WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الإسراء

(Al-Isra) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

📘 آیت 1 سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَایہ رسول اللہ کے سفر معراج کے پہلے مرحلے کی طرف اشارہ ہے جو مسجد حرام مکہ مکرمہ سے مسجد اقصیٰ بیت المقدس تک کے زمینی سفر پر مشتمل تھا۔ ”سُبْحٰن“ تنزیہہ کا کلمہ ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہر نقص و عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے بات کا آغاز کرنا خود دلالت کرتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑا خارق عادت واقعہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت سے رونما ہوا۔ یہ محض ایک روحانی تجربہ نہ تھا ‘ بلکہ ایک جسمانی سفر اور عینی مشاہدہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم کو کرایا۔الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ اس علاقے کی برکت دنیوی اعتبار سے بھی ہے اور روحانی اعتبار سے بھی۔ دنیوی اعتبار سے یہ علاقہ بہت زرخیز ہے اور یہاں کی آب و ہوا خصوصی طور پر بہت اچھی ہے۔ روحانی اعتبار سے دیکھیں تو یہ علاقہ بہت سے جلیل القدر انبیاء کا مسکن رہا ہے اور حضرت ابراہیم سمیت بہت سے انبیاء یہاں مدفون ہیں۔ ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل کی مرکزی عبادت گاہ تھی۔ اس لحاظ سے نہ معلوم اللہ کے کیسے کیسے نیک بندے کس کس انداز میں یہاں عبادت کرتے رہے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بیت المقدس کو بنی اسرائیل کے قبلہ کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ چناچہ مادی و روحانی دونوں اعتبار سے اس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکتوں سے نوازا ہے۔سفر معراج کے پہلے مرحلے میں رسول اللہ کو مکہ مکرمہ سے یروشلم لے جایا گیا وہاں بیت المقدس میں تمام انبیاء کی ارواح کو جمع کیا گیا انہیں جسد عطا کیے گئے ہمارے حواس اس کیفیت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں اور وہاں حضور نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ حضور کے سفر معراج کے اس حصے کا ذکر جس انداز میں یہاں ہوا ہے اس کی ایک خصوصی اہمیت ہے۔ یہ گویا اعلان ہے کہ نبی آخر الزماں اور آپ کی امت کو توحید کے ان دونوں مراکز بیت اللہ اور بیت المقدس کا متولی بنایا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے آپ کو پہلے بیت المقدس لے جایا گیا اور پھر وہاں سے آپ کے آسمانی سفر کا مرحلہ شروع ہوا۔ سفر معراج کے اس دوسرے مرحلے کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ سورة النجم میں کیا گیا ہے۔لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ بنی اسرائیل کے اہم ترین تاریخی مقام کا ذکر کرنے کے بعد اب آئندہ آیات میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی تاریخ کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

وَأَنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 آیت 10 وَّاَنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًایہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ جہاں کہیں بھی اعمال کی خرابی کی بات ہوتی ہے وہاں ایمان بالآخرت کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے۔ اس رکوع کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے کہ یہاں بنی اسرائیل کے عروج وزوال کے آئینے میں جو تصویر دکھائی گئی ہے اس میں ہمارے لیے ایک دعوت فکر ہے۔ الحمد للہ ! آج ہم امت محمد امت مسلمہ ہیں ‘ لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایک زمانے میں بنی اسرائیل بھی امت مسلمہ ہی تھے۔ وہ بحیثیت نسل آج بھی ایک قوم کے طور پر موجود ہیں مگر انہیں امت مسلمہ کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ اب ان لوگوں کی حیثیت سابقہ امت مسلمہ کی ہے اور پچھلے دو ہزار برس سے یہ لوگ بہت زیادہ سختیوں کا شکار رہے ہیں۔ ہمیں ان کی قومی تاریخ کے نشیب و فراز کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کون سے عوامل تھے اور ان کے عقائد و اعمال کی وہ کون سی خرابیاں تھیں جن کے باعث وہ لوگ اللہ کے ہاں مغضوب و معتوب ٹھہرے۔ یہاں دوسرا نکتہ یہ ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ سابقہ اور موجودہ امتوں کے درمیان مقابلے کے لیے میدان تیزی سے تیار ہو رہا ہے اور یوں سمجھئے کہ دو پتنگیں اوپر چڑھ رہی ہیں ‘ جن کے درمیان پیچ پڑنے والا ہے۔ بنی اسرائیل اپنے انتہائی زوال کو پہنچنے کے بعد بحیثیت ایک قوم کے پچھلے ایک سو سال سے مادی لحاظ سے رو بہ ترقی ہیں۔ ان کی پتنگ 1917 ء میں بالفور Balfor ڈیکلریشن کی منظوری سے اوپر چڑھنا شروع ہوئی اور 1948 ء میں اسرائیل کی ریاست معرض وجود میں آگئی۔ 1966 ء میں اس کی مزید توسیع عمل میں آئی اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے۔ عرب دنیا کا واحد ملک عراق تھا جس سے اسرائیل کو خطرہ ہوسکتا تھا ‘ اسے باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت تباہ و برباد کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس پورے خطے میں اب کوئی ایسا ملک نہیں جو اسرائیل کی طاقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو مسلم دنیا بھی اپنے زوال کی آخری حدوں کو چھونے کے بعد اب بیداری کی طرف مائل ہے اور اس امت کے اندر نئی زندگی پیدا ہونے کا وقت قریب نظر آتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1924 ء میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ گویا ہمارے زوال کی انتہا تھی۔ اس کے بعد عالم اسلام میں آزادی کی تحریکیں چلیں اور متعدد مسلم ممالک یورپی اقوام کے تسلط سے آزاد ہوگئے۔ مزید برآں امت مسلمہ میں بہت سی احیائی تحریکیں اٹھیں مثلاً پاک و ہند میں جماعت اسلامی ‘ مصر میں الاخوان المسلمون ایران میں فدائی تحریک اور انڈونیشیا میں مسجومی پارٹی وغیرہ ‘ اور اس طرح اس کی نشأۃِ ثانیہ کے عمل کا آغاز ہوگیا۔ چناچہ پچھلی صدی سے امت مسلمہ کی صفوں میں زوال اور احیائی عمل پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں۔ جیسے سورة الرحمن میں متوازی چلنے والے دو دریاؤں کی مثال دی گئی ہے : مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِ ”اس نے دو دریا رواں کیے جو آپس میں ملتے ہیں۔ دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے“۔ اب صورت حال یہ ہے کہ سابقہ اور موجودہ امت مسلمہ کی صورت میں دو پتنگیں فضا میں تیر رہی ہیں اور ان کا آپس میں کسی وقت بھی پیچ پڑ سکتا ہے۔ یہ تمام تفصیلات ان لوگوں کے علم میں ہونی چاہئیں جو دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہیں زمان و مکان کے اعتبار سے درست ادراک ہونا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ان کے دائیں بائیں کیا حالات ہیں ؟ ماضی میں کیا ہوتا رہا ہے ابھی سامنے کیا کچھ ہے اور مستقبل میں کیا امکانات ہیں ؟

قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا

📘 اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ اگر اللہ کی رحمت کے بےحساب خزانے تمہارے اختیار میں ہوتے تو تم لوگ اپنے فطری بخل کے سبب ان کے دروازے بھی بند کردیتے کہ کہیں خرچ ہو کر ختم نہ ہوجائیں۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُورًا

📘 آیت 101 وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ان میں سے دو نشانیاں تو وہ تھیں جو آپ کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ید بیضا۔ ان کے علاوہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورة الاعراف کی آیات 130 اور 133 میں ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف قسم کے عذاب تھے قحط سالی پھلوں اور فصلوں کا نقصان طوفان ٹڈی دل چچڑیاں مینڈک اور خون جو مصر میں قوم فرعون پر مختلف اوقات میں آتے رہے۔ جب وہ لوگ عذاب کی تکالیف سے تنگ آتے تو اسے ٹالنے کے لیے حضرت موسیٰ سے دعا کی درخواست کرتے اور حضرت موسیٰ کی دعا سے وہ عذاب ٹل جاتا۔ یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ سورت کے آغاز میں بھی حضرت موسیٰ کا ذکر ہوا تھا اور اب آخر میں بھی آپ کا ذکر ہونے جا رہا ہے۔ یہ اسلوب ہمیں قرآن حکیم کی ان سورتوں میں ملتا ہے جو ایک خطبے کے طور پر ایک ہی تنزیل میں نازل ہوئی ہیں۔ ایسی سورتوں کی ابتدائی اور آخری آیات خصوصی اہمیت اور فضیلت کی حامل ہوتی ہیں اور ان کے مضامین میں ایک خاص ربط پایا جاتا ہے۔ سورت کے آغاز میں حضرت موسیٰ کی حیات مبارکہ کے اس دور کا ذکر کیا گیا ہے جب آپ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں آ چکے تھے اور وہاں سے آپ کو کوہ طور پر بلا کر تورات عطا کی گئی تھی : وَاٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنٰہُ ہُدًی لِّبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَلاَّ تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلاً ”اور ہم نے موسیٰ کو کتاب تورات دی اور ہم نے اسے بنایا ہدایت بنی اسرائیل کے لیے کہ تم مت بناؤ میرے سوا کسی کو کارساز“۔ اب آخر میں بنی اسرائیل کے زمانۂ مصر کے حالات کے حوالے سے پھر حضرت موسیٰ کا ذکر کیا جا رہا ہے :فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًادیکھئے جو الفاظ فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہے تھے عین وہی الفاظ حضور کے لیے آپ کے مخالفین کی طرف سے استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی سورت میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ قریش مکہ آپ کے بارے میں کہتے تھے : اِنْ تَتَّبِعُوْنَ الاَّ رَجُلاً مَّسْحُوْرًا ”تم نہیں پیروی کر رہے مگر ایک سحر زدہ شخص کی۔“

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا

📘 وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًاایک تو حضرت موسیٰ کا مزاج جلالی تھا دوسرے آپ بچپن سے اس فرعون کے ساتھ پلے بڑھے تھے ‘ اس طرح اس کی حیثیت آپ کے چھوٹے بھائی کی سی تھی۔ چناچہ آپ نے بڑے با رعب انداز میں بلا جھجک جواب دیا کہ تمہیں تو مجھ پر جادو کے اثر کا گمان ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ تو رب کائنات کی بصیرت افروز واضح نشانیوں کو جھٹلا کر اپنی ہلاکت اور بربادی کو یقینی بنا چکا ہے۔

فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَفِزَّهُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَأَغْرَقْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ جَمِيعًا

📘 آیت 103 فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فرعون باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا تھا۔ وہ ان کے لڑکوں کو قتل کروا دیتا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ اور کسی بھی قوم کے مکمل استیصال کا اس سے زیادہ مؤثر طریقہ بھلا اور کیا ہوسکتا ہے !

وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا

📘 فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًااکثر وبیشتر مفسرین نے وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ سے آخرت یعنی قیامت مراد لی ہے۔ یعنی جب قیامت آئے گی تو تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو گے سب کو اکٹھا کر کے ہم میدان حشر میں لے آئیں گے۔ لیکن میرے خیال میں ان الفاظ میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جب آخرت کا وقت قریب آئے گا تو بنی اسرائیل کو ہر کہیں سے اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کرلیا جائے گا۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کی تکذیب کر کے بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوچکے تھے۔ اس کے بعد نبی آخر الزماں کی رسالت کو جھٹلا کر انہوں نے اپنے اس جرم کی مزید توثیق بھی کردی۔ چناچہ اب اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قوم کی حیثیت اس قیدی کی سی ہے جس کو اس کے جرم کی سزا سنائی جا چکی ہو مگر اس سزا کی تعمیل execution ابھی باقی ہو۔اس سورت کے نزول کے وقت بنی اسرائیل کے دور انتشار Diaspora یعنی فلسطین سے بےدخل ہوئے ساڑھے پانچ سو سال ہوچکے تھے۔ پچھلی صدی تک بھی ان کی کیفیت یہ تھی کہ یہ لوگ پوری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے۔ چونکہ کسی اجتماعی سزا یا عذاب کے لیے ان کا ایک جگہ اکٹھے ہونا ضروری تھا اس لیے قدرت کی طرف سے اسرائیل کی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا اور آیت زیر نظر کے الفاظ کے عین مطابق دنیا کے کونے کونے سے تمام یہودیوں کو اکٹھا کر کے یہاں آباد کیا گیا۔ اب اپنے زعم میں تو ان لوگوں نے عظیم تر اسرائیل Greater Israel کا منصوبہ اور نقشہ تیار کر رکھا ہے اور عین ممکن ہے ان کا یہ منصوبہ پورا بھی ہوجائے مگر بالآخر یہ عظیم تر اسرائیل ان کے لیے عظیم تر قبرستان ثابت ہوگا واللہ اعلم ! آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور آپ ہی کے ہاتھوں اس قوم کی ہلاکت ہوگی۔اب آخری آیات میں پھر سے قرآن مجید کا ذکر بڑے عظیم الشان انداز میں آ رہا ہے :

وَبِالْحَقِّ أَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

📘 آیت 105 وَبِالْحَـقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ یہاں ”حق“ کا لفظ خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور اس لفظ کی معنوی تاثیر کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے دونوں دفعہ خاص طور پر زور دے کر اور واضح کر کے پڑھا جائے۔ اس آیت کا انداز بالکل وہی ہے جو سورة الطارق کی ان آیات میں پایا جاتا ہے : اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّمَا هُوَ بالْهَزْلِ ”یقیناً یہ قرآن قول فیصل ہے اور یہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے“۔ اس مفہوم کی وضاحت ہمیں حضرت عمر سے مروی اس حدیث نبوی میں ملتی ہے : اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ ”یقیناً اللہ اس کتاب کی بدولت کئی قوموں کو اٹھائے گا اور کئی دوسری قوموں کو گرائے گا“۔ چناچہ قرآن کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عروج بخشا اور جب ہم اس کے تارک ہوئے تو اسی جرم کی پاداش میں ہمیں زمین پر پٹخ دیا گیا :خوار از مہجورئ قرآں شدی شکوہ سنج گردش دوراں شدی اے چوں شبنم بر زمین افتندۂدر بغل داری کتاب زندۂاقبال

وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا

📘 وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًاقرآن کے مختلف احکام حالات کے عین مطابق مختلف مواقع پر نازل کیے جاتے رہے تاکہ جن آیات یا احکام کی جس وقت ضرورت ہو وہی لوگوں کو پڑھ کر سنائے جائیں۔ جیسے جیسے رسول اللہ کی تحریک اور دعوت آگے بڑھتی گئی ویسے ویسے قرآن کے احکام کے ذریعے اس کے لیے فکری رہنمائی مہیا کی جاتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ پورا قرآن یکبارگی نازل نہیں کیا گیا۔

قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا

📘 اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًااس آیت میں یہود کے بعض علماء کی طرف اشارہ ہے۔

وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا

📘 آیت 108 وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًاجب قرآن کہہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ علمائے یہود میں لازماً کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اس طرح کے خیالات کے حامل ہوں گے۔ ہجرت سے قبل رسول اللہ کی نبوت کے بارے میں اطلاعات تو یہود مدینہ کو ملتی رہتی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی قرآن کی کچھ آیات بھی ان تک ضرور پہنچ چکی ہوں گی۔ اس پس منظر میں ہوسکتا ہے کہ ان کے بعض اہل علم نہ صرف قرآن کو پہچان کر اللہ کے حضور سجدوں میں گرے ہوں بلکہ ان کی زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ بھی آگئے ہوں کہ اللہ نے جو آخری نبی بھیجنے کا وعدہ کر رکھا تھا وہ تو آخر پورا ہونا ہی تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو بائبل کی کتاب استثناء کے اٹھارہویں باب کی آیت 18 اور 19 میں ان الفاظ میں آج بھی موجود ہے کہ اے موسیٰ میں ان کے بھائیوں بنی اسرائیل کے بھائی یعنی بنو اسماعیل میں تیری مانند ایک نبی اٹھاؤں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا اور وہ لوگوں سے وہی کچھ کہے گا جو میں اسے بتاؤں گا۔

وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩

📘 آیت 109 وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًااب وہ دو آخری آیات آرہی ہیں جن کے متعلق آغاز میں بتایا گیا تھا کہ وہ معرفت خداوندی اور توحید ربانی کے عظیم خزانے ہیں۔ اس کے بعد سورة الکہف کے آخر میں بھی دو آیات آئیں گی جو ان آیات کی طرح بہت عظیم ہیں۔

وَيَدْعُ الْإِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ ۖ وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا

