WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة هود

(Hud) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الر ۚ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ

📘 آیت 1 الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید میں شروع شروع میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ حجم کے اعتبار سے تو چھوٹی ‘ لیکن بہت جامع اور گہرے مفہوم کی حامل ہیں ‘ جیسے کو زے میں سمندر کو بند کردیا گیا ہو۔ مثلاً سورة العصر ‘ جس کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں : لَوْلَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَکَفَتِ النَّاس یعنی ”اگر اس سورت کے علاوہ قرآن میں کچھ بھی نازل نہ ہوتا تو بھی یہ سورت لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی“۔ امام شافعی سورة العصر کے بارے میں مزید فرماتے ہیں : لَوْ تَدَبَّرَ النَّاسُ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ لَوَسِعَتْھُمْ ”اگر لوگ اس سورت پر ہی تدبر کریں تو یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوجائے گی“۔ چناچہ قرآن مجید کی ابتدائی سورتیں اور آیات بہت محکم اور جامع ہیں اور بعد میں انہی کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اور اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے :

وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ

📘 اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُــوْرٌ جب کسی سختی کے بعد انسان کو آسائش یا کوئی نعمت مل جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ اسے اللہ کی رحمت اور اس کا انعام سمجھتے ہوئے سجدۂ شکر بجا لائے وہ اس پر اترانا اور ڈینگیں مارنا شروع کردیتا ہے اور اسے اپنی تدبیر کا نتیجہ اور اپنی محنت کا صلہ قرار دیتا ہے۔

ذَٰلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ

📘 آیت 100 ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌحَصِیْدٌ کا لفظ اس کھیت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی فصل کاٹ لی گئی ہو۔ فصل کے کٹنے کے بعد کھیت میں جو ویرانی کا منظر ہوتا ہے اس کے ساتھ عذاب استیصال سے تباہ شدہ بستیوں کو تشبیہہ دی گئی ہے۔ پھر ان بستیوں میں کچھ تو ایسی ہیں جن کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کے آثار کو باقی رکھا گیا ہے۔ مثلاً قوم عاد کی آبادیوں کا کوئی نشان تک نہیں ملتا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قوم کہاں آبادتھی اگرچہ حال ہی میں سیٹلائٹ کے ذریعے ان کے شہر اور شداد کی جنت کے کچھ آثار زیر زمین ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دوسری طرف قوم ثمود کے مکانات کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں۔

وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ۖ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ

📘 وَمَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب استیصال کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ان کی ہلاکت و بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔

وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ

📘 آیت 102 وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌجب کسی بستی میں گناہ اور معصیت کا چلن عام ہوجاتا ہے تو وہ گویا ”ظلم“ کی مرتکب ہو کر عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے۔اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ اللہ کی پکڑ کے بارے میں سورة البروج میں فرمایا گیا : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ”یقیناً تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔“

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ

📘 آیت 102 وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌجب کسی بستی میں گناہ اور معصیت کا چلن عام ہوجاتا ہے تو وہ گویا ”ظلم“ کی مرتکب ہو کر عذاب کی مستحق ہوجاتی ہے۔اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ اللہ کی پکڑ کے بارے میں سورة البروج میں فرمایا گیا : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ ”یقیناً تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔“

وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَعْدُودٍ

📘 آیت 104 وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ اس کے آنے کی ایک گھڑی معین ہے جس کو باقاعدہ گن کر اور حساب لگا کر طے کیا گیا ہے۔

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ

📘 آیت 105 يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ یعنی کچھ انسان بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔

فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ

📘 فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّشَهِيْقٌوہ لوگ درد اور کرب کی وجہ سے چیخ و پکار کریں گے اور پھنکارے ماریں گے۔

خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ

📘 آیت 107 خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَاۗءَ رَبُّكَ یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے۔ یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں خٰلِدِیْنَ فِیْہَا کے ساتھ کچھ استثنات بھی آئے ہیں۔ جہنم اور جنت کب تک رہیں گی یا جہنمی اور جنتی لوگ ان میں کب تک رہیں گے ؟ اس کے بارے میں فرمایا : مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے۔ اس سے مراد ابدیت بھی ہوسکتی ہے اور اس طرح کا کوئی اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید کبھی کوئی ایسا وقت آئے جب زمین و آسمان کا وہ نظام بدل بھی جائے اور کوئی دوسرا نظام اس کی جگہ لے لے۔ واضح رہے کہ اس ”زمین و آسمان“ سے مراد بھی موجودہ زمین و آسمان نہیں ہوسکتے ‘ اس لیے کہ ازروئے الفاظ قرآنی یہ تو قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں گے اور یہاں قیامت کے بعد پیش آنے والے حالات و واقعات کا ذکر ہو رہا ہے۔ پھر اس میں بھی ایک استثناء بیان کیا گیا ہے : اِلاَّ مَا شَآءَ رَبُّکَ ”سوائے اس کے جو تیرا رب چاہے“۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کے عذاب میں تخفیف کرنا چاہے یا کسی کو ایک مدت تک عذاب دے کر جہنم سے نکالنے کا فیصلہ فرمائے تو اسے اس کا پورا اختیار ہے۔ جزا و سزا کے بارے میں بھی اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار مطلق ہے ‘ لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا طے شدہ فیصلہ ہے کہ کفار کے لیے جہنم ابدی ٹھکانہ ہے۔ واللہ اعلم !

۞ وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ ۖ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ

📘 عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ان آیات میں جنت اور جہنم کا جو موازنہ کیا گیا ہے اس میں جنت کے لیے عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ کے الفاظ اضافی طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے لفظی فرق و تفاوت کا جب علماء و مفسرین باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو ان سے بڑے بڑے فلسفیانہ نکات پیدا ہوتے ہیں۔ چناچہ جنت اور جہنم کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ اور شیخ ابن عربی دونوں نے ایک رائے پیش کی ہے جو اہل سنت کے عام اجماعی عقیدے سے مختلف ہے۔ ان دونوں بزرگوں کے درمیان اگرچہ بڑا نظریاتی بعد ہے امام ابن تیمیہ بعض اوقات شیخ محی الدین ابن عربی پر تنقید کرتے ہوئے بہت سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں مگر اس رائے میں دونوں کا اتفاق ہے کہ جنت تو ابدی ہے مگر جہنم ابدی نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا ‘ چاہے وہ ارب ہا سال کے بعد آئے ‘ جب جہنم ختم کردی جائے گی۔ اس کے برعکس اہل سنت کا اجماعی عقیدہ یہی ہے کہ جنت اور جہنم دونوں ابدی ہیں۔ واللہ اعلم !

فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَٰؤُلَاءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ

📘 مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ یہ تو بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔

إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

📘 آیت 11 اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یعنی سب انسان ایک جیسے نہیں ‘ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو اللہ نے حقیقی ایمان کی نعمت سے نواز رکھا ہے اور ایمان کے نتیجے میں ان کے دل صبر کی دولت سے مالا مال ہیں اور ان کے کردار سے اعمال صالحہ کے نور کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ

📘 وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ یہ بات سورة الشوریٰ میں وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ ہر رسول کی امت اپنی الہامی کتاب کی وارث ہوتی ہے۔ پھر جب اس امت پر زوال آتا ہے تو اپنی اس کتاب کے بارے میں بھی ان کے ہاں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں کہ واقعتا یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں !

وَإِنَّ كُلًّا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ ۚ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

📘 وَاِنَّهُمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ یہ بات سورة الشوریٰ میں وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ ہر رسول کی امت اپنی الہامی کتاب کی وارث ہوتی ہے۔ پھر جب اس امت پر زوال آتا ہے تو اپنی اس کتاب کے بارے میں بھی ان کے ہاں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں کہ واقعتا یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں !

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

📘 آیت 112 فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ آپ کے ساتھ وہ لوگ بھی صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں جو شرک سے باز آئے ہیں جنہوں نے کفر کو چھوڑا ہے اور آپ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔وَلاَ تَطْغَوْاتجاوز کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ منکرین حق پر جلد عذاب لے آنے کی خواہش کریں اور یہ بھی کہ چاروں طرف سے ان لوگوں کی مخالفت کے سبب کسی لمحے غصے میں آجائیں اور حلم و بردباری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌاللہ تعالیٰ تمہارے اعمال بھی دیکھ رہا ہے اور جو کچھ تمہارے مخالفین کر رہے ہیں ان کی تمام حرکتیں بھی اس کے علم میں ہیں۔ اس لیے اس کے ہاں سے تمہیں تمہارا اجر وثواب ملے گا اور ان لوگوں کو ان کے کرتوتوں کی سزاملے گی۔

وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ

📘 آیت 113 وَلَا تَرْكَنُوْٓا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْایہ خالص حق اور باطل کی کش مکش ہے اس میں کہیں کوئی رشتہ داری کا معاملہ کوئی پرانے مراسم قبیلے کی محبت وغیرہ عوامل تم لوگوں کو کسی لمحے ان کی طرف جھکنے پر مائل نہ کریں۔

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ

📘 آیت 114 وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ دن کے دونوں سروں پر فجر اور عصر کے اوقات ہیں جبکہ رات میں مغرب اور عشاء شامل ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ پانچ نمازوں کا موجودہ نظام گیارہ نبوی میں معراج کے بعد قائم ہوا ہے۔ اس سے پہلے مکی دور میں تقریباً ساڑھے دس برس تک نمازوں کے بارے میں جو احکام نازل ہوئے وہ اسی نوعیت کے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں کہ حضور سے اس انداز میں صیغۂ واحد میں جو خطاب کیا جاتا ہے وہ دراصل آپ کی وساطت سے امت کو حکم دینا مقصود ہوتا ہے۔

وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

📘 آیت 114 وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ دن کے دونوں سروں پر فجر اور عصر کے اوقات ہیں جبکہ رات میں مغرب اور عشاء شامل ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ پانچ نمازوں کا موجودہ نظام گیارہ نبوی میں معراج کے بعد قائم ہوا ہے۔ اس سے پہلے مکی دور میں تقریباً ساڑھے دس برس تک نمازوں کے بارے میں جو احکام نازل ہوئے وہ اسی نوعیت کے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں کہ حضور سے اس انداز میں صیغۂ واحد میں جو خطاب کیا جاتا ہے وہ دراصل آپ کی وساطت سے امت کو حکم دینا مقصود ہوتا ہے۔

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ

📘 اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْہُمْ یہ بات قرآن میں بار بار دہرائی گئی ہے کہ حق کے علمبردار امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا کرنے والے لوگ جہاں بھی ہوں جس قوم سے بھی ہوں اللہ تعالیٰ ہمیشہ انہیں اپنی رحمت خاص سے بچا لیتا ہے۔

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ

📘 آیت 117 وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ ایسا نہیں ہوتا کہ کسی علاقے کسی ملک یا شہر میں اچھے کردار کے حامل اپنی اور دوسروں کی اصلاح میں سرگرم لوگوں کی اکثریت ہو اور اللہ پھر بھی اس بستی پر عذاب بھیج دے۔

وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

📘 آیت 118 وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے مل جل کر رہ رہے ہوں گے ان میں اختلاف رائے کا ہونا بالکل فطری بات ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہے ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور اس کے لیے اپنا اپنا استدلال ہے۔ اسی کے مطابق ان کے نظریات ہیں اور اسی کے مطابق ان کے اعمال و افعال۔ جب تک یہ استدلال علم اور قرآن وسنت کی بنیاد پر ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ‘ بشرطیکہ یہ اختلاف کی حد تک رہے اور تفرقہ کی صورت اختیار نہ کرے اور ”من دیگر م تو دیگری“ والا معاملہ نہ ہو۔ اس نکتہ کو یوں بھی سمجھنا چاہیے کہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے قرآن و سنت سے استدلال کیا ہے ‘ مگر بعض اوقات دونوں بزرگوں کی آراء میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر ایسے اہل علم حضرات کے ہاں ایسا اختلاف کبھی بھی نزاع اور تفرقہ بازی کا باعث نہیں بنتا۔ ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا کی رونق اور خوبصورتی بھی اسی تنوع اور اختلاف سے قائم ہے۔ گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن اے ذوق اس چمن کو ہے زیب اختلاف سے !اگر دنیا میں یکسانیت monotany ہی ہو تو انسان کی طبیعت اس سے اکتا جائے۔

إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

📘 آیت 119 اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کے اندر یہ اختلاف اور تنوع خود رکھا ہے۔ دنیا میں اربوں انسان ہیں مگر ان میں کوئی سے دو انسانوں کے مزاج شکل و صورت اور آواز حتیٰ کہ انگلیوں کے نشانات آپس میں نہیں ملتے۔ لہٰذا اللہ انسانوں کو پیدا ہی اسی انداز پر کرتا ہے کہ ان میں تنوع اور انفرادیت قائم رہے۔ ایک حدیث نبوی کی رو سے انسان بھی معدنیات کی طرح ہیں۔ چناچہ جس طرح معدنیات کی بیشمار اقسام ہیں مگر ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور اپنی پہچان ہے یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــــَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ یعنی تمام مشرک ‘ سرکش ‘ نافرمان اور گناہگار جنوں اور انسانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کا ایندھن بناؤں گا اور یوں ان سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اس نے جنت بنائی ہے تو اسے بھی آباد کرنا ہے اور جہنم بنائی ہے تو اسے بھی ایندھن فراہم کرنا ہے۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَنْ يَقُولُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

📘 وَضَاۗىِٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ يَّقُوْلُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَاۗءَ مَعَهٗ مَلَكٌ ۭ یہ مضمون اس سے پہلے بڑی وضاحت کے ساتھ سورة الانعام میں آچکا ہے لیکن زیر مطالعہ گروپ کی مکی سورتوں میں بھی جا بجا مشرکین کی ایسی باتوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں گروپس میں شامل یہ تمام مکی سورتیں ایک ہی دور میں نازل ہوئی ہیں۔ یہاں مکی سورتوں کی ترتیب مصحف کے بارے میں ایک اہم نکتہ سمجھ لیں۔ رسول اللہ کے قیام مکہ کے بارہ سال کے عرصے کو اگر چار چار سال کے تین حصوں میں تقسیم کریں تو پہلے حصے یعنی پہلے چار سال میں جو سورتیں نازل ہوئیں وہ قرآن مجید کے آخری دو گروپوں میں شامل ہیں ‘ یعنی سورة قٓ سے لے کر آخر تک۔ درمیانی چار سال کے دوران نازل ہونے والی سورتیں درمیانی گروپوں میں شامل ہیں اور آخری چار سال میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ شروع کے دو گروپوں میں شامل ہیں۔ ایک گروپ میں سورة الانعام اور سورة الاعراف جبکہ اس دوسرے گروپ میں سورة یونس تا سورة المؤمنون اس میں صرف ایک استثناء ہے جس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌاس دور کی سورتوں میں مختلف انداز میں بار بار حضور کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا فرض منصبی یہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو خبردار کردیں۔ اس کے بعد تمام معاملات اللہ کے حوالے ہیں۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ ایمان یا ہدایت کی توفیق کسے دینی ہے اور کسے نہیں دینی۔ کوئی معجزہ دکھانا ہے یا نہیں نافرمانوں کو کب تک مہلت دینی ہے اور کب ان پر عذاب بھیجنا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔

وَكُلًّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاءَكَ فِي هَٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 120 وَکُلاًّ نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآء الرُّسُلِ یہ ”انباء الرسل“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہوا ہے۔ حضرت نوح حضرت ہود حضرت صالح حضرت لوط حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ کے حالات ہم آپ کو بار بار اس لیے سنا رہے ہیں :مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ تا کہ ان واقعات کو سن کر آپ اور آپ کے ساتھیوں کے دلوں میں اطمینان بڑھے اور استقامت میں اضافہ ہو۔ ان واقعات کے ذریعے سے ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ میں آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا اور اسے دعوت حق پیش کی تو اس کی مخالفت اسی شد ومد سے ہوئی۔ انبیاء ورسل اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جس طرح ہم نے ہر بار اہل حق کی مدد کی اور بالآخر کامیاب وہی ہوئے ‘ اسی طرح اب بھی حق و باطل کی اس جاں گسل کشمکش میں بول بالا حق ہی کا ہوگا اور آخر کار فتح آپ کی اور آپ کے ساتھیوں ہی کی ہوگی۔وَجَآءَ کَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں یا ان واقعات میں حق اور باطل کو بالکل واضح کردیا گیا ہے اور مؤمنین کے لیے نصیحت اور یاد دہانی کا سامان بھی فراہم کردیا گیا ہے۔

وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ

📘 آیت 121 وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْط اِنَّا عٰمِلُوْنَ یعنی تم میری مخالفت اور دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو ‘ اس ضمن میں جو کرسکتے ہو بیشک میرے خلاف کر گزرو ‘ تم اپنے طریقے پر چلتے رہو ‘ ہم اپنی روش پرچلتے رہیں گے۔

وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ

📘 آیت 122 وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ کہ اللہ کی طرف سے آخری فیصلہ کیا آتا ہے۔

وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

📘 آیت 122 وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ کہ اللہ کی طرف سے آخری فیصلہ کیا آتا ہے۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

📘 قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَيٰتٍ مشرکین کو یہ چیلنج مختلف درجوں میں بار بار دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انہیں کہا گیا تھا کہ اس جیسا قرآن تم بھی بنا کر دکھاؤ بنی اسرائیل : 88۔ یہاں دوسرے درجے میں 10 سورتوں کا چیلنج دیا گیا۔ پھر اس کے بعد برسبیل تنزل صرف ایک سورت بناکر لانے کو کہا گیا ‘ جس کا تذکرہ سورة یونس آیت 38 میں بھی ہے اور سورة البقرۃ آیت 23 میں بھی۔

فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

📘 آیت 14 فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ یعنی اگر وہ اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکیں اور تمہاری مدد کو نہ پہنچ سکیں : فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَاَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ یہ کفار ہی سے خطاب ہے کہ تم لوگ اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے اپنے معبودوں کو پکار دیکھو کچھ خود محنت کرو اور کچھ ان سے کہو کہ وہ القاء اور الہام کریں اور اس طرح مل جل کر دس سورتیں بنا لاؤ۔ اور اگر تمہارے یہ معبود تمہاری اس درخواست کو قبول نہ کرسکیں تو جان لو کہ نہ صرف یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے بلکہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی نہیں۔ تو اس سب کچھ کے بعد بھی کیا تم ماننے والے نہیں ہو ؟ زور استدلال ملاحظہ ہو کہ ایک ہی دلیل سے قرآن حکیم کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت بھی دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا بھی۔

مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ

📘 آیت 15 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا جن لوگوں کا مقصد حیات ہی دنیوی مال و متاع کو حاصل کرنا ہو اور اسی کے لیے وہ رات دن دوڑ دھوپ میں لگے ہوں تو :نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ ان لوگوں کے دل و دماغ پر دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے ‘ اور انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں دنیوی زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے لیے ہی صرف کردی ہیں۔ ان کی ساری منصوبہ بندی اسی دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے ہے۔ چناچہ ان کی اونچی اونچی عمارات بھی بن گئی ہیں ‘ کاروبار بھی خوب وسیع ہوگئے ہیں ‘ ہر قسم کا سامان آسائش بھی ان کی دسترس میں ہے ‘ عیش و عشرت کے مواقع بھی حسب خواہش انہیں میسر ہیں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ :

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

📘 آیت 16 ااُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ان کی ساری محنت اور بھاگ دوڑ اسی دنیا کے لیے تھی ‘ لہٰذا ہم نے ان کی محنت کا صلہ اسی دنیا میں دے کر ان کا حساب چکا دیا ہے۔وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْہَا وَبٰطِلٌ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ روز محشر انہیں معلوم ہوگا کہ جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا اور جس کے لیے اپنی تمام تر استعدادات اور صلاحیتیں صرف کیں وہ سب ملیامیٹ ہوچکا ہے ‘ اور اگر انہوں نے اپنے دل کو بہلانے کے لیے کوئی جھوٹی سچی نیکی کی ہوگی تو وہ بھی بےبنیاد ثابت ہوگی۔

أَفَمَنْ كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ۚ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ ۚ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

📘 آیت 17 اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ بَیِّنَۃ واضح دلیل سے مراد انسان کی فطرت سلیمہ ہے۔ انسان کے اندر جو روح ربانی پھونکی گئی ہے اس کی وجہ سے اللہ کی معرفت اس کے اندر موجود ہے۔ مگر یہ معرفتِ الٰہی انسان کے اندر خوابیدہ dormant ہوتی ہے۔ پھر جب وحی کے ذریعے واضح ہدایت اس تک پہنچتی ہے تو وہ خوابیدہ معرفت فوراً جاگ جاتی ہے۔وَیَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ یعنی ایک سلیم الفطرت شخص جس کو خود اپنے وجود میں اور زمین و آسمان کی ساخت اور کائنات کے نظم و نسق میں توحید باری تعالیٰ کی واضح شہادت مل رہی تھی ‘ جب اس کے پاس قرآن کی صورت میں اللہ کی طرف سے ایک گواہی بھی آگئی ‘ تو یہ ”نورٌ علٰی نورٍ“ والا معاملہ ہوگیا۔ اور پھر اس پر مستزاد تورات کی تصدیق۔ وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً ایسا سلیم الفطرت شخص کیونکر ایمان نہیں لائے گا ؟ یہ تمثیل زیادہ وضاحت کے ساتھ سورة النور میں بیان ہوئی ہے۔وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ تو اب جو بھی اس کتاب کے منکر ہوں چاہے وہ مشرکین مکہ میں سے ہوں ‘ دوسرے کفار میں سے ‘ یا اہل کتاب میں سے ‘ ان کا موعود ٹھکانا بس دوزخ ہے۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۚ أُولَٰئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

📘 آیت 18 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًاجس نے خود کوئی چیز گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردی۔اَلاَ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ان جھوٹ گھڑنے والوں میں غلام احمد قادیانی آنجہانی اور اس جیسے دوسرے مدعیان نبوت بھی شامل ہوں گی۔

الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ

📘 آیت 19 الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًاتعلیماتِ حق اور طریق ہدایت پر خواہ مخواہ کے اعتراضات کرتے ہیں تاکہ لوگ اس راستے کو اختیار نہ کریں۔وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ یہ وہی بات ہے جو ہم سورة یونس میں بار بار پڑھ آئے ہیں : لَاْ یَرْجُوْنَ لِقَاءَ نَا کہ انہیں ہم سے ملاقات کی امید ہی نہیں اور ان کی اصل بیماری بھی یہی ہے کہ وہ دل سے آخرت کے منکر ہیں اور اسی وجہ سے ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔

أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۚ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ

📘 آیت 2 اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ انبیاء ورسل کے لیے قرآن میں بشیر اور نذیر کے الفاظ بار بار آتے ہیں۔ جیسے سورة النساء میں فرمایا : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِط وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا اور سورة الانعام میں فرمایا : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ آیت 48

أُولَٰئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ۘ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ ۚ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ

📘 آیت 20 اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ یہ لوگ اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو ہرگز شکست نہیں دے سکتے۔مَا کَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ وہ بالکل اندھے اور بہرے ہوگئے تھے۔ سورة البقرۃ میں ایسے لوگوں کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے : صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ حق کے لیے ان لوگوں کے اسی رویہ کی وجہ سے ان کا عذاب بڑھایا جاتا رہے گا۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ

📘 آیت 21 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ تب انہیں اپنے جھوٹے معبود اور سفارشی ‘ من گھڑت عقائد و نظریات اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازیوں میں سے کچھ بھی نہیں سوجھے گا۔ یہ سب کچھ پادر ہوا ہوجائے گا۔

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ

📘 آیت 22 لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ واضح رہے کہ ”اَخْسَرُ“ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔اہل جہنم کے تذکرے کے بعد فوری تقابل simultaneous contrast کے لیے اب اہل جنت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

📘 آیت 22 لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ واضح رہے کہ ”اَخْسَرُ“ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔اہل جہنم کے تذکرے کے بعد فوری تقابل simultaneous contrast کے لیے اب اہل جنت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

