🕋 تفسير سورة سبأ
(Saba) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
📘 کائنات اپنے خالق کا تعارف ہے۔ اس كي ہیبت ناک وسعت خالق کی عظمت کو بتاتی ہے۔ اس کا حد کمال تک موزوں ہونا بتاتاہے کہ اس کا پیدا کرنے والا ایک کامل ومکمل ہستی ہے۔ اس کے تمام اجزاء کا حد درجہ توافق کے ساتھ عمل کرنا ثابت کرتاہے کہ اس کا چلانے والا انتہائی حد تک حکیم اور علیم ہے۔ کائنات کا انسان کےلیے مکمل طورپر سازگار ہونا ظاہر کرتاہے کہ اس کا خالق اپنی مخلوقات کےلیے بے حد رحیم وکریم ہے۔
جو شخص کائنات پر غور کرے گا وہ خدا کے جلال وکمال کے احساس سے سرشار ہوجائے گا۔ وہ یقین کرلے گا که ازل سے ابد تک عظمتیں صرف ایک خدا کےلیے ہیں اس کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔
۞ وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ
📘 ایک مومن جب خدا کی یاد سے سرشار ہو کر اس کی تسبیح کرتاہے تو اس وقت وہ ساری کائنات کا ہم نوا ہوتا ہے۔ زمین وآسمان کی تمام چیزیں تسبیح ِخداوندی میں اس کی شریک آواز ہوجاتی ہیں۔ تاہم کائنات کی یہ ہم نوائی خاموش زبان میں ہوتی ہے۔ مگر حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پہاڑ اور چڑیاں محسوس طور پر آپ کے ساتھ تسبیح خوانی میں شریک ہوجاتیں۔
اسی طرح حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی صنعت سکھائی۔ انھوںنے لوہے کے پگھلانے اور ڈھالنے کے فن کو ترقی دی کہ وہ نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے لگے جن کو آدمی کپڑے کی طرح پہن سکے۔ اس وقت دنیا میں یہ فن موجود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست طورپر فرشتوں کے ذریعہ یہ فن آپ کو سکھایا۔
مومن صنعت اور سائنس میں بڑی بڑی ترقیاں کرسکتا ہے۔ مگر اس کےلیے لازم ہے کہ وہ انساني ترقی کو صرف اصلاح کے دائرہ میں استعمال کرے۔ وہ جو کچھ کرے اس احساسات کے تحت کرے کہ آخر کار اس کو جواب دہی کےلیے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ ۖ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
📘 ایک مومن جب خدا کی یاد سے سرشار ہو کر اس کی تسبیح کرتاہے تو اس وقت وہ ساری کائنات کا ہم نوا ہوتا ہے۔ زمین وآسمان کی تمام چیزیں تسبیح ِخداوندی میں اس کی شریک آواز ہوجاتی ہیں۔ تاہم کائنات کی یہ ہم نوائی خاموش زبان میں ہوتی ہے۔ مگر حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پہاڑ اور چڑیاں محسوس طور پر آپ کے ساتھ تسبیح خوانی میں شریک ہوجاتیں۔
اسی طرح حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی صنعت سکھائی۔ انھوںنے لوہے کے پگھلانے اور ڈھالنے کے فن کو ترقی دی کہ وہ نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے لگے جن کو آدمی کپڑے کی طرح پہن سکے۔ اس وقت دنیا میں یہ فن موجود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست طورپر فرشتوں کے ذریعہ یہ فن آپ کو سکھایا۔
مومن صنعت اور سائنس میں بڑی بڑی ترقیاں کرسکتا ہے۔ مگر اس کےلیے لازم ہے کہ وہ انساني ترقی کو صرف اصلاح کے دائرہ میں استعمال کرے۔ وہ جو کچھ کرے اس احساسات کے تحت کرے کہ آخر کار اس کو جواب دہی کےلیے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَنْ يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ
📘 حضرت سلیمان علیہ السلام نے سمندری سفر اور سمندری تجارت کو بہت ترقی دی تھی۔ انھوں نے اعلیٰ درجہ کے بادبانی جہاز تیار کيے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہوا کہ ان کے سمندری جہازوں کو اکثر موافق ہوا ملتی تھی۔ اس طرح تانبا پگھلا کر سامان بنانے کا فن بھی ان کے زمانہ میں بہت ترقی کر گیا۔ ان غیر معمولی قوتوں سے حضرت سلیمان مختلف قسم کے تعمیری اور اصلاحی کام لیتے تھے۔ انھیں میں سے ان چیزوں کی تیاری بھی تھی جن کا ذکر آیت میں کیاگیا ہے۔
انسان سراپا خدا کا احسان ہے۔اس ليے اس کے اندر سب سے زیادہ خدا کے شکر اور احسان مندی کا جذبہ ہونا چاہيے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو جوکچھ ملتا ہے وہ اسباب کے پردہ میں ملتاہے۔ اس ليے آدمی اس کو اسباب کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے۔ مگر یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اسباب کے ذریعہ ملتی ہوئی چیز کو خدا سے ملتاہوا دیکھے۔ بظاہر اپنی عقل اور محنت سے حاصل ہونے والی چیز کو براہِ راست خدا کا عطیہ سمجھے۔
يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
📘 حضرت سلیمان علیہ السلام نے سمندری سفر اور سمندری تجارت کو بہت ترقی دی تھی۔ انھوں نے اعلیٰ درجہ کے بادبانی جہاز تیار کيے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہوا کہ ان کے سمندری جہازوں کو اکثر موافق ہوا ملتی تھی۔ اس طرح تانبا پگھلا کر سامان بنانے کا فن بھی ان کے زمانہ میں بہت ترقی کر گیا۔ ان غیر معمولی قوتوں سے حضرت سلیمان مختلف قسم کے تعمیری اور اصلاحی کام لیتے تھے۔ انھیں میں سے ان چیزوں کی تیاری بھی تھی جن کا ذکر آیت میں کیاگیا ہے۔
انسان سراپا خدا کا احسان ہے۔اس ليے اس کے اندر سب سے زیادہ خدا کے شکر اور احسان مندی کا جذبہ ہونا چاہيے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو جوکچھ ملتا ہے وہ اسباب کے پردہ میں ملتاہے۔ اس ليے آدمی اس کو اسباب کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے۔ مگر یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اسباب کے ذریعہ ملتی ہوئی چیز کو خدا سے ملتاہوا دیکھے۔ بظاہر اپنی عقل اور محنت سے حاصل ہونے والی چیز کو براہِ راست خدا کا عطیہ سمجھے۔
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
📘 حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنا عصا ٹیکے ہوئے تھے اور جنوں سے کوئی تعمیری کام کرارہے تھے۔ موت کے فرشتے نے آپ کی روح قبض کرلی۔ مگر آپ کا بے جان جسم عصا کے سہارے بدستور قائم رہا۔ جنات یہ سمجھ کر اپنے کام میں لگے رہے کہ آپ ان کے قریب موجودہیں اور نگرانی کررہے ہیں۔ اس کے بعد عصا میں دیمک لگ گئی۔ ایک عرصہ کے بعد دیمک نے عصا کو کھوکھلا کردیا تو آپ کا جسم زمین پر گر پڑا اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ آپ وفات پاچکے ہیں۔
یہ واقعہ اس صورت میں غالباً اس ليے پیش آیا تاکہ لوگوں کے اس غلط عقیدہ کی عملی تردید ہوجائے کہ جنّات غیب کا علم رکھتے ہیں۔
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
