WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الرعد

(Ar-Rad) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ المر ۚ تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ ۗ وَالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

📘 قرآن ایک خداکو ماننے کی دعوت دیتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ خدا اگر ہے تو ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ مگر ہماری معلوم کائنات بتاتی ہے کہ کسی چیز کا دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال قوتِ کشش ہے۔ خلا میں بے شمار الگ الگ ستارے اور سیارے ہیں۔ انسانی علم کہتاہے کہ ان اجرام سماوی کے درمیان ایک غیر مرئی قوت کشش ہے جو وسیع خلا میں ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر انسان جب غیر مرئی ہونے کے باوجود قوت کشش کی موجودگی کا اقرار کررہا ہے تو غیر مرئی ہونے کی وجہ سے خدا کے وجود کا انکار کرنے میں وہ کیوں کر حق بجانب ہوگا۔ یہی معاملہ وحی ورسالت کا ہے۔ کائنات کا طالب علم جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ہر چیز ایک نظام کی پابند ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں کسی خاص حکم میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ’’حکم‘‘ خود ان چیزوں کے اندر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ خارج سے آتاہے۔ گویا تمام دنیا اپنے عمل کے لیے ’’خارج‘‘ سے ہدایات لے رہی ہے۔ انسان کے علاوہ بقیہ دنیا میں اس خارجی ہدایت کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام وحی والہام ۔ وحی دراصل اسی خارجی رہنمائی کی انسانی دنیا تک توسیع ہے جس کو بقیہ دنیا میں قانونِ فطرت کہاجاتا ہے۔ کائنات گویا ایک مشین ہے اور قرآن اس کی گائڈ بک۔ اوّل الذکر خدا کی تدبیر امر کی مثال ہے۔ اور ثانی الذکر خدا کی تفصیل آیات کی مثال۔ ان دونوں کے درمیان کامل مطابقت ہے۔ جو کچھ کائنات میں عملاً نظر آتاہے وہ قرآن میں لفظی طورپر موجود ہے۔ یہ مطابقت بیک وقت دو باتیں ثابت کرتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور دوسرے یہ کہ قرآن اسی خالق کی کتاب ہے، نہ کہ محدود انسانی دماغ کی تخلیق۔

سَوَاءٌ مِنْكُمْ مَنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ

📘 ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔ مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔ یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔ ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔

لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ

📘 دنیا میں قوموں کا عروج وزوال اَلل ٹپ طورپر نہیں ہوتا بلکہ خدا کی نگرانی اور فیصلہ کے تحت ہوتاہے۔ خدا جب کسی قوم کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ اس نعمت کو اس وقت تک اس کے لیے باقی رکھتا ہے جب تک وہ اپنے اندر اس کی استعداد باقی رکھے۔ استعداد کھو دینے کے بعد وہ قوم لازمی طورپر خدائی نعمت کو بھی کھو دیتی ہے، مثلاًاپنے درمیان اتحاد کھونے کے بعدخارجی دنیا میں رعب سے محروم ہو جانا، وغیرہ۔ دنیا میں کوئی قوم جو کچھ پاتی ہے، خدا کے قانون کے تحت پاتی ہے اور کوئی قوم جوکچھ کھوتی ہے خدا کے قانون کے تحت کھوتی ہے۔ خدا کے سوا یہاں نہ کوئی دینے والا ہے اور نہ کوئی چھیننے والا۔

هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ

📘 بجلی چمکتی ہے تو کبھی وہ نئے خوش گوار موسم کی آمد کاپیغام ہوتی ہے اور کبھی وہ صاعقہ بن کر زمین پر گرتی ہے اور چیزوں کو جلا ڈالتی ہے۔ اسی طرح بادل اٹھتے ہیں تو کبھی وہ مفید بارش کی صورت میں زمین پر برستے ہیں اور کبھی طوفان اور سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ایک ہی چیز میں ڈر کا پہلو بھی ہے اور امید کا پہلو بھی۔ دنیا کا انتظام کرنے والا جس چیز کے ذریعہ دنیا والوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اسی کو وہ تباہ کن عذاب بھی بنا سکتا ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ آدمی کبھی اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے مامون نہ سمجھے۔ غافل انسان ہمیشہ کسی انوکھی اور طلسماتی نشانی کے ظہور کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کا شعور بیدار ہے، وہ اپنے آس پاس روز مرہ کے واقعات میں ہر قسم کی اعلیٰ نشانی پالیتے ہیں۔ بجلی کی کڑک چمک ان کے دل کی دھڑکنیں تیز کردیتی ہیں۔ اور بارش کے قطرے دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ خدا کی طاقتوں کو براہِ راست دیکھ کر فرشتوں کا جو حال ہوتا ہے وہی حال سچے انسانوں کا اس وقت ہوجاتا ہے جب کہ انھوںنے خدا کی طاقتوں کو ابھی براہِ راست نہیں دیکھا ہے۔

وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ

📘 بجلی چمکتی ہے تو کبھی وہ نئے خوش گوار موسم کی آمد کاپیغام ہوتی ہے اور کبھی وہ صاعقہ بن کر زمین پر گرتی ہے اور چیزوں کو جلا ڈالتی ہے۔ اسی طرح بادل اٹھتے ہیں تو کبھی وہ مفید بارش کی صورت میں زمین پر برستے ہیں اور کبھی طوفان اور سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں ایک ہی چیز میں ڈر کا پہلو بھی ہے اور امید کا پہلو بھی۔ دنیا کا انتظام کرنے والا جس چیز کے ذریعہ دنیا والوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے اسی کو وہ تباہ کن عذاب بھی بنا سکتا ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ آدمی کبھی اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے مامون نہ سمجھے۔ غافل انسان ہمیشہ کسی انوکھی اور طلسماتی نشانی کے ظہور کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کا شعور بیدار ہے، وہ اپنے آس پاس روز مرہ کے واقعات میں ہر قسم کی اعلیٰ نشانی پالیتے ہیں۔ بجلی کی کڑک چمک ان کے دل کی دھڑکنیں تیز کردیتی ہیں۔ اور بارش کے قطرے دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ خدا کی طاقتوں کو براہِ راست دیکھ کر فرشتوں کا جو حال ہوتا ہے وہی حال سچے انسانوں کا اس وقت ہوجاتا ہے جب کہ انھوںنے خدا کی طاقتوں کو ابھی براہِ راست نہیں دیکھا ہے۔

لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۚ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ

📘 اگر آپ ہاتھ پھیلا کر سمندر کے پانی کو پکاریں تو ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ سمندر آپ کی پکار کو سنے اور اس کا پانی سمندر کی گہرائیوں سے نکل کر آپ کی طرف آئے اور آپ کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرے۔ مگر اسی سمندر کے ساتھ ایسا ہوتاہے کہ قدرت کے قانون کے تحت اس کا پانی نمک کے جز کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتاہے۔ پھر گرمی اور کشش اور ہواکے عمل سے متحرک ہو کر وہ آپ کی بستی کے اوپر آتاہے اور میٹھے پانی کی صورت میں برس کر آپ کی زمین کو سیراب کردیتاہے۔ اس سے معلو م ہوا کہ سمندر بظاہر عظیم ہونے کے باوجود سراسر عاجز ہے اس کو کسی قسم کا ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان صرف وہ ہے جو خالق کو پوجے، نہ کہ مخلوق کو، جو چیزوں کے رب کو اپنا مرکز توجہ بنائے، نہ کہ خود چیزوں کو۔

