WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الإسراء

(Al-Isra) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

📘 ہجرت سے ایک سال پہلے مکہ کے حالات بے حد سخت تھے۔ ایسا معلوم ہوتاتھا کہ اسلام کی تاریخ بننے سے پہلے ختم ہوجائے گی۔عین اس وقت اللہ نے پیغمبر اسلام کو ایک عظیم نشانی دکھائی۔ یہ نشانی اس حقیقت کا محسوس مظاہرہ تھا کہ اسلام کی تاریخ نہ صرف یہ کہ اپنی تکمیل تک پہنچے گی۔ بلکہ اس کے گرد ایسے عملی حالات جمع کيے جائیں گے کہ وہ ابدی طورپر زندہ اور محفوظ رہے۔ کیوں کہ اب اسی کو قیامت تک تمام قوموں کے لیے خدا کے دین کا مستند ماخذ قرار پانا ہے۔ اللہ اپنے خصوصی اہتمام کے تحت پیغمبر اسلام کو مکہ سے فلسطین (بیت المقدس) لے گیا۔ یہ جسمانی یا روحانی سفرآپ کے سفر معراج کی پہلی منزل تھی۔ یہاں بیت المقدس میں پچھلے تمام پیغمبر بھی جمع تھے۔ ان سب نے مل کر با جماعت نماز ادا کی اور پیغمبر اسلام نے آگے کھڑے ہو کر ان سب کی امامت فرمائی۔ آپ کی امامت کا یہ واقعہ گویا اس خدائی فیصلہ کی ایک علامت تھا کہ پچھلی تمام نبوتیں اب ہدایتِ الٰہی کے مستند ماخذ کی حیثیت سے منسوخ کردی گئیں۔ اب خدائی ہدایت کو جاننے کے لیے تمام قوموں کو پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے دین کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس اہم تقریب کو انجام دینے کے لیے فلسطین موزوں ترین جگہ تھی۔ فلسطین پچھلے اکثر انبیاء کا مرکزِ دعوت رہاہے۔ اس لیے خدا نے اپنے اس فیصلہ کے اظہار کے لیے اسی خاص علاقہ کا انتخاب فرمایا۔

وَأَنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 قرآن تمام انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک خدا کو مان کر اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے زیادہ صحیح، جس سے زیادہ معقول اور جس سے زیادہ مطابقِ فطرت بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ توحید بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی صداقت۔ توحید کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ یہی تمام انسانوں کے لیے جانچ کا معیار ہو۔ اسی کی بنیاد پر کسی کو صحیح قرار دیا جائے اور کسی کو غلط۔ کوئی کامیاب ٹھہرے اور کوئی ناکام۔ موجودہ دنیا میں بظاہر یہ معیار سامنے نہیں آتا اور اس کی بنیاد پر انسانوں کی عملی تقسیم نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف خدا کے قانون امتحان کی وجہ سے ہے۔ انفرادی طورپر موت اور اجتماعی طورپر قیامت اس مدت امتحان کی آخری حد ہے۔ یہ حد آتے ہی انسان دو گروہوں کی صورت میں الگ الگ کردئے جائیں گے۔ توحید کے راستہ کو اختیار کرنے والے اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے اور اس کو اختیار نہ کرنے والے اپنے آپ کو جہنم میں۔

قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذًا لَأَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا

📘 انسان تنگ ظرف واقع ہوا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرف کو اپنے لیے یا اپنے گروہ کے لیے جمع کرلینا چاہتا ہے۔ اگر نعمتوں کی تقسیم انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو جن لوگوں کے پاس دولت وعظمت آگئی تھی وہی نبوت کو بھی اپنے پاس جمع کرلیتے۔ وہ اس کو دوسروں کے پاس جانے نہ دیتے۔ مگر خدا معاملات کو جوہر کے اعتبار سے دیکھتا ہے، نہ کہ گروہی تعصبات کی نظر سے۔ وہ تمام انسانوں پر نظر ڈالتا ہے۔ اور پوری نسل میں جو سب سے بہتر انسان ہوتاہے اس کو نبوت کے لیے چن لیتاہے۔ نبوت کا انتخاب اگر انسان کرنے لگیں تو یہاں بھی وہی کیفیت پیدا ہوجائے جو انسانی اداروں میں جانب داری کی وجہ سے نا اہل انسانوں کی بھیڑ کی صورت میں نظر آتی ہے۔

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُورًا

📘 فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔ حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنْزَلَ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا

📘 فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔ حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔

فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَفِزَّهُمْ مِنَ الْأَرْضِ فَأَغْرَقْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ جَمِيعًا

📘 فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔ حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔

وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا

📘 فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔ حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔

وَبِالْحَقِّ أَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

📘 قرآن بے آمیز سچائی کا اعلان ہے۔ مگر بے آمیز سچائی ہمیشہ لوگوں کے لیے سب سے کم قابل قبول چیز ہوتی ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے داعی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ وہ لوگوں کو ضرور منوالے۔ داعی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کامل طورپر سچائی کا اعلان کردے۔ قرآن میں مخاطب کی آخری حد تک رعایت کی گئی ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس کو خوب سمجھتے جائیں۔ وہ آہستہ آہستہ ان کے فکر وعمل کا جزء بنتا چلا جائے۔

وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَىٰ مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا

📘 قرآن بے آمیز سچائی کا اعلان ہے۔ مگر بے آمیز سچائی ہمیشہ لوگوں کے لیے سب سے کم قابل قبول چیز ہوتی ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے داعی پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی کہ وہ لوگوں کو ضرور منوالے۔ داعی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کامل طورپر سچائی کا اعلان کردے۔ قرآن میں مخاطب کی آخری حد تک رعایت کی گئی ہے۔ اسی مصلحت کی بنا پر قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا گیا ہے۔ تاکہ جو لوگ سمجھنا چاہتے ہیں وہ اس کو خوب سمجھتے جائیں۔ وہ آہستہ آہستہ ان کے فکر وعمل کا جزء بنتا چلا جائے۔

قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا ۚ إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا

📘 خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔ تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔

وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا

📘 خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔ تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔

وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩

📘 خدا کا کلام انسان سے عجزو تواضع کا تقاضا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں خدا اپنا کلام خود سنانے نہیں آتا۔ وہ ایک ’’انسان‘‘ کی زبان سے اپنا کلام جاری کراتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے اندر کبر کی نفسیات لیے ہوئے ہیں، وہ اس کے آگے جھکنے کو ایک انسان کے آگے جھکنے کے ہم معنی بنا لیتے ہیں اور اس بنا پر اس کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ کبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ خدا کے کلام کو بس خدا کے کلام کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کو انسان کی زبان سے جاری ہونے والے کلام میں خدا کی جھلکیاں نظر آجاتی ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ خدا سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ وہ خداکی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے عجز کو اور اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کی بڑائی کو پالیتے ہیں۔ یہ احساس ان کے سینے کو پگھلادیتا ہے۔ وہ روتے ہوئے اس کے آگے سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ پہلی قسم کے آدمیوں کی مثال قریش کے سرداروں کی ہے۔ اور دوسری قسم کے آدمیوں کی مثال اہلِ کتاب کے ان مومنین کی جو دورِ اول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ اس آیت میں بظاہر صالحین اہلِ کتاب کا ذکر ہے۔ انھوں نے قدیم آسمانی صحیفوں میں پڑھا تھا کہ ایک آخری پیغمبر آنے والے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لائیں گے اور ان کا ساتھ دیں گے وہ خدا کی خصوصی رحمت کے مستحق قرار پائیںگے۔ اس بنا پر وہ اس آخری نبی کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ یہ انتظار اتنا شدید تھا کہ جب وہ پیغمبر آیا تو انھوں نے فوراً اس کو پہچان لیا۔ ان کا یہ حال ہوا کہ اس پیغمبر کی لائی ہوئی کتاب (قرآن) کو جب وہ پڑھتے تو شدت احساس سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور وہ روتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گرجاتے۔ تاہم یہ صرف اہلِ کتاب کے ایک گروہ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ سارے انسانوں کا معاملہ ہے۔ ہرانسان کے اندر خدا نے پیشگی طورپر حق کی معرفت رکھ دی ہے، گویا کہ ہر انسان پہلے ہی سے خدائی سچائی کا منتظر ہے۔ اب جو لوگ اپنی اس فطرت کو زندہ رکھیں ان کا وہی حال ہوگا جو سابق اہل کتاب کا ہوا۔ وہ اپنی فطرت کے زندہ شعور کی بناپر خدائی سچائی کو پہچان لیں گے اور دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کی طرف بے تابانہ دوڑ پڑیںگے۔

وَيَدْعُ الْإِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ ۖ وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا

📘 رات اور دن کا نظام بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تاریکی ہو اور اس کے بعد روشنی آئے۔ خدائی نقشہ میں دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ جس طرح روشنی میں فائدے ہیں اسی طرح تاریکی میں بھی فائدے ہیں۔ دنیا میں اگر رات اور دن کافرق نہ ہو تو آدمی اپنے اوقات کی تقسیم کس طرح کرے۔ وہ اپنے کام اور آرام کا نظام کس طرح بنائے۔ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’تاریکی‘‘ سے گھبرائے اور صرف ’’روشنی‘‘ کا طالب بن جائے۔ کیوں کہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جو آدمی ایسا چاہتا ہو اس كو خدا کی دنیا چھوڑ کر اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرنی پڑے گی۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی انسان کی سب سے بڑی كمزوري ہے۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو تاریکی کا مرحلہ پیش نہ آئے اور فوراً ہی اس کو روشنی حاصل ہوجائے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو عجلت (جلدبازي) کہاجاتا ہے۔ عجلت دراصل خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونے کا دوسرا نام ہے۔ اور خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونا ہی تمام انسانی بربادیوں کا اصل سبب ہے۔ خدا چاہتاہے کہ انسان دنیا کی فوری لذتوں پر صبر کرے تاکہ وہ آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ مگر انسان اپنی عجلت کی وجہ سے دنیا کی وقتی لذتوں پر ٹوٹ پڑتاہے۔ وہ آگے کی طرف اپنا سفر طے نہیں کرپاتا۔ آدمی کی عاجلہ(دنيا) پسندی اس کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہی دنیا کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بھی حقیقی کامیابی صبر سے ملتی ہے نہ کہ جلد بازی سے۔یہود کو ان کے پیغمبر یرمیاہ نے نصيحت کی کہ تم بابل کے حکمراں کے سیاسی غلبہ کو فی الحال تسلیم کرلو اور ابتدائی مرحلہ میںاپنی کوششوں کو صرف دعوتی اور تعمیری میدان میں لگاؤ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے غلبہ اور اقتدار کی راہیں کھول دے۔ مگر یہود کی عجلت پسندی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے چاہا کہ ’’تاریکی‘‘ کے مرحلہ سے گزرے بغیر وه ’’روشنی‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوجائیں۔ انھوںنے فوراً شاہ بابل کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کردی۔ چوں کہ خداکے نظام میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، ان کے حصہ میں ذلّت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔

قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

📘 جو لوگ سچائی کو گہرائی کے ساتھ پائے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ ظاہری چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا کو اِس لفظ سے پکارنا افضل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اُس لفظ سے۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں عبادتی فعل زور سے ادا کرنا چاہیے اور کوئی کہتا ہے کہ دھیرے دھیرے سے۔ عرب میں بھی اس قسم کی بحثیں مختلف اندازسے جاری تھیں ۔ فرمایا کہ خدا کو جس بہتر نام سے پکارو و ہ اسی کا نام ہے۔ اسی طرح عبادت کے بارے میں فرمایا کہ خدا کی عبادت کی ادائگی کا انحصار نہ زور سے بولنے پر ہے اور نہ دھیرے بولنے پر۔ تم عبادت کی اصل روح اپنے اندر پیدا کرو اور ا س کی ادائيگی میں اعتدال سے کام لو۔ عبادت کی روح یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی کا کامل احساس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے۔ اللہ پر ایمان اس کے لیے ایسی کامل اور عظیم ہستی کی دریافت کے ہم معنی بن جائے جس کو کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہ ہو، جس کا کوئی شریک اور برابر نہ ہو۔ جس پر کبھی کوئی ایسا حادثہ نہ گزرتا ہو جب کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ یافت جب لفظوں کی صورت میں ڈھل کر زبان سے نکلنے لگے تو اسی کا نام تکبیر ہے۔

وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا

📘 جو لوگ سچائی کو گہرائی کے ساتھ پائے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ ظاہری چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا کو اِس لفظ سے پکارنا افضل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اُس لفظ سے۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں عبادتی فعل زور سے ادا کرنا چاہیے اور کوئی کہتا ہے کہ دھیرے دھیرے سے۔ عرب میں بھی اس قسم کی بحثیں مختلف اندازسے جاری تھیں ۔ فرمایا کہ خدا کو جس بہتر نام سے پکارو و ہ اسی کا نام ہے۔ اسی طرح عبادت کے بارے میں فرمایا کہ خدا کی عبادت کی ادائگی کا انحصار نہ زور سے بولنے پر ہے اور نہ دھیرے بولنے پر۔ تم عبادت کی اصل روح اپنے اندر پیدا کرو اور ا س کی ادائيگی میں اعتدال سے کام لو۔ عبادت کی روح یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی کا کامل احساس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے۔ اللہ پر ایمان اس کے لیے ایسی کامل اور عظیم ہستی کی دریافت کے ہم معنی بن جائے جس کو کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہ ہو، جس کا کوئی شریک اور برابر نہ ہو۔ جس پر کبھی کوئی ایسا حادثہ نہ گزرتا ہو جب کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ یافت جب لفظوں کی صورت میں ڈھل کر زبان سے نکلنے لگے تو اسی کا نام تکبیر ہے۔