📘 سبا قدیم زمانہ میں ایک نہایت ترقی یافتہ قوم تھی۔ اس کی آبادیاں موجودہ یمن میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا مرکزی شہر مارب تھا۔ زمانہ قبل مسیح میں اس نے زبردست ترقی کی۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک عروج پر رہی۔ ایک طرف وہ لوگ خشکی اور سمندر کے ذریعہ اپنی تجارتیں پھیلائے ہوئے تھے۔ دوسری طرف انھوں نے بند بنائے۔ مارب کے قریب ان کا ایک بڑا بند تھا جو
14
میٹر اونچا اور تقریباً 600 میٹر لمبا تھا۔ اس کے ذریعہ پہاڑی نالوں کا پانی روک کر نہریں نکالی گئی تھیں۔ اور ان سے زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ اس طرح علاقہ میںاتنی سرسبزی آئی کہ آدمی جہاں کھڑا ہو تو دائیں اور بائیں اس کو باغ ہی باغ دکھائی دے۔
یہ تمام ترقیاں خدائی انتظامات کی وجہ سے ممکن ہوئیں۔ اس ليے سبا کے لوگوں کو خدا کا شکر گزار بننا چاہيے تھا۔ مگر وہ غفلت اور سرکشی میں پڑ گئے جیسا کہ عام طور پر خوش حال قوموں میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد سد مارب (Marib Dam) میں شگاف پڑنا شروع ہوا۔یہ گویا ابتدائی تنبیہہ تھی۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے بیان کے مطابق ساتویں صدی عیسوی میں ایک زلزلے نے بند کو ناقابل مرمت حد تک توڑدیا۔ اس کے نتیجہ میں ایسا سیلاب آیا جس سے پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ مزید یہ کہ زرخیز مٹی ختم ہوجانے کی وجہ سے یہ علاقہ بعد کو صرف جنگلی جھاڑیوں کےلیے موزوں رہ گیا۔
فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ
📘 سبا قدیم زمانہ میں ایک نہایت ترقی یافتہ قوم تھی۔ اس کی آبادیاں موجودہ یمن میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا مرکزی شہر مارب تھا۔ زمانہ قبل مسیح میں اس نے زبردست ترقی کی۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک عروج پر رہی۔ ایک طرف وہ لوگ خشکی اور سمندر کے ذریعہ اپنی تجارتیں پھیلائے ہوئے تھے۔ دوسری طرف انھوں نے بند بنائے۔ مارب کے قریب ان کا ایک بڑا بند تھا جو
14
میٹر اونچا اور تقریباً 600 میٹر لمبا تھا۔ اس کے ذریعہ پہاڑی نالوں کا پانی روک کر نہریں نکالی گئی تھیں۔ اور ان سے زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ اس طرح علاقہ میںاتنی سرسبزی آئی کہ آدمی جہاں کھڑا ہو تو دائیں اور بائیں اس کو باغ ہی باغ دکھائی دے۔
یہ تمام ترقیاں خدائی انتظامات کی وجہ سے ممکن ہوئیں۔ اس ليے سبا کے لوگوں کو خدا کا شکر گزار بننا چاہيے تھا۔ مگر وہ غفلت اور سرکشی میں پڑ گئے جیسا کہ عام طور پر خوش حال قوموں میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد سد مارب (Marib Dam) میں شگاف پڑنا شروع ہوا۔یہ گویا ابتدائی تنبیہہ تھی۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے بیان کے مطابق ساتویں صدی عیسوی میں ایک زلزلے نے بند کو ناقابل مرمت حد تک توڑدیا۔ اس کے نتیجہ میں ایسا سیلاب آیا جس سے پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ مزید یہ کہ زرخیز مٹی ختم ہوجانے کی وجہ سے یہ علاقہ بعد کو صرف جنگلی جھاڑیوں کےلیے موزوں رہ گیا۔
ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِمَا كَفَرُوا ۖ وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ
📘 سبا قدیم زمانہ میں ایک نہایت ترقی یافتہ قوم تھی۔ اس کی آبادیاں موجودہ یمن میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا مرکزی شہر مارب تھا۔ زمانہ قبل مسیح میں اس نے زبردست ترقی کی۔ اور تقریباً ایک ہزار سال تک عروج پر رہی۔ ایک طرف وہ لوگ خشکی اور سمندر کے ذریعہ اپنی تجارتیں پھیلائے ہوئے تھے۔ دوسری طرف انھوں نے بند بنائے۔ مارب کے قریب ان کا ایک بڑا بند تھا جو
14
میٹر اونچا اور تقریباً 600 میٹر لمبا تھا۔ اس کے ذریعہ پہاڑی نالوں کا پانی روک کر نہریں نکالی گئی تھیں۔ اور ان سے زمینوں کو سیراب کیا جاتا تھا۔ اس طرح علاقہ میںاتنی سرسبزی آئی کہ آدمی جہاں کھڑا ہو تو دائیں اور بائیں اس کو باغ ہی باغ دکھائی دے۔
یہ تمام ترقیاں خدائی انتظامات کی وجہ سے ممکن ہوئیں۔ اس ليے سبا کے لوگوں کو خدا کا شکر گزار بننا چاہيے تھا۔ مگر وہ غفلت اور سرکشی میں پڑ گئے جیسا کہ عام طور پر خوش حال قوموں میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد سد مارب (Marib Dam) میں شگاف پڑنا شروع ہوا۔یہ گویا ابتدائی تنبیہہ تھی۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے بیان کے مطابق ساتویں صدی عیسوی میں ایک زلزلے نے بند کو ناقابل مرمت حد تک توڑدیا۔ اس کے نتیجہ میں ایسا سیلاب آیا جس سے پورا علاقہ تباہ ہوگیا۔ مزید یہ کہ زرخیز مٹی ختم ہوجانے کی وجہ سے یہ علاقہ بعد کو صرف جنگلی جھاڑیوں کےلیے موزوں رہ گیا۔
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
📘 برکت والی بستیوں سے مراد شام کا سر سبز وشاداب علاقہ ہے۔ اس سرسبز علاقہ میں یمن سے شام تک خوبصورت آبادیوں کی قطاریں چلی گئی تھیں۔ ان کے درمیان سفر ایک قسم کی خوش گوار سیر بن گیا تھا۔ یہ ماحول اپنی حقیقت کے اعتبار سے ربانی جذبات پیدا کرنے والا تھا۔ گویا کہ خدا نے یہاں ایک خاموش سائن بورڈ لگادیاہو کہ — بے خوف وخطر چلو اور اپنے رب کا شکر کرو۔
مگر سبا کے غافل لوگ اس خدائی کتبہ کو نہ پڑھ سکے۔ انھوںنے اپنے رویہ سے ان خدائی نعمتوں کا استحقاق کھو دیا۔ چنانچہ وہ اس طرح مٹے کہ وہ ماضی کی داستان بن گئے۔ علاقہ کی تباہی کے بعد سبا کے مختلف قبائل اپنے وطن سے نکل کر دور دور کے علاقوں میں منتشر ہوگئے۔
یہ واقعات تاریخ کے معلوم واقعات ہیں۔ مگر ان کو جاننے والا حقیقۃ ً وہ ہے جو ان سے یہ سبق لے کہ اس کو خوش حالی ملے تو وہ ناز میں مبتلا نہ ہو۔ اس کو جو کچھ ملے اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر وہ خدا کا شکر گزار بن جائے۔
فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
📘 برکت والی بستیوں سے مراد شام کا سر سبز وشاداب علاقہ ہے۔ اس سرسبز علاقہ میں یمن سے شام تک خوبصورت آبادیوں کی قطاریں چلی گئی تھیں۔ ان کے درمیان سفر ایک قسم کی خوش گوار سیر بن گیا تھا۔ یہ ماحول اپنی حقیقت کے اعتبار سے ربانی جذبات پیدا کرنے والا تھا۔ گویا کہ خدا نے یہاں ایک خاموش سائن بورڈ لگادیاہو کہ — بے خوف وخطر چلو اور اپنے رب کا شکر کرو۔
مگر سبا کے غافل لوگ اس خدائی کتبہ کو نہ پڑھ سکے۔ انھوںنے اپنے رویہ سے ان خدائی نعمتوں کا استحقاق کھو دیا۔ چنانچہ وہ اس طرح مٹے کہ وہ ماضی کی داستان بن گئے۔ علاقہ کی تباہی کے بعد سبا کے مختلف قبائل اپنے وطن سے نکل کر دور دور کے علاقوں میں منتشر ہوگئے۔