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۩

📘 خدا کا مطالبہ انسان سے یہ ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے۔ یہی ’’جھکنا‘‘ تمام کائنات کا دین ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز خداکے حکم کے آگے کامل طورپر جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی ایک علامت ہے چیزوں کے سایہ کا صبح وشام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا۔ چیزوں کا یہ سایہ گویا اس سجدہ کو مادی طورپر ممثل کررہا ہے جو انسان سے شعوری طور پر مطلوب ہے۔ اوّل الذکر سجدے کا علامتی روپ ہے اور ثانی الذکر اس کا حقیقی روپ۔ وسیع کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات ایک ہی آفاقی قانون میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق اور مالک ایک ہے۔ انسان کا علمی اور عقلی مطالعہ کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کائنات میں ایک سے زیادہ طاقتوں کی کار فرمائی ہو۔ ایسی حالت میں ایک خدا کے سوا مزید خدا ماننا سراسر بے بنیاد مفروضہ ہے۔ ’’آنکھ‘‘ کا مشاہدہ تو صرف ایک خدا کا پتہ دیتاہے۔ اس لیے جو لوگ ایک خدا سے زیادہ خدا مانیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اندھے ہیں۔ انھوں نے اپنے اندھے پن کی وجہ سے کئی خدا فرض کر ليے ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں علم اور مشاہدہ کی بنیاد پر۔

قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ

📘 خدا کا مطالبہ انسان سے یہ ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے۔ یہی ’’جھکنا‘‘ تمام کائنات کا دین ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز خداکے حکم کے آگے کامل طورپر جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی ایک علامت ہے چیزوں کے سایہ کا صبح وشام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا۔ چیزوں کا یہ سایہ گویا اس سجدہ کو مادی طورپر ممثل کررہا ہے جو انسان سے شعوری طور پر مطلوب ہے۔ اوّل الذکر سجدے کا علامتی روپ ہے اور ثانی الذکر اس کا حقیقی روپ۔ وسیع کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات ایک ہی آفاقی قانون میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق اور مالک ایک ہے۔ انسان کا علمی اور عقلی مطالعہ کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کائنات میں ایک سے زیادہ طاقتوں کی کار فرمائی ہو۔ ایسی حالت میں ایک خدا کے سوا مزید خدا ماننا سراسر بے بنیاد مفروضہ ہے۔ ’’آنکھ‘‘ کا مشاہدہ تو صرف ایک خدا کا پتہ دیتاہے۔ اس لیے جو لوگ ایک خدا سے زیادہ خدا مانیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اندھے ہیں۔ انھوں نے اپنے اندھے پن کی وجہ سے کئی خدا فرض کر ليے ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں علم اور مشاہدہ کی بنیاد پر۔

أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَابِيًا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ

📘 خدا نے اپنی دنیا اس طرح بنائی ہے کہ یہاں مادی واقعات اخلاقی حقیقتوں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کو انسان سے شعور کی سطح پر مطلوب ہے، انھیں کو بقیہ دنیا میں مادی سطح پر دکھایا جارہا ہے ۔ یہاں قرآن میں فطرت کے دو واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ جب بارش ہوتی ہے اور اس کا پانی بہہ کر ندیوں اور نالوں میں پہنچتا ہے تو پانی کے اوپر ہر طرف جھاگ پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح جب چاندی اور دوسری معدنیات کو صاف کرنے کے لیے آگ پر تپاتے ہیں تو اس کا میل کچیل جھاگ کی صورت میں اوپر آجاتاہے۔ مگر جلد ہی بعد یہ ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کا جھاگ، جس میں انسان کے لیے کوئی فائدہ نہیںفضا میں اڑ جاتاہے۔ اور پانی اور دھات اپنی جگہ پر محفوظ رہ جاتے ہیںجو انسان کے لیے مفید ہے۔ یہ فطرت کے واقعات ہیں جن کے ذریعے خدا تمثیل کے روپ میں دکھارہا ہے کہ اس نے زندگی کی کامیابی اور ناکامی کے لیے کیااصول مقرر فرمایاہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں صرف اس شخص یا قوم کو جگہ ملتی ہے جو دوسروں کے لیے نفع بخشی کا ثبوت دے۔ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کی طاقت کھو دے اس کے لیے خدا کی بنائی ہوئی دنیامیں کوئی جگہ نہیں۔

لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَالَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمِهَادُ

📘 دنیا میں خدا کا یہ قانون ہے کہ خواہ وقتی طور پر میل اور جھاگ ابھر کر اوپر آجائے مگر بالآخر جس چیز کو یہاں مقام ملتاہے وہ وہی ہے جو حقیقی ہے اور جس میں نفع بخشی کی صلاحیت ہے، آخرت کے اعتبار سے بھی انسانوں کا معاملہ یہی ہے۔ دنیا میں کچھ لوگ اپنی اضافی حیثیت کی بنا پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔ مگر آخرت میں وہی لوگ اونچی جگہ پائیں گے جو حقیقی اوصاف کے مالک ہیں۔ دنیا میں جو لوگ حق کی پکار پر لبیک نہیں کہتے، اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ بے آمیز حق کی طرف بڑھنے میں اُنھیں دنیا کے فائدے ہاتھ سے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حق کو نظر انداز کرنے کی قیمت ہمیشہ یہ ملتی ہے کہ وہ دنیا میں عزت اور مقبولیت اور خوش حالی کے مالک بن جاتے ہیں۔ وہ حق کا انکار کرکے اونچی گدیوں پر سرفراز نظر آتے ہیں۔ مگر ان چیزوں کی حیثیت میل اور جھاگ سے زیادہ نہیں۔ آخرت میں یہ سارے لوگ وقتی جھاگ کی طرح دور پھینکے جاچکے ہوں گے۔ اور وہی لوگ نمایاں نظر آئیں گے جنھوں نے تمام وقتی فائدوں کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو حق کے حوالے کیا تھا۔ جو لوگ دنیا کی حیثیت اور دنیا کے فائدوں کواتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس کی خاطر حق کو نظر انداز کردیتے ہیں، آخرت میں یہ چیزیں ان کواتنی حقیر دکھائی دیں گی کہ وہ چاہیں گے کہ یہ ساری دنیا اور اس کے برابرایک اور دنیا مل جائے تو وہ ان سب کو صرف عذاب سے بچنے کی خاطر فدیہ میں دے دیں۔

