WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الأعراف

(Al-Araf) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ المص

📘 ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ ۗ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ

📘 قیامت کے منظر کو موجودہ دنیا میں حقیقی طور پر کھولا نہیں جا سکتا۔ تا ہم قرآن میں جگہ جگہ ان کو اشارہ یا تمثیل میں بتایا گیا ہے تا کہ آدمی ان کا مجمل احساس کر سکے۔ قیامت جب آئے گی تو وہ اتنی ہولناک ہوگی کہ آدمی اپنے ان رشتوں اور مفادات کو بھول جائے گا جن کو آج وہ اتنا اہم سمجھے ہوئے ہے کہ ان کی خاطر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِ أَهْلِهَا أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

📘 زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتاہے ۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالي کے تمام مقامات پر قابض ہوجاتی ہے۔ یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالا تر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے۔ وہ جان سکتاہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج وزوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے ليے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ خدا نے آنکھ کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس ليے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاهيے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایساہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاںتک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل ودماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔ انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے ليے خداکے پیغمبرآئے۔ اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعے اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کردیاگیا جنھوںنے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر كيے ہوئے عہد اسلام کوبھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جوپہلی بار مومنینِ آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے ليے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔

تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ

📘 زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتاہے ۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالي کے تمام مقامات پر قابض ہوجاتی ہے۔ یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالا تر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے۔ وہ جان سکتاہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج وزوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے ليے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ خدا نے آنکھ کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس ليے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاهيے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایساہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاںتک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل ودماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔ انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے ليے خداکے پیغمبرآئے۔ اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعے اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کردیاگیا جنھوںنے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر كيے ہوئے عہد اسلام کوبھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جوپہلی بار مومنینِ آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے ليے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔

وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ ۖ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ

📘 زمین پر بار بار یہ واقعہ ہوتا ہے کہ ایک قوم کو یہاں عزت اور خوش حالی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس پر زوال آتاہے ۔ وہ میدان سے ہٹا دی جاتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم عزت اور خوش حالي کے تمام مقامات پر قابض ہوجاتی ہے۔ یہ واقعہ خدا کی ایک نشانی ہے۔ وہ آدمی کو خدا کی یاد دلانے والا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ملنے یا نہ ملنے کے سرے کسی بالا تر ہستی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ خدا نے انسان کو دیکھنے اور سمجھنے کی جو طاقت دی ہے اس کو کام میں لاکر وہ بآسانی اس حقیقت کو سمجھ سکتاہے۔ وہ جان سکتاہے کہ اصل سرچشمہ اگر کسی اور کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو جو گروہ ایک بار غالب آجاتا وہ کبھی دوسرے کو اوپر آنے نہ دیتا۔ آدمی اگر اس قسم کا سبق لے تو قوموں کے عروج وزوال میں اس کو ربانی غذا ملے گی۔ مگر جب بھی ایک قوم پیچھے ہٹتی ہے اور اس کی جگہ دوسری قوم اوپر آتی ہے تو اس کے افراد اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ پچھلی قوم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صرف پچھلی قوم کے ليے تھا، ہمارے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ خدا نے آنکھ کان اور عقل کی صلاحیت انسان کو اس ليے دی ہے کہ وہ اس سے سبق لے، وہ ان کے ذریعہ خدا کے اشارات کو سمجھے۔ مگر جب آدمی اپنی ان صلاحیتوں سے وہ کام نہیں لیتا جو اس کو لینا چاهيے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایساہوتا ہے کہ خدا کے قانون کے تحت اس کے دل کی حساسیت مردہ ہونے لگتی ہے۔ یہاںتک کہ ان معاملات میں اس کے جذبات کند ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس کے دل ودماغ پر بے حسی کی مہر لگ جاتی ہے۔ اب اس کا حال یہ ہوجاتاہے کہ وہ دیکھنے کے باوجود نہ دیکھے اور سننے کے باوجود نہ سنے۔ وہ عقل رکھتے ہوئے بھی باتوں کو نہ سمجھے۔ وہ انسان ہوتے ہوئے بے انسان بن جائے۔ انسانیت کا آغاز حضرت آدم کے مومنین سے ہوا۔ اس کے بعد جب بگاڑ ہوا تو یاد دہانی کے ليے خداکے پیغمبرآئے۔ اب یہ ہوا کہ پیغمبر کے ذریعے اصلاح قبول کرنے والے افراد کو بچا کر ان لوگوں کو ہلاک کردیاگیا جنھوںنے اصلاح قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ مگر بعد کی نسلیں دوبارہ اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر كيے ہوئے عہد اسلام کوبھلا بیٹھیں اور دوبارہ وہی انجام پیش آیا جوپہلی بار مومنینِ آدم کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یہ صورت بار بار پیش آتی رہی حتیٰ کہ نسل انسانی کی اکثریت کے ليے تاریخ نافرمانی اور عہد شکنی کی تاریخ بن گئی۔

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَظَلَمُوا بِهَا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

حَقِيقٌ عَلَىٰ أَنْ لَا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ

📘 قیامت کے منظر کو موجودہ دنیا میں حقیقی طور پر کھولا نہیں جا سکتا۔ تا ہم قرآن میں جگہ جگہ ان کو اشارہ یا تمثیل میں بتایا گیا ہے تا کہ آدمی ان کا مجمل احساس کر سکے۔ قیامت جب آئے گی تو وہ اتنی ہولناک ہوگی کہ آدمی اپنے ان رشتوں اور مفادات کو بھول جائے گا جن کو آج وہ اتنا اہم سمجھے ہوئے ہے کہ ان کی خاطر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ ۖ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيمٍ

📘 پیغمبر کا خطاب اولاً ان لوگوں سے ہوتا ہے جو وقت کے سردار ہوں، جن کو ماحول میں فکری قیادت حاصل ہو۔ یہ لوگ اپنی برتر ذہنی صلاحیت کی وجہ سے سب سے زیادہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ سچائی کے پیغام کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے پیغمبرانہ دعوت کے ساتھ ہمیشہ ’’ظلم‘‘ کا سلوک کیا۔ یعنی اپنی ذہانت کو اس کے ليے استعمال کیا کہ حق کے پیغام کو ٹیڑھے معنی پہنائیں۔ مثلاً ایک نشانی جو یہ ثابت کررہی ہو کہ وہ خدا کے زور پر ظاہرہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ جادو کے زور پر دکھا ئی گئی ہے۔ یا تحریک کو بدنام کرنے کے ليے اس کو سیاسی معنی پہنانا اور یہ کہنا کہ یہ لوگ محض اپنے اقتدار کے ليے اٹھے ہیں۔ عوام چوں کہ باتوں کا تجزیہ نہیں کرپاتے اس ليے اس قسم کی باتیں ان کو حق سے مشتبہ کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ مگر داعیٔ حق کے خلاف ایسے شوشے نکالنا بہت بڑا جرم ہے۔ اس طرح وقت کے بڑے اپنی قیادت کا تحفظ تو ضرور کرلیتے ہیں مگر یہ تحفظ ان کو صرف اس قیمت پر ملتا ہے کہ ان کی آخرت ہمیشہ کے ليے غیر محفوظ ہوجائے۔ خدا کامل حق پر ہے۔ اس ليے جو شخص خدا کی طرف سے اٹھے اس کے ليے جائز نہیں کہ وہ حق وانصاف کے سوا کوئی دوسرا کلمہ اپنی زبان سے نکالے۔ اگر وہ حق کے سوا کوئی بات بولے تو وہ خدا کی نمائندگی کے استحقاق کو کھودے گا اور خدا کے یہاں انعام کے بجائے سزا کا مستحق ہوجائے گا۔ حضرت موسیٰ بیک وقت بنی اسرائیل کی طرف بھی مبعوث تھے اور فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ اس وقت بہت سی کمزوریاں آچکی تھیں۔ تاہم بنیادی طورپر انھوں نے حضرت موسیٰ کا ساتھ دیا۔ اس کے برعکس، فرعون اور اس کی قوم نے (چند افراد کو چھوڑکر) آپ کا انکار کیا۔ بالآخر چالیس سالہ تبلیغ کے بعد آپ نے بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو ملک سے باہر جانے دے تاکہ وہ بیابان کی کھلی فضا میں جاکر ایک خدا کی عبادت کرسکیں (خروج 5:1 ) حضرت موسیٰ اگرچہ سچائی کے نمائندہ تھے۔ مگر فرعون نے اس کو جادو کا معاملہ سمجھا اور جادوگروں کے ذریعہ آپ کو زیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

وَجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

قَالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

قَالُوا يَا مُوسَىٰ إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

قَالَ أَلْقُوا ۖ فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

۞ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوا صَاغِرِينَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ

📘 قیامت کے منظر کو موجودہ دنیا میں حقیقی طور پر کھولا نہیں جا سکتا۔ تا ہم قرآن میں جگہ جگہ ان کو اشارہ یا تمثیل میں بتایا گیا ہے تا کہ آدمی ان کا مجمل احساس کر سکے۔ قیامت جب آئے گی تو وہ اتنی ہولناک ہوگی کہ آدمی اپنے ان رشتوں اور مفادات کو بھول جائے گا جن کو آج وہ اتنا اہم سمجھے ہوئے ہے کہ ان کی خاطر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ

📘 کسی ماحول میں جس چیز کی اہمیت لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی ہو اسی نسبت سے ان کے پیغمبر کو معجزہ دیا جاتا ہے۔ قدیم مصر میں جادو کا بہت زور تھا اس ليے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا معجزہ دیاگیا۔ فرعون کے طے کردہ پروگرام کے مطابق مصریوں کے قومی تیوہار (یوم الزينہ) کے موقع پران کے تمام بڑے بڑے جادو گرجمع ہوئے۔ جادوگروں نے کہا کہ پہلے ہم اپنا کرتب سامنے لائیں یا تم جو کچھ دکھانا چاہتے ہو دکھاؤ گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا پہلے تم اپنا کرتب سامنے لاؤ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے دشمن کے خلاف اقدام کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتا۔ وہ آخر وقت تک دشمن کو موقع دیتا ہے کہ وہ خود پہل کرے۔ فریق مخالف جب اس طرح پہل کی ذمہ داری اپنے اوپر لے چکا ہوتاہے اس وقت پیغمبر اپنی پوری قوت کو استعمال کرکے اسے زیر کردیتاہے۔ نظریاتی دعوت کے معاملہ میں پیغمبر کا طریقہ اقدام کا ہوتا ہے اور عملی ٹکراؤ کے معاملہ میں دفاع کا۔ مصر میں حضرت موسیٰ کی دعوت تقریباً چالیس سال تک جاری رہی ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ کا واقعہ اس کے آخری زمانہ کا ہے۔ اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جادو گر حضرت موسیٰ کی دعوت سے آشنا رہے ہوں گے۔ تاہم ابھی تک ان کی آنکھ کا پردہ نہیں ہٹا تھا۔ جب انھوں نے اپنے مخصوص فن کے میدان میں حضرت موسی کی برتری دیکھی تو حجابات اٹھ گئے۔ ان کو نظر آگیا کہ یہ جادو گری کا معاملہ نہیں بلکہ خدائی پیغمبری کا معاملہ ہے۔ وہ بے اختیار ہو کر خدا کے سامنے گر پڑے۔ جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکیں تو خیال بندی کی وجہ سے وہ لوگوں کو چلتا پھرتا سانپ نظر آنے لگیں۔ مگرجب موسیٰ کا عصا سانپ بن کر میدان میں گھوما تو جادوگروں کی ہر لاٹھی اور رسّی صرف لاٹھی اور رسّی ہو کر رہ گئی۔ جادو گرجادو کے حدود کو جانتے تھے۔ اس واقعہ میں جادو گروں کو نظر آگیا کہ انسانی تدبیریں اپنے کمال پر پہنچ کر بھی کتنی حقیر ہیں اور خدا کتنا عظیم اور کتنا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے بعد فرعون ان کو اپنے تمام اقتدار کے باوجود بے وقعت نظر آنے لگا۔ وہی جادوگر جو خدا کی عظمت کو دیکھنے سے پہلے فرعون سے انعام کے طالب تھے۔ اب انھوں نے فرعون کی طرف سے بدترین سزاؤں کی دھمکی کو بھی اس طرح نظر انداز کردیا جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔

قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُمْ بِهِ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

📘 حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔ جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

📘 حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔ جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

قَالُوا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُونَ

📘 حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔ جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

وَمَا تَنْقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا ۚ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ

📘 حق کے ليے جان قربان کرنا حق کے حق ہونے کی آخری گواہی دینا ہے۔جادوگروں کو خدا کی مدد سے اسی کی توفیق حاصل ہوئی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو سخت ترین سزا کے ليے پیش کرکے یہ ثابت کردیا کہ ان کا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا کوئی حیلہ اور سازش کا معاملہ نہیں، یہ سچے اعترافِ حق کا معاملہ ہے۔ مگر جادو گروں کا سب سے بڑا عمل فرعون کی متکبرانہ نفسیات کے ليے سب سے بڑا تازیانہ تھا۔ انھوںنے فرعون کے مقابلہ میں موسیٰ کا ساتھ دے کر فرعون کو ساری قوم کے سامنے رسوا کردیاتھا۔ چنانچہ فرعون ان کے خلاف غصہ سے بھر گیا۔ اس نے جادوگروں کے ساتھ اسی ظالمانہ کارروائی کا فیصلہ کیا جو ہر وہ متکبر شخص کرتاہے جس کو زمین پر کسی قسم کا اختیار حاصل ہوجائے۔ جادوگر بھی دلیل کے میدان میں ہارے اور فرعون بھی۔ مگر جادو گر اپنی شکست کا اعتراف کرکے خدا کی ابدی نعمتوں کے مستحق بن گئے اور فرعون نے اس کو اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا۔ اس کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ اپنی جھوٹی انانیت کی تسکین کے ليے دنیا میں وہ حق پرستوں پر ظلم کرے اورآخرت میں خدا کے ابدی عذاب میں ڈال دیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کو اپنی ’’اجازت‘‘ کا مسئلہ سمجھا۔ اور جادوگروں نے ’’نشانی‘‘ کا۔ متکبر آدمی کا مزاج ہمیشہ یہ ہوتاہے کہ وہ اپنی مرضی کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے، نہ کہ دلیل او ر ثبوت کو۔ ایسے لوگ کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ اس نازک ترین موقع پر جادو گروں نے جو کامل استقامت دکھائی وہ سراسر خدا کی مدد سے تھی اور ان کی زبان سے جو دعا نکلی وہ بھی تمام تر الہامی دعا تھی۔ جب کوئی بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن خداکے حوالے کر دیتا ہے تو اس وقت وہ خدا کے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اس کو خدا کا خصوصی فیضان پہنچنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو خدا کے القا كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ وہی دعا کرتا ہے جس کے متعلق اس کا خدا پہلے ہی فیصلہ کرچکا ہوتا ہے کہ وہ اس کے ليے قبول کرلی گئی ہے۔ جادوگروں کا یہ کہنا کہ خدایا ہمارے اوپر صبر انڈیل دے اور ہماری موت آئے تو اسلام پر آئے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بس بھر اپنے آپ کو تیرے حوالے کردیاہے۔ اب جو کچھ ہمارے بس سے باہر ہے اس کے واسطے تو ہمارے ليے کافی ہوجا۔ جب بھی کوئی بندہ دین کی راہ میں دل سے یہ دعا کرتاہے تو خدا یقیناً اس کی مشکلات میں اس کے ليے کافی ہوجاتاہے۔

وَقَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ

📘 بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔ پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔ پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

📘 بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔ پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔ پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔

قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

📘 بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔ پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔ پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔ خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَنْ تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ

📘 قیامت کے منظر کو موجودہ دنیا میں حقیقی طور پر کھولا نہیں جا سکتا۔ تا ہم قرآن میں جگہ جگہ ان کو اشارہ یا تمثیل میں بتایا گیا ہے تا کہ آدمی ان کا مجمل احساس کر سکے۔ قیامت جب آئے گی تو وہ اتنی ہولناک ہوگی کہ آدمی اپنے ان رشتوں اور مفادات کو بھول جائے گا جن کو آج وہ اتنا اہم سمجھے ہوئے ہے کہ ان کی خاطر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

📘 کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔ ’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔ آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَنْ مَعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

📘 کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔ ’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔ آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ

📘 کسی بات کو غلط کہنا ہو تو اس کا غلط ہونا لفظوں کی صورت میں بتایا جاتاہے اور کسی بات کو صحیح کہنا ہو تو اس کو بھی لفظوں ہی کے ذریعہ صحیح کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی کو مجرم قرار دینا ہو تو اس کو لفظوں کے ذریعہ مجرم قرار دیا جاتاہے اور اگر کسی کو برسرِ حق ظاہرکرنا ہو تو اس کا برسرِ حق ہونا بھی لفظوں میں بتایا جاتاہے۔ مگر الفاظ کا استعمال کرنے والا انسان ہے اور موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ الفاظ کو جس طرح چاہے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔ امتحان کی اس دنیا میں آدمی کو جو آزادی دی گئی ہے اس میں سب سے زیادہ نازک آزادی یہ ہے کہ وہ حق کو باطل کہنے کے لیے بھی الفاظ پالیتاہے اور باطل کو حق کہنے کے لیے بھی۔ وہ ایک کھلے ہوئے پیغمبرانہ معجزے کو جادو کہہ کر نظر انداز کرسکتاہے۔ خدا اس کو کوئی نعمت دے تو وہ اس کو ایسے الفاظ میں بیان کرسکتاہے گویا کہ اس کو جو کچھ ملا ہے اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کی بدولت ملا ہے۔ حق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے خدا اس کے اوپر کوئی تنبیہی سزا بھیجے تو وہ آزاد ہے کہ اس کو وہ انھیں خدا پرست بندوں کی نحوست کا نتیجہ قرار دے دے جن کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے ہی کی وجہ سے اس پر یہ تنبیہ آئی ہے۔ خدا کی طرف سے ہر بات اس ليے آتی ہے کہ آدمی اس سے نصیحت پکڑے۔ مگر الفاظ کے ذریعے آدمی ہر نصیحت کو ایک الٹا رخ دے دیتاہے اور اس کے اندر جو سبق کا پہلو ہے اس کو پانے سے محروم رہ جاتاہے۔ ’’تم خواہ کوئی بھی نشانی دکھاؤ ہم ایمان نہیں لائیں گے‘‘۔ فرعون کا یہ جملہ بتاتا ہے کہ حق اپنی مکمل صورت میں موجود ہونے کے باوجود صرف اسی کو ملتا ہے جو اس کو پانا چاہے۔ بالفاظ دیگر، جو شخص حق کے معاملے میں سنجیدہ ہو، جس کے اندر فی الواقع یہ آمادگی ہو کہ حق خواہ جہاں اور جس صورت میں بھی ملے وہ اس کو لے لے گا، اُس پر حق کا حق ہونا کھلتاہے۔ اِس کے برعکس، جو شخص اس معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کا حال یہ ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے بس اسی پر وہ مطمئن ہے، وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھنے سے عاجز رہے گا اور اسی ليے وہ اس کو اختیار بھی نہ کرسکے گا۔ اپنے حال پر مگن رہنا آدمی کو اپنے باہر کی چیزوں کے ليے بے خبر بنادیتاہے۔ وہ جان کر بھی نہیں جانتا، وہ سن کر بھی نہیں سنتا۔ آدمی اگر غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے تو وہ ضرور حقیقت کو پالے گا۔ مگر اکثر لوگ اپنے نفسیات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقت کو پانے میں ناکام رہتے ہیں۔

فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آيَاتٍ مُفَصَّلَاتٍ فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُجْرِمِينَ

📘 حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔ حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف، 7:110 )۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔ مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔ آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوا يَا مُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۖ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ

📘 حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔ حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف، 7:110 )۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔ مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔ آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُمْ بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ

📘 حضرت موسیٰ نے مصر میں تقریباً 40 سال تک پیغمبر ی کی۔ آپ کے مشن کے دو اجزاء تھے۔ ایک، فرعون کو توحید کا پیغام دینا۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے جانا اور وہاں آزادانہ فضا میں ان کی دینی تربیت کرنا۔ بنی اسرائیل (حضرت یعقوب کی اولاد) اس وقت شدید طورپر قبطی بادشاہ (فرعون) کی گرفت میں تھے۔ قبطی قوم ان کو اپنے زراعتی اور تعمیری کاموں میں بطور مزدور استعمال کرتی تھی۔ اس ليے قبطی حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ بنی اسرائیل مصر سے باہر چلے جائیں۔ حضرت موسیٰ نے ابتداء ً جب فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ مصر سے باہر جانے دو تو فرعون اور اس كے درباریوں نے اس کو سیاسی معنی پہنا کر آنجناب پر یہ الزام لگایا کہ وہ قبطی قوم کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں(الاعراف، 7:110 )۔یہ بات سراسر بے معنی تھی۔کیوں کہ حضرت موسیٰ کا منصوبہ تو خود اپنے آپ کو مصر سے باہر لے جانے کا تھا، اور فرعون نے یہ الٹا الزام لگایا کہ وہ قبطیوں کو ان کے ملک سے باہر نکال دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت فرعون اور اس کے ساتھی اقتدار کے گھمنڈ میں تھے اس ليے سیدھی بات بھی ان کو ٹیڑھی نظر آئی۔ مگر بعد کے مرحلہ میں خدا نے فرعون اور اس کی قوم پر ہر طرح کی بلائیں نازل کیں۔ ان پر کئی سال تک مسلسل قحط پڑے۔ شدید گرج چمک کے ساتھ اولوں کا طوفان آیا۔ ٹڈیوں کے دل آئے جو فصل اور باغ کو کھا گئے اور ہر قسم کی سبزی کا خاتمہ کردیا۔ جوئیں اور مینڈک اس کثرت سے ہوگئے کہ کپڑوں اور بستروں میں جوئیں ہی جوئیں تھیں اور گھروں اور راستوں میں ہر طرف مینڈک ہی مینڈک کودنے لگے۔ دریاؤں اور تالابوں کا پانی خون ہوگیا۔ فرعون اور اس کی قوم جب ان عجیب وغریب مصیبتوں میں مبتلا ہوئے تو وہ کہہ اٹھے کہ خدا اگر ان مصیبتوں کو ہم سے ٹال دے تو ہم بنی اسرائیل کو موسی کے ساتھ جانے دیں گے — حضرت موسیٰ کے جس مطالبہ میں پہلے قبطیوں کے اخراج کی سیاسی سازش دکھائی دی تھی وہ اب خود بنی اسرائیل کی ہجرت کے ہم معنیٰ نظر آنے لگی۔ آدمی اپنے کو محفوظ حالت میں پارہا ہو تو وہ طرح طرح کی باتیں بناتاہے۔ مگر جب اس سے حفاظت چھین لی جائے اور اس کو عجز اور بے بسی کے مقام پر کھڑا کردیا جائے تو اچانک وہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ اب وہ بات خود ہی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے جو پہلے سمجھانے کے بعد بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ مگر انکار کی طاقت رکھتے ہوئے اقرار کرنے کانام اقرار ہے۔ الفاظ چھن جانے کے بعد کوئی اقرار اقرار نہیں۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ

📘 انبیاء کی مخاطب قوموں پر جو عذاب آتاہے وہ تکذیب آیات کی بنا پر آتاہے۔ یعنی نشانیوں کو جھٹلانا۔ اس کے مقابلہ میں انبیاء کے ساتھیوں پر جو خصوصی نصرت اترتی ہے اس کا استحقاق ان کو صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، یعنی اپنے جذبات کو تھام کر اللہ کے طریقہ پر ثابت قدم رہنا۔ نشانیوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو حق کو حق ثابت کرنے والے ہوتے ہیں مگرآدمی اپنی متکبرانہ نفسیات کی وجہ سے ان کو ماننے پر قادر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کے معاملہ کو دلیل پیش کرنے والے کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ اگر میں نے دلیل مان لی تو فلاں شخص کے مقابلہ میں میرا مرتبہ گھٹ جائے گا۔ وہ دلیل پیش کرنے والے كے مقابلہ میں اپنے آپ كو اونچا رکھنے کی خاطر دلیل کی برتري کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہی انسان کی آزمائش کا اصل مقام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نشانیوں یا دلائل کے پردہ میں ظاہر ہوتا ہے، آخرت ميں وہ بے حجاب ہو کر ظاہر ہوجائے گا۔ مگر ایمان وہی معتبر هے جب کہ آدمی غيب ميں چھپے هوئے حق کو پالے۔ اس كے برعكس، قيامت كے دن حق كو سامنے ديكھ كر اس كو ماننا صرف آدمی کے جرم کو ثابت کرے گا، نہ کہ وہ اس کو انعام کا مستحق بنائے گا۔ ایسا اقرار صرف اس بات کا ثبوت ہوگا کہ آدمی نے اپنی بے پروائی کی وجہ سے حق کو نہ جانا۔ اگر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتا تو یقینا ًوہ اس کو جان لیتا۔ اس کے مقابلہ میں خدا کے وفادار بندے وه ہیں جن کی سب سے نمایاں خصوصیت صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی زندگی سراسر صبر کی زندگی ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی زبان سے حق کا اعلان سن کر اس کو مان لینا، عادتوں اور مصلحتوں پر قائم شدہ زندگی کو حق اور اصولوں کی بنیاد پر قائم کرنا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں کو خدا کی خاطر نظر انداز کرنا، حق کے مخالفین کی ڈالی ہوئی مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہونا، یہ سب ایمان کے لازمی مراحل ہیں اور آدمی صبر کے بغیر ان مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔ فرعون کو اپنے اقتدار پر اور اپنے باغوں اور عمارتوں پر گھمنڈ تھا۔ حضرت موسیٰ کی ہجرت کے بعد فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اولوں اور ٹڈیوں نے مصر کے سرسبز وشاداب باغات کو اجاڑ دیا اور زلزلوں نے ان کی شان دار عمارتیں ڈھادیں۔ دوسری طرف حضرت موسی کی چند نسلوں کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں بنی اسرائیل اطراف مصر (شام وفلسطین) پر قابض ہوگئے۔ نشانیوں کو جھٹلانے والے ہمیشہ خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیںاور صبر کرنے والے ہمیشہ خدا کی نصرت کے۔

وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ

📘 انبیاء کی مخاطب قوموں پر جو عذاب آتاہے وہ تکذیب آیات کی بنا پر آتاہے۔ یعنی نشانیوں کو جھٹلانا۔ اس کے مقابلہ میں انبیاء کے ساتھیوں پر جو خصوصی نصرت اترتی ہے اس کا استحقاق ان کو صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے، یعنی اپنے جذبات کو تھام کر اللہ کے طریقہ پر ثابت قدم رہنا۔ نشانیوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو حق کو حق ثابت کرنے والے ہوتے ہیں مگرآدمی اپنی متکبرانہ نفسیات کی وجہ سے ان کو ماننے پر قادر نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کے معاملہ کو دلیل پیش کرنے والے کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ اگر میں نے دلیل مان لی تو فلاں شخص کے مقابلہ میں میرا مرتبہ گھٹ جائے گا۔ وہ دلیل پیش کرنے والے كے مقابلہ میں اپنے آپ كو اونچا رکھنے کی خاطر دلیل کی برتري کو تسلیم نہیں کرتا۔ مگر یہی انسان کی آزمائش کا اصل مقام ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نشانیوں یا دلائل کے پردہ میں ظاہر ہوتا ہے، آخرت ميں وہ بے حجاب ہو کر ظاہر ہوجائے گا۔ مگر ایمان وہی معتبر هے جب کہ آدمی غيب ميں چھپے هوئے حق کو پالے۔ اس كے برعكس، قيامت كے دن حق كو سامنے ديكھ كر اس كو ماننا صرف آدمی کے جرم کو ثابت کرے گا، نہ کہ وہ اس کو انعام کا مستحق بنائے گا۔ ایسا اقرار صرف اس بات کا ثبوت ہوگا کہ آدمی نے اپنی بے پروائی کی وجہ سے حق کو نہ جانا۔ اگر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہوتا تو یقینا ًوہ اس کو جان لیتا۔ اس کے مقابلہ میں خدا کے وفادار بندے وه ہیں جن کی سب سے نمایاں خصوصیت صبر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی زندگی سراسر صبر کی زندگی ہے۔ اپنے جیسے ایک انسان کی زبان سے حق کا اعلان سن کر اس کو مان لینا، عادتوں اور مصلحتوں پر قائم شدہ زندگی کو حق اور اصولوں کی بنیاد پر قائم کرنا، لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ایذاؤں کو خدا کی خاطر نظر انداز کرنا، حق کے مخالفین کی ڈالی ہوئی مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہونا، یہ سب ایمان کے لازمی مراحل ہیں اور آدمی صبر کے بغیر ان مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر نہیں سکتا۔ فرعون کو اپنے اقتدار پر اور اپنے باغوں اور عمارتوں پر گھمنڈ تھا۔ حضرت موسیٰ کی ہجرت کے بعد فرعون اور اس کا لشکر سمندر میں غرق کردیا گیا۔ اولوں اور ٹڈیوں نے مصر کے سرسبز وشاداب باغات کو اجاڑ دیا اور زلزلوں نے ان کی شان دار عمارتیں ڈھادیں۔ دوسری طرف حضرت موسی کی چند نسلوں کے بعد حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں بنی اسرائیل اطراف مصر (شام وفلسطین) پر قابض ہوگئے۔ نشانیوں کو جھٹلانے والے ہمیشہ خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیںاور صبر کرنے والے ہمیشہ خدا کی نصرت کے۔

وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰ أَصْنَامٍ لَهُمْ ۚ قَالُوا يَا مُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَٰهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ

📘 بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔ ’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔ فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

إِنَّ هَٰؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَا هُمْ فِيهِ وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

📘 بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔ ’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔ فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

قَالَ أَنْظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

📘 قیامت کے منظر کو موجودہ دنیا میں حقیقی طور پر کھولا نہیں جا سکتا۔ تا ہم قرآن میں جگہ جگہ ان کو اشارہ یا تمثیل میں بتایا گیا ہے تا کہ آدمی ان کا مجمل احساس کر سکے۔ قیامت جب آئے گی تو وہ اتنی ہولناک ہوگی کہ آدمی اپنے ان رشتوں اور مفادات کو بھول جائے گا جن کو آج وہ اتنا اہم سمجھے ہوئے ہے کہ ان کی خاطر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

قَالَ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِيكُمْ إِلَٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ

📘 بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔ ’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔ فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

وَإِذْ أَنْجَيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ

📘 بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔ آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔ ’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔ فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

۞ وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ۚ وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ

📘 حضرت ہارون موسی کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلاً حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک كيے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے، نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔ حضرت موسی کو مصر میں دعوتی احکام ديے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلاکر قانونی احکام ديے گئے۔ اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو درست کریں،اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید وآخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں ، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہوجاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔ حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لیے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا أَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ 7:142 ) )اس سے معلوم ہوتاہے کہ اجتماعی سربراہ کے ليے اپنی ذمہ دایوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ وہ ہے — اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہيے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو ازروئے عدل اس سے چھینا جانا چاہیے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار ’’مفسدین‘‘ کی پیروی کرنے لگے ۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔ حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا— انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔

وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَلَٰكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ

📘 حضرت ہارون موسی کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلاً حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک كيے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے، نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔ حضرت موسی کو مصر میں دعوتی احکام ديے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلاکر قانونی احکام ديے گئے۔ اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو درست کریں،اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید وآخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں ، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہوجاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔ حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لیے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا أَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ 7:142 ) )اس سے معلوم ہوتاہے کہ اجتماعی سربراہ کے ليے اپنی ذمہ دایوں کو ادا کرنے کا بنیادی اصول کیا ہے۔ وہ ہے — اصلاح اور مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔ اصلاح سے مراد یہ ہے کہ مختلف افراد کے درمیان انصاف کا توازن کسی حال میں ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ہر ایک کو وہی ملے جو اس کو از روئے عدل ملنا چاہيے اور ہر ایک سے وہی چھینا جائے جو ازروئے عدل اس سے چھینا جانا چاہیے۔ اس اصلاحی عمل میں اکثر وقت خرابی پیدا ہوتی ہے جب کہ سردار ’’مفسدین‘‘ کی پیروی کرنے لگے ۔ یہ پیروی کبھی اس شکل میں ہوتی ہے کہ اس کے مقربین اپنے ذاتی اغراض کی بنا پر جو کچھ کہیں وہ ان کو مان لے۔ اور کبھی اس طرح ہوتی ہے کہ مفسدین کی طاقت سے خوف زدہ ہو کر وہ خاموشی اختیار کرلے۔ حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا— انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔

قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ

📘 حضرت موسیٰ کو پہلی بار نبوت پہاڑ کے اوپر ملی تھی اور دوسری بار بھی تورات کے احکام ان کو پہاڑ پر بلا کر ديے گئے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ خدا کافیضان حاصل کرنے کی سب سے زیادہ موزوں جگہ فطرت کا ماحول ہے، نہ کہ انسانی آبادیوں کا ماحول۔ انسانوں کی پرشور دنیا سے نکل کر آدمی جب پتھروں اور درختوں کی خاموش دنیا میں پہنچتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ مصنوعی احساسات سے خالی ہو کر اپنی فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ کسی آدمی کے ليے بہترین لمحہ ہوتا ہے جب کہ وہ بے آمیز فطری انداز میں سوچے اور یکسو ہو کر اپنے رب سے جُڑ سکے۔ پیغمبر عام انسانوں میں سے ایک انسان ہوتاہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہوتا۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائشی استعداد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اس ليے خدا اس کو چنتاہے کہ وہ اس کے پیغام کا حامل بنے اور لوگوں کے درمیان اس کی قابلِ اعتماد نمائندگی کرے۔ حضرت موسیٰ اس وقت اپنی قوم کے بہترین شخص تھے اس ليے خدا نے ان کو اپنا پیغمبر چنا اور ان پر اپنا کلام اتارا۔ خدا کے كلام میں اگر چہ ہدایت سے متعلق ہر قسم کی ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے مگر وہ الفاظ میں ہوتی ہے اور موجودہ امتحانی دنیا میں بہر حال اس کا امکان باقی رہتاہے کہ آدمی ان الفاظ کی غلط تشریح کرکے اس کو غیر مطلوب معنی پہنا دے۔ مگر جو شخص ہدایت کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو وہ ان الفاظ سے وہی معنی لے گا جو کلام الٰہی کے شایانِ شان ہے، نہ کہ وہ جو اس کے نفس کو مرغوب ہے۔ ’’میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا‘‘، یعنی اپنے اس سفر میں آگے چل کر تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزروگے جنھیں اس سے پہلے خدا کی ہدایت دی گئی تھی۔ مگروہ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ حالات کے دباؤ یا جذبات کے میلان کو نظرانداز کرکے وہ اس پر ٹھیک طرح قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ہلاک کرديے گئے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارا انجام بھی دنیا وآخرت میں وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا۔ خدا کا معاملہ جیسا ایک قوم کے ساتھ ہے ویسا ہی معاملہ دوسری قوم کے ساتھ ہے۔ عدل الٰہی کی میزان میں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر احسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کردیتی ہے۔

وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا لِكُلِّ شَيْءٍ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَأْمُرْ قَوْمَكَ يَأْخُذُوا بِأَحْسَنِهَا ۚ سَأُرِيكُمْ دَارَ الْفَاسِقِينَ

📘 حضرت موسیٰ کو پہلی بار نبوت پہاڑ کے اوپر ملی تھی اور دوسری بار بھی تورات کے احکام ان کو پہاڑ پر بلا کر ديے گئے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ ہے کہ خدا کافیضان حاصل کرنے کی سب سے زیادہ موزوں جگہ فطرت کا ماحول ہے، نہ کہ انسانی آبادیوں کا ماحول۔ انسانوں کی پرشور دنیا سے نکل کر آدمی جب پتھروں اور درختوں کی خاموش دنیا میں پہنچتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ مصنوعی احساسات سے خالی ہو کر اپنی فطری حالت پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ کسی آدمی کے ليے بہترین لمحہ ہوتا ہے جب کہ وہ بے آمیز فطری انداز میں سوچے اور یکسو ہو کر اپنے رب سے جُڑ سکے۔ پیغمبر عام انسانوں میں سے ایک انسان ہوتاہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے کوئی غیر انسانی مخلوق نہیں ہوتا۔ اس کی خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی پیدائشی استعداد کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، اس ليے خدا اس کو چنتاہے کہ وہ اس کے پیغام کا حامل بنے اور لوگوں کے درمیان اس کی قابلِ اعتماد نمائندگی کرے۔ حضرت موسیٰ اس وقت اپنی قوم کے بہترین شخص تھے اس ليے خدا نے ان کو اپنا پیغمبر چنا اور ان پر اپنا کلام اتارا۔ خدا کے كلام میں اگر چہ ہدایت سے متعلق ہر قسم کی ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے مگر وہ الفاظ میں ہوتی ہے اور موجودہ امتحانی دنیا میں بہر حال اس کا امکان باقی رہتاہے کہ آدمی ان الفاظ کی غلط تشریح کرکے اس کو غیر مطلوب معنی پہنا دے۔ مگر جو شخص ہدایت کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو وہ ان الفاظ سے وہی معنی لے گا جو کلام الٰہی کے شایانِ شان ہے، نہ کہ وہ جو اس کے نفس کو مرغوب ہے۔ ’’میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھاؤں گا‘‘، یعنی اپنے اس سفر میں آگے چل کر تم ان قوموں کے کھنڈرات سے گزروگے جنھیں اس سے پہلے خدا کی ہدایت دی گئی تھی۔ مگروہ اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ حالات کے دباؤ یا جذبات کے میلان کو نظرانداز کرکے وہ اس پر ٹھیک طرح قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ہلاک کرديے گئے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تمھارا انجام بھی دنیا وآخرت میں وہی ہوگا جو ان پچھلی قوموں کا ہوا۔ خدا کا معاملہ جیسا ایک قوم کے ساتھ ہے ویسا ہی معاملہ دوسری قوم کے ساتھ ہے۔ عدل الٰہی کی میزان میں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس دنیا میں یہ موقع ہے کہ آدمی اپنی خود ساختہ تشریح سے خدا کے احسن کلام کا کوئی غیر احسن مفہوم نکال لے۔ مگر یہ ایسی جسارت ہے جو فرماں برداری کے دعوے دار کو بھی نافرمانوں کی فہرست میں شامل کردیتی ہے۔

سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَإِنْ يَرَوْا كُلَّ آيَةٍ لَا يُؤْمِنُوا بِهَا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا وَإِنْ يَرَوْا سَبِيلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوهُ سَبِيلًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ

📘 دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنی آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ دنیا میں بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو جو سبق دیں گی وہ ان کو پالے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہو۔ وہ زمین میں اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اس کا مالک ہے، اس کواپنے ذاتی داعیات کے سوا کسی اور چیز کی پروا نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہو کہ یہاں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اپنی لیاقت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اپنی ملی ہوئی چیزوں میں اس کو کسی اور کی مرضی کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دوسرے آدمی کا استغناء اس کے ليے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے گا۔ پہلے آدمی کی نفسیات لینے والی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے خدا کے ہر اشارہ کو پڑھ لیتاہے۔ اور فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتاہے۔ اس کے برعکس، دوسرے آدمی کی نفسیات بے نیازی کی نفسیات ہوتی ہے۔ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ اس کے سامنے قدرت خاموش زبان میں اپنا نغمہ چھیڑتی ہے مگر وہ اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس کو اپنے سے باہر کسی سچائی کی طرف رغبت نہیںہوتی — موت کے بعد آنے والی دنیا صرف پہلے لوگوں کے لیے ہے۔ دوسرے لوگ خدا کی ابدی دنیا میں اسی طرح نظر انداز کرديے جائیں گے جس طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ خدا کی بات کو نظر انداز كيے ہوئے تھے۔ گمراہی کا راستہ نفس کے محرکات کے تحت بنتا ہے اور ہدایت کا راستہ وہ ہے جو نفس اور ماحول کے اثرات سے اوپر اٹھ کر خالص خدا کے ليے وجود میں آتاہے۔ اب جو لوگ اپنی ذات کی سطح پر جی رہے ہوں، جو صرف اپنے نفس کے اندر ابھرنے والے داعیات کو جانتے ہوں وہ گمراہی کے راستے کو عین اپنی چیز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ ہدایت کا راستہ ان کو اپنے مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس ليے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔ بڑا ئی کی نفسیات اس چیز کو بآسانی قبول کرلیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