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا

📘 رات اور دن کا نظام بتاتا ہے کہ خدا کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تاریکی ہو اور اس کے بعد روشنی آئے۔ خدائی نقشہ میں دونوں یکساں طورپر ضروری ہیں۔ جس طرح روشنی میں فائدے ہیں اسی طرح تاریکی میں بھی فائدے ہیں۔ دنیا میں اگر رات اور دن کافرق نہ ہو تو آدمی اپنے اوقات کی تقسیم کس طرح کرے۔ وہ اپنے کام اور آرام کا نظام کس طرح بنائے۔ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ’’تاریکی‘‘ سے گھبرائے اور صرف ’’روشنی‘‘ کا طالب بن جائے۔ کیوں کہ خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جو آدمی ایسا چاہتا ہو اس كو خدا کی دنیا چھوڑ کر اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کرنی پڑے گی۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی انسان کی سب سے بڑی كمزوري ہے۔ وہ ہمیشہ یہ چاہتا ہے کہ اس کو تاریکی کا مرحلہ پیش نہ آئے اور فوراً ہی اس کو روشنی حاصل ہوجائے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو عجلت (جلدبازي) کہاجاتا ہے۔ عجلت دراصل خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونے کا دوسرا نام ہے۔ اور خداوندی منصوبہ پر راضی نہ ہونا ہی تمام انسانی بربادیوں کا اصل سبب ہے۔ خدا چاہتاہے کہ انسان دنیا کی فوری لذتوں پر صبر کرے تاکہ وہ آخرت کی طرف اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ مگر انسان اپنی عجلت کی وجہ سے دنیا کی وقتی لذتوں پر ٹوٹ پڑتاہے۔ وہ آگے کی طرف اپنا سفر طے نہیں کرپاتا۔ آدمی کی عاجلہ(دنيا) پسندی اس کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہی دنیا کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بھی حقیقی کامیابی صبر سے ملتی ہے نہ کہ جلد بازی سے۔یہود کو ان کے پیغمبر یرمیاہ نے نصيحت کی کہ تم بابل کے حکمراں کے سیاسی غلبہ کو فی الحال تسلیم کرلو اور ابتدائی مرحلہ میںاپنی کوششوں کو صرف دعوتی اور تعمیری میدان میں لگاؤ۔ اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا جب کہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے غلبہ اور اقتدار کی راہیں کھول دے۔ مگر یہود کی عجلت پسندی اس پر راضی نہیں ہوئی۔ انھوں نے چاہا کہ ’’تاریکی‘‘ کے مرحلہ سے گزرے بغیر وه ’’روشنی‘‘ کے مرحلہ میں داخل ہوجائیں۔ انھوںنے فوراً شاہ بابل کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کردی۔ چوں کہ خداکے نظام میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، ان کے حصہ میں ذلّت اور رسوائی کے سوا اور کچھ نہ آیا۔

وَكُلَّ إِنْسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنْشُورًا

📘 قدیم زمانہ میں توہم پرست لوگ اکثر چڑیوں کے اڑنے سے یا ستاروں کی گردش سے یا طرح طرح کے فال سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس قسم کے توہمات پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی اپنی قسمت کے معاملہ کو کسی نہ کسی پر اسرار سبب کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خارجی عامل ہے جو اس سلسلے میں اصل موثر حیثیت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ تمھاری قسمت نہ چڑیوں اور ستاروں کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ کسی دوسری خارجی چیز سے اس کا تعلق ہے۔ ہر آدمی کی قسمت کا معاملہ تمام تر اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔ ہر آدمی جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے وہ اس کے اپنے وجود کے ساتھ نقش ہورہا ہے۔ آدمی اس کو قیامت کے دن ایک ایسی ڈائری کی صورت میں لکھا ہواپائے گا جس میں ہر چھوٹی اور بڑی چیز درج ہو۔ خدا نے قوموں کے درمیان رسول کھڑے کيے اور کتاب اتاری۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ لوگوں کو آنے والے سخت دن سے پہلے اس کی خبر ہوجائے۔ اب یہ ہر آدمی کے اپنے فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ زندگی کے اگلے مستقل مرحلہ میں وہ اپنا کیا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہدایت کے طریقہ پر چل کر جنت میں پہنچنا چاہتا ہے یا ہدایت کے طریقہ کو چھوڑ کر جہنم میں گرنے کا سامان کررہا ہے۔

اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا

📘 قدیم زمانہ میں توہم پرست لوگ اکثر چڑیوں کے اڑنے سے یا ستاروں کی گردش سے یا طرح طرح کے فال سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس قسم کے توہمات پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی اپنی قسمت کے معاملہ کو کسی نہ کسی پر اسرار سبب کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خارجی عامل ہے جو اس سلسلے میں اصل موثر حیثیت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ تمھاری قسمت نہ چڑیوں اور ستاروں کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ کسی دوسری خارجی چیز سے اس کا تعلق ہے۔ ہر آدمی کی قسمت کا معاملہ تمام تر اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔ ہر آدمی جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے وہ اس کے اپنے وجود کے ساتھ نقش ہورہا ہے۔ آدمی اس کو قیامت کے دن ایک ایسی ڈائری کی صورت میں لکھا ہواپائے گا جس میں ہر چھوٹی اور بڑی چیز درج ہو۔ خدا نے قوموں کے درمیان رسول کھڑے کيے اور کتاب اتاری۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ لوگوں کو آنے والے سخت دن سے پہلے اس کی خبر ہوجائے۔ اب یہ ہر آدمی کے اپنے فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ زندگی کے اگلے مستقل مرحلہ میں وہ اپنا کیا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہدایت کے طریقہ پر چل کر جنت میں پہنچنا چاہتا ہے یا ہدایت کے طریقہ کو چھوڑ کر جہنم میں گرنے کا سامان کررہا ہے۔

مَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبْعَثَ رَسُولًا

📘 قدیم زمانہ میں توہم پرست لوگ اکثر چڑیوں کے اڑنے سے یا ستاروں کی گردش سے یا طرح طرح کے فال سے اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اس قسم کے توہمات پر یقین نہیں رکھتے وہ بھی اپنی قسمت کے معاملہ کو کسی نہ کسی پر اسرار سبب کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی خارجی عامل ہے جو اس سلسلے میں اصل موثر حیثیت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ تمھاری قسمت نہ چڑیوں اور ستاروں کے ساتھ وابستہ ہے اور نہ کسی دوسری خارجی چیز سے اس کا تعلق ہے۔ ہر آدمی کی قسمت کا معاملہ تمام تر اس کے اپنے عمل پر منحصر ہے۔ ہر آدمی جو کچھ سوچتا یا کرتا ہے وہ اس کے اپنے وجود کے ساتھ نقش ہورہا ہے۔ آدمی اس کو قیامت کے دن ایک ایسی ڈائری کی صورت میں لکھا ہواپائے گا جس میں ہر چھوٹی اور بڑی چیز درج ہو۔ خدا نے قوموں کے درمیان رسول کھڑے کيے اور کتاب اتاری۔ اس نے ایسا اس لیے کیا تا کہ لوگوں کو آنے والے سخت دن سے پہلے اس کی خبر ہوجائے۔ اب یہ ہر آدمی کے اپنے فیصلہ کرنے کی بات ہے کہ زندگی کے اگلے مستقل مرحلہ میں وہ اپنا کیا انجام دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ ہدایت کے طریقہ پر چل کر جنت میں پہنچنا چاہتا ہے یا ہدایت کے طریقہ کو چھوڑ کر جہنم میں گرنے کا سامان کررہا ہے۔

وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيرًا

📘 کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا سربرآوردہ طبقہ ہوتاہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتاہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوںپر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کي اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک کی قوموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک کی تاریخ اس عام اصول کی صحت کی تصدیق کرے گی۔ اسی عام حکم میں قوم کے ان ’’بڑوں‘‘ کا معاملہ بھی شامل ہے جو قوم کو اپنی قیادت کی شکار گاہ بناتے ہیں، اور اس طرح اس کی غلط رہنمائی کرکے اس کی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ وہ قوم کو حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا درس دیتے ہیں۔ اس کو معانی کے بجائے الفاظ کے طلسم میں گم کرتے ہیں۔ اس کو سنجیدگی کے بجائے تخیلات کی فضا میں اڑاتے ہیں۔ وہ اس کو حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے خوش خیالیوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ قوم کو خدا کے بجائے غیر خدا کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔ جب کسی قوم پر اس قسم کے رہنما چھا جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے یہاں سے اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس قسم کا ہر واقعہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتاہے۔ اور کسی شخص یا قوم کا کوئی عمل خدا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔

وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِنْ بَعْدِ نُوحٍ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

📘 کسی قوم کی اصلاح یا کسی قوم کے بگاڑ کا معیار اس قوم کا سربرآوردہ طبقہ ہوتاہے۔ یہی طبقہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا مالک ہوتاہے۔ یہی طبقہ اپنے وسائل کے ذریعے لوگوںپر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی طبقہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی گروہ کے اوپر قائد بننے کی قیمت ادا کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کي اصلاح پوری قوم کی اصلاح ہے اور کسی قوم کے سربرآوردہ طبقہ کا بگاڑ پوری قوم کا بگاڑ۔ حضرت نوح کے زمانہ سے لے کر اب تک کی قوموں کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک کی تاریخ اس عام اصول کی صحت کی تصدیق کرے گی۔ اسی عام حکم میں قوم کے ان ’’بڑوں‘‘ کا معاملہ بھی شامل ہے جو قوم کو اپنی قیادت کی شکار گاہ بناتے ہیں، اور اس طرح اس کی غلط رہنمائی کرکے اس کی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں۔ وہ قوم کو حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت کا درس دیتے ہیں۔ اس کو معانی کے بجائے الفاظ کے طلسم میں گم کرتے ہیں۔ اس کو سنجیدگی کے بجائے تخیلات کی فضا میں اڑاتے ہیں۔ وہ اس کو حقائق کا اعتراف کرنے کے بجائے خوش خیالیوں میں جینا سکھاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ قوم کو خدا کے بجائے غیر خدا کی طرف متوجہ کردیتے ہیں۔ جب کسی قوم پر اس قسم کے رہنما چھا جائیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کے یہاں سے اس قوم کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس قسم کا ہر واقعہ خدا کی اجازت کے تحت ہوتاہے۔ اور کسی شخص یا قوم کا کوئی عمل خدا سے چھپا ہوا نہیں ہے۔

مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا

📘 موجودہ دنیا میں آدمی دو راستوں کے درمیان ہے ایک کا فائدہ نقد ملتاہے اور دوسرے کا فائدہ ادھار۔ جو شخص پہلے راستہ پر چلے اس نے عاجلہ کو پسند کیا۔ اور جو شخص دوسرے راستہ کو اختیار کرے اس نے آخرت کو پسند کیا۔ ایک طرف آدمی کے سامنے مصلحت پرستی کا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے فوری طورپر عزت اور دولت ملتی ہے۔ دوسری طرف بے لاگ حق پرستی کا طریقہ ہے جس کا کریڈٹ آدمی کو موت کے بعد کی زندگی میں ملے گا۔ کسی سے شکایت پیدا ہوجائے تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپنے دل کے اندر انتقام کی نفسیات پیدا کرلی جائے اور اس کے خلاف وہ سب کچھ کیا جائے جو اپنے بس میں ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاف کردیا جائے۔ اور ا س کے لیے اچھی دعائیں کرتے ہوئے سارے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح آدمی کے پاس جو مال ہے اس کے خرچ کی ایک شکل یہ ہے کہ اس کو اپنے شوق کی تکمیل ا ور اپنی عزت کو بڑھانے کی راہوں میں لگایا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو خدا کے دین کے مدوں میں خرچ کیا جائے۔ اسی طرح تمام معاملات میں آدمی کے سامنے دو مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک خواہش پرستی کا طریقہ اور دوسرا خدا پرستی کا طریقہ۔ ایک سامنے کی چیزوں کو اہمیت دینا اور دوسرا غیب کی حقیقتوں کو اہمیت دینا۔ ایک مصلحت پرستی کا انداز اور دوسرا اصول پرستی کا انداز۔ ایک بے صبری کے تحت کر گزرنا اور دوسرا صبر کے ساتھ وہ کرنا جو کرنا چاہیے۔ پہلے طریقہ میں وقتی فائدہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی محرومی۔ دوسرے طریقہ میں وقتی نقصان ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی عزّت اور کامیابی۔

وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا

📘 موجودہ دنیا میں آدمی دو راستوں کے درمیان ہے ایک کا فائدہ نقد ملتاہے اور دوسرے کا فائدہ ادھار۔ جو شخص پہلے راستہ پر چلے اس نے عاجلہ کو پسند کیا۔ اور جو شخص دوسرے راستہ کو اختیار کرے اس نے آخرت کو پسند کیا۔ ایک طرف آدمی کے سامنے مصلحت پرستی کا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے فوری طورپر عزت اور دولت ملتی ہے۔ دوسری طرف بے لاگ حق پرستی کا طریقہ ہے جس کا کریڈٹ آدمی کو موت کے بعد کی زندگی میں ملے گا۔ کسی سے شکایت پیدا ہوجائے تو ایک صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اپنے دل کے اندر انتقام کی نفسیات پیدا کرلی جائے اور اس کے خلاف وہ سب کچھ کیا جائے جو اپنے بس میں ہے۔ اس کے برعکس، دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو معاف کردیا جائے۔ اور ا س کے لیے اچھی دعائیں کرتے ہوئے سارے معاملہ کو اللہ کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح آدمی کے پاس جو مال ہے اس کے خرچ کی ایک شکل یہ ہے کہ اس کو اپنے شوق کی تکمیل ا ور اپنی عزت کو بڑھانے کی راہوں میں لگایا جائے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ اس کو خدا کے دین کے مدوں میں خرچ کیا جائے۔ اسی طرح تمام معاملات میں آدمی کے سامنے دو مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ ایک خواہش پرستی کا طریقہ اور دوسرا خدا پرستی کا طریقہ۔ ایک سامنے کی چیزوں کو اہمیت دینا اور دوسرا غیب کی حقیقتوں کو اہمیت دینا۔ ایک مصلحت پرستی کا انداز اور دوسرا اصول پرستی کا انداز۔ ایک بے صبری کے تحت کر گزرنا اور دوسرا صبر کے ساتھ وہ کرنا جو کرنا چاہیے۔ پہلے طریقہ میں وقتی فائدہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی محرومی۔ دوسرے طریقہ میں وقتی نقصان ہے اور اس کے بعد ہمیشہ کی عزّت اور کامیابی۔

وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِنْ دُونِي وَكِيلًا

📘 اسراء کے مذکورہ واقعہ کا مطلب یہ تھا کہ بني اسرائیل (یہود) کو حاملِ کتاب کے مقام سے معزول کردیا گیا اور ان کی جگہ بنو اسماعیل کو کتابِ الٰہی کا حامل بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ خدا کی سنت کے تحت عمل میںآیا ۔ خدا اس دنیا میں حق کے اعلان کے لیے کسی متعین گروہ کو منتخب کرتاہے۔ یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتاہے۔ تاہم یہ انتخاب نسل یا قوم کی بنیاد پر نہیںہے۔ اس کا استحقاق کسی گروہ کے لیے صرف اس وقت ثابت ہوتاہے جب کہ وہ اس کے لیے ضروری اہلیت کا ثبوت دے۔ اہلیت کے ختم ہوتے ہی اس کا استحقاق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ امّتِ آدم، امّتِ نوح، امتِ موسیٰ، امتِ مسیح، ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ آئندہ امت کے لیے بھی خدا کا قانون یہی ہے، اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ اس منصب کے لیے جو اہلیت درکار ہے، وہ یہ کہ خداکے سوا کسی کو وکیل (کارساز) نہ بنایا جائے۔ صرف ایک خدا پر سارا بھروسہ کرکے اپنے تمام معاملات اس کے حوالے کردئے جائیں۔ خدا کو جب آدمی اس کی تمام عظمتوں اور قدرتوں کے ساتھ پاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا کو اپنا وکیل بنا لیتاہے۔ جس شخص کو خدا کی حقیقی معرفت ہوجائے، اس کا حال یہی ہوگا کہ وہ اس دنیا میں خدا کو اپنا سب کچھ بنا لے گا۔ جو لوگ اس طرح خدا کو پالیں وہی موجودہ دنیا میں مومنانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مومنانہ زندگی گزرانے کے لیے آدمی کو تمام مخلوقات سے اوپر اٹھنا پڑتاہے۔ اور تمام مخلوقات سے وہی شخص اوپر اٹھ سکتا ہے جو سب سے بڑی چیز — مخلوقات کے خالق ومالک کو پالے۔ دعوتِ حق کی ذمہ داری بھی وہی لوگ صحیح طورپر ادا کرسکتے ہیں جن کو خدا کی معرفت کا یہ درجہ حاصل ہوجائے۔ دعوتِ حق کے لیے کامل بے غرضی اورکامل یکسوئی لازمی طورپر ضروری ہے۔ اورکامل بے غرضی اور کامل یکسوئی اس کے بغیر کسی کے اندر پیدانہیں ہوسکتی کہ اس کي تمام امیدیں اور اندیشے خدا سے وابستہ ہوچکے ہوں، خدا ہی اس کا سب کچھ بن چکا ہو۔

كُلًّا نُمِدُّ هَٰؤُلَاءِ وَهَٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًا

📘 دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی، دونوں ہی اللہ کے فراہم کيے ہوئے مواقع اور انتظامات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہیں۔ جو شخص دنیا کی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ بھی خدا کے انتظامات سے فائدہ اٹھا کر ایسا کرتاہے۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو اپنا مقصود بنائے اس کے لیے بھی خدا نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں جو اس کے آخرت کے سفر کو آسان بنانے والے ہیں۔ دنیا میں کوئی آدمی آگے نظر آتا ہے اور کوئی پیچھے۔ کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی دنیا میں مواقع کی کوئی حد نہیں۔ دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ عمل کرتاہے وہ اتنا زیادہ اس کا پھل پاتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے لیے جو شخص جتنا زیادہ عمل کا ثبوت دے گا وہ اتنا ہی زیادہ انعام وہاں پائے گا۔ مزید یہ کہ آخرت میں ملنے والی چیز ابدی ہوگی جب کہ دنیا میں ملنے والی چیز صرف وقتی ہوتی ہے۔

انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ وَلَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجَاتٍ وَأَكْبَرُ تَفْضِيلًا

📘 دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی، دونوں ہی اللہ کے فراہم کيے ہوئے مواقع اور انتظامات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہیں۔ جو شخص دنیا کی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ بھی خدا کے انتظامات سے فائدہ اٹھا کر ایسا کرتاہے۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو اپنا مقصود بنائے اس کے لیے بھی خدا نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں جو اس کے آخرت کے سفر کو آسان بنانے والے ہیں۔ دنیا میں کوئی آدمی آگے نظر آتا ہے اور کوئی پیچھے۔ کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی دنیا میں مواقع کی کوئی حد نہیں۔ دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ عمل کرتاہے وہ اتنا زیادہ اس کا پھل پاتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے لیے جو شخص جتنا زیادہ عمل کا ثبوت دے گا وہ اتنا ہی زیادہ انعام وہاں پائے گا۔ مزید یہ کہ آخرت میں ملنے والی چیز ابدی ہوگی جب کہ دنیا میں ملنے والی چیز صرف وقتی ہوتی ہے۔

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولًا

📘 خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔ اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔ یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔

۞ وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا

📘 خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔ اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔ یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

📘 خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔ اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔ یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔

رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ ۚ إِنْ تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا

📘 خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔ اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔ یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔

وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا

📘 ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔ دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔ اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا

📘 ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔ دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔ اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔

وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُورًا

📘 ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔ دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔ اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا

📘 اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتاہے۔ زیادتی اور کمی سے بچ کر جو درمیانی راستہ ہے وہی اسلام کے نزدیک بہترین راستہ ہے (خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَاطُهَا) السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 6319۔چنانچہ یہی تعلیم خرچ کے معاملہ میں بھی دی گئی ہے کہ آدمی نہ تو ایسا کرے کہ اتنا بخیل ہو کہ وہ لوگوں کی نظروں سے گرجائے۔ اور نہ اتنا زیادہ خرچ کرے کہ اس کے بعد بالکل خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا (مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ) مسند احمد، حدیث نمبر 4269 مال کے سلسلہ میں بے اعتدالی کا ذہن اکثر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کی نظر سے یہ حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے کہ دینے والا خدا ہے۔ وہی اپنے مصالح کے تحت کسی کو کم کردیتاہے اور کسی کو زیادہ ۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میرے بندوںمیں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف محتاجی مناسب ہے۔ اگر میں اس کو غنی کردوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے۔ اور میرے بندوں میں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف امیری مناسب ہے۔ اگر میں اس کو فقیر بنادوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے (إِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْغِنَى ،لَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْفَقْرُ،لَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ) بحر الفوائدللكلاباذی، حدیث نمبر 671 ۔

ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا

📘 اسراء کے مذکورہ واقعہ کا مطلب یہ تھا کہ بني اسرائیل (یہود) کو حاملِ کتاب کے مقام سے معزول کردیا گیا اور ان کی جگہ بنو اسماعیل کو کتابِ الٰہی کا حامل بنا دیا گیا۔ یہ واقعہ خدا کی سنت کے تحت عمل میںآیا ۔ خدا اس دنیا میں حق کے اعلان کے لیے کسی متعین گروہ کو منتخب کرتاہے۔ یہ سب سے بڑا اعزاز ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتاہے۔ تاہم یہ انتخاب نسل یا قوم کی بنیاد پر نہیںہے۔ اس کا استحقاق کسی گروہ کے لیے صرف اس وقت ثابت ہوتاہے جب کہ وہ اس کے لیے ضروری اہلیت کا ثبوت دے۔ اہلیت کے ختم ہوتے ہی اس کا استحقاق بھی ختم ہوجاتا ہے۔ امّتِ آدم، امّتِ نوح، امتِ موسیٰ، امتِ مسیح، ہر ایک کے ساتھ یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ آئندہ امت کے لیے بھی خدا کا قانون یہی ہے، اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ اس منصب کے لیے جو اہلیت درکار ہے، وہ یہ کہ خداکے سوا کسی کو وکیل (کارساز) نہ بنایا جائے۔ صرف ایک خدا پر سارا بھروسہ کرکے اپنے تمام معاملات اس کے حوالے کردئے جائیں۔ خدا کو جب آدمی اس کی تمام عظمتوں اور قدرتوں کے ساتھ پاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ خدا کو اپنا وکیل بنا لیتاہے۔ جس شخص کو خدا کی حقیقی معرفت ہوجائے، اس کا حال یہی ہوگا کہ وہ اس دنیا میں خدا کو اپنا سب کچھ بنا لے گا۔ جو لوگ اس طرح خدا کو پالیں وہی موجودہ دنیا میں مومنانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ مومنانہ زندگی گزرانے کے لیے آدمی کو تمام مخلوقات سے اوپر اٹھنا پڑتاہے۔ اور تمام مخلوقات سے وہی شخص اوپر اٹھ سکتا ہے جو سب سے بڑی چیز — مخلوقات کے خالق ومالک کو پالے۔ دعوتِ حق کی ذمہ داری بھی وہی لوگ صحیح طورپر ادا کرسکتے ہیں جن کو خدا کی معرفت کا یہ درجہ حاصل ہوجائے۔ دعوتِ حق کے لیے کامل بے غرضی اورکامل یکسوئی لازمی طورپر ضروری ہے۔ اورکامل بے غرضی اور کامل یکسوئی اس کے بغیر کسی کے اندر پیدانہیں ہوسکتی کہ اس کي تمام امیدیں اور اندیشے خدا سے وابستہ ہوچکے ہوں، خدا ہی اس کا سب کچھ بن چکا ہو۔

إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

📘 اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتاہے۔ زیادتی اور کمی سے بچ کر جو درمیانی راستہ ہے وہی اسلام کے نزدیک بہترین راستہ ہے (خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَاطُهَا) السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 6319۔چنانچہ یہی تعلیم خرچ کے معاملہ میں بھی دی گئی ہے کہ آدمی نہ تو ایسا کرے کہ اتنا بخیل ہو کہ وہ لوگوں کی نظروں سے گرجائے۔ اور نہ اتنا زیادہ خرچ کرے کہ اس کے بعد بالکل خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا (مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ) مسند احمد، حدیث نمبر 4269 مال کے سلسلہ میں بے اعتدالی کا ذہن اکثر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کی نظر سے یہ حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے کہ دینے والا خدا ہے۔ وہی اپنے مصالح کے تحت کسی کو کم کردیتاہے اور کسی کو زیادہ ۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میرے بندوںمیں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف محتاجی مناسب ہے۔ اگر میں اس کو غنی کردوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے۔ اور میرے بندوں میں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف امیری مناسب ہے۔ اگر میں اس کو فقیر بنادوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے (إِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْغِنَى ،لَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْفَقْرُ،لَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ) بحر الفوائدللكلاباذی، حدیث نمبر 671 ۔

وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ۖ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا

📘 خدا ہی نے تمام جانداروں کو پیداکیا ہے۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتاہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا کسی کو رزق کی تنگی کا نام لے کر ہلاک کرنا ایک ایسا کام کرناہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب رزق کا انتظام خداکی طرف سے ہورہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ کسی جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کرے کہ وہ کھائے گی کیا۔ ’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی‘‘ ان الفاظ کے ذریعہ انسان کے ذہن کواس معاملہ میں تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑا گیا ہے۔ غور کیجيے کہ جو انسان موجود ہیں وہ اپنا رزق کس طرح حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے فراہم کردہ پیداواری وسائل پر عمل کرکے حاصل کررہے ہیں۔ یہی طریقہ آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی درست ہے۔ تم کو چاہیے کہ مزید پیدا ہونے والوں کو خدا کے پیدواری وسائل میں مزید عمل کرنے پر لگاؤ، نہ کہ خود پیدا ہونے والوں کی آمد کو روکنے لگو۔ خدا انسانوں کے درمیان جن اعمال کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتاہے ان میں سے ایک زنا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ‘‘ یعنی زنا اتنی بڑی برائی اور بے حیائی ہے کہ اس کے مقدمات سے بھی تم کو پرہیز کرنا چاہیے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تفصیلی احکام آگے سورۂ نور میں بیان کيے گئے ہیں۔

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا

📘 خدا ہی نے تمام جانداروں کو پیداکیا ہے۔ وہی ان کے رزق کا انتظام کرتاہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا کسی کو رزق کی تنگی کا نام لے کر ہلاک کرنا ایک ایسا کام کرناہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جب رزق کا انتظام خداکی طرف سے ہورہا ہے تو کسی کو کیا حق ہے کہ وہ کسی جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کرے کہ وہ کھائے گی کیا۔ ’’ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی‘‘ ان الفاظ کے ذریعہ انسان کے ذہن کواس معاملہ میں تخریب کے بجائے تعمیر کی طرف موڑا گیا ہے۔ غور کیجيے کہ جو انسان موجود ہیں وہ اپنا رزق کس طرح حاصل کررہے ہیں۔ وہ اس کو خدا کے فراہم کردہ پیداواری وسائل پر عمل کرکے حاصل کررہے ہیں۔ یہی طریقہ آئندہ آنے والی نسل کے لیے بھی درست ہے۔ تم کو چاہیے کہ مزید پیدا ہونے والوں کو خدا کے پیدواری وسائل میں مزید عمل کرنے پر لگاؤ، نہ کہ خود پیدا ہونے والوں کی آمد کو روکنے لگو۔ خدا انسانوں کے درمیان جن اعمال کو مکمل طورپر ختم کرنا چاہتاہے ان میں سے ایک زنا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ’’زنا کے قریب نہ جاؤ‘‘ یعنی زنا اتنی بڑی برائی اور بے حیائی ہے کہ اس کے مقدمات سے بھی تم کو پرہیز کرنا چاہیے۔ یہاں اس سلسلہ میں صرف اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کے تفصیلی احکام آگے سورۂ نور میں بیان کيے گئے ہیں۔