۞ أَفَمَنْ يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ

📘 انسانوں میں ہمیشہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جس نے خدا کی دی ہوئی عقل سے سوچا اورحقائق کی روشنی میں ایک یقینی فیصلہ تک پہنچا۔ اس طرح بے لاگ جائزہ کے نتیجہ میں اس کا دل جس چیز پر مطمئن ہوا اس کو اس نے ارادہ اور شعور کے ساتھ اختیار کرلیا۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو قومی روایات اور تقلیدی خیالات کے دائرہ میں سوچتے ہوں۔ جو چیزوں کو دلائل کی نظرسے دیکھنے کے بجائے رواج کی نظر سے دیکھتے ہوں۔ اور پھر جو چیز انھیں عوام میں چلتی ہوئی دکھائی دے اسی کو حق سمجھ کر اختیار کرلیں۔ قرآن کے نزدیک پہلا شخص وہ ہے جو علم کی روشنی میں ایمان لایا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا آدمی قرآن کی نظر میں اندھا ہے۔ پہلا آدمی خود اپنی بصیرت سے حق اور باطل کو جانتا ہے۔ جب کہ دوسرے آدمی کا سرمایہ صرف سنی سنائی باتیں ہیں۔ لوگ جس کو باطل سمجھ لیں اس کو اس نے باطل سمجھ لیا، لوگ جس کو حق سمجھیں، اس کے متعلق اس نے بھی یقین کرلیا کہ وہ حق ہوگی۔ حق کی دعوت ایسے لوگوں کی تلاش کے لیے اٹھتی ہے جو اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرسکتے ہوں۔ باقی جو لوگ آنکھ رکھتے ہوئے اندھے بنے ہوئے ہوں ان کو حق کی دعوت کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گی۔

اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ

📘 قرآن ایک خداکو ماننے کی دعوت دیتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ خدا اگر ہے تو ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ مگر ہماری معلوم کائنات بتاتی ہے کہ کسی چیز کا دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال قوتِ کشش ہے۔ خلا میں بے شمار الگ الگ ستارے اور سیارے ہیں۔ انسانی علم کہتاہے کہ ان اجرام سماوی کے درمیان ایک غیر مرئی قوت کشش ہے جو وسیع خلا میں ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر انسان جب غیر مرئی ہونے کے باوجود قوت کشش کی موجودگی کا اقرار کررہا ہے تو غیر مرئی ہونے کی وجہ سے خدا کے وجود کا انکار کرنے میں وہ کیوں کر حق بجانب ہوگا۔ یہی معاملہ وحی ورسالت کا ہے۔ کائنات کا طالب علم جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ہر چیز ایک نظام کی پابند ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں کسی خاص حکم میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ’’حکم‘‘ خود ان چیزوں کے اندر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ خارج سے آتاہے۔ گویا تمام دنیا اپنے عمل کے لیے ’’خارج‘‘ سے ہدایات لے رہی ہے۔ انسان کے علاوہ بقیہ دنیا میں اس خارجی ہدایت کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام وحی والہام ۔ وحی دراصل اسی خارجی رہنمائی کی انسانی دنیا تک توسیع ہے جس کو بقیہ دنیا میں قانونِ فطرت کہاجاتا ہے۔ کائنات گویا ایک مشین ہے اور قرآن اس کی گائڈ بک۔ اوّل الذکر خدا کی تدبیر امر کی مثال ہے۔ اور ثانی الذکر خدا کی تفصیل آیات کی مثال۔ ان دونوں کے درمیان کامل مطابقت ہے۔ جو کچھ کائنات میں عملاً نظر آتاہے وہ قرآن میں لفظی طورپر موجود ہے۔ یہ مطابقت بیک وقت دو باتیں ثابت کرتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور دوسرے یہ کہ قرآن اسی خالق کی کتاب ہے، نہ کہ محدود انسانی دماغ کی تخلیق۔

الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَلَا يَنْقُضُونَ الْمِيثَاقَ

📘 انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔ دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔ یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔

وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ

📘 انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔ دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔ یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔

وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ

📘 انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔ دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔ یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔

جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ

📘 انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔ دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔ یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔

سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ

📘 انسان کو خدا نے پیدا کیا ۔ اس نے اس کو رہنے کے لیے بہترین دنیادی۔ وہ ہر آن اس کی پرورش کررہا ہے۔ یہ واقعہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک فطری عہد میں باندھ دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان سرکش نہ بنے بلکہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے جھک جائے۔ دنیا میں انسان کی زندگی مختلف قسم کے تعلقات وروابط کے درمیان ہے۔ انسان کی عبدیت کا تقاضا ہے کہ وہ اسی سے جڑے جس سے جڑنا خدا کو پسند ہے اور اس سے کٹ جائے جس سے کٹنے کا حکم دیاگیا ہے۔ اس پر خدا کی عظمت کا احساس اتنی شدّت سے طاری ہو کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، جس کی ایک مقرر صورت کا نام نماز ہے۔ وہ اپنے اثاثہ میں سے دوسروں کو اسی طرح دے جس طرح خدا نے اپنے اثاثہ میں سے اس کو دیا ہے۔ اس کو کسی کی طرف سے برے سلوک کا تجربہ ہو تو وہ اچھے سلوک کے ساتھ اس کا جواب دے۔ کیوں کہ وہ خود بھی یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں خدا اس کی برائیوں کو نظر انداز کردے اور اس کے ساتھ فضل ورحمت کا معاملہ فرمائے۔ یہ سب کچھ مسلسل صبر کا طالب ہے۔ نفس کے محرکات کے مقابلہ میں صبر۔ مفادات کے ضیاع کے مقابلہ میں صبر۔ ماحول کے دباؤ کے مقابلہ میں صبر۔ مگر مومن کو جنت کی خاطر ان تمام چیزوں پر صبر کرنا ہے۔ صبر ہی جنت کی قیمت ہے۔ صبر کی قیمت ادا كيے بغیر کسی کو خدا کی ابدی جنت نہیں مل سکتی۔

وَالَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۙ أُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ

📘 انسان اپنے خدا سے عہد فطرت میں بندھا ہواہے اور دوسرے انسانوں سے عہد آدمیت میں۔ ان دونوں عہدوں کو توڑنا خدا کی زمین میں فساد کرنا ہے۔ خدا کی زمین میںاصلاح یافتہ بن کر رہنا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ دونوں عہدوں کا پابند بن کر زندگی گزارے۔ اس کے برعکس ،خدا کی زمین میں فسادی بننا یہ ہے کہ آدمی ان عہدوں سے آزاد ہو جائے۔ اس کو نہ خدا کے حقوق کی پروا ہو اور نہ انسانوں کے حقوق کی۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار نہیں بنائے جائیں گے۔ انھوںنے خداکی زمین کو گندا کیا، اس لیے وہ اسی قابل ہیں کہ آئندہ ان کو صرف گندے گھر میں جگہ ملے۔ دنیامیں کسی کو کم ملتاہے اور کسی کو زیادہ۔ اب جس کو زیادہ ملا وہ احساس برتری میں مبتلا ہوجاتاہے اور جس کو کم ملا وہ احساس کمتری میں۔ مگر خدا کی نظرمیں یہ دونوں غلط ہیں۔ صحیح ردعمل یہ ہے کہ زیادہ ملے تو آدمی خدا کا شکر گزار بنے، کم ملے تو وہ صبر اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے۔ دنیا پرست لوگ ہمیشہ حق کے داعی کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا پرست آدمی صرف ظاہری عظمتوں کو پہچاننا جانتاہے۔ چوں کہ داعی کے پاس صرف معنوی عظمت ہوتی ہے اس لیے وہ اس کو پہچان نہیں پاتا۔ وہ اس کوحقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ مگر جب حقیقت کا پردہ پھٹے گا اس وقت انسان جانے گا کہ جس نظر آنے والی رونق کو وہ سب کچھ سمجھے ہوئے تھا وہ بالکل بے قیمت تھی۔ قدر وقیمت کی چیز دراصل وہ تھی جو دکھائی نہ دینے کی وجہ سے اس کی توجہ كا مرکز نہ بن سکی۔

اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ

📘 انسان اپنے خدا سے عہد فطرت میں بندھا ہواہے اور دوسرے انسانوں سے عہد آدمیت میں۔ ان دونوں عہدوں کو توڑنا خدا کی زمین میں فساد کرنا ہے۔ خدا کی زمین میںاصلاح یافتہ بن کر رہنا یہ ہے کہ آدمی مذکورہ دونوں عہدوں کا پابند بن کر زندگی گزارے۔ اس کے برعکس ،خدا کی زمین میں فسادی بننا یہ ہے کہ آدمی ان عہدوں سے آزاد ہو جائے۔ اس کو نہ خدا کے حقوق کی پروا ہو اور نہ انسانوں کے حقوق کی۔ ایسے لوگ خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی رحمتوں میں حصہ دار نہیں بنائے جائیں گے۔ انھوںنے خداکی زمین کو گندا کیا، اس لیے وہ اسی قابل ہیں کہ آئندہ ان کو صرف گندے گھر میں جگہ ملے۔ دنیامیں کسی کو کم ملتاہے اور کسی کو زیادہ۔ اب جس کو زیادہ ملا وہ احساس برتری میں مبتلا ہوجاتاہے اور جس کو کم ملا وہ احساس کمتری میں۔ مگر خدا کی نظرمیں یہ دونوں غلط ہیں۔ صحیح ردعمل یہ ہے کہ زیادہ ملے تو آدمی خدا کا شکر گزار بنے، کم ملے تو وہ صبر اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے۔ دنیا پرست لوگ ہمیشہ حق کے داعی کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا پرست آدمی صرف ظاہری عظمتوں کو پہچاننا جانتاہے۔ چوں کہ داعی کے پاس صرف معنوی عظمت ہوتی ہے اس لیے وہ اس کو پہچان نہیں پاتا۔ وہ اس کوحقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ مگر جب حقیقت کا پردہ پھٹے گا اس وقت انسان جانے گا کہ جس نظر آنے والی رونق کو وہ سب کچھ سمجھے ہوئے تھا وہ بالکل بے قیمت تھی۔ قدر وقیمت کی چیز دراصل وہ تھی جو دکھائی نہ دینے کی وجہ سے اس کی توجہ كا مرکز نہ بن سکی۔

وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۗ قُلْ إِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ

📘 حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

📘 حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔

الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ

📘 حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔

وَهُوَ الَّذِي مَدَّ الْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْهَارًا ۖ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

📘 آسمان کی نشانیوں کے بعد جب زمین کے حالات پر غور کیا جائے تو وہ انسان کی رہائش کے لیے انتہائی بامعنی طورپر موزوں نظر آتی ہے۔ زمین ایک قدرتی فرش کی مانند آدمی کے قدموں کے نیچے پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں ایک طرف انسان کی ضرورت کے لیے سمندر کی گہرائیاں ہیں تو دوسری طرف پہاڑوں کی بلندیاں بھی ہیں تاکہ دونوں مل کر زمین کا توازن برقرار رکھیں۔ درخت ایک دوسرے سے الگ الگ بھی ہوسکتے تھے مگران میں جوڑے ہیں جن کے درمیان تزویج کے عمل سے دانے اور پھل پیداہوتے ہیں۔ زمین کا یہ حال ہے کہ سورج کے چاروں طرف اپنی سالانہ دوری گردش کے ساتھ اپنے محور پر بھی مسلسل گردش کرتی ہے جس کا دور 24 گھنٹہ میں پورا ہوتا ہے اور جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اس قسم کی نشانیوں پر جو شخص بھی سنجیدگی سے غور کرے گا وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ یہ دنیا ایک بااختیار مالک کے تحت ہے اور اس نے اپنے ارادہ کے تحت اس کی ایک با مقصد منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ با شعور منصوبہ بندی کے بغیر زمین پر یہ معنویت ہر گز ممکن نہ تھی۔

كَذَٰلِكَ أَرْسَلْنَاكَ فِي أُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَا أُمَمٌ لِتَتْلُوَ عَلَيْهِمُ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِالرَّحْمَٰنِ ۚ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ

📘 جب یہ دنیا دار الامتحان ہے تو اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ حسّی نشانیاں دکھانے کے بعد لوگوں کا فیصلہ کردیا جائے۔ اب اگر لوگوں کے مطالبہ پر خدا فوراً کوئی حسّی نشانی ظاہر کردے اور اس کے بعد بھی لوگ نہ مانیں تو فوراً وہ ہلاکت کے مستحق ہوجائیں گے۔ مگر یہ خدائے رحمان ورحیم کی خاص عنایت ہے کہ وہ لوگوں کے مطالبہ کے باوجود حسی نشانیاں ظاہر نہیں کرتا۔ بلکہ نصیحت اور دلیل کی زبان میں حق کا پیغام پہنچاتا رہتاہے۔ اس طرح لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مہلت ملتی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرکے خدا کی رحمتوں کے مستحق بن سکیں۔ ایسی حالت میں داعی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے نادان مطالبہ کی وجہ سے گھبرا نہ جائے۔ وہ خدا کے منصوبہ پر راضی رہتے ہوئے لوگوں کو اس کی طرف بلاتا رہے۔

وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَىٰ ۗ بَلْ لِلَّهِ الْأَمْرُ جَمِيعًا ۗ أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا ۗ وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبُهُمْ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًا مِنْ دَارِهِمْ حَتَّىٰ يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ

📘 حق کو نہ ماننے کا اصل سبب دلیل کی کمی نہیں بلکہ انسان کی یہ آزادی ہے کہ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔ جب تک انسان کو انکار کی آزادی حاصل ہے وہ کسی بھی چیز کا انکار کرنے کے لیے عذر تلاش کرسکتاہے۔ اس کے سامنے الفاظ میں ایک دلیل لائی جائے تو وہ کچھ دوسرے الفاظ بول کر اسے رد کردے گا۔ کائنات کی نشانیوں کا حوالہ دیا جائے تو وہ اس کی تردید کے لیے خود ساختہ توجیہہ تلاش کرلے گا۔ حتی کہ اگر پہاڑ چلائے جائیں اور زمین پھاڑ دی جائے اور مُردوں کو زندہ کردیا جائے تب بھی کوئی چیز آدمی کو یہ کہنے سے روک نہیں سکتی کہ یہ تو جادو ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انکار کرنے والا بظاہر دلیل مانگتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ استہزاء کررہا ہوتاہے۔ وہ یہ ظاہرکرنا چاہتاہے کہ یہ شخص جو چیز پیش کررہا ہے وہ حق نہیں۔ اگر وہ فی الواقع حق ہوتا تو ضرور اس کے پاس ایسی دلیل ہوتی کہ سارے لوگ اس کو ماننے پر مجبور ہوجاتے۔ خدا نے لوگوں کو مہلت دی ہے اس کی وجہ سے لوگ بے خوف ہوگئے ہیں۔ مگر جب مہلت ختم ہوگی اور خدا لوگوں کو پکڑے گا تو آدمی دیکھے گا کہ وہ کس قدر بے اختیار تھا، اگر چہ وہ فرضی طورپر اپنے کو خود مختار سمجھتا رہا۔

