🕋 تفسير سورة الملك
(Al-Mulk) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ فَسُحْقًا لِأَصْحَابِ السَّعِيرِ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
📘 زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ
📘 زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
أَمْ أَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ
📘 زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
📘 زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ
📘 پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ
📘 جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمَٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ
📘 پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔
أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ
📘 پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔
أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
📘 انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔
قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ
📘 انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔
قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
📘 انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
📘 مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُبِينٌ
📘 مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَدَّعُونَ
📘 مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَنْ مَعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَنْ يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
📘 مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
قُلْ هُوَ الرَّحْمَٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
📘 مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِنْ فُطُورٍ
📘 جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِمَاءٍ مَعِينٍ
📘 مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ
📘 جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔
انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔
قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ
📘 آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