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا

📘 حق شرعی کے بغیر کسی کو قتل کرنا سراسر حرام ہے۔ جو شخص شرعی جواز کے بغیر قتل کیا جائے وہ مظلومانہ قتل ہوا۔ ایسی حالت میں مقتول کے اولیاء کو قاتل کے اوپر پورا اختیا رہے۔ وہ چاہیں تو اس سے قصا ص لیں۔ چاہیں تو خوں بہا لے کر چھوڑ دیں۔ اور چاہیں تو سرے سے معاف کردیں۔ اسلامی قانون کے مطابق قتل کے معاملہ میں اصل مدعی مقتول کے اولیاء ہیں، نہ کہ حکومت۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ وہ مقتول کے اولیاء کی مرضی کو نافذ کرنے میں ان کی مدد کرے۔ قتل اتنا بھیانک جرم ہے کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ساری دنیا کا چلا جانا اللہ کے نزدیک اس سے اہون ہے کہ ایک مومن کو ناحق قتل کردیا جائے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ)سنن النسائی، حدیث نمبر 3987۔ اس کے باوجود مقتول کے اولیاء کو یہ حق نہیں کہ وہ قاتل سے بدلہ لیتے ہوئے اس کے ساتھ زیادتی کریں۔ مثلاً وہ قاتل کا مثلہ کریں یا قاتل کے بدلے اس کے کسی ساتھی کو قتل کردیں، وغیرہ۔ مقتول کے ورثاء اگر بدلہ لینے میں زیادتی کریں تو یہاں حکومت اسی طرح ان کی مزاحم ہوجائے گی جس طرح وہ ان کے حق قصاص کے معاملہ میں ان کی مددگار ہوئی تھی۔ اس سے اسلامی شریعت کی یہ روح معلوم ہوتی ہے کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی زیادہ مظلوم ہو، اگر وہ ظالم سے بدلہ لینا چاہتا ہے تو وہ صرف ظلم کے بقدر بدلہ لے سکتاہے۔ اس سے زیادہ کوئی کارروائی کرنے کی اجازت اسے ہر گز حاصل نہیں۔

وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۚ وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا

📘 نابالغ یتیم کے سرپرست اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ مگر یتیم کا مال ان اولیاء کے ہاتھ میں اس وقت تک کے لیے بطور امانت ہے جب تک کہ یتیم عاقل وبالغ نہ ہوجائے۔ اولیاء کو چاہیے کہ وہ یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ صرف اس وقت اس میں تصرف کرسکتے ہیں جب کہ خود یتیم کی خیر خواہی اور ترقی کا تقاضا ہو۔ اور یتیم جیسے ہی اپنے نفع نقصان کو سمجھنے کے قابل ہو اس کا مال پور ی طرح اس کے حوالے کردیا جائے۔ عہد کو پورا کرنا انسانی کردار کی اہم ترین صفت ہے۔ جو آدمی ایک عہد کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے وہ بالکل بے قیمت انسان ہے، بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی۔ ’’عہد اللہ کے نزدیک قابل پرسش ہے‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے عہد کرتاہے تو یہ صرف دو انسانوں کا باہمی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں خدا بھی تیسرے فرق کی حیثیت سے شریک ہوتاہے۔ آدمی کو عہد توڑتے ہوئے ڈرنا چاہیے کہ عہد کا دوسرا فریق صرف ایک کمزور انسان نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔ دنیا میں ہر قسم کا کاروبار ناپ تول کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس سلسلہ میں حکم دیاگیا کہ ناپ تول بالکل ٹھیک رکھا جائے اور جو چیز دی جائے پورے ناپ تول کے ساتھ دی جائے۔ یہ طریقہ بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ انسانی عظمت کے مطابق ہے۔ ناپ تول میں فرق کرناکردار کی پستی ہے۔ اور ناپ تول میں پورا دینا کردار کی بلندی۔ اس کادوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے کاروبار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ کاروبار کی ترقی کی بنیاد تمام تر اعتماد پر ہے اور ناپ تول صحیح دینا وہ چیز ہے جس سے کسی شخص کا کاروبار ی اعتماد لوگوں کے درمیان قائم ہوتاہے۔

وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

📘 نابالغ یتیم کے سرپرست اس کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔ مگر یتیم کا مال ان اولیاء کے ہاتھ میں اس وقت تک کے لیے بطور امانت ہے جب تک کہ یتیم عاقل وبالغ نہ ہوجائے۔ اولیاء کو چاہیے کہ وہ یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ صرف اس وقت اس میں تصرف کرسکتے ہیں جب کہ خود یتیم کی خیر خواہی اور ترقی کا تقاضا ہو۔ اور یتیم جیسے ہی اپنے نفع نقصان کو سمجھنے کے قابل ہو اس کا مال پور ی طرح اس کے حوالے کردیا جائے۔ عہد کو پورا کرنا انسانی کردار کی اہم ترین صفت ہے۔ جو آدمی ایک عہد کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے وہ بالکل بے قیمت انسان ہے، بندوں کے نزدیک بھی اور خدا کے نزدیک بھی۔ ’’عہد اللہ کے نزدیک قابل پرسش ہے‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے عہد کرتاہے تو یہ صرف دو انسانوں کا باہمی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں خدا بھی تیسرے فرق کی حیثیت سے شریک ہوتاہے۔ آدمی کو عہد توڑتے ہوئے ڈرنا چاہیے کہ عہد کا دوسرا فریق صرف ایک کمزور انسان نہیں ہے بلکہ وہ خدا ہے جس کی پکڑ سے بچنا کسی طرح ممکن نہیں۔ دنیا میں ہر قسم کا کاروبار ناپ تول کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس سلسلہ میں حکم دیاگیا کہ ناپ تول بالکل ٹھیک رکھا جائے اور جو چیز دی جائے پورے ناپ تول کے ساتھ دی جائے۔ یہ طریقہ بیک وقت اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ انسانی عظمت کے مطابق ہے۔ ناپ تول میں فرق کرناکردار کی پستی ہے۔ اور ناپ تول میں پورا دینا کردار کی بلندی۔ اس کادوسرا عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس سے کاروبار کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ کیوں کہ کاروبار کی ترقی کی بنیاد تمام تر اعتماد پر ہے اور ناپ تول صحیح دینا وہ چیز ہے جس سے کسی شخص کا کاروبار ی اعتماد لوگوں کے درمیان قائم ہوتاہے۔

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا

📘 قتادہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے دیکھا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے دیکھا نہ ہو۔ ’’میں نے سنا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے سنا نہ ہو۔ ’’میں نے جانا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے جانا نہ ہو )لَا تَقُلْ رَأَيْتُ وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ وَلَمْ تَسْمَعْ، وَعَلِمْتُ وَلَمْ تَعْلَمْ) تفسیر الطبری، جلد 14 ، صفحہ 594 ۔ جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ خدا کے یہاں ہر بات کی پوچھ ہوگی وہ کبھی بے تحقیق بات اپنی زبان سے نہیں نکالے گا اور نہ آنکھ بند کرکے بے تحقیق بات کی پیروی کرے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کان اور آنکھ اور دماغ سے وہ کام لے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور وہی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے جو پوری طرح ثابت ہوچکی ہو۔ اس حکم میں تمام بے بنیاد چیزیں آگئیں۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینا، غلط تہمت لگانا، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے درپے ہوجانا، محض تعصب کی بنا پر ناحق بات کی حمایت کرنا، ایسی چیزوں کے پیچھے پڑنا جن کو اپنی محدودیت کی بناپر انسان جان نہیں سکتا — سمع و بصر وفواد بظاہر انسان کے قبضہ میں ہیں۔ مگر یہ انسان کے پاس بطور امانت ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ ورنہ ان کی بابت اس سے سخت باز پرس ہوگی۔ انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں اونچے اونچے پہاڑ اس کی ہر بلندی کی نفی کررہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبربن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑنے اور سرکشی کرنے کا۔

وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا

📘 قتادہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے دیکھا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے دیکھا نہ ہو۔ ’’میں نے سنا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے سنا نہ ہو۔ ’’میں نے جانا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے جانا نہ ہو )لَا تَقُلْ رَأَيْتُ وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ وَلَمْ تَسْمَعْ، وَعَلِمْتُ وَلَمْ تَعْلَمْ) تفسیر الطبری، جلد 14 ، صفحہ 594 ۔ جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ خدا کے یہاں ہر بات کی پوچھ ہوگی وہ کبھی بے تحقیق بات اپنی زبان سے نہیں نکالے گا اور نہ آنکھ بند کرکے بے تحقیق بات کی پیروی کرے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کان اور آنکھ اور دماغ سے وہ کام لے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور وہی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے جو پوری طرح ثابت ہوچکی ہو۔ اس حکم میں تمام بے بنیاد چیزیں آگئیں۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینا، غلط تہمت لگانا، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے درپے ہوجانا، محض تعصب کی بنا پر ناحق بات کی حمایت کرنا، ایسی چیزوں کے پیچھے پڑنا جن کو اپنی محدودیت کی بناپر انسان جان نہیں سکتا — سمع و بصر وفواد بظاہر انسان کے قبضہ میں ہیں۔ مگر یہ انسان کے پاس بطور امانت ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ ورنہ ان کی بابت اس سے سخت باز پرس ہوگی۔ انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں اونچے اونچے پہاڑ اس کی ہر بلندی کی نفی کررہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبربن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑنے اور سرکشی کرنے کا۔

كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا

📘 قتادہ نے کہا ہے کہ ’’میں نے دیکھا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے دیکھا نہ ہو۔ ’’میں نے سنا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے سنا نہ ہو۔ ’’میں نے جانا‘‘ مت کہو جب کہ تم نے جانا نہ ہو )لَا تَقُلْ رَأَيْتُ وَلَمْ تَرَ، وَسَمِعْتُ وَلَمْ تَسْمَعْ، وَعَلِمْتُ وَلَمْ تَعْلَمْ) تفسیر الطبری، جلد 14 ، صفحہ 594 ۔ جس آدمی کو اس بات کا ڈر ہو کہ خدا کے یہاں ہر بات کی پوچھ ہوگی وہ کبھی بے تحقیق بات اپنی زبان سے نہیں نکالے گا اور نہ آنکھ بند کرکے بے تحقیق بات کی پیروی کرے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کان اور آنکھ اور دماغ سے وہ کام لے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں اور وہی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے جو پوری طرح ثابت ہوچکی ہو۔ اس حکم میں تمام بے بنیاد چیزیں آگئیں۔ مثلاً جھوٹی گواہی دینا، غلط تہمت لگانا، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر کسی کے درپے ہوجانا، محض تعصب کی بنا پر ناحق بات کی حمایت کرنا، ایسی چیزوں کے پیچھے پڑنا جن کو اپنی محدودیت کی بناپر انسان جان نہیں سکتا — سمع و بصر وفواد بظاہر انسان کے قبضہ میں ہیں۔ مگر یہ انسان کے پاس بطور امانت ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کو خدا کی منشاء کے مطابق استعمال کرے۔ ورنہ ان کی بابت اس سے سخت باز پرس ہوگی۔ انسان ایک ایسی زمین پر ہے جس کو وہ پھاڑ نہیں سکتا، وہ ایک ایسے ماحول میں ہے جہاں اونچے اونچے پہاڑ اس کی ہر بلندی کی نفی کررہے ہیں۔ یہ خدا کے مقابلے میں انسان کی حیثیت کا ایک تمثیلی اعلان ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی دنیا میں متکبربن کر نہ رہے۔ وہ عجز اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے، نہ کہ اکڑنے اور سرکشی کرنے کا۔

ذَٰلِكَ مِمَّا أَوْحَىٰ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتُلْقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَدْحُورًا

📘 اوپر کی آیتوں میں جو احکام دئے گئے ان کو یہاں حکمت کہاگیاہے۔ حکمت کا مطلب ہے ٹھوس حقیقت، دانائی کی بات۔ یہ باتیں جو یہاں بتائی گئی ہیں یہ زندگی کے محکم حقائق ہیں۔ ان کی بنیاد پر درست زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ اور جو انسانی معاشرہ ان سے خالی ہو اس کے لیے خدا کی دنیا میں ہلاکت کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ آج بھی اور آج کے بعد کی زندگی میں بھی۔ مذکورہ بالا نصیحتوں کا بیان توحید سے شروع ہوا تھا (آیت نمبر 22 )، اب ان کا خاتمہ بھی توحید پر کیاگیا ہے (آیت نمبر 39 ) یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تمام بھلائیوں کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی ایک خداکو اپنا خدا بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے محبت کرے۔ خدا سے درست تعلق ہی میں زندگی کی درستی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر خدا سے تعلق درست نہ ہو تو کوئی بھی دوسری چیز انسانی زندگی کے نظام کو درست نہیں کرسکتی۔ خدا انسان کا آغاز ہے اور وہی اس کا اختتام بھی۔

وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا

📘 یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔ یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔ اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔ بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ 586 ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔

أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِنَاثًا ۚ إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًا

📘 حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔ مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔ اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔ شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا

📘 حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔ مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔ اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔ شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔

قُلْ لَوْ كَانَ مَعَهُ آلِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَابْتَغَوْا إِلَىٰ ذِي الْعَرْشِ سَبِيلًا

📘 حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔ مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔ اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔ شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔

سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا

📘 حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔ مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔ اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔ شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ ۚ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

📘 حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔ مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔ اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔ شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔

وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا

📘 یہاں جس چیز کو ’’چھپا ہوا پردہ‘‘ کہا گیا ہے وہ دراصل نفسیاتی پردہ ہے۔ اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ آدمی بطورخود اپنے ذہن میں کسی غیر صداقت کو صداقت کا مقام دے دے۔ ایسے شخص کے سامنے جب ایک ایسا حق آتا ہے جس کے مطابق اس کی مفروضہ صداقتوں کی نفی ہورہی ہو تو ایسی بے آمیز دعوت اس کے لیے ناقابل فہم بن جاتی ہے۔ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کی سمجھ میں نہیںآتا کہ ایسی دعوت بھی سچی دعوت ہوسکتی ہے جس کو ماننے کی صورت میں وہ چیز باطل قرار پائے جس کو اب تک وہ مسلّمہ صداقت سمجھے ہوئے تھا۔ وہ نئی دعوت کے دلائل کا توڑ نہیں کرپاتا۔ تاہم اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا کہ یہی وہ مطلق صداقت ہے جس کو اسے دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر مان لینا چاہیے۔ بے آمیز صداقت کا اعلان ہمیشہ دوسری مفروضہ صداقتوں کی نفی کے ہم معنی ہوتاہے۔ اس لیے اس کو سن کر وہ لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو اس کے سوا دوسری چیزوں یا شخصیتوں کو بھی عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے ہوں۔ ان کے اندر آخرت کی جواب دہی کا یقین نہ ہونا انھیں غیر سنجیدہ بنادیتاہے اور غیر سنجیدہ ذہن کے ساتھ کوئی بات سمجھی نہیں جاسکتی۔

وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَىٰ أَدْبَارِهِمْ نُفُورًا

📘 یہاں جس چیز کو ’’چھپا ہوا پردہ‘‘ کہا گیا ہے وہ دراصل نفسیاتی پردہ ہے۔ اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ آدمی بطورخود اپنے ذہن میں کسی غیر صداقت کو صداقت کا مقام دے دے۔ ایسے شخص کے سامنے جب ایک ایسا حق آتا ہے جس کے مطابق اس کی مفروضہ صداقتوں کی نفی ہورہی ہو تو ایسی بے آمیز دعوت اس کے لیے ناقابل فہم بن جاتی ہے۔ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کی سمجھ میں نہیںآتا کہ ایسی دعوت بھی سچی دعوت ہوسکتی ہے جس کو ماننے کی صورت میں وہ چیز باطل قرار پائے جس کو اب تک وہ مسلّمہ صداقت سمجھے ہوئے تھا۔ وہ نئی دعوت کے دلائل کا توڑ نہیں کرپاتا۔ تاہم اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا کہ یہی وہ مطلق صداقت ہے جس کو اسے دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر مان لینا چاہیے۔ بے آمیز صداقت کا اعلان ہمیشہ دوسری مفروضہ صداقتوں کی نفی کے ہم معنی ہوتاہے۔ اس لیے اس کو سن کر وہ لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو اس کے سوا دوسری چیزوں یا شخصیتوں کو بھی عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے ہوں۔ ان کے اندر آخرت کی جواب دہی کا یقین نہ ہونا انھیں غیر سنجیدہ بنادیتاہے اور غیر سنجیدہ ذہن کے ساتھ کوئی بات سمجھی نہیں جاسکتی۔

نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْ هُمْ نَجْوَىٰ إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں دلائل کا زور اتنا زیادہ تھا کہ عرب کے عام لوگ اس سے مرعوب ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر وہاں کے سرداروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے دین کو قبول کرلیا تو ہماری سرداری ختم ہوجائے گی۔ انھوںنے لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ انھوںنے کہا کہ اس شخص کے کلام میں تم جو زور دیکھ رہے ہو وہ دراصل ساحرانہ کلام کا زور ہے۔ یہ ’’ادب‘‘ کا معاملہ ہے، نہ کہ حقیقۃً صداقت کا معاملہ۔ اس طرح انھوںنے یہ کیا کہ جس کلام کی عظمت میں لوگ صداقت کی جھلک دیکھ رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔ جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت میں دلائل کا زور اتنا زیادہ تھا کہ عرب کے عام لوگ اس سے مرعوب ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر وہاں کے سرداروں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر ان لوگوں نے بڑی تعداد میں نئے دین کو قبول کرلیا تو ہماری سرداری ختم ہوجائے گی۔ انھوںنے لوگوں کو اس سے پھیرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ انھوںنے کہا کہ اس شخص کے کلام میں تم جو زور دیکھ رہے ہو وہ دراصل ساحرانہ کلام کا زور ہے۔ یہ ’’ادب‘‘ کا معاملہ ہے، نہ کہ حقیقۃً صداقت کا معاملہ۔ اس طرح انھوںنے یہ کیا کہ جس کلام کی عظمت میں لوگ صداقت کی جھلک دیکھ رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔ جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا

📘 انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔ پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔ قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أُولَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَنَا أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ فَجَاسُوا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَفْعُولًا

📘 یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔ یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔ اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔ بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ 586 ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔

۞ قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا

📘 انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔ پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔ قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ ۚ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا ۖ قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هُوَ ۖ قُلْ عَسَىٰ أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا

📘 انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔ پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔ قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا

📘 انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔ پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔ قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا

📘 یہ آیت داعی اور مدعو کے نازک رشتہ کے بارے میں ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنی ہی سخت بات کہی جائے اور کتنا ہی اشتعال انگیز معاملہ کیا جائے، داعی کو ہر حال میں قول احسن کا پابند رہناہے۔ کیوں کہ داعی اگر جوابی ذہن کے تحت کارروائی کرے تو مدعو کے اندر مزید نفرت اور ضد کی نفسیات ابھرے گی۔ اور داعی اور مدعو کے درمیان ایسی کش مکش پیدا ہوگی کہ لوگ داعی کی بات کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننے کے قابل ہی نہ رہیں۔ داعی اور مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی فضا پیدا ہونا سراسر شیطان کی موافقت میں ہے تاکہ وہ حق کے پیغام کو لوگوں کے لیے ناقابل قبو ل بنا دے۔ اس لیے اگر داعی اپنے کسی فعل سے مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی نفسیات جگانے لگے تو گویا کہ اس نے شیطان کاکام کیا، اس نے اپنے دشمن کا کام خود اپنے ہاتھ سے انجام دے دیا۔

رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِكُمْ ۖ إِنْ يَشَأْ يَرْحَمْكُمْ أَوْ إِنْ يَشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا

📘 ایک شخص سچے دین کی دعوت دے اور دوسرا شخص اس کو نہ مانے تو داعی کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ شخص کیسا ہے کہ کھلی ہوئی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بات اور آگے بڑھتی ہے اور وہ اعلان کربیٹھتا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ اس قسم کا کلام داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔ ایک ہے حق کا پیغام پہنچانا۔ اور ایک ہے پیغام کے رد عمل کے مطابق ہر ایک کو اس کا بدلہ دینا۔ پہلا کام داعی کا ہے اور دوسرا کام خدا کا۔ داعی کو کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ سے گزر کر خدا کے دائرہ میںداخل ہوجائے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اپنے اپنے مقتداؤں کی فضیلت کی بحث اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے پیشوا کو دوسرے سے اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بحث اصول کے دائرہ میں رہنی چاہیے وہ شخصیت کے دائرہ میں چلی جاتی ہے اور تعصبات کو جگا کر قبول حق کی راہ میں مزید رکاوٹ کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں کہاگیا کہ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ وہ کس کو کیا درجہ دیتاہے۔ تم کو چاہیے کہ اس قسم کی بحث سے اعراض کرتے ہوئے اصل پیغام کو پہنچانے میں لگے رہو۔

وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَىٰ بَعْضٍ ۖ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا

📘 ایک شخص سچے دین کی دعوت دے اور دوسرا شخص اس کو نہ مانے تو داعی کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ شخص کیسا ہے کہ کھلی ہوئی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بات اور آگے بڑھتی ہے اور وہ اعلان کربیٹھتا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ اس قسم کا کلام داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔ ایک ہے حق کا پیغام پہنچانا۔ اور ایک ہے پیغام کے رد عمل کے مطابق ہر ایک کو اس کا بدلہ دینا۔ پہلا کام داعی کا ہے اور دوسرا کام خدا کا۔ داعی کو کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ سے گزر کر خدا کے دائرہ میںداخل ہوجائے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اپنے اپنے مقتداؤں کی فضیلت کی بحث اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے پیشوا کو دوسرے سے اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بحث اصول کے دائرہ میں رہنی چاہیے وہ شخصیت کے دائرہ میں چلی جاتی ہے اور تعصبات کو جگا کر قبول حق کی راہ میں مزید رکاوٹ کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں کہاگیا کہ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ وہ کس کو کیا درجہ دیتاہے۔ تم کو چاہیے کہ اس قسم کی بحث سے اعراض کرتے ہوئے اصل پیغام کو پہنچانے میں لگے رہو۔

قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا

📘 انسان جن ہستیوں کو اللہ کے سوا اپنا معبود بناتاہے وہ سب وہی ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں۔ مثلاً بزرگ یا فرشتے وغیرہ۔ غور سے دیکھيے تو یہ معبودیت سراسر یک طرفہ ہوتی ہے۔ ان ہستیوں نے خود اپنے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیاہے۔ یہ صرف دوسرے لوگ ہیں، جو ان کو معبود فرض کرکے ان کی تقدیس و تعظیم میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر کسی کو حاضر سے غائب تک دیکھنے کی نظر حاصل ہو اور وہ پوری صورت حال پر نظر کرے تو وہ عجیب مضحکہ خیز منظر دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ انسان کچھ ہستیوں کو بطور خود معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش کر رہا ہے۔ اور ان سے مرادیں مانگ رہا ہے جب کہ عین اسی وقت خود ان ہستیوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے سہمے ہوئے ہیںاور اس کی رحمت وقربت کی تلاش میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا

📘 انسان جن ہستیوں کو اللہ کے سوا اپنا معبود بناتاہے وہ سب وہی ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں۔ مثلاً بزرگ یا فرشتے وغیرہ۔ غور سے دیکھيے تو یہ معبودیت سراسر یک طرفہ ہوتی ہے۔ ان ہستیوں نے خود اپنے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیاہے۔ یہ صرف دوسرے لوگ ہیں، جو ان کو معبود فرض کرکے ان کی تقدیس و تعظیم میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر کسی کو حاضر سے غائب تک دیکھنے کی نظر حاصل ہو اور وہ پوری صورت حال پر نظر کرے تو وہ عجیب مضحکہ خیز منظر دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ انسان کچھ ہستیوں کو بطور خود معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش کر رہا ہے۔ اور ان سے مرادیں مانگ رہا ہے جب کہ عین اسی وقت خود ان ہستیوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے سہمے ہوئے ہیںاور اس کی رحمت وقربت کی تلاش میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔

وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا

📘 افراد کے لیے جس طرح فنا کا قانون ہے اسی طرح قوموں اور بستیوں کے لیے بھی فنا کا قانون ہے۔ کوئی بستی چاہے وہ کتنی ہی مضبوط اور پُر رونق ہو، بہر حال وہ ایک دن ختم ہو کر رہے گی۔ خواہ اس کی صورت یہ ہو کہ وہ اپنے گناہ اور سرکشی کی وجہ سے پہلے ہلاک کردی جائے۔ یا وہ باقی رہے یہاں تک کہ جب آخرت قائم ہونے کا وقت آئے تو زمین کی تمام آبادیوں کے ساتھ اس کو اكٹھے مٹا دیا جائے۔

وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا

📘 پیغمبروں کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کی عمومی نصرت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کو تائید کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو مشرکین کے مطالبہ کے طورپر ظاہر کيے جاتے ہیں۔ ان کا اصطلاحی نام معجزہ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ساتھ تائید الٰہی کے بے شمار واقعات پیش آئے۔ مگر جہاں تک فرمائشی نشانی (معجزہ) کا تعلق ہے آپ کے لیے ان کو بھیجنا موقوف کردیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جو لوگ غیر معمولی نشانی کا مطالبہ کریں، ان کے اوپر غیر معمولی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ چنانچہ خدا کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ غیر معمولی نشانی (معجزہ) دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائیں ان کو سخت عذاب بھیج کر نیست و نابود کردیا جائے۔ اب چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہونے والا تھا اس لیے آپ کی مخاطب قوم کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیوں کہ بالکلیہ تباہی کی صورت میں قوم مٹ جاتی۔ پھر پیغمبر کے بعد پیغمبر کی نمائندگی کے لیے دنیا میں کون باقی رہتا۔ پیغمبر آخر الزماں کے مخاطبین کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو محسوس معجزات نہیں دکھائے گئے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ ان کا بھی وہی سخت انجام ہو جو اس سے پہلے قوم ثمود کا ہوا۔

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَأَمْدَدْنَاكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَاكُمْ أَكْثَرَ نَفِيرًا

📘 یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔ یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔ اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔ بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ 586 ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔

وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ ۚ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا

📘 لوگ خدا کے داعی سے اکثر اپنے تجویز کردہ معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ کھلے ذہن کے ساتھ دیکھیں تو داعی کی خصوصی نصرت کی شکل میں وہ معجزہ انھیں دکھایا جاچکا ہوتاہے، جس کو وہ داعي کی صداقت کو جانچنے کے لیے دیکھنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین آپ سے حسی معجزات مانگ رہے تھے۔ فرمایا کہ کیا یہ معجزہ تمھاری آنکھ کھولنے کے لیے کافی نہیں کہ دعوت کے ابتدائی دور میں جب اس کی بظاہر کوئی طاقت نہیں تھی، یہ اعلان کیاگیا کہ خدا تمھیں گھیرے میں لیے ہوئے ہے (وَاللَّهُ مِنْ وَرَائِهِمْ مُحِيطٌ)۔ یہ پیشین گوئی قبائلِ عرب میں اسلام کی توسیع سے پوری ہوگئی۔ پھر اس کی تکمیل بدر کی فتح اور صلح حدیبیہ کے بعد مکہ کی فتح کی صورت میں ہوئی۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی صبح کو جب یہ اعلان کیا کہ آج رات میںبیت الحرام سے بیت المقدس تک گیا تو لوگوں کو یقین نہیں آیا۔ اس کے بعد ایسے افراد بلائے گئے جو بیت المقدس کو دیکھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے آپ نے بیت المقدس کی عمارت کی پوری تفصیل بیان کردی۔ مگر ان واقعات کو لوگوں نے مذاق میں ٹال دیا حالاں کہ وہ آپ کی صداقت کا معجزاتی ثبوت تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ حسی معجزہ دکھانے کا نہیں ہے بلکہ دعوت پر سنجیدہ غور وفکر کا ہے۔ اگر لوگ دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہرچیز کو مذاق اور استہزاء کی نذر کردیں گے۔ خواہ وہ بات بذات خود کتنی ہی قابل لحاظ کیوں نہ ہو۔ قرآن میں جب ڈرایا گیا کہ جہنم میں زقوم کا کھانا ہوگا (الصافات، 37:62 ) تو روایات میں آتا ہے کہ ابوجہل نے کہا کہ ہمارے لیے کھجور اور مکھن لے آؤ جب وہ لایا گیا تو وہ دونوں کو ملا کر کھانے لگا اور کہا تم لوگ بھی کھاؤ یہی زقوم ہے (قَالَ أَبُو جَهْلٍ  هَاتُوا لَنَا تَمْرًا وَزُبْدًا، وَجَعَلَ يَأْكُلُ هَذَا بِهَذَا وَيَقُولُ تَزَقَّموا، فَلَا نَعْلَمُ الزَّقُّومَ غَيْرَ هَذَا( تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 92 ۔ اسی طرح قرآن میں شجرۂ ملعونہ (بنی اسرائیل، 17:60 ) کا ذکر ہےجو جہنمیوںکا کھانا ہوگا۔ جب قرآن میں یہ آیت اتری تو قریش کے ایک سردار نے کہا ابو کبشہ کے لڑکے کو دیکھو۔ وہ ہم سے ایسی آگ کا وعدہ کرتاہے جو پتھر تک کو جلا دے گی۔ پھر اس کا گمان ہے کہ اس کے اندر ایک درخت اگتا ہے حا لانکہ معلوم ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے (إِنَّ ابْنَ أَبِي كَبْشَةَ يُوعِدُكُمْ بِنَارٍ تُحْرِقُ الْحِجَارَةَ ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّهُ يَنْبُتُ فِيهَا شَجَرَةٌ، وَتَعْلَمُونَ أَنَّ النَّارَ تُحْرِقُ الشَّجَرَةَ) تفسیر البغوی، جلد5، صفحہ 103 ۔

