WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة هود

(Hud) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الر ۚ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ

📘 قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ

📘 موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

ذَٰلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَىٰ نَقُصُّهُ عَلَيْكَ ۖ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ

📘 قدیم تاریخوںمیں بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات درج ہیں مگر نبیوں اور ان کی اقوام کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں۔ دوسری طرف قرآن کو دیکھيے تو اس میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نبیوںاور ان کی قوموں کے حالات ملتے ہیں۔ بقیہ باتیں اس نے اس طرح نظر انداز کردی ہیں جیسے اس کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان نے جو تاریخ لکھی اس میں اس نے وہی بات چھوڑدی جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تھی۔ دور نبوت کی ان ہلاک شدہ بستیوں میں سے بعض بستیاں ایسی ہیں، جو ابھی تک آباد ہیں۔ جیسے مصر جو فرعون کا مقام تھا دوسری طرف قوم ہود اور قوم لوط جیسی اقوام ہیں جن کی بستیاں ان کے باشندوں سمیت ناپید ہوگئیں۔ البتہ کہیں کہیں ان کے کچھ نشانات کھنڈر کی صورت میں کھڑے ہیں یا زمین کی کھدائی سے برآمد كيے گئے ہیں۔ ان بستیوں کا ہلاک کیا جانا بظاہر ایک ظالمانہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب یہ دیکھيے کہ کیوں ایسا ہوا تو عین مطابق حقیقت بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی بد عملی کے نتائج تھے۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی بدکرداری کے بعد ہوا، نہ کہ ان کی بدکرداری سے پہلے۔ جب بھی آدمی سرکشی اور ظلم کرتاہے تو وہ کسی برتے پر کرتا ہے۔ وہ کچھ چیزوں یا ہستیوں کو اپنا سہارا سمجھ لیتاہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ مشکل وقتوں میںاس کے مدد گار ثابت ہوں گے۔ مگر یہ سہارے اسی وقت تک سہارے ہیں جب تک خدا ڈھیل دے رہا ہو۔ جب خدا کے قانون کے مطابق ڈھیل کی مدّت ختم ہوجائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ ظاہر کردے اس وقت آدمی کو معلوم ہوتاہے کہ وہ سب محض جھوٹے مفروضے تھے جن کو اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے سہارا سمجھ لیا تھا۔

وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَٰكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ۖ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ

📘 قدیم تاریخوںمیں بادشاہوں اور فوجی جنرلوں کے حالات درج ہیں مگر نبیوں اور ان کی اقوام کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں۔ دوسری طرف قرآن کو دیکھيے تو اس میں سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ نبیوںاور ان کی قوموں کے حالات ملتے ہیں۔ بقیہ باتیں اس نے اس طرح نظر انداز کردی ہیں جیسے اس کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان نے جو تاریخ لکھی اس میں اس نے وہی بات چھوڑدی جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تذکرہ تھی۔ دور نبوت کی ان ہلاک شدہ بستیوں میں سے بعض بستیاں ایسی ہیں، جو ابھی تک آباد ہیں۔ جیسے مصر جو فرعون کا مقام تھا دوسری طرف قوم ہود اور قوم لوط جیسی اقوام ہیں جن کی بستیاں ان کے باشندوں سمیت ناپید ہوگئیں۔ البتہ کہیں کہیں ان کے کچھ نشانات کھنڈر کی صورت میں کھڑے ہیں یا زمین کی کھدائی سے برآمد كيے گئے ہیں۔ ان بستیوں کا ہلاک کیا جانا بظاہر ایک ظالمانہ واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب یہ دیکھيے کہ کیوں ایسا ہوا تو عین مطابق حقیقت بن جاتا ہے۔ کیونکہ یہ ان کی اپنی بد عملی کے نتائج تھے۔ جو کچھ ہوا وہ ان کی بدکرداری کے بعد ہوا، نہ کہ ان کی بدکرداری سے پہلے۔ جب بھی آدمی سرکشی اور ظلم کرتاہے تو وہ کسی برتے پر کرتا ہے۔ وہ کچھ چیزوں یا ہستیوں کو اپنا سہارا سمجھ لیتاہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ مشکل وقتوں میںاس کے مدد گار ثابت ہوں گے۔ مگر یہ سہارے اسی وقت تک سہارے ہیں جب تک خدا ڈھیل دے رہا ہو۔ جب خدا کے قانون کے مطابق ڈھیل کی مدّت ختم ہوجائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ ظاہر کردے اس وقت آدمی کو معلوم ہوتاہے کہ وہ سب محض جھوٹے مفروضے تھے جن کو اس نے اپنی نادانی کی وجہ سے سہارا سمجھ لیا تھا۔

وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ

📘 موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ

📘 موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَعْدُودٍ

📘 موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ

📘 موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے اور بسنے کا موقع صرف امتحان کی بنا پر حاصل ہے۔ پیغمبروں کی ذریعہ اتمام حجت کے بعد بھی جو لوگ منکر بنے رہیں وہ خدا کی زمین میں مزید ٹھہرنے کا حق کھودیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے منکرین کو خدا نے ہلاک کردیا (العنکبوت، 35:40 ) یہ ہلاکت زیادہ تر اس طرح ہوئی کہ عام زمینی آفتوں میں شدت پیدا کردی گئی مثلاً آندھی، سیلاب، یا زلزلہ جو عام حالات میں ایک حد کے اندر رہتے ہیں، ان کو غیر محدود طورپر شدید کردیا گیا۔ ماضی میں اس طرح قوموں کی تباہی کے واقعات کو جغرافی تاریخ کے علماء موسمی تغیّرات (climatic pulsations) کانام دیتے ہیں۔ گویا جو کچھ ہوا وہ محض جغرافی اتھل پتھل کے نتیجہ میں ہوا۔ اگرچہ وہ اس واقعہ کی کوئی توجیہہ نہیں کر پاتے کہ اس قسم کے شدید موسمی تغیرات صرف ماضی میں کیوں پیش آئے۔ وہ اب (ختم نبوت کے بعد) کیوں نہیں پیش آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات سادہ معنوں میں صرف جغرافی واقعات نہ تھے بلکہ یہ حکم خداوندی کا ظہور تھا۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام عدل پر قائم ہے۔ یہاں خود قانون قدرت کے تحت لازماً ایسا ہونے والا ہے کہ ظالم اپنے ظلم کی سزا پائے اور عادل کو اپنے عدل کا انعام ملے۔ ان واقعات کو موسمی تغیرات کہنا ان کو جغرافیہ کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کو خدائی تغیرات مانا جائے تووہ آدمی کے ليے خوفِ خدا اور فکر آخرت کا زبردست سبق بن جائیں گے۔ پیغمبروں کے زمانہ میں جو واقعات پیش آئے وہ گویا بڑی قیامت سے پہلے اس کی ایک چھوٹی نشانی تھے۔ ان میں ایسا ہوا کہ منکرین کو ایک مدّت تک ڈھیل دی گئی۔ اس کے بعد خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا تو سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ صرف وہ لوگ بچ سکے جو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے خداکے نزدیک نیک بخت قرار پا چکے تھے۔ ان کے علاوہ جو لوگ خدا کی میزان میںسرکش اور بد بخت تھے وہ لازمی طورپر عذا ب کی زد میں آئے۔ حتی کہ پیغمبروں کی سفارش بھی ان کو بچا نہ سکی، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔

فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ

📘 قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ

📘 قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

۞ وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ ۖ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ

📘 قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَٰؤُلَاءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ

📘 قرآن میں سب سے زیادہ اہمیت اور سب سے زیادہ تکرار کے ساتھ جس چیز کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت پر چھوڑ نہیں ديے جائیں گے۔ بلکہ موت کے بعد وہ خدا کی عدالت میں حاضر كيے جائیں گے۔ وہاں ہر ایک اپنی کاركردگی کے مطابق جنت یا دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ اس اہمیت اور تکرارکی وجہ لوگوں کا ’’شک‘‘ ہے۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زمین پر بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت کو نہیں مانتے۔ بے شمار انسان ایسے ہیں جو خدا کی ہدایت سے آزاد ہو کر عمل کرتے ہیں۔ بیشتر انسان خدا پسند زندگی کے بجائے خود پسند زندگی گزاررہے ہیں۔ پھر بھی ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ پھر بھی سارے لوگ کامیاب ہیں۔ بظاہر یہاں کہیں دکھائی نہیں دیتا کہ خدا کے وفاداروںکو کوئی خصوصی انعام مل رہا ہو یا خدا کے نافرمانوں کو کوئی خاص سزا بھگتنی پڑتی ہو۔ اس بنا پر لوگوں کو شک ہونے لگتاہے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ انسانوں کا جو انجام مسلسل وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس کے سوا بھی کوئی انجام ان کے لیے مقدر ہے۔ یہاں قرآن بتاتا ہے کہ لوگوں کا مسلسل غیرحق پر چلنا اس لیے نہیں ہے کہ انھوںنے مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا اور پھر اس کو معقول پاکر اسے اختیار کرلیا۔ اس کا سبب دراصل رواج کی پیروی ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی پیروی۔ اس کے باوجود لوگوں کے عمل کا انجام ان کے سامنے نہیں آتا تو اس کا سبب مہلتِ امتحان ہے۔ زمین پر موت سے پہلے کی زندگی جانچ کی زندگی ہے۔ اس لیے موت تک انسان کو یہاں ڈھیل دی جارہی ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ موت اس مقررہ مدت کا خاتمہ ہے۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو مقام امتحان سے اٹھا کر مقام عدالت میں پہنچا دیا جائے۔ وہاں ہر ایک کو وہی ملے گا جس کا وہ فی الواقع مستحق تھا اورہر ایک سے وہ چھن جائےگا جس کو اس نے استحقاق کے بغیر اپنے گرد جمع کررکھا تھا۔

إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

📘 موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ

📘 ’’موسی کی کتاب میں اختلاف‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہوگئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا (فَاخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ قَوْمُ مُوسَى فَكَذَّبَ بِهِ بَعْضُهُمْ، وَصَدَّقَ بِهِ بَعْضُهُمْ) تفسیر الطبری، جلد 12 ، صفحہ 592 ۔ جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک، صحیح تعبیر۔ دوسري، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے۔ ان کی سنجیدگی ان کے لیے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ کوئی ایک بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انھیں اختلاف رائے تک پہنچا دے گی۔ یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے، نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔

وَإِنَّ كُلًّا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ ۚ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

📘 ’’موسی کی کتاب میں اختلاف‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مخاطبین اس کے بیانات کے بارے میں کئی رائے ہوگئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے جھٹلایا اور کچھ لوگوں نے تسلیم کیا (فَاخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ قَوْمُ مُوسَى فَكَذَّبَ بِهِ بَعْضُهُمْ، وَصَدَّقَ بِهِ بَعْضُهُمْ) تفسیر الطبری، جلد 12 ، صفحہ 592 ۔ جب بھی کوئی بات کہی جائے تو آدمی اس کے بارے میں ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتاہے۔ ایک، صحیح تعبیر۔ دوسري، غلط تعبیر۔ اگر سننے والے فی الواقع سنجیدہ ہوں تو وہ ہمیشہ ایک ہی صحیح تعبیر تک پہنچیں گے۔ ان کی سنجیدگی ان کے لیے اتحاد رائے کی ضامن بن جائے گی۔ اس کے برعکس، اگر وہ بات کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو وہ اس کو کوئی اہمیت نہ دیں گے اور اپنے خیال کے مطابق اس کی مختلف تعبیریں کریں گے۔ کوئی ایک بات کہے گا، کوئی دوسری بات۔ اس طرح ان کی غیر سنجیدگی انھیں اختلاف رائے تک پہنچا دے گی۔ یہ صورت تمام پیغمبروں کے ساتھ پیش آئی۔ اس کے باوجود خدا اس کو گوارا کرتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو عمل کی جگہ بنایا ہے اور اگلی آنے والی دنیا کو بدلہ پانے کی جگہ۔ خدا کی یہی سنت ہے جس کی بنا پر لوگوں کو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ صورتِ حال اسی مہلت امتحان کی بنا پر ہے، نہ کہ خدا کے عجز یا لوگوں کے کسی استحقاق کی بنا پر۔

