WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الحجرات

(Al-Hujurat) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

📘 رسول کی رائے سے اپنی رائے کو اوپر کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی صورت یہ تھی کہ مجلس میں گفتگو کرتے ہوئے کوئی آدمی بڑھ بڑھ کر باتیں کرے، وہ آپ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا چاہے۔ بعد کے زمانہ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا ورسول کی دی ہوئی ہدایت سے آزاد ہو کر اپنی رائے قائم کرنے لگے۔ اس قسم کی غفلت ہمیشہ اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ اس کے اوپر نگراں ہے۔ اگر وہ جانے کہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی آواز انسانوں تک پہنچنے سے پہلے اللہ تک پہنچ رہی ہے تو آدمی کی زبان رک جائے، وہ بولنے سے زیادہ چپ رہنے کو اپنے لیے پسند کرنے لگے۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

📘 ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔ مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔ اچھا در اصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہوجائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

📘 ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔ مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔ اچھا در اصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہوجائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ

📘 ایک آدمی کسی شخص کے بارے میں بدگمان ہوجائے تو اس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے۔ اس کی خوبیوں سے زیادہ وہ اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے۔ اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اس معاملہ میں چوکنا رہے۔ وہ بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔ آپ کو کسی سے بدگمانی ہوجائے تو آپ اس سے مل کر گفتگو کرسکتے ہیں۔ مگر یہ سخت غیر اخلاقی فعل ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔ وقتی طور پر کبھی آدمی سے اس قسم کی غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے تو وہ اپنی غلطی پر ڈھيٹ نہیں ہوگا۔ اس کا خوف خدا اس کو فوراً اپنی غلطی پر متنبہہ کرے گا، وہ اپنی روش کو چھوڑ کر اللہ سے معافی کا طالب بن جائے گا۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

📘 انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں۔ کوئی سفید ہے اور کوئی کالا۔ کوئی ایک نسل سے ہے اور کوئی دوسری نسل سے۔ کوئی ایک جغرافیہ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرے جغرافیہ سے۔ یہ تمام فرق صرف تعارف کے لیے ہیں، نہ کہ امتیاز کے لیے۔ اکثر خرابیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس قسم کے فرق کی بنا پر ایک دوسرے کے درمیان فرق کرنے لگتے ہیں۔ اس سے وہ تفریق اور تعصب وجود میں آتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان اپنے آغاز کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ ان میں امتیاز کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کون اللہ سے ڈرنے والا ہے اور کون اللہ سے ڈرنے والا نہیں۔ اور اس کا بھی صحیح علم صرف خدا کو ہے، نہ کہ کسی انسان کو۔

۞ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 مدینہ کے اطراف میں کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ یہ لوگ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے مگر ان کا اسلام کسی گہرے ذہنی انقلاب کا نتیجہ نہ تھا۔ اللہ کی نظر میں اسلام پر ایمان لانے والا وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پائے جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے، جو لوگ اس خدا کے دین کو قبول کریں وہ ایک لازوال یقین کو پالیتے ہیں۔ وہ قربانی کی حد تک اس پر قائم رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ آدمی کوئی اچھا کام کرے تو وہ اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا اظہار اس کے عمل کو باطل کردینے والا ہے۔ اچھا عمل حقیقۃً وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے۔ پھر اللہ جب خود ہر بات کو جانتا ہے تو اس کے اعلان و اظہار کی کیا ضرورت۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ

📘 مدینہ کے اطراف میں کئی چھوٹے چھوٹے قبیلے تھے۔ یہ لوگ ہجرت کے بعد اسلام میں داخل ہوگئے مگر ان کا اسلام کسی گہرے ذہنی انقلاب کا نتیجہ نہ تھا۔ اللہ کی نظر میں اسلام پر ایمان لانے والا وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی حقیقت کے طور پر پائے جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے، جو لوگ اس خدا کے دین کو قبول کریں وہ ایک لازوال یقین کو پالیتے ہیں۔ وہ قربانی کی حد تک اس پر قائم رہنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ آدمی کوئی اچھا کام کرے تو وہ اس کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا اظہار اس کے عمل کو باطل کردینے والا ہے۔ اچھا عمل حقیقۃً وہ ہے جو اللہ کے لیے کیا جائے۔ پھر اللہ جب خود ہر بات کو جانتا ہے تو اس کے اعلان و اظہار کی کیا ضرورت۔

قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

📘 کوئی شخص اسلام میں داخل ہو یا اس کے ہاتھ سے کوئی اسلامی کام انجام پائے تو اس کو سمجھنا چاہيے کہ یہ اللہ کی مدد سے ہوا ہے۔ ایمان اور عمل سب کا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو کسی خیر کی توفیق ملے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اس کے بجائے اگر وہ اپنے ہم مذہبوں پر اس کا احسان جتانے لگے تو گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ یہ کام میں نے اللہ کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ انسانوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ خدا ہر چیز سے براہِ راست واقفیت رکھتا ہے، جو شخص خدا کے لیے عمل کرے اس کو یقين رکھنا چاهيے کہ اس کا خدا اس کے عمل کو بتائے بغیر دیکھ رہا ہے۔

يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

📘 کوئی شخص اسلام میں داخل ہو یا اس کے ہاتھ سے کوئی اسلامی کام انجام پائے تو اس کو سمجھنا چاہيے کہ یہ اللہ کی مدد سے ہوا ہے۔ ایمان اور عمل سب کا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو کسی خیر کی توفیق ملے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اس کے بجائے اگر وہ اپنے ہم مذہبوں پر اس کا احسان جتانے لگے تو گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ یہ کام میں نے اللہ کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ انسانوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ خدا ہر چیز سے براہِ راست واقفیت رکھتا ہے، جو شخص خدا کے لیے عمل کرے اس کو یقين رکھنا چاهيے کہ اس کا خدا اس کے عمل کو بتائے بغیر دیکھ رہا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

📘 کوئی شخص اسلام میں داخل ہو یا اس کے ہاتھ سے کوئی اسلامی کام انجام پائے تو اس کو سمجھنا چاہيے کہ یہ اللہ کی مدد سے ہوا ہے۔ ایمان اور عمل سب کا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو کسی خیر کی توفیق ملے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اس کے بجائے اگر وہ اپنے ہم مذہبوں پر اس کا احسان جتانے لگے تو گویا وہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ یہ کام میں نے اللہ کو دکھانے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ انسانوں کو دکھانے کے لیے کیا تھا۔ خدا ہر چیز سے براہِ راست واقفیت رکھتا ہے، جو شخص خدا کے لیے عمل کرے اس کو یقين رکھنا چاهيے کہ اس کا خدا اس کے عمل کو بتائے بغیر دیکھ رہا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ

📘 اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔

إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ

📘 اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔

إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

📘 اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔

وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 اطراف مدینہ کے بدوی قبائل شعوری اعتبار سے زیادہ پختہ نہ تھے۔ ان کے سرداروں کا حال یہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپ کو مخاطب کرتے ہوئے یا رسول اللہ کہنے کے بجائے یا محمد کہتے۔ ان کی گفتگو متواضعانہ نہ ہوتی بلکہ متکبرانہ ہوتی۔ اس سے انہیں منع کیا گیا۔ رسول دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے اس طرح کی ناشائستگی خدا کے سامنے ناشائستگی ہے، جو کہ آدمی کو بالکل بے قیمت بنا دینے والی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا میں آپ کی قائم مقام ہے۔ اب اس مقدس ہدایت کے ساتھ وہی تابعداری مطلوب ہے جو تابعداری رسول کی زندگی میں رسول کی ذات کے ساتھ مطلوب ہوتی تھی۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سنجیدہ بناتا ہے۔ کسی کے دل میں اگر واقعۃً اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے تو وہ خود اپنے مزاج کے تحت وہ باتیں جان لے گا جس کو دوسرے لوگ بتانے کے بعد بھی نہیں جانتے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

📘 کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔ جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔

وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ

📘 کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔ جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔

فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

📘 کوئی آدمی دوسرے شخص کے بارے میں اگر ایسی خبر دے جس میں اس شخص پر کوئی الزام آتا ہو تو ایسی خبر کو محض سُن کر مان لینا ایمانی احتیاط کے سراسر خلاف ہے۔ سننے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کی ضروری تحقیق کرے، اور جو رائے قائم کرے غیر جانب دارانہ تحقیق کے بعد کرے، نہ کہ تحقیق سے پہلے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی خبر ایک شخص کو ملتی ہے تو اس کے ساتھی فوراً اس کے خلاف اقدام کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ سخت غیر ذمہ داری کی بات ہے۔ نہ کسی آدمی کو ایسی خبر پر قبل از تحقیق کوئی رائے قائم کرنا چاہيے اور نہ اس کے ساتھیوں کو قبل از تحقیق اقدام کا مشورہ دینا چاہيے۔ جو لوگ واقعی ہدایت کے راستہ پر آجائیں ان کے اندر بالکل مختلف مزاج پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں پر الزام تراشی سے انہیں نفرت ہوجاتی ہے۔ غیر تحقیقی بات پر بولنے سے زیادہ اس پر چپ رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان کا یہ مزاج اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ان کو خدا کی رحمتوں میں سے حصہ ملا ہے۔ وہ ایمان فی الواقع ان کی زندگیوں میں اترا ہے جس کا وہ اپنی زبان سے اقرار کر رہے ہیں۔

وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ

📘 ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔ مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔ اچھا در اصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہوجائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