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا

📘 فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش کے وقت فرشتوںنے کیا۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو حق کو اپنے ذات کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ شیطان نے یہی کیا۔ ا س نے حق کو اپنی ذات کی نسبت سے دیکھا۔ چوں کہ سجدۂ آدم کا حکم آدم کو بظاہر بڑا بنارہا تھا اور اس کو چھوٹا، اس نے ایسے حق کو ماننے سے انکار کردیا جس کو ماننے کے بعد اس کی اپنے ذات چھوٹی ہوجائے۔ شیطان نے خدا کو جو چیلنج دیا تھا اس کو سامنے رکھ کر دیکھيے تو ہر وہ شخص شیطان کا شکار نظر آئے گا جو حق کو اس لیے نظر انداز کردے کہ اس کو ماننے کی صورت میں اس کی اپنی ذات دوسرے کے مقابلہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔

قَالَ أَرَأَيْتَكَ هَٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا

📘 فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش کے وقت فرشتوںنے کیا۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو حق کو اپنے ذات کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ شیطان نے یہی کیا۔ ا س نے حق کو اپنی ذات کی نسبت سے دیکھا۔ چوں کہ سجدۂ آدم کا حکم آدم کو بظاہر بڑا بنارہا تھا اور اس کو چھوٹا، اس نے ایسے حق کو ماننے سے انکار کردیا جس کو ماننے کے بعد اس کی اپنے ذات چھوٹی ہوجائے۔ شیطان نے خدا کو جو چیلنج دیا تھا اس کو سامنے رکھ کر دیکھيے تو ہر وہ شخص شیطان کا شکار نظر آئے گا جو حق کو اس لیے نظر انداز کردے کہ اس کو ماننے کی صورت میں اس کی اپنی ذات دوسرے کے مقابلہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاءً مَوْفُورًا

📘 ’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔ شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔ آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۚ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا

📘 ’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔ شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔ آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔

إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ وَكِيلًا

📘 ’’انسانوں میں سے جو شخص شیطان کی راہ چلے گا‘‘۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خواہ شیطان کے راستے پر چلے یا خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر۔ اسی آزادی کے استعمال میںانسان کا اصل امتحان ہے۔ یہیں کامیاب ہو کر وہ یا تو خداکا انعام پاتاہے یا ناکام ہو کر شیطان کے انجام کا مستحق بن جاتا ہے۔ شیطان کو اس دنیا میں آزادی حاصل ہے کہ وہ انسان کو اپنا ساتھی بنائے۔ وہ اس کے اوپر اپنی ساری کوشش استعمال کرے۔ وہ اس کے اندر گھس کر اس کے مال واولاد میں شامل ہوجائے۔ مگر شیطان کو کسی بھی درجہ میںانسان کے اوپر کوئی اختیار نہیں دیاگیاہے۔ شیطان کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ آواز اورالفاظ کے ذریعے لوگوںکو بہکائے۔ وہ بے حقیقت چیزوں کو خوش نما بنا کر انھیں عظیم حقیقت کے روپ میں پیش کرے۔ آیت میں لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ(ان پر تیرا زور نہیں چلے گا ) الفاظ بتاتے ہیں کہ شیطان امکانی طورپرانسان کے مقابلہ میں زیادہ طاقت ور ہے۔ پھر ایک ایسی دنیا جہاں شیطان اپنے تمام ’’سوار اور پیادے‘‘ کے ذریعہ انسان کے اوپر حملہ آور ہو وہاں اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے۔ اس کا راستہ صرف یہ ہے کہ انسان خدا کو حقیقی معنوں میں اپنا کارساز بنائے۔ جو شخص ایسا کرے گا خدا اس کو اس طرح اپنی حفاظت میں لے لے گا کہ شیطان اس کے مقابلہ میں اپنی تمام طاقتوں کے باوجود عاجز ہو کر رہ جائے۔

رَبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا

📘 خدا نے موجودہ دنیا کو خاص قوانین کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ سمندر میں اپنا جہاز چلائے اور ہوامیں اپنی سواریاں دوڑائے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ انسان اپنے حق میں اپنے خدا کی رحمتوں کو پہچانے اور اس کاشکر گزار بنے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہوئے دیکھتاہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کو بس ایسا ہی ہونا ہے۔ وہ ایک ارادی واقعہ کو اپنے آپ ہونے والا واقعہ فرض کرلیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر اس کے اندر کوئی خدائی احساس نہیں جاگتا۔ خدا کی معرفت اتنی حقیقی ہے کہ وہ انسان کی فطرت کے اندر آخری گہرائی تک پیوست ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت ہوتاہے جب کہ اس پر کوئی آفت آپڑے جس کے مقابلہ میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرے۔ مثلاً اتھاہ سمندر میں طوفان کا آنا اور جہاز کا اس کے اندر پھنس جانا۔ اس طرح کے لمحات میں انسان کے اوپر سے اس کے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں وہ ایک خدا کو پہچان کراسے پکارنے لگتاہے۔ یہ وقتی تجربہ انسان کو اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی پوری زندگی کو اس پر ڈھال لے۔ وہ وقتی اعتراف کو اپنا مستقل ایمان بنالے۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ سمندر کے طوفان میں وہ جس حقیقت کو یاد کرتاہے، خشکی کے ماحول میں پہنچتے ہی وہ اسے بھول جاتا ہے۔ خدا کی خدائی کو ماننے کا نام توحید ہے اور خدا کی خدائی کو نہ ماننے کا نام شرک۔ اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقت اعتراف ہے اور شرک کی اصل حقیقت عدم اعتراف۔ انسان سے اس کے خدا کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی اعتراف ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ اعتراف کے بقدر بھی خدا کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ ۚ وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُورًا

📘 خدا نے موجودہ دنیا کو خاص قوانین کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ سمندر میں اپنا جہاز چلائے اور ہوامیں اپنی سواریاں دوڑائے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ انسان اپنے حق میں اپنے خدا کی رحمتوں کو پہچانے اور اس کاشکر گزار بنے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جو کچھ ہوتے ہوئے دیکھتاہے وہ سمجھتا ہے کہ اس کو بس ایسا ہی ہونا ہے۔ وہ ایک ارادی واقعہ کو اپنے آپ ہونے والا واقعہ فرض کرلیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو دیکھ کر اس کے اندر کوئی خدائی احساس نہیں جاگتا۔ خدا کی معرفت اتنی حقیقی ہے کہ وہ انسان کی فطرت کے اندر آخری گہرائی تک پیوست ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ اس وقت ہوتاہے جب کہ اس پر کوئی آفت آپڑے جس کے مقابلہ میں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرے۔ مثلاً اتھاہ سمندر میں طوفان کا آنا اور جہاز کا اس کے اندر پھنس جانا۔ اس طرح کے لمحات میں انسان کے اوپر سے اس کے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں وہ ایک خدا کو پہچان کراسے پکارنے لگتاہے۔ یہ وقتی تجربہ انسان کو اس لیے کرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی پوری زندگی کو اس پر ڈھال لے۔ وہ وقتی اعتراف کو اپنا مستقل ایمان بنالے۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ سمندر کے طوفان میں وہ جس حقیقت کو یاد کرتاہے، خشکی کے ماحول میں پہنچتے ہی وہ اسے بھول جاتا ہے۔ خدا کی خدائی کو ماننے کا نام توحید ہے اور خدا کی خدائی کو نہ ماننے کا نام شرک۔ اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقت اعتراف ہے اور شرک کی اصل حقیقت عدم اعتراف۔ انسان سے اس کے خدا کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی اعتراف ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ اعتراف کے بقدر بھی خدا کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

أَفَأَمِنْتُمْ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ أَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ وَكِيلًا

📘 خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔ سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔

أَمْ أَمِنْتُمْ أَنْ يُعِيدَكُمْ فِيهِ تَارَةً أُخْرَىٰ فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا

📘 خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔ سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔

إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ ۖ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا ۚ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُوا وُجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيرًا

📘 حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے 539 ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔ تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔ اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔ یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔

۞ وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا

📘 دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ چاند اور ستارے بے شعور مخلوق ہیں جب کہ انسان شعور اور ارادہ کا مالک ہے۔ درخت پر دوسرے جس طرح چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں مگر انسان خود دوسری چیزوں کے اوپر تصرف کرتاہے۔ جانور صرف اپنے اعضاء کے ذریعہ عمل کرتے ہیں مگر انسان اوزار اور مشین بنا کر ان کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرتاہے۔ دریا کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ نشیب کے رخ پر بہے مگر انسان بلندیوں پر چڑھتا ہے اور بہاؤ کے الٹے رخ پر سفر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ انسان کے لیے اس دنیا میں رزق کا شاہانہ انتظام کیا گیا ہے۔ درخت کے پتے شمسی انرجی کو کیمیائی انرجی میں تبدیل کرتے ہیں تا کہ اس سے انسان کی غذا تیار ہو۔ جانور گھاس کھاتے ہیں تاکہ اس کو انسان کے لیے دودھ اور گوشت کی شکل میں لوٹائیں۔ مکھیاں رات دن سرگرم رہتی ہیں تاکہ وہ دنیا بھر کے پھولوں کا رس چوس کر انسان کے لیے شہد کا ذخیرہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔ اس انعام کا تقاضا تھا کہ انسان خدا کا شکر گزار بنے۔ مگر تمام مخلوقات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جو سب سے کم خدا کا شکر ادا کرتاہے۔

يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَٰئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

📘 دنیا میں ہر انسانی گروہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہر گروہ اپنے اپنے رہنما کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اچھے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ اور برے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ۔ اس کے بعد ہر ایک کو ا س کی زندگی کا اعمال نامہ دیاجائے گا۔ نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ ميں اور برے لوگوں کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ گویا ایک محسوس علامت ہوگی کہ پہلا گروہ خداکا مقبول گروہ ہے اور دوسرا گروہ اس کا نا مقبول گروہ۔ آخرت میںاچھے اور برے کی جو تقسیم ہوگی وہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کون دنیا میں اندھا بن کر رہا اور کون بینا بن کر۔ دنیا میں چوں کہ خدا خود براہِ راست انسان سے ہم کلام نہیںہوتا۔ اس لیے دنیا کی زندگی میں خداکی باتوں کو کائنات کی خاموش نشانیوں اور داعیانِ حق کے الفاظ سے جاننا پڑتاہے۔ جو لوگ اس بالواسطہ کلام سے معرفت حاصل کریں، وہ خدا کی نظر میں ’’بینا‘‘ لوگ ہیں۔ اور جو لوگ بالواسطہ کلام کی زبان نہ سمجھیں اور اس وقت کے منتظر ہوں جب خدا ظاہر ہو کر خود کلام فرمائے گا وہ خدا کی نظر میں ’’اندھے‘‘ لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کا براہِ راست کلام کو سننا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ اس وقت بھی حقیقت سے بہت دور رہیں گے جیسا کہ آج اس سے دور پڑے ہوئے ہیں۔

وَمَنْ كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا

📘 دنیا میں ہر انسانی گروہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہر گروہ اپنے اپنے رہنما کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اچھے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ اور برے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ۔ اس کے بعد ہر ایک کو ا س کی زندگی کا اعمال نامہ دیاجائے گا۔ نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ ميں اور برے لوگوں کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ گویا ایک محسوس علامت ہوگی کہ پہلا گروہ خداکا مقبول گروہ ہے اور دوسرا گروہ اس کا نا مقبول گروہ۔ آخرت میںاچھے اور برے کی جو تقسیم ہوگی وہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کون دنیا میں اندھا بن کر رہا اور کون بینا بن کر۔ دنیا میں چوں کہ خدا خود براہِ راست انسان سے ہم کلام نہیںہوتا۔ اس لیے دنیا کی زندگی میں خداکی باتوں کو کائنات کی خاموش نشانیوں اور داعیانِ حق کے الفاظ سے جاننا پڑتاہے۔ جو لوگ اس بالواسطہ کلام سے معرفت حاصل کریں، وہ خدا کی نظر میں ’’بینا‘‘ لوگ ہیں۔ اور جو لوگ بالواسطہ کلام کی زبان نہ سمجھیں اور اس وقت کے منتظر ہوں جب خدا ظاہر ہو کر خود کلام فرمائے گا وہ خدا کی نظر میں ’’اندھے‘‘ لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کا براہِ راست کلام کو سننا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ اس وقت بھی حقیقت سے بہت دور رہیں گے جیسا کہ آج اس سے دور پڑے ہوئے ہیں۔

وَإِنْ كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ ۖ وَإِذًا لَاتَّخَذُوكَ خَلِيلًا

