🕋 تفسير سورة الصافات
(As-Saffat) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالصَّافَّاتِ صَفًّا
📘 آیت 1{ وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔“ گویا وہ بارگاہِ خداوندی میں ہمہ وقت حاضر رہنے والے خادمین ہیں جو احکامات کی تعمیل کے لیے ہر لمحہ کمربستہ رہتے ہیں۔
إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ
📘 آیت 10{ اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ} ”سوائے اس کے کہ جو کوئی اُچک لے کوئی چیز تو اس کا پیچھا کرتا ہے ایک چمکتا ہوا انگارہ۔“ یعنی ان میں سے جو کوئی اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہوا پایا جاتا ہے وہ اس میزائل کا شکار ہوجاتا ہے۔
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
📘 آیت 100{ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ } ”آپ علیہ السلام نے دعا کی : پروردگار ! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔“
فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ
📘 آیت 101{ فَـبَشَّرْنٰــہُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ } ”تو ہم نے اسے بشارت دی ایک حلیم الطبع لڑکے کی۔“ اس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مراد ہیں۔ -۔ ”حلیم“ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس حوالے سے قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے۔ ویسے تو اللہ کی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس انسانوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے لیکن ”حلم“ اللہ کی وہ شان ہے جو انسانوں میں زیادہ عام نہیں ہے۔ لفظ ”حلیم“ غیر اللہ کے لیے قرآن میں صرف تین مرتبہ آیا ہے۔ دو مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے التوبہ : 114 اور ہود : 75 اور ایک مرتبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے آیت زیر مطالعہ میں۔ یہاں ایک قابل توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو غُلٰمٍ حَلِیْمٍ جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو سورة الحجر کی آیت 53 میں غُلٰمٍ عَلِیْمٍ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی ایک بھائی علم میں زیادہ تھے اور ان ہی سے آگے بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ چلا اور دوسرے بھائی یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام ”حلم“ میں زیادہ تھے اور ان کی اولاد میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی۔
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ
📘 آیت 102{ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ } ”پھر جب وہ پہنچا اس کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کی عمر کو“ { قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْٓ اَرٰی فِی الْْمَنَامِ اَنِّیْٓ اَذْبَحُکَ } ”اس نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں دیکھ رہا ہوں خواب میں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں“ اَرٰی فعل مضارع ہے جس میں استمرار کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ‘ یعنی میں بار بار خواب میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تین راتیں یہ خواب دیکھا تھا۔ { فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی } ”تو دیکھو ! تمہاری کیا رائے ہے ؟“ { قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ } ”اس نے کہا : ابا جان ! آپ کر گزرئیے جس کا آپ کو حکم ہو رہا ہے۔“ یہ جواب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ”حلم“ کی عکاسی کرتا ہے اور آپ علیہ السلام کی اسی طبیعت کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”حلیم“ کا خطاب ملا ہے۔ آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ میرے والد نبی ہیں اور ان کا خواب کسی شیطانی وسوسے کا نتیجہ نہیں بلکہ وحی کا حصہ ہے۔ اس لیے آپ علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو خواب ہے اور خواب کا کیا ہے ‘ یا یہ کہ آپ علیہ السلام کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لیجیے ‘ بلکہ آپ علیہ السلام نے بغیر کسی تردد اور حیل و حجت کے اس ”حکم“ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے والد محترم کو اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ‘ اور آپ علیہ السلام کو یقین دلایا کہ : { سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ”اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔“ یہاں پر ایک بات یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ یہودیوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بجائے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ”ذبیح اللہ“ ثابت کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے تورات میں جا بجا تحریف بھی کی ہے اور مختلف جگہوں کے نام بھی بدل ڈالے ہیں۔ مثلاً ”مروہ“ کی قربان گاہ کے مقابلے میں انہوں نے فلسطین میں ایک جگہ کا نام ”موریاہ“ رکھ دیا اور وہیں پر ایک وادی کو ”وادیٔ مکا“ کے نام سے موسوم کردیا ‘ تاکہ کسی طرح یہ ثابت کیا جاسکے کہ ”قربانی“ کا یہ واقعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ وادی مکہ میں پیش نہیں آیا تھا بلکہ فلسطین میں حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس قدرموثر ثابت ہوا کہ ہمارے ہاں کے کئی مفسرین بھی اس مغالطے میں مبتلا ہوگئے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نہیں بلکہ حضرت اسحاق علیہ السلام تھے۔ مثلاً ابن جریر طبری ایک بہت بڑے مفسر ہونے کے باوجود ان اسرائیلی روایات سے متاثر ہیں۔ چناچہ مولانا حمید الدین فراہی رح نے اس موضوع پر ”الرای الصحیح فی من ھو الذبیح“ کے عنوان سے ایک معرکۃ الآرا کتاب لکھی اور ّمدلل انداز میں ثابت کیا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔ مولانا فراہی رح کی اصل کتاب عربی میں ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس کا اردو ترجمہ کیا تھا ‘ جسے ”ذبیح کون ؟“ کے نام سے مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے تحت شائع کیا گیا ‘ مگر کتاب اس قدر دقیق ہے کہ ترجمے کے باوجود بھی اسے زیادہ پڑھنے والے دستیاب نہ ہو سکے۔
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
📘 آیت 103{ فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ لِلْجَبِیْنِ } ”پھر جب دونوں نے فرمانبرداری کی روش اختیار کرلی اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے َبل لٹا دیا۔“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے پیشانی کے بل لٹایا تاکہ چہرہ سامنے نہ ہو اور اسی حالت میں گدی ّپر چھری چلانے کی کوشش کی۔
وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ
📘 آیت 104{ وَنَادَیْنٰہُ اَنْ یّٰٓاِبْرٰہِیْمُ } ”اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم علیہ السلام !“
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 آیت 105{ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْ یَاج اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”تم نے خواب سچ کر دکھایا ‘ یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔“
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ
📘 آیت 106{ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلٰٓؤُاالْمُبِیْنُ } ”یقینا یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔“ گویا ممتحن خود کہہ رہا ہے کہ میں نے جو امتحان لیا وہ بہت سخت تھا۔ یہ تحسین اور شاباش کی انتہا ہے۔ میں نے اس موضوع پر ”حج اور عید الاضحی اور ان کی اصل روح : قرآن حکیم کے آئینے میں“ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جو میرے کتابچے ”عید الاضحی اور فلسفہ قربانی“ میں شامل ہے۔
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
📘 آیت 107{ وَفَدَیْنٰـہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ } ”اور ہم نے ایک ذبح عظیم اس کا فدیہ دیا۔“ اللہ کے حکم سے جنت سے ایک مینڈھا لایا گیا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا۔ مسلمانوں کے ہاں عید الاضحی کے موقع پر ہر سال جانوروں کی قربانی پیش کر کے اسی قربانی کی یاد منائی جاتی ہے۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
📘 آیت 108{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور اسی کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“ اس سے پوری ملت ابراہیم علیہ السلام بھی مراد ہوسکتی ہے۔ جیسے قبل ازیں آیت 78 میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بھی فرمایا گیا کہ ان کی ملت پر بعد میں ہم نے کچھ لوگوں کو قائم رکھا ‘ جن میں خود ابراہیم علیہ السلام بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ آیت کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قربانی کی اس سنت کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں میں زندہ اور قائم رکھا۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکر ِخیر باقی رکھا۔
سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
📘 آیت 109{ سَلٰمٌ عَلٰٓی اِبْرٰہِیْمَ } ”سلام ہو ابراہیم علیہ السلام پر۔“
فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمْ مَنْ خَلَقْنَا ۚ إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِنْ طِينٍ لَازِبٍ
📘 آیت 11{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَہُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا } ”تو اے نبی ﷺ ! ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا وہ کچھ جو ہم نے پیدا کیا ہے !“ یہ کفار و مشرکین کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد ان کا پھر سے زندہ ہوجانا کیسے ممکن ہے ؟ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جیسے انسانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اس وسیع و عریض کائنات کو بنانا ؟ اور یہ کہ جس اللہ نے یہ کائنات پیدا کی ہے ‘ اس کے اندر سورج اور چاند کا نظام بنایا ہے ‘ سیاروں ‘ ستاروں اور کہکشائوں کی دنیائیں آباد کی ہیں ‘ کیا تم اس اللہ کے بارے میں خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں پھر سے پیدا نہیں کرسکے گا ! { اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ } ”ان کو تو ہم نے پیدا کیا ہے ایک لیس دار گارے سے۔“ یعنی وہ ایسا گارا تھا جس میں عمل تخمیر fermentation کی وجہ سے چپچپاہٹ اور لیس پیدا ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ انسان کے مادہ تخلیق کے بارے میں قرآن نے مختلف مقامات پر تُراب مٹی ‘ طِین گارا ‘ طِینٍ لاَّزِب لیس دار گارا ‘ صَلصالٍ مِّن حماٍ مسنون سڑاند والا گارا اور صلصالٍ کا لفخّار ٹھیکری جیسی کھنکھناتی ہوئی مٹی کے الفاظ کا ذکر کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : الحجر : 26 کی تشریح۔
كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 آیت 110{ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔“
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 آیت 111{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔
وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ
📘 آیت 112{ وَبَشَّرْنٰہُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ } ”اور ہم نے اسے بشارت دی اسحاق علیہ السلام کی ‘ ایک نبی صالحین میں سے۔“ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا جو امتحان لیا ‘ اس میں کامیابی کے انعام کے طور پر آپ علیہ السلام کو دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی گئی۔
وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ
📘 آیت 113{ وَبٰرَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی اِسْحٰقَ } ”اور ہم نے برکت نازل کی اس پر بھی اور اسحاق علیہ السلام پر بھی۔“ { وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ} ”اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکوکار بھی تھے اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی۔“ ”ان دونوں“ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق ﷺ مراد ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ﷺ کا یہ واقعہ قصص النبیین کے انداز میں بیان ہوا ہے۔ قصص النبییّن اور انباء الرسل کی اصطلاحات قرآن کے اس مطالعہ کے دوران قبل ازیں متعدد بار زیر بحث آچکی ہیں۔
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
📘 آیت 114{ وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَہٰرُوْنَ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ اور ہارون علیہ السلام پر بھی احسان فرمایا۔“
وَنَجَّيْنَاهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ
📘 آیت 115{ وَنَجَّیْنٰہُمَا وَقَوْمَہُمَا مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ } ”اور ہم نے نجات دی ان دونوں کو اور ان کی قوم کو ایک کرب عظیم سے۔“
وَنَصَرْنَاهُمْ فَكَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ
📘 آیت 116{ وَنَصَرْنٰہُمْ فَکَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ ”اور ہم نے ان کی مدد کی ‘ پھر وہی غالب ہوئے۔“ اللہ کی مدد سے انہیں نجات ملی اور ان کا دشمن ان کے سامنے غرق ہوا۔
وَآتَيْنَاهُمَا الْكِتَابَ الْمُسْتَبِينَ
📘 آیت 117{ وَاٰتَیْنٰہُمَا الْکِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَ } ”اور ہم نے ان دونوں کو ایک روشن کتاب دی۔“ یعنی تورات جس کی تعلیمات بہت واضح تھیں۔
وَهَدَيْنَاهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