📘 دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنی آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ دنیا میں بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو جو سبق دیں گی وہ ان کو پالے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہو۔ وہ زمین میں اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اس کا مالک ہے، اس کواپنے ذاتی داعیات کے سوا کسی اور چیز کی پروا نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہو کہ یہاں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اپنی لیاقت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اپنی ملی ہوئی چیزوں میں اس کو کسی اور کی مرضی کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دوسرے آدمی کا استغناء اس کے ليے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے گا۔ پہلے آدمی کی نفسیات لینے والی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے خدا کے ہر اشارہ کو پڑھ لیتاہے۔ اور فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتاہے۔ اس کے برعکس، دوسرے آدمی کی نفسیات بے نیازی کی نفسیات ہوتی ہے۔ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ اس کے سامنے قدرت خاموش زبان میں اپنا نغمہ چھیڑتی ہے مگر وہ اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس کو اپنے سے باہر کسی سچائی کی طرف رغبت نہیںہوتی — موت کے بعد آنے والی دنیا صرف پہلے لوگوں کے لیے ہے۔ دوسرے لوگ خدا کی ابدی دنیا میں اسی طرح نظر انداز کرديے جائیں گے جس طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ خدا کی بات کو نظر انداز كيے ہوئے تھے۔ گمراہی کا راستہ نفس کے محرکات کے تحت بنتا ہے اور ہدایت کا راستہ وہ ہے جو نفس اور ماحول کے اثرات سے اوپر اٹھ کر خالص خدا کے ليے وجود میں آتاہے۔ اب جو لوگ اپنی ذات کی سطح پر جی رہے ہوں، جو صرف اپنے نفس کے اندر ابھرنے والے داعیات کو جانتے ہوں وہ گمراہی کے راستے کو عین اپنی چیز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ ہدایت کا راستہ ان کو اپنے مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس ليے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔ بڑا ئی کی نفسیات اس چیز کو بآسانی قبول کرلیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَهُ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظَالِمِينَ

📘 بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔ حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔

وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِنْ لَمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

📘 بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔ حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔

قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِينَ

📘 قرآن سننے والے جنوں نے قرآن کو سن کر نہ صرف فوراً اسے مان لیا بلکہ اسی کے ساتھ وہ اس کے مبلغ بن گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سچا کلام جب زندہ لوگوں کے کانوں تک پہنچتا ہے تو وہ بیک وقت دو قسم کے اثرات پیدا کرتا ہے— اس کی سچائی کا کھلے دل سے اعتراف، اور اس کی تبلیغ عام۔

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِنْ بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

📘 بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔ حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

📘 بنی اسرائیل کے گروہ میں اس وقت سامری نام کا ایک بہت شاطر آدمی تھا۔ حضرت موسیٰ جب بنی اسرائیل کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر پہاڑ پر چلے گئے تو اس نے لوگوں کو بہکایا۔ اس نے لوگوں سے زیورات لے کر ان کو بچھڑے کی صورت میں ڈھال دیا۔ بت گری کے قدیم مصری فن کے مطابق بچھڑے کی یہ مورت اس طرح بنائی گئی تھی کہ جب اس کے اندر سے ہوا گزرے تو اس کے منھ سے خُوار (بیل کی ڈکار کی سی آواز) آ ئے۔ لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چنانچہ اتنی سی بات پر بہت سے لوگ شبہ میں پڑ گئے اور اس کے بارے میں خدائی تصور قائم کرلیا۔ ایک شاطر آدمی نے کچھ عوامی باتیں کرکے بھیڑ کی بھیڑ اپنے گرد جمع کرلی۔ اس کا زور اتنا بڑھا کہ حضرت ہارون اور اغلباً ان کے چند ساتھیوں کے سوا کوئی کھلم کھلا احتجاج کرنے والا بھی نہ نکلا۔ ظاہر ہے کہ جس عوامی طوفان میں پیغمبر کے نائب کی آواز دب جائے وہاں کیسے کوئی بولنے کی جرأت کرسکتا ہے۔ عوام کا ذوق ہر زمانہ میں یہی رہا ہے اور آج بھی وہ پوری طرح موجود ہے۔ آج بھی ایک ہوشیار آدمی اپنی تقریروں اور تحریروں سے کسی نہ کسی ’’خوار‘‘ پر لوگوں کی بھیڑ جمع کرلیتاہے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جس چیز کے گرد وہ جمع ہورہے ہیں وہ محض ایک تماشا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقت۔ کوئی سنجیدہ آدمی اگر اس تماشے کی حقیقت کو کھولتا ہے تو اس کا وہی انجام ہوتاہے جو بنی اسرائیل کے درمیان حضرت ہارون کا ہوا۔ حضرت موسی نے جب دیکھا کہ بنی اسرائیل مشرکانہ فعل میں مشغول ہیں تو ان کو گمان ہوا کہ حضرت ہارون نے اصلاح کے سلسلہ میں کوتاہی کی ہے۔ چنانچہ غصہ میںانھیں پکڑ لیا۔ مگر جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ انھوںنے اپنی اصلاحی کوشش میں کوئی کمی نہ کی تھی تو ان کے بیان کے بعد فوراً رک گئے اور اپنے لیے اور حضرت ہارون کے ليے خدا سے دعا کرنے لگے — ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں بڑی سے بڑی غلط فہمی ہوسکتی ہے مگر معاملہ کی وضاحت کے بعد وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کو غلط فہمی پیدا ہی نہیں ہوئی تھی۔

إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ

📘 بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے کو یہاں افتراء (جھوٹ باندھنا) کہاگیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ باطل کام حق کے نام پر کیا تھا۔ انھوںنے اپنا یہ کام خدا کے دین کا انکار کرکے نہیں کیا تھا بلکہ خدا کے دین کو مانتے ہوئے کیا تھا۔ اپنی اس بے دینی کو وہ دینی الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ مشرکین کے عام عقیدہ کی طرح، وہ کہتے تھے کہ خدا ان کی گھڑی ہوئی مورت میں حلول کرآیا ہے۔اِس ليے اس کی عبادت خود خدا کی عبادت کے ہم معنی ہے۔ حتی کہ اس فعل کے لیڈر سامری نے اس کے حق میں کشف و کرامت کی دلیل بھی تلاش کرلی۔ اس نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جبریل آئے ہیں اور میں نے ان کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی تو مقدس مٹی کی برکت سے وہ بچھڑا بولنے لگا۔ گویا سامری اور اس کے ساتھی خدا کی طرف ایسی بات منسوب کررہے تھے جو خدا نے خود نہیں بتائی تھی۔ اس قسم کی نسبت افتراء (خدا پر جھوٹ باندھنا) ہے خواہ وہ ایک صورت میں ہو یا دوسری صورت میں۔ کوئی حامل دین گروہ جب اس قسم کا افتراء کرتا ہے، وہ بے دینی کے فعل کو دین کا نام دے دیتا ہے تو یہ چیز خدا کے غضب کو شدید طورپر بھڑکا دیتی ہے۔اس سے بچنے كي صورت يه هے كه انسان توبهٔ نصوح كرے، يعني خالص توبه۔سوره البقره آيت 54 كے مطابق انھوں نے قتلِ نفس (self-killing)كيا يعنيخالص توبه كي۔سوره البقره كي مذكوره آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ ایسا ہونے کے بعد ان کو جسمانی طور پرقتل کرنا، شریعت کا تقاضا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذكوره واقعه ميں قتلِ نفس کا لفظ شدت توبہ کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی ایسی توبہ جو نفسیاتی طور پر سیلف کیلنگ کے ہم معنی بن جائے۔ توبہ کی اصل حقیقت شرمندگی ہے۔ بندہ پر جب گناہ کے بعد اس قسم کی شدید ندامت طاری ہو، اور وہ اس طرح اللہ کے سامنے گریہ و زاری کرے، جیسے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاک کرڈالے گا ۔ تو ایسی توبہ ہمیشہ گناہ سے معافی کا سبب بن جاتی ہے۔گناہ پر توبہ یہ ہے کہ گناہ ہوجانے کے بعد آدمی اپنے اس فعل پر شدید شرمندہ ہو۔ یہ شرمندگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود سے فیصلہ کرے کہ آئندہ وہ ایسا فعل نہ کرے گا۔ کوئی گنہ گار جب اس طرح شرمندگی کا اور آئندہ کے ليے پرہیز کے عزم کا ثبوت دے دیتا ہے تو گویا کہ وہ دوبارہ ایمان لاتاہے، دین کے دائرہ سے نکل جانے کے بعد وہ دوبارہ خدا کے دین میں داخل ہوتاہے۔

وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے کو یہاں افتراء (جھوٹ باندھنا) کہاگیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ باطل کام حق کے نام پر کیا تھا۔ انھوںنے اپنا یہ کام خدا کے دین کا انکار کرکے نہیں کیا تھا بلکہ خدا کے دین کو مانتے ہوئے کیا تھا۔ اپنی اس بے دینی کو وہ دینی الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ مشرکین کے عام عقیدہ کی طرح، وہ کہتے تھے کہ خدا ان کی گھڑی ہوئی مورت میں حلول کرآیا ہے۔اِس ليے اس کی عبادت خود خدا کی عبادت کے ہم معنی ہے۔ حتی کہ اس فعل کے لیڈر سامری نے اس کے حق میں کشف و کرامت کی دلیل بھی تلاش کرلی۔ اس نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جبریل آئے ہیں اور میں نے ان کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس کے اندر وہ مٹی ڈال دی تو مقدس مٹی کی برکت سے وہ بچھڑا بولنے لگا۔ گویا سامری اور اس کے ساتھی خدا کی طرف ایسی بات منسوب کررہے تھے جو خدا نے خود نہیں بتائی تھی۔ اس قسم کی نسبت افتراء (خدا پر جھوٹ باندھنا) ہے خواہ وہ ایک صورت میں ہو یا دوسری صورت میں۔ کوئی حامل دین گروہ جب اس قسم کا افتراء کرتا ہے، وہ بے دینی کے فعل کو دین کا نام دے دیتا ہے تو یہ چیز خدا کے غضب کو شدید طورپر بھڑکا دیتی ہے۔اس سے بچنے كي صورت يه هے كه انسان توبهٔ نصوح كرے، يعني خالص توبه۔سوره البقره آيت 54 كے مطابق انھوں نے قتلِ نفس (self-killing)كيا يعنيخالص توبه كي۔سوره البقره كي مذكوره آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ ایسا ہونے کے بعد ان کو جسمانی طور پرقتل کرنا، شریعت کا تقاضا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذكوره واقعه ميں قتلِ نفس کا لفظ شدت توبہ کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی ایسی توبہ جو نفسیاتی طور پر سیلف کیلنگ کے ہم معنی بن جائے۔ توبہ کی اصل حقیقت شرمندگی ہے۔ بندہ پر جب گناہ کے بعد اس قسم کی شدید ندامت طاری ہو، اور وہ اس طرح اللہ کے سامنے گریہ و زاری کرے، جیسے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاک کرڈالے گا ۔ تو ایسی توبہ ہمیشہ گناہ سے معافی کا سبب بن جاتی ہے۔گناہ پر توبہ یہ ہے کہ گناہ ہوجانے کے بعد آدمی اپنے اس فعل پر شدید شرمندہ ہو۔ یہ شرمندگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود سے فیصلہ کرے کہ آئندہ وہ ایسا فعل نہ کرے گا۔ کوئی گنہ گار جب اس طرح شرمندگی کا اور آئندہ کے ليے پرہیز کے عزم کا ثبوت دے دیتا ہے تو گویا کہ وہ دوبارہ ایمان لاتاہے، دین کے دائرہ سے نکل جانے کے بعد وہ دوبارہ خدا کے دین میں داخل ہوتاہے۔

وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُوسَى الْغَضَبُ أَخَذَ الْأَلْوَاحَ ۖ وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

📘 بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے 70نمائندہ افراد کو لے کر دوبارہ کوہ طورپر گئے۔ وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعے ایسے حالات پیدا كيے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت وخشیت پیداہو۔ چنانچه اس کے بعد وہ خداکے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ انھوںنے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی ’’اے ہمارے رب، ہمارے ليے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ’’میں جس پر چاہتاہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے‘‘ حضرت موسی کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے ليے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کردیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے ليے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ اگر چہ میںتمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میري پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ خدا کی کتاب ہدایت ورحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے ليے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ’’ڈر‘‘ رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتاہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کا مرکز بن جاتا ہے۔ ان کا سب کچھ خدا کے ليے وقف ہوجاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کردیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔

وَاخْتَارَ مُوسَىٰ قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا ۖ فَلَمَّا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِيَّايَ ۖ أَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا ۖ إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ ۖ أَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۖ وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ

📘 بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے 70نمائندہ افراد کو لے کر دوبارہ کوہ طورپر گئے۔ وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعے ایسے حالات پیدا كيے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت وخشیت پیداہو۔ چنانچه اس کے بعد وہ خداکے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ انھوںنے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی ’’اے ہمارے رب، ہمارے ليے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ’’میں جس پر چاہتاہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے‘‘ حضرت موسی کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے ليے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کردیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے ليے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ اگر چہ میںتمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میري پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ خدا کی کتاب ہدایت ورحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے ليے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ’’ڈر‘‘ رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتاہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کا مرکز بن جاتا ہے۔ ان کا سب کچھ خدا کے ليے وقف ہوجاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کردیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔

۞ وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۖ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ

📘 بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے 70نمائندہ افراد کو لے کر دوبارہ کوہ طورپر گئے۔ وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعے ایسے حالات پیدا كيے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت وخشیت پیداہو۔ چنانچه اس کے بعد وہ خداکے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ انھوںنے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی ’’اے ہمارے رب، ہمارے ليے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ’’میں جس پر چاہتاہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے‘‘ حضرت موسی کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے ليے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کردیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے ليے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ اگر چہ میںتمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میري پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ خدا کی کتاب ہدایت ورحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے ليے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ’’ڈر‘‘ رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتاہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کا مرکز بن جاتا ہے۔ ان کا سب کچھ خدا کے ليے وقف ہوجاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کردیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۚ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

📘 بنی اسرائیل دیکھتے چلے آرہے تھے کہ جتنے نبی آتے ہیں وہ سب ان کی اپنی قوم میں آتے ہیں۔ آخری رسول خدا کے منصوبہ کے مطابق بنی اسماعیل میں آنے والا تھا اس ليے خدا نے بنی اسرائیل کے انبیاء کے ذریعے انھیں پہلے سے اس کی خبر کردی۔ ان کی کتابوں میں کثرت سے اس کی پیشین گوئیاں ابھی تک موجود ہیں۔ ایسا اس ليے ہوا تاکہ جب آخری رسول آئے تو وہ کسی بڑے فتنہ میں نہ پڑیں اور بہ آسانی اس کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔ پیغمبر اسلام پڑھے لکھے نہ تھے۔ آپ امی رسول تھے۔ اُمّیت کے ساتھ پیغمبری، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آخری اور انتہائی صورت میں جمع ہوئی یہی ہمیشہ کے ليے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ معرفت خداوندی کا اظہار ہمیشہ ’’امیت‘‘ کی سطح پر ہوتا ہے۔ یعنی وہ کسی ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جو دنیوی معیار کے لحاظ سے اس قسم کے عظیم کام کا اہل نہ سمجھا جاتا ہو۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیںہوا کہ خدا نے بقراط اور افلاطون کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہو۔ دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری موشگافیاں کرکے نئے نئے مسائل بنائے جاتے ہیں۔ روحانیت کے نام پر مشقوں اور ریاضتوںکا ایک پورا ڈھانچہ کھڑا کرلیا جاتا ہے۔ عوامی توہمات مقدس ہو کر نئی شریعت کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہود کا یہی حال ہوچکا تھا۔ انھوں نے خداکے دین کے نام پر توہمات اور جکڑ بندیوں کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنالیا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کرکے سادہ اور سچے دین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔ پیغمبر جب آتا ہے تو سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ مگر یہ ایمان عام معنوں میں محض ایک کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ یہ بے روح ڈھانچہ والے دین سے نکل کر زندہ شعور والے دین میں داخل ہونا ہے۔ سابقہ مذہبی ڈھانچہ سے آدمی کی وابستگی محض تاریخی روایات یا نسلی رواج کے زور پر ہوتی ہے۔ مگر نئے پیغمبر کے دین کو جب وہ قبول کرتاہے تو وہ اس کو شعوری فیصلہ کے تحت قبول کرتا ہے، وہ رسم سے نکل کر حقیقت کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ سادہ بات ہر دور میں انسان کے ليے مشکل ترین بات ثابت ہوئی ہے۔

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَاتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

📘 ’’کہو میں سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے تمام پیغمبر قومی پیغمبر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین اقوامی پیغمبر ہیں۔ یہ بات بطور تقابل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بطور واقعہ کہی گئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک براہِ راست، دوسری بواسطۂ امت۔ آپ کی براہِ راست بعثت عرب کے ليے تھی (الانعام، 6:92 ) اور آپ کی بالواسطہ بعثت سارے عالم کے ليے ہے (الحج، 22:78 ) حکماً یہی نوعیت خدا کے تمام پیغمبروں کی تھی۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہ سکا۔ اس ليے یہ ممکن نہیں ہوا کہ وہ تمام عالم کے ليے نذیر وبشیر بنتے۔ آج مسیحیت کی تبلیغ سارے عالم ميں بہت بڑے پیمانہ پر ہورہی ہے۔ اس کے باوجود حضرت مسیح کی نبوت صرف فلسطین تک محدود ہوکر رہ گئی۔ کیوںکہ حضرت مسیح کے بعد ان کی تعلیمات اپنی اصل حالت میں باقی نهيں رہیں۔ آج مسیحیت کے نام سے جو دین لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ حقیقۃً سینٹ پال کا دین ہے، نہ کہ مسیح کا دین۔ گویا نبیوں کے وسعت کار میں جو فرق ہے وہ فرق باعتبار واقعه ہے، نہ کہ باعتبار تفویض۔ پیغمبر عربی کے متعلق بائبل میں یہ پیشین گوئی ہے کہ زمین کے سب قبیلے اس کے وسیلے سے برکت پائیں گے (پیدائش، 12:1-3 ) سب قوموں تک آپ کی برکت پہنچنا اس ليے ممکن ہوسکا کہ آپ کا لایا ہوا دین محفوظ ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کا دین محفوظ نہیں۔ اس ليے بظاہر اس کی آواز سب تک پہنچ کر بھی اس کی برکت سب تک نہ پہنچ سکی۔ عرب میں یہودی قبائل آباد تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو یہ فخر تھا کہ ان کے پاس خدا کی مقدس کتاب ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے کے ليے سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ ان کا یہ احساس کہ وہ سب سے بڑی سچائی کو ليے ہوئے ہیں ان کے ليے کسی دوسرے کی طرف سے آنے والی سچائی کو قبول کرنے میں مانع ہوجاتاہے۔ یہی حال یہود کا ہوا۔ ان کی بہت بڑی اکثریت ضد اور تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی۔ صرف چند لوگ (عبد اللہ بن سلّام وغیرہ) ایسے نکلے جنھوںنے کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھا۔ انھوںنے اپنی دنیوی عزت کی پروا كيے بغیر اس کی صداقت کا اعلان کیا اور اپني دنیوی زندگی کو اس کے حوالے کردیا۔ ’’رسول ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات (ارشادات) پر‘‘۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ فلسفیوں کے خدا اور پیغمبر کے خدا میں کیا فرق ہے۔ فلسفی کا خدا ایک مجرد روح هے۔ اس کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے کائنات میں قوت کشش کو ماننا۔ قوت کشش نہ بولتی اور نہ حکم دیتی هے۔ مگر پیغمبر کا خداایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ وہ انسانوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو حکم دیتاہے اور اس حکم کے ماننے یا نہ ماننے پر ہر ایک کے ليے انعام یا سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔

وَمِنْ قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ

📘 ’’کہو میں سب انسانوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ دوسرے تمام پیغمبر قومی پیغمبر تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین اقوامی پیغمبر ہیں۔ یہ بات بطور تقابل نہیں کہی گئی ہے بلکہ بطور واقعہ کہی گئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی دو بعثتیں ہیں۔ ایک براہِ راست، دوسری بواسطۂ امت۔ آپ کی براہِ راست بعثت عرب کے ليے تھی (الانعام، 6:92 ) اور آپ کی بالواسطہ بعثت سارے عالم کے ليے ہے (الحج، 22:78 ) حکماً یہی نوعیت خدا کے تمام پیغمبروں کی تھی۔ مگر دوسرے پیغمبروں کا دین محفوظ حالت میں باقی نہ رہ سکا۔ اس ليے یہ ممکن نہیں ہوا کہ وہ تمام عالم کے ليے نذیر وبشیر بنتے۔ آج مسیحیت کی تبلیغ سارے عالم ميں بہت بڑے پیمانہ پر ہورہی ہے۔ اس کے باوجود حضرت مسیح کی نبوت صرف فلسطین تک محدود ہوکر رہ گئی۔ کیوںکہ حضرت مسیح کے بعد ان کی تعلیمات اپنی اصل حالت میں باقی نهيں رہیں۔ آج مسیحیت کے نام سے جو دین لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ حقیقۃً سینٹ پال کا دین ہے، نہ کہ مسیح کا دین۔ گویا نبیوں کے وسعت کار میں جو فرق ہے وہ فرق باعتبار واقعه ہے، نہ کہ باعتبار تفویض۔ پیغمبر عربی کے متعلق بائبل میں یہ پیشین گوئی ہے کہ زمین کے سب قبیلے اس کے وسیلے سے برکت پائیں گے (پیدائش، 12:1-3 ) سب قوموں تک آپ کی برکت پہنچنا اس ليے ممکن ہوسکا کہ آپ کا لایا ہوا دین محفوظ ہے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کا دین محفوظ نہیں۔ اس ليے بظاہر اس کی آواز سب تک پہنچ کر بھی اس کی برکت سب تک نہ پہنچ سکی۔ عرب میں یہودی قبائل آباد تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو یہ فخر تھا کہ ان کے پاس خدا کی مقدس کتاب ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنے سے باہر کسی سچائی کو ماننے کے ليے سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ ان کا یہ احساس کہ وہ سب سے بڑی سچائی کو ليے ہوئے ہیں ان کے ليے کسی دوسرے کی طرف سے آنے والی سچائی کو قبول کرنے میں مانع ہوجاتاہے۔ یہی حال یہود کا ہوا۔ ان کی بہت بڑی اکثریت ضد اور تعصب کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی۔ صرف چند لوگ (عبد اللہ بن سلّام وغیرہ) ایسے نکلے جنھوںنے کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو دیکھا۔ انھوںنے اپنی دنیوی عزت کی پروا كيے بغیر اس کی صداقت کا اعلان کیا اور اپني دنیوی زندگی کو اس کے حوالے کردیا۔ ’’رسول ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلمات (ارشادات) پر‘‘۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ فلسفیوں کے خدا اور پیغمبر کے خدا میں کیا فرق ہے۔ فلسفی کا خدا ایک مجرد روح هے۔ اس کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے کائنات میں قوت کشش کو ماننا۔ قوت کشش نہ بولتی اور نہ حکم دیتی هے۔ مگر پیغمبر کا خداایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ وہ انسانوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو حکم دیتاہے اور اس حکم کے ماننے یا نہ ماننے پر ہر ایک کے ليے انعام یا سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔

قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ

📘 دنیا میں انسان کو آزاد پیدا کیا گیا، اور پھر اس کو راہ دکھا دی گئی، ناشکری کی راہ اور شکر گزار زندگی کی راہ۔ اب یہ انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ دونوں میں سے کون سی راہ اختیار کرتا ہے۔ جو شخص ناشکری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے۔ اور جو شخص شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرے اس کے لیے جنت کی نعمتیں۔

وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًا ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

📘 مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔ پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔ ’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔ یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔

وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَٰذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَغْفِرْ لَكُمْ خَطِيئَاتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ

📘 مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔ پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔ ’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔ یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔

فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَظْلِمُونَ

📘 مصر کی مشرکانہ فضا سے نکال کر خدا نے بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پہنچایا۔ یہاں ان کی تنظیم قائم کی گئی۔ ان کو بارہ جماعتوں میں بانٹ دیا گیا۔ ہر جماعت کے اوپر ایک نگراں تھا اور حضرت موسیٰ سب کے اوپر نگراں تھے۔ پھر بنی اسرائیل کو خصوصی طورپر تمام ضروریات زندگی عطا کی گئیں۔ پہاڑی چشمے نکال کر ان کے ليے پانی فراہم کیا گیا۔ کھلے صحرا میں سایہ کے ليے ان پر مسلسل بدلیاں بھیجی گئیں۔ ان کی خوراک کے ليے من وسلویٰ اترا جو به آسانی انھیں اپنے خیموں کے سامنے مل جاتاتھا۔ ان کی باقاعدہ سکونت کے ليے ایک پورا شہر اریحا (وادیٔ یردن میں) ان کے حوالے کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ تمھاری تمام ضرو ریات کا ہم نے انتظام کردیا ہے۔ اب حرص اور لذت پرستی میں مبتلا ہو کر ناپاک چیزوں کی طرف نہ دوڑو۔ اس کے بجائے قناعت اور اللہ کے آگے شکر گزاری کا طریقہ اختیار کرو۔ ’’باب (دروازہ) میں جھکے ہوئے داخل ہو‘‘ —یہاں باب سے مراد بستی کا دروازہ نہیں ہے بلکہ ہیکل سلیمانی کا دروازہ ہے۔ زمین میں اقتدار دینے کے بعد بنی اسرائیل سے کہاگیا کہ اپنی عبادت گاہ میں خاشع بن کر جاؤ اور گناہوں سے مغفرت مانگو۔ مسلمانوں کے یہاں جس طرح کعبہ کو بیت اللہ (خدا کاگھر) کہاجاتا ہے اسی طرح یہود کے یہاں ہیکل کو باب اللہ (خدا کا پھاٹک) کہاجاتاہے۔ یہود کو حکم دیاگیا تھا کہ اپنے عبادت خانہ میں عجزوتواضع کے ساتھ داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرو اور اللہ کی عظمت وجلال کو یاد کرکے اس کے آگے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے رہو۔ مگر یہود خدا کی نصیحتوں کو بھول گئے۔ وہ خدا کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے خدا کے نام پر خود ساختہ راہوں کی طرف چلنے لگے۔ انھوں نے عجز کے بجائے سرکشی کا طریقہ اپنایا۔ شکر کا کلمہ بولنے کے بجائے وہ بے صبری کے کلمات بولنے لگے۔ یہود جب بگاڑ کی اس حد کو پہنچ گئے تو خدا نے اپنی عنایات ان سے واپس لے لیں۔ رحمت کے بجائے ان کو مختلف قسم کے عذابوں نے گھیر لیا۔

وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ

📘 یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکرِ خداکے ليے خاص رکھیں۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج 31:14 )۔ مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے۔ تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے ليے ہوتاہے مگر وہ خود اپنے ليے کیا جاتاہے۔ اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھهر جائے گا، وہ اپني اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے ليے اور سخت کردیاگیا۔ بحر قلزم کی مشرقي خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آتیں۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔ یہ یہود کے ليے بڑی سخت آزمائش تھی۔ گویا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے ليے باقی رہ گیا۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کرنے لگے۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں۔ اس کے بعد وہ حوض کا منھ بند کرکے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے۔ پھر اگلے دن اتوار کو جاکر ان کو پکڑ لیتے۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے ليے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے اور نا جائز ذریعہ کے سوا اس کے ليے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔

وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ۙ اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ

📘 یہود کو یہ تلقین کی گئی تھی کہ وہ ہفتہ کا ایک دن (سنیچر) عبادت اور ذکرِ خداکے ليے خاص رکھیں۔ اس دن کوئی معاشی کام نہ کریں۔ بائبل کے مطابق حکم یہ تھا کہ جو شخص سبت کے قانون کی خلاف ورزی کرے وہ مار ڈالا جائے (خروج 31:14 )۔ مگر جب یہود میں بگاڑ آیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کرنے لگے۔ ان کے مصلحین نے متوجہ کیا تو وہ نہ مانے۔ تاہم مصلحین نے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی اصلاح کا کام اگر چہ بظاہر دوسروں کے ليے ہوتاہے مگر وہ خود اپنے ليے کیا جاتاہے۔ اس کا اصل محرک اپنے آپ کو اللہ کے یہاں بری الذمہ ٹھہرانا ہے۔ اگر یہ محرک زندہ نہ ہو تو آدمی درمیان میں ٹھهر جائے گا، وہ اپني اصلاح اور تبلیغ کے عمل کو آخر وقت تک جاری نہیں رکھ سکتا۔ یہود کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاملہ کو ان کے ليے اور سخت کردیاگیا۔ بحر قلزم کی مشرقي خلیج کے کنارے ایلہ شہر میں یہود کی آبادیاں تھیں۔ ان کی معیشت کا انحصار زیادہ تر مچھلیوں کے شکار پر تھا۔ خدا کے حکم سے یہ ہوا کہ سنیچر کے دن ان کے ساحل پر مچھلیوں کی آمد بہت بڑھ گئی۔ بقیہ چھ دنوں میں مچھلیاں بہت کم آتیں۔ مگر ممنوعہ دن (سنیچر) کو وہ کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر تیرتی ہوئی دکھائی دیتیں۔ یہ یہود کے ليے بڑی سخت آزمائش تھی۔ گویا پہلے اگر یہ نوعیت تھی کہ سنیچر کے علاوہ چھ جائز دنوں میں شکار کرنے کا پورا موقع تھا تو اب صرف ایک حرام دن ہی شکار کرنے کا موقع ان کے ليے باقی رہ گیا۔ اب یہود نے یہ کیا کہ وہ حیلہ کے ذریعہ حرام کو حلال کرنے لگے۔ وہ سنیچر کے دن شکار نہ کرتے۔ البتہ وہ سمندر کا پانی کاٹ کر باہر بنے ہوئے حوضوں میں لاتے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں چڑھتیں تو وہ نالی کے راستہ سے ان کے بنائے ہوئے حوض میں آجاتیں۔ اس کے بعد وہ حوض کا منھ بند کرکے مچھلیوں کے دریا میں لوٹنے کا راستہ روک دیتے۔ پھر اگلے دن اتوار کو جاکر ان کو پکڑ لیتے۔ اس طرح وہ ایک ناجائز فعل کو جواز کی صورت دینے کی کوشش کرتے تاکہ ان پر یہ حکم صادق نہ آئے کہ انھوں نے سنیچر کے دن شکار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص جائز ذرائع سے اپنی ضروریات فراہم کرنے پر قناعت نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو اس خطرہ میں ڈالتا ہے کہ اس کے ليے جائز ذرائع کا دروازہ سرے سے بند کردیا جائے اور نا جائز ذریعہ کے سوا اس کے ليے حصول معاش کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔

فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ

📘 ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرکے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے تھے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے ليے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیاگیا۔ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیںہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کااخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے۔ قيل بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تكن صورتهم كصورتها (المفردات للراغب الأصفہانى، صفحہ 666 )۔ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ فَقَطْ، وَرُدَّتْ أَفْهَامُهُمْ كَأَفْهَامِ الْقِرَدَةِ (تفسیر القرطبی، جلد1، صفحہ 443 ) انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل وضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے ليے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بندر کا حال یہ ہے ا س کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو كر ڈالتا ہے۔ اس کو نه اپنی خواہش کے بارے میں میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔ اب انسان کا بندر ہوجانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہوجائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کرگزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کردے۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے ليے کھڑا ہوجائے۔ کسی سے اختلاف ہوجائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کردے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگالے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے ليے کہے۔ برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلانِ برأت ہے۔ اس ليے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچا ليے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بے زار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں۔

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ

📘 ایک کام جس سے خدا نے منع کیا ہو اس کو کرنا گناہ ہے اور حیلہ کے ذریعہ ناجائز کو جائز بنا کر کرنا گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرکے یہود اسی قسم کے مجرم بن گئے تھے۔ ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ یعنی وہ خدا کی ان عنایتوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو اس نے اس دنیا میں صرف انسان کے ليے مخصوص کی ہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آجاتے ہیں۔ قانون سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیاگیا۔ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیںہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کااخلاق بندروں جیسا ہوگیا۔ ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسے ہوگئے۔ قيل بل جعل أخلاقهم كأخلاقها وإن لم تكن صورتهم كصورتها (المفردات للراغب الأصفہانى، صفحہ 666 )۔ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّهُ إِنَّمَا مُسِخَتْ قُلُوبُهُمْ فَقَطْ، وَرُدَّتْ أَفْهَامُهُمْ كَأَفْهَامِ الْقِرَدَةِ (تفسیر القرطبی، جلد1، صفحہ 443 ) انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے اندر اس کے خالق نے عقل اور ضمیر رکھ دیا ہے۔ اس کے اندر جب کوئی خواہش اٹھتی ہے تو اس کی عقل وضمیر متحرک ہو کر فوراً اس کے سامنے یہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ ایسا کرنا تمھارے ليے درست ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، بندر کا حال یہ ہے ا س کی خواہش اور اس کے عمل کے درمیان کوئی تیسری چیز حائل نہیں۔ جو بات بھی اس کے جی میں آجائے وہ فوراً اس کو كر ڈالتا ہے۔ اس کو نه اپنی خواہش کے بارے میں میں سوچنے کی ضرورت ہوتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی۔ اب انسان کا بندر ہوجانا یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتے کرتے اتنا بے حس ہوجائے کہ اس قسم کے نازک احساسات اس کے اندر سے جاتے رہیں۔ اس کے دل میں جو بھی خواہش پیدا ہو اس کو وہ کرگزرے۔ جب بھی کوئی شخص اس کی زد میں آجائے تو وہ اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کردے۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو فوراً اس کو ذلیل کرنے کے ليے کھڑا ہوجائے۔ کسی سے اختلاف ہوجائے تو اس پر غرانے لگے۔ کوئی اس کو اپنی راہ میں رکاوٹ نظر آئے تو فوراً اس سے لڑنا شروع کردے۔ سچا انسان وہ ہے جو اپنے آپ پر خدا کی لگام لگالے۔ اور بندر انسان وہ ہے جو بے قید ہو کر وہ سب کچھ کرنے لگے جو اس کا نفس اس سے کرنے کے ليے کہے۔ برائی سے روکنا ایک قسم کا اعلانِ برأت ہے۔ اس ليے کسی گروہ پر جب خدا کی یہ سزا آتی ہے تو اس کی زد میں آنے سے وہ لوگ بچا ليے جاتے ہیں جو برائی سے اس حد تک بے زار ہوں کہ وہ اس کے روکنے والے بن جائیں۔

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ ۖ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 ان آیات میں یہود کے ليے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الیٰ یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔ کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی ہو۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز کیا تھا۔ چنانچه آخرت کے وعدے کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات ديے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل نافرمانی کی۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدانے ان کو منصبِ فضیلت سے ہٹا دیا۔ ان کے ليے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کامزہ چکھتے رہیں گے اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے۔ ان پر ’’حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے ليے ایک قسم کا عتاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔ ان آیات میں یہود کے ليے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلّط کی جائیں گی جو ان کو ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بنو كدنصر اورکبھی ٹائٹس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ کبھی وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں ديے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلا لیا تو ہٹلر نے انھیں تباہ وبرباد کرڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طورپر ہلاک کی جانے والی ہے۔ دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ’’تقطیع‘‘ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر کردینا۔ یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار بار ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے ليے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے ليے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیاگیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار ومشرکین نے ان پر غلبہ پالیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹناچاہيے۔ کیوںکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الٰہی کی زد میں آگئے ہیں۔

وَقَطَّعْنَاهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمًا ۖ مِنْهُمُ الصَّالِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَبَلَوْنَاهُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

📘 ان آیات میں یہود کے ليے جس سزا کا اعلان ہے اس کے ساتھ الیٰ یوم القیامہ (قیامت کے دن تک) کی شرط لگی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا وہ ہے جس کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت کے انجام کا معاملہ اس سے الگ ہے جس کا ذکر دوسرے مقامات پر آیا ہے۔ کسی کام کے کرنے پر جب بڑا انعام رکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کو نہ کرنے پر اتنی ہی بڑی سزا بھی ہوگی۔ یہی معاملہ اس قوم کا ہے جو کتاب آسمانی کی حامل بنائی گئی ہو۔ یہود کو خدا نے اسی منصب پر فائز کیا تھا۔ چنانچه آخرت کے وعدے کے علاوہ دنیا میں بھی ان کو غیر معمولی انعامات ديے گئے۔ مگر یہود نے مسلسل نافرمانی کی۔ وہ دین کے نام پر بے دینی کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدانے ان کو منصبِ فضیلت سے ہٹا دیا۔ ان کے ليے یہ فیصلہ ہوا کہ جب تک دنیا قائم ہے وہ خدا کی سزا کامزہ چکھتے رہیں گے اور آخرت میں جو کچھ ہونا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب قیامت تک ان پر کبھی اچھے حالات نہیں آئیں گے۔ جیسا کہ خود ان آیات میں صراحت ہے۔ ان پر ’’حسنات‘‘ کے وقفے بھی پڑیں گے۔ مگر یہ حسنہ کا وقفہ بھی ان کے ليے ایک قسم کا عتاب ہوگا تاکہ وہ مزید سرکشی کرکے اور زیادہ سزا کے مستحق بنیں۔ ان آیات میں یہود کے ليے دو سزاؤں کا ذکر ہے۔ ایک یہ کہ ان پر ایسی قومیں مسلّط کی جائیں گی جو ان کو ظلم کا نشانہ بنائیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کبھی بنو كدنصر اورکبھی ٹائٹس رومی کے شدائد کا نشانہ بنے۔ کبھی وہ مسلمانوں کی ماتحتی میں ديے گئے۔ موجودہ زمانہ میں انھوں نے مشرقی یورپ میں اپنا زبردست اقتصادی جال پھیلا لیا تو ہٹلر نے انھیں تباہ وبرباد کرڈالا۔ اب ارض مقدس میں ان کا اجتماع بظاہر اس کی علامت ہے کہ ان کی پوری قوت شاید اجتماعی طورپر ہلاک کی جانے والی ہے۔ دوسری سزا جس کا یہاں ذکر ہے وہ’’تقطیع‘‘ ہے۔ یعنی ان کی جمعیت کو مختلف حصوں میں بانٹ کر منتشر کردینا۔ یہ دوسرا واقعہ بھی تاریخ میں بار بار ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے ليے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے ليے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیاگیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ کفار ومشرکین نے ان پر غلبہ پالیا ہو اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹناچاہيے۔ کیوںکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الٰہی کی زد میں آگئے ہیں۔

فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا الْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ ۗ وَالدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

📘 حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔ اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔ یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔ مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔

ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ

📘 جو آدمی اپنے آپ کو اس حال میں پاتا ہے کہ اس کے پاس مال بھی ہے اور ساتھیوں کی فوج بھی، اس کے اندر جھوٹا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ موجودہ دنیا میں جس طرح میرے احوال درست ہیں اسی طرح وہ آخرت میں بھی درست رہیں گے۔ مگر قیامت کے آتے ہی ساری صورت حال بدل جائے گی۔ وہ شخص جو دنیا میں ہر طرف آسانیاں دیکھ رہا تھا، وہ قیامت کے دن اپنے آپ کو ناقابل عبور دشواریوں کے درمیان گھرا ہوا پائے گا۔

وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ

📘 حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔ اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔ یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔ مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔

۞ وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنُّوا أَنَّهُ وَاقِعٌ بِهِمْ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

📘 حضرت موسیٰ کے زمانہ میں یہود کو جب خدائی احکام ديے گئے تو اس کی کارروائی پہاڑ کے دامن میں ہوئی تھی۔اس وقت ایسے حالات پیدا كيے گئے کہ یہود کو محسوس ہوا کہ پہاڑ ان کے اوپر گرا چاہتاہے۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ خدا سے عہد باندھنے کا معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اگر تم نے اس کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو یاد رکھو کہ اس عہد کا دوسرا فریق وہ عظیم ہستی ہے جو چاہے تو پہاڑ کو تمھارے اوپر گرا کر تمھیں ہلاک کردے۔ اس وقت یہود میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو اللہ سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے تھے۔ مگر بعد کو دھیرے دھیرے انھوںنے دنیا کو اپنا مقصود بنا لیا۔ وہ جائز ناجائز کا فرق كيے بغیر مال جمع کرنے میں لگ گئے۔ آسمانی کتاب کو اب بھی وہ پڑھتے تھے مگر اس کی تعلیمات کی خود ساختہ تاویلیں کرکے اس کو انھوںنے ایسا بنا لیا کہ خدا بھی ان کو اپنی باغیانہ زندگی کا حامی نظرآنے لگا۔ ان کی بے حسی یہاں تک بڑھی کہ وہ یہ کہہ کر مطمئن ہوگئے کہ ہم برگزیدہ امت ہیں ۔ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ خدا اپنے محبوب بندوں کے صدقے میں ہم کو ضرور بخش دے گا۔ یہی واقعہ ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتاہے۔ ابتدائی دور میں اس کے افراد خدا سے ڈرنے والے اور نیک عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ مگر اگلی نسلوںمیں یہ روح (spirit)نکل جاتی ہے۔ وہ دوسرے دنیا دار لوگوں کی طرح ہوجاتے ہیں۔ ان کے درمیان اب بھی دین موجود ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب اب بھی ان کے یہاں پڑھی پڑھائی جاتی ہے۔ مگر یہ سب قومی وراثت کے طورپر ہوتاہے، نہ کہ حقیقۃً عہد خداوندی کے طورپر۔ وہ عملاً آخرت کو بھول کر دنیا پرستی کی راہ میں چل پڑتے ہیں۔ وہ صحیح اور غلط سے بے نیاز ہو کر اپنی خواہشوں کو اپنا مذہب بنا لیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ان کو یہ بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ افضل الامم ہیں۔ وہ محبوبِ خدا کے امتی ہیں۔ وہ آسمانی کتاب کے وارث ہیں۔ کلمہ توحید کی برکت سے وہ ضرور بخش ديے جائیں گے۔ مگر اصل چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا ۛ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَافِلِينَ

📘 ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کردیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیٰحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طورپر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا ’’شعور رب‘‘ کے بارے میں ہے۔ انسان کی روح میں ایک خالق ومالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طورپر مخالفِ مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔ تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کي خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً بھی وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انھیںسبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملے میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کرکے مَن مانی کارروائی کرنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہورہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ جو شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد ا س کے ليے جنت کے دروازے کھول ديے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کردے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ خدا بھی اس کو نظر انداز کردے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔ فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ ماضی سے جو چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتاہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔

أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ

📘 ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کردیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیٰحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طورپر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا ’’شعور رب‘‘ کے بارے میں ہے۔ انسان کی روح میں ایک خالق ومالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طورپر مخالفِ مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔ تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کي خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً بھی وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انھیںسبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملے میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کرکے مَن مانی کارروائی کرنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہورہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ جو شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد ا س کے ليے جنت کے دروازے کھول ديے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کردے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ خدا بھی اس کو نظر انداز کردے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔ فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ ماضی سے جو چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتاہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

📘 ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کردیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیٰحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طورپر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا ’’شعور رب‘‘ کے بارے میں ہے۔ انسان کی روح میں ایک خالق ومالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طورپر مخالفِ مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔ تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کي خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً بھی وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انھیںسبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملے میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کرکے مَن مانی کارروائی کرنے لگے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہورہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ جو شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد ا س کے ليے جنت کے دروازے کھول ديے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کردے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ خدا بھی اس کو نظر انداز کردے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔ فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ ماضی سے جو چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتاہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کا سخت مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے ا س نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہيے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس، آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور نہ تھا جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کریں۔ کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ کتا اچھے سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہیے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔ کسی کو راستہ دکھانے کے ليے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے ليے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کا سخت مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے ا س نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہيے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس، آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور نہ تھا جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کریں۔ کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ کتا اچھے سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہیے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔ کسی کو راستہ دکھانے کے ليے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے ليے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کا سخت مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے ا س نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہيے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس، آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور نہ تھا جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کریں۔ کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ کتا اچھے سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہیے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔ کسی کو راستہ دکھانے کے ليے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے ليے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص امیہ بن ابی الصلت تھا۔ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ وہ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کو گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد کو جب اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوائے نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا اعلیٰ کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی۔ وہ پیغمبر اسلام کا سخت مخالف بن گیا۔ امیہ بن ابی الصلت کو خدا نے جو اعلیٰ خصوصیات دی تھیں ان کا صحیح استعمال یہ تھا کہ وہ خدا کے پیغمبر کو پہچانے اور ان کا ساتھی بن جائے۔ مگر خدا کی نوازشوں سے ا س نے اپنے اندر یہ ذہن بنایا کہ اب خدا کو میرے سوا کسی اور پر اپنا فضل نہ کرنا چاہيے۔ پیغمبر خدا کو نہ ماننے میں اسے دنیوی فائدہ نظر آتا تھا اس کے برعکس، آپ کو ماننے میں اخروی فائدہ تھا۔ اس نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو ترجیح دی۔ وہ اگر اعتراف کے رخ پر چلتا تو وہ فرشتوں کو اپنا ہم سفر بناتا۔ مگر جب وہ حسد اور گھمنڈ کے راستہ پر چل پڑا تو وہاں شیطان کے سوا کوئی اور نہ تھا جو اس کا ساتھ دے۔ یہ مثال ان تمام لوگوں پر صادق آتی ہے جو حسد اور کبر کی بنا پر سچائی کو نظر انداز کریں یا اس کو ماننے سے انکار کریں۔ کسی آدمی کا ایسا بننا اپنے آپ کو انسانیت کے مقام سے گرا کر کتے کے مقام پر پہنچا دینا ہے۔ کتا اچھے سلوک پر بھی ہانپتا ہے اور برے سلوک پر بھی۔ یہی حال ایسے آدمی کا ہے۔خدا نے جب اس کو دیا تب بھی اس نے اس سے سرکشی کی غذا لی اور نہ دیا تب بھی وہ سرکش ہی بنا رہا۔ حالاں کہ چاہیے یہ تھا کہ جب خدا نے اس کو دیا تھا تو وہ اس کا احسان مند ہوتا اور جب خدا نے نہیں دیا تو وہ خدا کی تقسیم پر راضی رہ کر اس کی طرف رجوع کرتا۔ کسی کو راستہ دکھانے کے ليے خدا خود سامنے نہیں آتا بلکہ وہ نشانیوں (دلائل) کی صورت میں اپنا راستہ لوگوں کے اوپر کھولتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ دلائل اور نشانیوں کے روپ میں ظاہر ہونے والے حق کو پہچان لیں اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائیں وہی اس دنیا میں ہدایت یاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ دلائل اور نشانیوں کو اہمیت نہ دیں ان کے ليے ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ

📘 سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔ خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔ خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَدْحُورًا ۖ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ أَجْمَعِينَ

📘 خدا نے انسان کو اس دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس ليے دیا ہے کہ اس کا نفسیاتی جواب وہ شکر کی صورت میں پیش کرے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جس کو آدمی اپنے رب کے سامنے پیش نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس کے اندر دوسرے دوسرے جذبات ابھار کر اس کو شکر کی نفسیات سے دور کردیتا ہے۔ آدم اور ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہدایت اور گمراہی کا معرکہ کہاں برپا ہے۔ یہ معرکہ ان مواقع پر برپا ہے جہاں آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگتی ہیں۔ امتحان کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمي سے اوپر اٹھ جاتا هے، كبھي كوئي شخص دولت وعزت ميں دوسرے سے زياده حصه پاليتا هے۔ كبھي دو آدميوں کے درمیان ایسا معاملہ پڑتا ہے کہ ایک شخص کے ليے دوسرے کو اس کا جائز حق دینا اپنے کو نیچے گرانے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ کبھی کسی شخص کی زبان سے خدا ایک سچائی کا اعلان کراتاہے اور وہ ان لوگوں کو اپنے سے برتر دکھائی دینے لگتا ہے جو اس سچائی تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ ایسے مواقع پر شیطان آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جگادیتا ہے۔ ’’میں بہتر ہوں‘‘کے جذبہ سے مغلوب ہو کروہ اپنے بھائی کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہی خدا کی نظر میں شیطان کے راستہ پر چلنا ہے۔ جس شخص نے ایسے مواقع پر حسد اور گھمنڈ کا طریقہ اختیار کیا اس نے اپنے کو جہنمی انجام کا مستحق بنالیا جو شیطان کے لیے مقدر ہے اور جس نے ایسے مواقع پر شیطان کے پیدا كيے ہوئے جذبات کو اپنے اندر کچل ڈالا اس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے۔ جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس ليے کسی کي فضیلت کا اعتراف دراصل خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا اعتراف ہے اور اس کی فضیلت کو نہ ماننا خدا کی تقسیم کو نہ ماننا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص کسی حق کی بنا پر دوسرے کے آگے جھکتا ہے تو وہ کسی آدمی کے آگے نہیں جھکتا بلکہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا وہ خداکے حکم کی بنا پر کر رہا ہے، نہ کہ اس آدمی کے ذاتی فضل کی بنا پر۔

وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

📘 سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔ خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔ خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ

📘 سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔ خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔ خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ

📘 سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔ خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔ خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ

📘 سچائی ایک ایسی چیز ہے جس کو ہر آدمی کو خود پانا پڑتاہے۔ خدا نے ہر آدمی کو دل اور آنکھ او رکان ديے ہیں۔ آدمی انھیں صلاحیتوں کو استعمال کرکے سچائی کو پاتا ہے۔ اور جو شخص ان صلاحیتوں کو استعمال نہ کرے وہ یقیناً سچائی کو پانے سے محروم رہے گا،خواہ سچائی اس سے کتنا ہی زیادہ قریب موجود ہو۔ سچائی کو پانا ہر آدمی کا ایک شعوری اور ارادی فعل ہے۔ سچائی کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنے دل کے دروازے اس کے ليے کھلے رکھے ہوں۔ اس کو وہی دیکھ سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہ ڈالے ہوں۔ اس کی آواز اسی کو سنائی دے سکتی ہے جس نے اپنے کان میں کسی قسم کے ڈاٹ نہ لگارکھے ہوں۔ ایسے لوگ سچائی کی آواز کو پہچان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دیں گے۔ اور جس شخص کا معاملہ اس کے برعکس ہو وہ چوپایوں کی طرح نا سمجھ بنا رہے گا۔ پہاڑ جیسے دلائل کا وزن محسوس کرنا بھی اس کے ليے ممکن نہ ہوگا۔ اس کے سامنے خدا کی تجلّیاں ظاہر ہوں گی مگر وہ اس کو دیکھنے سے عاجز ہوگا۔ اس کے پاس خدا کا نغمہ چھیڑا جائے گا مگر وہ اس کو سننے سے محروم رہے گا۔ سچائی ہمیشہ بیدار لوگوں کو ملتی ہے۔ غافلوں کے ليے کوئی سچائی سچائی نہیں۔ خدا کے بارے میںانسان کے بے راہ ہونے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے كه وه خدا كو مانتے هوئے اپنے ذهن ميں خدا كي غلط تصوير بنا ليتا هے۔ وه خدا كي طرف ايسي باتيں منسوب كرديتا هے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ مثلاً انسانوں کے حالات پر قیاس کرکے خدا کے مقربین کا عقیدہ بنالینا۔ بادشاہوں کو دیکھ کر یہ فرض کرلینا کہ جس طرح بادشاہوں کے نائب اور مددگار ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی نائب اور مددگار ہیں۔ خدائی فیصلہ کے بارے میں ایسا خیال قائم کرلینا جس میں آدمی کی اپنی خواہشیں تو پوری ہورہی ہوں مگر وہ خداوندی عدل سے مطابقت نہ رکھتاہو۔ یہ خدا کے ناموں میں کجی کرنا ہے کہ خدا کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو اس کی عظمت کے شایان شان نہ ہوں۔ خدا کسی آدمی کی کج روی پر فوراً اس کو نہیں پکڑتا۔ اس طرح اس کو موقع دیاجاتاہے کہ وہ یا تو خدا کی تنبیہات کو دیکھ کر سنبھل جائے یا مزید ڈھیٹ ہوکر اپنے جرم کو پوری طرح ثابت شدہ بنادے۔

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ

📘 با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔ خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔ ’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْ عَسَىٰ أَنْ يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ

📘 با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔ خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔ ’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

مَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ

📘 با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔ خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔ ’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

📘 با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔ خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔ ’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

📘 با مقصد آدمی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غیر مصلحت پسند انسان ہوتاہے۔ وہ وقت کے رواج سے اوپر اٹھ کر سوچتاہے۔ وہ ماحول میں جمے ہوئے مصالح سے بے پروا ہو کر اپنا کام کرتاہے۔ وہ ایک ایسے نشانہ کی خاطر اپنا جان ومال سب کچھ قربان کردیتاہے جس کا کوئی نتیجہ بظاہر اس دنیا میں ملنے والا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ بامقصد آدمی کو اکثر اپنے معاصرین کی طرف سے جو سب سے بڑا خطاب ملتاہے وہ ’’مجنون‘‘ ہے۔ خدا کا پیغمبر اپنے وقت کا سب سے بڑا بامقصد انسان ہوتاہے۔ اس ليے خداکے پیغمبروں کو ہر زمانہ کے لوگوں نے یہی کہا کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔ خدا کے دین کے داعی کو مجنون کہنا تمام ظلموں میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ کیوں کہ وہ جس پیغام کو لے کر اٹھتا ہے وہ ایک ایسا پیغام ہے جس کی تصدیق تمام زمین و آسمان کررہے ہیں۔ وہ ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جو اپنی کائناتی تخلیقات میں ہر طرف انتہائی حد تک نمایاں ہے۔ وہ ایسی آخرت کی خبر دیتاہے جو زمین وآسمان میں اس طرح سنگین حقیقت بنی ہوئی ہے جس طرح کسی ماں کے پیٹ میں پورا حمل۔ لوگ حق کے بارے میں سنجیدہ نہیں، اس ليے حق کی خاطر جان کھپانے والا انھیں مجنون دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ حق کی قدر وقیمت کو جانتے تو کبھی ایسا نہ کہتے۔ ’’قیامت کس تاریخ کو آئے گی‘‘۔ اس قسم کے سوالات غیر سنجیدہ ذہن سے نکلے ہوئے سوالات ہیں۔ قیامت کو ماننے کا انحصار قیامت کے حق میں اصولی دلیل پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ قیامت کی تاریخ متعین صورت میں بتادی جائے۔ جب یہ دنیا دارالامتحان ہے تو یہاں قیامت کو تنبیہہ کی زبان میں بتایا جائے گا ، نہ کہ حسابی تعینات کی زبان میں۔

۞ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ ۖ فَلَمَّا أَثْقَلَتْ دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ

📘 کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔ مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ

📘 جب قیامت آئے گی تو دنیا کا موجودہ نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو زور آور سمجھتے ہیں اور اس بنا پر دعوت حق کو نظر انداز کرتے ہیں، وہ اس دن اپنے آپ کو اس حال میں پائیں گے کہ ان سے زیادہ بے زور اور کوئی نہیں۔

فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا ۚ فَتَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

📘 کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔ مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

📘 کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔ مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًا وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ

📘 کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔ مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنْتُمْ صَامِتُونَ

📘 کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔ مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ

📘 کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔ مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا ۖ أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ادْعُوا شُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنْظِرُونِ

📘 بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔ تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔ غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ

📘 بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔ تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔ غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُونَ

📘 بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔ تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔ غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

وَإِنْ تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا ۖ وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

📘 بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔ تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔ غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ

📘 توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا ’’عُرف‘‘ کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل وفطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہاہے۔ انسان کی حُب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپني زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتاہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طورپر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے شوشوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوتِ حق دعوت نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس ليے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے ليے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔ تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتاہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتاہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتاہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کسی گڑھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

كِتَابٌ أُنْزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ لِتُنْذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

📘 ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ

📘 حضرت نوح کی اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اندازِ دعوت بھی عین وہی تھا جو قرآن میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت نوح نے کائناتی واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کی۔ انہوں نے اجتماعی خطاب بھی کیا اور انفرادی گفتگوئیں بھی کیں۔ لوگوں کا اصلاح پر لانے کے لیے انہوں نے اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالی۔ مگر قوم آپ کی بات ماننے پر راضی نہ ہوئی۔ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے ان الفاظ میں کی ہے  لَا تُعَظِّمُونَ اللهَ حَقَّ عَظَمَتِهِ (تفسیر الطبری، جلد 23 ، صفحہ 296 )۔ یعنی اللہ کی عظمت اس طرح نہیں مانتے جس طرح اس کی عظمت ماننا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح کی قوم اللہ کا اقرار کرتی تھی، مگر اس پر اللہ کی عظمت کا احساس اس طرح چھایا ہوا نہ تھا جس طرح کسی انسان پر چھایا ہوا ہونا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی خدا پرستی کا اصل معیار ہے۔ جو شخص خدا کی عظمت میں جی رہا ہو وہ خدا پرست ہے۔ اور جس کا دل خدا کی عظمت کے احساس میں ڈوبا ہوا نہ ہو، وہ خدا پرست نہیں۔

وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

📘 توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا ’’عُرف‘‘ کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل وفطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہاہے۔ انسان کی حُب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپني زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتاہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طورپر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے شوشوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوتِ حق دعوت نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس ليے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے ليے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔ تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتاہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتاہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتاہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کسی گڑھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ اتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَائِفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ تَذَكَّرُوا فَإِذَا هُمْ مُبْصِرُونَ

📘 توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا ’’عُرف‘‘ کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل وفطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہاہے۔ انسان کی حُب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپني زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتاہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طورپر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے شوشوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوتِ حق دعوت نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس ليے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے ليے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔ تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتاہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتاہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتاہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کسی گڑھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ

📘 توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا ’’عُرف‘‘ کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل وفطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہاہے۔ انسان کی حُب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپني زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتاہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔ ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طورپر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے شوشوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوتِ حق دعوت نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس ليے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے ليے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔ تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتاہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتاہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتاہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کسی گڑھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِمْ بِآيَةٍ قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ مِنْ رَبِّي ۚ هَٰذَا بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

📘 مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خداکے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے ليے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔ مثلاً فرض کیجيے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے جدید طرز کی ایک موٹر کار اتاردی جاتی جس میں لاؤڈاسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے ليے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے ليے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرا رہ جاتا اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔ کراماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرنے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل ودماغ پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیداکردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔ آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس ليے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تاکہ تمھیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتاہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔

وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

📘 مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خداکے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے ليے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔ مثلاً فرض کیجيے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے جدید طرز کی ایک موٹر کار اتاردی جاتی جس میں لاؤڈاسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے ليے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے ليے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرا رہ جاتا اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔ کراماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرنے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل ودماغ پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیداکردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔ آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس ليے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تاکہ تمھیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتاہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔

وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ

📘 مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خداکے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے ليے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔ مثلاً فرض کیجيے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے جدید طرز کی ایک موٹر کار اتاردی جاتی جس میں لاؤڈاسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے ليے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے ليے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرا رہ جاتا اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔ کراماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرنے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل ودماغ پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیداکردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔ آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس ليے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تاکہ تمھیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتاہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔

إِنَّ الَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ ۩

📘 مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے کہ اگر تم خداکے پیغمبر ہو تو خدا کے یہاں سے کوئی معجزہ کیوں نہیں لائے۔ خدا کے ليے انتہائی آسان تھا کہ وہ آپ کو ایک معجزہ دے دیتا۔ مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اصل مقصد جاتا رہتا۔ مثلاً فرض کیجيے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ليے جدید طرز کی ایک موٹر کار اتاردی جاتی جس میں لاؤڈاسپیکر نصب ہوتا۔ آپ اس میں بیٹھ کر چلتے اور لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے حالات میں ایسی ایک کار لوگوں کے ليے انتہائی حیرت ناک معجزہ ہوتی۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوتا کہ لوگوں کی توجہ اصل بات سے ہٹ جاتی۔ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خدا کا کلام لوگوں کے ليے بصیرت بنے۔ اس سے لوگوں کو سوچنے کا ڈھنگ اور عمل کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔ اس سے روحوں کو خدائی ٹھنڈک ملے۔ مگر مذکورہ معجزہ کے بعد یہ سارا منصوبہ دھرا رہ جاتا اور لوگ بس طلسماتی سواری کے عجوبہ میں محو ہو کر رہ جاتے۔ کراماتی چیزوں میں کھونے کا نام دین نہیں۔ دین یہ ہے کہ آدمی خدا کے کلام پر دھیان دے۔ اس کو غور کے ساتھ پڑھے اور توجہ کے ساتھ سنے۔ دین دار ہونے کی پہچان یہ ہے کہ خدا کے ساتھ آدمی کا گہرا تعلق قائم ہوجائے۔ اس کے دل میں گداز پیدا ہو۔ وہ خدا کی یاد کرنے والا بن جائے۔ خدا کی عظمت اس کے دل ودماغ پر اس طرح چھا جائے کہ وہ اس کے اندر تواضع اور خوف کی کیفیت پیداکردے۔ خدا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی آواز پست ہوجائے۔ وہ غفلت سے نکل کر بیداری کے عالم میں پہنچ جائے۔ آخر میں فرشتوں کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس ليے کہ تم بھی ایسا ہی کرو تاکہ تمھیں فرشتوں کی معیت حاصل ہو۔ جب آدمی اپنے آپ کو گھمنڈ سے پاک کرتا ہے۔ اور خدا کے کمالات سے اتنا سرشار ہوتاہے کہ اس کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔

وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ

📘 جنت اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ آدم اور ان کی بیوی کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ اس میں طرح طرح کی چیزیں تھیں اور خدا کی طرف سے ان کو آزادی تھی کہ ان کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔بے شمار جائز چیزوں کے درمیان صرف ایک چیز کے استعمال سے روک دیاگیا تھا۔ شیطان نے اسی ممنوعہ مقام سے ان پر حملہ کیا۔ اس نے وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ سکھایا کہ جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے وہی جنت کی اہم ترین چیز ہے۔ اسی میں تقدس اور ابدیت کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ آدم اور ان کی بیوی ابلیس کی مسلسل تلقین سے متاثر ہوگئے۔اور بالآخر ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ مگر جب انھوں نے ایسا کیا تو نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان کی اس خلاف ورزی نے خدا کا لباسِ حفاظت ان کے جسم سے اتار دیا۔ وہ اس دنیا میں بالکل بے یارومددگار ہو کر رہ گئے جہاں اس سے پہلے ان کو ہرطرح کی سہولت اور حفاظت حاصل تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا وہ خاص حربہ کیا ہے جس سے وہ انسان کو بہکا کر خدا کی رحمت ونصرت سے دور کردیتا ہے۔ وہ ہے — حلال رزق کے پھیلے ہوئے میدان کو آدمی کی نظر میں کمتر کرکے دکھانا اور جو چند چیزیں حرام ہیں ان کو خوب صورت طورپر پیش کرکے یقین دلانا کہ تمام بڑے بڑے فائدوں اور مصلحتوں کا راز بس انھیں چند چیزوں میں چھپا ہوا ہے۔ شیطان اپنا یہ کام ہر ایک کے ساتھ اس کے اپنے ذوق اور حالات کے اعتبار سے کرتا ہے ۔ کسی کو تمام قیمتی غذاؤں سے بے رغبت کرکے یہ سکھاتا ہے کہ شاندار تندرستی حاصل کرنا چاہتے ہو تو شراب پیو۔ کہیں لاکھوں بے روزگار مرد کام کرنے کے ليے موجود ہوں گے مگر وہ ترغیب دے گا کہ اگر ترقی کی منزل تک جلد پہنچنا چاہتے ہو تو عورتوں کو گھر سے باہر لاکر انھیں مختلف تمدنی شعبوں میں سرگرم کردو۔ کسی کے پاس اپنے مخالف کو زیر کرنے کا یہ قابل عمل طریقہ موجود ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو مستحکم بنائے مگر شیطان اس کے کان میں ڈالے گا کہ تمھارے ليے اپنے مخالف کو شکست دینے کا سب سے زیادہ کار گر طریقہ یہ ہے کہ اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کردو۔ کسی کے ليے ’’اپنی تعمیر آپ‘‘ کے میدان میں کام کرنے کے ليے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہوں گے مگر وہ سکھائے گا کہ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کا طوفان برپا کرنا اپنے کو کامیابی کی طرف لے جانے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ ہے۔ کسی کے سامنے حکومت وقت سے تصادم کیے بغیر بے شمار دینی کام کرنے کے مواقع موجود ہوں گے مگر وہ اس کو اس غلط فہمی ميں ڈالے گا کہ غیر اسلامی حکمرانوں کو اگر کسی نہ کسی طرح پھانسی پر چڑھادیا جائے یا ان کو گولی مار کر ختم کردیا جائے تو اس کے بعد آناً فاناً اسلام کا مکمل نظام سارے ملک میں قائم ہو جائے گا، وغیرہ۔

فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ

📘 آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔ آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔ شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔ اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

📘 آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔ آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔ شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔ اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ

📘 آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔ آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔ شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔ اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ

📘 آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔ آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔ شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔ اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

📘 دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کرکے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔ خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور ا سی کے ساتھ وه اس کے حسن ووقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لیے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتاہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے— اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک معیار رکھنا، اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو وہ اپنے اندرونی وجود كو ملبوس کرتاہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کرليتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔ آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتاہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیںنازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتاہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتاہے۔کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتاہے۔ شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتاہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں كرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرکے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتاہو۔

يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

📘 دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کرکے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔ خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور ا سی کے ساتھ وه اس کے حسن ووقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لیے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتاہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے— اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک معیار رکھنا، اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو وہ اپنے اندرونی وجود كو ملبوس کرتاہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کرليتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔ آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتاہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیںنازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتاہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتاہے۔کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتاہے۔ شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتاہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں كرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرکے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتاہو۔

وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

📘 قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔ قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔ حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔

قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ

📘 قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔ قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔ حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

📘 ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ

📘 قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔ قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔ حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔

۞ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ

📘 عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے ليے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائيگی کے حد تک قائم ہیں۔ انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے ليے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئي روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے ليے درست نہ ہو۔ آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس ليے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے ليے ہوں گی جن کے ليے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے ليے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس ليے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

📘 عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے ليے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائيگی کے حد تک قائم ہیں۔ انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے ليے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئي روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے ليے درست نہ ہو۔ آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس ليے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے ليے ہوں گی جن کے ليے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے ليے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس ليے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

📘 عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے ليے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائيگی کے حد تک قائم ہیں۔ انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے ليے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئي روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے ليے درست نہ ہو۔ آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس ليے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے ليے ہوں گی جن کے ليے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے ليے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس ليے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

📘 موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔ کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي ۙ فَمَنِ اتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

📘 موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔ کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

📘 موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔ کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ ۚ أُولَٰئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُمْ مِنَ الْكِتَابِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ

📘 موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔ کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔ آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِنْ لَا تَعْلَمُونَ

📘 اس آیت میں ’’ اُمت ‘‘ سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور ’’اُخت‘‘ سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دو ر کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیامیں تووہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور فدا کار بنے ہوئے تھے۔ قائدین اپنے عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو ۔ تمہاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اوراس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیرؤوں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسا دین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کےسچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی، مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ اس ليے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے ليے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔ پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس ليے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہاہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اس کو اتنا زیادہ سخت ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔ دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلناچاہے گا۔

وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ

📘 اس آیت میں ’’ اُمت ‘‘ سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور ’’اُخت‘‘ سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دو ر کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیامیں تووہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور فدا کار بنے ہوئے تھے۔ قائدین اپنے عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو ۔ تمہاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اوراس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیرؤوں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسا دین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کےسچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی، مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ اس ليے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے ليے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔ پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس ليے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہاہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اس کو اتنا زیادہ سخت ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔ دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلناچاہے گا۔

وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ

📘 ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ

📘 خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر ۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوںسے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس ليے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعے ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا مگر انھوںنے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدائی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پاسکتے ہیں۔ دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں ايك دوسرے كے دشمن بن جائيں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں سب کے دل ایک دوسرے کے ليے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے ليے محبت اور خیرخواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔ برے لوگوں کے ليے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لیے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طورپر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خبر کو عین سچا پاکر خوش ہورہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیان حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔

لَهُمْ مِنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ

📘 خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر ۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوںسے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس ليے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعے ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا مگر انھوںنے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدائی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پاسکتے ہیں۔ دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں ايك دوسرے كے دشمن بن جائيں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں سب کے دل ایک دوسرے کے ليے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے ليے محبت اور خیرخواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔ برے لوگوں کے ليے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لیے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طورپر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خبر کو عین سچا پاکر خوش ہورہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیان حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

📘 خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر ۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوںسے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس ليے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعے ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا مگر انھوںنے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدائی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پاسکتے ہیں۔ دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں ايك دوسرے كے دشمن بن جائيں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں سب کے دل ایک دوسرے کے ليے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے ليے محبت اور خیرخواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔ برے لوگوں کے ليے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لیے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طورپر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خبر کو عین سچا پاکر خوش ہورہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیان حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔

وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ۖ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

📘 خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر ۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوںسے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس ليے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعے ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا مگر انھوںنے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدائی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پاسکتے ہیں۔ دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں ايك دوسرے كے دشمن بن جائيں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں سب کے دل ایک دوسرے کے ليے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے ليے محبت اور خیرخواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔ برے لوگوں کے ليے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لیے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طورپر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خبر کو عین سچا پاکر خوش ہورہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیان حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔

وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَنْ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

📘 ان آیات میں قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنت اور جہنم تو ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور واقع ہوں گی،جنت آسمانوں کے اوپر ہوگی اور دوزخ سب سے نیچے تحت الثریٰ میں۔ پھر جنت والوں کی آوازیں جہنم والوں تک کس طرح پہنچیں گی۔ مگر اب ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دور میں یہ سوال کوئی سوال نہیں۔آج انسان یہ جان چکا ہے کہ دور کے فاصلوں سے کسی کو دیکھنا بھی ممکن ہے اور اس کی آواز سننا بھی۔ جو بات قدیم انسان کوناقابلِ فہم نظر آتی تھی وہ آج کے انسان کے ليے خود اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں پوری طرح قابلِ فہم ہوچکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی کوئی بات اگر آج کی معلومات کی روشنی میں سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس بنا پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ علم کے اضافہ کے بعد کل وہ چیز ایک جانی پہچانی چیز بن جائے جو آج بظاہر اَن جاني چیز کی طرح دکھائی دے رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخرت میں جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان تعلق موجودہ قسم کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعہ قائم ہوگا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جدید دریافتوں نے اس بات کو قابل فہم بنا دیا ہے کہ خدا کی کائنات میں ایسے انتظامات بھی ممکن ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ کر بھی دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھیں اور ایک دوسرے سے بخوبی طورپر بات کریں۔ کسی دلیل کا وزن آدمی اسی وقت سمجھ پاتاہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ جو لوگ آخرت کو اہمیت نہ دیں وہ آخرت سے متعلق دلائل کا وزن بھی محسوس نہیں کرپاتے۔آخرت کی بات ان کے سامنے انتہائی مضبوط دلائل کے ساتھ آتی ہے۔ مگر اس کے بارے میں ان کا غیر سنجیدہ ذہن اس کے اندر کوئی نہ کوئی عیب تلاش کرلیتاہے۔ وہ طرح طرح کے اعتراض نکال کر خود بھی شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک وشبہ میں مبتلا کرتے ہیں،ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ وہ آخرت میں صرف خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے خواہ دنیا میں وہ اپنے کو خدا کی رحمتوں کا سب سے بڑا حق دار سمجھتے رہے ہوں۔ کوئی دلیل خواہ کتنی ہی وزنی اور قطعی ہو، آدمی کے ليے ہمیشہ یہ موقع رہتا ہے کہ وہ کچھ خوب صورت الفاظ بول کر اس کی صداقت کے بارے میں لوگوں کو مشتبہ کردے۔ عوام ایک حقیقی دلیل اور ایک لفظی شوشہ میں فرق نہیں کر پاتے اس ليے وہ اس قسم کی باتیں سن کر حق سے بدک جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اس طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو حق سے بدکاتے ہیں وہ آخرت کے دن خدا کی رحمتوں سے آخری حد تک دور ہوںگے۔

الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ

📘 ان آیات میں قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنت اور جہنم تو ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور واقع ہوں گی،جنت آسمانوں کے اوپر ہوگی اور دوزخ سب سے نیچے تحت الثریٰ میں۔ پھر جنت والوں کی آوازیں جہنم والوں تک کس طرح پہنچیں گی۔ مگر اب ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دور میں یہ سوال کوئی سوال نہیں۔آج انسان یہ جان چکا ہے کہ دور کے فاصلوں سے کسی کو دیکھنا بھی ممکن ہے اور اس کی آواز سننا بھی۔ جو بات قدیم انسان کوناقابلِ فہم نظر آتی تھی وہ آج کے انسان کے ليے خود اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں پوری طرح قابلِ فہم ہوچکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی کوئی بات اگر آج کی معلومات کی روشنی میں سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس بنا پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ علم کے اضافہ کے بعد کل وہ چیز ایک جانی پہچانی چیز بن جائے جو آج بظاہر اَن جاني چیز کی طرح دکھائی دے رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخرت میں جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان تعلق موجودہ قسم کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعہ قائم ہوگا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جدید دریافتوں نے اس بات کو قابل فہم بنا دیا ہے کہ خدا کی کائنات میں ایسے انتظامات بھی ممکن ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ کر بھی دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھیں اور ایک دوسرے سے بخوبی طورپر بات کریں۔ کسی دلیل کا وزن آدمی اسی وقت سمجھ پاتاہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ جو لوگ آخرت کو اہمیت نہ دیں وہ آخرت سے متعلق دلائل کا وزن بھی محسوس نہیں کرپاتے۔آخرت کی بات ان کے سامنے انتہائی مضبوط دلائل کے ساتھ آتی ہے۔ مگر اس کے بارے میں ان کا غیر سنجیدہ ذہن اس کے اندر کوئی نہ کوئی عیب تلاش کرلیتاہے۔ وہ طرح طرح کے اعتراض نکال کر خود بھی شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک وشبہ میں مبتلا کرتے ہیں،ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ وہ آخرت میں صرف خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے خواہ دنیا میں وہ اپنے کو خدا کی رحمتوں کا سب سے بڑا حق دار سمجھتے رہے ہوں۔ کوئی دلیل خواہ کتنی ہی وزنی اور قطعی ہو، آدمی کے ليے ہمیشہ یہ موقع رہتا ہے کہ وہ کچھ خوب صورت الفاظ بول کر اس کی صداقت کے بارے میں لوگوں کو مشتبہ کردے۔ عوام ایک حقیقی دلیل اور ایک لفظی شوشہ میں فرق نہیں کر پاتے اس ليے وہ اس قسم کی باتیں سن کر حق سے بدک جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اس طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو حق سے بدکاتے ہیں وہ آخرت کے دن خدا کی رحمتوں سے آخری حد تک دور ہوںگے۔

وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ ۚ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ

📘 دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتوں ا ور اس کی جانب سے آئی ہوئی سختیوں سے مومن و غير مومن سب یکساں دوچار ہوتے ہیں۔ مگر آخرت میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں دونوں کے درمیان ’’آڑ‘‘ قائم ہوجائے گی۔ وہاں مومنین کو ملی ہوئی نعمتوں کی کوئی خوشبو كافروں کو نہیں ملے گی اور اسی طرح کافروں کو ملی ہوئی تکلیفوں کاکوئی اثر جنت والوں تک نہیں پہنچے گا۔ عرف کے معنی عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنھوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کوحق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اس کا انجام کیاہونے والا ہے اور داعیٔ حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا آخری طور پر صحیح ثابت ہوچکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے ليے اونچا اسٹیج مہیا کیاجائے گا جس پر کھڑے ہو کر وہ پہلے اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ اس کے امید وار ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا رخ ان کے جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ وہ ان کی بری حالت دیکھ کر کمالِ عبدیت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے اور ان سے کہیں گے تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس سازوسامان پر گھمنڈ تھا اور جس کی وجہ سے تم نے ہمارے پیغامِ حق کو جھٹلا دیا وہ آج تمھارے کچھ کام نہ آسکا۔ حق کا انکار کرنے والے وقت کے قائم شدہ نظام کے سایہ میں ہوتے ہیں۔ اس دنیامیں ان کی حیثیت ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ حق کے داعیوں کا ساتھ دیتے ہیں ان کا ساتھ دینا صرف اس قیمت پر ہوتاہے کہ وقت کے جمے ہوئے نظام کی سرپرستی انھیں حاصل نہ رہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حق کو نہیں مانتے وہ ماننے والوں کی بے چارگی کو دیکھ كر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔

۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

📘 دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتوں ا ور اس کی جانب سے آئی ہوئی سختیوں سے مومن و غير مومن سب یکساں دوچار ہوتے ہیں۔ مگر آخرت میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں دونوں کے درمیان ’’آڑ‘‘ قائم ہوجائے گی۔ وہاں مومنین کو ملی ہوئی نعمتوں کی کوئی خوشبو كافروں کو نہیں ملے گی اور اسی طرح کافروں کو ملی ہوئی تکلیفوں کاکوئی اثر جنت والوں تک نہیں پہنچے گا۔ عرف کے معنی عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنھوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کوحق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اس کا انجام کیاہونے والا ہے اور داعیٔ حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا آخری طور پر صحیح ثابت ہوچکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے ليے اونچا اسٹیج مہیا کیاجائے گا جس پر کھڑے ہو کر وہ پہلے اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ اس کے امید وار ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا رخ ان کے جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ وہ ان کی بری حالت دیکھ کر کمالِ عبدیت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے اور ان سے کہیں گے تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس سازوسامان پر گھمنڈ تھا اور جس کی وجہ سے تم نے ہمارے پیغامِ حق کو جھٹلا دیا وہ آج تمھارے کچھ کام نہ آسکا۔ حق کا انکار کرنے والے وقت کے قائم شدہ نظام کے سایہ میں ہوتے ہیں۔ اس دنیامیں ان کی حیثیت ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ حق کے داعیوں کا ساتھ دیتے ہیں ان کا ساتھ دینا صرف اس قیمت پر ہوتاہے کہ وقت کے جمے ہوئے نظام کی سرپرستی انھیں حاصل نہ رہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حق کو نہیں مانتے وہ ماننے والوں کی بے چارگی کو دیکھ كر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔

وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ رِجَالًا يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُوا مَا أَغْنَىٰ عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ

📘 دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتوں ا ور اس کی جانب سے آئی ہوئی سختیوں سے مومن و غير مومن سب یکساں دوچار ہوتے ہیں۔ مگر آخرت میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں دونوں کے درمیان ’’آڑ‘‘ قائم ہوجائے گی۔ وہاں مومنین کو ملی ہوئی نعمتوں کی کوئی خوشبو كافروں کو نہیں ملے گی اور اسی طرح کافروں کو ملی ہوئی تکلیفوں کاکوئی اثر جنت والوں تک نہیں پہنچے گا۔ عرف کے معنی عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنھوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کوحق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اس کا انجام کیاہونے والا ہے اور داعیٔ حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا آخری طور پر صحیح ثابت ہوچکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے ليے اونچا اسٹیج مہیا کیاجائے گا جس پر کھڑے ہو کر وہ پہلے اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ اس کے امید وار ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا رخ ان کے جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ وہ ان کی بری حالت دیکھ کر کمالِ عبدیت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے اور ان سے کہیں گے تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس سازوسامان پر گھمنڈ تھا اور جس کی وجہ سے تم نے ہمارے پیغامِ حق کو جھٹلا دیا وہ آج تمھارے کچھ کام نہ آسکا۔ حق کا انکار کرنے والے وقت کے قائم شدہ نظام کے سایہ میں ہوتے ہیں۔ اس دنیامیں ان کی حیثیت ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ حق کے داعیوں کا ساتھ دیتے ہیں ان کا ساتھ دینا صرف اس قیمت پر ہوتاہے کہ وقت کے جمے ہوئے نظام کی سرپرستی انھیں حاصل نہ رہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حق کو نہیں مانتے وہ ماننے والوں کی بے چارگی کو دیکھ كر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔

أَهَٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ

📘 دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتوں ا ور اس کی جانب سے آئی ہوئی سختیوں سے مومن و غير مومن سب یکساں دوچار ہوتے ہیں۔ مگر آخرت میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں دونوں کے درمیان ’’آڑ‘‘ قائم ہوجائے گی۔ وہاں مومنین کو ملی ہوئی نعمتوں کی کوئی خوشبو كافروں کو نہیں ملے گی اور اسی طرح کافروں کو ملی ہوئی تکلیفوں کاکوئی اثر جنت والوں تک نہیں پہنچے گا۔ عرف کے معنی عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنھوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کوحق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اس کا انجام کیاہونے والا ہے اور داعیٔ حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا آخری طور پر صحیح ثابت ہوچکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے ليے اونچا اسٹیج مہیا کیاجائے گا جس پر کھڑے ہو کر وہ پہلے اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ اس کے امید وار ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا رخ ان کے جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ وہ ان کی بری حالت دیکھ کر کمالِ عبدیت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے اور ان سے کہیں گے تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس سازوسامان پر گھمنڈ تھا اور جس کی وجہ سے تم نے ہمارے پیغامِ حق کو جھٹلا دیا وہ آج تمھارے کچھ کام نہ آسکا۔ حق کا انکار کرنے والے وقت کے قائم شدہ نظام کے سایہ میں ہوتے ہیں۔ اس دنیامیں ان کی حیثیت ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ حق کے داعیوں کا ساتھ دیتے ہیں ان کا ساتھ دینا صرف اس قیمت پر ہوتاہے کہ وقت کے جمے ہوئے نظام کی سرپرستی انھیں حاصل نہ رہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حق کو نہیں مانتے وہ ماننے والوں کی بے چارگی کو دیکھ كر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔

فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا إِلَّا أَنْ قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ

📘 ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

وَنَادَىٰ أَصْحَابُ النَّارِ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكَافِرِينَ

📘 دنیا دو قسم کی غذاؤں کا دستر خوان ہے۔ ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ ایک انسان وہ ہے جس کی روح کی غذا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھے۔ دنیا کی رونقیں اپنے گرد پاکر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مادی سازوسامان کا مالک ہو کر وہ اپنے کو کامیاب سمجھتاہے۔ ایسا آدمی خدا اور آخرت کو بھولا ہوا ہے۔ اس کے سامنے خدا کی بات آئے گی تو وہ اس کوغیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردے گا۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سرسری سلوک کرے گا جیسے وہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ ہو بلکہ محض کھیل تماشا ہو۔ ایسے آدمی کے ليے آخرت کے انعامات میں کوئی حصہ نہیں۔ اس نے اپنے اندر ایک ایسی روح کی پرورش کی جس کی غذا صرف دنیا کی چیزیں بن سکتی تھیں۔ پھرآخرت کی چیزوں سے اس کی روح کیوں کر اپني خوراک پاسکتی ہے۔ جو انسان آج آخرت میں نہ جیا ہو اس کے ليے آخرت کل کے دن بھی زندگی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ دوسرا نسان وہ ہے جو غیبی حقیقتوں میں گم رہا ہو۔ جس کی روح کو آخرت کی یاد میں لذت ملی ہو۔ جس کی غذا یہ رہی ہو کہ وہ خدا میں جيے اور خدا کی فضاؤں میں سانس لے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے ليے آخرت رزق کا دسترخوان بنے گی۔ وہ جنت کے باغوں میں اپنے ليے زندگی کا سامان حاصل کرلے گا۔ اس نے عالم غیب میں خدا کو پایا تھا اس ليے عالم شہود میں بھی وہ خدا کو پالے گا۔ خدا کی دنیا میں آدمی خداکو کیوں بھلا دیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ایسی نشانیوں کے ساتھ سامنے آتا ہے جو صرف سوچنے سے ذہن کی پکڑ میں آتی ہیں، جب کہ دنیا کی چیزیں آنکھوں کے سامنے اپنی تمام رونقوں کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ آدمی ظاہری چیزوں کی طرف جھک جاتا ہے اور خدا کی طرف اشارہ کرنے والی نشانیوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر ایسا ہر عمل دنیا کی قیمت پر آخرت کوچھوڑنا ہے۔ اور جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں آخرت کو چھوڑا وہ موت کے بعد والی زندگی میں بھی آخرت سے محروم رہے گا۔ اللہ جب ایک چیز کو حق کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائے اور وہ اس کو اہمیت نہ دیں، وہ اس کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کریں تو یہ دراصل خود خدا کو غیر اہم سمجھنا اوراس کے ساتھ غيرسنجیدہ معاملہ کرنا ہے۔دنیا میں حق کو نظر انداز کرنے سے آدمی کا کچھ بگڑتا نہیں، حق کی پشت پر جو خدائی طاقتیں ہیں وہ ابھی غیب میں ہونے کی وجہ سے اس کو نظر نہیں آتیں۔یہ صورت حال اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ جو لوگ اس طرح حق کو نظر انداز کریں وہ یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ خدا بھی آخرت کے دن انھیں نظر انداز کردے۔

الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ

📘 دنیا دو قسم کی غذاؤں کا دستر خوان ہے۔ ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ ایک انسان وہ ہے جس کی روح کی غذا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھے۔ دنیا کی رونقیں اپنے گرد پاکر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مادی سازوسامان کا مالک ہو کر وہ اپنے کو کامیاب سمجھتاہے۔ ایسا آدمی خدا اور آخرت کو بھولا ہوا ہے۔ اس کے سامنے خدا کی بات آئے گی تو وہ اس کوغیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردے گا۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سرسری سلوک کرے گا جیسے وہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ ہو بلکہ محض کھیل تماشا ہو۔ ایسے آدمی کے ليے آخرت کے انعامات میں کوئی حصہ نہیں۔ اس نے اپنے اندر ایک ایسی روح کی پرورش کی جس کی غذا صرف دنیا کی چیزیں بن سکتی تھیں۔ پھرآخرت کی چیزوں سے اس کی روح کیوں کر اپني خوراک پاسکتی ہے۔ جو انسان آج آخرت میں نہ جیا ہو اس کے ليے آخرت کل کے دن بھی زندگی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ دوسرا نسان وہ ہے جو غیبی حقیقتوں میں گم رہا ہو۔ جس کی روح کو آخرت کی یاد میں لذت ملی ہو۔ جس کی غذا یہ رہی ہو کہ وہ خدا میں جيے اور خدا کی فضاؤں میں سانس لے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے ليے آخرت رزق کا دسترخوان بنے گی۔ وہ جنت کے باغوں میں اپنے ليے زندگی کا سامان حاصل کرلے گا۔ اس نے عالم غیب میں خدا کو پایا تھا اس ليے عالم شہود میں بھی وہ خدا کو پالے گا۔ خدا کی دنیا میں آدمی خداکو کیوں بھلا دیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ایسی نشانیوں کے ساتھ سامنے آتا ہے جو صرف سوچنے سے ذہن کی پکڑ میں آتی ہیں، جب کہ دنیا کی چیزیں آنکھوں کے سامنے اپنی تمام رونقوں کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ آدمی ظاہری چیزوں کی طرف جھک جاتا ہے اور خدا کی طرف اشارہ کرنے والی نشانیوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر ایسا ہر عمل دنیا کی قیمت پر آخرت کوچھوڑنا ہے۔ اور جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں آخرت کو چھوڑا وہ موت کے بعد والی زندگی میں بھی آخرت سے محروم رہے گا۔ اللہ جب ایک چیز کو حق کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائے اور وہ اس کو اہمیت نہ دیں، وہ اس کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کریں تو یہ دراصل خود خدا کو غیر اہم سمجھنا اوراس کے ساتھ غيرسنجیدہ معاملہ کرنا ہے۔دنیا میں حق کو نظر انداز کرنے سے آدمی کا کچھ بگڑتا نہیں، حق کی پشت پر جو خدائی طاقتیں ہیں وہ ابھی غیب میں ہونے کی وجہ سے اس کو نظر نہیں آتیں۔یہ صورت حال اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ جو لوگ اس طرح حق کو نظر انداز کریں وہ یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ خدا بھی آخرت کے دن انھیں نظر انداز کردے۔

وَلَقَدْ جِئْنَاهُمْ بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

📘 قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتاہے۔ مگر آدمی چوکنّا نہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگر چہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑا نہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کررہی تھی۔ قرآن ان کے ليے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔ اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انھیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانك ديكھے گا كه وه بالكل بے سهارا هوچكا هے۔ وه جن مسائل كو اهم سمجھ كر ان ميں الجھا هوا تھااس دن وه بالكل بے حقيقت نظر آئيں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پر جی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔ آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس ليے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوسکا اس لیے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔ جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں۔

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَلْ لَنَا مِنْ شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ

📘 قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتاہے۔ مگر آدمی چوکنّا نہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگر چہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑا نہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کررہی تھی۔ قرآن ان کے ليے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔ اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انھیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانك ديكھے گا كه وه بالكل بے سهارا هوچكا هے۔ وه جن مسائل كو اهم سمجھ كر ان ميں الجھا هوا تھااس دن وه بالكل بے حقيقت نظر آئيں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پر جی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔ آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس ليے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوسکا اس لیے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔ جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں۔

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ

📘 زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔ انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔

ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

📘 زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔ انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔

وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ

📘 زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔ انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔ بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔

وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

📘 دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طورپر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بارش پاکر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے۔ وہاں جھاڑ جھنکاڑ کے سوا کچھ نہیں اگتا۔ یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتاہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالک اعلیٰ سے قائم ہوجاتاہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی كيفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھودیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتاہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ جھاڑ جھنکاڑ کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پاکر اس کے اندر سے حسد، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں، نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔ بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لیے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اسکے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی،وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کرکے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔

وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ

📘 دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔ جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طورپر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بارش پاکر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے۔ وہاں جھاڑ جھنکاڑ کے سوا کچھ نہیں اگتا۔ یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتاہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالک اعلیٰ سے قائم ہوجاتاہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی كيفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھودیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتاہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ جھاڑ جھنکاڑ کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پاکر اس کے اندر سے حسد، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں، نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔ بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لیے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اسکے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی،وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کرکے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔

لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ

📘 حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔ اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔ حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ

📘 ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

قَالَ الْمَلَأُ مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ

📘 حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔ اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔ حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔ اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔ حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنْصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

📘 حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔ اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔ حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

📘 حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔ اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔ حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

فَكَذَّبُوهُ فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا عَمِينَ

📘 حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔ اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔ حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ

📘 حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔ ’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔ پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔ ’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔

قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي سَفَاهَةٍ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكَاذِبِينَ

📘 حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔ ’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔ پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔ ’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔

قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي سَفَاهَةٌ وَلَٰكِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔ ’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔ پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔ ’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔

أُبَلِّغُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَأَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ

📘 حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔ ’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔ پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔ ’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔

أَوَعَجِبْتُمْ أَنْ جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ ۚ وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

📘 حضرت نوح کی کشتی میں جو اہلِ ایمان بچے تھے ان میں آپ کے پوتے اِرَم کی اولاد سے ایک نسل چلی۔ وہ قدیم یمن میں آباد تھے اور عاد کہلاتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء ً حضرت نوح کے دین پر تھے۔ بعد کو جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو اللہ نے حضرت ہود کو ان کے اوپر اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ مگر قوم کے سرداروں کو آپ کے اندر وہ عظمت نظر نہ آئی جو ان کے خیال مطابق خداکے پیغمبر کے اندر ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ شخص یا تو احمق ہے یا پھر وہ جھوٹا دعویٰ کررہاہے۔ ’’میں تمھارا ناصح اور امین ہوں‘‘۔ پیغمبر کی زبان سے یہ فقرہ بتاتا ہے کہ داعی اور مدعو کا رشتہ قومی حریف یا سیاسی مد مقابل جیسا رشتہ نہیں ہے۔ یہ خیر خواہی اور امانت داری کا رشتہ ہے۔ داعی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے دل میں مدعو کے لیے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ مدعو کی طرف سے خواہ کیسا ہی ناخوش گوار رویہ سامنے آئے مگر داعی آخر وقت تک مدعو کا خیر خواہ بنا رہے۔ پھر جو پیغام وہ دے رہاہے اس کو دیتے ہوئے اس کے اندر یہ احساس نہ ہو کہ یہ میری کوئی اپنی چیز ہے جو میںدوسروں کو عطا کررہا ہوں۔ بلکہ یہ جذبہ ہو کہ یہ خود دوسروں کی چیز ہے۔ یہ دوسروں کے لیے خدا کی امانت ہے جو میں ان کو پہنچا کر بری الذمہ ہو رہاہوں۔ پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس کو اس بات سے ڈرائیں کہ اگر وہ خدا کا شکر گزار بن کر نہ رہا تو وہ خدا کی پکڑ میںآجائے گا۔ قومی جھگڑوں اور مادی مسائل کو پیغمبر کبھی اپنی دعوت کا عنوان نہیں بناتے۔ وہ آخری حد تک اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے اور مدعو کے درمیان اصل دعوت کے سوا کوئی چیز بحث کی بنیاد نہ بننے پائے، قوم ان کو صرف توحید اور آخرت کے داعی کے روپ میں دیکھے، نہ کہ کسی اور روپ میں۔ ’’خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو‘‘ —اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نعمتوں کا استحقاق اُس کے لیے ہے جس نے دنیا میں خدا کی نعمتوں کا اعتراف کیا ہو۔ جنت خدا کے منعم ومحسن ہونے کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس ليے آخرت کی جنت کو وہی پائے گا جس نے دنیا میں خدا کے منعم ومحسن ہونے کو پالیا ہو۔ یہی معرفت جنت کی اصل قیمت ہے۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ ۖ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ

📘 ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

📘 انسان ناموں کے ذریعہ کسی چیز کا تصور قائم کرتاہے۔ کسی شخص کے ساتھ اچھا لفظ لگ جائے تو وہ اچھا معلوم ہوتا ہے اور اگر برا لفظ لگ جائے تو برا دکھائی دینے لگتاہے۔ خدا کے سوا دوسری چیزیں یا ہستیاں جوآدمی کی توجہات کا مرکز بنتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی نام ہوتے ہیں۔ لوگ کسی شخصیت کو غوث پاک، گنج بخش، غریب نواز، مشکل کشا جیسے الفاظ سے پکارنے لگتے ہیں۔ یہ الفاظ دھیرے دھیرے ان شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ لوگ یقین کرلیتے ہیں کہ جس کو غوث (فریاد رس) کہاجاتا ہے وہ واقعی فریاد کو پہنچنے والا ہے اور جس کو مشکل کشا کے نام سے پکارا جاتا ہے ہے سچ مچ وہ مشکلوں کو حل کرنے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام نام صرف انسانوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ ان ناموں کا کوئی مسمّی کہیں موجود نہیں۔ ان کے حق میں نہ کوئی شرعی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل۔ ناموں کی شریعت کی ایک قسم وہ ہے جو جاہل انسانوں کے درمیان رائج ہے۔ تاہم اس کی ایک زیادہ مہذب صورت بھی ہے جو تعليم يافته لوگوں کے درمیان مقبول ہے۔ یہاں بھی کچھ شخصیتوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی الفاظ وابستہ کرديے جاتے ہیں۔ مثلاً قدسی صفات، محبوب خدا، ستون اسلام، نجات دہندہ ملت وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ دھیرے دھیرے مذکورہ شخصیتوں کے نام کا جزء بن جاتے ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں کو ویسا ہی غیر معمولی سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ ان کو ديے ہوئے نام سے ظاہر ہوتاہے۔ جو چیز ’’باپ دادا‘‘سے چلی آرہی ہو، بالفاظ دیگر جس نے تاریخی اہمیت حاصل کرلی ہو اور طویل روایات کے نتیجہ میں جس کے ساتھ ماضی کا تقدس شامل ہوگیا ہو وہ لوگوں کی نظر میں ہمیشہ عظیم ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ’’آج‘‘ کے داعی کی بات ہلکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ حال کے داعی کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو اعتماد ہوتاہے کہ وہ اسلام کی عظمتوں کے وارث ہیں پھر کون ان کا کچھ بگاڑ سکتاہے۔ خدا کے معاملہ ميں ڈھٹائی آدمی کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ نصیحت اور یاد دہانی کی زبان میں کوئی اصلاح قبول کرسکے۔ ایسے لوگ گویا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا عذاب کی زبان میں ان کے سامنے ظاہر ہو۔

قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَادِلُونَنِي فِي أَسْمَاءٍ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا نَزَّلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ

📘 انسان ناموں کے ذریعہ کسی چیز کا تصور قائم کرتاہے۔ کسی شخص کے ساتھ اچھا لفظ لگ جائے تو وہ اچھا معلوم ہوتا ہے اور اگر برا لفظ لگ جائے تو برا دکھائی دینے لگتاہے۔ خدا کے سوا دوسری چیزیں یا ہستیاں جوآدمی کی توجہات کا مرکز بنتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی نام ہوتے ہیں۔ لوگ کسی شخصیت کو غوث پاک، گنج بخش، غریب نواز، مشکل کشا جیسے الفاظ سے پکارنے لگتے ہیں۔ یہ الفاظ دھیرے دھیرے ان شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ لوگ یقین کرلیتے ہیں کہ جس کو غوث (فریاد رس) کہاجاتا ہے وہ واقعی فریاد کو پہنچنے والا ہے اور جس کو مشکل کشا کے نام سے پکارا جاتا ہے ہے سچ مچ وہ مشکلوں کو حل کرنے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام نام صرف انسانوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ ان ناموں کا کوئی مسمّی کہیں موجود نہیں۔ ان کے حق میں نہ کوئی شرعی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل۔ ناموں کی شریعت کی ایک قسم وہ ہے جو جاہل انسانوں کے درمیان رائج ہے۔ تاہم اس کی ایک زیادہ مہذب صورت بھی ہے جو تعليم يافته لوگوں کے درمیان مقبول ہے۔ یہاں بھی کچھ شخصیتوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی الفاظ وابستہ کرديے جاتے ہیں۔ مثلاً قدسی صفات، محبوب خدا، ستون اسلام، نجات دہندہ ملت وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ دھیرے دھیرے مذکورہ شخصیتوں کے نام کا جزء بن جاتے ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں کو ویسا ہی غیر معمولی سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ ان کو ديے ہوئے نام سے ظاہر ہوتاہے۔ جو چیز ’’باپ دادا‘‘سے چلی آرہی ہو، بالفاظ دیگر جس نے تاریخی اہمیت حاصل کرلی ہو اور طویل روایات کے نتیجہ میں جس کے ساتھ ماضی کا تقدس شامل ہوگیا ہو وہ لوگوں کی نظر میں ہمیشہ عظیم ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ’’آج‘‘ کے داعی کی بات ہلکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ حال کے داعی کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو اعتماد ہوتاہے کہ وہ اسلام کی عظمتوں کے وارث ہیں پھر کون ان کا کچھ بگاڑ سکتاہے۔ خدا کے معاملہ ميں ڈھٹائی آدمی کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ نصیحت اور یاد دہانی کی زبان میں کوئی اصلاح قبول کرسکے۔ ایسے لوگ گویا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا عذاب کی زبان میں ان کے سامنے ظاہر ہو۔

فَأَنْجَيْنَاهُ وَالَّذِينَ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ وَمَا كَانُوا مُؤْمِنِينَ

📘 انسان ناموں کے ذریعہ کسی چیز کا تصور قائم کرتاہے۔ کسی شخص کے ساتھ اچھا لفظ لگ جائے تو وہ اچھا معلوم ہوتا ہے اور اگر برا لفظ لگ جائے تو برا دکھائی دینے لگتاہے۔ خدا کے سوا دوسری چیزیں یا ہستیاں جوآدمی کی توجہات کا مرکز بنتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی نام ہوتے ہیں۔ لوگ کسی شخصیت کو غوث پاک، گنج بخش، غریب نواز، مشکل کشا جیسے الفاظ سے پکارنے لگتے ہیں۔ یہ الفاظ دھیرے دھیرے ان شخصیتوں کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ لوگ یقین کرلیتے ہیں کہ جس کو غوث (فریاد رس) کہاجاتا ہے وہ واقعی فریاد کو پہنچنے والا ہے اور جس کو مشکل کشا کے نام سے پکارا جاتا ہے ہے سچ مچ وہ مشکلوں کو حل کرنے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے تمام نام صرف انسانوں کے رکھے ہوئے ہیں۔ ان ناموں کا کوئی مسمّی کہیں موجود نہیں۔ ان کے حق میں نہ کوئی شرعی دلیل ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل۔ ناموں کی شریعت کی ایک قسم وہ ہے جو جاہل انسانوں کے درمیان رائج ہے۔ تاہم اس کی ایک زیادہ مہذب صورت بھی ہے جو تعليم يافته لوگوں کے درمیان مقبول ہے۔ یہاں بھی کچھ شخصیتوں کے ساتھ کچھ غیر معمولی الفاظ وابستہ کرديے جاتے ہیں۔ مثلاً قدسی صفات، محبوب خدا، ستون اسلام، نجات دہندہ ملت وغیرہ۔ اس قسم کے الفاظ دھیرے دھیرے مذکورہ شخصیتوں کے نام کا جزء بن جاتے ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں کو ویسا ہی غیر معمولی سمجھ لیتے ہیں جیسا کہ ان کو ديے ہوئے نام سے ظاہر ہوتاہے۔ جو چیز ’’باپ دادا‘‘سے چلی آرہی ہو، بالفاظ دیگر جس نے تاریخی اہمیت حاصل کرلی ہو اور طویل روایات کے نتیجہ میں جس کے ساتھ ماضی کا تقدس شامل ہوگیا ہو وہ لوگوں کی نظر میں ہمیشہ عظیم ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں ’’آج‘‘ کے داعی کی بات ہلکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ حال کے داعی کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو اعتماد ہوتاہے کہ وہ اسلام کی عظمتوں کے وارث ہیں پھر کون ان کا کچھ بگاڑ سکتاہے۔ خدا کے معاملہ ميں ڈھٹائی آدمی کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ نصیحت اور یاد دہانی کی زبان میں کوئی اصلاح قبول کرسکے۔ ایسے لوگ گویا اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا عذاب کی زبان میں ان کے سامنے ظاہر ہو۔

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

📘 قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل بڑھی اور انھوںنے زراعت اور تعمیر میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجري مکانات کی صورت دے دی۔بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جومادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی، آخرت فراموشی، حدود اللہ سے بے پروائی، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا۔اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کائنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کرکے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلانا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے ليے نااہل قرار دے دیا گیا۔ قوم ثمود کو جانچنے کے ليے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کرديے جاؤ گے۔ خدا کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لیے ایک خوفناک شیر مقرر کردے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے که آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ ’’اونٹنی‘‘ کی سطح پر لیا جاتا ہے، نہ کہ ’’شیر ‘‘ کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے، نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں كي خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جارہا ہے اور کسی کو جہنم کا۔ ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیداکیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھي یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہیے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کررکھا ہے۔

وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

📘 قوم عاد کی تباہی کے بعد اس کے صالح افراد عرب کے شمال مغرب میں حجر کے علاقہ میں آباد ہوئے۔ ان کی نسل بڑھی اور انھوںنے زراعت اور تعمیر میں بڑی ترقیاں کیں۔ انھوں نے میدانوں میں محل بنائے اور پہاڑوں کو تراش کر ان کو بڑے بڑے حجري مکانات کی صورت دے دی۔بعد کو ان میں وہ خرابیاں پیدا ہوگئیں جومادی ترقی اور دنیوی خوش حالی کے ساتھ قوموں میں پیدا ہوتی ہیں۔ عیش پرستی، آخرت فراموشی، حدود اللہ سے بے پروائی، اللہ کی بڑائی کو بھول کر اپنی بڑائی قائم کرنا۔اس وقت اللہ نے حضرت صالح کو کھڑا کیا تاکہ وہ ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈرائیں۔ مگر انھوں نے نصیحت قبول نہ کی۔ وہ اپنے فساد کو صلاح میں بدلنے پر راضی نہ ہوئے۔ جس کائنات میں تمام چیزیں خدا کی تابع بن کر رہ رہی ہیں وہاں انھوں نے خدا کا سرکش بن کر رہنا چاہا۔ جہاں ہر چیز اپنی حد کے اندر اپنا عمل کرتی ہے وہاں انھوں نے اپنی حد سے تجاوز کرکے زندہ رہنا چاہا۔ یہ ایک اصلاح یافتہ دنیا میں فساد پھیلانا تھا۔ چنانچہ ان کو دنیا میں بسنے کے ليے نااہل قرار دے دیا گیا۔ قوم ثمود کو جانچنے کے ليے خدا نے ایک اونٹنی مقرر کی اور کہا کہ اس کو تکلیف نہ پہنچانا ورنہ ہلاک کرديے جاؤ گے۔ خدا کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ ان کے لیے ایک خوفناک شیر مقرر کردے۔ مگر خدا نے شیر کے بجائے اونٹنی کو مقرر فرمایا۔ اس کا راز یہ ہے که آدمی کی خدا ترسی کا امتحان ہمیشہ ’’اونٹنی‘‘ کی سطح پر لیا جاتا ہے، نہ کہ ’’شیر ‘‘ کی سطح پر۔ سماج میں ہمیشہ کچھ ناقۃ اللہ (خدا کی اونٹنی) جیسے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ وہ کم زور افراد ہیں جن کے ساتھ وہ مادی زور نہیں ہوتا جو لوگوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ جن کے ساتھ حسن سلوک کا محرک صرف اخلاقی احساس ہوتا ہے، نہ کہ کوئی ڈر۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جن کی سطح پر لوگوں كي خدا پرستی جانچی جارہی ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ کسی کو جنت کا سرٹیفکٹ دیا جارہا ہے اور کسی کو جہنم کا۔ ثمود نے فن تعمیر میں کمال پیداکیا۔ متعلقہ علوم مثلاً ریاضی، ہندسہ، انجینئرنگ میں بھي یقیناً انھوں نے ضروری دستگاہ حاصل کی ہوگی ورنہ یہ ترقیات ممکن نہ ہوتیں۔ مگر ان کو جس بات کا مجرم ٹھہرایا گیا وہ ان کی مادی ترقیاں نہیں تھیں بلکہ زمین میں فساد پھیلانا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائز حدود میں ترقی کرنے سے خدا نہیں روکتا۔ البتہ زندگی کے معاملات میں آدمی کو اس نظام اصلاح کا پابند رہنا چاہیے جو خدا نے پوری کائنات میں قائم کررکھا ہے۔

قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحًا مُرْسَلٌ مِنْ رَبِّهِ ۚ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ مُؤْمِنُونَ

📘 پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے چنا ہے۔ ’’ہم صالح کے پیغام (إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ) پر ایمان لائے ہیں‘‘ —حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکرین نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکروں کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی، انھوںنے آپ کو نظر انداز کردیا۔ اس کے برعکس، مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں، وہ فوراً ان كے ساتھي بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔ حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے ليے اٹھے ہوں۔

قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا بِالَّذِي آمَنْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ

📘 پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے چنا ہے۔ ’’ہم صالح کے پیغام (إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ) پر ایمان لائے ہیں‘‘ —حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکرین نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکروں کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی، انھوںنے آپ کو نظر انداز کردیا۔ اس کے برعکس، مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں، وہ فوراً ان كے ساتھي بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔ حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے ليے اٹھے ہوں۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ

📘 پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے چنا ہے۔ ’’ہم صالح کے پیغام (إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ) پر ایمان لائے ہیں‘‘ —حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکرین نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکروں کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی، انھوںنے آپ کو نظر انداز کردیا۔ اس کے برعکس، مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں، وہ فوراً ان كے ساتھي بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔ حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے ليے اٹھے ہوں۔

فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ

📘 پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے چنا ہے۔ ’’ہم صالح کے پیغام (إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ) پر ایمان لائے ہیں‘‘ —حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکرین نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکروں کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی، انھوںنے آپ کو نظر انداز کردیا۔ اس کے برعکس، مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں، وہ فوراً ان كے ساتھي بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔ حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے ليے اٹھے ہوں۔

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَٰكِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ

📘 پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانہ میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں وہ پیغمبر کے پیغمبر ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جس کو ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں وہی وہ شخص ہے جس کو خدا نے اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے ليے چنا ہے۔ ’’ہم صالح کے پیغام (إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِهِ) پر ایمان لائے ہیں‘‘ —حضرت صالح کے ساتھیوں کا یہ جواب بتاتا ہے کہ ان میں اور دوسروں میں کیا فرق تھا۔ منکرین نے حضرت صالح کی شخصیت کو دیکھا اور مومنین نے آپ کے اصل پیغام کو۔ منکروں کو حضرت صالح کی شخصیت میں ظاہری عظمت دکھائی نہ دی، انھوںنے آپ کو نظر انداز کردیا۔ اس کے برعکس، مومنین نے حضرت صالح کے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں، وہ فوراً ان كے ساتھي بن گئے۔ سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ فوراً اس کو پالیتے ہیں۔ اور جو لوگ ظاہری بڑائیوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ مشتبہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں کبھی حق کا ساتھ دینے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔ حضرت صالح کی اونٹنی کو مارنے والا اگر چہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا۔ مگر یہاں اس کو پوری قوم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ’’ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کردیا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور دوسرے لوگ اس کے برے فعل پر راضی رہیں۔ تو سب کے سب اس مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔ جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو اس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔ وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اس کو سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ کی بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سچے خیر خواہ کے لیے اس کے اندر کوئی کشش نہیں ہوتی۔ البتہ ان لوگوں کی طرف وہ تیزی سے دوڑ پڑتی ہے جو اس کا استحصال کرنے کے ليے اٹھے ہوں۔

وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

📘 خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لیے نصیحت بنتی ہے، جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ كيے ہوئے ہوں۔ بقیہ لوگوں کے ليے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرارہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کررہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے ليے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتی کہ وہ اس کو رد کرنے کے ليے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لوہے اور پـتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعیٔ حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔ دنیا میں جو چیزیںکسی کو باوزن بناتی ہیں وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہانے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو گئی ہو۔ چوں کہ حق کے داعی کے ساتھ عام طورپر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس ليے دنیاکے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پردوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ

📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔ کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔ حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔ حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔

إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ ۚ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ

📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔ کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔ حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔ حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوهُمْ مِنْ قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ

📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔ کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔ حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔ حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔

فَأَنْجَيْنَاهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ

📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔ کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔ حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔ حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ

📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔ کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔ حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔ حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ

📘 حضرت ابراہیم کے ایک صاحب زادہ مدیان تھے جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوئے۔ اہل مدین انھیں کی نسل سے تھے۔ یہ قوم بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھی۔ یہ لوگ خدا کو ماننے والے تھے اور اپنے کو دین ابراہیمی کا حامل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے پانچ سو سال بعد ان کے اندر بگاڑ آگیا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اظہار اسی پہلو سے ہوا۔ وہ ناپ تول اور لین دین میں دیانت داری کے اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہے۔ دوسرے سے معاملہ کرنے میں بے انصافی خداکے قائم کردہ نظام اصلاح کے خلاف ہے۔ خدانے اپنی دنیا کا نظام کامل انصاف پر قائم کیاہے۔ یہاںکوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لیتے وقت دوسرے سے زیادہ لے اوردیتے وقت دوسرے کو کم دے۔ یہاںہرچیز حسابی صحت کی حد تک انصاف کے اصول پر قائم ہے۔ ایسی حالت میںانسان کو بھی وہی کرنا چاہیے جو اس کے گرد وپیش کی ساری کائنات کررہی ہے۔ ایسا نہ کرنا خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرنا ہے۔ اہلِ مدین کا معاملاتی بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو خدا نے حضرت شعیب کو ان کی طرف اپنا پیغام لے کر بھیجا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ معاملات میں راستی اور دیانت داری کا طریقہ اختیار کرو۔ آپ نے کھلے کھلے دلائل کے ذریعے ان کو آخری حد تک باخبر کردیا۔ مگر وہ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ حتی کہ ان کا حال یہ ہوا کہ خود حضرت شعیب کی دعوت کو مٹانے پر تل گئے۔ وہ آپ کی باتوں میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو آپ کے بارے میں غلط فہمی میں ڈالتے۔ وہ جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے کوشش کرتے کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ دیں۔ بالآخر ان پر خدائی عذاب آیا اور وہ تباہ کرديے گئے۔ بندوں کے حقوق کی رعایت اور باہمی معاملات کی درستگی خدا کی نظر میں اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کی مخالفت پر ایک قوم، ایمان کے دعوے دار ہونے کے باوجود تباہ کردی گئی۔ خدا بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور بہتر فیصلہ جانب داری کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا بے کلمہ والوں کو ان کی بے انصافی پر پکڑے اور کلمہ والوں کو ٹھیک اسی بے انصافی پر چھوڑدے۔

وَلَا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِهِ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ وَاذْكُرُوا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيلًا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ

📘 حضرت ابراہیم کے ایک صاحب زادہ مدیان تھے جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوئے۔ اہل مدین انھیں کی نسل سے تھے۔ یہ قوم بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھی۔ یہ لوگ خدا کو ماننے والے تھے اور اپنے کو دین ابراہیمی کا حامل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے پانچ سو سال بعد ان کے اندر بگاڑ آگیا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اظہار اسی پہلو سے ہوا۔ وہ ناپ تول اور لین دین میں دیانت داری کے اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہے۔ دوسرے سے معاملہ کرنے میں بے انصافی خداکے قائم کردہ نظام اصلاح کے خلاف ہے۔ خدانے اپنی دنیا کا نظام کامل انصاف پر قائم کیاہے۔ یہاںکوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لیتے وقت دوسرے سے زیادہ لے اوردیتے وقت دوسرے کو کم دے۔ یہاںہرچیز حسابی صحت کی حد تک انصاف کے اصول پر قائم ہے۔ ایسی حالت میںانسان کو بھی وہی کرنا چاہیے جو اس کے گرد وپیش کی ساری کائنات کررہی ہے۔ ایسا نہ کرنا خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرنا ہے۔ اہلِ مدین کا معاملاتی بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو خدا نے حضرت شعیب کو ان کی طرف اپنا پیغام لے کر بھیجا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ معاملات میں راستی اور دیانت داری کا طریقہ اختیار کرو۔ آپ نے کھلے کھلے دلائل کے ذریعے ان کو آخری حد تک باخبر کردیا۔ مگر وہ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ حتی کہ ان کا حال یہ ہوا کہ خود حضرت شعیب کی دعوت کو مٹانے پر تل گئے۔ وہ آپ کی باتوں میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو آپ کے بارے میں غلط فہمی میں ڈالتے۔ وہ جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے کوشش کرتے کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ دیں۔ بالآخر ان پر خدائی عذاب آیا اور وہ تباہ کرديے گئے۔ بندوں کے حقوق کی رعایت اور باہمی معاملات کی درستگی خدا کی نظر میں اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کی مخالفت پر ایک قوم، ایمان کے دعوے دار ہونے کے باوجود تباہ کردی گئی۔ خدا بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور بہتر فیصلہ جانب داری کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا بے کلمہ والوں کو ان کی بے انصافی پر پکڑے اور کلمہ والوں کو ٹھیک اسی بے انصافی پر چھوڑدے۔

وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَائِفَةٌ لَمْ يُؤْمِنُوا فَاصْبِرُوا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ

📘 حضرت ابراہیم کے ایک صاحب زادہ مدیان تھے جو آپ کی تیسری بیوی قطورہ سے پیدا ہوئے۔ اہل مدین انھیں کی نسل سے تھے۔ یہ قوم بحر احمر کے عرب ساحل پر آباد تھی۔ یہ لوگ خدا کو ماننے والے تھے اور اپنے کو دین ابراہیمی کا حامل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے پانچ سو سال بعد ان کے اندر بگاڑ آگیا۔ یہ ایک تجارت پیشہ قوم تھی اور اس کے بگاڑ کا سب سے زیادہ اظہار اسی پہلو سے ہوا۔ وہ ناپ تول اور لین دین میں دیانت داری کے اصولوں پر پوری طرح قائم نہیں رہے۔ دوسرے سے معاملہ کرنے میں بے انصافی خداکے قائم کردہ نظام اصلاح کے خلاف ہے۔ خدانے اپنی دنیا کا نظام کامل انصاف پر قائم کیاہے۔ یہاںکوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لیتے وقت دوسرے سے زیادہ لے اوردیتے وقت دوسرے کو کم دے۔ یہاںہرچیز حسابی صحت کی حد تک انصاف کے اصول پر قائم ہے۔ ایسی حالت میںانسان کو بھی وہی کرنا چاہیے جو اس کے گرد وپیش کی ساری کائنات کررہی ہے۔ ایسا نہ کرنا خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپا کرنا ہے۔ اہلِ مدین کا معاملاتی بگاڑ جب بہت بڑھ گیا تو خدا نے حضرت شعیب کو ان کی طرف اپنا پیغام لے کر بھیجا۔ آپ نے ان کو بتایا کہ معاملات میں راستی اور دیانت داری کا طریقہ اختیار کرو۔ آپ نے کھلے کھلے دلائل کے ذریعے ان کو آخری حد تک باخبر کردیا۔ مگر وہ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ حتی کہ ان کا حال یہ ہوا کہ خود حضرت شعیب کی دعوت کو مٹانے پر تل گئے۔ وہ آپ کی باتوں میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو آپ کے بارے میں غلط فہمی میں ڈالتے۔ وہ جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے کوشش کرتے کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ دیں۔ بالآخر ان پر خدائی عذاب آیا اور وہ تباہ کرديے گئے۔ بندوں کے حقوق کی رعایت اور باہمی معاملات کی درستگی خدا کی نظر میں اتنی زیادہ اہم ہے کہ اس کی مخالفت پر ایک قوم، ایمان کے دعوے دار ہونے کے باوجود تباہ کردی گئی۔ خدا بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور بہتر فیصلہ جانب داری کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ممکن نہیں کہ خدا بے کلمہ والوں کو ان کی بے انصافی پر پکڑے اور کلمہ والوں کو ٹھیک اسی بے انصافی پر چھوڑدے۔

۞ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ

📘 حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔ کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔

قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُمْ بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُودَ فِيهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ

📘 حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔ کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ

📘 خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لیے نصیحت بنتی ہے، جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ كيے ہوئے ہوں۔ بقیہ لوگوں کے ليے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرارہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کررہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے ليے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتی کہ وہ اس کو رد کرنے کے ليے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لوہے اور پـتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعیٔ حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔ دنیا میں جو چیزیںکسی کو باوزن بناتی ہیں وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہانے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو گئی ہو۔ چوں کہ حق کے داعی کے ساتھ عام طورپر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس ليے دنیاکے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پردوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔

وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ

📘 حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔ کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔

فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ

📘 حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔ کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔

الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ

📘 حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔ کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ

📘 حضرت شعیب کی قوم خدا کے انکار کی مجرم نہ تھی بلکہ خدا پر افتراء کرنے کی مجرم تھی۔ یعنی اس نے خدا کی طرف ایک ایسے دین کو منسوب کررکھا تھا جس کو خدا نے ان کے ليے اتارا نہ تھا۔ یہی تمام انبیاء کی قوموں کا حال رہا ہے۔ انبیاء کی قومیں سب وہی تھی جن پر اس سے پہلے خدانے اپنا دین اتارا تھا مگر بعد کو انھوںنے خود ساختہ تبدیلیوں اور اضافوں کے ذریعہ اس کو کچھ سے کچھ کردیا۔ انھوں نے خدا کے دین کو اپنی خواہشات کا دین بنا ڈالا اور اسی کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وقت کے قائم شدہ دین میں جن لوگوں کو عزت اور بڑائی کا مقام ملا ہوا تھا انھوںنے محسوس کیا کہ دلیل کے اعتبار سے ان کے پاس پیغمبر کی باتوں کا توڑ نہیں ہے۔ تاہم اقتدار کے ذرائع سب انھیں کے پاس تھے۔ انھوں نے دلیل کے ميدان میں اپنے کو لاجواب پاکر یہ چاہا کہ زور وقوت کے ذریعہ وہ پیغمبر کو خاموش کردیں۔ انھوں نے پیغمبر کے ساتھیوں کو اس نازک صورت حال کی یاد لائی کہ وقت کے نظام میں زندگی کے تمام سرے انھیں لوگوں کے پاس ہیں جن کو وہ باطل ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ باطل لوگ اگر ان کے خلاف متحرک ہوجائیں تو اس کے بعد وہ زندگی کے ذرائع کہاں پائیں گے۔ مگر وہ بھول گئے کہ خداا ن سے بھی زیادہ طاقت ور ہے۔ اور خدا جس کے خلاف ہوجائے اس کے ليے کہیں جائے پناہ نہیں۔ کسی شخص کے ليے صرف اس وقت تک چھوٹ ہے جب تک اس پر امر حق واضح نہ ہوا ہو۔ امر حق جب بخوبی طورپر واضح ہوجائے اور اس کے بعد بھی آدمی سرکشی کرے تو وہ ہمدردی کا استحقاق کھو دیتا ہے۔ اسی بنیادپر دنیا میں بھی کسی مجرم کے ليے سزا ہے اور اسی بنیاد پر آخرت میں بھی لوگوں کے لیے ان کے جرم کے مطابق سزا کا فیصلہ ہوگا۔

وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ

📘 حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوْا وَقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

📘 حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ

📘 حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔

أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ

📘 حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔

أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَنْ يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ

📘 حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔

أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ

📘 حدیث میں آیا ہے کہ مومن پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ یہاںتک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتاہے۔ اور منافق کی مثال گدھے کی طرح ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے مالک نے کس ليے اس کو باندھا اور کیوں اس کو چھوڑ دیا (لَا يَزَال الْبَلَاء بِالْمُؤْمِنِ حَتَّى يَخْرُج نَقِيًّا مِنْ ذُنُوبه وَالْمُنَافِق مَثَله كَمَثَلِ الْحِمَار لَا يَدْرِي فِيمَ رَبَطَهُ أَهْله وَلَا فِيمَ أَرْسَلُوهُ )تفسیر ابن کثیر، جلد3، صفحہ 450۔ خدا انسان کے اوپر مختلف قسم کی تکلیفیں ڈالتا ہے تاکہ اس کا دل نرم ہو۔ خدا کے سوا دوسری چیزوں پر اس کا اعتماد ٹوٹ جائے، اس کا وہ گھمنڈ جاتا رہے جو آدمی کے ليے اپنے سے باہر کسی سچائی کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس طرح خدائی انتظام کے تحت آدمی کے اندر کمی اور بے چارگی کی نفسیات پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ حق کی آواز پر کان لگائے۔ خدا کا یہ معاملہ عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتاہے اور پیغمبر کے مخاطب گروہ کے ساتھ بھی۔ تاہم یہ معاملہ سنت الٰہی کے تحت التباس واشتباہ کے پردہ میں ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آفت آتی ہے تو وہ اسباب وعلل کے روپ میں آتی ہے۔ یہ صورت حال بہت سے لوگوں کے ليے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ یہ تو ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی۔ پھر جب وہ مصیبتوں سے اثر نہیں لیتے تو خدا ان کے حالات بدل کر ان کو خوش حالی میں مبتلا کردیتا ہے۔ اب اس قسم کے لوگ اور بھی زیادہ مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ ان کو یقین ہوجاتاہے کہ یہ محض حوادث روزگار کی بات تھی۔یہ وہی عام اتار چڑھاؤ تھا جو ہمیشہ لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہم کو برے دن کے بعد اچھے دن دیکھنے کو ملے۔ وہ پہلی تنبیہ سے بھی سبق لینے سے محروم رہتے ہیں اور دوسری تنبیہ سے بھی۔ سرکشی کے بعد کسی کو ترقی ملنا سخت خطرناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا نے اس کو ایسی حالت میں پکڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جب کہ وہ اپنے پکڑے جانے کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بے خوف ہوچکا ہو۔ ایمان اور تقویٰ کی زندگی کا فائدہ اگر چہ اصلاً آخرت میں ملنے والا ہے۔ تاہم خدا اگر چاہتا ہے تو دنیا میں بھی وہ ایسے لوگوں کو فراخی اور عزت کی صورت میں ان کے عمل کا ابتدائی انعام دے دیتا ہے۔