🕋 تفسير سورة الأنعام
(Al-Anam) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ۖ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
📘 آیت 1 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ط یہاں ایک خاص نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ قرآن مجید میں تقریباً سات سات پاروں کے وقفے سے کوئی سورة اَلْحَمْدُ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے۔ مثلاً قرآن کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے ہوا ہے ‘ پھر ساتویں پارے میں سورة الانعام اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ج سے شروع ہو رہی ہے ‘ اس کے بعد پندرھویں پارے میں سورة الکہف کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا۔ سے ہو رہا ہے ‘ پھر بائیسویں پارے میں اکٹھی دو سورتیں سورۂ سبا اور سورة فاطر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع ہوتی ہیں۔ گویا قرآن کا آخری حصہ بھی اس کے اندر شامل کردیا گیا ہے۔ اس طرح تقریباً ایک جیسے وقفوں سے سورتوں کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد اور تعریف سے ہوتا ہے۔ دوسری بات یہاں نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ اس آیت میں خَلَقَ اور جَعَلَ دو ایک جیسے افعال مادّی اور غیر مادّی تخلیق کا فرق واضح کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ آسمان اور زمین چونکہ مادّی حقیقتیں ہیں لہٰذا ان کے لیے لفظ خَلَقَ آیا ہے ‘ لیکن اندھیرا اور اجالا اس طرح کی مادّی چیزیں نہیں ہیں بلکہ اندھیرا تو کوئی چیز یا حقیقت ہے ہی نہیں ‘ کسی جگہ یا کسی وقت میں نور کے نہ ہونے کا نام اندھیرا ہے۔ اس لیے ان کے لیے الگ فعل جَعَلَاستعمال ہوا ہے کہ اس نے ٹھہرا دیے ‘ بنا دیے ‘ نمایاں کردیے اور معلوم ہوگیا کہ یہ اجالا ہے اور یہ اندھیرا ہے۔ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ یعنی یَعْدِلُوْنَ بِہٖ شُرَکَاءَ ھُمْکہ ان نام نہاد معبودوں کو اللہ کے برابر کردیتے ہیں ‘ جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ صفات یا حقوق میں شریک سمجھا ہوا ہے ‘ حالانکہ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ ظلمات اور نور کا بنانے والا بھی تنہا اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘ لیکن پھر بھی ان لوگوں کے حال پر تعجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہراتے ہیں۔شرک کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شرک صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی مورتی ہی سامنے رکھ کر اس کو سجدہ کیا جائے ‘ بلکہ اور بہت سی باتیں اور بہت سے نظریات بھی شرک کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ہر دور میں بھیس بدل بدل کر آتی ہے ‘ چناچہ اسے پہچاننے کے لیے بہت وسعت نظری کی ضرورت ہے۔ مثلاً آج کے دور کا ایک بہت بڑا شرک نظریۂ وطنیت ہے ‘ جسے علامہ اقبال نے سب سے بڑا بت قرار دیا ہے ع ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے ! یہ شرک کی وہ قسم ہے جس سے ہمارے پرانے دور کے علماء بھی واقف نہیں تھے۔ اس لیے کہ اس انداز میں وطنیت کا نظریہ پہلے دنیا میں تھا ہی نہیں۔ شرک کے بارے میں ایک بہت سخت آیت ہم دو دفعہ سورة النساء آیت 48 اور 116 میں پڑھ چکے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ج اللہ تعالیٰ اسے ہرگز معاف نہیں فرمائے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ‘ البتہ اس سے کمتر گناہ جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ شرک سے کمتر گناہوں میں سے جو چاہے گا ‘ جس کے لیے چاہے گا ‘ بغیر توبہ کے بھی بخش دے گا ‘ البتہ شرک سے بھی اگر انسان تائب ہوجائے تو یہ بھی معاف ہوسکتا ہے۔ سورة النساء کی اس آیت کی تشریح کے ضمن میں تفصیل سے بات نہیں ہوئی تھی ‘ اس لیے کہ شرک دراصل مدنی سورتوں کا مضمون نہیں ہے۔ شرک اور توحید کے یہ مضامین حوا میم وہ سورتیں جن کا آغاز حٰآ سے ہوتا ہے میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوں گے۔ وہاں توحید عملی اور توحید نظری کے بارے میں بھی بات ہوگی۔ سورة الفرقان سے سورة الاحقاف تک مکی سورتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے ‘ جس میں سورة یٰسٓ‘ سورة فاطر ‘ سورة سبا ‘ سورة صٓ اور حوا میم بھی شامل ہیں۔ سورة یٰسٓاس سلسلے کے اندر مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں شامل تمام سورتوں کا مرکزی مضمون ہی توحید ہے۔ بہرحال یہاں تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ جو حضرات شرک کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ حقیقت و اقسام شرک کے موضوع پر میری تقاریر سماعت فرمائیں۔ یہ چھ گھنٹوں کی تقاریر ہیں ‘ جو اسی عنوان کے تحت اب کتابی شکل میں بھی دستیاب ہیں بڑے بڑے جید علماء نے ان تقاریر کو پسند کیا ہے۔
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
📘 آیت 10 وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں ‘ یہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ آپ ﷺ سے پہلے بھی انبیاء علیہ السلام کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے۔ جیسے سورة الاحقاف آیت 9 میں آپ ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا : قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ یعنی آپ ﷺ انہیں کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھارسول نہیں ہوں ‘ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں۔ آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ خودفرما رہے ہیں کہ اس سے پہلے بھی انبیاء و رسل علیہ السلام کے ساتھ ان کی قومیں اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سوبرس تک ایسا سب کچھ جھیلتے رہے۔ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُوْنَ۔ ۔اگرچہ آپ ﷺ کی خواہش ہے کہ انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تاکہ ان کی زبانیں تو بند ہوجائیں ‘ لیکن ابھی ایسا کرنا ہماری حکمت کا تقاضا نہیں ہے ‘ ابھی ان کی مہلت کا وقت ختم نہیں ہوا۔ یعنی یہ سارا معاملہ وقت کے تعین کا ہے ‘ یہاں time factor ہی اہم ہے ‘ جس کا فیصلہ مشیت الٰہی کے مطابق ہونا ہے۔
وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ ۖ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ
📘 آیت 100 وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ اللہ تعالیٰ نے جیسے انسانوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے جنات کو بھی پیدا کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنی خداداد طبعی صلاحیتوں کی وجہ سے کائنات میں وسیع پیمانے پر رسائی رکھتے ہیں۔ آج انسان نے اربوں ڈالر خرچ کر کے خلاؤں کے جس سفر کو ممکن بنایا ہے ‘ ایک عام جن کے لیے ایسا سفر معمول کی کارروائی ہوسکتی ہے ‘ مگر ان سارے کمالات کے باوجود یہ جن ہیں تو اللہ ہی کی مخلوق۔ اسی طرح فرشتے اپنی تخلیق اور صلاحیتوں کے لحاظ سے جنات سے بھی بڑھ کر ہیں ‘ مگر پیدا تو انہیں بھی اللہ ہی نے کیا ہے۔ لہٰذا انسان ‘ جنات اور فرشتے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی الوہیت میں ذرّہ برابر حصہ نہیں۔وَخَرَقُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَبَنٰتٍم بِغَیْرِ عِلْمٍ ط۔حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کے بیٹے قرار دیا گیا ‘ جب کہ فرشتوں کے بارے میں کہہ دیا گیا کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
📘 آیت 101 بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یہ لفظ بدیع سورة البقرۃ کی آیت 117 میں بھی آچکا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس کے معنی ہیں عدم محض سے کسی چیز کی تخلیق کرنے والا۔اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌط وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍج وَہُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ اللہ تعالیٰ کی اولاد بتانے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ جب اس کی کوئی شریک حیات ہی نہیں ہے تو اولاد کیسے ہوگی ؟ در اصل کائنات اور اس کے اندر ہرچیز کا تعلق اللہ کے ساتھ صرف یہ ہے کہ وہ ایک خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہیں۔ اور وہ ایسی علیم اور خبیر ہستی ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی شے اس کی نگاہوں سے ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہیں ہو پاتی۔
ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ
📘 آیت 102 ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ ج یہ انداز خطاب سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مشرکین مکہ اور اہل عرب اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ اللہ کو مانتے تو تھے لیکن اللہ کی صفات ‘ اس کی قدرت ‘ اس کی عظمت کے بارے میں ان کا ذہن کچھ محدود تھا۔ اس لیے یہاں یہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ دیکھو جس اللہ کو تم مانتے ہو وہی تو تمہارا رب اور پروردگار ہے۔ وہ اللہ بہت بلند شان والا ہے۔ تم نے اس کی اصل حقیقت کو نہیں پہچانا۔ تم نے اس کو کوئی ایسی شخصیت سمجھ لیا ہے جس کے اوپر کوئی دباؤ ڈال کر بھی اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔ تم فرشتوں کو اس کی بیٹیاں سمجھتے ہو۔ تمہارے خیال میں یہ جس کی سفارش کریں گے اس کو بخش دیا جائے گا۔ اس طرح تم نے اللہ کو بھی اپنے اوپر ہی قیاس کرلیا ہے کہ جس طرح تم اپنی بیٹی کی بات ردّ نہیں کرتے ‘ اسی طرح تم سمجھتے ہو کہ اللہ بھی فرشتوں کی بات نہیں ٹالے گا۔ اللہ تعالیٰ کی حقیقی قدرت ‘ اس کی عظمت ‘ اس کا وراء الوراء ہونا ‘ اس کا بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْم ہونا ‘ اس کا عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر ہونا ‘ اس کا ہر جگہ پر ہر وقت موجود ہونا ‘ اس کی ایسی صفات ہیں جن کا تصور تم لوگ نہیں کر پا رہے ہو۔ لہٰذا اگر تم سمجھنا چاہو تو سمجھ لو : ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ ج وہ ہے اللہ تمہارا رب جس کی یہ شان اور قدرت بیان ہو رہی ہے۔لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَط خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْہُج وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ وَّکِیْلٌ ۔اس کے سوا کوئی تمہارے لیے کارساز نہیں۔ خود اس کا حکم ہے : اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلاً بنی اسرائیل کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا کار ساز نہ سمجھا کرو۔
لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
📘 آیت 103 لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔وہ اس حد تک لطیف ہے ‘ اس قدر لطیف ہے کہ انسانی نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں۔ چناچہ اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ شب معراج میں کیا رسول اللہ ﷺ نے اللہ کو دیکھا یا نہیں دیکھا ؟ اس میں کچھ اختلاف ہے۔ حضرت علی رض کی رائے یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کو دیکھا تھا ‘ لیکن حضرت عمر اور حضرت عائشہ رض کی رائے ہے کہ نہیں دیکھا تھا۔ اس ضمن میں حضرت عائشہ رض کا قول ہے : نُورٌ اَنّٰی یُرٰی یعنی وہ تو نور ہے اسے دیکھا کیسے جائے گا ؟ چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب کوہ طور پر استدعا کی تھی : رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط الاعراف : 143 پروردگار ‘ مجھے یارائے نظر دے کہ میں تیرا دیدار کروں ! تو صاف کہہ دیا گیا تھا کہ لَنْ تَرٰٹنِی تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ اتنی لطیف ہستی ہے کہ اس کا دیکھنا ہماری نگاہوں سے ممکن نہیں۔ ہاں دل کی آنکھ سے اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ دنیا میں بیٹھ کر بھی دل کی آنکھ سے اسے دیکھ سکتے تھے۔
قَدْ جَاءَكُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ
📘 آیت 104 قَدْ جَآءَ کُمْ بَصَآءِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ ج فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِہٖج وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْہَا ط اب جو ان بصائر کو آنکھیں کھول کر دیکھے گا ‘ چشم بصیرت وا کرے گا ‘ حقائق کا مواجہہ کرے گا ‘ حقیقت کو تسلیم کرے گا تو وہ خود اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو ان کی طرف سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کرلے گا ‘ کسی تعصب ‘ ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے حقیقت کو نہیں دیکھنا چاہے گا تو اس کا سارا وبال اسی پر آئے گا۔وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ ۔یہ بات پیغمبر ﷺ کی طرف سے ادا ہو رہی ہے کہ ہر کوئی اپنے اچھے برے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ‘ میری ذمہ داری تم تک اللہ کا پیغام پہنچانا ہے ‘ میں تمہاری طرف سے جوابدہ نہیں ہوں۔
وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
📘 آیت 105 وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ ہم اپنی آیات بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں ‘ اپنی دلیلیں مختلف اسالیب سے پیش کرتے ہیں تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور یہ تسلیم کریں کہ آپ ﷺ نے سمجھانے کا حق ادا کردیا ہے۔ دَرَسَ ‘ یَدْرُسُ کے معنی ہیں لکھنا اور لکھنے کے بعد مٹانا ‘ پھر لکھنا ‘ پھر مٹانا۔ جیسے بچے شروع میں جب لکھنا سیکھتے ہیں تو مشق کے لیے بار بار لکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمارے ہاں تختی استعمال ہوتی تھی جو اب متروک ہوگئی ہے۔ یہاں تدریجاً بار بار پڑھانے کے معنی میں یہ لفظ دَرَسْتَ استعمال ہوا ہے۔
اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ
📘 آیت 106 اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ج۔اس سورة میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو بار بار مخاطب کیا جا رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے یہ خطاب دراصل حضور ﷺ کی وساطت سے امت کے لیے بھی ہے۔ مکی سورتوں دو تہائی قرآن میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب بہت کم ملتا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمان باقاعدہ ایک امت نہیں تھے۔ امت کی تشکیل تو تحویل قبلہ کے بعد ہوئی۔ اسی لیے تحویل قبلہ کے حکم کے فوراً بعد یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط البقرۃ : 143 اب جبکہ مسلمانوں کو باقاعدہ امت کا درجہ دے دیا گیا تو پھر ان سے خطاب بھی براہ راست ہونے لگا۔ چناچہ سورة الحجرات جو 18 آیات پر مشتمل مدنی سورة ہے ‘ اس میں پانچ دفعہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب فرمایا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف مکی سورتوں میں اہل ایمان سے جو بھی کہا گیا ہے وہ حضور ﷺ کو مخاطب کر کے واحد کے صیغے میں کہا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو آپ ﷺ پر وحی کیا جا رہا ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے ‘ تو یہ حکم صرف حضور ﷺ کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔
وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكُوا ۗ وَمَا جَعَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ
📘 آیت 107 وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَآ اَشْرَکُوْاط وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا ج اگر اللہ کو اپنا جبر ہی نافذ کرنا ہوتا اور با لجبر ان سب کو ایمان پر لانا ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ پر ان کی ذمہ داری ڈالی ہی نہیں گئی۔ آپ ﷺ کو ان پر داروغہ یا نگران مقرر نہیں کیا گیا۔ آپ ﷺ کا کام ہے حق کو واضح کردینا۔ آپ ﷺ اس قرآن کے ذریعے انہیں خبردار کرتے رہیے ‘ اس کے ذریعے انہیں تذکیر کرتے رہیے ‘ اس کے ذریعے انہیں خوشخبریاں دیتے رہیے۔ آپ ﷺ کی بس یہ ذمہ داری ہے : فَذَکِّرْقف اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ۔ لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍ الغاشیہ پس آپ ﷺ انہیں یاد دہانی کرائیے ‘ اس لیے کہ آپ ﷺ تو یاد دہانی ہی کرانے والے ہیں۔ آپ ﷺ ان کے اوپر نگران نہیں ہیں۔
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 آیت 108 وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًام بِغَیْرِ عِلْمٍ ط۔یعنی کہیں جوش میں آکر ان کے بتوں کو برابھلا مت کہو ‘ کیونکہ وہ ان کو اپنے معبود سمجھتے ہیں ‘ ان کے ذہنوں میں ان کی عظمت اور دلوں میں ان کی عقیدت ہے ‘ اس لیے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ غصے میں آکر جواباً اللہ کو گالیاں دینے لگ جائیں۔ لہٰذا تم کبھی ایسا اشتعال آمیز انداز اختیار نہ کرنا۔ یہاں ایک دفعہ پھر نوٹ کیجیے کہ یہ خطاب مسلمانوں سے ہے ‘ لیکن انہیں یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے مخاطب نہیں کیا گیا۔ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَہُمْ جس طرح ہر کوئی اپنے عقیدے میں خوش ہے اسی طرح یہ مشرکین بھی اپنے بتوں کی عقیدت میں مگن ہیں۔ ظاہر بات ہے وہ ان کو اپنے معبود سمجھتے ہیں تو ان کے بارے میں ان کے جذبات بھی بہت حساس ہیں۔ اس لیے آپ ﷺ انہیں مناسب انداز سے سمجھائیں ‘ انذار ‘ تبشیر ‘ تذکیر اور تبلیغ وغیرہ سب طریقے آزمائیں ‘ لیکن ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں۔
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِنْدَ اللَّهِ ۖ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ
📘 آیت 109 وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَءِنْ جَآءَ تْہُمْ اٰیَۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِہَا ط۔پھر ان کے اسی مطالبے کا ذکر آگیا کہ کس طرح وہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر انہیں معجزہ دکھا دیا جائے تو وہ لازماً ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہ مضمون اس سورة مبارکہ کا عمود ہے۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ جب آپ ﷺ نبوت و رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر معجزہ کیوں نہیں دکھاتے ؟ اس سے پہلے تمام انبیاء معجزات دکھاتے رہے ہیں۔ آپ خود کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ نے اپنی قوم کو معجزات دکھائے ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی معجزات دکھائے ‘ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو معجزہ دکھایا ‘ تو پھر آپ معجزہ دکھا کر کیوں ہمیں مطمئن نہیں کرتے ؟ ان کے سردار اپنے عوام کو متاثر کرنے کے لیے بڑی بڑی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ آپ ﷺ دکھائیے تو سہی ایک دفعہ معجزہ ‘ اسے دیکھتے ہی ہم لازماً ایمان لے آئیں گے۔ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ آپ ﷺ انہیں صاف طور پر بتائیں کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اس طرح کا کوئی معجزہ نہیں دکھانا چاہتا۔ ان کی اس طرح کی باتوں کا چونکہ مسلمانوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان تھا اس لیے آگے فرمایا :وَمَا یُشْعِرُکُمْ لا اَنَّہَآ اِذَا جَآءَ تْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔یہ لوگ ایمان تو معجزہ دیکھ کر بھی نہیں لائیں گے ‘ لیکن معجزہ دیکھ لینے کے بعدان کی مہلت ختم ہوجائے گی اور وہ فوری طور پر عذاب کی گرفت میں آجائیں گے۔ اس لیے ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ انہیں معجزہ نہ دکھایا جائے۔ چناچہ ان کی باتیں سن سن کر جو تنگی اور گھٹن تم لوگ اپنے دلوں میں محسوس کر رہے ہو اس کو برداشت کرو اور ان کے اس مطالبے کو نظر انداز کردو۔ اب جو آیت آرہی ہے وہ بہت ہی اہم ہے۔
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ
📘 آیت 11 قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ rٍ تمہارے اس جزیرہ نمائے عرب میں ہی قوم عاد اور قوم ثمود آباد تھیں۔ اور جب تم شام کی طرف سفر کرتے ہو تو وہاں راستے میں قوم مدین کے مسکن بھی ہیں اور قوم لوط کے شہروں کے آثار بھی۔ یہ سب تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو ‘ پھر تم ان کے انجام سے عبرت کیوں نہیں پکڑتے ؟
وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
📘 آیت 110 وَنُقَلِّبُ اَفْءِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ اس قاعدے اور قانون کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اس فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو صلاحیتیں دی ہیں اگر وہ ان کو استعمال کرتا ہے تو ان میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کو علم سکھائیں گے تو آپ کے علم میں اضافہ ہوگا۔ آپ آنکھ کا استعمال کریں گے تو آنکھ صحت مند رہے گی ‘ اس کی بصارت برقرار رہے گی۔ اگر آنکھ پر پٹی باندھ دیں گے تو دو چار مہینے کے بعد بصارت زائل ہوجائے گی۔ انسانی جوڑوں کو حرکت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ‘ اگر آپ کسی جوڑ پر پلاسٹر چڑھا دیں گے تو کچھ مہینوں کے بعد اس کی حرکت ختم ہوجائے گی۔ چناچہ جو صلاحیت اللہ نے انسان کو دی ہے اگر وہ اس کا استعمال نہیں کرے گا تو وہ صلاحیت تدریجاً زائل ہوجائے گی۔ اسی طرح حق کو پہچاننے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو باطنی طور پر صلاحیت ودیعت کی ہے۔ اب اگر ایک شخص پر حق منکشف ہوا ہے ‘ اس کے اندر اسے پہچاننے کی صلاحیت موجود ہے ‘ اس کے دل نے گواہی بھی دی ہے کہ یہ حق ہے ‘ لیکن اگر کسی تعصب کی وجہ سے ‘ کسی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب اس نے اس حق کو دیکھنے ‘ سمجھنے اور ماننے سے انکار کردیا ‘ تو اس کی وہ صلاحیت قدرے کم ہوجائے گی۔ اب اس کے بعد پھر دوبارہ کبھی حق کی کوئی چنگاری اس کے دل میں روشن ہوئی تو اس کا اثر اس پر پہلے سے کم ہوگا اور پھر تدریجاً وہ نوبت آجائے گی کہ حق کو پہچاننے کی وہ باطنی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔ یہ فلسفہ سورة البقرۃ آیت 7 میں اس طرح بیان ہوا ہے : خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ ط وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ ز وَّلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں پر اور ان کی سماعت پر ‘ اور ان کی آنکھوں کے آگے پردے ڈال دیے ہیں ‘ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ اس لیے کہ جب ضد اور تعصب کی بنا پر وہ لوگ سمجھتے بوجھتے حق کا مسلسل انکار کرتے رہے تو ان کی حق کو پہچاننے کی صلاحیتیں سلب ہوگئیں۔ اب وہ اس انتہا کو پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ اس کو point of no return کہتے ہیں۔ ہر معاملے میں واپسی کا ایک وقت ہوتا ہے ‘ لیکن وہ وقت گزر جانے کے بعد ایسا کرنا ممکن نہیں رہتا۔یہی فلسفہ یہاں دوسرے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے کہ جب پہلی مرتبہ ان لوگوں پر حق منکشف ہوا ‘ اللہ نے حجت قائم کردی ‘ انہوں نے حق کو پہچان لیا ‘ ان کے دلوں ‘ ان کی روحوں اور باطنی بصیرت نے گواہی دے دی کہ یہ حق ہے ‘ اس کے بعد اگر وہ اس حق کو فوراً مان لیتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ لیکن چونکہ انہوں نے نہیں مانا تو اللہ نے فرمایا کہ اس کی سزا کے طور پر ہم ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیں گے ‘ اب وہ سو معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔وَّنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ۔ ۔یہی لفظ یَعْمَھُوْنَ ہم سورة البقرۃ کی آیت 15 میں پڑھ چکے ہیں ‘ جبکہ وہاں آیت 18 میں عُمْیٌ بھی آیا ہے۔ عَمِہَ یَعْمَہُ بصیرت سے محرومی یعنی باطنی اندھے پن کے لیے آتا ہے اور عَمِیَ یَعْمٰی بصارت سے محرومی یعنی آنکھوں سے اندھا ہونے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں فرمایا کہ ہم چھوڑ دیں گے ان کو ان کی باطنی ‘ ذہنی ‘ نفسیاتی اور اخلاقی گمراہیوں کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے۔
۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
📘 آیت 111 وَلَوْاَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْہِمُ الْمَلآءِکَۃَ یعنی ہم ان کے مطالبے کے مطابق ایک فرشتہ تو کیا فرشتوں کی فوجیں اتار سکتے ہیں ‘ ان فرشتوں کو آسمان سے اترتے ہوئے دکھا سکتے ہیں ‘ لیکن اگر ہم واقعتاً فرشتے اتار بھی دیتے اور ان کو دکھا بھی دیتے۔۔وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْہِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلاً مَّا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ اگر اللہ چاہے اور اگر کسی کے اندر حق کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ معجزوں کے بغیر بھی ایسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔ جو لوگ بھی محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے تھے وہ معجزے دیکھ کر تو نہیں لائے تھے۔ وہ طالبانِ حق تھے لہٰذا انہیں حق مل گیا۔وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُوْنَ۔ ۔یہاں جاہل سے مراد جذباتی لوگ ہیں ‘ جو عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے جذبات کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ اگلی آیت فلسفۂ دعوت و تحریک کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
📘 آیت 112 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ سوچنے اور غور کرنے کا مقام ہے ‘ انبیاء کو تو مدد کی ضرورت تھی ‘ اللہ نے شیاطین کو ان کے خلاف کیوں کھڑا کردیا ؟ بہر حال یہ اللہ کا قانون ہے جو راہ حق کے ہر مسافر کو معلوم ہونا چاہیے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ حق و باطل میں اس نوعیت کی کشاکش نہیں ہوگی تو پھر کھرے اور کھوٹے کی پہچان بھی نہیں ہو سکے گی۔ کیسے معلوم ہوگا کہ کون واقعی حق پرست ہے اور کون جھوٹا دعویدار۔ کون اللہ سے سچی محبت کرتا ہے اور کون دودھ پینے والا مجنوں ہے۔ یہ دنیا تو آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں اگر شر کا وجود ہی نہ ہو ‘ ہر جگہ خیر ہی خیر ہو تو خیر کے طلبگاروں کی آزمائش کیسے ہوگی ؟ لہٰذا فرمایا کہ یہ کشمکش کی فضا ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ ہم خود حق پر چلنے والوں کو تلاطم خیز موجوں کے سپرد کر کے ان کی استقامت کو پرکھتے ہیں اور پھر ثابت قدم رہنے والوں کو نوازتے ہیں۔ اس میدان میں جو جتنا آزمایا جاتا ہے ‘ جو جتنی استقامت دکھاتا ہے ‘ جو جتنا ایثار کرتا ہے ‘ اتنا ہی اس کا مرتبہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ راہ حق کے مسافروں کو مطمئن رہنا چاہیے : تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے !یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ط۔مثلاً ایک جن شیطان آکر اپنے ساتھی انسان شیطان کے دل میں خیال ڈالتا ہے کہ شاباش اپنے موقف پر ڈٹے رہو ‘ اسی کا نام استقامت ہے۔ دیکھو کہیں پھسل نہ جانا اور اپنے مخالف کے موقف کو قبول نہ کرلینا۔ ان کا آپس میں اس طرح کا گٹھ جوڑ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو یہ چھوٹ دے رکھی ہے۔ وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ ظاہر بات ہے کہ اس کائنات میں کوئی پتا بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ ابو جہل کی کیا مجال تھی کہ حضرت سمیہ رض کو شہید کرتا۔ وہ برچھا اٹھاتا تو اس کا ہاتھ شل ہوجاتا۔ لیکن یہ تو اللہ کی طرف سے چھوٹ تھی کہ ٹھیک ہے ‘ تم ہماری اس بندی کو جتنا آزمانا چاہتے ہو آزمالو۔ ان آزمائشوں سے ہمارے ہاں اس کے مراتب بلند سے بلند تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں اللہ تعالیٰ کے ایک بندے پر انعامات کا ذکر ہوا ہے : قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ۔ بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ اس نے کہا کاش کہ میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ کس طرح میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے معززین میں سے بنادیا۔ ادھر تو میری شہادت کے بعد صف ماتم بچھی ہوگی ‘ بیوی شوہر کی جدائی میں نڈھال ہوگی ‘ بچے رو رو کر ہلکان ہو رہے ہوں گے ‘ لیکن کاش وہ جان سکتے کہ مجھے میرے رب نے کس کس طرح سے نوازا ہے ‘ کیسے کیسے انعامات یہاں مجھ پر کیے گئے ہیں اور میں یہاں کس عیش و آرام میں ہوں ! اگر انہیں میرے اس اعزازو اکرام کی کچھ بھی خبر ہوجاتی تو رونے دھونے کی بجائے وہ خوشیاں منا رہے ہوتے۔ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔یہ ہماری سنت ہے ‘ ہمارا طریقہ ہے ‘ ہم نے خود ان کو یہ سب کچھ کرنے کی ڈھیل دے رکھی ہے ‘ لہٰذا آپ ﷺ ان سے اعراض فرمائیے اور ان کو ان کی افترا پردازیوں میں پڑے رہنے دیجیے۔
وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُمْ مُقْتَرِفُونَ
📘 وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَا ہُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ۔اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھئے۔ پانی کا electrolysis کریں تو negative اور positive چارج والے آئنز ions الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا میں حق و باطل کی جو کشاکش رکھی ہے ‘ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کھرے اور کھوٹے کی ionization ہوجاتی ہے۔ اہل حق نکھر کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور اہل باطل دوسری طرف۔ اس طرح انسانی معاشرے میں اچھے اور برے کی تمیز ہوجاتی ہے۔ جیسے کہ ہم سورة آل عمران آیت 179 میں پڑھ چکے ہیں : حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ط تاکہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ معاشرے کے اندر عام طور پر پاک اور ناپاک عناصرگڈ مڈ ہوئے ہوتے ہیں ‘ لیکن جب آزمائشیں اور تکلیفیں آتی ہیں ‘ امتحانات آتے ہیں تو یہ خبیث اور طیب عناصر واضح طور پر الگ الگ ہوجاتے ہیں ‘ منافق علیحدہ اور اہل ایمان علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے کہ شیاطین انس و جن کو کھل کھیلنے کی مہلت اسی حکمت کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور منکرین آخرت کو بھی پورا موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ان شیاطین کی طرف سے پھیلائے ہوئے بےسروپا نظریات کی طرف مائل ہونا چاہیں تو بیشک ہوجائیں۔
أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
📘 آیت 114 اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا اب پھر یہ متجسسانہ سوال searching question اسی پس منظر میں کیا گیا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے۔ چناچہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جس کو تم مانتے ہو ‘ میں نے بھی اسی کو اپنا رب مانا ہے۔ تو کیا اب تم چاہتے ہو کہ میں اس معبود حقیقی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حکم تسلیم کرلوں ‘ اور وہ بھی ان میں سے جن کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ‘ جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند یا دلیل نازل نہیں کی ہے۔ سورة الزخرف میں اسی نکتہ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ آپ ﷺ کہیے کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے اس کو میں پوجتا۔ یعنی جب میں اللہ کی پرستش کرتا ہوں تو اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتاتو کیا میں اس کی پرستش نہ کرتا ؟ چناچہ میں جو اللہ کو اپنا معبود سمجھتا ہوں اور کسی کو اس کا بیٹا نہیں مانتاتو جان لیں کہ اس کا کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔ سمجھانے کا یہ انداز جو قرآن میں اختیار کیا گیا ہے بڑا فطری ہے۔ اس میں منطق کے بجائے جذبات سے براہ راست اپیل ہے۔ دروں بینی introspection کی طرف دعوت ہے کہ اپنے دل میں جھانکو ‘ گریبان میں منہ ڈالو اور سوچو ‘ حقیقت تمہیں خود ہی نظر آجائے گی۔ وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً ط۔ وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بالْحَقِّ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ ۔اہل کتاب زبان سے اقرار کریں نہ کریں ‘ اپنے دلوں میں ضروریقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
📘 آیت 115 وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّعَدْلاً ط۔آپ کے رب کی بات اس کی مشیت کے مطابق مکمل ہوچکی ہے ‘ جیسے سورة المائدۃ آیت 3 میں فرمایا : اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا ط
وَإِنْ تُطِعْ أَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
📘 آیت 116 وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ : جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے !اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ رض میں صحابہ کرام رض کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور land makrs کے طور پر مان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہوسکتی ‘ وہ تو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا ‘ کو کا کو لا ‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق absolute authority اور اقتدار اعلیٰ sovereignty اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ چناچہ کلی اختیار اوراقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ کے پاس رہے گا ‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جاسکتے ہیں۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔یعنی یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں ‘ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَنْ يَضِلُّ عَنْ سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
📘 آیت 116 وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ : جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے !اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ رض میں صحابہ کرام رض کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور land makrs کے طور پر مان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہوسکتی ‘ وہ تو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا ‘ کو کا کو لا ‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق absolute authority اور اقتدار اعلیٰ sovereignty اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ چناچہ کلی اختیار اوراقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ کے پاس رہے گا ‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جاسکتے ہیں۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔یعنی یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں ‘ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔
فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ
📘 آیت 118 فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت کے بارے میں مشرکین عرب کے جاہلانہ نظریات اور توہمات کا رد کیا گیا ہے۔
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ
📘 آیت 119 وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یہ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام وغیرہ بحوالہ المائدۃ : 103 کے بارے میں تمہارے تمام عقیدے من گھڑت ہیں۔ اللہ نے ایسی کوئی پابندیاں اپنے بندوں پر نہیں لگائیں۔ لہٰذا حلال جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا کرو اور بلا کراہت ان کا گوشت کھایا کرو۔وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ یہ تفصیل سورة النحل کے اندر آئی ہے۔ سورة النحل چونکہ سورة الانعام سے پہلے نازل ہوئی ہے اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ حلال چیزوں کی تفصیل تمہارے لیے پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔اِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ ط۔اس میں بھی تمہارے لیے گنجائش ہے کہ اگر اضطرار ہے ‘ جان پر بنی ہوئی ہے ‘ بھوک سے جان نکل رہی ہے تو ان حرام چیزوں میں سے بھی کچھ کھا کر جان بچائی جاسکتی ہے۔
قُلْ لِمَنْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُلْ لِلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
📘 آیت 12 قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط قُلْ لِّلّٰہِ ط دراصل یہ کہنا اس اعتبار سے ہے کہ مشرکین مکہ بھی یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کا مالک اور خالق اللہ ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ وہ ایسے احمق نہیں تھے۔ اپنے ان معبودوں کے بارے میں ان کا ایمان تھا : ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 کہ یہ اللہ کی جناب میں ہماری شفاعت کریں گے۔ سورة العنکبوت آیت 61 میں الفاظ آئے ہیں : وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ہیں اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ تو یہ لازماً کہیں گے کہ اللہ نے ! چناچہ وہ لوگ کائنات کی تخلیق کو اللہ ہی کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس کا مالک بھی اللہ ہی کو سمجھتے تھے۔ البتہ ان کا شرکیہ عقیدہ یہ تھا کہ ہمارے یہ معبود اللہ کے بڑے چہیتے اور لاڈلے ہیں ‘ اللہ کے ہاں ان کے بڑے اونچے مراتب ہیں ‘ یہ ہمیں اللہ کی پکڑ سے چھڑوا لیں گے۔کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ط اس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔یہ لزوم اس نے خود اپنے اوپر کیا ہے ‘ ہم اس پر کوئی شے لازم قرار نہیں دے سکتے۔لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ط اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ یہاں ایک غور طلب نکتہ یہ ہے کہ قیامت کا دن تو بڑا سخت ہوگا ‘ جس میں احتساب ہوگا ‘ سزا ملے گی۔ پھر یہاں پر رحمت کے لزوم کا ذکر کس حوالے سے آیا ہے ؟ اس کا مفہوم یہ ہے کہ رحمت کا ظہور قیامت کے دن خاص اہل ایمان کے لیے ہوگا۔ اس لحاظ سے یہاں خوشخبری ہے انبیاء و رسل کے لیے ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کے لیے ‘ اور اہل ایمان کے لیے ‘ کہ جو سختیاں تم جھیل رہے ہو ‘ جو مصیبتیں تم لوگ برداشت کر رہے ہو ‘ اس وقت دنیا میں جو تنگی تمہیں ہو رہی ہے ‘ اس کے بدلے میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وہ وقت آکر رہے گا جب تمہاری ان خدمات کا بھر پور صلہ ملے گا ‘ تمہاری ان ساری سر فروشیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سرمحشر قدرافزائی کا اعلان ہوگا۔ کبھی تمہیں یہ خیال نہ آنے پائے کہ ہم تو اپنا سب کچھ یہاں اللہ کے لیے لٹا بیٹھے ہیں ‘ پتا نہیں وہ دن آئے گا بھی یا نہیں ‘ پتا نہیں کوئی ملاقات ہوگی بھی یا نہیں ‘ پتا نہیں یہ سب کچھ واقعی حق ہے بھی یا نہیں ! ان وسوسوں کو اپنے دل و دماغ سے دور رکھو ‘ اور خوشخبری سنو : کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ط
وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ
📘 آیت 119 وَمَا لَکُمْ اَلاَّ تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ یہ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام وغیرہ بحوالہ المائدۃ : 103 کے بارے میں تمہارے تمام عقیدے من گھڑت ہیں۔ اللہ نے ایسی کوئی پابندیاں اپنے بندوں پر نہیں لگائیں۔ لہٰذا حلال جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا کرو اور بلا کراہت ان کا گوشت کھایا کرو۔وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ یہ تفصیل سورة النحل کے اندر آئی ہے۔ سورة النحل چونکہ سورة الانعام سے پہلے نازل ہوئی ہے اس لیے یہاں فرمایا گیا کہ حلال چیزوں کی تفصیل تمہارے لیے پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے۔اِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْہِ ط۔اس میں بھی تمہارے لیے گنجائش ہے کہ اگر اضطرار ہے ‘ جان پر بنی ہوئی ہے ‘ بھوک سے جان نکل رہی ہے تو ان حرام چیزوں میں سے بھی کچھ کھا کر جان بچائی جاسکتی ہے۔
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ۗ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
📘 آیت 121 وَلاَ تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ ط۔ اس آیت کا تعلق بھی مشرکین عرب کے خود ساختہ اعتقادات اور توہمات سے ہے۔ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام سرے سے لینا ہی نہیں چاہیے۔ یہ حکم ایک خاص مسئلے کے حوالے سے ہے ‘ جس کی وضاحت آگے آیت 138 میں آئے گی۔وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ الآی اَوْلِیٰٓءِہِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْج وَاِنْ اَطَعْتُمُوْہُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ ۔مشرکین مکہ اپنے غلط اعتقادات کی حمایت میں طرح طرح کی حجت بازی کرتے رہتے تھے ‘ مثلاً یہ کیا بات ہوئی کہ جو جانور اللہ نے مارا ہے یعنی ازخود مرگیا ہے وہ تو حرام قرار دے دیاجائے اور جس کو تم خود مارتے ہو یعنی ذبح کرتے ہو اس کو حلال مانا جائے ؟ اسی طرح وہ سود کے بارے میں بھی دلیل دیتے تھے کہ اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا 7 البقرۃ : 275 کہ یہ بیع بھی تو ربا سود ہی کی طرح ہے۔ جیسے تجارت میں نفع ہوتا ہے ایسے ہی سودی لین دین میں بھی نفع ہوتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ دس لاکھ کسی کو قرض دیے ‘ اس سے چار ہزار روپے ماہانہ منافع لے لیا تو وہ ناجائز اور دس لاکھ کا مکان کسی کو کرائے پردے کر چار ہزار روپے ماہانہ اس سے کرایہ لیا جائے تو وہ جائز ! اس طرح کے اشکالات بظاہر بڑے دلنشین ہوتے ہیں ‘ جن کے بارے میں یہاں بتایا جا رہا ہے کہ اس طرح کی باتیں ان کے شیاطین انہیں سکھاتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے مجادلہ کریں ‘ تاکہ تمہیں بھی اپنے ساتھ گمراہی کے راستے پر لے چلیں۔ لہٰذا تم ان کی اس طرح کی باتوں کو نظر انداز کرتے رہا کرو۔
أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 آیت 122 اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ اس سے معنوی حیات و ممات مراد ہے ‘ یعنی ایک شخص جو اللہ سے واقف نہیں تھا ‘ صرف دنیا کا بندہ بنا ہوا تھا ‘ اس کی انسانیت در حقیقت مردہ تھی ‘ وہ حیوان کی حیثیت سے تو زندہ تھا لیکن بحیثیت انسان وہ مردہ تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی ہدایت دی تو اب گویا وہ زندہ ہوگیا۔وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا ط کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ مثال کے طور پر ایک وہ شخص تھا جسے پہلے ہوش نہیں تھا ‘ کبھی اس نے نظریاتی معاملات کی پیچیدگیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کی تھی ‘ لیکن پھر اس کو اللہ نے ہدایت دے دی ‘ نور قرآن سے اس کے سینے کو منور کردیا ‘ اب وہ اس نور میں آگے بڑھا اور بڑھتا چلا گیا۔ جیسے حضرت عمر رض کو حق کی طرف متوجہ ہونے میں چھ سال لگ گئے۔ حضرت حمزہ رض بھی چھ سال بعد ایمان لائے۔ لیکن اب انہوں نے قرآن کو مشعل راہ بنایا اور اللہ کے راستے میں سرفروشی کی مثالیں پیش کیں۔ دوسری طرف وہ لوگ بھی تھے جو ساری عمر انہی اندھیروں میں ہی بھٹکتے رہے اور اسی حالت میں انہیں موت آئی۔ تو کیا یہ دونوں طرح کے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
📘 آیت 123 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْہَا لِیَمْکُرُوْا فِیْہَا ط یہ وہی فلسفہ ہے جو قبل ازیں آیت 112 میں بیان ہوا ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا کہ شیاطین انس و جن کو ہم خودہی انبیاء کی دشمنی کے لیے مقرر کرتے ہیں۔ یہاں پر اس سے ملتی جلتی بات کہی گئی کہ ہم ہر بستی کے اندر وہاں کے سرداروں اور بڑے بڑے چودھریوں کو ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ حق کے مقابلے میں کھڑے ہوں ‘ لوگوں کو سیدھے راستے سے روکیں ‘ اپنی چالبازیوں اور مکاریوں سے حق پرستوں کو آزمائش میں ڈالیں تاکہ اس عمل سے صاحب صلاحیت لوگوں کی صلاحیتیں مزید اجاگر ہوں ‘ ان کے جوہر کھلیں اور ان کی غیرت ایمانی کو جلا ملے۔ وَمَا یَمْکُرُوْنَ الاَّ بِاَنْفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ انہیں یہ شعور ہی نہیں کہ ان کی چالبازیوں کا سارا وبال تو بآلاخر خود انہی پر پڑے گا۔ جیسے حضرت یاسر اور حضرت سمیہ رض کے ساتھ ابو جہل نے جو کچھ کیا تھا اس کا وبال جب اس کے سامنے آئے گا تب اس کی آنکھ کھلے گی اور اس وقت تو یہ عالم ہوگا کہ ع جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا !
وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ
📘 آیت 124 وَاِذَا جَآءَ تْہُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ط۔آیات قرآنیہ مختلف انداز سے ان کے سامنے حقائق و رموز پیش کرتی ہیں مگر ان دلائل اور براہین کا تجزیہ کرنے اور انہیں مان لینے کے بجائے یہ لوگ پھر وہی بات دہراتے ہیں کہ جیسے پہلے انبیاء کی قوموں کو معجزے دکھائے گئے تھے ہمیں بھی ویسے ہی معجزات دکھائے جائیں تو تب ہم ایمان لائیں گے۔ اس سلسلے میں حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق جیسے مناسب سمجھا ہر قوم اور امت کے ساتھ معاملہ فرمایا۔ پرانی امتوں کو حسّی معجزے دکھائے گئے تھے ‘ اس لیے کہ وہ نوع انسانیت کا دور طفولیّت تھا۔ جب تک انسانیت کا مجموعی فہم و شعور حد بلوغت کو نہیں پہنچا تھا تب تک حسّی معجزات کا ظہور ہی مناسب تھا۔ جیسے بچے کو بہلانے کے لیے کھلونے دیے جاتے ہیں ‘ لیکن شعور کی عمر کو پہنچ کر اس کے لیے عقل اور حکمت کی تعلیم ضروری ہوتی ہے۔ لہٰذا اب جبکہ بنی نوع انسان بحیثیت مجموعی سنجیدگی اور شعور کی عمر کو پہنچ چکی ہے ‘ اس کو حسّی اور وقتی معجزوں کے بجائے ایک ایسا معجزہ دیا جا رہا ہے جو دائمی بھی ہے اور علم و حکمت کا منبع و شاہکار بھی۔
فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
📘 آیت 125 فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ج۔یہ ایک غور طلب معنوی حقیقت ہے۔ شرح صدر اللہ کی وہ نعمت اور خاص عنایت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الانشراح کی پہلی آیت میں حضور ﷺ کے لیے ایک بہت بڑے احسان کے طور پر کیا ہے : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اس شرح صدر کے لیے دعا کرنی چاہیے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسلَامِ اے اللہ ‘ اے ہمارے ربّ ! تو ہمارے دلوں کو نور ایمان سے منور فرما دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ایسی باطنی بصیرت مانگنی چاہیے جس کی وجہ سے اسلام کی ہرچیز ہمیں ٹھیک نظر آئے۔ اور جب ایک بندۂ مومن میں ایسی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے تو ہر قدم اور ہر موڑ پر اس کو اپنے اندر سے ایک آواز سنائی دیتی ہے جو اس کے ہر عمل پر اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ انسان کی ایسی اندرونی کیفیت ہے جس میں اس کی فطرت سلیمہ اور نیکی کے جذبے کی آپس میں خوشگوار مطابقت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر اسے دین کے کسی حکم سے کسی قسم کی کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ بقول غالبؔ : دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جا ناکہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے !وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ط۔جیسے اونچائی پر چڑھتے ہوئے انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا دل شاید دھڑک دھڑک کر باہر ہی نکل آئے گا ‘ ایسے ہی اگر اللہ کی طرف سے انسان کو ہدایت کی توفیق عطا نہ ہوئی ہو تو اس کے لیے راہ حق پر چلنا دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔ ذرا سی کہیں آزمائش آجائے تو گویا اس کے لیے قیامت ٹوٹ پڑتی ہے اور ایک ایک قدم اٹھانا اس کے لیے دوبھر ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص جس کو اللہ نے شرح صدر کی نعمت سے نوازا ہے اس کے لیے نہ صرف حق کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے بلکہ اس راہ کی ہر تکلیف اور ہر مشکل کو وہ شوق اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔
وَهَٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
📘 آیت 125 فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلاَمِ ج۔یہ ایک غور طلب معنوی حقیقت ہے۔ شرح صدر اللہ کی وہ نعمت اور خاص عنایت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الانشراح کی پہلی آیت میں حضور ﷺ کے لیے ایک بہت بڑے احسان کے طور پر کیا ہے : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اس شرح صدر کے لیے دعا کرنی چاہیے : اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا نَوِّرْ قُلُوْبَنَا بالْاِیْمَانِ وَاشْرَحْ صُدُوْرَنَا لِلْاِسلَامِ اے اللہ ‘ اے ہمارے ربّ ! تو ہمارے دلوں کو نور ایمان سے منور فرما دے اور ہمارے سینوں کو اسلام کے لیے کھول دے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ایسی باطنی بصیرت مانگنی چاہیے جس کی وجہ سے اسلام کی ہرچیز ہمیں ٹھیک نظر آئے۔ اور جب ایک بندۂ مومن میں ایسی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے تو ہر قدم اور ہر موڑ پر اس کو اپنے اندر سے ایک آواز سنائی دیتی ہے جو اس کے ہر عمل پر اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ انسان کی ایسی اندرونی کیفیت ہے جس میں اس کی فطرت سلیمہ اور نیکی کے جذبے کی آپس میں خوشگوار مطابقت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر اسے دین کے کسی حکم سے کسی قسم کی کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ بقول غالبؔ : دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جا ناکہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے !وَمَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ط۔جیسے اونچائی پر چڑھتے ہوئے انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا دل شاید دھڑک دھڑک کر باہر ہی نکل آئے گا ‘ ایسے ہی اگر اللہ کی طرف سے انسان کو ہدایت کی توفیق عطا نہ ہوئی ہو تو اس کے لیے راہ حق پر چلنا دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔ ذرا سی کہیں آزمائش آجائے تو گویا اس کے لیے قیامت ٹوٹ پڑتی ہے اور ایک ایک قدم اٹھانا اس کے لیے دوبھر ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص جس کو اللہ نے شرح صدر کی نعمت سے نوازا ہے اس کے لیے نہ صرف حق کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے بلکہ اس راہ کی ہر تکلیف اور ہر مشکل کو وہ شوق اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔
۞ لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 آیت 127 لَہُمْ دَار السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَہُوَ وَلِیُّہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔دار السلام جنت کا دوسرا نام ہے۔ انہوں نے اپنی محنتوں ‘ قربانیوں ‘ مشقتوں اور اپنے ایثار کے سبب اللہ کی دوستی کمائی ہے اور ہمیشہ کے لیے دار السلام کے مستحق ٹھہرے ہیں۔
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِنَ الْإِنْسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُمْ مِنَ الْإِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
📘 آیت 128 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج وہ جو تمہارے بڑے جن عزازیل نے کہا تھا : وَلاَ تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ الاعراف اور تو ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا نہیں پائے گا۔ تو واقعی بہت سے انسانوں کو تم نے ہتھیا لیا ہے۔ یہ گویا ایک طرح کی شاباش ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو دی جائے گی۔وَقَالَ اَوْلِیٰٓءُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ اس پر جنوں کے ساتھی انسانوں کی غیرت ذرا جاگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہہ دیا ہے کہ جنات نے ہمیں ہتھیا لیا ہے ‘ شکار کرلیا ہے۔ اس پر وہ بول اٹھیں گے : رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ ہم ان سے اپنے کام نکلواتے رہے اور یہ ہم سے مفادات حاصل کرتے رہے۔ ہم نے جنات کو اپنا مؤکل بنایا ‘ ان کے ذریعے سے غیب کی خبریں حاصل کیں اور کہانت کی دکانیں چمکائیں۔
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
📘 آیت 128 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًاج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج وہ جو تمہارے بڑے جن عزازیل نے کہا تھا : وَلاَ تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ الاعراف اور تو ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا نہیں پائے گا۔ تو واقعی بہت سے انسانوں کو تم نے ہتھیا لیا ہے۔ یہ گویا ایک طرح کی شاباش ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو دی جائے گی۔وَقَالَ اَوْلِیٰٓءُہُمْ مِّنَ الْاِنْسِ اس پر جنوں کے ساتھی انسانوں کی غیرت ذرا جاگے گی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہہ دیا ہے کہ جنات نے ہمیں ہتھیا لیا ہے ‘ شکار کرلیا ہے۔ اس پر وہ بول اٹھیں گے : رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ ہم ان سے اپنے کام نکلواتے رہے اور یہ ہم سے مفادات حاصل کرتے رہے۔ ہم نے جنات کو اپنا مؤکل بنایا ‘ ان کے ذریعے سے غیب کی خبریں حاصل کیں اور کہانت کی دکانیں چمکائیں۔
۞ وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
📘 آیت 13 وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّہَارِط وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ یہاں سَکَنَ کے مقابل لفظ تَحَرَّکَ محذوف ہے۔ ایسے مقابل کے الفاظ کو عام طور پر قرآن مجید میں حذف کردیا جاتا ہے تاکہ آدمی خودس مجھے۔ جیسے یہاں رات کے ساتھ سکون کا لفظ آیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دن کا ذکر کردیا گیا ہے ‘ جبکہ دِن کا وقت سکون کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا بات اس طرح واضح ہوجاتی ہے : وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَمَا تَحَرَّ کَ فِی النَّھَار اور اسی کا ہے جو کچھ رات کے وقت سکون پکڑتا ہے اور دن کے وقت متحرک ہوجاتا ہے۔
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنْذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا ۚ قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنْفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
📘 آیت 130 یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ اب چونکہ یہ بات جن و انس دونوں کو جمع کر کے کہی جا رہی ہے تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو انسانوں میں سے رسول ہیں وہی جنات کے لیے بھی رسول ہیں۔وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَاط قالُوْا شَہِدْنَا عَآٰی اَنْفُسِنَا یہاں پر علٰی کے معنی مخالف گواہی کے ہیں۔ یعنی ہم اپنی جانوں کے خلاف خود گواہ ہیں۔وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوْا عَآٰی اَنْفُسِہِمْ اَنَّہُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ۔ ۔قرآن مجید میں میدان حشر کے جو مکالمات آئے ہیں وہ مختلف آیات میں مختلف قسم کے ہیں۔ مثلاً یہاں تو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بیشک ہم کفر کرتے رہے ہیں۔ مگر اسی سورة میں پیچھے ہم نے پڑھا ہے : ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُہُمْ الاّآ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ اس وقت ان کی کوئی چال نہیں چل سکے گی سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم تو مشرک نہیں تھے۔ چناچہ معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں بہت سے مراحل ہوں گے اور بیشمار گروہ مواخذے کے لیے پیش ہوں گے۔ یہ مختلف مراحل میں ‘ مختلف مواقع پر ‘ مختلف جماعتوں اور گروہوں کے ساتھ ہونے والے مختلف مکالمات نقل ہوئے ہیں۔
ذَٰلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَىٰ بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ
📘 آیت 131 ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّاَہْلُہَا غٰفِلُوْنَ اس سے مراد یہ ہے کہ مختلف قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور انہوں نے اپنی قوموں میں رہ کر انذار ‘ تذکیر اور تبشیر کا فرض ادا کردیا۔ پھر بھی اگر اس قوم نے قبول حق سے انکار کیا تو تب ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ ایسا نہیں ہو تاکہ اچانک کسی بستی یا قوم پر عذاب ٹوٹ پڑا ہو ‘ بلکہ اللہ نے سورة بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ ‘ کلیہ اس طرح بیان فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً یعنی وہ عذا بِ استیصال جس سے کسی قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے اور اسے تباہ کر کے نسیاً منسیا کردیا جاتا ہے ‘ وہ کسی رسول کی بعثت کے بغیر نہیں بھیجا جاتا ‘ بلکہ رسول آکر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا بالکل مبرہن کردیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی جو لوگ کفر پر اڑے رہتے ہیں ان کو پھر تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔
وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
📘 آیت 132 وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ط۔ظاہر بات ہے کہ سب نیکو کار بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی سب بد کار ایک جیسے ہوسکتے ہیں ‘ بلکہ اعمال کے لحاظ سے مختلف افراد کے مختلف مقامات اور مراتب ہوتے ہیں۔
وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ ۚ إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِكُمْ مَا يَشَاءُ كَمَا أَنْشَأَكُمْ مِنْ ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ
📘 آیت 133 وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذو الرَّحْمَۃِ ط۔ اسے کسی کو عذاب دے کر کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور کسی کی بندگی اور اطاعت سے اس کا کوئی رکا ہوا کام چل نہیں پڑتا۔ وہ ان سب چیزوں سے بےنیاز ہے۔ اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْم بَعْدِکُمْ مَّا یَشَآءُ وہ اس پر قادر ہے کہ ایک نئی مخلوق کو تمہارا جانشین بنا دے ‘ کوئی نئی species لے آئے۔ اللہ کا اختیار مطلق ہے ‘ وہ چاہے تو ایک نئی نسل آدم پیدا کر دے۔ کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ ۔جیسے قوم عاد عرب کی بڑی زبردست اور طاقتور قوم تھی ‘ لیکن جب اس کو تباہ برباد کردیا گیا تو ان ہی میں سے کچھ اہل ایمان لوگ جو حضرت ہود علیہ السلام کے ساتھی تھے وہاں سے ہجرت کر کے چلے گئے اور ان کے ذریعے سے بعد میں قوم ثمودوجود میں آئی۔ پھر قوم ثمود کو بھی ہلاک کردیا گیا اور ان میں سے بچ رہنے والے اہل ایمان سے آگے نسل چلی اور مختلف علاقوں میں مختلف قومیں آباد ہوئیں۔ چناچہ جیسے تمہیں ہم نے اٹھایا ہے کسی دوسری قوم کی نسل سے ‘ اسی طریقے سے ہم تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئیں گے۔
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ ۖ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ
📘 آیت 134 اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍلا وَّمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ تم اپنی سازشوں سے اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ‘ اس کے قابو سے باہر نہیں جاسکتے۔ اللہ کے تمام وعدے پورے ہو کر رہیں گے۔
قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
📘 آیت 135 قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ ج۔یہ گویا چیلنج کرنے کا سا انداز ہے کہ مجھے تم لوگوں کو دعوت دیتے ہوئے بارہ برس ہوگئے ہیں۔ تم نے اس دعوت کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے ‘ ہر ہر طرح سے مجھے ستایا ہے ‘ تین سال تک شعب بنی ہاشم میں محصور رکھا ہے ‘ میرے ساتھیوں پر تم لوگوں نے تشدد کا ہر ممکن حربہ آزمایا ہے۔ غرض تم میرے خلاف جو کچھ کرسکتے تھے کرتے رہے ہو ‘ ابھی مزید بھی جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو ‘ جو میرا فرض منصبی ہے وہ میں ادا کر رہا ہوں۔فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لا مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدّارِط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔عاقبت کی دائمی کامیابی کس کے لیے ہے ؟ کس کے لیے وہاں جنت ہے ‘ روح و ریحان ہے اور کس کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ؟ یہ عنقریب تم لوگوں کو معلوم ہوجائے گا۔
وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
📘 آیت 136 وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا ایک بڑے خدا کو مان کر چھوٹے خداؤں کو اس کی الوہیت میں شریک کردینا ہی در اصل شرک ہے۔ اس میں بڑے خدا کا انکار نہیں ہوتا۔ جیسے ہندوؤں میں مہا دیو تو ایک ہی ہے جب کہ چھوٹی سطح پر دیوی دیوتا بیشمار ہیں۔ اسی طرح انگریزی میں بھی بڑے G سے لکھے جانے والا God ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ وہ Omnipotent ہے ‘ Omniscient ہے ‘ Omnipresent ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے ‘ وہ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ہے ‘ وہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اس کی صفات ہیں ‘ یہ اس کے Attributes ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے تو G بڑا capital ہی آئے گا ‘ لیکن چھوٹے g سے لکھے جانے والے gods اور goddesses بیشمار ہیں۔ اسی طرح اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ اللہ تو ایک ہی ہے ‘ کائنات کا خالق بھی وہی ہے ‘ لیکن یہ جو دیویاں اور دیوتا ہیں ‘ ان کا بھی اس کی خدائی میں کچھ دخل اور اختیار ہے ‘ یہ اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات میں سے کچھ حصہ ان کو بھی سونپ رکھا ہے ‘ لہٰذا اگر ان کی کوئی ڈنڈوت کی جائے ‘ نذرانے دیے جائیں ‘ انہیں خوش کیا جائے ‘ تو اس سے دنیا کے کام چلتے رہتے ہیں۔ اہل عرب کے معروف ذرائع معاش دو ہی تھے۔ وہ بکریاں پالتے تھے یا کھیتی باڑی کرتے تھے۔ اپنے عقیدے کے مطابق ان کا طریقہ یہ تھا کہ مویشیوں اور فصل میں سے وہ اللہ کے نام کا ایک حصہ نکال کر صدقہ کرتے تھے جب کہ ایک حصہ الگ نکال کر بتوں کے نام پر دیتے تھے۔ یہاں تک تو وہ اپنے تئیں انصاف سے کام لیتے تھے کہ کھیتیوں کی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے اللہ کے لیے بھی حصہ نکال لیا اور اپنے چھوٹے خداؤں کے لیے بھی۔ اب اس کے بعد کیا تماشا ہوتا تھا وہ آگے دیکھئے :فَقَالُوْا ہٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَہٰذَا لِشُرَکَآءِنَاج فَمَا کَانَ لِشُرَکَآءِہِمْ فَلاَ یَصِلُ اِلَی اللّٰہِج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآءِہِمْ ط اب اگر کہیں کسی وقت کوئی دقت آگئی ‘ کوئی ضرورت پڑگئی تو اللہ کے حصے میں سے کچھ نکال کر کام چلا لیتے تھے مگر اپنے بتوں کے حصے کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ گویا بت تو ہر وقت ان کے سروں پر کھڑے ہوتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ بت ناراض ہوگئے تو فوراً ان کی شامت آجائے گی ‘ لیکن اللہ تو معاذ اللہ ذرا دور تھا ‘ اس لیے اس کے حصے کو اپنے استعمال میں لایا جاسکتا تھا۔ ان کی اس سوچ کو اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں دیہات میں ایک عام دیہاتی پٹواری کو ڈی سی کے مقابلے میں زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ اس لیے کہ پٹواری سے اسے براہ راست سابقہ پڑتا ہے ‘ جب کہ ڈی سی کی حیثیت کا اسے کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ بہر حال یہ تھی وہ صورت حال جس میں ان کے شریکوں کے لیے مختص کیا گیا حصہ اللہ کو نہیں پہنچ سکتا تھا ‘ جب کہ اللہ کا حصہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا تھا۔
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
📘 آیت 137 وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ اَوْلاَدِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ اس میں اشارہ ہے مشرکین کے ان اعتقادات کی طرف جن کے تحت وہ اپنے بچوں کو جنوں یا مختلف بتوں کے نام پر قربان کردیتے تھے۔ آج بھی ہندوستان میں اس طرح کے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ کسی نے اپنے بچے کو دیوی کی بھینٹ چڑھا دیا۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔دین کو مشتبہ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسے عقائد اور ایسی چیزیں بھی دین میں شامل کردی جائیں جن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ قتل اولاد بھی اس کی مثال ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ وہ دین اور مذہب کے نام پر ہی کرتے تھے۔ فرمایا کہ انہیں چھوڑ دیں کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں۔
وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِمْ بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
📘 آیت 138 وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌق لاَّ یَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِہِمْ یعنی یہ ساری خود ساختہ پابندیاں وہ بزعم خویش درست سمجھتے تھے۔وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا افْتِرَآءً عَلَیْہِ ط۔یعنی اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض جانوروں کو سواری اور بار برداری کے لیے ممنوع قرار دیتے تھے اور کچھ حیوانات کے بارے میں طے کرلیتے تھے کہ ان کو جب ذبح کرنا ہے تو اللہ کا نام ہرگز نہیں لینا۔ لہٰذا اس سے پہلے آیت 121 میں جو حکم آیا تھا کہ مت کھاؤ اس چیز کو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے وہ دراصل ان کے اس عقیدے اور رسم کے بارے میں تھا ‘ وہ عام حکم نہیں تھا۔ سَیَجْزِیْہِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔یہ جھوٹی چیزیں جو انہوں نے اللہ کے بارے میں گھڑ لی ہیں ‘ اللہ ضرور انہیں اس جھوٹ کی سزا دے گا۔
وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِنْ يَكُنْ مَيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
📘 آیت 139 وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ہٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج۔یعنی کسی حاملہ مادہ جانور اونٹنی یا بکری وغیرہ کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا گوشت صرف مردوں کے لیے ہوگا ‘ عورتوں کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَآءُط سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ ۔ان ساری رسموں اور خود ساختہ عقائد کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ ہماری شریعت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چلی آرہی ہے اور ہمارے آباء واجداد بھی اسی پر عمل کرتے تھے۔
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
📘 آیت 14 قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ تم بھی مانتے ہو کہ زمین و آسمان اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا وہی اللہ ہے ‘ تو ایسے خالق ‘ مالک ‘ مولا اور کار سازکو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا ولی اور حمایتی بنا لوں ؟ یہ تو بڑی حماقت کی بات ہے ‘ بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ ط تم بتوں کے سامنے نذریں اور حلوے مانڈے پیش کرتے ہو۔ اللہ کو تو ایسی چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو پوری مخلوق کا رب ہے ‘ سب کو کھلاتا ہے ‘ سب کا رازق ہے۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
📘 آیت 140 قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلاَدَہُمْ سَفَہًام بِغَیْرِعِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افْتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ ط۔یعنی ان ساری غلط رسومات کا انتساب وہ لوگ اللہ کے نام کرتے تھے۔ دوسری طرف وہ بتوں کے نام پر قربانیاں دیتے اور استھانوں پر نذرانے بھی چڑھاتے تھے۔ اسی طرح کے نذرانے وہ اللہ کے نام پر بھی دیتے تھے۔ یہ سارے معاملات ان کے ہاں اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لیے مشترکہ طور پر چل رہے تھے۔ اس طرح انہوں نے سارا دین مشتبہ اور گڈ مڈ کردیا تھا۔
۞ وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَ جَنَّاتٍ مَعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۚ كُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
📘 آیت 141 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ ’ ’ معروشات کے زمرے میں بیل نما پودے آتے ہیں ‘ جن کا اپنا تنا نہیں ہوتا جس پر خود وہ کھڑے ہوسکیں۔ اس لیے ایسے پودوں کو سہارا دے کر کھڑا کرنا پڑتا ہے ‘ جیسے انگور کی بیل وغیرہ۔ دوسری طرف غیرمعروشات میں عام درخت شامل ہیں جو خود اپنے مضبوط تنے پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ جیسے انار یا آم کا درخت ہے۔ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُکُلُہٗ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّغَیْرَمُتَشَابِہٍ ط۔یہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کی مثالیں ہیں کہ اس نے مختلف النوع درخت ‘ کھیتیاں اور پھل پیدا کیے ‘ جو آپس میں ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی۔ جیسے Citrus Family کے پھلوں میں کینو ‘ فروٹر اور مالٹا وغیرہ شامل ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سب ایک ہی قسم یا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور شکل ‘ ذائقہ وغیرہ میں ایک دوسرے کے مشابہ ہونے کے باوجود سب کی اپنی اپنی الگ پہچان ہے۔ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَا اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ یعنی جیسے زمین کی پیداوار میں سے عشرکا ادا کرنا فرض ہے ‘ ایسے ہی ان پھلوں پر بھی زکوٰۃ دینے کا حکم ہے۔ لہٰذا کھیتی اور پھلوں کی پیدوار میں سے اللہ تعالیٰ کا حق نکال دیا کرو۔
وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
📘 آیت 142 وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًا ط حَمُوْلَۃ وہ جانور ہیں جو قد کاٹھ اور ڈیل ڈول میں بڑے بڑے ہیں اور جن سے باربرداری کا کام لیا جاسکتا ہے ‘ مثلاً گھوڑا ‘ خچر ‘ اونٹ وغیرہ۔ ان کے برعکس کچھ ایسے جانور ہیں جو اس طرح کی خدمت کے اہل نہیں ہیں اور چھوٹی جسامت کی وجہ سے استعارۃً انہیں فرش زمین سے منسوب کیا گیا ہے ‘ گویا زمین سے لگے ہوئے ہیں ‘ مثلاً بھیڑ ‘ بکری وغیرہ۔ یہ ہر طرح کے جانور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے ہیں۔
ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۖ مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
📘 آیت 143 ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ج یہ اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے حاملہ ماداؤں کے بارے میں کہی تھی کہ ان کے پیٹوں میں جو بچے ہیں ان کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں ‘ جب کہ عورتوں پر یہ حرام ہے۔ ہاں اگر مرا ہوا بچہ پیدا ہو تو اس کا گوشت مردوں کے ساتھ عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ط قُلْ ءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ط غور طلب نکتہ ہے کہ اس میں حرمت آخر کہاں سے آئی ہے۔ اللہ نے ان میں سے کس کو حرام کیا ہے ؟ نر کو ‘ مادہ کو ‘ یا بچے کو ؟ پھر یہ کہ اگر کوئی شے حرام ہے تو سب کے لیے ہے اور اگر حرام نہیں ہے تو کسی کے لیے بھی نہیں ہے۔ یہ تم نے جو نئے نئے قوانین بنا لیے ہیں وہ کہاں سے لے آئے ہو ؟
وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنْثَيَيْنِ ۖ أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ وَصَّاكُمُ اللَّهُ بِهَٰذَا ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
📘 آیت 143 ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ ج یہ اس بات کا جواب ہے جو انہوں نے حاملہ ماداؤں کے بارے میں کہی تھی کہ ان کے پیٹوں میں جو بچے ہیں ان کا گوشت صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں ‘ جب کہ عورتوں پر یہ حرام ہے۔ ہاں اگر مرا ہوا بچہ پیدا ہو تو اس کا گوشت مردوں کے ساتھ عورتیں بھی کھا سکتی ہیں۔ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ ط قُلْ ءٰٓ الذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْہِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ ط غور طلب نکتہ ہے کہ اس میں حرمت آخر کہاں سے آئی ہے۔ اللہ نے ان میں سے کس کو حرام کیا ہے ؟ نر کو ‘ مادہ کو ‘ یا بچے کو ؟ پھر یہ کہ اگر کوئی شے حرام ہے تو سب کے لیے ہے اور اگر حرام نہیں ہے تو کسی کے لیے بھی نہیں ہے۔ یہ تم نے جو نئے نئے قوانین بنا لیے ہیں وہ کہاں سے لے آئے ہو ؟
قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 آیت 145 قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ یہاں پھر وہ قانون دہرایا جا رہا ہے کہ شریعت میں کن چیزوں کو حرام کیا گیا ہے۔ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اس مردار کی قسمیں الْمُنْخَنِقَۃ ‘ الْمَوْقُوْذَۃ ‘ الْمُتَرَدِّیَۃ اور تفصیل سورة المائدۃ کی آیت 3 میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ یعنی جانور کسی بھی طرح سے مرگیا ہو وہ مردار کے زمرے میں شمار ہوگا۔ لیکن اگر مرنے سے پہلے اسے ذبح کرلیا جائے اور ذبح کرنے سے اس کے جسم سے خون نکل جائے تو اس کا کھانا جائز ہوگا۔ اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا یعنی ایک خون تو وہ ہے جو مذبوح جانور کے جسم کے سکیڑ اور کھچاؤ rigormortis کی انتہائی کیفیت کے باوجود بھی کسی نہ کسی مقدار میں گوشت میں رہ جاتا ہے۔ اسی طرح تلی کے خون کا معاملہ ہے۔ لہٰذا یہ چیزیں حرام نہیں ہیں ‘ لیکن جو خون بہایا جاسکتا ہو اور جو ذبح کرنے کے بعد جانور کے جسم سے نکل کر بہہ گیا ہو وہ خون حرام ہے۔ اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ ج۔یعنی سور کے گوشت کی وجۂ حرمت تو یہ ہے کہ وہ اصلاً ناپاک ہے۔ اس کے علاوہ کچھ چیزوں کی حرمت حکمی ہے ‘ جو فسق اللہ کی نافرمانی کے سبب لازم آتی ہے۔ چناچہ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ ج اسی وجہ سے حرام قرار پایا ‘ یعنی جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ اس حکم میں وہ قربانی بھی شامل ہے جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے تقرب کی نیت پر دی گئی ہو۔ مثلاً ایسا جانور جو کسی قبر یا کسی خاص استھان پر جا کر ذبح کیا جائے ‘ اگرچہ اسے ذبح کرتے وقت اللہ ہی کا نام لیا جاتا ہے مگر دل کے اندر کسی غیر اللہ کے تقرب کی خواہش کا چور موجود ہوتا ہے۔فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَاِنَّ رَبَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔کسی غیر معمولی صورت حال میں ان حرام چیزوں میں سے کچھ کھا کر اگر جان بچائی جاسکے تو مشروط طور پر اس کی اجازت دی گئی ہے۔
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۚ ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
📘 آیت 146 وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ ج۔کچھ جانوروں کے پاؤں پھٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘ جیسے گائے ‘ بکری وغیرہ ‘ جب کہ کچھ جانوروں کا ایک ہی پاؤں کھر ہوتا ہے۔ ایسے ایک کھر والے جانور مثلاً گھوڑا ‘ گدھا وغیرہ یہودیوں پر حرام کردیے گئے تھے۔ جیسا کہ ہم پڑھ آئے ہیں ‘ یہودیوں پر جو چیزیں حرام کی گئیں تھیں ‘ ان میں سے بعض تو اصلاً حرام تھیں مگر کچھ چیزیں ان کی شرارتوں اور نا فرمانیوں کی وجہ سے بطور سزا ان کے لیے حرام کردی گئی تھیں۔ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُوْمَہُمَآ اِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُوْرُہُمَآ اَوِ الْحَوَایَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ط۔ ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِبَغْیِہِ مْز یعنی اس قسم کے جانوروں کی عام کھلی چربی ان کے لیے حرام تھی۔ لیکن یہ حکم آسمانی شریعت کا مستقل حصہ نہیں تھا ‘ بلکہ ان کی شرارتوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے یہ تنگی ان پر بطور سزا کی گئی تھی۔
فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقُلْ رَبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ
📘 آیت 147 فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ رَّبُّکُمْ ذُوْ رَحْمَۃٍ وَّاسِعَۃٍ ج۔یعنی اس جرم کی پاداش میں وہ تمہیں فوراً نہیں پکڑ رہا اور نہ فوراً معجزہ دکھا کر تمہاری مدت یا مہلت عمل ختم کرنے جا رہا ہے ‘ بلکہ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ ابھی تمہیں مزید مہلت دی جائے۔وَلاَ یُرَدُّ بَاْسُہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔جب اس کی طرف سے گرفت ہوگی تو اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ البروج کے مصداق یقیناً بڑی سخت ہوگی اور پھر کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اس گرفت کی سختی کو ٹال سکے۔
سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا ۖ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنْتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ
📘 آیت 148 سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا لَوْ شَآء اللّٰہُ مَآ اَشْرَکْنَا وَلآَ اٰبَآؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ ط۔یعنی مشرکین مکہ اس طرح کے دلائل دیتے تھے کہ جن چیزوں کے بارے میں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ وہ حرام نہیں ہیں اور ہم نے خواہ مخواہ ان کو حرام ٹھہرا دیا ہے ‘ ایسا کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں تھا۔ آخر اللہ تو عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرہے ‘ اس کا تو ہمارے ارادے اور عمل پر کلی اختیار تھا۔ لہٰذا یہ سب کام اگر غلط تھے تو وہ ہمیں یہ کام نہ کرنے دیتا اور غلط رستہ اختیار کرنے سے ہمیں روک دیتا۔ اس طرح کی کٹ حجتیاں کرنا انسان کی فطرت ہے۔
قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ
📘 آیت 149 قُلْ فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ ج۔تمہاری اس کٹ حجتی کے مقابلے میں حقیقت تک پہنچی ہوئی حجت صرف اللہ کی ہے۔ اس نے ہر طرح سے تم پر اتمام حجت کردیا ہے ‘ تمہاری ہر نامعقول بات کو معقول طریقے سے رد کردیا ہے ‘ مختلف انداز سے تمہیں ہر بات سمجھا دی ہے۔ امام الہند شاہ ولی اللہ دہلوی رح نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب حجۃ اللہ البالغہ کا نام اسی آیت سے اخذ کیا ہے۔
قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
📘 آیت 15 قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۔ میں بھی اللہ کی عبادت سے مستثنیٰ نہیں ہوں ‘ میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔ جیسے میں آپ لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی بندگی کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی حکم ہے ‘ مجھے بھی اللہ کی بندگی کرنی ہے۔ جیسے میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی فرمانبرداری کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی اس کی فرمانبرداری کرنی ہے۔ اور جیسے میں تمہیں بتارہا ہوں کہ اگر اللہ کی نافرمانی گرو گے تو پکڑے جاؤ گے ‘ ایسے ہی میں بھی اگر بالفرض نافرمانی کروں گا تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ یہ بہت اہم آیات ہیں ‘ ان پر بہت غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءَكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
📘 اگر اللہ کے پیش نظر سب کو نیک بنانا ہی مقصود ہوتا تو آن واحد میں تم سب کو ابوبکر صدیق رض جیسا نیک بنا دیتا ‘ لیکن اس نے دنیا کا یہ معاملہ عمل اور اختیار کے تحت رکھا ہے ‘ اور اس کا مقصد سورة الملک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط آیت 2 اس نے موت وحیات کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ تمہیں آزمائے اور جانچے کہ تم میں سے کون ہے جو نیک عمل اختیار کرتا ہے۔آیت 150 قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہٰذَا ج۔کیا تمہارے پاس کوئی کتاب یا علمی سند موجود ہے جسے تم اپنے موقف کے حق میں بطور گواہی پیش کرسکو ؟ اگر اس طرح کی کوئی ٹھوس شہادت ہے تو اسے ہمارے سامنے پیش کرو۔فَاِنْ شَہِدُوْا فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ ج وَلاَ تَتَّبِعْ اَہْوَآءَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ وَہُمْ بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت بھی ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ کے الفاظ پر ختم ہوئی تھی اور اب یہ آیت بھی وَھُمْ بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُوْنَ کے الفاظ پر ختم ہورہی ہے۔ یعنی آخرت کے یہ منکراتنا کچھ سننے کے باوجود بھی کس قدر دیدہ دلیری کے ساتھ شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہیں اللہ کے حضور حاضری کا کچھ بھی خوف محسوس نہیں ہو رہا اور جس کو چاہتے ہیں اللہ کے برابر کردیتے ہیں۔
۞ قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
📘 آیت 151 قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ تم لوگ جب چاہتے ہو کسی بکری کو حرام قرار دے دیتے ہو ‘ کبھی خود ہی کسی اونٹ کو محترم ٹھہرا لیتے ہو ‘ اور اس پر مستزاد یہ کہ پھر اپنی ان خرافات کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہو۔ آؤ میں تمہیں واضح طور پر بتاؤں کہ اللہ نے اصل میں کن چیزوں کو محترم ٹھہرایا ہے ‘ ممنوع اور حرام چیزوں کے بارے میں اللہ کے کیا احکام ہیں اور اس سلسلے میں اس نے کیا کیا حدود وقیود مقرر کی ہیں۔ یہ مضمون تفصیل کے ساتھ سورة بنی اسرائیل میں آیا ہے۔ وہاں ان احکام کی تفصیل میں پورے دو رکوع تیسرا اور چوتھا نازل ہوئے ہیں۔ ایک طرح سے انہی احکام کا خلاصہ یہاں ان آیات میں بیان ہوا ہے۔ شریعت کے بنیادی احکام دراصل ضرورت اور حکمت الٰہی کے مطابق قرآن حکیم میں مختلف جگہوں پر مختلف انداز میں وارد ہوئے ہیں۔ سورة البقرۃ دسویں رکوع میں جہاں بنی اسرائیل سے میثاق لینے کا ذکر آیا ہے وہاں دین کے اساسی نکات بھی بیان ہوئے ہیں۔ پھر اس کے بعد شرعی احکام کی کچھ تفصیل ہمیں سورة النساء میں ملتی ہے۔ اس کے بعد یہاں اس سورة میں اور پھر انہی احکام کی تفصیل سورة بنی اسرائیل میں ہے۔ اَلاَّ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا ج۔یعنی سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ شرک کو حرام ٹھہرایا ہے اور دوسرے نمبر پر والدین کے حقوق میں کوتاہی حرام قرار دی ہے۔ قرآن حکیم میں یہ تیسرا مقام ہے جہاں حقوق اللہ کے فوراً بعد حقوق والدین کا تذکرہ آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ آیت 83 اور سورة النساء آیت 36 میں والدین کے حقوق کا ذکر اللہ کے حقوق کے فوراً بعد کیا گیا ہے۔ وَلاَ تَقْتُلُوْٓا اَوْلاَدَکُمْ مِّنْ اِمْلاَقٍط نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَاِیَّاہُمْ ج وَلاَ تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ ج وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ الاَّ بالْحَقِّ ط بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے ہر انسانی جان کو محترم ٹھہرایا ہے۔ لہٰذا کسی اصول ‘ حق اور قانون کے تحت ہی انسانی جان کا قتل ہوسکتا ہے۔ قتل عمد کے بدلے میں قتل ‘ قتل مرتد ‘ مسلمان زانی یا زانیہ اگر شادی شدہ ہوں کا قتل ‘ حربی کافر وغیرہ کا قتل۔ یہ انسانی قتل کی چند جائز اور قانونی صورتیں ہیں۔
وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
📘 آیت 152 وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ الاَّ بالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ج۔یتیم کے مال کو ہڑپ کرنا یا اپنا ردّی مال اس کے مال میں ملاکر اس کے اچھے مال پر قبضہ کرنے کا حیلہ کرنا بھی حرام ہے۔ بنیادی طور پر تو یہ مکی دور کے احکام ہیں لیکن یتیموں کے حقوق کی اہمیت کے پیش نظر مدنی سورتوں میں بھی اس بارے میں احکام آئے ہیں ‘ مثلاً سورة البقرۃ ‘ آیت 220 اور سورة النساء آیت 2 میں بھی یتیموں کے اموال کا خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ‘ جو اس سے قبل ہم پڑھ چکے ہیں۔وَاَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیْزَان بالْقِسْطِج لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ج۔یعنی بغیر کسی ارادے کے اگر کوئی کمی بیشی ہوجائے تو اس پر گرفت نہیں۔ جیسے دعا کے لیے ہمیں یہ کلمات سکھائے گئے ہیں : رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ج البقرۃ : 286 اے ہمارے ربّ ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے تو ہم سے مؤاخذہ نہ کرنا۔ لیکن اگر جان بوجھ کر ذرا سی بھی ڈنڈی ماری تو وہ قابل گرفت ہے۔ اس لیے کہ عملاً معصیت کا ارتکاب کرنا در حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو تمہیں آخرت کا یقین نہیں ہے یا پھر یہ یقین نہیں ہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ گویا عمداً ذرا سی منفی جنبش میں بھی ایمان کی نفی کا احتمال ہے۔ وَاِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰی ج وَبِعَہْدِ اللّٰہِ اَوْفُوْا ط۔تمہاری بات چیت کھری اور انصاف پر مبنی ہو۔ اس میں جانبداری نہیں ہونی چاہیے ‘ چاہے قرابت داری ہی کا معاملہ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اللہ کے نام پر ‘ اللہ کے حوالے سے ‘ اللہ کی قسم کھا کر جو بھی عہد کیا جائے اس کو بھی پورا کرو۔ جیسے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ بھی ایک عہد ہے جو ہم اللہ سے کرتے ہیں۔ ہر انسان نے دنیا میں آنے سے پہلے بھی اللہ سے ایک عہد کیا تھا ‘ جس کا ذکر سورة الاعراف آیت 127 میں ملتا ہے۔ اسی طرح روز مرہ کی زندگی میں بھی بہت سے عہد ہوتے ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ذٰلِکُمْ وَصّٰٹکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔یہ وہ چیزیں ہیں جو دین میں اہمیت کی حامل اور انسانی کردار کی عظمت کی علامت ہیں۔ یہ انسانی تمدن اور اخلاقیات کی بنیادیں ہیں۔
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
📘 آیت 153 وَاَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج۔دین کے اصل اصول تو وہ ہیں جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ تمہارے خود ساختہ طور طریقے تو گویا ایسی پگڈنڈیاں ہیں جن کا صراط مستقیم سے کوئی تعلق نہیں۔ صراط مستقیم تو صرف وہ ہے جس پر ہمارا رسول ﷺ ہمارے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چل رہا ہے۔ وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط۔یعنی اگر تم خود ساختہ مختلف پگڈنڈیوں پر چلنے کی کوشش کرو گے تو سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ لہٰذا تم سب راستوں کو چھوڑ کر سواء السبیل پر قائم رہو۔
ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ
📘 آیت 154 ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً حضرت عبداللہ بن عباس رض کے نزدیک سورة بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں جو احکام ہیں وہ تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کا ہی خلاصہ ہے۔
وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
📘 آیت 154 ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًی وَّرَحْمَۃً حضرت عبداللہ بن عباس رض کے نزدیک سورة بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع میں جو احکام ہیں وہ تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کا ہی خلاصہ ہے۔
أَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَإِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ
📘 آیت 156 اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآءِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَاص یہ بالکل سورة المائدۃ کی آیت 19 والا انداز ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا : اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَ نَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّلاَ نَذِیْرٍز مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تو کوئی بشیر اور نذیر آیا ہی نہیں تھا۔ اور اس احتمال کو رد کرنے کے لیے فرمایا گیا : فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ ط پس آگیا ہے تمہارے پاس بشیر اور نذیر۔ کہ ہم نے اپنے آخری رسول ﷺ کو بھیج دیا ہے آخری کتاب ہدایت دے کر تاکہ تمہارے اوپر حجت تمام ہوجائے۔ لیکن وہاں اس حکم کے مخاطب اہل کتاب تھے اور اب وہی بات یہاں مشرکین کو اس انداز میں کہی جا رہی ہے کہ ہم نے یہ کتاب اتار دی ہے جو سراپا خیر و برکت ہے ‘ تاکہ تم روز قیامت یہ نہ کہہ سکو کہ اللہ کی طرف سے کتابیں تو یہودیوں اور عیسائیوں پر نازل ہوئی تھیں ‘ ہمیں تو کوئی کتاب دی ہی نہیں گئی ‘ ہم سے مواخذہ کا ہے کا ؟ وَاِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِہِمْ لَغٰفِلِیْنَ ۔اور وہاں یہ نہ کہہ سکو کہ تورات تو عبرانی زبان میں تھی ‘ جب کہ ہماری زبان عربی تھی۔ آخر ہم کیسے جانتے کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہوا تھا ‘ لہٰذا نہ تو ہم پر کوئی حجت ہے اور نہ ہی ہمارے محاسبے کا کوئی جواز ہے۔
أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ ۚ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ ۚ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا ۗ سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ
📘 آیت 157 اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْکِتٰبُ لَکُنَّآ اَہْدٰی مِنْہُمْ ج۔یعنی تم روز قیامت یہ دعویٰ لے کر نہ بیٹھ جاؤ کہ ان بیوقوفوں نے تو اللہ کی کتابوں تورات اور انجیل کی قدر ہی نہیں کی۔ ہمیں اللہ نے کتاب دی ہوتی تو پھر ہم بتاتے کہ کتاب اللہ کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔ فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَیِّنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ ج۔یعنی تمہارے پاس اللہ کا رسول اس کی کتاب لے کر آچکا ہے جس میں واضح اور مستحکم احکام موجود ہیں۔ اس بَیِّنَۃ کی وضاحت سورة البیّنہ کی آیت 2 اور 3 میں اس طرح کی گئی ہے : رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً۔ فِیْہَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ اللہ کی طرف سے ایک رسول جو مقدس صحیفے پڑھ کر سناتا ہے ‘ جن میں بالکل درست احکام ہیں۔
هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ ۗ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ قُلِ انْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ
📘 آیت 158 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاّآ اَنْ تَاْتِیَہُمُ الْمَلآءِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ط دراصل یہ ان واقعات یا علامات کا ذکر ہے جن کا ظہور قیامت کے دن ہونا ہے۔ جیسے سورة الفجر میں فرمایا : وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِایْٓءَ یَوْمَءِذٍم بِجَہَنَّمَلا یَوْمَءِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی قصۂ زمین برسر زمین کے مصداق روز محشر فیصلہ یہیں اسی زمین پر ہوگا۔ یہیں پر اللہ کا نزول ہوگا ‘ یہیں پر فرشتے پرے باندھے کھڑے ہوں گے اور یہیں پر سارا حساب کتاب ہوگا۔ چناچہ اس حوالے سے فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب یہ سب علامات ظہور پذیر ہوجائیں ؟ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے :یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِہَا خَیْرًا ط دراصل جب تک غیب کا پردہ پڑا ہوا ہے تب تک ہی اس امتحان کا جواز ہے۔ جب غیب کا پردہ ہٹ جائے گا تو یہ امتحان بھی ختم ہوجائے گا۔ اس وقت پھر جو صورت حال سامنے آئے گی اس میں تو بڑے سے بڑا کافر بھی عابد و زاہد بننے کی کوشش کرے گا۔ لیکن جو شخص یہ نشانیاں ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا اور ایمان کی حالت میں اعمال صالحہ کا کچھ توشہ اس نے اپنے لیے جمع نہیں کرلیا تھا ‘ اس کے لیے بعد میں ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہوگا۔قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ۔اب انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ۚ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
📘 آیت 159 اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْءٍ ط۔یہ وہی وحدت ادیان کا تصور ہے جو سورة البقرۃ کی آیت 213 میں دیا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف کہ پہلے تمام لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ پھر لوگ صراط مستقیم سے منحرف ہوتے گئے اور مختلف گروہوں نے اپنے اپنے راستے الگ کرلیے۔ چناچہ حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ صراط مستقیم کو چھوڑ کر اپنی اپنی خود ساختہ پگڈنڈیوں پر چل رہے ہیں وہ سب ضلالت اور گمراہی میں پڑے ہیں اور آپ ﷺ کا ان گمراہ لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔
مَنْ يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ
📘 آیت 16 مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ۔ ۔دُنیا کی بڑی سے بڑی کامیابیاں اس دن کی کامیابی کے سامنے ہیچ ہیں۔ اس کامیابی کے سامنے دنیوی دولت ‘ وجاہت ‘ عزت ‘ شہرت ‘ اقتدار وغیرہ ساری چیزیں عارضی اور فانی ہیں۔ اصل الْفَوْزُ الْمُبِیْن تو آخرت کی کامیابی ہے۔
مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
📘 آیت 160 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ج وَمَنْ جَآء بالسَّیِءَۃِ فَلاَ یُجْزٰٓی الاَّ مِثْلَہَا یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ بدی کی سزا بدی کے برابر ہی ملے گی ‘ لیکن نیکی کا اجر بڑھا چڑھا کردیا جائے گا ‘ دو دو گنا ‘ چارگنا ‘ دس گنا ‘ سات سو گنا یا اللہ تعالیٰ اس سے بھی جتنا چاہے بڑھا دے : وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط البقرۃ : 261 وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ اس دن کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔اگلی دو آیات جو قُلْ سے شروع ہو رہی ہیں بہت اہم ہیں۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کو یاد رہنی چاہئیں۔
قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
📘 آیت 161 قُلْ اِنَّنِیْ ہَدٰٹنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًاج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یہ خطاب واحد کے صیغے میں براہ راست حضور ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے پوری امت سے۔ ذرا غور کریں 20 رکوعوں پر مشتمل اس سورت میں ایک دفعہ بھی یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ساتھ اہل ایمان سے خطاب نہیں کیا گیا۔ کاش کہ ہم میں سے ہر شخص اس آیت کا مخاطب بننے کی سعادت حاصل کرسکے اور یہ اعلان کرسکے کہ مجھے تو میرے رب نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دے دی ہے۔ لیکن یہ تو تبھی ممکن ہوگا جب کوئی اللہ کی راہ ہدایت کو صدق دل سے اختیار کرے گا۔ اللّٰہُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَاْ مِنْھُمْ۔ آمین !
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
📘 آیت 162 قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہاں دوبارہ قل کہہ کر حضور ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ ہی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی واقعۃً اللہ کے لیے وقف کردیں۔ دنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں ‘ لیکن اس ساری تگ و دَو کو اصل مقصود زندگی نہ سمجھیں ‘ بلکہ اصل مقصود زندگی اللہ کی اطاعت اور اقامت دین کی جدوجہد ہی کو سمجھیں۔
لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
📘 آیت 162 قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہاں دوبارہ قل کہہ کر حضور ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ ہی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی واقعۃً اللہ کے لیے وقف کردیں۔ دنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں ‘ لیکن اس ساری تگ و دَو کو اصل مقصود زندگی نہ سمجھیں ‘ بلکہ اصل مقصود زندگی اللہ کی اطاعت اور اقامت دین کی جدوجہد ہی کو سمجھیں۔
قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۚ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ
📘 آیت 164 قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ط وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ الاَّ عَلَیْہَاج ولاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ج۔اس دن ہر ایک کو اپنی اپنی گٹھڑی خود ہی اٹھانی ہوگی ‘ کوئی دوسرا وہاں مدد کو نہیں پہنچے گا۔ یہاں پر لفظ نفس جان کے معنی میں آیا ہے ‘ یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گی ‘ بلکہ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری اور اپنے حساب کتاب کا سامنا بنفس نفیس خود کرنا ہوگا۔
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 آیت 165 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ خلیفہ بنانا ایک تو اس مفہوم میں ہے کہ جو خلافت حضرت آدم علیہ السلام کو دی گئی تھی اس کا حصہ بالقوۃ potentially تمام انسانوں کو ملا ہے ‘ اور جو بھی شخص اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہو کر اللہ کو اپنا حاکم اور بادشاہ مان لے تو وہ گویا اس کی خلافت کا حقدار ہوگیا۔ خَلآءِفَ الْاَرْضِکا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم آتی ہے اور انسانی وراثت نسل در نسل اور قوم در قوم منتقل ہوتی جاتی ہے۔ یہی فلسفہ اس سورة کی آیت 133 میں بھی بیان ہوا ہے۔ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ اس دنیوی زندگی میں اللہ نے اپنی مشیت کے مطابق کسی کو علم دیا ہے ‘ کسی کو حکمت دی ہے ‘ کسی کو ذہانت میں فضیلت دی ہے ‘ کسی کو جسمانی طاقت میں برتری دی ہے ‘ کسی کو صحت جسمانی بہتر دی ہے اور کسی کو حسن جسمانی میں دوسروں پر فوقیت دی ہے۔ یعنی مختلف انداز میں اس نے ہر ایک کو اپنے فضل سے نوازا ہے اور مختلف انسانوں کے درجات و مراتب میں اپنی حکمت کے تحت فرق و تفاوت بھی برقرار رکھا ہے۔لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰٹکُمْ ط۔یعنی دنیا کی تمام نعمتیں انسان کو بطور آزمائش دی جاتی ہیں۔ بَلَا ‘ یَبْلُوْ کے معنی ہیں آزمانا اور جانچنا۔ ابتلاء بمعنی امتحان اور آزمائش اسی سے باب افتعال ہے۔
وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 آیت 17 وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہٗٓ الاَّ ہُوَ ط اب یہ توحید کا بیان ہے۔ تکلیف میں پکارو تو اسی کو پکارو ‘ کسی اور کو نہ پکارو۔ وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ القصص : 88۔ وہی مشکل کشا ہے ‘ وہی حاجت روا ہے اور وہی تمہاری تکلیفوں کو رفع کرنے والا ہے۔وَاِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ اسے اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنے کے لیے کسی اور سے منظوری لینے کی حاجت نہیں ہوتی۔ وہ تو عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے۔
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
📘 آیت 18 وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہ ٖط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔وہ زور آور ہے ‘ اس کا اقتدار پوری کائنات پر محیط ہے ‘ اس کی مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کے قابو سے باہر نہیں ہے۔
قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ آلِهَةً أُخْرَىٰ ۚ قُلْ لَا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ
📘 آیت 19 قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَہَادَۃً ط قُلِ اللّٰہُ قف شَہِیْدٌم بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ قف یہ گویا اس سورة کے عمود کا عکس ہے۔ میں پہلے بتاچکا ہوں کہ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر ہم کسی قسم کا حسی معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ کیونکہ اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اے نبی ﷺ ہم نے آپ پر یہ قرآن اتار دیا ‘ آپ تبشیر ‘ انذار اور تذکیر کے فرائض اسی قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔ جس کے اندر صلاحیت ہے ‘ جو طالب حق ہے ‘ جو ہدایت چاہتا ہے ‘ وہ ہدایت پالے گا۔ باقی جس کے دل میں کجی ہے ‘ ٹیڑھ ہے ‘ تعصب ‘ ضد اور ہٹ دھرمی ہے ‘ حسد اور تکبر ہے ‘ آپ ﷺ اس کو دس لاکھ معجزے دکھا دیجیے وہ نہیں مانے گا۔ کیا علماء یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزے دیکھ کر آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے ؟ کیسے کیسے معجزے تھے جو انہیں دکھائے گئے ! آپ علیہ السلام گارے سے پرندے کی شکل بنا کر پھونک مارتے اور وہ اڑتا ہوا پرندہ بن جاتا۔ یہ احیائے موتیٰ اور خلق حیات تو وہ چیزیں ہیں جو بالخصوص اللہ تعالیٰ کے اپنے exclusive اَفعال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر یہ نشانیاں بھی ظاہر کردیں ‘ لیکن انہیں دیکھ کر کتنے لوگوں نے مانا ؟ لہٰذاہم ایسا کوئی معجزہ نہیں دکھائیں گے۔ البتہ آپ ﷺ محنت اور کوشش کرتے جایئے ‘ دعوت و تبلیغ کرتے جایئے۔یہاں پر لفظ بِہٖ خاص پر نوٹ کیجیے۔ فرمایا کہ یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کر دوں تمہیں اس کے ذریعے سے بِہٖ یعنی میرا انذار قرآن کے ذریعے سے ہے۔ مزید فرمایا : وَمَنْم بَلَغَ ط اور جس تک یہ پہنچ جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں ‘ اب جو امت بنے گی وہ آگے پہنچائے گی۔ جس تک یہ قرآن پہنچ گیا اس تک رسول اللہ ﷺ کا انداز پہنچ گیا ‘ اور یہ سلسلہ تا قیامت چلے گا ‘ کیونکہ حضور ﷺ اپنے ہی زمانے کے لیے رسول بن کر نہیں آئے تھے ‘ آپ ﷺ تو تا قیامت رسول ہیں۔ یہ آپ ﷺ ہی کی رسالت کا دور چل رہا ہے۔ جو انسان بھی قیامت تک دنیا میں آئے گا وہ آپ ﷺ کی امت دعوت میں شامل ہے ‘ اس تک قرآن کا پیغام پہنچانا اب امت محمد ﷺ کے ذمہ ہے۔اب آ رہا ہے ایک متجسسانہ سوال searching question۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا ‘ جب آپ کو معلوم ہو کہ آپ کا مخالف جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اپنے دل کے یقین سے نہیں کہہ رہا ہے ‘ بلکہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر کہہ رہا ہے ‘ تو پھر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر متجسسانہ searching انداز میں اس سے سوال کیا جاتا ہے۔ یہی انداز یہاں اختیار کیا گیا ہے۔ فرمایا : اَءِنَّکُمْ لَتَشْہَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِہَۃً اُخْرٰی ط قُلْ لَّآ اَشْہَدُ ج تم ایسا کہو تو کہو ‘ لیکن میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسی خلاف عقل اور خلاف فطرت بات کہہ سکوں۔قُلْ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ واضح رہے کہ اس سورة کا زمانۂ نزول مکی دور کا آخری زمانہ ہے۔ اس وقت تک مدینہ میں بھی خبریں پہنچ چکی تھیں کہ مکہ کے اندر ایک نئی دعوت بڑے زور و شور اور شدو مد کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔ چناچہ مدینہ کے یہودیوں کی طرف سے سکھائے ہوئے سوالات بھی مکہ کے لوگ حضور ﷺ سے امتحاناً کرتے تھے۔ مثلاً آپ ذرا بتائیے کہ ذو القرنین کون تھا ؟ اگر آپ نبی ہیں تو بتائیے کہ اصحاب کہف کا قصہ کیا تھا ؟ اور یہ بھی بتائیے کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ سب سوالات اور ان کے جوابات سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف میں آئیں گے۔ مدینہ کے یہودیوں تک ان کے سوالات کے جوابات سے متعلق تمام خبریں بھی پہنچ چکی تھیں اور ان کے سمجھ دار اور اہل علم لوگ سمجھ چکے تھے کہ یہ وہی نبی ہیں جن کے ہم منتظر تھے۔ مگر یہ لوگ یہ سب کچھ سمجھنے اور جان لینے کے باوجود محروم رہ گئے۔
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَضَىٰ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُسَمًّى عِنْدَهُ ۖ ثُمَّ أَنْتُمْ تَمْتَرُونَ
📘 آیت 2 ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً ط۔یعنی ہر شخص جس کو اللہ نے دنیا میں بھیجا ہے اس کا اس دنیا میں رہنے کا ایک وقت معین ہے۔ اس اجل سے مراد اس کی موت کا وقت ہے۔وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ یعنی ایک تو ہے انفرادی موت کا وقت ‘ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا : مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ 1 جس کو موت آگئی اس کی قیامت تو قائم ہوگئی۔ جبکہ ایک اس دنیا کی اجتماعی موت کا مقررہ وقت ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے پاس رکھا ہے ‘ کسی اور کو نہیں دیا۔
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ ۘ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
📘 آیت 20 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ 7یَعْرِفُوْنَہٗ کی ضمیر مفعولی دونوں طرف جاسکتی ہے ‘ قرآن کی طرف بھی اور حضور ﷺ کی طرف بھی۔ البتہ اس سے قبل یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ قرآن اور رسول ﷺ مل کر ہی بیّنہ بنتے ہیں ‘ یہ دونوں ایک وحدت اور ایک ہی حقیقت ہیں۔ حضور ﷺ خود قرآن مجسم ہیں۔ قرآن ایک انسانی شخصیت اور سیرت و کردار کا جامہ پہن لے تو وہ محمد ﷺ ہیں۔ جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رض نے فرمایا تھا : کَانَ خُلُقُہُ الْقُرآنَ 1 یعنی حضور ﷺ کی سیرت قرآن ہی تو ہے۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۗ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
📘 آیت 21 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔یعنی یہ دو عظیم ترین جرائم ہیں جو شناعت میں برابر کے ہیں ‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانا یا کوئی شے خودگھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردینا۔
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ
📘 آیت 22 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ تمہارا گمان تھا کہ وہ تمہیں ہماری پکڑ سے بچا لیں گے۔
ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ
📘 آیت 22 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ تمہارا گمان تھا کہ وہ تمہیں ہماری پکڑ سے بچا لیں گے۔
انْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
📘 آیت 24 اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ ان کے یہ دعوے کہ فلاں دیوی بچائے گی اور فلاں دیوتا سفارش کرے گا ‘ سب نسیاً منسیاً ہوجائیں گے۔ عذاب کو دیکھ کر اس وقت ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے
وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۖ وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا ۚ حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوكَ يُجَادِلُونَكَ يَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
📘 آیت 25 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ج۔مکہ میں قریش کے سرداروں کے لیے جب عوام کو ایمان لانے سے روکنا مشکل ہوگیا تو انہوں نے بھی علماء یہود کی طرح ایک ترکیب نکالی۔ وہ بڑے اہتمام کے ساتھ آکر حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے اور بڑے انہماک سے کان لگا کر آپ ﷺ کی باتیں سنتے۔ وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم سب کچھ بڑی توجہ سے سن رہے ہیں ‘ تاکہ عام لوگ دیکھ کر یہ سمجھیں کہ واقعی ہمارے ذی فہم سردار یہ باتیں سننے ‘ سمجھنے اور ماننے میں سنجیدہ ہیں ‘ مگر پھر بعد میں عوام میں آکر ان باتوں کو ردّ کردیتے۔ عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ ان کی ایک چال تھی ‘ تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ ہمارے یہ سردار سمجھدار اور ذہین ہیں ‘ یہ لوگ شوق سے محمد ﷺ کی محفل میں جاتے ہیں اور پورے انہماک سے ان کی باتیں سنتے ہیں ‘ پھر اگر یہ لوگ اس دعوت کو سننے اور سمجھنے کے بعد ردّ کرر ہے ہیں تو آخراس کی کوئی علمی اور عقلی وجوہات تو ہوں گی۔ لہٰذا آیت زیر نظر میں ان کی اس سازش کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ ان میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ کی باتیں بظاہر بڑی توجہ سے کان لگا کر سنتے ہیں۔وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرًاط وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لاَّ یُؤْمِنُوْا بِہَا ط۔اللہ نے ان کے دلوں اور دماغوں پر یہ پردے کیوں ڈال دیے ؟ یہ سب کچھ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جب نبی کے مخاطبین اس کی دعوت کے مقابلے میں حسد ‘ تکبر اور تعصب دکھاتے ہوئے اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں تو ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں سلب کرلی جاتی ہیں۔ جیسے سورة البقرۃ آیت 7 میں فرمایا گیا : خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْط وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌز۔ لہٰذا ان کا بظاہرتوجہ سے نبی ﷺ کی باتوں کو سننا ان کے لیے مفید نہیں ہوگا۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْکَ یُجَادِلُوْنَکَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔ یہ جو کچھ آپ ﷺ ہمیں سنا رہے ہیں یہ پرانی باتیں اور پرانے قصے ہیں ‘ جو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہودیوں اور نصرانیوں سے سن رکھے ہیں۔
وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ ۖ وَإِنْ يُهْلِكُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
📘 آیت 26 وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْءَوْنَ عَنْہُ ج۔یہاں آپس میں ملتے جلتے دو افعال استعمال ہوئے ہیں ‘ ایک کا مادہ ’ ن ہ ی ‘ ہے اور دوسرے کا ’ ن ء ی ‘ ہے۔ نَھٰی یَنْھٰی روکنا تو معروف فعل ہے اور نہی کا لفظ اردو میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا یَنْہَوْنَ عَنْہُ کے معنی ہیں وہ روکتے ہیں اس سے۔ کس کو روکتے ہیں ؟ اپنے عوام کو۔ ان کی لیڈری اور سرداری عوام کے بل پر ہی تو ہے۔ عوام برگشتہ ہوجائیں گے تو ان کی لیڈری کہاں رہے گی۔ عوام کو اپنے قابو میں کرنا اور ان کی عقل اور سمجھ پر اپنا تسلط قائم رکھنا ایسے نام نہادلیڈروں کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک طرف تو وہ اپنے عوام کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس سے گریز اور پہلو تہی کرتے ہیں۔ نَاٰی یَنْاٰی نَأْیًا کا مفہوم ہے دور ہونا ‘ کنی کترانا جیسے سورة بنی اسرائیل آیت 83 میں فرمایا : وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰبِجَانِبِہٖ ج اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیرلیتا اور پہلوتہی کرتا ہے۔ چناچہ یَنْءَوْنَ عَنْہُ ط کے معنی ہیں وہ اس سے گریز کرتے ہیں ‘ کنی کتراتے ہیں۔