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

📘 دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ

📘 دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ

📘 دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ

📘 دعوتِ حق کا ابتدائی استقبال نظر انداز کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد مخالفت شروع ہوتی ہے، یہاں تک کہ مخالفت اپنے آخری نقطہ پر پہنچ جاتی ہے۔ یہ داعیوں کے لیے بڑا نازک وقت ہوتا ہے۔ اس وقت ان کے درمیان دوقسم کے ذہن ابھرتے ہیں۔ کچھ لوگ جھنجھلا کر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ مخالفین سے ٹکرا جائیں اور ان لوگوں سے قوت کے ذریعے نپٹیں جن کے لیے نظری دلائل بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ دوسرا ذہن وہ ہے جو یہ سوچتاہے کہ مخاطبین کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر اپنی دعوت میں کچھ ترمیم کرلی جائے۔ دعوت کے ان اجزاء کا ذکر نہ کیا جائے جن کو سن کر مخاطبین بگڑ جاتے ہیں۔ پہلا رویہ اگر حد سے تجاوز کرناہے تو دوسرا رویہ باطل سے مصالحت کرنا۔ اور یہ دونوں ہی اللہ کی نظر میں یکساں طورپر غلط ہیں۔ خاص طور پر دوسری چیز (قابل قبول بنانے کی خاطر تبدیلی) تو جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ حق کا اعلان ہے۔ اور مصالحت کی صورت میں حق کا واضح اعلان نہیں ہوسکتا۔ دعوت کی راہ میں جب کوئی مشکل پیش آئے تو داعی کو چاہیے کہ خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے کیونکہ سب کچھ کرنے والا وہی ہے۔ خدا کی مدد ہی تمام مشکلات کے حل کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔

فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيلًا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ۗ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ

📘 یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انھیں اس لیے دیا گیا تھاکہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھر ے، وہ ان کے لیے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلہ میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہیے جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں ان کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کسی قوم میںایسے اہل ِ خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دو سبب سے ہوتاہے۔ یا تو پوری قوم کی قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیںگے۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہوجاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آجائے۔

وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ

📘 یہاں پچھلوں سے مراد پچھلی امتیں بالفاظ دیگر پچھلی مسلم قومیں ہیں۔ قوم کا بگاڑ ہمیشہ اس طرح ہوتاہے کہ دنیوی سامان جو خدا کی طرف سے انھیں اس لیے دیا گیا تھاکہ اس سے ان کے اندر شکر کا جذبہ ابھر ے، وہ ان کے لیے سرمستی اور دنیا پرستی پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ ایسی حالت میں مسلم قوم کی اصلاح کے لیے جو کام کرنا ہے اس کا عنوان شریعت کی اصطلاح میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ یہ حکم ایک مسلمان کی اس ذمہ داری کو بتاتا ہے جو اپنے قریبی ماحول کی اصلاح کے سلسلہ میں اس پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں ہمیشہ ایسے افراد موجود رہنے چاہیے جو مسلمانوں کو خدا اور آخرت کی یاد دلائیں۔ وہ ان کے اخلاق کی نگرانی کریں۔ وہ معاملات میں ان کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کسی قوم میںایسے اہل ِ خیر کا نہ نکلنا ہمیشہ دو سبب سے ہوتاہے۔ یا تو پوری قوم کی قوم بگڑ چکی ہو اور اس میں کوئی صالح انسان باقی نہ رہا ہو یا صالح افراد موجود تو ہوں مگر عمومی بگاڑ کی وجہ سے وہ زبان کھولنے کی ہمت نہ کرتے ہوں۔ انھیں اندیشہ ہو کہ اگر انھوں نے سچی بات کہی تو قوم کے درمیان وہ بے عزت ہو کر رہ جائیںگے۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں قوم خدا کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور اس کی مستحق ہوجاتی ہے کہ ایک یا دوسری صورت میں وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آجائے۔

وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ

📘 ہماری دنیا میں انسان کے سوا دوسری بے شمار مخلوقات بھی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ فطرت کے ایک ہی مقرر راستہ پر چلتی ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی خدا ایک ہی صراطِ مستقیم کا پابند بنا سکتا تھا۔ مگر انسان کے بارے میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلے میں خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو خود اپنے آزادانہ اختیار کے تحت ایک چیز کو لے اور دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ انسان کی دنیا میں اختلاف (کسی کا ایک راستہ پر چلنااور کسی کا دوسرے راستہ پر) دراصل اسی خاص خدائی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ منصوبہ یقیناً ایک پر خطر منصوبہ تھا کیوںکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ آزادی کا غلط استعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنالیں گے۔ مگر اسی پر خطر منصوبہ کے ذریعے وہ اعلیٰ روحیں بھی چنی جاسکتی تھیں جو خداکی رحمت خاص کی مستحق قرار پائیں۔ خدا نے اپنی رحمتیں ساری کائنات کو بطور عطیہ دے رکھی ہیں۔ اب خدا نے یہ منصوبہ اس لیے بنایا تاکہ اپنی رحمت وہ اپنی ایک مخلوق کو یہ کہہ کر دے کہ یہ تمھارا حق ہے۔ خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جس کا شعور اتنا بیدار ہوگیاہو کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی قدرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے آدمی سے سرکشی کی طاقت چھین لیتاہے۔ حتی کہ اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ جب خدا اپنی رحمت کو اس کا حق کہہ کر پیش کرے تو اس کا شعورِ حقیقت پکار اٹھے — خدایا، یہ تیری رحمتوں ہی کا ایک کرشمہ ہے، ورنہ میرا عمل تو کسی قیمت کا مستحق نہیں۔

إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ ۗ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

📘 ہماری دنیا میں انسان کے سوا دوسری بے شمار مخلوقات بھی ہیں۔ یہ سب ہمیشہ فطرت کے ایک ہی مقرر راستہ پر چلتی ہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی خدا ایک ہی صراطِ مستقیم کا پابند بنا سکتا تھا۔ مگر انسان کے بارے میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلے میں خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جو خود اپنے آزادانہ اختیار کے تحت ایک چیز کو لے اور دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ انسان کی دنیا میں اختلاف (کسی کا ایک راستہ پر چلنااور کسی کا دوسرے راستہ پر) دراصل اسی خاص خدائی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ منصوبہ یقیناً ایک پر خطر منصوبہ تھا کیوںکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگ آزادی کا غلط استعمال کرکے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنالیں گے۔ مگر اسی پر خطر منصوبہ کے ذریعے وہ اعلیٰ روحیں بھی چنی جاسکتی تھیں جو خداکی رحمت خاص کی مستحق قرار پائیں۔ خدا نے اپنی رحمتیں ساری کائنات کو بطور عطیہ دے رکھی ہیں۔ اب خدا نے یہ منصوبہ اس لیے بنایا تاکہ اپنی رحمت وہ اپنی ایک مخلوق کو یہ کہہ کر دے کہ یہ تمھارا حق ہے۔ خدا کی رحمت اس شخص کو ملتی ہے جس کا شعور اتنا بیدار ہوگیاہو کہ وہ امتحانی اختیار کے اندر اپنی حقیقی بے اختیاری کو جان لے۔ وہ انسانی قدرت کے پردہ میں خدا کی قدرت کو دیکھ لے۔ یہ شعور ایسے آدمی سے سرکشی کی طاقت چھین لیتاہے۔ حتی کہ اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ جب خدا اپنی رحمت کو اس کا حق کہہ کر پیش کرے تو اس کا شعورِ حقیقت پکار اٹھے — خدایا، یہ تیری رحمتوں ہی کا ایک کرشمہ ہے، ورنہ میرا عمل تو کسی قیمت کا مستحق نہیں۔

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَنْ يَقُولُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَا أَنْتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انھوں نے اختیار کررکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طورپر ان کی نظر میں باعظمت بنے ہوئے تھے، جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، تنقیدی انداز سے پرہیز کرے اور صرف مثبت طورپر اپنا پیغام پیش کرے۔ ’’شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے‘‘ سے مراد وحی خداوندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لیے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اوریہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی۔ ان سے کہاگیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی دعوت پیش کررہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمھارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برسر حق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے۔

وَكُلًّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ۚ وَجَاءَكَ فِي هَٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

📘 قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔

وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ

📘 قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔

وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ

📘 قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔

وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

📘 قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔ ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انھوں نے اختیار کررکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طورپر ان کی نظر میں باعظمت بنے ہوئے تھے، جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، تنقیدی انداز سے پرہیز کرے اور صرف مثبت طورپر اپنا پیغام پیش کرے۔ ’’شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے‘‘ سے مراد وحی خداوندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لیے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اوریہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی۔ ان سے کہاگیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی دعوت پیش کررہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمھارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برسر حق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے۔

فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انھوں نے اختیار کررکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طورپر ان کی نظر میں باعظمت بنے ہوئے تھے، جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، تنقیدی انداز سے پرہیز کرے اور صرف مثبت طورپر اپنا پیغام پیش کرے۔ ’’شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے‘‘ سے مراد وحی خداوندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لیے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اوریہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی۔ ان سے کہاگیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی دعوت پیش کررہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمھارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برسر حق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے۔

مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ

📘 دین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ملاوٹی دین، دوسرا بے آمیز دین۔ ملاوٹی دین دراصل دنیا کے اوپر دین کا لیبل لگانے کا دوسرا نام ہے۔ وہ دنیا اور دین کے درمیان مصالحت کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ ملاوٹی دین کی بنیاد پر بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں۔ مفاد پرست لوگ اس کے ذریعے دین کے نام پر دنیا حاصل کرلیتے ہیں۔ بے آمیز دین کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے آمیز دین کی دعوت جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک نظری سچائی ہوتی ہے۔ معاشی مفادات اور قیادتی مصالح اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں جو لوگ ملاوٹی دین کے نام پر عزت اور مقام حاصل كيے ہوئے ہوں ان کے سامنے جب بے آمیز دین کی دعوت آتی ہے تو وہ سخت متوحش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں انھیں نظر آتاہے کہ تمام دنیوی چیزیں ان سے چھن جائیں گی۔ اس اعتبار سے کسی ماحول میں بے آمیز دین کی دعوت کا اٹھنا وہاں ایک نازک امتحان کا برپا ہونا ہے۔ ایسے وقت میں جو لوگ دنیا کی عزت اور دنیا کے مفادات کو قابلِ ترجیح سمجھیں اور بے آمیز دین کا ساتھ نہ دیں ان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے خانہ میں چلی جاتی ہے۔ کیوںکہ انھوں نے اس دین کا ساتھ دیا جس میں ان کے دنیوی مفادات محفوظ تھے۔ اور اس دین کا ساتھ نہ دیا جس میں انھیں اپنے دنیوی مفادات چھنتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ بظاہر خواہ دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں، اصل مقصود کے اعتبار سے وہ دنیا کے حصول میں مشغول ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوششوں کا آخرت میں کوئی نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔ انھوںنے اگرچہ اپنی سرگرمیوں کو دین کے نام سے موسوم کررکھا تھا وہ اپنے قومی میلوں کے اوپر جشن دینی کا بورڈ لگاتے تھے۔وہ اپنی قومی لڑائیوں کو مقدس جنگ کا نام دیتے تھے۔ وہ اپنی قیادتی نمائش کو دینی کانفرنس کہتے تھے، وہ اپنے سیاسی ہنگاموں کو مذہب کی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے، وہ اپنے دنیوی جذبات کے تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیاکی زمین میں تھیں، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں، اس لیے قیامت کا زلزلہ انھیں بالکل برباد کردے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

