🕋 تفسير سورة التغابن
(At-Taghabun) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 ’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
📘 کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔
مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
📘 کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ۚ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَإِنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
📘 کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
📘 کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَأَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ ۚ وَإِنْ تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357
انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔
إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۚ وَاللَّهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ
📘 انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357
انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ ۗ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
📘 انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357
انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔
إِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ
📘 انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357
انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔
عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
📘 انسان کو سب سے زیادہ تعلق اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔ آدمی ہر دوسرے معاملے میں اصول کی باتیں کرتا ہے مگر جب اپنی اولاد کا معاملہ آتا ہے تو وہ بے اصول بن جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ اولاد کسی آدمی کو بزدلی اور بخل پر مجبور کرنے والے ہیں (إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ اس کے بیوی بچے اس کی نیکیاں کھا گئے (يُؤتَى بِرَجُلٍ يومَ القِيامَةِ، فيُقالُأكَلَ عيالُه حَسَنَاتِه) تخریج احادیث الکشاف للزیلعی، حدیث نمبر 1357
انسان اپنے بچوں کی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ حالانکہ اگر وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو مختلف شکلوں میں اللہ اس کی طرف اس سے بہت زیادہ لوٹائے گا جتنا اس نے اللہ کی راہ میں دیا تھا۔
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَمِنْكُمْ مُؤْمِنٌ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
📘 ’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
📘 ’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔
يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
📘 ’’کائنات اللہ کی تسبیح کر رہی ہے‘‘کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس حقیقت کو قرآن میں کھولا ہے، کائنات سراپا اس کی تصدیق بنی ہوئی ہے، وہ زبان حال سے حمدوستائش کی حد تک اس کی تائید کر رہی ہے۔ اس دو طرفہ اعلان کے باوجود جو لوگ مومن نہ بنیں انہیں اس کے بعد تیسرے اعلان کا انتظار کرنا چاہيے جب کہ تمام لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے، تاکہ خود مالک کائنات کی زبان سے اپنے بارے میں آخری فیصلہ کو سنیں۔
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
📘 قدیم زمانہ میں رسولوں کے ذریعہ جو تاریخ بنی وہ انسانوں کے لیے مستقل نمونہ عبرت ہے۔ مثلاً عاد اور ثمود اور اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کے درمیان پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے پاس اپنی صداقت بتانے کے لیے کوئی غیر بشری کمال نہ تھا، بلکہ صرف دلیل تھی۔ دلیل کی سطح پر انکار نے ان قوموں کو عذاب کا مستحق بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دلیل کی سطح پر حق کو پہچانے۔ جو شخص دلیل کی سطح پر حق کو پہچاننے میں ناکام رہے، وہ ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا وَتَوَلَّوْا ۚ وَاسْتَغْنَى اللَّهُ ۚ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَمِيدٌ
📘 قدیم زمانہ میں رسولوں کے ذریعہ جو تاریخ بنی وہ انسانوں کے لیے مستقل نمونہ عبرت ہے۔ مثلاً عاد اور ثمود اور اہل مدین اور قوم لوط وغیرہ کے درمیان پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں کے پاس اپنی صداقت بتانے کے لیے کوئی غیر بشری کمال نہ تھا، بلکہ صرف دلیل تھی۔ دلیل کی سطح پر انکار نے ان قوموں کو عذاب کا مستحق بنا دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ دلیل کی سطح پر حق کو پہچانے۔ جو شخص دلیل کی سطح پر حق کو پہچاننے میں ناکام رہے، وہ ہمیشہ کے لیے حق سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔
زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا ۚ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
📘 کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔
فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالنُّورِ الَّذِي أَنْزَلْنَا ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
📘 کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔
يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ۖ ذَٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ ۗ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
📘 کوئی مصیبت اپنے آپ نہیں آتی، ہر مصیبت خدا کی طرف سے آتی ہے۔ اور اس لیے آتی ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان کو ہدایت عطا کی جائے۔ مصیبت آدمی کے دل کو نرم کرتی ہے۔ اور اس کی سوئی ہوئی نفسیات میں ہلچل پیدا کرتی ہے۔ مصیبت کے جھٹکے آدمی کے ذہن کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو منفی رد عمل سے بچائے تو مصیبت اس کے لیے بہترین ربانی معلم بن جائے گی۔