WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الأحزاب

(Al-Ahzab) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کے داعی تھے۔ اس دنیا میں جو شخص بے آمیز حق کا داعی بن کر اٹھے اس کو نہایت حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ پورے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔ کسی کا دنیا پرستانہ مذہب داعی کے آخرت پسندانہ دین سے جوڑ نہیں کھاتا۔ کسی کی زمانہ سازی داعی کی بے لاگ حق پرستی سے ٹکراتی ہے۔ کوئی دین کو اپنی قوم پرستی کا ضمیمہ بنائے ہوئے ہوتا ہے، جب کہ داعی کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ دین کو خالص خدا پرستی کی بنیاد پرقائم کیا جائے۔ ایسی حالت میں داعی اگر ماحول کا دباؤ قبول کرلے تو بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور اگر وہ خالص حق پر قائم رہے تو ایک خدا کے سوا کوئی اور اس کا سہارا نظر نہیں آتا۔ مگر داعی کو کسی حال میں پہلا راستہ نہیں اختیار کرنا ہے۔ اس کو اللہ کے بھروسہ پر خالص حق پر قائم رہنا ہے۔ اور یہ امید رکھنا ہے کہ خدا حکیم اور علیم ہے، وہ ضرور اپنے بندے کی مدد فرمائے گا۔

إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا ۚ وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ ۖ إِنْ يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللَّهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ ۚ وَكَانَ عَهْدُ اللَّهِ مَسْئُولًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

قُلْ لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ إِنْ فَرَرْتُمْ مِنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُمْ مِنَ اللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔

۞ قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الْمُعَوِّقِينَ مِنْكُمْ وَالْقَائِلِينَ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ وَلَا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 ایک آدمی وہ ہے جو قربانی کے وقت پیچھے رہ جائے تو اس پر شرمندگی طاری ہوتی ہے۔ اس کا بولنا بند ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو قربانی کے وقت قربانی نہیں دیتا۔ اور پھر دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ یہ کوتاہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کوتاہی قابل معافی ہوسکتی ہے مگر ڈھٹائی قابلِ معافی نہیں۔ جن لوگوں کے اندر ڈھٹائی کی نفسیات ہو وہ بظاہر کوئی اچھا عمل کریں تب بھی وہ بے قیمت ہیں۔ کیوں کہ عمل کی اصل روح اخلاص ہے اور وہی ان کے اندر موجود نہیں۔ دین کےلیے قربانی نہ دینا ہمیشہ دنیا کی محبت میں ہوتاہے۔ آدمی اپنی دنیا کو بچانے کےلیے اپنے دین کو کھو دیتاہے۔ اس ليے ایسے لوگ جہاں دیکھتے ہیں کہ دین میں دنیا کا فائدہ بھی جمع ہوگیا ہے تو وہاں وہ خوب اپنے بولنے کا کمال دکھاتے ہیں، تاکہ دین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلق ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں مگر جہاں دین کا مطلب قربانی ہو وہاں دین دار بننے سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔

أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُمْ بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ ۚ أُولَٰئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا

📘 ایک آدمی وہ ہے جو قربانی کے وقت پیچھے رہ جائے تو اس پر شرمندگی طاری ہوتی ہے۔ اس کا بولنا بند ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو قربانی کے وقت قربانی نہیں دیتا۔ اور پھر دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ یہ کوتاہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کوتاہی قابل معافی ہوسکتی ہے مگر ڈھٹائی قابلِ معافی نہیں۔ جن لوگوں کے اندر ڈھٹائی کی نفسیات ہو وہ بظاہر کوئی اچھا عمل کریں تب بھی وہ بے قیمت ہیں۔ کیوں کہ عمل کی اصل روح اخلاص ہے اور وہی ان کے اندر موجود نہیں۔ دین کےلیے قربانی نہ دینا ہمیشہ دنیا کی محبت میں ہوتاہے۔ آدمی اپنی دنیا کو بچانے کےلیے اپنے دین کو کھو دیتاہے۔ اس ليے ایسے لوگ جہاں دیکھتے ہیں کہ دین میں دنیا کا فائدہ بھی جمع ہوگیا ہے تو وہاں وہ خوب اپنے بولنے کا کمال دکھاتے ہیں، تاکہ دین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلق ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں مگر جہاں دین کا مطلب قربانی ہو وہاں دین دار بننے سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔

وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

📘 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کے داعی تھے۔ اس دنیا میں جو شخص بے آمیز حق کا داعی بن کر اٹھے اس کو نہایت حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ پورے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔ کسی کا دنیا پرستانہ مذہب داعی کے آخرت پسندانہ دین سے جوڑ نہیں کھاتا۔ کسی کی زمانہ سازی داعی کی بے لاگ حق پرستی سے ٹکراتی ہے۔ کوئی دین کو اپنی قوم پرستی کا ضمیمہ بنائے ہوئے ہوتا ہے، جب کہ داعی کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ دین کو خالص خدا پرستی کی بنیاد پرقائم کیا جائے۔ ایسی حالت میں داعی اگر ماحول کا دباؤ قبول کرلے تو بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور اگر وہ خالص حق پر قائم رہے تو ایک خدا کے سوا کوئی اور اس کا سہارا نظر نہیں آتا۔ مگر داعی کو کسی حال میں پہلا راستہ نہیں اختیار کرنا ہے۔ اس کو اللہ کے بھروسہ پر خالص حق پر قائم رہنا ہے۔ اور یہ امید رکھنا ہے کہ خدا حکیم اور علیم ہے، وہ ضرور اپنے بندے کی مدد فرمائے گا۔

يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا ۖ وَإِنْ يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُمْ بَادُونَ فِي الْأَعْرَابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنْبَائِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا فِيكُمْ مَا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلًا

📘 ایک آدمی وہ ہے جو قربانی کے وقت پیچھے رہ جائے تو اس پر شرمندگی طاری ہوتی ہے۔ اس کا بولنا بند ہوجاتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو قربانی کے وقت قربانی نہیں دیتا۔ اور پھر دوسروں کو بھی اس سے روکتا ہے۔ یہ کوتاہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے۔ کوتاہی قابل معافی ہوسکتی ہے مگر ڈھٹائی قابلِ معافی نہیں۔ جن لوگوں کے اندر ڈھٹائی کی نفسیات ہو وہ بظاہر کوئی اچھا عمل کریں تب بھی وہ بے قیمت ہیں۔ کیوں کہ عمل کی اصل روح اخلاص ہے اور وہی ان کے اندر موجود نہیں۔ دین کےلیے قربانی نہ دینا ہمیشہ دنیا کی محبت میں ہوتاہے۔ آدمی اپنی دنیا کو بچانے کےلیے اپنے دین کو کھو دیتاہے۔ اس ليے ایسے لوگ جہاں دیکھتے ہیں کہ دین میں دنیا کا فائدہ بھی جمع ہوگیا ہے تو وہاں وہ خوب اپنے بولنے کا کمال دکھاتے ہیں، تاکہ دین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلق ظاہر کرکے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکیں مگر جہاں دین کا مطلب قربانی ہو وہاں دین دار بننے سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا

📘 رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔ پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔

وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا

📘 رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔ پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا

📘 رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔ پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔

لِيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّادِقِينَ بِصِدْقِهِمْ وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ إِنْ شَاءَ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں قیامت تک کے اہلِ ایمان کےلیے خدا پرستانہ زندگی کا نمونہ ہیں، اس بات کا نمونہ کہ اللہ اور آخرت کی امیدواری کے معنی کیا ہیں۔ اللہ کویاد کرنے کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں ثابت قدمی کسے کہتے ہیں۔ خدا کے وعدوں پر بھروسہ کس طرح کیا جاتا ہے۔ اضافہ پذیر ایمان کیا ہے اور وہ کیوں کر حاصل ہوتا ہے۔ خدا سے کيے ہوئے عہد کو پورا کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول نے ان چیزوں کا آخری نمونہ قائم کردیا۔ شدید ترین حالات میں بھی انھوں نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ انھوں نے ہر معاملہ میں اسلامی فکر اور اسلامی کردار کا کامل ثبوت دیا۔ امتحان کا لمحہ آنے سے پہلے بھی وہ حق پر قائم تھے اور امتحان کا لمحہ آنے کے بعد بھی وہ حق پر قائم رہے۔ پھر رسول اور اصحاب رسول کی زندگیاں ہی اس بات کا نمونہ بھی ہیں کہ خدا کے یہاں کسی کا فیصلہ امتحان کے بغیر نہیں کیا جاتا۔ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ وہ شدیدحالات پیدا کرتا ہے تاکہ سچے اہل ایمان اور جھوٹے دعوے دار ایک دوسرےسے الگ ہوجائیں۔ اس خدائی قانون میں نہ پہلے کسی کا استثناء تھا اور نہ آئندہ کسی کا استثناء ہوگا۔

وَرَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا ۚ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا

📘 غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء 14: 10-20 )

وَأَنْزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا

📘 غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء 14: 10-20 )

وَأَوْرَثَكُمْ أَرْضَهُمْ وَدِيَارَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَأَرْضًا لَمْ تَطَئُوهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا

📘 غزوۂ خندق (احزاب) میں حالات بے حد سخت تھے۔ مگر اس میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آ ئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہوا کا طوفان اور فرشتوں کا لشکر بھیج کر دشمنوں کو اس طرح سراسیمہ کیا کہ وہ خود ہی میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ مدینہ کے یہود (بنو قریظہ) کا مسلمانوں سے صلح اور امن کا معاہدہ تھا۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انھوں نے غداری کی۔ وہ معاہدہ کو توڑ کر مشرکین کے ساتھی بن گئے۔ جب حملہ آوروں کا لشکر مدینہ سے واپس چلا گیا تو اللہ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی بستیوں پر چڑھائی کی۔ اسلامی فوج نے ان کے قلعوں کو گھیر لیا۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔ آخر میں خود ان کی درخواست پر سعد بن معاذ حَکَم مقرر ہوئے۔ حضرت سعد بن معاذ نے وہی فیصلہ کیا جو خود ان کی کتاب تورات میں ایسے مجرمین کےلیے مقرر ہے۔ یعنی بنو قریظہ کے سب جوان قتل کردئے جائیں۔ عورتیں اور لڑکے قیدِ غلامی میں لے ليے جائیں اور ان کے مال اور جائداد کو ضبط کرلیا جائے (استثناء 14: 10-20 )

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا

📘 ہجرت نے مسلمانوں کی معاشیات کو درہم برہم کردیا تھا۔ مزید یہ کہ ہجرت کے بعد اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کو مسلسل جنگ میں الجھا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی معاشی حالت بالکل برباد ہو کر رہ گئی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرپڑا۔ آپ کے گھر والوں کا حال یہ ہوا کہ ناگزیر ضرورت کی فراہمی بھی مشکل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آپ کی ازواج نے تنگ آکر آپ سے نفقہ (خرچ) کا مطالبہ شروع کردیا۔ ازواج کی طرف سے صرف ضروری خرچ کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ اس کو اللہ نے زینتِ دنیا کے مطالبہ سے تعبیر فرمایا۔ یہ دراصل شدتِ اظہار ہے۔ اسی طرح ’’بے حیائی‘‘ کا لفظ بھی یہاں شدتِ اظہار کےلیے آیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے ایک اہم ترین مشن کی تکمیل پر مامور تھے، یعنی دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا قیام۔ ایسی حالت میں کسی بھی دوسری چیز کو اہمیت دینا آپ کےلیے ممکن نہ تھا۔ اس ليے ازواجِ رسول سے فرمایاگیا کہ یا تو صبر اور قناعت کے ساتھ رسول کے ساتھ رہو۔ اور اگر یہ منظور نہیں ہے تو خوش اسلوبی کے ساتھ الگ ہوجاؤ۔ خانگی نزاع کھڑی کر کے پیغمبر کے ذہن کو منتشر کرنا کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔

وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 ہجرت نے مسلمانوں کی معاشیات کو درہم برہم کردیا تھا۔ مزید یہ کہ ہجرت کے بعد اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کو مسلسل جنگ میں الجھا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی معاشی حالت بالکل برباد ہو کر رہ گئی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرپڑا۔ آپ کے گھر والوں کا حال یہ ہوا کہ ناگزیر ضرورت کی فراہمی بھی مشکل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آپ کی ازواج نے تنگ آکر آپ سے نفقہ (خرچ) کا مطالبہ شروع کردیا۔ ازواج کی طرف سے صرف ضروری خرچ کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ اس کو اللہ نے زینتِ دنیا کے مطالبہ سے تعبیر فرمایا۔ یہ دراصل شدتِ اظہار ہے۔ اسی طرح ’’بے حیائی‘‘ کا لفظ بھی یہاں شدتِ اظہار کےلیے آیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے ایک اہم ترین مشن کی تکمیل پر مامور تھے، یعنی دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا قیام۔ ایسی حالت میں کسی بھی دوسری چیز کو اہمیت دینا آپ کےلیے ممکن نہ تھا۔ اس ليے ازواجِ رسول سے فرمایاگیا کہ یا تو صبر اور قناعت کے ساتھ رسول کے ساتھ رہو۔ اور اگر یہ منظور نہیں ہے تو خوش اسلوبی کے ساتھ الگ ہوجاؤ۔ خانگی نزاع کھڑی کر کے پیغمبر کے ذہن کو منتشر کرنا کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا

📘 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کے داعی تھے۔ اس دنیا میں جو شخص بے آمیز حق کا داعی بن کر اٹھے اس کو نہایت حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ پورے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔ کسی کا دنیا پرستانہ مذہب داعی کے آخرت پسندانہ دین سے جوڑ نہیں کھاتا۔ کسی کی زمانہ سازی داعی کی بے لاگ حق پرستی سے ٹکراتی ہے۔ کوئی دین کو اپنی قوم پرستی کا ضمیمہ بنائے ہوئے ہوتا ہے، جب کہ داعی کا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ دین کو خالص خدا پرستی کی بنیاد پرقائم کیا جائے۔ ایسی حالت میں داعی اگر ماحول کا دباؤ قبول کرلے تو بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے والے مل جائیں گے۔ اور اگر وہ خالص حق پر قائم رہے تو ایک خدا کے سوا کوئی اور اس کا سہارا نظر نہیں آتا۔ مگر داعی کو کسی حال میں پہلا راستہ نہیں اختیار کرنا ہے۔ اس کو اللہ کے بھروسہ پر خالص حق پر قائم رہنا ہے۔ اور یہ امید رکھنا ہے کہ خدا حکیم اور علیم ہے، وہ ضرور اپنے بندے کی مدد فرمائے گا۔

يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا

📘 ہجرت نے مسلمانوں کی معاشیات کو درہم برہم کردیا تھا۔ مزید یہ کہ ہجرت کے بعد اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کو مسلسل جنگ میں الجھا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی معاشی حالت بالکل برباد ہو کر رہ گئی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرپڑا۔ آپ کے گھر والوں کا حال یہ ہوا کہ ناگزیر ضرورت کی فراہمی بھی مشکل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آپ کی ازواج نے تنگ آکر آپ سے نفقہ (خرچ) کا مطالبہ شروع کردیا۔ ازواج کی طرف سے صرف ضروری خرچ کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ اس کو اللہ نے زینتِ دنیا کے مطالبہ سے تعبیر فرمایا۔ یہ دراصل شدتِ اظہار ہے۔ اسی طرح ’’بے حیائی‘‘ کا لفظ بھی یہاں شدتِ اظہار کےلیے آیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے ایک اہم ترین مشن کی تکمیل پر مامور تھے، یعنی دورِ شرک کا خاتمہ اور دورِ توحید کا قیام۔ ایسی حالت میں کسی بھی دوسری چیز کو اہمیت دینا آپ کےلیے ممکن نہ تھا۔ اس ليے ازواجِ رسول سے فرمایاگیا کہ یا تو صبر اور قناعت کے ساتھ رسول کے ساتھ رہو۔ اور اگر یہ منظور نہیں ہے تو خوش اسلوبی کے ساتھ الگ ہوجاؤ۔ خانگی نزاع کھڑی کر کے پیغمبر کے ذہن کو منتشر کرنا کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔

۞ وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا

📘 پیغمبر کی بیویوں کو معاشرہ میں ایک طرح کا قائدانہ مقام حاصل تھا۔ایسے لوگوں کو حق کے آگے جھکنے کےلیے اس سے زیادہ قربانی دینی پڑتی ہے جتنی ایک عام آدمی کو دینی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے دہرا انعام کا وعدہ فرمایا ہے۔ وہ عمل کرنے کےلیے دوسروں سے زیادہ قوت ارادی استعمال کرتے ہیں۔ اس ليے وہ اپنے عمل کی قیمت بھی دوسروں سے زیادہ پاتے ہیں۔ پیغمبر کی عورتوں کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ان کاربط بار بار دوسروں سے قائم ہوتا تھا۔ لوگ دینی امور میں رہنمائی کےلیے ان کے پاس آتے تھے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ دوسروں سے بات کرو تو کسی قدر خشک انداز سے بات کرو۔ اس طرح بے تکلف انداز میں بات نہ کرو جس طرح ایک محرم رشتہ دار سے بات کی جاتی ہے۔

يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا

📘 پیغمبر کی بیویوں کو معاشرہ میں ایک طرح کا قائدانہ مقام حاصل تھا۔ایسے لوگوں کو حق کے آگے جھکنے کےلیے اس سے زیادہ قربانی دینی پڑتی ہے جتنی ایک عام آدمی کو دینی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے دہرا انعام کا وعدہ فرمایا ہے۔ وہ عمل کرنے کےلیے دوسروں سے زیادہ قوت ارادی استعمال کرتے ہیں۔ اس ليے وہ اپنے عمل کی قیمت بھی دوسروں سے زیادہ پاتے ہیں۔ پیغمبر کی عورتوں کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ان کاربط بار بار دوسروں سے قائم ہوتا تھا۔ لوگ دینی امور میں رہنمائی کےلیے ان کے پاس آتے تھے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ دوسروں سے بات کرو تو کسی قدر خشک انداز سے بات کرو۔ اس طرح بے تکلف انداز میں بات نہ کرو جس طرح ایک محرم رشتہ دار سے بات کی جاتی ہے۔

وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

📘 یہاں ازواجِ رسول کو خطاب کرتے ہوئے مسلم خواتین کو عام ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کس طرح رہیں۔ ان کو اصولاً اپنے گھر کے دا ئرہ میں رہنا چاہيے۔ دنیا دار عورتوں کی طرح زیب وزینت کی نمائش ان کا مقصود نہیںہونا چاہيے۔ ان کی توجہات کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی عبادت گزار بن جائیں۔ وہ اپنے اثاثہ کو اللہ کےلیے خرچ کریں۔ زندگی کے معاملات میں اللہ اور رسول کا جو حکم ملے اس کو فوراً اختیار کرلیں۔ وہ اللہ اور رسول کی باتوں کو سننے اور سمجھنے میں اپنا وقت گزاریں۔ یہ طرزِ زندگی وہ ہے جو آدمی کو پاک باز بناتا ہے۔ ا ور پاک باز آدمی ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔

وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا

📘 یہاں ازواجِ رسول کو خطاب کرتے ہوئے مسلم خواتین کو عام ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کس طرح رہیں۔ ان کو اصولاً اپنے گھر کے دا ئرہ میں رہنا چاہيے۔ دنیا دار عورتوں کی طرح زیب وزینت کی نمائش ان کا مقصود نہیںہونا چاہيے۔ ان کی توجہات کا مرکز یہ ہونا چاہیے کہ وہ اللہ کی عبادت گزار بن جائیں۔ وہ اپنے اثاثہ کو اللہ کےلیے خرچ کریں۔ زندگی کے معاملات میں اللہ اور رسول کا جو حکم ملے اس کو فوراً اختیار کرلیں۔ وہ اللہ اور رسول کی باتوں کو سننے اور سمجھنے میں اپنا وقت گزاریں۔ یہ طرزِ زندگی وہ ہے جو آدمی کو پاک باز بناتا ہے۔ ا ور پاک باز آدمی ہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

📘 اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مرد یا ایک عورت کو جیسا دیکھنا چاہتا ہے وہ کیا ہے۔ وہ حسب ذیل دس صفات ہیں — اسلام، ایمان، قنوت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، روزہ، عفت، ذکر اللہ۔ ان دس الفاظ میں اسلامی عقیدہ اور اسلامی کردار کے تمام پہلو سمٹ آئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کے یہاں مغفرت اور انعام کا امیدوار ہو اس کو ایسا بننا چاہیے کہ وہ اللہ کے حکم کے آگے جھکنے والا ہو۔ وہ اللہ پر یقین کرنے والا ہو۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کےلیے یکسو ہوجائے۔ اس کی زندگی قول اور فعل کے تضاد سے خالی ہو۔ وہ ہر حال میں جما رہنے والاہو۔ اللہ کی بڑائی کے احساس نے اسے متواضع بنادیا ہو۔ وہ دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کو بھی اپنی ذمہ داری شمار کرتا ہو۔ وہ روزہ دار ہو جو نفس کو کنٹرول کرنے کی تربیت ہے۔ وہ شہوانی خواہشات کے مقابلہ میں عفیف اور پاک دامن ہو۔ اس کے صبح وشام اللہ کی یاد میں بسر ہونے لگیں۔ یہ اوصاف جس طرح مردوں سے مطلوب ہیں اسی طرح وہ عورتوں سے بھی مطلوب ہیں۔ ان اوصاف کے اظہار کا دائرہ بعض اعتبار سے دونوں کے درمیان مختلف ہے۔ مگر جہاں تک خود اوصاف کا تعلق ہے وہ دونوں کےلیے یکساں ہے۔ کوئی عورت ہو یا کوئی مرد وہ اسی وقت خداکے یہاں قابل قبول ٹھہرے گا جب کہ وہ ان دس صفتوں سے متصف ہو کر خدا کے یہاں پہنچے۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا

📘 انسان کو خود مختار پیدا کیا گیا ہے۔ اس خود مختاری کو اسے خدا کے حوالے کرنا ہے۔ یہی موجودہ دنیا میں انسان کااصل امتحان ہے۔ وہی شخص ہدایت پر ہے جو اس نازک امتحان میں پورا اترے۔ اس کی ایک مثال دور اول میں زید اور زینب کے نکاح کا واقعہ ہے۔ زید ایک آزاد کردہ غلام تھے۔ اس کے برعکس، زینب قریش کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ کیونکہ وہ امیمہ بنت عبدالمطلب کی صاحب زادی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کا نکاح زینب سے کرنا چاہا تو زینب کے گھر والے اس کےلیے تیار نہیں ہوئے۔ خود زینب نے کہا کہ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ حَسَبًا (تفسیر الطبری، جلد20، صفحہ 272 )۔ مگر جب ان لوگوں کو قرآن کی مذکورہ آیت سنائی گئی تو وہ لوگ فوراً راضی ہوگئے۔ 4 ہجری میں ان کا نکاح کردیاگیا۔ یہی اسلام کا مزاج ہے اور یہی مزاج ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت میں ہونا چاہيے۔

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا

📘 حضرت زید کے ساتھ حضرت زینب کانکاح 4 ہجری میں ہوا۔ مگر نباہ نہ ہوسکا اور اگلے سال دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ حضرت زید نے جب رسول صلي الله عليه وسلم سے طلاق کا ارادہ ظاہر کیاتو آپ نے سبب پوچھا۔ انھوںنے کہا کہ وہ اپنے خاندانی شرف کی وجہ سے میرے مقابلہ میں بڑائی کا احساس رکھتی ہیں (تَتَعَظَّمُ عَلَيَّ لِشَرَفِهَا) تفسیر البغوی، جلد3، صفحہ 642 ۔ تاہم آپ نے انھیں روکا۔ بار بار کی درخواست پر آخر کار آپ نے انھیں علیحدگی کی اجازت دے دی۔ زید اور زینب کے نکاح سے اولاً یہ رسم توڑی گئی تھی کہ معاشرتی فرق کو نکاح میں حائل نہیں ہونا چاہيے۔ مگر جب ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی تو اب اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہوئی کہ زینب کو ایک اورغلط رسم کے توڑنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ قدیم جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ متبنیٰ (منہ بولے بیٹے) کو بالکل حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے۔ ہر اعتبار سے اس کے وہی حقوق تھے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں۔ اس رسم کو توڑنے کی بہترین صورت یہ تھی کہ طلاق کے بعد حضر زینب کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کردیا جائے۔زید رسول اللہ کے متبنیٰ تھے۔ حتی کہ ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا تھا۔ ایسی حالت میں منہ بولے بیٹے کی مطلقہ عورت سے آپ کا نکاح کرنا اس رسم کے خلاف ایک دھماکہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ متبنیٰ کی منکوحہ باپ پر حرام ہے جس طرح حقیقی بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشگی طورپر بتایا جاچکا تھا کہ اگر دونوں میں علیحدگی ہوئی تو اس جاہلی رسم کو توڑنے کی تدبیر کے طورپر زینب کو آپ کے نکاح میں دے دیاجائے گا۔ چوں کہ اس قسم کا نکاح قدیم ماحول میں زبردست بدنامی کا ذریعہ ہوتا، اس ليے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کو روکتے رہے کہ اگر وہ طلاق نہ دیں تو میں اس شدید آزمائش سے بچ جاؤں گا۔ مگر جو چیز علم الٰہی میں مقدر تھی وہ ہو کر رہی۔ زید نے زینب کو طلاق دیدی اور اس رسم کو توڑنے کی عملی تدبیر کے طور پر 5 ہجری میں زینب کا نکاح آپ کے ساتھ کردیا گیا۔

مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا

📘 اِس واقعہ کے بعد حسب توقع آپ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ کہا جانے لگا کہ پیغمبر نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔ فرمایا کہ — محمد کا معاملہ تویہ ہے کہ ان کی صرف لڑکیاں ہیں۔ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔ زید بن حارثہ ان کے صرف منھ بولے بیٹے تھے اور منھ بولا بیٹا واقعی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے مطلقہ سے نکاح آپ کے لیے جائز نہ ہو۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے، پھر بھی آپ کے ساتھ اتنے اتار چڑھاؤ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر پر اگرچہ خدا کی وحی آتی ہے۔ مگر اس کو عام انسانوں کی طرح رہنا ہوتاہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کو بھی ویسے ہی حالات پیش آتے ہیں جیسے حالات دوسروں کو پیش آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیغمبر کی زندگی عام انسانوں پر حجت نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرانہ رہنمائی حقیقی حالات کے ڈھانچہ میں دی جاتی ہے، نہ کہ مصنوعی حالات کے ڈھانچہ میں۔ خاتم النبیین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹيمپ (stamp) کےلیے نہیں آتا ہے بلکہ سیل (seal) کےلیے آتا ہے،یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طورپر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربي میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے (خاتِمُ القَوْم آخرُهم) لسان العرب، جلد 12 ، صفحہ 164 ۔اس واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی اور نبی آنے والا نہیں، اس ليے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کردیا جائے۔

الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ حَسِيبًا

📘 اِس واقعہ کے بعد حسب توقع آپ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ کہا جانے لگا کہ پیغمبر نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔ فرمایا کہ — محمد کا معاملہ تویہ ہے کہ ان کی صرف لڑکیاں ہیں۔ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔ زید بن حارثہ ان کے صرف منھ بولے بیٹے تھے اور منھ بولا بیٹا واقعی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے مطلقہ سے نکاح آپ کے لیے جائز نہ ہو۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے، پھر بھی آپ کے ساتھ اتنے اتار چڑھاؤ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر پر اگرچہ خدا کی وحی آتی ہے۔ مگر اس کو عام انسانوں کی طرح رہنا ہوتاہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کو بھی ویسے ہی حالات پیش آتے ہیں جیسے حالات دوسروں کو پیش آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیغمبر کی زندگی عام انسانوں پر حجت نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرانہ رہنمائی حقیقی حالات کے ڈھانچہ میں دی جاتی ہے، نہ کہ مصنوعی حالات کے ڈھانچہ میں۔ خاتم النبیین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹيمپ (stamp) کےلیے نہیں آتا ہے بلکہ سیل (seal) کےلیے آتا ہے،یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طورپر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربي میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے (خاتِمُ القَوْم آخرُهم) لسان العرب، جلد 12 ، صفحہ 164 ۔اس واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی اور نبی آنے والا نہیں، اس ليے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کردیا جائے۔

مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ ۚ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ ۖ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ

📘 آدمی کے سینے میں دو دل نہ ہونا بتاتا ہے کہ تضاد فکری خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے۔جب انسان کو ایک دل دیاگیا تو اس کی سوچ بھی ایک ہوني چاہيے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی دل میں بیک وقت اخلاص بھی ہو اور نفاق بھی، خدا پرستی بھی ہو اور زمانہ پرستی بھی، انصاف بھی ہو اور ظلم بھی، گھمنڈ بھی ہو اور تواضع بھی۔ آدمی دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوسکتا ہے اور اس کو ایک ہی ہونا چاہيے۔ یہ ایک اصولی بات ہے۔ اسی کے تحت زمانۂ جاہلیت کی رسمیں مثلاًظِہار و تبنیت آتی ہیں۔ عرب جاہلیت کا ایک رواجی قانون یہ تھاکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ أنْتِ عَلَيَّ كظَهْر أمِّي (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کےلیے حرام ہوجاتی تھی جس طرح کسی کی ماں اس کےلیے حرام ہوتی ہے۔ اس کو ظِہار کہتے ہیں۔ اسی طرح متبنّی (منھ بولے بیٹے) کے معاملے میں بھی ان کا عقیدہ تھا کہ وہ بالکل صلبی بیٹے کی طرح ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر معاملہ میں وہی درجہ دے دیاگیا تھاجو حقیقی اولاد کا ہوتاہے۔ قرآن نے اس رواج کو بالکل ختم کردیا۔ قرآن میں اعلان کیاگیا کہ یہ تخلیقی نظام کے سراسر خلاف ہے کہ حقیقی ماں اور زبان سے کہی ہوئی ماں یا حقیقی بیٹا اور منھ بولا بیٹا دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہوجائے۔ آدمی اگر بے خبری میں کوئی غلطی کرے تو وہ خدا کے یہاں قابلِ معافی ہے۔ مگر جب کسی معاملہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے، اس کے باوجود آدمی اپنی غلط روش کو نہ چھوڑے تو اس کے بعد وہ قابلِ معافی نہیں رہتا۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَٰكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا

📘 اِس واقعہ کے بعد حسب توقع آپ کے خلاف زبردست پروپیگنڈا شروع ہوگیا۔ کہا جانے لگا کہ پیغمبر نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا، حالانکہ بیٹے کی منکوحہ باپ پر حرام ہوتی ہے۔ فرمایا کہ — محمد کا معاملہ تویہ ہے کہ ان کی صرف لڑکیاں ہیں۔ وہ مردوں میں سے کسی کے باپ ہی نہیں۔ زید بن حارثہ ان کے صرف منھ بولے بیٹے تھے اور منھ بولا بیٹا واقعی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے کہ اس کے مطلقہ سے نکاح آپ کے لیے جائز نہ ہو۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے، پھر بھی آپ کے ساتھ اتنے اتار چڑھاؤ کے واقعات کیوں پیش آئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پیغمبر پر اگرچہ خدا کی وحی آتی ہے۔ مگر اس کو عام انسانوں کی طرح رہنا ہوتاہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اس کو بھی ویسے ہی حالات پیش آتے ہیں جیسے حالات دوسروں کو پیش آتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو پیغمبر کی زندگی عام انسانوں پر حجت نہ بن سکے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرانہ رہنمائی حقیقی حالات کے ڈھانچہ میں دی جاتی ہے، نہ کہ مصنوعی حالات کے ڈھانچہ میں۔ خاتم النبیین کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ خاتم کا لفظ اسٹيمپ (stamp) کےلیے نہیں آتا ہے بلکہ سیل (seal) کےلیے آتا ہے،یعنی آخری عمل۔ لفافہ کو سیل کرنے کا مطلب اس کو آخری طورپر بند کرنا ہے کہ اس کے بعد نہ کوئی چیز اس کے اندر سے باہر نکلے اور نہ باہر سے اندر جائے۔ چنانچہ عربي میں قوم کا خاتم قوم کے آخری شخص کو کہا جاتا ہے (خاتِمُ القَوْم آخرُهم) لسان العرب، جلد 12 ، صفحہ 164 ۔اس واقعہ کے ذیل میں آپ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد چونکہ کوئی اور نبی آنے والا نہیں، اس ليے ضروری ہے کہ تمام خدائی باتوں کا اظہار آپ کے ذریعہ سے کردیا جائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا

📘 جب ملاوٹی دین کا غلبہ ہو، اس وقت سچے دین کو اختیار کرنا ہمیشہ مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اہل ایمان کے دل میں بعض اوقات دل شکستگی اور مایوسی کے جذبات طاری ہونے لگتے ہیں۔ اس سے بچنے کی صرف ایک ہی یقینی صورت ہے — ظاہری ناخوش گواریوں کے پیچھے جو خوش گوار پہلو چھپا ہواہے، اس پر نظر کو جمائے رکھنا۔ لوگ مادیات کے بل پر جیتے ہیں۔ مومن کو افکار (ideas)کے بل پر جینا پڑتاہے۔ افکار کی سطح پر جینا یہ ہے کہ آدمی اللہ کی یادوں میں جینے لگے فرشتوں کا غیر مسموع کلام اسے سنائی دینے لگے۔ اس کو صحیح مقصد کی شکل میں جو فکری دریافت ہوئی ہے اس کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھے۔ دنیا کودے کر آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے اس پر وہ پوری طرح راضی اور مطمئن ہوجائے۔

وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا

📘 جب ملاوٹی دین کا غلبہ ہو، اس وقت سچے دین کو اختیار کرنا ہمیشہ مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اہل ایمان کے دل میں بعض اوقات دل شکستگی اور مایوسی کے جذبات طاری ہونے لگتے ہیں۔ اس سے بچنے کی صرف ایک ہی یقینی صورت ہے — ظاہری ناخوش گواریوں کے پیچھے جو خوش گوار پہلو چھپا ہواہے، اس پر نظر کو جمائے رکھنا۔ لوگ مادیات کے بل پر جیتے ہیں۔ مومن کو افکار (ideas)کے بل پر جینا پڑتاہے۔ افکار کی سطح پر جینا یہ ہے کہ آدمی اللہ کی یادوں میں جینے لگے فرشتوں کا غیر مسموع کلام اسے سنائی دینے لگے۔ اس کو صحیح مقصد کی شکل میں جو فکری دریافت ہوئی ہے اس کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھے۔ دنیا کودے کر آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے اس پر وہ پوری طرح راضی اور مطمئن ہوجائے۔

هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا

📘 جب ملاوٹی دین کا غلبہ ہو، اس وقت سچے دین کو اختیار کرنا ہمیشہ مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اہل ایمان کے دل میں بعض اوقات دل شکستگی اور مایوسی کے جذبات طاری ہونے لگتے ہیں۔ اس سے بچنے کی صرف ایک ہی یقینی صورت ہے — ظاہری ناخوش گواریوں کے پیچھے جو خوش گوار پہلو چھپا ہواہے، اس پر نظر کو جمائے رکھنا۔ لوگ مادیات کے بل پر جیتے ہیں۔ مومن کو افکار (ideas)کے بل پر جینا پڑتاہے۔ افکار کی سطح پر جینا یہ ہے کہ آدمی اللہ کی یادوں میں جینے لگے فرشتوں کا غیر مسموع کلام اسے سنائی دینے لگے۔ اس کو صحیح مقصد کی شکل میں جو فکری دریافت ہوئی ہے اس کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھے۔ دنیا کودے کر آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے اس پر وہ پوری طرح راضی اور مطمئن ہوجائے۔

تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ ۚ وَأَعَدَّ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيمًا

📘 جب ملاوٹی دین کا غلبہ ہو، اس وقت سچے دین کو اختیار کرنا ہمیشہ مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اہل ایمان کے دل میں بعض اوقات دل شکستگی اور مایوسی کے جذبات طاری ہونے لگتے ہیں۔ اس سے بچنے کی صرف ایک ہی یقینی صورت ہے — ظاہری ناخوش گواریوں کے پیچھے جو خوش گوار پہلو چھپا ہواہے، اس پر نظر کو جمائے رکھنا۔ لوگ مادیات کے بل پر جیتے ہیں۔ مومن کو افکار (ideas)کے بل پر جینا پڑتاہے۔ افکار کی سطح پر جینا یہ ہے کہ آدمی اللہ کی یادوں میں جینے لگے فرشتوں کا غیر مسموع کلام اسے سنائی دینے لگے۔ اس کو صحیح مقصد کی شکل میں جو فکری دریافت ہوئی ہے اس کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھے۔ دنیا کودے کر آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے اس پر وہ پوری طرح راضی اور مطمئن ہوجائے۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

📘 شاہد، مبشر، نذیر، داعی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دے۔ یہ ایک دعوتی عمل ہے اور اسی دعوتی عمل کی بنیاد پر پیغمبر آخرت کی عدالت میں ان لوگوں کے بارے میں گواہی دے گا جس پر اس نے امر حق پہنچایا اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا۔ پیغمبر کا جو مشن ہے وہ امت مسلمہ کا مشن بھی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کی طرف سے اذیتیں پیش آتی ہیں۔ کوئی ساتھ نہیں دیتا اور کوئی وقتی طورپر ساتھ دیتاہے اور پھر جھوٹے الفاظ بول کر الگ ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف خدا پر بھروسہ ہی وہ چیز ہے جو پیغمبر (یا اس کی پیروی کرنے والے داعی) کو دعوتی عمل پر ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کرنا اور اس کو نظر انداز کرنا اور ہر حال میں خدا پر اپنی نظر جمائے رکھنا، یہی اسلامی دعوت کاکام کرنے والے کا اصل سرمایہ ہے۔

وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا

📘 شاہد، مبشر، نذیر، داعی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دے۔ یہ ایک دعوتی عمل ہے اور اسی دعوتی عمل کی بنیاد پر پیغمبر آخرت کی عدالت میں ان لوگوں کے بارے میں گواہی دے گا جس پر اس نے امر حق پہنچایا اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا۔ پیغمبر کا جو مشن ہے وہ امت مسلمہ کا مشن بھی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کی طرف سے اذیتیں پیش آتی ہیں۔ کوئی ساتھ نہیں دیتا اور کوئی وقتی طورپر ساتھ دیتاہے اور پھر جھوٹے الفاظ بول کر الگ ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف خدا پر بھروسہ ہی وہ چیز ہے جو پیغمبر (یا اس کی پیروی کرنے والے داعی) کو دعوتی عمل پر ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کرنا اور اس کو نظر انداز کرنا اور ہر حال میں خدا پر اپنی نظر جمائے رکھنا، یہی اسلامی دعوت کاکام کرنے والے کا اصل سرمایہ ہے۔

وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ فَضْلًا كَبِيرًا

📘 شاہد، مبشر، نذیر، داعی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دے۔ یہ ایک دعوتی عمل ہے اور اسی دعوتی عمل کی بنیاد پر پیغمبر آخرت کی عدالت میں ان لوگوں کے بارے میں گواہی دے گا جس پر اس نے امر حق پہنچایا اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا۔ پیغمبر کا جو مشن ہے وہ امت مسلمہ کا مشن بھی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کی طرف سے اذیتیں پیش آتی ہیں۔ کوئی ساتھ نہیں دیتا اور کوئی وقتی طورپر ساتھ دیتاہے اور پھر جھوٹے الفاظ بول کر الگ ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف خدا پر بھروسہ ہی وہ چیز ہے جو پیغمبر (یا اس کی پیروی کرنے والے داعی) کو دعوتی عمل پر ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کرنا اور اس کو نظر انداز کرنا اور ہر حال میں خدا پر اپنی نظر جمائے رکھنا، یہی اسلامی دعوت کاکام کرنے والے کا اصل سرمایہ ہے۔

وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا

📘 شاہد، مبشر، نذیر، داعی، یہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ لوگوں کو جنت اور جہنم کی خبر دے۔ یہ ایک دعوتی عمل ہے اور اسی دعوتی عمل کی بنیاد پر پیغمبر آخرت کی عدالت میں ان لوگوں کے بارے میں گواہی دے گا جس پر اس نے امر حق پہنچایا اور پھر کسی نے مانا اور کسی نے نہ مانا۔ پیغمبر کا جو مشن ہے وہ امت مسلمہ کا مشن بھی ہے۔ اس راہ میں لوگوں کی طرف سے اذیتیں پیش آتی ہیں۔ کوئی ساتھ نہیں دیتا اور کوئی وقتی طورپر ساتھ دیتاہے اور پھر جھوٹے الفاظ بول کر الگ ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف خدا پر بھروسہ ہی وہ چیز ہے جو پیغمبر (یا اس کی پیروی کرنے والے داعی) کو دعوتی عمل پر ثابت قدم رکھ سکتا ہے۔ لوگوں کی طرف سے جو کچھ پیش آئے اس پر صبر کرنا اور اس کو نظر انداز کرنا اور ہر حال میں خدا پر اپنی نظر جمائے رکھنا، یہی اسلامی دعوت کاکام کرنے والے کا اصل سرمایہ ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا

📘 ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرے لیکن ملاقات کی نوبت آنے سے پہلے اس کو طلاق دے دے تو ایسی حالت میں عدت کی وہ پابندی نہیں ہے جو عام نکاح میں ہوتی ہے۔ البتہ اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے کہ جس طرح باعزت انداز میں دونوں کے درمیان تعلق کا معاملہ ہوا تھا اسی طرح باعزت طورپر دونوں کے درمیان جدائی کا معاملہ بھی کیا جائے۔ اس خاتون کا اگر مہر باندھا گیا تھا تو مرد کو مقررہ مہر کا نصف دینا ہوگا ورنہ عرف اور حیثیت کے مطابق کچھ دے کر خوب صورتی سے رخصت کردیا جائے۔ عورت اگر چاہے تو فوراً ہی دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ اس صورت میں اس کےلیے عدت گزارنے کی شرط نہیں۔

ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ۚ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَٰكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 آدمی کے سینے میں دو دل نہ ہونا بتاتا ہے کہ تضاد فکری خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے۔جب انسان کو ایک دل دیاگیا تو اس کی سوچ بھی ایک ہوني چاہيے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی دل میں بیک وقت اخلاص بھی ہو اور نفاق بھی، خدا پرستی بھی ہو اور زمانہ پرستی بھی، انصاف بھی ہو اور ظلم بھی، گھمنڈ بھی ہو اور تواضع بھی۔ آدمی دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوسکتا ہے اور اس کو ایک ہی ہونا چاہيے۔ یہ ایک اصولی بات ہے۔ اسی کے تحت زمانۂ جاہلیت کی رسمیں مثلاًظِہار و تبنیت آتی ہیں۔ عرب جاہلیت کا ایک رواجی قانون یہ تھاکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ أنْتِ عَلَيَّ كظَهْر أمِّي (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کےلیے حرام ہوجاتی تھی جس طرح کسی کی ماں اس کےلیے حرام ہوتی ہے۔ اس کو ظِہار کہتے ہیں۔ اسی طرح متبنّی (منھ بولے بیٹے) کے معاملے میں بھی ان کا عقیدہ تھا کہ وہ بالکل صلبی بیٹے کی طرح ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر معاملہ میں وہی درجہ دے دیاگیا تھاجو حقیقی اولاد کا ہوتاہے۔ قرآن نے اس رواج کو بالکل ختم کردیا۔ قرآن میں اعلان کیاگیا کہ یہ تخلیقی نظام کے سراسر خلاف ہے کہ حقیقی ماں اور زبان سے کہی ہوئی ماں یا حقیقی بیٹا اور منھ بولا بیٹا دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہوجائے۔ آدمی اگر بے خبری میں کوئی غلطی کرے تو وہ خدا کے یہاں قابلِ معافی ہے۔ مگر جب کسی معاملہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے، اس کے باوجود آدمی اپنی غلط روش کو نہ چھوڑے تو اس کے بعد وہ قابلِ معافی نہیں رہتا۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 عام مسلمانوں کےلیے بیویوں کی آخری تعداد کو چار تک محدود رکھاگیا ہے۔ مگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے یہ پابندی نہیں تھی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی خصوصی اجازت کے تحت چار سے زیادہ نکاح کیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ رسول کے اوپر کوئی تنگی نہ رہے۔ تنگی سے مراد پیغمبرانہ مشن کی ادائیگی میں تنگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف دعوتی اور اصلاحی تقاضوں کے تحت ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ آپ زیادہ عورتوں کو اپنے نکاح میں لاسکیں۔ اسی دینی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ کےلیے چار کی قید نہیں رکھی۔ مثال کے طورپر حضرت عائشہ سے نکاح میں یہ مصلحت تھی کہ ایک کم عمر اور ذہین خاتون آپ کی مستقل صحبت میں رہیں تاکہ آپ کے بعد لمبی مدت تک لوگوں کو دین سکھاتی رہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ آپ کی وفات کے بعد نصف صدی تک امت کےلیے ایک زندہ کیسٹ ریکارڈر بنی رہیں۔ اسی طرح حضرت ميمونه بنت الحارث اور حضرت اُم حبیبہ سے نکاح کا یہ فائدہ ہوا کہ خالد بن ولید اور ابو سفیان بن حرب کی مخالفت ہمیشہ کےلیے ختم ہوگئی، وغیرہ۔

۞ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا

📘 جہاں کئی خواتین کا مسئلہ ہو وہاں شکایت کا امکان بڑھ جاتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی بیویاں تھیں اس بنا پر اندیشہ تھا کہ حقوقِ زوجیت کے بارے میں خواتین کو عدم مساوات کی شکایت ہو اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکسوئی کے ساتھ دینی مہم کی ادائيگی نہ فرماسکیں۔ اس ليے اعلان فرمایا کہ پیغمبر کا معاملہ خصوصی معاملہ ہے۔وہ عام مسلمانوں کی طرح حقوق زوجیت میں مساوات کے پابند نہیں ہیں۔ حقوقِ زوجیت کی رعایت اور حقوقِ اسلام کی رعایت میں ٹکراؤ ہو تو پیغمبر کےلیے جائز ہوگا کہ وہ حقوقِ اسلام کی رعایت کو ترجیح دیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام ضابطہ سے مستثنیٰ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ خواتین کے اندر شکایتی ذہن کی پیدائش کور وکا جاسکے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار کو عملاً بہت ہی کم استعمال فرمایا۔

لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَقِيبًا

📘 جہاں کئی خواتین کا مسئلہ ہو وہاں شکایت کا امکان بڑھ جاتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی بیویاں تھیں اس بنا پر اندیشہ تھا کہ حقوقِ زوجیت کے بارے میں خواتین کو عدم مساوات کی شکایت ہو اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکسوئی کے ساتھ دینی مہم کی ادائيگی نہ فرماسکیں۔ اس ليے اعلان فرمایا کہ پیغمبر کا معاملہ خصوصی معاملہ ہے۔وہ عام مسلمانوں کی طرح حقوق زوجیت میں مساوات کے پابند نہیں ہیں۔ حقوقِ زوجیت کی رعایت اور حقوقِ اسلام کی رعایت میں ٹکراؤ ہو تو پیغمبر کےلیے جائز ہوگا کہ وہ حقوقِ اسلام کی رعایت کو ترجیح دیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام ضابطہ سے مستثنیٰ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ خواتین کے اندر شکایتی ذہن کی پیدائش کور وکا جاسکے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار کو عملاً بہت ہی کم استعمال فرمایا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ ۖ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا

📘 یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں حکم دیتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی گھریلو معاشرت کے آداب کس قسم کے ہونے چاہئیں — وہ دوسروں کے گھروں میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں۔کھانے یا کسی اور ضرورت کےلیے کسی کے یہاں بلایا جائے تو صرف بقدر ضرورت وہاں بیٹھیں اور فراغت کے بعد فوراً واپس ہو جائیں۔ دوسروں سے ملنے جائیں تو غیر ضروری باتوں سے شدید پرہیز کریں۔ عورتوں سے متعلق کوئی کام ہو تو پردے کی آڑ سے اس کو انجام دیں، وغیرہ۔ معاشرتی زندگی میں آدمی کو صرف اپنی خواہش یا ضرورت نہیں دیکھنا چاہيے بلکہ اس کو نہایت شدت سے یہ بات ملحوظ رکھنا چاہيے کہ اس کے رویہ سے دوسرے شخص کو تکلیف نہ پہنچے۔ اس کی غیر ضروری باتیں دوسرے کاوقت ضائع کرنے والی نہ ہوں۔

إِنْ تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا

📘 یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں حکم دیتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی گھریلو معاشرت کے آداب کس قسم کے ہونے چاہئیں — وہ دوسروں کے گھروں میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں۔کھانے یا کسی اور ضرورت کےلیے کسی کے یہاں بلایا جائے تو صرف بقدر ضرورت وہاں بیٹھیں اور فراغت کے بعد فوراً واپس ہو جائیں۔ دوسروں سے ملنے جائیں تو غیر ضروری باتوں سے شدید پرہیز کریں۔ عورتوں سے متعلق کوئی کام ہو تو پردے کی آڑ سے اس کو انجام دیں، وغیرہ۔ معاشرتی زندگی میں آدمی کو صرف اپنی خواہش یا ضرورت نہیں دیکھنا چاہيے بلکہ اس کو نہایت شدت سے یہ بات ملحوظ رکھنا چاہيے کہ اس کے رویہ سے دوسرے شخص کو تکلیف نہ پہنچے۔ اس کی غیر ضروری باتیں دوسرے کاوقت ضائع کرنے والی نہ ہوں۔

لَا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ ۗ وَاتَّقِينَ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا

📘 اوپر کی آیت میں مَردوں کےلیے یہ ممانعت تھی کہ وہ ازواج رسول کے سامنے نہ آئیں۔ اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ محرم رشتہ دار اور میل جول کی عورتیں ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ یہاں جن رشتوں کا ذکر ہے اس میں وہ رشتے بھی آجائیں گے جو ان کے حکم میں داخل ہوں۔ اس قرآنی ہدایت کی مزید تفصیل سورہ نور (آیت 31 ) میں موجود ہے۔ تمام احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت ہو یا مرد اس کے دل میں اللہ کا ڈر ہو۔ وہ یہ سمجھ کر زندگی گزارے کہ اللہ ہر حال میں اس کی نگرانی کررہا ہے۔

إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں خداکے دین کا اظہار کرنے کےلیے بھیجے گئے۔ اللہ کا جو بندہ اس طرح کے مقدس کام کےلیے اٹھے اس کو خدااور اس کے فرشتوں کی کامل تائید حاصل ہوتی ہے۔ اس کی ہم نوائی کرنا خدا اور اس کے فرشتوں کی ہم نوائی کرنا ہوتاہے۔ اور اس سے اعراض کرنا خدا اور اس کے فرشتوں سے اعراض کرنا ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا وہ اپنے خیال کے مطابق صرف ایک انسان کو ستارہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ وہ خدا کے نمائندہ کو ستارہے ہیں۔ اور جو لوگ خدا کے نمائندہ کو ستائیں، انھوں نے مالک کائنات کی نظر میں ہمیشہ کےلیے اپنے آپ کو ملعون بنا لیا۔