📘 آیت 11 وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ یعنی انسان اللہ سے دعا کر رہا ہوتا ہے کہ اے اللہ ! میرے لیے یوں کر دے یوں کر دے۔ حالانکہ اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جو کچھ وہ اپنے لیے مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے مفید ہے یا مضر۔ اس طرح انسان اپنے لیے اکثر وہ کچھ مانگ لیتا ہے جو اس کے لیے الٹا نقصان دہ ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : عَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ”ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے شر ہو اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے“۔ چناچہ بہتر لائحہ عمل یہ ہے کہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے انسان اپنے معاملات اس کے حوالے کر دے کہ اے اللہ ! میرے معاملات تیرے سپرد ہیں کیونکہ میرے نفع و نقصان کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے : سپردم بتو مایۂ خویش را تو دانی حساب کم و بیش را !دعائے استخارہ میں بھی ہمیں تفویض امر کا یہی انداز سکھایا گیا ہے :اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْءَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ ‘ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ 1”اے اللہ ! میں تیرے علم کی بدولت تجھ سے خیر چاہتا ہوں اور تیری قدرت کی برکت سے طاقت مانگتا ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے فضل عظیم کا ‘ بیشک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اور میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں جانتا اور تو ہر قسم کے غیب کو جاننے والا ہے۔“بہرحال انسان کا عمومی رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ پر توکل کرنے کے بجائے اپنی عقل اور سوچ پر انحصار کرتا ہے اور اس طرح اپنے لیے خیر کی جگہ شر کی دعائیں کرتا رہتا ہے۔وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًااپنی اس جلد بازی اور کوتاہ نظری کی وجہ سے وہ شر کو خیر اور خیر کو شر سمجھ بیٹھتا ہے۔

قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

📘 اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰىہرخیر ہر خوبی ہر بھلائی ہر حسن ہر کمال ہر جمال جس کا تم تصور کرسکتے ہو وہ بہ تمام و کمال اللہ تعالیٰ کی ذات میں موجود ہے۔وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًاتمہاری نمازیں اور دعائیں نہ تو بہت زیادہ جہری ہوں نہ بالکل ہی سری بلکہ ان کے بین بین کی راہ اختیار کرو۔

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا

📘 آیت 111 وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ یہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة الاخلاص کی ہم وزن ہے۔ اس میں پانچ مختلف انداز میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کا بیان ہے۔ اس ضمن میں یہ پہلی بات ہے یعنی حضور کی زبان مبارک سے یہ اعلان کہ تمام تعریفیں اور ہر قسم کا شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًایہ دوسری بات ہے جسے سورة الاخلاص میں لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ تیسری بات اقتدار و اختیار سے متعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ تنہا ہرچیز کا مالک و مختار اور مالک الملک ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں۔وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ یہ چوتھی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دوستی کو اپنی دوستیوں پر قیاس مت کرو۔ تم تو دوستیاں اس لیے پالتے ہو کہ تم اپنے دوستوں کے محتاج ہوتے ہو۔ انسان دوست اس لیے بناتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت کام آئے گا۔ بعض دفعہ انسان اپنے کسی دوست کی انتہائی ناجائز بات صرف اس لیے ماننے پر مجبور ہوتا ہے کہ کل وہ میری بھی کوئی ضرورت پوری کرے گا۔ انسان کی یہی کمزوری اسے دوست بنانے اور دوستانہ تعلق نبھانے پر مجبور کرتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ سب اس کے محتاج ہیں۔ چناچہ اللہ کی دوستی کسی ضرورت کی بنیاد پر نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کا کوئی دوست اس سے اپنی کوئی بات زبردستی منوا سکتا ہے۔ پانچویں اور آخری بات بہت اہم ہے :وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًایہ ترجمہ تکبیر کرو بہت اہم اور توجہ طلب ہے۔ صرف زبان سے ”اللہ اکبر“ کہہ دینے سے اللہ کی تکبیر نہیں ہوجاتی اس کے لیے عملی طور پر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ زبان سے اللہ اکبر کہنا تو تکبیر کا پہلا درجہ ہے کہ کسی نے زبان سے اقرار کرلیا کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اس کے بعد اہم اور کٹھن مرحلہ اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اللہ کو عملی طور پر بڑا کرنے کا ہے۔ یہ مرحلہ تب طے ہوگا جب ہمارے گھر میں بھی اللہ کو بڑا تسلیم کیا جائے گا اور گھر کے تمام معاملات میں اسی کی بات مانی جائے گی جب ہماری پارلیمنٹ میں بھی اس کی بڑائی کو تسلیم کیا جائے گا اور کوئی قانون اس کی شریعت کے خلاف نہیں بن سکے گا جب ہماری عدالتوں میں بھی اس کی بڑائی کا ڈنکا بجے گا اور تمام فیصلے اسی کے احکامات کی روشنی میں کیے جائیں گے۔ غرض جب تک ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اور ہر کہیں اس کا حکم آخری حکم کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا اللہ کی تکبیر کا حق ادا نہیں ہوگا۔ اللہ کے احکام کو عملی طور پر نافذ نہ کرنے والوں کے لیے سورة المائدۃ کا یہ حکم بہت واضح ہے : ۭوَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ آج ہم نے اللہ کو نعوذ باللہ اپنے تئیں مسجدوں میں بند کردیا ہے کہ اے اللہ آپ یہیں رہیں ہم یہیں پر آکر آپ کی تکبیر کے ترانے گائیں گے آپ کی تسبیح وتحمید کریں گے۔ لیکن مسجد سے باہر ہماری مجبوریاں ہیں۔ کیا کریں مارکیٹ میں مالی مفادات کے ہاتھوں مجبور ہیں گھر میں بیوی بڑی ہے کسی اور جگہ کوئی اور بڑا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے ہاں اللہ کی تکبیر کا مفہوم ہی بدل کر رہ گیا ہے اور اب تکبیر فقط دو الفاظ اللہ اکبر پر مشتمل ایک کلمہ ہے جسے زبان سے ادا کردیں تو گویا اللہ کی بڑائی کا حق ادا ہوجاتا ہے۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا

📘 آیت 12 وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ اٰيَـتَيْنِ فَمَــحَوْنَآ اٰيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ دن کو روشن بنایا تاکہ اس کی روشنی میں تم لوگ آسانی سے کسب معاش کے لیے دوڑ دھوپ کرسکو۔وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۭ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِيْلًا یہ دن اور رات کا الٹ پھیر ہی ہے جو نظام الاوقات کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے اور دنوں سے ہفتے مہینے اور پھر سال بنتے ہیں۔

وَكُلَّ إِنْسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنْشُورًا

📘 آیت 13 وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰۗىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ ”طاءِر“ کا لفظ عربی میں عام طور پر شگون نحوست اور بد قسمتی کے لیے بولا جاتا ہے لیکن یہاں پر خوش بختی اور بد بختی دونوں ہی مراد ہیں۔ یعنی کسی انسان کا جو بھی مقسوم و مقدور ہے زندگی میں اچھا برا جو کچھ بھی اسے ملنا ہے جیسے بھی اچھے برے حالات اسے پیش آنے ہیں اس سب کچھ کے بارے میں اس کا جو کھاتہ ”اُمّ الکتاب“ میں موجود ہے اس کا حاصل اس کی گردن میں چپکا دیا گیا ہے۔ گردن میں چپکانے کے الفاظ کا استعمال محاورۃً بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی کچھ مادی حقیقت بھی ہو۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی گردن میں کسی gland کی صورت میں واقعی کوئی مائیکرو کمپیوٹر نصب کر رکھا ہو۔ واللہ اعلم !وَنُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًاان الفاظ سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ انسانی جسم کے اندر ہی کوئی ایسا سسٹم لگا دیا گیا ہے جس میں اس کے تمام اعمال و افعال ریکارڈ ہو رہے ہیں اور قیامت کے دن ایک chip کی شکل میں اسے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس chip کے اندر اس کی زندگی کی ساری فلم موجود ہوگی ایک ایک حرکت جو اس نے کی ہوگی ایک ایک لفظ جو اس نے منہ سے نکالا ہوگا ایک ایک خیال جو اس کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا ایک ایک نیت جو اس کے دل میں پروان چڑھی ہوگی سب ڈیٹا پوری تفصیل کے ساتھ اس میں محفوظ ہوگا۔ روز قیامت اس chip کو کھول کر کھلی کتاب کی طرح اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کہا جائے گا :

اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا

📘 آیت 14 اِقْرَاْ كِتٰبَكَ ۭ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًاتمہاری زندگی کی کتاب کا ایک ایک ورق اس قدر تفصیل سے تمہارے سامنے موجود ہے کہ تم خود ہی اپنا حساب کرسکتے ہو۔ تمہارا سارا debit/credit تمہارے سامنے ہے۔

مَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا

📘 وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىروز قیامت ہر کسی کو اپنی بداعمالیوں کا بوجھ ذاتی طور پر خود ہی اٹھانا ہوگا۔ اس سلسلے میں کوئی کسی کی کچھ مدد نہیں کرسکے گا۔ سب اپنے اپنے اعمال کا انبار اپنے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًایہ اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ کسی بھی قوم پر عذاب استیصال اس وقت تک نہیں بھیجا گیا جب تک کہ اس قوم کی ہدایت کے لیے اور حق و باطل کا فرق واضح کردینے کے لیے کوئی رسول مبعوث نہیں کردیا گیا۔ البتہ چھوٹے چھوٹے عذاب اس قانون سے مشروط نہیں۔ قرآن میں قوم نوح قوم ہود قوم صالح وغیرہ کی مثالیں بار بار بیان کی گئی ہیں جن سے اس اصول کی واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ کسی قوم کو عذاب کے ذریعے اس وقت تک مکمل طور پر تباہ و برباد نہیں کیا جاتا جب تک اللہ کا مبعوث کردہ رسول اس قوم کے لیے حق کا حق ہونا بالکل واضح نہ کر دے اور اس سلسلے میں اس قوم پر اتمام حجت نہ ہوجائے۔ یہی مضمون سورة النساء آیت 165 میں اس طرح بیان ہوا ہے : رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ”اس نے بھیجے رسول خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت رسولوں کے بعد۔“

وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا

📘 فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًایہاں کسی بستی پر عذاب استیصال کے نازل ہونے کا ایک اصول بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اس کا سبب وہاں کے دولت مند اور خوشحال لوگ بنتے ہیں۔ یہ لوگ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی دیدہ دلیری کے سبب ان کی رسی مزید دراز کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی عیاشیوں اور من مانیوں میں تمام حدیں پھلانگ کر پوری طرح عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں عوام انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بھی ان کے ساتھ جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں اور یوں ایسا معاشرہ اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ ایسے میں صرف وہی لوگ عذاب سے بچ پاتے ہیں جو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہے ہوں۔

وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

📘 فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًایہاں کسی بستی پر عذاب استیصال کے نازل ہونے کا ایک اصول بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اس کا سبب وہاں کے دولت مند اور خوشحال لوگ بنتے ہیں۔ یہ لوگ علی الاعلان اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانیاں کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی دیدہ دلیری کے سبب ان کی رسی مزید دراز کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اپنی عیاشیوں اور من مانیوں میں تمام حدیں پھلانگ کر پوری طرح عذاب کے مستحق ہوجاتے ہیں عوام انہیں ان کے کرتوتوں سے باز رکھنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ایک وقت آتا ہے جب وہ بھی ان کے ساتھ جرائم میں شریک ہوجاتے ہیں اور یوں ایسا معاشرہ اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ ایسے میں صرف وہی لوگ عذاب سے بچ پاتے ہیں جو نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہے ہوں۔

مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا

📘 آیت 18 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ یہاں پر ”دنیا“ کی بجائے ”عاجلہ“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں۔ ”ادنیٰ“ قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے اس کی مونث ”دنیا“ ہے جبکہ ”عاجل“ کے معنی جلدی والی چیز کے ہیں اور اس کی مؤنث ”عاجلہ“ ہے۔ یہ دنیا نقد کا سودا ہے یہاں پر راحت بھی فوراً آسودگی دیتی ہے اور اس کی تکلیف بھی فوری طور پر خود کو محسوس کراتی ہے۔ اسی لیے اسے ”عاجلہ“ کہا گیا ہے۔ عاجلہ کے مقابلے میں آیت زیر نظر میں ”آخرت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم میں اکثر ”دنیا“ کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ دنیا یا عاجلہ کے مقابلے میں آخرت کو آخرت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثواب و عذاب بعد میں آنے والی چیز ہے۔آیت زیر نظر میں جو اصول بیان ہوا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص دنیا کی عیش اور دنیا کی دولت و شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو اور صرف اسی کے لیے منصوبہ بندی محنت اور دوڑ دھوپ کرے اس کی محنت اور دوڑ دھوپ کو اللہ کسی نہ کسی درجہ میں کامیاب کردیتا ہے ‘ مگر ضروری نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا سمیٹنا چاہے اسی قدر اسے مل بھی جائے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی بھی اس“ عاجلہ“ کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو کامیاب ٹھہرے بلکہ ہر کسی کو وہی کچھ ملے گا جو اللہ چاہے گا اور صرف اسی کو ملے گا جس کے لیے وہ چاہے گا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حصول دنیا کے لیے ساری عمر اپنے آپ کو ہلکان کردیتے ہیں مگر دنیا پھر بھی ہاتھ نہیں آتی۔ چناچہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جس کو وہ چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے دنیا میں اس کی محنت کا صلہ دے دیتا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًااس شخص کی خواہش اور محنت سب دنیا کے لیے کی تھی چناچہ دنیا کسی نہ کسی قدر اسے دے دی گئی۔ آخرت کے لیے اس نے خواہش کی تھی اور نہ محنت لہٰذا آخرت میں سوائے جہنم کے اس کے لیے اور کچھ نہیں ہوگا۔

وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا

📘 آیت 19 وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌیعنی اس کی یہ طلب صرف زبانی دعویٰ تک محدود نہ ہو بلکہ حصول آخرت کے لیے وہ ٹھوس اور حقیقی کوشش بھی کرے جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اہل ایمان میں سے ہو کیونکہ ایمان کے بغیر اللہ کے ہاں بڑی سے بڑی نیکی بھی قابل قبول نہیں ہے۔فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًااَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! یہ آیت ہم میں سے ہر ایک کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے ہر شخص ٹھیک سے معلوم کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے کس موڑ پر کس حیثیت سے کھڑ ا ہے ؟ چناچہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی منصوبہ بندیوں اور شبانہ روز بھاگ دوڑ کی ترجیحات کا تجزیہ کر کے اپنا احتساب کرے کہ وہ کس قدر دنیا کا طالب ہے اور کس حد تک فلاح آخرت کو پانے کا خواہش مند ؟ بہر حال دنیا پر آخرت کو ترجیح دینا اور پھر اپنے قول و فعل سے اپنی ترجیحات کو ثابت کرنا ایک کٹھن اور دشوار کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِي وَكِيلًا

📘 آیت 2 وَاٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ یہاں تخصیص کردی گئی کہ تورات تمام بنی نوع انسان کے لیے ہدایت نہیں تھی ‘ بلکہ درحقیقت وہ صرف بنی اسرائیل کے لیے ایک ہدایت نامہ تھی۔ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِيْ ‎وَكِيْلًایعنی تورات توحید کا درس دیتی تھی۔ اس کی تعلیمات کا لب لباب یہ تھا کہ اللہ کے سوا کسی بھی دوسری ہستی یا ذات کو اپنا کارساز مت سمجھو اسے چھوڑ کر کسی دوسرے پر بھروسہ یا توکل نہ کرو۔

كُلًّا نُمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا

📘 آیت 20 كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اس لیے جب تک انسان یہاں موجود ہیں ان میں سے کوئی مجرم ہو یا اطاعت گزار ہر ایک کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نوازش ہے جس میں سے وہ اپنے نافرمانوں اور دشمنوں کو بھی نواز رہا ہے۔وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًادنیا میں اللہ تعالیٰ کی یہ عطا اور بخشش عام ہے۔ اس میں دوست اور دشمن کے امتیاز کی بنیاد پر کوئی قدغن یا روک ٹوک نہیں ہے۔

انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا

📘 آیت 21 اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بعض لوگوں کو مال و اسباب ذہنی و جسمانی صلاحیتوں شکل و صورت اور مقام و مرتبے میں بعض دوسروں پر فضیلت دے رکھی ہے۔ یہ اس کی مرضی اور مشیت کا معاملہ ہے۔وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًادنیا میں تو درجات و فضائل جیسے بھی ہوں جتنے بھی ہوں محدود ہی ہوں گے مگر آخرت کی نعمتیں اور نوازشیں ایسی لامحدود اور لامتناہی ہوں گی کہ ان کا موازنہ و مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے ممکن ہی نہیں ہوگا۔ یہاں ایک شخص بیس پچیس سال کٹیا میں رہ لے گا اور ایک دوسرا شخص اتنا ہی عرصہ محل میں رہ لے گا تو کیا فرق واقع ہوجائے گا ؟ آخرکار تو دونوں کو یہاں سے جانا ہے۔ لیکن آخرت کے آرام و آسائش ابدی ہوں گے۔ وہاں کے نعمتوں کے باغات کی اپنی ہی شان ہوگی : فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌلا وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعۃ ”تو اس کے لیے آرام اور خوشبودار پھول اور نعمت کے باغ ہیں۔“

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولًا

📘 آیت 22 لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًاآئندہ دو رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کو قرآنی اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے نزدیک ان احکام کے اندر تورات کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ ان احکام کا خلاصہ ہم سورة الانعام کے آخری حصے میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یہاں پر وہی باتیں ذرا تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔

۞ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا

📘 آیت 23 وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًااللہ کے حقوق کے فوراً بعد والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید اس سے پہلے ہم سورة البقرۃ کی آیت 83 اور سورة النساء کی آیت 36 میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اس کے بعد سورة لقمان کی آیت 14 میں یہی حکم چوتھی مرتبہ آئے گا۔فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًااگر کبھی والدین کی بات کو ٹالنا بھی پڑجائے تو حکمت اور نرمی کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ عقل اور منطق کے بل پر سینہ تان کر یوں جواب نہ دیا جائے کہ ان کا دل دکھے۔

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

📘 آیت 24 وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ جب بھی اپنے والدین کے سامنے آؤ تو تمہاری چال ڈھال اور گفتگو کے انداز سے عاجزی و انکساری اور ادب و احترام کا اظہار ہونا چاہیے۔وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًااللہ تعالیٰ کے حضور ہر وقت ان کے لیے دعا گو رہنا چاہیے کہ اے اللہ جب میں ضعیف کمزور اور محتاج تھا تو انہوں نے میری غذا میرے آرام اور میری دوسری ضروریات کا انتظام کیا۔ میری تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھا اور میرے لیے اپنے آرام و آرائش کو قربان کیا۔ اب میں تو ان کے ان احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ اس لیے میں تجھی سے درخواست کرتا ہوں کہ تو ان پر رحم فرما اور اپنی خصوصی شفقت اور مہربانی سے ان کی خطاؤں کو معاف فرما دے۔

رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ ۚ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا

📘 آیت 25 رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًابوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم پر کماحقہ عمل کرنا آسان کام نہیں۔ بڑھاپے میں انسان پر ”ارذل عمر“ کا مرحلہ بھی آتا ہے جس کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا النحل : 70۔ ایسی کیفیت میں کبھی بچوں کی سی عادتیں لوٹ آتی ہیں اور ان کی بہت سی باتیں ناقابل عمل اور اکثر احکام ناقابل تعمیل ہوتے ہیں۔ کہیں انہیں سمجھانا بھی پڑتا ہے اور کبھی روکنے ٹوکنے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب مراحل میں کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہو ہی جاتی ہے اور کبھی نہ کبھی کوئی کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ یہاں اس سیاق وسباق میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف تمہارے ظاہری عمل اور رویے ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ چناچہ اگر بندے کے دل کا رجوع اللہ کی طرف ہو اور نیت اس کی نافرمانی کی نہ ہو تو چھوٹی موٹی لغزشوں کو وہ معاف فرمانے والا ہے۔

وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

📘 آیت 26 وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًاتبذیر کے معنی بلاضرورت مال اڑانے کے ہیں اور یہ اسراف سے بڑا جرم ہے۔ اسراف تو یہ ہے کہ کسی ضرورت میں ضرورت سے زائد خرچ کیا جائے۔ مثلاً کھانا کھانا ایک ضرورت ہے اور یہ ضرورت دو روٹیوں اور تھوڑے سے سالن سے بخوبی پوری ہوجاتی ہے مگر اسی ضرورت کے لیے اگر کئی کئی کھانوں پر مشتمل دستر خوان سجا دیے جائیں تو یہ اسراف ہے۔ اسی طرح کپڑا انسان کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک دو جوڑے کافی ہیں۔ اب اگر الماریوں کی الماریاں طرح طرح کے جوڑوں سوٹوں اور پوشاکوں سے بھری پڑی رہیں تو یہ اسراف کے زمرے میں آئے گا۔ اسراف کے مقابلے میں تبذیر سے مراد ایسے بےتحاشا اخراجات ہیں جن کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو مثلاً شادی بیاہ کی رسموں پر بےحساب خرچ کرنا اور نام و نمود کے لیے طرح طرح کے مواقع پیدا کر کے ان پر مال و دولت کو ضائع کرنا تبذیر ہے۔

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا

📘 آیت 27 اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ یہاں پر مبذرین کو جو شیاطین کے بھائی قرار دیا گیا ہے اس کی منطق اور بنیاد کیا ہے ؟ یہ بات جب میری سمجھ میں آئی تو مجھ پر قرآن کے اعجاز کا ایک نیا پہلو منکشف ہوا۔ سورة المائدۃ کی آیت 91 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ”شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرے شراب اور جوئے کے ذریعے سے“ اس آیت کے مضمون پر غور کرنے سے یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ شراب اور جوا شیطان کے وہ خطرناک ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ انسانوں کے درمیان بغض و عداوت کی آگ کو بھڑکا کر اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتا ہے۔ چناچہ اگر شیطان کا ہدف انسانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کے جذبات پیدا کرنا ہے تو اس کا یہ ہدف تبذیر کے عمل سے بھی بخوبی پورا ہوجاتا ہے اور یوں ”مبذرین“ اس مکروہ ایجنڈے کی تکمیل کے لیے شیطان کے کندھے سے کندھا اور اس کے قدم سے قدم ملائے سر گرم عمل نظر آتے ہیں۔ اس تلخ حقیقت کو ایک مثال سے سمجھیں۔ ذرا تصور کریں کہ ایک سیٹھ صاحب کی بیٹی کی شادی کے موقع پر اس کی کو ٹھی بقعۂ نور بنی ہوئی ہے ‘ خوب دھوم دھڑکا ہے اور محض نمود و نمائش کے لیے مال و دولت کو بےدریغ لٹایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف اسی سیٹھ صاحب کا ایک ملازم ہے جو صرف اپنی غربت کے سبب اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے نہیں کر پارہا اور سیٹھ صاحب کے یہ تمام تبذیری چلن اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے لازمی طور پر اس غریب کے دل میں نفرت بغض اور دشمنی کا لاوا جوش مارے گا۔ اب اگر اسے موقع ملے تو یہ آتش فشاں پوری شدت سے پھٹے گا اور وہ غریب ملازم اپنے مالک کا پیٹ پھاڑ کر اس کی دولت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح فضول لٹائی جانے والی دولت کی نمائش سے امراء کے خلاف معاشرے کے محروم لوگوں کے دلوں میں بغض و عداوت اور نفرت کی آگ بھڑکتی ہے اور یوں شیطان کے ایجنڈے کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی شیطانی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے معاونین کا کردار ادا کرنے کے باعث مبذرین کو یہاں ”اِخوان الشّیاطین“ قرار دیا گیا ہے۔

وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُورًا

📘 آیت 28 وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَاکبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی محتاج اپنی کسی حاجت برآری کے لیے ایسے موقع پر آپ کے پاس آتا ہے جب آپ کے پاس بھی اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اچھے دنوں اور فراخ دستی کی امید تو ہے مگر وقتی طور پر آپ سائل کی حاجت سے اعراض کرنے پر مجبور ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ اگر تمہیں کسی وقت ایسی صورت حال کا سامان ہو :فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًاایسے موقع پر سائل کو جھڑکو نہیں بلکہ متانت اور شرافت سے مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کرلو۔

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا

📘 آیت 29 وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ یہ استعارہ ہے بخل اور کنجوسی کا۔ یعنی آپ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر کسی کو کچھ دینے سے خود کو معذور نہ کرلیں۔وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ بعض اوقات انسان کے اندر نیکی کا جذبہ اس قدر جوش کھاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دینا چاہتا ہے۔فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًاایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں تو جذبات میں آکر انسان سارا مال قربان کر دے مگر بعد میں پچھتائے کہ یہ میں نے کیا کردیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب میری اپنی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی ؟ چناچہ انسان کو ہر حال میں اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے۔

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا

📘 آیت 3 ذُرِّيَّــةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ ۭ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًاحضرت نوح کے تین بیٹے سام حام اور یافث تھے جن سے بعد میں نسل انسانی چلی۔ ان میں سے حضرت سام کی نسل میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے جن کی اولاد کو یہاں بنی اسرائیل کے طور پر مخاطب کیا جارہا ہے۔ انہیں یاد دلایاجا رہا ہے کہ حضرت نوح کے ساتھ جن لوگوں کو ہم نے بچایا تھا انہی میں سے ایک کی اولاد تم ہو اور نوح ہمارا بہت ہی شکر گزار بندہ تھا۔

إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

📘 آیت 30 اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ بعض اوقات اللہ کا کوئی بندہ چاہتا ہے کہ میں کوشش کر کے اپنے فلاں نادار رشتہ دار کے حالات بہتر کردوں مگر اس کی پوری کوشش کے باوجود اس کے حالات نہیں سدھرتے۔ ایسی کیفیت کے بارے میں فرمایا گیا کہ کسی کے رزق کی تنگی اور فراخی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اس میں تم لوگوں کو کچھ اختیار نہیں۔ لہٰذا تم لوگ اپنی سی کوشش کرتے رہو اور نتائج اللہ پر چھوڑ دو۔

وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا

📘 آیت 31 وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ قدیم زمانے میں قتل اولاد کا محرک افلاس کا خوف ہوا کرتا تھا۔ آج کل ہمارے ہاں برتھ کنڑول اور آبادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں جو اجتماعی سوچ پائی جاتی ہے اور اس سوچ کے مطابق انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کی کئی صورتیں بھی اس آیت کے حکم میں آتی ہیں۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر کوئی ایک حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی تمام صورتیں حرام مطلق نہیں بلکہ بعض صورتیں جائز بھی ہیں جبکہ بعض مکروہ اور بعض حرام۔ مگر ایسی سوچ کو ایک اجتماعی تحریک کی صورت میں منظم کرنا بہر حال ایمان اور توکل علی اللہ کی نفی ہے۔ اس کوشش کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ کے رازق ہونے پر ایمان و یقین نہیں اور وہ خود اپنی جمع تفریق سے حساب پورا کرنے کی کوششیں کرنا چاہتا ہے۔ دراصل انسان اللہ کے خزانوں اور وسائل کی وسعتوں کا کچھ اندازہ نہیں کرسکتا اور اسے اپنی اس کوتاہی اور معذوری کا ادراک ہونا چاہیے۔ مثلاً کچھ عرصہ پہلے تک انسان کو اندازہ نہیں تھا کہ سمندر کے اندر انسانی غذا کے کس قدر وسیع خزانے پوشیدہ ہیں اور اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ سمندری گوشت لَحْمًا طَرِیًّا النحل : 14 اور فاطر : 12 کی افادیت انسانی صحت کے لیے red meat کے مقابلے میں کس قدر زیادہ ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم بات یہ جاننے کی ہے کہ مختلف مانع حمل طریقوں اور کوششوں پر ”قتل اولاد“ کے حکم کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن باقاعدہ حمل ٹھہر جانے کے بعد اسے ضائع کرنا بہر حال قتل کے زمرے میں ہی آتا ہے۔نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں جو رزق مل رہا ہے وہ تمہاری اپنی محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں تمہارے حقیقی رازق ہم ہیں اور جیسے ہم تمہیں رزق دے رہے ہیں اسی طرح تمہاری اولاد کے رزق کا بندوبست بھی ہمارے ذمہ ہے۔

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا

📘 آیت 32 وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓىیہاں ”زنا مت کرو“ کے بجائے وہ حکم دیا جا رہا ہے جس میں انتہائی احتیاط کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ زنا کے قریب بھی مت پھٹکو۔ یعنی ہر اس معاملے سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھو جو تمہیں زنا تک لے جانے یا پہنچانے کا سبب بن سکتا ہو۔

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا

📘 آیت 33 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ یہاں ”حق“ سے مراد چند وہ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کا قتل جائز ہے۔ ان میں خون کا بدلہ خون ‘ اسلامی ریاست میں مرتد کی سزا موت ، شادی شدہ زانی اور زانیہ کا رجم اور حربی کافر کا قتل شامل ہے۔وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًااسلامی قانون میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ جان کے بدلے جان کی سزا پر اصرار کریں یا معاف کردیں یا پھر خون بہا لے لیں۔ یہ تینوں اختیارات مقتول کے ورثاء ہی کو حاصل ہیں۔ کسی عدالت یا سربراہ مملکت کو اس میں کچھ اختیار نہیں۔فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ یعنی جان کے بدلے جان کا فیصلہ ہو تو اس میں تجاوز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک آدمی کے بدلے مخالف فریق کے زیادہ لوگ قتل کردیے جائیں طریقہ قتل میں کسی قسم کی زیادتی کی جائے یا کسی بھی انداز میں اپنے اس اختیار کا ناجائز استعمال کیا جائے۔اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًاقاتل کو پکڑنے اس پر مقدمہ چلانے اور انصاف دلانے تک کے طویل اور پیچیدہ عمل میں ہر مرحلے پر مقتول کے ورثاء کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ قتل کے مقدمات میں ریاست یا حکومت مدعی نہیں بنے گی بلکہ مقتول کے ورثاء ہی مدعی ہوں گے۔ ہمارے ہاں جو ”سرکار بنام فلاں“ کے عنوان سے مقدمہ بنتا ہے وہ معاملہ سراسر غیر اسلامی ہے۔

وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۚ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا

📘 آیت 34 وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ یہ آیت قبل ازیں ہم سورة الانعام آیت 152 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یعنی یتیم کے مال کو ہڑپ کرنے اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے یا اسے ضائع کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس کی حفاظت کرو اور اسے ہر طرح سے سنبھال کر رکھو :

وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

📘 ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًااگر تم ناپ تول پورا کرتے ہو اور لین دین کے تمام معاملات دیانتداری سے سر انجام دیتے ہو تو حضرت شعیب کے فرمان کے مطابق : بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ھود : 86 ”اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو“۔ دیانتداری سے کمایا ہوا منافع تھوڑا بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا کرے گا۔