یہ واقعات تاریخ کے معلوم واقعات ہیں۔ مگر ان کو جاننے والا حقیقۃ ً وہ ہے جو ان سے یہ سبق لے کہ اس کو خوش حالی ملے تو وہ ناز میں مبتلا نہ ہو۔ اس کو جو کچھ ملے اس کو خدا کا عطیہ سمجھ کر وہ خدا کا شکر گزار بن جائے۔
يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۚ وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ
📘 کائنات اپنے خالق کا تعارف ہے۔ اس كي ہیبت ناک وسعت خالق کی عظمت کو بتاتی ہے۔ اس کا حد کمال تک موزوں ہونا بتاتاہے کہ اس کا پیدا کرنے والا ایک کامل ومکمل ہستی ہے۔ اس کے تمام اجزاء کا حد درجہ توافق کے ساتھ عمل کرنا ثابت کرتاہے کہ اس کا چلانے والا انتہائی حد تک حکیم اور علیم ہے۔ کائنات کا انسان کےلیے مکمل طورپر سازگار ہونا ظاہر کرتاہے کہ اس کا خالق اپنی مخلوقات کےلیے بے حد رحیم وکریم ہے۔
جو شخص کائنات پر غور کرے گا وہ خدا کے جلال وکمال کے احساس سے سرشار ہوجائے گا۔ وہ یقین کرلے گا که ازل سے ابد تک عظمتیں صرف ایک خدا کےلیے ہیں اس کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
📘 ابلیس یا اس کے نمائندے ہمیشہ انسان کے خلاف اپنا منصوبہ بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ان کے منصوبہ کا شکار نہ ہو۔ اور اس طرح وہ ان کو ناکام بنادے۔ مگر سبا کے لوگ دوسرے لوگوں کی طرح اس دانائی کا ثبوت نہ دے سکے۔ وہ شیطانی ترغیبات کے زیر اثر آکر تباہی کے راستہ پر چل پڑے۔ صرف تھوڑے سے حق پرست تھے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔
شیطان کو یا اس کے نمائندہ کو خدا نے کسی کے اوپر عملی اختیار نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ یہ اس ليے ہے تاکہ انسان کو آزمائش ہو۔ اس آزمائش میں پورا اترنے والا شخص وہ ہے جو شیطانی ترغیبات سے غیر متاثر رہ کر حق وصداقت پر قائم رہے۔
وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ
📘 ابلیس یا اس کے نمائندے ہمیشہ انسان کے خلاف اپنا منصوبہ بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر انسان کا کام یہ ہے کہ وہ ان کے منصوبہ کا شکار نہ ہو۔ اور اس طرح وہ ان کو ناکام بنادے۔ مگر سبا کے لوگ دوسرے لوگوں کی طرح اس دانائی کا ثبوت نہ دے سکے۔ وہ شیطانی ترغیبات کے زیر اثر آکر تباہی کے راستہ پر چل پڑے۔ صرف تھوڑے سے حق پرست تھے جو اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔
شیطان کو یا اس کے نمائندہ کو خدا نے کسی کے اوپر عملی اختیار نہیں دیا ہے۔ اس کو صرف بہکانے کا اختیار ہے۔ یہ اس ليے ہے تاکہ انسان کو آزمائش ہو۔ اس آزمائش میں پورا اترنے والا شخص وہ ہے جو شیطانی ترغیبات سے غیر متاثر رہ کر حق وصداقت پر قائم رہے۔
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ
📘 اگر چہ ہر دور میں بیشتر لوگ آخرت کو مانتے رہے ہیں۔ مگر ہر دور میں شیطان نے ایسے خود ساختہ عقیدے لوگوں کے درمیان رائج کردئے جنھوں نے ان کو آخرت کی پکڑ سے بے خوف کردیا۔ انھیں میں سے ایک یہ فرضی عقیدہ بھی ہے کہ بعض ہستیوں کو خدا کے یہاں اتنا مقام حاصل ہے کہ وہ اپنی سفارش سے جس کو چاہیں بخشوا سکتے ہیں۔
مگر اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔ یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے کہ جن ہستیوں کا اپنا یہ حال ہے کہ خدا کی عظمت کے احساس نے انھیں سراسیمہ کررکھا ہے، ان کے بارے میں ان کے پرستاروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ خدا کے یہاں ان کی نجات کےلیے کافی ہوجائیں گے۔
وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
📘 اگر چہ ہر دور میں بیشتر لوگ آخرت کو مانتے رہے ہیں۔ مگر ہر دور میں شیطان نے ایسے خود ساختہ عقیدے لوگوں کے درمیان رائج کردئے جنھوں نے ان کو آخرت کی پکڑ سے بے خوف کردیا۔ انھیں میں سے ایک یہ فرضی عقیدہ بھی ہے کہ بعض ہستیوں کو خدا کے یہاں اتنا مقام حاصل ہے کہ وہ اپنی سفارش سے جس کو چاہیں بخشوا سکتے ہیں۔
مگر اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔ یہ واقعہ بھی کیسا عجیب ہے کہ جن ہستیوں کا اپنا یہ حال ہے کہ خدا کی عظمت کے احساس نے انھیں سراسیمہ کررکھا ہے، ان کے بارے میں ان کے پرستاروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ خدا کے یہاں ان کی نجات کےلیے کافی ہوجائیں گے۔
۞ قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
📘 کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کمال درجہ کی حکمت اور معنویت پائی جاتی ہے۔ ایسی کائنات خدائے عزیز وحکیم ہی کا کارنامہ ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص سنجیدہ طورپر یہ گمان نہیں کرسکتا کہ وہ دوسری ہستیاں اس کے خالق ومالک ہیں جن کو جدید یا قدیم انسان نے خدا کے سوا فرض کررکھا ہے۔ پھر خدا کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کو اس کائنات میں بڑائی کا مقام حاصل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا مطالعہ تمام مشرکانہ نظریات کو باطل ٹھہرا تا ہے۔ اس کائنات میں وہ تمام عقیدے بے جوڑ ثابت ہوتے ہیں جن میں ایک خدا کے سوا کسی اور کےلیے کسی قسم کی بڑائی تسلیم کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جو ایک خدا کی بنیاد پر بنے۔ جس نظریہ میں ایک خدا کے سوا کسی اور ہستی کی کارفرمائی مانی جائے وہ اپنی تردید آپ ہے۔
قُلْ لَا تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ
📘 کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کمال درجہ کی حکمت اور معنویت پائی جاتی ہے۔ ایسی کائنات خدائے عزیز وحکیم ہی کا کارنامہ ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص سنجیدہ طورپر یہ گمان نہیں کرسکتا کہ وہ دوسری ہستیاں اس کے خالق ومالک ہیں جن کو جدید یا قدیم انسان نے خدا کے سوا فرض کررکھا ہے۔ پھر خدا کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کو اس کائنات میں بڑائی کا مقام حاصل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا مطالعہ تمام مشرکانہ نظریات کو باطل ٹھہرا تا ہے۔ اس کائنات میں وہ تمام عقیدے بے جوڑ ثابت ہوتے ہیں جن میں ایک خدا کے سوا کسی اور کےلیے کسی قسم کی بڑائی تسلیم کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جو ایک خدا کی بنیاد پر بنے۔ جس نظریہ میں ایک خدا کے سوا کسی اور ہستی کی کارفرمائی مانی جائے وہ اپنی تردید آپ ہے۔
قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ
📘 کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کمال درجہ کی حکمت اور معنویت پائی جاتی ہے۔ ایسی کائنات خدائے عزیز وحکیم ہی کا کارنامہ ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص سنجیدہ طورپر یہ گمان نہیں کرسکتا کہ وہ دوسری ہستیاں اس کے خالق ومالک ہیں جن کو جدید یا قدیم انسان نے خدا کے سوا فرض کررکھا ہے۔ پھر خدا کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کو اس کائنات میں بڑائی کا مقام حاصل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا مطالعہ تمام مشرکانہ نظریات کو باطل ٹھہرا تا ہے۔ اس کائنات میں وہ تمام عقیدے بے جوڑ ثابت ہوتے ہیں جن میں ایک خدا کے سوا کسی اور کےلیے کسی قسم کی بڑائی تسلیم کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جو ایک خدا کی بنیاد پر بنے۔ جس نظریہ میں ایک خدا کے سوا کسی اور ہستی کی کارفرمائی مانی جائے وہ اپنی تردید آپ ہے۔
قُلْ أَرُونِيَ الَّذِينَ أَلْحَقْتُمْ بِهِ شُرَكَاءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
📘 کائنات ناقابل قیاس حد تک عظیم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کمال درجہ کی حکمت اور معنویت پائی جاتی ہے۔ ایسی کائنات خدائے عزیز وحکیم ہی کا کارنامہ ہوسکتی ہے۔ کوئی بھی شخص سنجیدہ طورپر یہ گمان نہیں کرسکتا کہ وہ دوسری ہستیاں اس کے خالق ومالک ہیں جن کو جدید یا قدیم انسان نے خدا کے سوا فرض کررکھا ہے۔ پھر خدا کے سوا کون ہوسکتا ہے جس کو اس کائنات میں بڑائی کا مقام حاصل ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا مطالعہ تمام مشرکانہ نظریات کو باطل ٹھہرا تا ہے۔ اس کائنات میں وہ تمام عقیدے بے جوڑ ثابت ہوتے ہیں جن میں ایک خدا کے سوا کسی اور کےلیے کسی قسم کی بڑائی تسلیم کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جو ایک خدا کی بنیاد پر بنے۔ جس نظریہ میں ایک خدا کے سوا کسی اور ہستی کی کارفرمائی مانی جائے وہ اپنی تردید آپ ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
📘 ہر نبی نے براہِ راست طورپر صرف اپنی قوم کے اوپر دعوتی کام کیا۔ اور یہی عملاً ممکن تھا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی براہِ راست طورپر اپنی ہی قوم کےلیے منذر اور مبشر بنے (الانعام،
6:92
)۔ مگر چوں کہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اس ليے اب تمام قوموں کےلیے حکماً آپ ہی منذر اور مبشر ہیں۔ اپنے زمانے میں مخاطبین اول پر جس طرح آپ نے انذار و تبشیر کا کام کیا اسی طرح بعد کے زمانے میں دوسرے تمام مخاطبین پر آپ کی امت کو نیابۃً انذار وتبشیر کا کام کرنا ہے۔ یہ سارا کام آپ کی نبوت کے تسلسل میں شمار ہوگا۔ آپ کی زندگی میں کیا جانے والا دعوتی کام براہِ راست طورپر آپ کے دائرۂ نبوت میں داخل ہے۔ اور آپ کی دنیوی زندگی کے بعد کیا جانے والا کام بالواسطہ طور پر۔
پیغمبر کا کام ہمیشہ صرف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد قوموں کے عملی انجام کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور آئندہ آنے والی دنیا میں بھی۔
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
📘 ہر نبی نے براہِ راست طورپر صرف اپنی قوم کے اوپر دعوتی کام کیا۔ اور یہی عملاً ممکن تھا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی براہِ راست طورپر اپنی ہی قوم کےلیے منذر اور مبشر بنے (الانعام،
6:92
)۔ مگر چوں کہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اس ليے اب تمام قوموں کےلیے حکماً آپ ہی منذر اور مبشر ہیں۔ اپنے زمانے میں مخاطبین اول پر جس طرح آپ نے انذار و تبشیر کا کام کیا اسی طرح بعد کے زمانے میں دوسرے تمام مخاطبین پر آپ کی امت کو نیابۃً انذار وتبشیر کا کام کرنا ہے۔ یہ سارا کام آپ کی نبوت کے تسلسل میں شمار ہوگا۔ آپ کی زندگی میں کیا جانے والا دعوتی کام براہِ راست طورپر آپ کے دائرۂ نبوت میں داخل ہے۔ اور آپ کی دنیوی زندگی کے بعد کیا جانے والا کام بالواسطہ طور پر۔
پیغمبر کا کام ہمیشہ صرف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد قوموں کے عملی انجام کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور آئندہ آنے والی دنیا میں بھی۔
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ ۖ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ ۖ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
📘 قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔
مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔
حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
قُلْ لَكُمْ مِيعَادُ يَوْمٍ لَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ
📘 ہر نبی نے براہِ راست طورپر صرف اپنی قوم کے اوپر دعوتی کام کیا۔ اور یہی عملاً ممکن تھا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی براہِ راست طورپر اپنی ہی قوم کےلیے منذر اور مبشر بنے (الانعام،
6:92
)۔ مگر چوں کہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اس ليے اب تمام قوموں کےلیے حکماً آپ ہی منذر اور مبشر ہیں۔ اپنے زمانے میں مخاطبین اول پر جس طرح آپ نے انذار و تبشیر کا کام کیا اسی طرح بعد کے زمانے میں دوسرے تمام مخاطبین پر آپ کی امت کو نیابۃً انذار وتبشیر کا کام کرنا ہے۔ یہ سارا کام آپ کی نبوت کے تسلسل میں شمار ہوگا۔ آپ کی زندگی میں کیا جانے والا دعوتی کام براہِ راست طورپر آپ کے دائرۂ نبوت میں داخل ہے۔ اور آپ کی دنیوی زندگی کے بعد کیا جانے والا کام بالواسطہ طور پر۔
پیغمبر کا کام ہمیشہ صرف پہنچانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد قوموں کے عملی انجام کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور آئندہ آنے والی دنیا میں بھی۔
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ
📘 حقیقت کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا میں اس جرم کا انجام سامنے نہیں آتا۔ اس ليے دنیا میں آدمی بے خوف ہو کر حقیقت کا انکار کردیتاہے۔ مگر آخرت میں جب انکار حق کا برا انجام لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا تو اس وقت لوگوں کا عجیب حال ہوگا۔