۞ مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

📘 هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ کیا تم اس مثال سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے ؟اب اگلے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ ان میں انہی چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم سورة الاعراف میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یعنی حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ یہ چھ رسول ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب ان سب رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ جس خطے میں یہ رسول اپنے اپنے زمانے میں مبعوث ہوئے اس کے بارے میں کچھ تفصیل ہم سورة الاعراف میں پڑھ آئے ہیں۔ یہاں ان میں سے چیدہ چیدہ معلومات ذہن میں پھر سے تازہ کرلیں۔ اگلے صفحے پر جو نقشہ دیا گیا ہے یہ گویا ”ارض القرآن“ کا نقشہ ہے۔ قرآن مجید میں جن رسولوں کے حالات کا تذکرہ ہے وہ سب کے سب اسی خطے کے اندر مبعوث کیے گئے۔ نقشے میں جزیرہ نمائے عرب کے دائیں طرف خلیج فارس اور بائیں طرف بحیرۂ قلزم بحیرۂ احمر ہے ‘ جو اوپر جا کر خلیج عقبہ اور خلیج سویز میں تقسیم ہوجاتا ہے۔نقشے پر اگر خلیج فارس سے اوپر سیدھی لکیر کھینچی جائے اور خلیج عقبہ کے شمالی کونے سے بھی ایک لکیر کھینچی جائے تو جہاں یہ دونوں لکیریں آپس میں ملیں گی ‘ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر حضرت نوح کی قوم آباد تھی۔ یہیں سے اوپر شمال کی جانب ارارات کا پہاڑی سلسلہ ہے ‘ جس میں کوہ جودی پر آپ کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ اس علاقے میں سیلاب کی صورت میں حضرت نوح کی قوم پر عذاب آیا ‘ جس سے پوری قوم ہلاک ہوگئی۔ اس وقت تک پوری نسل انسانی بس یہیں پر آباد تھی ‘ چناچہ سیلاب کے بعد نسل انسانی حضرت نوح کی اولاد ہی سے آگے چلی۔ حضرت نوح کے ایک بیٹے کا نام سام تھا ‘ وہ اپنی اولاد کے ساتھ عراق کے علاقے میں آباد ہوگئے۔ اس علاقے میں ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیداہوئیں۔ انہیں میں سے ایک قوم اپنے مشہور سردار ”عاد“ کے نام کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ قوم عاد جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ اس قوم میں جب شرک عام ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے بہت سے نبی بھیجے۔ ان انبیاء کے آخر میں حضرت ہود ان کی طرف رسول مبعوث ہو کر آئے۔ آپ کی دعوت کو رد کر کے جب یہ قوم بھی عذاب الٰہی کی مستحق ہوگئی تو حضرت ہود اپنے اہل ایمان ساتھیوں کو ساتھ لے کر عرب کے وسطی علاقے حجر کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہاں پھر ان لوگوں کی نسل آگے بڑھی۔ ان میں سے قوم ثمود نے خصوصی طور پر بہت ترقی کی۔ اس قوم کا نام بھی ثمود نامی کسی بڑی شخصیت کے نام پر مشہور ہوا۔ یہ لوگ فن تعمیر کے بہت ماہر تھے۔ چناچہ انہوں نے میدانی علاقوں میں بھی عالی شان محلات تعمیر کیے اور Granite Rocks پر مشتمل انتہائی سخت پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت مکانات بھی بنائے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے۔ یہ تینوں اقوام قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود حضرت ابراہیم کے زمانے سے پہلے کی ہیں۔دوسری طرف عراق میں جو سامئ النسل لوگ آباد تھے ان میں حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے۔ آپ کا تذکرہ قرآن میں کہیں بھی ”انباء الرسل“ کے انداز میں نہیں کیا گیا۔ یہاں سورة ہود میں بھی آپ کا ذکر ”قصص النبیین“ کی طرز پر آیا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم نے عراق سے ہجرت کی اور بہت بڑا صحرائی علاقہ عبور کر کے شام چلے گئے۔ وہاں آپ نے فلسطین کے علاقے میں اپنے بیٹے حضرت اسحاق کو آباد کیا جبکہ اس سے پہلے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو آپ مکہ میں آباد کرچکے تھے۔ حضرت لوط آپ کے بھتیجے تھے۔ شام کی طرف ہجرت کرتے ہوئے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ حضرت لوط کو اللہ تعالیٰ نے رسالت سے نواز کر عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ شہر بحیرۂ مردار Dead Sea کے کنارے پر آباد تھے۔ لہٰذا قوم ثمود کے بعد انباء الرسل کے انداز میں حضرت لوط ہی کا ذکر آئے گا۔ حضرت ابراہیم کی جو اولاد آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے ہوئی وہ خلیج عقبہ کے مشرقی علاقے میں آباد ہوئی۔ اپنے کسی مشہور سردار کے نام پر اس قوم اور اس علاقے کا نام ”مدین“ مشہور ہوا۔ اس قوم کی طرف حضرت شعیب کو مبعوث کیا گیا۔ انباء الرسل کے اس سلسلے میں حضرت شعیب کے بعد حضرت موسیٰ کا ذکر آتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو مصر میں مبعوث کیا گیا جو جزیرہ نمائے عرب سے باہر جزیرہ نمائے سینا Senai Peninsula کے دوسری طرف واقع ہے۔ آپ کی بعثت بنی اسرائیل میں ہوئی تھی ‘ جو حضرت یوسف کی وساطت سے فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہوئے تھے۔ سورۂ یوسف میں اس ہجرت کی پوری تفصیل موجود ہے۔ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء و رسل دنیا کے مختلف علاقوں میں مبعوث فرمائے۔ ان تمام پیغمبروں کی تاریخ بیان کرنا قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ قرآن تو کتاب ہدایت ہے اور انبیاء ورسل کے واقعات بھی ہدایت کے لیے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔ اس ہدایت کے تمام پہلو کسی ایک رسول کے قصے میں بھی موجود ہوتے ہیں مگر مذکورہ چھ رسولوں کا ذکر بار بار اس لیے قرآن میں آیا ہے کہ ان کے ناموں سے اہل عرب واقف تھے اور ان کی حکایات و روایات میں بھی ان کے تذکرے موجود تھے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ

📘 هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ کیا تم اس مثال سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے ؟اب اگلے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ ان میں انہی چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم سورة الاعراف میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یعنی حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ یہ چھ رسول ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب ان سب رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ جس خطے میں یہ رسول اپنے اپنے زمانے میں مبعوث ہوئے اس کے بارے میں کچھ تفصیل ہم سورة الاعراف میں پڑھ آئے ہیں۔ یہاں ان میں سے چیدہ چیدہ معلومات ذہن میں پھر سے تازہ کرلیں۔ اگلے صفحے پر جو نقشہ دیا گیا ہے یہ گویا ”ارض القرآن“ کا نقشہ ہے۔ قرآن مجید میں جن رسولوں کے حالات کا تذکرہ ہے وہ سب کے سب اسی خطے کے اندر مبعوث کیے گئے۔ نقشے میں جزیرہ نمائے عرب کے دائیں طرف خلیج فارس اور بائیں طرف بحیرۂ قلزم بحیرۂ احمر ہے ‘ جو اوپر جا کر خلیج عقبہ اور خلیج سویز میں تقسیم ہوجاتا ہے۔نقشے پر اگر خلیج فارس سے اوپر سیدھی لکیر کھینچی جائے اور خلیج عقبہ کے شمالی کونے سے بھی ایک لکیر کھینچی جائے تو جہاں یہ دونوں لکیریں آپس میں ملیں گی ‘ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر حضرت نوح کی قوم آباد تھی۔ یہیں سے اوپر شمال کی جانب ارارات کا پہاڑی سلسلہ ہے ‘ جس میں کوہ جودی پر آپ کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ اس علاقے میں سیلاب کی صورت میں حضرت نوح کی قوم پر عذاب آیا ‘ جس سے پوری قوم ہلاک ہوگئی۔ اس وقت تک پوری نسل انسانی بس یہیں پر آباد تھی ‘ چناچہ سیلاب کے بعد نسل انسانی حضرت نوح کی اولاد ہی سے آگے چلی۔ حضرت نوح کے ایک بیٹے کا نام سام تھا ‘ وہ اپنی اولاد کے ساتھ عراق کے علاقے میں آباد ہوگئے۔ اس علاقے میں ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیداہوئیں۔ انہیں میں سے ایک قوم اپنے مشہور سردار ”عاد“ کے نام کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ قوم عاد جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ اس قوم میں جب شرک عام ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے بہت سے نبی بھیجے۔ ان انبیاء کے آخر میں حضرت ہود ان کی طرف رسول مبعوث ہو کر آئے۔ آپ کی دعوت کو رد کر کے جب یہ قوم بھی عذاب الٰہی کی مستحق ہوگئی تو حضرت ہود اپنے اہل ایمان ساتھیوں کو ساتھ لے کر عرب کے وسطی علاقے حجر کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہاں پھر ان لوگوں کی نسل آگے بڑھی۔ ان میں سے قوم ثمود نے خصوصی طور پر بہت ترقی کی۔ اس قوم کا نام بھی ثمود نامی کسی بڑی شخصیت کے نام پر مشہور ہوا۔ یہ لوگ فن تعمیر کے بہت ماہر تھے۔ چناچہ انہوں نے میدانی علاقوں میں بھی عالی شان محلات تعمیر کیے اور Granite Rocks پر مشتمل انتہائی سخت پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت مکانات بھی بنائے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے۔ یہ تینوں اقوام قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود حضرت ابراہیم کے زمانے سے پہلے کی ہیں۔دوسری طرف عراق میں جو سامئ النسل لوگ آباد تھے ان میں حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے۔ آپ کا تذکرہ قرآن میں کہیں بھی ”انباء الرسل“ کے انداز میں نہیں کیا گیا۔ یہاں سورة ہود میں بھی آپ کا ذکر ”قصص النبیین“ کی طرز پر آیا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم نے عراق سے ہجرت کی اور بہت بڑا صحرائی علاقہ عبور کر کے شام چلے گئے۔ وہاں آپ نے فلسطین کے علاقے میں اپنے بیٹے حضرت اسحاق کو آباد کیا جبکہ اس سے پہلے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو آپ مکہ میں آباد کرچکے تھے۔ حضرت لوط آپ کے بھتیجے تھے۔ شام کی طرف ہجرت کرتے ہوئے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ حضرت لوط کو اللہ تعالیٰ نے رسالت سے نواز کر عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ شہر بحیرۂ مردار Dead Sea کے کنارے پر آباد تھے۔ لہٰذا قوم ثمود کے بعد انباء الرسل کے انداز میں حضرت لوط ہی کا ذکر آئے گا۔ حضرت ابراہیم کی جو اولاد آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے ہوئی وہ خلیج عقبہ کے مشرقی علاقے میں آباد ہوئی۔ اپنے کسی مشہور سردار کے نام پر اس قوم اور اس علاقے کا نام ”مدین“ مشہور ہوا۔ اس قوم کی طرف حضرت شعیب کو مبعوث کیا گیا۔ انباء الرسل کے اس سلسلے میں حضرت شعیب کے بعد حضرت موسیٰ کا ذکر آتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو مصر میں مبعوث کیا گیا جو جزیرہ نمائے عرب سے باہر جزیرہ نمائے سینا Senai Peninsula کے دوسری طرف واقع ہے۔ آپ کی بعثت بنی اسرائیل میں ہوئی تھی ‘ جو حضرت یوسف کی وساطت سے فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہوئے تھے۔ سورۂ یوسف میں اس ہجرت کی پوری تفصیل موجود ہے۔ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء و رسل دنیا کے مختلف علاقوں میں مبعوث فرمائے۔ ان تمام پیغمبروں کی تاریخ بیان کرنا قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ قرآن تو کتاب ہدایت ہے اور انبیاء ورسل کے واقعات بھی ہدایت کے لیے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔ اس ہدایت کے تمام پہلو کسی ایک رسول کے قصے میں بھی موجود ہوتے ہیں مگر مذکورہ چھ رسولوں کا ذکر بار بار اس لیے قرآن میں آیا ہے کہ ان کے ناموں سے اہل عرب واقف تھے اور ان کی حکایات و روایات میں بھی ان کے تذکرے موجود تھے۔

أَنْ لَا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۖ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ