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
📘 آیت 27 وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا یہاں پر نُرَدُّ کے بعد فَنُصَدِّقُ مخذوف مانا جائے گا ‘ کہ اگر ہمیں لوٹا دیا جائے تو ہم تصدیق کریں گے اور اپنے رب کی آیات کو جھٹلائیں گے نہیں۔ کاش کسی نہ کسی طرح ایک دفعہ پھر ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔
بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا كَانُوا يُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
📘 آیت 28 بَلْ بَدَا لَہُمْ مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ ط۔ایسا نہیں تھا کہ انہیں حقیقت کا علم نہیں تھا۔ حق پہلے ہی ان پر واضح تھا ‘ بات ان پر پوری طرح کھل چکی تھی ‘ لیکن اس وقت ان پر حسد ‘ بغض اور تکبر کے پردے پڑے ہوئے تھے۔وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْا عَنْہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ ۔دنیا میں جا کر پھر وہاں کے تقاضے سامنے آجائیں گے ‘ دنیا کے مال و دولت اور اولاد کی محبت اور دوسری نفسیاتی خواہشات پھر انہیں اسی راستے پر ڈال دیں گی۔
وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ
📘 آیت 29 وَ قَالُوْٓا اِنْ ہِیَ الاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔جیسے آج کل کفر و الحاد کے مختلف shades ہیں ‘ اس زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔ آج ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو اللہ کو تو مانتے ہیں ‘ آخرت کو نہیں مانتے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں ‘ لیکن رسالت کو نہیں مانتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بالکل ملحد اور مادہ پرست ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی طبعی موت مرجاتے ہیں ‘ اور ہماری زندگی صرف یہی ہے ‘ مرنے کے بعد اٹھنے والا کوئی معاملہ نہیں۔ اسی طرح اس دور میں بھی کفر و شرک کے مختلف shades موجود تھے۔ قریش کے اکثر لوگ اور عرب کے بیشتر مشرکین اللہ کو مانتے تھے ‘ آخرت کو مانتے تھے ‘ بعث بعد الموت کو بھی مانتے تھے ‘ لیکن اس کے ساتھ وہ دیوی دیوتاؤں کی سفارش اور شفاعت کے قائل تھے کہ ہمیں فلاں چھڑا لے گا ‘ فلاں بچا لے گا ‘ فلاں ہمارا حمایتی اور مدد گار ہوگا۔ لیکن ایک طبقہ ان میں بھی ایسا تھا جو کہتا تھا کہ زندگی بس یہی دنیا کی ہے ‘ اس کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے۔ یہاں اس آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے۔
وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ۖ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
📘 آیت 3 وَہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَفِی الْاَرْضِ ط ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں کا خدا کوئی اور ہو زمین کا کوئی اور۔ ہاں فرشتوں کے مختلف طبقات ہیں۔ زمین کے فرشتے ‘ فضا کے فرشتے اور آسمانوں کے فرشتے معین ہیں۔ پھر ہر آسمان کے الگ فرشتے ہیں۔ پھر ملائکہ مقربین ہیں۔ لیکن ذات باری تعالیٰ تو ایک ہی ہے۔
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ قَالَ أَلَيْسَ هَٰذَا بِالْحَقِّ ۚ قَالُوا بَلَىٰ وَرَبِّنَا ۚ قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ
📘 آیت 29 وَ قَالُوْٓا اِنْ ہِیَ الاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔جیسے آج کل کفر و الحاد کے مختلف shades ہیں ‘ اس زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔ آج ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو اللہ کو تو مانتے ہیں ‘ آخرت کو نہیں مانتے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں ‘ لیکن رسالت کو نہیں مانتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بالکل ملحد اور مادہ پرست ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی طبعی موت مرجاتے ہیں ‘ اور ہماری زندگی صرف یہی ہے ‘ مرنے کے بعد اٹھنے والا کوئی معاملہ نہیں۔ اسی طرح اس دور میں بھی کفر و شرک کے مختلف shades موجود تھے۔ قریش کے اکثر لوگ اور عرب کے بیشتر مشرکین اللہ کو مانتے تھے ‘ آخرت کو مانتے تھے ‘ بعث بعد الموت کو بھی مانتے تھے ‘ لیکن اس کے ساتھ وہ دیوی دیوتاؤں کی سفارش اور شفاعت کے قائل تھے کہ ہمیں فلاں چھڑا لے گا ‘ فلاں بچا لے گا ‘ فلاں ہمارا حمایتی اور مدد گار ہوگا۔ لیکن ایک طبقہ ان میں بھی ایسا تھا جو کہتا تھا کہ زندگی بس یہی دنیا کی ہے ‘ اس کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے۔ یہاں اس آیت میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے۔
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يَا حَسْرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَىٰ ظُهُورِهِمْ ۚ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ
📘 آیت 31 قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآء اللّٰہِ ط۔وہ اس بات کو جھٹلا رہے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی پیشی ‘ حاضری یا اللہ سے ملاقات وغیرہ ہوگی۔ حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ تْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً ایک شخص کے لیے انفرادی طور پر تو السَّاعَۃ گھڑی سے مراد اس کی موت کا وقت ہے ‘ لیکن عام طور پر اس سے قیامت ہی مراد لی گئی ہے۔ چناچہ اس کا مطلب ہے کہ جب قیامت اچانک آجائے گی۔قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْہَالا وَہُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَہُمْ عَلٰی ظُہُوْرِہِمْ ط اَلاَ سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ ۔جب قیامت حق بن کر سامنے آجائے گی تو ان کی حسرت کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ وہ اپنی پیٹھوں پر کفر ‘ شرک اور گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہوئے میدان حشر میں پیش ہوں گے۔
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
📘 آیت 32 وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ لَعِبٌ وَّلَہْوٌ ط۔اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘ بلکہ تقابل میں ایسا کہا جاتا ہے کہ آخرت کے مقابلے میں اس کی یہی حقیقت ہے۔ ایک شے ابدی ہے ‘ ہمیشہ ہمیش کی ہے اور ایک شے عارضی اور فانی ہے۔ ان دونوں کا آپس میں کیا مقابلہ ؟ جیسے دعائے استخارہ میں الفاظ آئے ہیں : فَاِنَّکَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ اے اللہ ! تو ہی سب کچھ جانتا ہے ‘ میں کچھ نہیں جانتا۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی بھی علم نہیں ہے ‘ لیکن اللہ کے علم کے مقابلے میں کسی دوسرے کا علم کچھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح یہاں آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو لعب اور لہو قرار دیا گیا ہے۔ ورنہ دنیا تو ایک اعتبار سے آخرت کی کھیتی ہے۔ ایک حدیث بھی بیان کی جاتی ہے کہ اَلدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الآخِرَۃِ 1 ‘ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یہاں بوؤگے تو وہاں کاٹو گے۔ اگر یہاں بوؤ گے نہیں تو وہاں کاٹو گے کیا ؟ یہ تعلق ہے آپس میں دنیا اور آخرت کا۔ اس اعتبار سے دنیا ایک حقیقت ہے اور ایک امتحانی وقفہ ہے۔ لیکن جب آپ تقابل کریں گے دنیا اور آخرت کا تو دنیا اور اس کا مال و متاع آخرت کی ابدیت اور اس کی شان و شوکت کے مقابلے میں گویا نہ ہونے کے برابر ہے۔ دنیا تو محض تین گھنٹے کے ایک ڈرامہ کی مانند ہے جس میں کسی کو بادشاہ بنا دیا جاتا ہے اور کسی کو فقیر۔ جب ڈرامہ ختم ہوتا ہے تو نہ بادشاہ سلامت بادشاہ ہیں اور نہ فقیر فقیر ہے۔ ڈرامہ ہال سے باہر جا کر کپڑے تبدیل کیے اور سب ایک جیسے بن گئے۔ یہ ہے دنیا کی اصل حقیقت۔ چناچہ اس آیت میں دنیا کو کھیل تماشا قرار دیا گیا ہے۔وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ اب وہ مقام آگیا ہے جسے میں نے اس سورة کے عمود کا ذروۂ سنام climax قراردیا تھا۔ یہاں ترجمہ کرتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے ‘ لیکن ہمیں ترجمانی کی کوشش تو بہر حال کرنی ہے۔
قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ ۖ فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ
📘 آیت 33 قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ ہم جانتے ہیں کہ جو مطالبات یہ لوگ کر رہے ہیں ‘ آپ سے جو معجزات کا تقاضاکر رہے ہیں اس سے آپ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ آپ کی ذات گویا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آگئی ہے۔ ایک طرف اللہ کی مشیت ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کے تقاضے۔ اب اس کا پہلا جواب تو یہ ہے :فَاِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ۔یہ لوگ قرآن کا انکار کر رہے ہیں ‘ ہمارا انکار کر رہے ہیں ‘ آپ ﷺ کا انکار انہوں نے کب کیا ہے ؟ یہاں سمجھانے کے اس انداز پر غور کیجیے ! کیا انہوں نے آپ ﷺ کو جھوٹا کہا ؟ نہیں کہا ! آپ ﷺ پر کوئی تہمت انہوں نے لگائی ؟ نہیں لگائی ! لہٰذا یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں ‘ یہ آپ ﷺ کی تکذیب تو نہیں ہو رہی ‘ تکذیب تو ہماری ہو رہی ہے ‘ غصہ تو ہمیں آنا چاہیے ‘ ناراض تو ہمیں ہونا چاہیے۔ یہ ہمارا کلام ہے اور یہ لوگ ہمارے کلام کو جھٹلا رہے ہیں۔ آپ ﷺ کا کام تو ہمارے کلام کو ان تک پہنچا دینا ہے۔ یہ سمجھانے کا ایک بڑا پیارا انداز ہے ‘ جیسے کوئی شفیق استاد اپنے شاگرد کو سمجھا رہا ہو۔ لیکن اب یہ بات درجہ بدرجہ آگے بڑھے گی۔ لہٰذا ان آیات کو پڑھتے ہوئے یہ اصول ذہن میں ضرور رکھئے کہ الرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی۔ اب اس ضمن میں دوسرا جواب ملاحظہ ہو :
وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوا عَلَىٰ مَا كُذِّبُوا وَأُوذُوا حَتَّىٰ أَتَاهُمْ نَصْرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَدْ جَاءَكَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِينَ
📘 آیت 34 وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰیٓ اَتٰٹہُمْ نَصْرُنَاج ولاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ج ہمارا ایک قانون ‘ ایک طریقہ اور ایک ضابطہ ہے ‘ اس لیے آپ ﷺ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔ آپ کو جس منصب پر فائز کیا گیا ہے اس کے بارے میں ہم نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ یہ بہت بھاری بوجھ ہے : اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا المزمل بیشک ہم آپ پر عنقریب ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں۔وَلَقدْ جَآءَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ۔آپ ﷺ کے علم میں ہے کہ ہمارے بندے نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک صبر کیا۔ اب اس کے بعد تلخ ترین بات آرہی ہے۔
وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَىٰ ۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ
📘 آیت 35 وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَہُمْ بِاٰیَۃٍ ط ہمارا تو فیصلہ اٹل ہے کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ آپ لے آئیں جہاں سے لاسکتے ہیں۔ غور کریں کس انداز میں حضور ﷺ سے گفتگو ہو رہی ہے۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدٰی اگر اللہ چاہتا تو آن واحد میں سب کو صاحب ایمان بنا دیتا ‘ نیک بنا دیتا۔فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ اس معاملے میں آپ جذباتی نہ ہوں۔ یہی لفظ سورة ہود میں حضرت نوح علیہ السلام سے خطاب میں آیا ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کی کہ اے اللہ میرا بیٹا میری نگاہوں کے سامنے غرق ہوگیا جب کہ تیرا وعدہ تھا کہ میرے اہل کو تو بچا لے گا : اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَہْلِیْ وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ ھود : 45 میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے۔ تو اس کا جواب بھی بہت سخت تھا : اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ ذرا غور کریں ‘ یہ اللہ کا وہ بندہ ہے جس نے ساڑھے نوسو برس تک اللہ کی چاکری کی ‘ اللہ کے دین کی دعوت پھیلائی ‘ اس میں محنت کی ‘ مشقت کی اور ہر طرح کی مشکلات اٹھائیں۔ لیکن اللہ کی شان بہت بلند ہے ‘ بہت بلند ہے ‘ بہت بلند ہے ! اسی لیے فرمایا کہ اے نبی ﷺ اگر سب کو ہدایت پر لانا مقصود ہو تو ہمارے لیے کیا مشکل ہے کہ ہم آن واحد میں سب کو ابوبکر صدیق رض کی مانند بنا دیں ‘ اور اگر ہم سب کو بگاڑنا چاہیں تو آن واحد میں سب کے سب ابلیس بن جائیں۔ مگر اصل مقصود تو امتحان ہے ‘ آزمائش ہے۔ جو حق پر چلنا چاہتا ہے ‘ حق کا طالب ہے اس کو حق مل جائے گا۔
۞ إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ۘ وَالْمَوْتَىٰ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
📘 آیت 35 وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُہُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَہُمْ بِاٰیَۃٍ ط ہمارا تو فیصلہ اٹل ہے کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ آپ لے آئیں جہاں سے لاسکتے ہیں۔ غور کریں کس انداز میں حضور ﷺ سے گفتگو ہو رہی ہے۔ وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدٰی اگر اللہ چاہتا تو آن واحد میں سب کو صاحب ایمان بنا دیتا ‘ نیک بنا دیتا۔فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ اس معاملے میں آپ جذباتی نہ ہوں۔ یہی لفظ سورة ہود میں حضرت نوح علیہ السلام سے خطاب میں آیا ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کی کہ اے اللہ میرا بیٹا میری نگاہوں کے سامنے غرق ہوگیا جب کہ تیرا وعدہ تھا کہ میرے اہل کو تو بچا لے گا : اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَہْلِیْ وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ ھود : 45 میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے۔ تو اس کا جواب بھی بہت سخت تھا : اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ ہوجاؤ۔ ذرا غور کریں ‘ یہ اللہ کا وہ بندہ ہے جس نے ساڑھے نوسو برس تک اللہ کی چاکری کی ‘ اللہ کے دین کی دعوت پھیلائی ‘ اس میں محنت کی ‘ مشقت کی اور ہر طرح کی مشکلات اٹھائیں۔ لیکن اللہ کی شان بہت بلند ہے ‘ بہت بلند ہے ‘ بہت بلند ہے ! اسی لیے فرمایا کہ اے نبی ﷺ اگر سب کو ہدایت پر لانا مقصود ہو تو ہمارے لیے کیا مشکل ہے کہ ہم آن واحد میں سب کو ابوبکر صدیق رض کی مانند بنا دیں ‘ اور اگر ہم سب کو بگاڑنا چاہیں تو آن واحد میں سب کے سب ابلیس بن جائیں۔ مگر اصل مقصود تو امتحان ہے ‘ آزمائش ہے۔ جو حق پر چلنا چاہتا ہے ‘ حق کا طالب ہے اس کو حق مل جائے گا۔
وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَبِّهِ ۚ قُلْ إِنَّ اللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَنْ يُنَزِّلَ آيَةً وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
📘 آیت 37 وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط ان کے پاس دلیل بس یہی ایک رہ گئی تھی کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتار دی جاتی ؟ اسی ایک حجت پر انہوں نے ڈیرہ لگا لیا تھا۔ باقی ساری دلیلوں میں وہ مات کھا رہے تھے۔ دراصل انہیں بھی اندازہ ہوچکا تھا کہ ان حالات میں کوئی حسی معجزہ دکھانا اللہ تعالیٰ کی مشیت میں نہیں ہے۔ اس صورت حال میں حضور ﷺ کی طبیعت کی تنگی ضیق کا اندازہ اس سے لگائیں کہ قرآن میں بار بار اس کا ذکر آتا ہے۔ سورة الحجر میں اسی کیفیت کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے : وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَ نَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ بھنچتا ہے ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں۔۔قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلآی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کا معجزہ دکھانے کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس طرح ان کی مہلت ختم ہوجائے گی۔ یہ ہماری رحمت ہے کہ ابھی ہم یہ معجزہ نہیں دکھا رہے۔ یہ بد بخت لوگ جس موقف پر مورچہ لگا کر بیٹھ گئے ہیں اس کی حساسیت کا انہیں علم ہی نہیں۔ انہیں معلوم نہیں ہے کہ معجزہ نہ دکھانا ان کے لیے ہماری رحمت کا ظہور ہے اور ہم ابھی انہیں مزید مہلت دینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ دودھ ابھی اور بلویا جائے ‘ شاید اس میں سے کچھ اور مکھن نکل آئے۔
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ ۚ مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ ۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ
📘 آیت 38 وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلا طآءِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْ ط ان تمام جانوروں ‘ پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کے رہنے سہنے کے بھی اپنے اپنے طور طریقے اور نظام ہیں ‘ ان کے اپنے leaders ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں آج کی سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ ہیں۔ چیونٹیوں کی ایک ملکہ ہوتی ہے ‘ جس کے ماتحت وہ رہتی اور کام وغیرہ کرتی ہیں۔ اسی طرح شہد کی مکھیوں کی بھی ملکہ ہوتی ہے۔مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّہِمْ یُحْشَرُوْنَ ۔قرآن میں ہم نے ہر طرح کے دلائل دے دیے ہیں ‘ ہر طرح کے شواہد پیش کردیے ہیں ‘ ہر طرح سے استشہاد کردیا ہے۔ ان سب کو آخر کار اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ وہاں پر ہر ایک کو اپنے کیے کا پورا بدلہ مل جائے گا۔
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ ۗ مَنْ يَشَإِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
📘 آیت 39 وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّبُکْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ ط مَنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یُضْلِلْہُط وَمَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اللہ گمراہ کردیتا ہے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی گمراہی پر مہر تصدیق ثبت کردیتا ہے ‘ اس کی گمراہی کا فیصلہ کردیتا ہے۔
وَمَا تَأْتِيهِمْ مِنْ آيَةٍ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ
📘 آیت 4 وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ الاَّ کَانُوْا عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ ۔ہم نئی سے نئی سورتیں بھیج رہے ہیں ‘ نئی سے نئی آیات نازل کر رہے ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض پر تلے ہوئے ہیں۔
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللَّهِ تَدْعُونَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
📘 آیت 40 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَج اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ یہ بھی متجسسانہ searching انداز میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا معمول بھی تھا اور مشاہدہ بھی ‘ کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘ سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو پھر لات ‘ منات ‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا انہیں یاد نہ رہتا۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چناچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے ‘ کہ آخر مصیبت کے وقت ہمیں ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے ؟ گویا ایک اللہ کو ماننا اور اس پر ایمان رکھنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ کسی شخص میں شرافت کی کچھ بھی رمق موجود ہو تو اس طرح کے سوالات کے جواب میں اس کا دل ضرور گواہی دیتا ہے کہ ہاں بات تو ٹھیک ہے ‘ ایسے مواقع پر ہماری اندرونی کیفیت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے اور بےاختیار اللہ ہی کا نام زبان پر آتا ہے۔
بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ
📘 آیت 40 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللّٰہِ تَدْعُوْنَج اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ یہ بھی متجسسانہ searching انداز میں ان سے سوال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا معمول بھی تھا اور مشاہدہ بھی ‘ کہ جب بھی کبھی کوئی مصیبت آتی ‘ سمندر میں سفر کے دوران کبھی طوفان آجاتا ‘ موت سامنے نظر آنے لگتی تو پھر لات ‘ منات ‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ میں سے کوئی بھی دوسراخدا انہیں یاد نہ رہتا۔ ایسے مشکل وقت میں وہ صرف اللہ ہی کو پکارتے تھے۔ چناچہ خود ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ ہر شخص ذرا اپنے دل سے پوچھے ‘ کہ آخر مصیبت کے وقت ہمیں ایک اللہ ہی کیوں یاد آتا ہے ؟ گویا ایک اللہ کو ماننا اور اس پر ایمان رکھنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ کسی شخص میں شرافت کی کچھ بھی رمق موجود ہو تو اس طرح کے سوالات کے جواب میں اس کا دل ضرور گواہی دیتا ہے کہ ہاں بات تو ٹھیک ہے ‘ ایسے مواقع پر ہماری اندرونی کیفیت بالکل ایسی ہی ہوتی ہے اور بےاختیار اللہ ہی کا نام زبان پر آتا ہے۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ
📘 آیت 42 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلآی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰہُمْ بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ یہاں رسولوں کے بارے میں ایک اہم قانون بیان ہو رہا ہے واضح رہے کہ یہاں انبیاء نہیں بلکہ رسول مراد ہیں۔ جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا جاتا تھا تو اس قوم کو خواب غفلت سے جگانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے چھوٹے چھوٹے عذاب آتے تھے ‘ لیکن اگر وہ قوم اس کے باوجود بھی نہ سنبھلتی اور اپنے رسول پر ایمان نہ لاتی ‘ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رسّی ڈھیلی کردی جاتی تھی ‘ تاکہ جو چند دن کی مہلت ہے اس میں وہ خوب دل کھول کر من مانیاں کرلیں۔ پھر اچانک اللہ کا بڑا عذاب ان کو آ پکڑتا تھا جس سے وہ قوم نیست و نابود کردی جاتی تھی۔ یہ مضمون اصل میں سورة الاعراف کا عمود ہے اور وہاں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 آیت 43 فَلَوْلَآ اِذْ جَآءَ ہُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔یعنی اللہ کی طرف سے بار بار کی تنبیہات کے باوجود سوچنے ‘ سمجھنے اور اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے۔
فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ
📘 آیت 44 فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ط۔کہ اب کھاؤ پیو ‘ عیش کرو ‘ اب دنیا میں ہر قسم کی نعمتیں تمہیں ملیں گی ‘ تاکہ اس دنیا میں جو تمہارا نصیب ہے اس سے خوب فائدہ اٹھا لو۔
فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا ۚ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
📘 آیت 44 فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ط۔کہ اب کھاؤ پیو ‘ عیش کرو ‘ اب دنیا میں ہر قسم کی نعمتیں تمہیں ملیں گی ‘ تاکہ اس دنیا میں جو تمہارا نصیب ہے اس سے خوب فائدہ اٹھا لو۔
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصَارَكُمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ مَنْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ يَأْتِيكُمْ بِهِ ۗ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ ثُمَّ هُمْ يَصْدِفُونَ
📘 آیت 46 قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰہُ سَمْعَکُمْ وَاَبْصَارَکُمْ وَخَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ مَّنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِہٖ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُوْنَ ع اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں کے مصداق ہم یہ سارے مضامین پھرا پھرا کر ‘ مختلف انداز سے مختلف اسالیب سے ان کے سامنے لا رہے ہیں ‘ مگر اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کر رہے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔
قُلْ أَرَأَيْتَكُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ
📘 آیت 47 قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَاب اللّٰہِ بَغْتَۃً اَوْ جَہْرَۃً ہَلْ یُہْلَکُ الاَّ الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ یہ عذاب اچانک آئے یا بتدریج ‘ پیشگی اطلاع کے بغیر وارد ہوجائے یا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر کے آئے ‘ ہلاک تو ہر صورت میں وہی لوگ ہوں گے جو رسول علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا کر ‘ اپنی جانوں پر ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اب انبیاء و رسل علیہ السلام کی بعثت کا وہی بنیادی مقصد بیان ہو رہا ہے جو اس سے پہلے ہم سورة النساء آیت 165 میں پڑھ چکے ہیں : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ۔۔
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ۖ فَمَنْ آمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
📘 آیت 48 وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یعنی تمام انبیاء و رسل اہل حق کے لیے بشارت دینے والے اور اہل باطل کے لیے خبردار کرنے والے تھے۔
وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ
📘 آیت 48 وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یعنی تمام انبیاء و رسل اہل حق کے لیے بشارت دینے والے اور اہل باطل کے لیے خبردار کرنے والے تھے۔
فَقَدْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ ۖ فَسَوْفَ يَأْتِيهِمْ أَنْبَاءُ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
📘 آیت 5 فَقَدْ کَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہُمْ ط یہاں فَقَدْ کَذَّبُوْا کا انداز ملاحظہ کیجیے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورتیں ہیں۔ گویا حضور ﷺ کو دعوت دیتے ہوئے تقریباً بارہ برس ہوچکے ہیں۔ چناچہ اب تک بھی جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر پورے طور سے جم چکے ہیں۔فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ مشرکین مکہ مذاق اڑاتے تھے کہ عذاب کی دھمکیاں سنتے سنتے ہمیں بارہ سال ہوگئے ہیں ‘ یہ سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں کہ عذاب آنے والا ہے ‘ لیکن اب تک کوئی عذاب نہیں آیا۔ لہٰذایہ خالی دھونس ہے ‘ صرف دھمکی ہے۔ اس طرح وہ لوگ اللہ کی آیات کا استہزا کرتے تھے۔ یہاں دو ٹوک انداز میں واضح کیا جا رہا ہے کہ جن چیزوں کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ان کی حقیقت عنقریب ان پر کھلنی شروع ہوجائے گی۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس گروپ کی پہلی دو مکی سورتیں الانعام اور الاعراف مشرکین عرب پر اتمام حجت کی سورتیں ہیں اور ان کے بعد دو مدنی سورتوں الانفال اور التوبہ میں مشرکین مکہ پر عذاب موعود کا بیان ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں پر عذاب کی پہلی قسط غزوۂ بدر میں آئی تھی۔ چناچہ سورة الانفال میں غزوۂ بدر کے حالات و واقعات پر تبصرہ ہے اور اس عذاب کی آخری صورت کی تفصیل سورة التوبہ میں بیان ہوئی ہے۔ اسی مناسبت سے دو مکی اور دو مدنی سورتوں پر مشتمل یہ ایک گروپ بن گیا ہے۔