عوام اپنے جن بڑوں پر دنیا میں فخر کرتے تھے وہاں ان بڑوں کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر وہ ان پر لعنت کریں گے۔ بڑے ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کےلیے ہمیں ملزم نہ ٹھہراؤ ، یہ ہم نہ تھے بلکہ تمھاری اپنی خواہشیں تھیں جنھوںنے تم کو گمراہ کیا۔ ہمارا ساتھ تم نے صرف اس ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری اپنی خواہشوں کے مطابق تھی۔ تم ایسا دین چاہتے تھے جس میں اپنے آپ کو بدلے بغیر دین دار بننے کا کریڈٹ حاصل ہوجائے اور وہ ہم نے تم کو فراہم کردیا۔ تم نے ہمارا پھندا خود اپنی گردن میں ڈالا، ورنہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہ تھی کہ ہم اس کو تمھاری گردن میں ڈال دیتے۔
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُمْ ۖ بَلْ كُنْتُمْ مُجْرِمِينَ
📘 حقیقت کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا میں اس جرم کا انجام سامنے نہیں آتا۔ اس ليے دنیا میں آدمی بے خوف ہو کر حقیقت کا انکار کردیتاہے۔ مگر آخرت میں جب انکار حق کا برا انجام لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا تو اس وقت لوگوں کا عجیب حال ہوگا۔
عوام اپنے جن بڑوں پر دنیا میں فخر کرتے تھے وہاں ان بڑوں کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر وہ ان پر لعنت کریں گے۔ بڑے ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کےلیے ہمیں ملزم نہ ٹھہراؤ ، یہ ہم نہ تھے بلکہ تمھاری اپنی خواہشیں تھیں جنھوںنے تم کو گمراہ کیا۔ ہمارا ساتھ تم نے صرف اس ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری اپنی خواہشوں کے مطابق تھی۔ تم ایسا دین چاہتے تھے جس میں اپنے آپ کو بدلے بغیر دین دار بننے کا کریڈٹ حاصل ہوجائے اور وہ ہم نے تم کو فراہم کردیا۔ تم نے ہمارا پھندا خود اپنی گردن میں ڈالا، ورنہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہ تھی کہ ہم اس کو تمھاری گردن میں ڈال دیتے۔
وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ نَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا ۚ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 حقیقت کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ دنیا میں اس جرم کا انجام سامنے نہیں آتا۔ اس ليے دنیا میں آدمی بے خوف ہو کر حقیقت کا انکار کردیتاہے۔ مگر آخرت میں جب انکار حق کا برا انجام لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا تو اس وقت لوگوں کا عجیب حال ہوگا۔
عوام اپنے جن بڑوں پر دنیا میں فخر کرتے تھے وہاں ان بڑوں کو اپنی گمراہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر وہ ان پر لعنت کریں گے۔ بڑے ان کو جواب دیں گے کہ اپنے آپ کو شرمندگی سے بچانے کےلیے ہمیں ملزم نہ ٹھہراؤ ، یہ ہم نہ تھے بلکہ تمھاری اپنی خواہشیں تھیں جنھوںنے تم کو گمراہ کیا۔ ہمارا ساتھ تم نے صرف اس ليے دیا کہ ہماری بات تمھاری اپنی خواہشوں کے مطابق تھی۔ تم ایسا دین چاہتے تھے جس میں اپنے آپ کو بدلے بغیر دین دار بننے کا کریڈٹ حاصل ہوجائے اور وہ ہم نے تم کو فراہم کردیا۔ تم نے ہمارا پھندا خود اپنی گردن میں ڈالا، ورنہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہ تھی کہ ہم اس کو تمھاری گردن میں ڈال دیتے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ
📘 جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔
یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
📘 جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔
یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
📘 جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔
یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ
📘 جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔
یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
وَالَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ
📘 جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔
یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
📘 جن لوگوں کے پاس قوت اور مال آجائے ان کو موجودہ دنیا میں بڑائی کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز ان کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا کردیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو جب آخرت سے ڈرایا جاتاہے تو وہ اس کو اہمیت نہیں دے پاتے۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ دنیا میں جب خدا نے ان کو عزت دی ہے تو آخرت میں وہ انھیں بے عزت کردے گا۔
یہی جھوٹا اعتماد ہر دور کے بڑوں کےلیے دعوت حق کو نہ ماننے کا سب سے بڑا سبب رہا ہے۔ اور وقت کے بڑے لوگ جب ایک چیز کو حقیر کردیں تو چھوٹے لوگ بھی اس کو حقیر سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح خواص اور عوام دونوں حق کو قبول کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
دنیا کا مال واسباب امتحان ہے، نہ کہ انعام۔ دنیا کے مال واسباب کی زیادتی نہ کسی آدمی کے مقرب ہونے کی علامت ہے اور نہ اس کی کمی اس کے غیر مقرب ہونے کی۔ اللہ کے یہاں قربت کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
📘 قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔
مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔
حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ
📘 فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوںنے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس ليے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو سکھایا کہ براہِ راست خدا کا تقرب حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس ليے انھیں چاہيے کہ وہ فرشتوں کی عبادت کریں اور ان کے ذریعے سے خدا کا تقرب حاصل کریں۔ چنانچہ ساری دنیا میں فرشتوں کے بت بنا کر ان کی عبادت شروع کردی گئی۔ دیوی دیوتاؤں کا عقیدہ بھی دراصل فرشتوں ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جو فرشتہ بارش پر مقرر تھا اس کو بارش کا دیوتا سمجھ لیاگيا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگيا، وغیرہ۔
فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔
قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ
📘 فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوںنے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس ليے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو سکھایا کہ براہِ راست خدا کا تقرب حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس ليے انھیں چاہيے کہ وہ فرشتوں کی عبادت کریں اور ان کے ذریعے سے خدا کا تقرب حاصل کریں۔ چنانچہ ساری دنیا میں فرشتوں کے بت بنا کر ان کی عبادت شروع کردی گئی۔ دیوی دیوتاؤں کا عقیدہ بھی دراصل فرشتوں ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جو فرشتہ بارش پر مقرر تھا اس کو بارش کا دیوتا سمجھ لیاگيا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگيا، وغیرہ۔
فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔
فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ
📘 فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوںنے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس ليے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو سکھایا کہ براہِ راست خدا کا تقرب حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس ليے انھیں چاہيے کہ وہ فرشتوں کی عبادت کریں اور ان کے ذریعے سے خدا کا تقرب حاصل کریں۔ چنانچہ ساری دنیا میں فرشتوں کے بت بنا کر ان کی عبادت شروع کردی گئی۔ دیوی دیوتاؤں کا عقیدہ بھی دراصل فرشتوں ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جو فرشتہ بارش پر مقرر تھا اس کو بارش کا دیوتا سمجھ لیاگيا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگيا، وغیرہ۔
فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُفْتَرًى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
📘 قرآن اپنے مخاطبین کے سامنے کھلے کھلے دلائل دے رہا تھا۔ مخاطبین دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو اس سے روکنے میںکامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی کا واحد راز یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر اس کی طرف سے مشتبہ کردیاکہ یہ ہمارے اسلاف کے طریقہ کے خلاف ہے۔ قرآن میں جو معجزانہ ادب تھا اس کا انکار ناممکن تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیاگیا کہ یہ محض جادو بیانی کا کرشمہ ہے، وحی الٰہی ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض قلم کا زور ہے، نہ کہ علم حقیقت کا زور— تاریخ کا یہ تجربہ نہایت عجیب ہے کہ ہر دور کے لوگوں کےلیے دلیل کے مقابلہ میں تعصب زیادہ طاقت ور ثابت ہوا ہے۔
قرآن کے مخاطبین کے پاس قرآن کا انکار کرنے کےلیے یا تو عقلی دلائل ہوتے جن کے ذریعہ وہ اس کو رد کرسکتے یا ان کے پاس کوئی دوسری آسمانی کتاب ہوتی جس سے قرآن کی تردید نکالی جاسکتی۔ مخاطبین قرآن کے پاس ان دونوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مزید یہ کہ دنیوی ترقی میں بھی وہ دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے تھے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ اگر دعوتِ حق کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہٹ دھرمی ہے،نہ کہ معقولیت۔
وَمَا آتَيْنَاهُمْ مِنْ كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَا أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَذِيرٍ
📘 قرآن اپنے مخاطبین کے سامنے کھلے کھلے دلائل دے رہا تھا۔ مخاطبین دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو اس سے روکنے میںکامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی کا واحد راز یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر اس کی طرف سے مشتبہ کردیاکہ یہ ہمارے اسلاف کے طریقہ کے خلاف ہے۔ قرآن میں جو معجزانہ ادب تھا اس کا انکار ناممکن تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیاگیا کہ یہ محض جادو بیانی کا کرشمہ ہے، وحی الٰہی ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض قلم کا زور ہے، نہ کہ علم حقیقت کا زور— تاریخ کا یہ تجربہ نہایت عجیب ہے کہ ہر دور کے لوگوں کےلیے دلیل کے مقابلہ میں تعصب زیادہ طاقت ور ثابت ہوا ہے۔
قرآن کے مخاطبین کے پاس قرآن کا انکار کرنے کےلیے یا تو عقلی دلائل ہوتے جن کے ذریعہ وہ اس کو رد کرسکتے یا ان کے پاس کوئی دوسری آسمانی کتاب ہوتی جس سے قرآن کی تردید نکالی جاسکتی۔ مخاطبین قرآن کے پاس ان دونوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مزید یہ کہ دنیوی ترقی میں بھی وہ دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے تھے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ اگر دعوتِ حق کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہٹ دھرمی ہے،نہ کہ معقولیت۔
وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَاهُمْ فَكَذَّبُوا رُسُلِي ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
📘 قرآن اپنے مخاطبین کے سامنے کھلے کھلے دلائل دے رہا تھا۔ مخاطبین دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو اس سے روکنے میںکامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی کا واحد راز یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر اس کی طرف سے مشتبہ کردیاکہ یہ ہمارے اسلاف کے طریقہ کے خلاف ہے۔ قرآن میں جو معجزانہ ادب تھا اس کا انکار ناممکن تھا۔ اس کے بارے میں لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیاگیا کہ یہ محض جادو بیانی کا کرشمہ ہے، وحی الٰہی ہونے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض قلم کا زور ہے، نہ کہ علم حقیقت کا زور— تاریخ کا یہ تجربہ نہایت عجیب ہے کہ ہر دور کے لوگوں کےلیے دلیل کے مقابلہ میں تعصب زیادہ طاقت ور ثابت ہوا ہے۔
قرآن کے مخاطبین کے پاس قرآن کا انکار کرنے کےلیے یا تو عقلی دلائل ہوتے جن کے ذریعہ وہ اس کو رد کرسکتے یا ان کے پاس کوئی دوسری آسمانی کتاب ہوتی جس سے قرآن کی تردید نکالی جاسکتی۔ مخاطبین قرآن کے پاس ان دونوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مزید یہ کہ دنیوی ترقی میں بھی وہ دوسری قوموں سے بہت زیادہ پیچھے تھے۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ اگر دعوتِ حق کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ ہٹ دھرمی ہے،نہ کہ معقولیت۔
۞ قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ۚ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