📘 هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ کیا تم اس مثال سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے ؟اب اگلے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ ان میں انہی چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم سورة الاعراف میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یعنی حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ یہ چھ رسول ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب ان سب رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ جس خطے میں یہ رسول اپنے اپنے زمانے میں مبعوث ہوئے اس کے بارے میں کچھ تفصیل ہم سورة الاعراف میں پڑھ آئے ہیں۔ یہاں ان میں سے چیدہ چیدہ معلومات ذہن میں پھر سے تازہ کرلیں۔ اگلے صفحے پر جو نقشہ دیا گیا ہے یہ گویا ”ارض القرآن“ کا نقشہ ہے۔ قرآن مجید میں جن رسولوں کے حالات کا تذکرہ ہے وہ سب کے سب اسی خطے کے اندر مبعوث کیے گئے۔ نقشے میں جزیرہ نمائے عرب کے دائیں طرف خلیج فارس اور بائیں طرف بحیرۂ قلزم بحیرۂ احمر ہے ‘ جو اوپر جا کر خلیج عقبہ اور خلیج سویز میں تقسیم ہوجاتا ہے۔نقشے پر اگر خلیج فارس سے اوپر سیدھی لکیر کھینچی جائے اور خلیج عقبہ کے شمالی کونے سے بھی ایک لکیر کھینچی جائے تو جہاں یہ دونوں لکیریں آپس میں ملیں گی ‘ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر حضرت نوح کی قوم آباد تھی۔ یہیں سے اوپر شمال کی جانب ارارات کا پہاڑی سلسلہ ہے ‘ جس میں کوہ جودی پر آپ کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ اس علاقے میں سیلاب کی صورت میں حضرت نوح کی قوم پر عذاب آیا ‘ جس سے پوری قوم ہلاک ہوگئی۔ اس وقت تک پوری نسل انسانی بس یہیں پر آباد تھی ‘ چناچہ سیلاب کے بعد نسل انسانی حضرت نوح کی اولاد ہی سے آگے چلی۔ حضرت نوح کے ایک بیٹے کا نام سام تھا ‘ وہ اپنی اولاد کے ساتھ عراق کے علاقے میں آباد ہوگئے۔ اس علاقے میں ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیداہوئیں۔ انہیں میں سے ایک قوم اپنے مشہور سردار ”عاد“ کے نام کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ قوم عاد جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ اس قوم میں جب شرک عام ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے بہت سے نبی بھیجے۔ ان انبیاء کے آخر میں حضرت ہود ان کی طرف رسول مبعوث ہو کر آئے۔ آپ کی دعوت کو رد کر کے جب یہ قوم بھی عذاب الٰہی کی مستحق ہوگئی تو حضرت ہود اپنے اہل ایمان ساتھیوں کو ساتھ لے کر عرب کے وسطی علاقے حجر کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہاں پھر ان لوگوں کی نسل آگے بڑھی۔ ان میں سے قوم ثمود نے خصوصی طور پر بہت ترقی کی۔ اس قوم کا نام بھی ثمود نامی کسی بڑی شخصیت کے نام پر مشہور ہوا۔ یہ لوگ فن تعمیر کے بہت ماہر تھے۔ چناچہ انہوں نے میدانی علاقوں میں بھی عالی شان محلات تعمیر کیے اور Granite Rocks پر مشتمل انتہائی سخت پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت مکانات بھی بنائے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح مبعوث کیے گئے۔ یہ تینوں اقوام قوم نوح قوم عاد اور قوم ثمود حضرت ابراہیم کے زمانے سے پہلے کی ہیں۔دوسری طرف عراق میں جو سامئ النسل لوگ آباد تھے ان میں حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے۔ آپ کا تذکرہ قرآن میں کہیں بھی ”انباء الرسل“ کے انداز میں نہیں کیا گیا۔ یہاں سورة ہود میں بھی آپ کا ذکر ”قصص النبیین“ کی طرز پر آیا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم نے عراق سے ہجرت کی اور بہت بڑا صحرائی علاقہ عبور کر کے شام چلے گئے۔ وہاں آپ نے فلسطین کے علاقے میں اپنے بیٹے حضرت اسحاق کو آباد کیا جبکہ اس سے پہلے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو آپ مکہ میں آباد کرچکے تھے۔ حضرت لوط آپ کے بھتیجے تھے۔ شام کی طرف ہجرت کرتے ہوئے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ حضرت لوط کو اللہ تعالیٰ نے رسالت سے نواز کر عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ شہر بحیرۂ مردار Dead Sea کے کنارے پر آباد تھے۔ لہٰذا قوم ثمود کے بعد انباء الرسل کے انداز میں حضرت لوط ہی کا ذکر آئے گا۔ حضرت ابراہیم کی جو اولاد آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے ہوئی وہ خلیج عقبہ کے مشرقی علاقے میں آباد ہوئی۔ اپنے کسی مشہور سردار کے نام پر اس قوم اور اس علاقے کا نام ”مدین“ مشہور ہوا۔ اس قوم کی طرف حضرت شعیب کو مبعوث کیا گیا۔ انباء الرسل کے اس سلسلے میں حضرت شعیب کے بعد حضرت موسیٰ کا ذکر آتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو مصر میں مبعوث کیا گیا جو جزیرہ نمائے عرب سے باہر جزیرہ نمائے سینا Senai Peninsula کے دوسری طرف واقع ہے۔ آپ کی بعثت بنی اسرائیل میں ہوئی تھی ‘ جو حضرت یوسف کی وساطت سے فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہوئے تھے۔ سورۂ یوسف میں اس ہجرت کی پوری تفصیل موجود ہے۔ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء و رسل دنیا کے مختلف علاقوں میں مبعوث فرمائے۔ ان تمام پیغمبروں کی تاریخ بیان کرنا قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ قرآن تو کتاب ہدایت ہے اور انبیاء ورسل کے واقعات بھی ہدایت کے لیے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔ اس ہدایت کے تمام پہلو کسی ایک رسول کے قصے میں بھی موجود ہوتے ہیں مگر مذکورہ چھ رسولوں کا ذکر بار بار اس لیے قرآن میں آیا ہے کہ ان کے ناموں سے اہل عرب واقف تھے اور ان کی حکایات و روایات میں بھی ان کے تذکرے موجود تھے۔

فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ

📘 آیت 27 فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰٹک الاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا انہوں نے کہا کہ آپ تو بالکل ہمارے جیسے انسان ہیں۔ آپ میں ہمیں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ ہم آپ کو اللہ کا فرستادہ مان لیں۔وَمَا نَرٰٹکَ اتَّبَعَکَ الاَّ الَّذِیْنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ ہمیں بلا تامل نظر آ رہا ہے کہ چند مفلس ‘ نادار اور نچلے طبقے کے لوگ آپ کے گرد اکٹھے ہوگئے ہیں ‘ جبکہ ہمارے معاشرے کا کوئی بھی معزز اور معقول آدمی آپ سے متاثر نہیں ہوا۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ

📘 آیت 28 قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ یہ لفظ بَیِّنَۃ اس سورت میں بار بار آئے گا۔ یعنی میں نے اپنی زندگی تمہارے درمیان گزاری ہے ‘ میرا کردار ‘ میرا اخلاق اور میرا رویہ ‘ سب کچھ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تم لوگ جانتے ہو کہ میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان ہوں۔ لہٰذا تم لوگ غور کرو کہ پہلے بھی اگر میں ایسی شخصیت کا حامل انسان تھا :وَاٰتٰٹنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ یعنی میرے اوپر اللہ کی رحمت سے وحی آتی ہے جس کی کیفیت اور حقیقت کا ادراک تم لوگ نہیں کرسکتے۔ میں اس کے بارے میں تم لوگوں کو بتا ہی سکتا ہوں ‘ دکھا تو نہیں سکتا۔ اَنُلْزِمُکُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا کٰرِہُوْنَ اب اگر ایک بات آپ لوگوں کو پسند نہیں آرہی تو ہم زبردستی اس کو تمہارے سر نہیں تھوپ سکتے۔ ہم آپ لوگوں کو مجبور تو نہیں کرسکتے کہ آپ ضرور ہی اللہ کو اپنا معبود اور مجھے اس کا رسول مانو۔

وَيَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۚ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ إِنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَلَٰكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ

📘 آیت 29 وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالاً ط اِنْ اَجْرِیَ الاَّ عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاجن لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ وہ ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ‘ وہ سب اہل ایمان ہیں ‘ اور اس لحاظ سے میرے نزدیک وہ بہت اہم اور معزز لوگ ہیں۔ اب میں تمہارے کہنے پر ان کو خود سے دور نہیں ہٹا سکتا۔

وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ

📘 آیت 3 وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ یہاں ذِیْ فَضْلٍ سے مراد ہے مستحق فضل۔ یعنی جو بھی فضل کا مستحق ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اسے اپنا فضل ضرور عطا فرمائے گا۔

وَيَا قَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

📘 آیت 30 وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّہُمْ یہ سب سچے مؤمنین ‘ اللہ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعائیں مانگنے والے لوگ ہیں۔ اگر میں تمہارے کہنے پر ان کو دھتکار دوں تو اللہ کی ناراضگی سے مجھے کون بچائے گا۔

وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا ۖ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ ۖ إِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ

📘 آیت 31 وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ اللہ کے خزانوں پر میرا اختیار ہے۔ یہ وہی بات ہے جو ہم سورة الانعام آیت 50 میں محمد رسول اللہ کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں۔وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًاکیا معلوم اللہ کے ہاں وہ بہت محبوب ہوں ‘ اللہ انہیں بہت بلند مراتب عطا کرے اور اخروی زندگی میں فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ کا مستحق ٹھہرائے۔ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ښ اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اپنے ایمان کے دعوے میں کتنا مخلص ہے اور کس کے دل میں اللہ کے لیے کتنی محبت ہے۔ اگر میں تمہارے طعنوں سے تنگ آکر ان اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دوں تو میرا شمار ظالموں میں ہوگا۔

قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

📘 آیت 32 قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَکْثَرْتَ جِدَالَنَا جب حضرت نوح کی ان تمام باتوں کا علمی ‘ عقلی اور منطقی سطح پر کوئی جواب ان لوگوں سے نہ بن پڑا تو وہ خواہ مخواہ ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے کہ بس جی بہت ہوگیا بحث مباحثہ ‘ اب چھوڑیں ان دلیلوں کو اور :

قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ

📘 آیت 33 قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْکُمْ بِہِ اللّٰہُ اِنْ شَآءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ اگر اس نے تمہیں عذاب دینے کا فیصلہ کرلیا تو پھر تم لوگ اس کا مقابلہ کر کے اس کے عذاب سے بچ کر بھاگ نہیں سکو گے۔

وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ ۚ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

📘 آیت 34 وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ اگر تمہاری اس خواہ مخواہ کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث اللہ نے تمہاری گمراہی کے فیصلے پر مہر ثبت کردی ہو تو پھر میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے حق میں کچھ بھی مفید نہیں ہوسکتی۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ

📘 آیت 35 اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح کے ذکر کے درمیان آگیا ہے۔ اس میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! یہ تمام باتیں جو ہم آپ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں ‘ جیسے حضرت نوح اور آپ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی ‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپ ان پر واضح کردیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو جھٹلا کر تم لوگ جس جرم کے مرتکب ہو رہے ہو ‘ اس کے نتائج بھی پھر تم لوگوں کو ہی بھگتنا ہیں۔ بہر حال میں علی الاعلان کہے دیتا ہوں کہ میں تمہارے اس جرم سے بالکل بری ہوں۔ اس جملہ معتر ضہ کے بعد حضرت نوح کے ذکر کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے جوڑا جا رہا ہے۔

وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

📘 آیت 35 اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح کے ذکر کے درمیان آگیا ہے۔ اس میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! یہ تمام باتیں جو ہم آپ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں ‘ جیسے حضرت نوح اور آپ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی ‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپ ان پر واضح کردیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو جھٹلا کر تم لوگ جس جرم کے مرتکب ہو رہے ہو ‘ اس کے نتائج بھی پھر تم لوگوں کو ہی بھگتنا ہیں۔ بہر حال میں علی الاعلان کہے دیتا ہوں کہ میں تمہارے اس جرم سے بالکل بری ہوں۔ اس جملہ معتر ضہ کے بعد حضرت نوح کے ذکر کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے جوڑا جا رہا ہے۔

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ

📘 آیت 37 وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا اس حکم سے یوں لگتا ہے کہ کشتی کی تیاری کے ہر مرحلے پر حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات مل رہی تھیں ‘ مثلاً لمبائی اتنی ہو ‘ چوڑائی اتنی ہو ‘ لکڑیاں یوں تیار کرو ‘ وغیرہ۔ وَلاَ تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْااب ان منکرین میں سے کسی کے بارے میں کوئی درخواست ‘ دعا یا سفارش وغیرہ آپ کی طرف سے نہ آئے ‘ اب اس کا وقت گزر چکا ہے۔

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِنْ قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ ۚ قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ

📘 آیت 38 وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ حضرت نوح اور آپ کے اہل ایمان ساتھی جس جگہ اور جس علاقے میں یہ کشتی بنار ہے تھے ظاہر ہے کہ وہاں ہر طرف خشکی ہی خشکی تھی ‘ سمندر یا دریا کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ان حالات میں تصور کریں کہ کیا کیا باتیں اور کیسے کیسے تمسخر آمیز فقرے کہے جاتے ہوں گے کہ اب تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بالکل ہی مت ماری گئی ہے کہ خشکی پر کشتی چلانے کا ارادہ ہے !

فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُقِيمٌ

📘 آیت 38 وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ حضرت نوح اور آپ کے اہل ایمان ساتھی جس جگہ اور جس علاقے میں یہ کشتی بنار ہے تھے ظاہر ہے کہ وہاں ہر طرف خشکی ہی خشکی تھی ‘ سمندر یا دریا کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ان حالات میں تصور کریں کہ کیا کیا باتیں اور کیسے کیسے تمسخر آمیز فقرے کہے جاتے ہوں گے کہ اب تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بالکل ہی مت ماری گئی ہے کہ خشکی پر کشتی چلانے کا ارادہ ہے !

إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

📘 آیت 3 وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗ یہاں ذِیْ فَضْلٍ سے مراد ہے مستحق فضل۔ یعنی جو بھی فضل کا مستحق ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اسے اپنا فضل ضرور عطا فرمائے گا۔

حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ

📘 آیت 40 حَتّٰیٓ اِذَاجَآءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ مشرق وسطیٰ کے اس پورے علاقے میں ایک بہت بڑے سیلاب کے واضح آثار بھی ملتے ہیں ‘ اس بارے میں تاریخی شہادتیں بھی موجود ہیں اور آج کا علم طبقات الارض Geology بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ H.G.Wells نے اس سیلاب کی تاویل یوں کی ہے کہ یہ علاقہ بحیرۂ روم Mediterranean کی سطح سے بہت نیچا تھا ‘ مگر سمندر کے مشرقی ساحل یعنی شام اور فلسطین کے ساتھ ساتھ موجود پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے سمندر کا پانی خشکی کی طرف نہیں آسکتا تھا۔ جیسے کراچی کے بعض علاقوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سطح سمندر سے بہت نیچے ہیں مگر ساحلی علاقہ کی سطح چونکہ بلند ہے اس لیے سمندر کا پانی اس طرف نہیں آسکتا۔ H.G.Wells کا خیال ہے کہ اس علاقے میں سمندر سے کسی وجہ سے پانی کے لیے کوئی راستہ بن گیا ہوگا جس کی وجہ سے یہ پورا علاقہ سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ قرآن مجید کے الفاظ کے مطابق اس سیلاب کا آغاز ایک خاص تنور سے ہوا تھا جس کے نیچے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی آسمان سے غیر معمولی انداز میں لگاتار بارشیں ہوئیں اور زمین نے بھی اپنے چشموں کے دہانے کھول دیے۔ پھر آسمان اور زمین کے یہ دونوں پانی مل کر عظیم سیلاب کی صورت اختیار کر گئے۔ سورة القمر میں اس کی تفصیل بایں الفاظ بیان کی گئی ہے :فَفَتَحْنَآ اَبْوَاب السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْہَمِرٍ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآءُ عَآٰی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ”پس ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے جن سے لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین کو پھاڑ دیا کہ ہر طرف چشمے پھوٹ پڑے اور یہ دونوں طرح کے پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گئے جو مقدر کردیا گیا تھا۔“قُلْنَا احْمِلْ فِیْہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَہْلَکَ الاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ ”یہ استثنائی حکم حضرت نوح علیہ السلام کی ایک بیوی اور آپ کے بیٹے ”یام“ کنعان کے بارے میں تھا ‘ جو اسی بیوی سے تھا ‘ جبکہ آپ کے تین بیٹے حام ‘ سام اور یافث ایمان لا چکے تھے اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ حضرت سام اور ان کی اولاد بعد میں اسی علاقے میں آباد ہوئی تھی۔ چناچہ قوم عاد ‘ قوم ثمود اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سامئ النسل تھے۔ حام اور یافث دوسرے علاقوں میں جا کر آباد ہوئے اور اپنے اپنے علاقوں میں ان کی نسل بھی آگے چلی۔ وَمَنْ اٰمَنَط وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٓٗ الاَّ قَلِیْلٌیہاں پر لفظ قلیل انگریزی محاورہ " the little" کے ہم معنی ہے ‘ یعنی بہت ہی تھوڑے ‘ نہ ہونے کے برابر۔

۞ وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 آیت 41 وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا جب تک اللہ چاہے گا اور جس سمت کو اسے چلائے گا یہ چلے گی اور جب اور جہاں اس کی مشیت ہوگی یہ لنگرانداز ہوجائے گی۔

وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلَا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ

📘 آیت 41 وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا جب تک اللہ چاہے گا اور جس سمت کو اسے چلائے گا یہ چلے گی اور جب اور جہاں اس کی مشیت ہوگی یہ لنگرانداز ہوجائے گی۔

قَالَ سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ

📘 وَحَالَ بَیْنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ اسی گفتگو کے دوران ایک بڑی موج آئی اور اس کی زد میں آکر آپ کی نظروں کے سامنے آپ کا وہ بیٹا غرق ہوگیا۔

وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

📘 آیت 44 وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ زمین کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ تو اپنے اس پانی کو اپنے اندر جذب کرلے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس عمل میں کتنا وقت لگا ہوگا۔ بہر حال حکم الٰہی کے مطابق پانی زمین میں جذب ہوگیا۔ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ کوہ ارارات میں ”جودی“ ایک چوٹی کا نام ہے۔ یہ دشوار گزار پہاڑی سلسلہ آذر بائیجان کے علاقے اور ترکی کی سرحد کے قریب ہے۔ کسی زمانے میں ایک ایسی خبر بھی مشہور ہوئی تھی کہ اس پہاڑی سلسلہ کی ایک چوٹی پر کسی جہاز کے پائیلٹ نے کوئی کشتی نما چیز دیکھی تھی۔ بہر حال قرآن کا فرمان ہے کہ ہم اس کشتی کو محفوظ رکھیں گے اور ایک زمانے میں یہ نشانی بن کر دنیا کے سامنے آئے گی العنکبوت : 15۔ چناچہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی اب بھی کوہ جودی کی چوٹی پر موجود ہے اور ایک وقت آئے گا جب انسان اس تک رسائی حاصل کرلے گا۔وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ یعنی اس قوم کا نام و نشان مٹا کر ہمیشہ کے لیے اسے نسیاً منسیاً کردیا گیا۔

وَنَادَىٰ نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ

📘 وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ پروردگار ! تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو میرے اہل کو بچا لے گا جبکہ میرا بیٹا تو میری آنکھوں کے سامنے ڈوب گیا۔

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ

📘 آیت 46 قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ اس کے نظریات اس کے عقائد ‘ اس کا کردار سب کافرانہ تھے۔ وہ آپ کے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے ؟ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے۔ چناچہ وہ آپ کے نسبی خاندان کا ایک رکن ہونے کے علی الرغم آپ کے ایمانی و اخلاقی خاندان کا فرد نہیں تھا۔ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ یہ بہت سخت انداز ہے۔ یاد کیجیے کہ سورة الانعام کی آیت 35 میں محمد رسول اللہ سے بھی اس طرح کے الفاظ فرمائے گئے ہیں۔

قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ

📘 آیت 46 قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ اس کے نظریات اس کے عقائد ‘ اس کا کردار سب کافرانہ تھے۔ وہ آپ کے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے ؟ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے۔ چناچہ وہ آپ کے نسبی خاندان کا ایک رکن ہونے کے علی الرغم آپ کے ایمانی و اخلاقی خاندان کا فرد نہیں تھا۔ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ یہ بہت سخت انداز ہے۔ یاد کیجیے کہ سورة الانعام کی آیت 35 میں محمد رسول اللہ سے بھی اس طرح کے الفاظ فرمائے گئے ہیں۔

قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ

📘 آیت 48 قِيْلَ يٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيْكَ وَعَلٰٓي اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ عام خیال یہی ہے کہ اس طوفان کے بعد نسل انسانی حضرت نوح کے ان تینوں بیٹوں سے چلی تھی۔ اس سلسلے میں ماہرین علم الانساب کی مختلف آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے بیٹے حضرت سام اس علاقے میں آباد ہوگئے ‘ جبکہ حضرت یافث کی اولاد وسطی ایشیا کے پہاڑی سلسلے کو عبور کر کے روس کے میدانی علاقوں میں جا بسی۔ پھر وہاں سے ان میں سے کچھ لوگ صحرائے گوبی کو عبور کر کے چین کی طرف چلے گئے۔ چناچہ وسطی ایشیا کے ممالک سے لے کر چین اس کے ملحقہ علاقوں اور پورے یورپ میں اسی نسل کے لوگ آباد ہیں۔ ان کے علاوہ Anglo Saxons اور شمالی اقوام کے لوگ بھی اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف حضرت حام کی نسل کے کچھ لوگ مشرق کی طرف کوچ کر کے ایران اور پھر ہندوستان میں آب سے۔ جبکہ ان میں سے بعض دوسرے قبائل جزیرہ نمائے سینا کو عبور کر کے مغرب میں سوڈان اور مصر کی طرف چلے گئے۔ چناچہ آریائی اقوام ‘ رومن ‘ جرمن ‘ یونانی اور مشرقی یورپ کے تمام لوگ حضرت حام ہی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ‘ واللہ اعلم۔وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ جیسا کہ بعد میں قوم عاد اور قوم ثمود پر عذاب آیا ہے۔

تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

📘 فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ آپ ہمت اور صبر و استقامت کے ساتھ اپنا کام کیے چلے جائیں۔ یقیناً انجام کار کی کامیابی اہل تقویٰ ہی کے لیے ہے۔

أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

📘 آیت 5 اَلاآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ ثَنٰی یَثْنِیْ کے معنی پھیرنے ‘ موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ مکہ میں رسول اللہ کی دعوت کے مخالفین میں سے کچھ لوگوں کا رویہ ایسا تھا کہ آپ کو آتے دیکھتے تو رخ بدل لیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپالیتے ‘ تاکہ کہیں آمنا سامنا نہ ہوجائے اور آپ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا اور حقیقت کا مواجہہ کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت غائب نہیں ہوجاتی۔ شتر مرغ طوفان کے دوران اگر ریت میں سر چھپالے تو اس سے طوفان کا رخ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس کے علاوہ ایک رائے وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رض کے حوالے سے نقل ہوئی ہے کہ کچھ اہل ایمان پر حیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا مثلاً حضرت عثمان ان اصحاب میں بہت نمایاں تھے ایسے لوگ کبھی غسل کے وقت بھی عریاں ہونا پسند نہیں کرتے تھے اور ایسے مواقع پر اس انداز سے جھک جاتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو ستر چھپا رہے۔ اسی طرح قضائے حاجت کے وقت بھی پورے ستر کا اہتمام کرتے تھے۔ اس حوالے سے اس حکم کا منشا یہ ہے کہ تم اس سلسلے میں جو کچھ بھی کرلو ‘ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے تو نہیں چھپ سکتے ہو۔ لہٰذا ستر چھپانے کے بارے میں جو بھی احکامات ہیں ان کی معروف طریقے سے پیروی کرو۔ اس طرح کے کسی بھی معاملہ میں غلو کی ضرورت نہیں ہے۔

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ

📘 آیت 50 وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا قوم عاد حضرت سام کی نسل سے تھی۔ یہ قوم اپنے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ لق ودق صحرا ہے۔قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ یہ جو تم نے مختلف ناموں سے معبود گھڑ رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ تم محض افترا کر رہے ہو۔

يَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

📘 آیت 50 وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا قوم عاد حضرت سام کی نسل سے تھی۔ یہ قوم اپنے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ لق ودق صحرا ہے۔قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ یہ جو تم نے مختلف ناموں سے معبود گھڑ رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ تم محض افترا کر رہے ہو۔

وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ

📘 آیت 52 وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ شرک ‘ بت پرستی کو چھوڑ دو اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگو۔یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ قرآن حکیم کے کئی مقامات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف اپنا رسول اپنے پیغام کے ساتھ بھیجتا ہے تو اب اس قوم کی قسمت اس پیغام کے ساتھ معلق ہوجاتی ہے۔ اگر وہ قوم رسول پر ایمان لے آتی ہے اور اس پیغام کو قبول کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے بصورت دیگر اسے تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔

قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

📘 آیت 53 قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ یعنی آپ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو اس کے ثبوت کے طور پر آپ کے پاس کوئی کھلی نشانی سند یا معجزہ نہیں ہے۔

إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ ۗ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ

📘 آیت 54 اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ یعنی ہمارا خیال تو یہی ہے کہ آپ جو ہمارے معبودوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی ہے اور آپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ اسی لیے آپ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ میں تمہارے ان جھوٹے معبودوں اور تمہارے شرک کے اس جرم سے بالکل بری اور بیزار ہوں۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے فرمائی تھی۔

مِنْ دُونِهِ ۖ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ

📘 آیت 54 اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ یعنی ہمارا خیال تو یہی ہے کہ آپ جو ہمارے معبودوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی ہے اور آپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ اسی لیے آپ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ میں تمہارے ان جھوٹے معبودوں اور تمہارے شرک کے اس جرم سے بالکل بری اور بیزار ہوں۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے فرمائی تھی۔

إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ ۚ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

📘 مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔

فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا ۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ

📘 مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔

وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ

📘 مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔

وَتِلْكَ عَادٌ ۖ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ

📘 آیت 59 وَتِلْكَ عَادٌ ڐ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ یہاں پر ان تمام انبیاء کو بھی رسول کہا گیا ہے جو حضرت ہود سے پہلے اس قوم میں مبعوث ہوئے۔ اکثر اس طرح ہوتا رہا ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء کرام ان کے معلمین کی حیثیت سے آتے رہے اور پھر آخر میں ایک رسول آیا۔ اور جیسا کہ قبل ازیں بھی نبی اور رسول کے فرق کے ضمن میں بیان ہوچکا ہے کہ قرآن میں یہ دونوں الفاظ اگر الگ الگ آئیں تو ایک دوسرے کی جگہ پر آسکتے ہیں ‘ لیکن اگر یہ دونوں الفاظ اکٹھے ایک جگہ آئیں تو پھر ان میں سے ہر لفظ اپنے خاص معنی دیتا ہے۔

۞ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ

📘 آیت 6 وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ الاَّ عَلَی اللّٰہِ رِزْقُہَا اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر تقسیم رزق کا جو نظام وضع کیا ہے اس میں اس نے ہر جاندار کے لیے اس کی ضروریات زندگی فراہم کردی ہیں۔ بچے کی پیدائش بعد میں ہوتی ہے مگر اس کے لیے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ اللہ کے اس نظام اور اس کے قوانین کو پس پشت ڈال کر کوئی ایسا نظام یا ایسے قوانین وضع کرے جن کے تحت ایک فرد کے حصے کا رزق کسی دوسرے کی جھولی میں چلا جائے ‘ تو رزق یا دولت کی تقسیم کا خدائی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اس لوٹ کھسوٹ کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کہیں دولت کے بےجا انبار لگیں گے اور کہیں بیشمار انسان فاقوں پر مجبور ہوجائیں گے۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی رزق کی تقسیم میں کوئی کمی بیشی نظر آئے تو سمجھ لو کہ اس کا ذمہ دار خودانسان ہے۔ وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَمُسْتَوْدَعَہَامُستَقَر اور مستودَع دونوں الفاظ کی تشریح سورة الانعام کی آیت 98 میں تفصیل کے ساتھ ہوچکی ہے۔ وہاں ان الفاظ کے بارے میں تین مختلف اقوال بھی زیر بحث آ چکے ہیں۔کُلٌّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ وہی روشن اور واضح کتاب جو علم الٰہی کی کتاب ہے۔

وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُودٍ

📘 آیت 59 وَتِلْكَ عَادٌ ڐ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ یہاں پر ان تمام انبیاء کو بھی رسول کہا گیا ہے جو حضرت ہود سے پہلے اس قوم میں مبعوث ہوئے۔ اکثر اس طرح ہوتا رہا ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء کرام ان کے معلمین کی حیثیت سے آتے رہے اور پھر آخر میں ایک رسول آیا۔ اور جیسا کہ قبل ازیں بھی نبی اور رسول کے فرق کے ضمن میں بیان ہوچکا ہے کہ قرآن میں یہ دونوں الفاظ اگر الگ الگ آئیں تو ایک دوسرے کی جگہ پر آسکتے ہیں ‘ لیکن اگر یہ دونوں الفاظ اکٹھے ایک جگہ آئیں تو پھر ان میں سے ہر لفظ اپنے خاص معنی دیتا ہے۔

۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ

📘 آیت 61 وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا قوم عاد میں سے جو لوگ بچے تھے وہ اپنے علاقے سے آگے وسطی علاقے کی طرف جا کر ”حجر“ میں آباد ہوئے اور ان لوگوں کی نسل میں سے ثمود نام کی ایک بڑی قوم ابھری۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب اس قوم کے اندر بھی وہی خرابیاں پیدا ہوگئیں اور وہ لوگ بھی جب بت پرستی اور شرک کی لعنت میں مبتلا ہوگئے تو ان کی اصلاح کے لیے حضرت صالح کو مبعوث کیا گیا۔

قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَا ۖ أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ

📘 آیت 62 قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ہٰذَآ یعنی آپ تو اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے پوری قوم کی امیدوں کا مرکز تھے۔ ہمیں تو توقع تھی کہ آپ اپنی صلاحیتوں کے سبب اپنے آباء و اَجداد اور پوری قوم کا نام روشن کریں گے ‘ مگر آپ نے یہ کیا کیا ؟ آپ نے تو اپنے باپ دادا کے دین اور ان کے طور طریقوں پر ہی تنقید شروع کردی۔ آپ کی ان باتوں سے تو پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ آپ کی اس دعوت توحید کے بارے میں ہمیں سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال دیا ہے۔ ہمارا دل آپ کی اس دعوت پر مطمئن نہیں ہے۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ

📘 آیت 63 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ حضرت صالح نے بھی وہی بات کہی کہ دیکھو میری گزشتہ زندگی تمہارے سامنے ہے۔ میرا کردار اور میرا اخلاق گواہ ہے کہ میں اس سے پہلے تمہارے معاشرے کا ایک صالح کردار اور سلیم الفطرت انسان تھا۔ وَاٰتٰىنِيْ مِنْهُ رَحْمَةً اور اب میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی بھی آگئی ہے اللہ نے اپنی رحمت خاص سے مجھے نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَيْتُهٗ ۣ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ یعنی اگر میں اپنی فطرت سلیم اور وحی الٰہی کی راہنمائی کے باوجود اس دعوت حق کو چھوڑ کر تمہیں خوش کرنے کے لیے گمراہی کا طریقہ اختیار کرلوں تو مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کون بچائے گا ؟ تمہاری اس طرح کی باتوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگ میری تباہی کے درپے ہو۔

وَيَا قَوْمِ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ

📘 وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْۗءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌوہ عذاب اب دور نہیں ہے اور اسے آتے کچھ دیر نہ لگے گی۔

فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ

📘 آیت 65 فَعَقَرُوْهَاانہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔

فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ

📘 آیت 65 فَعَقَرُوْهَاانہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔

وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ

📘 آیت 65 فَعَقَرُوْهَاانہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔

كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۗ أَلَا إِنَّ ثَمُودَ كَفَرُوا رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِثَمُودَ

📘 آیت 65 فَعَقَرُوْهَاانہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔

وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ ۖ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ

📘 اب ان آیات میں حضرت ابراہیم کا ذکر آ رہا ہے ‘ مگر آپ کا ذکر انباء الرسل کے طور پر نہیں بلکہ بالکل مختلف انداز میں ہے۔ یہاں رسولوں کے ذکر میں ایک خوبصورت تقسیم کو مد نظر رکھیں کہ اس سورت میں پہلے تین رسول جن کا زمانہ حضرت ابراہیم سے پہلے کا ہے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح ان کا ذکر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم کا ذکر مختصراً قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے اور آپ کے ذکر کے بعد پھر تین رسولوں کا تذکرہ ہے جو آپ ہی کی نسل میں سے تھے ‘ بلکہ ان میں سے حضرت لوط تو آپ کے بھتیجے اور ہم عصر بھی تھے۔ یہاں پر حضرت لوط کا ذکر انباء الرسل کے انداز میں آیا ہے اور اسی کے ذیل میں حضرت ابراہیم کا ذکر ہے۔ جب حضرت لوط کی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو عذاب کے فرشتے براہ راست حضرت لوط کے پاس جانے کے بجائے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس گئے اور وہاں نہ صرف قوم لوط علیہ السلام پر عذاب کے بارے میں ان کا حضرت ابراہیم کے ساتھ مکالمہ ہوا بلکہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری بھی دی۔یاد رہے کہ سورة الاعراف میں بھی جب ان چھ رسولوں کا تذکرہ انباء الرسل کے انداز میں ہوا تو وہاں بھی حضرت ابراہیم کا ذکر نہیں کیا گیا اور جب سورة الانعام جو سورة الاعراف کی جڑواں سورت ہے میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ آیا تو انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح کہیں بھی نہیں آیا کہ آپ کو اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہو آپ نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی ہو ‘ قوم اس دعوت سے منکر ہوئی ہو اور پھر اس پر عذاب بھیج دیا گیا ہو۔قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ مہمانوں کی آمد کے فوراً بعد حضرت ابراہیم نے ان کی ضیافت کے لیے ایک بچھڑا ذبح کیا اور اسے بھون کر ان کے سامنے پیش کردیا۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ

📘 آیت 7 وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ میرے نزدیک یہ آیت آج بھی متشابہات میں سے ہے ‘ لیکن شاید یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب یہ دنیا معرض وجود میں آئی۔ زمین کی تخلیق کے بارے میں سائنسی اور تاریخی ذرائع سے اب تک ملنے والی معلومات کو مجتمع کر کے جو آراء سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زمین جب ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو اس سے بخارات اور مختلف اقسام کی گیسیں خارج ہوئیں۔ انہی گیسوں میں سے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی پیدا ہوا جو لاکھوں سال تک بارشوں کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر جب زمین ٹھنڈی ہو کر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز پیدا ہونے سے پہاڑ اور سمندر وجود میں آئے۔ اس وقت تک کسی قسم کی کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس زمین کی حد تک اللہ تعالیٰ کا تخت حکومت اس کا تصور انسانی ذہن سے ماوراء ہے پانی پر تھا۔ پھر وہ دور آیا جب زمین کی آب وہوا زندگی کے لیے موافق ہوئی تو مٹی اور پانی سے وجود میں آنے والے دلدلی علاقوں میں نباتاتی یا حیوانی مخلوق کی ابتدائی شکلیں پیدا ہوئیں۔ واللہ اعلم ! لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً یعنی انسانی زندگی کا وہ حصہ جو اس دنیا میں گزرتا ہے اس کا اصل مقصد امتحان ہے۔ علامہ اقبال نے اس شعر میں اس آیت کی بہت خوبصورت ترجمانی کی ہے :قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی !

فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۚ قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ

📘 نَكِرَهُمْ وَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً جب حضرت ابراہیم نے محسوس کیا کہ رسمی اصرار کے باوجود بھی مہمان کسی طور کھانے کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہے تو اب آپ بجا طور پر کھٹکے کہ یہ پر اسرار لوگ کون ہیں اور یہاں کس ارادے سے آئے ہیں ؟ اس زمانے میں یہ رواج بھی تھا کہ اگر کوئی شخص دشمنی کی غرض سے کسی کے پاس جاتا تو اس کے ہاں کا کھانا نہیں کھاتا تھا۔ اسی لیے حضرت ابراہیم کو ان کی طرف سے خدشہ محسوس ہوا۔ جب انہوں نے آپ کا یہ خوف محسوس کیا تو :قَالُوْا لاَ تَخَفْ اِنَّآ اُرْسِلْنَآ اِلٰی قَوْمِ لُوْطٍ یعنی ہم فرشتے ہیں اور ہمیں قوم لوط کی طرف عذاب کی غرض سے بھیجا گیا ہے۔

وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ

📘 آیت 71 وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ حضرت سارہ قریب ہی کہیں پردے کے پیچھے کھڑی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں تو آپ شاید حضرت ابراہیم کی حالت پر ہنس پڑیں کہ میرے شوہر فرشتوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ یعنی فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی حضرت یعقوب یعنی پوتے کی بھی۔ اس وقت حضرت ہاجرہ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوچکی تھی۔ حضرت سارہ حضرت ابراہیم کی پہلی بیوی تھیں جبکہ حضرت ہاجرہ کو آپ کی خدمت میں بادشاہ مصر نے پیش کیا تھا۔ یہودیوں کے ہاں حضرت ہاجرہ کو کنیز سمجھا جاتا ہے ‘ حالانکہ آپ مصر کے شاہی خاندان کی خاتون تھیں۔ آپ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم ان دونوں ماں اور بیٹے کو اللہ کے حکم سے حجاز میں اس جگہ چھوڑ آئے جہاں بعد میں بیت اللہ تعمیر ہونا تھا۔ بہر حال حضرت سارہ کے ہاں اس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی۔ چناچہ فرشتوں نے آپ کو بیٹے کی اور پھر اس بیٹے کے بیٹے کی ولادت کی بشارت دی۔

قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ

📘 آیت 71 وَامْرَاَتُهٗ قَاۗىِٕمَةٌ فَضَحِكَتْ حضرت سارہ قریب ہی کہیں پردے کے پیچھے کھڑی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں تو آپ شاید حضرت ابراہیم کی حالت پر ہنس پڑیں کہ میرے شوہر فرشتوں سے خوف زدہ ہوگئے تھے۔فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ ۙ وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ یعنی فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی حضرت یعقوب یعنی پوتے کی بھی۔ اس وقت حضرت ہاجرہ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوچکی تھی۔ حضرت سارہ حضرت ابراہیم کی پہلی بیوی تھیں جبکہ حضرت ہاجرہ کو آپ کی خدمت میں بادشاہ مصر نے پیش کیا تھا۔ یہودیوں کے ہاں حضرت ہاجرہ کو کنیز سمجھا جاتا ہے ‘ حالانکہ آپ مصر کے شاہی خاندان کی خاتون تھیں۔ آپ کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم ان دونوں ماں اور بیٹے کو اللہ کے حکم سے حجاز میں اس جگہ چھوڑ آئے جہاں بعد میں بیت اللہ تعمیر ہونا تھا۔ بہر حال حضرت سارہ کے ہاں اس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی۔ چناچہ فرشتوں نے آپ کو بیٹے کی اور پھر اس بیٹے کے بیٹے کی ولادت کی بشارت دی۔

قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

📘 آیت 73 قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ یعنی یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے اور ہم اللہ کی طرف سے آپ علیہ السلام کو خوشخبری دے رہے ہیں۔رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ اس آیت میں ”اہل بیت“ کا مفہوم بہت واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہاں پر اس کا مصداق حضرت سارہ کے علاوہ کوئی اور نہیں ‘ لہٰذا یہاں لازمی طور پر آپ ہی اہل بیت ہیں۔ چناچہ محمد رسول اللہ کے معاملے میں بھی اہل بیت رسول آپ کی ازواج مطہرات ہی ہیں۔ اور آپ کا فرمان جو حضرت فاطمہ ‘ حضرت علی ‘ حضرت حسن اور حضرت حسین کے بارے میں ہے : اَللّٰھُمَّ آٰؤُلاَءِ اَہْلُ بَیْتِیْ 1 تو یہ گویا آپ نے اپنے اہل بیت کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بھی میرے اہل بیت میں شامل ہیں۔اِنَّهٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌاللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے اور وہ بہت عظمتوں والا ہے۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَىٰ يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ

📘 حضرت ابراہیم کا یہ مجادلہ تورات میں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے کہا کہ اگر ان بستیوں میں پچاس آدمی بھی راست باز ہوئے تو کیا پھر بھی ان کو ہلاک کردیا جائے گا ؟ فرشتوں نے جواب دیا کہ نہیں ‘ پھر انہیں ہلاک نہیں کیا جائے گا۔ پھر حضرت ابراہیم نے چالیس آدمیوں کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پھر بھی ان کو تباہ نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ اس طرح بات ہوتے ہوتے پانچ آدمیوں پر آگئی۔ اس پر حضرت ابراہیم کو بتایا گیا کہ آپ اس بحث کو چھوڑ دیں۔ اب تو آپ کے رب کا فیصلہ آچکا ہے کیونکہ ان بستیوں میں خود حضرت لوط اور ان کی دو بیٹیوں کے علاوہ کوئی ایک متنفس بھی راست باز نہیں ہے۔

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ

📘 یہاں حضرت ابراہیم کی یہ تین صفات ایک ساتھ جمع فرما کر آپ کی بہت قدر افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور آپ کے مجادلہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی ہے کہ چونکہ آپ بہت حلیم الطبع اور دل کے نرم تھے اسی وجہ سے آپ نے آخری حد تک کوشش کی کہ عذاب کے ٹلنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ کی طبیعت مبارک میں بھی خصوصی نرمی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق کو بھی اللہ نے طبیعت کی خاص نرمی عطا کر رکھی تھی۔

يَا إِبْرَاهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا ۖ إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ

📘 یہاں حضرت ابراہیم کی یہ تین صفات ایک ساتھ جمع فرما کر آپ کی بہت قدر افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور آپ کے مجادلہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی ہے کہ چونکہ آپ بہت حلیم الطبع اور دل کے نرم تھے اسی وجہ سے آپ نے آخری حد تک کوشش کی کہ عذاب کے ٹلنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ کی طبیعت مبارک میں بھی خصوصی نرمی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق کو بھی اللہ نے طبیعت کی خاص نرمی عطا کر رکھی تھی۔

وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ

📘 وَّقَالَ ہٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌچونکہ ان بستیوں کے لوگوں میں امرد پرستی عام تھی لہٰذا ان کی آخری آزمائش کے لیے فرشتوں کو ان کے پاس نوجوان خوبصورت لڑکوں کے روپ میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت لوط ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو دیکھ کر اسی لیے پریشان ہوئے کہ اب وہ اپنے ان مہمانوں کا دفاع کیسے کریں گے۔ اس لیے کہ آپ جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ کسی اپیل یا دلیل سے باز آنے والے نہیں تھے اور آپ اکیلے زبردستی انہیں روک نہیں سکتے تھے۔

وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ۚ قَالَ يَا قَوْمِ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي ۖ أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ

📘 قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ مفسرین نے اس کے ایک معنی تو یہ مراد لیے ہیں کہ تمہارے گھروں میں تمہاری بیویاں موجود ہیں جو میری بیٹیوں ہی کی مانند ہیں ‘ کیونکہ نبی اپنی پوری قوم کے لیے باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے سورة الاحزاب آیت 6 میں حضور کے بارے میں فرمایا گیا ہے : وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ کہ آپ کی تمام ازواج مطہرات مؤمنین کی مائیں ہیں۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ حضرت لوط نے اپنی بیٹیوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں ان سے جائز اور پاکیزہ طریقے سے نکاح کرلو میں اس کے لیے تیار ہوں لیکن میرے ان مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ ۭ اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ کیا تم لوگوں میں کوئی ایک بھی شریف النفس انسان نہیں ہے جو میرا ساتھ دے اور ان سب لوگوں کو بداخلاقی اور بےحیائی سے روکے۔

قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ

📘 آیت 79 قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِيْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ ۚ وَاِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيْدُ قوم کے لوگوں نے کہا کہ اب آپ ادھر ادھر کی باتیں مت کیجیے آپ خوب سمجھتے ہیں کہ ہمارا یہاں آنے کا مقصد کیا ہے۔

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

📘 آیت 8 وَلَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ ۭ کہ اتنے عرصے سے آپ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ تم پر عذاب آنے والا ہے ‘ مگر اب تک وہ عذاب آیا کیوں نہیں ؟ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے ؟

قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ

📘 آیت 80 قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ اس ضمن میں نبی اکرم نے فرمایا : یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ 1 ”اللہ رحم فرمائے لوط علیہ السلام پر وہ ایک مضبوط قلعہ میں ہی تو تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی اور حفاظت تو حضرت لوط کو حاصل تھی۔ لیکن اس وقت جو صورت حال بن گئی تھی اس میں بر بنائے طبع بشری پریشانی اور خوف کا طاری ہوجانا نبوت کی عصمت کے منافی نہیں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ بھی وقتی طور پر جادوگروں کے سانپوں سے ڈر گئے تھے۔

قَالُوا يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ ۖ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ ۚ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۚ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ

📘 آیت 81 قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ فرشتوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے آپ کو تسلی دی کہ آپ اطمینان رکھیں یہ لوگ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ ہلایا تو وہ سب نابکار اندھے ہوگئے۔فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌیعنی یہاں سے جاتے ہوئے آپ لوگوں کو پیچھے رہ جانے والوں کی طرف کسی قسم کی کوئی توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اِلَّا امْرَاَتَكَ ۭ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَآ اَصَابَهُمْ یعنی جب آپ اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکلیں گے تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے۔ آپ علیہ السلام کی اس بیوی کا ذکر سورة التحریم میں حضرت نوح کی مشرک بیوی کے ساتھ اس طرح ہوا ہے : ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ 10 ”اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح کی بیوی اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی۔ وہ دونوں عورتیں ہمارے دو برگزیدہ بندوں کے تحت تھیں لیکن انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی چناچہ ان کے شوہر انہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکے۔ اور ان دونوں عورتوں سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ۔“اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ اب آپ لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ آپ فوری طور پر اپنی بچیوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں صبح ہوتے ہی ان بستیوں پر عذاب آجائے گا۔ اور صبح ہونے میں اب دیر ہی کتنی ہے !

فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ

📘 آیت 82 فَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَایعنی ان بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا۔ جب عمارتیں تباہ ہوتی ہیں تو چھت زمین بوس ہوجاتی ہے اور دیواریں اس کے اوپر گرتی ہیں بنیادیں بھی اوپر آجاتی ہیں۔ وَاَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ ڏ مَّنْضُوْدٍ سِجِّیل اصل میں فارسی لفظ ہے۔ فارسی میں یہ ”سنگ گل“ تھا جو عربی میں آکر سِجِّیل کا تلفظ اختیار کرگیا۔ سنگ کے معنی پتھر اور گل کے معنی مٹی کے ہیں۔ یعنی مٹی کے پتھر جو گیلی مٹی کے دھوپ میں گرم ہو کر پختہ ہوجانے کے بعد بنتے ہیں جیسے اینٹوں کو بھٹے میں پکایا جاتا ہے۔ ان بستیوں پر عذاب دو صورتوں میں آیا ایک زمین کے اندر کوئی زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں زبردست زلزلہ آیا اور یہ بستیاں الٹ پلٹ ہوگئیں۔ پھر اوپر سے کنکریوں کی بارش ہوئی اور اس طرح انہیں ان پتھروں کے اندر دفن کردیا گیا۔

مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ

📘 آیت 83 مُّسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ یعنی ہر پتھر ایک آدمی کے لیے نشان زدہ اور مخصوص تھا۔وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ یعنی مشرکین مکہ سے قوم لوط علیہ السلام کی یہ بستیاں زیادہ دور نہیں ہیں۔ قریش کے قافلے جب فلسطین کی طرف جاتے تھے تو پہلے قوم ثمود اور قوم مدین کے علاقے سے گزرتے تھے پھر قوم لوط کی بستیوں کے آثار بھی ان کے راستے میں آتے تھے۔

۞ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ۚ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ

📘 آیت 84 وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا اس قوم کے بارے میں ہم سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ بنی قطورہ میں سے تھے اور خلیج عقبہ کے دا ہنی مشرقی طرف کے علاقہ میں آباد تھے۔ اس علاقہ میں یہ لوگ ایک بڑی مضبوط قوم بن کر ابھرے تھے۔ یہ علاقہ اس وقت کی دو بہت اہم بین الاقوامی شاہراہوں کے مقام انقطاع intersection پر واقع تھا۔ ایک شاہراہ شمالاً جنوباً تھی جو شام سے یمن جاتی تھی اور دوسری شرقاً غرباً تھی جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ چناچہ تمام تجارتی قافلے یہیں سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ اس زمانے کا بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ نتیجتاً یہاں کے لوگ بہت خوشحال ہوگئے تھے ‘ مگر ساتھ ہی ناپ تول میں کمی اور راہزنی جیسے قبیح جرائم میں بھی ملوث تھے۔

وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

📘 آیت 84 وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا اس قوم کے بارے میں ہم سورة الاعراف کے مطالعہ کے دوران پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ بنی قطورہ میں سے تھے اور خلیج عقبہ کے دا ہنی مشرقی طرف کے علاقہ میں آباد تھے۔ اس علاقہ میں یہ لوگ ایک بڑی مضبوط قوم بن کر ابھرے تھے۔ یہ علاقہ اس وقت کی دو بہت اہم بین الاقوامی شاہراہوں کے مقام انقطاع intersection پر واقع تھا۔ ایک شاہراہ شمالاً جنوباً تھی جو شام سے یمن جاتی تھی اور دوسری شرقاً غرباً تھی جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ چناچہ تمام تجارتی قافلے یہیں سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ اس زمانے کا بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ نتیجتاً یہاں کے لوگ بہت خوشحال ہوگئے تھے ‘ مگر ساتھ ہی ناپ تول میں کمی اور راہزنی جیسے قبیح جرائم میں بھی ملوث تھے۔

بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ

📘 آیت 86 بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو ‘ اور لوگوں کی چیزوں میں کمی کر کے ان کی حق تلفی نہ کیا کرو۔ اگر تم لوگ دیانتداری سے تجارت کرو ‘ اور اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں جو منافع عطا کریں اسی پر قناعت کرو تو یہ تمہاری دنیا و آخرت کے لیے بہت بہتر ہوگا۔وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ میں تو تمہیں سمجھا سکتا ہوں نیکی کی تلقین کرسکتا ہوں تم پر میرا کوئی زور نہیں ہے۔

قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ۖ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ

📘 آیت 87 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَآاگرچہ حضرت شعیب کی گفتگو میں ان کے شرک کا تذکرہ نہیں ہے ‘ مگر ان کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ بنیادی طور پر اس مرض شرک میں بھی مبتلا تھے جو تمام گمراہ قوموں کا مشترک مرض رہا ہے۔اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِيْٓ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰۗؤُایعنی ہماری ملکیت میں جو سامان اور مال ہے کیا ہم اس کے استعمال میں بھی اپنی مرضی نہیں کرسکتے ؟ یہ وہی تصور ہے جو آج کے جدید زمانے میں sacred right of ownership کے خوبصورت الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ اسلام میں ملکیت کا ایسا تصور نہیں ہے۔ اسلام کی رو سے ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور دنیا کا یہ مال اور ساز و سامان انسانوں کے پاس اللہ کی امانت ہے ‘ جس میں اللہ کی مرضی کے خلاف تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لہٰذا اسلام ملکیت کے کسی ”مقدس حق“ کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ : ایں امانت چند روزہ نزد ماست درحقیقت مالک ہر شے خدا ست یعنی یہ مال و دولت ہمارے پاس چند دن کی امانت ہے ‘ ورنہ حقیقت میں ہر شے کا مالک حقیقی تو اللہ ہی ہے۔ بہر حال جب انسان خود کو مالک سمجھتا ہے تو پھر وہ وہی کچھ کہتا ہے جو حضرت شعیب کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارا مال ہے ہم جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں !اِنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ قوم کا حضرت شعیب کو حلیم اور رشید کہنا کسی تعظیم اور تکریم کے لیے نہیں تھا بلکہ طعن اور استہزا کے طور پر تھا۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ۚ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

📘 آیت 88 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ حضرت شعیب نے وہی بات فرمائی جو دوسرے انبیاء و رسل اپنی اپنی قوم سے فرماتے آئے تھے کہ تمہارے درمیان رہتے ہوئے میرا کردار اور اخلاق پہلے بھی مثالی تھا ‘ میں اس معاشرے میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان کے طور پر معروف تھا۔وَرَزَقَنِيْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَـنًایعنی پھر مجھے اللہ نے نبوت اور رسالت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۭ وَمَا تَوْفِيْقِيْٓ اِلَّا باللّٰهِ میرا مقصد تم لوگوں کی اصلاح ہے اور اس سلسلے میں جو کچھ بھی میں کر رہا ہوں وہ اللہ کی توفیق ہی سے کر رہا ہوں۔ اسی نے مجھے ہمت اور استقامت سے نوازا ہے۔

وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِيدٍ

📘 وَمَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْکُمْ بِبَعِیْدٍ حضرت شعیب سے پہلے ان چار قوموں پر عذاب استیصال آچکا تھا۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ قوم لوط تم سے ”بعید“ نہیں ہے یہ زمانی اور مکانی دونوں اعتبار سے ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل سے متصل علاقے میں قوم مدین آباد تھی۔ اس علاقے سے ذرا ہٹ کر مشرق کی جانب بحیرۂ مردار ہے جس کے ساحل پر عامورہ اور سدوم کی وہ بستیاں تھیں جن میں حضرت لوط مبعوث ہوئے تھے۔ زمانی اعتبار سے بھی ان دونوں اقوام میں ہزاروں سال کا نہیں بلکہ صرف چند سو سال کا بعد تھا۔ بہر حال مجھے ان مفسرین سے اختلاف ہے جو حضرت شعیب کو حضرت موسیٰ کے ہم عصر سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں مجھے ان علماء کی رائے سے اتفاق ہے جن کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ مدین میں جس شخص کے مہمان بنے تھے اور جن کی بیٹی کے ساتھ بعد میں آپ نے نکاح کیا تھا وہ مدین کے ان لوگوں کی نسل سے کوئی نیک بزرگ تھے جو حضرت شعیب کے ساتھ عذاب استیصال سے بچ گئے تھے۔دوسرا اہم نکتہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ بعض اوقات کسی داعی کے ساتھ ذاتی عناد اور دشمنی کی بنیاد پر کوئی شخص یا کوئی گروہ اس کی اصولی دعوت کو بھی ٹھکرا دیتا ہے۔ یہ انسانی رویے کا ایک بہت خطرناک پہلو ہے کیونکہ اس میں اس داعی کا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا مگر صرف ذاتی تعصب کی بنیاد پر اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے خود کو برباد کرلیتے ہیں۔

وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ

📘 ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ ۚ اِنَّهٗ لَيَـــُٔــوْسٌ كَفُوْرٌ انسان بنیادی طور پر کوتاہ نظر اور ناشکرا ہے۔ کسی نعمت کامیابی یا خوشی کے بعد اگر اسے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ اس پر کبھی اللہ کی نظر کرم بھی تھی۔ چاہیے تو یہ کہ اچھے حالات میں انسان اللہ کا شکر ادا کرے اور جب کوئی سختی آجائے تو اس پر صبر کرے اور ساتھ ہی ساتھ دل میں اطمینان رکھے کہ ہر طرح کے حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں اگر آج سختی ہے تو کل آسائش بھی تو تھی۔

وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ

📘 آیت 90 وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ وَّدُوْدٌاپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اور اس کی طرف پلٹ آؤ۔ اس کی عبادت اور اطاعت شعاری اختیار کرو تو تم اس کے دامن رحمت کو اپنے لیے وسیع پاؤ گے۔ وہ انتہائی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے محبت رکھنے والا ہے۔

قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ

📘 آیت 91 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ جب ذہنوں کے سانچے بگڑ جائیں اور سوچوں کے زاویے بدل جائیں تو پھر سیدھی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ جس زمانے میں جو سورت نازل ہوئی ہے اس میں نبی اکرم اور آپ کے صحابہ کرام کو پیش آنے والے معروضی حالات کے ساتھ تطابق پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی گزشتہ اقوام کے واقعات جو مختلف سورتوں میں تواتر کے ساتھ بار بار آئے ہیں یہ تکرار محض نہیں ہے ‘ بلکہ حضور کی دعوت و تحریک کو جس دور میں جن مسائل کا سامنا ہوتا تھا اس خاص دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں ان مسائل کی مناسبت سے پچھلی اقوام کے حالات و واقعات سے وہ باتیں نمایاں کی جاتی تھیں جن میں حضور اور اہل ایمان کے لیے راہنمائی اور دلجوئی کا سامان موجود ہوتا۔ چناچہ آیت زیر نظر میں حضرت شعیب کے خاندان اور قبیلے کی حمایت کی بات اس لیے ہوئی ہے کہ ادھر مکہ میں حضور کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ اس زمانے میں بنو ہاشم کے سردار آپ کے چچا ابو طالب تھے جنہیں حضور سے بہت محبت تھی اور آپ نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ ان کے سایہ عاطفت میں گزارا تھا۔ انہی کی وجہ سے آپ کو پورے قبیلہ بنی ہاشم کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اگر اس وقت بنوہاشم کی سرداری کہیں ابولہب کے پاس ہوتی تو آپ کو اپنے خاندان اور قبیلہ کی یہ حمایت حاصل نہ ہوتی اس طرح مشرکین مکہ کو آپ کے خلاف معاذ اللہ کوئی انتہائی اقدام کرنے کا موقع مل جاتا۔ لہٰذا یہاں حالات میں تطابق اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آج مکہ میں بنو ہاشم کی حمایت سے محمد رسول اللہ کو ایک محفوظ قلعہ مہیا فرما دیا ہے ‘ بالکل اسی نوعیت کی حفاظت اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو ان کے خاندان کی حمایت کی صورت میں بھی عطا فرمائی تھی۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

📘 آیت 92 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْٓ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ حقیقت میں میرا پشت پناہ تو اللہ ہے۔ تم اللہ سے نہیں ڈرتے لیکن میرے خاندان سے ڈرتے ہو۔ کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ سے زیادہ طاقتور ہے ؟وَاتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَاۗءَكُمْ ظِهْرِيًّایعنی اللہ کو تو تم لوگوں نے بالکل ہی بھلا چھوڑا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگرچہ آج ہم بھی اللہ کو اپنا خالق مالک اور معبود ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ساتھ ہی دنیا اور اس کے جھمیلوں میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اللہ کا تصور مستحضر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کاروبار دنیا میں حقیقی مسبب الاسباب کو بھلا کر اسباب و حقائق cause and fact کی منطقی بھول بھلیوں میں گم رہتے ہیں : کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق !یہاں حضرت شعیب کا اپنے خاندان کے مقابلے میں اللہ کا ذکر کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ لوگ اللہ کو بخوبی جانتے تھے ‘ اسی طرح مشرکین مکہ بھی اللہ کو مانتے تھے۔ گویا اللہ کا معاملہ ایسے لوگوں کے نزدیک آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا ہوتا ہے۔ اسی لیے تو حضرت شعیب نے فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے خاندان سے ڈرتے ہو مگر اللہ سے نہیں ڈرتے ! حضرت شعیب کے اس جواب میں قریش کے لیے یہ پیغام مضمر ہے کہ تمہیں بھی محمد رسول اللہ کی طرف سے یہی جواب ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌاللہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے۔ تم اس کی گرفت سے نکل کر کہیں نہیں جاسکتے ہو۔

وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۖ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ

📘 آیت 93 وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌتم میرے خلاف جو بھی ریشہ دوانیاں کرسکتے ہو جو بھی چالیں چل سکتے ہو ‘ اور جو اقدامات بھی کرسکتے ہو کر گزرو۔ اپنے طور پر جو کچھ میں کرسکتا ہوں ‘ جو کوشش مجھ سے بن آرہی ہے میں کررہا ہوں۔ یہ چیلنج کرنے کا انداز سورة الانعام سے چلا آ رہا ہے۔ یہ گویا مکہ کے حالات کے ساتھ تطابق کیا جا رہا ہے۔ مکہ میں حق و باطل کی کشمکش بھی اب انتہا کو پہنچ چکی تھی اور اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت کے اندر ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوچکی تھی کہ اب جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو !

وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ

📘 آیت 93 وَيٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰي مَكَانَتِكُمْ اِنِّىْ عَامِلٌتم میرے خلاف جو بھی ریشہ دوانیاں کرسکتے ہو جو بھی چالیں چل سکتے ہو ‘ اور جو اقدامات بھی کرسکتے ہو کر گزرو۔ اپنے طور پر جو کچھ میں کرسکتا ہوں ‘ جو کوشش مجھ سے بن آرہی ہے میں کررہا ہوں۔ یہ چیلنج کرنے کا انداز سورة الانعام سے چلا آ رہا ہے۔ یہ گویا مکہ کے حالات کے ساتھ تطابق کیا جا رہا ہے۔ مکہ میں حق و باطل کی کشمکش بھی اب انتہا کو پہنچ چکی تھی اور اس کی وجہ سے آپ کی طبیعت کے اندر ایک طرح کی بیزاری پیدا ہوچکی تھی کہ اب جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو !

كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۗ أَلَا بُعْدًا لِمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ

📘 آیت 95 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ

📘 آیت 95 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ

📘 آیت 95 كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۭ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ اہل مدین بھی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار کا نشانہ بن کر اسی طرح ہلاک ہوگئے جیسے قوم ثمود ہلاک ہوئی تھی۔اب آخر پر بہت مختصر انداز میں حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ

📘 آیت 98 يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ دنیا کی طرح قیامت کے دن بھی اسے قیادت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ وہ آگے آگے ہوگا اور اس کی قوم پیچھے پیچھے آرہی ہوگی جیسے وہ لوگ دنیا میں اس کے پیچھے چلتے تھے۔فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ جس طرح جانوروں کا کوئی گروہ پانی پینے کے لیے گھاٹ پر آتا ہے اور ان کا لیڈر آگے آگے جا رہا ہوتا ہے ‘ ایسے ہی فرعون اپنی قوم کو جہنم کے گھاٹ پر لا اتارے گا۔

وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ

📘 آیت 98 يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ دنیا کی طرح قیامت کے دن بھی اسے قیادت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ وہ آگے آگے ہوگا اور اس کی قوم پیچھے پیچھے آرہی ہوگی جیسے وہ لوگ دنیا میں اس کے پیچھے چلتے تھے۔فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ جس طرح جانوروں کا کوئی گروہ پانی پینے کے لیے گھاٹ پر آتا ہے اور ان کا لیڈر آگے آگے جا رہا ہوتا ہے ‘ ایسے ہی فرعون اپنی قوم کو جہنم کے گھاٹ پر لا اتارے گا۔