فرمایا، " جاؤ اب میں اللہ کی پناہ میں آگیا، تمہاری چوکیداری کی ضرورت نہیں رہی "۔ ایک روایت میں ہے کہ ابو طالب آپ کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی آدمی کو رکھتے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا بس چچا ! اب میرے ساتھ کسی کے بھیجنے کی ضرورت نہیں، میں اللہ کے بچاؤ میں آگیا ہوں۔ لیکن یہ روایت غریب اور منکر ہے یہ واقعہ ہو تو مکہ کا ہو اور یہ آیت تو مدنی ہے، مدینہ کی بھی آخری مدت کی آیت ہے، اس میں شک نہیں کہ مکہ میں بھی اللہ کی حفاظت اپنے رسول ﷺ کے ساتھ رہی باوجود دشمن جاں ہونے کے اور ہر ہر اسباب اور سامان سے لیس ہونے کے سردار ان مکہ اور اہل مکہ آپ کا بال تک بیکا نہ کرسکے، ابتداء رسالت کے زمانہ میں اپنے چچا ابو طالب کی وجہ سے جو کہ قریشیوں کے سردار اور بارسوخ شخص تھے، آپ کی حفاظت ہوتی رہی، ان کے دل میں اللہ نے آپ کی محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت اور عزت ڈال دی، یہ محبت طبعی تھی شرعی نہ تھی۔ اگر شرعی ہوتی تو قریش حضور ﷺ کے ساتھ ہی ان کی بھی جان کے خواہاں ہوجاتے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے انصار کے دلوں میں حضور ﷺ کی شرعی محبت پیدا کردی اور آپ انہی کے ہاں چلے گئے۔ اب تو مشرکین بھی اور یہود بھی مل ملا کر نکل کھڑے ہوئے، بڑے بڑے سازو سامان لشکر لے کر چڑھ دوڑے، لیکن بار بار کی ناکامیوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اسی طرح خفیہ سازشیں بھی جتنی کیں، قدرت نے وہ بھی انہی پر الٹ دیں۔ ادھر وہ جادو کرتے ہیں، ادھر سورة معوذتین نازل ہوتی ہے اور ان کا جادو اتر جاتا ہے۔ ادھر ہزاروں جتن کر کے بکری کے شانے میں زہر ملا کر حضور ﷺ کی دعوت کر کے آپ کے سامنے رکھتے ہیں، ادھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ان کی دھوکہ دہی سے آگاہ فرما دیتا ہے اور یہ ہاتھ کاٹتے رہ جاتے ہیں اور بھی ایسے واقعات آپ کی زندگی میں بہت سارے نظر آتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ " ایک سفر میں آپ ایک درخت تلے، جو صحابہ اپنی عادت کے مطابق ہر منزل میں تلاش کر کے آپ کیلئے چھوڑ دیتے تھے، دوپہر کے وقت قیولہ کر رہے تھے تو ایک اعرابی اچانک آ نکلا، آپ کی تلوار جو اسی درخت میں لٹک رہی تھی، اتار لی اور میان سے باہر نکال لی اور ڈانٹ کر آپ سے کہنے لگا، اب بتا کون ہے جو تجھے بچا لے ؟ آپ نے فرمایا اللہ مجھے بچائے گا، اسی وقت اس اعرابی کا ہاتھ کانپنے لگتا ہے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر جاتی ہے اور وہ درخت سے ٹکراتا ہے، جس سے اس کا دماغ پاش پاش ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ آیت اتارتا ہے "۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے بنو نجار سے غزوہ کیا " ذات الرقاع کھجور کے باغ میں آپ ایک کنوئیں میں پیر لٹکائے بیٹھے تھے، جو بنو نجار کے ایک شخص وارث نامی نے کہا دیکھو میں محمد ﷺ کو قتل کرتا ہوں۔ لوگوں نے کہا کیسے ؟ کہا میں کسی حیلے سے آپ کی تلوار لے لوں گا اور پھر ایک ہی وار کر کے پار کر دوں گا۔ یہ آپ کے پاس آیا اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر آپ سے تلوار دیکھنے کو مانگی، آپ نے اسے دے دی لیکن تلوار کے ہاتھ میں آتے ہی اس پر اس بلا کا لرزہ چڑھا کہ آخر تلوار سنبھل نہ سکی اور ہاتھ سے گر پڑی تو آپ نے فرمایا تیرے اور تیرے بد ارادے کے درمیان اللہ حائل ہوگیا اور یہ آیت اتری۔ حویرث بن حارث کا بھی ایسا قصہ مشہور ہے۔ ابن مردویہ میں ہے کہ " صحابہ کی عادت تھی کہ سفر میں جس جگہ ٹھہرتے، آنحضرت ﷺ کیلئے گھنا سایہ دار بڑا درخت چھوڑ دیتے کہ آپ اسی کیلئے تلے آرام فرمائیں، ایک دن آپ اسی طرح ایسے درخت تلے سو گئے اور آپ کی تلوار اس درخت میں لٹک رہی تھی، ایک شخص آگیا اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا، اب بتا کہ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا اللہ بچائے گا، تلوار رکھ دے اور وہ اس قدر ہیبت میں آگیا کہ تعمیل حکم کرنا ہی پڑی اور تلوار آپ کے سامنے ڈال دی۔ " اور اللہ نے یہ آیت اتاری کہ (ۭوَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ) 5۔ المائدہ :67) مسند میں ہے کہ " حضور ﷺ نے ایک موٹے آدمی کے پیٹ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اگر یہ اس کے سوا میں ہوتا تو تیرے لئے بہتر تھا۔ ایک شخص کو صحابہ پکڑ کر آپ کے پاس لائے اور کہا یہ آپ کے قتل کا ارادہ کر رہا تھا، وہ کانپنے لگا، آپ نے فرمایا گھبرا نہیں چاہے تو ارادہ کرے لیکن اللہ اسے پورا نہیں ہونے دے گا "۔ پھر فرماتا ہے تیرے ذمہ صرف تبلیغ ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ کافروں کو ہدایت نہیں دے گا۔ تو پہنچا دے، حساب کا لینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
📘 آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لئے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔ ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ " امن وامان والے بےڈر اور بےخوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول ﷺ پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پس آپ پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بےخوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں "۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کردیئے گئے ہیں۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَىٰ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
📘 آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی ﷺ تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے۔ صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بےدین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ کہتے ہیں یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔ وہب فرماتے ہیں اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لئے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔ ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ " امن وامان والے بےڈر اور بےخوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول ﷺ پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ پس آپ پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بےخوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں "۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کردیئے گئے ہیں۔
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
📘 " اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔
لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَاءَهُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنْفُسُهُمْ فَرِيقًا كَذَّبُوا وَفَرِيقًا يَقْتُلُونَ
📘 سیاہ عمل یہود اور نصاریٰاللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لئے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کردی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کردیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بےفکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہوگئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
وَحَسِبُوا أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُوا وَصَمُّوا ثُمَّ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا وَصَمُّوا كَثِيرٌ مِنْهُمْ ۚ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ
📘 سیاہ عمل یہود اور نصاریٰاللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے وعدے لئے تھے کہ وہ اللہ کے احکام کے عامل اور وحی کے پابند رہیں گے۔ لیکن انہوں نے وہ میثاق توڑ دیا۔ اپنی رائے اور خواہش کے پیچھے لگ گئے کتاب اللہ کی جو بات ان کی منشاء اور رائے کے مطابق تھی مان لی جس میں اختلاف نظر آیا ترک کردی، نہ صرف اتنا ہی کیا بلکہ رسولوں کے مخالف ہو کر بہت سے رسولوں کو جھوٹا بتایا اور بہتیروں کو قتل بھی کردیا کیونکہ ان کے لائے ہوئے احکام ان کی رائے اور قیاس کے خلاف تھے اتنے بڑے گناہ کے بعد بھی بےفکر ہو کر بیٹھے رہے اور سمجھ لیا کہ ہمیں کوئی سزا نہ ہوگی لیکن انہیں زبردست روحانی سزا دی گئی یعنی وہ حق سے دور پھینک دیئے گئے اور اس سے اندھے اور بہرے بنا دیئے گئے نہ حق کو سنیں اور نہ ہدایت کو دیکھ سکیں لیکن پھر بھی اللہ نے ان پر مہربانی کی افسوس اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر حق سے نابینا اور حق کے سننے سے محروم ہی ہوگئے اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ جانتا ہے کہ کون کس چیز کا مستحق ہے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ
📘 خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
📘 خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
📘 خود ساختہ معبود بنانا ناقابل معافی جرم ہے نصرانیوں کے فرقوں کی یعنی ملکیہ، یعقوبیہ، نسطوریہ کی کفر کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ یہ مسیح ہی کو اللہ کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔ اللہ ان کے قول سے پاک، منزہ اور مبرا ہے مسیح تو اللہ کے غلام تھے سب سے پہلا کلمہ ان کا دنیا میں قدم رکھتے ہی گہوارے میں ہی یہ تھا کہ (انی عبداللہ) میں اللہ کا غلام ہوں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں اللہ ہوں یا اللہ کا بیٹا ہوں بلکہ اپنی غلامی کا اقرار کیا تھا اور ساتھ ہی فرمایا تھا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ ہی ہے اسی کی عبادت کرتے رہو سیدھی اور صحیح راہ یہی ہے اور یہی بات اپنی جوانی کے بعد کی عمر میں بھی کہی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کرنے والے یہ جنت حرام ہے اور اس کیلئے جہنم واجب ہے۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا۔ جہنمی جب جنتیوں سے کھانا پانی مانگیں گے تو اہل جنت کا یہی جواب ہوگا کہ یہ دونوں چیزیں کفار پر حرام ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بذریعہ منادی کے مسلمانوں میں آواز لگوائی تھی کہ جنت میں فقط ایمان و اسلام والے ہی جائیں گے۔ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَمَنْ يُّشْرِكْ باللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا) 4۔ النسآء :48) کی تفسیر میں وہ حدیث بھی بیان کردی گئی ہے جس میں ہے کہ گناہ کے تین دیوان ہیں جس میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ نے کبھی نہیں بخشا اور وہ اللہ کے ساتھ شرک کا ہے۔ حضرت مسیح نے بھی اپنی قوم میں یہی وعظ بیان کیا اور فرما دیا کہ ایسے ناانصاف مشرکین کا کوئی مددگار بھی کھڑا نہ ہوگا۔ اب ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جو اللہ کو تین میں سے ایک مانتے تھے یہودی حضرت عزیر کو اور نصرانی حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور اللہ تین میں کا ایک مانتے تھے پھر ان تینوں کے مقرر کرنے میں بھی بہت بڑا اختلاف تھا اور ہر فرقہ دوسرے کو کافر کہتا تھا اور حق تو یہ ہے کہ سبھی سب کافر تھے حضرت عیسیٰ سے فرمائے گا کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو بھی اللہ مانو، وہ اس سے صاف انکار کریں گے اور اپنی لاعلمی اور بےگناہی ظاہر کریں گے۔ زیادہ ظاہر قول بھی یہی ہے واللہ اعلم۔ دراصل لائق عبادت سوائے اس ذات واحد کے اور کوئی نہیں تمام کائنات اور کل موجودات کا معبود برحق وہی ہے۔ اگر یہ اپنے اس کافرانہ نظریہ سے باز نہ آئے تو یقینا یہ المناک عذابوں کا شکار ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم وجود کو، بخشش و انعام اور لطف و رحمت کو بیان فرما رہا ہے اور باوجود ان کے اس قدر سخت جرم، اتنی اشد بےحیائی اور کذب و افتراء کے انہیں اپنی رحمت کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اب بھی میری طرف جھک جاؤ ابھی سب معاف فرما دوں گا اور دامن رحمت تلے لے لوں گا۔ حضرت مسیح اللہ کے بندے اور رسول ہی تھے۔ ان جیسے رسول ان سے پہلے بھی ہوئے ہیں جیسے فرمایا (ان ھو الاعبد) الخ، وہ ہمارے ایک غلام ہی تھے ہاں ہم نے ان پر رحمت نازل فرمائی تھی اور بنی اسرائیل کیلئے قدرت کی ایک نشائی بنائی۔ والدہ عیسیٰ مومنہ اور سچ کہنے والی تھیں اس لئے معلوم ہوا کہ نبیہ نہ تھیں کیونکہ یہ مقام وصف ہے تو بہترین وصف جو آپ کا تھا وہ بیان کردیا اگر نبوت والی ہوتیں تو اس موقعہ پر اس کا بیان نہایت ضروری تھا۔ ابن حرم وغیرہ کا خیال ہے کہ ام اسحاق اور ام موسیٰ اور ام عیسیٰ نبیہ تھیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ فرشتوں نے حضرت سارہ اور حضرت مریم سے خطاب اور کلام کیا اور والدہ موسیٰ کی نسبت فرمان ہے آیت (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِيْ وَلَا تَحْـزَنِيْ ۚ اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ) 28۔ القصص :7) ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی کی کہ تو انہیں دودھ پلا۔ لیکن جمہور کا مذہب اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ نبوت مردوں میں ہی رہی۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ) 21۔ الانبیآء :7) تجھ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں سے مردوں ہی کی طرف رسالت انعام فرمائی ہے شیخ ابو الحسن اشعری نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ماں بیٹا تو دونوں کھانے پینے کے محتاج تھے اور ظاہر ہے کہ جو اندر جائے گا وہ باہر بھی آئے گا پس ثابت ہوا کہ وہ بھی مثل اوروں کے بندے ہی تھے اللہ کی صفات ان میں نہ تھیں دیکھ تو ہم کس طرح کھول کھول کر ان کے سامنے اپنی حجتیں پیش کر رہے ہیں ؟ پھر یہ بھی دیکھ کہ باوجود اس کے یہ کس طرح ادھر ادھر بھٹکتے اور بھاگتے پھرتے ہیں ؟ کیسے گمراہ مذہب قبول کر رہے ہیں ؟ اور کیسے ردی اور بےدلیل اقوال کو گرہ میں باندھے ہوئے ہیں ؟
قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
📘 معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو ؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بےسمع و بصر، بےضرر و بےنفع و بےقدر اور بےقدرت چیزوں کے پیچھے پڑجانا یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہوگیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے ؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہوگی نہ شہرت تمہیں چاہئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے ؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہوگیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کردیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مرگئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا ؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ
📘 معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو ؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بےسمع و بصر، بےضرر و بےنفع و بےقدر اور بےقدرت چیزوں کے پیچھے پڑجانا یہ کون سی عقلمندی ہے ؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہوگیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے ؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہوگی نہ شہرت تمہیں چاہئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے ؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہوگیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کردیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مرگئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا ؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ
📘 امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
📘 امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
📘 " اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔
تَرَىٰ كَثِيرًا مِنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنْفُسُهُمْ أَنْ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ
📘 امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ
📘 امر معروف سے گریز کا انجام ارشاد ہے کہ بنو اسرائیل کے کافر پرانے ملعون ہیں، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی انہی کے زمانہ میں ملعون قرار پاچکے ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ کے نافرمان تھے اور مخلوق پر ظالم تھے، توراۃ، انجیل، زبور اور قرآن سب کتابیں ان پر لعنت برساتی آئیں۔ یہ اپنے زمانہ میں بھی ایک دوسرے کو برے کاموں دیکھتے تھے لیکن چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے، حرام کاریاں اور گناہ کھلے عام ہوتے تھے اور کوئی کسی کو روکتا نہ تھا۔ یہ تھا ان کا بدترین فعل۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ " بنو اسرائیل میں پہلے پہل جب گناہوں کا سلسلہ چلا تو ان کے علماء نے انہیں روکا۔ لیکن جب دیکھا کہ باز نہیں آتے تو انہوں نے انہیں الگ نہیں کیا بلکہ انہی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے رہے، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں کے دلوں میں آپس میں ٹکرا دیا اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کے دل بھڑا دیئے اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کی زبانی ان پر اپنی لعنت نازل فرمائی۔ کیونکہ وہ نافرمان اور ظالم تھے۔ اس کے بیان کے وقت حضور ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے لیکن اب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تم پر ضروری ہے کہ لوگوں کو خلاف شرع باتوں سے روکو اور انہیں شریعت کی پابندی پر لاؤ۔ "، ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ " سب سے پہلے برائی بنی اسرائیل میں داخل ہوئی تھی کہ ایک شخص دوسرے کو خلاف شرع کوئی کام کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، اسے کہتا کہ اللہ سے ڈر اور اس برے کام کو چھوڑ دے یہ حرام ہے۔ لیکن دوسرے روز جب وہ نہ چھوڑتا تو یہ اس سے کنارہ کشی نہ کرتا بلکہ اس کا ہم نوالہ ہم پیالہ رہتا اور میل جول باقی رکھتا، اس وجہ سے سب میں ہی سنگدلی آگئی۔ پھر آپ نے اس پوری آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ تم پر فرض ہے کہ بھلی باتوں کا ہر ایک کو حکم کرو، برائیوں سے روکو، ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھو اور اسے تنگ کرو کہ حق پر آجائے۔ " ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ ابو داؤد وغیرہ میں اسی حدیث کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ تمہارے دلوں کو بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا دے گا اور تم پر اپنی پھٹکار نازل فرمائے گا جیسی ان پر نازل فرمائی۔ اس بارے میں اور بہت سی حدیثیں ہیں کچھ سن بھی لیجئے حضرت جابر والی حدیث تو آیت (لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَاَكْلِهِمُ السُّحْتَ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 5۔ المائدہ :63) کی تفسیر میں گزر چکی اور یا آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚلَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ ۭ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) 5۔ المائدہ :105) کی تفسیر میں حضرت ابوبکر اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیثیں آئیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ مسند اور ترمذی میں ہے کہ " یا تو تم بھلائی کا حکم اور برائی سے منع کرتے رہو گے یا اللہ تم پر اپنی طرف سے کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں بھی کرو گے لیکن وہ قبول نہیں فرمائے گا۔ " ابن ماجہ میں ہے " اچھائی کا حکم اور برائی سے ممانعت کرو اس سے پہلے کہ تمہاری دعائیں قبول ہونے سے روک دی جائیں۔ " صحیح حدیث میں ہے " تم میں سے جو شخص خلاف شرع کام دیکھے، اس پر فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اور بہت ہی ضعیف ایمان والا ہے " (مسلم) مسند احمد میں ہے " اللہ تعالیٰ خاص لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں کرتا لیکن اس وقت کہ برائیاں ان میں پھیل جائیں اور وہ باوجود قدرت کے انکار نہ کریں، اس وقت عام خاص سب کو اللہ تعالیٰ عذاب میں گھیر لیتا ہے۔ " ابو داؤد میں ہے کہ جس جگہ اللہ کی نافرمانی ہونی شروع ہو وہاں جو بھی ہو، ان خلاف شرع امور سے ناراض ہو (ایک اور روایت میں ہے ان کا انکار کرتا ہو) وہ مثل اس کے ہے جو وہاں حاضر ہی نہ ہو اور جو ان خطاؤں سے راضی ہو گو وہاں موجود نہ ہو وہ ایسا ہے گویا ان میں حاضر ہے۔ ابو داؤد میں ہے لوگوں کے عذر جب تک ختم نہ ہوجائیں وہ ہلاک نہ ہوں گے۔ ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا خبردار کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق بات کہنے سے روک نہ دے۔ اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابو سعید خدری رو پڑے اور فرمانے لگے افسوس ہم نے ایسے موقعوں پر لوگوں کی ہیبت مان لی۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے افضل جہاد کلمہ حق ظالم بادشاہ کے سامنے کہہ دینا ہے ابن ماجہ میں ہے کہ جمرہ اولیٰ کے پاس حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص آیا اور آپ سے سوال کیا کہ سب سے افضل جہاد کون سا ہے ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر آپ جمرہ ثانیہ پر آئے تو اس نے پھر وہی سوال کیا مگر آپ خاموش ہو رہے جب جمرہ عقبہ پر کنکر مار چکے اور سواری پر سوار ہونے کے ارادے سے رکاب میں پاؤں رکھے تو دریافت فرمایا کہ وہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے کہ دینا۔ ابن ماجہ میں ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو اپنی بےعزتی نہ کرنی چاہئے لوگوں نے پوچھا ؟ حضور ﷺ یہ کیسے ؟ فرمایا خلاف شرع کوئی امر دیکھے اور کچھ نہ کہے قیامت کے دن اس سے باز پرس ہوگی کہ فلاں موقعے پر تو کیوں خاموش رہا ؟ یہ جواب دے گا کہ لوگوں کے ڈر کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں سب سے زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے خوف کھائے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب اسے اللہ تلقین حجت کرے گا تو یہ کہے گا کہ تجھ سے تو میں نے امید رکھی اور لوگوں سے خوف کھا گیا۔ مسند احمد میں ہے کہ مسلمانوں کو اپنے تئیں ذلیل نہ کرنا چاہئے۔ لوگوں نے پوچھا کیسے ؟ فرمایا ان بلاؤں کو سر پر لینا جن کی برداشت کی طاقت نہ ہو۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑی جائے ؟ فرمایا اس وقت جب تم میں بھی وہی خرابی ہوجائے جو تم سے اگلوں میں ظاہر ہوئی تھی ہم نے پوچھا وہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا کمینے آدمیوں میں سلطنت کا چلا جانا۔ بڑے آدمیوں میں بدکاری کا آجانا۔ رذیلوں میں علم کا آجانا۔ حضرت زید کہتے ہیں رذیلوں میں علم آجانے سے مراد فاسقوں میں علم کا آجانا ہے۔ اس حدیث کی شاہد حدیثیں ابو ثعلبہ کی روایت سے آیت (لایضرکم) کی تفسیر میں آئیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ پھر فرماتا ہے کہ اکثر منافقوں کو تو دیکھے گا کہ وہ کافروں سے دوستیاں گانٹھتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے یعنی مسلمانوں سے دوستیاں چھوڑ کر کافروں سے دوستیاں کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے لئے برا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے۔ اس کی پاداش میں ان کے دلوں میں نفاق پیدا ہوگیا ہے۔ اور اسی بناء پر اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور قیامت کے دن کیلئے دائمی عذاب بھی ان کیلئے آگے آ رہے ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے اسے مسلمانو، زنا کاری سے بچو، اس سے۔ چھ برائیاں آتی ہیں، تین دنیا میں اور تین آخرت میں۔ اس سے عزت و وقار، رونق و تازگی جاتی رہتی ہے۔ اس سے فقرو فاقہ آجاتا ہے۔ اس سے عمر گھٹتی ہے اور قیامت کے دن تین برائیاں یہ ہیں اللہ کا غضب، حساب کی سختی اور برائی، اور جہنم کا خلود۔ پھر حضور ﷺ نے اسی آخری جملے کی تلاوت فرمائی۔ یہ حدیث ضعیف ہے واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے اگر یہ لوگ اللہ پر اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر پورا ایمان رکھتے تو ہرگز کافروں سے دوستیاں نہ کرتے اور چھپ چھپا کر ان سے میل ملاپ جاری نہ رکھتے۔ نہ سچے مسلمانوں سے دشمنیاں رکھتے۔ دراصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے خارج ہوچکے ہیں اس کی وحی اور اس کے پاک کلام کی آیتوں کے مخالف بن بیٹھے ہیں۔
۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ
📘 یہودیوں کا تاریخی کردار یہ آیت اور اس کے بعد کی چار آیتیں نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہیں۔ جب ان کے سامنے حبشہ کے ملک میں حضرت جعفر بن ابو طالب نے قرآن کریم پڑھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ آیتیں مدینے میں اتری ہیں اور حضرت جعفر کا یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیتیں اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جسے نجاشی نے حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ وہ آپ سے ملیں، حاضر خدمت ہو کر آپ کے حالات وصفات دیکھیں اور آپ کا کلام سنیں۔ جب یہ آئے آپ سے ملے اور آپ کی زبان مبارک سے قرآن کریم سنا تو ان کے دل نرم ہوگئے بہت روئے دھوئے اور اسلام قبول کیا اور واپس جاکر نجاشی سے سب حال کہا نجاشی اپنی سلطنت چھوڑ کر حضور ﷺ کی طرف ہجرت کر کے آنے لگے لیکن راستے میں ہی انتقال ہوگیا۔ یہاں بھی یہ خیال رہے کہ یہ بیان صرف سدی کا ہے اور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ وہ حبشہ میں ہی سلطنت کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے انتقال والے دن ہی حضور ﷺ نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور ان کی نماز جنازہ غائبانہ ادا کی۔ بعض تو کہتے ہیں اس وفد میں سات تو علماء تھے اور پانچ زاہد تھے یا پانچ علماء اور سات زاہد تھے۔ بعض کہتے ہیں یہ کل پچاس آدمی تھے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سے کچھ اوپر تھے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ ستر تھے۔ فاللہ اعلم۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں جن کے اوصاف آیت میں بیان کئے گئے ہیں یہ اہل حبشہ ہیں۔ مسلمان مہاجرین حبشہ جب ان کے پاس پہنچے تو یہ سب مسلمان ہوگئے تھے۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں پہلے یہ دین عیسوی پر قائم تھے لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو دیکھا اور قرآن کریم کو سنا تو فوراً سب مسلمان ہوگئے۔ امام ابن جریر کا فیصلہ ان سب اقوال کو ٹھیک کردیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں خواہ وہ حبشہ کے ہوں یا کہیں کے۔ یہودیوں کو مسلمانوں سے جو سخت دشمنی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سرکشی اور انکار کا مادہ زیادہ ہے اور جان بوجھ کر کفر کرتے ہیں اور ضد سے ناحق پر اڑتے ہیں، حق کے مقابلہ میں بگڑ بیٹھتے ہیں حق والوں پر حقارت کی نظریں ڈالتے ہیں ان سے بغض و بیر رکھتے ہیں۔ علم سے کورے ہیں علماء کی تعداد ان میں بہت ہی کم ہے اور علم اور ذی علم لوگوں کی کوئی وقعت ان کے دل میں نہیں یہی تھے جنہوں نے بہت سے انبیاء کو قتل کیا خود پیغمبر الزمان احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قتل کا ارادہ بھی کیا اور ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار۔ آپ کو زہر دیا، آپ پر جادو کیا اور اپنے جیسے بدباطن لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر حضور ﷺ پر حملے کئے لیکن اللہ نے ہر مرتبہ انہیں نامراد اور ناکام کیا۔ ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جب کبھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کو تنہائی میں پاتا ہے اس کے دل میں اس کے قتل کا قصد پیدا ہوتا ہے ایک دوسری سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ہے بہت ہی غریب ہاں مسلمانوں سے دوستی میں زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں حضرت مسیح کے تابعدار ہیں انجیل کے اصلی اور صحیح طریقے پر قائم ہیں ان میں ایک حد تک فی الجملہ مسلمانوں اور اسلام کی محبت ہے یہ اس لئے کہ ان میں نرم دلی ہے جیسے ارشاد باری آیت (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً) 57۔ الحدید :27) یعنی حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور رحم ڈال دیا ہے۔ ان کی کتاب میں حکم ہے کہ جو تیرے داہنے کلے پر تھپڑ مارے تو اس کے سامنے بیاں کلہ بھی پیش کر دے۔ ان کی شریعت میں لڑائی ہے ہی نہیں۔ یہاں ان کی اس دوستی کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ان میں خطیب اور واعظ ہیں قسسین اور قس کی جمع قسیسین ہے قسوس بھی اس کی جمع آتی ہے رھبان جمع ہے راہب کی، راہب کہتے ہیں عابد کو۔ یہ لفظ مشتق ہے رہب سے اور رہبت کے معنی ہیں خوف اور ڈر کے۔ جیسے راکب کی جمع رکبان ہے اور فرسان ہے امام ابن جریر فرماتے ہیں کبھی رہبان واحد کیلئے بھی آتا ہے اور اس کی جمع رہابین آتی ہے جیسے قربان اور قرابین اور جوازن اور جوازین اور کبھی اس کی جمع رہابنۃ بھی آتی ہے۔ عرب کے اشعار میں بھی لفظ رہبان واحد کیلئے آیا۔ حضرت سلمان سے ایک شخص (قسیسین و رھبانا) پڑھ کر اس کے معنی دریافت کرتا ہے تو آپ فرماتے ہیں قسیسین کو خانقاہوں اور غیر آباد جگہوں میں چھوڑ مجھے تو رسول اللہ ﷺ نے صدیقین و رھبانا پڑھایا (بزار اور ابن مردویہ) الغرض ان کے تین اوصاف یہاں بیان ہوئے ہیں ان میں عالموں کا ہونا۔ ان میں عابدوں کا ہونا۔ ان میں تواضع فروتنی اور عاجزی کا ہونا۔
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
📘 ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ
📘 ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ
📘 ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
📘 ایمان والو کی پہچان اوپر بیان گزر چکا ہے کہ عیسائیوں میں سے جو نیک دل لوگ اس پاک مذہب اسلام کو قبول کئے ہوئے ہیں ان میں جو اچھے اوصاف ہیں مثلاً عبادت، علم، تواضع، انکساری وغیرہ، ساتھ ہی ان میں رحمدلی وغیرہ بھی ہے حق کی قبولیت بھی ہے اللہ کے احکامات کی اطلاعت بھی ہے ادب اور لحاظ سے کلام اللہ سنتے ہیں، اس سے اثر لیتے ہیں اور نرم دلی سے رو دیتے ہیں کیونکہ وہ حق کے جاننے والے ہیں، آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بشارت سے پہلے ہی آگاہ ہوچکے ہیں۔ اس لئے قرآن سنتے ہی دل موم ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف آنکھیں آنسو بہانے لگتی ہیں دوری جانب زبان سے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں حضرت نجاشی اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ ما کا بیان ہے کہ کچھ لوگ حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ کے ساتھ جشہ سے آئے تھے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم سن کر ایمان لائے اور بےتحاشہ رونے لگے۔ آپ نے ان سے دریاف فرمایا کہ کہیں اپنے وطن پہنچ کر اس سے پھر تو نہیں جاؤ گے ؟ انہوں نے کہا ناممکن ہے اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں شاہدوں سے مراد آنحضرت ﷺ اور دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کی تبلیغ کی شہادت ہے پھر اس قسم کے نصرانیوں کا ایک اور وصف بیان ہو رہا ہے ان ہی کا دوسرا وصف اس آیت میں ہے آیت (وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء :159) یعنی اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس قرآن پر اور جو ان پر نازل کیا گیا ہے سب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر اللہ سے ڈرنے والے بھی ہیں۔ ان ہی کے بارے میں فرمان ربانی آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 52 وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 53 اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 54 وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 55) 28۔ القصص :52 تا 55)۔ کہ یہ لوگ اس کتاب کو اور اس کتاب کو سچ جانتے ہیں اور دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس یہاں بھی فرمایا کہ وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں صالحین میں ملنا ہے تو اللہ پر اور اس کی اس آخری کتاب پر ہم ایمان کیوں نہ لائیں ؟ ان کے اس ایمان و تصدیق اور قبولیت حق کا بدلہ اللہ نے انہیں یہ دیا کہ وہ ہمیشہ رہنے والے ترو تازہ باغات و چشموں والی جنتوں میں جائیں گے۔ محسن، نیکو کار، مطیع حق، تابع فرمان الٰہی لوگوں کی جزا یہی ہے، وہ کہیں کے بھی ہوں کوئی بھی ہوں۔ جو ان کے خلاف ہیں انجام کے لحاظ سے بھی ان کے برعکس ہیں، کفرو تکذب اور مخالفت یہاں ان کا شیوہ ہے اور وہاں جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
📘 راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہوجائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کردیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ نے فرمایا تم دیکھ نہیں رہے ؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ " لوگوں نے امہات المومنین سے حضور کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں، جب یہ واقعہ حضور کے گوش گزار ہوا تو آپ نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا ہے اس پر یہ آیت اتری۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفا بھی واللہ اعلم۔ بخاری و مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہم آنحضرت ﷺ کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر حضرت عبداللہ نے یہی آیت پڑھی۔ یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے واللہ اعلم۔۔ معقل بن مقرن نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو کہا کہ میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کرلیا ہے تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت ابن مسعود کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہوجاتا ہے آپ اسے بلاتے ہیں کہ آؤ ہمارے ساتھ کھالو وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ فرماتے ہیں آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (مستدرک حاکم) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ حضور ﷺ کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو حضرت عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے، صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ حضرت ابوبکر صدیق کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے اس سے امام شافعی وغیرہ علماء کا وہ قوم ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو وہ اس پر حرام نہیں ہوجاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا تھا اسے حضور نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔ لیکن امام احمد اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ حضرت ابن عباس کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 66۔ التحریم :1) بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے واللہ اعلم۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہوجانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کرلیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت مقداد بن اسود، حضرت سالم مولی، حضرت ابی حذیفہ وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کردیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور نبی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہوجائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہوجائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس حضور ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا کہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہوچکی۔ فالحمد اللہ۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول ﷺ نے صحابہ کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں حضرت علی، حضرت عثمان بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ حضرت عثمان بن مظعون نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کردیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے ایک دن یہ بیوی صاحبہ حضرت خولہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئیں وہاں حضور کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے ؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے ؟ کیا بات ہے ؟ حضرت خولہ ؓ نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی ؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں حضور ﷺ تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ یہ ہنسی کیسی ہے ؟ حضرت عائشہ نے سارا واقعہ بیان فرمایا آپ نے اسی وقت آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو بلوایا اور فرمایا یہ کیا قصہ ہے ؟ حضرت عثمان نے کل واقعہ بیان کر کے کہا کہ میں نے اسے اس لئے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کرسکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہوجاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ نے فرمایا میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر۔ جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تو میں روزے سے ہوں فرمایا جاؤ روزہ توڑ ڈالو چناچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔ اب پھر جو حضرت خولاء آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے ہنس کر پوچھا کہو اب کیا حال ہے جواب دیا کہ اب حضرت عثمان نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔ حضور ﷺ نے لوگوں میں فرمایا لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے [ ا۔ ی ] غبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، اس پر یہ آیت اتری۔ حد سے نہ گزرو سے مطلب یہ ہے کہ عثمان کو خصی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :225) پس لا تعتدوا سے مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لئے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کر کے تنگی نہ کرو اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ۔ جیسے فرمایا کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو۔ ایک اور آیت میں ہے ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں۔ پس افراط وتفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لئے یہاں بھی فرمایا حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو۔
وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنْتُمْ بِهِ مُؤْمِنُونَ
📘 راہبانیت (خانقاہ نشینی) اسلام میں ممنوع ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ چند صحابہ نے آپس میں کہا کہ ہم خصی ہوجائیں، دنیوی لذتوں کو ترک کردیں، بستی چھوڑ کر جنگلوں میں جا کر تارک دنیا لوگوں کی طرح زندگی یاد الٰہی میں بسر کریں۔ آنحضرت ﷺ کو ان کی یہ باتیں معلوم ہوگئیں، آپ نے انہیں یاد فرمایا اور ان سے پوچھا، انہوں نے اقرار کیا، اس پر آپ نے فرمایا تم دیکھ نہیں رہے ؟ کہ میں نفلی روزے رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ رات کو نفلی نماز پڑھتا بھی ہوں اور سوتا بھی ہوں۔ میں نے نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو میرے طریقے پر ہو وہ تو میرا ہے اور جو میری سنتوں کو نہ لے وہ میرا نہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ " لوگوں نے امہات المومنین سے حضور کے اعمال کی نسبت سوال کیا پھر بعض نے کہا کہ ہم گوشت نہیں کھائیں گے بعض نے کہا ہم نکاح نہیں کریں گے بعض نے کہا ہم بستر پر سوئیں گے ہی نہیں، جب یہ واقعہ حضور کے گوش گزار ہوا تو آپ نے فرمایا ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان میں سے بعض یوں کہتے ہیں حالانکہ میں روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، سوتا بھی ہوں اور تہجد بھی پڑھتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں اور نکاح بھی کئے ہوئے ہوں جو میری سنت سے منہ موڑے وہ میرا نہیں۔ ترمذی وغیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ گوشت کھانے سے میری قوت باہ بڑھ جاتی ہے اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کرلیا ہے اس پر یہ آیت اتری۔ امام ترمذی اسے حسن غریب بتاتے ہیں اور سند سے بھی یہ روایت مرسلاً مروی ہے اور موقوفا بھی واللہ اعلم۔ بخاری و مسلم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ہم آنحضرت ﷺ کی ماتحتی میں جہاد کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں تو ہم نے کہا اچھا ہوگا اگر ہم خصی ہوجائیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں اس سے روکا اور مدت معینہ تک کیلئے کپڑے کے بدلے پر نکاح کرنے کی رخصت ہمیں عطا فرمائی پھر حضرت عبداللہ نے یہی آیت پڑھی۔ یہ یاد رہے کہ یہ نکاح کا واقعہ متعہ کی حرمت سے پہلے کا ہے واللہ اعلم۔۔ معقل بن مقرن نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو کہا کہ میں نے تو اپنا بستر اپنے اوپر حرام کرلیا ہے تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت ابن مسعود کے سامنے کھانا لایا جاتا ہے تو ایک شخص اس مجمع سے الگ ہوجاتا ہے آپ اسے بلاتے ہیں کہ آؤ ہمارے ساتھ کھالو وہ کہتا ہے میں نے تو اس چیز کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ آپ فرماتے ہیں آؤ کھالو اپنی قسم کا کفارہ دے دینا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی (مستدرک حاکم) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے گھر کوئی مہمان آئے آپ حضور ﷺ کے پاس سے رات کو جب واپس گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گھر والوں نے آپ کے انتظار میں اب تک مہمان کو بھی کھانا نہیں کھلایا۔ آپ کو بہت غصہ آیا اور فرمایا تم نے میری وجہ سے مہمان کو بھوکا رکھا، یہ کھانا مجھ پر حرام ہے۔ بیوی صاحبہ بھی ناراض ہو کر یہی کہہ بیٹھیں مہمان نے دیکھ کر اپنے اوپر بھی حرام کرلیا اب تو حضرت عبداللہ بہت گھبرائے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور سب سے کہا چلو بسم اللہ کرو کھا پی لیا پھر جب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے سارا واقعہ کہہ سنایا پس یہ آیت اتری، لیکن اثر منقطع ہے، صحیح بخاری شریف میں اس جیسا ایک قصہ حضرت ابوبکر صدیق کا اپنے مہمانوں کے ساتھ کا ہے اس سے امام شافعی وغیرہ علماء کا وہ قوم ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص علاوہ عورتوں کے کسی اور کھانے پینے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو وہ اس پر حرام نہیں ہوجاتی اور نہ اس پر اس میں کوئی کفارہ ہے، دلیل یہ آیت اور دوسری وہ حدیث ہے جو اوپر گزر چکی کہ جس شخص نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا تھا اسے حضور نے کسی کفارے کا حکم نہیں فرمایا۔ لیکن امام احمد اور ان کے ہم خیال جماعت علماء کا خیال ہے کہ جو شخص کھانے پہننے وغیرہ کی کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔ جیسے اس شخص پر جو کسی چیز کے ترک پر قسم کھالے۔ حضرت ابن عباس کا فتویٰ یہی ہے اور اس کی دلیل یہ آیت (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 66۔ التحریم :1) بھی ہے اور اس آیت کے بعد ہی کفارہ قسم کا ذکر بھی اسی امر کا مقتضی ہے کہ یہ حرمت قائم مقام قسم کے ہے واللہ اعلم۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں بعض حضرات نے ترک دنیا کا، خصی ہوجانے کا اور ٹاٹ پہننے کا عزم مصمم کرلیا اس پر یہ آیتیں اتریں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت مقداد بن اسود، حضرت سالم مولی، حضرت ابی حذیفہ وغیرہ ترک دنیا کا ارادہ کر کے گھروں میں بیٹھ رہے باہر آنا جانا ترک کردیا عورتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ٹاٹ پہننے لگے اچھا کھانا اور اچھا پہننا حرام کرلیا اور نبی اسرائیل کے عابدوں کی وضع کرلی بلکہ ارادہ کرلیا کہ خصی ہوجائیں تاکہ یہ طاقت ہی سلب ہوجائے اور یہ بھی نیت کرلی کہ تمام راتیں عبادت میں اور تمام دن روزے میں گزاریں گے اس پر یہ آیت اتری یعنی یہ خلاف سنت ہے۔ پس حضور ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا کہ تمہاری جانوں کا تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ نفل روزے رکھو اور کبھی کبھی چھوڑ بھی دو۔ نفل نماز رات کو پڑھو اور کچھ دیر سو بھی جاؤ جو ہماری سنت کو چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں اس پر ان بزرگوں نے فرمایا یا اللہ ہم نے سنا اور جو فرمان ہوا اس پر ہماری گردنیں خم ہیں۔ یہ واقعہ بہت سے تابعین سے مرسل سندوں سے مروی ہے۔ اس کی شاہد وہ مرفوع حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہوچکی۔ فالحمد اللہ۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک دن رسول ﷺ نے صحابہ کے سامنے وعظ کیا اور اس میں خوف اور ڈر کا ہی بیان تھا اسے سن کر دس صحابیوں نے جن میں حضرت علی، حضرت عثمان بن مظعون وغیرہ تھے آپس میں کہا کہ ہمیں تو کوئی بڑے بڑے طریقے عبادت کے اختیار کرنا چاہئیں نصرانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے اپنے نفس پر بہت سی چیزیں حرام کر رکھی ہیں اس پر کسی نے گوشت اور چربی وغیرہ کھانا اپنے اوپر حرام کیا، کسی نے دن کو کھانا بھی حرام کرلیا، کسی نے رات کی نیند اپنے اوپر حرام کرلی، کسی نے عورتوں سے مباشرت حرام کرلی۔ حضرت عثمان بن مظعون نے اپنی بیوی سے میل جول اسی بنا پر ترک کردیا۔ میاں بیوی اپنے صحیح تعلقات سے الگ رہنے لگے ایک دن یہ بیوی صاحبہ حضرت خولہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس آئیں وہاں حضور کی ازواج مطہرات بھی تھیں انہیں پراگندہ حالت میں دیکھ کر سب نے پوچھا کہ تم نے اپنا یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے ؟ نہ کنگھی نہ چوٹی کی خبر ہے نہ لباس ٹھیک ٹھاک ہے نہ صفائی اور خوبصورتی کا خیال ہے ؟ کیا بات ہے ؟ حضرت خولہ ؓ نے فرمایا مجھے اب اس بناؤ سنگار کی ضرورت ہی کیا رہی ؟ اتنی مدت ہوئی جو میرے میاں مجھ سے ملے ہی نہیں نہ کبھی انہوں نے میرا کپڑا ہٹایا، یہ سن کر اور بیویاں ہنسنے لگیں اتنے میں حضور ﷺ تشریف لائے اور دریاف فرمایا کہ یہ ہنسی کیسی ہے ؟ حضرت عائشہ نے سارا واقعہ بیان فرمایا آپ نے اسی وقت آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو بلوایا اور فرمایا یہ کیا قصہ ہے ؟ حضرت عثمان نے کل واقعہ بیان کر کے کہا کہ میں نے اسے اس لئے چھوڑ رکھا ہے کہ اللہ کی عبادت دلچسپی اور فارغ البالی سے کرسکوں بلکہ میرا ارادہ ہے کہ میں خصی ہوجاؤں تاکہ عورتوں کے قابل ہی نہ رہوں۔ آپ نے فرمایا میں تجھے قسم دیتا ہوں جا اپنی بیوی سے میل کرلے اور اس سے بات چیت کر۔ جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت تو میں روزے سے ہوں فرمایا جاؤ روزہ توڑ ڈالو چناچہ انہوں نے حکم برداری کی، روزہ توڑ دیا اور بیوی سے بھی ملے۔ اب پھر جو حضرت خولاء آئیں تو وہ اچھی ہئیت میں تھیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ نے ہنس کر پوچھا کہو اب کیا حال ہے جواب دیا کہ اب حضرت عثمان نے اپنا عہد توڑ دیا ہے اور کل وہ مجھ سے ملے بھی۔ حضور ﷺ نے لوگوں میں فرمایا لوگو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ کوئی بیویاں حرام کر رہا ہے، کوئی کھانا، کوئی سونا۔ تم نہیں دیکھتے کہ میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں اور روزے سے بھی رہتا ہوں۔ عورتوں سے ملتا بھی ہوں نکاح بھی کر رکھے ہیں۔ سنو جو مجھ سے بے [ ا۔ ی ] غبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، اس پر یہ آیت اتری۔ حد سے نہ گزرو سے مطلب یہ ہے کہ عثمان کو خصی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حد سے گزر جانا ہے اور ان بزرگوں کو اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کا حکم ہوا اور فرمایا آیت (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ باللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ) 2۔ البقرۃ :225) پس لا تعتدوا سے مراد یا تو یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو تمہارے لئے مباح کیا ہے تم انہیں اپنے اوپر حرام کر کے تنگی نہ کرو اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ حلال بقدر کفایت لے لو اور اس حد سے آگے نہ نکل جاؤ۔ جیسے فرمایا کھاؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو۔ ایک اور آیت میں ہے ایمانداروں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ خرچ کرنے میں اسراف اور بخیلی کے درمیان درمیان رہتے ہیں۔ پس افراط وتفریط اللہ کے نزدیک بری بات ہے اور درمیانی روش رب کو پسند ہے۔ اسی لئے یہاں بھی فرمایا حد سے گزر جانے والوں کو اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ جو حلال و طیب چیزیں تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اپنے تمام امور میں اللہ سے ڈرتے رہو اس کی اطاعت اور طلب رضا مندی میں رہا کرو۔ اس کی نافرمانی اور اس کی حرام کردہ چیزوں سے الگ رہو۔ اسی اللہ پر تم یقین رکھتے ہو، اسی پر تمہارا ایمان ہے پس ہر امر میں اس کا لحاظ رکھو۔