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا

📘 آیت 36 وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌبحیثیت اشرف المخلوقات انسان کا طرز عمل خالص علم پر مبنی ہونا چاہیے۔ اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے کسی عمل یا نظریے کی بنیاد توہمات پر رکھے یا ایسی معلومات کو لائق اعتناء سمجھے جن کی کوئی علمی سند نہ ہو۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود انسانی علم کی بنیاد اور اس کا منبع کیا ہے ؟ اس سلسلے میں ہم جانتے ہیں کہ بنیادی طور پر انسانی علم کی دو اقسام ہیں۔ ایک اکتسابی علم acquired knowledge اور دوسرا الہامی علم revealed knowledge۔ اکتسابی علم کی بنیاد وہی علم الاسماء ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا تھا اور جس کا ذکر ہم سورة البقرۃ کے چوتھے رکوع میں پڑھ آئے ہیں۔ اس علم کا تعلق انسانی حواس اور ذہن سے ہے۔ انسان اپنے حواس کی مدد سے یہ علم حاصل کر کے اپنے ذہن میں محفوظ کرتا رہتا ہے۔ جوں جوں انسان کے تجربے اور مشاہدے کا دائرہ پھیلتا ہے اس علم میں بھی توسیع ہوتی جاتی ہے اور یوں یہ علم کرۂ ارض پر انسانی زندگی کے روز اوّل سے لے کر آج تک مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ دوسری طرف الہامی علم ہے جس کا انسان کے حواس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ اس علم کے تمام ذرائع مثلاً وحی جلی یا خفی الہام کشف اور رؤیائے صادقہ سچے خواب کا تعلق انسان کے حیوانی وجود کے بجائے اس کے روحانی وجود سے ہے۔ انسانی روح اس علم کو براہ راست موصول کرتی ہے اور اس کا مسکن و مرکز انسانی قلب ہے۔ اس سلسلے میں دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ انبیاء پر نازل ہونے والی وحی۔ چاہے جلی ہو یا خفی نبوت کا حصہ ہے اور علمی لحاظ سے ایک قطعی دلیل یا برہان قاطع ہے۔ لیکن کسی عام شخص کو وحی خفی الہام یا کشف کے ذریعے ملنے والا علم دوسروں کے لیے کوئی علمی دلیل فراہم نہیں کرتا۔ ایسا علم صرف متعلقہ شخص کے لیے دلیل ہوسکتا ہے اور وہ بھی صرف اس صورت میں جب وہ خلاف شریعت نہ ہو۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو آیت زیر نظر میں انسان کا اکتسابی علم زیر بحث ہے۔ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًااللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کے اکتساب و استعمال کے لیے حواس خمسہ جن میں سے دو اہم ترین حواس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اور عقل سے نوازا ہے اور اس لحاظ سے اس کی ان صلاحیتوں کا احتساب بھی ہوگا۔ یہاں پر لفظ فؤاد بہت اہم ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ عام طور پر اس لفظ کا ترجمہ ”دل“ کیا گیا ہے ‘ مگر اس ترجمے کے لیے کوئی لغوی بنیاد موجود نہیں۔ اس لفظ کا مادہ وہی ہے جس سے لفظ ”فائدہ“ مشتق ہے اور لفظ ”فائدہ“ کے معنی کسی چیز کے اس جوہر یا لب لباب کے ہیں جو اس چیز میں سے اصل مقصود ہوتا ہے۔ پرانے دور کی کتب میں یہ انداز عام ملتا ہے کہ کوئی حکایت یا روایت بیان کرنے کے بعد اس کا نتیجہ بیان کرنے کے لیے لفظ ”فائدہ“ یا صرف ”ف“ لکھ دیا جاتا تھا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی تفصیل کے خلاصہ یا کسی کام کے نتیجہ کو فائدہ کہا جاتا ہے۔ لفظ ”فئید“ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ عربی میں ”فئید“ کسی سبزی یا گوشت وغیرہ کی بھجیا کو کہا جاتا ہے اور اس لفظ فئید میں بھی نتیجہ یا خلاصہ وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی گوشت وغیرہ کو ابالنے یا بھوننے سے جب اس کا فالتو پانی خشک ہوجاتا ہے تب اس میں سے بہت تھوڑی مقدار میں وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس پر لفظ فئید کا اطلاق ہوتا ہے۔اس لغوی وضاحت کے بعد لفظ ”فؤاد“ کے مفہوم اور انسانی حواس کے ساتھ اس کے تعلق کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ حواس انسانی اپنے اپنے ذرائع سے معلومات حاصل کر کے دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ دماغ کا کمپیوٹر ان معلومات کو process کرتا ہے پہلے سے موجود اپنے ذخیرۂ معلومات کے ساتھ ان کا تطابق tally یا تقابل compare کرکے اس سارے عمل سے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے اور پھر اس نتیجہ کو اپنے ذخیرۂ معلومات memory میں محفوظ store کرلیتا ہے۔ اسی ذخیرۂ معلومات کا نام علم ہے اور انسان کی وہ قوت یا صلاحیت جو اس سارے عمل کو ممکن بناتی ہے ”فواد“ کہلانے کی مستحق ہے۔ عرف عام میں اس قوت یا صلاحیت کو عقل یا شعور کہا جاتا ہے۔ چناچہ میرے نزدیک ”فواد“ کا درست ترجمہ عقل یا شعور ہی ہے۔ اس پورے تناظر میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مفید حواس sense organs عطا کیے ہیں اور ان حواس سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے اسے نوازا ہے۔ اب اگر انسان اپنے ان حواس سے استفادہ نہ کرے عقل و شعور کی صلاحیت سے کوئی کام نہ لے اور اپنے نظریات کی بنیاد توہمات پر رکھ لے تو وہ بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہوگا۔ مثلاً زلزلے کے بارے میں کبھی لوگوں میں یہ نظریہ مشہور تھا کہ ہماری یہ زمین ایک بیل نے اپنے ایک سینگ پر اٹھا رکھی ہے۔ جب وہ تھک جاتا ہے تو اسے دوسرے سینگ پر منتقل کرتا ہے جس سے زلزلہ آجاتا ہے۔ اس مضحکہ خیز نظریے کے لیے نہ تو قرآن و حدیث میں کوئی دلیل موجود ہے اور نہ ہی انسان کے اکتسابی اور تجرباتی علوم اس کے لیے کوئی دلیل فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اپنی ان صلاحیتوں کے حوالے سے اس ہستی کے سامنے جوابدہ رکھا گیا ہے جس نے اسے یہ سب کچھ عطا کیا ہے۔ چناچہ انسان کو چاہیے کہ جس چیز یا خبر کی بنیاد میں الہامی یا اکتسابی و تجرباتی علم کی کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو اسے قابل اعتناء نہ سمجھے اور اپنے فکار و نظریات کی بنیاد ایسے ٹھوس علمی حقائق پر رکھے جن کی وہ سائنٹیفک انداز میں توثیق و تصدیق بھی کرسکتا ہو۔ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس نے علمی میدان میں نوع انسانی کی راہنمائی اس راستے کی طرف کی ہے جو انسان کے شایان شان ہے۔ یہاں پر ارسطو کے استخراجی فلسفے کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ایک مدت تک پوری دنیا میں اس فلسفے کا ڈنکا بجتا رہا۔ عالم اسلام میں بھی یہ فلسفہ بہت مقبول رہا اور کئی صدیوں کے بعد اب جا کر کہیں اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی ہے۔ استخراجی منطق deductive knowledge کے مطابق صرف دستیاب معلومات سے ہی نتائج اخد کیے جاتے تھے۔ چناچہ کسی موضوع پر جو تھوڑی بہت معلومات دستیاب ہوتی تھیں وقت کے فلسفی اور حکیم انہی میں سے بال کی کھال اتار اتار کر نتائج اخذ کرتے رہتے تھے۔ اس کے مقابلے میں قرآن نے استقرائی منطق inductive knowledge کا فلسفہ متعارف کرایا اور انسان کو مشاہدے اور تجربے کی مدد سے مسلسل علم حاصل کرنے کی راہ دکھائی : اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ وَاِلَی السَّمَآءِ کَیْفَ رُفِعَتْ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ وَاِلَی الْاَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ الغاشیۃ ”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں اونٹ کی طرف کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے۔ اور آسمان کی طرف کہ کیسے بلند کیا گیا ہے۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے نصب کیے گئے ہیں۔ اور زمین کی طرف کہ کیسے ہموار کی گئی ہے !“ علامہ اقبال نے اس فکر قرآنی کی ترجمانی یوں کی ہے : کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ !فطرت اور مظاہر فطرت کے بارے میں ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے قوانین بہت مضبوط اور مستحکم ہونے کے باوجود اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔ اللہ جب چاہے فطرت کے ان قوانین کو معطل کرسکتا ہے یا بدل سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اصل حقیقت یہی ہے کہ اس کائنات کا عمومی نظام بہت مضبوط محکم اور اٹل طبعی اصول و قوانین پر چل رہا ہے اور ان قوانین کو معطل کرنے کے معجزات روز روز رونما نہیں ہوتے۔ سمندر حضرت موسیٰ کے لیے نوع انسانی کی تاریخ میں ایک ہی دفعہ پھٹا تھا اور آگ نے ایک ہی دفعہ حضرت ابراہیم کو جلانے سے انکار کیا تھا۔ بہر حال دنیا میں طبعی سائنس Physical Science کی مختلف ٹیکنالوجیز کا وجود فطرت کے اٹل قوانین کا ہی مرہون منت ہے اور اسی وجہ سے آج طرح طرح کی سائنسی ترقی ممکن ہوئی ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن ان مظاہر فطرت کو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں قرار دیتا ہے اور انسان کو دعوت فکر دیتا ہے کہ وہ اللہ کی ان نشانیوں کو غور سے دیکھے ان کے اندر کارفرما قوانین کا تجزیاتی مطالعہ کرکے نتائج اخذ کرے اور پھر ان نتائج کو کام میں لاکر اپنی زندگی میں ترقی کی نئی منازل تلاش کرے۔ علامہ اقبال نے اسی حوالے سے اپنے خطبات میں فرمایا ہے :" The inner core of the western civilization is Quranic." کہ موجودہ مغربی تہذیب کا اندرونی محور خالص قرآنی ہے ‘ کیونکہ اس کی بنیاد سائنس پر ہے اور سائنسی علوم کی طرف انسان کی توجہ قرآن نے مبذول کروائی ہے۔ بہرحال قرآن انسان کو ہر قسم کے توہمات رمل نجوم پامسڑی وغیرہ سے بیزار کر کے اپنے معاملات اور نظریات کی بنیاد ٹھوس علمی حقائق پر رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔ انسانی زندگی کے سفر میں توازن رکھنے کے لیے مذکورہ دونوں قسم کے علوم اکتسابی اور الہامی اپنے اپنے دائرۂ عمل میں نہایت اہم ہیں۔ دونوں کی اہمیت اس سے بھی واضح ہوتی ہے کہ حضرت آدم کی پیدائش کے فوراً بعد آپ کو علم الاسماء یہ وہی علم ہے جس کا تعلق انسانی حواس سے ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے سے بھی نواز دیا گیا تھا اور آپ کو زمین پر بھیجتے وقت الہامی علم کی اتباع کی ہدایت بھی کردی گئی تھی : فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ البقرۃ ”پھر اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جس نے پیروی کی میری ہدایت کی تو ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔“یورپی معاشرہ اس سلسلے میں بہت بڑی کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے کہ اس معاشرے میں ساری توجہ اکتسابی علم پر مرکوز کر کے الہامی علم سے بالکل ہی صرف نظر کرلیا گیا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو آنکھیں دی تھیں ‘ ان میں ایک اکتسابی علم کی آنکھ تھی اور دوسری الہامی علم کی۔ یورپ میں ایک آنکھ کو مکمل طور پر بند کر کے ہرچیز کو دیکھنے اور پرکھنے کے لیے دوسری اکیلی آنکھ پر ہی انحصار کرلیا گیا۔ نتیجتاً نہ تو انسان کی سوچ میں اعتدال رہا نہ عمل میں توازن اور یوں اس پورے معاشرے نے یک چشمی دجالیت کی شکل اختیار کرلی۔

وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا

📘 آیت 37 وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًاتم جس قدر چاہو طاقتور ہوجاؤ اور ہماری زمین پر جتنا بھی اکڑ اکڑ کر اور پاؤں مار مار کر چل لو تم اپنی طاقت سے زمین کو پھاڑ نہیں سکتے اور جس قدر چاہو گردن اکڑا لو اور طرہ و دستار سے سربلند کرلو تم قد میں ہمارے پہاڑوں کے برابر تو نہیں ہوسکتے۔

كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا

📘 آیت 38 كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًایعنی یہ جتنے بھی احکام ہیں ان میں اوامر Dos بھی ہیں اور نواہی Donts بھی۔ جہاں کسی کام کے کرنے کا حکم ہے وہاں اسے نہ کرنا برائی ہے اور جہاں کسی کام سے روکا گیا ہے وہاں اس میں ملوث ہونا برائی ہے۔ اور نافرمانی اور برائی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت میں ناپسند ہے۔

ذَٰلِكَ مِمَّا أَوْحَىٰ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتُلْقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا

📘 آیت 39 ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ یہ احکام نوع انسانی کے لیے خزینہ حکمت ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن ثقافت اور اجتماعیت کے ان اصولوں پر کاربند ہو کر انسان اسی دنیا میں اپنی اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًایہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احکام میں اول و آخر توحید کا حکم دیا گیا ہے۔ آغاز میں وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ کے الفاظ آئے تھے ‘ جبکہ آخر میں اسی مضمون کو وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ کے الفاظ میں پھر دہرایا گیا ہے۔

وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا

📘 آیت 4 وَقَضَيْنَآ اِلٰى بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ فِي الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًایعنی تم پر دو ادوار ایسے آئیں گے کہ تم زمین میں سرکشی کرو گے فساد برپا کرو گے دین سے دور ہوجاؤ گے لہو و لعب میں مبتلا ہوجاؤ گے اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے تم پر عذاب کے کوڑے برسیں گے۔ یہاں پر بین السطور یہ اشارہ بھی ہے کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل پر ایک بہتر دور بھی آیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا تھا۔ سورة البقرۃ میں ان کے اس اچھے دور کی کچھ تفصیلات ہم پڑھ آئے ہیں۔ یاد دہانی کے طور پر اہم واقعات اختصار کے ساتھ یہاں پھر تازہ کرلیں۔ حضرت موسیٰ 1400 قبل مسیح میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر نکلے تھے۔ صحرائے سینا میں جبل طور کے پاس پڑاؤ کے زمانے میں آپ کو تورات عطا کی گئی۔ وہاں سے پھر شمال مشرق کی طرف کوچ کرنے اور فلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا گیا۔ جہاد کے اس حکم سے انکار کی پاداش میں بنی اسرائیل کو صحرا نوردی کی سزا ملی۔ اسی دوران میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا۔ صحرا نوردی کے دوران پروان چڑھنے والی نسل بہادر اور جفاکش تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد کیا جس کے نتیجے میں فلسطین فتح ہوگیا۔ فلسطین کا جو شہر سب سے پہلے فتح ہوا وہ اریحا Jericho تھا۔ فلسطین کی فتح کے بعد ایک بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ ایک مضبوط مرکزی حکومت بنانے کے بجائے یہ علاقہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں نے آپس میں بانٹ لیا اور ہر قبیلے نے اپنی حکومت قائم کرلی۔ یہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں نہ صرف بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں بہت کمزور تھیں بلکہ بہت جلد انہوں نے آپس میں بھی لڑنا جھگڑنا شروع کردیا ‘ جس کے نتیجے میں ان کے زیر تسلط علاقے بہت جلد انتشار اور طوائف الملوکی کا شکار ہوگئے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے شام اور اردن کے ہمسایہ علاقوں میں بسنے والی مشرک اقوام نے ان پر تسلط حاصل کر کے ان کی بیشتر آبادی کو اس علاقے سے نکال باہر کیا۔اس حالت کو پہنچنے پر انہوں نے اپنے نبی حضرت سموئیل سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے ایک بادشاہ یا سپہ سالار مقرر کردیں تاکہ اس کی قیادت میں تمام قبیلے اکٹھے ہو کر جہاد کریں۔ اس مطالبے کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کیا گیا۔ حضرت طالوت نے دشمن افواج کے خلاف لشکر کشی کی ‘ جن کا سپہ سالار جالوت تھا۔ اس جنگ میں حضرت داؤد بھی شامل تھے۔ آپ نے جالوت کو قتل کردیا ‘ جس کے نتیجے میں دشمن لشکر پر بنی اسرائیل کو فتح نصیب ہوئی اور وہ علاقے میں ایک مضبوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ حضرت طالوت کے بعد حضرت داؤد ان کے جانشین ہوئے اور حضرت داؤد کے بعد آپ کے بیٹے حضرت سلیمان بادشاہ بنے۔حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں فلسطین کے فتح ہونے سے لے کر طالوت اور جالوت کی جنگ تک تین سو سال کا وقفہ ہے۔ حضرت سلیمان کا عہد حکومت اس تین سو سالہ دور کا نقطہ عروج تھا۔ حضرت طالوت حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا دور اقتدار تقریباً ایک سو سال کے عرصے پر محیط تھا۔ سولہ برس تک حضرت طالوت نے حکومت کی ‘ اس کے بعد چالیس برس تک حضرت داؤد اور پھر چالیس برس تک ہی حضرت سلیمان برسر اقتدار رہے۔ یہ دور گویا بنی اسرائیل کی خلافت راشدہ کا دور تھا جو ہمارے دور خلافت راشدہ سے مماثلت رکھتا ہے۔ اگرچہ ان کی پہلی تین خلافتیں ایک سو برس کے عرصے پر محیط تھیں اور ہماری امت کی پہلی تین خلافتوں کا عرصہ چوبیس برس تھا لیکن جس طرح ان کے پہلے خلیفہ کا دور اقتدار مختصر اور بعد کے دونوں خلفاء کا دور نسبتاً طویل تھا اسی طرح ہمارے ہاں بھی حضرت ابوبکر کا دور خلافت مختصر جبکہ حضرت عمر اور حضرت عثمان کا دور نسبتاً طویل تھا۔ اس کے بعد حضرت علی کی خلافت کو امیر معاویہ نے قبول نہیں کیا تھا چناچہ شام اور مصر کے علاقے علیحدہ رہے تھے بالکل اسی طرح بنی اسرائیل کی مملکت بھی حضرت سلیمان کی وفات کے بعد آپ کے دو بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگئی۔ شمالی مملکت کا نام اسرائیل تھا جس کا دار الخلافہ سامریہ تھا جبکہ جنوبی مملکت کا نام یہودیہ تھا اور اس کا دار الخلافہ یروشلم تھا۔ اس عظیم سلطنت کی تقسیم کے بعد بھی مادی اعتبار سے ایک عرصے تک بنی اسرائیل کا عروج برقرار رہا لیکن رفتہ رفتہ عوام میں مشرکانہ عقائد اوہام پرستی اور ہوس دنیا جیسی نظریاتی و اخلاقی بیماریاں پیدا ہوگئیں اور احکام شریعت کا استہزا ان کا اجتماعی وطیرہ بن گیا۔ چناچہ اخلاق و کردار کا یہ زوال منطقی طور پر ان کے مادی زوال پر منتج ہوا۔ بنی اسرائیل کا یہ عہد زوال بھی تقریباً تین سو سال ہی کے عرصے میں اپنی انتہا کو پہنچا۔ سب سے پہلے آشوریوں کے ہاتھوں ان کی شمالی سلطنت ”اسرائیل“ سات آٹھ سو قبل مسیح کے لگ بھگ تباہ ہوئی۔ اس کے بعد 587 قبل مسیح میں عراق کے نمرود بخت نصر Nebukadnezar نے ان کی جنوبی سلطنت ”یہودیہ“ پر حملہ کیا اور پوری سلطنت کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا گیا کہ کسی عمارت کی دو اینٹیں بھی سلامت نہیں رہنے دی گئیں۔ ہیکل سلیمانی کو مسمار کر کے اس کی بنیادیں تک کھود ڈالی گئیں۔ اس دوران بخت نصر نے چھ لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جبکہ چھ لاکھ مردوں عورتوں اور بچوں کو جانوروں کی طرح ہانکتا ہوا بابل لے گیا جہاں یہ لوگ سوا سو سال تک اسیری Captivity کی حالت میں رہے۔ ذلت و رسوائی کے اعتبار سے یہ ان کی تاریخ کا بد ترین دور تھا۔ بنی اسرائیل کے دوسرے دور عروج کا آغاز حضرت عزیر کی اصلاحی کوششوں سے ہوا۔ آپ کو بنی اسرائیل کی نشاۃ ثانیہ Renaissance کے نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ 539 ق م میں ایران کے بادشاہ کیخورس Cyrus یا ذوالقرنین نے عراق بابل فتح کیا اور اس کے دوسرے ہی سال اس نے بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ چناچہ یہودیوں کے قافلے فلسطین جانے شروع ہوگئے اور یہ سلسلہ مدتوں جاری رہا۔ 458 ق م میں حضرت عزیر بھی ایک جلاوطن گروہ کے ساتھ یروشلم پہنچے اور اس شہر کو آباد کرنا شروع کیا اور ہیکل سلیمانی کی ازسر نو تعمیر کی۔ اس سے قبل حضرت عزیر کو اللہ تعالیٰ نے سو برس تک سلائی بھی رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک سو سال کے لیے موت طاری کردی تھی اور پھر انہیں زندہ کیا اور انہیں بچشم سر ان کے مردہ گدھے کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرایا جس کے بارے میں ہم سورة البقرۃ آیت 259 میں پڑھ آئے ہیں۔ بہر حال حضرت عزیر نے توبہ کی منادی کے ذریعے ایک زبردست تجدیدی اور اصلاحی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں ان کے نظریات اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہونا شروع ہوئی۔ حضرت عزیر نے تورات کو بھی یادداشتوں کی مدد سے ازسرنو مرتب کیا جو بخت نصر کے حملے کے دوران گم ہوگئی تھی۔ ایرانی سلطنت کے زوال سکندر مقدونی کی فتوحات اور پھر یونانیوں کے عروج سے یہودیوں کو کچھ مدت کے لیے شدید دھچکا لگا۔ یونانی سپہ سالار انیٹوکس ثالث نے 198 ق م میں فلسطین پر قبضہ کرلیا۔ یونانی فاتحین نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لے کر یہودی مذہب و تہذیب کی بیخ کنی کرنا چاہی ‘ لیکن بنی اسرائیل اس جبر سے مغلوب نہ ہوئے اور ان کے اندر ایک زبردست تحریک اٹھی جو تاریخ میں ”مکابی بغاوت“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حضرت عزیر کی پھونکی ہوئی روح دینداری کا اثر تھا کہ انہوں نے بالآخر یونانیوں کو نکال کر اپنی ایک عظیم آزاد ریاست قائم کرلی جو ”مکابی سلطنت“ کہلاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے دوسرے دور عروج میں قائم ہونے والی یہ سلطنت 170 ق م سے لے کر 67 ق م تک پوری شان و شوکت کے ساتھ قائم رہی۔ مکابی سلطنت اپنے وقت کی معلوم دنیا کے تمام علاقوں پر محیط تھی۔ چناچہ رقبے کے اعتبار سے یہ حضرت سلیمان کی سلطنت سے بھی وسیع تھی۔ اس زمانہ عروج میں پھر سے ان کی نظریاتی و اخلاقی حالت بگڑنے لگی۔ مشرکانہ عقائد سمیت بہت سی اخلاقی برائیاں پھر سے ان میں پیدا ہوگئیں جن کے نتیجے میں ایک دفعہ پھر یہ قوم عذاب خداوندی کی زد میں آگئی۔ مکابی تحریک جس اخلاقی ودینی روح کے ساتھ اٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بےروح ظاہر داری نے لے لی۔ آخر کار ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپئی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔ چناچہ پومپئی نے 63 ق م میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کردیا۔ رومیوں نے فلسطین میں اپنے زیرسایہ ایک دیسی ریاست قائم کردی جو بالآخر 40 ق م میں ہیرود نامی ایک ہوشیار یہودی کے قبضے میں آئی۔ یہ شخص ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے اور اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر 40 سے 4 ق م تک رہی۔ اس شخص نے رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی خوشنودی حاصل کرلی تھی۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ گئی تھی۔ ہیرود اعظم کے بعد اس کی ریاست اس کے تین بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگئی۔ لیکن 4 ء میں قیصر آگسٹس نے ہیرود کے بیٹے ارخلاؤس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کردی اور 41 ء تک یہی انتظام قائم رہا۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت مسیح بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اٹھے تو یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور انہیں واجب القتل قرار دے کر رومی گورنر پونٹس پیلاطس سے ان کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی اور اپنے خیال کے مطابق تو ان کو سولی پر چڑھوا ہی دیا۔رومیوں نے 41 ء میں ہیرود اعظم کے پوتے ”ہیرود اگر پا“ کو ان تمام علاقوں کا حکمران بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمران تھا۔ اس شخص نے برسراقتدار آکر مسیح کے پیروؤں پر مظالم کی انتہا کردی۔ کچھ ہی عرصے بعد یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہوگئی اور 64 ء تا 66 ء کے دوران یہودیوں نے رومیوں کے خلاف کھلی بغاوت کردی ‘ جو ان کے عروج ثانی کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ یہودیوں کی بغاوت کا قلع قمع کرنے کے لیے بالآخر رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کارروائی کی اور 70 ء میں ٹائٹس Titus نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کرلیا۔ ہیکل سلیمانی ایک دفعہ پھر مسمار کردیا گیا۔ جنرل ٹائیٹس کے حکم پر شہر میں قتل عام ہوا۔ ایک دن میں ایک لاکھ 33 ہزار یہودی قتل ہوئے ‘ جبکہ 67 ہزار کو غلام بنا لیا گیا۔ اس طرح رومیوں نے پورے شہر میں کوئی متنفس باقی نہ چھوڑا۔ اس کے ساتھ ہی ارض فلسطین سے بنی اسرائیل کا عمل دخل مکمل طور پر ختم ہوگیا۔ بیسویں صدی کے شروع تک پورے دو ہزار برس یہ لوگ جلا وطنی اور انتشار Diaspora کی حالت میں ہی رہے۔ جنرل ٹائیٹس کے ہاتھوں 70 ء میں ہیکل سلیمانی مسمار ہوا تو آج تک تعمیر نہ ہوسکا۔ حضور کی پیدائش 571 ء کے وقت اسے مسمار ہوئے پانچ سو برس گزر چکے تھے۔ یہ خلاصہ ہے اس قوم کی داستان عبرت کا جو اپنے وقت کی امت مسلمہ تھی۔ جس کے اندر چودہ سو برس تک مسلسل نبوت رہی۔ جس کو تین الہامی کتابوں سے نوازا گیا اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ البقرۃ ”اے بنی اسرائیل یاد کرو میری وہ نعمت جو میں نے تم لوگوں کو عطا کی اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی تمام جہانوں والوں پر۔“آخر کار بنی اسرائیل کو امت مسلمہ کے منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہ کی امت کو اس مسند فضیلت پر متمکن کیا گیا۔ حضور نے اپنی امت کے بارے میں فرمایا کہ تم لوگوں پر بھی عین وہی حالات وارد ہوں گے جو بنی اسرائیل پر ہوئے تھے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ مسلمانوں کو پہلا عروج عربوں کے زیر قیادت نصیب ہوا۔ اس کے بعد جب زوال آیا تو صلیبیوں کی یلغار کی صورت میں ان پر عذاب کے کوڑے برسے۔ پھر تاتاریوں نے ہلاکو خان اور چنگیز خاں کی قیادت میں عالم اسلام کو تاخت و تاراج کیا۔ اس کے بعد قدرت نے عالم اسلام کی قیادت عربوں سے چھین کر انہی تاتاریوں کے ہاتھوں میں دے دی جنہوں نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا تھا ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے چنانچہ ترکوں کی قیادت میں اس امت کو ایک دفعہ پھر عروج نصیب ہوا۔ ترکان تیموری ترکان صفوی ترکان سلجوقی اور ترکان عثمانی نے دنیا میں عظیم الشان حکومتیں قائم کیں۔ اس کے بعد امت مسلمہ پر دوسرا دور زوال آیا۔ بنی اسرائیل پر دوسرا دور عذاب یونانیوں اور رومیوں کے ہاتھوں آیا تھا جبکہ امت مسلمہ پر دوسرا عذاب اقوام یورپ کے تسلط کی صورت میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انگریز فرانسیسی اطالوی ہسپانوی اور ولندیزی Dutch پورے عالم اسلام پر قابض ہوگئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں عظیم عثمانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔یہ ان حالات وو اقعات کا خلاصہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے آیت زیر نظر میں فرمایا ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی بنی اسرائیل کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ تم لوگ اپنی تاریخ میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور سرکشی دکھاؤ گے۔

أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا ۚ إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا

📘 آیت 40 اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًایہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو ؟

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا

📘 آیت 41 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْاان کی نصیحت کے لیے ہم نے قرآن میں اسلوب بدل بدل کر حق کو واضح کیا ہے۔ اس سورة مبارکہ کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن کا لفظ اور ذکر بار بار آیا ہے۔ گویا اس سورت کے مضامین کا تانا بانا قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے آیت 9 میں فرمایا گیا : اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ ۔ آیت زیر نظر میں بھی قرآن کا ذکر ہے اور یہ ذکر اس انداز میں آئندہ آیات میں بھی بار بار آئے گا۔وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًایہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ قرآن میں گوناگوں اسلوبوں میں حق واضح ہوجانے کے باوجود ان کی بیزاری اور نفرت ہی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ حق سے اور زیادہ دور بھاگے جا رہے ہیں۔

قُلْ لَوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلَىٰ ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا

📘 آیت 42 قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا اگر واقعی اللہ کے ساتھ ساتھ دوسرے معبودوں کا بھی کوئی وجود ہوتا تو وہ ضرور سرکشی اور بغاوت کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں آنے کی کوشش کرتے۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے راجوں کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوشش کر کے مہاراجہ کی کرسی تک پہنچ جائیں اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ بغاوت تک کا خطرہ مول لے لیتے ہیں اسی طرح اگر اللہ کے بھی شریک ہوتے تو وہ بھی اللہ کے مقابلے میں ضرور مہم جوئی کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو اس کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا

📘 آیت 42 قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا اگر واقعی اللہ کے ساتھ ساتھ دوسرے معبودوں کا بھی کوئی وجود ہوتا تو وہ ضرور سرکشی اور بغاوت کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں آنے کی کوشش کرتے۔ جس طرح چھوٹے چھوٹے راجوں کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوشش کر کے مہاراجہ کی کرسی تک پہنچ جائیں اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ بغاوت تک کا خطرہ مول لے لیتے ہیں اسی طرح اگر اللہ کے بھی شریک ہوتے تو وہ بھی اللہ کے مقابلے میں ضرور مہم جوئی کرتے اور اگر ایسا ہوتا تو اس کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ ۚ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

📘 آیت 44 تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ اس کائنات کی ایک ایک چیز چاہے جاندار ہو یا بظاہر بےجان وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کائنات کی ہرچیز اپنے وجود سے گویا اپنے خالق کی خلاقی اور اپنے صانع کی صناعی کا اعلان کر رہی ہے۔ جیسے ایک تصویر اپنے مصور کے معیارِ فن کا اظہار کرتی ہے لیکن تمام مخلوقات کا ایک طرز تسبیح قولی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو زبان عطا کر رکھی ہے اور وہ اپنی زبان خاص سے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے۔ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًاہر چیز کا یہی انداز تسبیح ہے جس کا ادراک انسان نہیں کرسکتے۔ سورة حٰم السجدہ کی آیت 21 میں اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا ذکر ہے کہ اس نے ہرچیز کو قوت ناطقہ عطا کی ہے۔ روز محشر جب انسانوں کے اپنے اعضاء ان کے خلاف شہادت دیں گے تو وہ حیران ہو کر اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ یہ سب کیا ہے ؟ قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ ”ان کے چمڑے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا کی ہے جس نے ہرچیز کو بولنا سکھایا ہے۔“

وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا

📘 آیت 45 وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًااس آیت میں ایک دفعہ پھر قرآن کا ذکر آیا ہے۔ یہاں ایک غیر مرئی پردے کا ذکر ہے جو منکرین آخرت اور ہدایت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں کے ہر عمل کا معیار و مقصود صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہے۔ وہ نہ تو آخرت کی زندگی کے قائل ہیں اور نہ ہی وہاں کے اجر وثواب کے بارے میں سنجیدہ۔ دنیا میں وہ ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے نظریے پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور قرآن کو یا ہدایت کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ایسے لوگوں کو ان کے اسی رویے کی بنا پر ہدایت سے مستقلاً محروم کردیا جاتا ہے۔ اور چونکہ یہ اللہ کا قانون ہے اس لیے آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ جب آپ انہیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ان کے غیر سنجیدہ رویے ّ کی بنا پر ہم آپ کے اور ان کے درمیان ایک غیر مرئی پردہ حائل کردیتے ہیں۔

وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَىٰ أَدْبَارِهِمْ نُفُورًا

📘 وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًایہ لوگ اپنے تعصب کی وجہ سے اکیلے اللہ کا ذکر بطور معبود برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کے معبودوں کا بھی کبھی کبھار ذکر ہوا کرے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اکیلے اللہ کا ذکر سننے کو تیار نہیں ہیں۔ چناچہ وہ بدک کر نفرت کے ساتھ پیٹھ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔

نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَىٰ إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا

📘 آیت 47 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ قریش مکہ کی اس چال کا ذکر پہلے بھی ہوچکا ہے۔ ان کے بعض بڑے سردار اپنے عوام کو دھوکا دینے کے لیے رسول اللہ کی مجلس میں آتے اور بظاہر بڑے انہماک سے سب کچھ سنتے۔ پھر واپس جا کر کہتے کہ لو جی ہم تو بڑے خلوص اور اشتیاق کے ساتھ گئے تھے محمد کی محفل میں کہ وہ جو کلام پیش کرتے ہیں اس کو سنیں اور سمجھیں مگر افسوس کہ ہمیں تو وہاں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ اس طرح وہ کوشش کرتے کہ ان کے عوام بھی ان کے ہم نوا بن جائیں اور ان میں بھی یہ سوچ عام ہوجائے کہ یہ بڑے بڑے سردار آخر سمجھدار ہیں بات کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں محمد کی بات سننے اور سمجھنے کے لیے مخلص بھی ہیں اور اسی اخلاص میں وہ خصوصی طور پر آپ کی مجلس میں بھی جاتے ہیں۔ اگر اس نئے کلام میں کوئی خاص بات ہوتی تو وہ ضرور ان کی سمجھ میں آجاتی۔ اب جب یہ لوگ وہاں جا کر اور اس کلام کو سن کر کہہ رہے ہیں کہ اس میں کچھ بھی خاص بات نہیں ہے تو یقیناً یہ لوگ سچ ہی کہہ رہے ہیں۔وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًاان میں سے کسی کے دل پر جب قرآن کی کوئی آیت اثر کرتی ہے اور وہ اس کا اظہار اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں بھئی محمد نے آج جو فلاں بات کی ہے اس میں بہت وزن ہے اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تو ایسی صورت میں وہ فوراً اس کا توڑ کرنے کے لیے اپنے اس ساتھی کو سمجھانا شروع کردیتے ہیں کہ جی چھوڑو ! تم کہاں ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے چل پڑے۔ ان کی باتوں پر کوئی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔

انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا

📘 آیت 48 اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ کبھی وہ آپ کو سحر زدہ آدمی کہتے ہیں کبھی کاہن اور کبھی شاعر ! دیکھیں کیسی کیسی بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور اس میں بھی کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کرسکتے۔

وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا

📘 آیت 49 وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًایہ لوگ آپ سے بڑی حیرت سے سوال کرتے ہیں کہ آپ جو انسانوں کی دوبارہ زندگی کی بات کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور گوشت گل سڑ جائے گا تو اس کے بعد ہمیں پھر سے نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے ؟ گویا ان کی سوچ کے مطابق ایسا ہونا بالکل محال اور ناممکن ہے۔

فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا

📘 آیت 5 فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ۭ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًایعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم پر واضح کیا گیا تھا کہ جب تم لوگ دین سے برگشتہ ہوجاؤ گے ‘ جب تم اللہ کی کتاب اور اس کے احکام کو ہنسی مذاق بنا لو گے تو تم ضرور اللہ کے عذاب کا نشانہ بنو گے۔ چناچہ ان کے دین سے برگشتہ ہوجانے کے بعد آشوریوں اور عراق کے بادشاہ بخت نصر کے ہاتھوں ان پر عذاب کا کوڑا برسا جس کے نتیجے میں دونوں اسرائیلی سلطنتیں ختم ہوگئیں یروشلم مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہیکل سلیمانی مسمار کردیا گیا ‘ چھ لاکھ یہودی قتل ہوگئے جبکہ چھ لاکھ کو غلام بنا لیا گیا۔

۞ قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا

📘 آیت 49 وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًایہ لوگ آپ سے بڑی حیرت سے سوال کرتے ہیں کہ آپ جو انسانوں کی دوبارہ زندگی کی بات کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور گوشت گل سڑ جائے گا تو اس کے بعد ہمیں پھر سے نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے ؟ گویا ان کی سوچ کے مطابق ایسا ہونا بالکل محال اور ناممکن ہے۔

أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ ۚ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا ۖ قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ ۖ قُلْ عَسَىٰ أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا

📘 آیت 51 اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ اے نبی ! ان سے کہیے کہ آپ تو ہڈیوں کی بات کرتے ہو اور اپنے جسموں کے ریزہ ریزہ ہو کر ختم ہوجانے کا تصور لیے بیٹھے ہو۔ تم اگر پتھر اور لوہا بھی بن جاؤ یا اپنی سوچ کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر کسی عجیب مخلوق کا روپ دھار لو تب بھی تمہیں ازسرنو اٹھا لیا جائے گا۔فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ لا جواب ہو کر اپنے سروں کو مٹکاتے ہوئے بولیں گے کہ چلو مان لیا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے مگر یہ تو بتائیے کہ ایسا ہوگا کب ؟ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًاعجب نہیں کہ تمہاری شامت کی وہ گھڑی آیا ہی چاہتی ہو زیادہ دور نہ ہو۔

يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا

📘 آیت 52 يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ جب وہ گھڑی آئے گی اور تمہارا خالق تمہیں قبروں سے باہر آنے کے لیے بلائے گا تو تمہاری ہڈیاں اور تمہارے جسموں کے بکھرے ذرات سب سمٹ کر پھر سے زندہ انسانوں کا روپ دھار لیں گے اور تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کی تعمیل میں بھاگے چلے جا رہے ہو گے۔وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًااس وقت تمہیں دنیا اور عالم برزخ قبر میں اپنا بیتا ہوا زمانہ ایسے لگے گا جیسے کہ چند گھڑیاں ہی تم وہاں گزار کر آئے ہو۔

وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا

📘 آیت 53 وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ یہاں وہ نکتہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی قبل ازیں وضاحت ہوچکی ہے کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ ان سے براہ راست تخاطب کا سلسلہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوا جب انہیں باقاعدہ امت مسلمہ کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کو رسول اللہ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا جاتا رہا۔ چناچہ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضور سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ میرے بندوں مؤمنین کو میری طرف سے یہ بتادیں کہ وہ ہر حال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گفتگو میں کبھی ترشی اور تلخی نہ آنے دیں۔ اس طرح آپس میں بھی شیر و شکر بن کر رہیں اور مخالفین کے سامنے بھی بہتر اخلاق کا نمونہ پیش کریں۔ اقامت دین کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مؤمنین کے سامنے بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں۔ ان کے مخاطبین جہالت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے جاہلانہ اعتقادات نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح انہیں اپنے رسم و رواج سیاسی و معاشی مفادات اور غیرت و حمیت کے جذبات بہت عزیز ہیں۔ انہیں اس سب کچھ کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں داعیانِ حق کو تحمل بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اشتعال میں آکر اعلیٰ اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔

رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِكُمْ ۖ إِنْ يَشَأْ يَرْحَمْكُمْ أَوْ إِنْ يَشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا

📘 وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًاہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا ذاتی معاملہ اور ذاتی انتخاب ہے۔ آپ ان تک پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں انہیں ہدایت پر لانے کے مکلف نہیں۔

وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَىٰ بَعْضٍ ۖ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا

📘 وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ اگر محمد نبی ہیں تو آپ اور موسیٰ میں سے افضل کون ہیں ؟ یا یہ مسئلہ کہ محمد افضل ہیں یا عیسیٰ ؟ چناچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اور اس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 253 میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ”یہ رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبی کی فضیلت اس طرح بیان کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپ کی بات ہی سننے سے انکار کردیں۔یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضور کی واضح حدیث ہے کہ لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَاء اللّٰہِ ”اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو“۔ آپ نے مزید فرمایا : لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ”کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں محمد یونس بن متی ٰسے افضل ہوں“۔ آپ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے۔ بہر حال آپ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًااسی سیاق وسباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا

📘 وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ اگر محمد نبی ہیں تو آپ اور موسیٰ میں سے افضل کون ہیں ؟ یا یہ مسئلہ کہ محمد افضل ہیں یا عیسیٰ ؟ چناچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اور اس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 253 میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ”یہ رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبی کی فضیلت اس طرح بیان کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپ کی بات ہی سننے سے انکار کردیں۔یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضور کی واضح حدیث ہے کہ لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَاء اللّٰہِ ”اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو“۔ آپ نے مزید فرمایا : لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ”کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں محمد یونس بن متی ٰسے افضل ہوں“۔ آپ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے۔ بہر حال آپ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًااسی سیاق وسباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا

📘 آیت 57 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لفظ ”وسیلہ“ بمعنی قرب اس سے پہلے ہم سورة المائدۃ آیت 35 میں پڑھ چکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ کے بندے اللہ کے ہاں اپنے درجات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں اسی طرح عالم غیب یا عالم امر میں بھی تقرب الی اللہ کی یہ درجہ بندی موجود ہے۔ جیسے فرشتوں میں طبقہ اسفل کے فرشتے پھر درجہ اعلیٰ کے فرشتے اور پھر ملائکہ مقربین ہیں۔اللہ کی شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو بالکل خیالی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ہر زمانے میں لوگ انبیاء اولیاء اللہ اور فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے اختیارات میں شریک سمجھتے رہے ہیں۔ ایسی ہی شخصیات کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ چاہے انبیاء و رسل ہوں یا اولیاء اللہ یا فرشتے وہ تو عالم امر میں خود اللہ کی رضا جوئی کے لیے کوشاں اور اس کے قرب کے متلاشی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں متعدد بار ذکر ہوا ہے کہ ایسی تمام شخصیات جنہیں دنیا میں مختلف انداز میں اللہ کے سوا پکارا جاتا تھا قیامت کے دن اپنے عقیدت مندوں کے مشرکانہ نظریات سے اظہار بیزاری کریں گی اور صاف کہہ دیں گی کہ اگر یہ لوگ ہمارے پیچھے ہمیں اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے تھے تو ہمیں اس بارے میں کچھ خبر نہیں۔

وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا

📘 آیت 58 وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا یہ اشارہ ہے اس بہت بڑی تباہی کی طرف جو قیامت سے پہلے اس دنیا پر آنے والی ہے۔ سورة الکہف کی دوسری آیت میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ۔ سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف کا آپس میں چونکہ زوجیت کا تعلق ہے اس لیے یہ مضمون ان دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے۔ احادیث میں الملحمۃ العُظمٰی کے نام سے ایک بہت بڑی جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے پہلے دنیا میں برپا ہوگی۔ آیت زیر نظر میں اسی تباہی کا ذکر ہے جس سے روئے زمین پر موجود کوئی بستی محفوظ نہیں رہے گی۔ سورة الکہف میں زیادہ صراحت کے ساتھ اس کا تذکرہ آئے گا۔ اس وقت دنیا میں ایٹمی جنگ چھڑنے کا امکان ہر وقت موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت ایسا سانحہ رونما ہوجاتا ہے تو ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا پر جو تباہی آئے گی اس کو تصور میں لانا بھی مشکل ہے۔ ان حالات میں الملحمۃ العُظمٰی کے بارے میں پیشین گوئیاں آج مجسم صورت میں سامنے کھڑی نظر آتی ہیں۔كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًایعنی یہ طے شدہ امور میں سے ہے۔ ایک وقت معین پر یہ سب کچھ ہو کر رہنا ہے۔

وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا

📘 آیت 59 وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ اللہ تعالیٰ نے حسی معجزات دکھانے صرف اس لیے بند کردیے ہیں کہ سابقہ قوموں کے لوگ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی کفر پر ڈٹے رہے اور ایمان نہ لائے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الانعام اور اس کے بعد نازل ہونے والی مکی سورتوں میں تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا قوم ثمود کو ان کے مطالبے پر اونٹنی کا بصیرت افروز معجزہ دکھایا گیا مگر انہوں نے اس واضح معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت صالح پر ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی ہی کو مار ڈالا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کو مٹی سے زندہ پرندے بنانے اور ”قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ“ کہہ کر مردوں کو زندہ کرنے تک کے معجزات دیے گئے ‘ مگر کیا انہیں دیکھ کر وہ لوگ ایمان لے آئے ؟وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًانشانیاں یا معجزے بھیجنے کا مقصد تو لوگوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے سو یہ مقصد قرآن کی آیات بخوبی پورا کر رہی ہیں۔ اس کے بعد اب اور کون سی نشانیوں کی ضرورت باقی ہے ؟ اگلی آیت میں یہی بات تین مثالوں سے مزید واضح کی گئی ہے کہ یہ لوگ کس طرح قرآن کی آیات کے ساتھ بحث برائے بحث اور انکار کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور یہ کہ اللہ نے حسی معجزات دکھانا کیوں بند کردیے ہیں۔

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا

📘 آیت 6 ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ یعنی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر تمہیں سہارا دیا اور ان پر غلبے کا موقع عطا کردیا۔ اس سہارے کا باعث ایرانی بادشاہ کیخورس Cyrus یا ذوالقرنین بنا۔ اس نے عراق بابل پر تسلط حاصل کرلینے کے بعد تمہیں آزاد کر کے واپس یروشلم جانے اور اس شہر کو ایک دفعہ پھر سے آباد کرنے کی اجازت دے دی۔ پھر جب تم نے واپس آکر یروشلم کو آباد کیا تو ہم نے ایک دفعہ پھر تمہاری مدد کی :وَاَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًاہم نے تمہیں مال و اولاد میں برکت دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ تم لوگ خوب پھلے پھولے اور جلد ہی ایک مضبوط قوم بن کر ابھرے۔

وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا

📘 آیت 60 وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ قرآن حکیم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ مثلاً : وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآءِہِمْ مُّحِیْطٌ البروج ”اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے“۔ یہ لوگ جب ایسی آیات سنتے ہیں تو ڈرنے کی بجائے فضول بحث پر اتر آتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کہاں ہے اللہ ؟ ہمارا احاطہ کیوں کر ہوا ہے ؟اگر فلسفیانہ پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں ”حقیقت و ماہیت وجود“ کے موضوع سے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے جو فلسفے کا مشکل ترین مسئلہ ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا نہیں ہے یعنی ایک وجود خالق کا ہے وہ ہر جگہ ہر آن موجود ہے اور ایک وجود مخلوق یعنی اس کائنات کا ہے۔ اب خالق و مخلوق کے مابین ربط کیا ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ لوگ ”ہمہ اوست“ Pantheism کے قائل ہوگئے۔ ان کے خیال کے مطابق یہ کائنات ہی خدا ہے خدا نے ہی کائنات کا روپ دھار لیا ہے جیسے خدا خود ہی انسانوں کا روپ دھار کر ”اوتار“ کی صورت میں زمین پر آجاتا ہے۔ یہ بہت بڑا کفر اور شرک ہے۔ دوسری طرف اگر یہ سمجھیں کہ اللہ کا وجود اس کائنات میں نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کا وجود کہیں الگ ہے اور وہ نعوذ باللہ کہیں محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمیں بس اس قدر سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کا وجودمطلق Absolute ہے۔ وہ حدود وقیود زمان و مکان کسی سمت یا جہت کے تصور سے ماوراء وراء الوراء ثم وراء الوراء ہے۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ یہاں پر لفظ ”رؤیا“ خواب کے معنی میں نہیں آیا بلکہ اس سے رُؤیت بصری مراد ہے۔ انسان اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھتا ہے اس پر بھی ”رؤیا“ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شب معراج میں حضور کو جو مشاہدات کرائے تھے اور جو نشانیاں آپ کو دکھائی تھیں ان کی تفصیل جب کفار مکہ نے سنی تو یہ معاملہ ان کے لیے ایک فتنہ بن گیا۔ وہ نہ صرف خود اس کے منکر ہوئے ‘ بلکہ اس کی بنیاد پر وہ مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر انہوں نے پوری شد و مد سے یہ پرچار شروع کردیا کہ محمد پر جنون کے اثرات ہوچکے ہیں معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔ اس زمانے میں جب مکہ سے بیت المقدس پہنچنے میں پندرہ دن لگتے تھے یہ دعویٰ انتہائی ناقابل یقین معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شخص راتوں رات نہ صرف بیت المقدس سے ہو آیا ہے بلکہ آسمانوں کی سیر بھی کر آیا ہے۔ چناچہ انہوں نے موقع غنیمت سمجھ کر اس موضوع کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے بڑھ چڑھ کر بحث مباحثے کیے۔ اس طرح نہ صرف یہ بات کفار کے لیے فتنہ بن گئی بلکہ مسلمانوں کے لیے بھی ایک آزمائش قرار پائی۔ جب یہی ناقابل یقین بات ان لوگوں نے حضرت ابوبکر سے کی اور آپ سے تبصرہ چاہا تو آپ نے بلا توقف جواب دیا کہ اگر واقعی حضور نے ایسا فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے کیونکہ جب میں یہ مانتا ہوں کہ آپ کے پاس آسمانوں سے ہر روز فرشتہ آتا ہے تو مجھے آپ کا یہ دعویٰ تسلیم کرنے میں آخر کیونکر تامل ہوگا کہ آپ راتوں رات آسمانوں کی سیر کر آئے ہیں ! اسی بلا تامل تصدیق کی بنا پر اس دن سے حضرت ابوبکر کا لقب ”صدیق اکبر“ قرار پایا۔ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ اسی طرح جب قرآن میں زقوم کے درخت کا ذکر آیا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اس درخت کی جڑیں جہنم کی تہہ میں ہوں گی الصافات : 64 اور وہاں سے یہ جہنم کی آگ میں پروان چڑھے گا تو یہ بات بھی ان لوگوں کے لیے فتنے کا باعث بن گئی۔ بجائے اس کے کہ وہ لوگ اسے اللہ کی قدرت سمجھ کر تسلیم کرلیتے الٹے اس بات پر تمسخر اور استہزا کرنے لگے کہ آگ کے اندر بھلا درخت کیسے پیدا ہوسکتے ہیں ؟ انہیں کیا معلوم کہ یہ اس عالم کی بات ہے جس کے طبعی قوانین اس دنیا کے طبعی قوانین سے مختلف ہوں گے اور جہنم کی آگ کی نوعیت اور کیفیت بھی ہماری دنیا کی آگ سے مختلف ہوگی۔وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًاقرآن میں یہ سب باتیں انہیں خبردار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں مگر یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ڈرنے اور ایمان لانے کی بجائے وہ مزید سرکش ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی سرکشی میں روز بروز مزید اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا

📘 قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًاحضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔

قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا

📘 قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًاحضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا

📘 قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًاحضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۚ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا

📘 آیت 64 وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ عربی میں بکری کے ایسے نوزائیدہ بچے کو فزّ کہتے ہیں جو ابھی ٹھیک سے چلنے کے قابل نہ ہو اور کھڑا ہونے کی کوشش میں اس کی ٹانگیں لڑ کھڑاتی ہوں۔ اس مناسبت سے یہ لفظ محاورۃً اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کی ٹانگیں کسی معاملے میں لڑ کھڑا جائیں قدم ڈگمگا جائیں اور ہمت جواب دے دے۔

إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا

📘 آیت 65 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌتم انسانوں کو بہکانے اور پھسلانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو کرلو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو ان سے جھوٹے سچے وعدے کرو اور انہیں سبز باغ دکھاؤ۔ یہ تمام حربے تو تم استعمال کرسکتے ہو لیکن تمہیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہوگا کہ تم میرے کسی بندے کو اس کی مرضی کے خلاف گمراہی کے راستے پر لے جاؤ۔وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًاوہ بندے جو شیطان سے بچنا چاہیں گے اللہ ان کی مدد کرے گا اور جس کسی کا مدد گار اور کارساز اللہ ہو اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔

رَبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا

📘 آیت 65 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌتم انسانوں کو بہکانے اور پھسلانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو کرلو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو ان سے جھوٹے سچے وعدے کرو اور انہیں سبز باغ دکھاؤ۔ یہ تمام حربے تو تم استعمال کرسکتے ہو لیکن تمہیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہوگا کہ تم میرے کسی بندے کو اس کی مرضی کے خلاف گمراہی کے راستے پر لے جاؤ۔وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًاوہ بندے جو شیطان سے بچنا چاہیں گے اللہ ان کی مدد کرے گا اور جس کسی کا مدد گار اور کارساز اللہ ہو اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔

وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُورًا

📘 آیت 67 وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ جب کشتی طوفان میں گھر جاتی ہے اور موت سامنے نظر آنے لگتی ہے تو :ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ اس وقت تمہیں اپنے ان معبودوں میں سے کوئی بھی یاد نہیں رہتا جنہیں تم عام حالات میں اپنا مددگار سمجھتے ہو۔ اس آڑے وقت میں تم صرف اللہ ہی کو مدد کے لیے پکارتے ہو۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے۔

أَفَأَمِنْتُمْ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا

📘 آیت 68 اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ جب تم جان بچا کر سمند رسے خشکی پر آتے ہو تو پھر اللہ کی نا شکری کرتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیتے۔ کیا تمہیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ اگر اللہ چاہے تو تمہیں خشک زمین ہی کے اندر دھنسا دے ؟ کیا خشکی پر لوگوں کو موت نہیں آتی ؟ آسودۂ ساحل توُ ہے مگر شاید یہ تجھے معلوم نہیں ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں !اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًاتمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ چاہے تو سنگریزوں والی خوفناک آندھی سے بھی تمہیں ہلاک کرسکتا ہے۔

أَمْ أَمِنْتُمْ أَنْ يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا

📘 فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًاپھر ایسا نہیں کہ کوئی ہم سے باز پرس کرسکے کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ کیوں کیا ؟

إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيرًا

📘 آیت 7 اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۣوَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا تمہارے نیک اعمال کا فائدہ بھی تمہیں ہوا اور تمہاری برائیوں اور نافرمانیوں کا وبال دنیا میں بھی تم پر آیا اور اس کا وبال آخرت میں بھی تم پر پڑے گا۔فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جب دوبارہ تم نے اللہ کے دین سے سرکشی اختیار کی تمہارے اعتقادات نظریات اور اخلاق پھر سے مسخ ہوگئے تو وعدے کے عین مطابق تم پر عذاب کے دوسرے مرحلے کا وقت آپہنچا۔لِيَسُوْۗءٗا وُجُوْهَكُمْ اس سلسلے میں آیت 5 میں یہ الفاظ آئے تھے : بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ کہ ہم نے تم پر اپنے بندے مسلط کردیے جو سخت جنگجو تھے۔ اس فقرے کا مفہوم یہاں بھی پایا جاتا ہے لیکن یہاں دوبارہ اسے دہرایا نہیں گیا۔ چناچہ اس فقرے کو یہاں مخدوف سمجھا جائے گا اور آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ ہم نے پھر تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کیے تاکہ وہ تمہارے حلیے بگاڑ دیں۔وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ یہاں اشارہ ہے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کی بار دگر بےحرمتی کی طرف۔ جیسے 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے بیت المقدس اور ہیکل سلیمانی کو مسمار کیا تھا ویسے ہی رومی جرنیل ٹائیٹس نے 70 ء میں ایک دفعہ پھر ان کے تقدس کو پامال کیا۔وَّلِــيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْرًاان آیات میں بنی اسرائیل کی دو ہزار سالہ تاریخ کے نشیب و فراز کی تفصیلات کو سمو دیا گیا ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو مرتبہ عروج دیکھا اور دو دفعہ ہی زوال سے دو چار ہوئے۔ نبی آخر الزماں کی بعثت کے زمانے میں ان آیات کے نزول کے وقت ان کے دوسرے دور زوال کو شروع ہوئے پانچ سو برس ہونے کو آئے تھے۔ اس سیاق وسباق میں انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ :

۞ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا

📘 آیت 70 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ یہ آیت بہت واضح انداز میں اس حقیقت کا اظہار کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج climax انسان ہے۔ اس فلسفے کی وضاحت سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ وہاں میں نے بہت تفصیل سے کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز اللہ تعالیٰ کا امر کن ہے۔ حرف کن سے خنک نور کا ظہور ہوا اس نور سے ملائکہ اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی پھر Big Bang کے نتیجے میں حرارت کا گولا وجود میں آیا جس کے متحرک ذرات سے کہکشائیں ستارے اور سیارے بنے۔ اسی دور میں اس حرارت سے جنات کی تخلیق ہوئی۔ دوسرے بیشمار ستاروں اور سیاروں کی طرح ہماری زمین بھی ابتدا میں بہت گرم تھی۔ یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔ پھر اس پر ہزاروں برس مسلسل بارش برستی رہی جس سے زمین پر ہر طرف پانی پھیل گیا۔ اس کے بعد زمین پر نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد پھر تمام مخلوق کے بادشاہ ”انسان“ کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس پورے فلسفے کو مرزا بیدل نے اپنے اس شعر میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے : ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !اس خوبصورت شعر کا مفہوم و مطلب بھی سورة النحل کی مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یہاں ”ہم“ سے اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت مراد ہے جس کے تحت بحر و بر میں انسانوں کی مختلف نوعیت کی سرگرمیاں ممکن بنا دی گئیں ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ معاون اور دوستانہ ماحول انسان کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے ہے۔

يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

📘 آیت 71 يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ پھر ذرا اس دن کا خیال کرو جس دن تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے لیے اس طرح بلایا جائے گا کہ ہر گروہ اپنے راہنما یا لیڈر کے ساتھ حاضر ہوگا۔ پچھلی آیات میں تمام مخلوق پر انسان کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ جب انسان کو اس کائنات میں اس قدر اعلیٰ مقام اور مرتبے سے نوازا گیا ہے تو پھر اس کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے : ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے !“

وَمَنْ كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا

📘 آیت 72 وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًاجس شخص نے اس دنیا میں اپنی پوری زندگی حیوانوں کی طرح گزار دی جس کا دیکھنا اور سننا حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا تھا جس نے نہ تو انفس و آفاق میں بکھری ہوئی اللہ تعالیٰ کی اَن گنت نشانیوں کو چشم بصیرت سے دیکھا نہ ان کے ذریعے سے اپنے خالق ومالک کو پہچانا اس نے اپنی زندگی گویا اندھے پن میں گزار دی۔ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اندھا ہوگا۔ اسی اندھے پن سے بچنے کے لیے علامہ اقبال نے کیا خوب نصیحت کی ہے : ”دیدن دگر آموز شنیدن دگر آموز !“

وَإِنْ كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ ۖ وَإِذًا لَاتَّخَذُوكَ خَلِيلًا

📘 آیت 73 وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ یہ آیت اس بےپناہ دباؤ کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کا سامنا رسول اللہ کو قریش کی طرف سے مکہ میں تھا۔ ایک طرف تو قریش مکہ آپ پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ آپ قرآن کے غیر لچک دار احکام میں کچھ نرمی پیدا کریں اس کلام میں کچھ ترمیم کرلیں کچھ اپنی بات منوائیں اور کچھ ہماری مانیں۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة یونس آیت 15 میں بھی آچکا ہے : ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ ”اے محمد آپ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن پیش کریں یا پھر اس میں کچھ ردّوبدل کرلیں۔“دوسری طرف وہ مسلسل یہ مطالبہ بھی کیے جاتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو نشانی کے طور پر ہمیں کوئی معجزہ دکھائیں۔ ان کا یہ مطالبہ ان کے عوام تک میں بہت مقبول ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حضور کی اپنی خواہش بھی یہی تھی کہ انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے ‘ مگر اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ انہیں کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ اس سے پہلے سورة الانعام آیت 35 میں ہم اللہ تعالیٰ کا دو ٹوک فیصلہ بایں الفاظ پڑھ آئے ہیں : وَاِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاۗءِ فَتَاْتِيَهُمْ بِاٰيَةٍ ”اور اگر آپ پر ان کی یہ بےاعتنائی گراں گزرتی ہے تو اگر آپ استطاعت رکھتے ہیں تو زمین میں کوئی سرنگ کھودیں یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگائیں اور لے آئیں ان کے لیے کوئی معجزہ !“ چناچہ ان دونوں پہلوؤں سے حضور کو شدید دباؤ کا سامنا تھا اور اسی دباؤ کا اظہار اس آیت میں نظر آ رہا ہے۔وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًاتاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ اس نوعیت کی مداہنت compromise کے عوض وہ لوگ آپ کو اپنا بادشاہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے۔

وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا

📘 آیت 74 وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَـيْــــًٔـا قَلِيْلًایہ بہت نازک اور اہم مضمون ہے۔ حضرت یوسف کے بارے میں سورة یوسف آیت 24 میں اسی طرح فرمایا گیا تھا : وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ یعنی عزیز مصر کی بیوی نے تو قصد کر ہی لیا تھا اور یوسف بھی قصد کرلیتے اگر وہ اللہ کی برہان نہ دیکھ لیتے۔ یعنی یہ امکان تھا کہ بر بنائے طبع بشری وہ بھی ارادہ کر بیٹھتے مگر اللہ نے انہیں اس سے محفوظ رکھنے کا اہتمام فرمایا۔ حضور کے لیے بھی یہاں اسی طرح فرمایا کہ اگر ہم نے آپ کے پاؤں جما کر آپ کے دل کو اچھی طرح سے مضبوط نہ کردیا ہوتا تو قریب تھا کہ آپ کسی نہ کسی حد تک ان کی طرف مائل ہوجاتے۔ بہرحال ان الفاظ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ پر اس دور میں قریش مکہ کی طرف سے کس قدر شدید دباؤ تھا۔

إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا

📘 آیت 75 اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَوَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی ”رب تو آخر رب ہے جتنا بھی تنزل فرما لے اور بندہ بہر حال بندہ ہی ہے جس قدر بھی ترقی پالے !“ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًاآیت کا مضمون بہت نازک ہے۔ بہر حال میں نے الفاظ کے مطابق ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن موقع محل اور سیاق وسباق کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اصل مفہوم کو دقت نظری سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ خطاب نبی اکرم سے ہے مگر سختی کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے آپ کے مقابلے میں ایسے حالات پیدا کر رکھے تھے۔ ان الفاظ میں ان لوگوں کو سنایا جا رہا ہے کہ بد بختو ! تم جو چاہو کرلو ہمارے نبی تمہارے اس دباؤ میں آکر تمہارے مطالبات ماننے والے نہیں ہیں۔

وَإِنْ كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 آیت 76 وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًایہ مکی دور کے آخری ایام کے ان حالات کی جھلک ہے جب اس کش مکش کی شدت انتہا کو پہنچ چکی تھی اور حالات بیحد نازک رخ اختیار کرچکے تھے۔ یہاں پر رسول اللہ کو معاذ اللہ مکہ سے نکالنے کے لیے قریش کی منصوبہ بندی کا صرف ذکر کیا گیا ہے مگر اس کی نفی کرنے کے بجائے یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو آپ کے بعد وہ خود بھی یہاں پر زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کے اکثر سردار تو ہجرت کے دوسرے برس ہی جنگ بدر میں قتل ہوگئے جبکہ صرف آٹھ سال بعد مکہ شہر پر آپ کا باقاعدہ تسلط بھی قائم ہوگیا۔

سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا

📘 آیت 77 سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَایعنی آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان کے بارے میں ہمارا قاعدہ اور قانون یہی رہا ہے کہ رسول کی ہجرت کے بعد متعلقہ قوم پر سے اللہ کی امان اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے بعد وہ قوم بہت جلد عذاب کی گرفت میں آجاتی ہے۔

أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا

📘 آیت 78 اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ یہ حکم پنج گانہ نماز کے نظام کے بارے میں ہے۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ ہی ظہر کی نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔ پھر عصر مغرب اور عشاء کی نمازوں کا ایک سلسلہ ہے جو رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ پانچویں نماز یعنی فجر کو یہاں پر ”قرآن الفجر“ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ اس میں طویل قرأت کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ نماز پنجگانہ کے اوقات کے بارے میں یہ حکم عمومی نوعیت کا ہے جبکہ ہر نماز کے وقت کی خصوصیت کے ساتھ نشاندہی بعد میں حضرت جبرائیل نے کی جس کی تفصیل کتب احادیث میں ملتی ہے۔اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًاگویا فجر کا وقت نماز اور قرأت کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ رات بھر جسمانی اور ذہنی آرام کے بعد فجر کے وقت انسان تازہ دم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے نماز میں اس کی حضوری قلب کی کیفیت بھی بہتر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فجر کا وقت فرشتوں کی حاضری کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ دنیا کے معاملات کی نگرانی کرنے والے فرشتوں کی ڈیوٹیاں صبح اور عصر کے اوقات میں تبدیل ہوتی ہیں۔ چناچہ ان دونوں نمازوں میں دونوں جماعتوں کے فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر جانے والے فرشتے بھی اور آئندہ ڈیوٹی کا چارج لینے والے بھی۔ لہٰذا فرشتوں کی اس حاضری کی وجہ سے بھی نماز فجر خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَىٰ أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا

📘 آیت 79 وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ یہاں لفظ ”بِہٖ“ میں وہی انداز ہے جس کی تکرار اس سے پہلے ہم سورة الانعام میں دیکھ چکے ہیں۔ اَنْذِر بِہٖ ‘ ذَکِّر بِہٖ یعنی انذار تذکیر تبشیر تبلیغ سب قرآن کے ذریعے سے ہو۔ چناچہ یہاں پر رسول اللہ کو تہجد کا حکم دیا گیا تو فرمایا گیا کہ رات کا ایک حصہ آپ قرآن کے ساتھ جاگیے۔ تہجد کی نماز آپ قرآن کے ساتھ پڑھیں۔ گویا تہجد کا مقصد اور اس کی اصل روح یہی ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھا جائے۔ چھوٹی چھوٹی سورتوں کے ساتھ رکعتوں کی مخصوص تعداد پوری کرلینے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا”مقام محمود“ بہت ہی اعلیٰ اور ارفع مقام ہے جس پر آنحضور کو میدان حشر میں اور جنت میں فائز کیا جائے گا۔ ہم اس مقام کی عظمت اور کیفیت کا اندازہ اپنے تصور سے نہیں کرسکتے۔

عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا

📘 آیت 8 عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَااگر تم نے پہلے کی طرح ہماری نا فرمانیوں اور احکام شریعت سے اعراض کی روش اختیار کی تو ہم بھی اسی طرح پھر تمہیں سزا دیں گے۔ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًانافرمانیوں کی سزا دنیا میں تو ملے گی ہی جبکہ جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح جانوروں کو گھیر کر باڑے میں بند کردیا جاتا ہے اسی طرح آخرت میں اللہ کے نافرمانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے قید خانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْنَا مَعَھُمْ !

وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

📘 آیت 80 وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ یہ ہجرت کی دعا ہے۔ جب ہجرت کا اذن آیا تو ساتھ ہی یہ دعا بھی تعلیم فرما دی گئی کہ اے اللہ ! تو مجھے جہاں بھی داخل فرمائے یعنی یثرب مدینہ میں عزت و تکریم کے ساتھ داخل فرما وہاں پر میرا داخلہ سچا داخلہ ہو اور یہاں مکہ سے مجھے نکالنا ہے تو باعزت طریقے سے نکال۔ یاد کیجیے کہ سورة یونس کی آیت 93 میں بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا کیے جانے کا ذکر بھی ”مُبَوَّاَ صِدْقٍ“ کے الفاظ سے ہوا ہے۔وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًایعنی مدینہ میں جس نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اس میں اپنے دین کے غلبے کے اسباب پیدا فرما ‘ اور مجھے وہ طاقت قوت اور اقتدار عطا فرما جس سے دین کی عملی تنفیذ کا کام آسان ہوجائے۔ اس دعا میں رسول اللہ کو بالکل وہی کچھ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے جو عنقریب آپ کو ملنے والا تھا۔ چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ میں آپ کا استقبال ایک بادشاہ کی طرح ہوا۔ اوس اور خزرج کے قبائل نے آپ کو اپنا حاکم تسلیم کرلیا۔ یہودیوں کے تینوں قبائل ایک معاہدے کے ذریعے آپ کی مرضی کے تابع ہوگئے اور یوں آپ مدینہ میں داخل ہوتے ہی وہاں کے بےتاج بادشاہ بن گئے۔

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

📘 آیت 81 وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ بظاہر تو ابھی اس انقلاب کے آثار نمودار نہیں ہوئے تھے ابھی آٹھ سال بعد جا کر کہیں مکہ فتح ہونے والا تھا ‘ لیکن عالم امر میں چونکہ اس کا فیصلہ ہوچکا تھا لہٰذا ابھی سے آپ کی زبان مبارک سے حق کی آمد اور باطل کے فرار کا اعلان کرایا جا رہا ہے۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًاباطل کو ثبات نہیں۔ جب بھی اس کا حق کے ساتھ معرکہ ہوگا تو حق کے مقابلے میں باطل ہمیشہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا

📘 آیت 82 وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ یہاں پر پھر قرآن کا لفظ ملاحظہ ہو۔ نوٹ کیجیے کہ خود قرآن کا ذکر اس سورت میں جتنی مرتبہ آیا ہے کسی اور سورت میں نہیں آیا۔ اس آیت میں قرآن کے احکام کو اہل ایمان کے لیے شفا اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہی مضمون سورة یونس میں اس طرح بیان ہوا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے امراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت“۔ یعنی قرآن ایک مؤمن کے سینے کو تمام آلائشوں اور بیماریوں مثلاً کفر شرک تکبر حسد حب مال حب جاہ حب اولاد وغیرہ سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًاجیسا کہ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ۔

وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا

📘 آیت 82 وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ یہاں پر پھر قرآن کا لفظ ملاحظہ ہو۔ نوٹ کیجیے کہ خود قرآن کا ذکر اس سورت میں جتنی مرتبہ آیا ہے کسی اور سورت میں نہیں آیا۔ اس آیت میں قرآن کے احکام کو اہل ایمان کے لیے شفا اور رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل یہی مضمون سورة یونس میں اس طرح بیان ہوا ہے : یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ”اے لوگو ! آگئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں کے امراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور رحمت“۔ یعنی قرآن ایک مؤمن کے سینے کو تمام آلائشوں اور بیماریوں مثلاً کفر شرک تکبر حسد حب مال حب جاہ حب اولاد وغیرہ سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًاجیسا کہ سورة البقرۃ میں فرمایا گیا ہے : يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ۔

قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا

📘 آیت 84 قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ”شاکلہ“ سے مراد ہر انسان کی شخصیت کا مخصوص سانچہ ہے جیسے آپ کو کسی دھات سے کوئی شے بنانی ہے تو پہلے اس کا ایک سانچہ pattern بناتے ہیں اور اس دھات کو پگھلا کر اس میں ڈال دیتے ہیں تو وہ دھات وہی مخصوص شکل اختیار کرلیتی ہے۔ انسانی شخصیت کے مخصوص سانچے کی تشکیل میں انسان کے موروثی genes اور اس کا خارجی ماحول بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ گویا موروثی عوامل اور ماحولیاتی عوامل کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا جو ہیولیٰ بنتا ہے وہی اس کا شاکلہ ہے۔ کسی شخص نے نیکی اور برائی کے لیے جو بھی محنت اور کوشش کرنی ہے وہ اپنے اس شاکلہ کے اندر رہ کر ہی کرنی ہے۔ گویا کسی انسان کا شاکلہ اس کے دائرہ عمل کی حدود کا تعین کرتا ہے۔ وہ نہ تو ان حدود سے تجاوز کرسکتا ہے اور نہ ہی ان سے بڑھ کر عمل کرنے کا وہ مکلف ہے۔ جیسے انگریزی میں کہا جاتا ہے : One cannot grow out of his skin یعنی کسی نے موٹا ہونے کی جتنی بھی کوشش کرنی ہے اپنی کھال کے اندر رہ کر ہی کرنی ہے۔ وہ اپنی کھال سے باہر بہر حال نہیں نکل سکتا۔ چناچہ ہر شخص اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کرتا ہے اور اللہ کو خوب علم ہے کہ اس نے کس کو کس طرح کا شاکلہ دے رکھا ہے۔ اور وہ ہر شخص سے اس کے شاکلہ کی مناسبت سے ہی حساب لے گا۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو بیان القرآن ‘ جلد اول ‘ سورة البقرۃ تشریح آیت 286۔ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًااس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ نے فرمایا : اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کہ انسان معدنیات کی طرح ہیں۔ معدنیات میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی خصوصیات properties ہوتی ہیں۔ سونے کی ore چاندی کی ore سے بالکل مختلف خصوصیات کی حامل ہے۔ اسی طرح ہر انسان کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کی خصوصیات سے خوب واقف ہے۔

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

📘 قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًاروح کے بارے میں یہ سوال ان تین سوالات میں سے تھا جو ایک مرتبہ مدینہ کے یہودیوں نے قریش مکہ کے ذریعے رسول اللہ سے پوچھ بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا اور دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں۔ ان دونوں سوالات کے تفصیلی جوابات سورة الکہف میں دیے گئے ہیں مگر روح کے متعلق سوال کا انتہائی مختصر جواب اس سورت میں دیا گیا ہے۔اس بارے میں یہاں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے اور عالم امر چونکہ عالم غیب ہے اس لیے اس کے بارے میں تم لوگ کچھ نہیں جان سکتے۔ انسان کے علم کا ذریعہ اس کے حواس ہیں اور اپنے ان حواس کے ذریعے وہ صرف عالم خلق کی چیزوں کے بارے میں جان سکتا ہے عالم غیب عالم امر تک اس کا علم رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ چناچہ عالم غیب کی باتوں کو اسے ویسے ہی ماننا ہوگا جیسے قرآن اور رسول کے ذریعے سے بتائی گئی ہوں۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے جس کا ذکر قرآن مجید کے آغاز میں ہی کردیا گیا ہے : الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ البقرۃ قبل ازیں سورة الاعراف کی آیت 54 اور سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں عالم خلق اور عالم امر کے بارے میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ فرشتوں انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔

وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا

📘 قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًاروح کے بارے میں یہ سوال ان تین سوالات میں سے تھا جو ایک مرتبہ مدینہ کے یہودیوں نے قریش مکہ کے ذریعے رسول اللہ سے پوچھ بھیجے تھے۔ ان میں سے ایک سوال اصحاب کہف کے بارے میں تھا اور دوسرا ذوالقرنین کے بارے میں۔ ان دونوں سوالات کے تفصیلی جوابات سورة الکہف میں دیے گئے ہیں مگر روح کے متعلق سوال کا انتہائی مختصر جواب اس سورت میں دیا گیا ہے۔اس بارے میں یہاں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ روح کا تعلق عالم امر سے ہے اور عالم امر چونکہ عالم غیب ہے اس لیے اس کے بارے میں تم لوگ کچھ نہیں جان سکتے۔ انسان کے علم کا ذریعہ اس کے حواس ہیں اور اپنے ان حواس کے ذریعے وہ صرف عالم خلق کی چیزوں کے بارے میں جان سکتا ہے عالم غیب عالم امر تک اس کا علم رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ چناچہ عالم غیب کی باتوں کو اسے ویسے ہی ماننا ہوگا جیسے قرآن اور رسول کے ذریعے سے بتائی گئی ہوں۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے جس کا ذکر قرآن مجید کے آغاز میں ہی کردیا گیا ہے : الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ البقرۃ قبل ازیں سورة الاعراف کی آیت 54 اور سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں عالم خلق اور عالم امر کے بارے میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ فرشتوں انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔

إِلَّا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ ۚ إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا

📘 آیت 87 اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًایہ قرآن کا خاص اسلوب ہے جس کے مطابق بظاہر خطاب تو حضور سے ہے مگر اصل میں لوگوں کو یہ باور کرانا مقصود ہے کہ آپ کا اصل مقام و مرتبہ کیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے آپ سے بار بار اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ کا اعلان کرایا گیا کہ اے لوگو ! میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ یہاں اسی بات کی تاکید کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ہماری عطا اور مہربانی ہے کہ ہم نے بذریعہ وحی آپ پر یہ عظیم الشان کلام نازل کیا ہے۔ اگرچہ اس کا ہرگز ہرگز کوئی امکان نہیں تھا مگر محض ایک اصولی بات سمجھانے کے لیے فرمایا گیا کہ جس طرح ہم نے یہ کلام نازل کیا ہے اسی طرح ہم اسے واپس بھی لے سکتے ہیں اسے سلب بھی کرسکتے ہیں۔ یہ کلام نہ تو آپ کا خود ساختہ ہے اور نہ ہی آپ اسے اپنے پاس رکھنے پر قادر ہیں۔ یہ تو سراسر اللہ کی مہربانی اور اس کی رحمت کا مظہر ہے اور وہی اسے آپ کے سینے میں جمع کر کے محفوظ فرمارہا ہے۔

قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا

📘 آیت 88 قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًااس موضوع پر قرآن کا اپنے مخاطبین سے یہ سب سے پہلا مطالبہ ہے جس میں ان سے پورے قرآن کا جواب دینے کو کہا گیا ہے۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَىٰ أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا

📘 آیت 88 قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًااس موضوع پر قرآن کا اپنے مخاطبین سے یہ سب سے پہلا مطالبہ ہے جس میں ان سے پورے قرآن کا جواب دینے کو کہا گیا ہے۔

إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا

📘 آیت 9 اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ ھِيَ اَقْوَمُ یاد رکھو ! اب راہ ہدایت وہی ہوگی جس کی نشان دہی یہ کتاب کرے گی جسے ہم اپنے آخری رسول پر نازل کر رہے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ کے قصر رحمت میں داخل ہونے کا ”شاہدرہ“ ایک ہی ہے اور وہ ہے یہ قرآن۔ اب اگر تم اللہ کے دامن رحمت میں پناہ لینا چاہتے ہو تو اس قرآن کے راستے سے ہو کر آؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو اللہ کی رحمت کے دروازے ایک بار پھر تمہارے لیے کھل جائیں گے اور جو رفعتیں اور برکتیں اس آخری نبی کی امت کے لیے لکھی گئی ہیں تم بھی ان میں حصہ دار بن جاؤ گے۔

وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا

📘 حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًامشرکین مکہ کی طرف سے اس طرح کے مطالبات بار بار کیے جاتے تھے کہ جب تک آپ ہمیں کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے ہم آپ کو رسول نہیں مانیں گے۔

أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا

📘 حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًامشرکین مکہ کی طرف سے اس طرح کے مطالبات بار بار کیے جاتے تھے کہ جب تک آپ ہمیں کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے ہم آپ کو رسول نہیں مانیں گے۔

أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا

📘 آیت 92 اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًایعنی آپ ہمیں قیامت کے حوالے سے خبریں سنا سنا کر جو ڈراتے رہتے ہیں کہ اس وقت آسمان پھٹ جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو آپ آسمان کا کوئی ٹکڑا ابھی ہم پر گرا کر دکھا دیں۔

أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا

📘 وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ان لوگوں کے ان تمام مطالبات کے جواب میں صرف ایک بات فرمائی گئی :قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًایعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں۔ میں بھی اسی طرح پیدا ہوا ہوں جس طرح تم سب لوگ پیدا ہوئے ہو۔ میں تمہاری ہی طرح کھاتا پیتا ہوں دنیا کے کام کاج کرتا ہوں بازاروں میں چلتا پھرتا ہوں اور میں نے ہر سطح پر کاروبار بھی کیا ہے۔ میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اور میری سیرت اور اخلاق و کردار روز روشن کی طرح تمہارے سامنے ہے۔ مجھ میں اور تم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے اور اللہ کا وہ پیغام جو بذریعہ وحی مجھ تک پہنچتا ہے وہ میں تم لوگوں تک پہنچانے پر مامور ہوں۔اگرچہ سیرت و کردار اور مرتبہ رسالت و نبوت کے اعتبار سے عام انسانوں سے نبی اکرم کی کوئی مناسبت نہیں مگر عام بشری تقاضوں کے حوالے سے انہیں یہ جواب دیا گیا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولًا

📘 آیت 94 وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا ان کا کہنا تھا کہ اس کام کے لیے ان کی طرف کوئی فرشتہ بھیجا جاتا تو بھی کوئی بات تھی۔ اب وہ اپنی ہی طرح کے ایک انسان کو آخر کیونکر اللہ کا رسول مان لیں ؟ ان کے اس اعتراض کے جواب میں جو دلیل دی جا رہی ہے وہ بہت اہم ہے :

قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولًا

📘 آیت 95 قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًارسول کا کام ہے اللہ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانا اس کی ایک ایک بات کو سمجھانا اور پھر اللہ کے احکام کے مطابق عمل کر کے اپنی زندگی کو ان کے سامنے بطور نمونہ پیش کرنا۔ اب ظاہر ہے انسانوں کے لیے نمونہ تو ایک انسان ہی ہوسکتا ہے فرشتہ تو ان کے لیے نمونہ نہیں بن سکتا۔ چناچہ اگر ان کے پاس ایک فرشتہ رسول بن کر آجاتا تو یہی لوگ کہتے کہ یہ تو فرشتہ ہے اس کی کوئی خواہش ہے نہ ضرورت نہ رشتہ ہے نہ ناتا نہ جذبات ہیں نہ احساسات ہماری اس سے کیا نسبت ؟ ہماری تو گھر گرہستی ہے اہل و عیال ہیں مجبوریاں ہیں ضرورتیں ہیں طرح طرح کے جنجال ہیں ہم اس کی سیرت اور اس کے کردار کی پیروی کیسے کرسکتے ہیں ؟ البتہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے اور ان کی طرف رسول بھیجنا ہوتا تو ضرور کسی فرشتے ہی کو اس کام پر مامور کیا جاتا مگر اب معاملہ چونکہ انسانوں کا ہے لہٰذا ان پر حجت قائم کرنے کے لیے لازماً کسی انسان ہی کو بطور رسول بھیجا جانا چاہیے تھا سو ایسا ہی ہوا۔

قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

📘 آیت 96 قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ رد و قدح بہت ہوچکی۔ اب میں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اب وہی فیصلہ کرے گا۔

وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِهِ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا ۖ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا

📘 آیت 96 قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ رد و قدح بہت ہوچکی۔ اب میں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اب وہی فیصلہ کرے گا۔

ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا

📘 آیت 96 قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ رد و قدح بہت ہوچکی۔ اب میں یہ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اب وہی فیصلہ کرے گا۔

۞ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُورًا

📘 آیت 99 اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ جب تمہیں اس نے ایک دفعہ پیدا کیا ہے تو اب تمہاری طرح کے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیونکر مشکل ہوگا ؟ وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۭ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًاانہوں نے اللہ کے ہر حکم اور اس کی ہر آیت سے کفر اور انکار کی روش اپنائے رکھی۔