📘 دین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ملاوٹی دین، دوسرا بے آمیز دین۔ ملاوٹی دین دراصل دنیا کے اوپر دین کا لیبل لگانے کا دوسرا نام ہے۔ وہ دنیا اور دین کے درمیان مصالحت کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ ملاوٹی دین کی بنیاد پر بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں۔ مفاد پرست لوگ اس کے ذریعے دین کے نام پر دنیا حاصل کرلیتے ہیں۔ بے آمیز دین کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے آمیز دین کی دعوت جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک نظری سچائی ہوتی ہے۔ معاشی مفادات اور قیادتی مصالح اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں جو لوگ ملاوٹی دین کے نام پر عزت اور مقام حاصل كيے ہوئے ہوں ان کے سامنے جب بے آمیز دین کی دعوت آتی ہے تو وہ سخت متوحش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں انھیں نظر آتاہے کہ تمام دنیوی چیزیں ان سے چھن جائیں گی۔ اس اعتبار سے کسی ماحول میں بے آمیز دین کی دعوت کا اٹھنا وہاں ایک نازک امتحان کا برپا ہونا ہے۔ ایسے وقت میں جو لوگ دنیا کی عزت اور دنیا کے مفادات کو قابلِ ترجیح سمجھیں اور بے آمیز دین کا ساتھ نہ دیں ان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے خانہ میں چلی جاتی ہے۔ کیوںکہ انھوں نے اس دین کا ساتھ دیا جس میں ان کے دنیوی مفادات محفوظ تھے۔ اور اس دین کا ساتھ نہ دیا جس میں انھیں اپنے دنیوی مفادات چھنتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ بظاہر خواہ دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں، اصل مقصود کے اعتبار سے وہ دنیا کے حصول میں مشغول ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوششوں کا آخرت میں کوئی نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔ انھوںنے اگرچہ اپنی سرگرمیوں کو دین کے نام سے موسوم کررکھا تھا وہ اپنے قومی میلوں کے اوپر جشن دینی کا بورڈ لگاتے تھے۔وہ اپنی قومی لڑائیوں کو مقدس جنگ کا نام دیتے تھے۔ وہ اپنی قیادتی نمائش کو دینی کانفرنس کہتے تھے، وہ اپنے سیاسی ہنگاموں کو مذہب کی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے، وہ اپنے دنیوی جذبات کے تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیاکی زمین میں تھیں، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں، اس لیے قیامت کا زلزلہ انھیں بالکل برباد کردے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔

أَفَمَنْ كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ۚ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ ۚ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

📘 پیغمبر اسلام نے عرب میں توحید کی دعوت پیش کی تو کچھ لوگوں نے اس کو مانا اور زیادہ لوگ اس کے منکر ہوگئے۔ یہی ہر زمانہ میں دعوت حق کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ خدا نے ہر آدمی کو فطرتِ صحیح پر پیدا کیا ہے۔ گردو پیش کی دنیا میں ہر طرف ایسی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو اپنے خالق کا اعلان کرتی ہیں اور اسی کے ساتھ اس کے تخلیقی منصوبہ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔ پھر انسانیت کے بالکل ابتدائی زمانہ سے خدا کے رسول آتے رہے اور خدا کی باتیں لوگوں کو بتاتے رہے۔ انھیں میں سے ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جن کی لائی ہوئی کتاب اب تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اب جو شخص سنجیدہ ہو اور چیزوں سے سبق لینا جانتا ہو تو وہ حقیقت سے اتنا مانوس ہوگا کہ داعی جب اس کے سامنے حقیقت کا اعلان کرے گا تو فوراً وہ اس کو پہچان لے گا۔ اس کا دل اور اس کا دماغ حق کے حق ہونے پر گواہی دیں گے۔وہ آگے بڑھ کراس کو اس طرح اختیار کرلے گا جیسے وہ اس کے اپنے دل کی آواز ہو۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ چیزوں کو بہت زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں دیکھتے۔ وہ سطحی تماشوں اور وقتی دلچسپیوں میںپڑ کر اپنا مزاج بگاڑ لیتے ہیں۔ غیر متعلق چیزوں کی مصروفیت انھیں اس کا موقع نہیں دیتی کہ وہ داعی اور اس کی دعوت پر ٹھہر کر سوچیں۔ چنانچہ ان کے سامنے جب حق کی دعوت آتی ہے تو وہ اس کو پہچان نہیں پاتے۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کے منکر بلکہ مخالف بن جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی اور خدا کے تخلیقی منصوبہ کی ناقدری کی۔ ان کے لیے آخرت میں جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔ انسانی فطرت، زمین وآسمان کے واقعات اور پچھلی آسمانی کتابیں قرآن کے حق ہونے کی گواہی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد اگر لوگوں کی اکثریت اس کا انکار کرتی ہے تو اس کی وجہ منکرین کے اندر تلاش کی جائے گی، نہ یہ کہ خود قرآن کے کتاب حق ہونے پر شک کیا جائے۔

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۚ أُولَٰئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

📘 ’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ

📘 ’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۚ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ

📘 قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

أُولَٰئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ۘ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ ۚ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ

📘 ’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ

📘 ’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ

📘 ’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔ مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔ اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔ آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

📘 اخبات کے معنی ہیں عاجزی کرنا۔ عربی میں کہتے ہیں ہو خبیت القلب (وہ شکستہ دل ہے)۔ یہی ایمان کا خلاصہ ہے۔ ایمان نہ کوئی وراثت ہے اور نہ کسی لفظی مجموعہ کی لسانی ادائيگی۔ ایمان ایک دریافت ہے۔ آدمی جب اپنے سمع وبصر (بالفاظ دیگر شعور) کو استعمال کرکے خدا کو پاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتاہے تو اس وقت اس کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسی کا نام عجز (اخبات) ہے۔ عجز خدا کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کی پہچان کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایمان، اخبات اور عمل صالح تینوں ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایمان خدا کے وجود اور اس کی صفات کمال کی شعوری دریافت ہے۔ اخبات اس قلبی حالت کا نام ہے جو خدا کی دریافت کے نتیجہ میں لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ عمل صالح اسی شعور اور اسی کیفیت سے پیدا ہونے والی خارجی صورت ہے۔ آدمی جب خدا کے ذہن سے سوچتاہے۔ جب اس کا دل خدائی کیفیات سے بھر جاتاہے تو اس وقت اس کے عین فطری نتیجے کے طور پر اس کی ظاہری زندگی خدائی عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ جو شخص ایمان، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ دنیا میں اعلیٰ ترین امتحانی حالات پیدا کرکے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو کیا ثابت کرتاہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر (شعور) کو صحیح طور پر استعمال کرکے حقیقت واقعہ کو جانا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ یہ دیکھنے اور سننے والے لوگ ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر کو صحیح طورپر استعمال نہیں کیا۔ اس کو نہ حقیقت واقعہ کی معرفت حاصل ہوئی اور نہ وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکا۔ یہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں۔ اور دو مختلف انسانوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔

۞ مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

📘 اخبات کے معنی ہیں عاجزی کرنا۔ عربی میں کہتے ہیں ہو خبیت القلب (وہ شکستہ دل ہے)۔ یہی ایمان کا خلاصہ ہے۔ ایمان نہ کوئی وراثت ہے اور نہ کسی لفظی مجموعہ کی لسانی ادائيگی۔ ایمان ایک دریافت ہے۔ آدمی جب اپنے سمع وبصر (بالفاظ دیگر شعور) کو استعمال کرکے خدا کو پاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتاہے تو اس وقت اس کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسی کا نام عجز (اخبات) ہے۔ عجز خدا کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کی پہچان کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایمان، اخبات اور عمل صالح تینوں ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایمان خدا کے وجود اور اس کی صفات کمال کی شعوری دریافت ہے۔ اخبات اس قلبی حالت کا نام ہے جو خدا کی دریافت کے نتیجہ میں لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ عمل صالح اسی شعور اور اسی کیفیت سے پیدا ہونے والی خارجی صورت ہے۔ آدمی جب خدا کے ذہن سے سوچتاہے۔ جب اس کا دل خدائی کیفیات سے بھر جاتاہے تو اس وقت اس کے عین فطری نتیجے کے طور پر اس کی ظاہری زندگی خدائی عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ جو شخص ایمان، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ دنیا میں اعلیٰ ترین امتحانی حالات پیدا کرکے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو کیا ثابت کرتاہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر (شعور) کو صحیح طور پر استعمال کرکے حقیقت واقعہ کو جانا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ یہ دیکھنے اور سننے والے لوگ ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر کو صحیح طورپر استعمال نہیں کیا۔ اس کو نہ حقیقت واقعہ کی معرفت حاصل ہوئی اور نہ وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکا۔ یہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں۔ اور دو مختلف انسانوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ

📘 خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔ اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔ خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔

أَنْ لَا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۖ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ

📘 خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔ اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔ خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔

فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَىٰ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ

📘 خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔ اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔ خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ

📘 یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

وَيَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۚ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ إِنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَلَٰكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ

📘 یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ

📘 قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

وَيَا قَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

📘 یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا ۖ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ ۖ إِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ

📘 یہاں ’’بینہ‘‘ سے مراد دلیل ہے اور رحمت سے مراد نبوت ہے (تفسير النسفی، جلد2، صفحہ 55 ) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر جب کسی قوم کو دعوت دیتاہے تو وہ دو چیزوں کے اوپر کھڑا ہوتاہے، دلیل اور نبوت۔ پیغمبر کے بعد کوئی داعی بھی اسی وقت داعی ہے جب کہ وہ انھیں دو چیزوں پر کھڑا ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ دلیل کے بعد دوسری چیز جو اس کے پاس ہوگی وہ بالواسطہ طورپر پیغمبر سے ملی ہوگی۔ جب کہ پیغمبر کے پاس وہ براہِ راست خدا کی طرف سے آئی ہے۔ قوم جس وقت خدا کے داعی کو یہ سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے کہ اس کے یہاں ظاہری اعتبار سے کوئی قابل لحاظ چیز نہیں، عین اسی وقت اس کے پاس ایک بہت بڑی قابل لحاظ چیز موجود ہوتی ہے۔ اور وہ دلیل اورہدایت ہے۔ دلیل اور ہدایت کی بڑائی کامل طورپر خدا کے داعی کے پاس موجود ہوتی ہے۔ مگر یہ بہر حال معنوی بڑائی ہے۔ اور جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں ان کو معنوی بڑائی کیوں کر دکھائی دے گی۔ دعوت الی اللہ کا کام خالص اخروی کام ہے۔ اس کی صحیح کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان زر اورزمین کے جھگڑے نہ ہوں۔ یہ ذمہ داری خود داعی کو لینی پڑتی ہے کہ اس کے اور مدعو کے درمیان معتدل فضاہو۔ اور اس کی خاطر وہ ہر قسم کے مادی اور معاشی جھگڑے یک طرفہ طورپر ختم کردے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ وہ ایک طرف دعوت دے اور دوسری طرف مدعو سے دنیوی چیزوں کے لیے احتجاج اور مطالبہ بھی کررہا ہو، وہ داعی نہیں، مسخرہ ہے۔ اس کی کوئی قیمت نہ مدعو کی نظر میں ہوسکتی ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔ مدعو کا امتحان یہ ہے کہ وہ بظاہر ایک بے عظمت انسان کے اندر حق کی عظمت کو دیکھ لے۔ اسی طرح داعی کا امتحان یہ ہے کہ وہ کسی بے دین کا اس ليے استقبال نہ کرنے لگے کہ وہ مال وجاہ کا مالک ہے،اور کسی د ین دار کو اس لیے ناقابلِ لحاظ نہ سمجھ لے کہ اس کے پاس دنیوی شان وشوکت کی چیزیں موجود نہیں۔ داعی اگر ایسا کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ زبان سے آخرت کی اہمیت کا وعظ کہہ رہا ہے اور عمل سے دنیا کی اہمیت کا ثبوت دے رہاہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی تردید آپ ہے۔ اور جو شخص اپنی تردید آپ کرے اس کی بات کی دوسروں کی نظر میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔

قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

📘 حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔ اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔ حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔ داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔

قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُمْ بِهِ اللَّهُ إِنْ شَاءَ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ

📘 حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔ اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔ حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔ داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔

وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ إِنْ كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُغْوِيَكُمْ ۚ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

📘 حضرت نوح نے اپنی قوم سے جدال (جھگڑا اور مناظرہ) نہیں کیا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں اپنا صالح پیغام ان کے سامنے پیش کررہے تھے۔ مگر آپ کی سنجیدہ دعوت آپ کی قوم کو الٹی صورت میں نظر آرہی تھی۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب ا س کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو تو وہ سنجیدگی کھو دیتاہے۔ ایسی بات کو وہ دلیل اور ثبوت کے اعتبار سے نہیں دیکھتا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے اس کو رد کردیتا ہے۔ داعی حق کی ٹھوس دلیل بھی اس کو بحث وجدال معلوم ہونے لگتی ہے۔ ’’بہت جدال کرچکے‘‘ کا جملہ دراصل یہ بتانے کے لیے نہیں ہے کہ نوح نے کیا کہا تھا۔ بلکہ وہ اس کو بتاتا ہے کہ سننے والوں نے آپ کی بات کو کیا درجہ دیا تھا۔ اسی طرح مخالفینِ نوح کا عذاب کو طلب کرنا حقیقۃً عذاب کو طلب کرنا نہیں تھا۔ بلکہ حضرت نوح کا مذاق اڑانا تھاکہ دیکھو یہ شخص ایسی بات کہہ رہا ہے جو کبھی ہونے والی نہیں۔ وہ اپنی پوزیشن کو اتنا مستحکم سمجھتے تھے جس میں ان کے خیال کے مطابق کہیں سے عذاب آنے کی گنجائش نہ تھی۔ اسی ذہن کے تحت انھوں نے کہا کہ ہمارے انکار کی سزا میں جس عذاب کی تم خبر دیتے رہے ہو وہ عذاب لاؤ۔ اور چونکہ ان کے نزدیک ایساعذاب کبھی آنے والا نہ تھا اس لیے اس سے ان كي مراد يه تھي کہ ہم حق پر ہیں اور تم نا حق پر۔ حضرت نوح نے جواب دیا کہ تم معاملہ کو میری نسبت سے دیکھ رہے ہو اور چوں کہ میں کمزور ہوں اس لیے تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ عذاب کبھی تمھارے اوپر آسکتاہے۔ اگر معاملہ کو خدا کی نسبت سے دیکھتے تو تم یہ نہ کہتے۔ کیونکہ پھر تمھیں نظر آجاتا کہ اس دنیا میں ظالموں کے لیے عذاب کا آنا اتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج کا نکلنا اور زلزلہ کا پھٹنا۔ داعیٔ حق کی بات کو ماننے کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ سننے والا اس کو کہنے والے کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ جو کہا گیا ہے اس کے اعتبار سے دیکھے۔ چوں کہ حضرت نوح کی قوم آپ کی بات کو بس ایک عام انسان کی بات سمجھ رہی تھی، اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس ذہن کے تحت تم میری بات کی قدر وقیمت کبھی نہیں پاسکتے۔ اب تو تمھارے لیے اسی دن کا ا نتظار کرنا ہے جب کہ خدا براہِ راست تمھارے سامنے آجائے۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ

📘 جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر نے یہ کلام خود گھڑ لیا ہے، یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ حتی کہ وہ ماضی کے رسولوں کو مانتے تھے۔ پھر انھوںنے ایسا کیوں کہا۔یہ دراصل وحی کا انکار نہیں تھابلکہ صاحب وحی کا انکار تھا۔ جو شخص خداکی طرف سے بول رہا تھا وہ دیکھنے میں ان کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کا ظاہر پرست مزاج سمجھ نہیں پاتا تھا کہ ایسا ایک آدمی وہ شخص کیسے ہوسکتاہے جس کو خدا نے اپنے پيغام كي پیغام بری کے لیے چناہو۔ ’’میرا جرم میرے اوپر، تمھارا جرم تمھارے اوپر‘‘ یہ دارصل کلمہ رخصت ہے۔ جب مخاطب دلیل سے بات کو نہیں مانتا، ہر قسم کی وضاحت کے باوجود وہ انکار پر تلا ہوا ہے تو داعی محسوس کرتاہے کہ اس کے لیے اب آخری چارۂ کار صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوجائے کہ میں اور تم دونوں حاکم اصلی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ وہاں ہر ایک کاحال کھل جائے گا۔اور ہر آدمی اپنی حقیقت کے اعتبار سے جیسا تھا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔ جب دلیل کی حد ختم ہوجائے تو داعی کے لیے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہتی کہ وہ یقین کی زبان میں کلام کرکے علیحدگی اختیار کرلے۔

وَأُوحِيَ إِلَىٰ نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

📘 انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ

📘 انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَأٌ مِنْ قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ ۚ قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ

📘 انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُقِيمٌ

📘 انسان سے جو ایمان مطلوب ہے وہ ایمان وہ ہے جب کہ آدمی شعوری طورپر اپنے آزادانہ فیصلہ سے ایمان قبول کرے۔ پیغمبر کے طویل دعوتی عمل کے باوجود جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ ایسا کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلہ کے تحت خدا کے مومن بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دوسرا مرحلہ یہ ہوتاہے کہ ان کی آزادی چھین لی جائے اور ان کو لے جاکر براہِ راست خدائے ذوالجلال کے سامنے کھڑا کردیا جائے تاکہ جس چیز کا انھوں نے مومنانہ اقرار نہیں کیا تھا، اس کا وہ مجرمانہ اقرار کریں اور اپنی سرکشی کی سزا بھگتیں۔ حضرت نوح کی سیکڑوں سال کی تبلیغ کے بعد ان کی قوم کے لیے یہ وقت آگیا تھا۔ اس کے بعد حضرت نوح سے کہہ دیا گیا کہ اب تبلیغ کے کام سے فارغ ہو کر کشتی تیار کرو تاکہ جب سرکشوں کو غرق کرنے کے لیے خدا کا سیلاب آئے تو اس وقت تم اور تمھارے ساتھی اہل ایمان اس میں پناہ لے سکیں۔ حضرت نوح نے ایک بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی۔ اس کو بنانے میں کئی سال لگ گئے۔ جس زمانہ میں حضرت نوح اپنے چند ساتھیوں کو لے کر کشتی بنا رہے تھے تو قوم کے سرکش لوگ آتے جاتے ہوئے اسے دیکھتے۔ چوں کہ وہ لوگ عذاب کی بات کو محض فرضی سمجھ رہے تھے اس ليے جب انھوں نے دیکھا کہ آنے والے مفروضہ عذاب سے بچنے کے لیے کشتی بھی تیار کی جارہی ہے تووہ حضرت نوح کا اور بھی زیادہ مذاق اڑانے لگے۔ ایک آدمی سرکشی اور ناانصافی کے ذریعہ دولت سمیٹ رہا ہو تو ظاہر پرست آدمی اس کے گرد دنیا کا سازوسامان دیکھ کر اس کو کامیاب سمجھ لے گا۔ مگر جو شخص جانتا ہو کہ دنیا کا نظام اخلاقی قوانین پر چل رہا ہے، وہ مذکورہ شخص کی وقتی کامیابی میں مستقبل کی عظیم تباہی کا منظر دیکھ رہا ہوگا— قوم نوح کے ظاہر پرست لوگ اگر چہ حضرت نوح کا مذاق اڑا رہے تھے، مگر حقیقتِ واقعہ کی نظر میں خود ان کا مذاق اڑ رہا تھا۔

إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

📘 قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔ پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔ آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔ جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔

حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ

📘 جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

۞ وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلَا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ

📘 جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

قَالَ سَآوِي إِلَىٰ جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ ۚ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ رَحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ

📘 جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ ۖ وَقِيلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

📘 جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا کے حکم سے طوفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ زمین سے پانی کے دہانے پھوٹ پڑے۔ اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ تمام لوگ اس میں ڈوب گئے۔ صرف وہ چند انسان اور کچھ مویشی بچے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے۔ حتی کہ حضرت نوح کا بیٹا بھی غرق ہوگیا — خدا کی نظر میں کسی کی قیمت اس کے عمل کے اعتبار سے ہے، نہ کہ رشتہ کے اعتبار سے، خواہ وہ رشتہ پیغمبر کا کیوں نہ ہو۔ جب تمام ڈوبنے والے ڈوب چکے تو خدا نے حکم دیا کہ طوفان تھم جائے، اور طوفان تھم گیا۔ پانی سمندروں اور دریاؤں میں چلا گیا اور زمین دوبارہ رہنے کے قابل ہوگئی۔ طوفانِ نوح کے موقع پر دیکھنے والوں نے یہ منظر دیکھا کہ اونچے پہاڑ پر چڑھنے والے ڈوب گئے اور ہولناک موجوں کے باوجود کشتی میں بیٹھے والے سلامت رہے۔ اس کی وجہ خود پہاڑ میں یا کشتی میں نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ حکم خداوندی کا معاملہ تھا۔ حکم خداوندی اگر پہاڑ کے ساتھ ہوتا تو پہاڑ اپنے چڑھنے والوں کو بچاتا اور کشتی کا سہارا لینے والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر اس موقع پر حکم خداوندی کشتی کے ساتھ تھا۔ اس لیے کشتی والے محفوظ رہے اور دوسری چیزوں کی پناہ لینے والے غرق ہوگئے۔ دنیا میں اسباب کا نظام محض ایک پردہ ہے۔ ورنہ یہاں جو کچھ ہورہا ہے براہِ راست خداکے حکم سے ہو رہا ہے۔ انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری پردہ سے گزر کر اصل حقیقت کو دیکھ لے۔ وہ اسباب کے اندر خدائی طاقتوں کو کام کرتا ہوا پالے۔

وَنَادَىٰ نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ

📘 طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔ اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ

📘 طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔ اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔

قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ

📘 طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔ اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔ دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔

قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ

📘 جب تمام برے لوگ غرق ہوچکے تو طوفان تھم گیا۔ پانی دھیرے دھیرے زمین میں اور سمندروں میں چلا گیا۔ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی تھی، آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے نکل کر زمین پر اترے۔ زمین دوبارہ خداکے حکم سے سرسبز اور آباد ہو گئی۔ حضرت نوح جن لوگوں کے درمیان آئے وہ حضرت آدم کی نبوت کو ماننے والے لوگ تھے۔آپ کے بعد آپ کی امت ابتداء ً راہ راست پر رہی۔ اس کے بعد اس کی اگلی نسلوں میں بگاڑ آیا تو دوبارہ انبیاء بھیجے گئے۔ یہ بعد کو آنے والے انبیاء ان قوموں میں آئے جو حضرت نوح کی نبوت کو مانتی تھیں۔ اس کے باوجود جب انھوں نے وقت کے نبی کو مان کر اپنی اصلاح نہ کی تو وہ ہلاک کر دی گئیں ۔ گویا صرف کسی نبی کوماننا یا اس کی طرف اپنے کو منسوب کرنا نجات یافتہ ہونے کے لیے کافی نہیںہے۔ بلکہ وہ ایمان مطلوب ہے جو زندہ ایمان ہو اور جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ آدمی کی زندگی کو نیک عملی کی زندگی میں تبدیل کردے۔ حضرت نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ باطل پرستوں کا زور خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اور ان کی زندگی خواہ کتنی ہی طویل ہوجائے، بالآخر ان کے لیے جو چیز مقدر ہے وہ ہلاکت ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اہلِ ایمان خواہ کتنے ہی کم ہوں اور خواہ وہ بظاہر کتنے ہی بے زور ہوں۔ مگر جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنائے جاتے ہیں، ابتداء ً موجودہ دنیا میں اور آخری طورپر آخرت میں۔

تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَٰذَا ۖ فَاصْبِرْ ۖ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

📘 جب تمام برے لوگ غرق ہوچکے تو طوفان تھم گیا۔ پانی دھیرے دھیرے زمین میں اور سمندروں میں چلا گیا۔ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی تھی، آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس سے نکل کر زمین پر اترے۔ زمین دوبارہ خداکے حکم سے سرسبز اور آباد ہو گئی۔ حضرت نوح جن لوگوں کے درمیان آئے وہ حضرت آدم کی نبوت کو ماننے والے لوگ تھے۔آپ کے بعد آپ کی امت ابتداء ً راہ راست پر رہی۔ اس کے بعد اس کی اگلی نسلوں میں بگاڑ آیا تو دوبارہ انبیاء بھیجے گئے۔ یہ بعد کو آنے والے انبیاء ان قوموں میں آئے جو حضرت نوح کی نبوت کو مانتی تھیں۔ اس کے باوجود جب انھوں نے وقت کے نبی کو مان کر اپنی اصلاح نہ کی تو وہ ہلاک کر دی گئیں ۔ گویا صرف کسی نبی کوماننا یا اس کی طرف اپنے کو منسوب کرنا نجات یافتہ ہونے کے لیے کافی نہیںہے۔ بلکہ وہ ایمان مطلوب ہے جو زندہ ایمان ہو اور جس کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ آدمی کی زندگی کو نیک عملی کی زندگی میں تبدیل کردے۔ حضرت نوح کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ باطل پرستوں کا زور خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اور ان کی زندگی خواہ کتنی ہی طویل ہوجائے، بالآخر ان کے لیے جو چیز مقدر ہے وہ ہلاکت ہے۔ اور اس کے مقابلہ میں اہلِ ایمان خواہ کتنے ہی کم ہوں اور خواہ وہ بظاہر کتنے ہی بے زور ہوں۔ مگر جب خدا کا فیصلہ ظاہر ہوتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنائے جاتے ہیں، ابتداء ً موجودہ دنیا میں اور آخری طورپر آخرت میں۔

أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

📘 قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہوگئے۔ یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو برتر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتاہے۔ مگر آدمی بھول جاتاہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ یہ صرف ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔ پھر آدمی کا حال س وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتی کہ وہ اسباب بھی جن کے بَل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کردیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ نہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔

وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ

📘 قوم عاد کی ہدایت کے لیے حضرت ہود کو اٹھایا گیا جو انھیں کے بھائی تھے۔یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طورپر قوم کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ موثر طورپر اس کے اندر دعوت حق کا کام کرسکتے ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انھوںنے یہ بھی کہا کہ تمھارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف ’’مثبت طور پر‘‘ اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتاہے۔ کیوں کہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ ہر پیغمبر کے زمانہ میںایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیا ر یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلّل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالا تر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقتِ واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائناتی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلناہو۔ تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اس فقرہ کا مطلب مادی قوت میں اضافہ نہیں ہے۔ کیونکہ قوم عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقت ور تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر نے جب ان کوعذاب سے ڈرایا تو انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے (مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً، حم السجدۃ، 41:15 )۔ اس لیے مادی قوت میں اضافہ کی بات، دعوتی اعتبار سے ان کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتی تھی۔ اِس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمھاری طاقت گھٹے گی نہیں بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

يَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

📘 قوم عاد کی ہدایت کے لیے حضرت ہود کو اٹھایا گیا جو انھیں کے بھائی تھے۔یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طورپر قوم کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ موثر طورپر اس کے اندر دعوت حق کا کام کرسکتے ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انھوںنے یہ بھی کہا کہ تمھارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف ’’مثبت طور پر‘‘ اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتاہے۔ کیوں کہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ ہر پیغمبر کے زمانہ میںایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیا ر یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلّل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالا تر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقتِ واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائناتی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلناہو۔ تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اس فقرہ کا مطلب مادی قوت میں اضافہ نہیں ہے۔ کیونکہ قوم عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقت ور تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر نے جب ان کوعذاب سے ڈرایا تو انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے (مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً، حم السجدۃ، 41:15 )۔ اس لیے مادی قوت میں اضافہ کی بات، دعوتی اعتبار سے ان کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتی تھی۔ اِس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمھاری طاقت گھٹے گی نہیں بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ

📘 قوم عاد کی ہدایت کے لیے حضرت ہود کو اٹھایا گیا جو انھیں کے بھائی تھے۔یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طورپر قوم کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ موثر طورپر اس کے اندر دعوت حق کا کام کرسکتے ہیں۔ حضرت ہود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انھوںنے یہ بھی کہا کہ تمھارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف ’’مثبت طور پر‘‘ اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتاہے۔ کیوں کہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ ہر پیغمبر کے زمانہ میںایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیا ر یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلّل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالا تر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقتِ واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائناتی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلناہو۔ تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اس فقرہ کا مطلب مادی قوت میں اضافہ نہیں ہے۔ کیونکہ قوم عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقت ور تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر نے جب ان کوعذاب سے ڈرایا تو انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے (مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً، حم السجدۃ، 41:15 )۔ اس لیے مادی قوت میں اضافہ کی بات، دعوتی اعتبار سے ان کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتی تھی۔ اِس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمھاری طاقت گھٹے گی نہیں بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

قَالُوا يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

📘 قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ ۗ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ

📘 قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

مِنْ دُونِهِ ۖ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُونِ

📘 قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّي وَرَبِّكُمْ ۚ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

📘 قوم نے حضرت ہود سے کہا کہ تمھارے پاس اپنے برسر حق ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقع بھی حضرت ہود کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آنجناب کے پاس یقینا ًدلیل تھی، مگر وہ مخاطبین کو دلیل دکھائی نہیں دیتی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ آدمی عام طورپر کسی بات کو خالص دلیل کی بنیادوں پر جانچ نہیں پاتا بلکہ اس اعتبار سے دیکھتاہے کہ جو شخص اس کو پیش کررہا ہے وہ کیساہے۔ چوں کہ پیش کرنے والا اپنے زمانہ میں لوگوں کو ایک ناقابلِ لحاظ انسان دکھائی دیتا تھا اس لیے اس کی بات بھی لوگوں کو ناقابلِ لحاظ نظر آتی تھی۔ جب ایک شخص وقت کے جمے ہوئے مذہب کو چھوڑ کر خالص بے آمیز دین کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتاہے کہ ماحول میں وہ اجنبی بلکہ حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں جیسے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس کو خللِ دماغی کا عارضہ لاحق ہوگیا ہو۔ حضرت ہود کے معاملہ میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے ان کی قوم کے لوگوں کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ ’’ہمارا تو خیال ہے کہ تمھارے اوپر ہمارے بزرگوں کی مار پڑ گئی ہے‘‘۔ مگر داعیٔ حق کی صداقت کا ثبوت، نظری دلائل کے بعد، ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے مخالفین ہر قسم کی کوششوں کے باوجود اس کو زیر نہیں کرپاتے۔ خدا کے پیغمبر جن قوموں میں آئے وہ سب خدا کو ماننے والی تھیں۔ گویا داعی بھی خدا پرست ہونے کا مدعی تھا اور مدعو بھی خدا پرست ہونے کا مدعی۔ ایسی حالت میں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ خدا دونوں میں سے کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ خدا صراط مستقیم (سیدھی شاہراہ) پر ہے۔ اس لیے جو دین کے سیدھے خط پر چل رہا ہے وہ براہِ راست خدا تک پہنچے گا اور جو ٹیڑھے راستوں پر چل رہا ہے اس کا راستہ اِدھر اُدھر بھٹک کر رہ جائے گا۔ وہ خدا تک پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حضرت ہود نے جب کہاکہ’’ میرا رب صراطِ مستقیم پر ہے ‘‘تو دوسرے لفظوں میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں جس چیز کی طرف بلا رہا ہوں وہ صراطِ مستقیم (دین کی شاہراہ) ہے۔ اور تم لوگ جن چیزوں کو دین سمجھ کر اختیار كيے ہوئے ہو وہ دین کی شاہراہ کے اطراف میں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑنا ہے۔ اس قسم کی دوڑ آدمی کو خدا تک نہیں پہنچاتی، وہ اس کو ادھر ادھر بھٹکا کر چھوڑ دیتی ہے۔ اِن آیات کی روشنی میں غور کیا جائے تو حضرت ہود کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم یہ نکلتی ہے— توحید، عبادتِ الٰہی، استغفار، توبہ، نعمتوں پر خدا کا شکر، توکل علی اللہ، خدا کو اپنا پروردگار ماننا، صرف خدا کو تمام طاقتوں کا مالک سمجھنا، خدا کو اپنے اوپر نگراں بنا لینا۔ کبر کی روش کے بجائے اطاعت کی روش اختیار کرنا۔ یہ سب دین کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات پر چلنا اور ان کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا گویا دین کی شاہراہ پر چلنا ہے۔ اس پر چلنے والا سیدھے خدا تک پہنچتاہے۔ اس کے سوا جن چیزوں کو آدمی اہمیت دے اور ان کی دھوم مچائے وہ گویا اصل شاہراہ کے دائیں بائیں پگڈنڈیاں نکال کر ان کے اوپر دوڑ رہا ہے۔ ایسی دوڑ آدمی کو صرف خدا سے دور کرنے والی ہے، وہ اس کو خدا کے قریب نہیں پہنچا سکتی۔

فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا ۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ

📘 جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّيْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ

📘 جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

وَتِلْكَ عَادٌ ۖ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ

📘 جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

۞ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ

📘 قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہوگئے۔ یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو برتر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتاہے۔ مگر آدمی بھول جاتاہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ یہ صرف ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔ پھر آدمی کا حال س وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتی کہ وہ اسباب بھی جن کے بَل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کردیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ نہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔

وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُودٍ

📘 جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔

۞ وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ

📘 حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔ حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوںنے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔

قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَٰذَا ۖ أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ

📘 حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔ حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوںنے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ

📘 حضرت صالح نے اپنی قوم کو ایک خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کا مقصد تھا۔ مگر حضرت صالح کی قوم آپ کے پیغام کو قبول نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ اس کو براہِ راست خدا سے جوڑنے کی بات کرتے تھے، جب کہ قوم کا حال یہ تھا کہ وہ خدا کے نام پر صرف اپنے اعاظم واکابر سے جڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مزاج کی وجہ سے کسی چیز کی اہمیت اور معنویت صرف اس وقت سمجھ پاتے ہیں جب کہ ان کے قومی بزرگوں کے قول وعمل میں اس کی تصدیق مل جائے۔ اب چونکہ حضرت صالح کے پاس صرف دلیل کا زور تھا، ان کی قوم ان کی بات کی اہمیت کو محسوس نہ کرسکی۔ حضرت صالح جس دین کی طرف بلارہے تھے اس کی اہمیت خدا کی وحی اور زمین و آسمان کی نشانیوں میں غور کرنے سے واضح ہوتی تھی۔ جب کہ ان کی قوم صرف اس دین کی اہمیت سے باخبر تھی جو اکابر قوم کے ملفوظات اور معمولات سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی قوم آپ کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب ہو کر بھی بس ایک قسم کے شبہ کی حالت میں پڑی رہی۔ حضرت صالح، دوسرے تمام پیغمبروں کی طرح، شخصیت اور ذہانت میں اپنی قوم کے ممتاز فرد تھے۔ لوگ امید رکھتے تھے کہ بڑے ہو کر وہ قوم کے ایک کار آمد فرد ثابت ہوں گے۔ مگر وہ بڑی عمر کو پہنچے تو انھوں نے قوم کے مروجہ مذہب پر تنقید شروع کردی۔ یہ دیکھ کر قوم کے لوگوں کو ان کے بارہ میں سخت مایوسی ہوئی۔ انھوںنے کہا، ہم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ تم ہمارے قائم شدہ مذہبی نظام کے ایک ستون بنو گے۔ اس کے برعکس ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے مذہبی نظام کو بے بنیادثابت کرنے پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہو — یہی معاملہ ہر دور میں خدا کے سچے داعیوں کو اپنی قوم کی طرف سے پیش آیا ہے۔

وَيَا قَوْمِ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ

📘 حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ

📘 حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ

📘 حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ

📘 حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۗ أَلَا إِنَّ ثَمُودَ كَفَرُوا رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِثَمُودَ

📘 حضرت صالح اپنی قوم سے کہتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم خدا کی پکڑ میںآجاؤ گے۔ ان کی قوم اگرچہ خدا اور رسالت کی منکر نہ تھی مگر اس نے حضرت صالح کی بات کو ایک مذاق سمجھا۔ کیوں کہ حضرت صالح کے پاس اپنی پیغمبری کو ثابت کرنے کے لیے صرف نظری دلیل تھی اور یہ انسان کی کمزوری ہے کہ ہ وہ صرف نظری دلیل کی بنیاد پر بہت کم اس کے لیے تیار ہوتا ہے کہ ایک مانوس چیز کو چھوڑے اور دوسری غیر مانوس چیز کو اختیار کرلے۔ حضرت صالح کی قوم جب نظری نشانیوں کے آگے جھکنے پر تیار نہ ہوئی تو آخری مرحلہ میں اس کے مطالبہ کے مطابق اس کے لیے حسّی نشانی بھی ظاہر کردی گئی۔ یہ ایک اونٹنی تھی جو لوگوں کے سامنے ٹھوس چٹان کے اندر سے نکل آئی۔ ایسی نشانی کے بارے میں خدا کا قانون ہے کہ جب وہ ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے بعد لوگوں کے لیے امتحان کی مزید مہلت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حضرت صالح نے اعلان کر دیا کہ اب تم لوگ یا تو توبہ کرکے میری بات مان لو، ورنہ تم سب لوگ ہلاک کرديے جاؤگے۔ مگر جو لوگ نظری دلائل کی قوت کو محسوس نہ کرسکیں وہ حسی دلائل کو دیکھ کر بھی اس سے عبرت پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت صالح کی قوم اپنی سرکشی سے باز نہ آئی۔ حتی کہ اس نے خود اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید مہلت کا سوال نہ تھا۔ چنانچہ وہ مٹا دی گئی۔ قوم صالح (ثمود) کا علاقہ شمالی مغربی عرب (الحجر) تھا۔ حضرت صالح کو حکم ہوا کہ تم یہاں سے باہر چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنے مخلص ساتھیوں کو لے کر شام کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد ایک سخت زلزلہ آیااور ساری قوم اس کی لپیٹ میں آکر بری طرح ہلاک ہوگئی۔

وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ ۖ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ

📘 حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ

📘 موجودہ دنیا کو خدا نے چھ دنوں یعنی چھ ادوار (periods) میں پیدا کیا ہے۔ زمین پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا۔ ا س کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہوگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں۔ خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کردے۔ مگر یہ دنیا انسان کے لیے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا۔ دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آبادکاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے۔ ’’اچھا عمل ‘‘ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔ یعنی کسی دباؤکے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کارفرمائی کو دیکھ لے۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے۔ موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہورہا ہے۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لیے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتاہے کہ وہ یا تو متنبہ ہوکر اپنی اصلاح کرلیں یا آخری طورپر اپنے آپ کو مجرم ثابت کردیں۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتاہے۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیںگے اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے۔

فَلَمَّا رَأَىٰ أَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۚ قَالُوا لَا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمِ لُوطٍ

📘 حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

وَامْرَأَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ يَعْقُوبَ

📘 حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

قَالَتْ يَا وَيْلَتَىٰ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَٰذَا بَعْلِي شَيْخًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ

📘 حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۖ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ۚ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

📘 حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔ حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَىٰ يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ

📘 حضرت ابراہیم کی یہ گفتگو ان فرشتوں سے ہوئی جو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے۔ چونکہ یہ فرشتے خدا کی طرف سے اور اس کے حکم کی تعمیل میں آئے تھے، اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ پیغمبر اور فرشتوں کے درمیان اس گفتگو کا ایک جزء سورۂ عنکبوت (آیت 32 ) میں مذکور ہے۔ اور اس کا تفصیلی ذکر موجودہ بائبل (پیدائش باب 18 ) میں آیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا قوم لوط کے حق میں منظور نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت نوح کی دعا اپنے بیٹے کے لیے منظو ر نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغفرت کی دعا معروف معنوں میں کوئی سفارش نہیں ہے جو کہ ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کرے۔ اور وہ دعا کرنے والے کی بزرگی کی بنا پر اس کے حق میں مان لی جائے۔ دعا خود اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر حضرت نوح کے بیٹے یا حضرت لوط کی قوم کے لوگوں کے اندر خود دعا کا جذبہ ابھر آتا اور وہ اپنی نجات کے لیے خدا کو پکارتے تو یقیناً خدا انھیں معاف کردیتا اور اپنی رحمت ان کی طرف بھیج ديتا ۔ عذاب کا لوٹا دیا جانا ممکن ہے، جیسا کہ حضرت یونس کی قوم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔ مگر وہ جب بھی لوٹے گا خود زیرِ سزا افراد کی دعاؤں سے لوٹے گا، نہ کہ کسی غیر شخص کی دعاؤں سے، خواہ یہ غیر شخص پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک شخص کو دوسرے شخص کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہرزمانہ میں پیغمبروں نے اور صالح لوگوں نے دوسروں کے لیے دعائیں کی ہیں۔ مگر یہ دعا حقیقۃً خود دعا کرنے والے کے حلیم اور اوّاہ اور منیب ہونے کا اظہار ہوتاہے۔ اللہ کا ایک بندہ جو اللہ سے ڈرتاہو وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے اور اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے ۔ تاہم کسی کی دعا دوسرے کے حق میں اسی وقت مفیدہوگی جب کہ وہ خود بھی اللہ سے ڈر کر اللہ کو پکار رہا ہو۔

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ

📘 حضرت ابراہیم کی یہ گفتگو ان فرشتوں سے ہوئی جو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے۔ چونکہ یہ فرشتے خدا کی طرف سے اور اس کے حکم کی تعمیل میں آئے تھے، اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ پیغمبر اور فرشتوں کے درمیان اس گفتگو کا ایک جزء سورۂ عنکبوت (آیت 32 ) میں مذکور ہے۔ اور اس کا تفصیلی ذکر موجودہ بائبل (پیدائش باب 18 ) میں آیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا قوم لوط کے حق میں منظور نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت نوح کی دعا اپنے بیٹے کے لیے منظو ر نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغفرت کی دعا معروف معنوں میں کوئی سفارش نہیں ہے جو کہ ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کرے۔ اور وہ دعا کرنے والے کی بزرگی کی بنا پر اس کے حق میں مان لی جائے۔ دعا خود اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر حضرت نوح کے بیٹے یا حضرت لوط کی قوم کے لوگوں کے اندر خود دعا کا جذبہ ابھر آتا اور وہ اپنی نجات کے لیے خدا کو پکارتے تو یقیناً خدا انھیں معاف کردیتا اور اپنی رحمت ان کی طرف بھیج ديتا ۔ عذاب کا لوٹا دیا جانا ممکن ہے، جیسا کہ حضرت یونس کی قوم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔ مگر وہ جب بھی لوٹے گا خود زیرِ سزا افراد کی دعاؤں سے لوٹے گا، نہ کہ کسی غیر شخص کی دعاؤں سے، خواہ یہ غیر شخص پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک شخص کو دوسرے شخص کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہرزمانہ میں پیغمبروں نے اور صالح لوگوں نے دوسروں کے لیے دعائیں کی ہیں۔ مگر یہ دعا حقیقۃً خود دعا کرنے والے کے حلیم اور اوّاہ اور منیب ہونے کا اظہار ہوتاہے۔ اللہ کا ایک بندہ جو اللہ سے ڈرتاہو وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے اور اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے ۔ تاہم کسی کی دعا دوسرے کے حق میں اسی وقت مفیدہوگی جب کہ وہ خود بھی اللہ سے ڈر کر اللہ کو پکار رہا ہو۔

يَا إِبْرَاهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا ۖ إِنَّهُ قَدْ جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ

📘 حضرت ابراہیم کی یہ گفتگو ان فرشتوں سے ہوئی جو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے۔ چونکہ یہ فرشتے خدا کی طرف سے اور اس کے حکم کی تعمیل میں آئے تھے، اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ پیغمبر اور فرشتوں کے درمیان اس گفتگو کا ایک جزء سورۂ عنکبوت (آیت 32 ) میں مذکور ہے۔ اور اس کا تفصیلی ذکر موجودہ بائبل (پیدائش باب 18 ) میں آیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا قوم لوط کے حق میں منظور نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت نوح کی دعا اپنے بیٹے کے لیے منظو ر نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغفرت کی دعا معروف معنوں میں کوئی سفارش نہیں ہے جو کہ ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کرے۔ اور وہ دعا کرنے والے کی بزرگی کی بنا پر اس کے حق میں مان لی جائے۔ دعا خود اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر حضرت نوح کے بیٹے یا حضرت لوط کی قوم کے لوگوں کے اندر خود دعا کا جذبہ ابھر آتا اور وہ اپنی نجات کے لیے خدا کو پکارتے تو یقیناً خدا انھیں معاف کردیتا اور اپنی رحمت ان کی طرف بھیج ديتا ۔ عذاب کا لوٹا دیا جانا ممکن ہے، جیسا کہ حضرت یونس کی قوم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔ مگر وہ جب بھی لوٹے گا خود زیرِ سزا افراد کی دعاؤں سے لوٹے گا، نہ کہ کسی غیر شخص کی دعاؤں سے، خواہ یہ غیر شخص پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک شخص کو دوسرے شخص کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہرزمانہ میں پیغمبروں نے اور صالح لوگوں نے دوسروں کے لیے دعائیں کی ہیں۔ مگر یہ دعا حقیقۃً خود دعا کرنے والے کے حلیم اور اوّاہ اور منیب ہونے کا اظہار ہوتاہے۔ اللہ کا ایک بندہ جو اللہ سے ڈرتاہو وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے اور اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے ۔ تاہم کسی کی دعا دوسرے کے حق میں اسی وقت مفیدہوگی جب کہ وہ خود بھی اللہ سے ڈر کر اللہ کو پکار رہا ہو۔

وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ

📘 حضرت لوط کے پاس جو فرشتے آئے وہ عذاب کے فرشتے تھے۔ مگر وہ نہایت خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں بستی کے اندر داخل ہوئے۔ یہ دراصل ان کو آخری طورپر مجرم ثابت کرنے کے لیے تھا۔ آدمی جب مسلسل ایک برائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں وہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ یہی حال قوم لوط کا تھا۔ وہ اب کھلم کھلا بدکاری کرنے لگے تھے۔ چنانچہ جب انھوںنے دیکھا کہ خوبصورت لڑکے حضرت لوط کے گھر آئے ہوئے ہیں تو وہ شہوت کے جذبات ليے ہوئے آپ کے گھر کی طرف دوڑپڑے۔ انھوںنے انتہائی بے حیائی کے ساتھ مطالبہ شروع کردیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے شریر لوگوں کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو آپ پر سخت شرم اور غیرت طاری ہوئی۔ آپ نے کہا ’’یہ قوم کی بیٹیاں ہیں، ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو اور اپنی فطری خواہش پوری کرو‘‘۔ کسی قوم میں جو بڑے بوڑھے ہوتے ہیں وہ قوم کی تمام لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی معنی میں حضرت لوط نے قوم کی بیٹیوں کو ’’میری بیٹیاں‘‘ فرمایا۔مگر ان لوگوں نے حضرت لوط کی جائز پیش کش کو ٹھکرا دیا اور ناجائز کی طرف بدستور دوڑتے رہے۔ اس سے آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ ’’کیا تم میں ایک بھی رجلِ رشید نہیں‘‘— یہ اس بندۂ خدا کا آخری کلمہ ہوتا ہے جس کے پاس شریر لوگوں کو روکنے کے لیے مادی قوت نہ ہو اور معقولیت کی تمام باتیں ان کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہوں۔ اس وقت اس طرح کا جملہ بول کر وہ قوم کی غیرت کو پکارتا ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ایسا ہو کہ لوگ بدستور بے حس بنے رہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ ان کے اندر انسانیت اور شرافت کاکوئی درجہ باقی نہیں رہا۔

وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ ۚ قَالَ يَا قَوْمِ هَٰؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي ۖ أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ

📘 حضرت لوط کے پاس جو فرشتے آئے وہ عذاب کے فرشتے تھے۔ مگر وہ نہایت خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں بستی کے اندر داخل ہوئے۔ یہ دراصل ان کو آخری طورپر مجرم ثابت کرنے کے لیے تھا۔ آدمی جب مسلسل ایک برائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں وہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ یہی حال قوم لوط کا تھا۔ وہ اب کھلم کھلا بدکاری کرنے لگے تھے۔ چنانچہ جب انھوںنے دیکھا کہ خوبصورت لڑکے حضرت لوط کے گھر آئے ہوئے ہیں تو وہ شہوت کے جذبات ليے ہوئے آپ کے گھر کی طرف دوڑپڑے۔ انھوںنے انتہائی بے حیائی کے ساتھ مطالبہ شروع کردیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے شریر لوگوں کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو آپ پر سخت شرم اور غیرت طاری ہوئی۔ آپ نے کہا ’’یہ قوم کی بیٹیاں ہیں، ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو اور اپنی فطری خواہش پوری کرو‘‘۔ کسی قوم میں جو بڑے بوڑھے ہوتے ہیں وہ قوم کی تمام لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی معنی میں حضرت لوط نے قوم کی بیٹیوں کو ’’میری بیٹیاں‘‘ فرمایا۔مگر ان لوگوں نے حضرت لوط کی جائز پیش کش کو ٹھکرا دیا اور ناجائز کی طرف بدستور دوڑتے رہے۔ اس سے آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ ’’کیا تم میں ایک بھی رجلِ رشید نہیں‘‘— یہ اس بندۂ خدا کا آخری کلمہ ہوتا ہے جس کے پاس شریر لوگوں کو روکنے کے لیے مادی قوت نہ ہو اور معقولیت کی تمام باتیں ان کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہوں۔ اس وقت اس طرح کا جملہ بول کر وہ قوم کی غیرت کو پکارتا ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ایسا ہو کہ لوگ بدستور بے حس بنے رہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ ان کے اندر انسانیت اور شرافت کاکوئی درجہ باقی نہیں رہا۔

قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ

📘 حضرت لوط کے پاس جو فرشتے آئے وہ عذاب کے فرشتے تھے۔ مگر وہ نہایت خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں بستی کے اندر داخل ہوئے۔ یہ دراصل ان کو آخری طورپر مجرم ثابت کرنے کے لیے تھا۔ آدمی جب مسلسل ایک برائی کرتا ہے تو اس کے بارے میں وہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ یہی حال قوم لوط کا تھا۔ وہ اب کھلم کھلا بدکاری کرنے لگے تھے۔ چنانچہ جب انھوںنے دیکھا کہ خوبصورت لڑکے حضرت لوط کے گھر آئے ہوئے ہیں تو وہ شہوت کے جذبات ليے ہوئے آپ کے گھر کی طرف دوڑپڑے۔ انھوںنے انتہائی بے حیائی کے ساتھ مطالبہ شروع کردیا کہ ان لڑکوں کو ہمارے حوالے کردیا جائے۔ حضرت لوط نے شریر لوگوں کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو آپ پر سخت شرم اور غیرت طاری ہوئی۔ آپ نے کہا ’’یہ قوم کی بیٹیاں ہیں، ان میں سے جس سے چاہو نکاح کرلو اور اپنی فطری خواہش پوری کرو‘‘۔ کسی قوم میں جو بڑے بوڑھے ہوتے ہیں وہ قوم کی تمام لڑکیوں کو بیٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اسی معنی میں حضرت لوط نے قوم کی بیٹیوں کو ’’میری بیٹیاں‘‘ فرمایا۔مگر ان لوگوں نے حضرت لوط کی جائز پیش کش کو ٹھکرا دیا اور ناجائز کی طرف بدستور دوڑتے رہے۔ اس سے آخری طور پر ثابت ہوگیا کہ یہ مجرم لوگ ہیں اور یقیناً اس قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد وہ سب کے سب ہلاک کرديے گئے۔ ’’کیا تم میں ایک بھی رجلِ رشید نہیں‘‘— یہ اس بندۂ خدا کا آخری کلمہ ہوتا ہے جس کے پاس شریر لوگوں کو روکنے کے لیے مادی قوت نہ ہو اور معقولیت کی تمام باتیں ان کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی ہوں۔ اس وقت اس طرح کا جملہ بول کر وہ قوم کی غیرت کو پکارتا ہے اور اس کے ضمیر کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر ایسا ہو کہ لوگ بدستور بے حس بنے رہیں تو اس کا مطلب ہوتاہے کہ ان کے اندر انسانیت اور شرافت کاکوئی درجہ باقی نہیں رہا۔

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

📘 موجودہ دنیا کو خدا نے چھ دنوں یعنی چھ ادوار (periods) میں پیدا کیا ہے۔ زمین پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا۔ ا س کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہوگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں۔ خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کردے۔ مگر یہ دنیا انسان کے لیے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا۔ دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آبادکاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے۔ ’’اچھا عمل ‘‘ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔ یعنی کسی دباؤکے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کارفرمائی کو دیکھ لے۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے۔ موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہورہا ہے۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لیے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتاہے کہ وہ یا تو متنبہ ہوکر اپنی اصلاح کرلیں یا آخری طورپر اپنے آپ کو مجرم ثابت کردیں۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتاہے۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیںگے اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے۔

قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ

📘 حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

قَالُوا يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ ۖ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ ۚ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ ۚ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ

📘 حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ مَنْضُودٍ

📘 حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ۖ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ

📘 حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔

۞ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ وَلَا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ ۚ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ

📘 مدین کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ’’اگر تم ایمان والے ہو‘‘ ظاہر کرتاہے کہ ان کی قوم مومن ہونے کی مدعی تھی۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے زمانہ کی مسلمان قوم تھی۔ وہ حضرت شعیب سے پہلے آنے والے نبی کی امت تھی اور اب لمبا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا کہ اگر تم مومن ہونے کے دعوے دار ہو تو تمھارا دعویٰ خدا کے یہاں اسی وقت مانا جائے گا جب کہ تم اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرو۔ تقاضا پورا کیے بغیر دعوے کی کوئی قیمت نہیں۔ تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لین دین میں انصاف برتو۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے۔ زمین میں اس طرح رہو جس طرح خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندے رہیں۔ جائز طریقہ سے حاصل كيے ہوئے رزق پر قناعت کرو، نہ کہ نافرمانی کرکے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا کرو تبھی تم خدا کے یہاں مومن ٹھہرو گے۔ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کا عذاب تم کو پکڑ لے۔ حضرت شعیب نے ایک طرف یہ کہا کہ لوگوں کو کم نہ دو۔ دوسری طرف یہ فرمایا کہ ’’آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قوم شعیب میں کچھ غریب تھے اور کچھ امیر۔ کچھ زیادہ پانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جن کو گھٹا کر مل رہا تھا۔ اگر سارے لوگ کم پانے والے ہوتے تو ان میں ’’اچھے حال والا‘‘ کون باقی رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن مخاطبین کا ذکر ہے وہ قوم کے بااثر اور صاحب حیثیت افراد تھے۔ انبیاء اگر چہ ہر ایک کی ہدایت کے لیے آتے ہیں مگر ان کا خطاب خاص طور پر وقت کے ممتاز طبقہ سے ہوتاہے۔کیونکہ عوام انھیں لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ خواص تک دعوت پہنچنا بالواسطہ طورپر عوام تک بھی دعوت کا پہنچنا ہے۔

وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

📘 مدین کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ’’اگر تم ایمان والے ہو‘‘ ظاہر کرتاہے کہ ان کی قوم مومن ہونے کی مدعی تھی۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے زمانہ کی مسلمان قوم تھی۔ وہ حضرت شعیب سے پہلے آنے والے نبی کی امت تھی اور اب لمبا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا کہ اگر تم مومن ہونے کے دعوے دار ہو تو تمھارا دعویٰ خدا کے یہاں اسی وقت مانا جائے گا جب کہ تم اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرو۔ تقاضا پورا کیے بغیر دعوے کی کوئی قیمت نہیں۔ تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لین دین میں انصاف برتو۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے۔ زمین میں اس طرح رہو جس طرح خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندے رہیں۔ جائز طریقہ سے حاصل كيے ہوئے رزق پر قناعت کرو، نہ کہ نافرمانی کرکے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا کرو تبھی تم خدا کے یہاں مومن ٹھہرو گے۔ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کا عذاب تم کو پکڑ لے۔ حضرت شعیب نے ایک طرف یہ کہا کہ لوگوں کو کم نہ دو۔ دوسری طرف یہ فرمایا کہ ’’آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قوم شعیب میں کچھ غریب تھے اور کچھ امیر۔ کچھ زیادہ پانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جن کو گھٹا کر مل رہا تھا۔ اگر سارے لوگ کم پانے والے ہوتے تو ان میں ’’اچھے حال والا‘‘ کون باقی رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن مخاطبین کا ذکر ہے وہ قوم کے بااثر اور صاحب حیثیت افراد تھے۔ انبیاء اگر چہ ہر ایک کی ہدایت کے لیے آتے ہیں مگر ان کا خطاب خاص طور پر وقت کے ممتاز طبقہ سے ہوتاہے۔کیونکہ عوام انھیں لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ خواص تک دعوت پہنچنا بالواسطہ طورپر عوام تک بھی دعوت کا پہنچنا ہے۔

بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ

📘 مدین کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ’’اگر تم ایمان والے ہو‘‘ ظاہر کرتاہے کہ ان کی قوم مومن ہونے کی مدعی تھی۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے زمانہ کی مسلمان قوم تھی۔ وہ حضرت شعیب سے پہلے آنے والے نبی کی امت تھی اور اب لمبا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آگیا تھا۔ حضرت شعیب نے ان سے کہا کہ اگر تم مومن ہونے کے دعوے دار ہو تو تمھارا دعویٰ خدا کے یہاں اسی وقت مانا جائے گا جب کہ تم اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرو۔ تقاضا پورا کیے بغیر دعوے کی کوئی قیمت نہیں۔ تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لین دین میں انصاف برتو۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے۔ زمین میں اس طرح رہو جس طرح خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندے رہیں۔ جائز طریقہ سے حاصل كيے ہوئے رزق پر قناعت کرو، نہ کہ نافرمانی کرکے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا کرو تبھی تم خدا کے یہاں مومن ٹھہرو گے۔ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کا عذاب تم کو پکڑ لے۔ حضرت شعیب نے ایک طرف یہ کہا کہ لوگوں کو کم نہ دو۔ دوسری طرف یہ فرمایا کہ ’’آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قوم شعیب میں کچھ غریب تھے اور کچھ امیر۔ کچھ زیادہ پانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جن کو گھٹا کر مل رہا تھا۔ اگر سارے لوگ کم پانے والے ہوتے تو ان میں ’’اچھے حال والا‘‘ کون باقی رہتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن مخاطبین کا ذکر ہے وہ قوم کے بااثر اور صاحب حیثیت افراد تھے۔ انبیاء اگر چہ ہر ایک کی ہدایت کے لیے آتے ہیں مگر ان کا خطاب خاص طور پر وقت کے ممتاز طبقہ سے ہوتاہے۔کیونکہ عوام انھیں لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ خواص تک دعوت پہنچنا بالواسطہ طورپر عوام تک بھی دعوت کا پہنچنا ہے۔

قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلَاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ۖ إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ

📘 بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ نمازبول کر دین مراد لیا جاتاہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمھارا دین تم کو ایسا حکم دے رہا ے۔ انھوں نے نماز کا لفظ اس لیے استعمال کیا کہ نماز دین کی سب سے زیادہ واضح علامت ہے۔ (وقد يراد بالصلاة الدينُ والمعنىدينُك يأمرك بذلك؟ وأطلق عليه الصلاة لأنها أظهر شعار الدين) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ 25 حضرت شعیب کی قوم دین دار ہونے کی مدعی تھی۔ وہ عبادت بھی کرتی تھی۔ مگر انھوں نے اپنے دین اور عبادت کے ساتھ شرک اور بد معاملگی کو بھی جمع کررکھا تھا۔ حضرت شعیب نے ان کو سچی خدا پرستی اور لوگوں کے ساتھ حسن معاملہ کی دعوت دی اور کہا کہ دین کے ساتھ اگر شرک ہے اور عبادت کے ساتھ اگر بد معاملگی بھی جاری ہے تو ایسے دین اور ایسی عبادت کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ اس قسم کی باتوں سے قوم کا دینی بھرم کھلتا تھا۔ اس سے ان کے اس زعم پر زد پڑتی تھی کہ سب کچھ کرتے ہوئے بھی وہ دین دار ہیں اور عبادت گزاری کا تمغہ بھی ہر حال میں انھیں ملا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ کیا تم ہی ایک خدا کے عبادت گزار ہو۔ کیا ہمارے وہ تمام بزرگ جاہل تھے یا ہیں جن کے طریقہ کو ہم نے اختیار کررکھا ہے۔ کیا تمھارے سوا کوئی یہ جاننے والا نہیں کہ عبادت کیا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ شاید تم سمجھتے ہو کہ صرف تم ہی دنیا بھر میں ایک سمجھ دار اور صالح پیدا ہوئے ہو۔ قوم شعیب کو وہ لوگ زیادہ بڑے معلوم ہوتے تھے جو لمبی روایات کے نتیجہ میں بڑے بن چکے تھے۔ یا جواب اونچی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی لیے ان کو حضرت شعیب کے بارے میںایسا کہنے کی جرأت ہوئی۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ۚ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ۚ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

📘 ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔

وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِيدٍ

📘 ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔

وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ

📘 موجودہ دنیا میں آدمی کو کبھی راحت دی جاتی ہے اور کبھی مصیبت۔ مگر یہاں نہ راحت انعام کے طورپر ہے اور نہ مصیبت سزا کے طورپر۔ دونوں ہی کا مقصد جانچ ہے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں انسان کے ساتھ جو کچھ پیش آتاہے وہ صرف اس لیے ہوتاہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات میں آدمی نے کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ وہ آدمی ناکام ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کو خدا کی طرف سے کوئی راحت پہنچے تو وہ فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ اور جو افراد اس کو اپنے سے کم دکھائی دیں ان کے مقابلہ میں وہ اکڑنے لگے۔ اسی طرح وہ شخص بھی ناکام ہے کہ جب اس سے کوئی چیز چھنے اور وہ مصیبت کا شکار ہو تو وہ ناشکری کرنے لگے۔ کسی محرومی کے بعد بھی آدمی کے پاس خدا کی دی ہوئی بہت سی چیزیں موجود ہوتی ہیں۔ مگر آدمی ان کو بھول جاتا ہے اور کھوئی ہوئی چیز کے غم میں ایسا پست ہمت ہوتا ہے گویا اس کا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ اس کے برعکس، ایمان میں پورا اترنے والے وہ ہیں جو صابر اور صالح العمل ہوں۔ یعنی ہر جھٹکے کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال پر باقی رکھیں اور وہی کریں جو خدا کا بندہ ہونے کی حیثیت سے انھیں کرنا چاہیے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی کی نفسیات حالات کے زیر اثر نہ بنے بلکہ اصول اور نظریہ کے تحت بنے۔ حالات خواہ کچھ ہوں وہ ان سے بلند ہو کر خالص حق کی روشنی میں اپنی رائے بنائے۔ وہ حالات سے غیر متاثر رہ کر اپنے عقیدہ اور شعور کی سطح پر زندہ رہنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اسی قسم کی زندگی نیک عملی کی زندگی ہے۔ جو لوگ اس نیک عملی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو اگلی زندگی میں خدا کی رحمتوں کے حصہ دار ہوں گے اورخدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ ۚ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ

📘 ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔ حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔ ’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90 داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔

قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ

📘 حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔ قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔ اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ ’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا ۖ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ

📘 حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔ قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔ اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ ’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ ۖ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ

📘 حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔ قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔ اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔ ’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ

📘 حضرت شعیب کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مدین کے مالک ہیں جو چیز انھیں امتحان کی مصلحت کے تحت دی گئی تھی اس کو انھوں نے اپنا مستقل حق سمجھ لیا۔ اس احساس کے تحت انھوںنے آپ کے خلاف جارحانہ تدبیریں کیں۔ انھوںنے آپ کو یہ دھمکی بھی دی کہ ہم تم کو اور تمھارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے (الاعراف، 7:88 ) مگر وہی زمین جس کو وہ اپنی زمین سمجھتے تھے اور جس کے وہ مالک بنے ہوئے تھے، وہاں خدا کے حکم سے ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زلزلہ آیا، جس کے نتیجہ میں یہ پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ وہ خود اپنی دنیا میں اس طرح مٹ کر رہ گئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ البتہ قوم کے وہ افراد جنھوں نے حضرت شعیب کی بات مانی تھی اور آپ کے ساتھ ہوگئے تھے ان کو خصوصی نصرت سے بچا لیا گیا۔

كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۗ أَلَا بُعْدًا لِمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ

📘 حضرت شعیب کی قوم کے لوگ سمجھتے تھے کہ وہ مدین کے مالک ہیں جو چیز انھیں امتحان کی مصلحت کے تحت دی گئی تھی اس کو انھوں نے اپنا مستقل حق سمجھ لیا۔ اس احساس کے تحت انھوںنے آپ کے خلاف جارحانہ تدبیریں کیں۔ انھوںنے آپ کو یہ دھمکی بھی دی کہ ہم تم کو اور تمھارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے (الاعراف، 7:88 ) مگر وہی زمین جس کو وہ اپنی زمین سمجھتے تھے اور جس کے وہ مالک بنے ہوئے تھے، وہاں خدا کے حکم سے ہولناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ زلزلہ آیا، جس کے نتیجہ میں یہ پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ وہ خود اپنی دنیا میں اس طرح مٹ کر رہ گئے جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ البتہ قوم کے وہ افراد جنھوں نے حضرت شعیب کی بات مانی تھی اور آپ کے ساتھ ہوگئے تھے ان کو خصوصی نصرت سے بچا لیا گیا۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِينٍ

📘 حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔

إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ ۖ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ

📘 حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔

يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ

📘 حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔

وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ

📘 حضرت موسیٰ نے حق کی دعوت آخری ممکن حد تک پیش کردی۔انھوں نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو نہ صرف نظری طورپر بے دلیل کردیا بلکہ عصا کے معجزے کی صورت میں اپنی صداقت کاکھلا ہوا ظاہری ثبوت بھی انھیں دکھادیا پھر بھی فرعون کی قوم فرعون ہی کے ساتھ رہی، وہ حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے نزدیک ساری اہمیت اقتدار اور دنیوی سازوسامان کی تھی اور یہ چیزیں وہ حضرت موسیٰ کے اندر نہ دیکھتے تھے۔ وہ آپ کی باتوں پر حیران ضرور ہوتے تھے۔ مگر جب وہ حضرت موسیٰ کا مقابلہ فرعون سے کرتے تو ان کو ایک طرف بے سروسامانی دکھائی دیتی اور دوسری طرف ہر قسم کا مادی جاہ وجلال۔یہ تقابل ان کے لیے فیصلہ کن بن گیا۔ اور وہ دلائل اور معجزات دیکھنے کے باوجود اس کے لیے تیار نہ ہوئے کہ فرعون کو چھوڑ دیں اور اس سے الگ ہوکر حضرت موسی کے ساتھ ہوجائیں۔ جو لوگ دنیا میں کسی کا ساتھ صرف اس لیے دیں گے کہ اس کے پاس مادی بڑائی کی چیزیں تھیں، وہ آخرت میں بھی اس کے ساتھ کرديے جائیں گے۔ مگر دنیا کے برعکس یہ بہت برا ساتھ ہوگا۔ کیونکہ اس دن اس آدمی سے اس کا تمام سامان چھن چکا ہوگا۔ اب اس کا وجود صرف ذلّت اور بربادی کا نشان ہوگا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو بھی اسی آگ میں پہنچا دے گا جو خود اس کے لیے اس کی گمراہ قیادت کے نتیجہ میں خداکی طرف سے مقدر کی جاچکی ہے۔