WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الفتح

(Al-Fath) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا

📘 6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَنْ يَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنْتُمْ قَوْمًا بُورًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انْطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۚ قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِنْ قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 صلح حدیبیہ سے پہلے یہود مسلمانوں کی دشمنی میں بہت جری تھے۔ کیوں کہ اس سے پہلے انہیں اس معاملہ میں قریش کا پورا تعاون حاصل تھا۔ حدیبیہ میں قریش سے نا جنگ معاہدہ نے یہود کو قریش سے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ اکیلے رہ گئے۔ اس سے خیبر، تیما، فدک وغیرہ کے یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ چنانچہ صلح کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر چڑھائی کی تو وہاں کے یہود نے لڑے بھڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان کے کثیر اموال مسلمانوں کو غنیمت میں ملے۔ کمزور ایمان کے لوگ جو حدیبیہ کے سفر کو پر خطر سمجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے، اب انہوں نے چاہا کے وہ یہودیوں کے خلاف کارروائی میں شریک ہوں اور مال غنیمت میں اپنا حصہ حاصل کریں۔ مگر ان کو ساتھ جانے سے روک دیا گیا۔ خدا کا قانون یہ ہے کہ جو خطرہ مول لے وہ نفع حاصل کرے۔ آدمی جب خطرہ مول لیے بغیر حاصل کرنا چاہے تو گویا وہ قانون الٰہی کو بدل دینا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں خدا کے قانون کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں۔

قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖ وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔ اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔

لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ ۗ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَمَنْ يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 جن لوگوں نے حدیبیہ (6 ھ) کے موقع پر کمزوری دکھائی تھی وہ اس کے نتیجہ میں ملنے والے انعام سے تو محروم رہے۔ مگر ان کے لیے دروازہ اب بھی بند نہ تھا۔ کیوں کہ توحید کی مہم کو ابھی دوسرے بڑے بڑے معرکے پیش آنے باقی تھے۔ فرمایا گیا کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والے ان مواقع پر قربانی کا ثبوت دیا تو دوبارہ تم خدا کی رحمتوں کے مستحق ہوجاؤگے۔ اس قسم کا امتحان آدمی کے مومن یا منافق ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جنہیں کوئی واقعی عذر لاحق ہو۔ مجبورانہ کوتاہی کو اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو کوتاہی مجبوری کے بغیر کی جائے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی نہیں۔

۞ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا

📘 حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔

وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

📘 حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔

لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا

📘 6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔

وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَٰذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا

📘 حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔

وَأُخْرَىٰ لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا

📘 حدیبیہ کے سفر میں ایک موقع پر یہ خبر پھیلی کہ قریش نے حضرت عثمان کو قتل کردیا جو ان کے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر گئے تھے۔ یہ ایک جارحیت کا معاملہ تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے چودہ سو اصحاب سے یہ بیعت لی کہ وہ مر جائیں گے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائیں گے۔ اسلام کی تاریخ میں اس بیعت کا نام بیعت رضوان ہے۔ یہ بیعت جس مقام پر لی گئی وہ مدینہ سے ڈھائی سو میل اور مکہ سے صرف بارہ میل کے فاصلہ پر تھا۔ گویا مسلمان اپنے مرکز سے بہت دور تھے اور قریش اپنے مرکز سے بہت قریب۔ مسلمان عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ اس لیے ان کے پاس محض سفری سامان تھا جب کہ قریش ہر قسم کے جنگی سامان سے مسلح تھے۔ ایسے نازک موقع پر یہ صرف لوگوں کا جذبہ اخلاص تھا جس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دیں۔ کیوںکہ کوئی ظاہری دباؤ وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ ’’اللہ نے ان کے دلوں کا حال جانا اور سکینت نازل فرمائی‘‘— اس سے مراد وہ رنج و اضطراب ہے جو حدیبیہ کی بظاہر یک طرفہ صلح سے صحابہ کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے خدا کے اس حکم کو صبروسکون کے ساتھ قبول کرلیا۔ اس کے نتیجہ میں چند ماہ بعد ہی اس کے فائدے ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اس معاہدہ نے قریش کو یہود کے محاذ سے الگ کردیا اور اس طرح یہود کو مسخر کرنا آسان ہوگیا۔ جنگی حالات ختم ہونے کی وجہ سے اسلام کی اشاعت بہت تیزی سے بڑھی، یہاں تک کہ خود قریش کو دعوت کی راہ سے مسخر کرلیا گیا جن کو جنگ کی راہ سے مسخرکرنا مشکل بنا ہوا تھا۔

وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

📘 پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔

سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا

📘 پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔

وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا

📘 پیغمبر کے مخاطبین ِاول کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے انکار کے بعد وہ انہیں ہلاک کردیتا ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کا انکار آخری طور پر سامنے آگیا تھا۔ ایسی حالت میں اگر جنگ کی نوبت آتی تو مسلمانوں کی تقویت کے لیے خدا کے فرشتے اترتے اور وہ مسلمانوں کا ساتھ دے کر ان کے دشمنوں کا خاتمہ کردیتے۔ مگر مشرکین کے سلسلہ میں اللہ کی مصلحت یہ تھی کہ انہیں ہلاک نہ کیا جائے۔ بلکہ ان کی غیر معمولی انسانی صلاحیتوں کو اسلام کے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو ناجنگ معاہدہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔

هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ لَمْ تَعْلَمُوهُمْ أَنْ تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُمْ مِنْهُمْ مَعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِيُدْخِلَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 قریش کے سرداروں نے پیغمبر کے خلاف اپنی دشمنانہ حرکتوں سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا تھا اور اس قابل بنا لیا تھا کہ ان سے جنگ کی جائے۔ مگر ایک عظیم تر مصلحت کی خاطر ان سے جنگ کے بجائے صلح کرلی گئی۔ وہ مصلحت یہ تھی کہ اس وقت قریش کی جماعت میں بہت سے دوسرے لوگ بھی تھے جو یا تو اپنے دل میں شرک سے تائب ہو کر توحید پر ایمان لاچکے تھے یا ایسے لوگ تھے جن کی صالحیت کی بنا پر یقینی تھا کہ حالات کے معتدل ہوتے ہی وہ اسلام قبول کرلیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ نہ ہونے دی۔ تاکہ وہ لوگ مومن بن کر دنیا میں اپنا اسلامی حصہ ادا کریں۔ اور آخرت میں خدا کا انعام حاصل کریں۔ اللہ کی نظر میں ہر دوسری مصلحت کے مقابلہ میں دعوت کی مصلحت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا

📘 جس آدمی کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوجائے اس کے دل سے ایک اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کی اہمیت نکل جاتی ہے۔ وہ صرف ایک اللہ کو ساری اہمیت دینے لگتا ہے۔ حدیبیہ کا موقع صحابہ کے لیے اسی قسم کا ایک شدید امتحان تھا جس میں وہ پورے اترے۔ اس موقع پر فریق ِثانی نے جاہلانہ ضد اور اور قومی عصبیت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ مگر صحابہ ہر چیز کو خدا کے خانہ میں ڈالتے چلے گئے۔ ان کے متقیانہ مزاج نے ان کو اس سخت امتحان میں جوابی ضد اور جوابی عصبیت سے بچایا۔ وہ مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود آخر وقت تک مشتعل نہیں ہوئے۔

لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَٰلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا

📘 حدیبیہ کا سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خواب پر ہوا تھا۔ آپ نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا فرما رہے ہیں۔ اس خواب کو لوگوں نے خدا کی بشارت سمجھا اور مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر حدیبیہ میں قریش نے روکا اور بالآخر عمرہ ادا کیے بغیر لوگوں کو واپس آنا پڑا۔ اس سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ کیا پیغمبر کا خواب سچا نہ تھا۔ مگر یہ محض شبہ تھا۔ کیونکہ خواب میں یہ صراحت نہ تھی کہ عمرہ اسی سال ہوگا۔ چنانچہ خود معاہدہ کی شرائط کے مطابق اگلے سال ذوالقعدہ 7 ھ میں یہ عمرہ پورے امن و امان کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اس عمرہ کو اسلامی تاریخ میں عمرۃ القضاء کہا جاتا ہے۔ اس سال عمرہ کا التوا ایک عظیم مصلحت کی قیمت پر ہوا تھا۔ یہ مصلحت کہ اس کے ذریعہ قریش سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجۃً دعوت کے کام کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ یہ خود ایک فتح تھی۔ کیوں کہ اس کے ذریعہ سے علم بردارانِ شرک کے اوپر آخری اور کلی فتح کا دروازہ کھلا۔