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ

📘 حق کو نہ ماننے کا اصل سبب دلیل کی کمی نہیں بلکہ انسان کی یہ آزادی ہے کہ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔ جب تک انسان کو انکار کی آزادی حاصل ہے وہ کسی بھی چیز کا انکار کرنے کے لیے عذر تلاش کرسکتاہے۔ اس کے سامنے الفاظ میں ایک دلیل لائی جائے تو وہ کچھ دوسرے الفاظ بول کر اسے رد کردے گا۔ کائنات کی نشانیوں کا حوالہ دیا جائے تو وہ اس کی تردید کے لیے خود ساختہ توجیہہ تلاش کرلے گا۔ حتی کہ اگر پہاڑ چلائے جائیں اور زمین پھاڑ دی جائے اور مُردوں کو زندہ کردیا جائے تب بھی کوئی چیز آدمی کو یہ کہنے سے روک نہیں سکتی کہ یہ تو جادو ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انکار کرنے والا بظاہر دلیل مانگتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ استہزاء کررہا ہوتاہے۔ وہ یہ ظاہرکرنا چاہتاہے کہ یہ شخص جو چیز پیش کررہا ہے وہ حق نہیں۔ اگر وہ فی الواقع حق ہوتا تو ضرور اس کے پاس ایسی دلیل ہوتی کہ سارے لوگ اس کو ماننے پر مجبور ہوجاتے۔ خدا نے لوگوں کو مہلت دی ہے اس کی وجہ سے لوگ بے خوف ہوگئے ہیں۔ مگر جب مہلت ختم ہوگی اور خدا لوگوں کو پکڑے گا تو آدمی دیکھے گا کہ وہ کس قدر بے اختیار تھا، اگر چہ وہ فرضی طورپر اپنے کو خود مختار سمجھتا رہا۔

أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۗ وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ ۚ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ ۗ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ

📘 مطالعہ بتاتاہے کہ کائنات میں ریکارڈنگ کا نظام ہے۔ آدمی جو کچھ بولتاہے یا جو کچھ کرتا ہے، وہ کائناتی انتظام کے تحت فوراً ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کائنات کا خدا کسی ایسی ہستی ہی کو مانا جاسکتا ہے جس کے اندر ’’سننے‘‘ اور ’’دیکھنے ‘‘ کی طاقت ہو۔ مگر انسانوں نے اب تک جتنے شرکا ء فرض كيے ہیں، سب کے سب وہ ہیں جن کے اندر نہ سننے کی طاقت ہے اور نہ دیکھنے کی۔ ایسی حالت میں کیوں کر وہ موجودہ کائنات جیسی دنیا کے خالق ومالک ہوسکتے ہیں۔ جو خود نہ سنے وہ اپنی مخلوقات میں سننے کا مادہ کس طرح پیداکرے گا جو خود نہ دیکھے وہ دوسری چیزوں کو دیکھنے کے قابل کیسے بنائے گا۔ اسی طرح کائنات میں اتنی زیادہ وحدت ہے کہ وہ کسی طرح شرک کو قبول نہیں کرتی۔ جس شریک کا بھی نام لیاجائے، کائنات پورے وجود کے ساتھ اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گی۔ منکرین کے لیے ان کا مکر خوش نما بنا دیاگیا ہے ،یہاں مکر سے مراد ان کا ’’قول‘‘ ہے جس کا ذکر اسی آیت میں اوپر موجود ہے۔ جب بھی آدمی حق کا انکار کرتاہے تو اس کا ذہن اپنے انکار کو جائزثابت کرنے کے لیے کوئی قول گھڑ لیتا ہے۔ یہ قول اگر چہ بے حقیقت الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ حق کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہ ہوںوہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر سمجھ لیتے ہیں کہ انھوںنے اپنے انکار واعراض کو حق بجانب ثابت کردیا ہے۔ خواہ ان کے بولے ہوئے الفاظ ان کے اپنے ذہن کے باہر کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں۔ اس قسم کے جھوٹے الفاظ کسی آدمی کو صرف موجودہ دنیا میں سہارا دے سکتے ہیں۔ آخرت میں جب ہر چیز کی حقیقت کھلے گی تو یہ خوشنما الفاظ اتنے بے وزن ہوجائیں گے کہ آدمی ان کو دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے گا۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ

📘 مطالعہ بتاتاہے کہ کائنات میں ریکارڈنگ کا نظام ہے۔ آدمی جو کچھ بولتاہے یا جو کچھ کرتا ہے، وہ کائناتی انتظام کے تحت فوراً ریکارڈ ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کائنات کا خدا کسی ایسی ہستی ہی کو مانا جاسکتا ہے جس کے اندر ’’سننے‘‘ اور ’’دیکھنے ‘‘ کی طاقت ہو۔ مگر انسانوں نے اب تک جتنے شرکا ء فرض كيے ہیں، سب کے سب وہ ہیں جن کے اندر نہ سننے کی طاقت ہے اور نہ دیکھنے کی۔ ایسی حالت میں کیوں کر وہ موجودہ کائنات جیسی دنیا کے خالق ومالک ہوسکتے ہیں۔ جو خود نہ سنے وہ اپنی مخلوقات میں سننے کا مادہ کس طرح پیداکرے گا جو خود نہ دیکھے وہ دوسری چیزوں کو دیکھنے کے قابل کیسے بنائے گا۔ اسی طرح کائنات میں اتنی زیادہ وحدت ہے کہ وہ کسی طرح شرک کو قبول نہیں کرتی۔ جس شریک کا بھی نام لیاجائے، کائنات پورے وجود کے ساتھ اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے گی۔ منکرین کے لیے ان کا مکر خوش نما بنا دیاگیا ہے ،یہاں مکر سے مراد ان کا ’’قول‘‘ ہے جس کا ذکر اسی آیت میں اوپر موجود ہے۔ جب بھی آدمی حق کا انکار کرتاہے تو اس کا ذہن اپنے انکار کو جائزثابت کرنے کے لیے کوئی قول گھڑ لیتا ہے۔ یہ قول اگر چہ بے حقیقت الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جو لوگ حق کے معاملہ میں زیادہ سنجیدہ نہ ہوںوہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر سمجھ لیتے ہیں کہ انھوںنے اپنے انکار واعراض کو حق بجانب ثابت کردیا ہے۔ خواہ ان کے بولے ہوئے الفاظ ان کے اپنے ذہن کے باہر کوئی قیمت نہ رکھتے ہوں۔ اس قسم کے جھوٹے الفاظ کسی آدمی کو صرف موجودہ دنیا میں سہارا دے سکتے ہیں۔ آخرت میں جب ہر چیز کی حقیقت کھلے گی تو یہ خوشنما الفاظ اتنے بے وزن ہوجائیں گے کہ آدمی ان کو دہراتے ہوئے بھی شرم محسوس کرے گا۔