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
📘 غیر ارادی قسمیں اور کفارہ لعو قسمیں کیا ہوتی ہیں ؟ ان کے کیا احکام ہیں ؟ یہ سب سورة بقرہ کی تفسیر میں بالتفصیل بیان کرچکے ہیں اس لئے یہاں ان کے دوہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد اللہ۔ مقصد یہ ہے کہ روانی کلام میں انسان کے منہ سے بغیر قصد کے جو قسمیں عادۃ نکل جائیں وہ لغو قسمیں ہیں۔ امام شافعی کا یہی مذہب ہے، مذاق میں قسم کھا بیٹھنا، اللہ کی نافرمانی کے کرنے پر قسم کھا بیٹھنا، زیادتی گمان کی بنا پر قسم کھا بیٹھنا بھی اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے۔ غصے اور عضب میں، نسیان اور بھول چوک سے کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیزوں میں قسم کھا بیٹھنا مراد ہے، اس قوم کی دلیل میں آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ) 5۔ المائدہ :87) کو پیش کیا جاتا ہے، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ لغو قسموں سے مراد بغیر قصد کی قسمیں ہیں اور اس کی دلیل (ولکن یواخذ کم بما عقدتم الایمان ہے یعنی جو قسمیں بالقصد اور بالعزم ہوں ان پر گرفٹ ہے اور ان پر کفارہ ہے۔ کفارہ دس مسکینوں کا کھانا جو محتاج فقیر ہوں جن کے پاس بقدر کفایت کے نہ ہو اوسط درجے کا کھانا جو عموماً گھر میں کھایا جاتا ہو وہی انہیں کھلا دینا۔ مثلاً دودھ روٹی، گھی روٹی، زیتون کا تیل روٹی، یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی خوراک بہت اعلی ہوتی ہے بعض لوگ بہت ہی ہلکی غذا کھاتے ہیں تو نہ وہ ہو نہ یہ ہو، تکلف بھی نہ ہو اور بجل بھی نہ ہو، سختی اور فراخی کے درمیان ہو، مثلاً گوشت روٹی ہے، سرکہ اور روٹی ہے، روٹی اور کھجوریں ہیں۔ جیسی جس کی درمیانی حثییت، اسی طرح قلت اور کثرت کے درمیان ہو۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ صبح شام کا کھانا، حسن اور محمد بن خفیہ کا قول ہے کہ دس مسکینوں کو ایک ساتھ بٹھا کر روٹی گوشت کھلا دینا کافی ہے یا اپنی حیثیت کے مطابق روٹی کسی اور چیز سے کھلا دینا، بعض نے کہا ہے ہر مسکین کو آدھا صاع گہیوں کھجوریں وغیرہ دے دینا، امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ گہیوں تو آدھا صاع کافی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز کا پورا صاع دے دے۔ ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک صاع کھجوروں کا کفارے میں ایک ایک شخص کو دیا ہے اور لوگوں کو بھی یہی حکم فرمایا ہے لیکن جس کی اتنی حثییت نہ ہو وہ آدھا صاع گہیوں کا دے دے، یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے لیکن اس کا ایک راوی بالکل ضعیف ہے جس کے ضعف پر محدثین کا اتفاق ہے۔ در قطنی نے اسے متروک کہا ہے اس کا نام عمر بن عبداللہ ہے، ابن عباس کا قول ہے کہ ہر مسکین کو ایک مد گہیوں مع سالن کے دے دے، امام شافعی بھی یہی فرماتے ہیں لیکن سالن کا ذکر نہیں ہے اور دلیل ان کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رمضان شریف کے دن میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو ایک کمتل (خاص پیمانہ) میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا نے کا حکم حضور ﷺ نے دیا تھا اس میں پندرہ صاع آتے ہیں تو ہر مسکین کے لئے ایک مد ہوا۔ ابن مدویہ کی ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کے کفارے میں گہیوں کا ایک مد مقرر کیا ہے لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ نضیر بن زرارہ کوفی کے بارے میں امام ابو حاتم رازی کا قول ہے کہ وہ مجہول ہے گو اس سے بہت سے لوگوں نے روایت کی ہے اور امام ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے واللہ اعلم، پھر ان کے استاد عمری بھی ضعیف ہیں، امام احمد بن حنبل ؒ کا فرمان ہے کہ گہیوں کا ایک مد اور باقی اناج کے دو مد دے۔ واللہ اعلم (یہ یاد رہے کہ صاع انگریزی اسی روپے بھر کے سیر کے حساب سے تقریباً پونے تین سیر کا ہوتا ہے اور ایک صاع کے چار مد ہوتے ہیں واللہ اعلم، مترجم) یا ان دس کو کپڑا پہنانا، امام شافعی کا قول ہے کہ ہر ایک کو خواہ کچھ ہی کپڑا دے دے جس پر کپڑے کا اطلاق ہوتا ہو کافی ہے، مثلاً کرتہ ہے، پاجامہ ہے، تہمد ہے، پگڑی ہے یا سر پر لپیٹنے کا رومال ہے۔ پھر امام صاحب کے شاگردوں میں سے بعض تو کہتے ہیں ٹوپی بھی کافی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ ناکافی ہے، کافی کہنے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین سے جب اس کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ فرماتے ہیں اگر کوئی وفد کسی امیر کے پاس آئے اور وہ انہیں ٹوپیاں دے تو عرب تو یہی کہیں گے کہ قد کسوا انہیں کپڑے پہنائے گئے۔ لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہیں کیونکہ محمد بن زبیر ضعیف ہیں واللہ اعلم۔ موزے پہنانے کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جائز نہیں۔ امام مالک اور امام احمد فرماتے ہیں کہ کم سے کم اتنا اور ایسا کپڑا ہو کہ اس میں نماز جائز ہوجائے مرد کو دیا ہے تو اس کی اور عورت کو دیا ہے تو اس کی۔ واللہ اعلم۔ ابن عباس فرماتے ہیں عباہو یا شملہ ہو۔ مجاہد فرماتے ہیں۔ ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک کپڑا ہو اور اس سے زیادہ جو ہو۔ غرض کفارہ قسم میں ہر چیز سوائے جانگئے کے جائز ہے۔ بہت سے مفسرین فرماتے ہیں ایک ایک کپڑا ایک ایک مسکین کو دے دے۔ ابراہیم نخعی کا قول ہے ایسا کپڑا جو پورا کار آمد ہو مثلاً لحاف چادر وغیرہ نہ کہ کرتہ دوپٹہ وغیرہ ابن سیرن اور حسن دو دو کپڑے کہتے ہیں، سعید بن مسیب کہتے ہیں عمامہ جسے سر پر باندھے اور عبا جسے بدن پر پہنے۔ حضرت ابو موسیٰ قسم کھاتے ہیں پھر اسے توڑتے ہیں تو دو کپڑے بحرین کے دے دیتے ہیں۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ہر مسکین کیلئے ایک عبا، یہ حدیث عریب ہے، یا ایک غلام کا آزاد کرنا، امام ابوحنیفہ تو فرماتے ہیں کہ یہ مطلق ہے کافر ہو یا مسلمان، امام شافعی اور دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں اس کا مومن ہونا ضروری ہے کیونکہ قتل کے کفارے میں غلام کی آزادی کا حکم ہے اور وہ مقید ہے کہ وہ مسلمان ہونا چاہے، دونوں کفاروں کا سبب چاہے جدا گانہ ہے لیکن وجہ ایک ہی ہے اور اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضرت معاویہ بن حکم اسلمی کے ذمے ایک گردن آزاد کرنا تھی وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے ساتھ ایک لونڈی لئے ہوئے آئے۔ حضور نے اس سیاہ فام لونڈی سے دریافت فرمایا کہ اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا آسمان میں پوچھا ہم کون ہیں ؟ جواب دیا کہ آپ رسول ﷺ ہیں آپ نے فرمایا اسے آزاد کرو یہ ایماندار عورت ہے۔ پس ان تینوں کاموں میں سے جو بھی کرلے وہ قسم کا کفارہ ہوجائے گا اور کافی ہوگا اس پر سب کا اجماع ہے۔ قرآن کریم نے ان چیزوں کا بیان سب سے زیادہ آسان چیز سے شروع کیا ہے اور بتدریج اوپر کو پہنچایا ہے۔ پس سب سے سہل کھانا کھلانا ہے۔ پھر اس سے قدرے بھاری کپڑا پہنانا ہے اور اس سے بھی زیادہ بھاری غلام کو آزاد کرنا ہے۔ پس اس میں ادنی سے اعلی بہتر ہے۔ اب اگر کسی شخص کو ان تینون میں سے ایک کی بھی قدرت نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھ لے۔ سعید بن جبیر اور حسن بصری سے مروی ہے کہ جس کے پاس تین درہم ہوں وہ تو کھانا کھلا دے ورنہ روزے رکھ لے اور بعض متاخرین سے منقول ہے کہ یہ اس کے لئے ہے جس کے پاس ضروریات سے فاضل چیز نہ ہو معاش وغیرہ پونجی کے بعد جو فالتو ہو اس سے کفارہ ادا کرے، امام ابن جرید فرماتے ہیں جس کے پاس اس دن کے اپنے اور اپنے بال بچوں کے کھانے سے کچھ بچے اس میں سے کفارہ ادا کرے، قسم کے توڑنے کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے واجب ہیں یا مستحب ہیں اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ واجب نہیں، امام شافعی نے باب الایمان میں اسے صاف لفظوں میں کہا ہے امام مالک کا قول بھی یہی ہے کیونکہ قرآن کریم میں روزوں کا حکم مطلق ہے تو خواہ پے در پے ہوں خواہ الگ الگ ہوں تو سب پر یہ صادق آتا ہے جیسے کہ رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں آیت (فعدۃ من ایام اخر) فرمایا گیا ہے وہاں بھی پے در پے کی یا علیحدہ علیحدہ کی قید نہیں اور حضرت امام شافعی نے کتاب الام میں ایک جگہ صراحت سے کہا ہے کہ قسم کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنے چاہئیں یہی قول خفیہ اور حنابلہ کا ہے۔ اس لئے کہ حضرت ابی بن کعب وغیرہ سے مروی ہے کہ ان کی قرأت آیت (فصیام ثلثتہ ایام متتابعات) ہے ابن مسعود سے بھی یہی قرأت مروی ہے، اس صورت میں اگرچہ اس کا متواتر قرأت ہونا ثابت نہ ہو۔ تاہم خبر واحد یا تفسیر صحابہ سے کم درجے کی تو یہ قرأت نہیں پس حکماً " یہ بھی مرفوع ہے۔ ابن مردویہ کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے کہ حضرت حذیفہ نے پوچھا یا رسول اللہ ہمیں اختیار ہے آپ نے فرمایا ہاں، تو اختیار پر ہے خواہ گردن آزاد کر خواہ کپڑا پہنا دے خواہ کھانا کھلا دے اور جو نہ پائے وہ پے در پے تین روزے رکھ لے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم جب قسم کھا کر توڑ دو تو یہ کفارہ ہے لیکن تمہیں اپنی قسموں کی حفاظت کرنی چاہیے انہیں بغیر کفارے کے نہ چھوڑنا چاہیے اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو۔
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ
📘 " اسلام " زبان سے عہد اور " ایمان " عمل سے اطاعت اس عہد کا اظہار اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس امت پر کیا ہے، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہدے پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی تابعداری اور امداد کرنے، دین پر قائم رہنے، اسے قبول کرلینے، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے، اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چناچہ صحابہ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ " ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔ " باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے کہ تم کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول ﷺ تمہیں رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں، اگر تمہیں یقین ہو اور اس نے تم سے عہد بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور ﷺ کی تابعداری کے قول قرار ہوچکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی ؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ " حضرت آدم کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سدی اور ابن عباس سے وہی مروی ہے اور امان اب جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہوجاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔ بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ نہ بنا لو، میرے باپ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے ؟ جواب دیا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ چناچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا، پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے، ھو کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کردی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے۔ آیت (وَاِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) 4۔ النور :28) یعنی اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے۔ پس یہاں ھو کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں، جیسے اس آیت میں ہے۔ (اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَــقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا) 25۔ الفرقان :24) اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر سے کہنا کہ۔ انت واغلظ من رسول اللہ ﷺ اللہ سے ڈرو ! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کرچکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چناچہ یونہی ہوگا۔ پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت ﷺ کے پاس کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے فوراً بعد جواب دیا کہ اللہ عزوجل، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، اب آپ نے صحابہ کو آواز دی اور جب وہ آگئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔ اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کردیا اور آپ بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔ ابن اسحاق وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور ﷺ کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کرلیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کردینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کردیا، آپ مع اپنے صحابہ کے وہیں سے پلٹ گئے، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کردیا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
📘 پانسہ بازی، جوا اور شراب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے صحیح مسلم شریف میں ہے پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے۔ سنن میں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم، مسند میں ہے پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔ حضرت علی سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ امام مالک امام ابوحنیفہ امام احمد تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ انصاب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے ازلام ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔ حرمت شراب کی مزید وضاحت اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ آنحضرت ﷺ جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے حضور ﷺ سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں۔ چناچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھرے ہوئے تو قرأت خط ملط ہوگئی اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) 5۔ المائدہ :90) نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ بول اٹھے انتھینا ربنا اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے، پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی اور آپ نے فرمایا اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے، مسند احمد میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورة بقرہ کی آیت (فیھما اثم کبیر) نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ نے فرمایا اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما ! پس سورة نساء کی آیت (وانتم سکاری) نازل ہوئی اور مؤذن جب حی علی الصلوۃ کہتا تو ساتھ ہی کہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔ حضرت عمر کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ نے یہی فرمایا کہ اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔ پس سورة مائدہ کی آیت اتری آپ کو بلوایا گیا اور یہ آیت سنائی گئی جب آیت (فھل انتم منتھون) تک سنا تو فرمانے لگے انتھینا انتھینا ہم رک گئے ہم رک گئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے منبر نبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کجھور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آجائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی، ابو داؤد طیالسی میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت (یسلونک عن الخمر) والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی اس پر بعض صحابہ نے فرمایا رسول اللہ ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ خاموش ہوگئے پھر آیت (وانتم سکاری) والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ نے فرمایا دیا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ اب شراب حرام ہوگئی۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ کو تحفتاً دینے لگا آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیا ہے۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ نے فرمایا کیا کہا ؟ اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں آپ نے فرمایا جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحا کے میدان میں بہا آؤ۔ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت تمیم دارمی آنحضرت ﷺ کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہوگئی ہے کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کرلوں گا، یہ سن کر آپ نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کردیا ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے کہ اس میں ہے کہ ہر سال حضرت دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام، ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ حضرت کیسان ؓ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اب تو حرام ہوگئی پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں ؟ آپ نے فرمایا یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ چناچہ حضرت کیسان نے وہ ساری شراب بہا دی، مسند احمد میں ہے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں، میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح حضرت ابی بن کعب، حضرت سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی نے آ کر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہوگئی ؟ انہوں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجو کی تھی اور عامتاً اسی کی شراب بنا کرتی تھی، یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس حضرت ابو طلحہ ؓ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے ؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آ کر خبر دی تو حضرت ابو طلحہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے، بعض اصحاب نے کہا ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کردیئے گئے ؟ اس پر اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں، ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کرلیا، کسی نے غسل کرلیا اور حضرت ام سلیم کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا حضور ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور اس سے پہلے جو لوگ فوت ہوگئے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ پس اس کے بعد آیت اتری، کسی نے حضرت قتادہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ فرمایا ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں ؟ مسند احمد میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کردیا ہے، شراب سے بچو غبیرا نام کی شراب عام ہے مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ میں نے آپ سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے، مسند احمد میں ہے شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کرلے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر (ابو داؤد، ابن ماجہ) مسند میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باڑے کی طرف نکلے میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ کے دائیں جانب چل رہا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق آئے میں ہٹ گیا اور آپ کے داہنے حضرت صدیق چلنے لگے تھوڑی دیر میں حضرت عمر آگئے میں ہٹ گیا آپ حضور کے بائیں طرف ہوگئے جب آپ باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا چھری لاؤ جب میں لایا تو آپ نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں پھر فرمایا شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے، مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ حضور نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو ، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی۔ بہقی کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص شراب بیجتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے حضرت ابن عباس سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے، پھر حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا سنو میں حضور کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ نے فرمایا جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کو، جب جمع ہوگئی اور آپ سے کہا گیا تو آپ اٹھے میں آپ کے داہنے جانب تھا آپ مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق جب آئے تو آپ نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ حضرت ابوبکر نے لے لی، پھر حضرت عمر سے ملاقت ہوئی تو آپ نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے، فرمایا سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا اسے تیز کرلو پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور مشکوں اور مٹکو کو رہنے دیجئے اور کام آئیں گی فرمایا ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غضہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب اراض ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور آپ خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں فرمایا نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا۔ بیہقی کی حدیث میں ہے کہ شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کر حضرت سعد کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔ یہ شراب پی کر بدمست ہوگئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بےحرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت اتری۔ ابن جریر میں ہے حضرت ابو بریدہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کردیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آگئے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کردیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ بزار میں یہ ذاتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت (لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ) 5۔ المائدہ :93) نازل ہوئی، ابو یعلی موصلی میں ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہوگئی وہ واپس مڑ گیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا ہاں سچ ہے کہا پھر مجھے اجازت دیجئے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں، کہا پھر اجازت دیجئے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے آپ نے فرمایا یہ بھی ٹیک نہیں کہ حضور اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے فرمایا دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی ایک شخص نے کہا حضور شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے۔ یہ حدیث غریب ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے آپ نے فرمایا جاؤ اس یہا دو عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں فرمایا نہیں۔ یہ حدیث مسلم ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا۔ حدیث شریف میں ہے جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے طینتہ الخیال پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہوگی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور طینتہ الخیال پلائے گا پوچھا گیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے۔ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بےتوبہ مرگیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ نسائی وغیرہ میں ہے تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا، مسند احمد میں ہے کہ دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا۔ مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ زنا کی اولاد بھی، حضرت عثمان بن عفان ؓ تعلای عنہ فرماتے ہیں شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جر ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لئے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کردیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہوگیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کردیا۔ پس اے لوگو ! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے (بیہقی) امام ابوبکر بن ابی الدنیا ؒ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے واللہ اعلم، اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کرچکے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر اس میں کوئی حرج نہیں اور جب بیت المقدس کا قبلہ بدلا اور بیت اللہ شریف قبلہ ہوا اس وقت بھی صحابہ نے پہلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے انتقال کر جانے والوں کی نسبت دریافت کیا تو آیت (ماکان اللہ لیضیع ایمانکم) الخ، نازل ہوئی یعنی ان کی نمازیں ضائع نہ ہوں گی۔ مسند احمد میں ہے جو شخص شراب پئے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر رہتی ہے اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو کافر مرے گا ہاں اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر اس نے پھر بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ دوزخیوں کا فضلہ پلائے گا اور روایت میں ہے کہ جب یہ حکم اترا کہ ایمانداروں پر حرمت سے پہلے پی ہوئی کا کوئی گناہ نہیں تو حضور نے فرمایا مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو انہی میں سے ہے۔ مسند احمد میں ہے پانسوں کے کھیل سے بچو یہ عجمیوں کا جوا ہے۔
إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ
📘 پانسہ بازی، جوا اور شراب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے صحیح مسلم شریف میں ہے پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے۔ سنن میں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم، مسند میں ہے پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔ حضرت علی سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ امام مالک امام ابوحنیفہ امام احمد تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ انصاب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے ازلام ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔ حرمت شراب کی مزید وضاحت اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ آنحضرت ﷺ جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے حضور ﷺ سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں۔ چناچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھرے ہوئے تو قرأت خط ملط ہوگئی اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) 5۔ المائدہ :90) نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ بول اٹھے انتھینا ربنا اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے، پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی اور آپ نے فرمایا اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے، مسند احمد میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورة بقرہ کی آیت (فیھما اثم کبیر) نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ نے فرمایا اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما ! پس سورة نساء کی آیت (وانتم سکاری) نازل ہوئی اور مؤذن جب حی علی الصلوۃ کہتا تو ساتھ ہی کہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔ حضرت عمر کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ نے یہی فرمایا کہ اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔ پس سورة مائدہ کی آیت اتری آپ کو بلوایا گیا اور یہ آیت سنائی گئی جب آیت (فھل انتم منتھون) تک سنا تو فرمانے لگے انتھینا انتھینا ہم رک گئے ہم رک گئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے منبر نبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کجھور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آجائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی، ابو داؤد طیالسی میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت (یسلونک عن الخمر) والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی اس پر بعض صحابہ نے فرمایا رسول اللہ ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ خاموش ہوگئے پھر آیت (وانتم سکاری) والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ نے فرمایا دیا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ اب شراب حرام ہوگئی۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ کو تحفتاً دینے لگا آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیا ہے۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ نے فرمایا کیا کہا ؟ اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں آپ نے فرمایا جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحا کے میدان میں بہا آؤ۔ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت تمیم دارمی آنحضرت ﷺ کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہوگئی ہے کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کرلوں گا، یہ سن کر آپ نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کردیا ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے کہ اس میں ہے کہ ہر سال حضرت دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام، ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ حضرت کیسان ؓ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اب تو حرام ہوگئی پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں ؟ آپ نے فرمایا یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ چناچہ حضرت کیسان نے وہ ساری شراب بہا دی، مسند احمد میں ہے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں، میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح حضرت ابی بن کعب، حضرت سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی نے آ کر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہوگئی ؟ انہوں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجو کی تھی اور عامتاً اسی کی شراب بنا کرتی تھی، یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس حضرت ابو طلحہ ؓ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے ؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آ کر خبر دی تو حضرت ابو طلحہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے، بعض اصحاب نے کہا ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کردیئے گئے ؟ اس پر اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں، ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کرلیا، کسی نے غسل کرلیا اور حضرت ام سلیم کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا حضور ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور اس سے پہلے جو لوگ فوت ہوگئے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ پس اس کے بعد آیت اتری، کسی نے حضرت قتادہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ فرمایا ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں ؟ مسند احمد میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کردیا ہے، شراب سے بچو غبیرا نام کی شراب عام ہے مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ میں نے آپ سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے، مسند احمد میں ہے شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کرلے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر (ابو داؤد، ابن ماجہ) مسند میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باڑے کی طرف نکلے میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ کے دائیں جانب چل رہا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق آئے میں ہٹ گیا اور آپ کے داہنے حضرت صدیق چلنے لگے تھوڑی دیر میں حضرت عمر آگئے میں ہٹ گیا آپ حضور کے بائیں طرف ہوگئے جب آپ باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا چھری لاؤ جب میں لایا تو آپ نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں پھر فرمایا شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے، مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ حضور نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو ، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی۔ بہقی کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص شراب بیجتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے حضرت ابن عباس سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے، پھر حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا سنو میں حضور کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ نے فرمایا جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کو، جب جمع ہوگئی اور آپ سے کہا گیا تو آپ اٹھے میں آپ کے داہنے جانب تھا آپ مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق جب آئے تو آپ نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ حضرت ابوبکر نے لے لی، پھر حضرت عمر سے ملاقت ہوئی تو آپ نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے، فرمایا سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا اسے تیز کرلو پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور مشکوں اور مٹکو کو رہنے دیجئے اور کام آئیں گی فرمایا ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غضہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب اراض ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور آپ خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں فرمایا نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا۔ بیہقی کی حدیث میں ہے کہ شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کر حضرت سعد کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔ یہ شراب پی کر بدمست ہوگئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بےحرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت اتری۔ ابن جریر میں ہے حضرت ابو بریدہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کردیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آگئے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کردیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ بزار میں یہ ذاتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت (لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ) 5۔ المائدہ :93) نازل ہوئی، ابو یعلی موصلی میں ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہوگئی وہ واپس مڑ گیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا ہاں سچ ہے کہا پھر مجھے اجازت دیجئے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں، کہا پھر اجازت دیجئے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے آپ نے فرمایا یہ بھی ٹیک نہیں کہ حضور اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے فرمایا دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی ایک شخص نے کہا حضور شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے۔ یہ حدیث غریب ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے آپ نے فرمایا جاؤ اس یہا دو عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں فرمایا نہیں۔ یہ حدیث مسلم ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا۔ حدیث شریف میں ہے جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے طینتہ الخیال پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہوگی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور طینتہ الخیال پلائے گا پوچھا گیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے۔ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بےتوبہ مرگیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ نسائی وغیرہ میں ہے تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا، مسند احمد میں ہے کہ دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا۔ مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ زنا کی اولاد بھی، حضرت عثمان بن عفان ؓ تعلای عنہ فرماتے ہیں شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جر ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لئے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کردیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہوگیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کردیا۔ پس اے لوگو ! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے (بیہقی) امام ابوبکر بن ابی الدنیا ؒ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے واللہ اعلم، اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کرچکے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر اس میں کوئی حرج نہیں اور جب بیت المقدس کا قبلہ بدلا اور بیت اللہ شریف قبلہ ہوا اس وقت بھی صحابہ نے پہلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے انتقال کر جانے والوں کی نسبت دریافت کیا تو آیت (ماکان اللہ لیضیع ایمانکم) الخ، نازل ہوئی یعنی ان کی نمازیں ضائع نہ ہوں گی۔ مسند احمد میں ہے جو شخص شراب پئے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر رہتی ہے اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو کافر مرے گا ہاں اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر اس نے پھر بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ دوزخیوں کا فضلہ پلائے گا اور روایت میں ہے کہ جب یہ حکم اترا کہ ایمانداروں پر حرمت سے پہلے پی ہوئی کا کوئی گناہ نہیں تو حضور نے فرمایا مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو انہی میں سے ہے۔ مسند احمد میں ہے پانسوں کے کھیل سے بچو یہ عجمیوں کا جوا ہے۔
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا ۚ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
📘 پانسہ بازی، جوا اور شراب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے صحیح مسلم شریف میں ہے پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے۔ سنن میں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم، مسند میں ہے پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔ حضرت علی سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ امام مالک امام ابوحنیفہ امام احمد تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ انصاب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے ازلام ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔ حرمت شراب کی مزید وضاحت اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ آنحضرت ﷺ جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے حضور ﷺ سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں۔ چناچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھرے ہوئے تو قرأت خط ملط ہوگئی اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) 5۔ المائدہ :90) نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ بول اٹھے انتھینا ربنا اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے، پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی اور آپ نے فرمایا اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے، مسند احمد میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورة بقرہ کی آیت (فیھما اثم کبیر) نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ نے فرمایا اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما ! پس سورة نساء کی آیت (وانتم سکاری) نازل ہوئی اور مؤذن جب حی علی الصلوۃ کہتا تو ساتھ ہی کہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔ حضرت عمر کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ نے یہی فرمایا کہ اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔ پس سورة مائدہ کی آیت اتری آپ کو بلوایا گیا اور یہ آیت سنائی گئی جب آیت (فھل انتم منتھون) تک سنا تو فرمانے لگے انتھینا انتھینا ہم رک گئے ہم رک گئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے منبر نبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کجھور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آجائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی، ابو داؤد طیالسی میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت (یسلونک عن الخمر) والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی اس پر بعض صحابہ نے فرمایا رسول اللہ ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ خاموش ہوگئے پھر آیت (وانتم سکاری) والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ نے فرمایا دیا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ اب شراب حرام ہوگئی۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ کو تحفتاً دینے لگا آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیا ہے۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ نے فرمایا کیا کہا ؟ اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں آپ نے فرمایا جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحا کے میدان میں بہا آؤ۔ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت تمیم دارمی آنحضرت ﷺ کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہوگئی ہے کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کرلوں گا، یہ سن کر آپ نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کردیا ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے کہ اس میں ہے کہ ہر سال حضرت دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام، ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ حضرت کیسان ؓ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اب تو حرام ہوگئی پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں ؟ آپ نے فرمایا یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ چناچہ حضرت کیسان نے وہ ساری شراب بہا دی، مسند احمد میں ہے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں، میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح حضرت ابی بن کعب، حضرت سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی نے آ کر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہوگئی ؟ انہوں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجو کی تھی اور عامتاً اسی کی شراب بنا کرتی تھی، یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس حضرت ابو طلحہ ؓ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے ؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آ کر خبر دی تو حضرت ابو طلحہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے، بعض اصحاب نے کہا ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کردیئے گئے ؟ اس پر اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں، ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کرلیا، کسی نے غسل کرلیا اور حضرت ام سلیم کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا حضور ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور اس سے پہلے جو لوگ فوت ہوگئے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ پس اس کے بعد آیت اتری، کسی نے حضرت قتادہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ فرمایا ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں ؟ مسند احمد میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کردیا ہے، شراب سے بچو غبیرا نام کی شراب عام ہے مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ میں نے آپ سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے، مسند احمد میں ہے شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کرلے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر (ابو داؤد، ابن ماجہ) مسند میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باڑے کی طرف نکلے میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ کے دائیں جانب چل رہا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق آئے میں ہٹ گیا اور آپ کے داہنے حضرت صدیق چلنے لگے تھوڑی دیر میں حضرت عمر آگئے میں ہٹ گیا آپ حضور کے بائیں طرف ہوگئے جب آپ باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا چھری لاؤ جب میں لایا تو آپ نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں پھر فرمایا شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے، مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ حضور نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو ، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی۔ بہقی کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص شراب بیجتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے حضرت ابن عباس سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے، پھر حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا سنو میں حضور کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ نے فرمایا جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کو، جب جمع ہوگئی اور آپ سے کہا گیا تو آپ اٹھے میں آپ کے داہنے جانب تھا آپ مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق جب آئے تو آپ نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ حضرت ابوبکر نے لے لی، پھر حضرت عمر سے ملاقت ہوئی تو آپ نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے، فرمایا سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا اسے تیز کرلو پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور مشکوں اور مٹکو کو رہنے دیجئے اور کام آئیں گی فرمایا ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غضہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب اراض ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور آپ خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں فرمایا نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا۔ بیہقی کی حدیث میں ہے کہ شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کر حضرت سعد کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔ یہ شراب پی کر بدمست ہوگئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بےحرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت اتری۔ ابن جریر میں ہے حضرت ابو بریدہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کردیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آگئے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کردیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ بزار میں یہ ذاتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت (لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ) 5۔ المائدہ :93) نازل ہوئی، ابو یعلی موصلی میں ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہوگئی وہ واپس مڑ گیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا ہاں سچ ہے کہا پھر مجھے اجازت دیجئے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں، کہا پھر اجازت دیجئے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے آپ نے فرمایا یہ بھی ٹیک نہیں کہ حضور اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے فرمایا دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی ایک شخص نے کہا حضور شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے۔ یہ حدیث غریب ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے آپ نے فرمایا جاؤ اس یہا دو عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں فرمایا نہیں۔ یہ حدیث مسلم ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا۔ حدیث شریف میں ہے جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے طینتہ الخیال پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہوگی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور طینتہ الخیال پلائے گا پوچھا گیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے۔ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بےتوبہ مرگیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ نسائی وغیرہ میں ہے تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا، مسند احمد میں ہے کہ دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا۔ مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ زنا کی اولاد بھی، حضرت عثمان بن عفان ؓ تعلای عنہ فرماتے ہیں شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جر ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لئے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کردیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہوگیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کردیا۔ پس اے لوگو ! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے (بیہقی) امام ابوبکر بن ابی الدنیا ؒ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے واللہ اعلم، اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کرچکے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر اس میں کوئی حرج نہیں اور جب بیت المقدس کا قبلہ بدلا اور بیت اللہ شریف قبلہ ہوا اس وقت بھی صحابہ نے پہلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے انتقال کر جانے والوں کی نسبت دریافت کیا تو آیت (ماکان اللہ لیضیع ایمانکم) الخ، نازل ہوئی یعنی ان کی نمازیں ضائع نہ ہوں گی۔ مسند احمد میں ہے جو شخص شراب پئے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر رہتی ہے اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو کافر مرے گا ہاں اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر اس نے پھر بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ دوزخیوں کا فضلہ پلائے گا اور روایت میں ہے کہ جب یہ حکم اترا کہ ایمانداروں پر حرمت سے پہلے پی ہوئی کا کوئی گناہ نہیں تو حضور نے فرمایا مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو انہی میں سے ہے۔ مسند احمد میں ہے پانسوں کے کھیل سے بچو یہ عجمیوں کا جوا ہے۔
لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
📘 پانسہ بازی، جوا اور شراب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بعض چیزوں سے روکتا ہے۔ شراب کی ممانعت فرمائی، پھر جوئے کی روک کی۔ امیر المونین حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ شطرنج بھی جوئے میں داخل ہے (ابن ابی حاتم) عطا مجاہد اور طاؤس سے یا ان میں سے دو سے مروی ہے کہ جوئے کی ہر چیز میسر میں داخل ہے گو بچوں کے کھیل کے طور پر ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں جوئے کا بھی عام رواج تھا جسے اسلام نے غارت کیا۔ ان کا ایک جوا یہ بھی تھا کہ گوشت کو بکری کے بدلے بیجتے تھے، پانسے پھینک کر مال یا پھل لینا بھی جوا ہے۔ حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جو چیز ذکر اللہ اور نماز سے غافل کر دے وہ جوا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان پانسوں سے بچو جن سے لوگ کھیلا کرتے تھے، یہ بھی جوا ہے صحیح مسلم شریف میں ہے پانسوں سے کھیلنے والا گویا اپنے ہاتھوں کو سور کے خون اور گوشت میں آلودہ کرنے والا ہے۔ سنن میں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کا نافرمان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ کا قول بھی اسی طرح مروی ہے۔ واللہ اعلم، مسند میں ہے پانسوں سے کھیل کر نماز پڑھنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص قے اور گندگی سے اور سور کے خون سے وضو کر کے نماز ادا کرے۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک شطرنج اس سے بھی بری ہے۔ حضرت علی سے شطرنج کا جوئے میں سے ہونا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ امام مالک امام ابوحنیفہ امام احمد تو کھلم کھلا اسے حرام بتاتے ہیں اور امام شافعی بھی اسے مکروہ بتاتے ہیں۔ انصاب ان پتھروں کو کہتے ہیں جن پر مشرکین اپنے جانور چڑھایا کرتے تھے اور انہیں وہیں ذبح کرتے تھے ازلام ان تیروں کو کہتے ہیں جن میں وہ فال لیا کرتے تھے۔ ان سب چیزوں کی نسبت فرمایا کہ یہ اللہ کی ناراضگی کے اور شیطانی کام ہیں۔ یہ گناہ کے اور برائی کے کام ہیں تم ان شیطانی کاموں سے بچو انہیں چھوڑ دو تاکہ تم نجات پاؤ۔ اس فقرے میں مسلمانوں کو ان کاموں سے روکنے کی ترغیب ہے۔ پھر رغبت آمیز دھمکی کے ساتھ مسلمانوں کو ان چیزوں سے روکا گیا ہے۔ حرمت شراب کی مزید وضاحت اب ہم یہاں پر حرمت شراب کی مزید احادیث وارد کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں شراب تین مرتبہ حرام ہوئی۔ آنحضرت ﷺ جب مدینے شریف میں آئے تو لوگ جواری شرابی تھے حضور ﷺ سے اس بارے میں سوال ہوا اور آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّمَنَافِعُ للنَّاسِ ۡ وَاِثْـمُهُمَآ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا) 2۔ البقرۃ :219) نازل ہوئی۔ اس پر لوگوں نے کہا یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئیں بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فوائد بھی ہیں۔ چناچہ شراب پیتے رہے۔ ایک دن ایک صحابی اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھانے کیلئے کھرے ہوئے تو قرأت خط ملط ہوگئی اس پر آیت (يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا) 4۔ النسآء :43) نازل ہوئی۔ یہ بہ نسبت پہلی آیت کے زیادہ سخت تھی اب لوگوں نے نمازوں کے وقت شراب چھوڑ دی لیکن عادت برابر جاری رہی اس پر اس سے بھی زیادہ سخت اور صریح آیت (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) 5۔ المائدہ :90) نازل ہوئی اسے سن کر سارے صحابہ بول اٹھے انتھینا ربنا اے اللہ ہم اب باز رہے، ہم رک گئے، پھر لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا جو شراب اور جوئے کی حرمت کے نازل ہونے سے پیشتر اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے تھے اس کے جواب میں اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی اور آپ نے فرمایا اگر ان کی زندگی میں یہ حکم اترا ہوتا تو وہ بھی تمہاری طرح اسے مان لیتے، مسند احمد میں ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے تحریم شراب کے نازل ہونے پر فرمایا یا اللہ ہمارے سامنے اور کھول کر بیان فرما پس سورة بقرہ کی آیت (فیھما اثم کبیر) نازل ہوئی۔ حضرت عمر فاروق کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس کی تلاوت کی گئی پھر بھی آپ نے فرمایا اے اللہ تو ہمیں اور واضح لفظوں میں فرما ! پس سورة نساء کی آیت (وانتم سکاری) نازل ہوئی اور مؤذن جب حی علی الصلوۃ کہتا تو ساتھ ہی کہ دیتا کہ نشہ باز ہرگز ہرگز نماز کے قریب بھی نہ آئیں۔ حضرت عمر کو بلوایا گیا اور یہ آیت بھی انہیں سنائی گئی لیکن پھر بھی آپ نے یہی فرمایا کہ اے اللہ اس بارے میں صفائی سے بیان فرما۔ پس سورة مائدہ کی آیت اتری آپ کو بلوایا گیا اور یہ آیت سنائی گئی جب آیت (فھل انتم منتھون) تک سنا تو فرمانے لگے انتھینا انتھینا ہم رک گئے ہم رک گئے۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے منبر نبوی پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ شراب کی حرمت جب نازل ہوئی اس وقت شراب پانچ چیزوں کی بنائی جاتی تھی، انگور، شہد، کجھور، گہیوں اور جو۔ ہر وہ چیز جو عقل پر غالب آجائے خمر ہے۔ یعنی شراب کے حکم میں ہے اور حرام ہے صحیح بخاری میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت کی آیت کے نزول کے موقع پر مدینے شریف میں پانچ قسم کی شرابیں تھیں ان میں انگور کی شراب نہ تھی، ابو داؤد طیالسی میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں شراب کے بارے میں تین آیتیں اتریں۔ اول تو آیت (یسلونک عن الخمر) والی آیت اتری تو کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی اس پر بعض صحابہ نے فرمایا رسول اللہ ہمیں اس سے نفع اٹھانے دیجئے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ خاموش ہوگئے پھر آیت (وانتم سکاری) والی آیت اتری اور کہا گیا کہ شراب حرام ہوگئی۔ لیکن صحابہ نے فرمایا دیا رسول اللہ ہم بوقت نماز نہ پئیں گے۔ آپ پھر چپ رہے پھر یہ دونوں آیتیں اتری اور خود رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا کہ اب شراب حرام ہوگئی۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ حضور کا ایک دوست تھا قبیلہ ثقیف میں سے یا قبیلہ دوس میں سے۔ فتح مکہ والے دن وہ آپ سے ملا اور ایک مشک شراب کی آپ کو تحفتاً دینے لگا آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام کردیا ہے۔ اب اس شخص نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اسے بیچ ڈال، آپ نے فرمایا کیا کہا ؟ اس نے جواب دیا کہ بیچنے کو کہہ رہا ہوں آپ نے فرمایا جس اللہ نے اس کا پینا حرام کیا ہے اسی نے اس کا بیچنا بھی حرام کیا ہے۔ اس نے اسی وقت کہا جاؤ اسے لے جاؤ اور بطحا کے میدان میں بہا آؤ۔ ابو یعلی موصلی میں ہے کہ حضرت تمیم دارمی آنحضرت ﷺ کو تحفہ دینے کیلئے ایک مشک شراب کی لائے، آپ اسے دیکھ کر ہنس دیئے اور فرمایا یہ تو تمہارے جانے کے بعد حرام ہوگئی ہے کہا خیر یا رسول اللہ میں اسے واپس لے جاتا ہوں اور بیچ کر قیمت وصول کرلوں گا، یہ سن کر آپ نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لنعٹ ہوئی کہ ان پر جب گائے بکری کی چربی حرام ہوئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کیا، اللہ تعالیٰ نے شراب کو اور اس کی قیمت کو حرام کردیا ہے مسند احمد میں بھی یہ روایت ہے کہ اس میں ہے کہ ہر سال حضرت دارمی ایک مشک ہدیہ کرتے تھے، اس کے آخر میں حضور کا دو مرتبہ یہ فرمانا ہے کہ شراب بھی حرام اور اس کی قیمت بھی حرام، ایک حدیث مسند احمد میں اور ہے اس میں ہے کہ حضرت کیسان ؓ شراب کے تاجر تھے جس سال شراب حرام ہوئی اس سال یہ شام کے ملک سے بہت سی شراب تجارت کیلئے لائے تھے حضور سے ذکر کیا آپ نے فرمایا اب تو حرام ہوگئی پوچھا پھر میں اسے بیچ ڈالوں ؟ آپ نے فرمایا یہ بھی حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ چناچہ حضرت کیسان نے وہ ساری شراب بہا دی، مسند احمد میں ہے حضرت انس ؓ فرماتے ہیں، میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح حضرت ابی بن کعب، حضرت سہل بن بیضاء اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا دور چل رہا تھا سب لذت اندوز ہو رہے تھے قریب تھا کہ نشے کا پارہ بڑھ جائے، اتنے میں کسی صحابی نے آ کر خبر دی کہ کیا تمہیں علم نہیں شراب تو حرام ہوگئی ؟ انہوں نے کہا بس کرو جو باقی بچی ہے اسے لنڈھا دو اللہ کی قسم اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ یہ شراب کھجو کی تھی اور عامتاً اسی کی شراب بنا کرتی تھی، یہ روایت بخاری مسلم میں بھی ہے اور روایت میں ہے کہ شراب خوری کی یہ مجلس حضرت ابو طلحہ ؓ کے مکان پر تھی، ناگاہ منادی کی آواز پڑی مجھ سے کہا گیا باہر جاؤ دیکھو کیا منادی ہو رہی ہے ؟ میں نے جا کر سنا منادی ندا دے رہا ہے کہ شراب تم پر حرام کی گئی ہے، میں نے آ کر خبر دی تو حضرت ابو طلحہ نے فرمایا اٹھو جتنی شراب ہے سب بہادو میں نے بہادی اور میں نے دیکھا کہ مدینے کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے، بعض اصحاب نے کہا ان کا کیا حال ہوگا جن کے پیٹ میں شراب تھی اور وہ قتل کردیئے گئے ؟ اس پر اس کے بعد کی آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر کوئی حرج نہیں، ابن جریر کی روایت میں اس مجلس والوں کے ناموں میں حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل کا نام بھی ہے اور یہ بھی ہے کہ ندا سنتے ہی ہم نے شراب بہا دی، مٹکے اور پیپے توڑ ڈالے۔ کسی نے وضو کرلیا، کسی نے غسل کرلیا اور حضرت ام سلیم کے ہاں سے خوشبو منگوا کر لگائی اور مسجد پہنچے تو دیکھا حضور ﷺ یہ آیت پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور اس سے پہلے جو لوگ فوت ہوگئے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ پس اس کے بعد آیت اتری، کسی نے حضرت قتادہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے ؟ فرمایا ہاں ہم جھوٹ نہیں بولتے بلکہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ جھوٹ کسے کہتے ہیں ؟ مسند احمد میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شراب اور پانسے اور بربط کا باجا حرام کردیا ہے، شراب سے بچو غبیرا نام کی شراب عام ہے مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ سے وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو وہ اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ میں نے آپ سے سنا ہے کہ شراب جوا پانسے اور غبیرا سب حرام ہیں اور ہر نشے والی چیز حرام ہے، مسند احمد میں ہے شراب کے بارے میں دس لعنتیں ہیں خود شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بنانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر بھی جس کے پاس یہ اٹھا کرلے جایا جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر (ابو داؤد، ابن ماجہ) مسند میں ہے ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باڑے کی طرف نکلے میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ کے دائیں جانب چل رہا تھا جو حضرت ابوبکر صدیق آئے میں ہٹ گیا اور آپ کے داہنے حضرت صدیق چلنے لگے تھوڑی دیر میں حضرت عمر آگئے میں ہٹ گیا آپ حضور کے بائیں طرف ہوگئے جب آپ باڑے میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر چند مشکیں شراب کی رکھی ہوئی ہیں آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا چھری لاؤ جب میں لایا تو آپ نے حکم دیا کہ یہ مشکیں کاٹ دی جائیں پھر فرمایا شراب پر، اس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدار پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بنانے والے پر، بنوانے والے پر، قیمت لینے والے پر سب پر لعنت ہے، مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ حضور نے یہ مشکیں کٹوا دیں پھر مجھے اور میرے ساتھیوں کو چھری دے کر فرمایا جاؤ جتنی مشکیں شراب کی جہاں پاؤ سب کاٹ کر بہا دو ، پس ہم گئے اور سارے بازار میں ایک مشک بھی نہ چھوڑی۔ بہقی کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص شراب بیجتے تھے اور بہت خیرات کیا کرتے تھے حضرت ابن عباس سے شراب فروشی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے، اے امت محمد اگر تمہاری کتاب کے بعد کوئی کتاب اترنے والی ہوتی اور اگر تمہارے نبی کے بعد کوئی نبی اور آنے والا ہوتا، جس طرح اگلوں کی رسوائیاں اور ان کی برائیاں تمہاری کتاب میں اتریں تمہاری خرابیاں ان پر نازل ہوتیں لیکن تمہارے افعال کا اظہار قیامت کے دن پر مؤخر رکھا گیا ہے اور یہ بہت بھاری اور بڑا ہے، پھر حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا سنو میں حضور کے ساتھ مسجد میں تھا۔ آپ گوٹھ لگائے ہوئے بیٹھے تھے فرمانے لگے جس کے پاس جتنی شراب ہو وہ ہمارے پاس لائے۔ لوگوں نے لانی شروع کی، جس کے پاس جتنی تھی حاضر کی۔ آپ نے فرمایا جاؤ اسے بقیع کے میدان میں فلاں فلاں جگہ رکھو۔ جب سب جمع ہوجائے مجھے خبر کو، جب جمع ہوگئی اور آپ سے کہا گیا تو آپ اٹھے میں آپ کے داہنے جانب تھا آپ مجھ پر ٹیک لگائے چل رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق جب آئے تو آپ نے مجھے ہٹا دیا اپنے بائیں کردیا اور میری جگہ حضرت ابوبکر نے لے لی، پھر حضرت عمر سے ملاقت ہوئی تو آپ نے مجھے اور پیچھے ہٹا دیا اور جناب فاروق کو اپنے بائیں لے لیا اور وہاں پہنچے لوگوں سے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ سب نے کہا ہاں جانتے ہیں یہ شراب ہے، فرمایا سنو اس پر اس کے بنانے والے پر، بنوانے والے پر، پینے والے پر، پلانے والے پر، اٹھانے والے پر، اٹھوانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، قیمت لینے والے پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ پھر چھری منگوائی اور فرمایا اسے تیز کرلو پھر اپنے ہاتھ سے مشکیں پھاڑنی اور مٹکے توڑنے شروع کئے لوگوں نے کہا بھی کہ حضور مشکوں اور مٹکو کو رہنے دیجئے اور کام آئیں گی فرمایا ٹھیک ہے لیکن میں تو اب ان سب کو توڑ کر ہی رہوں گا یہ غضب و غضہ اللہ کیلئے ہے کیونکہ ان تمام چیزوں سے رب اراض ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور آپ خود کیوں تکلیف کرتے ہیں ہم حاضر ہیں فرمایا نہیں میں اپنے ہاتھ سے انہیں نیست و نابود کروں گا۔ بیہقی کی حدیث میں ہے کہ شراب کے بارے میں چار آیتیں اتری ہیں۔ پھر حدیث بیان فرما کر کہا کہ ایک انصاری نے دعوت کی ہم دعوت میں جمع ہوئے خوب شرابیں پیں۔ نشے میں جھومتے ہوئے اپنے نام و نسب پر فخر کرنے لگے، ہم افضل ہیں۔ قریشی نے کہا ہم افضل ہیں۔ ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑا لے کر حضرت سعد کو مارا اور ہاتھا پائی ہونے لگی پھر شراب کی حرمت کی آیت اتری۔ یہ شراب پی کر بدمست ہوگئے اور آپس میں لاف زنی ہونے لگی جب نشے اترے تو دیکھتے ہیں اس کی ناک پر زخم ہے اس کے چہرے پر زخم ہے اس کی داڑھی نچی ہوئی ہے اور اسے چوٹ لگی ہوئی ہے، کہنے لگے مجھے فلاں نے مارا میری بےحرمتی فلاں نے کی اگر اس کا دل میری طرف سے صاف ہوتا تو میرے ساتھ یہ حرکت نہ کرتا دلوں میں نفرت اور دشمنی بڑھنے لگی پس یہ آیت اتری۔ اس پر بعض لوگوں نے کہا جب یہ گندگی ہے تو فلاں فلاں صحابہ تو اسے پیتے ہوئے ہی رحلت کر گئے ہیں ان کا کیا حال ہوگا ؟ ان میں سے بعض احد کے میدان میں شہید ہوئے ہیں اس کے جواب میں اگلی آیت اتری۔ ابن جریر میں ہے حضرت ابو بریدہ کے والد کہتے ہیں کہ ہم چار شخص ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے شراب پی رہے تھے دور چل رہا تھا جام گردش میں تھا ناگہاں میں کھڑا ہوا اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام کیا وہیں حرمت شراب کی یہ آیت نازل ہوئی۔ میں پچھلے پیروں اپنی اسی مجلس میں آیا اور اپنے ساتھیوں کو یہ آیت پڑھ کر سنائی، بعض وہ بھی تھے، جن کے منہ سے جام لگا ہوا تھا لیکن واللہ انہوں نے اسی وقت اسے الگ کردیا اور جتنا پیا تھا اسے قے کر کے نکال دیا اور کہنے لگے یا اللہ ہم رک گئے ہم باز آگئے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جنگ احد کی صبح بعض لوگوں نے شرابیں پی تھیں اور میدان میں اسی روز اللہ کی راہ میں شہید کردیئے گئے اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ بزار میں یہ ذاتی بھی ہے کہ اسی پر بعض یہودیوں نے اعتراض کیا اور جواب میں آیت (لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ) 5۔ المائدہ :93) نازل ہوئی، ابو یعلی موصلی میں ہے کہ ایک شخص خیبر سے شراب لا کر مدینے میں فروخت کیا کرتا تھا ایک دن وہ لا رہا تھا ایک صحابی راستے میں ہی اسے مل گئے اور فرمایا شراب تو اب حرام ہوگئی وہ واپس مڑ گیا اور ایک ٹیلے تلے اسے کپڑے سے ڈھانپ کر آگیا اور حضور سے کہنے لگا کیا یہ سچ ہے کہ شراب حرام ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا ہاں سچ ہے کہا پھر مجھے اجازت دیجئے کہ جس سے لی ہے اسے واپس کر دوں۔ فرمایا اس کا لوٹانا بھی جائز نہیں، کہا پھر اجازت دیجئے کہ میں اسے ایسے شخص کو تحفہ دوں جو اس کا معاوضہ مجھے دے آپ نے فرمایا یہ بھی ٹیک نہیں کہ حضور اس میں یتیموں کا مال بھی لگا ہوا ہے فرمایا دیکھو جب ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا اس سے ہم تمہارے یتیموں کی مدد کریں گے پھر مدینہ میں منا دی ہوگئی ایک شخص نے کہا حضور شراب کے برتنوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیجئے آپ نے فرمایا جاؤ مشکوں کو کھول ڈالو اور شراب بہا دو اس قدر شراب بہی کہ میدان بھر گئے۔ یہ حدیث غریب ہے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت ابو طلحہ ؓ نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ میرے ہاں جو یتیم بچے پل رہے ہیں ان کے ورثے میں انہیں شراب ملی ہے آپ نے فرمایا جاؤ اس یہا دو عرض کیا اگر اجازت ہو تو اس کا سرکہ بنا لوں فرمایا نہیں۔ یہ حدیث مسلم ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن ابی حاتم میں صحیح سند سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا جیسے یہ آیت قرآن میں ہے تورات میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق کو نازل فرمایا تاکہ اس کی وجہ سے باطل کو دور کر دے اور اس سے کھیل تماشے باجے گاجے بربط دف طنبورہ راگ راگنیاں فنا کر دے۔ شرابی کیلئے شراب نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ جو اسے حرمت کے بعد پئے گا اسے میں قیامت کے دن پیاسا رکھوں گا اور حرمت کے بعد جوا سے چھوڑے گا میں اسے جنت کے پاکیزہ چشمے سے پلاؤں گا۔ حدیث شریف میں ہے جس شخص نے نشہ کی وجہ سے ایک وقت کی نماز چھوڑی وہ ایسا ہے جیسے کہ سے روئے زمین کی سلطنت جھن گئی اور جس شخص نے چار بار کی نماز نشے میں چھوڑ دی اللہ تعالیٰ اسے طینتہ الخیال پلائے گا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا لہو پیپ پسینہ پیشاب وغیرہ (مسند احمد) ابو داؤد میں ہے کہ ہر عقل کو ڈھانپنے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ والی چیز حرام ہے اور جو شخص نشے والی چیز پئے گا اس کی چالیس دن کی نمازیں ناقبول ہیں۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہوگی اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور طینتہ الخیال پلائے گا پوچھا گیا وہ کیا ہے ؟ فرمایا جہنمیوں کا نچوڑ اور ان کی پیپ اور جو شخص اسے کسی بچہ کو پلائے گا جو حلال حرام کی تمیز نہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے بھی جہنمیوں کا پیپ پلائے۔ بخاری مسلم وغیرہ میں ہے دنیا میں جو شراب پیئے گا اور توبہ نہ کرے گا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ہر نشے والی چیز خمر ہے اور ہر نشے والی چیز حرام ہے اور جس شخص نے شراب کی عادت ڈالی اور بےتوبہ مرگیا وہ جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ نسائی وغیرہ میں ہے تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہ دیکھے گا، ماں باپ کا نافرمان، شراب کی عادت والا اور اللہ کی راہ میں دے کر احسان جتلانے والا، مسند احمد میں ہے کہ دے کر احسان جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور شرابی جنت میں نہیں جائے گا۔ مسند احمد میں اس کے ساتھ ہی ہے کہ زنا کی اولاد بھی، حضرت عثمان بن عفان ؓ تعلای عنہ فرماتے ہیں شراب سے پرہیز کرو وہ تمام برائیوں کی جر ہے۔ سنو اگلے لوگوں میں ایک ولی اللہ تھا جو بڑا عبادت گزر تھا اور تارک دنیا تھا۔ بستی سے الگ تھلگ ایک عبادت خانے میں شب و روز عبادت الٰہی میں مشغول رہا کرتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اس نے اپنی لونڈی کو بھیج کر اسے اپنے ہاں ایک شہادت کے بہانے بلوایا، یہ چلے گئے لونڈی اپنے گھر میں انہیں لے گئی جس دروازے کے اندر یہ پہنچ جاتے پیچھے سے لونڈی اسے بند کرتی جاتی۔ آخری کمرے میں جب گئے تو دیکھا کہ ایک بہت ہی خوبصورت عورت بیٹھی ہے، اس کے پاس ایک بچہ ہے اور ایک جام شراب لبالب بھرا رکھا ہے۔ اس عورت نے اس سے کہا سنئے جناب میں نے آپ کو درحقیقت کسی گواہی کیلئے نہیں بلوایا فی الواقع اس لئے بلوایا ہے کہ یا تو آپ میرے ساتھ بدکاری کریں یا اس بچے کو قتل کردیں یا شراب کو پی لیں درویش نے سوچ کر تینوں کاموں میں ہلکا کام شراب کا پینا جان کر جام کو منہ سے لگا لیا، سارا پی گیا۔ کہنے لگا اور لاؤ اور لاؤ، خوب پیا، جب نشے میں مدہوش ہوگیا تو اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر بیٹھا اور اس لڑکے کو بھی قتل کردیا۔ پس اے لوگو ! تم شراب سے بچو سمجھ لو کہ شراب اور ایمان جمع نہیں ہوتے ایک کا آنا دوسرے کا جانا ہے (بیہقی) امام ابوبکر بن ابی الدنیا ؒ نے اپنی کتاب ذم المسکر میں بھی اسے وارد کیا ہے اور اس میں مرفوع ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہے واللہ اعلم، اس کی شاہد بخاری و مسلم کی مرفوع حدیث بھی ہے جس میں ہے کہ زانی زنا کے وقت، چور چوری کے وقت، شرابی شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔ مسند احمد میں ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب شراب حرام ہوئی تو صحابہ نے سوال کیا کہ اس کی حرمت سے پہلے جو لوگ انتقال کرچکے ہیں ان کا کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت (لیس علی الذین) الخ، نازل ہوئی یعنی ان پر اس میں کوئی حرج نہیں اور جب بیت المقدس کا قبلہ بدلا اور بیت اللہ شریف قبلہ ہوا اس وقت بھی صحابہ نے پہلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے انتقال کر جانے والوں کی نسبت دریافت کیا تو آیت (ماکان اللہ لیضیع ایمانکم) الخ، نازل ہوئی یعنی ان کی نمازیں ضائع نہ ہوں گی۔ مسند احمد میں ہے جو شخص شراب پئے چالیس دن تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس پر رہتی ہے اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو کافر مرے گا ہاں اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر اس نے پھر بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ دوزخیوں کا فضلہ پلائے گا اور روایت میں ہے کہ جب یہ حکم اترا کہ ایمانداروں پر حرمت سے پہلے پی ہوئی کا کوئی گناہ نہیں تو حضور نے فرمایا مجھ سے کہا گیا ہے کہ تو انہی میں سے ہے۔ مسند احمد میں ہے پانسوں کے کھیل سے بچو یہ عجمیوں کا جوا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ
📘 احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات حضرت ابن عباس فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ لے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہوسکتا ہو خواہ سختی سے۔ چناچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہوجائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے یہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کرسکتے ہیں۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہوجائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہوجائیں، چناچہ فرمان ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لئے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا، پھر فرمایا ایماندار و حالت احرام میں شکار نہ کھیلو۔ یہ حکم اپنے معنی کی حیثیت سے تو حلال جانوروں اور ان سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں کیلئے ہے، لیکن جو خشکی کے حرام جانور ہیں ان کا شکار کھیلنا امام شافعی کے نزدیک تو جائز ہے اور جمہور کے نزدیک حرام ہے، ہاں اس عام حکم سے صرف وہ چیزیں مخصوص ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ جانور فاسق ہیں وہ حرام میں قتل کردیئے جائیں اور غیر حرم میں بھی، کوا چیل بچھو چوہا اور کانٹے والا کالا کتا اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ اس روایت کو سن کر حضرت ایوب اپنے استاد حضرت نافع سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کردیا جائے اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد امام مالک وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ۔ اس لئے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں۔ حضرت زید بن اسلم اور حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئے رسول اللہ ﷺ نے عتبہ بن ابو لہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا۔ ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں ہر وہ جانور جو کھایا نہیں جاتا اس کے قتل میں اور اس کے بچوں کے قتل میں محرم پر کوئی حرج نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کالا کتا حملہ کرنے والا اور بھیڑیا تو محرم قتل کرسکتا ہے اس لئے کہ بھیڑیا بھی جنگلی کتا ہے ان کے سوا جس جانور کا شکار کھیلے گا فدیہ دنیا پڑے گا۔ ہاں اگر کوئی شیر وغیرہ جنگی درندہ اس پر حملہ کرے اور یہ اسے مار ڈالے تو اس صورت میں فدیہ نہیں۔ آپ کے شاگرد زفر کہتے ہیں یہ حملہ کرنے کی صورت میں بھی اگر مار ڈالے گا تو فدیہ دینا پڑے گا۔ بعض احادیث میں غریب ابقع کا لفظ آیا ہے یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے۔ امام ملک فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے۔ حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے ؟ تو آپ نے فرمایا سانپ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ۔ (ابو داؤد وغیرہ) پھر فرماتا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر حالت احرام میں شکار کرے اس پر فدیہ ہے۔ حضرت طاؤس کا فرمان ہے کہ خطا سے قتل کرنے والے پر کچھ نہیں۔ لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے۔ مجاہد بن جیبر سے مروی ہے کہ مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہوگیا۔ یہ قول بھی غریب ہے۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری فرماتے ہیں قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا۔ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی۔ کیونکہ اس کے بعد آیت (لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ) 5۔ المائدہ :95) فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لئے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہوجائے وہ قابل ملامت نہیں۔ پھر فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسی کے مثل چوپایہ جانور راہ للہ قربان کرے۔ ابن مسعود کی قرأت میں فجزاوہ ہے ان دونوں قرأتوں میں مالک شافعی احمد اور جمہور کی دلیل ہے کہ جب شکار چوپالیوں کی مانند ہو تو وہی اس کے بدلے میں دینا ہوگا۔ امام ابوحنیفہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کر دے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ ؓ کا فیصلہ ہمارے لئے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس ؓ کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے (بیہقی) پھر فرمایا کہ اس کا فیصلہ دو عادل مسلمان کردیں کہ کیا قیمت ہے یا کونسا جانور بدلے میں دیا جائے۔ فقہا نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ فیصلہ کرنے والے دو میں ایک خود قاتل ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ تو امام مالک وغیرہ نے تو انکار کیا ہے کیونکہ اسی کا معاملہ ہو اور وہی حکم کرنے والا ہو اور امام شافعی امام احمد وغیرہ نے آیت کے عموم کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کر کے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی حضرات ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کردیا ہے اب آپ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے ؟ آپ نے حضرت ابی بن کعب کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ آپ فرمائیے کیا حکم ہے ؟ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ خلیفہ رسول ہیں اور آپ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس میں تیرا کیا بگڑا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کردیں اس لئے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کرلیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور صدیق کے درمیان انقطاع ہے۔ یہاں یہی چاہیے تھا حضرت صدیق ؓ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی۔ چناچہ ابن جرید میں ہے حضرت قبیصہ بن جابر کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گرگیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہوگیا۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا اس وقت جناب فاروق کے پہلو میں ایک صاحب کھڑے تھے جن کا چہرہ چاندی کی طرح جگمگا رہا تھا یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ تھے آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کچھ باتیں کیں پھر میرے ساتھ سے فرمایا کہ تو نے اسے جان بوجھ کر مار ڈالا یا بھول چوک سے اس نے کہا میں نے پتھر اسی پر پھینکا اور قصداً پھینکا لیکن اسے مار ڈالنے کی میری نیت نہ تھی۔ آپ نے فرمایا پھر تو خطا اور عمد کے درمیان درمیان ہے۔ جا تو ایک بکری ذبح کر دے اس کا گوشت صدقہ کر دے اور اس کی کھال اپنے کام میں لا۔ یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہوجائے۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ حضرت عمر نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں۔ حضرت عمر کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہوگیا اچانک آپ کوڑا لئے ہوئے آگئے۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا تو نے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے۔ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المومنین اگر آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ آپ نرم پڑگئے اور مجھ سے فرمانے لگے اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کردیتی ہے۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچارہ۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کرلیا پھر حضرت عمر کے پاس گئے آپ نے فرمایا جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے میں جا کر حضرت عبدالرحمن کو اور حضرت سعد کو بلا لایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں۔ حضرت طارق فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک ہرن کو تیر مارا وہ مرگیا حضرت عمر سے اس نے مسئلہ پوچھا تو آپ نے خود اس کو بھی مشورے میں شریک کرلیا دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گھر کی پالتو بکری راہ للہ قربان کرو اس میں یہ دلیل ہے کہ خود قاتل بھی دو حکم کرنے والوں میں ایک بن سکتا ہے۔ جیسے کہ امام شافعی اور امام احمد کا مذہب ہے۔ پھر آیا ہر معاملہ میں اب بھی موجودہ لوگوں میں سے دو حکم فیصلہ کریں گے یا صحابہ کے فیصلے کافی ہیں ؟ اس میں بھی اختلاف ہے امام مالک اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں ہر فیصلہ اس وقت کے موجود دو عقلمند لوگوں سے کرایا جائے گو اس میں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو۔ پھر فرماتا ہے یہ فدیئے کی قربانی حرم میں پہنچے یعنی وہیں ذبح ہو اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم ہو اس پر سب کا اتفاق ہے پھر فرمایا کفارہ ہے مسکینوں کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر کے روزے، یعنی جب محرم اپنے قتل کئے ہوئے شکار کے مانند کوئی جانور نہ پائے یا خود شکار ایسا ہوا ہی نہیں جس کے مثل کوئی جانور پالتو ہو یہاں پر لفظ او اختیار کے ثابت کرنے کیلئے ہے یعنی بدلے کے جانور میں کھانا کھالانے میں اور روزے رکھنے میں اختیار ہے جیسے کہ امام مالک امام ابوحنیفہ امام ابو یوسف امام محمد بن حسن اور امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول اور امام احمد کا مشہور قول ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ بھی یہی ہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک ابوحنیفہ ان کے ساتھی، حماد اور ابراہیم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد کا قول یہی ہے، امام احمد فرماتے ہیں گہیو ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہوجائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لئے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے، شارع ؑ نے حضرت کعب بن عجرہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کردیں یا تین دن کے روزے رکھیں، فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے، امام شافعی کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے، عطاء کا قول بھی یہی ہے، مجاہد فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں، امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے۔ سلف کی اس آیت کے متعلق اقوال ملاحظہ ہوں، ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب محرم شکار کھیل لے اس پر اس کے بدلے کے چوپائے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ وہ کس قیمت کا ہے، پھر اس نقدی کے اناج کا اندازہ کیا جائے گا پھر جتنا اناج ہوگا اسی کے ناپ سے ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہوگا پھر جب طعام پایا جائے گا جزا پالی گئی اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکہ میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گور خر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گور خرو غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے، ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے، امام ابن جریر کا مختار قول بھی یہی ہے پھر فرمان ہے کہ یہ کفارہ ہم نے اس لئے واجب کیا ہے کہ وہ اپنے کرتوت کی سزا کو پہنچ جائے، زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کسی نے خطا کی ہے وہ اسلام کی اچھائی کی وجہ سے معاف ہے، اب اسلام میں ان احکام کی موجودگی میں بھی پھر سے اگر کوئی شخص یہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا۔ گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہوگا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہوجائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے، ابن عباس سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہوگا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہوگا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے، امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آگئی اور اسے جلا کر بھسم کردیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت (فینتقم اللہ منہ) کے۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آجائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے، وہ اپنے نافرمانوں سے زبر دست انتقام لیتا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِ ۗ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ
📘 احرام میں شکار کے مسائل کی تفصیلات حضرت ابن عباس فرماتے ہیں چھوٹے چھوٹے شکار اور کمزور شکار اور ان کے بچے جنہیں انسان اپنے ہاتھ سے پکڑ لے اور اپنے نیزے کی نوک پر رکھ لے اس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرے گا۔ یعنی انہیں منع فرمایا ہے کہ تم باوجود اس کے بھی ان کا شکار حالت احرام میں نہ کرو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے خواہ آسانی سے شکار ہوسکتا ہو خواہ سختی سے۔ چناچہ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر یہی ہوا کہ قسم قسم کے شکار اس قدر بکثرت آپڑے کہ صحابہ کے خیموں میں گھسنے لگے ادھر اللہ کی طرف سے ممانعت ہوگئی تاکہ پوری آزمائش ہوجائے ادھر شکار گویا ہنڈیا میں ہے ادھر ممانعت ہے ہتھیار تو کہاں یونہی اگر چاہیں تو ہاتھ سے پکڑ سکتے یہیں اور پوشیدہ طور سے شکار قبضہ میں کرسکتے ہیں۔ یہ صرف اس لئے تھا کہ فرمانبردار اور نافرمان کا امتحان ہوجائے پوشیدگی میں بھی اللہ کا ڈر رکھنے والے غیروں سے ممتاز ہوجائیں، چناچہ فرمان ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے غائبانہ ڈرتے رہتے ہیں ان کے لئے بڑی بھاری مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔ اب جو شخص اس حکم کے آنے کے بعد بھی حالت احرام میں شکار کھیلے گا شریعت کی مخالفت کرے گا، پھر فرمایا ایماندار و حالت احرام میں شکار نہ کھیلو۔ یہ حکم اپنے معنی کی حیثیت سے تو حلال جانوروں اور ان سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں کیلئے ہے، لیکن جو خشکی کے حرام جانور ہیں ان کا شکار کھیلنا امام شافعی کے نزدیک تو جائز ہے اور جمہور کے نزدیک حرام ہے، ہاں اس عام حکم سے صرف وہ چیزیں مخصوص ہیں جن کا ذکر بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ جانور فاسق ہیں وہ حرام میں قتل کردیئے جائیں اور غیر حرم میں بھی، کوا چیل بچھو چوہا اور کانٹے والا کالا کتا اور روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ ان پانچ جانوروں کے قتل میں احرام والے پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ اس روایت کو سن کر حضرت ایوب اپنے استاد حضرت نافع سے پوچھتے ہیں کہ سانپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ اس میں شامل ہے یہ بھی قتل کردیا جائے اس میں کسی کو اختلاف نہیں بعض علماء نے جیسے امام احمد امام مالک وغیرہ نے کتے کے حکم پر درندوں کو بھی رکھا ہے جیسے بھیڑیا شیر وغیرہ۔ اس لئے کہ یہ کتے سے بہت زیادہ ضرر والے ہیں۔ حضرت زید بن اسلم اور حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ہر حملہ کرنے والے درندے کا حکم ہے دیکھئے رسول اللہ ﷺ نے عتبہ بن ابو لہب کے حق میں جب دعا کی تو فرمایا اے اللہ اس پر شام میں اپنا کوئی کتا مقرر کر دے، پاس جب وہ زرقا میں پہنچا وہاں اسے بھیڑئیے نے پھاڑ ڈالا۔ ہاں اگر محرم نے حالت احرام میں کوے کو یا لومڑی وغیرہ کو مار ڈالا تو اسے بدلہ دینا پڑے گا۔ اسی طرح ان پانچوں قسم کے جانوروں کے بچے اور حملہ کرنے والے درندوں کے بچے بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں ہر وہ جانور جو کھایا نہیں جاتا اس کے قتل میں اور اس کے بچوں کے قتل میں محرم پر کوئی حرج نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان کا گوشت کھایا نہیں جاتا۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کالا کتا حملہ کرنے والا اور بھیڑیا تو محرم قتل کرسکتا ہے اس لئے کہ بھیڑیا بھی جنگلی کتا ہے ان کے سوا جس جانور کا شکار کھیلے گا فدیہ دنیا پڑے گا۔ ہاں اگر کوئی شیر وغیرہ جنگی درندہ اس پر حملہ کرے اور یہ اسے مار ڈالے تو اس صورت میں فدیہ نہیں۔ آپ کے شاگرد زفر کہتے ہیں یہ حملہ کرنے کی صورت میں بھی اگر مار ڈالے گا تو فدیہ دینا پڑے گا۔ بعض احادیث میں غریب ابقع کا لفظ آیا ہے یہ وہ کوا ہے جس کے پیٹ اور پیٹھ پر سفیدی ہوتی ہے۔ مطلق سیاہ اور بالکل سفید کوے کو غراب ابقع نہیں کہتے لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر قسم کے کوے کا یہی حکم ہے کیونکہ بخاری و مسلم کی حدیث میں مطلق کوے کا ذکر ہے۔ امام ملک فرماتے ہیں کوے کو بھی اس حال میں مار سکتا ہے کہ وہ اس پر حملہ کرے یا اسے ایذاء دے مجاہد وغیرہ کا قول ہے کہ اس حالت میں بھی مار نہ ڈالے بلکہ اسے پتھر وغیرہ پھینک کر ہٹا دے۔ حضرت علی سے بھی یہ مروی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا کہ محرم کس کس جانور کو قتل کر دے ؟ تو آپ نے فرمایا سانپ، بچھو اور چوہا اور کوے کو کنکر مارے اسے مار نہ ڈالے اور کالا کتا اور چیل اور حملہ کرنے والا درندہ۔ (ابو داؤد وغیرہ) پھر فرماتا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر حالت احرام میں شکار کرے اس پر فدیہ ہے۔ حضرت طاؤس کا فرمان ہے کہ خطا سے قتل کرنے والے پر کچھ نہیں۔ لیکن یہ مذہب غریب ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ سے یہی مشتق ہے۔ مجاہد بن جیبر سے مروی ہے کہ مراد وہ شخص ہے جو شکار تو قصداً کرتا ہے لیکن اپنی حالت احرام کی یاد اسے نہیں رہی۔ لیکن جو شخص باوجود احرام کی یاد کے عمداً شکار کرے وہ تو کفارے کی حد سے نکل گیا اس کا احرام باطل ہوگیا۔ یہ قول بھی غریب ہے۔ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قصداً شکار کرنے والا اور بھول کر کرنے والا دونوں کفارے میں برابر ہیں امام زہری فرماتے ہیں قرآن سے تو قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ ثابت ہوا اور حدیث نے یہی حکم بھولنے والے کا بھی بیان فرمایا۔ مطلب اس قول کا یہ ہے کہ قصداً شکار کھیلنے والے پر کفارہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا گنہگار ہونا بھی۔ کیونکہ اس کے بعد آیت (لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ) 5۔ المائدہ :95) فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب سے خطا میں بھی یہی حکم ثابت ہے اور اس لئے بھی کہ شکار کو قتل کرنا اس کا تلف کرنا ہے اور ہر تلف کرنے کا بدلہ ضروری ہے خواہ وہ بالقصد ہو یا انجان پنے سے ہو۔ ہاں قصداً کرنے والا گنہگار بھی ہے اور بلا قصد جس سے سرزد ہوجائے وہ قابل ملامت نہیں۔ پھر فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسی کے مثل چوپایہ جانور راہ للہ قربان کرے۔ ابن مسعود کی قرأت میں فجزاوہ ہے ان دونوں قرأتوں میں مالک شافعی احمد اور جمہور کی دلیل ہے کہ جب شکار چوپالیوں کی مانند ہو تو وہی اس کے بدلے میں دینا ہوگا۔ امام ابوحنیفہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ خواہ شکار کے کسی جانور کی مثل ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں قیمت دینی پڑے گی ہاں اس محرم شکاری کو اختیار ہے کہ خواہ اس قیمت کو صدقہ کر دے خواہ اس سے قربانی کا کوئی جانور خرید لے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ امام صاحب کے اس قول سے صحابہ ؓ کا فیصلہ ہمارے لئے زیادہ قابل عمل ہے انہوں نے شترمرغ کے شکار کے بدلے اونٹ مقرر کیا ہے اور جنگلی گائے کے بدلے پالتو گائے مقرر فرمائی ہے اور ہرن کے بدلے بکری۔ یہ فیصلے ان بزرگ صحابیوں کی سندوں سمیت احکام کی کتابوں میں موجود ہیں جہاں شکار جیسا اور کوئی پالتو چوپایہ نہ ہو اس میں ابن عباس ؓ کا فیصلہ قیمت کا ہے جو مکہ شریف پہنچائی جائے (بیہقی) پھر فرمایا کہ اس کا فیصلہ دو عادل مسلمان کردیں کہ کیا قیمت ہے یا کونسا جانور بدلے میں دیا جائے۔ فقہا نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ فیصلہ کرنے والے دو میں ایک خود قاتل ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ تو امام مالک وغیرہ نے تو انکار کیا ہے کیونکہ اسی کا معاملہ ہو اور وہی حکم کرنے والا ہو اور امام شافعی امام احمد وغیرہ نے آیت کے عموم کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے۔ پہلے مذہب کی دلیل تو یہ ہے کہ خود حاکم اپنے اوپر اپنا ہی حکم کر کے اسی حکم میں اپنا منصف آپ نہیں بن سکتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک اعرابی حضرات ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شکار کو احرام کی حالت میں قتل کردیا ہے اب آپ فرمائیے کہ اس میں مجھ پر بدلہ کیا ہے ؟ آپ نے حضرت ابی بن کعب کی طرف دیکھ کر ان سے دریافت فرمایا کہ آپ فرمائیے کیا حکم ہے ؟ اس پر اعرابی نے کہا سبحان اللہ میں آپ سے دریافت کرنے آیا ہوں آپ خلیفہ رسول ہیں اور آپ کسی سے دریافت فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس میں تیرا کیا بگڑا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دو عادل جو فیصلہ کردیں اس لئے میں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا۔ جب ہم دونوں کسی بات پر اتفاق کرلیں گے تو تجھ سے کہہ دیں گے۔ اس کی سند تو بہت مضبوط ہے لیکن اس میں میمون اور صدیق کے درمیان انقطاع ہے۔ یہاں یہی چاہیے تھا حضرت صدیق ؓ نے جب دیکھا کہ اعرابی جاہل ہے اور جہل کی دوا تعلیم ہے تو آپ نے اسے نرمی اور محبت سے سمجھا دیا اور جبکہ اعتراض کرنے والا خود مدعی علم ہو پھر وہاں یہ صورت نہیں رہتی۔ چناچہ ابن جرید میں ہے حضرت قبیصہ بن جابر کہتے ہیں ہم حج کیلئے چلے ہماری عادت تھی کہ صبح کی نماز پڑھتے ہی ہم سواریوں سے اتر پڑتے اور انہیں چلاتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے پیدل چل پڑتے۔ ایک دن اسی طرح جا رہے تھے کہ ایک ہرن ہماری نگاہ میں پڑا ہم میں سے ایک شخص نے اسے پتھر مارا جو اسے پوری طرح لگا اور وہ مر کر گرگیا وہ شخص اسے مردہ چھوڑ کر اپنی سواری پر سوار ہوگیا۔ ہمیں یہ کام بڑا برا معلوم ہوا اور ہم نے اسے بہت کچھ کہا سنا مکہ شریف پہنچ کر میں اسے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس لے گیا اس نے سارا واقعہ خود بیان کیا اس وقت جناب فاروق کے پہلو میں ایک صاحب کھڑے تھے جن کا چہرہ چاندی کی طرح جگمگا رہا تھا یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ تھے آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کچھ باتیں کیں پھر میرے ساتھ سے فرمایا کہ تو نے اسے جان بوجھ کر مار ڈالا یا بھول چوک سے اس نے کہا میں نے پتھر اسی پر پھینکا اور قصداً پھینکا لیکن اسے مار ڈالنے کی میری نیت نہ تھی۔ آپ نے فرمایا پھر تو خطا اور عمد کے درمیان درمیان ہے۔ جا تو ایک بکری ذبح کر دے اس کا گوشت صدقہ کر دے اور اس کی کھال اپنے کام میں لا۔ یہ سن کر ہم وہاں سے چلے آئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا دیکھ تو نے بڑا قصور کیا ہے اللہ جل شانہ کی نشانیوں کی تجھے عظمت کرنی چاہیے اور ایک بات یہ بھی ہے کہ خود امیر المؤمنین کو تو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا انہوں نے اپنے ساتھی سے دریافت کیا میرے خیال سے تو اپنی اونٹنی اللہ کے نام سے قربان کر دے شاید اس سے تیرا جرم معاف ہوجائے۔ افسوس کہ اس وقت مجھے یہ آیت یاد ہی نہ رہی کہ حضرت عمر نے تو اس حکم پر عمل کیا ہے کہ دو عادل شخص باہم اتفاق سے جو فیصلہ کریں۔ حضرت عمر کو بھی میرا یہ فتوی دینا معلوم ہوگیا اچانک آپ کوڑا لئے ہوئے آگئے۔ اول تو میرے ساتھی پر کوڑا اٹھا کر فرمایا تو نے ایک تو جرم میں قتل کیا دوسرے حکم کی تعمیل میں بیوقوفی کر رہا ہے۔ اب میری طرف متوجہ ہوئے میں نے کہا امیر المومنین اگر آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی تو میں آپ کو آج کی تکلیف ہرگز معاف نہیں کروں گا۔ آپ نرم پڑگئے اور مجھ سے فرمانے لگے اے قبصیہ میرے خیال سے تو تو جوانی کی عمر والا کشادہ سینے والا اور چلتی زبان والا ہے۔ یاد رکھ نوجوانوں میں اگر نو خصلتیں اچھی ہوں اور ایک بری ہو تو وہ ایک بری خصلت نو بھلی خصلتوں کو مات کردیتی ہے۔ سن جوانی کی لغزشوں سے بچارہ۔ ابن جریر میں ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ نے احرام کی حالت میں ایک ہرن کا شکار کرلیا پھر حضرت عمر کے پاس گئے آپ نے فرمایا جاؤ اپنے دو رشتے داروں کو لے آؤ وہی فیصلہ کریں گے میں جا کر حضرت عبدالرحمن کو اور حضرت سعد کو بلا لایا۔ دونوں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک موٹا تازہ بکرا فدیہ دوں۔ حضرت طارق فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک ہرن کو تیر مارا وہ مرگیا حضرت عمر سے اس نے مسئلہ پوچھا تو آپ نے خود اس کو بھی مشورے میں شریک کرلیا دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ گھر کی پالتو بکری راہ للہ قربان کرو اس میں یہ دلیل ہے کہ خود قاتل بھی دو حکم کرنے والوں میں ایک بن سکتا ہے۔ جیسے کہ امام شافعی اور امام احمد کا مذہب ہے۔ پھر آیا ہر معاملہ میں اب بھی موجودہ لوگوں میں سے دو حکم فیصلہ کریں گے یا صحابہ کے فیصلے کافی ہیں ؟ اس میں بھی اختلاف ہے امام مالک اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں ہر فیصلہ اس وقت کے موجود دو عقلمند لوگوں سے کرایا جائے گو اس میں پہلے کا کوئی فیصلہ ہو یا نہ ہو۔ پھر فرماتا ہے یہ فدیئے کی قربانی حرم میں پہنچے یعنی وہیں ذبح ہو اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم ہو اس پر سب کا اتفاق ہے پھر فرمایا کفارہ ہے مسکینوں کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر کے روزے، یعنی جب محرم اپنے قتل کئے ہوئے شکار کے مانند کوئی جانور نہ پائے یا خود شکار ایسا ہوا ہی نہیں جس کے مثل کوئی جانور پالتو ہو یہاں پر لفظ او اختیار کے ثابت کرنے کیلئے ہے یعنی بدلے کے جانور میں کھانا کھالانے میں اور روزے رکھنے میں اختیار ہے جیسے کہ امام مالک امام ابوحنیفہ امام ابو یوسف امام محمد بن حسن اور امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک قول اور امام احمد کا مشہور قول ہے اور آیت کے ظاہر الفاظ بھی یہی ہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ترتیب وار ہیں، یعنی پہلے تو بدلہ پس مالک ابوحنیفہ ان کے ساتھی، حماد اور ابراہیم کا تو قول ہے کہ خود شکار کی قیمت لگائی جائے گی اور امام شافعی فرماتے ہیں شکار کے برابر کے جانور کی قیمت لگائی جائے گی اگر وہ موجود ہو پھر اس کا اناج خریدا جائے گا اور اس میں سے ایک ایک مد ایک ایک مسکین کو دیا جائے گا مالک اور فقہاء حجاز کا قول بھی یہی ہے، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں ہر مسکین کو دو مد دیئے جائیں گے مجاہد کا قول یہی ہے، امام احمد فرماتے ہیں گہیو ہوں تو ایک مد اور اس کے سوا کچھ ہو تو دو مد، پس اگر نہ پائے یا اختیار اس آیت سے ثابت ہوجائے تو ہر مسکین کے کھانے کے عوض ایک روزہ رکھ لے، بعض کہتے ہیں جتنا اناج ہو اس کے ہر ایک صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے جیسے کہ اس شخص کے لئے یہ حکم ہے جو خوشبو وغیرہ لگائے، شارع ؑ نے حضرت کعب بن عجرہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک فرق کو چھ شخصوں کے درمیان تقسیم کردیں یا تین دن کے روزے رکھیں، فرق تین صاع کا ہوتا ہے اب کھانا پہنچانے کی جگہ میں بھی اختلاف ہے، امام شافعی کا فرمان ہے کہ اس کی جگہ حرم ہے، عطاء کا قول بھی یہی ہے، مجاہد فرماتے ہیں جہاں شکار کیا ہے وہیں کھلوا دے، یا اس سے بہت زیادہ کی قریب کی جگہ میں، امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں خواہ حرم میں خواہ غیر حرم میں اختیار ہے۔ سلف کی اس آیت کے متعلق اقوال ملاحظہ ہوں، ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب محرم شکار کھیل لے اس پر اس کے بدلے کے چوپائے کا فیصلہ کیا جائے گا اگر نہ ملے تو دیکھا جائے گا کہ وہ کس قیمت کا ہے، پھر اس نقدی کے اناج کا اندازہ کیا جائے گا پھر جتنا اناج ہوگا اسی کے ناپ سے ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہوگا پھر جب طعام پایا جائے گا جزا پالی گئی اور روایت میں ہے جب محرم نے ہرن کو مار ڈالا تو اس پر ایک بکری ہے جو مکہ میں ذبح کی جائے گی اگر نہ پائے تو چھ مسکین کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تین روزے ہیں اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گور خر وغیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو تین روزے ہیں۔ اگر کسی نے اونٹ کو قتل کیا تو اس کے ذمہ ایک گائے ہے اگر نہ پائے تو بیس مسکینوں کا کھانا دینا اگر یہ بھی نہ پائے تو بیس روزے، اگر شتر مرغ یا گور خرو غیرہ مارا ہے تو اس پر ایک اونٹنی ہے اگر نہ ملے تو تیس مسکینوں کا کھانا ہے اگر نہ پائے تو تیس دن کے روزے، ابن جریر کی اسی روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ طعام ایک ایک مد ہو جو ان کا پیٹ بھر دے، دوسرے بہت سے تابعین نے بھی طعام کی مقدار بتلائی ہے۔ سدی فرماتے ہیں یہ سب چیزیں ترتیب وار ہیں اور بزرگ فرماتے ہیں کہ تینوں باتوں میں اختیار ہے، امام ابن جریر کا مختار قول بھی یہی ہے پھر فرمان ہے کہ یہ کفارہ ہم نے اس لئے واجب کیا ہے کہ وہ اپنے کرتوت کی سزا کو پہنچ جائے، زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کسی نے خطا کی ہے وہ اسلام کی اچھائی کی وجہ سے معاف ہے، اب اسلام میں ان احکام کی موجودگی میں بھی پھر سے اگر کوئی شخص یہ گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا۔ گو اس میں حد نہیں امام وقت اس پر کوئی سزا نہیں دے سکتا یہ گناہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے ہاں اسے فدیہ ضرور دینا پڑے گا یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فدیہ ہی انتقام ہے۔ یہ یاد رہے کہ جب کبھی محرم حالت احرام میں شکار کو مارے گا اس پر بدلہ واجب ہوگا خواہ کئی دفعہ اس سے یہ حرکت ہوجائے اور خواہ عمداً ہو خواہ خطا ہو ایک دفعہ شکار کے بعد اگر دوبارہ شکار کیا تو اسے کہ دیا جائے کہ اللہ تجھ سے بدلہ لے، ابن عباس سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے کہ پہلی دفعہ کے شکار پر فدیہ کا حکم ہوگا دوبارہ کے شکار پر خود اللہ اس سے انتقام لے گا اس پر فیصلہ فدیہ کا نہ ہوگا لیکن امام ابن جریر کا مختار مذہب پہلا قول ہی ہے، امام حسن بصری ؒ فرماتے ہیں ایک شخص نے محرم ہو کر شکار کیا اس پر فدائے کا فیصلہ کیا گیا اس نے پھر شکار کیا تو آسمان سے آگ آگئی اور اسے جلا کر بھسم کردیا یہی معنی ہیں اللہ کے فرمان آیت (فینتقم اللہ منہ) کے۔ اللہ اپنی سلطنت میں غالب ہے اسے کوئی مغلوب نہیں کرسکتا کوئی اسے انتقام سے روک نہیں سکتا اس کا عذاب جس پر آجائے کوئی نہیں جو اسے ٹال دے، مخلوق سب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے حکم اس کا سب پر نافذ ہے عزت اور غلبہ اسی کیلئے ہے، وہ اپنے نافرمانوں سے زبر دست انتقام لیتا ہے۔
أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
📘 طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے حضرت ابوبکر صدیق حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اجمعین، حضرت عکرمہ، حضرت ابو سلمہ، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت حسن بصری رحمم اللہ سے بھی یہی مروی ہے، خلیفہ بلا فصل ؓ سے روایت ہے کہ پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) آپ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے (ابن جریر) ابن عباس سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے (ابن ابی حاتم) ابن جریر میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابو ہیرہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر سے سوال کیا کہ سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ ابن عمر نے جواب دیا نہیں نہ کھاؤ، جب واپس آئے تو حضرت عبداللہ ؓ عالی عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورة مائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھا لیں یہی بحری طعام ہے، امام ابن جریر کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مرجائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے آپ نے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 5۔ المائدہ :96) پڑھ کر فرمایا اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو۔ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ موقوف روایت کیا ہے، پھر فرماتا ہے یہ منفعت ہے تمہارے لئے اور راہ رو مسافروں کے لئے، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مرجائے اسے کھالیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہو اپہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہوگئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چناچہ سب جمع کرلیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہوگئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھالو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہوگئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھر بھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لئے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس پہنچے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے ؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ نے بھی کھایا، مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ ﷺ بھی موجود تھھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقع ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کرلینے کی اجازت ہے ؟ حضور نے فرمایا سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، امام شافعی امام احمد اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت ابو ہیریرہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آپہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے ؟ چناچہ ہم نے جا کرحضور ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں، اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے، واللہ اعلم ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خاہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کردیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے، حضرت خالد نے کہا یا رسول اللہ آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے آپ نے فرمایا ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے، حضرت زیاد کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہا کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے حضرت ابوبکر صدیق کا وہ قول بیان ہوچکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کرلیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے، بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مرجائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ۔ الخ) 5۔ المائدہ :3) میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے، ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کرلو اور وہ زندہ ہو پھر مرجائے تو اسے کھالو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ، لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں، مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی، یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دار قطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے سواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے، واللہ اعلم، پھر فرماتا ہے کہ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے، پس اگر کسی احرام والے نے شکار کرلیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہوگا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کرلیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھالیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابو عمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے، حضرت ابوحنیفہ کا قول ہے کہ شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی، ابو ثور کہتے ہیں کہ محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لئے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لئے شکار نہ کیا جائے، اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابو ثور کے قول کے بیان میں گزری، واللہ اعلم، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لئے شکار نہ کیا ہو، حضرت عمر حضرت ابوہریرہ حضرت زبیر حضرت کعب احبار حضرت مجاہد، حضرت عطا، حضرت سعید بن جیر اور کو فیوں کا یہی خیال ہے، چناچہ حضرت ابوہریرہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے ؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب حضرت عمر کو یہ خبر ملی تو آپ نے فرمایا اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ تابعین اور ائمہ دین اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل حضرت صعب بن جثامہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین نے فرمایا اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے، یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے، تو یہ لوٹانا آپ کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لئے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت ابو قتادہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گور خر شکار کیا صحابہ جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا ؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی ؟ سب نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا پھر کھالو اور خود آپ نے بھی کھایا یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لئے شکار نہ کیا گیا ہو، ابو داؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا جابر سے سننا ثابت نہیں، ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول ﷺ حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے، آپ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم کھالو انہوں نے کہا اور آپ کیوں نہیں کھاتے ؟ فرمایا مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لئے کیا گیا ہے اس لئے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لئے نہیں گیا اس لئے تم کھا سکتے ہو۔
۞ جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
📘 طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے حضرت ابوبکر صدیق حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اجمعین، حضرت عکرمہ، حضرت ابو سلمہ، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت حسن بصری رحمم اللہ سے بھی یہی مروی ہے، خلیفہ بلا فصل ؓ سے روایت ہے کہ پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) آپ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے (ابن جریر) ابن عباس سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے (ابن ابی حاتم) ابن جریر میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابو ہیرہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر سے سوال کیا کہ سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ ابن عمر نے جواب دیا نہیں نہ کھاؤ، جب واپس آئے تو حضرت عبداللہ ؓ عالی عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورة مائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھا لیں یہی بحری طعام ہے، امام ابن جریر کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مرجائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے آپ نے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 5۔ المائدہ :96) پڑھ کر فرمایا اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو۔ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ موقوف روایت کیا ہے، پھر فرماتا ہے یہ منفعت ہے تمہارے لئے اور راہ رو مسافروں کے لئے، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مرجائے اسے کھالیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہو اپہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہوگئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چناچہ سب جمع کرلیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہوگئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھالو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہوگئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھر بھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لئے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس پہنچے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے ؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ نے بھی کھایا، مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ ﷺ بھی موجود تھھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقع ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کرلینے کی اجازت ہے ؟ حضور نے فرمایا سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، امام شافعی امام احمد اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت ابو ہیریرہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آپہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے ؟ چناچہ ہم نے جا کرحضور ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں، اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے، واللہ اعلم ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خاہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کردیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے، حضرت خالد نے کہا یا رسول اللہ آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے آپ نے فرمایا ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے، حضرت زیاد کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہا کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے حضرت ابوبکر صدیق کا وہ قول بیان ہوچکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کرلیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے، بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مرجائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ۔ الخ) 5۔ المائدہ :3) میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے، ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کرلو اور وہ زندہ ہو پھر مرجائے تو اسے کھالو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ، لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں، مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی، یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دار قطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے سواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے، واللہ اعلم، پھر فرماتا ہے کہ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے، پس اگر کسی احرام والے نے شکار کرلیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہوگا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کرلیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھالیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابو عمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے، حضرت ابوحنیفہ کا قول ہے کہ شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی، ابو ثور کہتے ہیں کہ محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لئے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لئے شکار نہ کیا جائے، اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابو ثور کے قول کے بیان میں گزری، واللہ اعلم، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لئے شکار نہ کیا ہو، حضرت عمر حضرت ابوہریرہ حضرت زبیر حضرت کعب احبار حضرت مجاہد، حضرت عطا، حضرت سعید بن جیر اور کو فیوں کا یہی خیال ہے، چناچہ حضرت ابوہریرہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے ؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب حضرت عمر کو یہ خبر ملی تو آپ نے فرمایا اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ تابعین اور ائمہ دین اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل حضرت صعب بن جثامہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین نے فرمایا اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے، یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے، تو یہ لوٹانا آپ کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لئے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت ابو قتادہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گور خر شکار کیا صحابہ جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا ؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی ؟ سب نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا پھر کھالو اور خود آپ نے بھی کھایا یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لئے شکار نہ کیا گیا ہو، ابو داؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا جابر سے سننا ثابت نہیں، ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول ﷺ حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے، آپ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم کھالو انہوں نے کہا اور آپ کیوں نہیں کھاتے ؟ فرمایا مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لئے کیا گیا ہے اس لئے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لئے نہیں گیا اس لئے تم کھا سکتے ہو۔
اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے حضرت ابوبکر صدیق حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اجمعین، حضرت عکرمہ، حضرت ابو سلمہ، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت حسن بصری رحمم اللہ سے بھی یہی مروی ہے، خلیفہ بلا فصل ؓ سے روایت ہے کہ پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) آپ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے (ابن جریر) ابن عباس سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے (ابن ابی حاتم) ابن جریر میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابو ہیرہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر سے سوال کیا کہ سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ ابن عمر نے جواب دیا نہیں نہ کھاؤ، جب واپس آئے تو حضرت عبداللہ ؓ عالی عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورة مائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھا لیں یہی بحری طعام ہے، امام ابن جریر کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مرجائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے آپ نے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 5۔ المائدہ :96) پڑھ کر فرمایا اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو۔ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ موقوف روایت کیا ہے، پھر فرماتا ہے یہ منفعت ہے تمہارے لئے اور راہ رو مسافروں کے لئے، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مرجائے اسے کھالیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہو اپہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہوگئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چناچہ سب جمع کرلیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہوگئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھالو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہوگئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھر بھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لئے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس پہنچے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے ؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ نے بھی کھایا، مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ ﷺ بھی موجود تھھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقع ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کرلینے کی اجازت ہے ؟ حضور نے فرمایا سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، امام شافعی امام احمد اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت ابو ہیریرہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آپہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے ؟ چناچہ ہم نے جا کرحضور ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں، اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے، واللہ اعلم ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خاہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کردیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے، حضرت خالد نے کہا یا رسول اللہ آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے آپ نے فرمایا ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے، حضرت زیاد کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہا کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے حضرت ابوبکر صدیق کا وہ قول بیان ہوچکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کرلیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے، بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مرجائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ۔ الخ) 5۔ المائدہ :3) میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے، ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کرلو اور وہ زندہ ہو پھر مرجائے تو اسے کھالو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ، لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں، مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی، یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دار قطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے سواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے، واللہ اعلم، پھر فرماتا ہے کہ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے، پس اگر کسی احرام والے نے شکار کرلیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہوگا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کرلیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھالیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابو عمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے، حضرت ابوحنیفہ کا قول ہے کہ شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی، ابو ثور کہتے ہیں کہ محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لئے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لئے شکار نہ کیا جائے، اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابو ثور کے قول کے بیان میں گزری، واللہ اعلم، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لئے شکار نہ کیا ہو، حضرت عمر حضرت ابوہریرہ حضرت زبیر حضرت کعب احبار حضرت مجاہد، حضرت عطا، حضرت سعید بن جیر اور کو فیوں کا یہی خیال ہے، چناچہ حضرت ابوہریرہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے ؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب حضرت عمر کو یہ خبر ملی تو آپ نے فرمایا اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ تابعین اور ائمہ دین اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل حضرت صعب بن جثامہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین نے فرمایا اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے، یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے، تو یہ لوٹانا آپ کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لئے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت ابو قتادہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گور خر شکار کیا صحابہ جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا ؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی ؟ سب نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا پھر کھالو اور خود آپ نے بھی کھایا یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لئے شکار نہ کیا گیا ہو، ابو داؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا جابر سے سننا ثابت نہیں، ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول ﷺ حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے، آپ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم کھالو انہوں نے کہا اور آپ کیوں نہیں کھاتے ؟ فرمایا مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لئے کیا گیا ہے اس لئے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لئے نہیں گیا اس لئے تم کھا سکتے ہو۔
مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ
📘 طعام اور شکار میں فرق اور حلال کی مزید تشریحات دریائی شکار سے مراد تازہ پکڑے ہوئے جانور اور طعام سے مراد ہے ان کا جو گوشت سکھا کر نمکین بطور توشے کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ پانی میں سے جو زندہ پکڑا جائے وہ صید یعنی شکار ہے اور جو مردہ ہو کر باہر نکل آئے وہ طعام یعنی کھانا ہے حضرت ابوبکر صدیق حضرت زید بن ثابت حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اجمعین، حضرت عکرمہ، حضرت ابو سلمہ، حضرت ابراہیم نخعی، حضرت حسن بصری رحمم اللہ سے بھی یہی مروی ہے، خلیفہ بلا فصل ؓ سے روایت ہے کہ پانی میں جتنے بھی جانور ہیں وہ سب طعام ہیں۔ (ابن ابی حاتم وغیرہ) آپ نے ایک خطبے میں اس آیت کے اگلے حصے کی تلاوت کر کے فرمایا کہ جو چیز سمندر پھینک دے وہ طعام ہے (ابن جریر) ابن عباس سے بھی یہی منقول ہے ایک روایت میں ہے کہ جو مردہ جانور پانی نکال دے۔ سعید بن مسیب سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ جس زندہ آبی جانور کو پانی کنارے پر ڈال دے یا پانی اس سے ہٹ جائے یا وہ باہر مردہ ملے (ابن ابی حاتم) ابن جریر میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابو ہیرہ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عمر سے سوال کیا کہ سمندر نے بہت سی مردہ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ ہم انہیں کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ ابن عمر نے جواب دیا نہیں نہ کھاؤ، جب واپس آئے تو حضرت عبداللہ ؓ عالی عنہ نے قرآن کریم کھول کر تلاوت کی اور سورة مائدہ کی اس آیت پر نظر پڑی تو ایک آدمی کو دوڑایا اور کہا جاؤ کہہ دو کہ وہ اسے کھا لیں یہی بحری طعام ہے، امام ابن جریر کے نزدیک بھی قول مختار یہی ہے کہ مراد طعام سے وہ آبی جانور ہیں جو پانی میں ہی مرجائیں، فرماتے ہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے گو بعض نے اسے موقوف روایت کہا ہے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے آپ نے آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ) 5۔ المائدہ :96) پڑھ کر فرمایا اس کا طعام وہ ہے جسے وہ پھینک دے اور وہ مرا ہوا ہو۔ بعض لوگوں نے اسے بقول ابوہریرہ موقوف روایت کیا ہے، پھر فرماتا ہے یہ منفعت ہے تمہارے لئے اور راہ رو مسافروں کے لئے، یعنی جو سمندر کے کنارے رہتے ہوں اور جو وہاں وارد ہوئے ہوں، پس کنارے رہنے والے تو تازہ شکار خود کھیلتے ہیں پانی جسے دھکے دے کر باہر پھینک دے اور مرجائے اسے کھالیتے ہیں اور نمکین ہو کر دور دراز والوں کو سوکھا ہو اپہنچتا ہے۔ الغرض جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ پانی کا جانور خواہ مردہ ہی ہو حلال ہے اس کی دلیل علاوہ اس آیت کے امام مالک کی روایت کردہ وہ حدیث بھی ہے کہ حضور نے سمندر کے کنارے پر ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا جس کا سردار حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کو مقرر کیا، یہ لوگ کوئی تین سو تھے حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں میں بھی ان میں سے تھا ہم ابھی راستے میں ہی تھے جو ہمارے توشے تھے ختم ہوگئے، امیر لشکر کو جب یہ علم ہوا تو حکم دیا کہ جو کچھ جس کسی کے پاس ہو میرے پاس لاؤ چناچہ سب جمع کرلیا اب حصہ رسدی کے طور پر ایک مقررہ مقدار ہر ایک کو بانٹ دیتے تھے یہاں تک کہ آخر میں ہمیں ہر دن ایک ایک کھجور ملنے لگی آخر میں یہ بھی ختم ہوگئی۔ اب سمندر کے کنارے پہنچ گئے دیکھتے ہیں کہ کنارے پر ایک بڑی مچھلی ایک ٹیلے کی طرح پڑی ہوئی ہے، سارے لشکر نے اٹھارہ راتوں تک اسے کھایا، وہ اتنی بڑی تھی کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی گئیں تو اس کے نیچے سے ایک شتر سوار نکل گیا اور اس کا سر اس پسلی کی ہڈی تک نہ پہنچا، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے ایک اور روایت میں ہے کہ اس کا نام عنبر تھا ایک روایت میں ہے کہ یہ مردہ ملی تھی اور صحابہ نے آپس میں کہا تھا کہ ہم رسول اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں اور اس وقت سخت دقت اور تکلیف میں ہیں اسے کھالو ہم تین سو آدمی ایک مہینے تک وہیں رہے اور اسی کو کھاتے رہے یہاں تک کہ ہم موٹے تازے اور تیار ہوگئے اس کی آنکھ کے سوراخ میں سے ہم چربی ہاتھوں میں بھر بھر کر نکالتے تھے تیرہ شخص اس کی آنکھ کی گہرائی میں بیٹھ گئے تھے، اس کی پسلی کی ہڈی کے درمیان سے سانڈنی سوار گزر جاتا تھا، ہم نے اس کے گوشت اور چربی سے مٹکے بھر لئے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس پہنچے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ کی طرف سے روزی تھی جو اللہ جل مجدہ نے تمہیں دی کیا اس کا گوشت اب بھی تمہارے پاس ہے ؟ اگر ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ، ہمارے پاس تو تھا ہی ہم نے حضور کی خدمت میں پیش کیا اور خود آپ نے بھی کھایا، مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اس واقعہ میں خود پیغمبر اللہ ﷺ بھی موجود تھھے اس وجہ سے بعض محدثین کہتے ہیں کہ ممکن ہے یہ دو واقع ہوں اور بعض کہتے ہیں واقعہ تو ایک ہی ہے، شروع میں اللہ کے نبی بھی ان کے ساتھ تھے بعد میں حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ہم سمندر کے سفر کو جاتے ہیں ہمارے ساتھ پانی بہت کم ہوتا ہے اگر اسی سے وضو کرتے ہیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہمیں سمندر کے پانی سے وضو کرلینے کی اجازت ہے ؟ حضور نے فرمایا سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، امام شافعی امام احمد اور سنن اربعہ والوں نے اسے روایت کیا ہے امام بخاری امام ترمذی امام ابن خزیمہ امام ابن حبان وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے صحابہ کی ایک جماعت نے آنحضرت ﷺ سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے حضرت ابو ہیریرہ فرماتے ہیں ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ حج یا عمرے میں تھے اتفاق سے ٹڈیوں کا دل کا دل آپہنچا ہم نے انہیں مارنا اور پکڑنا شروع کیا لیکن پھر خیال آیا کہ ہم تو احرام کی حالت میں ہیں انہیں کیا کریں گے ؟ چناچہ ہم نے جا کرحضور ﷺ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ دریائی جانوروں کے شکار میں کوئی حرج نہیں، اس کا ایک راوی ابو المہزم ضعیف ہے، واللہ اعلم ابن ماجہ میں ہے کہ جب ٹڈیاں نکل آتیں اور نقصان پہنچاتیں تو رسول کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اے اللہ ان سب کو خاہ چھوٹی ہوں خواہ بڑی ہلاک کر ان کے انڈے تباہ کر ان کا سلسلہ کاٹ دے اور ہماری معاش سے ان کے منہ بند کردیے یا اللہ ہمیں روزیاں دے یقیناً تو دعاؤں کا سننے والا ہے، حضرت خالد نے کہا یا رسول اللہ آپ ان کے سلسلہ کے کٹ جانے کی دعا کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی ایک قسم کی مخلوق ہے آپ نے فرمایا ان کی پیدائش کی اصل مچھلی سے ہے، حضرت زیاد کا قول ہے کہ جس نے انہیں مچھلی سے ظاہر ہوتے دیکھا تھا خود اسی نے مجھ سے بیان کیا ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے حرم میں ٹڈی کے شکار سے بھی منع کیا ہے جن فقہا کرام کا یہ مذہب ہے کہ سمندر میں جو کچھ ہے سب حلال ہے ان کا استدلال اسی آیت سے ہے وہ کسی آبی جانور کو حرام نہیں کہتے حضرت ابوبکر صدیق کا وہ قول بیان ہوچکا ہے کہ طعام سے مراد پانی میں رہنے والی ہر ایک چیز ہے، بعض حضرات نے صرف مینڈک کو اس حکم سے الگ کرلیا ہے اور مینڈک کے سوا پانی کے تمام جانوروں کو وہ مباح کہتے ہیں کیونکہ مسند وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی آواز اللہ کی تسبیح ہے، بعض اور کہتے ہیں سمندر کے شکار سے مچھلی کھائی جائے گی اور مینڈک نہیں کھایا جائے گا اور باقی کی چیزوں میں اختلاف ہے کچھ تو کہتے ہیں کہ باقی سب حلال ہے اور کچھ کہتے ہیں باقی سب نہ کھایا جائے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ خشکی کے جو جانور حلال ہیں ان جیسے جو جانور پانی کے ہوں وہ بھی حلال ہیں اور خشکی کے جو جانور حرام ہیں ان کی مشابہت کے جو جانور تری کے ہوں وہ بھی حرام، یہ سب وجوہ مذہب شافعی میں ہیں حنفی مذہب یہ ہے کہ سمندر میں مرجائے اس کا کھانا حلال نہیں جیسے کہ خشکی میں از خود مرے ہوئے جانور کا کھانا حلال نہیں کیونکہ قرآن نے اپنی موت آپ مرے ہوئے جانور کو آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ۔ الخ) 5۔ المائدہ :3) میں حرام کر ذیا ہے اور یہ عام ہے، ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جو تم شکار کرلو اور وہ زندہ ہو پھر مرجائے تو اسے کھالو اور جسے پانی آپ ہی پھینک دے اور وہ مرا ہوا الٹا پڑا ہوا ہو اسے نہ کھاؤ، لیکن یہ حدیث مسند کی رو سے منکر ہے صحیح نہیں، مالکیوں شافعیوں اور حنبلیوں کی دلیل ایک تو ہی عنبر والی حدیث ہے جو پہلے گزر چکی دوسری دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک اور اس کا مردہ حلال کئے گئے ہیں دو مردے مچھلی اور ٹڈی اور دو خون کلیجی اور تلی، یہ حدیث مسند احمد ابن ماجہ دار قطنی اور بیہقی میں بھی ہے اور اس کے سواہد بھی ہیں اور یہی روایت موقوفاً بھی مروی ہے، واللہ اعلم، پھر فرماتا ہے کہ تم پر احرام کی حالت میں شکار کھیلنا حرام ہے، پس اگر کسی احرام والے نے شکار کرلیا اور اگر قصداً کیا ہے تو اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا اور گنہگار بھی ہوگا اور اگر خطا اور غلطی سے شکار کرلیا ہے تو اسے کفارہ دینا پڑے گا اور اس کا کھانا اس پر حرام ہے خواہ وہ احرام والے ہوں یا نہ ہوں۔ عطا قاسم سالم ابو یوسف محمد بن حسن وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں، پھر اگر اسے کھالیا تو عطا وغیرہ کا قول ہے کہ اس پر دو کفارے لازم ہیں لیکن امام مالک وغیرہ فرماتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کفارہ نہیں، جمہور بھی امام صاحب کے ساتھ ہیں، ابو عمر نے اس کی توجیہ یہ بیان کی ہے کہ جس طرح زانی کے کئی زنا پر حد ایک ہی ہوتی ہے، حضرت ابوحنیفہ کا قول ہے کہ شکار کر کے کھانے والے کو اس کی قیمت بھی دینی پڑے گی، ابو ثور کہتے ہیں کہ محرم نے جب کوئی شکار مارا تو اس پر جزا ہے، ہاں اس شکار کا کھانا اس کیلئے حلال ہے لیکن میں اسے اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ فرمان رسول ہے کہ خشکی کے شکار کو کھانا تمہارے لئے حلال ہے جب تک کہ تم آپ شکار نہ کرو اور جب تک کہ خاص تمہارے لئے شکار نہ کیا جائے، اس حدیث کا تفصیلی بیان آگے آ رہا ہے، ان کا یہ قول غریب ہے، ہاں شکاری کے سوا اور لوگ بھی اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے، بعض تو منع کرتے ہیں جیسے پہلے گزر چکا اور بعض جائز بتاتے ہیں ان کی دلدل وہی حدیث ہے جو اوپر ابو ثور کے قول کے بیان میں گزری، واللہ اعلم، اگر کسی ایسے شخص نے شکار کیا جو احرام باندھے ہوئے نہیں پھر اس نے کسی احرام والے کو وہ جانور ہدیئے میں دیا تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ مطلقاً حلال ہے خواہ اسی کی نیت سے شکار کیا ہو خواہ اس کے لئے شکار نہ کیا ہو، حضرت عمر حضرت ابوہریرہ حضرت زبیر حضرت کعب احبار حضرت مجاہد، حضرت عطا، حضرت سعید بن جیر اور کو فیوں کا یہی خیال ہے، چناچہ حضرت ابوہریرہ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ غیر محرم کے شکار کو محرم کھا سکتا ہے ؟ تو آپ نے جواز کا فتوی دیا، جب حضرت عمر کو یہ خبر ملی تو آپ نے فرمایا اگر تو اس کے خلاف فتوی دیتا تو میں تیری سزا کرتا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس صورت میں بھی محرم کو اس کا کھانا درست نہیں، ان کی دلیل اس آیت کے کا عموم ہے حضرت ابن عباس اور ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے اور بھی صحابہ تابعین اور ائمہ دین اس طرف گئے ہیں۔ تیسری جماعت نے اس کی تفصیل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی غیر محرم نے کسی محرم کے ارادے سے شکار کیا ہے تو اس محرم کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ جائز ہے ان کی دلیل حضرت صعب بن جثامہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ابوا کے میدان میں یا ودان کے میدان میں ایک گورخر شکار کردہ بطور ہدئیے کے دیا تو آپ نے اسے واپس کردیا جس سے صحابی رنجیدہ ہوئے، آثار رنج ان کے چہرے پر دیکھ کر رحمتہ للعالمین نے فرمایا اور کچھ خیال نہ کرو ہم نے بوجہ احرام میں ہونے کے ہی اسے واپس کیا ہے، یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے، تو یہ لوٹانا آپ کا اسی وجہ سے تھا کہ آپ نے سمجھ لیا تھا کہ اس نے یہ شکار خاص میرے لئے ہی کیا ہے اور جب شکار محرم کیلئے ہی نہ ہو تو پھر اسے قبول کرنے اور کھانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضرت ابو قتادہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے بھی جبکہ وہ احرام کی حالت میں نہ تھے ایک گور خر شکار کیا صحابہ جو احرام میں تھے انہوں نے اس کے کھانے میں توقف کیا اور حضور سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی نے اسے اشارہ کیا تھا ؟ یا اسے کوئی مدد دی تھی ؟ سب نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا پھر کھالو اور خود آپ نے بھی کھایا یہ واقعہ بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے، مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنگلی شکار کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اس حالت میں بھی کہ تم احرام میں ہو جب تک کہ خود تم نے شکار نہ کیا ہو اور جب تک کہ خود تمہارے لئے شکار نہ کیا گیا ہو، ابو داؤد ترمذی نسائی میں بھی یہ حدیث موجود ہے، امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی مطلب کا جابر سے سننا ثابت نہیں، ربیعہ فرماتے ہی کہ عرج میں جناب خلیفہ رسول ﷺ حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے، آپ احرام کی حالت میں تھے جاڑوں کے دن تھے ایک چادر سے آپ منہ ڈھکے ہوئے تھے کہ آپ کے سامنے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم کھالو انہوں نے کہا اور آپ کیوں نہیں کھاتے ؟ فرمایا مجھ میں تم میں فرق ہے یہ شکار میرے ہی لئے کیا گیا ہے اس لئے میں نہیں کھاؤں گا تمہارے لئے نہیں گیا اس لئے تم کھا سکتے ہو۔