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو حیثیتیں تھیں۔ ایک یہ کہ آپ پیغمبر تھے اور دوسرے یہ کہ آپ پیغمبر آخر الزماں تھے۔ آپ کے بعد کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں۔ پہلی حیثیت کے اعتبار سے آپ کو بھی وہی کام کرنا تھا جو تمام پیغمبروں نے کیا، یعنی توحید کا اعلان اور آخرت کا انذار وتبشیر۔ دوسری حیثیت کا معاملہ مختلف تھا۔ دوسری حیثیت کے اعتبار سے آپ کے ذریعہ وہ تاریخی حالات پیدا کرنا مطلوب تھا جو کتابِ الٰہی اور سنت نبوی کی حفاظت کی ضمانت بن جائیں۔ تاکہ دوبارہ وہ خلا پیدا نہ ہو جس کے نتیجہ میں پیغمبر بھیجنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کا تقاضا تھا کہ آپ کی دعوت صرف ’’اعلان‘‘ پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ’’انقلاب‘‘ تک پہنچے۔ انقلاب سے مراد عالمی تاریخ میں وہ تبدیلی پیدا کرنا ہے، جس کے بعد وہ حالات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں، جس کی وجہ سے بار بار خدا کی ہدایت معدوم یا محرف ہوگئی اور اس کی ضرورت پیش آئی کہ نیا پیغمبر آ کر دوبارہ ہدایت کو اصلی صورت میں زندہ کرے۔

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

📘 پیغمبر اسلام کو ایک عظیم تاریخی کردار ادا کرنا تھا جس کو قرآن میں اظہارِ دین کہا گیا ہے۔ اس تاریخی کردار کے لیے آپ کو اعلیٰ انسانوں کی ایک جماعت درکار تھی۔ یہ جماعت حضرت اسماعیل کو عرب کے صحرا میں آباد کر کے ڈھائی ہزار سال کے اندر تیار کی گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بنو اسماعیل کا یہ گروہ تاریخ کا جاندار ترین گروہ تھا۔ ان کی یہ بالقوہ صلاحیت جب قرآن سے فیض یاب ہوئی تو پروفیسر مارگولیتھ کے الفاظ میں، عرب کی یہ قوم ہیرووں کی ایک قوم (a nation of heroes) میں تبدیل ہوگئی۔ اس گروہ کی اہمیت خدا کی نظر میں اتنی زیادہ تھی کہ ان کے بارے میں اس نے پیشگی طور پر اپنے پیغمبروں کو باخبر کردیا تھا۔ چنانچہ تورات میں ان کی انفرادی خصوصیت درج کردی گئی تھی اور انجیل میں ان کی اجتماعی خصوصیت۔ اس گروہ کے فرد فرد کی یہ خصوصیت بتائی کہ وہ منکروں کے لیے سخت اور مومنوں کے لیے نرم ہیں۔ یعنی ان کا رویہ اصول کے تحت متعین ہوتا ہے، نہ کہ محض خواہشات اور جذبات کے تحت۔ شاہ عبدالقادر صاحب اس کی تشریح میں لکھتے ہیں ’’جوتندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندہی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ‘‘۔ اسی طرح ان کے افراد کا مزاج یہ ہے کہ وہ خدا کے آگے جھکنے والے اور اس کی عبادت اور ذکر میں لگے رہنے والے ہیں۔ خدا کی طرف ان کی توجہ اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اس کا نشان ان کے چہروں پر نمایاں ہورہا ہے۔ اصحاب رسول کی یہ صفات اس تفصیل کے ساتھ موجودہ محرف تورات میں نہیں ملتیں۔ تاہم کتاب استثناء ( 33:2 ) میں قدسیوں (Saints) کا لفظ ابھی تک موجود ہے۔ البتہ انجیل کی پیشین گوئی آج بھی مرقس ( 4:26-32 )اور متی ( 13:31-32 ) میں موجود ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام کی دعوت ایک پودے کی طرح مکہ سے شروع ہوگی۔ پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور درخت بن جائے گی۔ یہاں تک کہ اس کا استحکام اس درجہ کو پہنچ جائے گا کہ اہل حق اس کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور اہل باطل غصه و حسد میں مبتلا ہوں گے کہ وہ چاہنے کے باوجود اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔

وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا

📘 6 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں عمرہ ادا کرسکیں۔ آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے مشرکین نے آگے بڑھ کر آپ کو روک دیا اور کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے بعد بات چیت شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ صلح قرار پایا۔ یہ معاہدہ بظاہر یک طرفہ طور پر مشرکین کی شرائط پر ہوا تھا۔ اصحاب رسول اس سے سخت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اس کو ذلت کی صلح سمجھتے تھے۔ مگر آپ حدیبیہ سے واپس ہو کر ابھی راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری—’’ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی‘‘۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ کے تحت یہ قرار پایا تھا کہ دس سال تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان لڑائی نہیں ہوگی۔ لڑائی کا بند ہونا در اصل دعوت کا دروازہ کھلنے کے ہم معنی تھا۔ ہجرت کے بعد مسلسل جنگی حالات کے نتیجہ میں دعوت کا کام رک گیا تھا۔ اب جنگ بندی نے دونوں فریقوں کے درمیان کھلے تبادلۂ خیال کی فضا پیدا کردی۔ اس طرح اس معاہدہ نے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا۔ پہلے دونوں فریقوں کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہوتا تھا جس میں فریق ثانی برتر حیثیت رکھتا تھا۔ اب مقابلہ نظریہ کے میدان میں آگیا۔ اور نظریہ کے میدان میں شرک کے مقابلہ میں توحید کو واضح طور پر برتري حیثیت حاصل تھی۔ یہی اس معاملہ میں ’’سیدھا راستہ‘‘ تھا۔ یعنی وہ راستہ جس نے توحید کے علم برداروں کے لیے فتح کو یقینی بنایا۔

هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ ۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِنْدَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا

📘 یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا

📘 یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

📘 یہاں’’سکینت‘‘ سے مراد اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہونا ہے۔ حدیبیہ کے سفر میں مخالفین اسلام نے طرح طرح سے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ مشتعل ہو کر کوئی ایسی کارروائی کریں جس کے بعد ان کے خلاف جارحیت کا جواز مل جائے۔ مگر مسلمان ہر اشتعال کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے۔ وہ آخری حد تک اعراض کی پالیسی پر قائم رہے۔ خدا چاہے تو اپنی براہ راست قوت سے باطل کو زیر کردے، اور حق کو غلبہ عطا فرمائے۔ پھر خدا کیوں ایسا کرتا ہے کہ وہ ’’صلح حدیبیہ‘‘ جیسے حالات میں ڈال کر اہل ایمان کو ان کا سفر کراتا ہے۔ اس کا مقصد ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہے۔ آدمی جب اپنے اندر انتقام کی نفسیات کو دبائے اور ایک سرکش قوم سے اس لیے صلح کرلے کہ دعوت حق کا تقاضا یہی ہے تو وہ اپنے شعوری فیصلہ کے تحت وہ کام کرتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل راضی نہ تھا۔ اس طرح وہ اپنے شعورِ ایمان کو بڑھاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایسی ربانی کیفیات کا مہبط بناتا ہے جس کو کسی اور تدبیر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس عمل کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے جنت والے لوگ الگ ہوجاتے ہیں اور جہنم والے لوگ الگ۔

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔

لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ کا سفر برائے عمرہ کر رہے ہیں اس کے مطابق آپ مع اصحاب مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ مگر اس وقت حالات بے حد خراب تھے۔ شدید اندیشہ تھا کہ قریش سے ٹکراؤ ہو اور مسلمان بری طرح مارے جائیں۔ چنانچہ مکہ کے قریب پہنچ کر قریش نے مسلمانوں کی جماعت پر پتھر پھینکے اور طرح طرح سے چھیڑا تاکہ وہ مشتعل ہو کر لڑنے لگیں۔ اور قریش کو ان کے خلاف جارحیت کا موقع ملے۔ مگر مسلمانوں کے یک طرفہ صبر و اعراض نے اس کا موقع آنے نہیں دیا۔ اطرافِ مدینہ کے بہت سے کمزور مسلمان اسی اندیشہ کی بنا پر سفر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ جب آپ بحفاظت واپس آگئے تو یہ لوگ آپ کے پاس اپنی وفاداری ظاہر کرنے کے لیے آئے۔ اور آپ سے معافی مانگنے لگے۔ مگر ان کو معافی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا عذر جھوٹا عذر تھا، نہ کہ سچا عذر۔ اللہ کے یہاں سچا عذر ہمیشہ قابلِ قبول ہوتا ہے اور جھوٹا عذر ہمیشہ ناقابلِ قبول۔ ان لوگوں کا خدا کے رسول کے ساتھ سفر میں شریک نہ ہونا بے یقینی کی وجہ سے تھا، نہ کہ کسی واقعی عذر کی بنا پر۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایسے پر خطر سفر سے دور رہ کر وہ اپنے مفادات کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ نفع اور نقصان کا مالک خدا ہے۔ اگر خدا نہ بچائے تو کسی کی حفاظتی تدبیریں اس کو بچانے والی نہیں بن سکتیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی بربادی ہے اور آخرت میں بھی بربادی۔