۞ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا ۖ وَعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ

📘 جنت کی قیمت تقویٰ ہے۔ یعنی اللہ کی عظمت کا اتنا شدید احساس جو ڈربن کر آدمی کے دل میں سما جائے۔ جو لوگ دنیا میں خدا سے ڈریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کے اُن گھروں میں بسائے جائیں گے جہاں آدمی کے لیے کسی قسم کا ڈر نہ ہوگا۔ جس کے چاروں طرف سرسبز باغات ان کی عظمت وشان کو دو چند کررہے ہوں گے۔ اس کے برعکس، حال ان لوگوں کا ہے جو دنیا میں بے خوف بن کر رہے۔ وہ آخرت میں اپنے آپ کو آگ کی دنیا میں پائیں گے۔

وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ الْأَحْزَابِ مَنْ يُنْكِرُ بَعْضَهُ ۚ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا أُشْرِكَ بِهِ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ

📘 قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ بندی کو دین سمجھے ہوئے تھے وہ اپنے مانوس دائرہ سے باہر آنے والی سچائی کو پہچان نہ سکے اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اللہ سے ان کی بے خوفی نے دعوتِ حق کی مخالفت میں بھی ان کو بے خوف بنا دیا۔ جو شخص عصبیت اور گروہ بندی کی بنا پر سچائی کا مخالف بنتا ہے وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پر چلتا ہے۔ ایسے لوگوں کی رعایت سے دعوت حق میں کوئی تبدیلی کرنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے بے لاگ حق پر پوری طرح جما رہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اس کو استقامت کا ثبوت دینا ہے، نہ کہ مصالحت کا ۔ آدمی کے سامنے اس کی قابل فہم زبان میں حق کا علم آجائے۔ اس کے باوجود وہ خواہشات کا پیرو بنا رہے تو یہ بے حد سنگین بات ہے۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو آدمی کو خدا کی مدد سے یکسر محروم کردیتاہے۔

وَكَذَٰلِكَ أَنْزَلْنَاهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَمَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا وَاقٍ

📘 قرآن آیا تو یہود ونصاریٰ میں دو گروہ ہوگئے۔ ان میں جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے تھے اور حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کی سچی تعلیمات پر قائم تھے، انھوںنے قرآن کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور خوش ہوکر اس کو قبول کرلیا۔ مگر جو لوگ عصبیت اور گروہ بندی کو دین سمجھے ہوئے تھے وہ اپنے مانوس دائرہ سے باہر آنے والی سچائی کو پہچان نہ سکے اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے اللہ سے ان کی بے خوفی نے دعوتِ حق کی مخالفت میں بھی ان کو بے خوف بنا دیا۔ جو شخص عصبیت اور گروہ بندی کی بنا پر سچائی کا مخالف بنتا ہے وہ دراصل خدا کو چھوڑ کر اپنی خواہشات پر چلتا ہے۔ ایسے لوگوں کی رعایت سے دعوت حق میں کوئی تبدیلی کرنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے بے لاگ حق پر پوری طرح جما رہے۔ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں اس کو استقامت کا ثبوت دینا ہے، نہ کہ مصالحت کا ۔ آدمی کے سامنے اس کی قابل فہم زبان میں حق کا علم آجائے۔ اس کے باوجود وہ خواہشات کا پیرو بنا رہے تو یہ بے حد سنگین بات ہے۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو آدمی کو خدا کی مدد سے یکسر محروم کردیتاہے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً ۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَنْ يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ

📘 خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب عام انسان کی طرح ایک انسان تھے اور دنیوی تعلقات رکھتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قوموں نے اس کے باوجود پچھلے پیغمبروں کو مانا اور اپنے معاصر پیغمبر کا اسی سبب سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ مزید ایک چیز شامل تھی جو معاصر پیغمبر کو حاصل نہ تھی۔ یہ مزید چیز تاریخ کی عظمت ہے۔ قوموں نے تاریخی عظمت کی بنا پر پچھلے پیغمبروں کو مانا اور تاریخی عظمت سے خالی ہونے کی بنا پر معاصر پیغمبر کاانکار کردیا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ حقیقت کو اس کے مجرد روپ میں دیکھ نہیں پاتا۔ زندہ پیغمبرکے ساتھ حقیقت مجرد روپ میں تھی۔ اس لیے انسان ان کو پہچان نہ سکا۔ تاریخ کے پیغمبر کے ساتھ اضافی اہمیتیں بھی شامل ہوچکی تھیں اس لیے اس نے ان کو پہچان لیا اور ان کا معتقد بن گیا۔ ’’امُّ الکتاب‘‘ سے مراد خدا کا وہ اصل نوشتہ ہے جو خدا کے پاس ہے اور جس میں ہدایت کی وہ تمام اصولی باتیں لکھی ہوئی ہیں جو خدا کو انسان سے مطلوب ہیں۔ مختلف پیغمبروں پر جو کتابیں اتریں وہ سب اسی ام الکتاب سے ماخوذ تھیں۔ خدا نے اپنی یہ کتاب کبھی ایک زبان میں اتاری اور کبھی دوسری زبان میں۔ کبھی اس کے لیے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا اورکبھی اس کو براہِ راست پیرایہ میں بیان کیا گیا۔ کبھی نازل ہونے کے بعد اس کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالی گئی اور کبھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی۔

يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ

📘 خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب عام انسان کی طرح ایک انسان تھے اور دنیوی تعلقات رکھتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قوموں نے اس کے باوجود پچھلے پیغمبروں کو مانا اور اپنے معاصر پیغمبر کا اسی سبب سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ مزید ایک چیز شامل تھی جو معاصر پیغمبر کو حاصل نہ تھی۔ یہ مزید چیز تاریخ کی عظمت ہے۔ قوموں نے تاریخی عظمت کی بنا پر پچھلے پیغمبروں کو مانا اور تاریخی عظمت سے خالی ہونے کی بنا پر معاصر پیغمبر کاانکار کردیا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ حقیقت کو اس کے مجرد روپ میں دیکھ نہیں پاتا۔ زندہ پیغمبرکے ساتھ حقیقت مجرد روپ میں تھی۔ اس لیے انسان ان کو پہچان نہ سکا۔ تاریخ کے پیغمبر کے ساتھ اضافی اہمیتیں بھی شامل ہوچکی تھیں اس لیے اس نے ان کو پہچان لیا اور ان کا معتقد بن گیا۔ ’’امُّ الکتاب‘‘ سے مراد خدا کا وہ اصل نوشتہ ہے جو خدا کے پاس ہے اور جس میں ہدایت کی وہ تمام اصولی باتیں لکھی ہوئی ہیں جو خدا کو انسان سے مطلوب ہیں۔ مختلف پیغمبروں پر جو کتابیں اتریں وہ سب اسی ام الکتاب سے ماخوذ تھیں۔ خدا نے اپنی یہ کتاب کبھی ایک زبان میں اتاری اور کبھی دوسری زبان میں۔ کبھی اس کے لیے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا اورکبھی اس کو براہِ راست پیرایہ میں بیان کیا گیا۔ کبھی نازل ہونے کے بعد اس کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالی گئی اور کبھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی۔

وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَىٰ بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

📘 حضرت عبد اللہ بن عباس ؓنے فرمایا کہ کوئی اچھی زمین ہے اور کوئی بنجر زمین۔ ایک اگتی ہے اور اسی کے پاس دوسری نہیں اگتی (أَرْضٌ طَيِّبَةٌ وَأَرْضٌ سَبِخَةٌ، نَبَتَتْ هَذِهِ، وَهَذِهِ إِلَى جَنْبِهَا لَا تَنْبُتُ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد6، صفحہ 348 ۔مجاہد نے کہا کہ یہی معاملہ بنی آدم کا ہے۔ ان میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی، حالانکہ سب کی اصل ایک ہے (كَمَثَلِ بَنِيَ آدَمَ صَالِحِهِمْ وَخَبِيثِهِمْ وَأَبُوهُمْ وَاحِدٌ) حسن بصری نے کہاکہ یہ ایک مثال ہے جو اللہ نے بنی آدم کے دلوں کے لیے دی ہے (هَذَا مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِقُلُوبِ بَنِي آدَم) تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ7۔ زمین میں ایک عجیب نشانی یہ ہے کہ ایک ہی مٹی ہے۔ ایک ہی پانی سے اس کو سیراب کیا جاتا ہے مگر ایک جگہ سے ایک درخت نکلتا ہے اور اسی کے پاس دوسری جگہ سے دوسرا درخت۔ ایک میں میٹھا پھل ہے اور دوسرے میں کھٹا پھل۔ کوئی زیادہ پیداوار دیتاہے اور کوئی کم پیدوار۔ یہ انسانی واقعہ کی زمینی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اگر چہ تمام انسان بظاہر یکساں ہیں اور ان سب کے پاس ایک ہی ہدایت آتی ہے۔ مگر ہدایت سے استفادہ کے معاملہ میں ایک انسان اور دوسرے انسان میں بہت زیادہ فرق ہوجاتا ہے۔ کوئی اس سے رہنمائی حاصل کرتاہے اور کوئی اس کا منکر بن جاتاہے۔ کوئی تھوڑی ہدایت لیتاہے اورکسی کی زندگی ہدایت سے مالا مال ہوجاتی ہے۔ گویا جیسی زمین ویسی پیداوار کااصول یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔

وَإِنْ مَا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ

📘 خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔ تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔ مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔ قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔ حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ۚ وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ ۚ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ

📘 خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔ تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔ مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔ قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔ حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔

وَقَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ الْمَكْرُ جَمِيعًا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۗ وَسَيَعْلَمُ الْكُفَّارُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ

📘 خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔ تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔ مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔ قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔ حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔

وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا ۚ قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ

📘 ظاہر پرست لوگ جس وقت حق کے داعی میں نشانیاں نہ پاکر اس کی صداقت کے بارہ میں شبہ کررہے ہوتے ہیںعین اسی وقت معنوی نشانیاں پوری طرح اس کی تصدیق کے لیے موجود ہوتی ہیں۔ سچائی اپنی دلیل آپ ہے۔ مگر اس کو محسوس کرنا صرف اس شخص کے لیے ممکن ہے جو ظواہر سے گزر کر حقائق کو دیکھنے کی نگاہ اپنے اندر پیدا کر چکا ہو۔ ورنہ جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر میں اٹکی ہوئی ہوں وہ حق کو بے دلیل سمجھ کر اس کا انکار کردیں گے۔ حالاں کہ عین اسی وقت دلائل کا انبار اس کی تصدیق کے لیے ان کے قریب موجود ہوگا۔

۞ وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

📘 دوسری زندگی کے منکرین کا کیس نہایت عجیب ہے۔ وہ جس واقعہ کے ظہور کو ایک بار مان رہے ہیں اسی واقعہ کے دوبارہ ظہور کا انکار کردیتے ہیں۔ جو لوگ دوسری زندگی کے وقوع کو نہیں مانتے وہ دوسری زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتاہے کہ دوسری زندگی کو ماننا ایک غیر علمی بات کو ماننا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیوںکہ کوئی منکر جس چیز کا انکار کرسکتاہے، وہ صرف دوسری زندگی ہے۔ جہاں تک پہلی زندگی کا تعلق ہے اس کاانکار کرنا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ وہ تو ایک زندہ واقعہ کے طورپر ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ پھر جب پہلی زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے تو دوسری زندگی کا وجود میںآنا ناممکن کیوں ہو۔ ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں جو خدا کے منکرہوں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک خالق کو مانتے ہیں مگر وہ آخرت کو نہیں مانتے۔ مگر آخرت کے انکار کے بعد خالق کے اقرار کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ خدا اس کائنات کا خالق ہی نہیں وہ بذاتِ خود حق بھی ہے۔ خدا کا سراپا حق اور عدل ہونا لازمی طور پر تقاضا کرتاہے کہ وہ جو کچھ کرے حق اور عدل کے مطابق کرے۔ آخرت دراصل خدا کی صفت عدل کا ظہور ہے۔ خداکا ماننا وہی ماننا ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو بھی مانا جائے۔ آخرت کو مانے بغیر خدا کا عقیدہ مکمل نہیںہوتا۔ جو لوگ حق کے سیدھے اور سچے پیغام کو نہیں مانتے اس کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ جمود اور تعصب اور اَنانیت کے شکار ہوتے ہیں۔ان سے بات کیجيے تو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ خود اپنے خیالات کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے نکل کر وہ آزادانہ طورپر کسی خارجی حقیقت پر غور نہیں کرسکتے۔ اسی حالت کو ’’گردن میں طوق پڑنا‘‘ فرمایا۔ کیوں کہ گردن میں طوق ہونا غلامی کی علامت ہے۔ گویا کہ یہ لوگ خود اپنے خیالات کے غلام ہیں۔ جو لوگ اس طرح اپنے آپ کو دنیا میں قیدی بنالیں، آخرت میں بھی ان کے حصے میں قید ہی آئے گی۔