📘 مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا اصل نکتہ یہ تھا کہ خدا صرف ایک ہے اور اس کے سوا جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ سب باطل ہیں۔ اہل مکہ اگرچہ ایک بڑے خدا کا اقرار کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ وہ دوسرے خداؤں کو بھی مانتے تھے۔ یہ دوسرے خدا کون تھے۔ یہ ان کے بزرگ اور اکابر تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور ان کی سنگی تصویریں بنا کر ان کے سامنے جھکنا شروع کردیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے بزرگوں کے اس عقیدہ پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصالحت کے لیے کہتے تھے کہ ہم آپ کے معبود کو مانیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا کہنا چھوڑ دیں (مساومتهم له أن يعبدوا إلهه مقابل أن يترك التنديد بآلهتهم وما كان عليه آباؤهم) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ 157 ۔ اس دنیا میں وہ شخص فوراً لوگوں کی نظر میں مبغوض ہوجاتا ہے جو ایسی بات کہے جس کی زد لوگوںکے بڑوں پر پڑتی ہو۔ اس کے برعکس، لوگوں کے درمیان محبوب بننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات کہو جس میں سب لوگ اپنے اپنے بزرگوں کی تصدیق پارہے ہوں۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سچائی کا کھلا اعلان کیا جائے۔ اس کی پروانہ کی جائے کہ کس بزرگ پر اس کی زد پڑتی ہے اور کس پر نہیں پڑتی۔ دعوتی عمل سے اصل مقصود حقیقت کا کامل اعلان ہے۔ اسی لیے اعلان کے معاملہ میںکسی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہے۔ پیغمبر یا غیر پیغمبر، جو بھی دعوتِ حق کے لیے اٹھے اس کو حقیقت کا واشگاف اعلان کرنا ہے، خواہ اس کی یہ قیمت دینی پڑے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست باقی نہ رہے۔

وَلَوْلَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا

📘 مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا اصل نکتہ یہ تھا کہ خدا صرف ایک ہے اور اس کے سوا جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ سب باطل ہیں۔ اہل مکہ اگرچہ ایک بڑے خدا کا اقرار کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ وہ دوسرے خداؤں کو بھی مانتے تھے۔ یہ دوسرے خدا کون تھے۔ یہ ان کے بزرگ اور اکابر تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور ان کی سنگی تصویریں بنا کر ان کے سامنے جھکنا شروع کردیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے بزرگوں کے اس عقیدہ پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصالحت کے لیے کہتے تھے کہ ہم آپ کے معبود کو مانیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا کہنا چھوڑ دیں (مساومتهم له أن يعبدوا إلهه مقابل أن يترك التنديد بآلهتهم وما كان عليه آباؤهم) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ 157 ۔ اس دنیا میں وہ شخص فوراً لوگوں کی نظر میں مبغوض ہوجاتا ہے جو ایسی بات کہے جس کی زد لوگوںکے بڑوں پر پڑتی ہو۔ اس کے برعکس، لوگوں کے درمیان محبوب بننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات کہو جس میں سب لوگ اپنے اپنے بزرگوں کی تصدیق پارہے ہوں۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سچائی کا کھلا اعلان کیا جائے۔ اس کی پروانہ کی جائے کہ کس بزرگ پر اس کی زد پڑتی ہے اور کس پر نہیں پڑتی۔ دعوتی عمل سے اصل مقصود حقیقت کا کامل اعلان ہے۔ اسی لیے اعلان کے معاملہ میںکسی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہے۔ پیغمبر یا غیر پیغمبر، جو بھی دعوتِ حق کے لیے اٹھے اس کو حقیقت کا واشگاف اعلان کرنا ہے، خواہ اس کی یہ قیمت دینی پڑے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست باقی نہ رہے۔

إِذًا لَأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا

📘 مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا اصل نکتہ یہ تھا کہ خدا صرف ایک ہے اور اس کے سوا جن بتوں کو تم پوجتے ہو وہ سب باطل ہیں۔ اہل مکہ اگرچہ ایک بڑے خدا کا اقرار کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ وہ دوسرے خداؤں کو بھی مانتے تھے۔ یہ دوسرے خدا کون تھے۔ یہ ان کے بزرگ اور اکابر تھے جن کو وہ مقدس سمجھتے تھے اور ان کی سنگی تصویریں بنا کر ان کے سامنے جھکنا شروع کردیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید سے بزرگوں کے اس عقیدہ پر زد پڑتی تھی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصالحت کے لیے کہتے تھے کہ ہم آپ کے معبود کو مانیں گے، شرط یہ ہے کہ آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا کہنا چھوڑ دیں (مساومتهم له أن يعبدوا إلهه مقابل أن يترك التنديد بآلهتهم وما كان عليه آباؤهم) صفوۃ التفاسیر، جلد2، صفحہ 157 ۔ اس دنیا میں وہ شخص فوراً لوگوں کی نظر میں مبغوض ہوجاتا ہے جو ایسی بات کہے جس کی زد لوگوںکے بڑوں پر پڑتی ہو۔ اس کے برعکس، لوگوں کے درمیان محبوب بننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسی بات کہو جس میں سب لوگ اپنے اپنے بزرگوں کی تصدیق پارہے ہوں۔ مگر پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ سچائی کا کھلا اعلان کیا جائے۔ اس کی پروانہ کی جائے کہ کس بزرگ پر اس کی زد پڑتی ہے اور کس پر نہیں پڑتی۔ دعوتی عمل سے اصل مقصود حقیقت کا کامل اعلان ہے۔ اسی لیے اعلان کے معاملہ میںکسی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہے۔ پیغمبر یا غیر پیغمبر، جو بھی دعوتِ حق کے لیے اٹھے اس کو حقیقت کا واشگاف اعلان کرنا ہے، خواہ اس کی یہ قیمت دینی پڑے کہ دنیا میں اس کا کوئی دوست باقی نہ رہے۔

وَإِنْ كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا ۖ وَإِذًا لَا يَلْبَثُونَ خِلَافَكَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 جب بھی کسی گروہ میں سچے دین کی دعوت اٹھتی ہے تو صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر قائم شدہ گدیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا داعی ہوتاہے جو بے آمیز دین کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے وقت کے ماحول میں تنہا اور بے زور دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتاہے۔ وہ داعی حق کو بالکل بے قیمت سمجھ لیتے ہیں۔ حتی کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کو اپنی بستی سے نکال دیں۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ یہاں کسی بندۂ خدا کے خلاف تخریب کا منصوبہ بنانا خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرنا ہے۔ خدا کے داعی کو کسی بستی سے نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی شہر سے اس شخص کو نکال دیا جائے جس کو وہاں حکومتِ وقت کے نمائندہ کی حیثیت حاصل ہو۔ ایسے شخص کو بستی میں نہ رہنے دینے کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتاہے کہ بستی والے خود وہاں نہ رہنے پائیں۔ آدمی دوسرے کو نکالتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو نکال رہا ہوتاہے۔ آدمی دوسرے کو چھوٹا کرنا چاہتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو اس مالک حقیقی کی نظر میں چھوٹا کررہا ہوتاہے، جس کو حقیقۃً یہ اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے چھوٹا کرے اور جس کو چاہے بڑا کرے۔

سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا

📘 جب بھی کسی گروہ میں سچے دین کی دعوت اٹھتی ہے تو صورت حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب کے نام پر قائم شدہ گدیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف حق کا داعی ہوتاہے جو بے آمیز دین کا نمائندہ ہونے کی وجہ سے وقت کے ماحول میں تنہا اور بے زور دکھائی دیتاہے۔ یہ فرق لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال دیتاہے۔ وہ داعی حق کو بالکل بے قیمت سمجھ لیتے ہیں۔ حتی کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کو اپنی بستی سے نکال دیں۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ یہ زمین خدا کی زمین ہے۔ یہاں کسی بندۂ خدا کے خلاف تخریب کا منصوبہ بنانا خود اپنے آپ کو خدا کی نظر میں مجرم ثابت کرنا ہے۔ خدا کے داعی کو کسی بستی سے نکالنا ایسا ہی ہے جیسے کسی شہر سے اس شخص کو نکال دیا جائے جس کو وہاں حکومتِ وقت کے نمائندہ کی حیثیت حاصل ہو۔ ایسے شخص کو بستی میں نہ رہنے دینے کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتاہے کہ بستی والے خود وہاں نہ رہنے پائیں۔ آدمی دوسرے کو نکالتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو نکال رہا ہوتاہے۔ آدمی دوسرے کو چھوٹا کرنا چاہتاہے حالاں کہ وہ خود اپنے آپ کو اس مالک حقیقی کی نظر میں چھوٹا کررہا ہوتاہے، جس کو حقیقۃً یہ اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہے چھوٹا کرے اور جس کو چاہے بڑا کرے۔

أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا

📘 آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے ’’قائم رکھو نماز کو سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک‘‘۔ ان الفاظ سے بظاہر یہ نکلتاہے کہ دو پہر بعد سے لے کر رات کا اندھیرا چھانے تک مسلسل نماز پڑھی جاتی رہے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا کی عظمت اور اس کے احسانات کا تقاضا یہی ہے کہ بندے ہر وقت اس کی عبادت کرتے رہیں۔ مگر حدیث کی تشریح نے اس عام حکم کو خاص کردیا۔ حدیث نے اس مشکل حکم کو اس طرح آسان کردیا کہ اس نے قرار دیا کہ عام اوقات میں لوگ صرف ذکر (یاد) کی حد تک خدا سے اپنا تعلق وابستہ رکھیں، اور دوپہر سے رات تک کے اوقات میں چار بار (ظہر، عصر، مغرب، عشا) اس کی عبادت کر لیا کریں۔ اسی طرح آیت کے دوسرے ٹکڑے کا لفظی ترجمہ یہ ہے— ’’اور قرآن پڑھنا فجر کا‘‘۔ اس کو بھی اگر اس کے ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ روزانہ صبح کے تمام اوقات میں قرآن پڑھا جاتا رہے۔ مگریہاں حدیث کی تشریح نے ہمارے لیے آسانی پیدا کردی۔ حدیث کے مطابق اس حکم کا متعین مطلب یہ ہے کہ صبح کے وقت بھی ایک نماز ادا کی جائے، اور اس (پانچویں)نماز کانمایاں پہلو یہ ہو کہ اس میں قرآن کی لمبی تلاوت کی جائے۔

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَىٰ أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا

📘 تہجد کی نماز کی روح اللہ کو اپنی مخصوص تنہائیوں میں یاد کرنا ہے۔ تہجد کے لفظی معنی رات کی بیداری کے ہیں۔ رات کا وقت تنہائی اور سکون کاوقت ہوتا ہے۔ رات کو آدمی جب ایک نیند پوری کرکے اٹھتا ہے تو وہ اس کے تمام اوقات میں سب سے بہتر وقت ہوتا ہے۔ ان لمحات میں آدمی جب خدا کی طرف متوجہ ہوتاہے اور نماز کی صورت میں ہاتھ باندھ کر خدا کے کلام کو پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنی عبدیت کی آخری تصویر بنا رہا ہوتا ہے۔ خاص طورپر اس وقت جب کہ اس کا دل بھی اس کا ساتھ دے رہا ہو اور ا س کی شخصیت اس طرح پگھل اٹھی ہو کہ وہ بے قرار ہو کر آنکھوں کے راستہ سے بہہ پڑے۔ مقام محمود کے لفظی معنی ہیں تعريف کیا ہوا مقام۔ اس محمودیت کا ایک دنیوی پہلو ہے اور ایک اس کا، اُخروی پہلو۔ اُخروی پہلو وہ ہے جس کو مفسرین شفاعت کبریٰ کہتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، قیامت کے دن تمام انبیاء اپنے مومنین کی شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعت گویا ان کے مومن ہونے کی تصدیق ہوگی، جس کے بعد ان لوگوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا، جن کو خدا جنت میں داخل کرنا چاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سب سے بڑی ہوگی۔ کیوںکہ اپنے امتیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ سب سے بڑی تعداد کی شفاعت فرمائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محمودیت کا دنیوی پہلو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسی تاریخ جمع ہوجائے کہ آپ تمام اقوام عالم کی نظر میں مسلمہ طور پر قابل ستائش اور لائق اعتراف بن جائیں۔ خدا کا یہ منصوبہ آپ کے حق میں مکمل طورپر پورا ہوا۔ آج دنیا کے تمام لوگ آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ کی نبوت ایک مسلّم نبوت بن چکی ہے، نہ کہ نزاعی نبوت جیسا کہ وہ آپ کے ظہور کے ابتدائی سالوں میں تھی۔ محمودی نبوت، دنیوی اعتبار سے مسلمہ (established) نبوت کا دوسرا نام ہے۔ یعنی ایسی نبوت جس کے حق میں تاریخی شہادتیں اتنی زیادہ کامل طورپر موجود ہوں کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں کسی کے لیے شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ انسان، خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق آپ کی حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اقرار واعتراف کی آخری صورت تعریف ہے، اس لیے اس کو ’’مقام محمود‘‘ کہاگیا ہے۔

عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا

📘 حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے 539 ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔ تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔ اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔ یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔

وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

📘 پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو مدینہ لے جایا جائے۔ مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو۔ تبلیغی کوشش کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مکہ فتح کرلیں اور بالآخر سارا عرب مسخر ہوجائے۔ اس طرح توحید کی پشت پر وہ طاقت جمع ہوجو مسلسل عمل کے ذریعہ ساری دنیا سے شرک کا غلبہ ختم کردے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو یہاں دعا کی صورت میں پیغمبر اسلام کو تلقین کیاگیا۔

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

📘 پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو مدینہ لے جایا جائے۔ مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو۔ تبلیغی کوشش کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مکہ فتح کرلیں اور بالآخر سارا عرب مسخر ہوجائے۔ اس طرح توحید کی پشت پر وہ طاقت جمع ہوجو مسلسل عمل کے ذریعہ ساری دنیا سے شرک کا غلبہ ختم کردے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو یہاں دعا کی صورت میں پیغمبر اسلام کو تلقین کیاگیا۔