📘 پیغمبر کے معاصرین نے پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیا۔ مگر اس کے پیچھے ضد اور تعصب کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ضد اور تعصب سے خالی ہو کر سوچتے، خواہ اکیلے اکیلے سوچتے، یا چند آدمی مل کر اجتماعی طورپر غور کرتے، تو وہ پاتے کہ ان کا پیغمبر کوئی دیوانہ آدمی نہیں ہے۔ آپ کی سابقہ زندگی آپ کی سنجیدگی کی گواہی دیتی ۔ آپ کا درد مندانہ انداز بتاتا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی آپ کے دل کی آواز ہے۔ آپ کے کلام کا حکیمانہ اسلوب اس کی صحت کی داخلی شہادت نظر آتا۔ آپ کا کسی معاوضہ کا طالب نہ ہونا ظاہر کرتا کہ آپ نے اس کام کو محض اللہ کی خاطر شروع کیا ہے، نہ کہ ذاتی تجارت کی خاطر۔ غیر جانب دارانہ غور وفکر میں وہ جان لیتے کہ آپ کی بے قراری جنون کی بے قرار ی نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جس خطرہ سے ڈرانے کےلیے اٹھے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مگر وہ دعوت حق کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے اس ليے یہ کھلے ہوئے حقائق ان کو نظر بھی نہ آسکے۔
قُلْ مَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
📘 پیغمبر کے معاصرین نے پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیا۔ مگر اس کے پیچھے ضد اور تعصب کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ضد اور تعصب سے خالی ہو کر سوچتے، خواہ اکیلے اکیلے سوچتے، یا چند آدمی مل کر اجتماعی طورپر غور کرتے، تو وہ پاتے کہ ان کا پیغمبر کوئی دیوانہ آدمی نہیں ہے۔ آپ کی سابقہ زندگی آپ کی سنجیدگی کی گواہی دیتی ۔ آپ کا درد مندانہ انداز بتاتا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی آپ کے دل کی آواز ہے۔ آپ کے کلام کا حکیمانہ اسلوب اس کی صحت کی داخلی شہادت نظر آتا۔ آپ کا کسی معاوضہ کا طالب نہ ہونا ظاہر کرتا کہ آپ نے اس کام کو محض اللہ کی خاطر شروع کیا ہے، نہ کہ ذاتی تجارت کی خاطر۔ غیر جانب دارانہ غور وفکر میں وہ جان لیتے کہ آپ کی بے قراری جنون کی بے قرار ی نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جس خطرہ سے ڈرانے کےلیے اٹھے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مگر وہ دعوت حق کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے اس ليے یہ کھلے ہوئے حقائق ان کو نظر بھی نہ آسکے۔
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
📘 دنیا کی تخلیق حق پر ہوئی ہے۔ یہاں سارا زور حق کی طرف ہے۔ یہاں تمام دلائل حق کی تائید کرتے ہیں۔ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے یہاں باطل کو کوئی زور اور کوئی دلیل حاصل نہیں۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہيے کہ حق یہاں ہمیشہ سربلند رہے اور باطل یہاں سراسر بے وزن ہوکر رہ جائے مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اس دنیامیں حق اتنا طاقتور نہیں کہ وہ خود اپنے زور پر باطل کا خاتمہ کردے اور باطل اتنا بے وقعت نہیں کہ اس کی بنیاد پر کسی شخص کےلیے عزت اور سربلندی حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آزمائش کا قانون جاری ہے۔ اس ليے یہاں باطل کو بھی ابھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر یہ صورت حال عارضی طورپر صرف امتحان کی مدت تک ہے۔ قیامت آتے ہی یہ غیر واقعی صورت حال یکسر ختم ہوجائے گی۔ اس وقت تمام نظری اور عملی زور صرف حق کی طرف ہوگا اور باطل سراسر بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
یہ واقعہ اپنی کامل صورت میں قیامت میں ظاہر ہوگا۔ مگر جب اللہ چاہتا ہے اس کو جزئی طورپر موجودہ دنیا میں ظاہر کردیتا ہے تاکہ لوگوں کےلیے سبق ہو۔ دور اول میںاسلام کا غلبہ اسی قسم کا ایک جزئی اظہار تھا۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہوا اور توحید کو شرک کے اوپر بالاتری حاصل ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ آیت تھی جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (
17:81
) سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ
417
۔
قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ
📘 دنیا کی تخلیق حق پر ہوئی ہے۔ یہاں سارا زور حق کی طرف ہے۔ یہاں تمام دلائل حق کی تائید کرتے ہیں۔ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے یہاں باطل کو کوئی زور اور کوئی دلیل حاصل نہیں۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہيے کہ حق یہاں ہمیشہ سربلند رہے اور باطل یہاں سراسر بے وزن ہوکر رہ جائے مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اس دنیامیں حق اتنا طاقتور نہیں کہ وہ خود اپنے زور پر باطل کا خاتمہ کردے اور باطل اتنا بے وقعت نہیں کہ اس کی بنیاد پر کسی شخص کےلیے عزت اور سربلندی حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آزمائش کا قانون جاری ہے۔ اس ليے یہاں باطل کو بھی ابھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر یہ صورت حال عارضی طورپر صرف امتحان کی مدت تک ہے۔ قیامت آتے ہی یہ غیر واقعی صورت حال یکسر ختم ہوجائے گی۔ اس وقت تمام نظری اور عملی زور صرف حق کی طرف ہوگا اور باطل سراسر بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
یہ واقعہ اپنی کامل صورت میں قیامت میں ظاہر ہوگا۔ مگر جب اللہ چاہتا ہے اس کو جزئی طورپر موجودہ دنیا میں ظاہر کردیتا ہے تاکہ لوگوں کےلیے سبق ہو۔ دور اول میںاسلام کا غلبہ اسی قسم کا ایک جزئی اظہار تھا۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہوا اور توحید کو شرک کے اوپر بالاتری حاصل ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ آیت تھی جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (
17:81
) سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ
417
۔
وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ
📘 قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔
مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔
حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
قُلْ إِنْ ضَلَلْتُ فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي ۖ وَإِنِ اهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ
📘 دنیا کی تخلیق حق پر ہوئی ہے۔ یہاں سارا زور حق کی طرف ہے۔ یہاں تمام دلائل حق کی تائید کرتے ہیں۔ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے یہاں باطل کو کوئی زور اور کوئی دلیل حاصل نہیں۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہيے کہ حق یہاں ہمیشہ سربلند رہے اور باطل یہاں سراسر بے وزن ہوکر رہ جائے مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اس دنیامیں حق اتنا طاقتور نہیں کہ وہ خود اپنے زور پر باطل کا خاتمہ کردے اور باطل اتنا بے وقعت نہیں کہ اس کی بنیاد پر کسی شخص کےلیے عزت اور سربلندی حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آزمائش کا قانون جاری ہے۔ اس ليے یہاں باطل کو بھی ابھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر یہ صورت حال عارضی طورپر صرف امتحان کی مدت تک ہے۔ قیامت آتے ہی یہ غیر واقعی صورت حال یکسر ختم ہوجائے گی۔ اس وقت تمام نظری اور عملی زور صرف حق کی طرف ہوگا اور باطل سراسر بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
یہ واقعہ اپنی کامل صورت میں قیامت میں ظاہر ہوگا۔ مگر جب اللہ چاہتا ہے اس کو جزئی طورپر موجودہ دنیا میں ظاہر کردیتا ہے تاکہ لوگوں کےلیے سبق ہو۔ دور اول میںاسلام کا غلبہ اسی قسم کا ایک جزئی اظہار تھا۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہوا اور توحید کو شرک کے اوپر بالاتری حاصل ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ آیت تھی جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (
17:81
) سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ
417
۔
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ فَزِعُوا فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ
📘 فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔
وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ
📘 فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔
وَقَدْ كَفَرُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ۖ وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ
📘 فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ
📘 فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔
وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
📘 قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔
مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔
حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ
📘 مکہ کے لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو حقیر سمجھتے تھے، اس ليے وہ ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی اصل وجہ آخرت کے بارے میں ان کی بے یقینی تھی۔ آخرت کی پکڑ کا اندیشہ ان کے دلوں میں نہ تھا۔ اس ليے وہ آخرت کی باتوں کے متعلق زیادہ سنجیدہ بھی نہ ہوسکے۔
اس دنیا میں سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ آدمی صحتِ فکر سے محروم ہوجائے۔ ایسا آدمی کسی چیز کو اس کے صحیح روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ کھلی ہوئی حقیقتوں سے بھی اس کو نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً اوپری فضا سے مسلسل بے شمار پـتھر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آتے رہتے ہیں۔ اگر یہ پتھر انسانی بستیوں پر برسنے لگیں تو انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی طرح زمین کے نیچے کا زیادہ حصہ گرم پگھلا ہوا لاوا ہے۔ اگر وہ غیر محدود طورپر پھٹ پڑے تو سطح زمین کی ہر چیز جل کر ختم ہوجائے۔ مگر خدا اپنے خصوصی انتظام کے تحت ایسا ہونے نہیں دیتا۔ آسمان اور زمین میں اس قسم کی واضح نشانیاں ہیں جو انسان کے عجز کو بتا رہی ہیں۔ مگر آدمی جب صحتِ فکر سے محروم ہوجائے تو کوئی نشانی اس کو ہدایت دینے والی نہیں بنتی۔
أَفْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ ۗ بَلِ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ فِي الْعَذَابِ وَالضَّلَالِ الْبَعِيدِ
📘 مکہ کے لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو حقیر سمجھتے تھے، اس ليے وہ ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی اصل وجہ آخرت کے بارے میں ان کی بے یقینی تھی۔ آخرت کی پکڑ کا اندیشہ ان کے دلوں میں نہ تھا۔ اس ليے وہ آخرت کی باتوں کے متعلق زیادہ سنجیدہ بھی نہ ہوسکے۔
اس دنیا میں سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ آدمی صحتِ فکر سے محروم ہوجائے۔ ایسا آدمی کسی چیز کو اس کے صحیح روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ کھلی ہوئی حقیقتوں سے بھی اس کو نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً اوپری فضا سے مسلسل بے شمار پـتھر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آتے رہتے ہیں۔ اگر یہ پتھر انسانی بستیوں پر برسنے لگیں تو انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی طرح زمین کے نیچے کا زیادہ حصہ گرم پگھلا ہوا لاوا ہے۔ اگر وہ غیر محدود طورپر پھٹ پڑے تو سطح زمین کی ہر چیز جل کر ختم ہوجائے۔ مگر خدا اپنے خصوصی انتظام کے تحت ایسا ہونے نہیں دیتا۔ آسمان اور زمین میں اس قسم کی واضح نشانیاں ہیں جو انسان کے عجز کو بتا رہی ہیں۔ مگر آدمی جب صحتِ فکر سے محروم ہوجائے تو کوئی نشانی اس کو ہدایت دینے والی نہیں بنتی۔
أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنْ نَشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ
📘 مکہ کے لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو حقیر سمجھتے تھے، اس ليے وہ ان کی ہر بات کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی اصل وجہ آخرت کے بارے میں ان کی بے یقینی تھی۔ آخرت کی پکڑ کا اندیشہ ان کے دلوں میں نہ تھا۔ اس ليے وہ آخرت کی باتوں کے متعلق زیادہ سنجیدہ بھی نہ ہوسکے۔
اس دنیا میں سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ آدمی صحتِ فکر سے محروم ہوجائے۔ ایسا آدمی کسی چیز کو اس کے صحیح روپ میں نہیں دیکھ پاتا۔ کھلی ہوئی حقیقتوں سے بھی اس کو نصیحت حاصل نہیں ہوتی۔ مثلاً اوپری فضا سے مسلسل بے شمار پـتھر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ زمین کی طرف آتے رہتے ہیں۔ اگر یہ پتھر انسانی بستیوں پر برسنے لگیں تو انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ اسی طرح زمین کے نیچے کا زیادہ حصہ گرم پگھلا ہوا لاوا ہے۔ اگر وہ غیر محدود طورپر پھٹ پڑے تو سطح زمین کی ہر چیز جل کر ختم ہوجائے۔ مگر خدا اپنے خصوصی انتظام کے تحت ایسا ہونے نہیں دیتا۔ آسمان اور زمین میں اس قسم کی واضح نشانیاں ہیں جو انسان کے عجز کو بتا رہی ہیں۔ مگر آدمی جب صحتِ فکر سے محروم ہوجائے تو کوئی نشانی اس کو ہدایت دینے والی نہیں بنتی۔