قُلْ لَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَائِنُ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ
📘 آیت 50 قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآءِنُ اللّٰہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ ج تم لوگ مجھ سے معجزات کے مطالبات کرتے ہو اور غیب کے احوال پوچھتے ہو ‘ لیکن کسی شخص سے مطالبہ تو کیا جانا چاہیے اس کے دعوے کے مطابق۔ میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میں غیب جانتا ہوں اور الوہیت میں میرا حصہ ہے۔ میرا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں اللہ کا ایک بندہ ہوں ‘ بشر ہوں ‘ مجھ پر وحی آتی ہے ‘ مجھے مامور کیا گیا ہے کہ تمہیں خبردارکر دوں اور وہ کام میں کر رہا ہوں۔
وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ ۙ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
📘 ابھی پچھلے رکوع میں ہم نے پڑھا : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج آیت 48 کہ تمام رسول تبشیر اور انذار کے لیے آتے رہے اور اسی سورت میں ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط آیت 19 یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں خبردار کروں تم لوگوں کو اور ان تمام لوگوں کو بھی جن تک یہ پہنچے۔ یہاں اب پھر قرآن کے ذریعے سے بِہٖ انذار کا حکم آرہا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا کام انذار اور تبشیر ہے جسے آپ اس قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔آیت 51 وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ مشرکین مکہ میں بہت کم لوگ تھے جو بعث بعد الموت کے منکر تھے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کا عقیدہ یہی تھا کہ مرنے کے بعد ہم اٹھائے جائیں گے ‘ قیامت آئے گی اور اللہ کے حضور پیشی ہوگی ‘ لیکن اپنے باطل معبودوں کے بارے میں ان کا گمان تھا کہ وہ وہاں ہمارے چھڑانے کے لیے موجود ہوں گے اور ہمیں بچا لیں گے۔لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَّلاَ شَفِیْعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ ان کو خبردار کردیں کہ اپنے باطل معبودوں اور ان کی شفاعت کے سہارے کے بارے میں اپنی غلط فہمیوں کو دور کرلیں۔ شاید کہ حقیقت حال کا ادراک ہونے کے بعد ان کے دلوں میں کچھ خوف خدا پیدا ہوجائے۔
وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ
📘 آیت 52 وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ط۔دراصل یہ اشارہ ہے اس معاملے کی طرف جو تقریباً تمام رسولوں کے ساتھ پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ عام طور پر رسولوں کی دعوت پر سب سے پہلے مفلس اور نادار لوگ ہی لبیّک کہتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نبی کی محفل میں دیکھ کر صاحب ثروت و حیثیت لوگ اس دعوت سے اس لیے بھی بدکتے تھے کہ اگر ہم ایمان لائیں گے تو ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا قرآن میں خصوصی طور پر ذکر ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم کے سردار کہتے تھے کہ اے نوح ہم تو آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ‘ آپ کے پیغام کو سمجھنا چاہتے ہیں ‘ لیکن ہم جب آپ کے اردگرد ان گھٹیا قسم کے لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھتے ہیں تو ہماری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھیں۔ یہی بات قریش کے سرداران رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ہر وقت جن لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا ہے وہ لوگ ہمارے معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان میں سے اکثر ہمارے غلام ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی میں آپ کی محفل میں بیٹھنا ہمارے شایان شان نہیں۔ ان کی ایسی باتوں کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ ان کی باتوں سے کوئی اثر نہ لیں ‘ آپ ﷺ خواہ مخواہ اپنے ان ساتھیوں کو خود سے دور نہ کریں۔ اگر وہ غریب ہیں یا ان کا تعلق پست طبقات سے ہے تو کیا ہوا ‘ ان کی شان تو یہ ہے کہ وہ صبح شام اللہ کو پکارتے ہیں ‘ اللہ سے مناجات کرتے ہیں ‘ اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں ‘ اس کے روئے انور کے طالب ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔ سورة البقرۃ میں ایسے لوگوں کے بارے میں ہی فرمایا گیا ہے : مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ط آیت 207 کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنی زندگیاں اللہ کی رضائی جوئی کے لیے وقف کردی ہیں۔مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْہِمْ مِّنْ شَیْءٍ یعنی ہر شخص اپنے اعمال کے لیے خود جواب دہ ہے اور ہر شخص کو اپنی کمائی خود کرنی ہے۔ ان کی ذمہ داری کا کوئی حصہ آپ پر نہیں ہے۔ آپ ﷺ کے ذمے آپ کا فرض ہے ‘ وہ آپ ادا کرتے رہیں۔ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت پر ایمان لا رہے ہیں وہ بھی اللہ کی نظر میں ہیں اور جو اس سے پہلوتہی کر رہے ہیں ان کا حساب بھی وہ لے لے گا۔ ہر ایک کو اس کے طرزعمل کے مطابق بدلہ دیاجائے گا۔ نہ آپ ﷺ ان کی طرف سے جواب دہ ہیں اور نہ وہ آپ ﷺ کی طرف سے۔
وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ
📘 آیت 53 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ یہ اللہ کی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص مفلس اور نادار ہے ‘ اگر وہ کسی دولت مند اور صاحب منصب و حیثیت شخص کو حق کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس پر حقارت بھری نظر ڈال کر مسکرائے گا کہ اس کو دیکھو اور اس کی اوقات کو دیکھو ‘ یہ سمجھانے چلا ہے مجھ کو ! حالانکہ اصولی طور پر اس صاحب حیثیت شخص کو غور کرنا چاہیے کہ جو بات اس سے کہی جا رہی ہے وہ صحیح ہے یا غلط ‘ نہ کہ بات کہنے والے کے مرتبہ و منصب کو دیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں۔لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَاط اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ صاحب حیثیت لوگ تو دعویٰ رکھتے ہیں کہ اللہ کا انعام اور احسان تو ہم پر ہوا ہے ‘ دولت مند تو ہم ہیں ‘ چودھراہٹیں تو ہماری ہیں۔ یہ جو گرے پڑے طبقات کے لوگ ہیں ان کو ہم پر فضیلت کیسے مل سکتی ہے ؟ مکہ کے لوگ بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے اپنی کتاب نازل کرنی تھی ‘ کسی کو نبوت دینی ہی تھی تو اس کے لیے کوئی رَجُل مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْم منتخب کیا جاتا۔ یعنی یہ مکہ اور طائف جو دو بڑے شہر ہیں ان میں بڑے بڑے سردار ہیں ‘ سرمایہ دار ہیں ‘ بڑی بڑی شخصیات ہیں ‘ ان میں سے کسی کو نبوت ملتی تو کوئی بات بھی تھی۔ یہ کیا ہوا کہ مکہ کا ایک یتیم جس کا بچپن مفلسی میں گزرا ہے ‘ جوانی مشقت میں کٹی ہے ‘ جس کے پاس کوئی دولت ہے نہ کوئی منصب ‘ وہ نبوت کا دعویدار بن گیا ہے۔ اس قسم کے اعتراضات کا ایک اور مسکت جواب اسی سورة کی آیت 124 میں ان الفاظ میں آئے گا : اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ط ’ ’ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا منصب کس کو دینا چاہیے۔ اور کس میں اس منصب کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ جیسے طالوت کے بارے میں لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ وہ کیسے بادشاہ بن سکتا ہے جبکہ اسے تو مال و دولت کی وسعت بھی نہیں دی گئی : وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط البقرۃ : 247 ہم دولت مند ہیں ‘ ہمارے مقابلے میں اس کی کوئی مالی حیثیت نہیں۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ طالوت کو جسم اور علم کے اندر کشادگی بَسْطَۃً فِی الْْعِلْمِ وَالْجِسْمِ عطا فرمائی گئی ہے۔ لہٰذا اس میں بادشاہ بننے کی اہلیت تم لوگوں سے زیادہ ہے۔یہاں رسول اللہ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ ان غریب و نادار مؤمنین کے ساتھ آپ کا معاملہ کیسا ہونا چاہیے۔
وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۖ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۖ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 آیت 53 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ یہ اللہ کی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص مفلس اور نادار ہے ‘ اگر وہ کسی دولت مند اور صاحب منصب و حیثیت شخص کو حق کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس پر حقارت بھری نظر ڈال کر مسکرائے گا کہ اس کو دیکھو اور اس کی اوقات کو دیکھو ‘ یہ سمجھانے چلا ہے مجھ کو ! حالانکہ اصولی طور پر اس صاحب حیثیت شخص کو غور کرنا چاہیے کہ جو بات اس سے کہی جا رہی ہے وہ صحیح ہے یا غلط ‘ نہ کہ بات کہنے والے کے مرتبہ و منصب کو دیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں۔لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَاط اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ صاحب حیثیت لوگ تو دعویٰ رکھتے ہیں کہ اللہ کا انعام اور احسان تو ہم پر ہوا ہے ‘ دولت مند تو ہم ہیں ‘ چودھراہٹیں تو ہماری ہیں۔ یہ جو گرے پڑے طبقات کے لوگ ہیں ان کو ہم پر فضیلت کیسے مل سکتی ہے ؟ مکہ کے لوگ بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے اپنی کتاب نازل کرنی تھی ‘ کسی کو نبوت دینی ہی تھی تو اس کے لیے کوئی رَجُل مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْم منتخب کیا جاتا۔ یعنی یہ مکہ اور طائف جو دو بڑے شہر ہیں ان میں بڑے بڑے سردار ہیں ‘ سرمایہ دار ہیں ‘ بڑی بڑی شخصیات ہیں ‘ ان میں سے کسی کو نبوت ملتی تو کوئی بات بھی تھی۔ یہ کیا ہوا کہ مکہ کا ایک یتیم جس کا بچپن مفلسی میں گزرا ہے ‘ جوانی مشقت میں کٹی ہے ‘ جس کے پاس کوئی دولت ہے نہ کوئی منصب ‘ وہ نبوت کا دعویدار بن گیا ہے۔ اس قسم کے اعتراضات کا ایک اور مسکت جواب اسی سورة کی آیت 124 میں ان الفاظ میں آئے گا : اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ط ’ ’ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا منصب کس کو دینا چاہیے۔ اور کس میں اس منصب کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ جیسے طالوت کے بارے میں لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ وہ کیسے بادشاہ بن سکتا ہے جبکہ اسے تو مال و دولت کی وسعت بھی نہیں دی گئی : وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط البقرۃ : 247 ہم دولت مند ہیں ‘ ہمارے مقابلے میں اس کی کوئی مالی حیثیت نہیں۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ طالوت کو جسم اور علم کے اندر کشادگی بَسْطَۃً فِی الْْعِلْمِ وَالْجِسْمِ عطا فرمائی گئی ہے۔ لہٰذا اس میں بادشاہ بننے کی اہلیت تم لوگوں سے زیادہ ہے۔یہاں رسول اللہ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ ان غریب و نادار مؤمنین کے ساتھ آپ کا معاملہ کیسا ہونا چاہیے۔
وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ
📘 آیت 55 وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔یہاں پرنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ کے بعد لِیَتَفَکَّرُوْا بِھَا محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ہم آیات کی تفصیل اس لیے بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان پر غور و فکر کریں۔ اگر وہ ان پر غور کریں گے ‘ تفکر کریں گے تو مجرموں کا راستہ ان کے سامنے کھل کر واضح ہوجائے گا۔
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۚ قُلْ لَا أَتَّبِعُ أَهْوَاءَكُمْ ۙ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
📘 آیت 56 قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط۔ یہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ جن کو تم لوگ اللہ کے علاوہ معبود مانتے ہو ‘ ان کو میں نہیں پکار سکتا۔ مجھے اس سے منع کردیا گیا ہے۔ مجھے تو حکم دیا گیا ہے : لَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا الجن کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔
قُلْ إِنِّي عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَكَذَّبْتُمْ بِهِ ۚ مَا عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الْحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ
📘 آیت 57 قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ یہ بیّنہ ہے کیا ؟ اس کی وضاحت سورة ھود میں آئے گی۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ ایک عام انسان کے لیے بَیِّنَہ دو چیزوں سے مل کر بنتی ہے ‘ انسان کی فطرت سلیمہ اور وحی الٰہی۔ فطرت سلیمہ اور عقل سلیم انسان کے اندر اللہ کی طرف سے ودیعت کردی گئی ہے جس کی بنا پر اس کو نیکی بدی اور اچھے برے کی تمیز فطری طور پر مل گئی ہے۔ اس کے بعد اگر کسی انسان تک نبی یا رسول کے ذریعے سے اللہ کی وحی بھی پہنچ گئی اور اس وحی نے بھی ان حقائق کی تصدیق کردی جن تک وہ اپنی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کی راہنمائی میں پہنچ چکا تھا ‘ تو اس پر حجت تمام ہوگئی۔ اس طرح یہ دونوں چیزیں یعنی فطرت سلیمہ اور وحی الٰہی مل کر اس شخص کے لیے بیّنہ بن گئیں۔ پھر اللہ کا رسول اور وحی الٰہی دونوں مل کر بھی لوگوں کے حق میں بَیِّنَہبن جاتے ہیں۔ خود رسول ﷺ کے حق میں بَیِّنَہیہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کی راہنمائی میں جن حقائق تک پہنچ چکے تھے وحی الٰہی نے آکر ان حقائق کو اجاگر کردیا۔ چناچہ حضور ﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ آپ ان کو بتائیں کہ میں کوئی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں نہیں مار رہا ‘ میں تو اپنے رب کی طرف سے بیّنہ پر ہوں۔ میں جس راستے پر چل رہا ہوں وہ بہت واضح اور روشن راستہ ہے ‘ اور مجھ پر اس کی باطنی حقیقت بھی منکشف ہے۔وَکَذَّبْتُمْ بِہٖط مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ ط۔وہ لوگ جلدی مچا رہے تھے کہ لے آئیے ہمارے اوپر عذاب۔ دس برس سے آپ ہمیں عذاب کی دھمکیاں دے رہے ہیں ‘ اب جب کہ ہم نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا ہے تو وہ عذاب ہم پر آکیوں نہیں جاتا ؟ جواب میں حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ انہیں صاف الفاظ میں بتادیں کہ عذاب کا فیصلہ میرے اختیار میں نہیں ہے ‘ وہ عذاب جب آئے گا ‘ جیسا آئے گا ‘ اللہ کے فیصلے سے آئے گا اور جب وہ چاہے گا ضرور آئے گا۔
قُلْ لَوْ أَنَّ عِنْدِي مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِيَ الْأَمْرُ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۗ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ
📘 آیت 58 قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بالظّٰلِمِیْنَ۔ ۔ان الفاظ سے ایک حد تک تلخی اور بیزاری ظاہر ہو رہی ہے کہ اگر یہ فیصلہ کرنا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہیں مزید مہلت نہ دیتا۔ اب میں بھی تمہارے رویے سے تنگ آچکا ہوں ‘ میرے بھی صبر کا پیمانہ آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔
۞ وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
📘 آیت 59 وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَآ اِلاَّ ہُوَط وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ الاَّ یَعْلَمُہَا وَلاَحَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَّلاَ یَابِسٍ الاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ۔ یہ کتاب مبین اللہ کا علم قدیم ہے ‘ جس میں ہر شے مَا کَانَ وَ مَایَکُوْن آن واحد کی طرح موجود ہے۔
أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْأَنْهَارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَنْشَأْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِينَ
📘 آیت 6 اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ اے قوم قریش ! ذرا قوم عاد کی شان و شوکت کا تصور کرو ! وہ لوگ اسی جزیرہ نمائے عرب میں آباد تھے۔ اس قوم کی عظمت کے قصے ابھی تک تمہیں یاد ہیں۔ قوم ثمود بھی بڑی طاقتور قوم تھی ‘ اپنے علاقے میں ان کا بڑا رعب اور دبدبہ تھا۔ وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ایسے عالی شان محل بناتے تھے کہ تم لوگ آج اس اہلیت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہو۔ ہم نے ان قوموں کو زمین میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی جو تم کو نہیں دی۔ تو جب ہم نے ایسی عظیم الشان اقوام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تو تمہاری کیا حیثیت ہے ؟وَاَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْہِمْ مِّدْرَارًاص وَّجَعَلْنَا الْاَنْہٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمْ ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور انہیں خوشحالی عطا کی۔ بارش کا پانی برکت والا مَآ ءً مُبَارَکًا ہوتا ہے جس سے زمین کی روئیدگی خوب بڑھتی ہے ‘ فصلوں اور اناج کی بہتات ہوتی ہے۔فَاَہْلَکْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِہِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ۔ مطلب یہ ہے کہ اس قانون کے مطابق تم کس کھیت کی مولی ہو ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بدل جائے گا ؟اگلی آیت میں اس سورة مبارکہ کا مرکزی مضمون مذکور ہے۔ جس دور میں یہ سورتیں نازل ہوئی تھیں اس دور میں حضور ﷺ پر قریش مکہ کا بےانتہا دباؤ تھا کہ اگر آپ ﷺ رسول ہیں اور ہم سے اپنی رسالت منوانا چاہتے ہیں تو کوئی حسی معجزہ ہمیں دکھایئے ‘ جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مردہ کو زندہ کیجیے ‘ آسمان پر چڑھ کر دکھایئے ‘ مکہ میں کوئی باغ بنا دیجیے ‘ کوئی نیا چشمہ نکال دیجیے ‘ سونے چاندی کا کوئی محل بنا دیجیے ‘ آسمان سے کتاب لے کر آپ ﷺ کو اترتے ہوئے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں ‘ وغیرہ۔ ان کی طرف سے اس طرح کے تقاضے روز بروز زور پکڑتے جا رہے تھے اور عوام الناس میں یہ سوچ بڑھتی جا رہی تھی کہ ہمارے سرداروں کے یہ مطالبات ٹھیک ہی تو ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی اپنی قوم کو کیسے کیسے معجزے دکھائے تھے ! اگر آپ ﷺ بھی نبوت کے دعوے دار ہیں تو ویسے معجزات کیوں نہیں دکھاتے ؟ جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ اب کوئی ایسا حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ سب سے بڑا معجزہ قرآن نازل کردیا گیا ہے۔ جو شخص حق کا طالب ہے اس کے لیے اس میں ہدایت موجود ہے۔ ان حالات میں حضور ﷺ کی جان مبارک کس قدر ضیق تنگی میں آچکی تھی۔ گویا چکی کے دو پاٹ تھے جن کے درمیان حضور ﷺ کی ذات گرامی آگئی تھی۔ یہ اس سورة کا مرکزی مضمون ہے۔ آگے چل کر جب یہ موضوع اپنے نقطۂ عروج climax کو پہنچتا ہے تو اسے پڑھتے ہوئے واقعتا رونگٹے کھڑے ہوجانے والی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔
وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُسَمًّى ۖ ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
📘 آیت 60 وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰٹکُمْ بالَّیْلِ سورۂ آل عمران کی آیت 55 کی تشریح کے سلسلے میں یُوَفِّیْ ‘ یَتَوَفّٰی اور مُتَوَفِّیوغیرہ الفاظ کی وضاحت ہوچکی ہے ‘ جس سے قادیانیوں کی ساری خباثت کا توڑ ہوجاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے ! یہاں وفات دینے کے کیا معنی ہیں ؟ کیا نیند کے دوران انسان مرجاتا ہے ؟ نہیں ‘ جان تو بدن میں رہتی ہے ‘ البتہ شعور نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں تین چیزیں الگ الگ ہیں ‘ جسم ‘ جان اور شعور۔ فارسی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے جاں نہاں در جسم ‘ اُو در جاں نہاں اے نہاں ‘ اندر نہاں ‘ اے جان جاں !جان جسم کے اندر پنہاں ہے اور جان میں وہ پنہاں ہے۔ اے کہ جو پنہاں شے کے اندر پنہاں ہے ‘ تو ہی تو جان جاں ہے !اس شعر میں او وہ سے مراد کچھ اور ہے ‘ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ اس وقت صرف یہ سمجھ لیجیے کہ ان تین چیزوں یعنی جسم ‘ جان اور شعور میں سے نیند میں صرف شعور جاتا ہے جبکہ موت میں شعور بھی جاتا ہے اور جان بھی چلی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تَوَفِّی مکمل صورت میں وقوع پذیر ہوا تھا ‘ یعنی جسم ‘ جان اور شعور تینوں چیزوں کے ساتھ۔ عام آدمی کی موت کی صورت میں یہ تَوَفِّی ادھورا ہوتا ہے ‘ یعنی جسم یہیں رہ جاتا ہے ‘ جان اور شعور چلے جاتے ہیں ‘ جب کہ نیند کی حالت میں صرف شعور جاتا ہے۔وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ج۔یعنی روزانہ ہم ایک طرح سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ‘ کیونکہ نیند آدھی موت ہوتی ہے۔ جیسے صبح کے وقت اٹھنے کی مسنون دعا میں مذکور ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دوبارہ زندہ کیا ‘ اس کے بعد کہ مجھ پر موت وارد کردی تھی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے۔ اس دعا سے ایک بڑاعجیب نکتہ ذہن میں آتا ہے۔ وہ یہ کہ ہر روز صبح اٹھتے ہی جس شخص کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہوں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ قیامت کے دن جب وہ قبر سے اٹھے گا تو دنیا میں اپنی عادت کے سبب اس کی زبان پر خود بخود یہی ترانہ جاری ہوجائے گا ‘ جو اس وقت لفظی اعتبار سے صد فی صد درست ہوگا ‘ کیونکہ وہ اٹھنا حقیقی موت کے بعد کا اٹھنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں روزانہ اس کی ریہرسل کی جائے تاکہ یہ عادت پختہ ہوجائے۔
وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ
📘 آیت 61 وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط۔اللہ تعالیٰ کی مشیت سے انسان کو اپنی اجل معیّن تک بہر صورت زندہ رہنا ہے ‘ اس لیے ہر انسان کے ساتھ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے اس کے باڈی گارڈز کی حیثیت سے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ چناچہ کبھی انسان کو ایسا حادثہ بھی پیش آتا ہے جب زندہ بچ جانے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہوتا ‘ لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ہاتھ دے کر اسے بچایا لیاہو۔ بہر حال جب تک انسان کی موت کا وقت نہیں آتا ‘ یہ محافظ اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُوْنَ اب یہاں پھر لفظ تَوَفّٰی شعور اور جان دونوں کے جانے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرشتے جان نکالنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ انہیں جو حکم دیا جاتا ہے ‘ جب دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۚ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ
📘 آیت 62 ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰٹہُمُ الْحَقِّ ط اَلاَ لَہُ الْحُکْمُقف وَہُوَ اَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ۔ حقیقی حاکمیت صرف اللہ ہی کی ہے۔ یہ بات یہاں دوسری دفعہ آئی ہے۔ اس سے پہلے آیت 57 میں ہم پڑھ آئے ہیں : اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ کہ فیصلے کا اختیار کلیتاً اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مزید فرمایا کہ وہ سب سے زیادہ تیز حساب چکانے والا ہے۔ اسے حساب چکانے میں کچھ دیر نہیں لگے گی ‘ صرف حرف کن کہنے سے آن واحد میں وہ سب کچھ ہوجائے گا جو وہ چاہے گا۔
قُلْ مَنْ يُنَجِّيكُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَئِنْ أَنْجَانَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
📘 آیت 63 قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ج۔کبھی تم نے غور کیا جب تم سمندر میں سفر کرتے ہو ‘ وہاں گھپ اندھیرے میں جب ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا اور سمندر کی خوفناک طوفانی لہریں ہر لمحہ موت کا پیغام دے رہی ہوتی ہیں تو ایسے میں اللہ کے سوا تمہیں کون بچاتا ہے ؟ کون ہے جو تمہاری دستگیری کرتا ہے اور تمہارے لیے عافیت کا راستہ نکالتا ہے۔ اسی طرح ع اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو ! کے مصداق جب کوئی قافلہ صحرا میں بھٹک جاتا ہے ‘ اندھیری رات میں نہ دائیں کا پتا ہوتا ہے نہ بائیں کی خبر ‘ ہر درخت اندھیرے میں ایک آسیب معلوم ہوتا ہے ‘ ایسے خوفناک ماحول اور انتہائی مایوسی کے عالم میں سب خداؤں کو بھلا کر تم لوگ ایک اللہ ہی کو پکارتے ہو۔
قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُمْ مِنْهَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنْتُمْ تُشْرِكُونَ
📘 آیت 64 قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْہَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ مصیبت سے نجات کے بعد پھر سے تمہیں دیویاں ‘ دیوتا ‘ جھوٹے معبود ‘ اور اپنے سردار یاد آجاتے ہیں۔ اب اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں عذاب الٰہی کی تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ۗ انْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ
📘 آیت 65 قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلآی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ مثلاً آسمان کا کوئی ٹکڑا یا کوئی شہاب ثاقب meteorite گرجائے۔ آج کل ایسی خبریں اکثر سننے کو ملتی ہیں کہ اس طرح کی کوئی چیز زمین پر گرنے والی ہے ‘ لیکن پھر اللہ کے حکم سے وہ خلا میں ہی تحلیل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ozone کی تہہ بھی اللہ تعالیٰ نے زمین اور زمین والوں کے بچاؤ کے لیے پیدا کی ہے ‘ وہ چاہے تو اس حفاظتی چھتری کو ہٹا دے۔ بہرحال آسمانوں سے عذاب نازل ہونے کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے اور اللہ جب چاہے یہ عذاب نازل ہوسکتا ہے۔اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ یہ عذاب تمہارے قدموں کے نیچے سے بھی آسکتا ہے ‘ زمین پھٹ سکتی ہے ‘ زلزلے کے باعث شہروں کے شہر زمین میں دھنس سکتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں خبر دی گئی ہے کہ قیامت سے پہلے تین بڑے بڑے خسف ہوں گے ‘ یعنی زمین وسیع پیمانے پر تین مختلف جگہوں سے دھنس جائے گی۔ عذاب کی دو شکلیں تو یہ ہیں ‘ اوپر سے یا قدموں کے نیچے سے۔اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ط یہ خانہ جنگی کی صورت میں عذاب کا ذکر ہے کہ کسی ملک کے عوام یا قوم کے مختلف گروہ آپس میں لڑپڑیں۔ جیسے پنجابی اور اردو بولنے والے آپس میں الجھ جائیں ‘ بلوچ اور پختون ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں ‘ شیعہ سنی کو مارے اور سنی شیعہ کو۔ اللہ تعالیٰ کو آسمان سے کچھ گرانے کی ضرورت ہے نہ زمین کو دھنسانے کی۔ یہ گروہ بندی اور اس کی بنیاد پر باہمی خون ریزی عذاب الٰہی کی بد ترین شکل ہے ‘ جو آج مسلمانان پاکستان پر مسلط ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جب ہندو سے مقابلہ تھا تو مسلمان ایک قوم تھے۔ پاکستان بنا تو اس کے تمام باسی پاکستانی تھے۔ اب یہی پاکستانی قوم چھوٹی چھوٹی قومیتوں اور عصبیتوں میں تحلیل ہوچکی ہے اور ہر گروہ دوسرے گروہ کا دشمن ہے۔ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُوْنَ ۔تصریف کے معنی ہیں گھمانا۔ ع اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں کے مصداق ایک ہی بات کو اسلوب بدل بدل کر ‘ مختلف انداز میں ‘ نئی نئی ترتیب کے ساتھ بیان کرنا۔
وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ۚ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ
📘 آیت 66 وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَہُوَ الْحَقُّ ط۔یہاں بِہٖ سے مراد قرآن ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ‘ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا ‘ محمد رسول اللہ ﷺ کا اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اسی لیے اس مضمون کی تفصیل میں بِہٖکی تکرار کثرت سے ملے گی۔قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ۔اب میں نہیں کہہ سکتا کہ کب اللہ کے عذاب کا دروازہ کھل جائے اور عذاب ہلاکت تم پر ٹوٹ پڑے۔
لِكُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
📘 آیت 67 لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّز وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ۔جیسا کہ سورة الانبیاء میں فرمایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ میں یہ تو نہیں جانتا کہ جس عذاب کی تمہیں دھمکی دی جا رہی ہے وہ قریب آچکا ہے یا دور ہے۔ البتہ یہ ضرورجانتا ہوں کہ اگر تمہاری روش یہی رہی تو یہ عذاب تم پر ضرورآ کر رہے گا۔اب وہ آیت آرہی ہے جس کا حوالہ سورة النساء کی آیت 140 میں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ بات نازل کرچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے پاس مت بیٹھو۔۔ ایمان کا کم از کم تقاضا ہے کہ ایسی محفل سے احتجاج کے طور پر واک آؤٹ تو ضرور کیا جائے۔
وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَىٰ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
📘 آیت 68 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ اردو میں غور وخوض کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ غور اور خوض دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اور معانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’ غور ‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’ خوض ‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اتارنے کے معنی دیتا ہے۔حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ط یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کرلو ‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنے لگیں تو پھر تم ان کے پاس جاسکتے ہو۔وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ ۔یعنی کسی محفل میں گفتگو شروع ہوئی اور کچھ دیر تک تمہیں احساس نہیں ہوا کہ یہ لوگ کس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں ‘ لیکن جونہی احساس ہوجائے کہ ان کی گفتگو اور انداز گفتگو قابل اعتراض ہے تو احتجاج کرتے ہوئے فوراً وہاں سے واک آؤٹ کر جاؤ۔ اب چونکہ دعوت و تبلیغ کے لیے تمہارا ان کے پاس جانا ایک ضرورت ہے لہٰذا ایسی محفلوں کے بارے میں کسی بہترصورت حال کے منتظر رہو ‘ اور جب ان لوگوں کا رویہ مثبت ہو تو ان کے پاس دوبارہ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ یعنی وہی قَا لُوْا سَلٰمًا والا انداز ہونا چاہیے کہ علیحدہ بھی ہوں تو لٹھ مار کر نہ ہوا جائے بلکہ چپکے سے ‘ متانت کے ساتھ کنارہ کرلیا جائے۔
وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَلَٰكِنْ ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
📘 آیت 68 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ اردو میں غور وخوض کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ غور اور خوض دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اور معانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’ غور ‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’ خوض ‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اتارنے کے معنی دیتا ہے۔حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ط یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کرلو ‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع پر گفتگو کرنے لگیں تو پھر تم ان کے پاس جاسکتے ہو۔وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔ ۔یعنی کسی محفل میں گفتگو شروع ہوئی اور کچھ دیر تک تمہیں احساس نہیں ہوا کہ یہ لوگ کس موضوع پر گفتگو کر رہے ہیں ‘ لیکن جونہی احساس ہوجائے کہ ان کی گفتگو اور انداز گفتگو قابل اعتراض ہے تو احتجاج کرتے ہوئے فوراً وہاں سے واک آؤٹ کر جاؤ۔ اب چونکہ دعوت و تبلیغ کے لیے تمہارا ان کے پاس جانا ایک ضرورت ہے لہٰذا ایسی محفلوں کے بارے میں کسی بہترصورت حال کے منتظر رہو ‘ اور جب ان لوگوں کا رویہ مثبت ہو تو ان کے پاس دوبارہ جانے میں کوئی حرج نہیں۔ یعنی وہی قَا لُوْا سَلٰمًا والا انداز ہونا چاہیے کہ علیحدہ بھی ہوں تو لٹھ مار کر نہ ہوا جائے بلکہ چپکے سے ‘ متانت کے ساتھ کنارہ کرلیا جائے۔
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتَابًا فِي قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِأَيْدِيهِمْ لَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
📘 آیت 7 وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ وہ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کا اثر ہوگیا ہے ‘ ہماری نظر بند کردی گئی ہے۔ جس نے نہیں ماننا اس نے صریح معجزات دیکھ کر بھی نہیں ماننا۔ البتہ اگر ہم ایسا معجزہ دکھا دیں گے تو ان کی مہلت ختم ہوجائے گی اور پھر اس کے بعد فوراً عذاب آجائے گا۔ ابھی ہماری رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں مزیدمہلت دی جائے۔ ابھی اس دودھ کو مزید بلویا جانا مقصود ہے کہ شاید اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ اس لیے حسی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا۔
وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ وَذَكِّرْ بِهِ أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا كَسَبَتْ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيٌّ وَلَا شَفِيعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ۖ لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ
📘 آیت 70 وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّلَہْوًا آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دین کے معاملے میں کبھی سنجیدہ ہوتے ہی نہیں۔ وہ دین کی ہر بات کو استہزا اور تمسخر میں اڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا ان کی ساری توجہ ‘ تمام بھاگ دوڑ دنیا کے لیے ہے۔ زیادہ سے زیادہ کمانا ‘ مال جمع کرنا اور جائیدادیں بنانا ہی ان کا مقصد حیات ہے ‘ خواہ حلال سے ہو یا حرام سے ‘ اس کی کوئی پروا ان کو نہیں ہوتی۔ وَذَکِّرْ بِہٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْق۔سورۂ قٓ کی آخری آیت میں حکم دیا گیا ہے : فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ کہ آپ قرآن کے ذریعے سے تذکیر کیجیے اس شخص کو جس کے اندر اللہ کی وعید کا کچھ خوف ہے۔ اسی طرح یہاں بھی حضور ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان دنیا کے پرستاروں کو چھوڑیے ‘ البتہ اس قرآن کے ذریعے سے انہیں تذکیر کرتے رہیے ‘ انہیں یاد دہانی کراتے رہیے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے کرتوتوں اور بد اعمالیوں کے وبال میں گرفتار ہوجائے۔لَیْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیٌّ وَّلاَ شَفِیْعٌ ج شفاعت کے بارے میں دو ٹوک انکار categorical denial یہاں دوسری دفعہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 51 میں بھی یہ مضمون آچکا ہے۔ سورة البقرۃ آیت 254 میں یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ط کے دو ٹوک الفاظ کے بعد اگلی آیت آیت الکرسی میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں : مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ الاَّ بِاِذْنِہٖ ط چناچہ شفاعت حقہ کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اس مسئلے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شفاعت کی کچھ شرائط اور کچھ حدود limits ہیں۔ ان شرائط اور حدود وقیود کے بغیر مطلق شفاعت کا تصور گویا ایمان بالآخرت کی نفی کے مترادف ہے۔ یعنی جب آپ کو چھڑانے والے موجود ہیں تو پھر ڈر کا ہے کا ؟ جو چاہو کرو ! شرابی ہیں ‘ زانی ہیں ‘ چور ہیں ‘ ڈاکو ہیں ‘ حرام خور ہیں ‘ غبن کرتے ہیں ‘ جو بھی کچھ ہیں ‘ لیکن اے اللہ تیرے محبوب ﷺ کی امت میں ہیں ! تو اگر اسی طرح سے کوئی معاملہ طے ہونا ہے تو خواہ مخواہ کا ہے کو کوئی اپنا ہاتھ روکے ‘ جی بھر کر عیش کیوں نہ کرے ؟ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست !وَاِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْہَا ط یہ مضمون بھی سورة البقرۃ میں دو مرتبہ آیت 48 و 123 آچکا ہے۔
قُلْ أَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَىٰ أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۖ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
📘 آیت 71 قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَنْفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنَا یہ بت کسی کو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ خود پر بیٹھی ہوئی مکھی تک نہیں اڑا سکتے۔ ان کو پکارنے کا کیا فائدہ ؟ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل ؟ بتوں کے بارے میں تو یہ بات خیربہت ہی واضح ہے ‘ لیکن ان کے علاوہ بھی پوری کائنات میں کوئی کسی کے لیے خیر کی کچھ قدرت رکھتا ہے نہ شر کی۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ کا مفہوم یہی ہے۔ یہ یقین جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح جاگزیں ہوجائے تب ہی توحید مکمل ہوتی ہے ‘ جس کے بعد انسان کسی کے آگے سر جھکا کر خواہ مخواہ اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کرتا۔ اسی نکتے کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رض کو مخاطب کر کے اس طرح فرمائی تھی : اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اگر دنیا کے تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے ‘ اور اگر تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے 1۔ لہٰذا یک در گیر و محکم بگیر کے مصداق مدد کے لیے پکارو تو اسی ایک اللہ کو پکارو۔ کسی غیر اللہ کو پکارنے ‘ کسی دوسرے سے سوال کرنے ‘ کسی اور سے ڈرنے ‘ التجائیں کرنے ‘ استغاثہ کرنے کا کیا فائدہ ؟وَنُرَدُّ عَلٰٓی اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ ہَدٰٹنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَص لَہٗٓ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَہٗٓ اِلَی الْہُدَی اءْتِنَا ط یہاں جماعتی زندگی کی برکت اور انفرادی زندگی کی قباحت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اگر آپ اکیلے ہوں ‘ کہیں بھٹک گئے ہوں ‘ تو آپ کے لیے دوبارہ سیدھے راستے پر آنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن جماعتی زندگی میں دوسرے ساتھیوں کے مشورے اور ان کی راہنمائی سے ہر فردکو اپنی سمت کے سیدھا رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جیسے کہ سورة التوبہ میں فرمایا گیا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۔ اے اہل ایمان ‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ساتھ رہوصادقین سچوں کے۔ بعض اوقات انسان بڑی آزمائش میں پھنس جاتا ہے۔ وہ حرام کو حرام سمجھتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس کو اختیار کرنا انتہائی تباہ کن ہے۔ دوسری طرف اس کی مجبوریاں ہیں ‘ بچوں کی محرومیاں ہیں ‘ اہل خانہ کا دباؤ ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لیے درست فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کیفیت میں اس کے حرام میں پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایسے وقت میں اس کو نیک دوست احباب کی معیت حاصل ہو تو وہ نہ صرف اس کو صحیح مشورہ دیتے ہیں بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر سہارا بھی دیتے ہیں۔
وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
📘 آیت 71 قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَنْفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنَا یہ بت کسی کو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ خود پر بیٹھی ہوئی مکھی تک نہیں اڑا سکتے۔ ان کو پکارنے کا کیا فائدہ ؟ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل ؟ بتوں کے بارے میں تو یہ بات خیربہت ہی واضح ہے ‘ لیکن ان کے علاوہ بھی پوری کائنات میں کوئی کسی کے لیے خیر کی کچھ قدرت رکھتا ہے نہ شر کی۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ کا مفہوم یہی ہے۔ یہ یقین جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح جاگزیں ہوجائے تب ہی توحید مکمل ہوتی ہے ‘ جس کے بعد انسان کسی کے آگے سر جھکا کر خواہ مخواہ اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کرتا۔ اسی نکتے کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رض کو مخاطب کر کے اس طرح فرمائی تھی : اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اگر دنیا کے تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے ‘ اور اگر تمام انسان مل کر چاہیں کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں تو اس کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے 1۔ لہٰذا یک در گیر و محکم بگیر کے مصداق مدد کے لیے پکارو تو اسی ایک اللہ کو پکارو۔ کسی غیر اللہ کو پکارنے ‘ کسی دوسرے سے سوال کرنے ‘ کسی اور سے ڈرنے ‘ التجائیں کرنے ‘ استغاثہ کرنے کا کیا فائدہ ؟وَنُرَدُّ عَلٰٓی اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ ہَدٰٹنَا اللّٰہُ کَالَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَص لَہٗٓ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَہٗٓ اِلَی الْہُدَی اءْتِنَا ط یہاں جماعتی زندگی کی برکت اور انفرادی زندگی کی قباحت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اگر آپ اکیلے ہوں ‘ کہیں بھٹک گئے ہوں ‘ تو آپ کے لیے دوبارہ سیدھے راستے پر آنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن جماعتی زندگی میں دوسرے ساتھیوں کے مشورے اور ان کی راہنمائی سے ہر فردکو اپنی سمت کے سیدھا رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جیسے کہ سورة التوبہ میں فرمایا گیا : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۔ اے اہل ایمان ‘ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ساتھ رہوصادقین سچوں کے۔ بعض اوقات انسان بڑی آزمائش میں پھنس جاتا ہے۔ وہ حرام کو حرام سمجھتا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس کو اختیار کرنا انتہائی تباہ کن ہے۔ دوسری طرف اس کی مجبوریاں ہیں ‘ بچوں کی محرومیاں ہیں ‘ اہل خانہ کا دباؤ ہے۔ ایسی حالت میں اس کے لیے درست فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کیفیت میں اس کے حرام میں پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایسے وقت میں اس کو نیک دوست احباب کی معیت حاصل ہو تو وہ نہ صرف اس کو صحیح مشورہ دیتے ہیں بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر سہارا بھی دیتے ہیں۔
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُنْ فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
📘 آیت 73 وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَقِّ ط یعنی یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کے تحت پیدا کیے ہیں۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا گیا : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج آیت 191 اے رب ہمارے ‘ تو نے یہ سب باطل بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ گویا حق کا لفظ یہاں باطل کے مقابلے میں آیا ہے۔وَیَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُ ط جب وہ چاہے گا اس کائنات کی بساط کو لپیٹ دے گا۔ اسی نے اسے حق کے ساتھ بنایا ہے اور اسی کے حکم کے ساتھ یہ لپیٹ دی جائے گی۔ ازروئے الفاظ قرآنی : یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ ط الانبیاء : 104 جس دن ہم ان تمام خلاؤں ‘ فضاؤں اور آسمانوں کو ایسے لپیٹ دیں گے جیسے کتابوں کا طومارلپیٹ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح سورة الزمر میں ارشاد ہوا : وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌم بِیَمِیْنِہٖ ط آیت 67 اور اس روز آسمان اللہ کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔قَوْلُہُ الْحَقُّ ط۔اس کا فرمان شدنی ہے۔ اس کا کُنْ کہہ دینا برحق ہے۔ اسے تخلیق کے لیے کسی اور شے کی ضرورت نہیں ‘ مادہ material یا توانائی energy کچھ بھی اسے درکار نہیں۔وَلَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ط۔اگرچہ حقیقت میں تو اب بھی بادشاہی اسی کی ہے لیکن ابھی جھوٹے سچے کئی بادشاہ ادھر ادھر بیٹھے ہوئے ہیں ‘ جو مختلف ڈراموں کے مختلف کردار ہیں۔ مگر یہ سب کے سب اس دن نسیاً منسیا ہوجائیں گے اور پوچھا جائے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط اور پھر جواب میں خود ہی فرمایا جائے گا : لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ۔ المؤمن عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔اس سورة مبارکہ میں اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور پھر ان کی نسل کے بعض انبیاء کرام علیہ السلام کا ذکر آ رہا ہے۔ انبیاء کے ناموں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ تو سورة النساء کے آخر میں ہم دیکھ آئے ہیں ‘ وہاں ہم نے 13 انبیاء و رسل کے نام پڑھے تھے۔ اب یہاں اس سے ذرا بڑا گلدستہ سجایا گیا ہے ‘ جس میں 17 انبیاء و رسل کے نام شامل ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر یہاں ذرا تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کا کیا انجام ہوا ‘ اس کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں ہے۔ اسی لیے آپ علیہ السلام کے معاملے کو یہاں اس سورة میں الگ کرلیا گیا ہے ‘ کیونکہ اس سورة میں صرف التّذکیر بآلاء اللّٰہ کی مثالیں ہیں ‘ جبکہ سورة الاعراف میں ذَکِّرْھُمْ بِاَیَّام اللّٰہ کے تحت التذکیر بِاَیَّام اللّٰہ کا ظہور نظر آتا ہے۔ چناچہ حضرت نوح ‘ حضرت ھود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر سورة الاعراف میں ہے۔ یہی وہ چھ رسول ﷺ ہیں جن کی قوموں پر عذاب آیا اور ان کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔
۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
📘 آیت 74 وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِہَۃً ج یہاں پر خصوصی طور پر لفظ آزر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کے نام کے طور پر آیا ہے ‘ یہ میرے نزدیک تورات میں مندرج نام کی نفی کرنے کے لیے آیا ہے۔ تورات میں آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ لکھا گیا ہے اور اس کی یہاں تصحیح کی گئی ہے ‘ ورنہ یہاں یہ فقرہ لفظ آزر کے بغیر بھی کافی تھا۔ اس واضح نشاندہی کے باوجود بھی بعض لوگ مغالطے میں پڑگئے ہیں اور انہوں نے تورات میں مذکور نام ہی اختیار کیا ہے۔ جیسے اہل تشیع حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا نام تارخ ہی کہتے ہیں اور آزر جس کا ذکر یہاں آیا ہے اس کو آپ علیہ السلام کا چچا کہتے ہیں۔ انہوں نے یہ موقف کیوں اختیار کیا ہے ‘ اس کی ایک خاص وجہ ہے ‘ جو پھر کسی موقع پر بیان ہوگی۔
وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ
📘 آیت 75 وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہاں ملکوت سے مراد یہ پورا نظام ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کائنات کو چلا رہا ہے۔ یہ نظام گویا ایک Universal Government ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ کارندے اسے چلا رہے ہیں۔ اس نظام کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو کراتا ہے تاکہ ان کا یقین اس درجے کا ہوجائے جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز کے بارے میں ہوتا ہے۔وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔اس فقرے میں و کی وجہ سے ہم اس سے پہلے یہ فقرہ محذوف مانیں گے : تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرسکے وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ اور ہوجائے پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے۔اب آگے جو تفصیل آرہی ہے یہ در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنی قوم پر حجت پیش کرنے کا ایک انداز ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے ذہنی ارتقاء کے کچھ مراحل ہیں ‘ کہ واقعتا انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ستارہ میرا خدا ہے۔ پھر جب وہ چھپ گیا تو انہوں نے سمجھا کہ نہیں نہیں یہ تو ڈوب گیا ہے ‘ یہ خدا نہیں ہوسکتا۔ پھر چاند کو دیکھ کر ایسا ہی سمجھا۔ پھر سورج کو دیکھا تو ایسا ہی خیال ان کے دل میں آیا۔ یہ بعض حضرات کی رائے ہے اور ان الفاظ سے ایسا کچھ متبادر بھی ہوتا ہے ‘ لیکن اس سلسلے میں زیادہ صحیح رائے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی طریقہ اختیار کیا۔ آگے آیت 83 کے ان الفاظ سے اس موقف کی تائید بھی ہوتی ہے : وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط پھر یہ بات بھی واضح رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اللہ کے نبی تھے اور کوئی بھی نبی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اس کی فطرت اور سرشت اتنی خالص ہوتی ہے کہ وہ کبھی شرک میں مبتلا ہو ہی نہیں سکتا۔ انبیاء کا مرتبہ تو بہت ہی بلند ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تو صدیقین کو یہ شان عطا کی ہے کہ وہ بھی شرک میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رض جو صحابہ کرام رض میں سے صدیقین ہیں ‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی کبھی شرک نہیں کیا تھا۔
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ
📘 آیت 76 فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰکَوْکَبًاج قالَ ہٰذَا رَبِّیْ ج یہ سوالیہ انداز بھی ہوسکتا ہے ‘ گویا کہہ رہے ہو کیا یہ میرا رب ہے ؟ اور استعجابیہ انداز بھی ہوسکتا ہے۔ گویا لوگوں کو چونکانے کے لیے ایسے کہا ہو۔فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔میں اس کو اپنا خدا کیسے مان لوں ؟ یہ قوم جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھیجے گئے تھے ستارہ پرست بھی تھی ‘ بت پرست بھی تھی اور شاہ پرست بھی تھی۔ تینوں قسم کے شرک اس قوم میں موجود تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام Babilonia آج کا عراق کے شہر ار میں پیدا ہوئے۔ اس شہر کے کھنڈرات بھی اب دریافت ہوچکے ہیں۔ پھر وہاں سے ہجرت کر کے فلسطین گئے ‘ وہاں سے حجاز گئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وہاں آباد کیا۔ جب کہ اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو فلسطین میں آباد کیا۔ اس وقت عراق میں شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیرے تھے۔ وہ لوگ بت پرستی اور ستارہ پرستی کے ساتھ ساتھ نمرود کی پرستش بھی کرتے تھے ‘ جو دعویٰ کرتا تھا کہ میں خدا ہوں۔ نمرود کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محاجہ مکالمہ ہم سورة البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں ‘ اس میں اس نے کہا تھا : اَنَا اُحْیَٖ واُمِیْتُ کہ میں بھی یہ اختیار رکھتا ہوں کہ جس کو چاہوں زندہ رکھوں ‘ جس کو چاہوں مار دوں۔
فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ
📘 آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔
فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ
📘 آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
📘 آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔
وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ ۖ وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكًا لَقُضِيَ الْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنْظَرُونَ
📘 آیت 8 وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لاَ یُنْظَرُوْنَ یعنی اس دنیا کی زندگی میں یہ جو ساری آزمائش ہے وہ تو غیب کے پردے ہی کی وجہ سے ہے۔ اگر غیب کا پردہ اٹھ جائے تو پھر امتحان ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد تو پھر نتیجے کا اعلان کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے
وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
📘 آیت 80 وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ ط۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام سے حجت بازی شروع کردی کہ یہ تم نے کیا کہہ دیا ہے ‘ تمام دیوی دیوتاؤں کی نفی کردی ‘ سارے ستاروں اور چاند سورج کی ربوہیت سے انکار کردیا ! اب ان دیوی دیوتاؤں اور ستاروں کی نحوست تم پر پڑے گی۔ اب تم انجام کے لیے تیار ہوجاؤ ‘ تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنِط وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْءًا ط۔ہاں اگر اللہ چاہے کہ مجھے کوئی تکلیف پہنچے ‘ کوئی آزمائش آجائے تو ٹھیک ہے ‘ کیونکہ وہ میرا خالق اور میرا رب ہے ‘ لیکن اس کے علاوہ مجھے کسی کا کوئی خوف نہیں ‘ نہ تمہاری کسی دیوی کا ‘ نہ کسی دیوتا کا ‘ نہ کسی ستارے کی نحوست کا اور نہ کسی اور کا۔ وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاط اَفَلاَ تَتَذَکَّرُوْنَ میرے رب کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ تو کیا تم لوگ سوچتے نہیں ہو ‘ عقل سے کام نہیں لیتے ہو ؟
وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
📘 آیت 81 وَکَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا ط۔اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شراکت کی کوئی سند موجود ہی نہیں۔ نہ عقل اور فطرت میں اس کی کوئی بنیاد ہے نہ کسی آسمانی کتاب میں کسی دوسرے معبود کے لیے کوئی گنجائش ہے۔فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بالْاَمْنِج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ یعنی ایک شخص موحد ہے ‘ ایک اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ ساری کائنات کا بلا شرکت غیرے مالک ہے ‘ ہر شے اس کے قبضہ قدرت میں ہے ‘ جبکہ دوسرا وہ ہے جو اللہ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اس کے اقتدار و اختیار میں بعض دوسری ہستیوں کو بھی شریک سمجھتا ہے ‘ کچھ چھوٹے معبودوں اور دیوی دیوتاؤں کو بھی مانتا ہے۔ تو اب ذرا بتاؤ کہ امن ‘ چین ‘ روحانی اطمینان اور حقیقی سکون قلب کا زیادہ حق دار ان دونوں میں سے کون ہوگا ؟ سوال کرنے کے بعد اس کا جواب بھی خود ہی ارشاد فرمایا :
الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ
📘 آیت 82 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ یہاں لفظ ظلم قابل توجہ ہے۔ ظلم کسی چھوٹے گناہ کو بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسی لیے اس لفظ پر صحابہ کرام رض گھبرا گئے تھے کہ حضور کون شخص ہوگا جس نے کبھی کوئی ظلم نہ کیا ہو ؟ اور نہیں تو انسان اپنے اوپر تو کسی نہ کسی حد تک ظلم کرتا ہی ہے۔ گویا اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ کوئی شخص بھی اس شرط پر پورا نہیں اتر سکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ‘ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے ‘ اور پھر آپ ﷺ نے سورة لقمان کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے : وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لابْنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ باللّٰہِط اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔ ۔ چناچہ یہاں پر لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان ایسا ہو جو شرک کی ہر آلودگی سے پاک ہو۔ لیکن شرک کا پہچاننا آسان نہیں ‘ یہ طرح طرح کے بھیس بدلتا رہتا ہے۔ شرک کیا ہے اور شرک کی قسمیں کون کون سی ہیں اور یہ زمانے اور حالات کے مطابق کیسے کیسے بھیس بدلتا رہتا ہے ‘ یہ سب کچھ جاننا ایک مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے ‘ تاکہ جس بھیس اور شکل میں بھی یہ نمودار ہو اسے پہچانا جاسکے۔ بقول شاعر : بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت را می شناسم !تم چاہے کسی بھی رنگ کا لباس پہن کر آجاؤ ‘ میں تمہیں تمہارے قد سے پہچان لیتا ہوں۔ حقیقت و اقسام شرک کے موضوع پر میری چھ گھنٹوں پر مشتمل طویل تقاریر آڈیو ‘ ویڈیو کے علاوہ کتابی شکل میں بھی موجود ہیں ‘ ان سے استفادہ کرنا ‘ ان شاء اللہ ‘ بہت مفید ہوگا۔اُولٰٓءِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ ۔امن اور ایمان اسلام اور سلامتی کا لفظی اعتبار سے آپس میں بڑا گہرا ربط ہے۔ یہ ربط اس دعا میں بہت نمایاں ہوجاتا ہے جو رسول اللہ ﷺ ہر نیا چاند دیکھنے پر مانگا کرتے تھے : اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِا لْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْاِسْلَامِ اے اللہ یہ مہینہ جو شروع ہو رہا ہے اس نئے چاند کے ساتھ اسے ہم پر طلوع فر ما امن اور ایمان ‘ سلامتی اور اسلام کے ساتھ۔۔ قرآن اور امن عالم کے نام سے میرا ایک چھوٹا سا کتابچہ اس موضوع پر بڑی مفید معلومات کا حامل ہے۔
وَتِلْكَ حُجَّتُنَا آتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَىٰ قَوْمِهِ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
📘 آیت 83 وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط اسی آیت کا حوالہ موضوع کے آغاز میں آیا تھا۔ پوری سرگزشت بیان کرنے کے بعد اب فرمایا کہ یہ ہماری وہ حجت تھی جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اس کی قوم کے خلاف عطا کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے جس انداز سے محاجہ کر رہے تھے اس کو توریہکہتے ہیں۔ توریہ سے مراد ایسا انداز گفتگو ہے جس میں جھوٹ بولے بغیر مخاطب کو مغالطے میں مبتلا کردیا جائے۔ مثلاً حضرت شیخ الہند رض کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک زمانے میں انگریز حکومت کی طرف سے ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے۔ اس زمانے میں وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ شریف حسین والی مکہ کے سپاہی انہیں ڈھونڈتے پھر رہے تھے کہ ایک سپاہی نے انہیں کہیں کھڑے ہوئے دیکھا۔ وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا۔ اس نے قریب آکر آپ رح سے پوچھا کہ تم محمود الحسن کو جانتے ہو ؟ آپ رح نے کہا جی ہاں ‘ میں جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ؟ آپ رح نے دو قدم پیچھے ہٹ کر کہا کہ ابھی یہیں تھے۔ اس سے اس سپاہی کو مغالطہ ہوا اور وہ یہ سمجھتے ہوئے وہاں سے دوڑ پڑا کہ ابھی ادھر تھے تو میں جلدی سے یہیں کہیں سے انہیں ڈھونڈ لوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس کلام میں توریہ کا یہ انداز پایا جاتا ہے۔ جیسے آپ علیہ السلام نے بت خانے کے بتوں کو توڑا ‘ اور جس تیشے سے ان کو توڑا تھا وہ اس بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا۔ پوچھنے پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ اس بڑے بت نے ہی یہ کام دکھایا ہوگا جو صحیح سالم کھڑا ہے اور آل واردات بھی اس کے پاس ہے۔ وہاں بھی یہ انداز اختیار کرنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ لوگ سوچنے پر مجبور اور دروں بینی پر آمادہ ہوں۔نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ یعنی ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے درجے بہت بلند کیے ہیں۔ اب انبیاء و رسل کے ناموں کا وہ گلدستہ آ رہا ہے جس کا ذکر پہلے کیا گیا تھا۔
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَ
📘 آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ
📘 آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
📘 آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ وَلَوْ أَشْرَكُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 آیت 88 ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖط وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔یہ انداز ہمیں سمجھانے کی غرض سے اختیار کیا گیا ہے کہ شرک کتنی بری شے ہے۔ ورنہ اس کا کوئی امکان نہیں تھا کہ ایسے اعلیٰ مراتب پر فائز اللہ کے عظیم الشان انبیاء و رسل شرک میں مبتلا ہوتے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک ناقابل معافی جرم ہے ‘ جس کے بارے میں سورة النساء میں دو مرتبہ یہ الفاظ آ چکے ہیں : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ج آیت 48 و 116
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَٰؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ
📘 فَاِنْ یَّکْفُرْ بِہَا ہٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِہَا بِکٰفِرِیْنَ k مقام عبرت ہے ! محمد رسول اللہ ﷺ جیسا رسول ‘ مبلغ ‘ داعی ‘ مربی ‘ مزکی اور معلّم پچھلے بارہ سال سے دن رات محنت کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اب تک صرف ڈیڑھ ‘ پونے دو سو افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں آپ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ مکہ کے یہ لوگ اگر اس دعوت کی ناقدری کر رہے ہیں ‘ اس قرآن کی ناشکری کر رہے ہیں ‘ اس کا انکار کر رہے ہیں اور آپ ﷺ کی دس بارہ سال کی محنت کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں تو آپ ﷺ دل شکستہ نہ ہوں ‘ عنقریب ایک دوسری قوم بڑے ذوق وشوق سے اس دعوت پر لبیک کہنے جا رہی ہے۔ اس خوش قسمت قوم سے مراد انصار مدینہ ہیں۔ اور واقعی اس سلسلے میں اہل مکہ پیچھے رہ گئے اور اہل مدینہ بازی لے گئے۔ بقول شاعر : گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا !دُنیا کے حالات و اسباب کو دیکھتے ہوئے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ دین کے کام میں کیسے کیسے اسباب پیدا فرماتے ہیں اور کہاں کہاں سے کس کس طرح کے لوگوں کے دلوں کو پھیر کر ہدایت کی توفیق دے دیتے ہیں۔ مجھے اپنی دعوت رجوع الی القرآن کے بارے میں بھی اطمینان ہے کہ پاکستان میں اس کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی تو کیا ہوا ‘ یہ دعوت مختلف ذرائع سے پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ‘ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ قرآن کی یہ انقلابی دعوت کس جگہ زمین کے اندر جڑ پکڑ لے اور ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرلے۔
وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُونَ
📘 آیت 9 وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلاً وَّلَلَبَسْنَا عَلَیْہِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ اگر بجائے محمد رسول اللہ ﷺ کے کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجا جاتا تو اسے بھی ہم نے انسانی شکل میں ہی بھیجنا تھا ‘ کیونکہ بھیجنا جو انسانوں کے لیے تھا۔ اس طرح جو التباس انہیں اس وقت ہو رہا ہے وہ التباس اس وقت بھی ہوجاتا۔ ہاں اگر فرشتوں میں بھیجنا ہوتا تو ضرور کوئی فرشتہ ہی بھیجتے۔ حدیث جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے ہمیں معلوم ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس انسانی شکل میں آئے تھے ‘ پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی پتا نہ چلا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں ‘ وہ انہیں انسان ہی سمجھے۔
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ
📘 آیت 90 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰٹہُمُ اقْتَدِہْ ط یعنی ابھی جن ابنیاء و رسل کا ذکر ہوا ہے ‘ سترہ ناموں کا خوبصورت گلدستہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے ‘ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ تھے۔ اس سلسلے میں حضور ﷺ کو فرمایا جا رہا ہے کہ آپ بھی ان کے طریقے کی پیروی کریں۔ اس آیت سے ایک بہت اہم نکتہ اور اصول یہ سامنے آتا ہے کہ سابق انبیاء کی شریعت کا ذکر کرتے ہوئے جن احکام کی نفی نہ کی گئی ہو ‘ وہ ہمارے لیے بھی قابل اتباع ہیں۔ مثلاً رجم کی سزا قرآن میں مذکور نہیں ہے ‘ یہ سابقہ شریعت کی سزا ہے ‘ جس کو حضور ﷺ نے برقرار رکھا ہے۔ اسی طرح قتل مرتد کی سزا کا ذکر بھی قرآن میں نہیں ہے ‘ یہ بھی سابقہ شریعت کی سزا ہے ‘ جس کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس نکتے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ جب تک قرآن و سنت میں سابقہ شریعت کے کسی حکم کی نفی نہیں ہوتی وہ حکم اسلامی شریعت میں برقرار رہتا ہے۔قُلْ لَّآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًاط اِنْ ہُوَ الاَّ ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ یہ قرآن تو بس اہل عالم کے لیے ایک نصیحت ہے ‘ یاد دہانی ہے ‘ جو چاہے اس سے کسب فیض کرے ‘ جو چاہے اس سے نور حاصل کرے ‘ جو چاہے اس سے صراط مستقیم کی راہنمائی اخذ کرلے۔
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِنْ شَيْءٍ ۗ قُلْ مَنْ أَنْزَلَ الْكِتَابَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَىٰ نُورًا وَهُدًى لِلنَّاسِ ۖ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۖ وَعُلِّمْتُمْ مَا لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ
📘 اب اس ردّو قدح کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مکہ کے لوگ یہودیوں کے سکھانے پڑھانے پر حضور ﷺ سے کر رہے تھے۔ اب تک اس سورة میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ خالص مکہ کے مشرکین کی طرف سے تھی اور انہی کے ساتھ سارا مکالمہ اور مناظرہ تھا۔ لیکن جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ دونوں سورتیں سورۃ الانعام اور سورة الاعراف مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئیں۔ اس وقت تک حضور ﷺ کی رسالت اور نبوت کے دعوے کا چرچا مدینہ منورہ میں بھی پہنچ چکا تھا اور اہل کتاب یہود نے خطرے کو بھانپ کر وہیں بیٹھے بیٹھے آپ ﷺ کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں۔ وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں یہاں تک کہہ بیٹھے تھے کہ ان مسلمانوں سے تو یہ مشرک بہتر ہیں جو بتوں کو پوجتے ہیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کی ایک بات وہ ہے جو یہاں کہی جا رہی ہے۔آیت 91 وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ ط وحی الٰہی کے بارے میں یہ صاف انکار denial categorical ان لوگوں کا تھا جو خود کو الہامی کتاب کے وارث سمجھتے تھے۔ اہل مکہ تو چونکہ آسمانی کتابوں سے واقف ہی نہیں تھے اس لیے انہوں نے حضور ﷺ کی نبوت اور وحی کا ذکر یہود سے کیا اور ان سے رائے پوچھی۔ اس پر یہودیوں کا جواب یہ تھا کہ یہ سب خیال اور وہم ہے ‘ اللہ نے کسی انسان پر کبھی کوئی چیز اتاری ہی نہیں۔ اب اہل مکہ نے یہودیوں کے پڑھانے پر قرآن مجید پر جب یہ اعتراض کیا تو اس کے جواب میں مشرکین مکہ سے خطاب نہیں کیا گیا ‘ بلکہ برا ہِ راست یہود کو مخاطب کیا گیا جن کی طرف سے یہ اعتراض آیا تھا ‘ اور ان سے پوچھا گیا کہ اگر اللہ نے کسی انسان پر کبھی کچھ نازل ہی نہیں کیا تو :قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِہٖ مُوْسٰی نُوْرًا وَّہُدًی لِّلنَّاسِ تو کیا تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے من گھڑت تھی ؟ کیا انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھ لیا تھا ؟ تَجْعَلُوْنَہٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَہَا وَتُخْفُوْنَ کَثِیْرًا ج یہود اپنی الہامی کتاب کے ساتھ جو سلوک کرتے رہے تھے وہ بھی انہیں جتلا دیا۔ یہودی علماء نے تورات کے احکام کو نہ صرف پسند اور ناپسند کے خانوں میں تقسیم کردیا تھا بلکہ اپنی من مانی فتویٰ فروشیوں کے لیے اس کو اس طرح چھپا کر رکھا تھا کہ عام لوگوں کی دسترس اس تک ناممکن ہو کر رہ گئی تھی۔ وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلاآ اٰبَآؤُکُمْ ط قُلِ اللّٰہُلا یعنی پھر خود ہی جواب دیجیے کہ تمہاری اپنی الہامی کتابیں تورات اور انجیل بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اب یہ قرآن بھی اللہ ہی نے نازل فرمایا ہے۔
وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَىٰ وَمَنْ حَوْلَهَا ۚ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَهُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ
📘 آیت 92 وَہٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَہَا ط قُریٰ جمع ہے قریہ کی اور اُمُّ القُریٰ کا مطلب ہے بستیوں کی ماں ‘ یعنی کسی علاقے کا سب سے بڑا شہر۔ ہر ملک میں ایک سب سے بڑا اور سب سے اہم شہر ہوتا ہے ‘ اسے دار الخلافہ کہیں یا دار الحکومت۔ وہ بڑا شہر پورے ملک کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ عرب میں اس وقت کوئی مرکزی حکومت نہیں تھی جس کا کوئی دارالحکومت ہوتا ‘ لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر مکہ مکرمہ کو پورے عرب میں ایک مرکزی شہر کی حیثیت حاصل تھی۔ خانہ کعبہ کی وجہ سے یہ شہر مذہبی مرکز تھا۔ عرب کے تمام قبائل یہاں حج کے لیے آتے تھے۔ کعبہ ہی کی وجہ سے قریش مکہ کو خطے کی تجارتی سر گرمیوں میں ایک خاص اجارہ داری monopoly حاصل تھی۔ چناچہ اہل مکہ کے ہاں پیسے کی ریل پیل تھی اور عام لوگ خوشحال تھے۔ یہاں تجارتی قافلوں کا آنا جانا سارا سال لگا رہتا تھا۔ یمن سے قافلے چلتے تھے جو مکہ سے ہو کر شام کو جاتے تھے اور شام سے چلتے تھے تو مکہ سے ہو کر یمن کو جاتے تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر شہر مکہ بجا طور پر علاقے میں اُمُّ القریٰ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ہم نے آپ ﷺ کی طرف یہ کتاب مبارک نازل کی ہے تاکہ آپ ﷺ اُمُّ الْقریٰ میں بسنے والوں کو خبردار کریں اور پھر ان کو بھی جو اس کے ارد گرد بستے ہیں۔ یہاں پر وَمَنْ حَوْلَھَا کے الفاظ میں جو فصاحت اور وسعت ہے اسے بھی سمجھ لیں۔ ماحول کا دائرہ بڑھتے بڑھتے لامحدود ہوجاتا ہے۔ اس کا ایک دائرہ تو بالکل قریبی اور immediate ہوتا ہے ‘ پھر اس سے باہر ذرا زیادہ فاصلے پر ‘ اور پھر اس سے باہر مزید فاصلے پر۔ یہ دائرہ پھیلتے پھیلتے پورے کرۂ ارض پر محیط ہوجائے گا۔ اگر دور نبوی میں کرۂ ارض کی آبادی کو دیکھا جائے تو اس وقت براعظم ایک لحاظ سے تین ہی تھے ‘ ایشیا ‘ یورپ اور افریقہ۔ امریکہ بہت بعد میں دریافت ہوا ہے جبکہ آسٹریلیا اور انٹارکٹیکا بھی معلوم دنیا کا حصہ نہ تھے۔ دنیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو ایشیا ‘ یورپ اور افریقہ تینوں براعظم جہاں پر مل رہے ہیں ‘ تقریباً یہ علاقہ وہ ہے جسے اب مڈل ایسٹ یا مشرق وسطیٰ کہتے ہیں۔ اگرچہ یہ نام مڈل ایسٹ اس علاقے کے لیے misnomer ہے ‘ یعنی درست نام نہیں ہے ‘ لیکن بہرحال یہ علاقہ ایک نقطۂ اتصال ہے جہاں ایشیا ‘ یورپ اور افریقہ آپس میں مل رہے ہیں اور اس جنکشن پر یہ جزیرہ نمائے عرب واقع ہے۔ یہ علاقہ اس اعتبار سے پوری دنیا کے لیے بھی ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ چناچہ مَنْ حَوْلَھَا کے دائرے میں پوری دنیا شامل سمجھی جائے گی۔وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ یعنی قرآن کے مخاطب لوگوں میں سے کچھ تو مشرک ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بعث بعد الموت کے سرے سے ہی منکر ہیں ‘ لیکن جن لوگوں کے دلوں میں مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ کے سامنے جوابدہ ہونے کا ذرا سا بھی تصور موجود ہے وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ اشارہ صالحین اہل کتاب کی طرف ہے۔
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أُوحِيَ إِلَيَّ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ ۗ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ
📘 آیت 93 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْءٌ کوئی بات خود گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردینا یا یہ کہنا کہ مجھ پر کوئی شے وحی کی گئی ہے یہ دونوں شناعت کے اعتبار سے برابر کے گناہ ہیں۔ تو اے اہل مکہ ! ذرا غورتو کرو کہ محمد ﷺ جنہوں نے تمہارے درمیان ایک عمر بسر کی ہے کیا آپ ﷺ کی سیرت و کردار ‘ آپ ﷺ کی زندگی میں تم کوئی ایسا پہلو دیکھتے ہو کہ آپ ﷺ اتنے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب بھی ہوسکتے ہیں ؟ اور ان دو باتوں کے سا تھ ایک تیسری بات :وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ ط۔وہ لوگ اگرچہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس کلام کی نظیر پیش کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ‘ پھر بھی زبان سے الفاظ کہہ دینے کی حد تک کسی نے ایسا کہہ دیا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے زبان دانی کا دعویٰ کرنے والے ماہرین ‘ شعراء اور اُدَباء سمیت اس معاشرے کے تمام لوگوں کو ایک بار نہیں ‘ بار بار یہ چیلنج کیا کہ تم سب سر جوڑ کر بیٹھ جاؤ اور اس جیسا کلام بنا کر دکھاؤ ‘ لیکن کسی میں بھی اس چیلنج کا جواب دینے کی ہمت نہ ہوسکی۔
وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۚ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ
📘 آیت 94 وَلَقَدْ جِءْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ یعنی آج اپنے تمام لاؤ لشکر ‘ مال و متاع اور خدم و حشم سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ آج کوئی بھی ‘ کچھ بھی تمہاری مدد کے لیے تمہارے ساتھ نہیں۔ یہی بات سورة مریم میں اس طرح کہی گئی ہے : وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا کہ قیامت کے دن ہر شخص کا محاسبہ انفرادی حیثیت میں ہوگا۔ اور ظاہر ہے اس کے لیے ہر کوئی اکیلا کھڑا ہوگا ‘ نہ کسی کے رشتہ دار ساتھ ہوں گے ‘ نہ ماں باپ ‘ نہ اولاد ‘ نہ بیوی ‘ نہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر ‘ نہ سازو سامان نہ خدم و حشم !یہاں ایک اور اہم بات نوٹ کیجیے کہ خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ کا مطلب ہے کہ انسان کی تخلیق دو مرتبہ ہوئی ہے۔ ایک تخلیق عالم ارواح میں ہوئی تھی ‘ وہاں بھی سب اکیلے اکیلے تھے ‘ نہ کسی کا باپ ساتھ تھا نہ کسی کی ماں۔ تب ارواح کے مابین کوئی رشتہ داری بھی نہیں تھی۔ یہ رشتہ داریاں تو بعد میں عالم خلق میں آکر ہوئی ہیں۔ آیت زیرنظر میں عالم ارواح کی اسی تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔ عالم ارواح کے اس اجتماع میں بنی نوع انسان کے ہر فرد نے وہ عہد کیا تھا جسے عہد الست کہا جاتا ہے۔ جب پروردگار عالم نے اولاد آدم کی ارواح سے سوال کیا : اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے جواب دیا : بَلٰی الاعراف : 172 کیوں نہیں ! عالم ارواح کے اجتماع اور روز محشر کے اجتماع میں ایک لحاظ سے فرق ہے اور ایک لحاظ سے مشابہت۔ فرق یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں مجرد ارواح کی شمولیت ہوئی تھی ‘ اس وقت تک انسانوں کو جسم عطا نہیں ہوئے تھے ‘ جب کہ روز محشر کے اجتماع میں یہ دنیاوی اجسام بھی ساتھ ہوں گے۔ ان اجتماعات میں مشابہت یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں بھی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ان کی نسل کے آخری انسان تک سب کی ارواح موجود تھیں اور قیامت کے دن بھی یہ سب کے سب انسان اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے۔وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُہُوْرِکُمْ ج۔وہ کون سی چیزیں ہیں جن میں یہاں ہمیں لپیٹ دیا گیا ہے ‘ اس پر غور کی ضرورت ہے۔ اصل چیز تو انسان کی روح ہے۔ اس روح کے لیے پہلا غلاف یہ جسم ہے ‘ پھر اس غلاف کے اوپر کپڑوں کا غلاف ہے ‘ کپڑوں کے اوپر پھر مکان کا غلاف اور پھر دیگر اشیائے ضرورت۔ اس طرح روح کے لیے جسم اور جسم کی ضروریات کے لیے تمام مادّی اشیاء یعنی اس دنیا کا سازو سامان سب کچھ اس میں شامل ہے۔ ہماری روح درحقیقت ان مادی غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ قیامت کے دن ارشاد ہوگا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے حاضر ہوئے ہو اور دنیا کی تمام چیزیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓوءُ ‘ ا ط ان مجرم لوگوں کو جن جن کے بارے میں بھی زعم تھا کہ وہ ان کے لیے قیامت کے دِن شفاعت کریں گے وہ سب وہاں ان سے اعلان براءت کردیں گے۔ لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور دوسرے معبود ان باطل تو کسی شمار و قطار ہی میں نہیں ہوں گے ‘ اس سلسلے میں انبیاء کرام علیہ السلام ‘ ملائکہ اور اولیاء اللہ سے لگائی گئی ان کی امیدیں بھی اس روز بر نہیں آئیں گی۔لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ آج ان ہستیوں میں سے کوئی تمہارے ساتھ نظر نہیں آ رہا جن کی سفارش کی امید کے سہارے پر تم حرام خوریاں کیا کرتے تھے۔
۞ إِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَىٰ ۖ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ
📘 آیت 95 اِنَّ اللّٰہَ فٰلِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ط۔عالم خلق کے اندر جو امور اور معاملات معمول کے مطابق وقوع پذیر ہو رہے ہیں ‘ یہاں ان کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ مثلاً آم کی گٹھلی زمین میں دبائی گئی ‘ کچھ دیر کے بعد وہ گٹھلی پھٹی اور اس میں سے دو پتے نکلے۔ اسی طرح پوری کائنات کا نظام چل رہا ہے۔ بظاہر یہ سب کچھ خود بخود ہوتا نظر آرہا ہے ‘ مگر حقیقت میں یہ سب کچھ ان فطری قوانین کے تحت ہو رہا ہے جو اللہ نے اس دنیا میں فزیکل اور کیمیکل تبدیلیوں کے لیے وضع کردیے ہیں۔ اس لیے اس کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا ذکر شیخ عبدالقادر جیلانی رض نے اپنے وصایا میں کیا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے میرے بچے اس حقیقت کو ہر وقت مستحضر رکھنا کہ لَا فاعلَ فی الحقیقۃ ولا مؤثِّر اِلّا اللّٰہ یعنی حقیقت میں فاعل اور مؤثر اللہ کے سوا کوئی نہیں۔ اشیاء میں جو تاثیر ہے وہ اسی کی عطا کردہ ہے ‘ اسی کے اذن سے ہے۔ تم کسی فعل کا ارادہ تو کرسکتے ہو لیکن فعل کا بالفعل انجام پذیر ہونا تمہارے اختیار میں نہیں ہے ‘ کیونکہ ہر فعل اللہ کے حکم سے انجام پذیرہو تا ہے۔
فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
📘 آیت 96 فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج۔یہ فلق کی دوسری قسم ہے کہ اللہ ہی رات کی سیاہی کا پردہ چاک کر کے سپیدۂ سحر کو نمودار کرتا ہے۔ بظاہریہ بھی خود بخود زمین کی گردش کے تحت ہوتا نظر آتا ہے ‘ لیکن یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے تصرف اور اس کی تدبیر کے بغیر ہو رہا ہے۔ یہ سب بھی ان ہی قوانین کے تحت ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے زمین ‘ چاند ‘ سورج اور دوسرے اجرام فلکی کے بارے میں بنا دیے ہیں۔ اس سب کچھ کا فاعل حقیقی بھی وہی ہے۔وَجَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ط یہ التّذکیر بِآ لَاء اللّٰہ کی مثالیں ہیں ‘ جن کے حوالے سے اللہ کی عظمت ‘ اس کی صفات اور اس کی قدرت کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک لگا بندھا نظام ہے جس کے تحت سورج اور چاند چل رہے ہیں۔ اسی نظام سے دن اور رات بنتے ہیں اور اسی سے مہینے اور سال وجود میں آ رہے ہیں۔
وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
📘 آیت 97 وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَہْتَدُوْا بِہَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط اندھیری راتوں میں قافلے چلتے تھے تو وہ ستاروں سے سمت متعین کر کے چلتے تھے۔ اسی طرح سمندر میں جہاز رانی کے لیے بھی ستاروں کی مدد سے ہی رخ متعین کیا جاتا تھا۔
وَهُوَ الَّذِي أَنْشَأَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
📘 آیت 98 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ظاہر ہے کہ تمام نوع انسانی ایک ہی جان سے وجود میں آئی ہے۔ اس سے حضرت آدم علیہ السلام بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اگر نظریہ ارتقاء میں کوئی حقیقت تسلیم کرلی جائے تو پھر تحقیق کا یہ سفر امیبا Amoeba تک چلا جاتا ہے کہ اس ایک جان سے مختلف ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے انسان بنا۔ امیبا میں کوئی sex یعنی تذکیر و تانیث کا معاملہ نہیں تھا۔ دوران ارتقاء رفتہ رفتہ sex ظاہر ہوا تو خَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا النساء : 1 والا مرحلہ آیا۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر رفیع الدین مرحوم نے اپنی کتاب قرآن اور علم جدید میں بہت عمدہ تحقیق کی ہے اور مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے بھی اس کی تصویب کی ہے۔ جن حضرات کو دلچسپی ہو کہ ایک جان سے تمام بنی نوع انسان کو پیدا کرنے کا کیا مطلب ہے ‘ وہ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔فَمُسْتَقَرٌّ وَّمُسْتَوْدَعٌ ط مستقر اور مستودع کے بارے میں مفسرین کے تین اقوال ہیں :پہلا قول یہ ہے کہ مستقر یہ دنیا ہے جہاں ہم رہ رہے ہیں اور مستودع سے مراد رحم مادر ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ مستقر آخرت ہے اور مستودع قبر ہے۔ قبر میں انسان کو عارضی طور پر امانتاً رکھا جاتا ہے۔ یہ عالم برزخ ہے اور یہاں سے انسان نے بالآخر اپنے مستقر آخرت کی طرف جانا ہے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ مستقر آخرت ہے اور مستودع دنیا ہے۔ دنیا میں جو وقت ہم گزار رہے ہیں یہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی عارضی ہے۔
وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۗ انْظُرُوا إِلَىٰ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكُمْ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
📘 آیت 99 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ج فَاَخْرَجْنَا بِہٖ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًاج ۔کسی بھی فصل یا اناج کا سٹہ دیکھیں تو اس کے دانے نہایت خوبصورتی اور سلیقے سے باہم جڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اُنْظُرُوْٓا اِلٰی ثَمَرِہٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَیَنْعِہٖ ط۔یعنی مختلف درختوں کے پھل لانے اور پھر پھل کے پکنے کے عمل کو ذرا غور سے دیکھا کرو۔ یہاں پر وَیَنْعِہٖکے بعد اِذَا اَیْنَعَ جب وہ پک جائے محذوف مانا جائے گا۔ یعنی اس کے پکنے کو دیکھو کہ کس طرح تدریجاً پکتا ہے۔ پہلے پھل آتا ہے ‘ پھر تدریجاً اس کے اندر تبدیلیاں آتی ہیں ‘ جسامت میں بڑھتا ہے ‘ پھر کچی حالت سے آہستہ آہستہ پکنا شروع ہوتا ہے۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ایسی نشانیوں پر غور کرنے سے کمزور ایمان والوں کا ایمان بڑھ جائے گا ‘ دل کے یقین میں اضافہ ہوجائے گا بفحوائے زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا اور جن کے دلوں میں طلب ہدایت ہے انہیں ایسے مشاہدے سے ایمان کی دولت نصیب ہوگی۔