📘 آیت 118{ وَہَدَیْنٰہُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } ”اور ہم نے ان دونوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔“
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْآخِرِينَ
📘 آیت 119{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور ان دونوں کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“
بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ
📘 آیت 12{ بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ } ”بلکہ اے نبی ﷺ ! آپ تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں !“ آپ ﷺ کو بجا طور پر ان کے رویے ّپر تعجب ہوتا ہے یہ سوچتے ہوئے کہ میں تو انہیں اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہوں ‘ انہیں توحید کی طرف بلاتا ہوں ‘ اس توحید کی طرف جس کا ایک واضح تصور ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر بھی موجود ہے ‘ جبکہ یہ لوگ میری ان باتوں پر غور کرنے اور میری اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اُلٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
سَلَامٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
📘 آیت 120{ سَلٰمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَہٰرُوْنَ } ”سلام ہو موسیٰ علیہ السلام ٰ پر اور ہارون علیہ السلام پر۔“
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 آیت 121{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“
إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 آیت 122{ اِنَّہُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقیناوہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔“
وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
📘 آیت 123{ وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا الیاس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور شہر ”بَعْلَبَک“ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھا جس کا نام آگے آیت 125 میں ”بعل“ بتایا گیا ہے۔ اسی ُ بت کے نام پر اس شہر کا نام ”بعلبک“ بعل کا بک رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔ پرانی عبرانی زبان میں شہر کو بک یا بکہ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ مکہ کا پرانا نام بھی بَکّہ تھا ‘ جس کا حوالہ سورة آل عمران کی آیت 96 میں آیا ہے۔ بہر حال اس قوم کے لوگوں نے اس شہر کو اپنے معبود کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔
إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَلَا تَتَّقُونَ
📘 آیت 124{ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَلَا تَتَّقُوْنَ } ”جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ؟“
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ
📘 آیت 125{ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ } ”کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑتے ہو !“
اللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ
📘 آیت 126{ اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ اٰبَآئِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ } ”یعنی اللہ جو تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آباء و اَجداد کا بھی رب ہے۔“
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
📘 آیت 127{ فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا ‘ چناچہ وہ سب قیامت کے دن حاضرکر لیے جائیں گے۔“
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 آیت 128{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جنہیں خالص کرلیا گیا۔“
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
📘 آیت 129{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور اسی کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“ یعنی یہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی ملت کے افراد تھے اور اسی ملت اور اسی طریقے کا تسلسل ہے جو ہدایت کی صورت میں نسل انسانی میں چلا آ رہا ہے۔ چناچہ یہی بات سورة الانبیاء کی آیت 92 اور سورة المومنون کی آیت 52 میں اس طرح بیان ہوئی ہیـ: { وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ”اور یقینا یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔“
وَإِذَا ذُكِّرُوا لَا يَذْكُرُونَ
📘 آیت 13{ وَاِذَا ذُکِّرُوْا لَا یَذْکُرُوْنَ } ”اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔“
سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ
📘 آیت 130{ سَلٰمٌ عَلٰٓی اِلْ یَاسِیْنَ } ”سلام ہو الیاس علیہ السلام پر۔“
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 آیت 131{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 آیت 132{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔“
وَإِنَّ لُوطًا لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
📘 آیت 133{ وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا لوط علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔
إِذْ نَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ
📘 آیت 134{ اِذْ نَجَّیْنٰہُ وَاَہْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ } ”جب ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو ‘ سب کو۔“ اگرچہ تورات کے مطابق آپ علیہ السلام صرف اپنی دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلے تھے ‘ یعنی ان کے علاوہ اس قوم میں کوئی اور اہل ایمان نہیں تھے ‘ لیکنیہاں پراَہْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ سب گھرو الوں کو کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کا گھرانہ خاصا بڑاہو گا ‘ جس میں سے آپ علیہ السلام کی صرف ایک بیوی پیچھے رہ گئی تھی۔ واللہ اعلم !
إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ
📘 آیت 135{ اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْْغٰبِرِیْنَ } ”سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔“
ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ
📘 آیت 136{ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ } ”پھر ہم نے جڑ سے اکھاڑ کر پٹخ دیا باقیوں کو۔“
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ
📘 آیت 137 ‘ { وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْہِمْ مُّصْبِحِیْنَ اور تم لوگ گزرتے ہو ان کے کھنڈرات پر صبح کے وقت بھی
وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
📘 وَبِالَّـیْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ } ”اور رات کو بھی ‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟“ قومِ لوط علیہ السلام کی تباہ ہونے والی بستیوں میں سے سدوم اور عامورہ کے شہر معروف تھے۔ حال ہی میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجی کے کچھ ماہرین کی تحقیق کے نتیجے میں ان شہروں کے کھنڈرات اور آثار بحر ِمردار ُ کے پانی کے نیچے دریافت ہوئے ہیں ‘ جس سے تورات اور قرآن میں مذکور تفصیلات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اسی طرح جب اللہ کو منظور ہوگا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی بھی دنیا کی نگاہوں کے سامنے آجائے گی۔ سورة القمر ‘ آیت 15 میں اس حوالے سے اشارہ موجود ہے کہ کسی وقت یہ کشتی ایک بڑی نشانی کے طور پر ظاہر ہوگی۔ ہمارا ایمان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی بیان کردہ تاریخ کے ثبوت ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔ ان شاء اللہ !
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
📘 آیت 139{ وَاِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا یونس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“
وَإِذَا رَأَوْا آيَةً يَسْتَسْخِرُونَ
📘 آیت 14{ وَاِذَا رَاَوْا اٰیَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ } ”اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔“
إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ
📘 آیت 140{ اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ } ”جب وہ بھاگ کر پہنچا اس کشتی کی طرف جو پہلے سے ہی بھری ہوئی تھی۔“ لفظ ”اَبَقَ“ کسی غلام کا اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جانے پر بولا جاتا ہے۔ اس واقعے کا ذکر سورة یونس اور سورة الانبیاء میں بھی آچکا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور ان کے مسلسل انکار اور کفر کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قانون اور طریقہ یہی رہا ہے کہ کسی قوم پر عذاب سے قبل رسول کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا اور رسول کے ہجرت کر جانے کے بعد متعلقہ قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا۔ حضرت یونس علیہ السلام سے اس ضمن میں یہ لغزش ہوگئی کہ آپ علیہ السلام حمیت ِحق کے جوش میں غضبناک ہو کر سورۃ الانبیاء کی آیت 87 میں اس حوالے سے { اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًا } کے الفاظ آئے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح اجازت ملنے سے قبل ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل آئے اور دجلہ یا فرات میں سے کسی دریا کو پار کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہوگئے۔
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ
📘 آیت 141{ فَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَ } ”تو انہوں نے قرعہ ڈالا ‘ تو وہ ہوگیا دھکیل دیے جانے والوں میں سے۔“ پچھلی آیت میں مذکور ہے کہ وہ کشتی پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی تھی ‘ چناچہ جب بیچ دریا میں جا کر کشتی ڈولنے لگی اور اس کے ڈوب جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو بوجھ کم کرنے کی غرض سے کسی ایک مسافر کو دریا میں پھینکنے کے لیے یہ قرعہ اندازی کی گئی ہوگی۔ اس حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ کشتی والوں نے یہ گمان کیا کہ کسی کا کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہے جس کی وجہ سے یہ ڈوبنے لگی ہے۔ چناچہ اس مفرور غلام کا پتا لگانے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔ بہرحال قرعہ اندازی میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا اور آپ علیہ السلام کو دریا میں پھینک دیا گیا۔
فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ
📘 آیت 142{ فَالْتَقَمَہُ الْحُوْتُ وَہُوَ مُلِیْمٌ } ”تو اس کو نگل لیا مچھلی نے اور وہ ملامت زدہ تھا۔“ یہ کوئی بہت بڑی وہیل مچھلی ہوگی۔ آج تو ہم مچھلیوں کی بہت سی ایسی اقسام کو بخوبی جانتے ہیں جو بڑی آسانی سے ایک ہی لقمے میں انسان کو نگل سکتی ہیں۔ وَہُوَ مُلِیْمٌ کے الفاظ میں ناراضگی اور خفگی کا انداز پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اللہ کے ہاں ع ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے“ کے مصداق کسی بہت بڑی شخصیت کی چھوٹی سی غلطی پر بھی بہت سخت گرفت ہوتی ہے۔
فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ
📘 آیت 143{ فَلَوْلَآ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ } ”تو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔“ سورة الانبیاء کی آیت 87 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مچھلی کے پیٹ میں نہ صرف زندہ رہے بلکہ ان الفاظ سے تسبیح بھی کرتے رہے کہ : { لَآ اِلٰــہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ } ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو پاک ہے ‘ اور یقینا میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔“
لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
📘 آیت 144{ لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِہٖٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ } ”تو اس کے پیٹ ہی میں رہتا اس دن تک کہ جس میں لوگ اٹھائے جائیں گے۔“ یعنی اگر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی تسبیح آیت ِکریمہ کا ورد نہ کرتے تو قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے اُس کا پیٹ ہی آپ علیہ السلام کے لیے قبر بنا رہتا اور قیامت کے دن وہیں سے آپ علیہ السلام اٹھائے جاتے۔
۞ فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ
📘 آیت 145{ فَنَـبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَہُوَ سَقِیْمٌ} ”تو ہم نے ڈال دیا اسے ایک چٹیل میدان میں اور وہ خستہ حالت میں تھا۔“ اس تسبیح اور استغفار آیت کریمہ کے ورد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس مصیبت سے نجات دی اور اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپ علیہ السلام کو ساحل پر اگل دیا۔ لیکن مچھلی کے معدے میں رہنے اور اس کے معدے میں موجود انہضامی رطوبتوں digestive juices کے اثرات کے باعث آپ علیہ السلام کی حالت بہت خستہ سقیم ہوچکی تھی۔
وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ
📘 آیت 146{ وَاَنْبَتْنَا عَلَیْہِ شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ } ”تو ہم نے اس کے اوپر یقطین کا ایک پودا اگا دیا۔“ عربی میں ”یقطین“ ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا ‘ بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے ‘ جیسے کدو ‘ تربوز ‘ ککڑی وغیرہ۔ ”یقطین“ کے بارے میں ہمارے ایک دوست جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کی تحقیق ماہنامہ میثاق فروری 1980 ء میں شائع ہوئی تھی۔٭ موصوف کا تعلق کراچی سے تھا ‘ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے اور اسی ملازمت کے دوران وہ مکران میں بھی رہے۔ میثاق کے مستقل قاری تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ‘ بہت نیک انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مکران کا ساحل طبعی طور پر ساحل ِعراق سے مشابہ ہے۔ وہاں پر انہوں نے ایک بیل نما پودا دیکھا جسے مقامی زبان میں ”اَگین“ کہا جاتا ہے۔ اس پودے کے پتے بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ اس پر گول کدو ّکی شکل کا پھل لگتا ہے جو جسامت میں تربوز کے برابر اور مزے میں ککڑی جیسا ہوتا ہے۔ اس میں شیرینی بھی ہوتی ہے اور پانی کا جزو تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بیل زمین پر دور دور تک پھیلی ہوتی ہے جس کے اندر بیک وقت دوچار آدمی اپنے آپ کو بخوبی چھپا سکتے ہیں۔ پتے نہایت چکنے اور ملائم ہوتے ہیں جو نیچے نرم و نازک گدوں اور اوپر اوڑھنے کے لیے ریشمی چادر کا کام دیتے ہیں۔ تری اور خنکی اتنی ہوتی ہے کہ آفتاب کی کرنیں اندر چھپے ہوئے انسان کو تکلیف نہیں دے سکتیں۔ اس کے پتوں میں قدرتی طور پر کوئی اینٹی بیکٹیریا مادہ بھی پایا جاتا ہے ‘ جس کی وجہ سے حشرات الارض حتیٰ کہ سانپ اور بچھو بھی اس سے دور رہتے ہیں۔ جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کا خیال تھا کہ یہ وہی پودا ہے جس کا ذکر قرآن میں ”یقطین“ کے نام سے ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اہل مکران کی زبان مسخ شدہ فارسی ہے ‘ لیکن اس میں دوسری زبانوں بالخصوص عربی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ چناچہ لسانی اور صوتی اعتبار سے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یقطین کی ”ق“ مقامی زبان کی ”گ“ سے بدل گئی ہو جیسے سعودی عرب میں بھی آج کل عوام ”قُمْ“ کو ”گُم“ ہی بولتے ہیں ‘ ”ی“ الف سے بدل گئی ہو اور ”ط“ کثرتِ استعمال سے حذف ہوگیا ہو۔ اس طرح ہوتے ہوتے اس لفظ نے ”اَگین“ کی صورت اختیار کرلی ہو۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس بیل کی صورت میں حضرت یونس علیہ السلام کے لیے anti septic ماحول ‘ سایہ ‘ غذائیت اور مٹھاس سے بھر پور پھل کی صورت میں تینوں بنیادی ضرورتیں پوری کردیں۔
وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
📘 آیت 147{ وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ } ”پھر ہم نے اس کو بھیج دیا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف۔“ یعنی صحت یاب ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوبارہ رسالت کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ قرآن میں اس حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ دوبارہ آپ علیہ السلام کو اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا یا کسی اور قوم کی طرف۔ لیکن گمان غالب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام دوبارہ اپنی ہی قوم میں مبعوث ہوئے اور اس آیت میں آپ علیہ السلام ہی کی قوم کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ بہر حال سورة یونس میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔ سورة یونس کی آیت 98 میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ یہ استثناء صرف قوم یونس ہی کو حاصل ہے۔ یعنی پوری انسانی تاریخ میں واحد مثال ہے کہ عذاب کے آثار ظاہر ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرلی گئی۔
فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
📘 آیت 148{ فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیْنٍ } ”تو وہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں متاع دنیوی عطا کردی ایک خاص وقت تک۔“ یعنی ان کی توبہ اور ایمان کے بعد انہیں بقا کی ایک نئی مہلت fresh lease of existance دے دی گئی۔
فَاسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ
📘 آیت 149{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے پوچھیں ‘ کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !“ یہاں مشرکین ِمکہ ّکے اس عقیدے پر جرح کی جا رہی ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی یہ لوگ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ اللہ سے اولاد منسوب کرتے ہیں تو اس کے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
وَقَالُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
📘 آیت 15{ وَقَالُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ نہیں مگر ایک کھلا جادو۔“
أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَائِكَةَ إِنَاثًا وَهُمْ شَاهِدُونَ
📘 آیت 150{ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شٰہِدُوْنَ } ”کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مونث بنایا تھا اور وہ اس کے گواہ ہیں ؟“ کیا یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟
أَلَا إِنَّهُمْ مِنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ
📘 آیت 151 ‘ { اَلَآ اِنَّہُمْ مِّنْ اِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ ] ”خبردار ! یقینا یہ لوگ جھوٹ گھڑ کر کہتے ہیں
وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
📘 وَلَدَ اللّٰہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ } ‘ کہ اللہ کے اولاد ہوئی اور یقینا یہ جھوٹے ہیں۔“
أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ
📘 آیت 153{ اَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ } ”کیا اس نے بیٹیاں پسند کرلیں بیٹوں کو چھوڑ کر !“
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
📘 آیت 154{ مَا لَکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟“
أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
📘 آیت 155{ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ } ”کیا تم ہوش سے کام نہیں لیتے ؟“
أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ
📘 آیت 156{ اَمْ لَکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ} ”کیا تمہارے پاس کوئی واضح سند موجود ہے ؟“
فَأْتُوا بِكِتَابِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
📘 آیت 157{ فَاْتُوْا بِکِتٰبِکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”تو لائو تم اپنی کتاب اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو !“
وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
📘 آیت 158{ وَجَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا } ”اور انہوں نے تو اللہ کے اور ِجنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کردیا ہے۔“ { وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ } ”حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔“
سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
📘 آیت 159{ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
📘 آیت 16{ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ } ”وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟“ مرنے کے بعد انسانی گوشت تو جلد ہی گل سڑ کر مٹی میں مل جاتا ہے ‘ لیکن ہڈیوں کا الگ سے ذکر اس لیے ہوا ہے کہ یہ سخت ہوتی ہیں اور بوسیدہ { عِظَامًا نَّخِرَۃً } النّٰزعٰت ہوجانے کے باوجود بھی لمبے عرصے تک موجود رہتی ہیں۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 آیت 160{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کرلیے گئے ہیں۔“ اللہ کے وہ بندے جنہیں اللہ نے ُ چن لیا ہے ‘ چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ‘ وہ قیامت کے دن کی پکڑ سے محفوظ و مامون رہیں گے۔
فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ
📘 آیت 161{ فَاِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ } ”پس تم اور جن کو تم پوجتے ہو۔“
مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ
📘 آیت 162{ مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ بِفٰتِنِیْنَ } ”تم اللہ کے خلاف کسی کو بہکا نہیں سکتے ہو۔“
إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ
📘 آیت 163{ اِلَّا مَنْ ہُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ } ”سوائے اس کے جو خود جہنم میں گرنے والا ہو۔“ یہاں سے آگے چند آیات میں فرشتوں کی گفتگو کا ذکر ہے۔ اس لحاظ سے ان آیات کا ربط سورت کی ابتدائی آیات سے ملتا ہے۔ ابتدائی آیات میں فرشتوں کا ذکر اس طرح ہوا تھا : { وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی“۔ اب ان ہی فرشتوں کی باہمی گفتگو نقل کی جا رہی ہے :
وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ
📘 آیت 164{ وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ} ”اور ہم میں سے کوئی نہیں مگر اس کے لیے ایک مقام مقرر ہے۔“ اس کو یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہوں کے درباروں میں تمام مقربین و مصاحبین میں سے ہر ایک کا کوئی خاص عہدہ ‘ مقام اور مرتبہ مقرر ہوتا تھا۔ ان میں کوئی پنج ہزاری ہوتا تھا تو کوئی دس ہزاری اور کوئی تیس ہزاری۔ اسی طرح اللہ کے حضور فرشتوں کے بھی الگ الگ مراتب ہیں ‘ جیسے ملائکہ مقربین ‘ ملااعلیٰ ‘ ملائکہ دنیا ‘ ملائکہ اسفل وغیرہ۔ یہاں فرشتوں کا قول نقل ہوا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین ّمقام ہے ‘ اور ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے ہم اس سے ذرہ برابر بھی تجاوز کرنے کی مجال نہیں رکھتے۔
وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ
📘 آیت 165{ وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَ ”اور ہم تو سب کے سب صفیں باندھے کھڑے رہتے ہیں۔“ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور صف بستہ مستعد کھڑے رہتے ہیں۔
وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ
📘 آیت 166{ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ۔ ”اور ہم تو سب کے سب اپنے ربّ کی تسبیح کرنے والے ہیں۔“
وَإِنْ كَانُوا لَيَقُولُونَ
📘 آیت 167{ وَاِنْ کَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَ } ”اور یہ لوگ تو کہا کرتے تھے“
لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِنَ الْأَوَّلِينَ
📘 آیت 168{ لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ } ”کہ اگر ہمارے پاس بھی پہلوں کی کوئی نصیحت ہوتی“ یعنی جس طرح پہلی قوموں کے پاس ”ذکر“ آیا تھا ‘ اگر ہمارے پاس بھی آیا ہوتا ‘ ہم پر بھی کوئی کتاب نازل ہوئی ہوتی :
لَكُنَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 آیت 169{ لَکُنَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”تو ضرور ہم اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے۔“
أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ
📘 آیت 17{ اَوَاٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ } ”اور کیا پہلے زمانے کے ہمارے آباء و اَجداد کو بھی !“ تو کیا ہمارے ان آباء واجداد کو بھی زندہ کرلیا جائے گا جنہیں فوت ہوئے صدیاں گزر چکی ہیں اور ان کی ہڈیاں تک بھی مٹی میں تحلیل ہوچکی ہیں۔
فَكَفَرُوا بِهِ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
📘 آیت 170{ فَکَفَرُوْا بِہٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْن } ”مگر اب وہ ذکر آگیا ہے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا ‘ تو عنقریب یہ جان جائیں گے۔“ قرآن کے انکار اور کفر کی پاداش میں ان کے ساتھ جو کچھ ہونے والا ہے وہ عنقریب اسے خود دیکھ لیں گے۔
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ
📘 آیت 171{ وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں۔“ یہ آیات فلسفہ قرآنی اور اللہ تعالیٰ کے ایک خاص قانون کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ اس قانون کے تحت مرسلین کے لیے یقینی مدد کا وعدہ ہے ‘ لیکن یہ وعدہ صرف رسولوں کے لیے ہے۔ اس ضمن میں نبیوں اور رسولوں کے مابین فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چناچہ ایک نبی علیہ السلام کے لیے لازم نہیں تھا کہ اس کے لیے اللہ کی مدد ضرور ہی آتی اور اسے ہر صورت میں غلبہ عطا کیا جاتا ‘ بلکہ نبیوں کو تو قتل بھی کیا جاتا رہا۔ جیسے حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کردیا گیا تھا۔ لیکن رسولوں کے بارے میں یہ بات طے تھی کہ وہ نہ تو قتل ہوں گے اور نہ ہی مغلوب۔ چناچہ جیسے ہی کسی رسول ﷺ کے مخالفین اس پر غالب آنے کی کوشش کرتے اور رسول علیہ السلام کے مغلوب ہونے کا امکان پیدا ہوتا تو اللہ کی فیصلہ کن مدد آجاتی۔ اس کے بعد رسول علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا جاتا اور ان کے مخالفین کو نیست و نابود کردیا جاتا۔
إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ
📘 آیت 172{ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ } ”کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔“ یعنی رسولوں کی ضرور مدد کی جائے گی اور وہ علیہ السلام لازمی طور پر غالب ہو کر رہیں گے۔ آیت کے ترجمے میں اگرچہ مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ‘ لیکن اصل میں تو اللہ تعالیٰ کے اس قاعدے اور قانون پر عمل ماضی میں ہوتا رہا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ پر آکر یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔
وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ
📘 آیت 173{ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ } ”اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“ یہاں اللہ کے لشکر سے ”حزب اللہ“ رسول علیہ السلام اور اس کے ساتھی مراد ہیں۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے حواری اپنے دور کے حزب اللہ تھے اور محمد رسول اللہ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض { مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ } الفتح : 29 اپنے دور کے حزب اللہ تھے۔
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
📘 آیت 174{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰی حِیْنٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے ذرا رخ پھیر لیجیے ایک وقت تک کے لیے۔“ آپ ﷺ ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں اور ان کی استہزائیہ باتوں سے اعراض کریں۔
وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
📘 آیت 175{ وَّاَبْصِرْہُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ } ”اور آپ ﷺ انہیں دیکھتے رہیے ‘ پس عنقریب وہ بھی دیکھ لیں گے۔“ یعنی آپ ذرا انتظار کیجیے ‘ یہ لوگ اپنی شکست اور آپ کی فتح خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
📘 آیت 176{ اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ } ”تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے بارے میں جلدی مچا رہے ہیں ؟“
فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
📘 آیت 177{ فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَآئَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ } ”تو جب وہ نازل ہوگا ان کے میدان میں تو وہ بہت بری صبح ہوگی ان لوگوں کی جنہیں خبردار کردیا گیا تھا۔“ ”سَاحَۃ“ خیموں کے درمیان کھلی جگہ یا گھروں کے درمیان کھلے میدان کو کہا جاتا ہے۔ جیسے ہمارے ہاں عام طور پر آبادی کے درمیان میں ایک بڑا پارک ہوتا ہے۔
وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
📘 آیت 178{ وَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰی حِیْنٍ } ”اور آپ ﷺ رخ پھیر لیجیے ان کی طرف سے ایک وقت تک کے لیے۔“ یہاں حضور ﷺ کو دوبارہ ان سے اعراض کرنے کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ آپ علیہ السلام نہ تو ان کے کفر اور انکار سے رنجیدہ ہوں اور نہ ہی ان کے انجام کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن میں اس حوالے سے آپ ﷺ کو مخاطب کر کے بار بار فرمایا گیا : { وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ } کہ آپ ﷺ ان کے معاملے میں بالکل رنجیدہ نہ ہوں اور سورة الشعراء میں تو بہت ہی ُ پرزور انداز میں فرمایا گیا : { لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ } ”اے نبی ﷺ ! شاید آپ ہلاک کردیں گے اپنے آپ کو ‘ اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے۔“
وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
📘 آیت 179{ وَّاَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ } ”اور آپ دیکھتے رہیے ‘ عنقریب وہ بھی دیکھ لیں گے۔“
قُلْ نَعَمْ وَأَنْتُمْ دَاخِرُونَ
📘 آیت 18{ قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ } ”آپ ﷺ کہیے : ہاں ! تم اٹھائے بھی جائو گے اور تم ذلیل بھی ہوگے۔“ نہ صرف تم سب کو اٹھا لیا جائے گا بلکہ اس وقت تمہیں اپنے اس کفر اور انکار کے باعث ذلت و خواری کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
📘 آیت 180{ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آپ ﷺ کا ربّ ‘ عزت اور اقتدار کا مالک ‘ ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“ یَصِفُوْنَ کا مادہ وصف ہے اور اسی مادہ سے لفظ ”صفت“ مشتق ہے۔ اس لفظی مادہ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سے مشتق مختلف الفاظ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور خوبی بیان کرنے کے لیے احادیث میں تو آئے ہیں لیکن قرآن میں ایجابی اور مثبت طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے اس مادہ سے کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے صفاتی نام آئے ہیں اور اس حوالے سے یہ بھی فرمایا گیا : { لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط } الحشر : 24 ‘ لیکن لفظ ”صفت“ یا وصف کے مادہ سے مشتق کسی لفظ کے استعمال سے صراحتاً اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت قرآن میں بیان نہیں ہوئی۔ اس مادہ سے قرآن میں جو بھی الفاظ یصفون وغیرہ استعمال ہوئے ہیں وہ لوگوں کے حوالے سے ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے جو اوصاف بیان کر رہے ہیں اور اللہ کے بارے میں جو باتیں بنا رہے ہیں اللہ اس سے پاک اور بلندو برتر ہے۔
وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ
📘 آیت 181{ وَسَلٰـمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور سلام ہو تمام رسولوں پر۔“
وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
📘 آیت 182{ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور ُ کل حمد اور تمام شکر اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔“ واضح رہے کہ لفظ ”ربّ“ میں مالک اور پروردگار دونوں معانی موجود ہیں۔
فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنْظُرُونَ
📘 آیت 19{ فَاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ یَنْظُرُوْنَ } ”بس وہ ایک زور کی ڈانٹ ہوگی ‘ تو جبھی وہ زندہ ہو کر دیکھنے لگیں گے۔“ ہماری طرف سے ایک زور دار ڈانٹ کی صورت میں حکم دیاجائے گا جس کی تعمیل میں تمام انسانوں کے ذرات اجسام آنِ واحد میں مجتمع ہو کر جیتے جاگتے انسانوں کی صورت اختیار کرلیں گے۔
فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا
📘 آیت 2{ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا } ”پھر قسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بستی پر عذاب کا حکم دیتا ہے تو فرشتوں کی ایک ڈانٹ صَیحَۃ سے وہ بستی تباہ اور متعلقہ قوم ہلاک ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں ایک قوم کے بارے میں فرمایا گیا : { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ تو اسی وقت وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“
وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَٰذَا يَوْمُ الدِّينِ
📘 آیت 20{ وَقَالُوْا یٰوَیْلَنَا ہٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ } ”اور وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ‘ یہ تو بدلے کا دن ہے !“ یہ تو وہی جزاء و سزا کا دن آگیا ہے جس کے بارے میں ہمیں بار بار بتایا جاتا تھا اور ہم بار بار اس کی نفی کرتے تھے۔
هَٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
📘 آیت 21{ ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ } ”اُس وقت انہیں کہا جائے گا : ہاں یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔“
۞ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ
📘 آیت 22{ اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَہُمْ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ’ پھر حکم دیا جائے گا جمع کرو ان سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے ‘ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کافروں ‘ مشرکوں اور ہر طرح کے مجرموں کو ‘ چاہے وہ انسانوں میں سے ہوں یا ِجنوں میں سے ‘ سب کو ایک جگہ جمع کرلو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی ساتھ ہی لے آئو۔
مِنْ دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ
📘 آیت 23 مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ’ اللہ کے سوا“{ فَاہْدُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ } ”پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو !“ اب ذرا جہنم کے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرو ‘ ان کو escort کرو۔
وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ
📘 آیت 24{ وَقِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ } ”اور انہیں ذرا روکو ! ابھی ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔“
مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ
📘 آیت 25{ مَالَـکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ } ”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟“ دُنیا میں تو تمہارے جتھے ّبہت طاقتور تھے ‘ وہاں تو تمہیں اپنی محفلوں اور ان کے شرکاء پر بڑا غرور تھا ‘ وہاں تو یہ ابو جہل بہت فخر سے کہا کرتا تھا کہ دیکھو میری مجلس کس قدر آباد ہے مریم : 73 اور دیکھو میرے ہاں کیسے کیسے لوگ آکر بیٹھتے ہیں۔ تو آج وہ تمہارے جتھے دار اور حمایتی سب کے سب بےبس کیوں ہوگئے ہیں ؟ اب تم ایک ہی حکم پر جہنم کی طرف کیوں چل پڑے ہو ؟ اب تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟
بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ
📘 آیت 26{ بَلْ ہُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ”بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں !“ آج تو یہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنے آپ کو حوالے کر کے بلا چون و چراسزا کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
📘 آیت 27{ وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ } ”اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھنے لگیں گے۔“
قَالُوا إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ
📘 آیت 28{ قَالُوْٓا اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ } ”کہیں گے کہ تم ہی تو آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے دبدبے کے ساتھ !“ یعنی تم ہمارے سردار تھے اور اپنی اس حیثیت کا رعب جما کر ہمیں اپنی پیروی پر مجبور کیا کرتے تھے۔ تم ہمارے پاس بہت رعب ‘ دبدبے ‘ طاقت اور زور کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ لفظ ”یمین“ کے معنی طاقت کے بھی ہیں اور داہنی طرف کے بھی۔ چناچہ آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے کہ ”تم آیا کرتے تھے ہمارے پاس دائیں طرف سے۔“
قَالُوا بَلْ لَمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
📘 آیت 29{ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ } ”وہ کہیں گے کہ نہیں ! بلکہ تم لوگ خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے۔“
فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا
📘 آیت 3{ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا } ”پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی۔“ یعنی اللہ کا جو کلام انبیاء و رسل علیہ السلام پر نازل ہوتا ہے اسے فرشتے ہی لے کر آتے ہیں۔ -۔ - اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہوا ہے۔ یعنی یہ تمام فرشتے اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ
📘 آیت 30{ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ } ”اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں ‘ بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے۔“
فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ
📘 آیت 31{ فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَآق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ } ”تو اب ثابت ہوگیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول ‘ اب تو ہمیں عذاب کا مزہ چکھنا ہی ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر فرما دیا تھا : { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } السجدۃ ”میں بھر کر رہوں گا جہنم کو تمام نافرمان جنوں اور انسانوں سے“۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ قول اب ہم پر واقع ہوچکا ہے اور ہم جہنم کے مستحق ہوچکے ہیں۔
فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ
📘 آیت 32{ فَاَغْوَیْنٰـکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ } ”تو ہم نے تم لوگوں کو گمراہ کیا ‘ ہم خود بھی تو گمراہ تھے۔“ تم لوگ درست کہتے ہو کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا ‘ لیکن ایسا تو نہیں تھا کہ ہم خود ہدایت پر تھے اور تمہاری گمراہی کا باعث بنے۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ ہم خود بھی گمراہ تھے اس لیے تم لوگوں کو بھی ہم اسی تباہی کے راستے پرلے آئے۔
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
📘 آیت 33{ فَاِنَّہُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ } ”تو اس دن وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہوں گے۔“
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ
📘 آیت 34{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ } ”یقینا ہم مجرموں کے ساتھ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔“
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ
📘 آیت 35{ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلََ لَہُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ } ”ان کا معاملہ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ استکبار کرتے تھے۔“ جب بھی ان کے سامنے کلمہ توحید لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا ذکر کیا جاتا تو وہ اپنے گھمنڈ میں اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ
📘 آیت 36{ وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوْٓا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ } ”اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی خاطر چھوڑ دیں !“ حضور ﷺ کی شان میں یہ لوگ ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ان کے کہنے پر اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہم کئی نسلوں سے پرستش کرتے آئے ہیں !
بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ
📘 آیت 37{ بَلْ جَآئَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”بلکہ وہ تو حق لے کر آئے اور انہوں ﷺ نے تصدیق کی تمام رسولوں علیہ السلام کی !“
إِنَّكُمْ لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ
📘 آیت 38{ اِنَّکُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ } ”اب تمہیں یقینا دردناک عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔“
وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
📘 آیت 39{ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور تمہیں بدلہ نہیں مل رہا مگر اسی کا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔“
إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ
📘 آیت 4{ اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ } ”یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔“ جیسے کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوا ہے ‘ ان سورتوں زیر مطالعہ گروپ کا مرکزی مضمون توحید اور ردِّ شرک ہے۔ اسی لیے یہاں ان قسموں کی گواہی کے بعد جو حقیقت بیان فرمائی گئی ہے وہ معبودِ حقیقی کے اکیلے اور تنہا ہونے کے بارے میں ہے۔ البتہ اس کے بعد مکی سورتوں کے جو آخری دو گروپس ہیں ان کا مرکزی مضمون چونکہ انذارِآخرت ہے ‘ اس لیے ان گروپس کی جن سورتوں کے آغاز میں ایسی قسمیں کھائی گئی ہیں وہاں ان قسموں کے بعد مقسم علیہ کے طور پر { وَاِنَّ الدِّیْنَ لَـوَاقِعٌ} الذّٰریٰت جزا و سزا اور حساب کتاب کا معاملہ یقینا ہونے والا ہے جیسی آیات آئی ہیں۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 آیت 40{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔“ آج اللہ کے چیدہ بندے ہی اس انجامِ بد سے محفوظ رہیں گے۔ مُخلَص لام کی زبر کے ساتھ کے معنی ہیں ”خالص کیا گیا“۔ یہاں وہ بندے مراد ہیں جنہیں اللہ نے خاص کرلیا ہو ‘ جنہیں اپنے لیے ُ چن کر الگ کرلیا ہو۔
أُولَٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ
📘 آیت 41{ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ} ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے طے شدہ رزق ہے۔“
فَوَاكِهُ ۖ وَهُمْ مُكْرَمُونَ
📘 آیت 42{ فَوَاکِہُج وَہُمْ مُّکْرَمُوْنَ } ”یعنی میوے ‘ اور ان کا اکرام کیا جائے گا۔“
فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ
📘 آیت 43{ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ } ”نعمتوں والے باغات میں۔“
عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ
📘 آیت 44{ عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ } ”وہ تختوں کے اوپر بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔
يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
📘 آیت 45{ یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ۔ } ”گردش کر رہے ہوں گے ان پر ُ خدام ّنفیس شراب کے پیالوں کے ساتھ۔“ وہ شراب صاف شفاف اور بغیر کسی نشے کے ہوگی۔
بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ
📘 آیت 46{ بَیْضَآئَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ } ”بالکل سفید ‘ انتہائی لذیذ پینے والوں کے لیے۔“
لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ
📘 آیت 47{ لَا فِیْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا یُنْزَفُوْنَ } ”اس میں نہ تو سرگرانی کی کیفیت ہوگی اور نہ ہی وہ اس سے بہکیں گے۔“ اس مشروب کو پی کر ایک سرور کی کیفیت تو ہوگی مگر نہ تو اس سے سر بھاری ہوگا اور نہ ہی وہ مدہوشی لائے گا اور فتورِ عقل کا باعث ہوگا۔
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ
📘 آیت 48{ وَعِنْدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ} ”اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی بیویاں۔“
كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ
📘 آیت 49{ کَاَنَّہُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ} ”گویا وہ انڈے ہوں چھپا کر رکھے گئے۔“
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ
📘 آیت 5{ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ } ”جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور تمام مشرقوں کا۔“ یہاں ”مشارق“ کے بعد ”مغارب“ کا ذکر نہیں ہوا٭۔ اس لیے کہ زمین کا ہر مقام اور ہر نقطہ مشرق بھی ہے اور مغرب بھی۔ یعنی اگر ہم کسی وقت سورج کو کسی مقام پر غروب ہوتا دیکھ رہے ہیں تو عین اسی وقت اسی مقام سے کسی دوسرے علاقے کے لوگ اسے طلوع ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے سورج کے طلوع و غروب کے حوالے سے مشرق اور مغرب کا ذکر الگ الگ بھی ہوسکتا ہے اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ زمین کے تمام مقامات مشارق ہی ہیں۔ یعنی ہر جگہ سے کسی نہ کسی وقت سورج طلوع ہوتا نظر آتا ہے۔
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
📘 آیت 50{ فَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ } ”پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے سوال کریں گے۔“
قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ
📘 آیت 51{ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْہُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ} ”ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا۔“
يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ
📘 آیت 52{ یَّـقُوْلُ ئَ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ } ”وہ کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو ؟“
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ
📘 آیت 53{ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ } ”کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا ہمیں زندہ کر کے بدلہ دیا جائے گا ؟“ یعنی میرا وہ ساتھی دنیا میں حیرت سے مجھے پوچھا کرتا تھا کہ کیا تم بھی محمد ﷺ کی ان باتوں پر یقین رکھتے ہو کہ ہمارے مر کھپ جانے اور مٹی میں مل جانے کے بعد ہمیں پھر سے زندہ کیا جائے گا اور ہمارے اچھے برے اعمال کی ہمیں سزا و جزا دی جائے گی ؟
قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ
📘 آیت 54{ قَالَ ہَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ } ” کوئی کہنے والا کہے گا کہ کیا اب تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہو گے ؟“ یعنی جو شخص تمہیں اس طرح گمراہ کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا اس وقت تم اسے دیکھنا چاہو گے کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ گویا اہل جنت کے لیے وہاں یہ بھی اہتمام ہوگا کہ وہ جس سے ملنا چاہیں مل لیں اور جو دیکھنا چاہیں دیکھ لیں۔
فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ
📘 آیت 55{ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ } ”تو وہ جھانکے گا اور اسے دیکھے گا دوزخ کے عین درمیان میں۔“
قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ
📘 آیت 56{ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ } ”وہ پکار اٹھے گا : اللہ کی قسم ‘ تم تو قریب تھے کہ مجھے بھی برباد کردیتے !“ یہ تو اللہ کا مجھ پر بڑا فضل ہوا کہ میں نے تمہاری باتوں پر زیادہ دھیان دینے کے بجائے اس آواز کی طرف توجہ دی جو میرے دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی اور میں نے اسی بات کو قبول کیا جس کو میرے دل نے حق جانا۔ ورنہ اگر خدانخواستہ میں نے کہیں تمہاری بات مان لی ہوتی تو آج میں بھی تمہارے ساتھ جہنم کے اس گڑھے میں پڑا ہوتا۔
وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
📘 آیت 57{ وَلَوْلَا نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ } ”اور اگر میرے رب کی نعمت مجھ پر نہ ہوتی تو میں بھی لازماً پکڑے گئے لوگوں میں سے ہوتا۔“
أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ
📘 آیت 58{ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ } ”تو کیا اب ہمیں مرنا تو نہیں !“
إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
📘 آیت 59{ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ } ”سوائے ہماری اس پہلی موت کے ‘ اور اب ہمیں کوئی عذاب بھی نہیں دیا جائے گا۔“ یہ اہل جنت کی آپس کی گفتگو کا حوالہ ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کیا اس کے بعد ہماری کوئی پکڑ تو نہیں ہوگی ؟ کیا اب مزید کسی چھانٹی کے لیے کوئی چھلنی تو نہیں لگے گی ؟ اور کیا اب ہم مطمئن ہوجائیں کہ آئندہ ہمیں کسی قسم کے عذاب کا کوئی کھٹکا نہیں ہوگا ؟ اہل جنت کی ان باتوں سے ان کی سادہ لوحی ‘ تواضع اور انکساری کا اظہار ہوتا ہے۔ جنت میں ٹھکانہ ملنے پر وہ لوگ فخر و تعلی ّکا اظہار نہیں کریں گے اور یوں نہیں سمجھیں گے کہ ہم نے اپنی محنت کا پھل پایا ہے اور اب ہم یہاں ہمیشہ ہمیش دھڑلے سے رہیں گے ‘ بلکہ اپنی اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ قرار دیں گے اور اس حوالے سے بار بار اس کے حضور شکر کا اظہار کریں گے۔
إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ
📘 آیت 6{ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ } ”ہم نے مزین کردیا ہے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زیبائش سے۔“ السَّمَائَ الدُّنْیَا مرکب توصیفی ہے ‘ یعنی سب سے قریب والا آسمان۔ دَنَا یَدْنُو کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور اسی سے ادنٰیہے یعنی ”قریب ترین“ جبکہ ”دُنْیَا“ کا لفظ اس کا مونث ہے۔
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
📘 آیت 60{ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ } ”یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے !“
لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ
📘 آیت 61{ لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ”ایسی ہی چیز کے لیے عمل کرنا چاہیے عمل کرنے والوں کو !“ ایسی ہی کامیابی کو ہدف بنا کر ہر کسی کو دنیا میں محنت اور بھاگ دوڑ کرنی چاہیے۔ بھاگ دوڑ تو سب ہی کرتے ہیں مگر اکثر و بیشتر سب کے پیش نظر دنیا اور اس کا مال و متاع ہے۔ ہر کوئی اسی کے حصول کے لیے رات دن سرگرداں ہے اور اپنا خون پسینہ ایک کر رہا ہے الا ما شاء اللہ۔ لیکن غور کیا جائے تو چار دن کا یہ عیش و آرام حاصل کرلینا کوئی بہت بڑی کامیابی تو نہیں ‘ اور اس قسم کا عارضی ہدف کوئی قابل ذکر ہدف بھی نہیں۔ بہر حال انسان کا وقت اور خون پسینہ اتنی ارزاں چیز نہیں کہ اسے عارضی اور وقتی کامیابی کے لیے ضائع کردیا جائے۔ ایسی قیمتی پونجی کو تو کسی بڑے ہدف کے حصول کے لیے کام میں لانا چاہیے ‘ اور وہ بڑا ہدف ہے جنت اور اس کی نعمتوں کا حصول ! چناچہ تمام بھاگ دوڑ کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس ہدف کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کریں۔
أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ
📘 آیت 62{ اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّوْمِ۔ ”بھلا مہمانی کے طور پر یہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت ؟“ جنت کی مذکورہ نعمتوں کے مقابلے میں اہل جہنم کی ابتدائی مہمان نوازی زقوم تھوہر کے درخت سے کی جائے گی۔ اس ابتدائی مہمان نوازی کی نوعیت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد اہل جہنم کو کن حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اب اختیار انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو جنت کی دائمی نعمتوں کے حصول کو اپنا ہدف بنا لے یا جہنم اور اس کے خوفناک عذابوں کے ساتھ اپنی عاقبت کو وابستہ کرلے۔
إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِلظَّالِمِينَ
📘 آیت 63{ اِنَّا جَعَلْنٰہَا فِتْنَۃً لِّلظّٰلِمِیْنَ } ”ہم نے اس درخت کو فتنہ بنا دیا ہے ظالموں کے لیے۔“
إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ
📘 آیت 64{ اِنَّہَا شَجَرَۃٌ تَخْرُجُ فِیْٓ اَصْلِ الْجَحِیْمِ } ”وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہہ میں سے نکلے گا۔“ یہی بات کافروں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بن گئی ‘ جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی آیت 60 میں بھی آچکا ہے۔ اس میں ان کے لیے آزمائش کی وجہ دراصل ان کی یہ سوچ تھی کہ جہنم کی آگ کے اندر آخر درخت کیسے اگیں گے ؟ ایسی سوچ دراصل ان لوگوں کو پریشان کرتی ہے جو آخرت کے معاملات کو بھی اس دنیا کے قوانین و ضوابط پر قیاس کرنے لگتے ہیں۔ اس حوالے سے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کے بعد ایک ایسے عالم کا ظہور ہوگا جس کے قوانین کا اس دنیا کے قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس دنیا میں تو انسان آگ میں جل کر مرجاتا ہے ‘ مگر جہنم کی آگ جلائے گی بھی اور مرنے بھی نہیں دے گی الاعلیٰ : 13۔ اس دنیا میں انسان کی جلد اگر ایک دفعہ آگ سے جھلس جائے تو پھر درست نہیں ہوسکتی ‘ مگر وہاں جہنمیوں کی ِجلدیں جل جانے کے بعد کپڑوں کی طرح تبدیل کردی جائیں گی النساء : 56۔
طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ
📘 آیت 65{ طَلْعُہَا کَاَنَّہٗ رُئُ وْسُ الشَّیٰطِیْنِ } ”اس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیاطین کے سر۔“ یعنی جسامت میں غیر معمولی طور پر بڑے ‘ جبکہ دیکھنے میں بہت ہی بھدے ّاور بد نما۔
فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ
📘 آیت 66{ فَاِنَّہُمْ لَاٰکِلُوْنَ مِنْہَا فَمَالِئُوْنَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ } ”پھر وہ اس میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔“ ویسے تو وہ درخت ایسا ہوگا کہ کوئی اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا لیکن ‘ اہل جہنم بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر اس درخت کو کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔
ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ
📘 آیت 67{ ثُمَّ اِنَّ لَہُمْ عَلَیْہَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍ } ”پھر اس کے اوپر ان کے لیے گرم پانی کا آمیزہ ہوگا۔“ زقوم کے برگ و بار کھانے کے بعد جب پیاس بھڑکے گی تو پیپ ملا کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ
📘 آیت 68{ ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَا اِلَی الْجَحِیْمِ } ”پھر ان کا لوٹ کر آنا ہے جہنم کی طرف۔“ یعنی زقوم کا کھانا اور کھولتا ہوا مشروب تو ان لوگوں کو ابتدائی ”مہمان نوازی“ کے طور پر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں ان کے مستقل ٹھکانے یعنی جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ
📘 آیت 69{ اِنَّہُمْ اَلْفَوْا اٰبَآئَ ہُمْ ضَآلِّیْنَ } ”یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آباء و اَجداد کو گمراہ پایا۔“
وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ
📘 آیت 7{ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ } ”اور حفاظت کی خاطر ہر سرکش شیطان سے۔“ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الحجر کی آیت 17 کے ضمن میں اس کی وضاحت قدرے تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ بہر حال اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ِجنات ّکی تخلیق آگ سے ہوئی ہے اور میری رائے اس کے متعلق یہ ہے کہ ان کو سورج کی آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی لیے نظام شمسی کی حدود میں جنات آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں کسی اہتمام یا کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ بلکہ جیسے پرندے فضا میں آسانی سے ادھر ادھر اڑتے پھرتے ہیں اسی طرح جنات بھی نظام شمسی کی پوری فضا یا حدود میں اپنی مرضی سے جہاں چاہیں آ جاسکتے ہیں۔ البتہ نظام شمسی کی حدود سے تجاوز کرنے کی انہیں اجازت نہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض سرکش جنات عالم بالا کے معاملات کی ُ سن گن لینے کے لیے اپنی حدود سے تجاوز کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تخلیق کے اعتبار سے جنوں اور فرشتوں میں چونکہ قرب پایا جاتا ہے فرشتے نوری ہیں اور یہ ناری اس لیے شیاطین جن فرشتوں سے رابطہ کرنے اور کسی نہ کسی حد تک ان سے کچھ معلومات اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چناچہ فرشتے عالم بالا سے احکام لے کر جب آسمانِ دنیا کی طرف نزول کرتے ہیں تو شیاطین جن ان سے کچھ معلومات قبل از وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے حفاظتی انتظام کر رکھا ہے۔ خصوصی طور پر نزول وحی کے زمانے میں اس حفاظتی نظام کو غیر معمولی طور پر فعال کیا جاتا رہا ہے۔
فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ
📘 آیت 70{ فَہُمْ عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ یُہْرَعُوْنَ } ”تو وہ ان ہی کے نقوش قدم پر دوڑے چلے جا رہے ہیں۔“ بیشک ان کے باپ دادا گمراہ تھے ‘ لیکن انہوں نے اپنی عقل سے کام نہ لیا اور بغیر سوچے سمجھے اپنے گمراہ آباء و اَجداد کے اختیار کردہ راستوں پر گامزن ہوگئے۔
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ
📘 آیت 71{ وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ } ”اور ان سے پہلے لوگوں کی بھی اکثریت گمراہ تھی۔“ یعنی ماضی میں بھی لوگوں کی اکثریت گمراہ ہی تھی۔ اس حوالے سے ہم سورة الانعام کی آیت 116 میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پڑھ چکے ہیں : { وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } ”اور اگر تم پیروی کرو گے زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے لازماً گمراہ کردیں گے“۔ یہی مضمون سورة یوسف میں اس طرح بیان ہوا ہے : { وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللّٰہِ اِلاَّ وَہُمْ مُّشْرِکُوْنَ } ”اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر کسی نہ کسی نوع کا شرک بھی کرتے ہیں۔“ گویا ہر زمانے کی اکثریت کسی نہ کسی قسم کے شرک میں ملوث رہی ہے۔ اور توحید کے ساتھ شرک کی ملاوٹ کی ابتدا ہمیشہ یوں ہوتی رہی کہ اللہ کو ایک بڑے معبود کے طور پر مان لیا جاتا ‘ لیکن اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے معبود بھی بنا لیے جاتے۔ پھر آہستہ آہستہ بڑا معبود اس لیے پس منظر میں چلا جاتا کہ وہ انسانی سوچ سے وراء الوراء ‘ ثم وراء الوراء ہے اور پردہ غیب میں بھی ہے ‘ جبکہ چھوٹے اور خود ساختہ معبود ”پیکر محسوس“ کے طور پر ہر وقت اپنے پجاریوں کے سامنے حاضر و موجود ہوتے۔ اس طرح رفتہ رفتہ یہ خود ساختہ معبود ہی ُ کلی ّطور پر ان کے اعصاب پر سوار ہوجاتے۔ پھر اللہ کے بارے میں یہ لوگ یہی گمان کرتے کہ وہ تو بس اپنی ذات میں مگن ہے اور اسے کائنات کی اب کوئی فکر نہیں۔ جیسے ”مشائین“ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اسی طرح کے گمراہ کن نظریات رکھتے ہیں۔ مشائین کے لغوی معنی ہیں چلنے پھرنے والے۔ ابتدائی طور پر اس گروہ کے لوگ چلتے پھرتے ہوئے اپنے استاد سے سیکھتے اور معلومات اخذ کرتے رہتے تھے ‘ اس لیے وہ اس نام سے موسوم ہوگئے۔ اس گروہ کا ”امام“ ارسطو ہے اور ہمارے ہاں کے اکثر متکلمین علمائے فلسفہ بھی اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ چناچہ ارسطو کا فلسفہ اس حوالے سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف کلیات کا عالم ہے ‘ جزئیات کا نہیں۔ یعنی اللہ نے اس کائنات کو پیدا کردیا ہے ‘ اس کے لیے کچھ قوانین بنا دیے ہیں اور اب یہ سارا نظام ان قوانین کے مطابق خود بخود چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کی اب نہ تو کوئی فکر ہے اور نہ ہی اب یہ اس کے کنٹرول میں ہے۔ جیسے کسی کھلاڑی نے فٹ بال کو ِکک لگائی تو فٹ بال تیزی سے لڑھکنے لگا۔ اب فٹ بال کی حرکت اس ِکک لگانے والے کے کنٹرول میں نہیں رہی۔ وہ اسے روکنا بھی چاہے تو روک نہیں سکتا۔ اب تو اس کی رفتارزمین کی رگڑ friction سے کم ہوگی یا راستے میں کوئی رکاوٹ اس کو روک لے گی ‘ ورنہ اس کا اپنا زور حرکت momentum ختم ہوگا تو کہیں جا کر رکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں دنیا کے بڑے بڑے حکماء اور فلاسفہ کے ایسے گمراہ کن نظریات رہے ہیں۔ بہرحال انسان جب اپنے بنائے ہوئے پیمانوں پر اللہ کو ناپنا اور تولنا چاہتا ہے تو اسے ایسے ہی حماقت آمیز خیالات و نظریات سوجھتے ہیں۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِمْ مُنْذِرِينَ
📘 آیت 72{ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ } ”اور ہم نے ان میں اپنے خبردار کرنے والے بھیجے تھے۔“
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِينَ
📘 آیت 73{ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ } ”تو دیکھ لو ! کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جنہیں خبردار کردیا گیا تھا۔“ اس حوالے سے قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم ہود علیہ السلام ‘ قوم صالح علیہ السلام ‘ قوم شعیب علیہ السلام ‘ قوم لوط علیہ السلام اور آلِ فرعون کے عبرتناک انجام کی تفصیلات قرآن میں جا بجا بیان فرمائی گئی ہیں۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 آیت 74{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے خاص بندوں کے۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی ہر زمانے میں ہر جگہ پر مدد کی اور انہیں اس انجامِ بد سے بچالیا جس سے اللہ کے نافرمان لوگ دو چار ہوئے۔
وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ
📘 آیت 75{ وَلَقَدْ نَادٰٹنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ } ”اور ہمیں پکارا تھا نوح علیہ السلام نے ‘ تو ہم کیا ہی اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں !“ حضرت نوح کی اس دعا کا ذکر سورة القمر میں ان الفاظ میں ہوا ہے : { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ } یعنی اس نے ربّ سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں ‘ انہوں نے مجھے دبا لیا ہے ‘ اب ُ تو ہی میری مدد فرما اور تو ہی ان سے میرا بدلہ لے ! چناچہ اللہ کی مدد آگئی۔
وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ
📘 آیت 76{ وَنَجَّیْنٰہُ وَاَہْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ } ”اور ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے۔“ یہ ”کربِ عظیم“ کیا تھا ؟ اس کو سمجھنے کے لیے حضرت نوح کی قوم اور معاشرے کے حالات کی تصویر ذہن میں لائیے۔ چشم تصور سے دیکھئے کہ کس طرح اللہ کا ایک بندہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہے۔ اس کے لیے وہ دن دیکھتا ہے نہ رات۔ اجتماعی دعوت بھی دے رہا ہے ‘ انفرادی ملاقاتیں بھی کر رہا ہے ‘ ہر موقع آزما رہا ہے ‘ ہر ذریعہ اور ہر طریقہ بروئے کار لا رہا ہے ‘ جبکہ جواب میں اس کی اپنی قوم کے لوگ مسلسل اس سے استہزاء کر رہے ہیں ‘ اس کا تمسخر اڑا رہے ہیں اور اس پر پھبتیاں کس رہے ہیں۔ اس جان لیوا جدوجہد میں دس بیس یا پچاس برس تک نہیں ‘ پورے ساڑھے نو سو سال تک اپنی جان کو گھلاتے چلے جانا اور اس کے جواب میں قوم کے مخالفانہ رویے کا سامنا کرنا اور پھر اس مخالفت پر صبر کرنا کوئی معمولی کرب اور ضیق نہیں تھا۔ اسی طرح کے کرب اور ضیق کا سامنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مکی دور میں اس وقت کرنا پڑا تھا جب مشرکین بار بار کسی معجزے کا مطالبہ کر کے آپ ﷺ پر گویا اتمامِ حجت کر رہے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہمیں ایسے معجزات دکھائیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ نے اپنی قوموں کو دکھائے تھے۔ اس حوالے سے آپ ﷺ پر عوام کا دبائو مسلسل بڑھتا جا رہا تھا ‘ جبکہ اللہ کا فیصلہ اس حوالے سے یہ تھا کہ اس طرح کا کوئی حسی ّمعجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ اس صورت حال میں آپ ﷺ گویا چکی ّکے دو پاٹوں کے درمیان آ چکے تھے۔ سورة الانعام کے مطالعے کے دوران حضور ﷺ کے اس کرب عظیم کی کیفیت کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ سورة الانعام کی متعلقہ آیات اس موضوع پر گویا ذروہ سنام climax کا درجہ رکھتی ہیں۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اہل ایمان کو گویا اشارۃً بتایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو تو ابھی راہ حق میں سختیاں جھیلتے ہوئے صرف دس بارہ سال ہی ہوئے ہیں۔ اپنی تکلیفوں کے بارے میں سوچتے ہوئے ذرا ہمارے بندے نوح علیہ السلام کے صبر و استقامت کو بھی مد ِنظر رکھو جو ساڑھے نو سو سال تک اس طرح کے ”کرب“ کا سامنا کرتے رہے۔ اس میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح نوح اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کو اس کرب عظیم سے بچایا گیا ‘ اسی طرح آخر کار محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو بھی ہم اس کرب عظیم سے نجات دلائیں گے جس میں اہل ِمکہ ّنے ان کو مبتلا کر رکھا ہے۔ پھر پانی کا عذاب بذات خود ایک ”کربِ عظیم“ تھا جو حضرت نوح کی قوم پر مسلط ہوا تھا۔ یعنی یوں تو نہیں ہوا ہوگا کہ سیلاب آیا اور حق کے مخالفین سب کے سب آنِ واحد میں غرق ہوگئے۔ آج بھی اگر ہم اس خوفناک صورت حال کی تصویر اپنے ذہنوں میں لا کر غور کریں تو ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس سیلابِ بلا کی انتہائی غیر معمولی صورت حال کو دیکھ کر وہ لوگ تشویش و تفکر ّکے کون کون سے مراحل سے گزرے ہوں گے ‘ کیسی کیسی حفاظتی تدابیر لڑائی گئی ہوں گی ‘ جانیں بچانے کے لیے کیا کیا بھگڈر اور ہلچل مچی ہوگی۔ گویا سیلاب کی وجہ سے اس قوم کے لیے قیامت صغریٰ کا منظر ہوگا۔ اور کسی نہ کسی درجے میں { اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ} الح ج کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہوگی۔ یہ سب کچھ بذات خود ایک ”کربِ عظیم“ تھا ‘ جس کا سامنا حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کو بھی تھا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے انہیں اس ”کربِ عظیم“ سے محفوظ رکھا۔
وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ
📘 آیت 77{ وَجَعَلْنَا ذُرِّیَّـتَہٗ ہُمُ الْبٰقِیْنَ } ”اور ہم نے اس کی اولاد کو ہی باقی رہنے والابنایا۔“ یہ آیت فلسفہ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس میں اسلوبِ حصر کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ صرف نوح علیہ السلام ہی کی اولاد کو ہم نے باقی رہنے والا بنایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیلاب کے بعد دنیا میں بنی نوع انسان کی نسل صرف حضرت نوح کے بیٹوں سے ہی چلی تھی۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے رویے کے حوالے سے قرآن میں جا بجا جو اشارے ملتے ہیں اس سے تو یہی گمان ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں سے شاید کوئی بھی آپ علیہ السلام پر ایمان نہیں لایا تھا۔ بلکہ سورة ہود کے الفاظ : { وَمَآاٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلاَّ قَلِیْلٌ۔ } سے تو ایسے ہی لگتا ہے جیسے کشتی میں گنتی کے چند افراد تھے جن میں آپ علیہ السلام خود تھے ‘ آپ علیہ السلام کے تین بیٹے اور ان کے اہل و عیال تھے یا ممکن ہے آپ علیہ السلام کی کوئی بیوی بھی آپ علیہ السلام کے ہمراہ ہو۔ اس کے علاوہ کچھ خادمین اور ملازمین ہوں گے اور بس۔ آپ علیہ السلام کی ایک بیوی اور ایک بیٹا تو غرق ہونے والوں میں شامل تھے۔ اگر کوئی ُ خدام ّوغیرہ تھے بھی تو ان کی نسل آگے چلنے کا اہتمام نہیں ہوا ہوگا۔ چناچہ اس کے بعد نسل انسانی آپ علیہ السلام کے تین بیٹوں سام ‘ حام اور یافث سے ہی چلی۔ اسی لیے آپ علیہ السلام کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق تقریباً دو ہزار برس کے عرصے میں انسانی آبادی دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہے۔ ورنہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک انسانی آبادی صرف اسی علاقے تک محدود تھی جو سب کی سب سیلاب کی وجہ سے ختم ہوگئی اور صرف وہی چند نفوس زندہ بچے جو آپ علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں یہ مفہوم بہت واضح ہے کہ سیلاب کے بعد نسل انسانی صرف آپ علیہ السلام کے بیٹوں ذُرِّیَّتَہٗ سے ہی آگے چلی۔ کشتی میں اگر آپ علیہ السلام کے خاندان کے علاوہ کچھ اور لوگ موجود تھے بھی تو ان میں سے کسی کی نسل آگے نہ چل سکی۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
📘 آیت 78{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور ہم نے اسی کے طریقے پر بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو چھوڑا۔“ یعنی بعد میں آپ علیہ السلام کی نسل میں سے بھی لوگ آپ علیہ السلام کے راستے پر چلتے رہے۔ آپ علیہ السلام کے بیٹوں کی اولادیں کچھ عرصہ تک تو یقینا دین حق اور دین توحید پر چلتی رہی ہوں گی ‘ لیکن بالآخر شیطان نے انہیں بھی گمراہ کردیا اور مختلف قسم کے توہمات اور شرک میں مبتلا کردیا۔
سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ
📘 آیت 79{ سَلٰمٌ عَلٰی نُوْحٍ فِی الْْعٰلَمِیْنَ } ”سلام ہو نوح علیہ السلام پر تمام جہانوں میں !“
لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ
📘 آیت 8{ لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی } ”وہ سن نہیں پاتے ملأ اعلیٰ کی باتیں“ اصل میں یہ فعل یَتَسَمَّعُوْنَ باب تفعّل تھا ‘ جو یَسَّمَّعُوْنَ بن گیا ہے۔ { وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ { ”اور ان کو مار پڑتی ہے ہر طرف سے۔“ عالم بالا تک ان کی رسائی کو روکنے کے لیے ان پر میزائل فائر کیے جاتے ہیں۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 آیت 80{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ } ”یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔“ ”محسن“ وہ شخص ہے جو اسلام اور ایمان کے مدارج طے کر کے درجہ احسان تک پہنچ جائے۔
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 آیت 81{ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔“
ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ
📘 آیت 82{ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ } ”پھر ہم نے غرق کردیا باقی سب کو۔“
۞ وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ
📘 آیت 83{ وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِیْمَ } ”اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم علیہ السلام بھی تھا۔“ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی دین حق اور نظریہ توحید کے پیروکار تھے جس پر حضرت نوح علیہ السلام کاربند تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام کی نسل سے تھا۔ اسی طرح قوم عاد اور قوم ثمود بھی سامی النسل تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش شہر اُر میں ہوئی جو موجودہ عراق کے جنوبی علاقے میں اپنے وقت کا مشہور شہر تھا۔ اس شہر کے کھنڈرات دریافت ہوچکے ہیں۔
إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
📘 آیت 84{ اِذْ جَآئَ رَبَّہٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ } ”جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا قلب ِسلیم کے ساتھ۔“ توحید کی معرفت کے حوالے سے انسان کی فطر تِ سلیمہ اور عقل سلیم کا ذکر قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران اس سے پہلے بھی متعدد بار ہوچکا ہے۔ فطرت کا تعلق چونکہ روح سے ہے اور روح کا مسکن قلب انسانی ہے اس لیے یوں سمجھ لیں کہ فطرتِ سلیمہ اور قلب سلیم انسان کی ایک ہی کیفیت کا نام ہے۔ یعنی انسانی دل کی وہ کیفیت جس میں اس کی روح اور فطرت اپنی اصلی حالت میں ہو ‘ اس کے اصل خدوخال صحیح سلامت ہوں ‘ اس پر غفلت اور مادیت کے پردے نہ پڑچکے ہوں اور وہ مسخ perverted نہ ہوچکی ہو۔ انسانی فطرت کی اس کیفیت کے لیے صوفیاء ”سیر الی اللہ“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ایک انسان ایسے قلب سلیم کے ساتھ جب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو عقل سلیم کی روشنی میں اسے توحید کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر وہ اس سے آگے بڑھ کر ”معاد“ یعنی آخرت کے فلسفے کی تہہ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ اس حوالے سے میں قبل ازیں متعدد بار سورة الفاتحہ کا حوالہ بھی دے چکا ہوں کہ سورة الفاتحہ ایک ایسے ہی انسان کی فطرت کی پکار ہے جو اللہ اور توحید کی معرفت بھی حاصل کرچکا ہے ‘ آخرت کی اہمیت و ضرورت کا بھی قائل ہوچکا ہے اور اس نتیجے پر بھی پہنچ چکا ہے کہ ”اللہ کی بندگی“ ہی اصل طریقہ زندگی ہے ‘ مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ کی بندگی کیسے کی جائے۔ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے بہت سے ایسے ”موحدین“ مکہ میں موجود تھے۔ مثلاً حضرت عمر کے بہنوئی حضرت سعید رض کے والد زید ایک ایسے ہی موحد تھے جو کعبے کے پردوں سے لپٹ کر دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں صرف تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر میں نہیں جانتا کہ تیری بندگی کیسے کروں۔ سورة الفاتحہ کے نظم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی فطرتِ سلیمہ ہی کی پکار ہے جس کو قرآن نے { اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } کے الفاظ عطا کیے ہیں۔ یعنی فطرتِ سلیمہ کا حامل ایک انسان اپنی عقل سلیم کی مدد سے { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } تک پہنچ گیا۔ یعنی اس نے اللہ کو پہچان لیا ہے اور اس کے لیے شکر و ثنا کے جذبات کی کو نپلیں بھی اس کے دل میں پھوٹ پڑی ہیں۔ اس نے اپنے اللہ اور اپنے رب کو ایک { الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ } ذات کے طور پر بھی پہچان لیا ہے ‘ اسے { مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ } کا عرفان بھی حاصل ہوگیا ہے۔ گویا اس کی فطرتِ سلیمہ نے نہ صرف اسے آخرت کے احتساب کی ضرورت اور منطق بھی سمجھا دی ہے ‘ بلکہ یہ لطیف نکتہ بھی اس کے دل میں بٹھا دیا ہے کہ وہی اللہ جو ربّ العالمین ہے ‘ جس کی رحمت اور مہربانی سے اس کائنات کی ایک ایک چیز قائم ہے ‘ وہی اللہ احتساب اور بدلے کے دن کا مالک بھی ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر گویا اس کی زبان بےاختیار { اِیَّاکَ نَعْبُدُ َواِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } کا اقرار کرتی ہے ‘ مگر اس سے آگے اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اس کی فطرتِ سلیمہ اس راستے پر اسے صرف اسی مقام تک راہنمائی فراہم کرسکتی تھی اور اس کی عقل سلیم کی پرواز بس یہیں تک تھی۔ اس سے آگے نور وحی کی راہنمائی درکار ہے۔ چناچہ اس کے منہ میں یہ دعائیہ الفاظ ڈال دیے گئے : { اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ } کہ اے اللہ ! اے ربّ العالمین ! اب تو خودہماری دستگیری فرما ! ہمیں اپنی بندگی کی ہدایت بھی دے اور اس رستے پر چلنے کے لیے مدد اور توفیق بھی مرحمت فرما ‘ تاکہ ہم تیری بندگی کا حق ادا کرسکیں۔ اس دعا کے جواب میں پھر قرآن کی صورت میں اسے یہ راہنمائی مہیاکر دی گئی۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ
📘 آیت 85{ اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَاذَا تَعْبُدُوْنَ } ”جب کہ اس نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ کن چیزوں کو پوجتے ہو !“
أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ
📘 آیت 86{ اَئِفْکًا اٰلِہَۃً دُوْنَ اللّٰہِ تُرِیْدُوْنَ } ”کیا تم لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ معبودوں کو چاہتے ہو !“ ”اِفک“ کے معنی ہیں گھڑی ہوئی چیز ‘ جس کی حقیقت کچھ نہ ہو۔ تُرِیْدُوْنکے الفاظ میں ان من گھڑت معبودوں کے لیے ان لوگوں کی چاہت اور محبت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی تم لوگ ان کے طالب ہو اور وہ تمہارے محبوب و مطلوب ہیں۔ سورة الحج میں ایسے طالب و مطلوب کی حیثیت اور اوقات کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے : { ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوْبُ۔ ”کس قدر کمزور ہے طالب بھی اور مطلوب بھی !“
فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ
📘 آیت 87{ فَمَا ظَنُّکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو تمہارا کیا گمان ہے ربّ العالمین کے بارے میں ؟“ اس ہستی کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے ؟“
فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ
📘 آیت 88{ فَنَظَرَ نَظْرَۃً فِی النُّجُوْمِ } ”پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔“ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں پر نگاہ ڈال کر گویا یہ تاثر دیا کہ وہ ستارہ شناسی کی مدد سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ
📘 آیت 89{ فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ } ”پھر کہا کہ میں تو بیمار ہوں۔“ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ‘ یا یہ کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ مجھے خدشہ ہے کہ مجھ پر بیماری آنے والی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں بت پرستی بھی عام تھی اور ستارہ پرستی بھی۔ ان کے ہاں ہندوئوں کے جنم اشٹمی کے میلے کی طرز پر سالانہ ایک جشن منایا جاتا تھا۔ اس موقع پر شہر کے تمام لوگ باہر کھلے میدان میں جا کر کسی ستارے کی پرستش کیا کرتے تھے۔ چناچہ جب جشن کا دن آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میری تو طبیعت خراب ہے ‘ میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جاسکتا۔ اس طرح آپ علیہ السلام پیچھے رہ گئے۔
دُحُورًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ
📘 آیت 9{ دُحُوْرًا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۔ ”بھگانے کے لیے ‘ اور ان کے لیے پھر ایک دائمی عذاب ہے۔“
فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ
📘 آیت 90{ فَتَوَلَّوْا عَنْہُ مُدْبِرِیْنَ } ”تو وہ اس سے ِپھرگئے پیٹھ پھیرتے ہوئے۔“ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ کر وہ لوگ اپنی پوجا پاٹ کے لیے چلے گئے۔
فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ
📘 آیت 91{ فَرَاغَ اِلٰٓی اٰلِہَتِہِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْکُلُوْنَ } ”پھر وہ چپکے سے ان کے معبودوں میں جا گھسا اور کہنے لگا کہ تم کھاتے کیوں نہیں ؟“ لوگوں کے چلے جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے مندر میں گھس گئے۔ جشن کے مخصوص موقع کے حوالے سے نذرانوں کے طور پر ُ بتوں کے سامنے لازماً انواع و اقسام کے کھانے سجائے گئے ہوں گے۔ چناچہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مزے مزے کے کھانے تمہارے سامنے پڑے ہیں مگر آپ لوگ تناول نہیں فرما رہے ؟
مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ
📘 آیت 92{ مَا لَکُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم بولتے بھی نہیں ہو !“
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
📘 آیت 93{ فَرَاغَ عَلَیْہِمْ ضَرْبًام بِالْیَمِیْنِ } ”پھر وہ پل پڑا ان پر ضرب لگاتا ہوا داہنے ہاتھ سے۔“ یعنی پھر آپ علیہ السلام نے پوری قوت سے ان پر تیشے وغیرہ کے وار کرنے شروع کردیے۔
فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ
📘 آیت 94{ فَاَقْبَلُوْٓا اِلَیْہِ یَزِفُّوْنَ } ”تو وہ اس کی طرف آئے ‘ دوڑتے ہوئے۔“ اس واقعہ کے بارے میں کچھ تفصیل سورة الانبیاء کے پانچویں رکوع میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہاں پر باقی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ کر چورا کردیا ‘ سوائے ایک بڑے بت کے۔ صورتِ حال انتہائی نازک اور تشویشناک تھی اور اس غیر معمولی واقعہ کے بعد شہر میں تو گویا قیامت برپا ہوگئی ہوگی۔ لیکن جب قوم کے بہت سے لوگ غیظ و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں بھاگم بھاگ آپ علیہ السلام تک پہنچے تو آپ علیہ السلام نے نہ صرف بلا خوف ان کا سامنا کیا بلکہ ان کے ساتھ مدلل مناظرہ بھی کیا :
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
📘 آیت 95{ قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ } ”اس نے کہا : کیا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں تم خود تراشتے ہو !“
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
📘 آیت 96{ وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ } ”جبکہ اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں بھی اور جو کچھ تم بناتے ہو اس کو بھی۔“ یہ آیت حکمت اور فلسفہ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انسان ”کا سب ِعمل“ تو ہے مگر ”خالق عمل“ نہیں ہے۔ مثلاً میں ارادہ کرتا ہوں کہ اپنے سامنے پڑا ہوا پیالہ اٹھائوں۔ اس میں ارادے کی حد تک تو مجھے اختیار ہے مگر اللہ کے اذن کے بغیر اس پیالے کو اٹھانا میرے بس کی بات نہیں ہے۔ اس میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔ میرے اٹھانے سے پہلے اس پیالے پر کوئی دوسری قوت بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے میرا دماغ میرے ارادے یا فیصلے کو میرے ہاتھوں تک پہنچا بھی نہ پائے۔ بہر حال انسان کا عمل دخل اس حوالے سے صرف ارادے تک محدود ہے اور اسی ارادے کے مطابق ہی وہ سزا یا جزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی واقعہ یا کوئی عمل وقوع پذیر نہیں ہوسکتا۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ان لوگوں کو خاص طور پر بتایا گیا کہ تم نے ان بتوں کو اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے نا ! لیکن تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو ‘ اور تمہارے جو بھی اعمال و اَفعال ہیں ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔
قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ
📘 آیت 97{ قَالُوا ابْنُوْا لَہٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْہُ فِی الْْجَحِیْمِ } ”انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک عمارت بنائو ‘ پھر اس کو شعلے مارتی ہوئی آگ میں جھونک دو۔“
فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ
📘 آیت 98{ فَاَرَادُوْا بِہٖ کَیْدًا فَجَعَلْنٰہُمُ الْاَسْفَلِیْنَ } ”تو اس طرح انہوں نے اس کے ساتھ ایک دائو آزمایا ‘ لیکن ہم نے ان کو ہی نیچا دکھادیا۔“ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کون سا دائو آزمایا تھا ‘ اس کی وضاحت قبل ازیں سورة الانبیاء کی آیت 70 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ دراصل وہ لوگ آپ علیہ السلام کو آگ میں جلانا نہیں چاہتے تھے بلکہ محض ڈرانا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ان کے لیے آگ کا اتنا بڑا الائو دہکایا جا رہا ہے تو سارا نشہ ہرن ہوجائے گا ‘ اور پھر جب انہیں آگ کے دہانے پر لاکر کھڑا کیا جائے گا تو ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور آپ علیہ السلام تائب ہو کر اپنے عقائد سے رجوع کرلیں گے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح یہ ”فتنہ“ دب جائے گا۔ لیکن یہاں تو معاملہ بالکل ہی الٹ ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو الائو کے دہانے پر لایا گیا تو بقول اقبالؔ: ؎بے خطر کود پڑا آتش ِنمرود میں عشق عقل ہے محو ِتماشائے لب ِبام ابھی ! بہر حال جب ابراہیم علیہ السلام نے بھرپور استقامت کا مظاہرہ کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے آگ کو گل و گلزار بنا دیا۔ اس طرح وہ لوگ اپنے ارادوں اور منصوبوں سمیت خائب و خاسر ہوگئے۔
وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ
📘 آیت 99{ وَقَالَ اِنِّیْ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ } ”اور اب اس نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ‘ وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔“ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی یا رسول کے قتل پر آمادہ ہوجائے تو پھر وہ نبی یا رسول مزید اس قوم کے درمیان نہیں رہتے۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے تو آپ علیہ السلام کے قتل کی صرف منصوبہ بندی ہی نہیں کی تھی بلکہ آپ علیہ السلام کو بالفعل آگ میں ڈال دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے آپ علیہ السلام کو معجزانہ طور پر بچا لیا۔ اسی طرح یہودیوں نے بھی اپنے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا اور آپ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اسی طرح مشرکین مکہ نے بھی جب محمد رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا اور آپ ﷺ کو قتل کرنے کے لیے جمع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اپنے پیغمبر ﷺ کو مدینہ منورہ پہنچا دیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کے تحت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت تک آپ علیہ السلام کو شاید ہجرت کی منزل کے بارے میں معلوم نہیں تھا ‘ اس لیے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا پروردگار خود میری راہنمائی فرمائے گا کہ مجھے کدھر جانا ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت کی ‘ جس کے لیے آپ علیہ السلام کو بہت لمبا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ عراق ‘ شام اور فلسطین کے درمیان شرق اردن کا پورا علاقہ لق و دق صحرا پر مشتمل ہے ‘ جسے عبور کرنا بالکل ناممکن تھا۔ چناچہ آپ علیہ السلام دریائے فرات کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے اوپر شام کے شمالی علاقے ”باران“ پہنچے اور وہاں سے نیچے فلسطین کے علاقے میں داخل ہوئے۔