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا

📘 قرآن خالص سچائی کا اعلان ہے۔ خالص سچائی جب پیش کی جاتی ہے تو ان تمام لوگوں پر اس کی زد پڑتی ہے جو یا تو سچائی سے خالی ہوں یا ملاوٹی سچائی ليے ہوئے ہوں۔ اب جو لوگ حقیقت پسند ہیں ان کے سامنے جب خالص سچائی آتی ہے تو وہ سچائی کو معیار بناتے ہیں، نہ کہ اپنی ذات کو۔ وہ اپنے آپ کو سچائی پر ڈھال لیتے ہیں، نہ یہ کہ خود سچائی کو اپنے اوپر ڈھالنے لگیں۔ اس طرح ان کی سنجیدگی اور حقیقت پسندی ان کے قرآن کو ان کے لیے رحمت بنادیتی ہے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے اندر اپنی بڑائی کا احساس چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جب بے آمیز سچائی آتی ہے تو اپنی مخصوصی نفسیات کی بنا پر ان کا ذہن الٹے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ ’’اگر میں سچائی کو اختیار کرلوں تو میں سچا بن جاؤں گا‘‘۔ اس کے بجائے کہ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ’’اگر میں نے سچائی کو مانا تو میں چھوٹا ہوجاؤں گا‘‘۔ وہ جانے والی چیز کی حفاظت میں رہنے والی چیز کو کھو دیتے ہیں۔ وہ اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر سچائی کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔

وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا

📘 ہر انسان پر یہ حالات گزرتے ہیں کہ جب ا س کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ زبردست خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہوجاتاہے۔ وہ مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارے میں اس تجربہ سے گزرتا ہے۔ مگر کوئی ایسا نہیں جو اس تجربہ میں اپنے آپ كو دریافت کرلے۔ وہ یہ سوچے کہ دنیا میں جب کہ اسے آزادی حاصل ہے وہ حق کے مقابلہ میں اتنی سرکشی دکھا رہا ہے۔ مگر اس وقت اس کا کیا حال ہوگا جب کہ قیامت آئے گی اور اس سے اس کا سارا اختیار چھین لے گی۔ آدمی کتنا زیادہ کمزور ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقت ور سمجھتا ہے۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتاہے اور اسی کے مطابق اس کا نقطۂ نظر بنتا ہے مگر صحیح نقطۂ نظر وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق غلط ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے ا س کا جو ذہنی خول بنا دیا ہے وہ اس خول کو توڑے۔ تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔بالفاظ دیگر، وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے— جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی۔

قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا

📘 ہر انسان پر یہ حالات گزرتے ہیں کہ جب ا س کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ زبردست خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہوجاتاہے۔ وہ مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارے میں اس تجربہ سے گزرتا ہے۔ مگر کوئی ایسا نہیں جو اس تجربہ میں اپنے آپ كو دریافت کرلے۔ وہ یہ سوچے کہ دنیا میں جب کہ اسے آزادی حاصل ہے وہ حق کے مقابلہ میں اتنی سرکشی دکھا رہا ہے۔ مگر اس وقت اس کا کیا حال ہوگا جب کہ قیامت آئے گی اور اس سے اس کا سارا اختیار چھین لے گی۔ آدمی کتنا زیادہ کمزور ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقت ور سمجھتا ہے۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتاہے اور اسی کے مطابق اس کا نقطۂ نظر بنتا ہے مگر صحیح نقطۂ نظر وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق غلط ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے ا س کا جو ذہنی خول بنا دیا ہے وہ اس خول کو توڑے۔ تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔بالفاظ دیگر، وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے— جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی۔

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا

📘 یہاں روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ اس سوال کا رخ ان کے نزدیک رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقۃً اپنی بے خبري کی طرف۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ رسول اللہ کے گرد عظمت کی تاریخ نہیں بنی تھی۔ لوگوں کو آپ محض ایک عام انسان نظر آتے تھے۔ چوں کہ انھیں یقین نہیں تھا کہ خدا کا فرشتہ آپ کے پاس خدا کی وحی لے کر آتا ہے۔ اس لیے انھوںنے آپ کا مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال کیا۔ تاہم اس سوال کے جواب میں قرآن میں ایک اہم اصولی بات بتادی گئی۔ وہ یہ کہ انسان کو صرف ’’علم قلیل‘‘ دیاگیا ہے، وہ ’’علم کثیر‘‘ کا مالک نہیں ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان سوالات میں نہ الجھے جن کو وہ اپنی پیدائشی کم علمی کی بنا پرجان نہیں سکتا۔ قدیم زمانہ میں انسان صرف آنکھ کے ذریعہ چیزوں کو دیکھ سکتاتھا۔ تاہم بصری مطالعہ نے بتایا کہ آنکھ صرف ایک حد تک کام کرتی ہے۔ اس لیے وہ کلی مطالعہ کے لیے کافی نہیں۔ مثلاً ایک چیزجو دور سے دیکھنے میںایک نظر آتی ہے، قریب سے جاکر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو تھیں۔ موجودہ زمانہ میں آلاتی مطالعہ وجود میں آیا تو انسان نے سمجھا کہ آلات اس کی محدودیت کا بدل ہیں۔ آلاتی مطالعہ کے ذریعے چیزوں کو ان کی آخری حد تک دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں پہنچ کر اس خوش خیالی کا خاتمہ ہوگیا۔ اب معلوم ہوا کہ چیزیں اس سے زیادہ پيچیدہ اور اس سے زیادہ پراسرار ہیں کہ آلات کی مدد سے ان کو پوری طرح دیکھا جاسکے۔ ایسی حالت میں اجمالی علم پر قانع ہونا انسان کے لیے حقیقت پسندی کا تقاضا بن گیاہے، نہ کہ محض عقیدہ کا تقاضا۔ ہماری صلاحیتیں محدود ہیں اور ہم سے ماورا جو عالم ہے وہ لامحدود۔ پھر محدود کے لیے کس طرح ممکن ہے کہ وہ لامحدود کا احاطہ کرسکے۔ انسان کی محدودیت کا تقاضا ہے کہ وہ بالواسطہ علم پر قناعت کرے اور براہِ راست علم پر اصرار کرنا چھوڑ دے۔ بالفاظ دیگر قرینہ سے حاصل شدہ علم کو بھی اسی طرح معقول (valid) مان لے جس طرح وہ مشاہدہ سے حاصل شدہ علم کو معقول مانتا ہے۔

وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا

📘 قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔

إِلَّا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكَ ۚ إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا

📘 قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔

قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا

📘 قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص اوقات میں اترتاتھا۔ ان مخصوص اوقات کے علاوہ آپ خود بھی اس پر قادر نہ تھے کہ قرآن جیسا کلام وضع کرسکیں۔ دوسرے وقتوں میں آپ کی زبان سے جو کلام نکلتا تھا، وہ ہمیشہ قرآن کے کلام سے مختلف ہوتا تھا۔ جب کبھی لمبی مدت کے لیے وحی رکتی تو آپ بے حد پریشان ہوجاتے۔ مگر آپ کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ خود یا کسی کی مدد سے قرآن جیسا کلام بنالیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی زبان اور آپ کی اپنی زبان میں بے حد نمایاں فرق ہوتا تھا۔ یہ فرق آج بھی ہر عربی داں قرآن اور حدیث کی زبان کا تقابل کرکے دیکھ سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک واضح ثبو ت ہے کہ قرآن محمد کا کلام نہیں۔ وہ محمد کے سوا ایک اور برتر ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ جو لوگ قرآن کو انسانی کلام کہتے تھے ان سے کہا گیا کہ اگر تمھارا خیال صحیح ہے تو بحیثیت انسان کے تمھیں بھی اس کی قدرت ہونی چاہیے۔ تم تنہا یا دوسرے انسانوں کو لے کر قرآن جیسا کلام بنا لاؤ۔ مگر اس وقت کے لوگوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس چیلنج کا جواب دے۔ بعد کے زمانہ میں بھی کوئی ادیب یا عالم قرآن جیسے کلام کا نمونہ پیش نہ کرسکا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کوشش کی مگر وہ سراسر ناکام رہے۔ وہ قرآن جیسی ایک سورہ بھی نہ بنا سکے۔

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَىٰ أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔

إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا

📘 قرآن تمام انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک خدا کو مان کر اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے زیادہ صحیح، جس سے زیادہ معقول اور جس سے زیادہ مطابقِ فطرت بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ توحید بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی صداقت۔ توحید کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ یہی تمام انسانوں کے لیے جانچ کا معیار ہو۔ اسی کی بنیاد پر کسی کو صحیح قرار دیا جائے اور کسی کو غلط۔ کوئی کامیاب ٹھہرے اور کوئی ناکام۔ موجودہ دنیا میں بظاہر یہ معیار سامنے نہیں آتا اور اس کی بنیاد پر انسانوں کی عملی تقسیم نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف خدا کے قانون امتحان کی وجہ سے ہے۔ انفرادی طورپر موت اور اجتماعی طورپر قیامت اس مدت امتحان کی آخری حد ہے۔ یہ حد آتے ہی انسان دو گروہوں کی صورت میں الگ الگ کردئے جائیں گے۔ توحید کے راستہ کو اختیار کرنے والے اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے اور اس کو اختیار نہ کرنے والے اپنے آپ کو جہنم میں۔

وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔

أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔

أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔

أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَقْرَؤُهُ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کا پیغام پیش کیا تو آپ کے معاصرین نے کہا کہ ہم تم کو اس وقت مانیں گے جب کہ تم خارقِ عادت کرشمے دکھاؤ۔ مگر اس قسم کے مطالبات خدا کے منصوبۂ تخلیق کے خلاف ہیں۔ انسان کو خدا نے باشعور وجود کے طورپر پیدا کیا ہے۔ یہ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادر عطیہ ہے، جو اس لیے دیا گیاہے کہ انسان ذاتی شعور کے ذریعہ حق کو پہچانے، نہ کہ مسحور کن کرشموں کے ذریعہ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان ’’دلیل‘‘ کی سطح پر ہو رہا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دلیل کی زبان میں حق کو پہچاننا ا ور اس کو اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ دلیل کی سطح پر حق کو نہ پہچانیں، وہی وہ لوگ ہیں جو بالآخر ناکام ونامراد رہیں گے۔

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولًا

📘 اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔ موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔

قُلْ لَوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَسُولًا

📘 اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔ موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔

قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

📘 اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔ موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔

وَمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِهِ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا ۖ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا

📘 دنیا میں آدمی اپنی حیثیت مادی کے مطابق جیتا ہے، آخرت میں وہ اپنی حیثیت روحانی کے مطابق نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں راہ سے بے راہ ہوئے وہ قیامت میں اٹھیں گے تو اپنے آپ کو اندھا، بہرا، گونگا پائیں گے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا اس لیے تھا کہ انھوں نے آنکھ اور کان اور زبان کو اس مقصد میں استعمال نہیں کیا جس کے لیے وہ انھیں دئے گئے تھے۔ انھو ںنے خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھا۔ انھوںنے خدا کے دلائل کو نہیں سنا۔ ان کی زبان حق کی حمایت میں نہیں کھلی۔ وہ آنکھ، کان اور زبان رکھتے ہوئے حق کی نسبت سے بے آنکھ، بے کان اور بے زبان ہوگئے۔ موت کے بعد جب وہ عالم حقیقی میں پہنچیں گے تو وہاں وہ اپنے آپ کو اپنی اصلی صورت میں پائیں گے، نہ کہ اس مصنوعی صورت میں جو حالت امتحان میں ہونے کی وجہ سے وقتی طورپر انھیں موجودہ دنیا میں حاصل تھی۔ ’’جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے‘‘ کہنے والے ایک وہ ہیں جو زبانِ قال سے یہ جملہ دہرائیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو زبانِ حال سے اس کو کہیں۔ یہ دوسرے لوگ وہ ہیں جو آنکھ اور کان اور زبان کو اس کے مقصد تخلیق کے خلاف استعمال کریں اور یہ گمان رکھیں کہ ان کا یہ عمل بس اسی دنیا میں گم ہوکر رہ جائے گا، وہ آخرت میں پہنچنے والا نہیں۔

ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُمْ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا

📘 دنیا میں آدمی اپنی حیثیت مادی کے مطابق جیتا ہے، آخرت میں وہ اپنی حیثیت روحانی کے مطابق نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں راہ سے بے راہ ہوئے وہ قیامت میں اٹھیں گے تو اپنے آپ کو اندھا، بہرا، گونگا پائیں گے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا اس لیے تھا کہ انھوں نے آنکھ اور کان اور زبان کو اس مقصد میں استعمال نہیں کیا جس کے لیے وہ انھیں دئے گئے تھے۔ انھو ںنے خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھا۔ انھوںنے خدا کے دلائل کو نہیں سنا۔ ان کی زبان حق کی حمایت میں نہیں کھلی۔ وہ آنکھ، کان اور زبان رکھتے ہوئے حق کی نسبت سے بے آنکھ، بے کان اور بے زبان ہوگئے۔ موت کے بعد جب وہ عالم حقیقی میں پہنچیں گے تو وہاں وہ اپنے آپ کو اپنی اصلی صورت میں پائیں گے، نہ کہ اس مصنوعی صورت میں جو حالت امتحان میں ہونے کی وجہ سے وقتی طورپر انھیں موجودہ دنیا میں حاصل تھی۔ ’’جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے‘‘ کہنے والے ایک وہ ہیں جو زبانِ قال سے یہ جملہ دہرائیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو زبانِ حال سے اس کو کہیں۔ یہ دوسرے لوگ وہ ہیں جو آنکھ اور کان اور زبان کو اس کے مقصد تخلیق کے خلاف استعمال کریں اور یہ گمان رکھیں کہ ان کا یہ عمل بس اسی دنیا میں گم ہوکر رہ جائے گا، وہ آخرت میں پہنچنے والا نہیں۔

۞ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُورًا

📘 زمین وآسمان ہمارے سامنے ایک حقیقت کے طورپر موجود ہیں۔ ہم ان کا انکار نہیں کرسکتے۔ یہ موجودگی ثابت کرتی ہے کہ یہاں کوئی زندہ ہستی ہے جو یہ طاقت رکھتی ہے کہ وہ پہلی بار تخلیق کرے، وہ نہیں سے ہے کو وجود میں لائے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی تخلیق کو ماننے کے بعد دوسری تخلیق کو ماننے میں کوئی علمی وعقلی دلیل مانع نہیں رہتی۔ اتنے کھلے ہوئے قرینہ کے باوجود جو شخص تخلیقِ ثانی کو نہ مانے وہ ظالم ہے۔ وہ ہٹ دھرمی کی زمین پر کھڑا ہوا ہے، نہ کہ دلیل اور معقولیت کی زمین پر۔