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُهِينًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں خداکے دین کا اظہار کرنے کےلیے بھیجے گئے۔ اللہ کا جو بندہ اس طرح کے مقدس کام کےلیے اٹھے اس کو خدااور اس کے فرشتوں کی کامل تائید حاصل ہوتی ہے۔ اس کی ہم نوائی کرنا خدا اور اس کے فرشتوں کی ہم نوائی کرنا ہوتاہے۔ اور اس سے اعراض کرنا خدا اور اس کے فرشتوں سے اعراض کرنا ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا وہ اپنے خیال کے مطابق صرف ایک انسان کو ستارہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ وہ خدا کے نمائندہ کو ستارہے ہیں۔ اور جو لوگ خدا کے نمائندہ کو ستائیں، انھوں نے مالک کائنات کی نظر میں ہمیشہ کےلیے اپنے آپ کو ملعون بنا لیا۔

وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں خداکے دین کا اظہار کرنے کےلیے بھیجے گئے۔ اللہ کا جو بندہ اس طرح کے مقدس کام کےلیے اٹھے اس کو خدااور اس کے فرشتوں کی کامل تائید حاصل ہوتی ہے۔ اس کی ہم نوائی کرنا خدا اور اس کے فرشتوں کی ہم نوائی کرنا ہوتاہے۔ اور اس سے اعراض کرنا خدا اور اس کے فرشتوں سے اعراض کرنا ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا وہ اپنے خیال کے مطابق صرف ایک انسان کو ستارہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ وہ خدا کے نمائندہ کو ستارہے ہیں۔ اور جو لوگ خدا کے نمائندہ کو ستائیں، انھوں نے مالک کائنات کی نظر میں ہمیشہ کےلیے اپنے آپ کو ملعون بنا لیا۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 مسلمان عورت جب کسی ضرورت سے اپنے گھر کے باہر نکلے تو وہ کس طرح نکلے۔اس کو ایسے لباس میں نکلنا چاہيے جو اس بات کا ایک خاموش اعلان ہو کہ وہ ایک شریف اور حیادار عورت ہے۔ وہ سنجیدہ ضرورت کے تحت باہر نکلی ہے، نہ کہ تفریح اور دل لگی کےلیے۔ سادہ کپڑے، حیا دار چال، چادر یا برقعہ سے جسم ڈھکا ہوا ہونا اسی کی ایک علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسمانی نمائش کے ساتھ باہر نکلنا دوسروں کو دعوتِ التفات دینا ہے۔ اور جسمانی نمائش کے بغیر نکلنا گویا عمل کی زبان میں دوسروں سے یہ کہنا ہے کہ میں صرف اپنے کام سے باہر نکلی ہوں، مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں۔ ’’دل کے مریضوں ‘‘ سے یہاں مراد غالباً یہود ہیں۔ کیوں کہ وہی لوگ مسلمانوں کو اور مسلم خواتین کو زیادہ پریشان کررہے تھے اور یہی لوگ تھے جو مذکورہ تنبیہ کے مطابق قتل کيے گئے یا شہر سے نکال دئے گئے تھے۔

النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُمْ مَعْرُوفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا

📘 پیغمبراپني زندگی میں ذاتی طورپر اور وفات کے بعد اصولی طورپر اہلِ ایمان کےلیے سب سے زیادہ مقدم حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔پیغمبر کی تعلیمات کی عظمت کو قائم رکھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس کا وجود لوگوں کی نظر میں مقدس وجود ہو۔ حتیٰ کہ اس کی بیویاں بھی لوگوں کےلیے ماؤں کی طرح قابل احترام قرار پائیں۔ پیغمبر اور آپ کی ازواج کے بعد امت کے بقیہ لوگوں کے تعلقات کی اساس یہ ہے کہ رحمی رشتے رکھنے والے الاقرب فالاقرب کے اصول پر ایک دوسرے کے حقدار ٹھہریں گے۔ دینی ضرورت کے تحت وقتی طورپر غیر رشتہ داروں میں حقوق کی شرکت قائم کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ہجرت کے بعد ابتدائی زمانہ میں مدینہ میں کیاگیا۔ مگر مستقل معاشرتی انتظام کے اعتبار سے حقیقی رشتہ دار ہی اولیٰ اور اقرب ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

۞ لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

📘 مسلمان عورت جب کسی ضرورت سے اپنے گھر کے باہر نکلے تو وہ کس طرح نکلے۔اس کو ایسے لباس میں نکلنا چاہيے جو اس بات کا ایک خاموش اعلان ہو کہ وہ ایک شریف اور حیادار عورت ہے۔ وہ سنجیدہ ضرورت کے تحت باہر نکلی ہے، نہ کہ تفریح اور دل لگی کےلیے۔ سادہ کپڑے، حیا دار چال، چادر یا برقعہ سے جسم ڈھکا ہوا ہونا اسی کی ایک علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسمانی نمائش کے ساتھ باہر نکلنا دوسروں کو دعوتِ التفات دینا ہے۔ اور جسمانی نمائش کے بغیر نکلنا گویا عمل کی زبان میں دوسروں سے یہ کہنا ہے کہ میں صرف اپنے کام سے باہر نکلی ہوں، مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں۔ ’’دل کے مریضوں ‘‘ سے یہاں مراد غالباً یہود ہیں۔ کیوں کہ وہی لوگ مسلمانوں کو اور مسلم خواتین کو زیادہ پریشان کررہے تھے اور یہی لوگ تھے جو مذکورہ تنبیہ کے مطابق قتل کيے گئے یا شہر سے نکال دئے گئے تھے۔

مَلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا

📘 مسلمان عورت جب کسی ضرورت سے اپنے گھر کے باہر نکلے تو وہ کس طرح نکلے۔اس کو ایسے لباس میں نکلنا چاہيے جو اس بات کا ایک خاموش اعلان ہو کہ وہ ایک شریف اور حیادار عورت ہے۔ وہ سنجیدہ ضرورت کے تحت باہر نکلی ہے، نہ کہ تفریح اور دل لگی کےلیے۔ سادہ کپڑے، حیا دار چال، چادر یا برقعہ سے جسم ڈھکا ہوا ہونا اسی کی ایک علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسمانی نمائش کے ساتھ باہر نکلنا دوسروں کو دعوتِ التفات دینا ہے۔ اور جسمانی نمائش کے بغیر نکلنا گویا عمل کی زبان میں دوسروں سے یہ کہنا ہے کہ میں صرف اپنے کام سے باہر نکلی ہوں، مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں۔ ’’دل کے مریضوں ‘‘ سے یہاں مراد غالباً یہود ہیں۔ کیوں کہ وہی لوگ مسلمانوں کو اور مسلم خواتین کو زیادہ پریشان کررہے تھے اور یہی لوگ تھے جو مذکورہ تنبیہ کے مطابق قتل کيے گئے یا شہر سے نکال دئے گئے تھے۔

سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا

📘 مسلمان عورت جب کسی ضرورت سے اپنے گھر کے باہر نکلے تو وہ کس طرح نکلے۔اس کو ایسے لباس میں نکلنا چاہيے جو اس بات کا ایک خاموش اعلان ہو کہ وہ ایک شریف اور حیادار عورت ہے۔ وہ سنجیدہ ضرورت کے تحت باہر نکلی ہے، نہ کہ تفریح اور دل لگی کےلیے۔ سادہ کپڑے، حیا دار چال، چادر یا برقعہ سے جسم ڈھکا ہوا ہونا اسی کی ایک علامت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسمانی نمائش کے ساتھ باہر نکلنا دوسروں کو دعوتِ التفات دینا ہے۔ اور جسمانی نمائش کے بغیر نکلنا گویا عمل کی زبان میں دوسروں سے یہ کہنا ہے کہ میں صرف اپنے کام سے باہر نکلی ہوں، مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں۔ ’’دل کے مریضوں ‘‘ سے یہاں مراد غالباً یہود ہیں۔ کیوں کہ وہی لوگ مسلمانوں کو اور مسلم خواتین کو زیادہ پریشان کررہے تھے اور یہی لوگ تھے جو مذکورہ تنبیہ کے مطابق قتل کيے گئے یا شہر سے نکال دئے گئے تھے۔

يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا

📘 قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔

إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْكَافِرِينَ وَأَعَدَّ لَهُمْ سَعِيرًا

📘 قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔

خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

📘 قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔

يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا

📘 قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔

وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا

📘 قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔

رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا

📘 قیامت کی تاریخ پوچھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ قیامت کے آنے کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔ یہ دراصل قیامت کا استہزاء نہ تھا بلکہ قیامت کی خبر دینے والے کا استہزا تھا۔ وہ نفس قیامت کے منکر نہ تھے بلکہ قیامت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی رسول اور اصحاب رسول انھیں خبر دے رہے تھے۔ ان کی اصل غلطی یہ تھی کہ انھوںنے اپنے قومی اکابر کو بڑا سمجھا اور پیغمبر کو بڑا نہ سمجھا۔ اس ليے انھیں اپنے قومی اکابر کی بات قابل لحاظ نظر آئی اور پیغمبر کی بات قابل لحاظ نظر نہ آئی۔ چنانچہ قیامت میں جب اصل حقیقت کھلے گی تو وہ افسوس کریں گے کہ کاش ہم جھوٹی بڑائی اور سچی بڑائی کے فرق کو سمجھتے اور جھوٹی بڑائی کے فریب میں مبتلا ہوکر گمراہ نہ ہوتے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا

📘 ’’یہودیوں کی طرح پیغمبر کو نہ ستاؤ‘‘ سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے کہ ایک بار آپ کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ نے اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس کے بعد انصارمیں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا خدا کی قسم محمد نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر نہیں چاہا ہے (وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الآخِرَةَ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 3896۔ اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت موسیٰ پر ہو۔ ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا (رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4335 کلام کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے سدید کلام۔ دوسرا ہے غیر سدید کلام۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابقِ حقیقت ہو۔ جو واقعاتی تجزیہ پر مبنی ہو۔ جو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن وگمان پر قائم ہو جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے اظہار کی۔ اول الذکر کلام مومنانہ کلام ہے اور ثانی الذکر کلام منافقانہ کلام۔

وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا

📘 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے وہ امتحان ہے۔ یعنی موجودہ دنیا میں ہر قسم کے اسباب حیات دے کر اس کو آزادانہ ماحول میں رکھنا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق اس کو ابدی انعام یا ابدی سزا دینا۔ زندگی کی یہ امتحانی نوعیت لازماً یہ چاہتی ہے کہ آدمی کو اصل صورت حال سے پوری طرح با خبر کردیا جائے۔ اس مقصد کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کا سلسلہ قائم فرمایا۔ پیغمبری کوئی لاؤڈاسپیکر کا اعلان نہیںہے۔ یہ ایک بے حد صبر آزما کام ہے۔ اس ليے تمام پیغمبروں سے نہایت اہتمام کے ساتھ یہ عہد لیا گیاکہ وہ پیغام رسانی کے اس نازک کام کو اس کے تمام آداب اور تقاضوں کے ساتھ انجام دیں گے۔ اور اس میں ہر گز کوئی ادنیٰ کوتاہی نہ کریں گے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا

📘 ’’یہودیوں کی طرح پیغمبر کو نہ ستاؤ‘‘ سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے کہ ایک بار آپ کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ نے اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس کے بعد انصارمیں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا خدا کی قسم محمد نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر نہیں چاہا ہے (وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الآخِرَةَ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 3896۔ اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت موسیٰ پر ہو۔ ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا (رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4335 کلام کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے سدید کلام۔ دوسرا ہے غیر سدید کلام۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابقِ حقیقت ہو۔ جو واقعاتی تجزیہ پر مبنی ہو۔ جو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن وگمان پر قائم ہو جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے اظہار کی۔ اول الذکر کلام مومنانہ کلام ہے اور ثانی الذکر کلام منافقانہ کلام۔

يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا

📘 ’’یہودیوں کی طرح پیغمبر کو نہ ستاؤ‘‘ سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے کہ ایک بار آپ کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ نے اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس کے بعد انصارمیں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا خدا کی قسم محمد نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر نہیں چاہا ہے (وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الآخِرَةَ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 3896۔ اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت موسیٰ پر ہو۔ ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا (رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4335 کلام کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے سدید کلام۔ دوسرا ہے غیر سدید کلام۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابقِ حقیقت ہو۔ جو واقعاتی تجزیہ پر مبنی ہو۔ جو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن وگمان پر قائم ہو جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے اظہار کی۔ اول الذکر کلام مومنانہ کلام ہے اور ثانی الذکر کلام منافقانہ کلام۔

إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا

📘 امانت سے مراد اختیا رہے۔ اختیار کو امانت اس ليے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کےلیے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے تاکہ انسان خود اپنے ارادہ سے خدا کا تابع دار بنے۔ امانت، دوسرے لفظوں میں، اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے۔ اپنے آپ پروہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر کررہا ہے۔ یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے اور تمام چیزیں اسی کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔ آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا تحمل نہیں کرسکتے۔ تاہم انسان نے شدید اندیشہ کے باوجود اس کو قبول کرلیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کررہا ہے۔ انسان کو اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالتِ امتحان میں ہے اور موجودہ دنیا اس کےلیے وسیع امتحان گاہ۔ یہ امانت ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اسی کی وجہ سے جزا وسزا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور ومقہور ہیں۔ اس ليے ان کے واسطے جزا وسزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے۔ اس ليے وہ جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امانت کو آدم کے سامنے پیش کیا۔ تو آدم نے پوچھا که امانت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اگر تم اچھا کروگے تو تم کو اس کا بدلہ ملے گا اور اگر تم برا کروگے تو تم کو سزا دی جائے گی (إِنْ أَحْسَنْتَ جُزِيتَ، وَإِنْ أَسَأْتَ عُوقِبْتَ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ 338 ۔

لِيُعَذِّبَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 امانت سے مراد اختیا رہے۔ اختیار کو امانت اس ليے فرمایا کہ وہ اللہ کی ایک چیز ہے جس کو اس نے عارضی مدت کےلیے انسان کو بطور آزمائش دیا ہے تاکہ انسان خود اپنے ارادہ سے خدا کا تابع دار بنے۔ امانت، دوسرے لفظوں میں، اپنے اوپر خدا کا قائم مقام بننا ہے۔ اپنے آپ پروہ کرنا ہے جو خدا ستاروں اور سیاروں پر کررہا ہے۔ یعنی اپنے اختیار سے اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دینا۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے اور تمام چیزیں اسی کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ وہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ یہ اختیاری اطاعت بڑی نازک آزمائش تھی۔ آسمان اور زمین اور پہاڑ بھی اس کا تحمل نہیں کرسکتے۔ تاہم انسان نے شدید اندیشہ کے باوجود اس کو قبول کرلیا۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اوپر وہی کرنا ہے جو خدا دوسری چیزوں پر کررہا ہے۔ انسان کو اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔ انسان حالتِ امتحان میں ہے اور موجودہ دنیا اس کےلیے وسیع امتحان گاہ۔ یہ امانت ایک بے حد نازک ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اسی کی وجہ سے جزا وسزا کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری مخلوقات مجبور ومقہور ہیں۔ اس ليے ان کے واسطے جزا وسزا کا مسئلہ نہیں۔ انسان آزاد ہے۔ اس ليے وہ جزا و سزا کا مستحق بنتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امانت کو آدم کے سامنے پیش کیا۔ تو آدم نے پوچھا که امانت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اگر تم اچھا کروگے تو تم کو اس کا بدلہ ملے گا اور اگر تم برا کروگے تو تم کو سزا دی جائے گی (إِنْ أَحْسَنْتَ جُزِيتَ، وَإِنْ أَسَأْتَ عُوقِبْتَ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ 338 ۔

لِيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے وہ امتحان ہے۔ یعنی موجودہ دنیا میں ہر قسم کے اسباب حیات دے کر اس کو آزادانہ ماحول میں رکھنا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق اس کو ابدی انعام یا ابدی سزا دینا۔ زندگی کی یہ امتحانی نوعیت لازماً یہ چاہتی ہے کہ آدمی کو اصل صورت حال سے پوری طرح با خبر کردیا جائے۔ اس مقصد کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کا سلسلہ قائم فرمایا۔ پیغمبری کوئی لاؤڈاسپیکر کا اعلان نہیںہے۔ یہ ایک بے حد صبر آزما کام ہے۔ اس ليے تمام پیغمبروں سے نہایت اہتمام کے ساتھ یہ عہد لیا گیاکہ وہ پیغام رسانی کے اس نازک کام کو اس کے تمام آداب اور تقاضوں کے ساتھ انجام دیں گے۔ اور اس میں ہر گز کوئی ادنیٰ کوتاہی نہ کریں گے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا

📘 غزوۂ احزاب میں خطرات کا طوفان دیکھ کر منافق قسم کے لوگ گھبرا اٹھے اور بھاگنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔ مگر جو سچے اہلِ ایمان تھے وہ اللہ کے اعتماد پر قائم رہے۔ وہ جانتے تھے کہ آگے بھی خدا ہے اور پیچھے بھی خدا ہے۔ اسلام دشمنوں کے خطرہ سے بھاگنا اپنے آپ کو خدا کے خطرہ میں ڈالنا ہے جو کہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ انھیں یقین تھا کہ اگر ہم دشمنوں کے مقابلے میں جمے رہے تو اللہ کی مدد ہم کو حاصل ہوگی اور اگر ہم اسلام کے محاذ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو آخر کار دنیا میں بھی اپنے آپ کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتے اور آخرت میں خدا کی ہولناک پکڑ اس کے علاوہ ہے۔