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلَاتُ ۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ ۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لوگوں سے کہتے تھے کہ خدا کی ہدایت کو مانو ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔ اس کے جواب میں انھوںنے کہا ’’خدایا، محمدجو کچھ پیش کررہے ہیں اگر وہ حق ہے تو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا‘‘۔ یہ دعا بظاہر خدا سے تھی مگر حقیقۃً اس کا رخ رسول کی طرف تھا۔ آپ اس وقت مکہ کے لوگوں کو بالکل بے وزن معلوم ہوتے تھے۔ ان کو یقین نہیںآتا تھا کہ ایسے معمولی آدمی کے انکار پر خدا ہمیں سزا دے گا۔ ’’محمد‘‘ کے انکار پر عذاب آنا ان کو اتنا بعید از وقوع نظر آتا تھاکہ وہ بطور استہزا کہتے تھے کہ تم جس خدائی عذاب کی دھمکی دے رہے ہو، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے اوپر آجائے۔ فرمایا کہ تمھارے انکارِ حق کے سبب سے تمھارے اوپر خدا کا عذاب تو آنے ہی والا ہے۔ یہ صرف تمھاری بدبختی ہے کہ تم اس کو جلد بلانا چاہتے ہو۔ حالاں کہ تم کو چاہیے تھا کہ اس وقفہ کو دعوتِ قرآن پر غور وفکر اوراس کی قبولیت میںاستعمال کرو نہ کہ عذاب کو قبل از وقت بلانے میں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں پھر اس کو مانیں۔ مگر یہ صرف اندھے پن کا مطالبہ ہے۔ اگر ان کے پاس آنکھیں ہوں تو جو کچھ دوسروں کے ساتھ پیش آیا وہی ان کے سبق کے لیے کافی ہے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گذر چکی ہیں جنھوںنے انھیں کی طرح اپنے زمانے کے پیغمبروں کو جھٹلایا اور بالآخر انھیں اس کی سزا بھگتنی پڑی۔ خداکا قانون یہ ہے کہ وہ انسان کو عمل کی مہلت دیتاہے۔ یہی قانون مہلت ہے جس نے لوگوں کو سرکش بنا رکھا ہے۔ مگر مہلت کی ایک حد ہے۔ اس حد کے بعد جو چیز ان کا انتظار کررہی ہے وہ صرف دردناک عذاب ہے جس سے وہ اپنے آپ کو بچا نہ سکیں گے۔

وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۗ إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ

📘 آج ساری دنیا میں ایک ارب سے بھی زیادہ انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول مانتے ہیں۔ مگر آپ کی زندگی میں مکہ والوں کی سمجھ میں نہ آسکا کہ آپ کو خدا نے اپنا رسول بنایاہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی تاریخ کے ابتدائی دو رمیں آپ کی نبوت ایک نزاعي(controversial)نبوت تھي۔ مگر اب اپني تاريخ كے انتهائي دور ميں آپ كي نبوت ايك ثابت شدہ (established) نبوت بن چکی ہے۔ نزاعی دور میں پیغمبر کو پہچاننا جتنا مشکل ہے، اثباتی دور میں اس کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہوجاتاہے۔ مکہ کے لوگوں کے پاس جو پیمانہ تھا وہ دولت، اقتدار، اور مقبولیتِ عوام کا پیمانہ تھا۔ اس اعتبار سے آپ ان کو غیر معمولی نظر نہ آتے تھے۔ اس لیے انھوںنے چاہا کہ آپ کے ساتھ کوئی غیر معمولی نشانی ہو جو ان کے لیے آپ کے پیغمبر ہونے کا قطعی ثبوت بن جائے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ یہ لوگ ایسی چیز مانگ رہے ہیں جو خدائی منصوبہ کے مطابق نہیں، اس لیے وہ کسی کو ملنے والی بھی نہیں۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں ہدایت ایسی صریح نشانیوں کے ساتھ نہیں آسکتی کہ اس کے بعد آدمی کے لیے شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں امتحان کی مصلحت فوت ہوجاتی ہے۔ یہاں بہر حال یہی ہوگا کہ آدمی کو ’’خبر‘‘ کی سطح پر جانچ کر اس کا یقین کرنا پڑے گا۔ جو شخص اس امتحان میں پورا نہ اترے، اس کے حصہ میں ہدایت بھی کبھی نہیں آسکتی۔ خدا ہر قوم میں اس کے اپنے اندر کے ایک آدمی کو کھڑا کرتاہے تاکہ وہ اس کی مانوس زبان میں اس کو خدا کا پیغام دے۔ یہ انتظام قوموں کی آسانی کے لیے تھا۔ مگر اکثر ایسا ہوا کہ قوموں نے اس سے الٹا اثر لے کر خداکے پیغمبروں کا انکار کردیا۔ ان کی نگاہیں پیغام رساں کے معمولی پن پر اٹک کر رہ گئیں، وہ پیغام کے غیر معمولی پن کو نہ دیکھ سکیں۔

اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ

📘 ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔ مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔ یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔ ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔

عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ

📘 ماں کا پیٹ ایک حیرت انگیز فیکٹری ہے۔ اس خدائی فیکٹری میں جو انسانی پیداوار تیار ہوتی ہے اس کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ ’’مقرر مقدار‘‘ کے مطابق عمل کرتی ہے۔ آج کل کی زبان میں گویا ڈیمانڈ اور سپلائی کے درمیان مسلسل ایک توازن برقرار رہتا ہے۔ مثلاً یہ فیکٹری ہزاروں سال سے کام کررہی ہے۔ اس سے مرد بھی پیدا ہورہے ہیں اور عورتیں بھی۔ مگر دونوں جنسوں کی تعداد کے درمیان ہمیشہ ایک تناسب قائم رہتاہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس فیکٹری سے سب مرد ہی مرد پیدا ہوجائیں یا سب عورتیں ہی عورتیں پیدا ہونے لگیں۔ جنگ جیسا کوئی حادثہ مقامی طورپر کبھی اس تناسب کو برہم کردیتاہے۔ مگر حیرت انگیز طورپر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہی یہ قدرتی کارخانہ اس تناسب کو دوبارہ قائم کردیتاہے۔ یہی معاملہ اس فیکٹری سے نکلنے والے مردوعورت کے درمیان صلاحیتوں کے توازن کا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیدا ہونے والے مرد وعورت سب یکساں استعداد کے نہیں ہوتے۔ ان کی صلاحیتوں میں بہت زیادہ تنوع (diversity)ہے۔ اس تنوع کی غیر معمولی تمدنی اہمیت ہے۔ کیوں کہ تمدن کے کاروبار کو چلانے کے لیے مختلف قسم کی صلاحیتوں کے انسان درکار ہیں۔ ماں کی فیکٹری نہایت خاموشی سے ہر قسم کی استعداد والے انسان اس طرح کامیابی کے ساتھ تیار کررہی ہے جیسے اس کو باہر سے ’’آرڈر‘‘ موصول ہوتے ہوں۔ اور وہ پیٹ کے اندر اس کے مطابق انسانوں کی تشکیل کررہی ہو۔ اگر انسانی پیداوار میں یہ تنوع نہ ہو تو تمدن کا سارا نظام سرد پڑ جائے اور تمام ترقیاں ماند ہو کر رہ جائیں۔ ماں کے پیٹ کے عمل میں اس منصوبہ بندی کا ہونا صریح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز ہے۔ بالارادہ منصوبہ بندی کے بغیر اس قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ایسی ہستی ہے جس کو نہ صرف کھلے کی خبر ہے بلکہ وہ چھپے کو بھی جانتا ہے۔ رحم کے اندر اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بظاہر ایک مخفی چیز ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ بتاتاہے کہ خدا کو اس کی مکمل خبر ہے۔ پھر جو ہستی ایک کے چھپے اور کھلے کو جانتی ہے وہ دوسرے کے چھپے اور کھلے کو کیوں نہیں جانے گی۔ فرشتوں کا عقیدہ بھی اسی سے ثابت ہوتاہے۔ کیوںکہ وہ ’’نگرانی‘‘ کے موجودہ نظام کی گویا توسیع ہے۔